Ayahs 5:20–26آیت 20 تا 26
ترجمہ : اور یاد کرو جب موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے کہا تھا، اے میری قوم کے لوگو تم اللہ کی ان نعمتوں کا خیال کرو جو اس نے تمہیں عطا کیں اس نے تم میں سے نبی پیدا کئے اور تمہیں جاہ و حشمت والا بادشاہ بنایا اور تمہیں وہ کچھ دیا کہ جو دنیا میں کسی کو نہ دیا تھا یعنی مَنّ وسلویٰ ، اور سمندر پھاڑ کر راستہ بنادیا وغیرہ، اے میری قوم کے لوگو اس مقدس سرزمین میں داخل ہوجاؤ جو اللہ نے تمہارے (نام) لکھ دی ہے، یعنی اس میں داخل ہونے کا حکم دیا ہے اور وہ (سرزمین) ملک شام ہے، اور الٹے پاؤں پیچھے نہ ہٹو، ورنہ دشمن کے خوف سے شکست خوردہ ہوجاؤ گے، اور اپنی کوشش میں نامراد ہو کر رہ جاؤ گے، انہوں نے جواب دیا اے موسیٰ وہاں تو قوم عاد کی نسل کے درازقد طاقتور بڑے زبردست لوگ رہتے ہیں ہم وہاں ہرگز نہ جائیں گے تاآنکہ وہ لوگ وہاں سے نکل نہ جائیں، ہاں اگر وہ وہاں سے نکل گئے تو ہم داخل ہونے کیلئے تیار ہیں، ان سے ان دو آدمیوں نے کہا جو اللہ کے حکم کی خلاف ورزی کرنے سے ڈرتے تھے اور وہ یوشع اور کالب تھے جو ان بارہ سرداروں میں سے تھے جن کو موسیٰ (علیہ السلام) نے جبابرہ کے تفتیش حال کیلئے بھیجا تھا جن دونوں پر اللہ نے (افشاء) سے حفاظت کے ذریعہ انعام فرمایا چناچہ ان دونوں حضرات نے اپنی معلومات کو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے علاوہ سے صیغہ راز میں رکھا، برخلاف دیگر سرداروں کے کہ انہوں نے افشاء راز کردیا جس کے نتیجے میں (بنو اسرائیل) پست ہمت ہوگئے، تم ان کے پاس شہر کے دروازہ پر تو پہنچو اور ان سے ڈرو نہیں وہ تو بےدل مجسمے ہیں (یعنی بزدل لوگ ہیں) اور جب تم دروازے میں داخل ہوجاؤ گے تو یقیناً تم ہی غالب رہو گے، انہوں نے یہ بات اللہ کی مدد او اور اس کے وعدہ کو پورا کرنے پر یقین کرتے ہوئے کہی، اور اللہ پر بھروسہ رکھو اگر تم مومن ہو، لیکن انہوں نے (پھر یہی کیا) کہ سے موسیٰ (علیہ السلام) ہم وہاں ہرگز نہ جائیں گے جب تک وہ وہاں موجود ہیں، پس تم اور تمہارا رب جاؤ اور ان سے لڑو ہم یہاں لڑائی سے محفوظ بیٹھے ہوئے ہیں تو اس وقت موسیٰ (علیہ السلام) نے عرض کیا اے میرے پروردگار میں اپنی ذات اور بھائی کے علاوہ کسی کا مالک نہیں اور میں ان دونوں کے علاوہ کا مالک نہیں ہوں کہ ان کو اطاعت پر مجبور کرسکوں، تو ہمیں ان نافرمان لوگوں سے الگ کر دے تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) سے فرمایا کہ ان لوگوں کیلئے ارض مقدس میں چالیس سالوں تک داخلہ ممنوع ہے یہ زمین میں متحیر سرگرداں رہیں گے اور (اس کی وسعت) نوفرسخ ہے، یہ ابن عباس ؓ کا قول ہے، ان نافرمانوں کی حالت پر ہرگز ترس نہ کھائیں، روایت کیا گیا ہے کہ بنو اسرائیل بڑی کوشش کے ساتھ راتوں کو چلتے تھے مگر جب صبح ہوتی تھی تو وہ اسی جگہ ہوتے تھے جہاں سے انہوں نے سفر کی ابتداء کی تھی، اور یہی حال ان کے دن میں چلنے کا تھا، حتی کہ ان کی پوری نسل ختم ہوگئی سوائے ان نوجوانوں کے کہ جن کی عمر ابھی بیس سال کی نہیں ہوئی تھی، کہا گیا ہے کہ ان کی تعداد چھ لاکھ (600000) تھی، اور حضرت ہارون اور موسیٰ (علیہ السلام) کا انتقال مقام تیہ ہی میں ہوا، اور یہ مقام تیہ کا قیام ان دونوں کیلئے رحمت اور ان سب کیلئے عذاب تھا، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے انتقال کے وقت اپنے رب سے دعاء کی کہ ان کو ارض مقدس سے ایک پتھر پھینکے کی مقدار قریب کر دے چناچہ ان کو قریب کردیا جیسا کہ حدیث میں وارد ہے، اور حضرت یوشع (علیہ السلام) کو چالیس سال بعد نبی بنایا گیا، اور جبابرہ سے قتال کرنے کا حکم دیا چناچہ (حضرت یوشع (علیہ السلام) بقیہ لوگوں کو اپنے ہمراہ لے کر چلے اور ان سے قتال کیا، اور اس روز جمعہ کا دن تھا، سورج ان کے واسطے ایک ساعت کیلئے ٹھہر گیا تھا یہاں تک کہ قتال سے فراغت ہوگئی، اور روایت کیا احمد نے اپنی مسند میں کہ سورج سوائے حضرت یوشع (علیہ السلام) کے کسی کیلئے نہیں ٹھہرایا گیا، ان راتوں میں کہ جن میں یوشع (علیہ السلام) نے بیت المقدس کی طرف سفر کیا۔
تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد
قولہ : ای مِنْکُمْ یہ ایک سوال کا جواب ہے۔ سوال : فیکم، کی تفسیر مِنْکم سے کیوں کی ؟ جواب : اسلئے کہ، کُمْ ، میں حقیقۃً ظرف بننے کی صلاحیت نہیں ہے۔
قولہ : من المَنّ والسلویٰ ، اس میں اشارہ ہے کہ بنی اسرائیل کو اہل عالم پر مطلقاً فضیلت حاصل نہیں تھی بلکہ مَنّ وسلوی کی وجہ سے جزوی فضیلت حاصل تھی۔
قولہ : اَنْعَمَ اللہُ علیھما، اس میں احتمال ہے کہ جملہ دعائیہ ہو اس صورت میں جملہ معترضہ ہوگا، اور یہ بھی احتمال ہے کہ جملہ خبریہ ہو تو اس صورت میں رجلان کی صفت ثانیہ ہوگا۔
قولہ : اَلْبَاب کی تفسیر باب القریۃ سے کرکے اشارہ کردیا کہ الباب میں الف لام مضاف الیہ کے عوض میں ہے۔
قولہ : وعَلَی اللہِ فَتَوَلَّکُوا اِنْ کُنْتُمْ مُؤْمِنِیْنَ ، واؤ استینافیہ ہے اور کلام مستانف ہے فاء امر محذوف کے جواب پر داخل ہے، تقدیر عبارت یہ ہے تَنَبَّھُوا فتوکَّلُوا علی اللہ، علی اللہ، توکلّوا کا متعلق مقدم ہے، اِن کنتم شرط ہے جواب شرط محذوف ہے جس پر ماقبل یعنی توکلوا دلالت کر رہا ہے، قال رب انی لا املک الا نفسی وَاَخِی، یہ جملہ استینافیہ برائے اظہار حسرت والتاسف ہے، قال، قول ہے اور مابعد اس کا مقولہ ہے، لا اَمْلِک اِنَّ کی خبر ہے، اِلاّ ، حرف استثناء برائے حصر ہے نفسی مفعول بہ ہے۔
قولہ : وَاَخِیْ ، اس میں رفع، نصب اور جر تینوں ہے، اگر امْلِک، کی ضمیر مستتر پر عطف ہو تو رفع ہوگا اور اگر اِنَّ کے اسم پر عطف ہوگا تو نصب ہوگا اور اگر یاء پر عطف ہو تو مجرور ہوگا۔ قولہ : یَتِیْھُوْنَ ، تِیْۃٌ، (ض) مضارع جمع مذکر غائب، سرگرداں پھرتے رہیں گے۔
قولہ : لاتَأُسَ ، تو غم نہ کھا، مصدر اَسیً ، تاس مضارع واحد مذکر اصل تأسَیُ تھا لاء نہی کی وجہ سے یاء ساقط ہوئی۔
تفسیر و تشریح
اِذ قال موسیٰ لِقَوْمِہٖ (الآیۃ) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے اس خطبہ کا زمانہ وہ ہے کہ جب قوم، بنی اسرائیل مصریوں کی غلامی سے آزاد ہو کر جزیرہ نمائے سینا میں آزادی کے ساتھ نقل و حرکت کر رہی تھی اس وقت حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ان کے دینی پیغمبر بھی تھے اور دنیوی رہبر و لیڈر بھی، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اپنی قوم بنی اسرائیل کو آمادہ کر رہے تھے کہ اپنے وطن فلسطین چلو، ظالم و غاصب قوم عمالقہ کو وہاں سے نکال باہر کرو اور خود اس پر حکمرانی کرو، تازہ ترین تحقیق کے مطابق مصر سے خروج بنی اسرائیل کا زمانہ 1440 ق م کا ہے، اور فلسطین پر بنی اسرائیل کی فوج کشی کا زمانہ 1400 ق م ہے اس لحاظ سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی اس تقریر کا زمانہ اسی میدانی مدت کا ہے اور عجب نہیں کہ آپ کا بالکل آخری زمانہ ہو جیسا کہ تورات کے صحیفہ استثناء باب اول سے اندازہ ہوتا ہے، اگر یہ بات صحیح ہے تو ای صحیفہ استثناء میں یہ تصریح بھی موجود ہے کہ آپ نے یہ تقریر دریائے اردن کے پار موآب کے میدان میں مصر سے واقعہ خروج کے چالیسویں سال کے گیارہویں مہینہ کی پہلی تاریخ کو فرمائی تھی۔ (ماجدی
بیشتر انبیاء نبی اسرائیل میں سے ہی ہوئے ہیں یہ سلسلہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) سے شروع ہو کر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر ختم ہوگیا، اور آخری پیغمبر بنی اسماعیل سے محمد ﷺ ہوئے، اسی طرح متعدد بادشاہ بھی بنی اسرائیل میں ہوئے اور بعض نبیوں کو بھی اللہ تعالیٰ نے عظیم بادشاہت سے نوازا، جیسا کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) اور ان کے والد حضرت داؤد (علیہ السلام) کو ملوکیت کا اطلاق اس زمانہ میں جاہ و حشمت کے مالک بلکہ ہر آزاد اور خودمختار اور صاحب حیثیت شخص پر بھی اس کا اطلاق ہوتا تھا۔
ملوکیت بھی نبوت کی طرح اللہ کا انعام ہے : مطلب یہ ہے کہ نبوت کی طرح ملوکیت بھی خدائی انعام ہے جیسے علی الاطلاق برا سمجھنا بہت بڑی غلطی ہے اگر ملوکیت علی الاطلاق بری چیز ہوتی تو اللہ تعالیٰ کسی نبی کو بادشاہ نہ بناتا، اور نہ اس کا ذکر انعام کے طور پر فرماتا جیسا کہ یہاں ملوکیت کو انعام کے طور پر ذکر فرمایا۔ آج کل مغربی طرزی جمہوریت کا کا بوس ذہنوں پر مسلط ہے اور شاطر ان مغرب نے اس کا افسون اس طرح پھونکا ہے کہ مغربی افکار کے اسیر اہل سیاست ہی نہیں اصحاب جبہ و دستار بھی ان کے دام فریب میں پھنس گئے ہیں، بہرحال ملوکیت یا شخصی حکومت کا سربراہ و حکمراں عادل و متقی ہو تو جمہوریت سے ہزار درجے بہتر ہے۔
مذکورہ آیت میں ان انعامات کی طرف اشارہ ہے جن سے بنی اسرائیل نوازے گئے تھے جیسے مَنْ وسلویٰ کا نزول، مقام تیہ میں بادلوں کا سایہ فگن ہونا، فرعون سے نجات کیلئے دریا کو دو لخت کرکے راستہ بنادینا وغیرہ وغیرہ، اس لحاظ سے یہ قوم اپنے زمانہ میں فضیلت اور اعلی مقام کی حامل تھی، لیکن بنی آخر الزمان ﷺ کی رسالت و بعثت کے بعد اب یہ مقام فضیلت امت محمدیہ کو حاصل ہوگیا، (کنتم خیر امۃ اخرجت للناس) لیکن یہ مقام خیریت ” تامرون بالمعروف وتنھون عن المنکر وتؤمنون باللہ “ کی شرط کے ساتھ مشروط ہے، بنو اسرائیل کے مورث اعلیٰ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کا مسکن و مادر وطن بیت المقدس تھا، لیکن حضرت یوسف (علیہ السلام) کی امارت کے زمانہ میں یہ لوگ مصر جاکر آباد ہوگئے تھے اسی وقت سے مصر میں سکونت پذیر رہے، اس زمانہ میں بیت المقدس پر قوم عمالقہ کی حکمرانی تھی جو کہ ایک بہادر قوم تھی، جب موسیٰ (علیہ السلام) نے بحکم خداوندی اپنے آبائی وطن شام میں جاکر آبار ہونیکا ارادہ کیا تو ملک شام اور بہت المقدس پر قابض عمالقہ کو جہاد کے ذریعہ بےدخل کرنا ضروری تھا چناچہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو اس ارض مقدس میں داخل ہونیکا حکم دیا، اور ساتھ ہی نصرت الہیٰ کی بشارت بھی سنائی، لیکن اس کے باوجود بنی اسرائیل عمالقہ سے لڑنے پر آمادہ نہ ہوئے۔ (ابن کثیر)
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے دشت فاران سے بارہ سرداروں کا ایک وفد فلسطین کی صورت حال معلوم کرنے کیلئے بھیجا، اور ان کو تاکید کردی کہ ایسی کوئی رپورٹ برسر عام پیش نہ کریں جو بنی اسرائیل کیلئے ہمت شکنی کی باعث ہو، مذکورہ سرداروں کا وفد چالیس دن دورہ کرکے وہاں سے واپس آیا اور سوائے حضرت یوشع بن نون کے جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بھانجے تھے اور کالب بن یوحنا کے جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے داماد تھے، باقی لوگوں میں مجمع عام میں ہمت شکن رپورٹ پیش کردی، اور کہہ دیا کہ وہاں اگرچہ دودھ اور شہد کی خبریں بہتی ہیں، لیکن وہاں کے باشندے بڑے شہ روز وقد آور ہیں ہماری طاقت نہیں کہ ان کا مقابلہ کرسکیں، یہ رپورٹ سنکر پورا مجمع چیخ اٹھا کہ کاش ہم مصر ہی میں مرجاتے یا بیابان ہی میں ہمارا خاتمہ ہوجاتا، اس سے بہتر ہے کہ ہم مصر واپس چلے جائیں، قوم کی یہ صورت حال دیکھ کر حضرت یوشع اور کالب کھڑے ہوئے اور قوم کی اس بزدلی پر ملامت کی مگر وہ کسی صورت میں عمالقہ سے جہاد کیلئے تیار نہ ہوئے بلکہ اس کا جواب قوم نہ یہ دیا کہ ان کو سنگسار کردو، غرضیکہ بنی اسرائیل نے بدترین بزدلی، تمردو سرکشی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا، کہ تم اور تمہارا رب جا کر لڑو ہم یہاں بیٹھے ہوئے ہیں۔
اس کے برعکس جب غزوہ بدر کے موقع پر رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کرام سے مشورہ کیا تو انہوں نے قلت تعداد اور قلت وسائل کے باوجود جہاد میں حصہ لینے کیلئے بھرپور عزم کا اظہار فرمایا اور یہ بھی کہا کہ یا رسول اللہ ہم آپ سے اس طرح نہیں کہیں گے کہ جس طرح موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم نے کہا تھا۔ (صحیح بخاری کتاب المغازی)
Ayahs 5:27–32آیت 27 تا 34
ترجمہ : اے محمد ﷺ اپنی قوم کو آدم کے دونوں بیٹوں ھابیل اور قابیل کا قصہ بےکم وکاست سنا دو بالحق اُتْلُ سے متعلق ہے، جب ان دونوں نے اللہ کے نام کی قربانی کی اور وہ (قربانی) ھابیل کا مینڈھا تھا اور قابیل کا غلہ، تو اللہ نے ان میں سے ایک یعنی ھابیل کی قربانی قبول کرلی اس طریقہ پر کہ آسمان سے ایک آگ نازل ہوئی اور ھابیل کی قربانی کو کھا گئی (جلا گئی) اور دوسرے کی قبول نہ کی گئی اور وہ قابیل تھا، تو وہ غضبناک ہوا، اور حسد کو اپنے دل میں چھپائے رہا (اور موقع کی تلاش میں رہا) جب حضرت آدم (علیہ السلام) حج کیلئے تشریف لے گئے تو اس نے کہا میں تجھے ضرور قتل کر دوں گا (ھابیل نے) پوچھا کیوں ؟ (جواب دیا) کہ تیری قربانی قبول ہوئی میری نہیں ہوئی، ھابیل نے کہا اللہ تو خدا پرستوں ہی کی قربانی قبول کرتا ہے اگر تو مجھے قتل کرنے کیلئے ہاتھ اٹھائیگا تو میں تجھے قتل کرنے کے لئے ہاتھ نہ اٹھاؤں گا، لئن میں لام قسمیہ ہے، میں تیرے قتل کے معاملہ میں اللہ رب العالمین سے ڈرتا ہوں اور میں تو یوں چاہتا ہوں کہ تو میرے قتل کا گناہ اور اپنے گناہ جن کا تو پہلے سے ارتکاب کرچکا ہے، مثلاً (حسد اور نافرمانی والدین وغیرہ کا گناہ) اپنے سر لے اور دوزخیوں میں سے ہوجائے اور میں نہیں چاہتا کہ تجھ کو قتل کرکے تیرے قتل کا گناہ اپنے سر لوں جس کی وجہ سے دوزخیوں میں ہوجاؤں، اللہ تعالیٰ نے فرمایا ظالموں کے ظلم کی یہی سزا ہے، چناچہ اس کے نفس نے اس کو اپنے بھائی کے قتل پر آمادہ کردیا آخر کار اس کو قتل کر ہی ڈالا، تو وہ اس کے قتل کی وجہ سے زیاں کاروں میں شامل ہوگیا، اور اس کی سمجھ میں نہ آیا کہ وہ اس میت کے ساتھ کیا کرے ؟ اس لئے کہ روئے زمین پر یہ بنی آدم کی پہلی میت تھی، چناچہ اس کو اپنی پشت پر اٹھا لیا، آخر اللہ نے ایک کوا بھیجا کہ جو اپنی چونچ اور پنجوں سے زمین کرید رہا تھا، اور اپنے ساتھی دوسرے کوے کی میت پر (مٹی) ڈال رہا تھا، یہاں تک کہ اس کو چھپا دیا، تاکہ وہ (قابیل) کو دکھائے کہ اپنے بھائی کی میت کو کس طرح چھپائے، یہ دیکھ کر وہ بولا افسوس مجھ پر میں اس کوے جیسا بھی نہ ہوا کہ اپنے بھائی کی میت کو چھپا سکتا تو وہ اپنے بھائی کی میت کو اپنی پشت پر اٹھائے پھرنے پر شرمندہ ہوا (دوسرا ترجمہ) تو وہ اپنے بھائی کے قتل پر آمادہ ہونے پر پچھتایا، اور اس کے لئے گڑھا کھودا اور اس میں چھپا دیا، اور اسی حرکت کی وجہ سے جو قابیل نے کی بنی اسرائیل پر ہم نے یہ فرمان لکھ دیا تھا، کہ جو شخص کسی کو بغیر اس کے کہ وہ کسی کا قاتل ہو یا کفر کے ذریعہ یا زنا یا رہزنی وغیرہ کے ذریعہ فساد برپا کرنے والا ہو، قتل کردیا اور جس نے کسی کی جان بچائی اس طریقہ پر کہ اس کے قتل سے باز رہا تو اس نے گویا تمام انسانوں کی جان بچائی ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ یہ حکم نفس کی بےحرمتی اور اس کی حفاظت کے اعتبار سے ہے، اور ان کے یعنی بنی اسرائیل کے پاس ہمارے رسول معجزات لے کر آئے لیکن پھر اس کے بعد بھی ان میں کے اکثر لوگ زمین میں ظلم و زیادتی کرنے والے رہے یعنی کفر اور قتل وغیرہ کے ذریعہ حد سے تجاوز کرنے والے رہے، آئندہ آیت قبیلہ عرینہ والوں کے بارے میں نازل ہوئی، جبکہ وہ مدینہ آئے اور وہ مریض تھے، تو آپ ﷺ نے ان کو اس بات کی اجازت دیدی کہ وہ اونٹوں کی طرف جائیں اور ان کا پیشاب اور دودھ پئیں، چناچہ جب وہ تندرست ہوگئے تو انہوں نے چرواہے کو قتل کردیا اور اونٹوں کو ہنکالے گئے، ان لوگوں کی سزا جو مسلمانوں سے محاربہ کرکے اللہ اور اس کے رسول سے محاربہ کریں اور رہزنی کے ذریعہ ملک میں فساد برپا کرنے کی کوشش کریں، یہی ہے کہ ان کو قتل کیا جائے اور سولی دی جائے اور ان کے ہاتھ پیر جانب مخالف سے کاٹ دئیے جائیں یعنی ان کے دائیں ہاتھ اور بائیں پیر کاٹے جائیں) یا انہیں جلاوطن کردیا جائے، اَوْ ترتیب احوال کیلئے ہے قتل اس کیلئے ہے جس نے فقط قتل کیا ہو اور سولی اسکے لئے ہے جس نے قتل کیا ہو اور مال لیا ہو اور قطع اس کے لئے ہے جس نے مال لیا ہو اور قتل نہ کیا ہو، اور جلاوطنی اس کے لئے ہے جس نے صرف خوف زدہ کیا ہو، یہ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا اور یہی امام شافعی (رح) تعالیٰ کا مذہب ہے اور امام شافعی (رح) تعالیٰ کے دو قولوں میں سے صحیح تر قول یہ ہے کہ قتل کے بعد تین دن تک سولی پر آویزاں رکھنا چاہیے اور کہا گیا ہے کہ قتل سے قبل تھوڑی دیر کیلئے سولی پر آویزوں رکھنا چاہیے اور جلاوطنی کے ساتھ اس کو بھی شامل کرلیا جائیگا جو سزا میں جلاوطنی کے مانند ہو، وہ سزا حبس وغیرہ ہے، یہ مذکورہ سزا ان کیلئے دنیا میں رسوائی اور آخرت میں ان کیلئے عظیم عذاب ہے اور وہ آگ کا عذاب ہے، مگر محاربین اور راہزنوں میں سے وہ لوگ جنہوں نے تمہارے انھیں گرفتار کرنے سے پہلے توبہ کرلی، تو جان لو کہ اللہ تعالیٰ معاف کرنے والے ہیں اس گناہ کو جس کا نہوں نے ارتکاب کیا ہے اور ان پر رحم کرنے والے ہیں۔
اِنَّ اللہ غفور رحیم، سے تعبیر فرمایا نہ کہ فلا تحدّوھم سے، تاکہ کلام اس بات کا فائدہ دے کہ توبہ سے صرف حدود اللہ معاف ہوتی ہیں نہ کہ حقوق العباد، میری سمجھ میں ایسا ہی آیا ہے اور میں نہیں سمجھتا کہ کسی اور نہ اس (نکتہ) سے تعرض کیا ہو، اور اللہ بہتر جاننے والا ہے، چناچہ جب قتل کیا اور مال لیا تو قتل کیا جائیگا اور (ہاتھ) بھی کاٹا جائیگا، اور سولی نہیں دیا جائیگا، اور یہ امام شافعی (رح) تعالیٰ کے دو قولوں میں سے صحیح تر قول ہے اور گرفتاری کے بعد ذاکو کو اس کی توبہ سے کچھ فائدہ نہ ہوگا اور یہ امام شافعی (رح) تعالیٰ
کے دو قولوں میں سے صحیح تر قول ہے۔
تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد
قولہ : اُتْلُ ، تو پڑھ، تو تلاوت کر، تِلَاوَۃ، سے واحد مذکر حاضر کا صیغہ ہے۔
قولہ : تَبُوْءَ ، بَوْءٌ (ن) مضارع واحد مذکر غائب، تو حاصل کرے، تو سمیٹے، تو کمائے، تو لوٹے۔
قولہ : طَوَّعت تَطْوِیْعٌ، (تفعیل) سے ماضی واحد مؤنث غائب، اس نے رغبت دلائی، اس نے راضی کیا، اس نے آمادہ کیا، اس نے آسان کردیا، (وسَّعَتْ وزیّنَتْ مِنْ طاعَ الموعی لہ، اِذَا اتَّسَعَ ) ۔ (اعراب القرآن للدرویش) ۔ قولہ : سَوْءۃ، لاش، عیب، ستر۔
قولہ : علیٰ حملہٖ ، ای حمل الجسدِ علی ظھرہٖ ، یعنی اپنے بھائی ھابیل کو اپنی پشت پر اٹھائے پھرنے اور دفن کا طریقہ معلوم نہ ہونے کی وجہ سے نادم ہوا، علی حملہٖ کا ایک مطلب یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ حملہٖ کی ضمیر کا مرجع قتل کو قرار دیا جائے اور ترجمہ یہ ہو کہ قابیل اپنے نفس کے ھابیل کو قتل پر آمادہ کرنے پر نادم ہوا۔
قولہ : من حیث اِنتِھَاکِ حُرْمَتِھا، اس کا تعلق کانما قَتَلَ الناسَ جمیعا، سے ہے، یعنی جس نے ایک نفس کو قتل کرکے اس کی بےحرمتی کی تو گویا اس نے تمام نفوس کی بےحرمتی کی۔
قولہ : وصونِھَا، اس کا تعلق، فکانّما احیا الناس جمیعا، سے ہے یعنی جس نے ایک شخص کی جان بچائی گویا اس نے تمام انسانوں کی جان بچائی، مِنْ حیثُ انتھاکِ حُرمَتِھَا وصَوْنِھَا، یہ جملہ لف و نشر مرتب کے طور پر ہے۔
قولہ : عُرنِیّیِیْنَ ، یہ عُرَنِییٌّ، کی جمع ہے یہ عرب کے ایک قبیلہ عرینۃ، کی طرف منسوب ہے عُرنیِین میں یاء نسبی ہے، جیسا کہ جَھَنِیٌّ قبیلہ جہینہ کی طرف منسوب ہے (جمل) عبد الرزاق نے حضرت ابوہریرہ اور ابن جریر نے انس کی روایت کے حوالہ سے لکھا ہے کہ بحرین کے باشندے قبیلہ عرینہ کے کچھ لوگ مراد ہیں۔ (احسن التفاسیر)
قولہ : اَوْ لِتَرْتِیْبِ الاَحْوَالِ ، یعنی اَوْ قرآن میں جہاں کہیں آیا ہے وہ تخییر کیلئے ہے سوائے یہاں ترتیب کیلئے ہے۔
تفسیر و تشریح
وَاتلُ ، اس کا عطف سابق میں اُذْکر مقدر پر ہے، ای ذکر اِذ قال موسیٰ لقومہٖ وَاتل عَلَیْھم نَبأَ ابنَیْ آدمَ ، دونوں میں ربط ظاہر ہے معطوف علیہ میں جُبْن عن القتل جہاد سے جی چرانے کا ذکر ہے اور معطوف میں جرأۃ علی القتل قتل ناحق کا ذکر ہے، یہ دونوں باتیں ہی معصیت ہیں۔
نَبَأ ابنَیْ آدمَ سے قابیل وھابیل حضرت آدم (علیہ السلام) کے صلبی بیٹے مراد ہیں، قابیل بڑے تھے ان کا ذریعہ معاش کاشتکاری تھا اور ھابیل چھوٹے تھے ان کا ذریعہ معاش گلہ بانی تھا۔ حسن نے کہا ہے کہ مذکورہ دونوں شخص بنی اسرائیل کے فرد تھے مگر صحیح اول ہے اسلئے کہ اسی آیت کے آخر میں بتایا گیا ہے کہ قاتل کو دفن کا طریقہ معلوم نہیں تھا، ایک کوے سے رہنمائی حاصل کرکے دفن کیا، اگر بنی اسرائیل کا واقعہ ہوتا تو دفن کا طریقہ معلوم ہونا چاہیے تھا اس لئے کہ ہزار ہا انسان اس سے پہلے انتقال کرچکے ہوں گے
(روح المعانی ملخصاً واضافۃ)
قابیل و ھابیل کا واقعہ : قرآن کریم میں دونوں کے نذر ماننے اور ایک کی نذر قبول ہونے کا ذکر ہے مگر یہ نذر کس لئے مانی گئی تھی اس کے بارے میں کوئی صحیح روایت نہیں ہے۔ تفسیر ابن جریر میں حضرت عبد اللہ بن عباس اور عبد اللہ بن مسعود ؓ کی جو روایتیں ہیں ان کے مطابق واقعہ کا حاصل یہ ہے کہ حضرت آدم (علیہ السلام) کے زمانہ میں بھائی بہن کا نکاح ضرورۃً جائز تھا۔ اس لئے کہ بہن بھائیوں کے علاوہ اس وقت کوئی دوسری نسل موجود نہیں تھی، البتہ اس قدر احتیاط کی جاتی تھی کہ ایک بطن کے بھائی بہن کا نکاح نہیں ہوتا تھا، کہا گیا ہے کہ قابیل کی بہن خوبصورت تھی اور ھابیل کی بہن بدصورت، ھابیل کا نکاح قابیل کی بہن سے اور قابیل کا نکاح ھابیل کی بہن سے ہونا تھا مگر قابیل اس پر راضی نہ ہوا اور اپنی ہی بہن سے نکاح پر مصر رہا، تو حضرت آدم (علیہ السلام) نے یہ فیصلہ کیا کہ دونوں بھائی اللہ کی راہ میں نذر پیش کریں جس کی نذر قبول ہوجائے وہ خوبصورت لڑکی سے نکاح کرے، کہا گیا ہے کہ قابیل کے ساتھ پیدا ہونے والی لڑکی کا نام اقلیما تھا اور ھابیل کے ساتھ پیدا ہونے والی لڑکی کا نام لیوذا تھا۔
قابیل اپنے ساتھ پیدا ہونے والی لڑکی اقلیما سے نکاح کرنے پر مصر رہا تو حضرت آدم (علیہ السلام) نے دونوں کو نذر ماننے کا حکم دیا، قابیل چونکہ زراعت کا پیشہ کرتے تھے وہ گندم کی بالوں کا مٹھا نذر کیلئے لائے اور ھابیل چونکہ گلہ بانی کا پیشہ کرتے تھے تو وہ ایک عمدہ قسم کا دنبہ لائے، اس زمانہ میں نذر قبول کئے جانے کی یہ علامت تھی کہ جس کی نذر قبول ہوتی تھی آسمانی آگ آکر اسے جلا دیتی تھی چناچہ ھابیل کی قربانی بارگاہ خداوندی میں مقبول ہوئی جس کی وجہ سے قابیل کو ھابیل پر حسد ہوا جس کی وجہ سے قابیل نے ھابیل کو قتل کرنے کی ٹھان لی اور ایک روز جبکہ حضرت آدم (علیہ السلام) حج کے لئے تشریف لے گئے تھے ان کی عدم موجودگی میں قابیل نے ھابیل کو قتل کردیا، بخاری و مسلم میں عبد اللہ بن مسعود سے روایت ہے کہ قابیل نے سب سے پہلے قتل کا طریقہ ایجاد کیا لہٰذا قیامت تک ناحق ہونے والے قتل کا گناہ قابیل کے اعمال نامے میں بھی لکھا جائیگا، اس وقت تک مردوں کو دفن کرنے کا طریقہ جاری نہیں ہوا تھا، اس لئے اللہ تعالیٰ نے ایک کوے کی معرفت دفن کا طریقہ سکھایا، قابیل کوے سے دفن کا طریقہ دیکھ کر بہت نادم ہوا کہ میرے اندر ایک جانور کے برابر بھی سمجھ نہیں، ھابیل چونکہ نبی کے حکم پر تھا اس لئے خود کو اس نے خدا ترس بتایا،۔۔۔۔۔ باثمی واثمکَ ، کا مطلب یہ ہے کہ اپنے ذاتی گناہوں کے علاوہ میرے خون ناحق کا وبال بھی تیرے ذمہ ہوگا، اور بعض حضرات نے، باثمی، کا مطلب یہ لیا ہے کہ قتل کا وہ گناہ جو مجھے اس وقت اس ہوتا جب میں تجھے قتل کرتا جیسا کہ حدیث میں آتا ہے کہ قاتل اور مقتول دونوں جہنم میں جائیں گے، صحابہ کرام نے عرض کیا قاتل کا جہنم جانا تو سمجھ میں آتا ہے مقتول جہنم میں کیوں جائیگا، آپ نے فرمایا کہ وہ بھی اپنے ساتھی کو قتل کرنے کا حریص تھا۔ (بخاری و مسلم)
اس موقع پر اس واقعہ کا ذکر کرنے کا مقصد : یہاں اس واقعہ قابیل و ھابیل کو ذکر کرنے کا مقصد یہود کو ان کی سازش اور حسد پر لطیف طریقہ سے ملامت کرنا ہے، عبد اللہ بن مسعود نے روایت کیا ہے کہ یہودیوں میں سے ایک گروہ نے نبی ﷺ اور آپ کے خاص صحابہ کو کھانے کی دعوت پر بلایا تھا اور خفیہ طور پر سازش کی تھی کہ اچانک ان پر ٹوٹ پڑیں گے، اس طرح اسلام کی جان نکال دیں گے، لیکن اللہ کے فضل و کرم سے عین وقت پر آپ ﷺ کو ان کی سازش کا علم ہوگیا اور دعوت پر تشریف نہ لے گئے، اور یہ سازش محض حسد کی بناء پر رھی یہ آخری نبی بنواسرائیل میں آنے کے بجائے بنو اسماعیل میں کیوں آگیا ؟ حالانکہ وہ آپکا نبی ہونا یقین اور وثوق کے ساتھ پہچانتے تھے۔ (یعرفونہ کما یعرفون ابناءھم) ۔
Ayahs 5:33–34شان نزول : اِنّما جزاءُ الذین یُحَاربون اللہ ورسولہ، (الآیۃ) اس آیت کے شان نزول میں کہ عکل اور عرینہ کے کچھ لوگ مسلمان ہو کر مدینہ آئے، انہیں مدینہ کی آب و ہوا موافق نہ آئی تو انہیں نبی ﷺ نے مدینہ سے باہر جہاں صدقے کے اونٹ رہتے تھے بھیج دیا اور فرمایا تم اونٹوں کا دودھ اور پیشاب پیو اللہ تمہیں شفاء عطا فرمائے گا، چناچہ چند روز میں وہ لوگ تندرست ہوگئے مگر انہوں نے یہ حرکت کی آنحضرت ﷺ کا آزاد کردہ یسار نامی ایک غلام تھا جو نماز بہت اطمینان سے دل لگا کر پڑھا کرتا تھا اسی وجہ سے آپ ﷺ نے اس کو آزاد کردیا تھا۔
صدقات کے جانور جن میں بیت المال کی اونٹنیاں بھی شامل تھیں اور آپ کی اونٹنی بھی تھی، یسار ان کی نگرانی پر مومور تھے۔ عرینہ کے قبیلہ کے لوگ کچھ روز تو مدینہ میں رہے مگر چند روز میں ان کے پیٹ بڑھ گئے اور رنگ زرد ہوگئے، ان لوگوں نے آپ ﷺ سے شکایت کی تو آپ ﷺ نے ان کو یسا کے ساتھ جنگل جانے کا حکم دیا اور فرمایا کہ اونٹوں کا دودھ اور پیشاب پیا کرو چناچہ جب یہ صحت یاب ہوگئے تو یسار کی اول تو آنکھیں پھوڑ ڈالیں اور بعد میں ان کو قتل بھی کردیا اور اونٹوں کو لیکر اپنے وطن روانہ ہوگئے اور مرتد ہوگئے، مدینہ میں جب یہ خبر پہنچی تو آنحضرت ﷺ نے جریر بن عبد اللہ کو سرداد بنا کر کچھ لوگوں کو ان کے پکڑنے کیلئے بھیجا آخر کار یہ لوگ پکڑے گئے، ان کی آنکھوں کو العین بالعین کے قاعدہ سے پھوڑ کر قتل کرا دیا گیا اور یہ قصاص کے طور پر کیا۔
Ayah 5:35آیت نمبر 35 تا 43
ترجمہ : اے ایمان والو اللہ سے یعنی اس کے عذاب سے ڈرو بایں طور کہ اس کی اطاعت کرو، اور اس کی اطاعت کے ذریعہ اس کا قرب تلاش کرو جو تم کو اس کا مقرب بنا دے اور اس کی راہ میں ان کے دین کو سربلند کرنے کیلئے جدوجہد کرو تاکہ تم کامیاب ہوجاؤ، خوب سمجھ لو ان لوگوں کیلئے جنہوں نے کفر کی روش اختیار کی اگر ان کے قبضہ میں زمین کی ساری دولت ہو اور اتنی ہی اور۔ اس سب کو قیامت کے دن کے عذاب کے عوض میں دینا چاہیں تو بھی ان سے قبول نہ ہوگی اور انہیں دردناک سزا مل کر رہے گی، وہ چاہیں گے کہ آگ سے نکل بھاگیں مگر نہ نکل سکیں گے اور ان کیلئے دائمی عذاب ہوگا، اور چور خواہ مرد ہو یا عورت الف لام (السارق اور السارقۃ) دونوں میں موصولہ مبتداء مشابہ بالشرط ہے اور اسی وجہ سے اس کی خبر پر فاء داخل ہے اور وہ فاقطعوا ایدیھما ہے، دونوں کے ہاتھ کاٹ دو یعنی ہر ایک کے داہنے ہاتھ کو گٹے سے کاٹ دو ، اور سنت نے بیان کیا ہے کہ وہ مقدار کہ جس کے عوض (ہاتھ) کاٹا جائیگا چوتھائی دینار یا اس سے زیادہ ہے اور اگر وہ دوبارہ چوری کرے تو اس کا بایاں پیر ٹخنے سے کاٹا جائیگا، پھر بایاں ہاتھ پھر دایاں پیر، اور اس کے بعد تعزیری سزا دی جائے گی، یہ ان کے کرتوتوں کا بدلہ ہے، اور اللہ کی جانب سے ان کیلئے بطور سزا کے ہے، اور اللہ اپنے حکم میں غالب اپنی مخلوق کے بارے میں با حکمت ہے جزاءً مصدریت کی وجہ سے منصوب ہے پھر جس نے گناہ کے بعد توبہ کرلی یعنی سرقہ سے باز آگیا، اور اپنے عمل کی اصلاح کرلی تو اللہ اس کی توبہ کو قبول کرے گا اللہ معاف کرنے والا رحم کرنے والا ہے، (فلاتحدوھم) کے بجائے اِنَّ اللہ غفور رحیم، سے تعبیر کرنے کا وہی مطلب ہے جو ماسبق میں بیان ہوا، لہٰذا (سارق کے) توبہ کرلینے سے نہ تو حق ولعباد میں سے قطع یدساقط ہوگا اور نہ (مسروقہ) مال کی واپسی کا حق، البتہ سنت سے یہ بات معلوم ہوئی ہے کہ اگر مسروق منہ نے قاضی کی عدالت میں مقدمہ پیش ہونے سے پہلے معاف کردیا، تو قطع ساقط ہوجائیگا اور یہی امام شافعی (رح) تعالیٰ کا مذہب ہے، کیا تم نہیں جانتے ؟ استفہام تقریر کیلئے ہے، کہ اللہ زمین و آسمان کی سلطنت کا مالک ہے، جس کو عذاب دینا چاہے عذاب دے گا اور جس کو معاف کرنا چاہے گا معاف کرے گا اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے اور ان میں تعذیب اور مغفرت بھی داخل ہیں، اے رسول آپ کے لئے ان لوگوں کا طرز عمل باعث رنج نہ ہو کہ جو لوگ کفر کے بارے میں بڑی تیزگامی رکھاتے ہیں یعنی بڑی تیزی سے اس میں مبتلا ہوجاتے ہیں اور جب بھی موقع پاتے ہیں کفر کا اظہار کرتے ہیں خواہ وہ ان لوگوں میں سے ہوں مِن بیانیہ ہے، جنہوں نے اپنے زبان سے کہا ہم ایمان لائے ہیں (بافواھھم) قالوا سے متعلق ہے، حالانکہ وہ دل سے ایمان نہیں لائے اور منافق ہیں، یا ان لوگوں میں سے ہوں جنہوں نے یہودی مذہب اختیار کرلیا ہے، اور وہ ایسے لوگ ہیں کہ جو قبولیت کے کان سے جھوٹی بات سننے کے عادی ہیں جن کو ان کے حبار نے گھڑ لیا ہے، اور یہود میں سے ان لوگوں کے لئے آپ کی جاسوسی کرتے ہیں جو آپ کے پاس نہیں آتے اور وہ اہل خیبر ہیں، ان میں دو شادی شدہ لوگوں نے زنا کیا تھا مگر ان لوگوں نے ان کے رجم کئے جانے کو ناپسند کیا، چناچہ ان لوگوں نے بنی قریظہ کو آپ کی خدمت میں ان کا حکم معلوم کرنے کے لئے بھیجا، اور تورات میں مذکور حکم میں رد و بدل کرتے ہیں مثلاً آیت رجم میں، اس کا صحیح مفہوم متعین ہونے کے بعد، وہ مفہوم کہ جس کو اللہ نے متعین فرمایا ہے یعنی اس میں تبدیلی کردیتے ہیں، اور جن لوگوں کو بھیجا ان سے کہتے ہیں کہ اگر اس محرف حکم یعنی کوڑے مارنے کا محمد فتوی دیں تو قبول کرلینا اور اگر (محرف کے مطابق) فتوی نہ دیں بلکہ اس کے خلاف فتویٰ دیں تو اس کو قبول کرنے سے اجتناب کرنا، اور اللہ جسے فتنے گمراہی میں مبتلا کرنے کا ارادہ نہیں ہے اور اگر اللہ تعالیٰ (پاک کرنے کا) ارادہ کرتے تو ضرور پاک ہوجاتے ان کے لئے دنیا میں رسوائی کے جزیہ کے ساتھ بڑی ذلت ہے اور ان کیلئے آخرت میں بڑا عذاب ہے، اور یہ لوگ کان لگا کر جھوٹ کے سننے والے اور حرام مال کے کھانے والے ہیں مثلاً رشوت کے ذریعہ، اگر یہ لوگ آپ سے اپنا فیصلہ کرانے کیلئے آپ کے پاس آئیں، (اگر چاہو) تو ان کے درمیان فیصلہ کردو یا انکار کردو، یہ اختیار اللہ تعالیٰ کے قول ” واَن احکم بَیْنَھم “ کے ذریعہ منسوخ ہے، لہٰذا اگر وہ فیصلہ ہمارے پاس لائیں تو اس کا فیصلہ کرنا واجب ہے امام شافعی (رح) تعالیٰ کے اقوال میں سے یہ صحیح تر ہے، اور اگر کسی مسلمان کے ساتھ ہمارے پاس مقدمہ لائیں تو بالاتفاق فیصلہ کرنا واجب ہے، اور اگر تم انکار کردو تو وہ تمہارا کچھ نہیں بگاڑ سکتے، اور اگر آپ ان کے درمیان فیصلہ کریں تو انصاف کے ساتھ صحیح صحیح فیصلہ کریں، بلاشبہ اللہ تعالیٰ فیصلہ میں انصاف کرنے والوں کو پسند فرماتے ہیں یعنی ان کو اجر عطا فرمائیں گے، اور یہ لوگ آپ کو کیسے حکم بناتے ہیں حالانکہ ان کے پاس تورات ہے اس میں رجم کا خدائی حکم موجود ہے استفہام تعجب کے لئے ہے یعنی اس سے ان کا مقصد معرفت حق نہیں ہے بلکہ ان کیلئے آسانی تلاش کرنا ہے، پھر یہ لوگ آپ کے رجم کے فیصلے کے بعد جو ان کی کتاب کے مطابق ہے اعراض کرتے ہیں، در حقیقت یہ لوگ ایمان ہی نہیں رکھتے۔
تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد
قولہ : ثَبَتَ ۔ سوال : لَوْ ثَبَتَ أنّ لَھُمْ میں ثَبَتَ مقدر ماننے کا کیا فائدہ ہے ؟
جواب : لَوْ حرف شرط چونکہ فعل پر ہی داخل ہوتا ہے اگر ثَبَتَ فعل مقدر نہ مانا جائئے تو، لَوْ کا حرف پر داخل ہونا لازم آئے گا۔
قولہ : اَلْ ، الف لام موصولہ ہیں معنی میں اَلَّذِیْ سَرَقَ وَالَّتِیْ سَرَقَتْ کے ہے اسم موصول مبتداء متضمن بمعنی شرط ہے اس لئے اس کی خبر فاقطعوا پر متضمن بمعنی جزاء ہونے کی وجہ سے فاء داخل ہے۔
قولہ : نَصْبٌ عَلَی الْمَصْدَرِیَّۃِ ، بمعنی جزاءًا مفعول مطلق ہونے کی وجہ سے منصوب ہے، ای یُجْزَوْنَ جزاءً ۔
قولہ : فی التَعْبِیْرَ بھذا یعنی فَمَنْ تاب من بعد ظلمہ کے جواب میں فَلَا تحدّوا نہیں فرمایا بلکہ فاِن اللہ یتوب علیہ فرمایا، اس میں اشارہ ہے کہ اللہ تعالیٰ توبہ کی وجہ سے حقوق العباد کو معاد نہ فرمائیں گے، یعنی آخرت کی سزا تو معاف فرما سکتے ہیں جو کہ حقوق اللہ ہے مگر دنیا کی سزا جو کہ قطع ید اور مسروقہ مال کی واپسی ہے معاف نہ فرمائیں گے، اور ان اللہ غفورٌ رحیم کی تعبیر میں بھی یہی مقصد ہے۔
قولہ : لا یَحْزُنْکَ صُنْع، اس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ حزن و ملال کا تعلق ذات سے نہیں بلکہ فعل سے ہوتا ہے اسی مقصد کے لئے مفسر علام نے صنع کا اضافہ کیا ہے۔
قولہ : سَمّٰعُوْنَ ، یہ مبتداء محذوف کی خبر ہے، ای ھم سمّٰعون۔ قولہ : مِن بعد مَوَاضعِہٖ ، ای من بعد تحقیق مواضعِہٖ الَّتی وضع اللہ، یعنی کلمہ کا مفہوم منجانب اللہ متعین ہونے کے باوجود کلمہ کو اس کے حقیقی مفہوم سے ہٹا دیتے تھے۔
قولہ : اَلسُّحْت، حرام یہ سَحَتَہٗ ، سے ماخوذ ہے اس وقت بولتے ہیں جب کسی چیز کو جڑ سے اکھاڑ دیا جائے حرام مال چونکہ مسحوت البرکت ہوتا ہے اسی لئے اس کو سُحُت کہا جاتا ہے، اکّالون للسحت، وہ بڑے حرام خور ہیں۔
تفسیر و تشریح
یٰآیُّھَا الَّذِیْن آمنوا اتقوا اللہ وابتغوا اِلَیْہ الوسیلۃ، وسیلہ، وسْلٌ مصدر سے مشتق ہے جس کے معنی ملنے اور جڑنے کے ہیں، سین اور صاد دونوں سے تقریباً ایک ہی معنی میں آتا ہے فرق اتنا ہے کہ صاد سے مطلقاً ملنے اور جڑنے کے معنی میں ہے اور سین سے رغبت و محبت کے ساتھ ملنے اور جڑنے کے معنی میں۔ وسیلہ کے معنی ایسی چیز کے ہیں جو کسی مقصود کے حصول یا اس کے قرب کا ذریعہ ہو، اللہ تعالیٰ کی طرف وسیلہ تلاش کرو، کا مطلب ہوگا ایسے اعمال اختیار کرو جن سے تمہیں اللہ کی رضا اور اس کا قرب حاصل ہوجائے، علامہ شوکانی فرماتے ہیں ” انَّ الوَسِیْلَۃَ التی ھِیَ القربۃ تصدق علی التقوی وعلیٰ غیرھا من خصال الخیر التی یتقرب العبادبھا الی ربھم “ یہاں وسیلہ کے وہ معنی مراد نہیں ہیں جو عام لوگ مراد لیتے ہیں جس کی شریعت میں کوئی بنیاد نہیں ہے، البتہ حدیث میں اس مقام محمود کو بھی وسیلہ کہا گیا ہے جو جنت میں نبی کریم ﷺ کو عطا فرمایا جائیگا، اسی لئے آپ نے فرمایا جو اذان کے بعد میرے لئے وسیلہ کی دعا
کریگا وہ میری شفاعت کا مستحق ہوگا۔ (صحیح بخاری کتاب الاذان)
دعاء وسیلہ : دعاء وسیلہ جو اذان کے بعد پڑھی جاتی ہے یہ ہے، اللّٰھمَّ ربّ ھذہ الدعوۃ التامۃ والصلوٰۃ والقائمۃ، اٰتِ محمداً نِ الوسیلۃ والفضیلۃ وَابْعثہ مقامًا محمودًا نِ الذی وَعَدْتَہٗ ۔
Ayahs 5:36–37اِنَّ الذین کفروا لو انّ لھم ما فی الارض جمیعا (الآیۃ) حدیث میں آتا ہے کہ ایک جہنمی کو جہنم سے نکال کر اللہ رب العزت کی بارگاہ میں پیش کیا جائیگا اللہ تعالیٰ اس سے فرمائیگا، تو نے اپنی آرام گاہ کیسی پائی ؟ وہ کہے گا بدترین آرام گاہ ہے اللہ تعالیٰ فرمائیگا کیا تو زمین بھر فدیہ دے کر اس سے چھٹکارا حاصل کرنا پسند کر گا ؟ وہ اثبات میں جواب دیگا، اللہ تعالیٰ فرمائیگا میں نے تو دنیا میں اس سے بھی کم کا تجھ سے مطالبہ کیا تھا، تو نے وہاں اس کی پرواہ نہیں کی، اور اسے دوبارہ جہنم میں ڈال دیا جائیگا۔ (صحٰح مسلم صفۃ القیامہ بخاری شریف کتاب الرقاق والانبیاء) ۔
والسارق والسارقۃ فاقطعوا ایدیھما (الآیۃ) سرقہ کے لغوی معنی اور شرعی تعریف : قاموس میں ہے کہ کوئی شخص کسی کے محفوظ مال کو بغیر اس کی اجازت کے چھپ کرلے لے، اس کو سرقہ کہتے ہیں، یہی سرقہ کی شرعی تعریف ہے، اس تعریف کی رو سے سرقہ ثابت ہونے کیلئے چند چیزیں ضروری ہیں۔ اول یہ کہ وہ مال کسی فرد یا جماعت کی ذات ملکیت ہو، چور کی نہ اس میں ملکیت ہو اور نہ ملکیت کا شبہ، اور نہ ایسی چیز کہ جس میں عوام کے حقوق مساوی ہوں جیسے استفادہ عام کی اشیاء اور ادارے، ان میں چوری کی سزا جاری نہ ہوگی البتہ حاکم اپنی صوابدید کے مطابق تعزیری سزا دے سکتا ہے۔ دوسری شرط مال کا محفوظ ہونا ہے مال غیر محفوظ کو اگر کوئی شخص اٹھا لیے تو اس پر بھی سرقہ جاری نہ ہوگی، البتہ عند اللہ گنہگار ہوگا، اور اس پر تعزیزی سزا بھی جاری کی جاسکتی ہے۔ تیسری شرط بلا اجازت لینا ہے، جس مال کے لینے یا استعمال کرنے کی اجازت ہو اور وہ اس کو اٹھا کرلیجائے تب بھی حد سرقہ جاری نہ ہوگی، امت کا اس پر اتفاق ہے کہ پہلی چوری پر سیدھا کاٹا جائیگا، سرقہ کا اطلاق خیانت پر نہ ہوگا، نبی ﷺ نے فرمایا، ” لا قطع علیٰ خائن “۔
مقدر مال مسروقہ جس پر ہاتھ کاٹا جائیگا : آپ ﷺ نے یہ ہدایت فرمائی ہے کہ ایک ڈھال کی قیمت سے کم کی چوری میں ہاتھ نہ کاٹا جائے، ایک ڈھال کی قیمت نبی ﷺ کے زمانہ میں بروایت عبد اللہ بن عباس ؓ دس درہم اور بروایت ابن عمر ؓ تین درہم اور بروایت انس بن مالک پانچ اور بروایت عائشہ ؓ ربع دینار ہوتی تھی، قیمت کا مذکورہ اختلاف ڈھال کی نوعیت کے اعتبار سے ہوسکتا ہے، اسی اختلاف کی وجہ سے فقہاء کے درمیان کم سے کم نصاب سرقہ میں اختلاف ہوا ہے، امام ابوحنیفہ (رح) تعالیٰ کے نزدیک سرقہ کا نصاب دس درہم ہے، اور امام مالک و شافعی (رح) تعالیٰ واحمد (رح) تعالیٰ کے نزدیک چوتھائی دینار ہے جو اس زمانہ کے درہم میں تین ماشہ (51؍1) رتی چاندی ہوتی تھی، اور ایک چوتھائی دینار تین درہم کے مساوی ہوتا تھا۔ مفسر علام نے چوری کی جو سزا بیان فرمائی ہے وہ امام شافعی (رح) تعالیٰ کے نزدیک ہے احناف کے نزدیک پہلی مرتبہ چوری میں دایاں ہاتھ اور دوسری مرتبہ چوری میں بایاں پیر کاٹا جائیگا، اس کے بعد بھی اگر اس نے چوری کی تو حاکم اپنی صوابدید کے مطابق تعزیری سزا دے گا۔
بہت سی اشیاء کی چوری میں ہاتھ نہیں کاٹا جاتا : آپ ﷺ کی ہدایت ہے کہ ” لاقَطْع فی ثمرۃ ولا کثر “ پھل اور ترکاری کی چوری میں ہاتھ نہ کاٹا جائے، لاقطع فی طعام، کھانے کی چیزوں میں قطع ید نہیں ہے، حضرت عائشہ فرماتی پ ہیں، ” لم یکن قطع السارق علی عھد رسول اللہ ﷺ فی الشئ التافہ “ یعنی معمولی چیزوں کی چوری میں نبی ﷺ کے زمانہ میں ہاتھ نہیں کاٹا جاتا تھا، لا قطع فی الطیر، پرندے کی چوری میں ہاتھ کاٹنے کی سزا نہیں ہے، نیز حضرت عمر و علی ؓ نے بیت المال سے چوری کرنے والے کا ہاتھ بھی نہیں کاٹا، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ ان چوریوں پر سرے سے کوئی سزا ہی نہ دی جائے، مطلب یہ ہے کہ ان چوریوں میں ہاتھ نہ کاٹا جائے جو مناسب سمجھے تعزیری سزا جاری کرسکتا ہے۔
اسلامی سزاؤں کے متعلق اہل یورپ کا واویلاہ : اسلامی سزاؤں کے متعلق اہل یورپ اور ان کی تہذیب سے متاثر لوگوں کا یہ عام اعتراض ہے کہ یہ سزائیں سخت ہیں، اس کے متعلق یہ بات پیش نظر رہنا ضروری ہے کہ قرآن کریم نے صرف پانچ جرموں کی سزائیں خود مقرر کیں ہیں، جن کو شرعی اصطلاح میں حد کہا جاتا ہے، (1) ڈاکہ کی سزا دینا ہاتھ اور بایاں پیر کاٹنا (2) چوری کی سزا دایاں ہاتھ پہنچے سے کاٹنا، (3) زنا کی سزا بعض صورتوں میں سو کوڑے لگانا اور بعض میں سنگسار کرنا، (4) زنا کی جھوٹی تہمت لگانے کی سزا اسی (80) کوڑے لگانا، (5) حد شرعی شراب نوشی کی ہے اس کی سزا بھی اسی کوڑے ہیں، مذکورہ پانچ جرائم کے سوا دیگر تمام جرائم کی سزا حاکم وقت کی صوابدید پر ہے، اس کے علاوہ مذکورہ پانچ جرائم میں بہت سی صورتیں ایسی نکلیں گی کہ ان میں حدود شرعیہ کا نفاذ نہیں ہوگا، بلکہ وقت کی صوابدید کے مطابق تعزیری سزائیں دی جائیں گی۔
اسلامی سزاؤں کا مقصد : اسلامی سزاؤں کا مقصد ایذاء رسانی نہیں بلکہ انسداد جرائم اور امن عامہ کو قائم کرنا ہے، شرعی سزاؤں کے نفاذ کی نوبت شاذ و نادر آتی ہے، عام حالات میں حدود والے جرائم میں بھی تعزیری سزائیں جاری ہوتی ہیں، لیکن اگر حدود کی شرائط کی تکمیل کے ساتھ جرم ثابت ہوجائے کہ جو نہایت مشکل ہے تو پھر مجرم کو ایسی عبرتناک سزا دی جاتی ہے جس کی ہیبت لوگوں کے قلب و دماغ پر مسلط ہوجائے، اور اس جرم کے تصور سے بدن پر لرزہ طاری ہوجائے بخلاف مروجہ تعزیری قوانین کے کہ وہ جرائم پیشہ لوگوں کی نظر میں ایک کھیل ہیں، جیل خانہ میں بیٹھے ہوئے بھی آئندہ اس جرم کو اور زیادہ بہتر طریقہ سے کرنے کے پروگرام بناتے ہیں اور جیل سے رہائی پانے کے وقت وہ کہ کر آتے ہیں ہماری جگہ محفوظ رکھی جائے ہم بہت جلد واپس آنے والے ہیں۔
حدود شرعیہ کے نفاذ کی تاثیر : بخلاف ان مماملک کے کہ جن میں حدود شرعیہ نافذ کی جاتی ہیں ان کے حالات کا اگر جائزہ لیا جائے تو حقیقت سامنے آجائے گی، وہاں نہ آپ کو بہت سے لوگ ہاتھ کٹے ہوئے نظر آئیں گے اور نہ سالہا سال میں وہاں سنگساری کا کوئی واقعہ نظر آئیگا مگر سزاؤں کی دھاک قلوب پر ایسی ہے کہ وہاں چوری ڈاکہ اور بےحیائی کا نام تک نظر نہ آئے گا سعودی عربیہ کے حالات سے عام مسلمان براہ راست واقف ہے، دن میں پانچ مرتبہ ہر شخص یہ دیکھتا ہے کہ دکانیں کھلی ہوئی ہیں ان میں لاکھوں کا سامان پڑا ہوا ہے دکان کا مالک دکان بند کئے بغیر نماز کے لئے حرم میں بےفکر ہو کر چلا جاتا ہے، اس کو کبھی یہ وسوسہ بھی نہیں پیش آتا کہ اس کی دکان سے کوئی چیز غائب ہوجائے گی، اور یہ ایک دن کا معمول نہیں ہے بلکہ روزمرہ کا معمول ہے دنیا کے کسی متمدن اور مہذب ملک میں ایسا کرکے دیکھئے تو ایک دن میں سینکڑوں چوریاں اور ڈاکے پڑجائیں گے۔
تہذیب نو اور حقوق انسانی کے دعویداروں کی عجیب منطق : یہ عجیب بات ہے کہ جرائم پیشہ لوگوں کے ساتھ تو ہمدری ہے مگر پورے عالم انسانیت پر رحم نہیں کرتے جن کی زندگی ان جرائم پیشہ لوگوں نے اجیرن بنا رکھی ہے، حقیقت تو یہ ہے کہ ایک مجرم پر ترس کھانا پوری انسانیت پر ظلم کرنے کے مترادف ہے۔ اور سب سے زیادہ عجیب بات یہ ہے کہ ان اسلامی سزاؤں پر اعتراض کے لئے ان لوگوں کی زبانیں اٹھتی ہیں لیکن جن کے ہاتھ ہیروشیما کے لاکھوں بےگناہ بےقصور انسانوں کے خون سے رنگین ہیں ان کے خلاف ان کی زبانوں کو تالا لگا ہوا ہے۔ اور حال ہی میں جن لوگوں نے افغانستان اور عراق میں ہزاروں بےگناہ بےقصور عورتوں بچوں بوڑھوں اور مریضوں کو ایک ہی دن میں موت کی نیند سلا دیا جن کے ہاتھوں سے ابھی تک بےقصوروں کا خون ٹپک رہا ہے جن کی خون آشامی کی طلب دن بدن بڑھتی ہی چلی جا رہی ہے اور روزانہ ایک نئے شکار کی تلاش و جستجو رہتی ہے۔
Ayahs 5:38–40شان نزول : والسارق والسارقۃ فاقطعوا ایدیھما : جس مخزومی عورت کے چوری کے واقعہ کے وقت یہ آیتیں نازل ہوئیں اس عورت کا قصہ صحیحین اور مسند امام احمد بن حنبل وغیرہ میں کچھ اس طرح مذکور ہے فتح مکہ کے وقت ایک مخزومی عورت نے چوری کی تھی یہ عورت چونکہ شریف اور بڑے خاندان سے تعلق رکھتی تھی جس کی وجہ سے قریش کیلئے اس کا ہاتھ کاٹنا شاق تھا، اس لئے قریش نے حضرت اسامہ بن زید سے آنحضرت ﷺ کی خدمت کی سفارش کرائی، آپ کو یہ سفارش سن کر غصہ آگیا تو آپ نے فرمایا تعزیرات الہیٰ میں بھی بندوں کی سفارش کا کچھ دخل ہوسکتا ہے ؟ بالفرض اگر محمد ﷺ کی بیٹی فاطمہ بھی چوری کرے تو اس کا ہاتھ کاٹا جائیگا، غرض آپ نے اس عورت کا ہاتھ کاٹنے کا حکم صادر فرمایا، جب اس عورت کا ہاتھ کٹ چکا تو اس عورت نے آپ ﷺ سے دریافت کیا کہ حضرت میری توبہ بھی قبول ہوگی آپ نے فرمایا تو اب ایسی ہوگئی جیسے آج ہی تیری ماں نے تجھے جنا ہے۔
مال مسروقہ کی مقدار پر ہاتھ کاٹنے پر اعتراض : ابو العلاء شاعر نے بغداد کے فقہاء پر ایک اعتراض کیا تھا جو مال مسروقہ کی مقدار کے بارے میں تھا، اعتراض کا حاصل یہ تھا کہ اگر کوئی شخص کسی کا ہاتھ کاٹ دے تو اس کی شرعی دیت پانچ سو دینار ہیں، اور اگر کوئی شخص کسی کی کوئی چیز چرالے تو تین پر یا دس درہم پر پانچ سو دینار کی مالیت کا ہاتھ کاٹ دیا جاتا ہے۔
جواب : جب تک وہ ہاتھ چوری میں ملوث نہیں ہوا تھا تو اللہ کے نزدیک معزز اور معصوم تھا جو کہ عند اللہ گراں قدر تھا، مگر جب وہ چوری کی گندگی میں آلودہ ہوگیا تو وہ عند اللہ بےحیثیت اور بےقیمت ہوگیا جس کی وجہ سے اس کی قیمت گھٹ گئی۔
بعض حضرات نے یہ جواب دیا ہے کہ شریعت کے احکام برے کاموں سے روکنے کیلئے ہیں اس لئے چور کو تو یوں روکا کہ تین درہم تک ہاتھ کٹنے کا خوف رہے اور خون خرابہ کرنے والوں اور ملک میں فسادبرپا کرنے والوں کو یوں روکا کہ اگر تم کسی کا ہاتھ کاٹو گے تو پانچ سو اشرفیاں تاوان دینا ہوگا۔
Ayah 5:41شان نزول : یٰاَیُّھا الرسول لا یحزنک (الآیۃ) آیت 41 اور 44 کے شان نزول میں دو واقعے بیان کئے گئے ہیں ایک تو شادی شدہ مرد و عورت کا ہے، تورات میں شادی شدہ زانیوں کی سزا سنگسار تھی اور آج بھی ہے لیکن یہ واقعہ چونکہ ایک بڑے گھرانے کا تھا اس لیے وہ سنگساری کی سزا سے بچنا چاہتے تھے، اس لئے انہوں نے مشورہ کیا کہ محمد ﷺ کے پاس فیصلہ کرائیں، اگر انہوں نے ہمارے ایجاد کردہ طریقہ کے مطابق یعنی کوڑے مارنے اور منہ کالا کرکے گھمانے کی سزا تھویز کی تو مان لیں گے اور اگر سنگساری کا فیصلہ کیا تو نہیں مانیں گے، چناچہ عبد اللہ بن عمر ؓ فرماتے ہیں کہ یہودی نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے، اور فیصلے ہوئے آپ نے ان سے دریافت فرمایا کہ تورات میں زنا کی کیا سزا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا کہ تورات میں زنا کی سزا کوڑے مارنا اور رسوا کرنا ہے، عبد اللہ بن سلام نے کہا تم جھوٹ کہتے ہو تورات میں رجم کا حکم ہے، جاؤ تو رات لیکر آؤ، یہود تو رات لاکر پڑھنے لگے تو آیت رجم پر ہاتھ رکھ کر آگے پیچھے کی آیات پڑھیں، عبد اللہ بن سلام نے کہا ہاتھ اٹھاؤ ہاتھ ہٹایا تو وہاں آیت رجم موجود تھی بالآخر اعتراف کرنا پڑا کہ محمد ﷺ سچ کہتے ہیں تورات میں آیت رجم موجود ہے چناچہ دونوں زانیوں کو رجم کردیا گیا۔ (صحیحین اور دیگر کتب)
دوسرا واقعہ : دوسرا واقعہ اس طرح بیان کیا گیا ہے کہ یہود کا ایک قبیلہ خود کو یہود کے دیگر قبلیوں سے زیادہ معزز اور اعلیٰ سمجھتا تھا، اور اسی وجہ سے اپنے مقتول کی دیت سو وسق اور دیگر قبیلوں کے مقتول کے قیمت پچاس وسق مقرر کو رکھی تھی، جب آپ ﷺ مدینہ تشریف لائے تو یہود کے دوسرے قبیلوں کو کچھ ہوصلہ ہوا تو انہوں نے سو وسق دیت دینے سے انکار کردیا، قریب تھا کہ ان کے درمیان اس مسئلہ پر جنگ چھڑ جائے، لیکن ان کے سمجھدارلوگ نبی ﷺ کے پاس فیصلہ کرنے پر رضامند ہوگئے، اس موقع پر یہ آیات نازل ہوئیں، جن میں سے ایک آیت میں قصاص میں برابری کا حکم دیا گیا ہے۔
Ayahs 5:42–43وَاِنْ حکمتَ فاحکم بینَھُمْ بالقسط، ابتداء جب مدینہ میں اسلامی ریاست قائم ہوئی تھی یہودی اس وقت ایک باقاعدہ اسلامی ریاست کی باقاعدہ رعایا نہیں تھے بلکہ اسلامی حکومت کے ساتھ ان کے تعلقات معاہدات پر مبنی تھے، یہودیوں کو اپنے اندرونی معاملات میں آزادی حاصل تھی ان کے مذہبی مقدمات کے فیصلے انہی کے قوانین کے مطابق ان کے اپنے جج کرتے تھے، نبی ﷺ کے پاس یا آپ کے مقررہ کردہ قاضیوں کے پاس اپنے مقدمات لانے کیلئے وہ روئے قانون مجبور نہ تھے لیکن یہ لوگ جن معاملات میں خود اپنے مذہبی قانون کے مطابق فیصلہ کرنا نہ چاہتے تھے ان کا فیصلہ کرانے کے لئے نبی ﷺ کے پاس اس امید پر آجاتے تھے کہ شاید آپ کی شریعت میں ان کیلئے کوئی دوسرا حکم ہو اور اس طرح وہ اپنے قانون سے بچ جائیں۔
شان نزول : ابن جریر اور ابن ابی حاتم و ابن اسحاق نے عبد اللہ بن عباس ؓ سے ان ان آیتوں کے نزول میں یہ قصہ روایت کیا ہے کہ عبد اللہ بن صوریا اور شماس بن قیس اور یہودی علماء نے ایک روز آنحضرت ﷺ سے یہ فریب کیا کہ آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر کہا کہ ہمارے اور ہماری قوم کے درمیان کچھ معاملات میں اختلاف ہوگیا ہے ہم چند مقدمات آپ کے پاس لائے ہیں ان مقدموں کو اگر آپ ہماری خواہش کے مطابق فیصلہ کردیں گے تو ہم اسلام قبول کرلیں گے اور ہم چونکہ علماء ہیں ہمارا قوم میں اثر ہے اس لئے ایگر لوگ بھی مسلمان ہوجائیں گے، مگر باطنی طور پر ان کا مقصد یہ تھا کہ اگر آپ دھوکہ کھا کر حکم الہیٰ کے خلاف فیصلہ کردیں تو آپ کی نبوت میں طرح طرح کے شبہات ڈالیں، مگر آپ نے اس طرح فیصلے سے انکار فرما دیا، اللہ تعالیٰ نے آپ کو ہوشیار اور باخبر کرنے کے لئے یہ آیات نازل فرمائیں، اور فرمایا اے رسول اگر آپ ان کے درمیان فیصلہ کرنا منظور فرمائیں تو انصاف سے فیصلہ کریں، اللہ تعالیٰ انصاف کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے، لیکن اگر ان کو انصاف منظور ہوتا تو یہ لوگ تورات کے حکم سے نہ پھرتے جن پر تمام انبیاء بنی اسرائیل کا عمل تھا۔