Ayahs 3:170–176آیت نمبر 176 تا 180
ترجمہ : جن لوگوں نے اللہ اور اس کے رسول کے (دوبارہ) قتال کے لیے نکلنے کے حکم پر لبیک کہہ دیا باوجودیکہ وہ احد میں زخم خوردہ ہوچکے تھے۔ (اور یہ اس وقت ہوا) کہ جب ابوسفیان اور اس کے ساتھیوں نے پلٹ کر آنے کا ارادہ کیا۔ اور نبی ﷺ سے یوم احد کے بعد آئندہ سال بازار بدر کے موقع پر (مقابلہ آرائی) کا چیلنج کیا۔ اَلَّذِیْنَ مبتدا ہے اور اَحْسَنُوْا مِنْھُمْ ، اس کی خبر ہے۔ ان میں سے جنہوں نے اس کی اطاعت کے ذریعہ نیکی اختیار کی اور اس کی مخالفت سے اجتناب کیا ان کے لیے اجر عظیم ہے اور وہ جنت ہے۔ اور یہ ایسے لوگ ہیں (الذین) سابق الذین سے بدل یا صفت ہے۔ کہ جب ان سے لوگوں یعنی نعیم بن مسعود اشجعی نے کہا کہ لوگوں (یعنی) ابوسفیان اور اس کے اصحاب نے تمہارے مقابلہ کے لیے ایک بڑی جماعت کرلی ہے تاکہ تم کو جڑ سے اکھاڑ پھینکیں لہٰذا تم ان سے ڈرو، اور ان کے مقابلے کے لیے نہ نکلو۔ تو اس بات نے ان کے اللہ پر یقین اور تصدیق میں اضافہ کردیا۔ اور ان لوگوں نے کہہ دیا کہ اللہ ان کے معاملہ میں ان کے لیے کافی ہے۔ اور وہ بہترین کارساز ہے۔ معاملہ اسی کے حوالہ ہے۔ اور وہ نبی ﷺ کے ہمراہ نکلے اور بازار بدر میں فروکش ہوئے اور اللہ نے ابو سفیان اور اس کے ساتھیوں کے دل میں رعب ڈال دیا جس کی وجہ سے انہوں نے آنے کی ہمت نہیں کی اور مسلمانوں کے ساتھ سامان تجارت (بھی) تھا جس کو فروخت کرکے خوب نفع کمایا۔ (نتیجہ یہ ہوا) کہ یہ لوگ مقام بدر سے اللہ کے انعام اور فضل کے ساتھ صحیح سلامت اور نفع کے ساتھ واپس ہوئے اور ان کو قتل یا زخم، کسی قسم کی کوئی تکلیف پیش نہیں آئی۔ اور ان لوگوں نے نکلنے میں اطاعت کے ذریعہ اللہ کی رضا کی پیروی کی اور اللہ اپنے اطاعت گزاروں پر بڑے فضل والا ہے یقیناً یہ ّاِنّ النَّاسَ قَدْ جَمَعُوْا لَکُمْ ) کا قائل شیطان ہی ہے جو اپنے دوستوں (یعنی کافروں سے خوف زدہ کر رہا ہے۔ تم ان کافروں سے خوف زدہ نہ ہونا، اور میرے حکم کو ترک کرنے میں مجھ سے ہی ڈرنا اگر تم صحیح معنیٰ میں مومن ہو اور وہ لوگ جو کفر میں جلدی کرتے ہیں یعنی کفر کی مدد کرکے اس میں جلدی واقع ہوجاتے ہیں اور وہ اہل مکہ ہیں یا منافقین ہیں، آپ کو غمگین نہ کریں (لَایُحزِنک) یاء کے ضمہ اور زاء کے کسرہ کے ساتھ اور یاء کے فتحہ اور زاء کے ضمہ ساتھ، حَزْنَہٗ سے اَحْزَنَہٗ میں ایک لغت ہے۔ یقیناً یہ لوگ اپنی حرکتوں سے اللہ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے وہ تو اپنا ہی نقصان کر رہے ہیں اللہ کی یہی مشیت ہے کہ ان کے لیے آخرت یعنی جنت میں کچھ حصہ نہ رکھے۔ اور ان کے لیے جہنم میں بڑا عذاب ہے یقیناً جن لوگوں نے ایمان کے عوض کفر خرید لیا ہے یعنی ایمان کے نجائے کفر اختیار کرلیا ہے وہ اپنے کفر کی وجہ سے اللہ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے، اور کافر لوگ ہماری اس درزای عمر اور تاخیر (مواخذہ) کی دی ہوئی مہلت کو اپنے حق میں بہتر نہ سمجھیں (تحسین) یاء اور تاء کے ساتھ دونوں قراءتیں ہیں۔ اور انّ کو مع اپنے معمول کے یَحْسَبَنَّ بالیاء کی صورت میں قائم مقام دو مفعولوں کے قرار دیا ہے، اور تَحْسَبَنَ ، بالتاء کی صورت میں مفعول ثانی کا قائم قرار دیا گیا ہے، ہم ان (کافروں) کو صرف اس لیے مہلت دے رہے ہیں تاکہ کثرت معاصی کے ذریعہ ان کے گناہ زیادہ ہوجائیں۔ اور آخرت میں ان کے لیے اہانت آمیز عذاب ہے۔ اے لوگو مخلص اور غیر مخلص کی اختلاط کی جس حالت پر تم ہو اللہ تعالیٰ ایمان والوں کو اس حال پر نہ چھوڑے گا تاآنکہ خبیث یعنی منافق کو طیب (یعنی) مومن سے اس کو ظاہر کرنے والی تکالیف شاقہ کے ذریعہ ممتاز نہ کر دے۔ چناچہ یوم احد میں ایسا کیا، اور نہ اللہ تمہیں غیب پر مطلع کرنے والا ہے کہ تم منافق کو غیر منافق سے شناخت کرسکو البتہ اللہ تعالیٰ اپنے رسولوں میں سے جس کو چاہتا ہے منتخب کرلیتا ہے تو اس کو غیب پر مطلع کردیتا ہے۔ جیسا کہ نبی ﷺ کو منافقین کے حال پر مطلع کردیا سو تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اگر تم ایمان لے آئے اور نفاق سے اجنتاب کیا تو تمہارے لیے اجر عظیم ہے اور جنہیں اللہ نے اپنے فضل و کرم سے کچھ دے رکھا ہے تو اس میں بخیلی کو بہتر نہ خیال کریں (یَحْسَبَنَّ ) تاء اور یاء کے ساتھ دونوں قراءتیں ہیں، (خیرًا) مفعول ثانی ہے اور ھُوَ ، ضمیر متصل کے لیے ہے اور مفعول اول (بُخْلَھُمْ ) فوقانیہ کی صورت میں موصول سے پہلے مقدر ہے اور ضمیر سے پہلے تھٹانیہ کی صورت میں۔ بلکہ وہ ان کے لیے نہایت برا ہے عنقریب قیامت کے دن ان (بخیلی کرنے والوں کی گردنوں) میں اس مال زکوۃ کا جس میں انہوں نے بخیلی کی ہے طوق بنا کر ڈالا جائے گا۔ اس طور پر کہ اس مال کو سانپ بنا کر ان کی گردنوں میں ڈالا جائے گا اور اس کو ڈستا رہے گا۔ جیسا کہ حدیث میں وارد ہوا ہے۔ آسمانوں اور زمین کی میراث اللہ ہی کے لیے ہے اہل ارض و سماء کے فنا ہونے کے بعد اللہ ان کا وارث ہوگا۔ اور جو کچھ تم کر رہے ہو اللہ اس سے بخوبی واقف ہے یاء اور تاء کے ساتھ پس تمہیں اس کا بدلہ دے گا۔
تحقیق و تسہیل و تفسیری فوائد
قولہ : اَلَّذِیْنَ مبتدأ، یعنی اَلّذِیْنَ اپنے صلہ سے مل کر مبتداء ہے۔ اور لِلَّذِیْنَ اَحْسَنُوْا مِنْھُمْ الخ خبر مقدم ہے، اَجَرٌ عظیم مبتداء مؤخر ہے۔ مبتداء مؤخر اپنی خبر مقدم سے مل کر جملہ ہو کر خبر ہے الَّذِیْنَ اول کی۔
قولہ : بدل من الذین۔ او نعت، مفسر علام نے الذین ثانی کو الذین اول سے بدل یا صفت قرار دیا ہے مگر اس میں اشکال ہے اس لیے کہ پہلے الذین سے خاص وہ لوگ مراد ہیں جو غزوہ احد میں شریک ہوئے تھے اور ثانی الذین سے عام مسلمان مراد ہیں حالانکہ بدل اور نعمت کے لیے دونوں میں اتحاد ضروری ہے، لہٰذا بہتر یہ ہے کہ الذین ثانی کو اَمْدُح فعل محذوف سے منصوب قرار دیا جائے۔ (اعراب القرآن) ۔ قولہ : ھُوَ ، یہ مخصوص بالمدح ہے۔
قولہ : کُمْ ، اس میں اشارہ ہے کہ، کُمْ ، یُخوِّف کا مفعول ثانی ہے مفعول اول محذوف ہے۔
قولہ : فتح الیاء و ضم الزاء یعنی باب نصر سے۔ قولہ : یقعُوْن فیہ یہ ایک سوال مقدر کا جواب ہے۔
سوال : یُسَارِعُوْنَ متعدی بالیٰ ہوتا ہے اور یہاں متعدی، بفی۔ جواب : یسارعون، یَقَعُوْنَ کے معنی کو متضمن ہے۔
قولہ : مؤلِمٌ اَلِیْمٌ کی تفسیر مؤلمٌ سے کرکے اشارہ کردیا کہ لازم بمعنی متعدی ہے لہٰذا یہ شبہ ختم ہوگیا کہ عذاب صاحب الم خود (دردمند) نہیں ہوتا بلکہ اس میں داخل ہونے والا صاحب الم (دردمند) ہوتا ہے۔
قولہ : ای املاءنا اس میں اشارہ ہے کہ ما مصدریہ ہے نہ کہ موصولہ جیسا کہ اِنَّ کو ما سے متصل لکھنے کی وجہ سے وہم ہوتا ہے مناسب یہ تھا اِنَّ مَا کو اِنَّمَا لکھا جاتا مگر چونکہ مصحف ثانی میں اسی طرح مکتوب ہے اس لیے اس کی مخالفت نہیں کی گئی۔ اس لیے کہ ما موصولہ ہونے کی صورت میں ایک تو عائد کی ضرورت ہوگی جو کہ موجود نہیں ہے دوسرے یہ کہ معنی بھی درست نہیں ہیں۔
قولہ : قبل الموصول تقدیر عبارت یہ ہوگی ” ولا تحسبن بخل الذین “۔
قولہ : قبل الضمیر تقدیر عبارت یہ ہوگی ” ولایحسَبَنَّ البُخْلَاءُ بُخْلَھُمْ ھُوْ خَیْرًا لَھُمْ ، مقدر کو ضمیر پر مقدم کرنے کی وجہ یہ ہے کہ ضمیر فصل مبتدا اور خبر ہی کے درمیان واقع ہوئی ہے۔
اللغۃ والبلاغۃ
(1) اِنَّ الَّذِیْنَ اشْتَرَوُا الْکُفْرَ بِالاِیْمَانِ ۔ اِسْتعارۃ مکنیۃ فی اشتراء الکفر بالایمان، وقد تقدّمَ القولُ فی ھذا۔
(2) اِنَّمَا نُمْلِیْ لَھُمْ لِیَزْدَادُوْا اِثْمًا۔ استعارۃ تصریحیۃ فی الاملاء فَقَدْ سبَّہ امھالَھم، وترک الحبل لھم علی غوار بھم، بالفرس الذی یملی لھم الحبل لیجری علی سجیۃ۔ ویرتقی کیف یشاء، فحذف المشبہ وھو الامھال والترک، وابقی مشبہ بہ وھو الاملاء۔
الطباق : الطباق بین خیر وشرٍّ وبین السموات والارض۔
تفسیر و تشریح
ربط آیات اور شان نزول : اوپر غزوہ احد کا ذکر تھا مذکورہ آیات میں اسی غزوہ سے متعلق ایک اور غزوہ کا ذکر ہے جو غزوہ احمر الاسد کے نام سے مشہور ہے، حمراء الاسد مدینہ طیبہ سے آٹھ میل کے فاصلہ پر ایک مقام کا نام ہے۔
واقعہ کی تفصیل : جنگ احد سے پلٹ کر جب مشرکین کئی منزل دور چلے گئے تو انہیں ہوش آیا اور آپس میں کہنے لگے ہم نے یہ کیا حرکت کی کہ محمد ﷺ کی طاقت توڑ دینے کا جو پیش قیمت موقع ملا تھا اس کھو کر چلے آئے چناچہ مشرکین مکہ نے ایک جگہ جمع ہو کر مشورہ کیا کہ مدینہ منورہ پر فوراً ہی دوسرا حملہ کردیا جائے لیکن پھر ہمت نہ پڑی ان پر اللہ نے ایسا رعب ڈال دیا کہ وہ سیدھے مکہ مکرمہ کو ہولیے۔ اور ایک شخص جس کا نام نعیم بن مسعود تھا جو مدینہ کی طرف آرہا تھا۔ بعض روایات میں ہے کہ عبد قیس کا ایک قافلہ ابوسفیان کے پاس سے گزرا تو ابو سفیان نے مسلمانوں کو کہلوایا کہ ابوسفیان نے ایک بڑا لشکر جمع کر رکھا ہے اس کا ارادہ ہے کہ مدینہ پر دوبارہ حملہ کرکے سب نیست و نابود کر دے گا۔ چناچہ ان لوگوں نے یہ خبر رسول اللہ ﷺ کو حمراء الاسد کے مقام پر پہنچائی تو آپ نے اور مسلمانوں نے کہا حَسْبُنَا اللہُ وَنِعْمَ الْوَکِیْلُ تو اس وقت اللہ تعالیٰ نے ” اَلَّذِیْنَ اسْتَجَابُوْا للہ وَالرَّسُوْلِ “ آیات نازل فرمائیں۔ رسول اللہ ﷺ کو بذریعہ وحی ابوسفیان اور اس کے ساتھیوں کی گفتگو معلوم ہوگئی تو آپ ان کے تعاقب میں حمراء الاسد تک نکلے۔
تفسیر قرطبی میں ہے کہ احد کے دوسرے دن رسول اللہ ﷺ نے اپنے مجاہدین میں اعلان فرمایا کہ ہمیں مشرکین کا تعاقب کرنا ہے مگر اس میں صرف وہی لوگ جاسکتے ہیں جو کل کے معرکہ میں ہمارے ساتھ تھے، اس اعلان پر دو سو مجاہد جمع ہوگئے۔ دوسری طرف یہ ہوا کہ معبد کہ معبد خزاعی بنی خزاعہ کا ایک شخص مدینہ سے مکہ کی طرف جا رہا تھا یہ شخص اگرچہ مسلمان نہ تھا مگر مسلمانوں کا خیر خواہ تھا اس کا قبیلہ رسول اللہ ﷺ کا حلیف تھا۔ راستہ میں جب ابو سفیان کو دیکھا کہ وہ اپنے لوٹنے پر پچھتا رہے ہیں اور واپسی کی فکر میں ہے تو اس نے سفیان کو بتایا کہ تم دھوکے میں ہو کہ مسلمان کمزور ہوگئے ہیں۔ میں ان کے بڑے لشکر کو حمراء الاسد کے مقام پر چھوڑ کر آیا ہوں جو پورے سامان کے ساتھ تمہارا تعاقب کر رہے ہیں۔ ابوسفیان اس خبر سے مرعوب ہوگیا اور واپس چلا گیا۔
بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ بدرصغری کے موقعہ پر ابوسفیان نے بعض لوگوں کی خدمات مالی معاوضہ سے کر حاصل کیں اور ان کے ذریعہ مسلمانوں میں یہ افوارہ پھیلائی کہ مشرکین لڑائی کے لیے پھر پوری تیاری کر رہے ہیں تاکہ یہ سن کر مسلمانوں کے حوصلے پست ہوجائیں، بعض روایات کی رو سے یہ کام شیطان نے اپنے حیلے چانٹوں کے ذریعہ لیا تھا۔ لیکن مسلمان ان افواہوں سے خوفزدہ ہونے کی بجائے مزید عزم و حوصلہ سے سرشار ہوگئے۔
Ayahs 3:177–181آیت نمبر 181 تا 189
ترجمہ : یقیناً اللہ نے لوگوں کا قول سن لیا جنہوں نے کہا اللہ محتاج ہے اور ہم مالدار ہیں اور یہ (کہنے والے) یہود ہیں یہ بات انہوں نے اس وقت کہی جب ” مَنْ ذَا الَّذِیْ یُقڑرِضُ اللہَ قَرْضًا حَسَنًا “ آیت نازل ہوئی اور یہ (بھی) کہ اگر اللہ مالدار ہوتا تو ہم سے قرض نہ مانگتا، ہم ان کے قول کو ان کے اعمال ناموں میں لکھ رہے ہیں تاکہ اس کی ان کو جزاء دی جائے۔ اور ایک قراءت میں (یکتُب) یاء کے ساتھ معروف کا صیغہ ہے۔ اور ہم ان کے انبیاء کے ناحق قتل کرنے کو بھی لکھ رہے ہیں (قتَلھم) کے نصب اور رفع کے ساتھ، اور ہم کہیں گے آتش سوزاں کا عذاب چکھو۔ (یَقُوْلٌ) نون اور یاء کے ساتھ، یعنی آخرت میں اللہ تعالیٰ بزبان ملائکہ کہے گا، اور جب ان کو جہنم میں ڈالا جائے گا تو ان سے کہا جائے گا یہ عذاب تمہارے ان کرتوتوں کی وجہ سے ہے جو تم کرنے کیے ہیں۔ انسان کی تعبیر ہاتھوں سے کی ہے اس لیے کہ اکثر اعمال ہاتھوں ہی سے کیے جاتے ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں ہے کہ ان کو بےخطاء سزا دے۔ یہ (قائلین) وہ لوگ ہیں اَلِّذِیْنَ ، ماقبل والے اَلَّذِیْنَ کی صفت ہے جنہوں نے محمد ﷺ سے کہا کہ اللہ نے ہم کو تورات میں حکم دیا کہ ہم کسی نبی پر اس وقت تک ایمان نہ لائیں (یعنی) اس کی تصدیق نہ کریں، جب تک وہ ایسی قربانی نہ لائے کہ اس کو آگ کھاجائے لہٰذا تم اس وقت تک ایمان نہ لائیں گے جب تک تم ہمارے پاس ایسی قربانی نہ لاؤ گے، اور وہ قربانی وہ ہے کہ جس کے ذریعہ اللہ کا تقرب حاصل کیا جائے جانور وغیرہ کے قبیل سے۔ اگر قربانی مقبول ہوتی تو آسمان سے ایک سفید آگ آتی اور اس کو جلا ڈالتی ورنہ اپنی جگہ پڑی رہتی۔ بنی اسرائیل کو مسیح (علیہ السلام) اور محمد ﷺ کے علاوہ کے لیے اس کا حکم دیا گیا تھا۔ قربانی کی مقبولیت کی علامت آسمانی آگ کا قربانی کے جانور کو جلا دینا مسیح (علیہ السلام) اور محمد ﷺ کے علاوہ کے لیے تھی۔ اسی طرح آسمانی آگ کا جلانا نبی کی صداقت کی دلیل مسیح (علیہ السلام) اور محمد ﷺ کے علاوہ نبی کے لیے تھی۔ آپ ان سے کہہ دیجئے مجھ سے پہلے تمہارے پاس جو رسول دیگر معجزوں کے ساتھ یہ معجزہ بھی لائے تھے جو تم کہہ رہے ہو تو تم نے ان کو کیوں قتل کردیا ؟ مثلاً زکریا (علیہ السلام) اور یحییٰ (علیہ السلام) کہ تم نے ان کو قتل کردیا۔ اور خطاب ان (یہود) سے ہے جو ہمارے نبی ﷺ کے زمانہ میں تھے اگرچہ یہ فعل (قتل) ان کے باپ دادوں کا تھا۔ ان لوگوں کے اس فعل سے راضی ہونے کی وجہ سے۔ اگر تم اس بات میں سچے ہو کہ یہ معجزہ دیکھنے کے بعد ایمان لائیں گے۔ پھر بھی اگر وہ لوگ آپ کو جھٹلائیں تو آپ سے پہلے بہت سے وہ رسول جھٹلائے گئے ہیں جو معجزات اور صحیفے جیسا کہ صحف ابراہیم (علیہ السلام) ۔ اور واضح کتابیں اور ایک قراءت میں دونوں میں (یعنی زبر اور کتاب) میں باء کے اثبات کے ساتھ ہے (ای بالزبرو بالکتاب) لے کر آئے۔ وہ تورات اور انجیل ہیں۔ لہٰذا جس طرح انہوں نے صبر کیا آپ بھی صبر کیجئے۔ ہر جان موت کا مزہ چکھنے والی ہے اور تم کو تمہارے اعمال کی پوری جزا تو قیامت کے دن دی جائے گی تو جو شخص آگ سے دور رکھا گیا اور جنت میں داخل کیا گیا تو وہی کامیاب ہوا یعنی اس نے اپنا مکمل مطلوب پالیا۔ دنیا کی زندگی یعنی اس کا عیش تو محض باطل کا سودا ہے کہ چند دن اس سے استفادہ کیا جاسکتا ہے پھر فنا ہوجائے گا، یقیناً تم کو اس میں نون رفع مسلسل نونوں کی وجہ سے حذف کردیا گیا ہے واؤ ضمیر بھی اجتماع ساکنین کی وجہ سے حذف کردیا گیا ہے۔ تمہارے مالوں میں ان کے فرائض اور آفات کے ذریعہ اور تمہاری جانوں میں عبادات اور مصائب کے ذریعہ آزمایا جائے گا۔ اور یقیناً تم ان لوگوں سے جن کو تم سے پہلے کتاب مل چکی ہے۔ (یعنی) یہود و نصاریٰ اور مشرکین عرب سے بہت سی دل آزار جاتیں مثلاً گالی گلوچ اور طعنہ زنی اور تمہاری عورتوں کے بارے میں عشقیہ اشعار سننے پڑیں گے اگر تم اس پر صبر کرو اور تقویٰ اختیار کرو تو بلاشبہ یہ بڑی ہمت کے کام ہیں یعنی ان مقاصد میں سے ہیں جن کا ان کے واجب ہونے کی وجہ سے قصد کیا جاتا ہے اور اس وقت کو یاد کرو جب اللہ نے اہل کتاب سے تورات میں عہد لیا کہ تم اس کتاب کو سب لوگوں سے ضرور بیان کرو گے اور اسے چھپاؤ گے نہیں دونوں فعلوں میں تاء اور یاء کے ساتھ۔ سو انہوں نے اس عہد کو اپنے پس پشت ڈال دیا کہ اس طور پر اس پر عمل نہ کیا۔ اور اس کے عوض اپنے کمتر لوگوں سے اپنی علمی سربراہی کی وجہ سے دنیا کی حقیر قیمت لے لی اس ثمن قلیل کے فوت ہونے کے خوف سے اس عہد کو چھپالیا۔ سو کیسی بری چیز ہے وہ جس کو وہ خرید رہے ہیں یعنی ان کا اس کو خریدنا کس قدر برا ہے ! سو ایسے لوگوں کے بارے میں جو اپنے کرتوتوں یعنی لوگوں کو گمراہ کرنے پر خوش ہو رہے ہیں ہرگز خیال نہ کریں (کہ وہ عذاب سے محفوظ رہیں گے) اور وہ چاہتے ہیں کہ ان کی مدح سرائی ایسے کارناموں پر بھی کی جائے جن کو انہوں نے انجام نہیں دیا ہے اور وہ حق کو تھامنا ہے۔ حالانکہ وہ گمراہی میں ہیں تو ایسے لوگوں کے بارے میں ہرگز آپ خیال نہ کریں کہ وہ آخرت میں عذاب سے محفوظ رہیں گے یعنی ایسی جگہ میں ہوں گے کہ وہ نجات پاجائیں، بلکہ وہ تو ایسی جگہ میں ہوں گے جس میں عذاب دئیے جائیں گے۔ اور وہ دوزخ ہے اور ان کے لیے اس میں دردناک (دردمند) عذاب ہوگا۔ اور پہلے یَحْسَبُ کے دونوں مفعول کہ جن پر یَحْسَبُ ثانی کے دونوں مفعول یاء تحتانیہ کی قراءت کی صورت میں دلالت کر رہے ہیں اور فوقانیہ (قراءت) کی صورت میں فقط ثانی مفعول حذف کیا گیا ہے۔ اور آسمانوں اور زمین یعنی بارش اور رزق اور نباتات وغیرہ کے خزانوں پر اللہ ہی کی سلطنت ہے اور اللہ ہی ہر شی پر قادر ہے اسی میں سے کافروں کی تعذیب اور مومنوں کو نجات دینا ہے۔
تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد
قولہ : لَقَدْ سَمِعَ اللہُ قَوْلَ الَّذِیْنَ قَالُوْا۔ یہ کلام مستانف ہے۔ اس کو یہود کی بیہودہ گوئی اور افواہوں کا نمونہ بیان کرنے کے لیے لایا ہے لَقَدْ میں لام توطیہ ہے قسم کے محذوف ہونے پر دلالت کرنے کے لیے ہے ای واللہ لَقَدْ سَمِعَ اللہ الخ۔ قَدْ حرف تحقیق ہے اور لام جواب قسم پر داخل ہے۔ قولہ : نکتب۔ اس میں اشارہ ہے کہ قَتْلَھُمْ کا عطف ما پر ہے نہ کہ قالوا پر۔
قولہ : بالنصب والرفع۔ وَقَتْلَھُمْ ، میں دونوں قراءتیں ہیں، اس لیے کہ قتلھم کا معطوف علیہ ما قالوا ہے۔ اور معطوف علیہ محل کے اعتبار سے منصوب اور مرفوع دونوں ہے اگر نکتُب، نون کے ساتھ پڑھیں تو مَاقَالُوْا محلاً منصوب ہوگا اس لیے کہ نکتب کا مفعول ہوگا اور اگر یُکتَبُ یاء کے ساتھ پڑھیں تو معطود علیہ مرفوع ہوگا اس لیے کہ یکتب، مجہول کا صیغہ ہوگا اور ماقالوا نائب فاعل۔
قولہ : ای بذی ظلم، اس میں اشارہ ہے کہ ظلّام۔ مبالغہ کا صیغہ اسم فاعل کے معنیٰ میں ہے قرآن کریم میں مبالغہ کا صیغہ اکثر اسم فاعل کے معنی میں مستعمل ہے۔ قولہ : جوائح، یہ جائحۃ کی جمع ہے، آفت، پھلوں کا روگ۔
قولہ : التشبیب، غزل گوئی۔ عشق و محبت کی باتیں، تشبیب دراصل جوانی کی باتوں کے ذکر کو کہتے ہیں۔ بعد میں غزل کے شروع میں عشقیہ باتوں کے ذکر کو کہنے لگے۔
قولہ : مَعْزُوْمَاتِھَا، اس میں اشارہ ہے کہ عزم مصدر بمعنی اسم مفعول ہے۔ امور جمع، عزم کی اضافت امور جمع کی جانب کی وجہ سے ہے
قولہ : لَتُبَیِّنُنَّہُ ، تَبَیّن سے جمع مذکر حاضر بانون ثقیلہ۔ تم ضرور بیان کرو گے اس میں لام قسمیہ ہے۔
قولہ : شراءھم ھذا، شراءھم، بئس کا فاعل ہے اور۔ ھذا، مخصوص بالمدح ہے۔
اللغۃ والبلاغۃ
(1) استعارۃ مکنیۃ : فی قولہ تعالیٰ : ” ذُوْقُوْا عَذَابَ الْحَریْق۔ استعارۃ مکنیۃ، وقد تقدمت الاشارۃ الیھا۔ (2) الطباق : الطباق بین فقیر واغنیاء۔
(3) المجاز المرسل : فی قولہ تعالیٰ : ” اَیْدِیْکم “ اذالمراد سیئاتکم، والعلامۃ ھی السببیۃ، لان الید یعنی السبب فیما یقترفہ الانسان من اعمال، مَتَاعُ الغرور۔ المتاع کل ما استمتع بہ الانسان من مال وغیرہ۔ والغرور : مصدر غَرّای خدع، والمغرور، الباطل۔
ما الحیوۃ الدنیا الامتاع الغرور۔ فی الآیۃ ۃ تشبیہٌ بلیغٌ۔ فقد شبّہ الدنیا بالمتاع الذی یدلس بہ باعہ علم طالبہ حتی یتخدع ویشتریہ۔
الاستعارۃ المکنیۃ : فی قولہ تعالیٰ ، وَاشتروابہ ثمناً قلیلا، وقد تقدمت۔
تفسیر و تشریح
لَقَدْ سَمِعَ اللہُ قَوْلَ الَّذِیْنَ قَالُوْا اِنَّ اللہَ فَقِیْرٌ وَّنَحْنُ اَغْنِیآءُ جب اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو راہ خدا میں خرچ کرنے کی ترغیب دی اور فرمایا ” مَنْ ذَا الَّذِیْ یُقْرِضُ اللہَ قَرْضًا حَسَنًا “ کون ہے جو اللہ کو قرض حسن دے تو یہودیوں نے کہا سے محمد ﷺ تیرا رب فقیر ہوگیا ہے کہ اپنے بندوں سے قرض مانگ رہا ہے ؟ جس پر اللہ تعالیٰ نے مذکورہ آیت نازل فرمائی۔ (ابن کثیر)
ابوبکر ؓ کا فنحاص کو مارنا : ابن عباس سے ابن اسحق، ابن جریر، ابن المنذر اور ابن ابی حاتم نے روایت کیا ہے کہ ابوبکر بیت المدارس میں داخل ہوئے تو دیکھا کہ لوگ ایک یہودی جس کا نام فنحاص تھا، کے پاس جمع تھے یہ شخص یہودی علماء میں سے تھا۔ تو ابوبکر صدیق ؓ نے اس سے کہا۔ افسوس تیرے حال پر اے فنحاص تو اللہ سے ڈر اور اسلام لے آ، واللہ تو بخوبی جانتا ہے کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں اور تم تورات میں یہ بات لکھی ہوئی پاتے ہو، تو فنحاص نے ابوبکر صدیق ؓ سے کہا واللہ اے (ابوبکر) ہم اللہ کے محتاج نہیں ہیں اللہ ہمارا محتاج ہے اور اگر وہ غنی ہوتا تو ہم سے بقول تمہارے صاحب کے قرض طلب نہ کرتا۔ تمہارا خدا ہم کو سود سے منع کرتا ہے اور خود دوگنا چوگنا دینے کا وعدہ کرتا ہے ابوبکر ؓ کو فنحاص کی اس گستاخی پر غصہ آگیا جس کی وجہ سے ایک طمانچہ رسید کردیا، اور فرمایا واللہ اگر باہم معاہدہ نہ ہوتا تو اے دشمن خدا میں تیری گردن مار دیتا، فنحاص نے آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر ابوبکر صدیق ؓ کی شکایت کرتے ہوئے کہا اے محمد ﷺ دیکھو تمہارے دوست نے میرے ساتھ کیا معاملہ کیا ہے ؟ آنحضرت ﷺ نے ابوبکر صدیق ؓ سے اس کی وجہ دریافت فرمائی تو ابوبکر ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ اس شخص نے خدا کی شان میں گستاخی کی جس کی وجہ سے مجھے غصہ آگیا، فنحاص اپنے اس قول سے مکر گیا مگر اللہ نے اپنے صدیق کی تصدیق فرماتے ہوئے ” لَقَدْ سمع اللہ قول الذین قالوا انَّ اللہ فقیر و نحن اغنیاء “ نازل فرمائی۔ (فتح القدیر شوکانی) ۔ اِنَّ اللہَ عَھِدَ اِلَیْنَا اَلَّانُؤمِنَ لِرَسُوْلٍ حَتٰی یَأْتِیَنَا بِقُرْبَانٍ تَاْکُلُہُ النَّارُ ۔
یہود کا طلب معجزہ قربان : بنی اسرائیل کی شریعت میں چونکہ صدقہ اور مال غنیمت کھانا حلا نہیں تھا اس لیے قربانی کے جانور کو ذبح کرکے اور صدقہ کے مال کو جمع کرکے رکھ دیا جاتا تھا اگر آسمانی آگ آکر اس کو جلا دیتی تو یہ اس کے مقبول ہونے کی علامت سمجھی جاتی تھی ورنہ وہ صدقہ مردودونامقبول سمجھا جاتا تھا۔ اور یہود کا یہ دعویٰ بھی تھا کہ ہم کو تورات میں یہ حکم دیا گیا ہے کہ اگر کوئی نبوت کا دعویٰ کرے تو تم اس سے نذر و صدقات کے مال کو آسمانی آگ سے جلانے کا مطالبہ کرو اگر وہ معجزہ دکھا دے تو اس کی نبوت پر ایمان لاؤ ورنہ نہیں، اس معجزہ سے حضرت مسیح (علیہ السلام) اور محمد ﷺ مستثنیٰ تھے ان پر اس معجزہ کے بغیر ہی ایمان لانے کا حکم تھا۔ اگر آپ ﷺ چاہتے تو ان کو یہ جواب دے سکتے تھے کہ ہمارے اوپر ایمان لانے کے لیے یہ معجزہ دکھانا شرط نہیں ہے مگر اللہ تعالیٰ نے ان کے اس سوال کا جواب دوسرے طریقہ سے دیا، کہ اے رسول مقبول آپ ان سے کہیے کہ ہم سے پہلے جو پیغمبر آئے اور وہ یہ معجزہ بھی لائے پھر تم نے انہیں کیوں قتل کیا اگر اسی معجزہ پر تمہارے ایمان لانے کا دارومدار تھا تو ان پر ایمان لاتے۔
بائبل میں متعدد مقامات پر یہ ذکر آیا ہے کہ خدا کے یہاں کسی کی قربانی کے مقبول ہونے کی علامت یہ تھی کہ غیب سے ایک آگ نمودار ہو کر اسے جلا دیتی تھی، (قضاۃ 2: 6۔ 12) لیکن یہ کسی جگہ نہیں لکھا ہے کہ اس طرح کی قربانی نبوت کی کوئی ضروری شرط ہے یا جس نبی کو یہ معجزہ نہ دیا گیا ہو وہ نبی نہیں ہوسکتا۔ یہ محض ایک من گھڑت بہانہ تھا جو یہودیوں نے محمد ﷺ کی نبوت کا انکار کرنے کے لیے تصنیف کرلیا تھا لیکن اس سے بھی بڑھ کر ان کی حق دشمنی کا ثبوت یہ تھا کہ خود انبیاء بنی اسرائیل میں سے بعض نبی ایسے گزرے ہیں جنہوں نے قربانی کا مذکورہ معجزہ پیش کیا مگر پھر بھی جرائم پیشہ لوگ ان کے قتل سے باز نہ آئے۔ مثال کے طور پر بائبل میں حضرت الیاس (ایلیا) کے متعلق لکھا ہے کہ انہوں نے ہبل کے پجاریوں کو چیلنج کیا کہ مجمع عام میں ایک بیل کی قربانی تم کرو اور ایک کی قربانی میں کرتا ہوں جس کی قربانی کو غیبی آگ کھالے وہی حق پر ہے، چناچہ ایک خلق کثیر کے سامنے یہ مقابلہ ہوا اور غیبی آگ نے حضرت الیاس کی قربانی کھالی، لیکن اس کا جو نتیجہ نکلا وہ یہ تھا کہ اسرائیل کے بادشاہ کی ہبل پرست ملکہ حضرت الیاس کی دشمن ہوگئی اور وہ زن پرست بادشاہ اپنی ملکہ کی خاطر ان کے قتل کے درپے ہوا اور ان کو مجبوراً ملک سے نکل کر جزیرہ نمائے سینا کے پہاڑوں میں پناہ لینی پڑی۔ (1۔ سلاطین، باب 19، 18)
Ayahs 3:182–184فَاِنْ کَذَّبُوْکَ فَقَدْ کُذِّبَ رُسُلٌ مِّنْ قَبْلِکَ (الآیۃ) شرط ہے اس کا جواب شرط محذوف ہے جس کو مفسر علام نے فاصبر کہہ کر ظاہر کردیا ہے، اس آیت میں رسول اللہ ﷺ کو تسلی دی گئی ہے کہ ان کی تکذیب سے آپ کبیدہ خاطر نہ ہوں کیوں کہ یہ معاملہ تو سب ہی انبیاء کے ساتھ ہوتا چلا آیا ہے۔
Ayah 3:185کُلُّ نَفْس ذَائِقَۃُ الْمَوْتِ ۔ اس آیت میں اس اٹل حقیقت کا بیان ہے کہ موت سے کسی کو مفر نہیں۔ دوسرا یہ کہ دنیا میں جس نے اچھا یا برا جو کچھ کیا ہوگا اس کو اس کا پورا بدلہ دیا جائے گا، تیسرے کامیابی کا معیار بتلایا گیا ہے کہ ہر کامیاب انسان اصل میں وہ ہے کہ جس نے دنیا میں رہ کر اپنے رب کو راضی کرلیا جس کے نتیجے میں وہ جہنم سے محفوظ اور جنت میں داخل کردیا گیا۔ چوتھا یہ کہ دنیا کی زندگی سامان فریب ہے جو اس سے دامن بچا کر نکل گیا وہ خوش نصیب اور جو اس کے فریب میں پھنس گیا وہ ناکام اور نامراد ہے۔
Ayah 3:186لَتُبْلَوُنَّ فِی اَمْوَالِکُمْ وَاَنْفُسِکُمْ وَلَتَسْمَعُنَّ مِنَ الّذِیْنَ اُوْتُوا الْکِتَابَ مِنْ قَبْلِکُمْ (الآیۃ) اے مسلمانو ! تمہیں مال اور جان کی آزمائش پیش آکر رہے گی اور اہل کتاب اور مشرکین سے بہت سی تکلیف دہ باتیں سنو گے۔
اہل ایمان کی آزمائش : اہل ایمان کو ان کے ایمان کے مطابق آزمایا جائے گا جیسا کہ سورة بقرہ میں آیت 155 میں گزر چکا ہے۔ اہل کتاب اور مشرکین سے تکلیف پہنچنے کا مطلب یہ ہے کہ مسلمانوں کو ان کی طرف سے دین اسلام کی تحقیر پیغمبر اسلام کی توہین اور ان کی طعن وتشنیع اور ان کے الزامات اور ان کا بیہودہ طرز کلام سننا پڑے گا لہٰذا تم ان کے مقابلہ میں صبر و استقامت سے کام لینا۔ بیشک یہ بڑے دل گردے کا کام ہے۔ اس آیت کی تفسیر میں ایک واقعہ بھی بیان کیا گیا ہے رئیس المنافقین عبد اللہ بن ابی نے ابھی اسلام کا اظہار نہیں کیا تھا اور جنگ بدر بھی ابھی نہیں ہوئی تھی کہ نبی ﷺ حضرت سعد بن عبادہ کی عیادت کے لیے بنی حارث بن خزرج میں تشریف لے گئے، راستہ میں ایک مجلس میں مشرکین یہود اور عبد اللہ بن ابی وغیرہ بیٹھے ہوئے تھے، آپ ﷺ کی سواری سے جو گرداڑی عبد اللہ بن ابی نے گستاخانہ کلمات بھی کہے، وہاں بعض مسلمان بھی تھے انہوں نے اس کے برعکس آپ ﷺ کی تحسین فرمائی قریب تھا کہ ان کے اندر جھگڑا ہوجائے آپ ﷺ نے ان سب کو خاموش کو دیا، پھر آپ حضرت سعد ؓ کے پاس تشریف لے گئے تو انہیں بھی یہ واقعہ سنایا، جس پر انہوں نے فرمایا کہ عبد اللہ بن ابی یہ باتیں اس لیے کرتا ہے کہ آپ ﷺ کے مدینہ آنے سے پہلے یہاں کے باشندگان کو اس کی تاج پوشی کرنی تھی اب آپ کے آنے سے اس کی سرداری کا یہ حسین خواب ادھورا رہ گیا جس سے اسے سخت صدمہ ہے اور اس کی یہ باتیں اس کے اس بغض وعناد کا مظہر ہیں، اسی لیے آپ درگذر ہی سے کام لیں۔ (صحیح بخاری کتاب التفسیر ملخصاً )
Ayah 3:187وَاِذْ اَخَذَ اللہُ مِیْثَاقَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْکِتَابَ لَتُبَیِّنُنَّہٗ لِلنَّاسِ ۔ ان اہل کتاب کو وہ عہد بھی یاد دلاؤ جو اللہ نے ان سے لیا تھا کہ تمہیں کتاب کی تعلیمات لوگوں میں پھیلانی ہونگی۔ انہیں پوشیدہ رکھنا نہیں ہوگا مگر انہوں نے کتاب کو پس پشت ڈال دیا اور تھوڑی قیمت پر بیچ ڈالا کتنا برا کاروبار ہے جو یہ کر رہے ہیں۔ مذکورہ تین آیتوں میں علماء اہل کتاب کے دو جرم اور ان کی سزا کا بیان ہے۔ اور یہ کہ ان کو حکم یہ تھا کہ اللہ کی کتاب میں جو احکام آئے ہیں ان کو سب کے سامنے بےکم وکاست بیان کریں گے، اور کسی حکم کو چھپائیں گے نہیں۔ مگر انہوں نے اپنی دنیاوی اغراض اور طمع نفسانی کی خاطر اس عہد کی پرواہ نہ کی۔ بہت سے احکام کو لوگوں سے چھپالیا۔ دوسرے یہ کہ وہ نیک عمل کرتے تو ہیں نہیں اور چاہتے ہیں کہ بغیر عمل کے ان کی تعریف کی جائے۔
تورات کے حکم کو چھپانے کا واقعہ : احکام تورات کو چھپانے کا واقعہ تو صحیح بخاری میں بروایت حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ منقول ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے یہود سے ایک بات پوچھی کہ کیا یہ تورات میں ہے مگر ان لوگوں نے انکار کردیا حالانکہ وہ حکم تورات میں موجود تھا۔ جس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ (معارف ملخصاً )
Ayahs 3:188–190آیت نمبر 190 تا 200
ترجمہ : آسمانوں اور زمین اور ان میں جو عجائبات ہیں ان کی تخلیق میں اور آمدورفت اور زیادتی و کمی شب و روز کے بدلنے میں یقیناً عقل مندوں کے لیے اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانیاں ہیں جو لوگ (الذین) اپنے ما قبل کی صفت یا بدل ہے اللہ تعالیٰ کو کھڑے کھڑے بیٹھے بیٹھے لیٹے لیٹے یعنی ہرحال میں یاد کرتے ہیں ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ حسب طاقت مذکورہ ہئیتوں میں نماز پڑھتے ہیں۔ اور آسمانوں اور زمین کی تخلیق میں غور و فکر کرتے ہیں تاکہ اس کے ذریعہ زمین اور آسمان کے بنانے والے کی قدرت پر استدلال کریں۔ کہتے ہیں اے ہمارے پروردگار ! یہ مخلوق جس کو ہم دیکھ رہے ہیں تو نے بےفائدہ پیدا نہیں کی بلکہ تیرے کمال قدرت پر دلیل بنایا۔ تمام لایعنی کاموں سے تو پاک ہے سو ہم کو دوزخ کے عذاب سے محفوظ رکھنا۔ اے ہمارے پروردگار ! جس کو تو نے ہمیشہ کے لیے جہنم میں ڈال دیا تو تو نے اس کو رسوا اور کافروں کے لیے کوئی مددگار نہ ہوگا کہ ان کو اللہ کے عذاب سے بچا سکے، اس میں کافروں کے ساتھ رسوائی کی تخصیص کی طرف اشارہ کرنے کے لیے اسم ضمیر کی جگہ اسم ظاہر کو لایا گیا ہے۔ اے ہمارے پروردگار ! ہم نے ایک پکارنے والے کو سنا کہ بآواز بلند لوگوں کو ایمان کی طرف پکار رہا ہے۔ اور وہ محمد ﷺ یا قرآن ہے کہ اے لوگو ! اپنے رب پر ایمان لاؤ پس ہم اس پر ایمان لائے اے الہیٰ اب تو ہمارے گناہ معاف فرما اور ہماری خطاؤں کی پردہ پوشی فرما لہٰذا ان پر سزا دے کہ ان کو ظاہر نہ فرما اور ہماری وفات (یعنی حشر) انبیاء و صالحین کے زمرہ میں فرما، اے ہمارے رب ! اپنی رحمت اور اپنے فضل سے (مذکورہ چیزوں کا ہم کو مستحق فرما) اور اپنے رسول کی زبانی تو نے جس کا ہم سے وعدہ فرمایا ہے عطا فرما۔ ان کا مذکورہ چیزوں کا سوال کرنا باوجودیکہ اللہ تعالیٰ کے وعدہ میں تخلف نہیں ہوتا بایں معنیٰ ہے کہ ہم کو اپنے وعدے کے مستحق میں شامل فرما اس لیے کہ ان کو ان وعدوں کا مستحق ہونے کا یقین نہیں تھا۔ اور رَبَّنَا، کی تکرار عاجزی میں مبالغہ کرنے کے لیے ہے اور ہم کو قیامت کے دن رسوا نہ کرنا بیشک تو بعث و جزاء کے وعدہ کا خلاف نہیں کرتا۔ سو ان کی دعاء کو ان کے پروردگار نے قبول کرلیا اس لیے کہ میں کسی عمل کرنے والے کے عمل کو خواہ مرد ہو یا عورت ضائع نہیں کرتا اس لیے کہ تم آپس میں ایک دوسرے کے جز ہو یعنی مذکر مونث سے ہے اور اس کا عکس یہ جملہ (معترضہ) ماقبل کے لیے موکدہ ہے۔ یعنی وہ اعمال کی جزاء اور عدم اضافت میں برابر ہیں۔ آیت اس وقت نازل ہوئی جب حضرت امّ علمہ نے عرض کیا یا رسول اللہ میں نے نہیں سنا کہ اللہ نے ہجرت کے معاملہ میں عورتوں کا بھی کچھ ذکر کیا ہو۔ اس لیے وہ لوگ جنہوں نے مکہ سے مدینہ کی جانب ہجرت کی۔ اور جن کو ان کے گھروں سے نکالا گیا اور میرے دین کے راستہ میں ایذا دیئے گئے اور جنہوں نے کفار سے جہاد کیا اور شہید کیے گئے۔ (قتلوا) تخفیف اور تشدید کے ساتھ ہے۔ اور ایک قراءت میں قُتِلُوْا کی تقدیم کے ساتھ ہے۔ میں ضرور ان کی برائیاں دور کر دوں گا یعنی ان کو مغفرت میں چھپالوں گا۔ اور ضرور ان کو ایسی جنت میں داخل کروں گا کہ جن کے نیچے نہریں جاری ہیں (ثواباً ) یہ اللہ کی طرف سے بطور ثواب ہے، لَاُکَفِّرَنّ کے معنیٰ سے مصدر برائے تاکید ہے۔ اس میں تکلم سے غیبت کی جانب التفات ہے۔ اور بہتر ثواب اللہ ہی کے پاس ہے۔ (اور آئندہ آیت اس وقت نازل ہوئی) جب مسلمانوں نے کہا کہ ہم اللہ کے دشمنوں کو بہتر حالت (آسودگی) میں دیکھ رہے ہیں اور ہم مشقت میں ہیں۔ کافروں کا شہروں میں تجارت اور کسب معاش کے سلسلہ میں چلنا پھرنا آپ کو دھوکہ میں نہ ڈال دے یہ تو چند روزہ بہار ہے جس سے دنیا میں چند روز مزے اڑائیں گے اور ختم ہوجائیگی۔ پھر تو ان کا ٹھکانہ دوزخ ہے اور وہ برا ٹھکانہ یعنی برابستر ہے۔ البتہ جو لوگ اپنے پروردگار سے ڈرتے رہتے ہیں ان کے لیے ایسے باغات ہیں کہ جن کے نیچے نہریں جاری ہیں جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے یہ اللہ کی طرف سے بطور ضیافت ہوگی اور یہ ہمیشہ رہنا ان کے لیے مقدر کردیا گیا ہے اور ’ نُزُل ‘ اس چیز کو کہتے ہیں جو مہمان کے لیے تیار کی جاتی ہے اور اس کا نصب جنۃ سے حال ہونے کی بناء پر ہے اور اس میں عامل معنیٰ ظرف ہیں (ای ثَبَتَ لھم) اور اللہ کے پاس جو ثواب ہے وہ صالحین کے لیے متاع دنیا سے بہتر ہے اور اہل کتاب میں یقیناً کچھ ایسے بھی ہیں کو اللہ پر ایمان رکھتے ہیں جیسے عبد اللہ بن سلام اور ان کے ساتھی یا نجاشی، اور اس پر بھی جو تمہاری طرف اتارا گیا ہے یعنی قرآن اور جو ان کی طرف اتارا گیا ہے۔ یعنی تورات اور انجیل (اللہ سے) ڈرنے والے ہیں۔ اور اللہ کی آیتوں کا جو تورات و انجیل میں ان کے پاس ہیں۔ اور وہ محمد ﷺ کی صفات ہیں قلیل قیمت میں سودا نہیں کرتے کہ زوال ریاست کے خوف سے ان کو چھپا دیں۔ جیسا کہ ان کے علاوہ دیگر یہود کرتے تھے۔ یہی وہ لوگ ہیں کہ جن کے اعمال کا بدلہ ان کے رب کے پاس ہے ان کو دوگنا اجر دیا جائے گا جیسا کہ سورة قصص میں ہے یقیناً اللہ جلد حساب لینے والا ہے مخلوق کا حساب دنیوی ایام کے حساب کے اعتبار سے نصف دن میں لے لیگا۔ اے ایمان والو ! طاعات پر اور معاصی سے باز رہنے پر صبر کرو اور کفار کے مقابلہ میں ثابت قدم رہو۔ کہ وہ تم سے زیادہ ثابت قدم نہ ہوں۔ اور جہاد کے لیے تیار رہو اور تمام حالات میں اللہ سے ڈرتے رہو، تاکہ تم جنت کے لینے میں کامیاب ہوجاؤ اور نار جہنم سے بجات پاؤ۔
تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد
اِنَّ فِیْ خَلْقِ السَّمٰواتِ وَالْاَرْضِ (الآیۃ) کلام مستانف ہے اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے وجود اور اس کے علم اور اس کی قدرت کو بیان کرنے کے لیے لایا گیا ہے۔
قولہ ؛ یقولون، سابق میں باری تعالیٰ کا کلام تھا یہاں سے ” اولوالالباب “ کا کلام شروع ہے اس لیے یہاں یقولون مقدر مانا ہے۔
قولہ : الخلق الذی نرَاہ۔ یہ ایک سوال مقدر کا جواب ہے۔
سوال : ہذا کا مشارٌ الیہ السموٰت والارض ہے جو کہ مونث ہے اور ھذا اسم اشارہ مذکر ہے، اسم اشارہ اور مشارٌ الیہ میں مطابقت نہیں ہے
جواب : ھذا کا مشارٌ الیہ خلق بمعنیٰ مخلوق ہے۔ لہٰذا کوئی اعتراض نہیں۔
قولہ : باطلاً ۔ یہ ہذا سے حال ہے نہ کہ خلقت کا مفعول ثانی اس لیے کہ خلق متعدی بیک مفعول ہے۔
قولہ : للخلود فیھا۔ یہ ایک سوال مقدر کا جواب ہے۔
سوال : اللہ تعالیٰ کا قول ” یَوْمَ لَایُخْزِی اللہُ النَّبِیَّ وَالَّذِیْنَ آمَنُوْا مَعَہٗ “ کا مقتضیٰ ہے کہ تمام مومنین غیر محزونین ہوں۔ حالانکہ عصاۃ مومنین میں سے بعض جہنم میں داخل ہوں گے اور یہ آیت دلالت کر رہی ہے کہ جو بھی جہنم میں داخل ہوا رسوا ہوا اگرچہ وہ مومن ہی کیوں نہ ہو ؟ جواب : دخول سے دائمی دخول مراد ہے جو صرف کافروں کے لیے ہوگا۔ اس سے معتزلہ کا جواب بھی ہوگیا کہ ان کے نزدیک گناہ کبیرہ کا مرتکب مومن نہیں ہے۔
قولہ : وضع الظاھر موضع المضمر الخ یہ ایک سال مقدر کے جواب کی طرف اشارہ ہے۔
سوال : اصحاب الخزی کا ذکر سابق میں مَنْ تدخل النار کے ضمن میں آچکا ہے لہٰذا اس کے لئے ضمیر لانا کافی تھا یعنی ماللظلمین کے بجائے مَالَھُمْ کافی تھا ؟ جواب : یہ ہے کہ خزیان کی تخصیص کو بیان کرنے لے لئے صراحت کے ساتھ لفظ ظالمین ذکر کیا گیا ہے۔
قولہ : الیہ۔ سوال مقدر کا جواب ہے۔ سوال : نداء اور دعاء متعدی باللام نہیں ہوتے حالانکہ یہاں متعدی باللام ہے ؟
جواب : لام بمعنی اِلیٰ ہے۔ اسی جواب کی طرف مفسر علام نے اِلَیْہِ کہہ کر اشارہ کیا ہے۔
قولہ : ثواباً ، مصدرٌمِنْ معنی لَاکفرنَّ موکدٌ لہ اس عبارت سے ایک تو یہ بتانا ہے کہ ثواباً جنت سے حال نہیں ہے اسلئے کہ یہاں حال کا ذوالحال پر حمل درست نہیں ہے۔ قولہ : لاکفرّن، سے ایک سوال کا جواب دینا مقصود ہے۔
سوال : ثوابًا، لَأکفرن کا مفعول مطلق نہیں ہوسکتا دونوں کے الفاظ الگ ہیں، حالانکہ دونوں کا ایک مادہ سے ہونا ضروری ہے۔
جواب : ثواباً اور لَأکَفِّزَنَّ اگرچہ دونوں کے الفاظ متحد نہیں ہیں مگر معنیٰ کے اعتبار سے دونوں متحد ہیں، اس لیے کہ لَأکَفَّرَنَّ معنی میں لَاُثِیْبَنَّھُمْ کے ہے۔ لہٰذا اب عبارت اس طرح ہوگی ” لَاُثیبَنَّھُمْ ثوابًا “ اور یہ مفعول مطلق برائے تاکید ہے۔
اللغۃ والبلاغۃ
الطباق : اَلَّذِیْنَ یذکرون اللہ قِیَامًا وقعوداً وعلی جنوبھِمْ ۔ (میں صنعت طباق ہے) ۔ الطباق الذی جمع حالات الانسان الثلاث فی الصلوٰۃ، وھی قیام والقعود والاضطجاع علی الجنب کما یقول الشافعی (رح) تعالیٰ او استلقاء لانّہ اَخفُّ کما یقول ابوحنیفہ (رح) تعالیٰ ۔
المجاز المرسل : المجاز المرسل بعلاقۃ المحلیۃ فقد ذکر السموات والارض ومرادہ ما فیھا مِن اجرام عظیمۃ بدیعۃ الصنع۔
الایجاز : ایجاز فی قولہ تعالیٰ ” وَیَتَفَکّرونَ فی خلق السّمٰواتِ والارض “ حیث انطویٰ تحت ھٰذا الایجاز کلَّ ماَ تمحَّضَ عنہ العلم من روائع المکتشفات وبدائع المستنبطات وفی الحدیث ” لاعبادۃ کالتَفَکّر “۔
تفسیر و تشریح
شان نزول : اِنَّ خَلْقِ السَّمٰوَاتِ وَالْاَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّیْلِ وَالنَّھَارِ (الآیۃ) اس آیت کے شان نزول کے متعلق ابن حبان نے اپنی صحیح میں اور محدث ابن عساکر نے اپنی تاریخ میں نقل کیا ہے کہ عطا بن ابی رباح (رح) تعالیٰ حضرت عائشہ ؓ کے پاس تشریف لے گئے۔ اور کہا کہ رسول اللہ ﷺ کے حالات میں جو سب سے زیادہ وجیب چیز آپ نے دیکھی ہو وہ مجھے بتلائیے۔ اس پر حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا آپ کی کس شان کو پوچھتے ہو، ان کی ہر شان عجیب تھی، ہاں ایک عجیب واقعہ سناتی ہوں۔ وہ یہ کہ آپ ﷺ ایک رات میرے پاس تشریف لائے، اور لحاف میں میرے ساتھ داخل ہوگئے پھر فرمایا اجازت دو میں اپنے پروردگار کی عبادت کروں، بستر سے اٹھے۔ وضو فرمایا، پھر نماز کے لیے کھڑے ہوگئے، اور قیام میں اس قدر روئے کہ آپ کے آنسو سینہ مبارک پر بہہ گئے، پھر رکوع فرمایا اور اس میں بھی روئے، پھر سجدہ کیا اور سجدہ میں بھی اسی قدر روئے، پھر سر اٹھایا اور مسلسل روتے رہے، یہاں تک کہ صبح ہوگئی۔ حضرت بلال آئے اور آپ ﷺ کو نماز کی اطلاع دی۔ بلال فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا کہ حضور اس قدر گریہ کیوں فرماتے ہیں ؟ اللہ تعالیٰ نے تو آپ کے اگلے پچھلے گناہ معاف فرما دئیے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا، کیا میں شکر گذار بندہ نہ نبوں ؟ اور شکریہ میں گریہ وزاری کیوں نہ کروں۔ جب کہ اللہ تعالیٰ نے آج کی رات مجھ سے یہ آیت مبارکہ نازل فرمائی ” اِنَّ فی خلق السموٰات والارض “ (الآیۃ) ۔ اس کے بعد آپ ﷺ نے فرمایا : بڑی تباہی ہے اس شخص کے لیے جس نے ان آیتوں کو پڑھا اور ان میں غور نہیں کیا۔ (معارف)
خَلْقِ السَّمٰوَاتِ وَالْاَرْضِ سے کیا مراد ہے ؟ خلق، مصدر ہے جس کے معنی ایجاد و اختراع کے ہیں، مطلب یہ ہوا کہ زمین و آسمان کے پیدا کرنے میں اللہ تعالیٰ کی بڑی نشانیاں ہیں۔ ان نشانیوں سے ہر شخص بآسانی حقیقت تک پہنچ سکتا ہے۔ بشرطیکہ وہ خدا سے غافل نہ ہو، اور آثار کائنات کو جانوروں کی طرح نہ دیکھے بلکہ غور و فکر کے ساتھ مشاہدہ کرے۔ جب وہ نظام کائنات میں غور و فکر کرتے ہیں اور قدرت کی نشانیوں کا مشاہدہ کرتے ہیں تو یہ حقیقت ان پر کھل جاتی ہے کہ یہ سراسر ایک حکیمانہ نظام ہے تو وہ کہہ اٹھتے ہیں ” رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ ھٰذَا بَاطلاً “ اور وہ اس نتیجے پر پہنچ جاتے ہیں کہ یہ بات سراسر حکمت کے خلاف ہے کہ جس مخلوق میں اللہ نے اخلاقی حس پیدا کی ہو، جسے تصریف کے اختیارات دئیے ہوں، جسے عقل وتمیز عطا کی ہو، اس سے اس کی حیات دنیا کے اعمال پر باز پرس نہ ہو اور اسے نیکی پر جزاء اور بدی پر سزا نہ دی جائے۔ اس طرح نظام کائنات پر غور کرنے سے انہیں آخرت کا یقین حاصل ہوجاتا ہے، اور خدا کی سزا سے پناہ مانگنے لگتے ہیں ” سُبْحَانَکَ فَقنَا عَذَابَ النَّارِ “۔
اسی طرح یہی مشاہدہ ان کو اس بات کی مطمئن کردیتا ہے کہ پیغمبر اس کائنات اور اس کے آغاز و انجام کے متعلق جو نقطہ نظر پیش کرتا ہے اور زندگی کا جو راستہ بتاتا ہے وہ سراسر حق ہے۔ اور زبان دل سے کہنے لگتے ہیں ” رَبَّنَا اِنَّنَا سَمِعْنَا مُنَادِیا ینادی للایمان اَن آمنوا بِرَبِّکُمْ فَآمَنَّا الخ، رَبّنَا وَآتِنَا ماوَعدتنا علی رسلک ولاتخزنا یوم القیامۃ اِنّک لا تخلف المیعاد “۔
انہیں اس امر میں تو شک نہیں ہے کہ اللہ اپنے وعدوں کو پورا کرے گا یا نہیں، البتہ تردد اس امر میں ہے کہ آیا یہاں وعدوں کے مصداق ہم بھی قرار پاتے ہیں یا نہیں۔ اس لیے وہ اللہ سے دعا مانگتے ہیں کہ ان وعدوں کا مصداق ہمیں بھی بنا دے کہیں ایسا نہ ہو کہ دنیا میں تو ہم پیغمبروں پر ایمان لاکر کفار کی تضحیک اور طعن وتشنیع کا نشانہ بنے ہی رہے، قیمت میں بھی ان کافروں کے سامنے ہماری رسوائی ہو اور وہ ہم پر بھپتی کسیں کہ ایمان لا کر بھی ان کا بھلا نہ ہوا۔
Ayahs 3:191–195فَاسْتَجَابَ لُھُمْ رَبُّھُمْ ۔ ان لوگوں کی دعاء اور درخواست کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا : تم میں سے کسی کے عمل کو ضائع کرنے والا نہیں، خواہ مرد ہو یا عورت۔ مرد یا عورت کی وضاحت اس لیے فرما دی کہ اسلام نے بعض معاملات میں مرد اور عورت کے درمیان ان کے ایک دوسرے سے مختلف فطری اوصاف کی بنا پر جو فرق کیا ہے۔ مثلاً قوامیت اور حاکمیت میں، کسب معاش کی ذمہ داری میں، جہاد میں حصہ لینے اور وراثت میں نصف حصہ ملنے میں، اس سے یہ نہ سمجھا جائے کہ نیک اعمال کی جزاء میں بھی شاید مرد و عورت کے درمیان کچھ فرق کیا جائے گا نہیں ایسا نہیں ہوگا، بلکہ ہر نیکی کا جو اجر ایک مرد کو ملے گا وہ نیکی اگر عورت کرے گی تو وہ اجر اس کو بھی ملے گا۔
” بَعْضُکُمْ مِّنْ بَعْضٍ “ یہ جملہ معترضہ ہے اس کا مقصد پچھلے نکتہ کی وضاحت ہے۔ بعض روایات میں ہے کہ ام سلمہ ؓ نے ایک مرتبہ عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ اللہ تعالیٰ نے ہجرت کے سلسلہ میں عورتوں کا نام نہیں لیا۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ (قرطبی، ابن کثیر)
Ayah 3:196لَایَغُرَنَّکَ تَقَلُّبُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا فِی الْبِلَادِ ۔ آیت میں خطاب اگرچہ نبی کو ہے لیکن مخاطب پوری امت ہے، شہروں میں چلت پھرت سے مراد تجارت اور کاروبار کیلئے شہر سے دوسرے شہر یا ایک ملک سے دوسرے ملک جانا ہے۔ یہ تجارتی سفر، وسائئل دنیا کی فراوانی اور کاربار کی وسعت و فروغ پر دلیل ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ سب کچھ عارضی اور چند روزہ فائدہ ہے۔ اس سے اہل ایمان کو دھوکے میں مبتلا نہ ہونا چاہیے۔ اصل انجام پر نظر رکھنی چاہیے جو ایمان سے محرومی کی صورت میں جہنم کا دائمہ عذاب ہے جس میں دولت دنیا سے مالامال یہ کافر مبتلا ہوں گے۔ یعنی دنیا کے وسائل، آسائشیں اور سہولتیں بظاہر کتنی ہی زیادہ کیوں نہ ہوں درحقیقت متاع قلیل ہی ہیں کیوں کہ بالآخر ان کے لئے فنا ہے اور ان کے فنا ہونے سے پہلے وہ لوگ خود فنا ہوجائیں گے جو ان کے حصول کی خاطر خدا کو فراموش کیے ہوئے ہیں۔ اور ہر قسم کے اخلاقی ضابطوں اور اللہ کی حدود کو پامال کرتے ہیں۔
Ayahs 3:197–198لٰکِنِ الَّذِْٰنَ اتَّقَوْا رَبَّھُمْ لَھُمْ جنَّاتٌ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِھَا الْاَنْھَارُ (الآیۃ) ان کے برعکس جو لوگ تقویٰ اور خدا خوفی کی زندگی گزار کر اللہ کی بارگاہ میں حاضر ہوں گے، گو دنیا میں ان کے پاس خدا فراموشوں کی طرح دولت کے انبار اور رزق کی فراوانی نہ رہی ہوگی، مگر وہ اللہ کے مہمان ہوں گے جو تمام کائنات کا خالق ومالک ہے، اور وہاں کا صلہ اس سے بہت بہتر ہوگا جو دنیا میں کافروں کو ملا ہے۔
Ayah 3:199وَاِنَّ مِنْ اَھْلِ الْکِتَابِ لَمَنْ یُّؤْمِنُ بِاللہِ (الآیۃ) اس آیت میں اہل کتاب کے اس گروہ کا ذکر ہے جسے رسول اللہ ﷺ کی رسالت پر ایمان لانے کا شرف حاصل ہوا، ان کے ایمان اور ایمانی صفات کا تذکرہ فرما کر اللہ تعالیٰ نے انہیں دوسرے اہل کتاب سے ممتاز کردیا۔ جن کا مشن ہی اسلام، پیغمبر اسلام اور مسلمانوں کے خلاف سازشیں کرنا آیات الٰہی میں تحریف وتلبیس کرنا، اور دنیا کے عارضی مفادات کے لیے کتمان حق کرنا تھا۔ اللہ نے فرمایا یہ مومنین اہل کتاب ایسے نہیں ہیں، بلکہ یہ اللہ سے ڈرنے والے ہیں اللہ کی آیتوں کو تھوڑی تھوڑی قیمت پر بیچنے والے نہیں ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ جو علماء و مشائخ دنیوی اغراض کے لیے آیات الہیٰ میں تحریف یا اس کے مفہوم کے بیان میں دجل و تلسبیس سے کام لیتے ہیں وہ ایمان اور تقویٰ سے محروم ہیں۔ حافظ ابن کثیر (رح) تعالیٰ نے لکھا ہے کہ آیت میں جن مومنین اہل کتاب کا ذکر ہے، یہود میں سے ان کی تعداد دس تک بھی نہیں پہنچتی۔ البتہ عیسائی بڑی تعداد میں مسلمان ہوئے۔ (ابن کثیر)
Ayah 3:200یٰآیُّھَا الَّذِیْنَ آمَنُوا اصْبِرُوْا وَصَابِرُوْا۔ صبر کرو۔ یعنی طاعات اختیار کرنے اور شہوات و لذات کے ترک کرنے میں اپنے نفس کو مضبوط اور ثابت قدم رکھو۔