3. Surah Aal-i-Imraan

آل عمرانThe Family of Imraan · 200 ayahsتفسیرِ جلالین

Ayah 3:103

وَ اعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اللّٰهِ جَمِیْعًا وَّ لَا تَفَرَّقُوْا١۪ وَ اذْكُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ اِذْ كُنْتُمْ اَعْدَآءً فَاَلَّفَ بَیْنَ قُلُوْبِكُمْ فَاَصْبَحْتُمْ بِنِعْمَتِهٖۤ اِخْوَانًا١ۚ وَ كُنْتُمْ عَلٰى شَفَا حُفْرَةٍ مِّنَ النَّارِ فَاَنْقَذَكُمْ مِّنْهَا١ؕ كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمْ اٰیٰتِهٖ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَ Open ayah 3:103 in the Quran reader

اور سب مل کر خدا (کی ہدایت کی) رسی کو مضبوط پکڑے رہنا اور متفرق نہ ہونا اور خدا کی اس مہربانی کو یاد کرو جب تم ایک دوسرے کے دشمن تھے تو اس نے تمہارے دلوں میں الفت ڈال دی اور تم اس کی مہربانی سے بھائی بھائی ہوگئے اور تم آگ کے گڑھے کے کنارے تک پہنچ چکے تھے تو خدا نے تم کو اس سے بچا لیا اس طرح خدا تم کو اپنی آیتیں کھول کھول کر سناتا ہے تاکہ تم ہدایت پاؤ

وَاعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اللہِ ، اللہ کی رسی سے مراد اس کا دین ہے اور اس کو رسی سے اس لیے تعبیر کیا گیا ہے کہ یہی وہ رشتہ ہے جو ایک اہل ایمان کا تعلق اللہ سے قائم کرتا ہے اور دوسری طرف ایمان لانے والوں کو باہم ملا کر یاک جماعت بناتا ہے، اسی رسی کو مضبوطی سے پکڑنے کا مطلب یہ ہے کہ مسلمانوں کی نگاہ میں اصل اہمیت دین کی ہو اسی سے ان کو دلچسپی ہو، اسی کی اقامت میں وہ کوشاں رہیں اور اس کی خدمت کے لیے آپس میں تعاون کرتے رہیں، جہاں دین کی اساسی تعلیمات اور اس کی اقامت کے نصب العین سے مسلمان ہٹے اور ان کی دلچسپیاں جزئیات اور فروع کی طرف منعطف ہوئیں پھر ان میں لازماً تفرقہ و اختلاف رونما ہوجائے گا۔ قرآن و حدیث کے فہم اور اس کی توضیح و تعبیر میں اختلاف یہ فرقہ بندی نہیں یہ اختلاف تو صحابہ اور تابعین کے عہد میں بھی تھا کیوں کہ اس اختلاف کے باوجود سب کا مرکز اطاعت اور محور عقیدت ایک ہی تھا قرآن اور حدیث۔ وَاعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اللہِ جمیعًا۔ اتحاد و اتفاق ایک ایسی چیز ہے جس کے محمود و مطلوب ہونے پر دنیا کے تمام انسانوں کا اتفاق ہے خواہ کسی ملک اور کسی زمانہ کے ہوں، کسی مذہب و مشرب سے تعلق رکھتے ہوں، اس میں دورائیں ہونے کا امکان ہی نہیں ہے۔ وَاذْکُرُوْا نِعْمَتَ اللہِ عَلَیْکُمْ (الآیۃ) یہ اشارہ اس حالت کی طرف ہے جس میں اسلام سے پہلے عرب مبتلا تھے، قبائل کی باہمی عداوتیں، بات بات پر ان کی لڑائیاں اور شب و روز کی کشت و خون جس کی وجہ سے قریب تھا کہ پوری عرب قوم نیست و نابود ہوجائے۔ زمانہ جاہلیت کی جو لڑائیاں تاریخی روایات میں محفوظ ہوگئی ہیں ان کی تعداد (1700) ہے اس جنگ وجدال کی آگ میں جل مرنے سے اگر کسی چیز نے انہیں بچایا تو وہ یہی نعمت اسلام تھی۔ یہ آیات جس وقت نازل ہوئی ہیں اس سے تین چار سال پہلے ہی مدینہ کے لوگ مسلمان ہوئے تھے اور اسلام کی یہ جیتی جاگتی نعمت سب دیکھ رہے تھے، کہ اوس اور خزرج کے وہ قبیلے جو سالہا سال سے ایک دوسرے کے خون کے پیاسے تھے باہم مل کر شیروشکر ہوچکے تھے اور یہ دونوں قبیلے مکہ سے آنے والے مہاجرین کے ساتھ ایسے بےنظیر ایثار و محبت کا برتاؤ کر رہے تھے جو ایک خاندان کے لوگ بھی آپس میں نہیں کرتے۔ فرنگی مصنفین کا اعتراف : اپنی نوعیت کے انقلاب عظیم کا اعتراف آج فرنگی محققین بھی کر رہے ہیں (ملاحظہ ہو تفسیر انگریزی) جس طرح عرب قبل اسلام کی عداوتیں جو ضرب المثل تک پہنچی ہوئی تھیں اسی طرح بعد اسلام عرب کی آپس کی محبت، یگانگت، اخلاص بھی بےنظیر رہا، جہاں مکی مکی کا اور مدنی مدنی کا دشمن تھا وہاں اسلام نے مکہ کے مہاجرین اور مدینہ کے انصار کو ایسا شیر و شکر کردیا کہ دونوں واقعی بھائی بھائی معلوم ہونے لگے (انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا) ۔
Ayah 3:104

وَ لْتَكُنْ مِّنْكُمْ اُمَّةٌ یَّدْعُوْنَ اِلَى الْخَیْرِ وَ یَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ یَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ١ؕ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ Open ayah 3:104 in the Quran reader

اور تم میں ایک جماعت ایسی ہونی چاہے جو لوگوں کو نیکی کی طرف بلائے اور اچھے کام کرنے کا حکم دے اور برے کاموں سے منع کرے یہی لوگ ہیں جو نجات پانے والے ہیں

وَلْتَکُنْ مِّنْکُمْ اُمَّۃٌ یِّدْعُوْنَ اِلَی الْخِیْرِ (الآیۃ) سابقہ آیت میں ہر فرد کو ایک خاص انداز سے اپنی اصلاح کرنے کی ہدایت دی گئی کہ ہر شخص تقویٰ اختیار کرے اور اللہ تعالیٰ کے سلسلہ میں (اسلام) سے مربوط ہوجائے۔ مذکورہ دو آیتوں میں ہدایت دی جا رہی ہے کہ صرف اپنے اعمال و افعال کی اصلاح پر بس نہ کریں بلکہ اپنے دوسرے بھائیوں کی اصلاح کی فکر بھی ساتھ ساتھ رکھیں اسی صورت سے پوری قوم کی اصلاح بھی ہوگی اور ربط و اتحاد کو بقاء و قیام بھی ہوگا۔ مسلمانوں کی قومی اور اجتماعی فلاح دو چیزوں پر موقوف ہے : پہلے تقویٰ اور اعتصام بحبل اللہ کے ذریعہ اپنی اصلاح اور دوسرے دعوت و تبلیغ کے ذریعہ دوسروں کی اصلاح کی فکر۔ وَلْتَلُنْ مِّنْکُمْ ، میں اسی دوسری ہدایت کا بیان ہے۔ سورة (والعصر) کی آیت (اِلَّا الَّذِیْنَ آمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ ) میں اسی مضمون کو بیان فرمایا گیا ہے۔ قومی اجتماعی زندگی کے لیے جس طرح حبل متین اور اس کا اعتصام ضروری ہے اسی طرح اس رشتہ کے قیام و بقا کے لیے ضروری ہے کہ دوسرے بھائیوں کو احکام قرآن و سنت کے مطابق اچھے کاموں کی ہدایت اور برے کاموں سے روکنے کو ہر شخص اپنا فریضہ سمجھے تاکہ یہ رسی اس کے ہاتھ سے چھوٹ نہ جائے کیوں کہ اللہ تعالیٰ کی یہ رسی ٹوٹ نہیں سکتی ہاں البتہ چھوٹ سکتی ہے۔ اس لیے قرآن کریم نے اس رسی کے چھوٹنے کے خطرہ کے پیش نظر یہ ہدایت جاری فرمائی کہ ہر مسلمان جس طرح خود نیک عمل کرنے کو اور گناہ سے بچنے کو اپنا فرض سمجھتا ہے اس کو بھی ضروری سمجھے کہ دوسرے لوگوں کو بھی نیک عمل کی ہدایت اور برے عمل سے روکنے کی کوشش کرتا رہے۔ جس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ سب مل کر مضبوطی کے ساتھ اللہ کی رسی کو تھامے رہیں گے۔ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر، کسی نہ کسی درجہ میں چھوٹے پیمانہ پر تو ہر فرد امت پر فرض ہے، لیکن یہاں یہ بتانا مقصود ہے کہ ایک مستقل جماعت خاص اسی کام کے لیے ہونی چاہیے کہ مخلوق کو دعوت خیر دے اور برے کاموں سے روکے، کام کی اہمیت اور ضرورت کے پیش نظر ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ امت کا ہر فرد دعوت الی الخیر اور نہی عن المنکر کی پوری پوری ذمہ داری ادا کرے مگر اللہ تعالیٰ نے کمال رحمت اور ضعف بشری کی رعایت کرتے ہوئے تمام مخلوق کے بجائے اس فریضہ کی ادائیگی کے لیے ایک مخصوص جماعت مقرر فرما دی اور یہ اس لیے کہ جن اوصاف اور شرائط کی ضرورت ہے کیا عجب کہ بہت سوں کے لیے دشوار ہو۔
Ayah 3:105

وَ لَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِیْنَ تَفَرَّقُوْا وَ اخْتَلَفُوْا مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَهُمُ الْبَیِّنٰتُ١ؕ وَ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌۙ Open ayah 3:105 in the Quran reader

اور ان لوگوں کی طرح نہ ہونا جو متفرق ہوگئے اور احکام بین کے آنے کے بعد ایک دوسرے سے (خلاف و) اختلاف کرنے لگے یہ وہ لوگ ہیں جن کو (قیامت کے دن) بڑا عذاب ہوگا

وَلَا تَکُوْنُوْا کَالَّذِیْنَ تَفَرَّقُوْا (الآیۃ) اس سے معلوم ہوا کہ یہود و نصاریٰ کے باہمی اختلاف اور تفرقہ کی وجہ یہ نہ تھی کہ انہیں حق کا پتہ نہ تھا اور اس کے دلائل سے بیخبر تھے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ انہوں نے سب کچھ جانتے ہوئے محض اپنے دنیاوی مفاد اور نفسانی اغراض کے لیے اختلاف و تفرقہ کی راہ اختیار کی تھی، قرآن مجید نے مختلف اسلوب اور پیرائے میں اس حقیقت کی نشاندہی کی ہے اور اس سے دور رہنے کی تاکید فرمائی ہے۔ سیاہ چہرے والے اور سفید چہرے والے کون ہوں گے ؟: ان کی تعیین میں مفسرین کے مختلف اقوال مذکور ہیں، حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ اہل سنت کے چہرے سفید ہوں گے اور اہل بدعت کے چہرے سیاہ ہوں گے۔ حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ مہاجرین و انصار کے چہرے سفید ہوں گے اور بنی قریظہ اور بنی نضیر کے چہرے سیاہ ہوں گے۔ (قرطبی) ۔ امام ترمذی (رح) تعالیٰ علیہ نے حضرت ابو امامہ ؓ سے ایک حدیث نقل کی ہے کہ اس سے مراد خوارج ہیں یعنی سیاہ چہرے خوارج کے ہوں گے اور سفید چہرے ان لوگوں کے ہوں گے جن کو وہ قتل کریں گے۔ جب حضرت ابو امامہ ؓ سے پوچھا گیا کہ کیا تم نے یہ حدیث آپ ﷺ سے سنی ہے تو حضرت ابو امامہ ؓ نے شمار کرکے بتایا کہ اگر میں نے یہ حدیث سات مرتبہ نہ سنی ہوتی تو میں بیان نہ کرتا۔ (ترمذی)
Ayahs 3:106–110

یَّوْمَ تَبْیَضُّ وُجُوْهٌ وَّ تَسْوَدُّ وُجُوْهٌ١ۚ فَاَمَّا الَّذِیْنَ اسْوَدَّتْ وُجُوْهُهُمْ١۫ اَكَفَرْتُمْ بَعْدَ اِیْمَانِكُمْ فَذُوْقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْفُرُوْنَ Open ayah 3:106 in the Quran reader

جس دن بہت سے منہ سفید ہوں گے اور بہت سے سیاہ تو جن لوگوں کے منہ سیاہ ہوں گے (ان سے خدا فرمائے گا) کیا تم ایمان لا کر کافر ہوگئے تھے ؟ سو (اب) اس کفر کے بدلے عذاب (کے مزے) چکھو

وَ اَمَّا الَّذِیْنَ ابْیَضَّتْ وُجُوْهُهُمْ فَفِیْ رَحْمَةِ اللّٰهِ١ؕ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 3:107 in the Quran reader

اور جن لوگوں کے منہ سفید ہونگے وہ خدا کی رحمت (کے باغوں) میں ہوں گے اور ان میں ہمیشہ رہیں گے

تِلْكَ اٰیٰتُ اللّٰهِ نَتْلُوْهَا عَلَیْكَ بِالْحَقِّ١ؕ وَ مَا اللّٰهُ یُرِیْدُ ظُلْمًا لِّلْعٰلَمِیْنَ Open ayah 3:108 in the Quran reader

یہ خدا کی آیتیں ہیں جو ہم تم کو صحت کے ساتھ پڑھ کر سناتے ہیں اور خدا اہل عالم پر ظلم نہیں کرنا چاہتا

وَ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ اِلَى اللّٰهِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ۠ Open ayah 3:109 in the Quran reader

اور جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہے سب خدا ہی کا ہے اور سب کاموں کا رجوع (اور انجام) خدا ہی کی طرف ہے

كُنْتُمْ خَیْرَ اُمَّةٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ تَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ١ؕ وَ لَوْ اٰمَنَ اَهْلُ الْكِتٰبِ لَكَانَ خَیْرًا لَّهُمْ١ؕ مِنْهُمُ الْمُؤْمِنُوْنَ وَ اَكْثَرُهُمُ الْفٰسِقُوْنَ Open ayah 3:110 in the Quran reader

(مومنو ! ) جتنی امتیں (یعنی قومیں) لوگوں میں پیدا ہوئیں تم ان سب سے بہتر ہو کہ نیک کام کرنے کو کہتے ہو اور برے کاموں سے منع کرتے ہو اور خدا پر ایمان رکھتے ہو اور اگر اہل کتاب بھی ایمان لے آتے تو ان کے لیے بہت اچھا ہوتا ان میں ایمان لانے والے بھی ہیں (لیکن تھوڑے) اور اکثر نافرمان ہیں

آیت نمبر 110 تا 120 ترجمہ : اے امت محمد ﷺ تم اللہ کے علم میں بہترین جماعت ہو جن کو لوگوں کے لیے نکالا گیا تم بھلائی کا حکم دیتے ہو اور برائی سے روکتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو اور اگر اہل کتاب بھی اللہ پر ایمان لے آتے تو ایمان لانا ان کے حق میں خوب ہوتا ان میں سے کچھ تو مومن ہیں جیسا کہ عبد اللہ بن سلام اور ان کے ساتھی۔ مگر اکثر ان میں سے نافرمان (یعنی کافر) ہیں۔ اے مسلمانو ! یہ یہود زبانی گالی گلوچ اور دھمکی کی خفیف سی اذیت کے سوا تم کو کچھ نقصان نہ پہنچا سکیں گے اور اگر وہ تم سے مقابلہ کریں گے تو تمہیں پیٹھ دکھا کر شکست خوردہ ہو کر بھاگ جائیں گے پھر ان کو تمہارے خلاف مدد بھی نہ پہنچ سکے گی بلکہ تم کو ان کے خلاف مدد پہنچے گی، ان پر ذلت مسلط کردی گئی ہے خواہ وہ کہیں بھی پائے جائیں۔ ان کو عزت و استحکام حاصل نہ ہوگا۔ سوا اس کے کہ اللہ کی طرف سے کوئی عہد ہو یا لوگوں مسلمانوں کی طرف سے کوئی عہد ہو اور وہ جزیہ ادا کرنے کی صورت میں امن کا معاہدہ ہے۔ یعنی مذکورہ صورت کے علاوہ ان کو تحفظ حاصل نہ ہوگا۔ اور وہ اللہ کے غضب کو لے کر لوٹے اور ان پر خواری ڈال دی گئی۔ یہ (سب) اس وجہ سے ہوا کہ وہ اللہ کی آیتوں کے منکر ہوجایا کرتے تھے اور نبیوں کو بلاوجہ قتل کر ڈالتے تھے۔ اور یہ (سب) اس وجہ سے ہوا کہ انہوں نے اللہ کے حکم کی نافرمانی کی اور حلال سے حرام کی طرف تجاوز کرتے تھے سب اہل کتاب یکساں نہیں، ان ہی اہل کتاب میں سے ایک جماعت ایسی بھی ہے جو راہ راست پر قائم ہے اور حق پر ثابت قدم ہے جیسا کہ عبد اللہ بن سلام اور ان کے ساتھی۔ یہ لوگ اللہ کی آیتوں کو شب کے اوقات میں بحالت نماز پڑھتے ہیں، یہ اللہ پر اور روز قیامت پر ایمان رکھتے ہیں اور بھلائی کا حکم دیتے ہیں، اور برائی سے روکتے ہیں۔ اور اچھی باتوں کی طرف دوڑتے ہیں۔ یہ (یعنی) مذکورہ اوصاف کے حاملین ہی نیک لوگوں میں سے ہیں اور ان میں کچھ ایسے بھی ہیں جو ان صفات کے حامل نہیں ہیں اور نہ نیک لوگوں میں سے ہیں۔ اور جو کچھ بھی تم زیادہ یعنی امت قائمہ نیکی کرو گے اس کی ہرگز ناقدری نہ کی جائے گی دونوں صورتوں میں بایں طور کر اس کے ثواب سے محروم کر دئیے جائیں بلکہ ان کو اس کا صلہ دیا جائے گا اور اللہ پرہیزگاروں کو خوب جانتا ہے۔ بیشک جن لوگوں نے کفر اختیار کیا ہرگز ان سے اللہ کے عذاب کو ذرا بھی ان کے مال اور ان کی اولاد دفع نہ کرسکیں گے اور ان دونوں کا ذکر خاص طور پر اس لیے کیا کہ انسان کبھی اپنی ذات کا دفاع مال دے کر کرتا ہے اور کبھی اولاد سے مدد طلب کرکے (کرتا ہے) ۔ یہی لوگ تو دوزخی ہیں وہ اس میں ہمیشہ پڑے رہیں گے۔ اور یہ کفار اس دنیوی زندگی میں نبی ﷺ کی عداوت میں صدقہ وغیرہ کے طور پر جو خرچ کرتے ہیں اس کی مثال اس ہوا کی ہے جس میں شدید سردی یا شدید گرمی ہو کسی قوم کی فصل کو لگ جائے جنہوں نے کفر و معصیت کے ذریعہ اپنے اوپر ظلم کیا ہو پھر وہ ہوا اس کھیتی کو برباد کر دے کہ جس سے وہ مستفید نہ ہوسکیں اسی طرح ان کے صدقات ہیں کہ ان کو ان صدقات سے کچھ فائدہ نہیں ہوتا۔ ان کے صدقات کو ضائع کرکے اللہ نے ان پر ظلم نہیں کیا بلکہ انہوں نے کفر کے ذریعہ جو کہ نفقات کی بربادی کا سبب ہے خود اپنے اوپر ظلم کیا۔ اے ایمان والو ! تم اپنوں کے علاوہ یہود و منافقین میں سے کسی کو گہرا دوست نہ بناؤ کہ وہ تمہارے رازوں سے واقف ہوجائیں وہ لوگ تمہارے ساتھ فساد میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھتے، خَبَالاً ، حذف جار کی وجہ سے منصوب ہے۔ یعنی تمہارے ساتھ فساد میں کوئی کمی کوتاہی نہیں کریں گے۔ اور تم کو تکلیف پہنچنے کی آرزو رکھتے ہیں۔ یعنی تمہارے دکھ کی اور وہ شدید نقصان ہے۔ اور تمہاری دشمنی تو ان کی زبان سے تمہاری غیبت کرکے اور مشرکوں کو تمہارے راز کی اطلاع کرکے ظاہر ہوچکی ہے اور جو عداوت وہ اپنے سینوں میں چھپائے ہوئے ہیں وہ تو اور بھی بڑی ہے ہم تو تمہارے ساتھ ان کی عداوت کی نشانیاں کھول کھول کر بیان کرچکے ہیں اگر تم اس بات کو سمجھو گے تو ان کے ساتھ گہری دوستی نہ کروگے، اے مومنو ! تم ایسے ہو کہ ” ھا “ تنبیہ کے لیے ہے۔ ان کی تم سے رشتہ داری اور دوستی کی وجہ سے ان سے محبت رکھتے ہو۔ اور وہ دین میں تمہارے ساتھ مخالفت کی وجہ سے تم سے محبت نہیں رکھتے۔ اور تم تمام کتابوں پر ایمان رکھتے ہو اور وہ تمہاری کتاب پر ایمان نہیں رکھتے، اور یہ جب تم سے ملتے ہیں تو کہ دیتے ہیں کہ ہم ایمان لے آئے اور جب الگ ہوتے ہیں تو تم پر شدید غیظ سے انگلیاں (یعنی پوروے) کاٹ کاٹ کھاتے ہیں اس لیے کہ وہ تمہاری باہمی الفت کو دیکھتے ہیں، اور شدت غضب کو عَضً انامل سے مجازاً تعبیر کیا ہے اگرچہ اس موقع پر (حقیقت) میں انگلیاں کاٹنا نہ ہو۔ آپ کہہ دیجئے کہ تم غصہ میں مرجاؤ۔ یعنی تم تامرگ غصہ میں مبتلا رہو، اور تم ہرگز خوش کن چیز نہ دیکھو گے۔ بیشک اللہ تعالیٰ دلوں کی باتوں کو خوب جانتا ہے اور انہی باتوں میں سے وہ باتیں بھی ہیں جن کو یہ لوگ چھپائے ہوئے ہیں، اگر تمہیں کوئی اچھی حالت پیش آجاتی ہے مثلاً نصرت اور غنیمت تو ان کو یہ بات غمزدہ کرتی ہے۔ اور اگر تم پر کوئی بری حالت پڑتی ہے مثلاً شکست اور قحط سالی تو اس سے یہ خوش ہوتے ہیں اور جملہ شرطیہ (اِنْ تَمْسَسْکُمْ الخ) ماقبل شرط (وَاِذا لَقُوْکُمْ الخ) سے متصل ہے اور ان دونوں کے درمیان جملہ معترضہ ہے۔ (اور وہ مُوْتُوْا بِغَیْظِکُمْ الخ) ہے۔ مطلب یہ ہے کہ وہ تمہاری دشمنی میں انتہا کو پہنچے ہوئے ہیں۔ تو پھر تم ان سے (گہری) دوستی کیوں کرتے ہو ؟ تم کو تو ان سے محتاط رہنا چاہیے۔ اور اگر تم ان کی ایذا رسانی پر صبر وتقویٰ اختیار کیے رہو اور ان سے دوستی وغیرہ کے بارے میں اللہ سے ڈرتے رہو تو ان کی چالیں تمہارا کچھ نہ بگاڑ سکیں گی (لایَضُرِّکم) ضاد کے کسرہ اور راء کے سکون اور ضاد کے ضمہ اور راء کی تشدید کے ساتھ (بھی قراءت ہے) بیشک اللہ تعالیی تمہارے اعمال کا پورا علمی احاطہ کیے ہوئے ہے (یعملون) یاء اور تاء کے ساتھ ہے۔ لہٰذا وہ تم کو (اور) ان کو جزاء دے گا۔ تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد کُنْتُمْ خَیْرَ اُمَّۃٍ ۔ اُمَّۃ۔ کا لفظ چونکہ عام ہے لہٰذا صحابہ اور غیر صحابہ سب کو شامل ہے۔ قولہ : فی علم اللہ تعالیٰ ۔ سوال : فی علم اللہ، کے اضافہ کا کیا فائدہ ہے ؟ جواب : ’ کنتم ‘ ماضی کا صیغہ ایسے حدوث پر دلالت کرتا ہے جو مسبوق بالعدم اور منقطع بطریان العدم ہو اس لیے فی علم اللہ کے لفظ کا اضافہ کردیا تاکہ مذکورہ شبہ دور ہوجائے اس لیے کہ اللہ کے علم کو نہ عدم سابق صحیح ہے اور نہ عدم لاحق۔ قولہ : کائنین، یہ لفظ مقدر مان کر اشارہ کردیا کہ بحبل من اللہ حال ہے۔ قولہ : لَاعَصْمَۃ لَھُمْ غیر ذٰلک۔ اس میں مستثنیٰ منہ محذوف کی طرف اشارہ ہے۔ قولہ : باء و، بَوْءٌ، سے ماضی جمع مذکر غائب، وہ لوٹے قولہ : یُصَلّون، حالٌ یسجدون کی تفسیر یصلون سے کرکے اشارہ کردیا کہ یسجدون بمعنی یصلون ہے اس لیے کہ سجدہ میں تلاوت نہیں ہوتی اور ھم مقدر مان کر حال ہونے کی طرف اشارہ کردیا۔ لہٰذا یہ اعتراض ختم ہوگیا کہ اوجز اور مختصر یہ تھا کہ وَیَسْجدون کہتے۔ قولہ : بطانۃ۔ اَستر۔ بدن سے لگا ہوا کپڑا۔ یہ جگری دوست سے کنایہ ہے۔ جاء فی الحدیث۔ اَلَانصار شعار والناس دثار۔ الشعار ثوبٌ علی الجسد والدثار فوقہٗ ۔ قولہ : الوقیعہ جمع وقائع، فتنہ، غیبت۔ قولہ : ذلک اس میں اشارہ ہے کہ تفعلون کا مفعول محذوف ہے۔ قولہ : فلا تُوَالُوْھُمْ ، اس میں اشارہ ہے کہ شرط کی جزاء محذوف ہے۔ قولہ : وجملۃ الشرط متصلۃ بالشرط قبلُ ۔ مطلب یہ ہے کہ شرط اور جملہ شرطیہ کے درمیان فصل بالاجنبی نہیں ہے اس لیے کہ درمیان میں جملہ معترضہ ہے اور جملہ معترضہ کا درمیان میں آنا عام بات ہے۔ اللغۃ والبلاغۃ صنعتِ طباق (مقابلہ) مذکورہ آیت میں متعدد طباق ہیں (تَامُرُوْنَ ، تَنْھَوْن) (المعروف والمنکر) (المؤمنون والفٰسقون) ۔ استعارہ تصریحیہ : لاتتخذوا بِطَانۃ مِن دُوْنِکم۔ اس میں استعارہ تصریحیہ ہے بِطَانَۃٌ کے اصل معنی استر، وہ کپڑا جو اندر کی جانب لگایا جاتا ہے۔ یہاں بطانۃ سے جگری دوست، رازدار کے معنی مراد ہیں، جگری دوست کو بطانۃ سے تشبیہ دی ہے۔ استعارہ تمثیلیہ : وَاِذَاخَلَوْا عَضُّوْا عَلَیْکُمُ الْاَنَامِلَ مِنَ الْغَیْظِ ۔ دشمن کی حالت غیظ و غضب کو نادم و متحیر کی انگشت بدنداں کیفیت سے تشبیہ دی گئی ہے۔ خَبَالاً : الخَبَال بفتح الخاء الفساد یقال خَبَلَہٗ وَخَبَّلَہٗ بالتخفیف والتشدید خبَّلہُ الشّیطان، شیطان نے اس کو باؤلا، مجنون بنادیا۔ عَنِتُّمْ : العَنَتْ بفتح العین والنون۔ شدۃ الضرر و المشقۃ۔ تفسیر و تشریح کُنْتُمْ خَیْرَ اُمَّۃٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاس (الآیۃ) اس آیت میں امت مسلمہ کو خیر امت قرار دیا گیا ہے، اور اسکی علت بھی بیان کردی گئی ہے جو ایمان باللہ اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر ہے، مطلب یہ کہ اگر یہ امت، دعوت کی ان امتیازی خصوصیات سے متصف رہے گی تو یہ خیر امت کے لقب کی مستحق ہے بصورت دیگر اس امتیاز سے محروم قرار پاسکتی ہے۔ اس کے بعد اہل کتاب کی مذمت سے ابھی اسی نکتے کی وضاحت معلوم ہوتی ہے یعنی جو امر بالمعروف اور نہی عن المنکر نہ کرے گا وہ اہل کتاب کے مشابہ قرار پائے گا، اہل کتاب کی صفت بیان کرتے ہوئے فرمایا ” کَانُوْا لَا یَتَنَاھَوْنَ عَنْ مُّنْکَرٍ فَعَلُوْہُ “ وہ ایک دوسرے کو برائی سے نہیں روکتے تھے۔ امر بالمعروف فرض عین ہے یا فرض کفایہ ؟: اکثر علماء کے نزدیک فرض کفایہ ہے یعنی علماء کی ذمہ داری ہے کہ وہ یہ فرض ادا کرتے رہیں کیوں کہ معروف اور منکر شرعی کا صحیح علم علماء ہی رکھتے ہیں۔ ان کے فریضہ تبلیغ و دعوت کی ادائیگی سے دیگر ادفراد امت کی طرف سے یہ فرض ساقط ہوجائے گا جیسے جہاں بھی عام حالات میں فرض کفایہ ہے، یعنی ایک جماعت کی طرف سے اس فرض کی ادائیگی امت کی جانب سے ادائیگی ہوجائے گی۔ یہ وہی مضمون ہے جو سورة بقرہ کے سترہویں رکوع میں بیان ہوچکا ہے، آپ ﷺ کے متبعین کو بتایا جا رہا ہے کہ دنیا میں امامت و رہنمائی کے جس منصب سے بنی اسرائیلی کو ان کی نااہلی کی وجہ سے معزول کردیا گیا۔ اس پر اب تم فائز کیے گئے ہو، اس لیے اخلاق و اعمال کے لحاظ سے اب تم دنیا میں سب سے بہتر جماعت بن گئے ہو اور تم میں وہ صفات پیدا ہوگئی ہیں جو امامت عادلہ کے لیے ضروری ہیں یعنی نیکی کو قائم کرنے اور بدی کو مٹانے کا جذبہ، لہٰذا اب یہ کام تمہارے سپرد ہے اور تمہارے اوپر لازم ہے کہ اپنی ذمہ داریوں کو سمجھو اور ان غلطیوں سے بچو جو تمہارے پیش رو کرچکے ہیں۔
Ayahs 3:111–112

لَنْ یَّضُرُّوْكُمْ اِلَّاۤ اَذًى١ؕ وَ اِنْ یُّقَاتِلُوْكُمْ یُوَلُّوْكُمُ الْاَدْبَارَ١۫ ثُمَّ لَا یُنْصَرُوْنَ Open ayah 3:111 in the Quran reader

اور یہ تمہیں خفیف سی تکلیف کے سوا کچھ نقصان نہیں پہنچا سکیں گے اور اگر تم سے لڑیں گے تو پیٹھ پھیر کر بھاگ جائیں گے پھر ان کو مدد بھی (کہیں سے) نہیں ملے گی

ضُرِبَتْ عَلَیْهِمُ الذِّلَّةُ اَیْنَ مَا ثُقِفُوْۤا اِلَّا بِحَبْلٍ مِّنَ اللّٰهِ وَ حَبْلٍ مِّنَ النَّاسِ وَ بَآءُوْ بِغَضَبٍ مِّنَ اللّٰهِ وَ ضُرِبَتْ عَلَیْهِمُ الْمَسْكَنَةُ١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ كَانُوْا یَكْفُرُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ یَقْتُلُوْنَ الْاَنْۢبِیَآءَ بِغَیْرِ حَقٍّ١ؕ ذٰلِكَ بِمَا عَصَوْا وَّ كَانُوْا یَعْتَدُوْنَۗ Open ayah 3:112 in the Quran reader

یہ جہاں نظر آئیں گے ذلت کو دیکھو گے کہ ان سے چمٹ رہی ہے بجز اس کے کہ یہ خدا اور (مسلمان) لوگوں کی پناہ میں آجائیں اور یہ لوگ خدا کے غضب میں گرفتار ہیں اور ناداری ان سے لپٹ رہی ہے یہ اس لئے کہ خدا کی آیتوں سے انکار کرتے تھے اور (اسکے) پیغمبروں کو ناحق قتل کردیتے تھے یہ اس لیے کہ یہ نافرمانی کیے جاتے اور حد سے بڑھے جاتے تھے

ضُرِبَتْ عَلَیْھِمُ الذِّلَّۃُ اَیْنَ مَا ثُقِفُوْآ اِلاَّ بِحَبْلِ مِّنَ اللہِ (الآیۃ) بنی اسرائیل کی مغضوبیت اور پستی و ذلت، ان کی جانوں اور مالوں اور ان کی بےوقعتی اور ناقدری خلق اللہ کے دلوں میں پیدا ہوگئی ہے اور تاریخ کی شہادت ہے کہ یہود کی یہ ذلت اور پست حالی زمانہ نزول قرآن تک رہی بلکہ اس کے بعد بھی صدہاسال اسی طرح قائم رہی، چناچہ بیسویں صدی کے ثلث اول تک یہود کی جو گت جرمنی میں، ہنگری میں، اٹلی میں، زیکوسلواکیہ میں اور دیگر ملکوں میں باوجود ان کی خوشحالی اور زرداری کے بن چکی ہے وہ بجائے خود اس آیت کی تفسیر ہے اس کی مفصل تشریح سورة بقرہ کے رکوع 6 میں گزر چکی ہے قند مکرر کے طور پر یہاں اتنا عرض ہے کہ اگر دنیا میں کہیں ان کو تھوڑا بہت امن چین نصیب ہوا بھی ہے تو وہ ان کے اپنے بل بوتے پر نہیں ہوا، بلکہ دوسروں کی حمایت اور مہربانی کا نتیجہ ہے قرآن کا فیصلہ ہے کہ یہود پر ذلت و خواری لگی رہے گی مگر دو صورتوں میں وہ اس ذلت سے بچ سکتے ہیں ایک اللہ کا عہد مثلاً نابالغ بچہ یا عورت یا گوشہ نشین راہب ہونے کی بنا پر بحکم خداوندی وہ قتل وغیرہ سے مامون ہیں، دوسرے بحبل من الناس لوگوں سے معاہدہ صلح کی بنا پر ان کی ذلت و خواری کا ظہور نہ ہو اس جگہ قرآن کے الفاظ بحبل من الناس جو مومن اور کافر سب کو شامل ہیں اس میں یہ صورت بھی داخل ہے کہ یہ لوگ مسلمانوں سے معاہدہ صلح کرکے بےفکر ہوجائیں، جیسا کہ حکومت اسرائیل کی موجودہ صورت حال ہے جو کہ کسی صاحب بصیرت پر مخفی نہیں کہ اسرائیل کی حکومت امریکہ و برطانیہ وغیرہ کی ایک مشترکہ چھاؤنی ہے اس سے زیادہ کچھ نہیں اس کی جو قوت نظر آتی ہے وہ سب دوسروں کے بل بوتے پر ہے، اگر امریکہ برطانیہ، روش وغیرہ آج اس سے دست بردار ہوجائیں تو ایک دن بھی اس کا وجود قائم نہیں رہ سکتا۔ ذَلِکَ بِمَا عَصَوْا وَکَانُوْا یَعْتَدُوْنَ ۔ یہ ان کے کرتوت ہیں جن کی پاداش میں ان پر ذلت مسلط کی گئی۔
Ayah 3:113

لَیْسُوْا سَوَآءً١ؕ مِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ اُمَّةٌ قَآئِمَةٌ یَّتْلُوْنَ اٰیٰتِ اللّٰهِ اٰنَآءَ الَّیْلِ وَ هُمْ یَسْجُدُوْنَ Open ayah 3:113 in the Quran reader

یہ بھی سب ایک جیسے نہیں ہیں ان اہل کتاب میں کچھ لوگ (حکم خدا پر) قائم بھی ہیں جو رات کے وقت خدا کی آیتیں پڑھتے اور (اسکے آگے) سجدے کرتے ہیں

لَیسُوْا سَوَآءً مِّنْ اَھْلِ الْکِتَابِ (الآیۃ) یعنی سارے اہل کتاب ایسے نہیں کہ جن کی مذمت پچھلی آیات میں بیان کی گئی ہے بلکہ ان میں سے کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جیسے عبد اللہ بن سلام اسد بن عبید اللہ، ثعلبہ بن سعید، اُسَید بن سعید وغیرہ۔ جنہیں اللہ تعالیٰ نے شرف اسلام سے نوازا۔
Ayahs 3:114–117

یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ یَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ یَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَ یُسَارِعُوْنَ فِی الْخَیْرٰتِ١ؕ وَ اُولٰٓئِكَ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 3:114 in the Quran reader

(اور) خدا پر اور روز آخرت پر ایمان رکھتے اور اچھے کام کرنے کو کہتے اور بری باتوں سے منع کرتے اور نیکیوں پر لپکتے ہیں اور یہی لوگ نیکوکار ہیں

وَ مَا یَفْعَلُوْا مِنْ خَیْرٍ فَلَنْ یُّكْفَرُوْهُ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِالْمُتَّقِیْنَ Open ayah 3:115 in the Quran reader

اور یہ جس طرح کی نیکی کریں گے اس کی ناقدری نہیں کی جائے گی اور خدا پرہیزگاروں کو خوب جانتا ہے

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَنْ تُغْنِیَ عَنْهُمْ اَمْوَالُهُمْ وَ لَاۤ اَوْلَادُهُمْ مِّنَ اللّٰهِ شَیْئًا١ؕ وَ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 3:116 in the Quran reader

جو لوگ کافر ہیں ان کے مال اور اولاد خدا کے عذاب کو ہرگز نہیں ٹال سکیں گے اور یہ لوگ اہل دوزخ ہیں کہ ہمیشہ اسی میں رہیں گے

مَثَلُ مَا یُنْفِقُوْنَ فِیْ هٰذِهِ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا كَمَثَلِ رِیْحٍ فِیْهَا صِرٌّ اَصَابَتْ حَرْثَ قَوْمٍ ظَلَمُوْۤا اَنْفُسَهُمْ فَاَهْلَكَتْهُ١ؕ وَ مَا ظَلَمَهُمُ اللّٰهُ وَ لٰكِنْ اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَ Open ayah 3:117 in the Quran reader

یہ جو مال دنیا کی زندگی میں خرچ کرتے ہیں اس کی مثال ہوا کی سی ہے جس میں سخت سردی ہو اور وہ ایسے لوگوں کی کھیتی پر جو اپنے آپ پر ظلم کرتے تھے چلے اور اسے تباہ کردے اور خدا نے ان پر کچھ ظلم نہیں کیا بلکہ یہ خود اپنے اوپر ظلم کر رہے ہیں

مَثَلُ مَایُنْفِقُوْنَ فِیْ ھٰذِہِ الْحَیَاۃِ الدُّنْیَا (الآیۃ) ایک عام فہم اور ظاہر مثال سے یہ سمجھایا گیا ہے کہ قیامت کے دن کافروں کے نہ کچھ مال کام آئے گا اور نہ اولاد حتیٰ کہ رفاہی اور ظاہری بھلائی کے کاموں پر جو خرچ کرتے ہیں وہ بھی بےکار ہوجائیں گے اور ان کی مثال اس سخت پالے کی سی ہے جوہری بھری کھیتی کو جلا کر خاکستر کردیتا ہے ظالم اس کھیتی کو دیکھ کر خوش ہو رہے ہوتے ہیں اور اس سے نفع کی امید رکھتے ہیں کہ اچانک ان کی امیدیں خاک میں مل جاتی ہیں۔ اس مثال میں کھیتی سے مراد کشت حیات ہے جس کی فصل آدمی کو آخرت میں کاٹنی ہے۔ (الدنیا مزرعۃ الآخرۃ) ۔ ” ہوا “ سے مراد اوپرہ جذبہ خیر ہے جس کی بنا پر کفار رفاہ عام کے کاموں اور خیرات وغیرہ میں دولت صرف کرتے ہیں، اور ” پالے “ سے مراد صحیح ایمان اور ضابطہ خداوندی کی پیروی کا فقدان ہے جس کی وجہ سے اس کی پوری زندگی غلط رخ پر پڑجاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ اس تمثیل سے یہ بتانا چاہتا ہے کہ جس طرح ہوا کھیتوں کی پرورش اور نشو و نما کے لیے مفید ہے لیکن اگر اسی ہوا میں پالا ہو تو وہ کھیتی کو پرورش کرنے کے بجائے اسے تباہ کر ڈالتی ہے اسی طرح خیرات بھی اگرچہ انسان کی کشت آخرت کو پرورش کرنے والی چیز ہے مگر جب اس کے اندر کفر وریا و نمود کا زہر ملا ہو تو یہی خیرات مفید ہونے کے بجائے الٹی مہلک بن جاتی ہے۔
Ayah 3:118

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوْا بِطَانَةً مِّنْ دُوْنِكُمْ لَا یَاْلُوْنَكُمْ خَبَالًا١ؕ وَدُّوْا مَا عَنِتُّمْ١ۚ قَدْ بَدَتِ الْبَغْضَآءُ مِنْ اَفْوَاهِهِمْ١ۖۚ وَ مَا تُخْفِیْ صُدُوْرُهُمْ اَكْبَرُ١ؕ قَدْ بَیَّنَّا لَكُمُ الْاٰیٰتِ اِنْ كُنْتُمْ تَعْقِلُوْنَ Open ayah 3:118 in the Quran reader

مومنو ! کسی غیر (مذہب کے آدمی) کو اپنا رازدار نہ بنانا یہ لوگ تمہاری خرابی (اور فتنہ انگیزی کرنے میں) کسی طرح کوتاہی نہیں کرتے اور چاہتے ہیں کہ (جس طرح ہو) تمہیں تکلیف پہنچے ان کی زبانوں سے تو دشمنی ظاہر ہو ہی چکی ہے اور جو (کینے) ان کے سینوں میں مخفی ہیں وہ کہیں زیادہ ہیں اگر تم عقل رکھتے ہو تو ہم نے تم کو اپنی آیتیں کھول کھول کر سنادی ہیں

یٰایُّھَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا لَاتَتَّخِذُوْا بِطَانَۃً مِّنْ دُوْنِکُمْ (الآیۃ) اے ایمان والو ! مسلمانوں کے علاوہ کسی کو اپنا راز دار دوست نہ بناؤ۔ مدینہ کے اطراف میں جو یہودی آباد تھے ان کے ساتھ اَوْس اور خزرج کے لوگوں کے قدیم تعلقات تھے انفرادی طور پر بھی بعض کے بعض سے ذاتی تعلقات تھے اور اجتماعی بھی، جب اوس اور خزرج کے دونوں قبیلے مسلمان ہوگئے تو اس کے بعد بھی اوس اور خزرج کے تعلقات کو نبھاتے رہے لیکن یہودیوں کو حضرت خاتم الانبیا ﷺ سے اور آپ کے لائے ہوئے دین سے جو عداوت تھی اس کی بناء پر انہوں نے انصار کے ساتھ تو بظاہر وہی تعلقات رکھے جو پہلے سے چلے آرہے تھے مگر دل میں اب وہ ان کے دشمن ہوچکے تھے۔ اور اسی ظاہری دوستی سے ناجائز فائدہ اٹھا کر ہر وقت اس کوشش میں لگے رہتے تھے کہ کس طرح مسلمانوں کی جماعت میں اندرونی فتنہ و فساد برپا کردیں اور ان کے جماعتی راز معلوم کرکے ان کے دشمنوں تک پہنچائیں، اللہ یہاں ان کی منافقانہ روش سے مسلمانوں کو محتاط رہنے کی ہدایت فرما رہے ہیں اور ایک نہایت ہی اہم ضابطہ بیان فرماتے ہیں کہ یٰاَیُّھَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا لَاتَتَّخِذُوْا مِّنْ دُوْنِکُمْ ۔ یعنی ایمان والو ! اپنے یعنی مسلمانوں کے علاوہ کسی کو گہرا دوست نہ بناؤ۔ اس آیت کے ذریعہ مسلمانوں کو حکم دیا گیا ہے کہ اپنی ملت والوں کے سوا کسی کو اپنا معتمد اور مشیر نہ بناؤ کہ اس سے اپنے اور اپنی ملت و حکومت کے راز کھول دو ، افسوس ہے کہ مسلمانوں نے اس آیت کے حکم پر عمل میں سستی اور مداہنت شروع کردی اور ابھی رسول اللہ ﷺ کو چند صدیاں بھی نہیں گزرنے پائی تھیں کہ سلطنت کے کاروبار میں کھلم کھلا مسیحیوں، مجوسیوں وغیرہ کو شریک کیا جانے لگا۔ امام قرطبی کا زمانہ پانچویں صدی ہجری کا ہے حسرت، قلق اور درد کے لہجے میں لکھتے ہیں۔ وقَدْ انقلبت الاحوال فی ھذہ الازمان باتخاذ اھل الکتاب کتبۃ وامناء وتسودوا بذلک عند الجھلۃ الاغنیاء من الولاۃ والامراء (قرطبی) ۔ یہ حال اس زمانہ کا تھا، تو آج پندرہویں صدی ہجری میں جب کہ زندگی کے ہر شعبہ میں منکروں کا غلبہ اور تسلط مسلمانوں پر نمایاں ہے کیا حال ہوگا، اللہ تعالیٰ مسلمان حکمرانوں کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے۔
Ayahs 3:119–121

هٰۤاَنْتُمْ اُولَآءِ تُحِبُّوْنَهُمْ وَ لَا یُحِبُّوْنَكُمْ وَ تُؤْمِنُوْنَ بِالْكِتٰبِ كُلِّهٖ١ۚ وَ اِذَا لَقُوْكُمْ قَالُوْۤا اٰمَنَّا١ۖۗۚ وَ اِذَا خَلَوْا عَضُّوْا عَلَیْكُمُ الْاَنَامِلَ مِنَ الْغَیْظِ١ؕ قُلْ مُوْتُوْا بِغَیْظِكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 3:119 in the Quran reader

دیکھو تم ایسے (صاف دل) لوگ ہو کہ ان لوگوں سے دوستی رکھتے ہو حالانکہ وہ تم سے دوستی نہیں رکھتے اور تم سب کتابوں پر ایمان رکھتے ہو (اور وہ تمہاری کتاب کو نہیں مانتے) اور جب تم سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں ہم ایمان لے آئے اور جب الگ ہوتے ہیں تو تم پر غصے کے سبب انگلیاں کاٹ کھاتے ہیں (ان سے) کہہ دو کہ (بدبختو ! ) غصے میں مرجاؤ خدا تمہارے دلوں کی باتوں سے خوب واقف ہے

اِنْ تَمْسَسْكُمْ حَسَنَةٌ تَسُؤْهُمْ١٘ وَ اِنْ تُصِبْكُمْ سَیِّئَةٌ یَّفْرَحُوْا بِهَا١ؕ وَ اِنْ تَصْبِرُوْا وَ تَتَّقُوْا لَا یَضُرُّكُمْ كَیْدُهُمْ شَیْئًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِمَا یَعْمَلُوْنَ مُحِیْطٌ۠ Open ayah 3:120 in the Quran reader

اگر تمہیں آسودگی حاصل ہو تو ان کو بری لگتی ہے اور اگر رنج پہنچے تو خوش ہوتے ہیں اور اگر تم تکلیفوں کی برداشت اور (ان سے) کنارہ کشی کرتے رہو گے تو ان کا فریب تمہیں کچھ نقصان نہ پہنچا سکے گا جو کچھ کرتے ہیں خدا اس پر احاطہ کئے ہوئے ہے

وَ اِذْ غَدَوْتَ مِنْ اَهْلِكَ تُبَوِّئُ الْمُؤْمِنِیْنَ مَقَاعِدَ لِلْقِتَالِ١ؕ وَ اللّٰهُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌۙ Open ayah 3:121 in the Quran reader

اور (اس وقت کو یاد کرو) جب تم صبح کو اپنے گھر سے روانہ ہو کر ایمان والوں کو لڑائی کے لیے مورچوں پر (موقع بہ موقع) متعین کرنے لگے اور خدا سب کچھ سنتا اور جانتا ہے

آیت نمبر 121 تا 129 ترجمہ : اور اے محمد ﷺ وہ وقت یاد کرو جب آپ مدینہ سے اپنے اہل کے پاس سے نکلے تھے، مسلمانوں کو قتال کے مناسب مراکز پر کھڑے کرتے ہوئے اور اللہ ان کے اقوال کو بڑا سننے والا اور ان کے احوال کو بڑا جاننے والا ہے اور یہ احد کا دن تھا۔ آپ ﷺ ہزار یا پچاس کم ہزار افراد کے ساتھ نکلے تھے، اور مشرکوں کی تعداد تین ہزار تھی 3 ھ کے ماہ شوال کی ساتویں تاریخ بروز شنبہ گھاٹی میں نزول فرمایا، اور احد پہاڑ کی جانب اپنی اور لشکر کی پشت رکھی، اور آپ ﷺ نے لشکر کی صفوں کو درست فرمایا، اور تیر اندازوں کا ایک دستہ جس پر عبد اللہ بن جبیر کو سالار نام زد فرمایا تھا پہاڑ کی ایک گھاٹی پر متعین فرمایا۔ اور فرمایا کہ تیر اندازی کے ذریعہ (دشمن کو) منتشر کرکے تم ہمارا دفاع کرتے رہنا، تاکہ دشمن ہماری پشت کی جانب سے نہ آسکے، اور اپنی جگہ ہرگز نہ چھوڑنا خواہ ہم مغلوب ہوں یا غالب۔ جب تم میں سے دو جماعتیں، یہ اذ، سابقہ اذ، سے بدل ہے، بنو سلمہ اور بنو حارثہ جو کہ لشکر کے دو بازو تھے، یہ خیال کر بیٹھی تھیں کہ ہمت ہار دیں۔ یعنی قتال سے بزدلی دکھائیں اور واپس چلی جائیں۔ جب کہ عبد اللہ بن ابی منافق اور اس کے ساتھی یہ کہتے ہوئے واپس ہوئے کہ ہم کیوں اپنی جانوں کو اور اپنی اولادوں کو قتل کرائیں ؟ اور (عبد اللہ بن ابی) نے ابو حاتم سلمی سے کہا تھا کہ میں تم کو تمہاری جانوں اور تمہارے نبی کے بارے میں حفاظت کی قسم دیتا ہوں، کہا اگر ہم (اس کو) قتال سمجھتے تو ضرور تمہارا ساتھ دیتے۔ (یعنی یہ قتال نہیں ہلاکت ہے) تو اللہ تعالیٰ نے دونوں جماعتوں کو ثابت قدمی عطا فرمائی اور یہ لوگ واپس نہیں ہوئے، درآنحالیکہ اللہ دونوں کا مددگار تھا اور مسلمانوں کو تو اللہ ہی پر اعتماد کرنا چاہیے نہ کہ کسی اور پر، (آئندہ آیت) اللہ کی نعمتوں کو یاد دلانے کیلئے اس وقت نازل ہوئی جب مسلمان شکست کھا گئے اور یقیناً بدر میں جو مکہ اور مدینہ کے درمیان ایک مقام ہے اللہ تعالیٰ نے تمہاری مدد کی، حالانکہ تم تعداد میں اور آلات کے اعتبار سے کم تھے۔ اللہ سے ڈرتے رہو تاکہ تم اس کی نعمتوں کے شکر گزار بن جاؤ۔ اس وقت کو یاد کیجئے کہ جب آپ مؤمنین کے قلوب کو مطمئن کرنے کے لئے مومنین سے وعدہ کر رہے تھے، کیا تمہارے لیے کافی نہیں کہ تمہارا پروردگار تین ہزار نازل کردہ فرشتوں سے تمہاری مدد کرے (منزلین) میں تخفیف اور تشدید دونوں قراءتیں ہیں۔ بیشک یہ مقدار تمہارے لیے کافی ہوگی۔ اور سورة انفال میں ہزار کا ذکر ہے۔ اس لیے کہ ابتداءً ان کی مدد ایک ہزار سے فرمائی تھی، پھر تین ہزار ہوگئے پھر پانچ ہزار، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اگر تم دشمن سے مقابلہ کے وقت صبر کرو اور اللہ کی مخالفت سے ڈرتے رہو اور مشرکین جب تمہارے اوپر اچانک آپڑیں تو اللہ تعالیٰ پانچ ہزار نشان زدہ (منتخب) فرشتوں سے تمہاری مدد کرے گا۔ واؤ۔ کے کسرہ اور فتحہ کے ساتھ۔ یعنی آداب حرب سیکھے ہوئے (پہلی صورت میں) یا تربیت یافتہ (دوسری صورت میں) اور ان لوگوں نے صبر کیا، اور اللہ نے اپنا وعدہ پورا فرمادیا۔ بایں طور کی فرشتوں نے اَبْلَقْ گھوڑوں پر سوار ہو کر مشرکوں سے قتال کیا جو کہ زرد یا سفید عمامے باندھے ہوئے تھے۔ اور ان کے شملے دونوں کندھوں کے درمیان لٹکے ہوئے تھے۔ اور یہ مدد تو اللہ نے اس لیے کہ تاکہ تم خوش ہوجاؤ اور تاکہ تمہارے قلوب اس سے مطمئن ہوجائیں اور تم دشمن کی کثرت اور اپنی قلت کی وجہ سے نہ گھبراؤ۔ اور نصرت تو بس زبردست اور حکمت والے اللہ ہی کی طرف سے ہے جس کو چاہتا ہے عطا کرتا ہے۔ اور وہ لشکر کی کثرت پر موقوف نہیں ہے۔ (اور یہ نصرت اس لیے تھی) تاکہ کفر کرنے والوں میں سے ایک گروہ کو قتل و قید کے ذریعہ ہلاک کر دے (لیقطع) نصرکم کے متعلق ہے یا شکست کے ذریعہ ان کو ذلیل کر دے اور وہ ناکام ہو کر واپس جائے اور وہ اپنے مطلوب کو نہ پاسکے۔ اور جب احد کے دن آپ ﷺ کی رباعی مبارک شہید ہوگئیں اور آپ کو چہرہ انور زخمی ہوگیا۔ تو آپ نے فرمایا وہ قوم کس طرح فلاح یاب ہوگی کہ جس نے اپنے نبی کے چہرہ کو خون آلود کردیا۔ آپ کو اس معاملہ میں کوئی دخل نہیں بلکہ معاملہ اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ پس آپ تو صبر کریں۔ خواہ ان کو اسلام کی توفیق دے کر ان کی توبہ قبول کرے یا انہیں عذاب دے۔ ’ اَو ‘ بمعنی الی ان ہے۔ اس لیے کہ وہ کفر کی وجہ سے ظالم ہیں اور جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے اللہ کی ملک ہے۔ ملکیت کے اعتبار سے اور تخلیق کے اعتبار سے اور مملوکیت کے اعتبار سے۔ وہ جس کی مغفرت چاہتا ہے اس کی مغفرت کرتا ہے اور جس کو عذاب دینا چاہتا ہے اس کو عذاب دیتا ہے۔ اور اللہ اپنے دوستوں کو بڑا معاف کرنے والا اور اطاعت گزاروں پر رحم کرنے والا ہے۔ تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد قولہ : غَدَوْتَ ، غَدْوٌ، سے ماضی واحد مذکر حاضر معروف۔ الغدو صبح کے وقت نکلنا۔ قولہ : تُبَوِّیُّ ، تَبْوِیّۃ سے مضارع واحد مذکر حاضر، تو جگہ دیتا ہے، اتارتا ہے، جاتا ہے، اس کا تعدیہ مفعول ثانی کی طرف بنفسہ بھی ہوتا ہے اور بالام بھی۔ قولہ : اِذْھَمَّتْ طَّآئِفَتَانِ ، یہ اِذْ سابق اِذ غَدَوْتَ سے بدل ہے نہ کہ سمیع علیم سے جیسا کہ بعض حضرات نے کہا ہے اس لیے کہ سمیع وعلیم ہونا کسی زمان کے ساتھ مقید نہیں ہے۔ قولہ : بدر، مکہ اور مدینہ کے درمیان ایک کنویں کا نام ہے۔ یہ کنواں بدرنامی ایک شخص کا تھا اسی کے نام سے یہ جگہ موسوم ہوگئی۔ قولہ : مُسَوِّمِیْنَ ، واؤ کے کسرہ کے ساتھ، یعنی فرشتوں نے اپنے گھوڑوں کی دموں اور پیشانیوں پر اور اپنے اوپر لباس کے ذریعہ علامت لگائی ہوئی تھی۔ اور اگر واؤ کے فتحہ کے ساتھ ہو تو طلب ہوگا کہ کہ وہ گھوڑے نشان زدہ تھے۔ قولہ : ای مُعْلَمِیْنَ یہ مُسَوِّمِیْنَ کی تفسیر ہے۔ قولہ : بُلْقٌ، اَبْلَقْ کی جمع ہے، چتکبرا۔ قولہ : اَرْسَلُوْھا بین اکتافھم یعنی اپنے عماموں کے شملے کمر پر لٹکائے ہوئے تھے۔ قولہ : أو بمعنی اِلیٰ أن، اَو، کو الی أن، کے معنی میں لینے کی وجہ یہ ہے کہ یَتُوْبَ ، فعل ہے اور ماقبل میں اَلْاَمر اور شئٌ، دونوں اسم ہیں لہٰذا فعل کا عطف اسم پر درست نہیں ہے اور معنی کے درست نہ ہونے کی وجہ سے لَیْسَ پر بھی عطف درست نہیں ہے۔ اور اَوْ بَمَعْنٰی اِلٰی أن بکثرت مستعمل ہے۔ تفسیر و تشریح غزوہ احد : وَاِذْ غَدَوْتَ مِنْ اَھْلِکَ ، جمہور مفسرین کے نزدیک اس سے جنگ احد کا واقعہ مراد ہے واقعہ کی تفصیل یہ ہے کہ شوال 3 ھ کے شروع میں کفار مکہ تقریباً تین ہزار مسلح لشکر جرار لے کر مدینہ پر حملہ آور ہوئے، تعداد کی کثرت کے علاوہ ان کے پاس ساز و سامان بھی مسلمانوں کی بہ نسبت بہت زیادہ تھا اور اس کے علاوہ جنگ بدر کی ذلت آمیز شکست کے انتقام کا شدید جوش اور جذبہ بھی رکھتے تھے۔ خود نبی ﷺ اور تجربہ کار صحابہ کی رائے یہ تھی کہ مدینہ ہی میں رہ کر مدافعت کی جائے عبد اللہ بن ابی منافق کی رائے بھی یہی تھی۔ مگر چند نوجوانوں نے جو شہادت کے شوق سے بےتاب تھے اور جنہیں بدر کی جنگ میں شریک ہونے کا موقع نہیں ملا تھا۔ باہر نکل کر لڑنے پر اصرار کیا آخر کار آپ ﷺ نے ان کے اصرار کی وجہ سے باہر نکل کر دفاع کرنے ہی کا فیصلہ فرما لیا اور جنگی لباس زرہ وغیرہ پہن کر آپ تیار ہوگئے اس وقت صحابہ کو احساس ہوا کہ آپ مجبوراً اپنی رائے کے برخلاف مدینے سے باہر نکل کر لڑنے پر تیار ہوئے ہیں، بعض صحابہ نے عرض کیا کہ یارسول اللہ ﷺ اگر آپ مدینہ میں رہ کر دفاع کرنا پسند فرماتے ہیں تو ایسا ہی کیجئے۔ مگر آپ ﷺ نے جواب دیا کہ نبی جب حربی لباس پہن لیتا ہے تو اس کے لیے لائق نہیں کہ وہ اللہ کے فیصلہ کے بغیر واپس ہو یا لباس اتارے۔ ایک ہزار مجاہد آپ کے ساتھ نکلے، مگر مقام شوط پر پہنچ کر عبد اللہ بن ابی اپنے تین سو ساتھیوں کو لے کر عین اس وقت جب کہ دونوں لشکر آمنے سامنے تھے، یہ کہہ کر الگ ہوگیا کہ جب ہماری بات ہی نہیں مانی گئی تو خواہ مخواہ ہم اپنی جان کیوں گنوائیں ؟ عبد اللہ منافق کی بروقت اس حرکت سے اضطراب کا پھل جانا ایک فطری بات تھی، حتیٰ کہ بنو سلمہ اور بنو حارثہ کے لوگ ایسے دل شکستہ ہوئے کہ انہوں نے بھی واپس جانے کا ارادہ کرلیا تھا، پھر اکابر صحابہ کی کوششوں سے یہ اضطراب رفع ہوگیا، ان باقی ماندہ سات سو افراد کے ساتھ نبی ﷺ آگے بڑھے اور احد کی پہاڑی کے دامن میں مدینہ منورہ سے تقریباً چا رمیل کے فاصلہ پر اپنی فوج کو اس طرح صف آرا کیا کہ احد پہاڑ پشت پر تھا، اور قریش کا لشکر سامنے پہلے میں صرف ایک درّہ تھا جس سے اچانک حملہ کا خطرہ ہوسکتا تھا، وہاں آپ نے عبد اللہ بن جبیر کی زیر قیادت پچاس تیر انداز بٹھا دئیے اور ان کو تاکید کردی کہ ہمارا خواہ کچھ بھی انجام ہو ہم ہاریں یا جیتیں تم اپنی جگہ مت چھوڑنا اس سے بعد جنگ شروع ہوئی۔ قریش بڑے اہتمام کے ساتھ میدان میں اترے، ان کی تین ہزار کی جمعیت تھی جن میں سات سو زرہ پوش تھے دو سو گھوڑ سوار باقی شتر سوار تھے قبیلوں کے بڑے بڑے سردار تھے، ہمت بڑھانے اور جوش دلانے کے لیے عورتیں بھی شریک لشکر تھیں، ہاتھوں میں باجے لیے پرجوش ترانے گاتی جاتی تھیں، اور مقتولین بدر کے انتقام پر عزیزوں، قریبوں کو ابھارتی تھیں۔ اسلامی فوج اس کے مقابلہ میں کل ایک ہزار سے بھی کم تھی اور سامان کی کیفیت یہ تھی کہ علاوہ آپ ﷺ کی سواری کے فوج میں صرف ایک گھوڑا اور تھا۔ ابتداءً مسلمانوں کا پلہ بھاری رہا یہاں تک کہ مقابل کی فوج میں باتری پھیل گئی، لیکن اس ابتدائی کامیابی کو کامل فتح تک پہنچانے کے بجائے مسلمان مال غنیمت حاصل کرنے کی فکر میں لگ گئے، ادھر جن تیر اندازوں کو آپ ﷺ نے عقب کی حفاظت کے لیے بٹھایا تھا انہوں نے جو دیکھا کہ دشمن کے پیر اکھڑ گئے اور وہ بھاگ نکلا ہے اور غنیمت لٹ رہی ہے۔ تو وہ بھی اپنی جگہ چھوڑ کر مال غنیمت کی طرف لپکے، حضرت عبد اللہ بن جبیر نے ان کو نبی ﷺ کا تاکیدی حکم دیا دلایا، بہت روکا مگر چند آدمیوں کے سوا کوئی نہ رکا، اس موقع سے خالد بن ولید نے جو اس وقت لشکر کفار کے رسالہ کی کمان کر رہے تھے بروقت فائدہ اٹھا لیا اور پہاڑ کا چکر کاٹ کر پہلو کے درہ سے حملہ کردیا عبد اللہ بن جبیر اور ان کے ساتھیوں نے اس حملہ کو روکنے کی کوشش کی مگر مدافعت نہ کرسکے، اور یہ سیلاب یکایک مسلمانوں پر ٹوٹ پڑا دوسری طرف بھاگا ہوا دشمن بھی پلٹ آیا اس طرح لڑائی کا پانسہ ایک دم پلٹ گیا، اور مسلمان غیر متوقع صورت حال سے اس قدر سراسیمہ ہوئے کہ ایک بڑا حصہ پراگندہ ہو کر بھاگ نکلا تاہم چند بہادر صحابہ ابھی تک میدان میں ڈٹے ہوئے تھے، اتنے میں کہیں سے یہ افواہ اڑ گئی کہ نبی ﷺ شہید ہوگئے، اس خبر نے صحابہ کے رہے سہے حواس بھی گم کر دئیے اور باقی ماندہ لوگ بھی بہت کم رہ گئے۔ اس وقت آپ ﷺ کے گرد صرف دس جاں نثار صحابہ رہ گئے تھے، اور آپ ﷺ خود زخمی ہوچکے تھے، شکست کی تکمیل میں کوئی کسی باقی نہیں رہی تھی، لیکن عین وقت پر صحابہ ؓ کو معلوم ہوا کہ آنحضرت ﷺ زندہ و سلامت ہیں چناچہ وہ ہر طرف سے سمٹ کر آپ کے گرد جمع ہوگئے اور آپ کو بسلامت پہاڑ کی طرف لے آئے۔ لیکن اس موقع پر یہ معمہ باقی رہا اور آج تک معمہ ہی ہے جو حل طلب ہے کہ وہ کیا چیز تھی کہ کفار مکہ خود بخود واپس ہوگئے ؟ مسلمان اس قدر پراگندہ ہوچکے تھے کہ ان کا دوبارہ مجتمع ہو کر جنگ کرنا مشکل تھا اگر کفار اس فتح کو کمال تک پہنچانے پر اصرار کرتے تو بظاہر ان کی کامیابی بعید نہ تھی۔ مگر نہ معلوم وہ کسی طرح آپ ہی آپ میدان چھوڑ کر بھاگے اور واپس چلے گئے ؟
Ayah 3:122

اِذْ هَمَّتْ طَّآئِفَتٰنِ مِنْكُمْ اَنْ تَفْشَلَا١ۙ وَ اللّٰهُ وَلِیُّهُمَا١ؕ وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ Open ayah 3:122 in the Quran reader

اس وقت تم میں سے دو جماعتوں نے جی چھوڑ دینا چاہا مگر خدا ان کا مددگار تھا اور مومنوں کو خدا ہی پر بھروسا رکھنا چاہئے

اِذْھَمَّتْ طَّآئِفَتَانِ مِنْکُمْ أَنْ تَفْشَلَا وَاللہُ وَلِیُّھُمَا وَعَلَی اللہِ فَلْیَتَوَکُّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ اس آیت میں اشارہ بنو سلمہ اور بنو حارثہ کی طرف ہے ان دونوں قبیلوں کا تعلق اوس اور خزرج سے تھا مسلمانوں نے جب دیکھا کہ ایک طرف تین ہزار ہیں اور ہمارے صرف سات سو ہیں اور اسلحہ کے اعتبار سے بھی مسلمان، اہل مکہ کے مقابلہ میں نہتے جیسے تھے تو مسلمانوں کے دل ٹوٹنے لگے تو اس وقت اللہ کے رسول ﷺ نے بذریعہ وحی یہ کلمات ارشاد فرمائے : مومنوں کو اللہ ہی پر بھروسہ کرنا چاہیے آخر اس سے پہلے جنگ بدر میں اللہ تمہاری مدد کرچکا تھا۔ حالانکہ اس وقت تم بہت کمزور تھے لہٰذا تم کو چاہیے کہ اللہ کی ناشکری سے بچو، امید ہے کہ اب تم شکر گزار بنو گے۔
Ayah 3:123

وَ لَقَدْ نَصَرَكُمُ اللّٰهُ بِبَدْرٍ وَّ اَنْتُمْ اَذِلَّةٌ١ۚ فَاتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ Open ayah 3:123 in the Quran reader

اور خدا نے جنگ بدر میں بھی تمہاری مدد کی تھی اور اس وقت بھی تم بےسروسامان تھے پس خدا سے ڈرو (اور ان احسانوں کو یاد کرو) تاکہ شکر کرو

وَلَقَدْ نَصَرَکُمُ اللہُ بِبَدْرٍ وَّاآ۔ نْتُمْ اَذِلَّۃٌ (الآیۃ) مسلمان بدر کی جانب محض قریش کے قافلہ پر جو غیر مسلح تھا چھاپہ مارنے نکلا تھا اس لیے کہ قریش مکہ نے یہ طے کیا تھا کہ اس قافلہ کی تجارت سے جو آمدنی ہوگی وہ مسلمانوں کے خلاف جنگ کی تیاری میں صرف کی جائے گی اسی غرض کے پیش نظر اہل مکہ نے اس قافلہ کی تجارت میں زیادہ سے زیادہ سرمایہ لگانے کی کوشش کی تھی، اسی لیے مسلمانوں نے اس قافلہ پر چھاپہ مار کر پورا مال ضبط کرنے کی کوشش کی اور یہ جنگی اصول کے عین مطابق ہے اور موجودہ دور میں بھی یہی سب کچھ ہوتا ہے، بلکہ صرف بہانہ بنا کر لوگوں اور حکومتوں کے غیر جنگی سامان کو، جنگی سامان بتا کر ضبط کرلیا جاتا ہے۔ غزوہ بدر کا خلاصہ اور اس کی اہمیت : بدر، مدینہ منورہ سے جنوب مغرب میں تقریباً بیس میل کے فاصلہ پر ایک کنویں کا نام ہے دراصل یہ کنواں بدر نامی ایک شخص کی ملکیت تھا اسی شخص کے نام سے اس کنویں کا نام بھی بدر ہوگیا، اس وقت اس کو اہمیت اس لیے حاصل تھی کہ یہاں پانی کی افراط تھی ساحل بحر احمر سے ایک منزل پڑاؤ اور منڈی کا نام ہے یہ مقام شام، مدینہ اور مکہ کی سڑکوں کا تراہا تھا اور قریش کے تجارتی قافلے اسی راستہ سے آمدورفت کرتے تھے۔ توحید اور شرک کے درمیان یہیں سے پہلا معرکہ 17 رمضان بروز جمعہ 6 ھ مطابق 11 مارچ 624 ء کو پیش آیا تھا۔ اس غزوہ نے دنیا کی تاریخ میں ایک عظیم الشان انقلاب پیدا کردیا۔ فرنگی مؤرخوں نے بھی اس کی اہمیت کا اقرار کیا ہے۔ ہسٹورنیس ہسٹری آف دی ورلڈ میں ہے ” فتوحات اسلامی کے سلسلہ میں جنگ بدر انتہائی اہمیت رکھتی ہے “ جلد 8 ص 122 (ماجدی) اور امریکی پروفیسر ہٹی (HATTI) کی ” ہسٹری آف دی عربس “ میں ہے، یہ اسلام کی سب سے پہلی فتح مبین تھی۔ (ص 117) مشرکین مکہ کے لشکر کی تعداد اور ان کے مسلح ہونے کی صورت حال کو سن کر مسلمانوں کی صفوں میں گھبراہٹ اور تشویش اور جوش کا ملا جلا ردعمل ہونا ایک قدرتی بات تھی اور ہوا بھی، اور انہوں نے اللہ تعالیٰ سے دعاء اور فریاد کی۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے پہلے ایک ہزار فرشتے اتارے اور مزید کا یہ وعدہ کیا کہ اگر تم صبر وتقویٰ پر قائم رہے تو فرشتوں کی یہ تعداد پانچ ہزار کردی جائے گی۔ کہا جاتا ہے کہ چونکہ مشرکین کا جوش و غضب برقرار نہ رہ سکا اس لیے حسب بشارت تین ہزار فرشتے اتارے گئے اور پانچ ہزار کی تعداد پوری کرنے کی ضرورت پیش نہیں آئی اور بعض مفسرین کہتے ہیں کہ یہ مقدار پوری کی گئی فرشتوں کو نازل کرنے کا مقصد براہ راست لڑائی میں حصہ لینا نہیں تھا بلکہ محض حوصلہ افزائی مقصود تھی ورنہ اگر فرشتوں کے ذریعہ مشرکوں کو ہلاک کرانا ہوتا تو اتنے فرشتے نازل کرنے کی ضرورت نہیں تھے ایک فرشتہ ہی سب کو ختم کردیتا۔ ایک فرشتہ حضرت جبرئیل (علیہ السلام) نے حضرت لوط (علیہ السلام) کی پوری بستی کو تہس نہس کرکے ہلاک کردیا تھا، چونکہ یہ جہاد کا مسئلہ تھا اور جہاد انسانوں ہی کو کرنا ہوتا ہے کہ وہ اجر وثواب کے مستحق ہو سکیں فرشتوں کا کام صرف ہمت افزائی اور حوصلہ بڑھنا تھا جو پورا ہوا۔
Ayahs 3:124–130

اِذْ تَقُوْلُ لِلْمُؤْمِنِیْنَ اَلَنْ یَّكْفِیَكُمْ اَنْ یُّمِدَّكُمْ رَبُّكُمْ بِثَلٰثَةِ اٰلٰفٍ مِّنَ الْمَلٰٓئِكَةِ مُنْزَلِیْنَؕ Open ayah 3:124 in the Quran reader

جب تم مومنوں سے یہ کہہ (کر ان کے دل بڑھا) رہے تھے کہ کیا یہ کافی نہیں کہ پروردگار تین ہزار فرشتے نازل کر کے تمہیں مدد دے

بَلٰۤى١ۙ اِنْ تَصْبِرُوْا وَ تَتَّقُوْا وَ یَاْتُوْكُمْ مِّنْ فَوْرِهِمْ هٰذَا یُمْدِدْكُمْ رَبُّكُمْ بِخَمْسَةِ اٰلٰفٍ مِّنَ الْمَلٰٓئِكَةِ مُسَوِّمِیْنَ Open ayah 3:125 in the Quran reader

ہاں اگر تم دل کو مضبوط رکھو اور (خدا سے) ڈرتے رہو اور کافر تم پر جوش کے ساتھ دفعۃً حملہ کردیں تو پروردگار پانچ ہزار فرشتے جن پر نشان ہوں گے تمہاری مدد کو بھیجے گا

وَ مَا جَعَلَهُ اللّٰهُ اِلَّا بُشْرٰى لَكُمْ وَ لِتَطْمَئِنَّ قُلُوْبُكُمْ بِهٖ١ؕ وَ مَا النَّصْرُ اِلَّا مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ الْعَزِیْزِ الْحَكِیْمِۙ Open ayah 3:126 in the Quran reader

اور اس مدد کو تو خدا نے تمہارے لئے (ذریعہ) بشارت بنایا یعنی اس لئے کہ تمہارے دلوں کو اس سے تسلی حاصل ہو ورنہ مدد تو خدا ہی کی ہے جو غالب (اور) حکمت والا ہے

لِیَقْطَعَ طَرَفًا مِّنَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَوْ یَكْبِتَهُمْ فَیَنْقَلِبُوْا خَآئِبِیْنَ Open ayah 3:127 in the Quran reader

(یہ خدا نے) اس لیے (کیا) کہ کافروں کی ایک جماعت کو ہلاک یا انہیں ذلیل و مغلوب کر دے کہ (جیسے آئے تھے ویسے ہی) ناکام واپس جائیں

لَیْسَ لَكَ مِنَ الْاَمْرِ شَیْءٌ اَوْ یَتُوْبَ عَلَیْهِمْ اَوْ یُعَذِّبَهُمْ فَاِنَّهُمْ ظٰلِمُوْنَ Open ayah 3:128 in the Quran reader

(اے پیغمبر ﷺ اس کام میں تمہارا کچھ اختیار نہیں (اب دو صورتیں ہیں) یا خدا ان کے حال پر مہربانی کر کے یا انہیں عذاب دے کہ یہ ظالم لوگ ہیں

وَ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ یَغْفِرُ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یُعَذِّبُ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠ Open ayah 3:129 in the Quran reader

اور جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے سب خدا ہی کا ہے وہ جسے چاہے بخش دے اور جسے چاہے عذاب کرے اور خدا بخشنے والا مہربان ہے

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَاْكُلُوا الرِّبٰۤوا اَضْعَافًا مُّضٰعَفَةً١۪ وَّ اتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَۚ Open ayah 3:130 in the Quran reader

اے ایمان والو ! دگنا چوگنا سود نہ کھاؤ اور خدا سے ڈرو تاکہ نجات حاصل کرو

آیت نمبر 130 تا 143 ترجمہ : اے ایمان والو ! یہ بڑھتا ثڑھتا سود کھانا چھوڑ دو (مُضٰعَفَۃً ) الف اور بغیر الف دونوں طریقوں پر ہے۔ اس طور پر کہ مدت پوری ہونے پر مالی مطالبہ بڑھا دو ۔ اور مطالبہ میں مہلت دے دو ۔ (اکل ربا) کو ترک کرکے اللہ سے ڈرتے رہو تاکہ تم کامیاب ہوجاؤ۔ اور اس آگ سے ڈرو جو (اصالۃً ) کافروں کے لیے تیار کی گئی ہے کہ تم کو اس میں عذاب دیا جائے اور اللہ اور رسول کی اطاعت کرو تاکہ تم پر رحم کیا جائے اور اپنے رب کی مغفرت اور جنت کی طرف دوڑو کہ جس کی وسعت زمین و آسمان ہیں (سَارِعُوْا) میں قبل السین واؤ اور بدون واؤ دونوں (قراءتیں) ہیں۔ یعنی (جنت کی وسعت) ان دونوں کی وسعت کے مانند ہے اگر ایک دوسرے کے ساتھ ملا لیے جائیں، اور ” عرض “ کے معنی وسعت کے ہیں، عمل اطاعت اور ترک معاصی کرکے جو اللہ سے ڈرنے والوں کے لیے تیار کی گئی ہے یہ وہ لوگ ہیں جو فراغت اور تنگی (دونوں حالتوں) میں اللہ کی اطاعت میں خرچ کرتے ہیں، (یعنی فراخ دستی اور تنگ دستی میں خرچ کرتے ہیں) اور غصہ کو پی جانے والے ہیں یعنی قدرت کے باوجود غصہ کو ضبط کرنے والے ہیں اور جن لوگوں نے ان پر ظلم کیا ہے ان کو درگذر کرنے والے ہیں یعنی اس کی سزا کو ترک کرنے والے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان اعمال کے ذریعہ نیکوکاروں سے محبت کرنے والا ہے یعنی ان کو ثواب عطا کرنے والا ہے اور یہ وہ لوگ ہیں کہ جب کوئی ناشائستہ حرکت ناپسندیدہ برائی کر بیٹھتے ہیں، مثلاً زنا یا زنا سے کم مثلا بوسہ کے ذریعہ اپنے اوپر ظلم کر بیٹھتے ہیں تو اللہ کو یعنی اس کی وعید کو یاد کرلیتے ہیں اور اپنے گناہوں سے معافی طلب کرنے لگتے ہیں اور اللہ کے سوا کون گناہوں کو معاف کرسکتا ہے ؟ اور یہ لوگ اپنے کیے پر اڑ نہیں جاے ئ بلکہ اس سے باز آجاتے ہیں حال یہ ہے کہ وہ اس کی (قباحت) کو جانتے ہیں کہ ان سے جو حرکت سرزد ہوئی ہے وہ گناہ ہے ایسے لوگوں کو جزاء ان کے پروردگار کی طرف سے مغفرت ہے اور ایسے باغات ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی ان میں وہ ہمیشہ ہمیش رہیں گے جب ان میں داخل ہوجائیں گے (خٰلدین) حال مقدرہ ہے یعنی ان کے لیے ان باغوں میں رہنا مقدر کردیا گیا ہے، اطاعت گزاروں کے لیے یہ بہترین اجر ہے اور شکست احد کے بارے میں (آئندہ آیت) نازل ہوئی، تم سے پہلے بھی کفار کو مہلت دینے اور پھر گرفت کرنے کے واقعات گزر چکے ہیں تو اے مومنو ! زمین میں چلو پھر و اور رسولوں کی تکذیب کرنے والوں کے انجام میں غور کرو یعنی ان کا انجام ہلاکت ہی ہوا۔ لہٰذا تم ان کے (وقتی) غلبہ سے کبیدہ خاطر نہ ہو میں ان کو (ان کی ہلاکت) کے وقت تک مہلت دے رہا ہوں۔ یہ قرآن تمام لوگوں کے لیے بیان ہے۔ اور ان میں سے پرہیزگاروں کے لیے گمراہی سے ہدایت اور نصیحت ہے اور نہ ہمت ہارو یعنی کفار کے مقابلہ میں قتال میں کمزور نہ پڑو۔ اور احد میں جو کچھ تم کو پیش آیا اس سے غم زدہ نہ ہو اور اگر تم صحیح معنی میں مومن رہے تو ان پر فتح حاصل کرکے تم ہی غالب رہو گے اور جواب شرط پر مجموعہ ماقبل یعنی (فسیر و اولا تھنوا الخ) دلالت کرتا ہے یعنی اگر تم احد میں زخمی ہوئے (قَرح) میں قاف کے فتحہ کے ساتھ اور اس کے ضمہ کے ساتھ۔ زخم وغیرہ کی تکلیف۔ تو بدر میں کفار کو بھی اسی قسم کا زخم لگ چکا ہے اور ہم ان ایام کو لوگوں کے درمیان الٹ پھیر کرتے رہتے ہیں (یعنی) ادل بدل کرتے رہتے ہیں، ایک دن ایک فریق کے حق میں اور دوسرے دن دوسرے فریق کے حق میں، تاکہ لوگ عبرت حاصل کریں۔ (شکست اُحد) اس لئے تھی کہ مخلص مومنوں کو دوسروں (غیر مخلصوں) سے ممتاز کرکے ظاہر کر دے اور تم میں سے بعض کو شہادت عطا فرمائے اور بذریعہ شہادت ان کو اعزاز بخشے۔ اللہ تعالیٰ ظالموں یعنی کافروں سے محبت نہیں کرتا یعنی ان کو سزا دے گا۔ اور ان پر جو کچھ انعام کیا جاتا ہے وہ ڈھیل ہے۔ اور تاکہ اللہ تعالیٰ ایمان والوں کو اس تکلیف کے ذریعہ جو ان کو پہنچی گناہوں سے پاک و صاف کر دے اور کافروں کو ہلاک کر دے شاید تم اس خیال میں ہو کہ جنت میں داخل ہوگے حالآنکہ ابھی اللہ تعالیٰ نے تم میں سے علم ظہور کے طور پر ان لوگوں کو جانا نہیں کہ تم میں سے جہاد کرنے والے کون ہیں ؟ اور تکالیف میں صبر کرنے والے کون ہیں ؟ جنگ سے پہلے تو تم موت کی آرزو کر رہے تھے، اصل میں ایک تاء کو حذف کرکے۔ جب تم نے کہا تھا کہ کاش ہمارے لیے بھی یوم بدر کے مانند ہوتا تاکہ ہم بھی وہ حاصل کرتے جو شہداء بدر نے حاصل کیا سو تم موت کو یعنی اس کے سبب کو کہ وہ حرب ہے کھلی آنکھوں سے دیکھ رہے تھے شکست کے اسباب میں غور و فکر کر رہے تھے کہ یہ شکست کن اسباب کی وجہ سے ہوئی، یعنی تم کیوں شکست کھا گئے۔ تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد قولہ : کعَرْضِھمَا، اس میں اشارہ ہے کہ حرف تشبیہ اور مضاف محذوف ہے۔ سوال : مضاف محذوف ماننے کی کیا ضرورت پیش آئی جواب : تاکہ جنت کی وسعت کی تشبیہ ارض و سماوات کے ساتھ صحیح ہوجائے، اس لیے کہ عرض جنت مقولہ کم متصل یعنی مقدر سے ہے اور ارض و سماوات مقولہ جوہر سے ہے حالانکہ جواز تشبیہ کے لیے مقولہ کا متحد ہونا ضروری ہے، اور جب عرض محذوف مان لیا تو دونوں یعنی مشبہ اور مشبہ بہ مقولہ کم متصل سے ہوگئے۔ لہٰذا تشبیہ درست ہوگئی۔ قولہ : بِمَادرونہ۔ اس حذف کی ضرورت اس لیے پیش آئی کہ عطف درست ہوجائے کیونکہ عطف کیلئے مغایرت ضروری ہے۔ قولہ : ای وَعِیْدہ اس اضافہ کا مقصد اس شبہ کا جواب ہے کہ اللہ کے ذکر سے استغفار ہی مراد لینا ضروری نہیں ہے۔ جواب : ذکر سے مراد اسکی وعید کا ذکر ہے۔ قولہ : حال مقدرۃ یہ اس شبہ کا جواب ہے کہ، حال کے لیے مقارنت یعنی حال اور ذوالحال کا زمانہ متحد ہونا ضروری ہے، حالانکہ خلود نفس جزاء کے ثبوت کے بعد ہوگا۔ جواب : ان کے لیے خود مقدر کردیا گیا ہے۔ قولہ : وَجوابہ دَلَّ علیہ مجموع ما قبلہٗ یہ ایک سوال مقدر کا جواب ہے۔ سوال : اِنْ کُنْتُمْ مومنین شرط ہے اس کی جزاء اگر ماقبل کا جملہ فَسِیْرُوْا فِی الارضِ الخ ہے تو یہ درست نہیں ہے اس لیے کہ ماقبل کے جملہ فَسِیْرُوا فی الارض سے مفہوم ہے۔ قولہ : لَیَتَّعِظُوا، یہ لفظ محذوف مان کر مفسر علام نے اشارہ کردیا کہ لِیَعْلَمَ کا عطف محذوف پر ہے۔ قولہ : یکرمھم بالشھادۃ اس میں اشارہ ہے کہ شہداء شہید کی جمع ہے نہ کہ شاہد کی۔ قولہ : بل، یعنی ام، بمعنی بل ہے۔ اس میں اشارہ ہے کہ یہ اَم منقطعہ ہے نہ کہ متصلہ کو اس کو عدیل (مقابل) کی ضرورت ہو۔ قولہ : ای بُصَرَاءُ ۔ سوال : فَقَدْرَ أیْتُمُوْہُ کے بعد انتم تنظرون کہنے کا کیا مطلب ہے ؟ جواب : پہلی رویت سے مراد رویت بصری ہے، رَأیْتُمُوْہُ کی ضمیر مفعولی موت کی طرف راجع ہے گر موت چونکہ نظر آنے والی چیز نہیں اس لیے سبب مضاف، محذوف مانا یعنی سبب موت، یعنی حرب کو دیکھ لیا اور انتم تنظرون سے صاحب بصیرت و علم و دانش ہونا مراد ہے لہٰذا معلوم ہوگیا کہ دونوں معنیٰ الگ الگ ہیں۔ اللغۃ والبلاغۃ یٰآیُّھَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا لَا تَاْکُلُوا الرِّبوٰا یہ کلام مستانف ہے بیان ربا کے لیے لایا گیا ہے۔ قولہ : الکاظمین، یہ کَظَمٌ کا اسم فاعل ہے، اس کے اصل معنیٰ مشک وغیرہ بھر کر اس کا منہ بند کرنے کے ہیں تاکہ اندر کی چیز باہر نہ آسکے، یہ کَظَم القِربۃ سے ماخوذ ہے۔ التنکیت فی التشبیہ : أن یقصد المتکلم الیٰ شئ بالذکر دون غیرہ مِمّاَ یَسُدّ مسدہ لِاَجْل نُکْتَۃٍ ، وَاذا وَقَعَ فی التشبیہ فقد بَلَغَ الْغَایَۃَ ، وَھو ھنا فی قولہ تعالیٰ ۔ عَرْضُھَا السمٰوات والارض ” فقد اَرَادَ وَصْفَھَا بالسعۃِ فخص عَرضَھَا بالذکر دون الطول، وَاِنما عَدَلَ عن ذکر الطول، لأنہ مستقر فی الاذھان أنّ الطول، اَدَل علی السعۃ فاِذا کان عَرْضُھَا مِمّا یَسَعُ السمٰوت والارض، فَما بالک بطولھا۔ قولہ : لَاتَھِنُوْا، تم سست مت ہوجاؤ، تم کمزور مت پڑجاؤ۔ وَھْنٌ، سے فعل ہے جمع مذکر حاضر۔ قولہ : نُدَاوِلُھَا، مُدَاوَلَت، سے مضارع جمع متکلم، ہم اس کو ادلتے بدلتے رہتے ہیں مادہ، دولۃٌ۔ تفسیر و تشریح ربط : چونکہ غزوہ احد میں ناکامی کا بڑا سبب رسول اللہ ﷺ کی نافرمانی اور عین کامیابی کے موقع پر مال کی طمع سے مغلوب ہوجانا تھا۔ اس لیے اللہ رب العزت نے اس حالت کی اصلاح کے لیے زرپرستی اور ناجائز طریقہ سے زراندوزی کے سرچشمہ پر بند باندھنا ضروری سمجھا۔ اور حکم دیا کہ سود خوری سے باز آجاؤ جس میں انسان رات دن اپنے نفع کے بڑھنے اور چڑھنے کا حساب لگاتا رہتا ہے اور جس کی وجہ سے انسان کے اندر مال کی حرص بےحد بڑھ جاتی ہے۔ یٰآیُّھَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا لَاتَاْکُلُوْا الرِّبوٰا اَضْعَافاً مُّضَاعَفَۃً : اَضعَافًا مُضَاعَفَۃً کی قید حرمت کے لیے بطور شرط کے نہیں ہے، بلکہ واقع کی رعایت کے طور پر ہے یعنی زمانہ جاہلیت میں ایسا کرتے تھے اس لیے اَضْعَافاً مُضاعَفَۃً ، کی قید بیان واقعہ کے لیے ہے۔ زمانہ جاہلیت میں یہ طریقہ رائج تھا کہ جب ادائیگی کی مدت آجاتی اور ادائیگی ممکن نہ ہوتی تو مدت میں مزید اضافہ کے ساتھ سود میں بھی اضافہ ہوتا چلا جاتا۔ جس سے سود کی رقم بڑھ کر کہیں سے کہیں پہنچ جاتی اور ایک عام آدمی کے لیے اس کی ادائیگی ناممکن ہوجاتی، اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اس آگ سے ڈرو کہ جو درحقیقت کافروں کے لیے تیار کی گئی ہے، اس میں اس بات پر تنبیہ ہے کہ اگر تم سود خوری سے باز نہ آئے تو یہ سود خوری تم کو کفر تک پہنچا سکتی ہے کیوں کہ یہ اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ محاربہ ہے۔ سود خوری کے نقصانات : سود خوری جس سوسائٹی میں موجود ہوتی ہے اس کے اندر سورخوری کی وجہ سے دو قسم کے اخلاقی امراض پیدا ہوتے ہیں۔ (1) سود لینے والوں میں حرص و طمع، بخل و خود غرضی اور (2) سود دینے والوں میں نفرت اور غصہ اور بغض و حسد۔ انفاق فی سبیل اللہ کے فوائد : سودخوری سے جو اوصاف فریقین میں پیدا ہوتے ہیں اس کے برعکس انفاق فی سبیل اللہ سے فیاضی، ہمدردی، فراخ دلی اور عالی ظرفی جیسی صفات پیدا ہوتی ہیں، کون نہیں جانتا کہ ان دونوں صفات کے مجموعوں میں سے پہلا مجموعہ بدترین اور دوسرا مجموعہ بہترین ہے۔