4. Surah An-Nisaa

النساءThe Women · 176 ayahsتفسیرِ جلالین

Ayah 4:1

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّكُمُ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ وَّ خَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَ بَثَّ مِنْهُمَا رِجَالًا كَثِیْرًا وَّ نِسَآءً١ۚ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِیْ تَسَآءَلُوْنَ بِهٖ وَ الْاَرْحَامَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلَیْكُمْ رَقِیْبًا Open ayah 4:1 in the Quran reader

لوگو ! اپنے پروردگار سے ڈرو جس نے تم کو ایک شخص سے پیدا کیا (یعنی اوّل) اس نے اس کا جوڑا بنایا۔ پھر ان دونوں سے کثرت سے مرد و عورت (پیدا کر کے روئے زمین پر) پھیلا دیئے اور خدا سے جس کے نام کو تم اپنی حاجت براری کا ذریعہ بناتے ہو ڈرو اور (قطع مودت) ارحام سے (بچو) کچھ شک نہیں کہ خدا تمہیں دیکھ رہا ہے۔

آیت نمبر 1 تا 10 ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے۔ اے لوگو، یعنی اے مکہ والو ! تم اپنے رب کے عذاب سے ڈرو اس طریقہ پر کہ اس کی اطاعت کرو۔ جس نے تم کو ایک جان آدم سے پیدا کیا اور اسی سے اس کا جوڑا حوآء کو اس کی بائیں پسلیوں میں سے ایک پسلی سے پیدا کیا (حوآء) مد کے ساتھ ہے، اور ان دونوں یعنی آدم و حواء سے بہت سے مرد اور عورت پھیلا دئیے اور اس اللہ سے ڈرو جس کے واسطہ سے تم ایک دوسرے سے مانگتے ہو۔ اس طریقہ پر کہ ایک دوسرے سے کہتے ہو کہ میں تجھ سے اللہ کے واسطہ سے سوال کرتا ہوں یا تجھ کو اللہ کی قسم دیتا ہوں۔ اس میں تاء اصل میں سین میں مدغم ہے اور ایک قرائت میں بہ حذف تاء تخفیف کے ساتھ ہے۔ ای تساءلُوْنَ ، اور ذوی الارحام کے معاملہ میں اللہ سے ڈرو یعنی قطع رحمی کرنے سے ڈرو، اور ایک قراءت میں (اَرْحامِ ) کے کسرہ کے ساتھ ہے بہٖ ، کی ضمیر پر عطف کرتے ہوئے اور وہ آپس میں صلہ رحمی کا بھی واسطہ دیا کرتے تھے۔ بیشک اللہ تعالیٰ تم پر نگہبان ہے یعنی تمہارے اعمال کو محفوظ رکھنے والا ہے تو وہ تم کو ان اعمال کی جزاء دیگا، یعنی وہ اس صفت نگہبانی کے ساتھ ہمیشہ متصف ہے اور (آئندہ آیت) ایک یتیم کے بارے میں نازل ہوئی کہ جس نے اپنے ولی سے اپنا مال طلب کیا مگر اس نے منع کردیا۔ اور یتیموں کو یعنی وہ چھوٹے بچے کہ جن کا باپ موجود نہیں ہے جب وہ بالغ ہوجائیں تو ان کا مال دیدو اور حرام کو حلال سے تبدیل نہ کرو۔ یعنی حرام کو حلام کے عوض مت لو، جیسا کہ تم یتیم کے مال میں سے عمدہ مال لے کر اور اپنے مال میں سے خراب قسم کا مال اس کی جگہ رکھ کر کرتے ہو، اور ان کے مالوں کو اپنے مالوں سے ملا کر (یعنی اس کی آڑ میں) مت کھاؤ بلاشبہ یہ کھانا گناہ عظیم ہے، اور جب مذکوہ آیت نازل ہوئی تو لوگ یتیموں کی کفالت میں حرج محسوس کرنے لگے اور ان میں بعض لوگ ایسے بھی تھے کہ جن کی زوجیت میں دس دس یا آٹھ آٹھ یتیم بیویاں تھیں اور وہ ان کے درمیان عدل سے کام نہیں لیتے تھے تو آئندہ آیت نازل ہوئی۔ اگر تمہیں یتیموں کے بارے میں عدل نہ کرنے کا اندیشہ ہو اور تم ان کے معاملہ میں (گناہ) سے بچنا چاہتے ہو اور ان یتیم لڑکیوں سے نکاح کرنے کی صورت میں بھی انصاف نہ کرنے کا اندیشہ کرو، تو (یتیم لڑکیوں کے علاوہ) سے نکاح کرلو جو تم کو پسند ہوں، مَا، بمعنی مَنْ ہے دو دو سے تین تین سے چار چار سے اس سے آگے نہ بڑھو، لیکن اگر تمہیں ان کے درمیان (بھی) برابری نہ کرنے کا اندیشہ ہو تو ایک ہی کافی ہے یا اپنی باندیوں پر اکتفاء کرو اس لئے کہ باندیوں کے وہ حقوق نہیں ہوتے جو بیویوں کے ہوتے ہیں، یہ چار سے نکاح یا ایک سے، یا باندی پر اکتفاء زیادتی نہ ہونے کی توقع میں زیادہ قریب ہے اور تم عورتوں کے مہر خوش دلی سے دیدیا کرو صدقات، صَدُقَۃٌ کی جمع ہے صَدُقاتُھنّ ای مھودھُنّ ، نِحلۃً مصدر ہے معنی خوش دلی سے عطیہ دینے کے ہے لیکن اگر وہ خوش دلی سے تمہارے لئے اس میں سے کچھ چھوڑ دیں نَفْسًا، تمیز ہے جو فاعل سے منقول ہے ای طَابَتْ اَنْفُسُھنّ لکم من شیْءٍ مِنْ الصُداقِ فَوَھَبْنَہٗ لکم، تو تم اس شوق سے خوش ہو کر کھاؤ۔ کہ اس کے کھانے میں تمہارا آخرت میں کوئی نقصان نہیں۔ یہ آیت اس شخص پر رد کرنے کے بارے میں نازل ہوئی جو اس میں کراہت سمجھتا تھا۔ اور اے اولیاؤ ! تم کم عقلوں کو جو فضول خرچ ہوں مرد ہوں یا عورت اور بچے وہ مال نہ دو جو تمہارے قبضہ میں ہے (اور) جس کو تمہارے گزران کے لئے مایہ زندگی بنایا ہے، قیامًا، قَامَ کا مصدر ہے یعنی جس کے ذریعہ تم اپنی معاش اور اپنی اولاد کی اصلاح قائم رکھتے ہو تو وہ اس مال کو بلاوجہ صرف کردیں گے، اور ایک قراءت میں قِیْمًا، قیمۃ کی جمع ہے جس کی وجہ سے معاش زندگی قائم رہتی ہے اور اس مال میں سے انہیں کھلاتے اور پہناتے رہو اور ان سے بھلائی کی بات کہتے رہو یعنی تم ان سے ان کے مال دینے کے بارے میں اچھے وعدے کرتے رہو کہ جب تم سمجھدار ہوجاؤ گے (تو تمہارا مال تم کو دے دیں گے) اور (ان کے) بالغ ہونے سے پہلے ان کے دین اور لَیْن دَیْن کے معاملات میں ان کی دیکھ بھال کرتے رہو یہاں تک کہ عمر نکاح کو پہنچ جائیں (بالغ ہوجائیں) یعنی نکاح کے اہل ہوجائیں احتلام کے ذریعہ یا عمر کے ذریعہ اور وہ (مدت) پندرہ سال کی تکمیل ہے امام شافعی (رح) تعالیٰ کے نزدیک پس اگر تم ان میں سمجھداری یعنی ان کے دین اور مال کے معاملہ میں صلاح دیکھو تو ان کا مال ان کے حوالہ کردو اے اولیاؤ ان کے بڑے ہوجانے کے ذر سے ان کے مالوں کو جلدی جلدی فضول خرچیوں میں ناحق تباہ مت کرو (یعنی ان کے بڑے ہو کر سمجھدار ہونے کے خوف سے بعجلت ان کا مال نہ کھاؤ اس خیال سے کہ بڑے ہونے کے بعد ان کا مال ان کو سونپنا پڑے گا) اور اولیاء میں سے جو مالدار ہوں ان کو چاہیے کہ ان کے یعنی یتیموں کے مال سے بچتے رہیں اور اس کے کھانے سے اجتناب کریں، البتہ جو نادار ہو تو وہ یتیم کے مال میں سے دستور کے مطابق اپنے عمل کی اجرت کے بقدر کھا سکتا ہے اور جب ان کے مال ان یتیموں کے حوالہ کرنے لگو تو ان پر گواہ بنا لیا کرو کہ انہوں نے مال و صول کرلیا اور تم بری ہوگئے تاکہ اختلاف واقع نہ ہو۔ (اور اختلاف واقع ہونے کی صورت میں) تم گواہ کی جانب رجوع کرسکو، اور یہ امر اصلاحی ہے (یعنی گواہ بنانے کا حکم استحبابی ہے) اور اللہ حساب لینے والا کافی ہے یعنی اپنی مخلوق کے اعمال کا محافظ اور ان کا محاسب ہے۔ (آئندہ آیت) اس دستور کو رد کرنے کے لئے نازل ہوئی جو اہل جاہلیت میں رائج تھا اور وہ عورتوں اور بچوں کو میراث نہ دینے کا دستور تھا، وفات پانے والے ماں باپ کے ترکہ میں مردوں یعنی اولاد و اقارب کا حصہ بھی ہے اور والدین اور خویش و اقارب کے ترکہ میں عورتوں کا حصہ بھی ہے، مال خواہ قلیل ہو یا کثیر، اللہ نے اس میں حصہ متعین کیا ہے اور جب تقسیم میراث کے وقت ایسے رشتہ دار آجائیں جن کا میراث میں حصہ نہیں ہے اور یتیم و مسکین (آجائیں) تو تقسیم سے پہلے تھوڑا بہت ان کو بھی دیدو اور اے اولیاؤ ان حاضر ہونے والوں سے خوش اخلاقی کی بات کہہ دو جبکہ ورثہ (میں) نابالغ بھی ہوں۔ اس طریقہ پر کہ ان سے معذرت کردو کہ تم اس کے مالک نہیں ہوسکتے اسلئے کہ یہ نابالغ بچوں کا مال ہے اور کہا گیا ہے کہ (غیر ورثاء کو دینے کا حکم) منسوخ ہے اور کہا گیا ہے کہ منسوخ نہیں ہے بلکہ لوگ (اس حکم پر) ترک عمل ہی میں سہولت سمجھنے لگے ہیں، اور اس عدم نسخ کے قول کے مطابق امر استحباب کے لئے ہے، اور ابن عباس سے مروی ہے کہ یہ حکم و جوب کیلئے ہے اور یتیموں کے بارے میں ان لوگوں کو ڈرنا چاہیے کہ اگر وہ اپنے پیچھے اپنی موت کے بعد چھوٹے ناتواں بچے چھوڑ تے، یعنی قریب المرگ ہونے کی وجہ سے چھوڑنے کے قریب ہوتے کہ جن کے ضائع ہونے کا اندیشہ ہوتا تو چاہیے کہ یتیموں کے معاملہ میں اللہ سے ڈریں اور ان کے ساتھ وہی سلوک کریں جو وہ پسند کریں کہ ان کے مرنے کے بعد ان کی اولاد کے ساتھ کیا جائے اور مرنے والے یعنی (مریض) سے مناسب بات کہیں (مثلا) یہ کہ اس سے کہیں کہ تہائی مال سے کم صدقہ کرو اور باقی ورثہ کے لئے چھوڑ دو اور محتاج بنا کر نہ چھوڑو۔ بیشک ناردا طریقہ سے یتیموں کا مال کھاتے ہیں وہ اپنے پیٹ میں آگ کھاتے ہیں۔ یعنی پیٹ میں آگ بھرتے ہیں۔ اس لئے کہ یہ (ماکول) آگ میں تبدیل ہوجائے گا اور وہ لوگ عنقریب بھڑکتی ہوئی یعنی شدید آگ میں جائیں گے جس میں وہ جلتے رہیں گے۔ تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد قولہ : یٰآیُّھَا النَّاسُ ای اہل مکۃ۔ سوال : مشہور قاعدہ ہے کہ مکی آیتوں میں خطاب یایّھا الناس سے اور مدنی آیتوں میں یایّھا الذین آمنوا سے ہوتا ہے حالانکہ سورة نساء مدنی ہے مگر اس میں خطاب یایّھا الناس سے ہوا ہے اس کی کیا وجہ ہے ؟ جواب : مذکورہ قاعدہ اکثری ہے کلی نہیں، اس کے علاوہ مخاطب یہاں بھی اہل مکہ ہی ہیں۔ قولہ : ای عقابہٗ اس اضافہ کا مقصد یہ بتانا ہے کہ ذات سے احتراز محال ہے مطلب یہ ہے کہ اس کی اطاعت کرکے اس کے عذاب سے بچو۔ قولہ : حوّآء۔ انّما سمیت حواّء لانھا خُلِقتْ من الحیّ ۔ قولہ : تساء لُونَ ، تسائلٌ سے مضارع ہے جمع مذکر حاضر، تم باہم سوال کرتے ہو، اصل میں تَتَسَاءَلونَ تھا تاء ثانیہ کو حذف کردیا گیا۔ قولہ : والارحام، یہ رحم کی جمع ہے بمعنی قرابت رشتہ داری۔ قولہ : اَن یُّقَطّعُوا اس میں اشارہ ہے کہ مضاف محذوف ہے لہٰذا یہ اعتراض ختم ہوگیا کہ ارحام سے احتراز کے کوئی معنی نہیں ہیں۔ قولہ : کانوا یتناشدون ای یتقاسمون۔ قولہ : الُالیٰ ، یہ اسم موصول ہے جو کہ مذکر مؤنث یعنی الّذی اور اَلّتی میں مشترک ہے۔ اس لئے کہ یتیم ہونا مذکر یا مونث کے ساتھ خاص نہیں ہے اسی لئے ایسا اسم موصول لائے ہیں جو مذکر اور مؤنث دونوں میں مشترک ہے۔ فائدہ : انسانوں میں یتیم اس بچے کو کہتے ہیں جس کا باپ نہ ہو اور حیوانوں میں جس کی ماں نہ ہو الیتیم فی الاناسی مِنْ قِبَل الْاباء وفی البھائم مِنْ قِبَل الامُّھَات۔ قولہ : یتٰمٰی، یتیم کی جمع الجمع ہے۔ یتیم کی جمع یَتْمٰی بروزن اَسْریٰ اور یتْمٰی کی جمع یَتٰمٰی۔ قولہ : ای اکلَھَا، یہ ایک سوال مقدر کا جواب ہے۔ سوال : اَنَہٗ کی ضمیر اموال کی طرف راجع ہے جو کہ جمع ہے لہٰذا ضمیر مفرد کا لانا درست نہیں ہے۔ جواب : تأکلون سے جو اکل مفہوم ہے اس کی طرف راجع ہے۔ قولہ : تحَرَّجوْا مِنْ ولایۃ الیتٰمٰی، یعنی یتیموں کی ولایت سے بچنے اور باز رہنے کی کوشش کرنے لگے۔ قولہ : فَخَافُوا۔ سوال : فخافوا، جزاء محذوف ماننے کی کیا ضرورت پیش آئی ؟ جبکہ، فانکحوا، جزاء موجود ہے۔ جواب : جواب کا حاصل یہ ہے کہ خافوا، ماضی کا صیغہ نہیں ہے جیسا کہ بادی الرائے میں وہم ہوتا ہے بلکہ یہ امر جمع مذکر حاضر کا صیغہ ہے مطلب یہ ہے کہ اگر تم کو یتیموں کے مال کے بارے میں ناانصافی کا اندیشہ ہے تو ان یتیم لڑکیوں سے نکاح کرنے کی صورت میں بھی ناانصافی کا اندیشہ کرو، مطلب یہ ہے کہ ناانصافی کے اندیشہ میں دونوں صورتیں شریک ہیں، اس اشتراک مفہوم پر مفسر علام کا لفظ ایضاً دلالت کر رہا ہے۔ قولہ : اِنکحوھا۔ سوال : جزاء کے لئے جملہ ہونا شرط ہے حالانکہ یہاں جزاء، فَوَاحِدَۃً ، مفرد ہے۔ جواب : مفسر علام نے انکحوا محذوف مان کر اس سوال کے جواب کی طرف اشارہ کیا ہے۔ ای انکحوا وَاحِدَۃً اس تقدیر کے بعد جزاء جملہ ہوگئی ہے لہٰذا اب کوئی اعتراض نہیں قولہ : اِقتَصَرُوا علی، یہ عبارت بھی ایک سوال مقدر کا جواب ہے۔ سوال : یہ ہے کہ اَو مَا ملَکتْ کا عطف انکحوا واحدۃً پر ہے جو کہ عطف مفرد علی الجملہ کے قبیل سے ہے حالانکہ یہ جائز نہیں ہے۔ جواب : یہ ہے کہ مفسر علام نے اقتصروا علیٰ محذوف مان کر اسی سوال کا جواب دیا ہے اقتصروا محذوف ماننے کے بعد عطف جملہ علی الجملہ ہوگیا لہٰذا کوئی اعتراض نہیں۔ سوال : معطوف میں فعل محذوف کو کس مصلحت سے بدل دیا ؟ جبکہ معطوف علیہ میں انکحوا فعل محذوف ہے اور معطوف میں اِقْتَصِروا۔ جواب : اگر معطوف میں فعل کو نہ بدلتے تو تقدیر عبارت یہ ہوتی انکحوا مَا ملکت اَیْمَانکم، اور یہ درست نہیں ہے۔ اس لئے کہ باندی سے مالک کا نکاح درست نہیں ہے۔ (ترویح الارواح) قولہ : عطیۃً عنً طیب نفسٍ یہ اس شبہ کا جواب ہے کہ نحلۃً مصدر (یعنی مفعول مطلق) کیسے ہوسکتا ہے جبکہ مفعول مطلق کے لئے مصدر کا فعل کا فعل کے ہم معنی مونا شرط ہے اور یہاں ایسا نہیں ہے جواب کا حاصل یہ ہے کہ نِحْلَۃً بمعنی عطیۃ ہے لہٰذا اپنے فعل جو کہ آتوا النساء ہے کے ہم معنی ہے اسلئے کہ آتوا، اعطوا کے معنی میں ہے۔ قولہ : ھَنِیْئًا صفت مشبہ (ف ن ض) ھَنَاءً خوش مزہ، پاکیزہ، فعیل، کا وزن واحد جمع سب کے لئے آتا ہے اس لئے یہاں ضمیر واحد سے حال ہے۔ قولہ : مَریْئًا، صفت مشبہ خوشگوار، مَرَاءۃ ٌ مصدر، خوشگوار ہونا (کس) ۔ قولہ : بغَیر حق اس اضافہ سے اس شبہ کو دور کردیا کہ اسراف کے بغیر یتیموں کا مال کھا سکتے ہیں، بغیر حق کا اضافہ کرکے بتادیا کہ ناحق طریقہ سے نہ کھاؤ اسراف ہو یا نہ ہو۔ قولہ : فَلْیَسْتَعْفِفْ (استفعال) واحد مذکر غائب، وہ بچتا رہے، احتراز کرے۔ قولہ : لِئلّا یَقْوَ اختِلافٌ فترجعوا الی البیّنَۃِ ، ای اِنْ وقع اختلافٌ فترجعوا الی البینۃ۔ قولہ : ھذا اَمْرُ اِرْشاد، ای اَمْرُ استحباب، یعنی امام اعظم کے نزدیک گواہ بنانا امر مستحب ہے، اس لئے کہ امام صاحب کے نزدیک اختلاف کی صورت میں ولی کا قول معتبر ہے۔ قولہ : جَعَلَہْ اللہ، اس اضافہ کا مقصد اس بات کی طرف اشارہ کرنا ہے کہ نَصیْبًا، جَعَل فعل محذوف کا مفعول ثانی ہونے کی وجہ سے منصوب ہے نہ کہ مفعول مطلق ہونے کی وجہ سے۔ اللغۃ والبلاغۃ تَعُوْلُوْا، مضارع جمع مذکر حاضر (ن) مائل ہونا جھکنا، انصاف سے انحراف کرنا، یقال عَالَ المیزانُ اِذَا مَالَ ، وَعَال الحاکم، فی حکمہ : اِذَا جَار۔ فانکحوا مَا طاب لکم، ولم یقل ” مَن “ کما ھو المتبادر فی استعمال ” مَنْ “ کما ھو للعاقل، وَمَا، لغیر العاقل تغلیبًا۔ تفسیر و تشریح ربط آیات : سورة آل عمران کی آخری آیت تقویٰ پر ختم ہوئی ہے اور یہ سورت تقویٰ کے حکم سے شروع ہو رہی ہے لہٰذا مناسبت ظاہر ہے اس سورت کا نام سورة النساء ہے۔ اس سورت میں چونکہ عورتوں کے بہت سے احکام و مسائل کا ذکر ہے اسی مناسبت سے اس کا نام سورة النساء رکھا گیا ہے۔ یٰایَّھُا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّکُمُ الَّذِیْ خَلَقَکُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَۃٍ ، یایُّھَا الناس میں خطاب پوری نوع انسانی سے ہے، خواہ کسی نسل، کسی رنگ، کسی قوم، کسی جنس، کسی ملک کا ہو، قرآن کا پیغام انسانیت تمام بنی آدم کے لیے ہے، بعض مفسرین نے جن میں مفسر علام سیوطی بھی شامل ہیں اس کو اہل مکہ کے لیے خاص سمجھا ہے مگر ان کے پاس کوئی وزنی دلیل تخصیص نہیں ہے، خصوصاً جبکہ سورت مکی بھی نہیں بلکہ بالاتفاق مدنی ہے اور لفظ ناس ہے بھی نوع بشر کے لئے، اب رہا یہ ضابطہ کہ یایّھا الناس سے خطاب اہل مکہ کو ہوتا ہے تو یہ قاعدہ اکثری ہے نہ کہ کلی۔ خِطَابٌ عَامٌّ لِیْس خاصًّا بقومٍ دون قومٍ فلا وَجْہَ تَخْصیْصِھَا بِاَھْلِ مَکَّۃَ ، لَفْظُ ، الناس اسمٌ لجنس البشر۔ (المنار) وحدت انسانی کی قرآن میں اہمیت، وحدت نوع انسانی کا یہ سبق اپنے عملی اور دور رس نتائج کے لحاظ سے نہایت اہم ہے۔ انسانوں کے جد اعلیٰ ہر گورے اور ہر کالے، ہر وحشی اور ہر مہذب، ہر ہندی اور ہر چینی اور ہر فرنگی کے ایک ہی ہیں اور وہ آدم ہیں یہ نہیں کہ فلاں نسل کے مورث اعلی کوئی اور تھے اور فلاں نسل کے کوئی اور، اور نہ یہ کہ برہمن ذات والے برہماجی کے منہ سے پیدا ہوئے اور چھتری نسل والے ان کے بازو اور سینے سے اور ویش ذات والے ان کے پیٹ سے، اور شودر ذات کے لوگ ان کے پیروں سے، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ انسان انسان سب ایک ہیں۔ انسان ہونے کی حیثیت سے نہ کوئی اونچا ہے اور نہ کوئی نیچا، اونچ نیچ اگر ہے تو وہ محض عمل اور کردار کے اعتبار سے ہے زیادہ سے زیادہ نوع انسانی اگر تقسیم ہوسکتی ہے تو وہ یہ کہ نوع انسانی کی دو قسمیں ہیں نیک اور بد۔ خدا ترس اور ناخدا ترس اس کے علاوہ نوع انسانی کی کوئی تیسری قسم نہیں ہے اور عقل اس کو باور بھی نہیں کرتی کہ ایک باپ اولاد کے کچھ افراد کسی دوسرے خطہ ارض میں جا کر آباد ہوجائیں تو وہ ایک الگ نسل ہوجائیں یا ایک باپ کی اولاد میں بعض گورے اور بعض کالے ہوجائیں تو ان کی نسل بھی مختلف ہوجائے یا ایک باپ کی اولاد میں سے بعض ایک لب و لہجہ میں اور دوسرے بعض دوسرے لب و لہجہ میں بات کرنے لگیں تو ان کی نسل ہی بدل جائے۔ انسان کو پیدا کرنے کی مختلف صورتیں اور طریقے ہوسکتے تھے اللہ تعالیٰ نے ان میں سے ایک خاص صورت کا اختیار فرمایا، کہ سب انسانوں کو ایک ہی انسان یعنی حضرت آدم (علیہ السلام) سے پیدا فرما کر سب کو اخوت اور برادری کے مضبوط رشتہ میں باندھا دیا اس کا یہ تقاضہ ہے کہ باہمی ہمدردی اور خیر خواہی کے حقوق پورے ادا کئے جائیں اور ذات پات کی اونچ نیچ اور لونی و نسلی یا لسانی و علاقائی امتیازات کو شرافت و رذالت کا معیار نہ بنایا جائے ” اِنَّ اَکْرَمَکُمْ عِنْدَ اللہِ اَتْقَاکُمْ “ دادی حوآء کی تخلیق کی تفصیلی کیفیت سے قرآن مجید یکسر خاموش ہے اور تقریباً یہی حال حدیث کا بھی ہے جس مشہور حدیث کی رو سے حضرت حوآء کا آدم کی پسلی سے پیدا ہونا بیان کیا جاتا ہے اس میں ذکر نہ حضرت آدم (علیہ السلام) کا ہے اور نہ حضرت حوآء کا، بلکہ محض عورت کی پیدائش اور اس کی کج سرشتی کا بیان ہے (ماجدی) آثار میں جو روایت ملتی ہے وہ روایت، تورات کی آواز کی بازگشت ہے اور تورات کا بیان حسب ذیل ہے۔ ” خداوند نے آدم پر پیاری نیند بھیجی کہ وہ سو گیا اور اس نے اس کی پسلیوں میں سے ایک پسلی نکالی اور اس کے بدلے گوشت بھر دیا۔ اور خداوند خدا نے اس پسلی سے جو آدم سے نکالی تھی ایک صورت بنا کر آدم کے پاس بھیجی “۔ (پیدائش 23، 22: 2) وَخَلَقَ مِنْھَا زَوْجَھَا، میں مِنْھَا کی ضمیر نفس کی طرف راجع ہے جس سے حضرت آدم (علیہ السلام) مراد ہیں یعنی آدم سے ان کی بیوی حضرت حوآء کو پیدا کیا، حضرت آدم سے حواء کس طرح پیدا ہوئیں اس کی قدرے تفصیل تورات کی عبارت سے اوپر گزر چکی ہے، اسی مضمون کو ایک حدیث میں اس طرح بیان کیا گیا ہے، ” اِنَّ المرأۃ خُلِقَتْ مِنْ ضِلْعٍ واِنَّ اَعْوَجَ شیْءٍ فی الضلع اَعْلاہُ “ (صحیح بخاری بدء الخلق) عورت ٹیڑھی پسلی سے پیدا کی گئی ہے اور پسلی میں سب سے ٹیڑھا حصہ اس کا بالائی حصہ ہے اگر تو اسے سیدھا کرنا چاہیے تو توڑ بیٹھے گا اور اگر تو اس سے فائدہ اٹھانا چاہے تو کجی کے ساتھ ہی فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ مِنْھا، کی ضمیر ھا، عموماً نفس کی طرف لوٹائی گئی ہے لیکن ایک قول یہ بھی نقل ہوا ہے کہ منھا یہاں من جنسھا کے مرادف ہے۔ القول الثانی : ماھو اختار ابو مسلم الاصفھانی أنّ المرادَ من قولہ ” خَلَقَ منھا زَوْجَھَا “ ای من جنسھا (کبیر) ویحتملُ ان یکون المعنی من جنسہٖ لامن نفسہٖ حقیقۃً (نھر) اور یہی قول ابو مسلم کے علاوہ ابن بحر سے بھی منقول ہے اور نفس کو جنس کے معنی میں قرآن مجید میں بار بار لایا گیا ہے جیسا کہ صاحب منار نے تصریح کے ساتھ اپنے یہاں نقل کیا ہے۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ عورت کی پیدائش ٹیڑھی پسلی سے محض بہ طور تشبیہ کے ارشاد فرمائی گئی ہو اور مقصود محض اس کی کج روی کو بیان کرنا ہو جیسا کہ مذکورہ حدیث کا مضمون اس کی کھلی تائید کرتا ہے۔ اور یہ ایسا ہی ہے جیسا کہ قرآن میں انسان کی پیدائش کو ” خُلِقَ الانسان من عجل “ کہہ کر جلد بازی اور شتابی کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ یَحْتَمِلُ اَنْ یکونَ ذلک علی جھۃِ التمثیل لاضطراب اَخْلاقِھِنّ وکونھن لا یَثْبُتْنَ علی حالۃٍ وَاحِدَۃٍ کما جاء خُلِقَ الانسان مِنْ عجلٍ (الآیۃ اس معنی کی تائید اس امر سے بھی ہوتی ہے کہ حدیث میں ذکر جنس عورت کا ہے نہ کہ شخصاً حضرت حواء کا اور بعض شارحین حدیث اسی طرف گئے ہیں، مثلا کرمانی حدیث مذکورہ کی شرح میں لکھتے ہیں کہ یہ فطرت نسوانی کی کجی کی طرف صرف اشارہ ہے (مجمع ابحار الانوار۔ جلد 2) بخاری شریف کی ایک حدیث میں تو بالکل صاف ہے کہ عورت مثل پسلی کے ہے۔ عن ابی ہریرہ انّ رسول اللہ ﷺ قال المرأۃُ کا لضلع اِن اَقَمْتَھَا کسَرْتَھَا (بخاری کتاب انکاح) پسلی بول کر کجی اور انحراف کی طرف اشارہ ہے۔ وَالارحام، اس کا عطف، اللہ، پر ہے مطلب یہ ہے کہ اس اللہ سے ڈرو جس کے نام پر ایک دوسرے سے مانگتے ہو، اور رشتے باطے توڑنے سے بھی بچو، اس سے مَحرْمَ اور غیر مَحرْمَ دونوں رشتے مراد ہیں رشتے ناطوں کو توڑنا سخت گناہ ہے جسے قطع رحمی کہتے ہیں حدیث میں قطع رحمی کرنے والے کیلئے سخت وعید وارد ہوئی ہے ورد فی الحدیث الرحم معلقۃ بالعرش تقول الا مَن وصلنی وَصَلَہٗ اللہ ومَن قطعنی قطعہ اللہ، رحم عرش الہیٰ دعا کرتا رہتا ہے کہ مجھے جو جوڑے رکھے اللہ اسے جوڑے رکھے اور جو مجھے کاٹے اللہ اسے کاٹے۔ اور صلہ رحمی کی بڑی تاکید اور فضیلت آئی ہے۔
Ayah 4:2

وَ اٰتُوا الْیَتٰمٰۤى اَمْوَالَهُمْ وَ لَا تَتَبَدَّلُوا الْخَبِیْثَ بِالطَّیِّبِ١۪ وَ لَا تَاْكُلُوْۤا اَمْوَالَهُمْ اِلٰۤى اَمْوَالِكُمْ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ حُوْبًا كَبِیْرًا Open ayah 4:2 in the Quran reader

اور یتیموں کا مال (جو تمہاری تحویل میں ہو) ان کے حوالے کردو اور ان کے پاکیزہ (اور عمدہ) مال کو (اپنے ناقص اور) برے مال سے نہ بدلو اور نہ ان کا مال اپنے مال میں ملا کر کھاؤ۔ کہ یہ بڑا سخت گناہ ہے۔

وَآتُوا الْیَتَامیٰ اَمْوَالَھُمْ یتیم جب بالغ اور باشعور ہوجائے تو ان کا مال ان کے سپرد کردو۔ خبیث سے روی اور طیب سے عمدہ چیز مراد ہے، یعنی ایسا نہ کرو کہ ان کے مال سے اچھی چیزیں لے لو اور محض گنتی پوری کرنے کیلئے گھٹیا چیزیں ان کے بدلے میں رکھ دو ۔
Ayahs 4:3–5

وَ اِنْ خِفْتُمْ اَلَّا تُقْسِطُوْا فِی الْیَتٰمٰى فَانْكِحُوْا مَا طَابَ لَكُمْ مِّنَ النِّسَآءِ مَثْنٰى وَ ثُلٰثَ وَ رُبٰعَ١ۚ فَاِنْ خِفْتُمْ اَلَّا تَعْدِلُوْا فَوَاحِدَةً اَوْ مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُكُمْ١ؕ ذٰلِكَ اَدْنٰۤى اَلَّا تَعُوْلُوْاؕ Open ayah 4:3 in the Quran reader

اور اگر تم کو اس بات کا خوف ہو کہ یتیم لڑکیوں کے بارے میں انصاف نہ کرسکو گے تو ان کے سوا جو عورتیں تم کو پسند ہوں دو دو یا تین تین یا چار چار ان سے نکاح کرلو۔ اگر اس بات کا اندیشہ ہو کہ (سب عورتوں سے) یکساں سلوک نہ کرسکو گے تو ایک عورت (کافی ہے) یا لونڈی جس کے تم مالک ہو۔ اس سے تم بےانصافی سے بچ جاؤ گے

وَ اٰتُوا النِّسَآءَ صَدُقٰتِهِنَّ نِحْلَةً١ؕ فَاِنْ طِبْنَ لَكُمْ عَنْ شَیْءٍ مِّنْهُ نَفْسًا فَكُلُوْهُ هَنِیْٓئًا مَّرِیْٓئًا Open ayah 4:4 in the Quran reader

اور عورتوں کو ان کے مہر خوشی سے دے دیا کرو۔ ہاں اگر وہ اپنی خوشی سے اس میں سے کچھ تم کو چھوڑ دیں تو اسے ذوق و شوق سے کھالو۔

وَ لَا تُؤْتُوا السُّفَهَآءَ اَمْوَالَكُمُ الَّتِیْ جَعَلَ اللّٰهُ لَكُمْ قِیٰمًا وَّ ارْزُقُوْهُمْ فِیْهَا وَ اكْسُوْهُمْ وَ قُوْلُوْا لَهُمْ قَوْلًا مَّعْرُوْفًا Open ayah 4:5 in the Quran reader

اور بےعقلوں کو ان کا مال جسے خدا نے تم لوگوں کے لیے سبب معیشت بنایا ہے مت دو (ہاں) اس میں سے ان کو کھلاتے اور پہناتے رہو اور ان سے معقول باتیں کہتے رہو۔

وَاِنْ خِفْتُمْ اَلاَّ تُقْسِطُوْا فی الْیَتٰمٰی فَانْکِحُوْا مَا طَابَ لَکُمْ (الآیۃ) اس آیت کی تفسیر حضرت عائشہ ؓ سے اس طرح مروی ہے کہ صاحب حیثیت اور صاحب جمال یتیم لڑکی کسی ولی کی سرپرستی میں ہوتی تو وہ اس کے مال و جمال کی وجہ سے اس سے شادی تو کو لیتا، لیکن اس کا دوسری عورتوں کی طرف پورا حق مہر نہ دیتا۔ اللہ تعالیٰ نے اس ظلم سے روکا ہے اگر تم گھر کی یتیم بچیوں کے ساتھ انصاف نہیں کرسکتے تو ان سے نکاح مت کرو۔ تمہارے لیے دوسری عورتوں سے نکاح کا راستہ کھلا ہوا ہے۔ (بخاری شریف) بلکہ ایک کے بجائے چار تک نکاح کرسکتے ہو بشرطیکہ ان کے درمیان انصاف کے تقاضے پورے کرسکو، ایک سے زائد کرنے کی اجازت ہے، حکم نہیں، اور وہ بھی انصاف کی شرط کے ساتھ۔ ابن عباس ؓ اور ان کے شاگرد عکرمہ (رح) تعالیٰ اس آیت کی تفسیر یہ بیان کرتے ہیں کہ جاہلیت میں نکاح کی کوئی حد نہ تھی ایک شخص دس دس، بیس بیس بیویاں کرلیتا تھا، اور جب اس کثرت ازدواج سے مصارف بڑھ جاتے تھے تو مجبور ہو کر اپنے یتیم بھتیجوں، بھانجوں اور دوسرے بےبس عزیزوں کے حقوق پر دست درازی کرتا تھا اس پر اللہ تعالیٰ نے چار کی حد مقرر کردی، ایک روایت سے بھی اس کی تصدیق ہوتی ہے چناچہ روایت میں مذکور ہے کہ طائف کا رئیس غیلان ابن سلمہ ثقفی جب اسلام لایا تو اس کی دس بیویاں تھیں آپ ﷺ نے اسے حکم دیا کہ چار بیویاں رکھ لے اور باقی کو چھوڑ دے اسی طرح ایک دوسرے شخص (نوفل بن معاویہ دیلمی) کی پانچ بیویاں تھیں آپ نے حکم دیا کہ ان میں سے ایک کو چھوڑ دے۔ تعداد ازواج : پہلی بات تو یہ ہے کہ اسلام نے تعداد ازواج کا حکم نہیں دیا بلکہ نہایت سخت شرائط کے ساتھ اجازت دی ہے اور شرائط نہ پوری کرنے کی صورت میں عند اللہ مواخذہ کی وعید فرمائی ہے اور حکومت وقت کو بھی اختیار دیا ہے کہ وہ عدم انصاف اور ظلم و زیادتی کی صورت میں مداخلت کرسکتی ہے۔ بعض لوگ اپنی غلامانہ ذہنیت کے نتیجے میں یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ قرآن کا اصل مقصد تعداد ازواج کے طریقہ کو ختم کرنا تھا مگر چونکہ یہ طریقہ بہت زیادہ رواج پاچکا تھا اس لئے اس کی حد بندی کرکے چھوڑ دیا مگر یہ اہل مغرب کی مسیحیت زدہ ذہنیت سے مرعوبیت کا نتیجہ ہے، تعدد ازواج کا بذات خود برائی ہونا بجائے خود ناقابل تسلیم ہے کیونکہ بعض حالات میں یہ چیز ایک تمدنی اور اخلاقی ضرورت بن جاتی ہے اگر اس کی اجازت نہ دی جائے تو وہ لوگ جو ایک عورت پر قانع نہیں رہ سکتے وہ حصار نکاح سے باہر صنفی بدامنی پھیلانے لگتے ہیں جس کے نقصانات تمدن اور معاشرہ کے لئے اس سے بہت زیادہ ہیں جو تعداد ازواج سے پہنچ سکتے ہیں اسی لئے قرآن نے ان لوگوں کو اجازت دی ہے جو اس کی ضرورت محسوس کریں۔ تعداد ازواج اور اسلام سے پہلے اقوام عالم میں اس کا رواج : ایک مرد کے لئے متعدد بیویاں رکھنا اسلام سے پہلے بھی تقریباً دنیا کے تمام مذاہب میں جائز سمجھا جاتا تھا عرب، ہندوستان، ایران، مصر، بابل وغیرہ ممالک کی ہر قوم میں کثرت ازواج کی رسم جاری تھی اور اس کی فطری ضرورتوں سے آج بھی کوئی انکار نہیں کرسکتا دور حاضر میں یورپ نے اپنے متقدمین کے خلاف تعداد ازواج کو ناجائز کرنے کی کوشش کی تو اس کا نتیجہ بےنکاحی داشتاؤں کی صورت میں برآمد ہوا، بالآخر فطری قانون غالب آیا اور اب وہاں کے اہل بصیرت حکماء خود اس کو رواج دینے کے حق میں ہیں مسٹر ڈیون پورٹ جو ایک مشہور عیسائی فاضل ہے تعداد ازواج کی انجیل سے بہت سی آیتیں نقل کرنے کے بعد لکھتا ہے۔ ان آیتوں میں یہ پایا جاتا ہے کہ تعداد ازواج صرف پسندیدہ ہی نہیں بلکہ خدا نے اس میں خاص برکت رکھی ہے۔ اسی طرح پادری نکسن اور جان ملٹن اور اپزک ٹیلر نے پُر زور الفاظ میں اس کی تائید کی ہے، اسی طرح ویدک تعلیم غیر محدود ازواج کو جائز رکھتی ہے، اور اس سے دس دس، تیرہ تیرہ، ستائیس ستائیس بیویوں کو ایک وقت میں جمع رکھنے کی اجازت معلوم ہوتی ہے ” کرشن “ جو ہندؤں میں قابل تعظیم اوتار مانے جاتے ہیں ان کی سینکڑوں بیویاں تھیں، تعداد ازواج نہ صرف انسداد زنا کاری ہے بلکہ ایک سماجی ضرورت بھی ہے اور مردوں کی بہ نسبت عورتوں کی کثرت کا علاج بھی، مردوں کی نسبت عورتوں کی کثرت ایک مشاہداتی بات ہے۔ اول تو لڑکوں کی بہ نسبت لڑکیوں کی پیدائش زیادہ ہے جس سے کوئی بھی چشم بصیرت رکھنے والا انکار نہیں کرسکتا اور اگر بالفرض پیداوار میں برابر بھی تسلیم کرلی جائے تو حادثات اور جنگوں میں مردوں کی زیادہ ترہلاکت سے کون انکار کرسکتا ہے ؟ اگر تعدادازواج کی اجازت نہ دی جائے تو داشتہ اور پیشہ ور کسبی عورتوں کی افراط ہوگی یہی وجہ ہے کہ جن قوموں میں تعدد ازواج کی اجازت نہیں ان میں زنا کی کثرت ہے، یوروپین اقوام کو دیکھ لیجئے۔ ان کے یہاں تعددازواج پر تو پابندی ہے مگر بطور داشتہ یا گرل فرینڈ کے بطور جتنی بھی عورتیں رکھنا چاہے رکھ سکتا ہے یہ کیا تماشہ ہے ! ! ؟ نکاح ممنوع اور زناجائز۔ رحمتہ الّلعالمین اور تعددازواج : نبی کی بعثت کا مقصد تبلیغ احکام اور تزکیئہ نفوس ہوتا ہے، آپ ﷺ نے اسلام کی تعلیمات کو قولاوفعلا دنیا میں پھیلادیا، انسانی زندگی کا کوئی شعبہ ایسا نہیں ہے کہ جس میں نبی کی رہبری کی ضرورت نہ ہو، کھانے پینے، اٹھنے، بیٹھنے، سونے، جاگنے، طہارت ونجاست، عبادت و ریاضت غرض حکمرانی سے لیکر گلہ بانی تک وہ کونسا شعبہ ہے کہ جس میں آپ ﷺ کی قولی یا فعلی ہدایت موجود نہ ہوں، اندرون خانہ آپ ﷺ نے کیا عمل کیا ؟ یا بیویوں سے کیے تعلقات رکھے ؟ گھر میں آکر مسائل پوچھنے والی خواتین کو آپ ﷺ نے کیا کیا جوابات دئیے ؟ اس قسم کے سینکڑوں مسائل ہیں جن سے ازواج مطہرات کے ذریعہ ہی امت کو رہنمائی ملی ہے، کثرت ازواج میں آپ ﷺ کے یہی ضرورت پیش نظر تھی، صرف حضرت عائشہ ؓ سے سیرت نبوی کے متعلق دو ہزار دو سو روایت مروی ہیں، حضرت ام سلمہ ؓ کی مرویات کی تعداد 378 تک پہنچتی ہے۔ انبیاء (علیہم السلام) کے بلند مقاصد اور پورے عالم کی انفرادی اور اجتماعی، خانگی اور ملکی اصلاحات کی فکروں کو دنیا کے شہوت پرست انسان کیا جانیں ؟ وہ تو سب کو اپنے اوپر قیاس کرتے ہیں، اسی کے نتیجے میں کئی صدی سے یورپ کے ملحدین اور مستشرقین نے ہٹ دھرمی سے فخر عالم ﷺ کے تعداد ازواج کو ایک خالص جنسی اور نفسانی خواہش کی پیداوار قرار دیا ہے، اگر آپ ﷺ کی سیرت پاک پر ایک سرسری نظر بھی ڈالی جائے تو ایک ہوشمند منصف مزاج کبھی بھی آپ کی کثرت ازواج کو اس پر محمول نہیں کرسکتا۔ آپ نے اپنی معصوم زندگی قریش مکہ کے سامنے اس طرح گذاری کہ پچیس سال کی عمر میں ایک سن رسیدہ بیوہ صاحب اولاد (جس کے دو شوہر فوت ہوچکے تھے) سے عقد کرکے عمر کے پچیس سال تک ان ہی کے ساتھ گزارہ کیا وہ بھی اس طرح کہ مہینہ مہینہ گھر چھوڑ کر غار حرا میں مشغول عبادت رہتے تھے دوسرے نکاح جتنے بھی ہوئے، پچاس سال عمر شریف ہونے کے بعد ہوئے، یہ پچاس سالہ زندگی اور عنفوان شباب کا سارا وقت اہل مکہ کی نظروں کے سامنے تھا کبھی کسی دشمن کو بھی آنحضرت ﷺ کی طرف کوئی ایسی چیز منسوب کرنے کا موقع نہیں ملا جو تقویٰ و طہارت کو مشکوک کرسکے آپ کے دشمنوں نے آپ پر، ساحر، شاعر، مجنون، کذاب، مفتری جیسے الزامات لگانے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی، لیکن آپ کی معصوم زندگی پر کوئی ایسا حرف کہنے کی جرأت نہیں ہوئی جس کا تعلق جنسی اور نفسانی جذبات کی بےراہ روی سے ہو۔ ان حالات میں یہ بات غور طلب ہے کہ جوانی کے پچاس سال اس زہد وتقویٰ اور لذائذ دنیا سے یکسوئی میں گزارنے کے بعد وہ کیا داعیہ تھا جس نے آخر عمر میں متعدد نکاحوں پر مجبور کیا، اگر دل میں ذرا سا بھی انصاف ہو تو ان متعدد نکاحوں کی وجہ اس کے سوا نہیں بتلائی جاسکتی جن کا اوپر ذکر کیا گیا ہے۔ آپ ﷺ کے متعدد نکاحوں کی کیفیت و حقیقت : پچیس سال کی عمر شریف سے لے کر پچاس سال کی عمر شریف ہونے تک تنہا حضرت خدیجہ ؓ آپ کی زوجہ رہیں، ان کی وفات کے بعد حضرت سودہ اور حضرت عائشہ سے نکاح ہوا۔ حضرت سودہ تو آپ کے گھر تشریف لے آئیں اور حضرت عائشہ صغر کی وجہ سے اپنے والد کے گھر ہی رہیں پھر چند سال کے بعد 2 ھ میں مدینہ منورہ میں حضرت عائشہ کی رخصتی ہوئی اس وقت آپ ﷺ کی عمر چون (54) سال ہوچکی تھی۔ اس عمر میں آکر دو بیویاں جمع ہوئیں یہاں سے تعداد ازواج کا معاملہ شروع ہوا اس کے ایک سال بعد حضرت حفصہ ؓ سے نکاح ہوا۔ پھر کچھ ماہ بعد حضرت زینب بنت خزیمہ ؓ سے نکاح ہوا۔ اور انہوں نے صرف اٹھارہ ماہ آپ کے نکاح میں رہ کر وفات پائی۔ ایک قول کے مطابق آپ کے نکاح میں تین ماہ زندہ رہیں پھر 2 ھ میں حضرت ام سلمہ ؓ تعالٰٰ عنہا سے نکاح ہوا پھر 5 ھ میں حضرت زینب نبت جحش سے نکاح ہوا، اس وقت آپ کی عمر شریف اٹھاون (58) سال تھی اتنی بڑی عمر میں چار بیویاں بیک وقت جمع ہوئیں۔ حالانکہ جس وقت امت کو چار بیویوں کی اجازت مل چکی تھی اس وقت ہی آپ کم از کم چار نکاح کرسکتے تھے لیکن آپ نے ایسا نہیں کیا اس کے بعد 6 ھ میں حضرت جویریہ ؓ سے اور 7 ھ میں ام حبیبہ سے اور پھر 7 ھ ہی میں حضرت صفیہ سے اور پھر اسی سال حضرت میمونہ ؓ سے نکاح ہوا۔
Ayah 4:6

وَ ابْتَلُوا الْیَتٰمٰى حَتّٰۤى اِذَا بَلَغُوا النِّكَاحَ١ۚ فَاِنْ اٰنَسْتُمْ مِّنْهُمْ رُشْدًا فَادْفَعُوْۤا اِلَیْهِمْ اَمْوَالَهُمْ١ۚ وَ لَا تَاْكُلُوْهَاۤ اِسْرَافًا وَّ بِدَارًا اَنْ یَّكْبَرُوْا١ؕ وَ مَنْ كَانَ غَنِیًّا فَلْیَسْتَعْفِفْ١ۚ وَ مَنْ كَانَ فَقِیْرًا فَلْیَاْكُلْ بِالْمَعْرُوْفِ١ؕ فَاِذَا دَفَعْتُمْ اِلَیْهِمْ اَمْوَالَهُمْ فَاَشْهِدُوْا عَلَیْهِمْ١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ حَسِیْبًا Open ayah 4:6 in the Quran reader

اور یتیموں کو بالغ ہونے تک کام کاج میں مصروف رکھو۔ پھر (بالغ ہونے پر) اگر ان میں عقل کی پختگی دیکھو تو ان کا مال ان کے حوالے کردو۔ اور اس خوف سے کہ وہ بڑے ہوجائیں گے (یعنی بڑے ہو کر تم سے اپنا مال واپس لے لیں گے) اس کو فضول خرچی اور جلدی میں نہ اڑا دینا جو شخص آسودہ حال ہو اس کو ایسے مال سے قطعی طور پر پرہیز رکھنا چاہیے اور جو بےمقدور ہو وہ مناسب طور پر (یعنی بقدر خدمت) کچھ لے لے اور جب ان کا مال ان کے حوالے کرنے لگو تو گواہ کرلیا کرو اور حقیقت میں تو خدا ہی (گواہ اور) حساب لینے والا کافی ہے۔

وَابْتَلُوا الْیَتٰمٰی حَتّٰی اِذَا بَلَغُوا النِّکَاح (الآیۃ) یعنی جب وہ سن بلوغ کے قریب پہنچ رہے ہوں تو خیال رکھو کہ ان کا عقلی نشو و نما کیسا ہے ؟ فَاِنْ اٰنَسْتُمْ مِّنْھُمْ رُشْدًا فَادْفَعُوْآ اِلَیْھِمْ (الآیۃ) مال حوالہ کرنے کے لئے دو شرطیں ہیں، ایک بلوغ اور دوسرے رشد یعنی مال کے صحیح استعمال کی اہلیت، پہلی شرط کے متعلق تو فقہاء امت کا اتفاق ہے۔ دوسری شرط کے بارے میں امام ابوحنیفہ (رح) تعالیٰ کی رائے یہ ہے کہ اگر سن بلوغ کو پہنچنے پر یتیم میں رشد نہ پایا جائے تو ولی یتیم کو سات سال اور انتظار کرنا چاہیے اس کے بعد خواہ رشد پایا جائے یا نہ پایا جائے اس کا مال اس کے حوالہ کردینا چاہیے، اور امام ابو یوسف (رح) تعالیٰ ، امام محمد اور امام شافعی (رح) تعالیٰ کی رائے یہ ہے کہ مال حوالہ کئے جانے کے لئے بہرحال رشد کا پایا جانا ضروری ہے۔
Ayah 4:7

لِلرِّجَالِ نَصِیْبٌ مِّمَّا تَرَكَ الْوَالِدٰنِ وَ الْاَقْرَبُوْنَ١۪ وَ لِلنِّسَآءِ نَصِیْبٌ مِّمَّا تَرَكَ الْوَالِدٰنِ وَ الْاَقْرَبُوْنَ مِمَّا قَلَّ مِنْهُ اَوْ كَثُرَ١ؕ نَصِیْبًا مَّفْرُوْضًا Open ayah 4:7 in the Quran reader

جو مال ماں باپ اور رشتہ دار چھوڑ مریں تھوڑا ہو یا بہت اس میں مردوں کا بھی حصہ ہے اور عورتوں کا بھی۔ یہ حصے (خدا کے) مقرر کیے ہوئے ہیں۔

لِلرِّجَالِ نَصِیْبٌ مِّمَّا تَرَکَ الْوَالِدَانِ (الآیۃ) اسلام سے قبل ایک یہ ظلم بھی رواہ رکھا جاتا تھا کہ عورتوں اور چھوٹے بچوں کو وراثت سے حصہ نہیں دیا جاتا تھا، صرف بڑے لڑکے جو لڑنے کے قابل ہوتے تھے تمام مال کے وارث قرار پاتے تھے۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ مردوں کی طرح عورتیں اور بچے، بچیاں اپنے والدین اور اقارب کے مال میں حصہ دار ہوں گے، انہیں محروم نہیں کیا جائے گا یہ الگ بات ہے کہ لڑکی کا حصہ لڑکے کے حصہ سے نصف ہے، یہ عورت پر ظلم نہیں ہے نہ اس کا استخفاف ہے، بلکہ اسلام کا یہ قانون میراث، عدل و انصاف کے تقاضوں کے عین مطابق ہے کیونکہ عورت کو اسلام نے معاش کی ذمہ داری سے فارغ رکھا ہے اور مرد کو اس کا کفیل بنایا ہے علاوہ ازیں عورت کے پاس مہر کی صورت میں مال آتا ہے اس لحاظ سے عورت کے مقابلہ میں مرد پر کئی گنا زیادہ مالی ذمہ داریاں ہیں اسلئے اگر عورت کا حصہ نصف کے بجائے مرد کے برابر ہوتا تو یہ مرد پر ظلم ہوتا لیکن اللہ تعالیٰ نے کسی پر بھی ظلم نہیں کیا کیونکہ وہ عادل بھی ہے اور حکیم بھی۔
Ayah 4:8

وَ اِذَا حَضَرَ الْقِسْمَةَ اُولُوا الْقُرْبٰى وَ الْیَتٰمٰى وَ الْمَسٰكِیْنُ فَارْزُقُوْهُمْ مِّنْهُ وَ قُوْلُوْا لَهُمْ قَوْلًا مَّعْرُوْفًا Open ayah 4:8 in the Quran reader

اور جب میراث کی تقسیم کے وقت (غیر وارث) رشتہ دار یتیم اور محتاج آجائیں تو ان کو بھی اس میں سے کچھ دے دیا کرو اور شیریں کلامی سے پیش آیا کرو۔

وَاِذَا حَضَرَ الْقَسْمَۃَ (الآیۃ) اس آیت کو بعض علماء نے آیت میراث سے منسوخ قرار دیا ہے لیکن صحیح تر بات یہ ہے کہ یہ منسوخ نہیں بلکہ ایک بہت ہی اہم اخلاقی ہدایت ہے کہ امداد کے مستحق رشتہ داروں میں سے جو لوگ وراثت میں حصہ دار نہ ہوں انہیں بھی تقسیم کے وقت کچھ دے دو ، نیز ان سے بات بھی پیار و محبت کے انداز میں کرو۔
Ayahs 4:9–10

وَ لْیَخْشَ الَّذِیْنَ لَوْ تَرَكُوْا مِنْ خَلْفِهِمْ ذُرِّیَّةً ضِعٰفًا خَافُوْا عَلَیْهِمْ١۪ فَلْیَتَّقُوا اللّٰهَ وَ لْیَقُوْلُوْا قَوْلًا سَدِیْدًا Open ayah 4:9 in the Quran reader

اور ایسے لوگوں کو ڈرنا چاہیے جو (ایسی حالت میں ہوں کہ) اپنے بعد ننھے ننھے بچے چھوڑ جائیں گے اور ان کو ان کی نسبت خوف ہو (کہ ان کے مرنے کے بعد ان بیچاروں کا کیا حال ہوگا) پس چاہیے کہ یہ لوگ خدا سے ڈریں اور معقول بات کہیں۔

اِنَّ الَّذِیْنَ یَاْكُلُوْنَ اَمْوَالَ الْیَتٰمٰى ظُلْمًا اِنَّمَا یَاْكُلُوْنَ فِیْ بُطُوْنِهِمْ نَارًا١ؕ وَ سَیَصْلَوْنَ سَعِیْرًا۠ Open ayah 4:10 in the Quran reader

جو لوگ یتیموں کا مال ناجائز طور پر کھاتے ہیں وہ اپنے پیٹ میں آگ بھرتے ہیں اور دوزخ میں ڈالے جائیں گے۔

وَلْیَخْشَ الَّذِیْنَ لَوْ تَرَکُوْا مِنْ خَلْفِھِمْ ذُرِّیَّۃً (الآیۃ) بعض مفسرین کے نزدیک اس کے مخاطب اوصیاء ہیں (یعنی جن کی وصیت کی جاتی ہے) ان کو نصیحت کی جا رہی ہے کہ ان کے زیر کفالت جو یتیم ہیں ان کے ساتھ وہ ایسا سلوک کریں جو وہ اپنے بچوں کے ساتھ اپنے مرنے کے بعد کیا جانا پسند کرتے ہیں بعض کے نزدیک اس کے مخاطب عام لوگ ہیں کہ وہ یتیموں اور دیگر چھوٹے بچوں کے ساتھ اچھا سلوک کریں قطع نظر اس سے کہ وہ ان کی زیر کفالت ہیں یا نہیں، بعض کے نزدیک اس کے مخاطب وہ لوگ ہیں جو قریب المرگ کے پاس بیٹھے ہوئے ہوں ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ مرنے والے کو اچھی باتیں سمجھائیں تاکہ وہ نہ حقوق اللہ میں کوتاہی کرے اور نہ حقوق العباد میں۔ حدیث میں آیا ہے کہ جنگ احد کے بعد سعد بن ربیع کی بیوی اپنی دو بچیوں کو لئے ہوئے نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ یہ سعد کی بچیاں ہیں جو آپ کے ساتھ احد میں شہید ہوئے ہیں، ان کے چچا نے پوری جائدار پر قبضہ کرلیا ہے اور ان کے لئے ایک حبہ تک نہیں چھوڑا ہے اب بھلا ان بچیوں سے کون نکاح کرے گا ؟ اس پر مذکورہ آیت نازل ہوئی۔
Ayah 4:11

یُوْصِیْكُمُ اللّٰهُ فِیْۤ اَوْلَادِكُمْ١ۗ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْاُنْثَیَیْنِ١ۚ فَاِنْ كُنَّ نِسَآءً فَوْقَ اثْنَتَیْنِ فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَكَ١ۚ وَ اِنْ كَانَتْ وَاحِدَةً فَلَهَا النِّصْفُ١ؕ وَ لِاَبَوَیْهِ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا السُّدُسُ مِمَّا تَرَكَ اِنْ كَانَ لَهٗ وَلَدٌ١ۚ فَاِنْ لَّمْ یَكُنْ لَّهٗ وَلَدٌ وَّ وَرِثَهٗۤ اَبَوٰهُ فَلِاُمِّهِ الثُّلُثُ١ۚ فَاِنْ كَانَ لَهٗۤ اِخْوَةٌ فَلِاُمِّهِ السُّدُسُ مِنْۢ بَعْدِ وَصِیَّةٍ یُّوْصِیْ بِهَاۤ اَوْ دَیْنٍ١ؕ اٰبَآؤُكُمْ وَ اَبْنَآؤُكُمْ لَا تَدْرُوْنَ اَیُّهُمْ اَقْرَبُ لَكُمْ نَفْعًا١ؕ فَرِیْضَةً مِّنَ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِیْمًا حَكِیْمًا Open ayah 4:11 in the Quran reader

خدا تمہاری اولاد کے بارے میں تم کو ارشاد فرماتا ہے کہ ایک لڑکے کا حصہ دو لڑکیوں کے حصے کے برابر ہے اور اگر اولاد میت صرف لڑکیاں ہی ہوں (یعنی دو یا) دو سے زیادہ تو کل ترکے میں انکا دو تہائی اور اگر صرف ایک لڑکی ہو تو اس کا حصہ نصف۔ اور میت کے ماں باپ کا یعنی دونوں میں سے ہر ایک کا ترکے میں چھٹا حصہ بشرطیکہ میت کے اولاد ہو اور اگر اولاد نہ ہو اور صرف ماں باپ ہی اس کے وارث ہوں تو ایک تہائی ماں کا حصہ اور اگر میت کے بھائی بھی ہوں تو ماں کا چھٹا حصہ۔ (اور یہ تقسیم ترکہ میت کی) وصیت (کی تعمیل) کے بعد جو اس نے کی ہو۔ یا قرض کے (ادا ہونے کے بعد جو اس کے ذمے ہو عمل میں آئے گی) تم کو معلوم نہیں کہ تمہارے باپ دادوں اور بیٹوں، پوتوں میں سے فائدے کے لحاظ سے کون تم سے زیادہ قریب ہے۔ یہ حصے خدا کے مقرر کیے ہوئے ہیں اور خدا سب کچھ جاننے والا اور حکمت والا ہے۔

آیت نمبر 11 تا 14 ترجمہ : اللہ تمہیں تمہاری اولاد کے بارے میں (آئندہ) مذکور کا حکم دیتا ہے اولاد میں سے ایک لڑکے کے لئے دو لڑکیوں کے حصے کے برابر ہے جبکہ دو لڑکیاں ایک لڑکے کے ساتھ ہوں، لڑکے کیلئے مال (متروکہ) کا نصف ہے اور دونوں لڑکیوں کے لئے نصف (اور) اگر ایک لڑکے کے ساتھ ایک لڑکی ہو تو لڑکی کیلئے ایک ثلث اور لڑکے کیلئے دو ثلث اور اگر لڑکا تنہا ہو تو پورا مال لے لیگا۔ اور اگر اولاد صرف لڑکیاں ہی ہوں، دو سے زیادہ تو ان کیلئے میت کے متروکہ مال کا دو ثلث ہے اور اسی طرح جبکہ لڑکیاں صرف دو ہوں اسلئے کہ دو تہائی دو بہنوں کیلئے ہے اللہ تعالیٰ کے قول : فَلَھُمَا الثُّلُثَانِ مِمّا تَرَکَ ، کی وجہ سے، لہٰذا دو لڑکیاں اس کی بطریق اولیٰ مستحق ہونگی۔ اور اس لئے کہ لڑکی لڑکے کے ساتھ ایک تہائی کی مستحق ہوتی ہے تو مؤنث کے ساتھ بطریق اولیٰ مستحق ہوگی۔ اور لفظ فوق، کہا گیا ہے کہ صلہ یعنی (زائد ہے اور کہا گیا ہے کہ لڑکیوں کی تعداد کے زیادہ ہونے کی صورت میں حصہ کے زیادہ ہونے کے وہم کو دفع کرنے کے لئے ہے کہ دو لڑکیوں کا دو ثلث کا مستحق ہونا لڑکے کے ساتھ ایک لڑکی ہونے کی صورت میں ایک ثلث سے سمجھا گیا، اور اگر اولاد میں فقط ایک لڑکی ہو تو لڑکی کو (ترکہ) کا نصف ہے، اور ایک قراءت میں (واحدۃٌ) رفع کے ساتھ ہے، تو اس صورت میں ’ کَانَ ‘ تامہ ہوگا اور میت کے والدین میں سے ہر ایک کے لئے متروکہ مال سے چھٹا حصہ ہے اگر میت کی اولاد ہو، خواہ لڑکا ہو یا لڑکی، اور (لِکُلِّ وَاحدٍ ) اَبْوَیْہِ سے بدل ہے، اور بدل میں نکتہ یہ ہے کہ اس بات کا فائدہ ہوگیا کہ دونوں ایک سدس میں شریک نہ ہوں گے، (بلکہ ہر ایک کو سدس) ملے گا، اور ولد کے ساتھ ولد الابن اور اب کے ساتھ جد بھی شامل کردیا گیا ہے اور اگر (میت) کے اولاد نہ ہو اور وارث فقط اس کے والدین ہی ہوں یا مرنے والے کا زوج بھی ہو (بیوی یا شوہر) تو (میت) کی والدہ کیلئے کل مال کا ایک تہائی ہے یا زوج کو دینے کے بعد مابقیہ کا ایک تہائی ہے، اور باقی والدہ کیلئے ہے۔ (فَلُامِّہٖ ) کا ہمزہ ضمہ کے ساتھ، اور کسرہ کے ساتھ بھی ہے، ضمہ سے کسرہ کی طرف انتقال سے بچنے کے لئے اس کے ثقیل ہونے کی وجہ سے دونوں جگہوں میں، اور اگر میت کے دو یا دو سے زیادہ بھائی یا بہن تو میت کی والدہ کے لئے ایک سدس ہے اور باقی والد کے لئے ہے، اور بھائی بہنوں کے لئے کچھ نہیں ہے اور مذکورین کے لئے مذکورہ حصے میت کی وصیت کو نافذ کرنے یا قرض ادا کرنے کے بعد ہیں (یُوْصِیٰ ) معروف و مجہول دونوں طریقہ پر ہے اور وصیت کی دین پر تقدیم اس کے اہتمام کی وجہ سے ہے اگرچہ اداء میں مؤخر ہے تمہارے باپ ہوں یا تمہارے بیٹے تمہیں نہیں معلوم کہ دنیا و آخرت میں تم کو فائدہ پہنچانے میں تمہارے کون زیادہ قریب ہے ؟ (آبَاؤُکُمْ وَاَبْنَآءُکُمْ ) مبتداء ہے اور لَاتَدْرُوْنَ ، اس کی خبر ہے، یہ گمان کرنے والا کہ اس کا بیٹا اس کے لئے زیادہ مفید ہے تو اس کو میراث دیدیتا ہے حالانکہ اس کا باپ اس کیلئے زیادہ نافع ہوتا ہے اور اس کا عکس بھی ہوسکتا ہے اس کا جاننے والا تو درحقیقت اللہ ہی ہے جس وجہ سے اس نے تمہارے لئے میراث (کے حصے) مقرر کر دئیے، یہ حصے اللہ کی جانب سے مقرر کردہ ہیں اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کے بارے میں باخبر ہے اور اس میں با حکمت ہے، جو اس نے ان کے لئے مقرر کیا ہے یعنی وہ اس صفت کے ساتھ ہمیشہ متصف ہے اور تمہاری بیویاں جو کچھ چھوڑ مریں اس کا تمہارے لئے نصف ہے اگر ان کے تم سے یا دوسرے شوہر سے اولاد ہو تو متروکہ مال میں تمہارے لئے چوتھائی ہے ان کی وصیت کو نافذ کرنے یا ان کے قرض کو ادا کرنے کے بعد، اور اس حکم میں بیٹے کے ساتھ پوتا بالا جماع ملایا گیا ہے، اور بیویوں کیلئے متعدد ہوں یا نہ ہوں تمہارے متروکہ مال کا چوتھائی ہے اگر تمہارے اولاد نہ ہو اور اگر تمہاری اولاد ہو خواہ ان سے ہو یا دوسری بیویوں سے، تو ان کے لئے تمہارے متروکہ مال میں سے آٹھواں حصہ ہے ان کی وصیت کو نافذ اور قرض کو ادا کرنے کے بعد، اور پوتا اس حکم میں بالاجماع بیٹے کی مانند ہے، اور مورث مرد ہو یا عورت کَلٰلَۃ ہو یعنی نہ اس کے بیٹا ہو اور نہ باپ (یورث) رجلٌ کی صفت ہے اور کَلٰلَۃً ، کَانَ کی خبر ہے اور اگر عورت، مورث کَلٰلَۃ ہو اور مورث کلٰلہ کے ماں شریک بھائی یا بہن ہو، اور یہ قراءت ابن مسعود وغیرہ کی ہے، تو متروکہ مال میں سے ان میں سے ہر ایک کیلئے چھٹا حصہ ہے اور اگر ماں شریک بھائی اور بہن ایک سے زائد ہوں تو یہ سب کے سب ایک تہائی میں شریک ہوں گے، اور مذکر اور مؤنث اس میں برابر ہوں گے، وصیت کے نافذ کرنے اور قرض کے ادا کرنے کے بعد، جبکہ دوسروں کا نقصان نہ ہو (غیرَ مضارّ ) یوصٰی، کی ضمیر سے حال ہے یعنی ورثاء کو ضرر پہنچانے والا نہ ہو، اس طریقہ سے کہ ثلث سے زیادہ کی وصیت کرے یہ حکم اللہ کا مقرر کیا ہوا ہے وصیۃ، یوصیکم کی تاکید کیلئے ہے، اور اللہ تعالیٰ اس کی حکمت خوب جانتا ہے جو فرائض اس نے اپنی مخلوق کے لئے مقرر کئے ہیں اور ان احکام کی مخالفت کرنے والے سے سزا مؤخر کرنے میں بردبار ہے اور سنت رسول نے مذکورہ توریث اس وارث کے لئے خاص کی ہے جس میں (وراثت سے) کوئی مانع نہ ہو مثلاً قتل یا اختلاف دِیْن یا رِقَیت یتیموں کا معاملہ اور اس کے بعد کے یہ احکام مذکورہ، اللہ کی حدود ہیں یعنی اس کے احکام ہیں جن کو اللہ نے اپنے بندوں کیلئے مقرر فرمایا ہے تاکہ اس پر عمل کریں اور ان سے تجاوز نہ کریں اور جو اللہ کی اور اس کے رسول کی مذکورہ احکام میں اطاعت کرے گا اسے اللہ ایسی جنتوں میں داخل کرے گا (یُدْخلہ، نُدْخلہ) دونوں طریقوں سے ہے، جس میں وہ ہمیشہ ہمیش رہے گا ایسوں کیلئے رسوا کن عذاب ہے یعنی اہانت آمیز اور دونوں آیتوں کی ضمیروں میں لفظ مَنْ ، کی رعایت کی گئی ہے اور خلدین، میں معنی کی۔ تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد قولہ : یُوْصِیْ (ایصاءً ) مضارع واحد مذکر غائب معروف، وہ وصیت کرتا ہے وہ حکم دیتا ہے۔ وصیت کے اصل معنی ہیں انتقال کے وقت وصیت و نصیحت وغیرہ کرنا۔ قولہ : یَأمُرُکُمْ ، وصیت کے حقیقی معنی چونکہ ذات باری تعالیٰ کیلئے محال ہیں اسلئے مفسر علام نے یوصی کی تفسیر یأمُرُ سے کی ہے۔ قولہ : شان۔ یہ ایک سوال کا جواب ہے۔ سوال : اَوْلاد، یأمُرُ ، کا ظرف ہے حالانکہ اولاد کا ظرف بننا صحیح نہیں ہے اسلئے کہ اولاد میں ظرف بننے کی صلاحیت نہیں ہے۔ جواب : شان کی تقدیر صحت ظرفیت ہی کو بیان کرنے کے لئے ہے۔ قولہ : مِنْھم۔ سوال : مفسر علام نے مِنْھُمْ ، کس فائدہ کے لئے محذوف مانا ہے۔ جواب : لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْاُنْثَیَیْنِ ، یہ وصیت کی تشریح ہے لہٰذا ضمیر عائد کا ہونا ضروری ہے جو اولاد کی طرف راجع ہو، مگر عائس اس کے ظہور پر اعتماد کرتے ہوئے حذف کردیا گیا ہے، جیسا کہ ” اَلسَّمنُ مَنْوَانِ بِدرْھَمٍ “ میں مِنْہٗ کو ظاہر سے مفہہوم ہونے کی وجہ سے حذف کردیا گیا ہے۔ قولہ : فَاِنْ کُنَّ ای اَلْاَوْلَادُ ۔ سوال : کُنَّ ، کی تفسیر مفسر علام نے، اَوْلَاْدٌ سے کی ہے جو کہ مذکر ہے تو پھر کُنَّ ، مؤنث کی ضمیر کیوں لائے ہیں ؟ جواب : کُنَّ کی خبر نسآءٌ چونکہ مؤنث ہے لہٰذا خبر کی رعایت کرنے کی وجہ سے ضمیر کو مؤنث لائے ہیں۔ قولہ ؛ فَاِنْ کُنَّ نِسَآءً فَوْقَ اثْنَتَیْنِ فَلَھُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَکَ ، اِنْ حرف شرط کُنَّ فعل ناقص، شرط، اس کے اندر ضمیر ھُنَّ وہ اس کا اسم نِسَاءً موصوف اور فَوْقَ اثْنَتَیْنِ صفت، موصوف صفت سے مل کر کُنَّ کی خبر کُنَّ اپنے اسم و خبر سے مل کر شرط، فَلَھُنَّ جواب شرط۔ قولہ : وفوق صلۃ وقیل لدفع تو ھم زیادۃ النصیب بزیادۃ العدد اس عبارت کے اضافہ کا مقصد حضرت ابن عباس ؓ کے تفرد کا جواب دینا ہے۔ اس عبارت میں دو جوابوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے، ابن عباس ؓ کا تفرّدیہ ہے کہ وہ اس بات کے قائل ہیں کہ دو ثلث، لڑکیوں کو اس وقت ملے گا کہ جب لڑکیاں دو سے زیادہ ہوں حالانکہ جمہور کا مسلک یہ ہے کہ لڑکیاں اگر دو بھی ہوں تب بھی ان کو دو ثلث ملیں گے، اس تفرد کے دو جواب دئیے ہیں، اول جواب کا حاصل یہ ہے کہ لفظ فوق زائد محض صلہ کے لئے ہے، جیسے فَاضْرِبُوْا فَوْقَ الْاَعْنَاقِ ، میں لفظ فوق زائد، محض صلہ ہے وقیل لدفع توھم الخ، یہ دوسرا جواب ہے اس کا مقصد اس وہم کو دفع کرنا ہے کہ لفظ فوق سے یہ مفہوم ہوتا ہے کہ لڑکیوں کے عدد کے بڑھنے سے انکا حصہ بھی بڑھے گا، اسلئے کہ جب ایک لڑکی ایک لڑکے کے ساتھ ہو تو ایک تہائی حصہ ہے اور دو ہوں تو دو تہائی ہے اس سے معلوم ہوا کہ لڑکیوں کی تعداد جس قدر بڑھتی رہے گی ان کے حصوں میں بھی اضافہ ہوتا رہے گا، حالانکہ ایسا نہیں ہے اور یہ شبہ پیدا ہوا ہے لفظ فوق سے لہٰذا یہ کہہ کر کہ لفظ فوق زائد برائے صلہ ہے شبہ اس کو دفع کردیا۔ قولہ : وَیُبْدَلُ مِنْھَا، یہ ایک شبہ کا جواب ہے شبہ یہ ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ وَلِاَبَوَیْہِ السُّدس، السدس مبتداءٌ مؤخرٌ اور لابویہ خبر مقدم فرماتے تو مختصر بھی ہوتا اور دال برمقصود بھی مبتداء اور خبر کے درمیان لِکلّ واحدٍ منھما، کا فصل کس مصلحت سے فرمایا۔ جواب : جواب کا حاصل یہ ہے کہ عدم فصل کی صورت میں یہ شبہ ہوتا کہ ایک سدس میں اب اور ام دونوں شریک سمجھے جاتے حالانکہ ہر ایک سدس کا مستحق ہے۔ اسلئے لِکل واحدٍ مِنھُمَا کو اَبَویْہِ سے بدل قرار دیا اور بدل مبدل منہ سے مل کر خبر مقدم اور السدس مبتداء مؤخر، اس طرح شرکت کا شبہ ختم ہوگیا۔ قولہ : فقط او مع زوج، زوج کا اطلاق زوج اور زوجہ دونوں پر ہوتا ہے۔ سوال : مفسر علام کے فقط اور مع زوج، کے اضافہ کا کیا مقصد ہے ؟ جواب : اس کا مقصد ابوین کی میراث کے بارے میں جمہور اور حضرت ابن عباس ؓ کے مسلک کے درمیان فرق کو واضح کرنا ہے۔ جمہور کے نزدیک اگر میت لا ولدہو اور اس کے وارث صرف اسکے والدین ہوں تو والدہ کو ثلث کل ملے گا اور مَا بَقِیَ دو ثلث والد کو ملے گا، اور اگر مرنے والے کے والدین کے ساتھ ساتھ زوج یا زوجہ بھی ہو تو اس صورت میں زوج یا زوجہ کو اقل مخرج میں سے دینے کے بعد مابقی کا ثلث ملے گا اور باقی دو ثلث والد کو ملیں گے۔ مگر حضرت ابن عباس ؓ کے مسلک کے مطابق دونوں صورتوں میں ماں کو ثلث کل ہی ملے گا، مفسر علام نے فَقَطْ اَوْمَع زَوْجٍٍٍ ، کہہ کر جمہور کے مسلک کی طرف اشارہ کیا ہے۔ قولہ : بضم الھمزۃ وبکسر ھا فرارًا من الانتقال من ضمّۃ الی کسرۃ لِثِقْلَہٖ ، بضم الھمذۃ الخ سے فلِاُمِّہٖ میں دو قراءتوں کی طرف اشارہ کیا ہے، اور فَلِاُمِّہٖ ، کے ہمزرہ کے کسرہ کی علت کی طرف بھی اشارہ کیا ہے، مشہور قراءت ہمزہ کے جمہ کے ساتھ ہے یعنی فلِاُمِّہٖ ، اور دوسری قراءت میں ہمزہ کے کسرہ کے ساتھ فَلِامَّہٖ ، ہے مفسر علام نے اس قراءت کی وجہ یہ بیان کی ہے کہ فَلِاْمِّہٖ ، کی صورت میں ضمہ سے کسرہ کی طرف انتقال لازم آتا ہے جو کہ ثقیل ہے اسلئے ہمزہ کو بھی کسرہ دیدیا۔ قولہ : وَاِرْثُ مَنْ ذُکِرَ مَا ذُکِرَ یعنی مذکورین کی وراثت، بیان کردہ اصول کے مطابق ہوگی۔ قولہ : من بعد وصیۃ ما قبل میں بیان کردہ تقسیم، میراث کے اصول سے ہے مطلب یہ ہے کہ سابق میں ترکہ کے تقسیم کے اصول کے مطابق تقسیم، وصیت کے نفاذ اور اداء قرض کے بعد ہوگی، اگر میت نے وصیت کی ہو، اور مقروض ہو تو وصیت اور دین میں سے دین کو مقدم کیا جائے گا۔ قولہ : فَفَرَض لکم المیراث، یہ عبارت مقدر مان کر اشارہ کردیا کہ فریضۃٌ فعل محذوف کا مصدر (مفعول مطلق) ہے نہ کہ یُوْصِیْکم اللہ کا مصدر۔ قولہ : یورَث صفۃ، یعنی یورث رجلٌ کی صفت ہے لہٰذا رَجَلٌ کا مبتداء بننا درست ہے اور کلالَۃ مبتداء کی خبر ہے۔ قولہ ؛ المَوْرُوْث، بروزن مفعول ثلاثی مجرد سے ای المیت۔ قولہ : وَرُوْعِیَ فِی الضمائر فی الْاَیتَیْنِ لفظُ مِنْ وفی خٰلِدِین مَعْنَاھَا، دونوں جگہ یُدْخِلْہٗ کی ضمیر کو مفرد مذکر مَنْ کے لفظ کی رعایت سے لایا گیا ہے اور خٰلِدِین کو جمع مذکر مَنْ ، کے معنی کی رعایت سے لایا گیا ہے۔ تفسیر و تشریح یُوْصِیْکُمُ اللہُ فِیْ اَوْلَادِکُمْ (الآیۃ) اگر ورثاء میں لڑکی اور لڑکے دونوں ہوں خواہ بالغ ہوں یا نابالغ حتی کہ اگر رحم مادر میں جنین کی صورت میں ہوں تب بھی لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْاُنْثَیَیْنِ کے اصول کے مطابق میراث تقسیم ہوگی اور جنین کو لڑکا فرض کر کے اس کا حصۃ رکھا جائے گا، لڑکی پیدا ہونے کی صورت میں زائد مال پھر ورثاء میں بحصہ رسد تقسیم کردیا جائیگا۔ فَاِنْ کُنَّ نِسَآءً فَوْقَ اثْنَتَیْنِ فَلَھُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَکَ ، اور اگر لڑکا کوئی نہ ہو اور لڑکیاں دو یا دو سے زیادہ ہوں تو مال کا دو تہائی لڑکیوں کو دیا جائے گا، لفظ، فوق جمہور کے نزدیک محض صلہ کے طور پر ہے، حضرت ابن عباس ؓ کا مسلک یہ ہے کہ دو سے زیادہ ہوں تو دو تہائی دیا جائیگا مگر جمہور کے نزدیک جو حکم دو سے زیادہ لڑکیوں کا ہے، دو کا بھی وہی حکم ہے۔ حدیث میں آیا ہے کہ سعد بن ربیع ؓ احد میں شہید ہوگئے تھے ان کی دو لڑکیاں تھیں، سعد کے بھائی نے تمام مام پر قبضہ کرلیا لڑکیوں کی ماں نے آپ ﷺ سے اس معاملہ کی شکایت کی تو آپ نے ان لڑکیوں کو دو تہائی مال دلوایا، واقعہ کی تفصیل سابق میں گزر چکی ہے۔ (ترمذی ابو داؤد، ابن ماجہ کتاب الفرائض) ۔ علاوہ ازیں سورة نساء کے آخر میں بتایا گیا ہے کہ اگر کسی مرنے والے کے وارث صرف دہ بہنیں ہوں تو اس کے لئے بھی دو تہائی حصہ ہے لہٰذا جب وہ بہنیں دو تہائی کی وارث ہوں گی تو دو بیٹیاں بطریق اولیٰ دو تہائی کی وارث ہوں گی جس طرح دو بہنوں سے زیادہ ہونے کی صورت میں انہیں دو سے زیادہ بیٹیوں کے حکم میں رکھا گیا ہے، اسی طرح یہاں بھی ہوگا۔ وَاِنْ کَانَتْ وَاحِدَۃً (الآیۃ) ماں باپ کے حصوں کی تین صورتیں بیان کی گئی ہیں۔ (1) اگر مرنے والئ کی اولاد بھی ہو خواہ لڑکی ہو یا لڑکا تو مت باپ میں سے ہر ایک کو ایک ایک سدس ملے گا یعنی باقی چار سدس اولاد پر تقسیم ہوگا البتہ اگر میت کی اولاد میں صرف ایک لڑکی ہو تو اس میں سے چونکہ تین سدس یعنی نصف مال بیٹی کا ہوگا، اور ایک سدس ماں کو اور ایک سدس باپ کو دینے کے بعد ایک سدس باقی بچ جائیگا اس لئے بچا ہوا یہ سدس بطور عصبہ باپ کے حصہ میں جائیگا۔ اس طرح باپ کے حصہ میں دو سدس آئیں گے ایک ذوالفرض ہونے کی حیثیت سے اور ایک عصبہ ہونے کی حیثیت سے۔ (2) دوسری صورت یہ ہے کہ مرنے والے کی اولاد نہ ہو اور اولاد میں پوتے پوتیاں بھی شامل ہیں، اس صورت میں ماں کیلئے کل مال کا تیسرا حصہ ہے، باقی دو حصے باپ کو بطور عصبہ ملیں گے اور اگر ماں باپ کے ساتھ مرنے والے مرد کی بیوی یا مرنے والی عورت کا شوہر بھی زندہ ہے تو جمہور کے مذہب پر بیوی یا شوہر کا حصہ نکال کر باقی ماندہ مال سے ماں کے لئے ایک تہائی اور باقی باپ کیلئے ہوگا۔ (3) تیسری صورت یہ ہے کہ اگر ماں باپ کے ساتھ، مرنے والے کے بھائی بہن حیات ہیں وہ بھائی خواہ سگے ہوں یا اخیافی (ماں شریک) یا علاتی (باب شریک) اگرچہ یہ بھائی بہن میت کے باپ کی موجودگی میں وراثت کے حق دار نہیں ہوں گے لیکن ماں کے لئے حجب نقصان کا سبب بن جائیں گے، یعنی جب ایک بھائی سے زیادہ ہوں گے تو ماں کے ثلث یعنی تیسرے حصہ کو چھٹے حصہ میں تبدیل کردیں گے باقی ماندہ ما، باپ کے حصہ میں جائیگا بشرطیکہ کوئی اور وارث نہ ہو، اس کا مطلب یہ ہوا کہ ایک بھائی یا ایک بہن ہو تو اس صورت میں مال میں ماں کا حصہ ثلث برقرار رہے گا وہ سدس میں تبدیل نہ ہوگا۔ (تفسیر ابن کثیر) آبَآءُکُمْ وَاَبْنَآءُکُمْ لَاتَدْرُوْنَ اَیُّھُمْ اَقْرَبُ لَکُمْ نَفْعًا فَرِیْضَۃً مِّنَ اللہِ اِنَّ اللہَ کَانَ عَلیْمًا حَکِیْمًا، حصص مقررہ بیان فرمانے کے بعد، متوجہ کیا گیا کہ تم اپنی سمجھ کے مطابق وراثت تقسیم مت کرو بلکہ اللہ کے حکم کے مطابق تقسیم کرو، اسلئے ہوسکتا ہے کہ جس کو تم نافع سمجھ کر زیادہ حصہ دے رہے ہو وہ تمہارے لئے نافع نہ ہو اور جس کو تم غیر نافع سمجھ کر کم حصہ دے رہے ہو وہ تمہارے لیے نافع ہو اس حقیقت کا علم صرف اللہ ہی کو ہے لہٰذا اس نے جس کا حصہ مقرر کیا ہے اس میں ردوبدل نہ کرو اور تمہیں پورے اطمینان قلبی کے ساتھ اس کو قبول کرنا چاہیے، تمہارے خالق ومالک کا یہ حکم بہترین حکمت و مصلحت پر مبنی ہے۔