3. Surah Aal-i-Imraan

آل عمرانThe Family of Imraan · 200 ayahsتفسیرِ جلالین

Ayahs 3:1–2

اللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۙ الْحَیُّ الْقَیُّوْمُؕ Open ayah 3:2 in the Quran reader

خدا (جو معبود برحق ہے) اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، زندہ ہمیشہ رہنے ولا

آیت نمبر 1 تا 9 ترجمہ : شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے الم اللہ ہی اپنی مراد کو اس سے بہتر جانتا ہے۔ اللہ وہ زندہ جاوید ہستی ہے کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں جو (نظام کائنات کو) سنبھالے ہوئے ہے اس نے اے محمد آپ پر قرآن کو جو کہ خبر دینے میں صداقت پر مشتمل ہے بتدریج نازل فرمایا اپنے سے سابق کتابوں کی تصدیق کرنے والا ہے اور اس کے نازل کرنے سے پہلے تورات اور انجیل نازل کیں حال یہ ہے کہ وہ رہ نما ہیں (ھُدًی) التوراۃ والانجیل سے حال ہے، یعنی یہ دونوں کتابیں ان لوگوں کو گمراہی سے ہدایت کی جانب رہنمائی کرنے والی ہے جنہوں نے ان کی اتباع کی اور ان دونوں میں اَنْزَل کی تعبیر اختیار کی اور قرآن میں نزَّلَ کی جو تکرار کا مقتضی ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ دونوں ایک وقت نازل کی گئیں بخلاف قرآن کے (کہ یہ بتدریج نازل کیا گیا) اور نازل کیا فرقان کو، مراد وہ کتابیں ہیں جو حق و باطل کے درمیان فرق کرنے والی ہیں، تینوں کے ذکر کے بعد فرقان کا ذکر کیا تاکہ مذکورہ تینوں (کتابوں) کے علاوہ کو بھی شامل ہوجائے، بیشک جن لوگوں نے اللہ کی آیتوں (یعنی) قرآن وغیرہ سے کفر کیا ان کے لیے سخت عذاب ہے اور اللہ اپنے امر میں غالب ہے، لہٰذا کوئی شئ اس کو اس کے وعدہ وعید کو پورا کرنے سے نہیں روک سکتی، اور اپنے نافرمانوں سے سخت بدلہ لینے والا ہے کہ اس جیسی عقوبت پر کوئی قادر نہیں، بلاشبہ اللہ ایسا ہے کہ اس سے کوئی شئ مخفی نہیں خواہ زمین میں ہو یا آسمان میں اس کے عالم میں واقع ہونے والی کلی و جزئی چیز سے واقف ہونے کی وجہ سے، اور زمین و آسمان کی تخصیص کی وجہ یہ ہے کہ حس ان دونوں سے تجاوز نہیں کرتی۔ وہ ایسا ہے کہ رحموں میں تمہاری صورتیں بناتا ہے جیسی چاہتا ہے، لڑکا یا لڑکی اور سفید اور کالی وغیرہ بجز اس کے کوئی معبود نہیں جو اپنے ملک میں بڑا زبردست اور اپنی صنعت میں بڑی حکمت والا ہے وہ وہی خدا ہے جس نے آپ پر کتاب نازل کی اس میں محکم آیتیں ہیں (یعنی) واضح، جو واضح الدلالت ہیں اور وہی کتاب کا اصل مدار ہیں، یعنی اصل کتاب ہیں جو احکام میں معتمد علیہ ہیں اور دیگر متشابہ ہیں جن کے معانی مفہوم نہیں ہوتے جیسا کہ سورتوں کے اوائل، اور اللہ تعالیٰ کے قول ” اُحْکِمَتْ آیاتہٗ “ میں پورے قرآن کو محکم قرار دیا گیا ہے، یہ اس معنی کر ہے کہ اس میں کوئی عیب نہیں، اور اللہ تعالیٰ کے قول ” کتابًا متشابھًا “ میں پورے قرآن کو متشابہ قرار دیا گیا ہے، یہ اس معنی کر ہے کہ اس کا بعض بعض سے حسن و صدق میں مشابہ ہے، سو وہ لوگ جن کے دلوں میں کجی یعنی حق سے انحراف ہے وہ اپنے حامیوں کے لیے ان کے شہادت اور التباس میں واقع ہونے کی وجہ سے فتنہ کی تلاش میں پیچھے ہو لیتے ہیں جو متشابہ ہے، اور اس کی غلط تفسیر کی تلاش میں دراں حالیکہ اللہ وحدہ کے علاوہ اس کی حقیقی مراد کوئی نہیں جانتا اور پختہ کار اور مضبوط علم والے کہتے ہیں کہ ہم متشابہ پر ایمان لاچکے کہ وہ اللہ کی طرف سے ہے اور ہم اس کی (حقیقی) مراد سے واقف نہیں ہیں (والراسخون فی العلم) مبتداء ہے اور (یقولون آمنا بہ) اس کی خبر ہے، محکم اور متشابہ سب ہمارے رب کی طرف سے ہے، اور نصیحت عقلمند ہی حاصل کرتے ہیں (یَذَّکّرُ ) اصل میں تاء کو ذال میں ادغام کرکے بنا ہے، یعنی نصیحت حاصل کرتے ہیں، اور جب کسی کو متشابہ کے پیچھے پڑتا دیکھتے ہیں تو کہتے ہیں اے ہمارے پروردگار تو ہمارے قلوب کو حق سے نہ پھیر اس حق کی ایسی تاویل کی جستجو کے ذریعہ جو ہمارے لیے لائق نہیں ہے جیسا کہ تو نے ان لوگوں کے قلوب کو کج کردیا بعد اس کے کہ تو ہم کو راہ حق دکھا چکا، اور ہم کو اپنے پاس سے استقامت بخش کر خصوصی رحمت عطا فرما، بیشک تو ہی بڑا عطا کرنے والا ہے، اے ہمارے رب یقیناً تو لوگوں کو ایک دن جمع کرنے والا ہے یعنی ایسے دن میں کہ جس کے آنے میں کوئی شک نہیں وہ قیامت کا دن ہے، تو ان کو اپنے وعدہ کے مطابق ان کے اعمال کا صلہ دے گا، یقیناً اللہ وعدہ خلافی نہیں کرتا یعنی بعث بعد الموت کے وعدہ کی خلاف ورزی نہیں کرے گا۔ اس میں خطاب سے (غیب) کی جانب التفات ہے، اور احتمال یہ بھی ہے کہ (انا اللہ لایخلف المیعاد) اللہ تعالیٰ کا کلام ہو، اور (رَبّنا لاتُزِغ قلوبنا) سے دعاء کرنے کی غرض یہ ہے کہ ان کا مقصد امر آخرت ہے، اور اسی وجہ سے ہدایت پر استقامت کو سوال کیا تاکہ اس کا ثواب حاصل کریں۔ مسلم و بخاری نے حضرت عائشہ ؓ سے روایت کیا ہے، حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا ! آپ ﷺ نے یہ آیت (ھو الذی انزل علیک الکتاب منہ آیات محکمٰت الاٰیۃ) تلاوت فرمائی اور آپ ﷺ نے فرمایا ! (اے عائشہ) جب تو دیکھے کہ لوگ قرآن کے متشابہات کے پیچھے پڑے ہیں (تو سمجھ لو) یہی ہیں وہ لوگ جن کی اللہ تعالیٰ نے نشاندہی فرمائی ہے، تو تم اس سے بچتی رہنا۔ طبرانی نے کبیر میں ابو ملک اشعری ؓ سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ مجھے میری امت پر صرف تین باتوں کا خوف ہے اور ان باتوں میں سے ایک بات یہ ذکر فرمائی، کہ لوگوں کے سامنے کتاب (قرآن) کھولی جائے گی تو مومن اس کی تاویل کی جستجو میں لگ جائے گا حالانکہ اس کی تاویل کو اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا، اور راسخین فی العلم کہتے ہیں ہم اس پر ایمان لائے کہ کل کا کل (قرآن) ہمارے رب کی طرف سے ہے اور عقلمندہی نصیحت حاصل کرتے ہیں۔ (الحدیث) تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد قولہ : اٰلُ ، کنبہ، اہل خانہ، اولاد، عمران، کہا گیا ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) کے والد مراد ہیں اور کہا گیا ہے کہ عمران حضرت مریم کے والد کا نام ہے، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے والد عمران اور حضرت مریم کے والد عمران کے درمیان ایک ہزار آٹھ سو سال کا فاصلہ ہے۔ قولہ : متلبّسًا اس میں اشارہ ہے کہ باء الصاق کے لیے ہے، اور یہ کہ بالحق، متلبِّسًا سے متعلق ہو کر حال ہے۔ قولہ : قبل تنزیلہٖ اس میں اشارہ ہے کہ قبل قطع اضافت کی وجہ سے مبنی علی الضم ہے۔ قولہ : حال بمعنیٰ ھَادِییْنَ اس اضافہ کا مقصد ایک سوال مقدر کا جواب ہے۔ سوال : ھُدًی، مصدر ہے اس کا حمل کتابیں (یعنی توریت و انجیل) پر جائز نہیں ہے ورنہ تو مصدر کا حمل ذات پر لازم آئے گا۔ جواب : ھدًی مصدر ہے یہ ھادیین کے معنی میں ہو کر حال ہے اور حال کی ذات پر حمل درست ہے۔ قولہ : بمعنی الکتب، یہ اس سوال مقدر کا جواب ہے کہ فرقان قرآن کا نام ہے لہٰذا تکرار لازم آگیا اس لیے کہ سابق میں بھی قرآن کا ذکر ہوچکا ہے اور فرقان سے بھی قرآن ہی مراد ہے۔ جواب : فرقان کے یہاں لغوی معنی مراد ہیں لہٰذا یہ ہر آسمانی کتاب کو شامل ہے۔ قولہ : من انْجاز وَعْدِہ، ای اتمام وعْدِہ۔ اللغۃ والبلاغۃ قولہ : التوراۃ والانجیل، یہ دونوں عجمی لفظ ہیں، اور بعض حضرات نے کہا کہ عربی ہیں، عربی ہونے کی صورت میں بعض نے وری الزند سے مشتق مانا ہے، چقماق سے چونکہ روشنی نکلتی ہے اور تورات کے ذریعہ بھی گمراہی کی تاریکی سے ہدایت کی روشنی کی طرف نکلتے تھے اسی لیے وری الزند سے مشتق مانا ہے، زند، چقماق کو کہتے ہیں اور بعض نے وریت فی کلامی سے مشتق مانا ہے، اس وقت توریہ سے مشتق ہوگا جس کے معنی اشارہ کنایہ کرنا ہے، توریت اس لیے کہا گیا اس میں تلویحات اور ایحازات اشارات و کنایات ہیں۔ قولہ : انجیل جو لوگ اس کو عربی کہتے ہیں وہ اس کو نجل سے مشتق مانتے ہیں اس کے معنی توسع کے ہیں سے ان کا قول عین نجلاء، وسیع چشمہ اور انجیل میں تورات کی بہ نسبت چونکہ توسع ہے اس لیے اس کو انجیل کہا گیا۔ المجاز : اللہ تعالیٰ کے قول ” لِما بین یَدَیْہِ “ میں صنعت مجاز ہے، بمعنی اَم۔ امَہٗ ۔ الطباق : الارض والسماء، اس میں صنعت طباق ہے۔ الایجاز بالحذف : یشاءُ اس کا مفعول اظہار قدرت و غرابت کے لیے محذوف ہے۔ تفسیر و تشریح یہ سورت مدنی ہے اس کی تمام آیتیں ہجرت کے بعد مختلف اوقات میں نازل ہوئی ہیں اس سورت کا ابتدائی حصہ آیت 83 تک نصاریٰ کے وفد نجران کے بارے میں نازل ہوا ہے۔ عرب کا اگر نقشہ سامنے ہو تو جنوب مشرق میں جو علاقہ یمن کے نام سے موسوم ہے اس کے شمالی حصہ میں ایک مقام نجران ہے، عہد نبوت میں یہاں مسیحیوں کی آبادی تھی 9 یا 10 ہجری میں ان کے چودہ اکابر کا وفد رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تھا، آنحضور ﷺ نے گفتگو کے دوران ان کے عقائد تثلیث اور ابنیت کی لغویات ان پر پوری طرح واضح فرما دی۔ اسی واقعہ کے دوان مباہلہ کا معاملہ بھی پیش آیا جس کی تفصیل انشاء اللہ آئندہ آئے گی، سورة بقرہ میں جس طرح خطاب خاص طور پر یہود کی جانب تھا، اسی طرح اس سورت میں مسیحیوں کی جانب ہے، سورة آل عمران کے فضائل بھی احادیث میں بکثرت وارد ہوئے ہیں۔ اَللہُ لَآ اِلٰہَ اِلاَّ ھُوَ ، اللہ وہ ہے کہ اس کے سوا کوئی خدا نہیں، یعنی اس خدائے واحد کا شریک کوئی نہ ذات میں ہے اور نہ صفات میں اور نہ افعال میں بکثرت ایسے مشرک مذہبوں کا وجود رہ چکا ہے اور اب بھی ہے جو کہتے ہیں کہ بیشک خدائے اعظم تو ایک ہی ہے لیکن اس کے ماتحت شعبہ وار چھوٹے چھوٹے خدا دیوتا اور دیویاں بہت سی ہیں قرآن مجید اس کی تردید کرتے ہوئے کہتا ہے کہ نفس وجود ہی اس کے علاوہ کسی دوسرے خدا کا نہیں نہ چھوٹے کا اور نہ بڑے کا، الوہیت و ربوبیت تمام تر ایک ہی ذات میں ہے، آیت میں علاوہ ان جاہلی مذاہب کے خاص طور پر مسیحی عقائد کے بھی رد میں ہے۔ اَلْحَیُّ القیوُّم، حیّ ، القیوم، اللہ کے خاص صفات ہیں، حیّ کا مطلب ہے کہ وہ ازل سے ہے اور ابد تک رہے گا اسے موت اور فنا نہیں۔ قیوم کا مطلب ہے ساری کائنات کا قائم رکھنے والا محافظ و نگران، عیسائی حضرات عیسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ یا ابن اللہ یا تین میں کا ایک مانتے ہیں، ان کو بتایا جا رہا ہے کہ حضرت عیسیٰ بھی اللہ کی مخلوق ہیں وہ ماں کے پیٹ سے پیدا ہوئے اور ان کا زمانہ ولادت بھی تخلیق کائنات سے بہت بعد کا ہے تو پھر اللہ، یا اللہ کا بیٹا کس طرح ہوسکتے ہیں، اگر تمہارا عقیدہ صحیح ہے تو ان کو الوہیت کی صفات کا حامل اور قدیم ہونا چاہیے تھا۔ اور ان پر موت بھی نہیں آنی چاہیے لیکن ایک وقت آئے گا کہ وہ موت سے ہم کنار ہوں گے۔ اور عیسائیوں کے عقیدہ کے مطابق ہم کنار ہوچکے۔
Ayah 3:3

نَزَّلَ عَلَیْكَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهِ وَ اَنْزَلَ التَّوْرٰىةَ وَ الْاِنْجِیْلَۙ Open ayah 3:3 in the Quran reader

اس نے (اے محمد ﷺ ! ) تم پر سچی کتاب نازل کی جو پہلی (آسمانی) کتابوں کی تصدیق کرتی ہے اور اسی نے تورات اور انجیل نازل کی

نَزَّلَ عَلَیْکَ الْکِتَابَ بِالْحَقِّ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْہِ وَاَنْزَلَ التَّوْرَاۃَ وَالْاِنْجِیْلَ یعنی قرآن کے منزل من اللہ ہونے میں کوئی شک نہیں، اس سے پہلے انبیاء (علیہم السلام) پر جو کتابیں نازل ہوئیں۔ یہ کتاب ان کی تصدیق کرتی ہے یعنی جو باتیں ان میں درج تھیں ان کی صداقت اور ان میں بیان کردہ پیش گوئیوں کا اعتراف کرتی ہے، جس کے صاف معنی یہ ہیں کہ قرآن کریم بھی اسی ذات کا نازل کردہ ہے جس نے پہلی بہت سی کتابیں نازل فرمائیں۔ سوال : کیا موجودہ بائبل، تورات و انجیل میں جو کچھ ہے قرآن ان سب کی تائید و تصدیق کرتا ہے ؟ جواب : اس سوال کے جواب کو سمجھنے کے لیے تورات و انجیل کا تاریخی پس منظر سمجھنا ضروری ہے۔ تورات و انجیل کا تاریخی پس منظر : تورات سے دراصل وہ احکام مراد ہیں جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی بعثت سے لے کر ان کی وفات تک تقریباً چالیس سال میں ان پر نازل ہوئے، ان میں سے دس احکام تو وہ تھے جو اللہ نے پتھر کی لوحوں پر کندہ کرکے ان کو دئیے تھے، باقی ماندہ احکام کو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے لکھ کر ان کی بارہ نقلیں بنی اسرائیل کے بارہ قبیلوں کو دیدی تھیں، اور ایک نقل بنی لاوی کے حوالہ کی تھی تاکہ وہ اس کی حفاظت کریں، اسی کتاب کا نام تورات تھا، یہ ایک مستقل کتاب کی حیثیت سے بیت المقدس کی پہلی تباہی تک محفوظ رہی، اسکی ایک کاپی جو بنی لاوی کے حوالہ کی گئی تھی پتھر کی لوحوں سمیت عہد کے صندقوں میں رکھ دی گئی تھی اور بنی اسرائیل اس کو تورات ہی کے نام سے جانتے تھے، لیکن اسی سے ان کی غفلت اس حد تک پہنچ چکی تھی کہ یہودیہ کے بادشاہ یوسیاہ بن آمون کے عہد میں اس کی تخت نشینی کے اٹھارہ سال بعد جب ہیکل سلیمان کی صفائی و مرمت ہوئی تو اتفاق سے سردار کاہن خلقیاہ کو ایک جگہ تورات رکھی ہوئی مل گئی اور اس نے ایک عجوبہ کی طرح شاہی منشی کو دیدی اور شاہی منشی نے اسے بادشاہ کے سامنے اس طرح پیش کیا جیسے ایک نیا انکشاف ہوا ہے، (ملاحظہ ہو 2 باب سلاطین 22 آیت 8 تا 31) یہی وجہ ہے کہ جب بخت نصر (بنوکد نضر) نے یروشلم فتح کیا اور ہیکل سمیت شہر کی اینٹ اینٹ بجادی تو بنی اسرائیل نے تورات کے وہ اصل نسخے جو ان کے یہاں طاق نسیان پر رکھے ہوئے تھے اور بہت تھوڑی تعداد میں تھے ہمیشہ کے لیے گم کر دئیے پھر عزراء کاہن (عزیر (علیہ السلام) کے زمانہ میں بنی اسرائیل کے بچے کچھے لوگ بابل کی اسیری سے واپس یروشلم آئے اور دوبارہ بیت المقدس تعمیر ہوا تو عزیر (علیہ السلام) نے اپنی قوم کے چند دوسرے بزرگوں کی مدد سے بنی اسرائیل کی پوری تاریخ مرتب کی جواب بائبل کی پہلی سات کتابوں پر مشتمل ہے، اس کتاب کے چار باب یعنی خروج، احبار، گنتی، استثناء حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی سیرت پر مشتمل ہے اور اس سیرت ہی میں تاریخ نزول کی ترتیب کے مطابق تورات کی وہ آیات بھی حسب موقع درج کردی گئیں ہیں جو عزراء اور ان کے نزرگوں کی مدد سے دستیاب ہوئی تھیں، پس اب دراصل تورات ان منتشر اجزاکا نام ہے جو سیرت موسیٰ (علیہ السلام) کے اندر بکھرے ہوئے ہیں، ہم انہیں صرف اس علامت سے پہچان سکتے ہیں کہ اس تاریخی بیان کے دوران میں جہاں کہیں سیرت موسیٰ (علیہ السلام) کا مصنف کہتا ہے کہ خدائے موسیٰ (علیہ السلام) سے یہ فرمایا۔ یا موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا کہ خداوند تمہارا خدا یہ کہتا ہے وہاں سے تورات کا ایک جز شروع ہوتا ہے اور جہاں سے پھر سیرت شروع ہوتی ہے وہاں وہ جز ختم ہوجاتا ہے۔ قرآن ان ہی منتشر اجزاء کو تورات کہتا ہے اور ان ہی کی وہ تصدیق کرتا ہے اور حقیقت یہ ہے کہ ان اجزاء کو جمع کرکے جب قرآن سے ان کا مقابلہ کیا جاتا ہے تو بجز اس کے کہ بعض مقامات پر جزوی احکام میں اختلاف ہے اصولی تعلیمات میں دونوں کتابوں کے درمیان سرمو بھی فرق نہیں۔ اسی طرح انجیل دراصل نام ہے الھامی خطبات اور اقوال کا جو مسیح (علیہ السلام) نے اپنی زندگی کے آخری ڈھائی تین برس میں بحیثیت نبی ارشاد فرمائے وہ کلمات طیبات آپ کی زندگی میں لکھے اور مرتب کئے گئے تھے یا نہیں اس کے متعلق اب ہمارے پاس کوئی ذریعہ معلومات نہیں ہے، بہرحال ایک مدت کے بعد جب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی سیرت مرتب ہوئی اور مختلف رسالے لکھے گئے تو ان میں تاریخی بیان کے ساتھ ساتھ وہ خطبات اور ارشادات بھی جگہ جگہ حسب موقع درج کر دئیے گئے جو ان رسالوں کے مصنفین تک زبانی روایات اور تحریری یاد داشتوں کے ذریعہ پہنچے تھے، آج، متیٰ ، مرقس، لوقا، یوحنا، کی جن کتابوں کو اناجیل کہا جاتا ہے دراصل انجیل وہ نہیں ہیں بلکہ انجیل حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے وہ ارشادات ہیں جو ان کے اندر درج ہیں ہمارے پاس ان کے پہنچاننے اور مصنفین کے اپنے کلام سے ممتاز کرنے کا اس کے سوا کوئی ذریعہ کوئی ذریعہ نہیں ہے کہ جہاں سیرت نگاہ کہتا ہے کہ مسیح نے یہ فرمایا، یا لوگوں کو یہ تعلیم دی صرف وہی مقامات اصل انجیل کے اجزاء ہیں، قرآن ان ہی اجزاء کے مجموعہ کا انجیل کہتا ہے اور انھیں کی وہ تصدیق کرتا ہے، آج کوئی ان کے بکھرے ہوئے اجزاء کو مرتب کرکے قرآن سے ان کا مقابلہ کرکے دیکھے تو دونوں میں بہت کم فرق پائے گا۔ خلاصہ کلام : موجودہ اصطلاح میں تورات متعدد صحیفوں کے مجموعہ کا نام ہے جن میں ہر صحیفہ کسی نہ کسی نبی کے نام کی جانب منسوب ہے لیکن ان میں کسی صحیفہ کی تنزیل لفظی کا دعویٰ کسی یہودی کو بھی نہیں اسی طرح انجیل بھی متعدد صحیفوں کے مجموعہ کا نام ہے جن میں حضرت مسیح (علیہ السلام) کے متعلق مجہول الحال لوگوں کی جمع کی ہوئی حکایتیں اور ملفوظات ہیں لیکن ان میں سے کوئی صحیفہ بھی مسیحیوں کے عقیدہ میں آسمانی نہیں بلکہ مسیح صاف صاف کہتے ہیں کہ یہ مجموعہ حواریوں کے دور میں بلا ارادہ اور توقع تیار ہوگیا۔ (تفسیر ماجدی بحوالہ انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا جلد 3: ص : 513) ایسے بےسند مقدس صحیفوں کی تصدیق کی ذمہ داری قرآن ہرگز نہیں لیتا اور موجودہ بائبل یعنی عہد عتیق اور عہد جدید کا کوئی جزء بھی قرآن کے ماننے والوں پر حجت نہیں۔
Ayah 3:4

مِنْ قَبْلُ هُدًى لِّلنَّاسِ وَ اَنْزَلَ الْفُرْقَانَ١ؕ۬ اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌ١ؕ وَ اللّٰهُ عَزِیْزٌ ذُو انْتِقَامٍ Open ayah 3:4 in the Quran reader

(یعنی) لوگوں کی ہدایت کے لئے (تورات اور انجیل اتاری) اور پھر (قرآن جو حق اور باطل کو (الگ الگ کردینے والا (ہے) نازل کیا، جو لوگ خدا کی آیتوں سے انکار کرتے ہیں ان کو سخت عذاب ہوگا، اور خدا زبردست (اور بدلہ) لینے والا ہے

مَنْ قَبْلُ ھُدًی لِّلنَّاسِ ، یعنی اپنے اپنے وقت میں تورات اور انجیل بھی یقیناً لوگوں کی ہدایت کا ذریعہ تھیں وَاَنْزَلَ الفرقان، کو ددوبارہ لاکر اشارہ کردیا کہ مگر اب تورات اور انجیل کا دور ختم ہوگیا اب قرآن نازل ہوچکا ہے اب وہی فرقان حق و باطل کی پہچان ہے ھُوَ الَّذِیْ اَنْزَلَ عَلَیْکَ الْکِتَابَ مِنْہُ اٰیَاتٌ مُحْکَمَاتٌ، (الآیۃ) محکمات سے مراد وہ آیات ہیں جن میں اوامرو نواہی، احکام و مسائل اور قصص و حکایات ہیں جن کا مفہوم واضح اور اٹل ہے اور ان کے سمجھنے میں کوئی دشواری نہیں ہوتی۔ اس کے برعکس آیات متشابہات ہیں مثلاً اللہ کی ہستی، قضا و قدر کے مسائل، جنت و دوزخ، ملائکہ وغیرہ یعنی ماوراء العقل حقائق جن کی حقیقت سمجھنے سے عقل انسانی قاصر ہو یا ان میں ایسی تاویل کی گنجائش ہو یا کم از کم ایسا ابہام ہو جس سے عوام کو گمراہی میں ڈالنا ممکن ہو، اس لیے آگے کہا جا رہا ہے جن کے دلوں میں کجی ہوتی ہے وہ آیات متشابہات کے پیچھے پڑے رہتے ہیں اور ان کے ذریعہ فتنہ برپا کرتے ہیں جیسے عیسائی ہیں، قرآن نے حضرت عیسیٰ کو عبد اللہ اور نبی کہا ہے یہ واضح اور محکم بات ہے لیکن عیسائی اسے چھوڑ کر قرآن کریم میں حضرت عیسیٰ کو روح اللہ اور کلمۃ اللہ جو کہا گیا ہے اس سے اپنے گمراہ کن عقائد پر غلط استدلال کرتے ہیں یہی حال اہل بدعت کا ہے قرآن کے واضح عقائد کے برعکس اہل بدعت نے جو غلط عقائد گھڑے ہیں، وہ ان ہی متشابہات کو بنیاد بناتے ہیں۔ وَمَا یَعْلَمُ تَاْوِیْلَہٗ اِلاَّ اللہُ ، ” تاویل “ کے ایک معنی تو ہیں کسی چیز کی اصل حقیقت جاننا اس معنی کے اعتبار سے ” الا اللہ “ پر وقف ضروری ہے کیونکہ ہر چیز کی اصل حقیقت صرف اللہ ہی جانتے ہیں اور ” تاویل “ کے دوسرے معنیٰ میں کسی چیز کی تفسیر اور تعبیر وبیان و توضیح، اس اعتبار سے وقف الا کے بجائے والراسخون فی العلم پر بھی کیا جاسکتا ہے کیونکہ راسخین فی العلم بھی صحیح تفسیر و توضیح کا علم رکھتے ہیں تاویل کے یہ دونوں معنیٰ قرآن کریم کے استعمال سے ثابت ہیں۔ (ملخص از تفسیر ابن کثیر)
Ayahs 3:5–10

اِنَّ اللّٰهَ لَا یَخْفٰى عَلَیْهِ شَیْءٌ فِی الْاَرْضِ وَ لَا فِی السَّمَآءِؕ Open ayah 3:5 in the Quran reader

خدا (ایسا خبیر وبصیر ہے کہ) کوئی چیز اس سے پوشیدہ نہیں نہ زمین میں نہ آسمان میں

هُوَ الَّذِیْ یُصَوِّرُكُمْ فِی الْاَرْحَامِ كَیْفَ یَشَآءُ١ؕ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 3:6 in the Quran reader

وہی تو ہے جو (ماں کے پیٹ) جیسی چاہتا ہے تمہاری صورتیں بناتا ہے اس غالب حکمت والے کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں

هُوَ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ عَلَیْكَ الْكِتٰبَ مِنْهُ اٰیٰتٌ مُّحْكَمٰتٌ هُنَّ اُمُّ الْكِتٰبِ وَ اُخَرُ مُتَشٰبِهٰتٌ١ؕ فَاَمَّا الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ زَیْغٌ فَیَتَّبِعُوْنَ مَا تَشَابَهَ مِنْهُ ابْتِغَآءَ الْفِتْنَةِ وَ ابْتِغَآءَ تَاْوِیْلِهٖ١ؐۚ وَ مَا یَعْلَمُ تَاْوِیْلَهٗۤ اِلَّا اللّٰهُ١ؔۘ وَ الرّٰسِخُوْنَ فِی الْعِلْمِ یَقُوْلُوْنَ اٰمَنَّا بِهٖ١ۙ كُلٌّ مِّنْ عِنْدِ رَبِّنَا١ۚ وَ مَا یَذَّكَّرُ اِلَّاۤ اُولُوا الْاَلْبَابِ Open ayah 3:7 in the Quran reader

وہی تو ہے جس نے تم پر کتاب نازل کی جس کی بعض آیتیں محکم ہیں اور وہی اصل کتاب ہیں اور بعض متشابہ ہیں، تو جن لوگوں کے دلوں میں کجی ہے وہ متشابہات کا اتباع کرتے ہیں تاکہ فتنہ برپا کریں اور مراد اصلی کا پتہ لگائیں حالانکہ مراد اصلی خدا کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ اور جو لوگ علم میں دستگاہ کامل رکھتے ہیں وہ یہ کہتے ہیں کہ ہم ان پر ایمان لائے۔ یہ سب ہمارے پروردگا کی طرف سے ہیں اور نصیحت تو عقلمند ہی قبول کرتے ہیں

رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوْبَنَا بَعْدَ اِذْ هَدَیْتَنَا وَ هَبْ لَنَا مِنْ لَّدُنْكَ رَحْمَةً١ۚ اِنَّكَ اَنْتَ الْوَهَّابُ Open ayah 3:8 in the Quran reader

اے پروردگار ! جب تو نے ہمیں ہدایت بخشی ہے تو اس کے بعد ہمارے دلوں میں کجی نہ پیدا کردیجیو اور ہمیں اپنے ہاں سے نعمت عطا فرما۔ تو تو بڑا عطا فرمانے والا ہے

رَبَّنَاۤ اِنَّكَ جَامِعُ النَّاسِ لِیَوْمٍ لَّا رَیْبَ فِیْهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُخْلِفُ الْمِیْعَادَ۠ Open ayah 3:9 in the Quran reader

اے پروردگار تو اس روز جس (کے آنے) میں کچھ شک نہیں سب لوگوں کو (اپنے حضور میں) جمع کرلے گا۔ بیشک خدا خلاف وعدہ نہیں کرتا

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَنْ تُغْنِیَ عَنْهُمْ اَمْوَالُهُمْ وَ لَاۤ اَوْلَادُهُمْ مِّنَ اللّٰهِ شَیْئًا١ؕ وَ اُولٰٓئِكَ هُمْ وَ قُوْدُ النَّارِۙ Open ayah 3:10 in the Quran reader

جو لوگ کافر ہوئے (اس دن) نہ تو ان کا مال ہی خدا (کے عذاب) سے ان کو بچاسکے گا اور ان کی اولاد ہی (کچھ کام آئے گی) اور یہ لوگ آتش (جہنم) کا ایندھن ہوں گے

آیت نمبر 10 تا 20 ترجمہ : یقیناً جن لوگوں نے کفر کیا، ان کے مال اور ان کی اولاد اللہ کے مقابلہ میں ہرگز ان کے کچھ کام نہ آئیں گے (یعنی عذاب کو) رفع نہ کریں گے، اور وہی لوگ آگ کے ایندھن ہوں گے، واؤ کے فتحہ کے ساتھ، جس کے ذریعہ آگ جلائی جاتی ہے جیسا کہ معاملہ آل عمران اور ان سے قبل والوں کے ساتھ ہوا، (یعنی) سابقہ امتوں کے ساتھ جیسا کہ عاد وثمود (کے ساتھ) انہوں نے ہماری آیتوں کی تکذیب کی تو اللہ نے ان کے گناہوں کے باعث ان کی گرفت کی یعنی ان کو ہلاک کردیا اور جملہ ” کَذَُبُوْا “ الخ ماقبل کے جملہ ” کَدَأبِ اٰلِ فرعون الخ “ کی تفسیر ہے، اور اللہ بڑا سخت عذاب دینے والا ہے، اور جب آپ ﷺ غزوہ بدر سے واپس ہوئے اور یہود کو اسلام کی دعوت دی تو یہود نے آپ سے کہا کہ ناتجربہ کار اور فن قتال سے ناواقف چند قریش کو قتل کردینا آپ کو دھوکے میں نہ ڈال دے، اے محمد آپ کفر کرنے والے یہودیوں سے کہہ دیجئے کہ تم عنقریب مغلوب کئے جاؤ گے، سیغلبون، یاء اور تاء کے ساتھ تو تم اس میں داخل ہوگے، اور وہ برا ٹھکانہ، فرش ہے، بیشک تمہارے لیے یوم بدر میں دونوں فریقوں کے قتال کے لیے مقابل ہونے میں عبرت ہے (کان) فعل کو درمیان میں فصل کی وجہ سے مذکر لایا گیا ہے، ایک جماعت اللہ کی راہ میں لڑ رہی تھی اس کی اطاعت میں، اور وہ نبی ﷺ اور آپ کے اصحاب تھے، جن کی تعداد تین سو تیرہ تھی ان کے ساتھ (صرف) دو گھوڑے اور چھ زرہ اور آٹھ تلواریں تھیں ان میں کے اکثر لوگ پا پیادہ تھے۔ اور دوسری جماعت کافروں کی تھی جو ان (مسلمانوں) کو اپنے سے کئی گنا زیادہ کھلی آنکھوں سے دیکھ رہی تھی، یعنی اپنے سے زیادہ ان کی تعداد تقریباً ایک ہزار تھی، (یَرَوْنَ ) یاء اور تاء کے ساتھ ہے، اور اللہ تعالیٰ نے ان کی قلت کے باوجود مدد فرمائی، اور اللہ جس کی نصرت چاہتا ہے اپنی نصرت سے مدد کرتا ہے بلاشبہ اس مذکورہ (واقعہ) میں اہل بصیرت کے لئے بڑا سبق ہے تو تم اس سے سبق نہیں لیتے کہ ایمان لے آؤ۔ اور خوشنما کردی گئی ہے لوگوں کے لیے مرغوبات کی محبت یعنی قلب جس کی خواہش کرتا ہے۔ اور اس کی طرف بلاتا ہے اللہ تعالیٰ نے ان مرغوبات کو بطور آزمائش خوشنما بنادیا ہے یا شیطان نے (خوشنما بنادیا ہے) خواہ (وہ مرغوبات) عورتیں ہوں اور بیٹے اور اموال کثیرہ یا سونے چاندی کے لگے ہوئے ڈھیر اور نشان لگے ہوئے عمدہ گھوڑے اور مویشی یعنی اونٹ گائے اور بکری اور زراعت یہ سب دنیوی زندگی کے سامان ہیں، دنیا ہی میں ان سے نفع حاصل کیا جاتا ہے، پھر ختم ہوجاتا ہے۔ اور حُسْبِ انجام تو اللہ کے پاس ہے اور وہ جنت ہے چناچہ وہی رغبت کے لائق ہے نہ کہ اس کے علاوہ اور کچھ۔ اے محمد آپ اپنی قوم سے کہئے کیا میں ان مذکورہ (مرغوبات) سے بھی بہتر چیزیں نہ بتلاؤں ؟ ان (لوگوں) کے لیے جو کہ شرک سے ڈرتے رہتے ہیں، استفہام تقریر کے لیے ہے، ان کے پروردگار کے پاس باغات ہیں جن کے نیچے بڑی نہریں بہہ رہی ہیں، ان میں وہ ہمیشہ رہیں گے یعنی ان کے لیے ہمیشہ رہنا مقدر کردیا گیا ہے، اور وہ ہے جنت اس میں داخل ہوجائیں گے (عند ربّھم) مبتداء ہے، اور (جنّٰتٍ تجری) اس کی خبر ہے، اور حیض وغیرہ (مثلا بول و براز) سے کراہت ہوتی ہے صاف ستھری بیویاں ہوں گے، اور اللہ کو خوشنودی ہوگی، (رِضْوانٌ) راء کے کسرہ اور ضمہ کے ساتھ۔ یہ دو لغت ہیں، یعنی بڑی رضامندی، اللہ اپنے بندوں پر نظر رکھے ہوئے ہے، ان میں سے ہر ایک کو ان کی جزاء دے گا، (یہ وہ لوگ ہیں) جو کہتے رہتے ہیں (اَلَّذِیْنَ ) یہ سابق اَلَّذِیْنَ کی صفت یا بدل ہے، اے ہمارے پروردگار ہم ایمان لائے یعنی ہم نے تیری اور تیرے رسول کی تصدیق کی، سو تو ہمارے گناہ بخش دے اور ہمیں دوزخ کی آگ سے بچا، یہ طاعت پر اور معصیت سے صبر کرنے والے ہیں۔ (یہ بھی) صفت ہے، اور ایمان میں سچے ہیں اور اللہ کے لیے عاجزی کرنے والے ہیں، اور صدقہ کرنے والے ہیں اور صبح کے وقت، یا پچھلے پہر رات میں ” الَلّٰھُمَّ اغفرلنا “ کہتے ہوئے اللہ سے مغفرت مانگنے والے ہیں اور وقت سحر کی تخصیص اس وجہ سے ہے کہ وہ غفلت اور نیند کی لذت کا وقت ہے، اللہ نے اپنی مخلوق کے لیے دلائل اور آیات کے ذریعہ (عقلی و نقلی دلائل کے ذریعہ) بیان فرما دیا کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں یعنی کوئی معبود برحق موجود نہیں، اور ملائکہ نے بھی اقرار کرکے یہی گواہی دی ہے اور اہل علم نے کہ وہ انبیاء اور مومنین ہیں جنہوں نے اعتقاد کے ذریعہ (دل سے) گواہی دی ہے اور زبان سے تلفظ (اقرار) کر کے، اور وہ عدل سے انصاف قائم رکھنے والا ہے، یعنی اپنی مخلوقات کی تدبیر کرنے والا ہے (اور) قائما، حال ہونے کی وجہ سے منصوب ہے، اور عامل اس میں جملہ کے معنیٰ ہیں۔ ای تَفَرَّدَ (یعنی لا الہ الا ھو، تَفَرَّدَ کے معنیٰ میں ہے) بجز اس کے کوئی معبود نہیں تاکیدًا اس کو مکرر لایا گیا ہے، وہ اپنے ملک میں زبردست ہے، اور اپنی صنعت میں باحکمت ہے یقیناً پسندیدہ دین تو اللہ کے نزدیک السلام ہی ہے یعنی وہ شریعت کہ جس کو لیکر رسول مبعوث ہوئے جن کا مدار توحید پر ہے، اور ایک قراءت میں اَنَّ کے فتحہ کے ساتھ اَنّہٗ الخ سے بدل الاشتمال ہے اور اہل کتاب یہود و نصاریٰ نے توحید کا علم آجانے کے بعد جو اختلاف کیا کہ بعض توحید کے قائل ہوئے اور بعض منکر محض کافروں کی جانب سے آپسی ضد کی وجہ سے کیا، اور جو اللہ کی آیتوں کا انکار کرے گا اللہ بلاشبہ جلدی حساب لینے والا ہے، یعنی اس کو جزاء دینے والا ہے سوائے محمد ﷺ اگر یہ کافر آپ سے دین میں حجت کریں تو آپ ان سے کہہ دیجئے کہ میں اور جس نے میری اتباع کی تو رخ اللہ کی طرف کرچکا ہوں (یعنی) اس کا فرمانبردار ہوچکا ہوں، اور چہرہ کی تخصیص اس کے افضل ہونے کی وجہ سے ہے۔ تو اس کا غیر تو بطریق اولیٰ فرمانبردار ہوگا، اور آپ اہل کتاب یہود و نصاریٰ اور ناخواندہ مشرکین عرب سے دریافت کیجئے کہ کیا تم اسلام لاتے ہو ؟ یعنی اسلام لے آؤ، سو اگر اسلام لے آئے تو وہ گمراہی سے راہ ہدایت پر آگئے اور اگر انہوں نے اسلام سے اعراض کیا تو آپ کے ذمہ صرف پیغام پہنچا دینا ہے، اور اللہ اپنے بندوں پر نظر رکھنے والا ہے لہٰذا وہ ان کو ان کے اعمال کی جزاء دے گا، اور یہ حکم جہاد کے حکم سے پہلے کا ہے۔ تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد قولہ : وَقُودُ ، واؤ کے فتحہ کے ساتھ ایندھن اسم ہے واؤ کے خمہ کے ساتھ مصدر ہے، مصدر کا حمل ذوات پر چونکہ درست نہیں ہے اس لیے مفتوح الواؤ کو اسم قرار دیا گیا تاکہ حمل درست ہوسکے۔ قولہ : دَأبُھُمْ ، یہ لفظ محذوف مان کر اشارہ کردیا کہ کَدَأبِ فرعونَ مبتداء محذوف کی خبر ہو کر جملہ مستانفہ ہے اس کا تعلق نہ لن تغنی سے ہے اور نہ وقود النار، سے جیسا کہ کہا گیا ہے۔ دأبٌ بمعنی عادت، حال دأبٌ (ف) سے مصدر ہے لگاتار کسی کام میں لگنا اسی وجہ سے اس کے معنی عادت کے ہیں۔ قولہ : الجملۃ مفسرۃ مفسر علام نے مذکورہ عبارت مقدر مان کر اشادہ کردیا کہ کذّبُوا بآیاتِنَا، جملہ حالیہ نہیں ہے اس لیے کہ ماضی کے حال واقع ہونے کے لیے ” قد “ ضروری ہوتا ہے بلکہ یہ جملہ، سابقہ جملہ کی تفسیر ہے یہی وجہ ہے کہ دونوں جملوں کے درمیان واؤ نہیں لائے۔ قولہ : اعمار، غمرٌ کی جمع ہے ناتجربہ کار جاہل۔ قولہ : ذُکِّرَ الفعل للفصل یہ ایک سوال مقدر کا جواب ہے۔ سوال : آیۃٌ، کان کا اسم ہے اور فعل کو مذکر لایا گیا ہے حالانکہ کانَتْ لانا چاہیے تھا تاکہ فعل اور اسم میں موافقت ہوجاتی۔ جواب : فعل اور اس کے اسم میں جب فصل واقع ہوجائے تو موافقت ضروری نہیں ہوتی، یہاں لَکُمْ ، کا فصل واقع ہے۔ قولہ : اَلْفِئَۃُ جماعت، لفظوں میں اس کا واحد مستعمل نہیں ہے اس کی جمع فئات ہے۔ قولہ : المذکور، ایک سوال کا جواب ہے۔ سوال : ذٰلِکَ کا مشارٌ الیہ التقلیل والتکثیر ہے، اسم اشارہ اور مرجع میں مطابقت نہیں ہے۔ جواب : التقلیل والتکثیر بمعنی المذکور ہے لہٰذا مطابقت موجود ہے۔ قولہ : مَاتَشتھِیْہِ اس میں اشارہ ہے کہ شہوات، مصدر مبالغۃ بمعنی مفعول کے ہے، کقولہ احببت حبَّ الخیر میں۔ قولہ : نعتٌ اور بدلٌ مِن الَّذِیْنَ قَبْلَہٗ اس اضافہ کا مقصد اس اعتراض کا دفاع ہے کہ العباد جو کہ قریب ہے، سے بدل یا نعت ہو اس کو دفع کردیا کہ یہ اتقوا سے بدل یا نعت ہے نہ کہ العباد سے۔ قولہ : یا ربّنا، یا مقدر مان کر اشارہ کردیا کہ رَبَّنَا، یا کے مقدر ہونے کی وجہ سے منصوب ہے۔ قولہ : نعتٌ یعنی جس طرح الذِیْنَ اتقوا سے نعت ہے یہ اتقوا بھی نعت ہے۔ قولہ : نَصْبُہٗ علی الحال، یعنی قائماً ھُوْ سے حال ہے نہ کہ اِلہٌ، کی صفت ہونے کی وجہ سے اس لئے کہ صفت اور موصوف کے درمیان فصل بالاجنبی واقع ہے۔ قولہ : والفاعل فیہا معنی الجملۃ، ای تَفَرَّدَ یہ دراصل سوال مقدر کا جواب ہے۔ سوال : سوال یہ ہے کہ قائماً اگر معطوف اور معطوف علیہ کے مجموعہ سے حال ہے تو اس صورت میں حمل درست نہ ہوگا اور اگر فقط، لفظ اللہ، سے حال ہو تو یہ بھی جائز نہیں ہے جیسا کہ جاء زیدٌ و عمروراکباً اس وقت حال کا کوئی عامل نہ رہے گا۔ جواب : یہ دیا کہ جملہ ” لا اِلٰہَ اِلاَّ ھو “ معنی میں تَفَرَّدَ کے ہے، اس لیے کہ استثناء نفی کے بعد تفرد کا فائدہ دیتا ہے۔ اللغۃ والبلاغۃ الِاحتباک، دو کلاموں میں حذف ہو اور اول کلام سے وہ حذف کردیا جائے جو ثانی سے مفہوم ہو اور ثانی سے وہ حذف کردیا جائے جو اول سے مفہوم ہو۔ فِئۃٌ تُقَاتِلُ فی سبیل اللہ واخریٰ کافِرَۃٌ۔ اس میں صنعت احتباک ہے، تقدیر عبارت یہ ہے، فِئۃٌ مؤمِنَۃٌ تقاتِلُ فِی سَبِیْلِ اللہ وَفِئْۃٌ اُخْرٰی کافِرَۃٌ فِی سِبِیْلِ الشَّیْطَانِ ، فِئْۃٌ تقاتلُ فی سبیل اللہ یہ اول کلام ہے اور اخریٰ کافرۃٌ یہ ثانی کلام ہے ثانی کلام میں کافِرَۃٌ کے لفظ سے مؤمنۃ مفہوم ہے لہٰذا اس کو اول کلام سے حذف کردیا اور اول کلام میں تقاتل فی سبیل اللہ مذکور ہے اسی سے تقاتل فی سبیل الشیطان مفہوم ہے لہٰذا اس کو ثانی کلام میں حذف کردیا گیا۔ قولہ : اَلْقَنطَرۃ، یہ قنطارٌ کی جمع ہے مال کثیر، ڈھیر کو کہتے ہیں۔ قولہ : المُسَوَّمَۃ عمدہ گھوڑا، علامت لگایا ہوا گھوڑا۔ قولہ : مَآبِ مصدر بھی ہوسکتا ہے اور اسم مکان و اسم زمان بھی، یہ اصل میں (ن) مَاْوَبٌ بروزن مَفْعَلٌ تھا، واؤ کی حرکت نقل کرکے ہمزہ کو دیدی واؤ کو الف سے بدل دیا مَآبٌ ہوگیا لوٹنے کہ جگہ یا زمانہ۔ قولہ : زُیِّنَ لِلنَّاسِ حُبُّ الشَھَوَاتِ مِنَ النِّسَآءِ ، (الآیۃ) اس آیت میں صنعت مراعاۃ النظیر ہے۔ مَرَاعَاۃُ النظیر : اس کو صنعت تناسب اور توفیق بھی کہتے ہیں۔ مراعَاۃُ النظیر : یہ ہے کہ ایسے دو یا زیادہ امور کو ایک جگہ جمع کردیں جو ایک دوسرے کے مناسب ہوں، لیکن یہ مناسبت تضاد کی نہ ہو، ورنہ یہ صنعت طباق ہوجائے گی مذکورہ آیت میں متعدد ایسی چیزوں کو جمع کر سیا ہے جن میں مناسبت ہے، مگر یہ مناسبت تضاد نہیں ہے، اردو میں جیسے اس شعر میں ہے۔ چمن کے تخت پر جس دن شہ گل کا تجمل تھا ہزاروں بلبلوں کی فوج تھی اور شور تھا غل تھا خزاں کے دن جو دیکھا کچھ نہ تھا جزخار، گلشن میں بتاتا باغباں رو رو کے یاں غنچہ یہاں گل تھا ان دو شعروں میں چمن کے مناسب بہت سے الفاظ شاعر نے جمع کر دئیے ہیں۔
Ayahs 3:11–12

كَدَاْبِ اٰلِ فِرْعَوْنَ١ۙ وَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا١ۚ فَاَخَذَهُمُ اللّٰهُ بِذُنُوْبِهِمْ١ؕ وَ اللّٰهُ شَدِیْدُ الْعِقَابِ Open ayah 3:11 in the Quran reader

ان کا حال بھی فرعونیوں اور ان سے پہلے لوگوں کا سا ہوگا، جنہوں نے ہماری آیتوں کی تکذیب کی تھی تو خدا نے ان کو ان کے گناہوں کے سبب عذاب میں پکڑ لیا تھا اور خدا سخت عذاب کرنے والا ہے

قُلْ لِّلَّذِیْنَ كَفَرُوْا سَتُغْلَبُوْنَ وَ تُحْشَرُوْنَ اِلٰى جَهَنَّمَ١ؕ وَ بِئْسَ الْمِهَادُ Open ayah 3:12 in the Quran reader

(اے پیغمبر ﷺ ! ) کافروں سے کہہ دو کہ تم (دنیا میں بھی) عنقریب مغلوب ہوجاؤ گے اور (آخرت میں) جہنم کی طرف ہانکے جاؤ گے اور وہ بری جگہ ہے

تفسیر و تشریح قُلْ لِّلَّذِیْنَ کَفَرُوْا (الآیۃ) ممکن ہے کہ کوئی اس آیت میں یہ شبہ کرے کہ آیت سے تو معلوم ہوتا ہے کہ کفار مغلوب ہوں گے، حالانکہ دنیا کے سب کفار مغلوب نہیں ہیں لیکن یہ سبہ اس لیے نہیں ہوسکتا کہ یہاں کفار سے تمام دنیا کے کفار مراد نہیں ہیں بلکہ اس وقت کے مشرکین اور یہود مراد ہیں، چناچہ مشرکین کو قتل و قید اور یہود کو قتل و قید اور جزیہ اور جلاوطنی کے ذریعہ مغلوب کردیا گیا تھا، چناچہ بنو قینقاع اور بنو نضیر جلاوطن کئے گئے، بنو قریظہ قتل کئے گئے اور فتح خیبر کے بعد تمام یہودیوں پر جزیہ عائد کردیا گیا
Ayah 3:13

قَدْ كَانَ لَكُمْ اٰیَةٌ فِیْ فِئَتَیْنِ الْتَقَتَا١ؕ فِئَةٌ تُقَاتِلُ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ اُخْرٰى كَافِرَةٌ یَّرَوْنَهُمْ مِّثْلَیْهِمْ رَاْیَ الْعَیْنِ١ؕ وَ اللّٰهُ یُؤَیِّدُ بِنَصْرِهٖ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَعِبْرَةً لِّاُولِی الْاَبْصَارِ Open ayah 3:13 in the Quran reader

تمہارے لیے دو گروہوں میں (جنگ بدر کے دن) آپس میں بھڑگئے (قدرت خدا کی عظیم الشان) نشانی تھی، ایک گروہ (مسلمانوں کا تھا وہ) خدا کی راہ میں لڑرہا تھا اور دوسرا گروہ (کافروں کا تھا وہ) ان کو اپنی آنکھوں سے دگنا مشاہدہ کر رہا تھا اور خدا اپنی نصرت سے جس کو چاہتا ہے مدد دیتا ہے، جو اہل بصارت ہیں ان کے لئے اس (واقعے) میں بڑی عبرت ہے

قَدْ کَانَ لَکُمْ آیَۃٌ فِیْ فِئَتَیْنِ (الآیۃ) اس آیت میں جنگ بدر کی کیفیت کو بیان کیا گیا ہے جس میں کفار تقریباً ایک ہزار تھے جن کے پاس سات سو اونٹ اور ایک سو گھوڑے تھے، اور دوسری طرف مسلمان مجاہدین تین سو سے کچھ زائد تھے جن کے پاس ستر اونٹ اور دو گھوڑے اور چھ زر ہیں اور آٹھ تلواریں تھیں، اور تماشہ یہ تھا کہ ہر فریق کو حریف مقابل اپنے سے دوگنا نظر آتا تھا، جس کا نتیجہ یہ تھا کہ کفار دل میں مسلمانوں کی کثرت کا تصور کرکے مرعوب ہو رہے تھے، اور مسلمان اپنے سے دوگنی تعداد دیکھ کر اور زیادہ حق کی طرف متوجہ ہو رہے تھے، کافروں کی پوری تعداد جو مسلمانوں کی تعداد کی تین گنی تھی منکشف ہوجاتی تو ممکن تھا کہ مسلمانوں پر خوف طاری ہوجاتا اس لیے کہ مسلمانوں کو دو گنوں پر تو ” اِنْ یَّکُنْ مِّنْکُمْ مِأْۃٌ صَابِرُۃٌ یَّغْلِبُوْا مِأَتِیْنِ “ میں غلبہ کی پیش گوئی کردی گئی تھی اور خدا کا وعدہ تھا مگر تین گنے پر فتح کا وعدہ نہیں تھا، اور فریقین کا دوگنی تعداد دیکھنا بعض احوال میں تھا۔
Ayah 3:14

زُیِّنَ لِلنَّاسِ حُبُّ الشَّهَوٰتِ مِنَ النِّسَآءِ وَ الْبَنِیْنَ وَ الْقَنَاطِیْرِ الْمُقَنْطَرَةِ مِنَ الذَّهَبِ وَ الْفِضَّةِ وَ الْخَیْلِ الْمُسَوَّمَةِ وَ الْاَنْعَامِ وَ الْحَرْثِ١ؕ ذٰلِكَ مَتَاعُ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۚ وَ اللّٰهُ عِنْدَهٗ حُسْنُ الْمَاٰبِ Open ayah 3:14 in the Quran reader

لوگوں کو ان کی خواہشوں کی چیزیں یعنی عورتیں اور بیٹے اور سونے چاندی کے بڑے بڑے ڈھیر اور نشان لگے ہوئے گھوڑے اور مویشی اور کھیتی بڑی زینت دار معلوم ہوتی ہیں (مگر) یہ سب دنیا ہی کی زندگی کے سامان ہیں، اور خدا کے پاس بہت اچھا ٹھکانہ ہے

زُیْنَ لِلنَّاسِ حُبُّ الشَّھَوَاتِ (الآیۃ) ان ہی چیزوں کی محبت اکثر افراد میں حدود جائز سے تجاوز کرکے معصیت کا سبب بن جاتی ہے شہوات سے یہاں مراد مشتہات ہیں یعنی وہ چیزیں جو طبعی طور پر انسان کو مرغوب اور پسندیدہ ہیں اس لیے ان کی رغبت و محبت ناپسندیدہ نہیں بشرطیکہ اعتدال کے اندر اور شریعت کے دائرے میں رہے ان کی تزیین بھی اللہ کی طرف سے آزمائش ہے۔
Ayahs 3:15–17

قُلْ اَؤُنَبِّئُكُمْ بِخَیْرٍ مِّنْ ذٰلِكُمْ١ؕ لِلَّذِیْنَ اتَّقَوْا عِنْدَ رَبِّهِمْ جَنّٰتٌ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا وَ اَزْوَاجٌ مُّطَهَّرَةٌ وَّ رِضْوَانٌ مِّنَ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ بَصِیْرٌۢ بِالْعِبَادِۚ Open ayah 3:15 in the Quran reader

(اے پیغمبر ! ان سے کہو) کہ بھلا میں تم کو ایسی چیز بتاؤں جو ان چیزوں سے کہیں اچھی ہو ؟ (سنو) جو لوگ پرہیزگار ہیں ان کے لئے خدا کے ہاں باغاتِ (بہشت) ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں ان میں وہ ہمیشہ رہیں گے اور پاکیزہ عورتیں ہیں اور (سب سے بڑھ کر) خدا کی خوشنودی اور خدا (اپنے نیک) بندوں کو دیکھ رہا ہے

اَلَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَاۤ اِنَّنَاۤ اٰمَنَّا فَاغْفِرْ لَنَا ذُنُوْبَنَا وَ قِنَا عَذَابَ النَّارِۚ Open ayah 3:16 in the Quran reader

جو خدا سے التجا کرتے ہیں کہ اے پروردگار ہم ایمان لے آئے سو ہم کو ہمارے گناہ معاف فرما اور دوزخ کے عذاب سے محفوظ رکھ

اَلصّٰبِرِیْنَ وَ الصّٰدِقِیْنَ وَ الْقٰنِتِیْنَ وَ الْمُنْفِقِیْنَ وَ الْمُسْتَغْفِرِیْنَ بِالْاَسْحَارِ Open ayah 3:17 in the Quran reader

یہ وہ لوگ ہیں جو (مشکلات میں) صبر کرتے اور سچ بولتے اور عبادت میں لگے رہتے اور (راہ خدا میں) خرچ کرتے اور اوقات سحر میں گناہوں کی معافی مانگا کرتے ہیں

وَالْمُسْتَغْفِرِیْنَ بِالْاَسْحَارِ ، آخر شب کی خصوصیت اس لیے ہے کہ وہ وقت خاص طور پر دل جمعی اور روحانی قویٰ کی بیداری و بالیدگی کا ہوتا ہے اور نفس پر اس وقت کا اٹھنا شاق بھی گزرتا ہے یہ مطلب نہیں کہ استغفار بجز سحر کے وقت کے دوسرے وقت میں نہیں ہوسکتا۔ اَلصَّابِرِیْنَ وَالصَّادِقِیْنَ یعنی صبر کرنے والے، امام رازی نے لکھا ہے کہ فعل کے صیغے کے بجائے اسم فاعل کا صیغہ اس لیے لائے ہیں کہ ان سے اشخاص کی یہ عام اور مستقل عادت ظاہر ہو۔
Ayah 3:18

شَهِدَ اللّٰهُ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۙ وَ الْمَلٰٓئِكَةُ وَ اُولُوا الْعِلْمِ قَآئِمًۢا بِالْقِسْطِ١ؕ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُؕ Open ayah 3:18 in the Quran reader

خدا تو اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں اور فرشتے اور علم والے لوگ جو انصاف پر قائم ہیں وہ بھی (گواہی دیتے ہیں کہ اس غالب حکمت والے کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں

شَھِدَ اللہُ اَنَّہُ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ (الآیۃ) شہادت کے معنیٰ بیان کرنے اور آگاہ کرنے کے ہیں یعنی اللہ تعالیٰ نے جو کچھ پیدا کیا اور بیان کیا اس کے ذریعہ سے اس نے اپنی وحدانیت کی طرف ہماری رہنمائی فرمائی ہے۔ فرشتہ اور اہل علم بھی اس کی توحید کی گواہی دیتے ہیں اس میں اہل علم کی بڑی فضیلت اور عظمت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے اور فرشتوں کے ناموں کے ساتھ اہل علم کا بھی ذکر فرمایا ہے تاہم اس سے مراد صرف وہ اہل علم ہیں جو کتاب و سنت کے علم سے بہرہ ور ہوں۔
Ayah 3:19

اِنَّ الدِّیْنَ عِنْدَ اللّٰهِ الْاِسْلَامُ١۫ وَ مَا اخْتَلَفَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ اِلَّا مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَهُمُ الْعِلْمُ بَغْیًۢا بَیْنَهُمْ١ؕ وَ مَنْ یَّكْفُرْ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ فَاِنَّ اللّٰهَ سَرِیْعُ الْحِسَابِ Open ayah 3:19 in the Quran reader

دین تو خدا کے نزدیک اسلام ہے اور اہل کتاب نے جو (اس دین سے) اختلاف کیا تو علم حاصل ہونے کے بعد آپس کی ضد سے کیا۔ اور جو شخص خدا کی آیتوں کو نہ مانے تو خدا جلد حساب لینے والا (اور سزا دینے والا) ہے

اِنَّ الدِّیْنَ عِنْدَ اللہِ الْاِسْلَامَ ، اسلام وہی دین ہے جس کی دعوت وتعلیم ہر پیغمبر اپنے اپنے دور میں دیتے رہے ہیں اور اب اس کی کامل ترین شکل وہ ہے جسے پیغمبر آخر الزمان حضرت محمد ﷺ نے دنیا کے سامنے پیش کیا، جس میں توحید، رسالت اور آخرت پر اسی طرح یقین و ایمان رکھنا ضروری ہے جس طرح نبی کریم ﷺ نے بتلایا ہے۔ اب محض یہ عقیدہ رکھ لینا کہ اللہ ایک ہے اور کچھ نیک اعمال کرلینا اسلام نہیں نہ اس سے نجات حاصل ہوگی۔
Ayahs 3:20–21

فَاِنْ حَآجُّوْكَ فَقُلْ اَسْلَمْتُ وَجْهِیَ لِلّٰهِ وَ مَنِ اتَّبَعَنِ١ؕ وَ قُلْ لِّلَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ وَ الْاُمِّیّٖنَ ءَاَسْلَمْتُمْ١ؕ فَاِنْ اَسْلَمُوْا فَقَدِ اهْتَدَوْا١ۚ وَ اِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّمَا عَلَیْكَ الْبَلٰغُ١ؕ وَ اللّٰهُ بَصِیْرٌۢ بِالْعِبَادِ۠ Open ayah 3:20 in the Quran reader

(اے پیغمبر) اگر یہ لوگ تم سے جھگڑنے لگیں تو کہنا میں اور میرے پیرو تو خدا کے فرمانبردار ہوچکے اور اہل کتاب اور ان پڑھ لوگوں سے کہو کہ کیا تم بھی (خدا کے فرمانبردار بنتے اور) اسلام لاتے ہو ؟ اگر یہ لوگ اسلام لے آئیں تو بیشک ہدایت پالیں اور اگر (تمہارا کہا) نہ مان لیں تو تمہارا کام صرف خدا کا پیغام پہنچادینا ہے اور خدا (اپنے) بندوں کو دیکھ رہا ہے

اِنَّ الَّذِیْنَ یَكْفُرُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ یَقْتُلُوْنَ النَّبِیّٖنَ بِغَیْرِ حَقٍّ١ۙ وَّ یَقْتُلُوْنَ الَّذِیْنَ یَاْمُرُوْنَ بِالْقِسْطِ مِنَ النَّاسِ١ۙ فَبَشِّرْهُمْ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍ Open ayah 3:21 in the Quran reader

جو لوگ خدا کی آیتوں کو نہیں مانتے اور انبیاء کو ناحق قتل کرتے رہے ہیں اور جو انصاف (کرنے) کا حکم دیتے ہیں انہیں بھی مار ڈالتے ہیں ان کو دکھ دینے والے عذاب کی خوشخبری سنادو

آیت نمبر 21 تا 30 ترجمہ : جو لوگ اللہ کی آیتوں کا انکار کرتے ہیں اور نبیوں کو ناحق قتل کر ڈالتے ہیں اور ایک قراءت میں ” یُقَاتِلُوْنَ “ ہے اور ان لوگوں کو جو انصاف کا حکم دیتے ہیں مار ڈالتے ہیں، اور وہ یہود ہیں، روایت کیا گیا ہے کہ انہوں نے تینتالیس نبیوں کا قتل کیا ہے، ان کو ایک سو ستر بنی اسرائیل کے عابدوں نے منع کیا تو ان کو بھی اسی دن قتل کردیا، انہیں دردناک عذاب کی خوشخبری دیدیجئے (بجائے خبر کے) خوشخبری کا ذکر ان کے ساتھ مذاق کے طور پر ہے اور اِنَّ کی خبر ہے فاء داخل ہوئی ہے اس کے اسم موصول کے شرط کے ساتھ مشابہ ہونے کی وجہ سے، یہی وہ لوگ ہیں کہ جن کے اعمال دنیا و آخرت میں (یعنی) صدقہ اور صلہ رحمی کے طور ہر انہوں نے جو اعمال کئے وہ سب اکارت ہوگئے لہٰذا شرط نہ پائی جانے کی وجہ سے وہ کسی شمار میں نہیں اور ان کا کوئی مددگار نہ ہوگا (یعنی) ان کو عذاب سے بچانے والا نہ ہوگا۔ کیا آپ نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جنہیں کتاب تورات کا ایک حصہ دیا گیا تھا ان کو بلایا جاتا ہے (یُدْعَوْنَ ، اَلَّذِیْنَ ) سے حال ہے تاکہ وہ کتاب ان کے درمیان فیصلہ کرے پھر ان میں سے ایک فریق بےرخی کرتے ہوئے اس کا حکم قبول کرنے سے منہ پھیر لیتا ہے۔ (آئندہ آیت) یہود کے بارے میں نازل ہوئی جب کہ ان میں سے دو شخصوں نے زنا کیا تو وہ اپنا مقدمہ آپ ﷺ کی خدمت میں لے گئے تو آپ نے ان پر رجم کا فیصلہ فرمایا، تو انہوں نے ماننے سے انکار کردیا، تو تورات لائی گئی تو اس میں رجم کا حکم پایا گیا۔ چناچہ ان دونوں کو رجم کردیا گیا، تو یہود ناراض ہوگئے، یہ اعراض اور روگردانی اس وجہ سے تھی کہ ان کا کہنا تھا کہ ہم کو آگ چند دن چھوئے گی جو کہ چالیس دن ہیں اور یہ وہ مدت ہے کہ جس میں ان کے آباء نے گائے پرستی کی تھی، پھر ان سے زائل ہوجائے گی (یعنی نجات پاجائیں گے) اور ان کو ان کے دین کے بارے میں ان کے تراشے ہوئے قول ” لَنْ تمَسَّنَا النَّارُ “ نے دھوکے میں ڈال دیا تھا، فی دینھم کا تعلق ما کانوا یفترون سے ہے، تو ان کا کیا حال ہوگا ؟ جب ہم ان کو اس دن میں جمع کریں گے کہ جس کے آنے میں ذرا شک نہیں ہے، وہ قیامت کا دن ہے۔ اور ہر شخص کو خواہ اہل کتاب سے ہو یا غیر اہل کتاب سے، ان کے اچھے برے اعمال کی پوری پوری جزاء دی جائے گی اور لوگوں پر ظلم نہ کیا جائے گا نیکیوں میں کمی کرکے اور برائیوں میں اضافہ کرکے۔ اور جب آپ ﷺ نے اپنی امت سے ملک فارس اور روم کے فتح ہونے کی پیشین گوئی فرمائی تو منافقوں نے کہا یہ بات بہت بعید ہے آپ کہیے اے سارے جہانوں کے مالک اللّٰھم بمعنیٰ یا اللہ تو اپنی مخلوق میں سے جس کو چاہے ملک عطاء کرے اور جس سے چاہے چھین لے اور جس کو چاہے ملک دے کر عزت دے اور جس کو چاہے چھین کر ذلت دے تیرے ہی قبضہ قدرت میں خیر و شر ہے، بلا شبہ تو ہی ہر شیئ پر قادر ہے، رات کو دن اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے ہر ایک میں سے جو مقدار کم ہوتی ہے وہ دوسرے میں زائد ہوجاتی ہے اور تو جاندار کو بےجان سے مثلاً انسان اور پرندے کو نطفہ اور انڈے سے اور بےجان کو مثلاً نطفہ اور انڈے کو جاندار سے نکالتا ہے اور تو جسے چاہتا ہے بےحساب رزق دیتا ہے یعنی وسعت کے ساتھ رزق دیتا ہے، مومنوں کو چاہیے کہ کافروں کو دوست نہ بنائیں کہ مومنین کو چھوڑ کر ان سے محبت کرنے لگیں۔ اور جو شخص ایسا کرے گا یعنی ان سے (دلی) دوستی کرے گا تو وہ اللہ کے دین کے بارے میں کسی شمار میں نہیں مگر ایسی صورت میں کہ تم ان سے اندیشہ (ضرر) رکھتے ہو تُقٰۃ، تقیۃ، کا مصدر ہے، یعنی اگر تم ان سے کسی قسم کے ضرر کا خوف رکھتے ہو تو تم کو ان سے زبانی دوستی کی اجازت ہے نہ کہ دلی دوستی کی، اور یہ حکم اسلام کے غلبہ سے قبل کا ہے، اور مذکورہ حکم اس کے لیے بھی ہے جو کسی ایسے شہر میں ہو کہ اسلام اس میں میں قوی نہیں ہے، اور اللہ تم کو اپنی ذات سے ڈراتا ہے یہ کہ وہ تم سے ناراض ہوگا اگر تم ان سے (دلی) دوستی کرو گے اور اللہ کی طرف آنا ہے، تو وہ تم کو جزا دے گا، آپ ان سے کہہ دیجئے کہ ان کی دوستی جو تمہارے دلوں میں ہے خواہ اس کو چھپاؤ یا اس کو ظاہر کرو اللہ اس کو جانتا ہے اور جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے (سب کو) جانتا ہے، اور اللہ ہر شئ پر قادر ہے، اور ان ہی میں سے کافروں سے دوستی کرنے والے کو سزا دینا بھی ہے، جس دن ہر شخص اپنے نیک و بد اعمال کو موجود پائے گا (ما عملت مِن سوءٍ ) مبتداء خبر ہیں۔ وہ تمنا کرے گا کہ کاش اس کے اور اس (قیامت کے) دن کے درمیان مسافت بعید ہوتی کہ وہ اس تک نہ پہنچ سکتا، اور اللہ تم کو اپنی ذات سے ڈراتا ہے تاکید کے لیے مکرر لائے ہیں اور اللہ اپنے بندوں پر بڑا شفقت کرنے و الا ہے۔ تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد قولہ : وَفِیْ قِرَاء ۃِ یُقَاتِلُوْنَ ، بہتر ہوتا کہ مفسر علام اس اختلاف کو بعد والے یَقْتُلُوْنَ الَّذِیْنَ کے بعد، ذکر کرتے، اس لیے کہ مذکورہ اختلاف ثانی یَقْتُلُوْنَ میں ہے نہ کہ اول میں۔ (جمل) قولہ : یُدْعَوْنَ ، حَالٌ، یُدْعَوْنَ ، اَلَّذِیْنَ سے حال ہے نہ کہ صفت اس لیے کہ جملہ، معرفہ کی صفت نہیں ہوسکتا۔ قولہ : ای الناس الناس کے اضافہ کا مقصد ایک سوال کا جواب ہے۔ سوال : ھُمْ ، ضمیر نَفْسٌ، کی طرف راجع ہے جو کہ مونث سماعی ہے لہٰذا مرجع و ضمیر میں مطابقت نہیں ہے۔ جواب : ھم ضمیر الناس کی طرف راجع ہے جو کہ نفس سے مفہوم ہے۔ قولہ : یا اللہ، اَللّٰھُمَّ ، کی تفسیر یا اللہ سے کرکے اشارہ کردیا کہ اللّٰھُمَّ میں الف لام، یا حرف ندا کے عوض میں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ لفظ اللہ پر دونوں بیک وقت داخل نہیں ہوتے۔ قولہ : رزقًا واسعاً ، یہ اس سوال کا جواب ہے کہ کوئی بھی رزق غیر معلوم الحساب (بےشمار) نہیں ہے خاص طور ہر اس لیے کہ اللہ کے علم میں ہر چیز معلوم و محسوس ہے، تو اس کا جواب دیا ہے بغیر حساب سے مراد وسیع اور کثیر ہے۔ قولہ : یُوَالُوْنَھُمْ ، اس میں اشارہ کہ اَوْلِیاء، ولی بمعنی محبت سے ماخوذ ہے نہ کہ بمعنی استعانت سے۔ قولہ : تُقٰۃً (تُقَاۃ) یہ تَقْیۃٌ کا مصدر مفعول مطلق ہے بچنا حفاظت کرنا۔ تُقٰۃٌ اصل میں وُقْیَۃ واؤ کو تاء سے بدلا اور یاء کو الف سے اور تاء کو حذف واؤ پر دلالت کرنے کے لیے ضمہ دیدیا۔ (اعراب القرآن متصرفا) قولہ : اَنْ یَغْضَبَ عَلَیْکُمْ ۔ اس میں حذف مضاف کی طرف اشارہ ہے یُحَذِّرُکُمُ اللہُ نَفْسَہٗ ای غضب نفسہٖ یہ ان لوگوں پر رد ہے جنہوں نے تقٰۃ کو مفعول قرار دیا ہے، اس لیے کہ مفعول مجاز ہے اور مجاز بلا ضرورت جائز نہیں اور یہاں کوئی ضرورت نہیں۔ قولہ ؛ مبتداء خبرہ تَوَدُّ ، اس میں اس طرف اشارہ ہے کہ وَمَا عَمِلَتْ کا عطف تجد کے معمول پر نہیں ہے بلکہ مبتداء ہے اور اس کی خبر یَوَدُّ ہے اس لیے کہ اس صورت میں تَوَدُّ عملت کی ضمیر سے حال ہوگا اور عدم معاونت کی وجہ سے حال واقع ہونا صحیح نہیں ہے۔ اللغۃ والبلاغۃ فَبَشِّرْھُمْ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍ ، اس میں استعارہ تبعیہ ہے، اخبار بالعذاب کو بشارت سے تشبیہ دی ہے مشبہ بہ کو مشبہ کے لیے مستعار لیا ہے پھر بشارۃ سے بَشِّرْ مشتق کیا۔ تخرج الحیّ مِنَ المیت وتخرج المیتَ من الحیّ ۔ اس آیت میں استعارہ تصریحیہ ہے جب کہ حی ومیت سے مسلم و کافر مراد ہیں، مشبہ کو حذف کردیا اور مشبہ بہ کو باقی رکھا، اور اگر نطفہ اور بیضہ مراد ہوں تو کلام اپنی حقیقت پر ہوگا۔ اِلَّا اَنْ تتقُوا، اس میں التفات من الغیبۃ الی الخطاب ہے اگر سابقہ طریقہ پر کلام ہوتا تو اِلاّ أن یتَّقُوا ہوتا۔ تفسیر و تشریح اِنَّ الَّذِیْنَ یَکْفُرُوْنَ بِآیَاتِ اللہِ وَیَقْتُلُوْنَ النَّبِیِّیْنَ بِغَیْرِ حَقٍّ ۔ یعنی ان کی سرکشی اور بغاوت اس حد تک پہنچ چکی تھی کہ صرف نبیوں کو ہی ناحق قتل نہیں کیا بلکہ ان کو بھی قتل کر ڈالا جو حق و انصاف کی بات کرتے تھے۔ یعنی وہ مونین و مخلصین اور داعیان حق جو امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ انجام دیتے تھے۔ فَبِشِّرْھُمْ بِّعَذَابٍ اَلِیْمٍ ، یہ طنزیہ انداز بیان ہے مطلب یہ ہے کہ اپنے جن کرتوتوں پر وہ آج بہت خوش ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ہم بہت اچھے کام کر رہے ہیں انہیں بتادو کہ تمہارے ان اعمال کا انجام یہ ہے۔ اَلَمْ تَرَ اِلَی الَّذِیْنَ اُوْتُوْا نَصِیْبًا مِّنَ الْکِتَابِ (الآیۃ) ان اہل کتاب سے مراد مدینہ کے وہ یہودی ہیں جن کی اکثریت قبول اسلام سے محروم رہی اور وہ اسلام اور مسلمانوں اور نبی کے خلاف مکرو سازش میں مصروف رہے حتی کہ ان کے دو قبیلے جلاوطن اور ایک قبیلہ قتل کردیا گیا۔
Ayahs 3:22–24

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ١٘ وَ مَا لَهُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَ Open ayah 3:22 in the Quran reader

یہ ایسے لوگ ہیں جن کے اعمال دنیا اور آخرت دونوں میں برباد ہیں اور ان کو کوئی مددگار نہیں (ہوگا)

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ اُوْتُوْا نَصِیْبًا مِّنَ الْكِتٰبِ یُدْعَوْنَ اِلٰى كِتٰبِ اللّٰهِ لِیَحْكُمَ بَیْنَهُمْ ثُمَّ یَتَوَلّٰى فَرِیْقٌ مِّنْهُمْ وَ هُمْ مُّعْرِضُوْنَ Open ayah 3:23 in the Quran reader

بھلا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جن کو کتاب (خدا یعنی تورات) سے بہرہ دیا گیا اور وہ اس کتاب اللہ کی طرف بلائے جاتے ہیں تاکہ وہ (ان کے تنازعات کا) ان میں فیصلہ کردے تو ایک فریق ان میں سے کج ادائی کے ساتھ منہ پھیر لیتا ہے

ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَالُوْا لَنْ تَمَسَّنَا النَّارُ اِلَّاۤ اَیَّامًا مَّعْدُوْدٰتٍ١۪ وَّ غَرَّهُمْ فِیْ دِیْنِهِمْ مَّا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ Open ayah 3:24 in the Quran reader

یہ اس لیے کہ یہ اس بات کے قائل ہیں کہ دوزخ کی آگ ہمیں چند روز کے سوا چھو ہی نہیں سکے گی اور جو کچھ یہ دین کے بارے میں بہتان باندھتے رہے ہیں اس نے ان کو دھوکے میں ڈال رکھا ہے

ذَالِکَ بِأَنُّھُمْ قَالُوْا لَنْ تَمَسَّنَا النَّارُ اِلَّآ اَیَّامًا مَّعْدُوْدَاتٍ ، یعنی اس کتاب کے ماننے سے گریز اور روگردانی کی وجہ سے ان کا یہ زعم باطل ہے کہ اول تو وہ جہنم میں جائیں گے ہی نہیں اور اگر گئے بھی تو صرف چند دن کے لیے جائیں گے، ان من گھڑت باتوں نے ان کو دھوکے اور فریب میں ڈال رکھا ہے، یعنی یہ لوگ اپنے آپ کو خدا چہیتا سمجھ بیٹھے ہیں جس کی وجہ سے یہ اس خیال خام میں مبتلا ہیں کہ ہم خواہ کچھ بھی کریں بہر حال جنت ہماری ہے ہم اہل ایمان ہیں اور ہم فلاں کی اولاد ہیں اور فلاں کی امت ہیں آگ کی کیا مجال کہ ہم کو چھو بھی جائے اور اگر بالفرض چھوئے گی بھی تو بس چند روز کے لیے گناہوں کی آلائشوں سے پاک صاف کرنے کے لیے اس کے بعد پھر سیدھے جنت میں پہنچا دئیے جائیں گے، ان ہی خیالات نے ان کو اتنا جری اور بےباک بنادیا ہے کہ وہ سخت سے سخت جرم کا ارتکاب کر جاتے ہیں اور ذرا بھر بھی خدا کا خوف نہیں کرتے۔
Ayahs 3:25–28

فَكَیْفَ اِذَا جَمَعْنٰهُمْ لِیَوْمٍ لَّا رَیْبَ فِیْهِ١۫ وَ وُفِّیَتْ كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ Open ayah 3:25 in the Quran reader

تو اس وقت کیا حال ہوگا جب ہم ان کو جمع کریں گے (یعنی) اس روز جس کے آنے میں کچھ شک نہیں اور ہر نفس اپنے اعمال کا پور اپور بدلہ پائے گا اور ان پر ظلم نہیں کیا جائیگا

قُلِ اللّٰهُمَّ مٰلِكَ الْمُلْكِ تُؤْتِی الْمُلْكَ مَنْ تَشَآءُ وَ تَنْزِعُ الْمُلْكَ مِمَّنْ تَشَآءُ١٘ وَ تُعِزُّ مَنْ تَشَآءُ وَ تُذِلُّ مَنْ تَشَآءُ١ؕ بِیَدِكَ الْخَیْرُ١ؕ اِنَّكَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 3:26 in the Quran reader

اور کہیے کہ اے خدا (اے) بادشاہی کے مالک تو جس کو چاہے بادشاہی بخش دے اور جس سے چاہے بادشاہی چھین لے اور جس کو چاہے عزت دے اور جسے چاہے ذلیل کرے ہر طرح کی بھلائی تیرے ہی ہاتھ ہے (اور) بیشک تو ہر چیز پر قادر ہے

تُوْلِجُ الَّیْلَ فِی النَّهَارِ وَ تُوْلِجُ النَّهَارَ فِی الَّیْلِ١٘ وَ تُخْرِجُ الْحَیَّ مِنَ الْمَیِّتِ وَ تُخْرِجُ الْمَیِّتَ مِنَ الْحَیِّ١٘ وَ تَرْزُقُ مَنْ تَشَآءُ بِغَیْرِ حِسَابٍ Open ayah 3:27 in the Quran reader

تو وہی رات کو دن میں داخل کرتا اور تو ہی دن کو رات میں داخل کرتا ہے اور تو ہی بےجان سے جاندار پیدا کرتا ہے اور تو ہی جاندار سے بےجان پیدا کرتا ہے اور تو ہی جس کو چاہتا ہے بیشمار رزق بخشتا ہے

لَا یَتَّخِذِ الْمُؤْمِنُوْنَ الْكٰفِرِیْنَ اَوْلِیَآءَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِیْنَ١ۚ وَ مَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِكَ فَلَیْسَ مِنَ اللّٰهِ فِیْ شَیْءٍ اِلَّاۤ اَنْ تَتَّقُوْا مِنْهُمْ تُقٰىةً١ؕ وَ یُحَذِّرُكُمُ اللّٰهُ نَفْسَهٗ١ؕ وَ اِلَى اللّٰهِ الْمَصِیْرُ Open ayah 3:28 in the Quran reader

مومنوں کو چاہئے کہ مومنوں کے سوا کافروں کو دوست نہ بنائیں اور جو ایسا کرے گا اس سے خدا کا کچھ (عہد) نہیں ہاں اگر اس طریق سے تم ان (کے شر) سے بچاؤ کی صورت پیدا کرو تو مضائقہ نہیں اور خدا تم کو اپنے (غضب) سے ڈراتا ہے اور خدا ہی کی طرف (تم کو) لوٹ کر جانا ہے

لَا یَتَّخِذِ الْمُؤمِنُوْنَ الْکٰفِرِیْنَ اَوْلِیآءَ (الآیۃ) اولیاء ولی کی جمع ہے ولی ایسے دوست کو کہتے ہیں جس سے دلی محبت اور خصوصی تعلق ہو۔ مطلب یہ ہے کہ اہل ایمان کو آپس میں ایک دوسرے سے خصوصی تعلق اور قلبی لگاؤ ہے، اللہ تعالیٰ نے یہاں اہل ایمان کو اس بات سے سختی سے منع فرمایا ہے کہ وہ کافروں کو اپنا دلی دوست بنائیں، کیونکہ کافر اللہ کے بھی دشمن ہیں اور اہل ایمان کے بھی، تو پھر ان کو دوست بنانے کا جواز کس طرح ہوسکتا ہے، اللہ تعالیٰ نے اس مضمون کو قرآن کریم میں کئی جگہ بڑی وضاحت سے بیان فرمایا ہے۔ تاکہ اہل ایمان کافروں کی موالات اور ان سے خصوصی دوستی اور خصوصی تعلق سے گریز کریں۔ البتہ حسب ضرورت و مصلحت ان سے صلح و معاہدہ بھی ہوسکتا ہے اور تجارتی لین دین بھی، اسی طرح جو کافر مسلمانوں کے دشمن نہ ہوں ان سے حسن سلوک اور مدارات کا معاملہ بھی جائز ہے۔ اِلاَّ اَنْ تَتَّقُوْا مِنْھُمْ تُقٰۃً ۔ یہ اجازت ان مسلمانوں کے لئے ہے جو دار الحرب میں رہتے ہوں کہ ان کے لیے اگر کسی وقت اظہار دوستی کے بغیر ان کے شر سے بچنا ممکن نہ ہو تو زبان سے ظاہری طور پر دوستی کا اظہار کرسکتے ہیں۔