3. Surah Aal-i-Imraan

آل عمرانThe Family of Imraan · 200 ayahsتفسیرِ جلالین

Ayah 3:80

وَ لَا یَاْمُرَكُمْ اَنْ تَتَّخِذُوا الْمَلٰٓئِكَةَ وَ النَّبِیّٖنَ اَرْبَابًا١ؕ اَیَاْمُرُكُمْ بِالْكُفْرِ بَعْدَ اِذْ اَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ۠ Open ayah 3:80 in the Quran reader

اور اس کو یہ بھی نہیں کہنا چاہئے کہ تم فرشتوں اور پیغمبروں کو خدا بنالو بھلا جب تم مسلمان ہوچکے تو کیا اسے زیبا ہے کہ تمہیں کافر ہونے کو کہے ؟

وَلَا یَاْمُرَکُمْ أَنْ تَتَّخِذُوا الْمَلَآئِکَۃَ وَالنِّبِیّٖنَ (الآیۃ) بعض مفسرین نے اس آیت کے شان نزول میں بیان کیا ہے کہ : ابن اسحاق اور ابن جریر اور ابن منذر وغیرہ نے حضرت ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ آپ ﷺ نے یہود اور نصاریٰ کو اسلام کی دعوت دی، تو ان لوگوں نے کہا۔ اے محمد ﷺ کیا آپ چاہتے ہیں کہ ہم آپ کی اس طرح بندگی کریں جیسے نصاریٰ عیسیٰ علیہ الصلوٰ والسلام کی کرتے ہیں فقال رسول اللہ ﷺ معاذ اللہ آپ نے فرمایا اللہ کی پناہ کہ ہم غیر اللہ کی بندگی کریں یا غیر اللہ کی بندگی کا حکم کریں۔ نہ اللہ نے مجھے اس کے لیے مبعوث کیا اور نہ مجھے اس کا حکم دیا تو مذکورہ آیت نازل ہوئی۔ عبد بن حمید نے حسن سے روایت کیا ہے کہ ایک شخص نے عرض کیا یا رسول اللہ نسلم علیک کما یسلّم بَعضنا علی بعض اَفَلاَ نَسْجُدُلَکَ ، ہم جس طرح آپس میں سلام کرتے ہیں، اسی طرح آپ کو بھی سلام کرتے ہیں، کیا ہم آپ کو سجدہ نہ کریں۔ قال : لَا، فرمایا نہیں۔ مگر یہ کہ اپنے نبی کا اکرام کرو اور اس کے اہل کا حق پہچانو کسی کے لئئے ہرگز مناسب نہیں کہ غیر اللہ کو سجدہ کرے، تو زندہ آیت نازل ہوئی۔
Ayah 3:81

وَ اِذْ اَخَذَ اللّٰهُ مِیْثَاقَ النَّبِیّٖنَ لَمَاۤ اٰتَیْتُكُمْ مِّنْ كِتٰبٍ وَّ حِكْمَةٍ ثُمَّ جَآءَكُمْ رَسُوْلٌ مُّصَدِّقٌ لِّمَا مَعَكُمْ لَتُؤْمِنُنَّ بِهٖ وَ لَتَنْصُرُنَّهٗ١ؕ قَالَ ءَاَقْرَرْتُمْ وَ اَخَذْتُمْ عَلٰى ذٰلِكُمْ اِصْرِیْ١ؕ قَالُوْۤا اَقْرَرْنَا١ؕ قَالَ فَاشْهَدُوْا وَ اَنَا مَعَكُمْ مِّنَ الشّٰهِدِیْنَ Open ayah 3:81 in the Quran reader

اور جب خدا نے پیغمبروں سے عہد لیا کہ جب میں تم کو کتاب اور دانائی عطا کروں پھر تمہارے پاس کوئی پیغمبر آئے جو تمہاری کتاب کی تصدیق کرے تو تمہیں ضرور اس پر ایمان لانا ہوگا اور ضرور اسکی مدد کرنی ہوگی اور (عہد لینے کے بعد) پوچھا کہ بھلا تم نے اقرار کیا اور اس اقرار پر میرا ذمہ لیا (یعنی مجھے ضامن ٹھیرایا) انہوں نے کہا (ہاں) ہم نے اقرار کیا (خدا نے) فرمایا کہ تم (اس عہد و پیمان کے) گواہ رہو اور میں بھی تمہارے ساتھ گواہ ہوں

آیت نمبر 81 تا 91 ترجمہ : اور اس وقت کو یاد کرو جب انبیاء سے عالم ارواح میں اللہ نے عہد لیا کہ جب میں تمہیں کتاب و حکمت (کی قسم) سے دوں۔ لَمَا۔ لام کے فتحہ کے ساتھ لام ابتداء ہے اور اس معنی قسم کی تاکید کے لیے ہے جو اَخَذَ الْمیثاق سے مفہوم ہیں اور کسرہ لام کے ساتھ اَخَذَ کے متعلق ہے، اور مَا دونوں صورتوں میں موصولہ ہے، ای الذّی، اور ایک قراءت میں اٰتَیْنٰکُمْ ہے پھر تمہارے پاس اس کتاب و حکمت کی تصدیق کرنے والا آئے جو تمہارے پاس ہے اور وہ (رسول) محمد ﷺ ہیں، تو تم ضرور اس رسول پر ایمان لانا اور اس کی نصرت کرنا۔ (لَتُؤْمِنُنّ الخ) جواب قسم ہے (یعنی) اگر تم اس کا پاؤ، اس حکم میں انبیاء کی امتیں ان کے تابع ہیں (پھر) اللہ تعالیٰ نے ان سے فرمایا کیا تم اس کا اقرار کرتے ہو ؟ اور اس پر میرا عہد قبول کرتے ہو ؟ وہ بولے ہم اقرار کرتے ہیں فرمایا تو اپنے اوپر اور اپنے متبعین پر اس بات کے گواہ رہنا اور میں بھی تمہارے اور ان کے اوپر گواہوں میں سے ہوں تو اب جو کوئی اس عہد کے بعد روگردانی کرے گا تو وہی نافرمانوں میں شمار ہوگا سو کیا یہ لوگ اللہ کے دین کے سوا (کسی اور دین) کو تلاش کر رہے ہیں (یَبْغُوْنَ ) یاء کے ساتھ، بمعنی متولّون، ای معرضون، اور تاء کے ساتھ (ای تَبَغُوْنَ ) ای تعرضون، درآنحالیکہ آسمانوں اور زمین کی ہر چیز اس کی فرمانبردار ہے خوشی سے بغیر انکار کے اور ناخوشی سے تلوار اور اس چیز کے مشاہدہ کی وجہ سے جو فرمانبرداری کے لیے مجبور کر دے (مثلاً قوت وغیرہ) اور سب اسی کی طرف لوٹائے جائیں گے (ترجعون) یاء اور تاء کے ساتھ (اَفَغَیْرَ ) میں ہمزہ استفہام انکاریہ ہے اے محمد ﷺ آپ کہدیجئے ہم ایمان لائے اللہ پر اور اس پر جو ہمارے اوپر اتارا گیا ہے اور جو ابراہیم (علیہ السلام) پر اور اسماعیل (علیہ السلام) پر اور اسحاق (علیہ السلام) پر اور یعقوب (علیہ السلام) پر اور اولاد (یعقوب) پر اتارا گیا ہے اور اس پر جو موسیٰ (علیہ السلام) اور عیسیٰ (علیہ السلام) اور (دیگر) نبیوں کو ان کے پروردگار کی طرف سے دیا گیا۔ ہم ان میں باہم تصدیق و تکذیب کے اعتبار سے کچھ فرق نہیں کرتے اور ہم تو عبادت میں اسی کے لیے مخصوص ہیں اور (آئندہ آیت) اس شخص کے بارے میں نازل ہوئی کہ جو مرتد ہو کر کفار میں شامل ہوگیا اور جو کوئی اسلام کے سوا کوئی اور دین تلاش کرے گا سو وہ اس سے ہرگز قبول نہ کیا جائے گا۔ اور وہ شخص آخرت میں دائمی عذاب کی طرف لوٹنے کی وجہ سے زیاں کاروں میں سے ہوگا۔ اور اللہ کیسے ایسے لوگوں کو ہدایت دے گا (یعنی) نہیں دے گا جنہوں نے اپنے ایمان کے بعد کفر اختیار کیا (اور اس کے بعد کہ وہ) شہادت دے چکے کہ رسول برحق ہیں (اور بعد اس کے) کہ ان کے پاس کھلی نشانیاں آچکی تھیں یعنی آپ ﷺ کی صداقت پر واضح نشانیاں آچکی تھیں۔ اور اللہ تعالیٰ ایسے ظالم لوگوں کافروں کو ہدایت نہیں دیتا۔ ایسے لوگوں کی سزا یہ ہے کہ ان پر اللہ کی اور فرشتوں کی اور سب انسانوں کی لعنت ہوتی ہے اور اس لعنت یا آگ میں جس پر لعنت دلالت کرتی ہے ہمیشہ رہیں گے نہ ان سے عذاب ہلکا کیا جائے گا اور نہ انہیں مہلت دی جائے گی البتہ وہ لوگ جو اس کے بعد توبہ کرلیں اور اپنے اعمال کی اصلاح کرلیں۔ بیشک اللہ تعالیٰ ان کو معاف کرنے والے رحم کرنے والے ہیں اور یہود کے بارے میں (آئندہ آیت نازل ہوئی) بیشک جن لوگوں نے موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لانے کے بعد عیسیٰ (علیہ السلام) کا انکار کیا پھر کفر میں بڑھتے رہے محمد ﷺ کا انکار کرکے۔ تو ان کی توبہ ہرگز قبول نہ کی جائے گی جب حالت نزع (غرغرہ) میں پہنچ گئے یا حالت کفر میں مرگئے، یہی لوگ تو گمراہ ہیں بلاشبہ جن لوگوں نے کفر اختیار کیا اور کفر ہی کی حالت میں مرگئے ان میں سے کسی سے بھی ہرگز قبول نہ کیا جائے گا زمین بھر سونا یعنی اتنی مقدار کہ جو زمین کو بھر دے، اگر وہ اسے معاوضۃ میں دینا چاہے اِنَّ ، کی خبر پر فاء داخل کی گئی، الّذین، کے شرط کے مشابہ ہونے کی وجہ سے اور اس بات پر آگاہ کرنے کے لیے کہ عدم قبول کا سبب موت علی الکفر ہے (نہ کہ محض کفر) یہی وہ لوگ ہیں جن کے لیے دردناک عذاب ہئ جن کے لیے کوئی بھی مددگار عذاب سے بچانے وال نہ ہوگا۔ تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد وَاذکراِذْ حین اَخَذَ اللہُ مِیْثَاَْ النَّبِیّٖنَ ۔ قولہ : حِیْنَ ، لفظ حِیْنَ سے اشارہ کردیا کہ اِذ ظرفیہ ہے اور اذکر فعل محذوف سے متعلق ہے۔ اس آیت کی متعدد ترکیبیں کی گئی ہیں یہ آیت بھی مشکل ترکیبی مقامات میں شمار ہوتی ہے۔ صاحب جلالین کی اختیار کردہ ترکیب : واؤ استینافیہ اِذ ظرفیہ متعلق فعل محذوف اذکر کے، لَم۔ ا، لام کے فتحہ کے ساتھ برائے ابتداء اور معنی قسم جو کہ اخذ میثاق سے مفہوم ہیں، کی تاکید کے لیے لام کو بالکسر بھی پڑھا گیا ہے اَخَذَ کے متعلق، دونوں صورتوں میں مَا، موصولہ ہے اٰتَیْتٰکُمْ اِیَّاہ، اور ایک قراءت میں۔ اٰتَیْنٰلُمْ ، لَتُؤْمِنُنَّ جواب قسم اِیَّاہٗ عائد محذوف جو کہ موصول کی طرف راجع ہے۔ مَا موصولہ ہے جائز ہے کہ متضمن بمعنی شرط ہو اور لَتُؤْمِنُنَّ قائم مقام جواب قسم اور جواب شرط ہو۔ قولہ : اَاَقْرَرْتُمْ استفہام بمعنی امر ہے، استفہام تقریری بھی ہوسکتا ہے، اَفَغَیْرَ ، میں ہمزہ انکار کا ہے، لہٰذا یہ شبہ ختم ہوگیا کہ اللہ کو سوال کرنے کے کیا معنی ؟ قولہ : بالتصدیق والتکذیب اس اضافہ کا مقصد ایک سوال مقدر کا جواب ہے۔ سوال : اللہ تعالیٰ کے قول، لانفرق کا مطلب ہے کہ ہم انبیاء میں فرق نہیں کرتے بلکہ سب کو مساوی سمجھتے ہیں حالانکہ اہل سنت والجماعت کا عقیدہ ہے کہ انبیاء (علیہم السلام) فضیلت و درجات میں مختلف ہیں اور یہی بات تِلْکَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَابَعْضَھُمْ عَلیٰ بَعْضٍ سے معلوم ہوتی ہے۔ جواب : تفریق نہ کرنا تصدیق و تکذیب کے اعتبار سے ہے نہ کہ فضیلت و درجات کے اعتبار سے، یعنی ہم یہود کی طرح بعض کی تصدیق اور بعض کی تکذیب نہیں کرتے۔ قولہ : مخلصون۔ سوال : مسلمون کی تفسیر مخلصون سے کرنے میں کیا فائدہ ہے ؟ جواب : مسلمون بمعنی مخلصون اس لیے کیا گیا ہے کہ نفس ایمان تو آمَنَّا سے مفہوم ہے۔ قولہ : وَشَھَادتِھِمْ ۔ اس میں اشارہ ہے کہ اس کا عطف بتقدیر بَعْدَ اَیْمَانِھِمْ پر ہے اور فعل معطوف تاویل میں اسم کے ہے۔ قولہ : قد۔ حذف قد میں اشارہ ہے کہ واؤ حالیہ ہے نہ کہ عاطفہ۔ اللغۃ والبلاغۃ مِیْثاق۔ اسم، عہد و پیمان اِصْر۔ بھاری بوجھ، سخت و دشوار اور محنت شاقہ، الاسباط، سِبْط، کی جمع ہے ولد الولد، ولدالبنت پر بھی تغلیبًا اطلاق ہوتا ہے، حفید یعنی ولد الابن پر بھی اس کا اطلاق ہوتا ہے، والاسباط من الیھود، القبیلۃ من العرب کے مقابلہ میں استعمال ہوتا ہے۔ تفسیر و تشریح میثاق کہاں ہوا ؟ : میثاق کا لفظ قرآن کریم میں متعدد جگہ استعمال ہوا ہے اور اس کے معنیٰ عہد و پیمان کے ہیں۔ اب یہ میثاق کہاں ہوا ہے ؟ یا تو عالم ارواح میں یا دنیا میں بذریعہ وحی، دونوں احتمال ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں سے تین طرح کے عہد لیے ہیں۔ پہلے میثاق کا ذکر : سورة اعراف میں ” اَلَسْتُ بِرَبَکُمْ “ کے تحت کیا گیا۔ اس عہد کا مقصد یہ تھا کہ تمام بنی نوع انسان خدا کی ہستی اور ربوبیت عامہ پر اعتقاد رکھے۔ دوسرے میثاق کا ذکر : وَاِذْا اَخَذَ اللہُ مِیْثَاقَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْکِتَابَ لَتُبَیِنُنَّہٗ لِلنَّاسِ وَلاَ تَکْتُمُوْنَہٗ الخ یہ عہد صرف اہل کتاب کے علماء سے لیا گیا تھا کہ وہ حق کو نہ چھپائیں۔ تیسرے عہد کا بیان : وَاِذْ اَخَذَ اللہُ مِیْثَاقُّ النَّبِیِیْنَ لِمَآ اٰتَیْتُکُمْ مِنْ کِتَابٍ وَّحِکْمَۃٍ سے کیا گیا۔ یہ میثاق کسی چیز کے بارے میں لیا گیا ؟: اس میں اقوال مختلف ہیں، حضرت علی ؓ اور حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ اس سے مراد نبی ﷺ ہیں یعنی اللہ تعالیٰ نے یہ عہد تمام انبیاء سے صرف محمد ﷺ کے بارے میں لیا تھا کہ اگر وہ خود ان کا زمانہ پائیں تو ان پر ایمان لائیں اور ان کی تائید و نصرت کریں اور اپنی اپنی امتوں کو بھی ہدایت کر جائیں۔ حضرت طاؤس، حسن بصری اور قتادہ (رح) تعالیٰ فرماتے ہیں کہ یہ میثاق انبیاء سے اس لیے لیا گیا تھا کہ وہ آپس میں ایک دوسرے کی تائید و نصرت کریں۔ (ابن کثیر، معارف) فائدہ : یہاں یہ بات قابل غور ہے کہ حضرت محمد ﷺ سے پہلے ہر نبی سے یہی عہد لیا جاتا رہا ہے اور اسی عہد کی بنا پر ہر نبی نے اپنی امت کو بعد میں آنے والے نبی کی خبر دی ہے اور اس کا ساتھ دینے کی ہدایت و تاکید کی ہے، لیکن قرآن میں اور حدیث میں کہیں بھی اس امر کا پتہ نہیں چلتا ہے کہ حضرت محمد ﷺ سے ایسا عہد لیا گیا ہو یا آپ ﷺ نے اپنی امت کو کسی بعد میں آنے والے نبی کی خبر دے کر اس پر ایمان لانے کی ہدایت فرمائی ہو۔
Ayah 3:82

فَمَنْ تَوَلّٰى بَعْدَ ذٰلِكَ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَ Open ayah 3:82 in the Quran reader

تو جو اس کے بعد پھرجائیں وہ بدکردار ہیں،

فَمَنْ تَوَلّٰی بَعْدَ ذَالِکَ فَاُولٰئِکَ ھُمُ الْفَاسِقُوْنَ ، اس ارشاد کا مقصود اہل کتاب کو تنبیہ کرنا ہے کہ تم اللہ کے عہد کو توڑ رہے ہو محمد ﷺ کا انکار ان کی مخالفت کرکے اس میثاق کی خلاف ورزی کر رہے ہو جو تمہارے انبیاء سے لیا گیا تھا لہٰذا اب تم ایمان کی حدود سے نکل چکے۔ یعنی اللہ کی اطاعت سے خارج ہوگئے۔ اگر نبی ﷺ کی بعثت انبیاء کے زمانہ میں پوتی تو ان سب کے نبی آپ ہی ہوتے اور وہ تمام انبیاء آپ کی امت میں شمار ہوتے اس سے معلوم ہوا کہ آپ کی شان محض نبی امت کی نہیں بلکہ نبی الانبیاء کی بھی ہے، چناچہ ایک حدیث میں آپ خود ارشاد فرماتے ہیں۔ اگر آج موسیٰ (علیہ السلام) بھی زندہ ہوتے تو ان کو بھی میری اتباع کے علاوہ چارہ کار نہیں تھا۔ ایک دوسری حدیث میں ارشاد فرمایا کہ جب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نازل ہوں گے تو وہ بھی قرآن حکیم اور تمہارے نبی ہی کے احکام پر عمل کریں گے۔ (معارف، ابن کثیر) اس سے معلوم ہوا کہ آپ ﷺ کی نبوت عامہ اور شاملہ ہے اور آپ ﷺ کی شریعت میں سابقہ تمام شریعتیں مدغم ہیں اس کی تائید آپ کے اس بیان سے بھی ہوتی ہے آپ کا ارشاد ہے۔ بُعِثْتُ اِلَی الناسِ کافَّۃٌ۔ لہٰذا یہ سمجھنا کہ آپ کی نبوت آپ کے زمانہ سے قیامت تک کے لیے ہے صحیح نہیں ہے۔ بلکہ آپ کی نبوت کا زمانہ اتنا وسیع ہے کہ آدم (علیہ السلام) کی نبوت سے پہلے شروع ہوتا ہے، جیسا کہ ایک حدیث میں آپ ﷺ فرماتے ہیں ” کُنْتُ نَبِیّاً وَآدَم بین الروحِ والجسدِ “ محشر میں شفاعت کبریٰ کے لیے پیش قدمی کرنا اور تمام بنی آدم کا آپ کے جھنڈے تلے جمع ہونا اور شب معراج میں بیت المقدس میں تمام انبیاء کی امامت کرانا حضور ﷺ کی اسی سیادت عامہ اور امامت عظمیٰ کے آثار ہیں۔
Ayahs 3:83–86

اَفَغَیْرَ دِیْنِ اللّٰهِ یَبْغُوْنَ وَ لَهٗۤ اَسْلَمَ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ طَوْعًا وَّ كَرْهًا وَّ اِلَیْهِ یُرْجَعُوْنَ Open ayah 3:83 in the Quran reader

کیا یہ (کافر) خدا کے دین کے سوا کسی اور دین کے طالب ہیں ؟ حالانکہ سب اہل آسمان و زمین خوشی یا زبردستی سے خدا کے فرمانبردار ہیں اور اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں

قُلْ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَ مَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْنَا وَ مَاۤ اُنْزِلَ عَلٰۤى اِبْرٰهِیْمَ وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ وَ الْاَسْبَاطِ وَ مَاۤ اُوْتِیَ مُوْسٰى وَ عِیْسٰى وَ النَّبِیُّوْنَ مِنْ رَّبِّهِمْ١۪ لَا نُفَرِّقُ بَیْنَ اَحَدٍ مِّنْهُمْ١٘ وَ نَحْنُ لَهٗ مُسْلِمُوْنَ Open ayah 3:84 in the Quran reader

کہو کہ ہم خدا پر ایمان لائے اور جو کتاب ہم پر نازل ہوئی اور جو صحیفے ابراہیم اور اسماعیل اور اسحاق اور یعقوب اور ان کی اولاد پر اترے اور جو کتابیں موسیٰ اور عیسیٰ اور دوسرے انییاء کو ان کے پروردگار کی طرف سے ملیں سب پر ایمان لائے ہم ان پیغمبروں میں سے کسی میں کچھ فرق نہیں کرتے اور ہم اسی (خدائے واحد) کے فرمانبردار ہیں

وَ مَنْ یَّبْتَغِ غَیْرَ الْاِسْلَامِ دِیْنًا فَلَنْ یُّقْبَلَ مِنْهُ١ۚ وَ هُوَ فِی الْاٰخِرَةِ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ Open ayah 3:85 in the Quran reader

اور جو شخص اسلام کے سوا کسی اور دین کا طالب ہوگا وہ اس سے ہر گر قبول نہیں کیا جائیگا اور ایسا شخص آخرت میں نقصان اٹھانیوالوں میں ہوگا

كَیْفَ یَهْدِی اللّٰهُ قَوْمًا كَفَرُوْا بَعْدَ اِیْمَانِهِمْ وَ شَهِدُوْۤا اَنَّ الرَّسُوْلَ حَقٌّ وَّ جَآءَهُمُ الْبَیِّنٰتُ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 3:86 in the Quran reader

خدا ایسے لوگوں کو کیونکر ہدایت دے جو ایمان لانے کے بعد کافر ہوگئے اور (پہلے) اس بات کی گواہی دے چکے کہ یہ پیغمبر برحق ہیں ؟ اور انکے پاس دلائل بھی آگئے اور خدا بےانصافوں کو ہدایت نہیں دیتا

کَیْفَ یَھْدِی اللہُ قَوْمًا کَفَرُوْا بَعْدَ اِیْمَانَھِمْ وَشَھِدُوْآ اَنَّ الرَّسُوْلَ حَقٌ (الآیۃ) یہاں پھر اسی بات کا اعادہ کیا جا رہا ہے جو اس سے پہلے بارہا بیان کی جا چکی ہے کہ نبی ﷺ کے عہد میں عرب کے یہودی علماء جان چکے تھے اور ان کی زبانوں تک سے اس امر کی شہادت ادا ہوچکی تھی کہ آپ ﷺ نبی برحق ہیں اور جو تعلیم آپ لائے ہیں وہ وہی تعلیم ہے جو پچھلے انبیاء لاتے رہے ہیں اس کے بعد انہوں نے جو کچھ کیا وہ محض تعصب، ضد اور دشمنی، اس پرانی عادت کا نتیجہ تھا جس کے وہ صدیوں سے مجرم چلے آرہے تھے۔
Ayahs 3:87–89

اُولٰٓئِكَ جَزَآؤُهُمْ اَنَّ عَلَیْهِمْ لَعْنَةَ اللّٰهِ وَ الْمَلٰٓئِكَةِ وَ النَّاسِ اَجْمَعِیْنَۙ Open ayah 3:87 in the Quran reader

ان لوگوں کی سزایہ ہے کہ ان پر خدا کی لعنت اور فرشتوں کی اور انسانوں کی سب کی لعنت ہو

خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ۚ لَا یُخَفَّفُ عَنْهُمُ الْعَذَابُ وَ لَا هُمْ یُنْظَرُوْنَۙ Open ayah 3:88 in the Quran reader

ہمیشہ اس لعنت میں (گرفتار) رہیں گے ان سے نہ تو عذاب ہلکا کیا جائے گا اور نہ انہیں ملہت دی جائے گی

اِلَّا الَّذِیْنَ تَابُوْا مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ وَ اَصْلَحُوْا١۫ فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 3:89 in the Quran reader

ہاں جنہوں نے اس کے بعد توبہ کی اور اپنی حالت درست کرلی تو خدا بخشنے والا مہربان ہے

اِلَّا الَّذِیْنَ تَابُوْا مِنْ بَعْدِ ذٰلِکَ (الآیۃ) لیکن جو مرتد ہونے کے بعد شرمندہ ہوئے اور توبہ کی اور اپنے عقائد و اعمال کی اصلاح بھی کرلی تو اللہ تعالیٰ ان کے گناہوں کو معاف فرمانے والا اور انہیں دنیا میں عمل خیر کی طرف اور آخرت میں جنت کی طرف رہنمائی کرنے والا ہے۔ مرتد کی بھی تو قبول ہے : کوئی بھی گناہ کیوں نہ ہو، توبہ کرنے سے معاد ہوجاتا ہے، توبہ میں شرط یہ ہے کہ جس قسم کا گناہ ہو ویسی ہی توبہ کرے ظلم سے توبہ یہ ہے کہ مظلوم سے معاف کرائے سود خوری سے توبہ یہ ہے کہ پچھلا لیا ہوا واپس کرے اور اگر ایسا نہ کیا مگر توبہ سچی بکمال ندامت کی تو حقوق اللہ معاف اور حقوق العباد باقی رہیں گے۔ (معالم)
Ayah 3:90

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بَعْدَ اِیْمَانِهِمْ ثُمَّ ازْدَادُوْا كُفْرًا لَّنْ تُقْبَلَ تَوْبَتُهُمْ١ۚ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الضَّآلُّوْنَ Open ayah 3:90 in the Quran reader

جو لوگ ایمان لانے کے بعد کافر ہوگئے پھر کفر میں بڑھتے گئے ایسوں کی توبہ ہرگز قبول نہیں ہوگی اور یہ لوگ گمراہ ہیں

اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا بَعْدَ اِیْمَانِھِمْ ثُّمَّ ازْدَادُوْا کُفْرًا (الآیۃ) مطلب یہ ہے کہ مرتد ہونے کے بعد اس ارتداد پر اڑے رہے اور توبہ نہ کی اور اسی حالت میں غرغرہ کی حالت آگئی تو ان کی توبہ قبول نہ ہوگی۔ حدیث شریف میں آیا ہے کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ایک جہنمی سے کہے گا کہ اگر تیرا پاس دنیا بھر کا سامان ہو تو کیا اس عذاب نار کے بدلے اسے دینا پسند کرے گا ؟ وہ کہے گا ” ہاں “ اللہ تعالیٰ فرمائے گا میں نے دنیا میں تجھ سے اس سے کہیں زیادہ آسان بات کا مطالبہ کیا تھا کہ میرے ساتھ شرک نہ کرنا، مگر تو شرک سے باز نہیں آیا۔ (مسند احمد، ھکذا اخرجہ البخاری ومسلم، ابن کثیر) اس سے معلوم ہوا کہ کافر کے لیے دائمی عذاب ہے اس دنیا میں اگر کچھ کار خیر بھی کیے ہوں گے تو وہ بھی کفر کی وجہ سے ضائع ہوجائیں گے۔ جیسا کہ حدیچ شریف میں ہے کہ عبد اللہ بن جدعان کے بابت پوچھا گیا کہ وہ مہمان نواز، غریب پرور تھا اور غلاموں کو آزاد کرنے والا تھا کیا یہ اعمال اسے نفع دیں گے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا نہیں، کیوں کہ اس نے ایک دن بھی اللہ سے اپنے گناہوں کی معافی نہیں مانگی۔ (مسلم)
Ayahs 3:91–92

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ مَاتُوْا وَ هُمْ كُفَّارٌ فَلَنْ یُّقْبَلَ مِنْ اَحَدِهِمْ مِّلْءُ الْاَرْضِ ذَهَبًا وَّ لَوِ افْتَدٰى بِهٖ١ؕ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ وَّ مَا لَهُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَ۠ Open ayah 3:91 in the Quran reader

جو لوگ کافر ہوئے اور کفر ہی کی حالت میں مرگئے وہ اگر (نجات) حاصل کرنی چاہیں (اور) بدلے میں زمین بھر کر سونا دیں تو ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا ان لوگوں کو دکھ دینے والا عذاب ہوگا اور ان کی کوئی مدد نہیں کرے گا

لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتّٰى تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ١ؕ۬ وَ مَا تُنْفِقُوْا مِنْ شَیْءٍ فَاِنَّ اللّٰهَ بِهٖ عَلِیْمٌ Open ayah 3:92 in the Quran reader

(مو منو ! ) جب تک تم ان چیزوں میں سے جو تمہیں عزیز ہیں (راہ خدا) میں صرف نہ کرو گے کبھی نیکی حاصل نہ کرسکو گے اور جو چیز تم صرف کرو گے خدا اس کو جانتا ہے۔

آیت نمبر 92 تا 101 ترجمہ : جب تک اپنے محبوب مالوں کو خرچ نہ کرو گے (صدقہ نہ کروگے) ہرگز نیکی کا اجر جو کہ جنت ہے حاصل نہ کرسکو گے اور جو چیز بھی تم خرچ کرتے ہو اللہ اس سے بخوبی واقف ہے لہٰذا وہ اس کی جزاء دے گا، اور نازل ہوئی جب یہودیوں نے یہ بات کہی، کہ تم اس بات کا دعویٰ کرتے ہو کہ تم ملت ابراہیمی پر ہو حالانکہ وہ تو اونٹ کا گوشت اور دودھ کھاتے پیتے نہیں تھے۔ (اور تم کھاتے پیتے ہو) ہر کھانا بنی اسرائیل کے لیے حلال تھا بجز اس کے کہ جس کو اسرائیل (یعقوب) نے اپنے اوپر حرام کرلیا تھا اور وہ اونٹ تھا، ایسا اس وقت کیا تھا کہ جب ان کو عرق النساء کا مرض لاحق ہوگیا تھا (نَساء) فتحہ نون کے ساتھ اور قصر الف کے ساتھ (بروزن عصا) ہے، (حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے نذر مانی تھی کہ اگر میں شفاء یاب ہوگیا تو اس کو میں نہ کھاؤں گا، چناچہ انہوں نے اس کو اپنے اوپر ممنوع قرار دے لیا، ایسا تورات نازل ہونے سے قبل کیا تھا اور یہ (واقعہ) ابراہیم (علیہ السلام) کے بعد ہوا، اور یہ حرمت حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے زمانہ میں نہیں تھی جیسا کہ تم سمجھتے ہو۔ تو آپ ان سے کہئے کہ تورات لاؤ اور اس کو پڑھو تاکہ تمہارے قول کی صداقت ظاہر ہوجائے اگر تم اس دعوے میں سچے ہو تو وہ ہ کے بکے رہ گئے اور تورات نہ لائے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا سو جو شخص اس کے یعنی حجت کے ظاہر ہونے کے بعد بھی اللہ پر بہتان تراشی کرے کہ تحریم یعقوب (علیہ السلام) کی جانب سے تھی نہ کہ ابراہیم (علیہ السلام) کے عہد میں تو یہی لوگ ہیں ظالم (یعنی) حق سے باطل کی طرف تجاوز کرنے والے ہیں آپ کہدیجئے کہ دیگر باتوں کی طرح اللہ نے یہ بات بھی سچ فرما دی تو تم سیدھی راہ والے ابراہیم (علیہ السلام) کے دین کی جس پر میں ہوں پیروی کرو یعنی ہر دین سے (اعراض کرکے) دین اسلام کی جانب رخ کرکے اور (حضرت ابراہیم (علیہ السلام) مشرکوں میں سے نہ تھے، اور آئندہ آیت اس وقت نازل ہوئی جب یہود نے کہا تھا کہ ہمارا قبلہ تمہارے قبلے سے قدیم ہے، سب سے پہلا گھر جو معبد کے طور پر لوگوں کے لیے مبارک بنا کر وضع کیا گیا، وہ ہے جو مکہ میں ہے، مکہ، میں ایک لغت بکہ بھی ہے باء کے ساتھ، بکہ کو بکہ اس لیے کہتے ہیں کہ بکہ کے معنی توڑنے، پھوڑنے کے ہیں چونکہ یہ بڑے بڑے حباروں (ظالموں) کی گردنوں کو جو اس کے انہدام کا قصد کریں تو ڑکر رکھ دیتا ہے۔ اس کی تعمیر فرشتوں نے کی تھی اس کے بعد مسجد اقصیٰ تعمیر کی گئی اور ان دونوں کے درمیان چالیس سال کا فاصلہ ہے، جیسا کہ صحیحین کی حدیث میں وارد ہے، اور ایک حدیث میں ہے کہ آسمانوں اور زمینوں کی تخلیق کے وقت سطح آب پر سفید جھاگ کی شکل میں جو چیز نمودار ہوئی تھی وہ کعبہ تھا اس کے بعد زمین کو اس کے نیچے سے پھیلایا گیا، (مُبٰرَکاً ) اَلَّذِی سے حال ہے ای ذابرکۃٍ ، اور اہل عالم کے لیے ہدایت والا ہے اس لیے کہ یہ ان کا قبلہ ہے۔ اس میں کھلی ہوئی نشانیاں ہیں ان ہی میں سے مقام ابراہیم (علیہ السلام) ہے یعنی وہ پتھر کہ تعمیر بیت اللہ کے وقت جس پر (حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کھڑے ہوتے تھے۔ آپ کے قدموں کے اس میں نشان پڑگئے اور زمانہ دراز کے باوجود لوگوں کے بار بار مس کرنے کے باوجود آج تک باقی ہیں۔ اور ان ہی نشانیوں میں سے اس میں نیکیوں کے اجر کا دوگنا ہونا ہے۔ اور کوئی پرندہ اس کے اوپر سے نہیں گزر سکتا۔ اور جو کوئی اس میں داخل ہوجاتا ہے وہ مامون ہوجاتا ہے قتل و ظلم وغیرہ کے لیے اس سے تعرض نہیں کیا جاتا تھا۔ اور لوگوں پر اللہ کے لیے بیت اللہ کا حج واجب ہے (حج) کے مصدر میں جاء کا فتحہ اور کسرہ دو لغت ہیں۔ حَجًّ ، بمعنی قَصَدَ ، اور (مَنِ اسْتَطَاعَ اِلَیْہِ سَبِیْلاً ) النّاس، سے بدل ہے جو وہاں تک پہنچنے کی قدرت رکھتا ہو، (استطاعت) کی تفسیر آپ ﷺ نے زادو راحلہ (سواری اور سفر خرچ) سے فرمائی۔ روایت کیا اس کو حاکم وغیرہ نے اور جو کوئی اللہ کا کفر کرے اور جو اس پر حج فرض کیا ہے (اس کا منکر ہو) تو اللہ تعالیٰ عالم والوں سے یعنی جن و انس اور ملائکہ اور ان کی عبادت سے بےنیاز ہے۔ آپ کہئے کہ اے اہل کتاب تم اللہ کی آیتوں قرآن کا کیوں انکار کرتے ہو ؟ دارنحالی کہ اللہ تمہارے اعمال پر شاہد ہے تم کو اس کی جزاء دے گا۔ آپ کہئے اے اہل کتاب تم اس شخص کو جو ایمان لا چکا ہے اللہ کے دین سے نبی ﷺ کی تکذیب اور ان کی علامات کو چھپا کر کیوں روکتے ہو ؟ اس راہ (دین) میں کجی نکالتے ہو (عوَجًا) مصدر ہے مُعَوَّجَۃً ، کے معنی میں ہے، یعنی حق سے انحراف کرکے، حالانکہ تم جانتے ہو کہ پسندیدہ اور صحیح دین اسلام ہی ہے جیسا کہ تمہاری کتاب میں موجود ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کفر و تکذیب وغیرہ تمہارے اعمال سے بیخبر نہیں ہے اور اس نے تم کو محض ایک وقت تک مہلت دے رکھی ہے پھر تم کو اس کی سزا دے گا (آئندہ آیت اس وقت نازل ہوئی) کہ جب بعض یہودیوں کا گزر اَوْس و خزرج پر ہوا تو ان کی آپسی الفت و محبت نے ان کو غضب ناک کردیا، چناچہ ان یہودیوں نے ان کے زمانہ جاہلیت کی (آپسی) فتنہ کی باتوں کا ذکر چھیڑ دیا جس کی وجہ سے وہ آپس میں جھگڑنے لگے قریب تھا کہ آپس میں خون ریزی ہوجائے۔ اے ایمان والو اگر اہل کتاب کے کسی فریق کی بات مانو گے تو وہ تم کو تمہارے ایمان لانے کے باوجود کافر بنا کر چھوڑیں گے اور تم کس طرح کفر کرسکتے ہو استفہام تعجب اور توبیخ کے لیے ہے، حالانکہ تمہیں اللہ کی آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں اور تمہارے درمیان اس کا رسول موجود ہے اور جو اللہ کو مضبوط پکڑتا ہے تو وہ سیدھی راہ کی طرف ہدایت کیا جاتا ہے۔ تحقیق و ترکیب و تسیل و تفسیری فوائد قولہ : تَنَالُوْا، تم حاصل کرو گے، تم پاؤ گے (س) مضارع جمع مذکر حاضر، نَالَ یَنَالُ نَیلاً پہنچنا، حاصل کرنا۔ قولہ : ای ثوابہٗ مفسر علام نے مضاف کو مقدر مان کر اشارہ کردیا کہ عبارت حذف مضاف کے ساتھ ہے۔ اس لیے کہ نفس بِرّ تو نیک عمل کرنے کو کہتے ہیں جس کا وجود عمل نیک کرنے سے ہوجاتا ہے البتہ عمل نیک کا اجر وثواب محبوب و پسندیدہ چیز خرچ کرنے سے حاصل ہوتا ہے۔ قولہ : تَصَدَّقُوْا، تُنْفِقُوْا کی تفسیر تَصَدَّقُوْا سے کرکے اشارہ کردیا کہ مطلق انفاق خواہ اپنی ذات پر ہو یا برے کاموں میں ہو مراد نہیں ہے بلکہ فی سبیل اللہ صدقہ کرنا مراد ہے۔ قولہ : مِمَّا تُحِبُّوْنَ ، مَا تبعیضیہ ہے، اس لیے کہ ایک قراءت میں بَعْضَ مَا تُحِبُّوْنَ ہے۔ قولہ : کُلُّ الطَّعَامِ الف لام عہد کا ہے ای کُلُّ الاطعِمۃ الَّتِی کانَتْ تَدِّعِی الیھودُ حُرْمَتَھَا عَلیٰ اِبْرَاھِیْمَ ۔ قولہ : عِر النَساء، عرق النساء اکثر بائیں سرین سے شروع ہو کر گھٹنے اور بعض اوقات ٹخنے تک اتر آتا ہے اگر یہ مرض زیادہ دنوں تک رہے تو مریض لنگڑا ہوجاتا ہے۔ (شرح موجز، اقرائی) قولہ : اَنا عَلَیْھَا اتباع ابراہیم (علیہ السلام) سے مراد ملت اسلام کی اتباع ہے اس لیے کہ ملت ابراہیمی ملت اسلامی ہی تھی، اور آپ ﷺ بھی اسی ملت ابراہیمی پر تھے۔ قولہ : متَعَبَّدًا، یہ لفظ بڑھا کر اشارہ کردیا کہ اول بیت سے مطلق اول بیت مراد نہیں بلکہ عبادت گاہ کے طور پر اول بیت مراد ہے۔ قولہ : لَلَّذِیْ بِبَکَّۃَ میں لام تاکید ہے اس کو لام مُزْ حَلَقۃ بھی کہتے ہیں۔ دراصل یہ لام مبتداء پر اس کی تاکید کے لیے داخل ہوتا ہے مگر جب مبتدا پر انَّ داخل ہوجاتا ہے تو اِنّ اپنی صدارت کی خاطر اس لام کو خبر کی طرف دھکیل دیتا ہے اس لیے اس لام کا لام مزْ حلقہ کہتے ہیں۔ مکہ اور بکہ بلد حرام کے نام ہیں، یہ دونوں لغت ہیں، اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ بکہ، مقام بیت اللہ کا نام ہے اور مکہ بلد حرام کا نام ہے، اور بعض لوگوں نے کہا ہے کہ مسجد حرام کا نام بکہ پورے حرم کا نام ہے اور بکّہ کو بکہ اس لئے کہتے ہیں کہ اس کے معنی ازدحام الناس کے ہیں طواف کے وقت چونکہ ازدحام ہوتا ہے اسی لیے اس کو بکہ کہتے ہیں، اور بعض حضرات نے کہا ہے کہ بَکَ کے معنی ’ دَقٌ‘ کے معنی ہیں کاٹنا، توڑنا، مروڑنا، اس لیے کہ جس ظالم و جابر نے بھی اس کو ترچھی نگاہ سے دیکھا اور اس کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی اس کی گردن مروڑ دی گئی، اور مکہ، تسمیہ کی وجہ سے بارے میں بعض حضرات نے کہا ہے کہ قلت ماء کی وجہ سے مکہ کہا جاتا ہے، عرب بولتے ہیں مکَّ الفصیل ضَرْعَ اُمِّہٖ جب کہ بچہ ماں کا دودھ پی کر ختم کر دے اور قاموس میں ہے چونکہ مکہ گناہوں کو مٹا دیتا ہے اور یہ تمک الذنوب سے مشتق ہے ای تمحوھا وتزیلُھا۔ مکہ کے بہت سے نام ہیں : (1) مکہ۔ (2) بکہ۔ (3) البیت العتیق۔ (4) البیت الحرام۔ (5) البلد الامین۔ (6) المامون۔ (7) الم الرحیم۔ (8) امُّ القری۔ (9) صلاح۔ (10) العرش۔ (11) القادس۔ (12) المقدسہ۔ (13) البناسۃ۔ (14) نون اور باء کے ساتھ۔ (15) الحاطمہ۔ (16) الرأس۔ (17) کو ثاء۔ (18) البلدۃ۔ (19) البنیۃ۔ (20) الکعبہ۔ (اعراب القرآن) مجاہد نے کہا کہ، باء میم سے بدل گئی ہے جیسے سَبَدٌ اور سَمَدٌ، اور لازبٌ و لازمٌ میں۔ قولہ : تطلبون السبیل، یہ اس شبہ کا جواب ہے کہ سبیل مذکر ہے لہٰذا تَبْغُوْنَھَا کے بجائے تَبْغُوْنَہٗ ہونا چاہیے۔ جواب : سبیل چونکہ مذکر اور مؤنث دونوں استعمال ہوتا ہے لہٰذا تَبْغُوْنَھا درست ہے۔ قولہ : مصدرٌ بمعنی مُعَوَّجَۃً ، یہ اس سوال کا جواب ہے کہ عِوَجًا، السبیل سے حال ہے حالانکہ اس کا حمل السبیل پر صحیح نہیں ہے۔ جواب : عِوَجًا، مُعَوَّجًا کے معنی میں ہے۔ عِوَج عین کے کسرہ کے ساتھ غیر مجسم اشیاء کی کجی کے لیے استعمال ہوتا ہے مثل عقل فہم اور عَوَج عین کے فتحہ کے ساتھ مجسم اشیاء مثلاً دیوار وغیرہ کی کجی کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ اللغۃ والبلاغۃ قولہ : حِلًّا، (ض) حِلاَّ و حَلالاً ، دونوں مصدر ہیں، بمعنی حلال ہونا۔ قولہ : بکّۃ، میم اور باء چونکہ قریب المخرج ہیں اس لیے میم کو باء سے بدل دیا جیسا کہ لازم کو لازب کرلیا جاتا ہے۔ قولہ : للذی ببکۃ، یہ لام تاکید مزحلقہ ہے، دراصل یہ انَ کی خبر پر داخل ہونے والا وہ لام ہے جس کو اِنّ نے اپنی صدارت کی وجہ سے اپنی خبر کی طرف دھکیل دیا ہے، مزحلقہ کے معنی ہیں دھکیلا ہوا۔ است خدام : مَنْ دخلہ کان آمنًا میں صنعت است خدام ہے اس لیے کہ مقام ابراہیم سے جائے قدم مراد ہے۔ اور اس کی طرف لوٹنے والی دخلہٗ کی ضمیر سے مطلق حرم مراد ہے، اسی کو است خدام کہتے ہیں کہ مرجع سے ایک معنیٰ مراد ہوں اور اس کی طرف لوٹنے والی ضمیر سے دوسرے معنیٰ مراد ہوں۔ تفسیر و تشریح ربط : سابق میں صدقہ کافر کا ذکر تھا کہ صدقہ اور کسی بھی کارخیر سے ایمان کے بغیر کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ یہاں مومن کے صدقہ اور کار خیر کا ذکر ہے۔ لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ (بِرّ ) نیکی، بھلائی، یہاں مطلقاً عمل صالح یا جنت مراد ہے۔ آیت مذکورہ اور صحابہ کرام ؓ تعالیی عنہم کا جذبہ عمل : صحابہ کرام ؓ جو کہ قرآن کریم کے اولین مخاطب تھے اور آپ ﷺ کے بلاوسطہ شاگرد اور احکام قرآنی پر عمل کرنے کے عاشق، اس آیت کے نازل ہونے پر ہر ایک نے اپنی اپنی محبوب چیزوں پر نظر ڈالی اور ان کو اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کے لیے اللہ کے رسول ﷺ کے سامنے درخواست پیش کرنے لگے، انصار مدینہ میں ایک صحابی ابو طلحہ جو کہ باحیثیت تھے مسجد نبوی کے بالکل قریب بالمقابل ایک بہت عمدہ باغ تھا اس میں ایک کنواں بھی تھا جو کہ بیر حاء کے نام سے مشہور تھا اس کا پانی نہایت عمدہ اور نہایت شیریں تھا، اب اس باغ کی جگہ باب مجیدی کے سامنے اصطفیٰ منزل کے نام سے عمارت بنی ہوئی ہے جس میں زائرین مدینہ قیام کرتے ہیں اس کے شمال مشرق کے گوشہ میں یہ بیر حاء اب تک اسی نام سے موجود ہے آپ ﷺ کبھی کبھی اس باغ میں تشریف لے جاتے اور بیرحاء کا پانی نوش فرماتے، آپ کو اس کنویں کا پانی پسند تھا، حضرت طلحہ کا یہ باغ بڑا قیمتی اور زرخیز اور اپنی جائداد میں سب سے زیادہ محبوب تھا، اس آیت کے نازل ہونے کے بعد حضرت ابو طلحہ ؓ آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا میرے تمام اموال میں بیرحاء مجھے سب سے زیادہ محبوب ہے میں اس کو اللہ کی راہ میں خرچ کرنا چاہتا ہوں، آپ جس کام میں پسند فرمائیں اس کو صرف فرما دیں، آپ نے فرمایا وہ تو عظیم الشان منافع کا باغ ہے، میں یہ مناسب سمجھتا ہوں کہ تم اس کو اپنے اقرباء میں تقسیم کرد و، حضرت ابو طلحہ ؓ نے آپ ﷺ کے اس مشورہ کو قبول فرما کر اپنے اقرباء میں تقسیم کردیا یہ حدیث بخاری اور مسلم میں مذکور ہے۔ اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ خیرات صرف وہ نہیں یہ جو عام فقراء کو دی جائے، اپنے اہل و عیال اور عزیزو اقارب پر خرچ کرنا بھی بڑی خیرات اور موجب ثواب ہے۔ حضرت زید بن حارثہ ؓ اپنا ایک گھوڑا لیے ہوئے حاضر ہوئے اور عرض کیا مجھے اپنی املاک میں یہ گھوڑا سب سے زیادہ محبوب ہے اس کو اللہ کی راہ میں خرچ کرنا چاہتا ہوں آپ ﷺ نے اس کو قبول فرما لیا۔ لیکن ان سے لے کر ان ہی کے صاحبزادے اسامہ کو دے دیا، حضرت زید اس پر کچھ دلگیر ہوئے کہ میرا صدقہ میرے ہی گھر واپس آگیا تو آپ نے ان کو تسلی کے لیے فرمایا، اللہ تعالیٰ نے تمہارا یہ صدقہ قبول فرما لیا۔ (مظہری بحوالہ ابن جریر، معارف) ۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ اللہ راہ میں جو صدقہ خیرات بھی ہو خواہ فرض خواہ نفل ان سب میں مکمل فضیلت اور ثواب جب ہی ہے کہ اپنی محبوب اور پیاری چیز کو اللہ کی راہ میں خرچ کرو۔ یہ نہیں کہ صدقہ کو تاوان کی طرح سر سے ٹالنے کے لے فالتو اور بےکار یا خراب چیزوں کا انتخاب کرو۔ فالتو اور حاجت سے زائد چیز بھی خرچ کرنے میں ثواب ہے : اگرچہ اس آیت میں یہ بتلایا گیا ہے کہ خیر کامل اور ثواب عظیم اس پر موقوف ہے کہ اپنی محبوب چیز کو راہ خدا میں صرف کریں، مگر اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ ضرورت سے زائد اور فالتو مال خرچ کرنے میں کوئی اجر وثواب ہی نہیں ہے بلکہ آیت کے آخر میں جو یہ ارشاد ہے ” وَمَا تُنْفِقُوْا مِنْ شِئ فَاِنَّ اللہَ بِہٖ عَلِیْمٌ“ اس آیت کا مفہوم یہ ہے کہ اگرچہ خیر کامل اور صف ابرار میں داخلہ محبوب چیز کے خرچ کرنے پر موقوف ہے لیکن مطلق چواب سے کوئی صدقہ خالی نہیں خواہ محبوب چیز خرچ کریں یا زائد اور فالتو ہاں جو چیز مکروہ اور ممنوع ہے وہ یہ کہ کوئی شخص راہ خدا میں خرچ کرنے کے لیے یہی طریقہ اختیار کرے کہ جب خرچ کرے فالتو اور ناکارہ چیز کا انتخاب کرے۔
Ayah 3:93

كُلُّ الطَّعَامِ كَانَ حِلًّا لِّبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اِلَّا مَا حَرَّمَ اِسْرَآءِیْلُ عَلٰى نَفْسِهٖ مِنْ قَبْلِ اَنْ تُنَزَّلَ التَّوْرٰىةُ١ؕ قُلْ فَاْتُوْا بِالتَّوْرٰىةِ فَاتْلُوْهَاۤ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 3:93 in the Quran reader

بنی اسرائیل کے لئے (تورات کے نازل ہونے سے) پہلے کھانے کی تمام چیزیں حلال تھیں بجز ان کے جو یعقوب نے خود اپنے اوپر حرام کرلی تھیں۔ کہہ دو کہ اگر سچے ہو تو تورات لاؤ اور اسے پڑھو (یعنی دلیل پیش کرو)

کُلُّ الطَّعَامِ کَانَ حِلاٌّ لِّبَنِیْ اِسْرَآئِیْلَ ۔ اہل کتاب سے بحث و مباحثہ کا سلسلہ چل رہا ہے، اسی سلسلہ کی ایک بحث اس آیت میں بھی ہے۔ یہود نے نبی ﷺ سے سوال کیا کہ بتاؤ اسرائیل (یعقوب) نے اپنے اوپر کیا چیز حرام کی تھی ؟ (قَدْ اَخْرج الترمذی وحَسَّنْہ عَنْ ابن عباس ؓ ما) آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا حضرت یعقوب دیہات میں رہتے تھے ان کو عرق النساء کا مرض لاحق ہوگیا تھا تو احتیاط کے طور پر اونٹ کے گوشت اور دودھ کا استعمال موقوف کردیا تھا، یہود نے کہا، صدقتَ آپ نے سچ فرمایا۔ روح المعانی میں بروایت واقدی کلبی سے منقول ہے کہ جب حضور ﷺ نے اپنا ملت ابراہیمی پر ہونا بیان فرمایا تو یہود نے اعتراض کیا کہ آپ اونٹ کا گوشت اور دودھ کھاتے پیتے ہیں حالانکہ حضرت ابرہیم (علیہ السلام) پر حرام تھا آپ نے جواب دیا کہ حرام نہیں تھا بلکہ حلال تھا، یہود نے کہا جتنی چیزیں ہم حرام سمجھتے ہیں یہ سب حضرت نوح (علیہ السلام) و حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے وقت سے حرام چلی آرہی ہیں تو اللہ نے مذکورہ آیت نازل فرمائی جس میں یہود کی تکذیب کی گئی ہے، جس میں ارشاد فرمایا : کہ نزول تورات کے قبل باستثناء اونٹ کے گوشت کے جس کو حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے ایک خاص وجہ سے خود اپنے لیے حرام کرلیا تھا اور وہ ان کی اولاد میں حرام چلا آیا، باقی سب چیزیں بنی اسرائیل پر حلال تھیں۔ دراصل واقعہ یہ تھا کہ حضرت یعقوب (اسرائیل (علیہ السلام) کو عرق النساء کا درد تھا، آپ نے نذر مانی تھی کہ اللہ اس سے شفاء عطا فرمائے تو میں اس کھانے کو جو مجھے سب سے زیادہ محبوب اور پسندیدہ ہے چھوڑ دوں گا، ان کو شفاء ہوگئی اور سب سے زیادہ محبوب آپ کو اونٹ کو گوشت تھا اس کو ترک فرما دیا۔ (اخرجہ الحاکم وغیرہ بسند صحیح عن ابن عباس ؓ ۔ ہوسکتا ہے کہ ان کی شریعت میں نذر سے تحریم بھی ہوجاتی ہو جس طرح ہمارے یہاں نذر سے وجوب ہوجاتا ہے، البتہ ہمارے یہاں تحریم کی نذر جائز نہیں ہے بلکہ اگر قسم کے طور پر نذر مانی ہو تو قسم توڑ کر کفارہ ادا کرنا واجب ہے کمال قال اللہ تعالیٰ لِمَ تُحَرِّمُ مَآ اَحَلَّ اللہُ لک۔ (الآیۃ)
Ayahs 3:94–96

فَمَنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَؐ Open ayah 3:94 in the Quran reader

جو اس کے بعد بھی خدا پر جھوٹ افترا کریں تو ایسے لوگ ہی بےانصاف ہیں۔

قُلْ صَدَقَ اللّٰهُ١۫ فَاتَّبِعُوْا مِلَّةَ اِبْرٰهِیْمَ حَنِیْفًا١ؕ وَ مَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِیْنَ Open ayah 3:95 in the Quran reader

کہہ دو کہ خدا نے سچ فرما دیا۔ پس دین ابراہیم کی پیروی کرو جو سب سے بےتعلق ہو کر ایک (خدا) کے ہو رہے تھے اور مشرکوں سے نہ تھے۔

اِنَّ اَوَّلَ بَیْتٍ وُّضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِیْ بِبَكَّةَ مُبٰرَكًا وَّ هُدًى لِّلْعٰلَمِیْنَۚ Open ayah 3:96 in the Quran reader

پہلا گھر جو لوگوں (کے عبادت کرنے) کے لئے مقرر کیا گیا تھا۔ وہی ہے جو مکہ میں ہے بابرکت اور جہاں کے لئے موجب ہدایت۔

فضائل اور تاریخ تعمیر بیت اللہ : اِنَّ اَوَّلَ بَیْتٍ وُّضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِیْ بِبَکَّۃَ مُبَارَکًا۔ (الآیۃ) ۔ یہ یہود کے اس اعتراض کے جواب میں ہے کہ وہ کہتے تھے کہ بیت المقدس سب سے پہلا عبادت خانہ ہے محمد ﷺ اور ان کے ساتھیوں نے اپنا قبلہ کیوں بدل دیا ؟ اس کے جواب میں کہا گیا تمہارا یہ دعویٰ غلط ہے پہلا گھر جو اللہ کی عبادت کیلئے تعمیر کیا گیا وہ مکہ میں ہے۔ مذکورہ آیت میں پوری دنیا کے مکانات یہاں تک کہ تمام مساجد کے مقابلہ میں بیت اللہ (کعبہ) کے شرف اور فضیلت کا بیان ہے، اور یہ شرف اور فضیلت کئی وجہ سے ہے اول اس لیے کہ وہ دنیا کی تمام عبادت گاہوں میں سب سے پہلی عبادت گاہ ہے دوسرے یہ کہ وہ برکت والا ہے، تیسرے یہ کہ وہ پورے جہان کے لیے ہدایت اور رہنمائی کا ذریعہ ہے آیت کے الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ سب سے پہلا گھر جو لوگوں کے لیے من جانب اللہ بنایا گیا وہ ہے جو مکہ میں ہے۔ اس کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ دنیا میں سب سے پہلے عبادت خانہ مکہ میں تعمیر ہوا۔ اس کا دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ دنیا کے گھروں میں سب سے پہلا گھر عبادت ہی کے لیے بنایا گیا اور وہ بیت اللہ ہے اس سے پہلے نہ کوئی عبادت خانہ تھا اور نہ دولت خانہ۔ حضرت عبد اللہ بن عمر، مجاہد، قتادہ، سدّی، وغیرہ صحابہ وتابعین ؓ اس کے قائل ہیں کہ زمین پر سب سے پہلے حضرت آدم (علیہ السلام) نے سب سے پہلا گھر کعبہ عبادت خانہ کے طور پر تعمیر کیا، اور یہ بھی ممکن ہے کہ لوگوں کے رہنے سہنے کے گھر اور بھی بن چکے ہوں مگر عبادت خانہ کے طور پر یہ پہلا گھر بنا ہو حضرت علی ؓ سے یہی منقول ہے۔ بیہقی نے اپنی کتاب دلائل النبوۃ میں بروایت عمرو بن عاص ؓ سے نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : دنیا میں آنے کے بعد حضرت آدم (علیہ السلام) کو یہ حکم ملا کہ وہ بیت اللہ بنائیں، حضرت آدم (علیہ السلام) نے حکم کی تعمیل فرمائی تو ان کو حکم دیا گیا کہ اس کا طواف کریں۔ اور ان سے کہا گیا کہ آپ اول الناس ہیں اور یہ گھر اول بیت وضع للناس ہے (معارف) بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ آدم (علیہ السلام) کی یہ تعمیر حضرت نوح (علیہ السلام) کے زمانہ تک باقی تھی، طوفان نوح (علیہ السلام) میں منہدم ہوگئی، اس کے بعد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے ان ہی بنیادوں پر دوبارہ تعمیر کیا، پھر ایک بار کسی حادچہ میں اس کی عمارت منہدم ہوگئی تو قبیلہ جرہم کی ایک جماعت نے اس کی تعمیر کی، پھر ایک بار منہدم ہوئی تو عمالقہ نے تعمیر کی اور پھر منہدم ہوئی تو قریش نے رسول اللہ ﷺ کے ابتدائی دور میں تعمیر کی، جس میں آنحضرت ﷺ بھی بذات خودشریک ہوئے اور حجر اسود کو اپنے دست مبارک سے قائم فرمایا۔ لیکن قریش نے اس تعمیر میں بناء ابراہیمی سے کسی قدر مختلف تعمیر کی سرمایہ کی کمی کی وجہ سے بیت اللہ کا ایک حصہ الگ کردیا جس کو حطیم کہا جاتا ہے اور خلیل اللہ (علیہ السلام) کی بناء میں دو دروازے تھے ایک داخل ہونے کا اور دوسرا پشت کی جانب نکلنے کا۔ قریش نے صرف مشرقی دروازے کو باقی رکھا، تیسرا تغیر یہ کیا کہ دروازہ سطح زمین سے کافی بلند کردیا کہ ہر شخص آسانی سے اندر نہ جاسکے بلکہ جس کو وہ اجازت دیں وہی جاسکے، رسول اللہ ﷺ نے حضرت عائشہ ؓ سے فرمایا میرا دل چاہتا ہے کہ موجودہ تعمیر کو منہدم کرکے اس کو بالکل بناء ابراہیمی پر بنا دوں۔ لیکن نومسلم ناواقف مسلمانوں میں غلط فہمی پیدا ہونے کا خطرہ ہے اسی لئے سردست اس کو اسی حال پر چھوڑ تا ہوں۔ اس ارشاد کے بعد آپ ﷺ اس دنیا میں زیادہ دن نہیں رہے۔ لیکن حضرت عائشہ ؓ کے بھانجے حضرت عبد اللہ بن زبیر ؓ آنحضرت ﷺ کا یہ ارشاد سنے ہوئے تھے، خلفاء راشدین کے بعد جس وقت مکہ مکرمہ میں ان کی حکومت قائم ہوئی تو انہوں نے بیت اللہ منہدم کرکے ارشاد نبوی ﷺ اور بناء ابراہیمی کے مطابق بنادیا۔ مگر عبد اللہ بن زبیر کی حکومت مکہ مکرمہ پر چند روزہ تھی، حجاج بن یوسف نے مکہ پر فوج کشی کرکے ان کو شہید کردیا، اور حکومت پر قبضہ کرکے اس کو گوارانہ کیا کہ عبد اللہ بن زبیر کا یہ کارنامہ رہتی دنیا تک ان کی مدح و ثنا کا ذریعہ بنا رہے اس لیے لوگوں میں یہ مشہور کردیا کہ عبد اللہ بن زبیر کا یہ فعل غلط تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے اس کو جس حالت پر چھوڑا تھا اسی حالت پر رکھنا چاہیے۔ اس بہانے سے بیت اللہ کو پھر منہدم کرکے اسی طرح تعمیر کردی جو زمانہ جاہلیت میں قریش نے بنائی تھی حجاج بن یوسف کے بعد آنے والے بعض مسلم بادشاہوں نے پھر حدیث مذکور کی بناء پر چاہا کہ بیت اللہ کو پھر ازسر نو حدیث رسول اکرم ﷺ کے مطابق بنادیں۔ لیکن اس زمانہ کے امام حضرت امام مالک بن انس (رح) تعالیٰ نے یہ فتویٰ دیا کہ اب بار بار بیت اللہ کو منہدم کرنا اور بنانا آگے آنے والے بادشاہوں کے لیے بیت اللہ کو ایک کھلونا بنا دے گا۔ ہر آنے والا بادشاہ اپنی نام آوری کے لیے یہی کام کرے گا۔ لہٰذا اب جس حالت پر ہے اسی حالت پر چھوڑ دینا مناسب ہے۔ تمام امت نے اس کو قبول کیا اسی وجہ سے آج تک اسی حجاج بن یوسف کی تعمیر کیا ہوا بیت اللہ باقی ہے۔ البتہ شکست وریخت اور مرمت کا سلسلہ ہمیشہ جاری رہا۔ ان روایات سے ایک تو یہ معلوم ہوا کہ کعبہ دنیا کا سب سے پہلا گھر ہے اور یا کم از کم سب سے پہلا عبادت خانہ ہے قرآن کریم میں جہاں کعبہ کی تعمیر کی نسبت ابراہیم (علیہ السلام) کی طرف کی ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ ان بزرگوں نے سابقہ بنیادوں پر اسی کے مطابق تعمیر فرمائی اور کعبہ کی اصل بنیاد پہلے ہی سے موجود تھی۔ بائبل میں وادی بکہ کا ذکر موجود ہے : تمام تر تحریفات کے باوجد بائبل میں بھی ایک جگہ وادی بکہ کا ذکر کیا گیا ہے، وہ بکا کی وادی میں گزر کرتے ہوئے اسے ایک کنواں بتاتے۔ (زبور 84۔ 6) بائبل کے قدیم مترجموں نے اپنی بےاحتیاطی کی عادت کے مطابق ترجموں میں اسے بجائے علم کے اسم نکرہ قرار دے کر اس کا ترجمہ رونے کی وادی کر ڈالا، صدیوں کے بعد اب غلطی کا احساس ہوا اور اب جیوش انسائیکلوپیڈیا میں اقرار ہے کہ یہ ایک مخصوص بےآب وادی کا نام ہے۔ (جلد 2 ص 425) اللہ ان کو اتنا سمجھنے کی توفیق دے کہ یہی بےآب وادی مکہ معظمہ ہے۔ (ماجدی)
Ayah 3:97

فِیْهِ اٰیٰتٌۢ بَیِّنٰتٌ مَّقَامُ اِبْرٰهِیْمَ١ۚ۬ وَ مَنْ دَخَلَهٗ كَانَ اٰمِنًا١ؕ وَ لِلّٰهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَیْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ اِلَیْهِ سَبِیْلًا١ؕ وَ مَنْ كَفَرَ فَاِنَّ اللّٰهَ غَنِیٌّ عَنِ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 3:97 in the Quran reader

اس میں کھلی ہوئی نشانیاں ہیں جن میں سے ایک ابراہیم کے کھڑے ہونے کی جگہ ہے۔ جو شخص اس (مبارک) گھر میں داخل ہوا اس نے امن پالیا۔ اور لوگوں پر خدا کا حق (یعنی فرض) ہے کہ جو اس گھر تک جانے کا مقدور رکھے وہ اس کا حج کرے اور جو اس حکم کی تعمیل نہ کرے گا تو خدا بھی اہل عالم سے بےنیاز ہے

مَقَامُ اِبْرَاھَیْمَ ۔ یہ یا تو مبتدا محذوف الخبر ہے۔ ای منھا مقام ابراہیم، یا مبتداء محذوف کی خبر ہے، ای اَحْدُھَا مَقام ابراھیم، اور بعض نے آیات بَیّنٰت سے بدل البعض اور بعض نے عطف بیان قرار دیا ہے۔ ان نشانیوں میں سے ایک بڑی نشانی مقام ابراہیم ہے اسی لیے قرآن کریم نے اس کو مستقل علیحدہ طور پر بیان فرمایا۔ مقام ابراہیم وہ پتھر ہے جس پر کھڑے ہو کر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) بیت اللہ کی تعمیر فرماتے تھے، اور بعض روایات میں ہے کہ یہ پتھر تعمیر کی بلندی کے ساتھ ساتھ خود بخود بلند ہوجاتا تھا اور نیچے اترنے کے وقت نیچا ہوجاتا تھا، اس کے اوپر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے قدم مبارک کا گہرا نشان آج تک موجود ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ سب آیات قدرت ہیں، جو بیت اللہ کی فضیلت ہی سے متعلق ہیں یہ پتھر بیت اللہ کے نیچے دروازے کے قریب تھا۔ جب قرآن کا یہ حکم نازل ہوا کہ مقام ابراہیم (علیہ السلام) پر نماز پڑھو وَاتَّخِذُوْا مِنْ مَّقَامِ اِبْرَاھِیْمَ مُصَلّٰی اس وقت طواف کرنے والوں کی سہولت کے لیے اس کو اٹھا کر بیت اللہ کے سامنے ذرا فاصلہ پر مطاف سے باہر زمزم کے قریب رکھ دیا گیا۔ اور آج کل اس کو اسی جگہ ایک محفوظ مکان میں مقفل کیا ہوا ہے، طواف کے بعد دو رکعت اسی مکان کے پیچھے پڑھی جاتی ہے، فی الحال یہ پتھر ایک بلوری خول کے اندر محفوظ کردیا گیا ہے، مقام ابراہیم (علیہ السلام) اصل میں اس خاص پتھر کا نام ہے، لیکن مقام ابراہیم اپنے لفظی معنی کے اعتبار سے تمام مسجد حرام کو حاوی ہے، اسی لیے فقہاء کرام نے لکھا ہے کہ مسجد حرام کے اندر جس جگہ بھی طواف کی رکعتیں پڑھ لے واجب ادا ہوجاتا ہے۔ بیت اللہ کی دوسری خصوصیت اور فضیلت یہ ہے کہ جو اس میں داخل ہوجائے وہ مامون و محفوظ ہوجاتا ہے یعنی اللہ کا یہ حکم ہے کہ جو شخص بیت اللہ (حرم) میں داخل ہوجائے تو اس کو بھی اس جگہ سزا نہ دی جائے بلکہ اس کو حرم سے باہر نکلنے پر مختلف طریقوں سے مجبور کیا جائے باہر آنے پر سزا دی جائے، جاہلیت کے تاریک دور میں بھی اس گھر کا یہ احترام تھا کہ خون کے پیاسے دشمن ایک دوسرے کو وہاں دیکھتے تھے اور ایک دوسرے پر ہاتھ ڈالنے کی جرأت نہیں ہوتی تھی۔ فتح مکہ میں صرف رسول اللہ ﷺ کے لیے دین کی اہم مصلحت اور بیت اللہ کی تطہیر کی خاطر صرف چند گھنٹوں کے لیے حرم میں قتال کی اجازت اللہ کی طرف سے نازل ہوئی تھی پھر اس کی حرمت لوٹا دی گئی۔ حج فرض ہونے کے شرائط : وَللہِ عَلَی النَّاسِ حِجُّ الْبَیْتِ مَنِ اسْتَطَاقَ اِلَیْہِ سَبِیْلاً یہ بیت اللہ کی تیسری خصوصیت کا بیان ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق پر بیت اللہ کا حج فرض کیا ہے بشرطیکہ وہ بیت اللہ تک پہنچنے کی قدرت اور استطاعت رکھتے ہوں، استطاعت کی تفصیل یہ ہے کہ ضرورت اصلیہ سے فاضل اتنا مال ہو جس سے وہ بیت اللہ تک آمدورفت اور وہاں قیام کا خرچ برداشت کرسکے اور اپنی واپسی تک اپنے ان اہل و عیال کا بھی انتظام کرسکے کہ جن کا نفقہ اس کے ذمہ واجب ہے نیز ہاتھ پاؤں اور آنکھوں سے معذور نہ ہو۔ اسی طرح عورت کے لیے چونکہ بغیر محرم کے سفر ممنوع ہے اس لیے وہ حج پر قادر اس وقت سمجھی جائے گی جب کہ اس کے ساتھ کوئی محرم حج کرنے والا ہو خواہ محرم اپنے مال سے حج کر رہا ہو یا عورت اس کا خرچ برداشت کرے، اسی طرح راستوں کا مامون ہونا بھی استطاعت میں داخل ہے، اگر راستہ میں بدامنی ہو جان و مال کا قوی خطرہ ہو تو حج کی استطاعت نہیں سمجھی جائے گی۔
Ayah 3:98

قُلْ یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ لِمَ تَكْفُرُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ١ۖۗ وَ اللّٰهُ شَهِیْدٌ عَلٰى مَا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 3:98 in the Quran reader

کہو کہ اے اہل کتاب تم خدا کی آیتوں سے کیوں کفر کرتے ہو ؟ اور خدا تمہارے سب اعمال سے باخبر ہے

قُلْ یَآاَھْلَ الْکِتَابِ لِمَ تَکْفُرُوْنَ بِآیَاتِ اللہِ ۔ سابق میں اہل کتاب کے عقائد فاسدہ کا بیان چل رہا تھا۔ درمیان میں حج کا ذکر آگیا، اب پھر سابق عنوان کی طرف عود کیا اس آیت میں اہل کتاب سے خطاب ہے اور اس کا تعلق ایک واقعہ سے ہے۔ ابن اسحاق نے اور زید بن اسلم سے ایک جماعت نے بیان کیا کہ ایک یہودی جس کا نام شماس بن قیس تھا جو اسلام اور مسلمانوں سے نہایت بغض اور کینہ رکھتا تھا ایک روز اس کا گزر ایک مجلس پر ہوا جس میں انصار کے دو قبیلہ اوس اور خزرج ایک جگہ بیٹھے ہوئے تھے شماس نے جب ان کی محبت اور الفت کو دیکھا تو حسد کی آگ سے جل بھن گیا، زمانہ جاہلیت میں ان دونوں قبیلوں میں شدید عداوت اور دشمنی رہتی تھی جنگ بعاث جو عرب کی مشہور لڑائی ہوئی ہے وہ انہی دونوں قبیلوں کے درمیان ہوئی تھی اور اس جنگ میں کامیابی اوس کو حاصل ہوئی تھی شماس بن قیس کو اوس اور خزرج کی محبت اور یگانگت ایک آنکھ نہ بھائی اور ان میں تفریق ڈالنے کی فکر میں لگا، آخر یہ تجویز کی کہ ان کے درمیان جنگ بعاث کا ذکر چھیڑا جائے اور اس موقع پر جو اشعار دونوں طرف سے اپنی اپنی مدح اور ثانی فریق کی ہجو میں پڑھے گئے تھے ان کو پڑھا جائے، چناچہ ایک یہودی نوجوان جو اس کے ساتھ تھا اس سے کہا تو جاکر ان کے پاس بیٹھ جا پھر ان میں جنگ بعاث کا ذکر چھیڑ دے، چناچہ اس نے ایسا ہی کیا اور اس موقع پر جو اشعار پڑھے گئے تھے وہ پڑھے، ان اشعار کا پڑھنا تھا کہ ایک آگ سی بھڑک اٹھی، اور تو تو میں میں سے بات بڑھ کر ہا تھا پائی اور پھر لاٹھی ڈنڈوں تک نوبت پہنچ گئی، حتیٰ کہ دونوں قبیلوں میں سے ایک ایک شخص میدان میں مبارزت کرتے ہوئے اتر پڑے، اوس بن قیظی بنی حارثہ کا ایک نوجوان اوس کی جانب سے اور ہبار بن صخر بی سلمہ کا ایک نوجوان خزرج کی جانب سے، دونوں قبیلوں کے دیگر افراد بھی شامل ہوگئے یہاں تک کہ لڑائی کا وقت اور محل طے ہوگیا، آنحضرت ﷺ کو جب اس کا علم ہوا تو آپ تشریف لائے اور فرمایا : کیا اندھیر ہے میرے رہتے ہوئے، اور مسلمان ہونے اور آپس میں میل ملاپ اور محبت کے بعد یہ کیا جہالت ہے کیا تم اسی حالت میں کفر کی طرف عود کرنا چاہتے ہو، تب سب متنبہ ہوئئے اور سمجھ گئے یہ سب شیطانی حرکت تھی، آپس میں ایک دوسرے کو گلے لگ کر بہت روئے اور توبہ کی اسی واقعہ میں مذکورہ آیتیں نازل ہوئیں۔ (روح المعانی)
Ayahs 3:99–102

قُلْ یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ لِمَ تَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ مَنْ اٰمَنَ تَبْغُوْنَهَا عِوَجًا وَّ اَنْتُمْ شُهَدَآءُ١ؕ وَ مَا اللّٰهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 3:99 in the Quran reader

کہو کہ اے اہل کتاب ! تم مومنوں کو خدا کے راستے سے کیوں روکتے ہو ؟ اور باوجودیکہ تم اس سے واقف ہو اس میں کجی نکالتے ہو اور خدا تمہارے کاموں سے بیخبر نہیں

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنْ تُطِیْعُوْا فَرِیْقًا مِّنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ یَرُدُّوْكُمْ بَعْدَ اِیْمَانِكُمْ كٰفِرِیْنَ Open ayah 3:100 in the Quran reader

مومنو ! اگر تم اہل کتاب کے کسی فریق کا کہا مان لو گے تو وہ تمہیں ایمان لانے کے بعد کافر بنادیں گے

وَ كَیْفَ تَكْفُرُوْنَ وَ اَنْتُمْ تُتْلٰى عَلَیْكُمْ اٰیٰتُ اللّٰهِ وَ فِیْكُمْ رَسُوْلُهٗ١ؕ وَ مَنْ یَّعْتَصِمْ بِاللّٰهِ فَقَدْ هُدِیَ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ۠ Open ayah 3:101 in the Quran reader

اور تم کیونکر کفر کرو گے جبکہ تم کو خدا کی آیتیں پڑھ پڑھ کر سنائی جاتی ہیں اور تم میں اس کے پیغمبر موجود ہیں اور جس نے خدا (کی ہدایت کی رسی) کو مضبوط پکڑ لیا وہ سیدھے راستے لگ گیا

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ حَقَّ تُقٰتِهٖ وَ لَا تَمُوْتُنَّ اِلَّا وَ اَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ Open ayah 3:102 in the Quran reader

مومنو ! خدا سے ڈرو جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے اور مرنا تو مسلمان ہی مرنا

آیت نمبر 102 تا 109 ترجمہ : اے ایمان والو اللہ سے ڈرو جیسا کہ اسے سے ڈرنے کا حق ہے بایں طور کہ اس کی اطاعت کی جائے اس کی نافرمانی نہ کی جائے اس کا شکر ادا کیا جائے ناشکری نہ کی جائے اور اس کو یاد رکھا جائے بھلایا نہ جائے تو صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ اس کی کس کو قدرت ہے۔ تو اس حکم کو اللہ تعالیٰ نے اپنے قول فاتقوا اللہ ما استطعتم سے منسوخ کردیا۔ اور تم جان نہ دینا بجز اس حال کے کہ تم مسلم موحد ہو اور اللہ کی رسی یعنی اس کے دین کو سب مل کر مضبوطی سے تھامے رہو اور اسلام کے بعد باہم نااتفافی نہ کرو اور اے اوس اور خزرج کے لوگو ! اپنے اوپر اللہ کے انعام کو یاد کرو جب کہ تم اسلام سے پہلے ایک دوسرے کے دشمن تھے، تو اس نے تمہارے قلوب میں اسلام کی وجہ سے الفت ڈال دی تو تم اس کے انعام کی بدولت دین میں اور نصرت میں بھائی بھائی بن گئے اور تم دوزخ کے کنارے پر تھے اور تمہارے دوزخ میں گرنے میں صرف اتنی دیر تھی کہ تم کفر کی حالت میں مرو تو تم کو دوزخ سے ایمن کے ذریعہ بچا لیا اسی طرح جیسا کہ تمہارے لیے مذکورہ احکام بیان کیے اللہ تمہارے لیے اپنی آیتیں کھول کھول کر بیان کرتا ہے تاکہ تم راہ یاب ہوجاؤ اور ضروری ہے کہ تم میں ایک ایسی جماعت رہے جو خیر یعنی اسلام کی دعوت دیا کرے اور نیک کام کا حکم کیا کرے اور برائی سے روکا کرے یہی دعوت دینے والے حکم کرنے والے (برائی) سے روکنے والے لوگ کامیاب ہیں اور (مِنْکُم) میں مِنْ تبعیضیہ ہے اس لیے کہ مذکورہ حکم فرض کفایہ ہے امت کے ہر فرد پر لازم نہیں ہے اور نہ ہر شخص کے لائق ہے جیسا کہ مثلاً جاہل کے۔ اور کہا گیا ہے کہ مِنْ ، زائدہ ہے یعنی تاکہ تم ایک مات ہوجاؤ اور ان لوگوں کی طرف مت ہوجانا کہ جنہوں نے بعد اس کے کہ ان کے پاس شواہد پہنچ چکے اپنے دین میں تفریق کرلی اور وہ یہود و نصاریٰ ہیں انہیں کو عذاب عظیم ہونا ہے روز قیامت کچھ چہرے سفید (روشن) ہوں گے اور کچھ چہرے سیاہ ہوں گے پھر جن کے چہرے سیاہ ہوں گے اور وہ کافر ہوں گے تو ان کو جہنم میں ڈالا جائے گا۔ اور بطور توبیخ ان سے کہا جائے گا کیا تم ہی نے کفر کیا ؟ یوم اَلَست میں ایمان لانے کے بعد سو اپنے کفر کی پاداش میں عذاب چکھو۔ اور جن کے چہرے سفید (روشن) ہوں گے اور وہ مومن ہوں گے تو وہ اللہ کی رحمت جنت میں ہوں گے اور اسی میں ہمیشہ رہیں گے یہ اللہ کی آیتیں ہیں جن کو اے محمد ہم تم کو ٹھیک ٹھیک پڑھ کر سناتے ہیں اور اللہ مخلوقات پر ظلم نہیں چاہتا کہ بغیر جرم کے ان سے مواخذہ کرے۔ اور ملک اور خلق اور مملوک ہونے کے اعتبار سے سب جو کچھ آسمانوں اور زمینوں میں ہے اللہ ہی کیلئے ہے۔ اور اللہ ہی کی طرف تمام امور لوٹائے جائیں گے۔ تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد قولہ : بانْ یُطَاعَ فَلَا یُعْصٰی (الخ) یہ کما حقہ تقویٰ کا بیان اور اس کی صورت کی وضاحت ہے۔ قولہ : مُوَحّدُونَ ۔ سوال : مُسْلِمُوْنَ ، کی تفسیر مُوَحِّدُوْنَ ، سے کرنے میں کیا مصلحت ہے ؟ جواب : مرتے وقت چونکہ سوائے توحید کے جو قلبی ارادہ کا نام ہے دوسری کوئی عمل نیکی نہیں ہوسکتی مثلاً نہ نماز پڑھی جاسکتی ہے اور نہ روزہ رکھ جاسکتا ہے اور نہ حج کیا جاسکتا ہے علی ہذا القیاس اسی مصلحت و حکمت کے پیش نظر مُسْلِمُوْنَ کی تفسیر مُوَحِّدُوْنَ سے کی ہے عمل توحید آخر وقت میں بھی ہوسکتا ہے۔ قولہ : اِعْتَصِمُوْا، اعتصام سے ہے جمع مذکر حاضر، تم مضبوط پکڑ لو۔ قولہ : الاوس والخزرج حارثہ یا ثعلبہ کے بیٹے دونوں حقیقی بھائی تھے، ان کی والدہ کا نام قیلہ تھا۔ یہ دراصل یمن کے ایک شہر مآرب کے باشندے تھے جو کہ ایک بہت سرسبز و شاداب علاقہ تھا جو یمن کے دار السلطنت صنعاء سے تین منزل کے فاصلہ پر واقع تھا مشہور سدّمآرب یہیں واقع تھا، جس کی وجہ سے اہل مآرب بڑی خوش حالی و فراخی کی زندگی گزارتے تھے، اللہ تعالیٰ نے ان کی نافرمانیوں کے نتیجے میں اسی بند (ڈیم) کے ذریعہ ان کو اور ان کی معیشت کو تباہ کردیا۔ اس بند کے ٹوٹنے کی وجہ سے یہ اطراف میں منتشر ہوگئے ان میں سے کچھ مدینہ آکر آباد ہوگئے اور کچھ شام وغیرہ کی طرف نکل گئے۔ یہ واقعہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بعد آنحضرت ﷺ کی بعثت سے بقل پیش آیا۔ قولہ : یومَ اخذ المیثاق، اس عبارت کے اضافہ کا مقصد ایک سوال مقدر کا جواب ہے۔ سوال : یہود و نصاریٰ کو مخاطب کرکے کہا جا رہا ہے ” کَفَرْتُمْ بَعْدَ اِیْمَانِکُمْ “ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اول ایمان لائے اس کے بعد وہ کافر ہوئے، حالانکہ وہ سرے سے ایمان نہیں لائے تھے۔ جواب : جواب کا حاصل یہ ہے کہ ایمان سے مراد یوم میثاق کا ایمان ہے جو کہ ” اَلَسْتُ بِرَبِّکُمْ “ کے جواب میں بلیٰ کہہ کر لائے تھے لہٰذا اب کوئی اعتراض نہیں۔ اللغۃ والبلاغۃ قولہ : شَفَا، گڑھے کا کنارہ، اس میں تذکیر و تانیث مساوی ہیں، شَفا دراصل مذکر ہے مگر آیت میں اس کی طرف مونث کی ضمیر لوٹ رہی ہے اس لیے کہ اس نے اپنے مضاف الیہ حفرۃ سے تانیث کا اکتساب کرلیا ہے، اور کبھی اس کا عکس بھی ہوتا ہے۔ (اعراب القرآن للدرویش) ۔ استعارۃ تمثیلیہ۔ وَاعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اللہِ ، میں استعارہ تمثیلیہ ہے، دین یا قرآن کو مضبوط رسی سے تشبیہ دی ہے، جس طرح انسان مضبوط رسی کو تھامنے کے بعد گرنے سے مامون و محفوظ رہتا ہے، اسی طرح دین صحیح اور قرآن کو تھامنے سے اخروی ہلاکت سے محفوظ و مامون رہتا ہے۔ اور رسی کو پکڑنے سے مراد ہے قرآن اور دین پر اعتماد اور بھروسہ کرنا، یہ استعارہ ترشیحیہ ہے، اس لیے کہ استعارہ ترشیحیہ مشبہ بہ کے لئے اس کے مناسب کو ثابت کرنے کو کہتے ہیں، رسی کے لیے مناسب ہے کہ اس کو تھاما جائے اسی طرح قرآن کے لئے مناسب ہے کہ اس پر اعتماد کیا جائے۔ صنعت طباق، اَعْداءا واخوانًا، میں صنعت طباق ہے اور اسی کی صنعت مقابلہ بھی کہتے ہیں یَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَیْنْھَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ ، اس میں بھی صنعت طباق ہے امر اور نہی مقابل ہیں اسی طرح المعروف والمنکر مقابل ہیں۔ (اعراب القرآن) استعارہ مکنیہ تبعیہ ” فَذْوْقُوا الْعَذَابَ “ اس میں عذاب کو کسی کڑوی چیز سے تشبیہ دی گئی ہے عذاب مشبہ ہے اور تلخ چیز مشبہ بہ ہے یہ استعارہ مکینہ ہو اور مشبہ بہ کے لازم ” ذوق “ کو باقی رکھا یہ استعارہ تبعیہ کے طور پر ہے۔ تفسیر و تشریح یٰآیُّھَا الَّذِیْنَ آمَنُوا اتَّقُوا اللہَ حَقَّ تُقَاتِہٖ اس کا مطلب ہے کہ اسلام کے احکام و فرائض پورے طور پر بجا لائے جائیں اور منہیات کے قریب نہ جایا جائے۔ سعید بن جبیر سے ابن ابی حاتم نے روایت کیا کہ جب مذکورہ آیت نازل ہوئی تو صحابہ پریشان ہوئے اور اس پر عمل کرنا دشوار معلوم ہوا۔ حتیٰ کہ ان کے پیر ورم کرگئے اور پیشانیاں زخمی ہوگئیں۔ تو اللہ تعالیٰ نے تخفیف کرتے ہوئے ” فَاتَّقُوا اللہَ مَا اسْتَطَعْتُمْ “ نازل فرمائی۔ جس سے حق تقاتہٖ ، منسوخ ہوگئی۔ لیکن اگر اسے ناسخ کے بجائے مبین (وضاحت کرنے والی) قرار دیا جائے تو زیادہ صحیح ہے، اس لیے کہ نسخ وہیں ماننا چاہیے کہ جہاں دونوں آیتوں میں جمع و تطبیق ممکن نہ ہو، اور یہاں تطبیق ممکن ہے، معنی یہ ہوں گے ” اتقوا اللہ حق تقاتہٖ مَا استطعتم “ اللہ سے اس طرح ڈور کہ جس طرح اپنی طاقت کے مطابق اس سے ڈرنے کا حق ہے۔ (فتح القدیر) حَقَّ تُقَاتِہٖ کیا ہے ؟: اس کی تفسیر حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ نے یہ فرمائی ہے جو مرفوعاً خود رسول اللہ ﷺ سے بھی منقول ہے، حَقَّ تُقَاتِہٖ ھُوَ اَنْ یُطَاعَ فَلَا یُعْصٰی وَیُذکر فلایُنْسیٰ ویُسکر ولا یُکفر۔ حق تقویٰ یہ ہے کہ اللہ کی اطاعت ہر کام میں کی جائے، کوئی کام اطاعت کے خلاف نہ ہو اور اسے ہمیشہ یاد رکھا جائے کبھی فراموش نہ کیا جائے اور ہمیشہ اس کا شکر ادا کریں کبھی ناشکری نہ کریں۔ حضرت ابن عباس اور طاؤس نے فرمایا کہ درحقیقت حق تقاتہٖ کی ہی تفسیر و تشریح ہے اتقوا اللہ مَا استطعتم اور مطلب یہ ہے کہ معاصی اور گناہوں سے بچنے میں اپنی پوری توانائی اور طاقت صرف کر دے تو حق تقویٰ ادا ہوگیا، اگر کوئی شخص اپنی پوری توانائی صرف کرنے کے بعد کسی ناجائز کام میں مبتلا ہو ہی گیا ہے تو وہ حقوق تقویٰ کے خلاف نہیں۔ وَلَاتَمُوْتُنَّ اِلاَّ وَاَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ ، یعنی مرتے دم تک اللہ کی فرماں برداری اور وفاداری پر قائم رہو۔