3. Surah Aal-i-Imraan

آل عمرانThe Family of Imraan · 200 ayahsتفسیرِ جلالین

Ayahs 3:29–31

قُلْ اِنْ تُخْفُوْا مَا فِیْ صُدُوْرِكُمْ اَوْ تُبْدُوْهُ یَعْلَمْهُ اللّٰهُ١ؕ وَ یَعْلَمُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 3:29 in the Quran reader

(اے پیغمبر لوگوں سے) کہہ دو کہ کوئی بات تم اپنے دلوں میں مخفی رکھو یا اسے ظاہر کرو خدا اس کو جانتا ہے اور جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہے اس کو سب کی خبر ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے

یَوْمَ تَجِدُ كُلُّ نَفْسٍ مَّا عَمِلَتْ مِنْ خَیْرٍ مُّحْضَرًا١ۛۖۚ وَّ مَا عَمِلَتْ مِنْ سُوْٓءٍ١ۛۚ تَوَدُّ لَوْ اَنَّ بَیْنَهَا وَ بَیْنَهٗۤ اَمَدًۢا بَعِیْدًا١ؕ وَ یُحَذِّرُكُمُ اللّٰهُ نَفْسَهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ رَءُوْفٌۢ بِالْعِبَادِ۠ Open ayah 3:30 in the Quran reader

جس دن ہر شخص اپنے اعمال کی نیکی کو موجود پالے گا اور ان کی برائی کو بھی (دیکھ لے گا) تو آرزو کرے گا کہ اے کاش اس میں اور اس برائی میں دور کی مسافت ہوجاتی، اور خدا تم کو اپنے (غضب) سے ڈراتا ہے اور خدا اپنے بندوں پر نہایت مہربان ہے

قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ وَ یَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 3:31 in the Quran reader

(اے پیغمبر لوگوں سے) کہہ دو کہ اگر تم خدا کو دوست رکھتے ہو تو میر پیروی کرو خدا بھی تمہیں دوست رکھے گا اور تمہارے گناہوں کو معاف کردیگا اور خدا بخشنے والا مہربان ہے

آیت نمبر 31 تا 41 ترجمہ : جب مشرکین نے کہا ہم (ان بتوں کی) اللہ کی محبت میں پوجا کرتے ہیں تاکہ یہ ہم کو اس کو مقرب بنادیں آیت نازل ہوئی۔ اے محمد ﷺ ان سے کہہ دو اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میری پیروی کرو تو اللہ تم سے محبت کرے گا۔ یعنی تم کو اس کا ثواب دے گا۔ اور تمہارے گناہوں کو بخش دے گا اور اللہ اس شخص کے جس نے میری پیروی کی ان تمام گناہوں کو معاف کرنے والا ہے جو اس سے سابق میں ہوچکے ہیں اور اس پر رحم کرنے والا ہے۔ آپ ان سے کہئے کہ اللہ اور اس کے رسول کی پیروی کرو توحید وغیرہ میں جس کا وہ حکم کرتا ہے۔ اس پر بھی اگر وہ گرداں رہیں یعنی طاعت سے اعراض کریں۔ تو اللہ کافروں سے محبت نہیں کرتا اس میں اسم ظاہر کو اسم ضمیر کی جگہ لایا گیا ہے، یعنی ان سے محبت نہیں کرتا اس معنی کر کہ ان کو سزا دے گا بیشک اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) اور نوح (علیہ السلام) اور آل ابراہیم اور آل عمران کو یعنی خود ان کو سارے جہان پر انبیاء کو ان کی نسل سے کرکے برگزیدہ کیا ہے، یہ بعض بعض کی ذریت ہیں اور اللہ خوب سننے والا ہے اور خوب جاننے والا ہے اس وقت کو یاد کرو جب عمران کی بیوی حنہ نے جب کہ وہ بوڑھی ہوگئیں اور بچہ کی خواہشمند ہوئیں، اور حمل محسوس کیا عرض کیا اے میرے پروردگار میں نے اس بچہ کی جو میرے پیٹ میں ہے تیرے لیے نذر مانی ہے کہ اس کو دنیوی مشاغل سے بالکلیہ الگ رکھ کر بیت المقدس کی خدمت کے لیے آزاد رکھا ئاے گا یعنی میں اس کو آزاد کر دوں گی، سو تو (یہ) مجھ سے قبول کر تو دعاء سننے والا اور نیتوں کا جاننے والا ہے۔ اور عمران کا انتقال ہوگیا، جس وقت (ان کی بیوی حنہ) حامل تھیں، پھر جب اس نے لڑکی کو جنم دیا حالانکہ اس کو لڑکے کی امید تھی اس لیے کہ (بیت المقدس کی خدمت کے لئے) لڑکے ہی آزاد کئے جاتے تھے۔ تو عذر بیان کرتے ہوئے انہوں نے کہا اے میرے پروردگار میں نے تو لڑکی جنی ہے حالانکہ اللہ کو معلوم ہے کہ اس نے کیا جنا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے کلام میں یہ جملہ معترضہ ہے اور ایک قراءت میں وَضَعْتُ ، ضمہ کے ساتھ ہے، جو لڑکا میں نے طلب کیا تھا وہ اس لڑکی جیسا نہیں ہوسکتا ہے جو مجھے دی گئی اس لئے کہ اس سے ایک خاص خدمت مقصود ہے جس کی یہ لڑکی اپنے ضعف اور اس کے عورت ہونے کی وجہ سے اور ان اعذار یعنی مثلاً حیض و نفاس وغیرہ پیش آنے کی وجہ سے صلاحیت نہیں رکھتی (خیر) میں نے اس کا نام مریم رکھا ہے اور میں اسے اور اس کی اولاد کو شیطان مردود سے تیری پناہ میں دیتی ہوں، حدیث میں ہے کہ جو بھی بچہ پیدا ہوتا ہے پیدائش کے وقت شیطان اس کو چونکے لگاتا ہے جس کی وجہ سے وہ زور زور سے چلاتا ہے، البتہ مریم اور اس کا بیٹا اس سے مستثنیٰ ہیں، (رواہ الشیخان) پھر اس کے پروردگار نے بدرجہ احسن اس کی ماں مریم سے قبول کرلیا۔ اور اس کو اچھا نشو و نما دیا، یعنی اچھی تخلیق کے ساتھ اس کو پروان پڑھایا تو وہ ایک دن میں اتنی بڑھتی تھی کہ جتنا بچہ ایک سال میں بڑھتا ہے۔ تو اس کو اس کی والدہ بیت المقدس میں (بیت المقدس کے) خدمت گار احبار کے پاس لائی اور ان سے کہا اس نذر مانی ہوئی کو لو۔ تو سب نے اس میں رغبت کی اس لیے کہ یہ ان کے امام کی بیٹی تھی، زکریا (علیہ السلام) نے فرمایا میں اس کا زیادہ حقدار ہوں، اس لیے کہ اس کی خالی میرے نکاح میں ہے تو لوگوں نے کہا ایسا نہیں ہوسکتا بلکہ ہم تو قرعہ اندازی کریں گے تو وہ نہر اردن کی طرف چلے ان کی تعداد انتیس تھی انہوں نے اپنے قلم (دریا) میں ڈالدئیے۔ یہ بات طے کرکے کہ جس کا قلم پانی میں کھڑا ہوجائے گا اور سطح آب پر چڑھ آئے گا، تو وہی شخص مریم کا زیادہ مستحق ہوگا۔ چناچہ (حضرت) زکریا علیہ الصلوٰ ۃ والسلام کا قلم کھڑا ہوگیا لہٰذا زکریا علیہ الصلوٰۃ نے مریم کو لے لیا اور اس کے لیے مسجد میں ایک زینہ وبالا خانہ بنوایا، اس پر سوائے زکریا (علیہ السلام) کے کوئی نہیں چڑھتا تھا۔ اور حضرت زکریا (علیہ السلام) ان کے پاس کھانا پانی اور تیل (وغیرہ) لے جاتے تھے تو مریم کے پاس موسم سرما کے پھل موسم گرما میں، اور موسم گرما کے پھل موسم سرما میں پاتے تھے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ اور ان کا سرپرست زکریا (علیہ السلام) کو بنادیا یعنی اس کو ان کے ساتھ ملا دیا اور ایک قراءت میں تشدید کے ساتھ اور زکریا کے نصب کے ساتھ ہے۔ ممدودہ اور مقصورہ دونوں ہیں اور اللہ اس کا فاعل ہے، جب کبھی زکریا ان کے پاس حجرہ میں آتے اور وہ سب سے افضل جگہ تھی، تو ان کے پاس کھانے پینے کی چیزیں پاتے (ایک روز) پوچھا اے مریم تیرے پاس یہ چیزیں کہاں سے آتی ہیں ؟ وہ بولیں یہ اللہ کی طرف سے آجاتی ہیں، اس وقت وہ کم سن ہی تھیں، وہ ان کو میرے پاس جنت سے لاتا ہے۔ اللہ جس کو چاہتا ہے بےحساب رزق دیتا ہے یعنی بلامشقت کے کافی رزق، (بس) وہیں یعنی جب زکریا (علیہ السلام) نے یہ صورت حال دیکھی تو سمجھ گئے کہ جو ذات بےموسم کی چیز کو لانے پر قادر ہے تو وہ بڑھاپے میں اولاد دینے پر بھی قادر ہے، اور زکریا (علیہ السلام) کے اہل خانہ وفات پاچکے تھے، زکریا (علیہ السلام) نے جب وہ رات کے وقت مسجد میں نماز کے لیے گئے دعاء کی، عرض کی اے میرے پروردگار مجھے اپنے پاس سے کوئی پاکیزہ اولاد یعنی نیک اولاد عطا فرما بیشک آپ دعاء کے قبول کرنے والے ہیں۔ سو ان کو فرشتوں یعنی جبرائیل (علیہ السلام) نے آواز دی حال یہ کہ وہ مسجد میں کھڑے نماز پڑھ رہے تھے۔ کہ اللہ تم کو یحییٰ کی خوشخبری دیتا ہے۔ أنَّ اصل میں باَنَّ ہے، اور ایک قراءت میں کسرہ کے ساتھ ہے، قول کی تقدیر کے ساتھ (یُبَشِّرُ ) مشدد اور غیر مشدد دونوں قراءتیں ہیں۔ جو کلمۃ اللہ کی کہ جو من جانب اللہ ہوگا یعنی عیسیٰ (علیہ السلام) کی تصدیق کرنے والا ہوگا، کہ وہ روح اللہ ہیں، اور اس کا نام ” کلمہ “ رکھا گیا، اس لیے کہ وہ کلمہ ” کُنْ “ کے ذریعہ سے پیدا کیا گیا اور مقتدا ہوگا اور بہت زیادہ ضبط نفس کرنے والا ہوگا۔ اور عورتوں سے بہت کنارہ کش رہنے والا ہوگا اور نبوت سے سرفراز ہوگا صالحین میں شمار ہوگا۔ روایت کیا گیا ہے کہ انہوں نے یہ بھی خطاء کا ارتکاب کیا اور نہ کبھی اس کا قصد کیا۔ (زکریا) بولے اے میرے پروردگار میرے لیے لڑکا کیسے ہوگا ؟ میں بوڑھا ہوچکا ہوں یعنی ایک سو بیس سال کی انتہائی عمر کو پہنچ چکا ہوں۔ اور میری بیوی بانجھ ہے، جو کہ اٹھانوے سال کو پہنچ چکی ہے۔ جواب ملا تم دونوں سے لڑکے کی تخلیق کا معاملہ اسی طرح ہوگا۔ اللہ جو چاہتا ہے وہی کرتا ہے کوئی شئ اس کو عاجز نہیں کرسکتی، اور اس قدرت عظیمہ کو ظاہر کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے ان کو سوال الہام فرمایا تاکہ قدرت عظیمہ کے ذریعہ جواب دے، اور جب حضرت زکریا (علیہ السلام) کا نفس مبشربہ کی عجلت کیلیے آرزومند ہوا تو عرض کیا اے میرے رب تو میرے لیے میری عورت کے حاملہ ہونے کی کوئی نشانی مقرر فرما دے فرمایا اس پر تیری نشانی یہ ہے کہ تم لوگوں سے تین دنوں تک مع ان کی راتوں کے اشارہ کے سوا بات نہ کرسکو گے۔ یعنی لوگوں سے کلام کرنے پر قادر نہ ہوگے بخلاف ذکر اللہ کے، اور اپنے پروردگار کو بکثرت یاد کرتے رہو اور صبح و شام یعنی آخر دن اور اول دن میں تسبیح کرتے رہو تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد قولہ : بمعنی اَنَہٗ یُثِبکم، یُحْبِبْکُمُ اللہ کی تفسیر یُثِیْبُکُمْ سے کرکے ایک سوال کا جواب دیا ہے۔ سوال : اللہ کی جانب محبت کی نسبت کرنا درست نہیں ہے اس لیے کہ محبت میلان القلب الی الشئی کو کہتے ہیں، یہ ذات خداوندی کے لئے محال ہے۔ جواب : محبت کرنے سے مراد اجر وثواب کرنا ہے۔ قولہ : اَعْرَضُوْا اس میں اشارہ ہے کہ تَوَلَّوا، ماضی کا صیغہ ہے نہ کہ مضارع کا جیسا کہ بعض حضرات نے کہا ہے اس لئے کہ مضارع کی صورت میں ایک تاء کا حذف لازم آئے گا۔ عموم کے قصد سے اور اس بات پر دلالت کرنے کے لیے کہ اعراض سبب کفر ہے، ” ھم “ کی جگہ اسم ظاہر الکافرین لائے ہیں، یعنی لایحبُّھُمْ کے بجائئے الکٰفِرِیْنَ کہا ہے۔ قولہ : مِنَ التَوْحید، یہ بھی ایک سوال مقدر کا جواب ہے۔ سوال : اعمال فرعیہ میں اعراض موجب کفر نہیں ہوتا، حالانکہ یہاں فرمایا گیا اِنّ اللہَ لَایُحِبُّ الْکَافِرِیْنَ ، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اعراض عن الاعمال الفرعیہ مرکب موجب کفر ہے۔ جواب : یہاں اعراض سے مراد اعراض عن التوحید ہے جو کہ موجب کفر ہے۔ قولہ : بمعنی انفسھما، آل ابراہیم اور آل عمران سے مراد خود ابراہیم اور عمران ہیں اس لیے کہ ان کی آل میں کافر اور مومن سب ہوئے ہیں، حالانکہ کافر مراد نہیں ہیں، عمران حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے والد کا نام ہے۔ موسیٰ (علیہ السلام) کا نسب نامہ اس طرح ہے موسیٰ بن عمران بن یصھر بن قاہث بن لاوی بن یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم، علیہم السلام۔ اور حضرت مریم کے والد کا نام بھی عمران ہے ان کا سلسلہ نسب اس طرح ہے۔ حضرت مریم بنت عمران بن ماثان بن یہوذا بن یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم، علیہم السلام۔ دونوں عمرانوں کے درمیان ایک ہزار آٹھ سو سال کا فاصلہ ہے۔ قولہ : اَنْ اَجْعَلَ ، نذرتُ کی تفسیر اَنْ اَجْعَلَ سے کرکے ایک سوال کا جواب مقصود ہے۔ سوال : نذر فعل کی مانی جاتی ہے نہ کہ شئ اور ذات کی، ما فی بطنی ذات ہے نہ کہ فعل۔ پہلا جواب : اَنْ اَجْعَلَ کہہ کر اسی سوال کا جواب دیا ہے، اور نذر ماننا فعل ہے نہ کہ عین، اس میں اس سوال کا جواب بھی ہے کہ، نذرتُ متعدی بیک مفعول ہے حالانکہ یہاں دو مفعول کی طرف متعدی ہے ایک مافی بطنی اور دوسرا محررًا۔ دوسرا جواب : نذرتُ بمعنی میں جَعَلَ کے ہے، اور جَعَلَ متعدی بدو مفعول ہوتا ہے۔ قولہ : ای جبرئیل، یہ اس سوال کا جواب ہے کہ نادتْ کا فاعل ملائکہ ہیں حالانکہ ندا دینے والے تنہاء حضرت جبرائیل ہیں۔ جواب : الف لام جنس کا ہے اور یہاں اقل جنس مراد ہے یعنی فردواحد اور وہ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) ہیں۔ اللغۃ والبلاغۃ اِنْ کُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللہَ فَاتَّبعُوْنِیْ یُحْبِبْکُمُ اللہُ ، اس میں مجاز مرسل ہے۔ مجاز مرسل : مجاز مرسل وہ مجاز ہے جس میں علاقہ تشبیہ کے علاوہ کوئی دوسرا علاقہ ہو، (مثلاً علاقہ سببیت و مسببیت) ، یا جزئیت و کلیت وغیرہ یہاں اللہ اور اس کے بندوں کے درمیان رضا مندی کا علاقہ ہے بندے اللہ سے راضی اور اللہ بندہ سے راضی۔ اِنَّ اللہَ اصْطَفٰی اٰدَمَ وَنُوْحًا (الآیۃ) اس آیت میں فن توشیح ہے۔ فن توشیح : وہ ہے کہ جس کلام کا اول کلام قافیہ پر، اگر نظر ہو اور سجع پر، اگر نثر ہو دلالت کرے۔ یعنی اول کلام ہی سے قافیہ یا سجع سمجھ میں آجائے۔ آیت مذکورہ میں اِنَّ اللہَ اصطفیٰ ہی سے فاصلہ (آخر آیت) سمجھ میں آگیا کہ فاصلہ اَلعٰلمین آئے گا اس لیے کہ مذکورین مندرج فی العٰلمین ہی کی صفت سے ہیں۔ اِنِّیْ وَضَعْتُھَآ اُنْثٰی، یہ جملہ خبر یہ ہے، جملہ خبریہ کے دو مقصد ہوتے ہیں، فائدۃ الخبر اور لازم فائدۃ الخبر۔ قائدۃ الخبر مخاطب کو اس حکم کو خبر دینا جس پر وہ کلام مشتمل ہے۔ لازم فائدۃ الخبر، مخاطب کو یہ بتانا کہ متکلم اس حکم سے واقف ہے، مذکورہ جملے میں مذکورہ دونوں فائدے مقصود نہیں ہیں، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ فائدۃ الخبر اور لازم فائدۃ الخبر دونوں سے واقف ہے۔ تفسیر و تشریح اِنْ کُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللہَ فَاتَّبِعُوْنِیْ ۔ (الآیۃ) یہود و نصاریٰ کا دعویٰ تھا کہ ہمیں اللہ سے اور اللہ کو ہم سے محبت ہے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ان دعوؤں سے اور خود ساختہ طریقوں سے اللہ کی محبت اور رضا حاصل نہیں ہوسکتی یہ محض دعوی ہے جو بغیر دلیل مقبول نہیں۔ اس لیے کہ محبت ایک مخفی چیز ہے کسی کو کسی سے محبت ہے یا نہیں، کم ہے یا زیادہ اس کا کوئی پیمانہ نہیں بجز اس کے کہ حالات اور معاملات سے اندازہ کیا جائے محبت کی کچھ علامات و آثار ہوتے ہیں ان سے پہچانا جاتا ہے یہ لوگ اللہ کی محبت کے دعویدار اور محبوبیت کے متمنی ہیں، اللہ تعالیٰ نے ان کو اس آیت میں اپنی محبت کا معیار بتلا دیا ہے یعنی دنیا میں اگر کسی کو اپنے مالک سے حقیقی محبت کا دعویٰ ہے تو اس کے لئے یہ لازم ہے کہ اس کو اتباع محمدی ﷺ کی کسوٹی پر آزما کر دیکھ لیا جائے سب کھرا کھوٹا معلوم ہوجائے گا۔
Ayah 3:32

قُلْ اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ١ۚ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 3:32 in the Quran reader

کہہ دو کہ خدا اور اس کے رسول کا حکم مانو اور اگر نہ مانیں تو خدا بھی کافروں کو دوست نہیں رکھتا

قُلْ اَطِیْعُوا اللہَ وَالرَّسُوْلَ ، (الآیۃ) اس آیت میں اللہ کی اطاعت کے ساتھ ساتھ اطاعت رسول کی بھی تاکید کرکے واضح کردیا کہ اب نجات اگر ہے تو صرف اطاعت محمدی میں ہے اور اس سے انحراف کفر ہے اور ایسے کافروں کو اللہ پسند نہیں فرماتا چاہے وہ اللہ کی محبت اور قرب کے کتنے ہی دعویدار کیوں نہ ہوں۔
Ayah 3:33

اِنَّ اللّٰهَ اصْطَفٰۤى اٰدَمَ وَ نُوْحًا وَّ اٰلَ اِبْرٰهِیْمَ وَ اٰلَ عِمْرٰنَ عَلَى الْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 3:33 in the Quran reader

خدا نے آدم اور نوح اور خاندان ابراہیم اور خاندان عمران کو تمام جہان کے لوگوں میں منتخب فرمایا تھا

اِنَّ اللہَ اصْطَفٰی آدَمَ وَنُوْحًا وَّاٰلَ اِبْرَاھِیْمَ وَآلَ عِمْرَانَ عَلَی الْعٰلَمِیْنَ ۔ انبیاء (علیہ السلام) کے خاندانوں میں دو عمران ہوئے ہیں ایک حضرت موسیٰ و ہارون (علیہم السلام) کے والد اور دوسرے حضرت مریم کے والد۔ اس آیت میں اکثر مفسرین نے دوسرے عمران مراد لیے ہیں اس خاندان کو حضرت مریم اور ان کے بیٹے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی وجہ سے بلند مرتبہ عطا فرمایا۔ حضرت مریم کی والدہ کا نام مفسرین نے حَنّہ بنت فاقوذ لکھا ہے اس خاندان کے علاوہ اللہ تعالیٰ نے مزید تین خاندانوں کا تذکرہ فرمایا ہے جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنے اپنے وقت میں جہان والوں پر فضیلت عطا فرمائی۔
Ayahs 3:34–36

ذُرِّیَّةًۢ بَعْضُهَا مِنْۢ بَعْضٍ١ؕ وَ اللّٰهُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌۚ Open ayah 3:34 in the Quran reader

ان میں سے بعض کی اولاد تھے اور خدا سننے والا (اور) جاننے والا ہے

اِذْ قَالَتِ امْرَاَتُ عِمْرٰنَ رَبِّ اِنِّیْ نَذَرْتُ لَكَ مَا فِیْ بَطْنِیْ مُحَرَّرًا فَتَقَبَّلْ مِنِّیْ١ۚ اِنَّكَ اَنْتَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 3:35 in the Quran reader

وہ وقت یاد کرنے کے لائق ہے جب عمران کی بیوی نے کہا کہ اے پروردگار جو (بچہ) میرے پیٹ میں ہے اس کو تیری نذر کرتی ہوں اسے دنیا کے کاموں سے آزاد رکھونگی تو (اسے) میری طرف سے قبول فرما تو تو سننے والا (اور) جاننے والا ہے

فَلَمَّا وَضَعَتْهَا قَالَتْ رَبِّ اِنِّیْ وَضَعْتُهَاۤ اُنْثٰى١ؕ وَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا وَضَعَتْ١ؕ وَ لَیْسَ الذَّكَرُ كَالْاُنْثٰى١ۚ وَ اِنِّیْ سَمَّیْتُهَا مَرْیَمَ وَ اِنِّیْۤ اُعِیْذُهَا بِكَ وَ ذُرِّیَّتَهَا مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ Open ayah 3:36 in the Quran reader

جب ان کے ہاں بچہ پیدا ہوا اور جو کچھ ان کے ہاں پیدا ہوا تھا خدا کو معلوم تھا تو کہنے لگیں کہ پروردگار میرے تو لڑکی ہوئی ہے اور (نذر کے لئے) لڑکا (موزوں تھا کہ وہ) لڑکی کی طرح (ناتواں) نہیں ہوتا اور میں نے اس کا نام مریم رکھا ہے اور میں اس کو اور اسکی اولاد شیطان مردود سے تیری پناہ میں دیتی ہوں۔

قَالَتْ رَبِّ اِنِّیْ وَضَعْتُھَآ اُنْثٰی۔ اس جملہ سے حسرت کا اظہار بھی مقصود ہے اور عذر بھی، حسرت اس وجہ سے کہ میری امید کے برخلاف لڑکی ہوئی ہے اور عذر اس طرح کہ نذر سے مقصود تو تیری رضا کے لیے ایک خدمت گار وقف کرنا تھا یہ کام ایک مرد ہی زیادہ بہتر طریقہ سے انجام دے سکتا ہے اب جو کچھ بھی ہے تو اسے جانتا ہے۔ بچہ کا نام کب رکھا جائے : حافظ ابن کثیر (رح) تعالیٰ نے احادیث نبوی سے استدلال کرتے ہوئے لکھا ہے کہ بچہ کا نام ولادت کے پہلے ہی روز رکھنا چاہیے اور ساتویں روز نام رکھنے والی حدیث کو ضعیف قرار دیا ہے لیکن حافظ ابن قیم نے تمام احادیث پر بحث کرتے ہوئے لکھا ہے کہ پہلے روز تیسرے روز ساتویں روز رکھنے کی گنجائش ہے۔
Ayah 3:37

فَتَقَبَّلَهَا رَبُّهَا بِقَبُوْلٍ حَسَنٍ وَّ اَنْۢبَتَهَا نَبَاتًا حَسَنًا١ۙ وَّ كَفَّلَهَا زَكَرِیَّا١ؕۚ كُلَّمَا دَخَلَ عَلَیْهَا زَكَرِیَّا الْمِحْرَابَ١ۙ وَجَدَ عِنْدَهَا رِزْقًا١ۚ قَالَ یٰمَرْیَمُ اَنّٰى لَكِ هٰذَا١ؕ قَالَتْ هُوَ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یَرْزُقُ مَنْ یَّشَآءُ بِغَیْرِ حِسَابٍ Open ayah 3:37 in the Quran reader

تو پروردگار نے اس کو پسندیدگی کے ساتھ قبول فرمایا اور اسے اچھی طرح پرورش کیا اور زکریا کو اس کا متکفل بنایا زکریا جب کبھی عبادت گاہ میں اس کے پاس جاتے تو اس کے پاس کھانا پاتے (یہ کیفیت دیکھ کر ایک دن مریم سے) سے پوچھنے لگے کہ مریم یہ کھانا تمہارے پاس کہاں سے آتا ہے وہ بولیں کہ خدا کے ہاں سے (آتا ہے) بیشک خدا جسے چاہتا ہے بیشمار رزق دیتا ہے

وَکَفّلَھَا زَکَرِیَّا، (الآیۃ) حضرت زکریا (علیہ السلام) حضرت مریم کے خالو ہوتے تھے، اس طرح کہ زکریا (علیہ السلام) کی بیوی حَنَّہ اور عمران کی بیوی اشاع دونوں حقیقی بہنیں تھیں۔ مریم عمران کی بیٹی تھیں اور یحییٰ (علیہ السلام) زکریا (علیہ السلام) کے مریم اور یحییٰ (علیہ السلام) ، خالہ زاد بھائی بہن ہیں اور زکریا (علیہ السلام) مریم کے خالو اور یحییٰ (علیہ السلام) کے عمران خالو تھے۔ اس رشتہ کے علاوہ حضرت زکریا (علیہ السلام) اپنے وقت کے پیغمبر بھی تھے اس لحاظ سے وہ بہتر کفیل ہوسکتے تھے مگر بیت المقدس کے دیگر خدام بھی حضرت مریم کی کفالت کے دعویدار تھے جس کی وجہ سے آپس میں نزاع پیدا ہوا فیصلہ اس پر ہوا کہ قرعہ اندازی کرلی جائے جس کے حق میں قرعہ نکلے وہ کفالت کا حقدار دیا جائے چناچہ یہ سب حضرات ایک دریا کے کنارے گئے اور یہ طے کیا کہ اپنے اپنے قلم سب دریا میں ڈالدیں جس کا قلم کھڑا ہوجائے پس وہی حقدار ہوگا جب ایسا کیا گیا تو حضرت زکریا (علیہ السلام) کے نام قرعہ نکل آیا اور وہی ان کی کفالت کے ذمہ دار مقرر ہوئے۔ محراب سے مراد وہ حجرہ ہے جس میں حضرت مریم رہائش پذیر تھیں، رزق سے مراد پھل ہے یہ پھل ایک تو غیر موسمی ہوتے تھے گرمی کے پھل سردی کے موسم میں اور سردی کے گرمی میں ان کے کمرہ میں موجود ہوتے تھے۔ دوسری بات یہ ہے کہ حضرت زکریا اور دوسرا کوئی شخص لاکر دینے والا نہیں تھا اس لیے حضرت زکریا (علیہ السلام) نے ازراہ تعجب وحیرت پوچھا کہ یہ کہاں سے آئے ہیں ؟ انہوں نے کہا اللہ کی طرف سے۔ یہ گویا کہ حضرت مریم کی کرامت تھی، معجزہ اور کرامت خرق عادت امور کو کہا جاتا ہے یعنی جو ظاہری اور عادی اسباب کے خلاف ہو پھر اگر کسی نبی کے ہاتھ پر ظاہر ہو تو اسے معجزہ اور اگر کسی ولی کے ہاتھ پر ظاہر ہو تو اس کو کرامت کہا جاتا ہے۔ یہ دونوں برحق ہیں تاہم ان کا صدور اللہ کے حکم اور اس کی مشیت سے ہوتا ہے نبی یا ولی کے اختیار میں یہ بات نہیں ہے کہ وہ معجزہ اور کرامت جب چاہے صادر کر دے، اس لیے معجزہ اور کرامت اس بات کی دلیل تو ہوتی ہے کہ یہ حضرات اللہ کی بارگاہ میں خاص مقام رکھتے ہیں لیکن اس سے یہ امر ثابت نہیں ہوتا کہ ان مقبولین بارگاہ کے پاس کائنات میں تصرف کرنے کا اختیار ہے جیسا کہ اہل بدعت اولیاء کی کرامتوں سے عوام کو یہی کچھ باور کرا کے انہیں شرکیہ عقیدوں میں مبتلا کردیتے ہیں۔
Ayah 3:38

هُنَالِكَ دَعَا زَكَرِیَّا رَبَّهٗ١ۚ قَالَ رَبِّ هَبْ لِیْ مِنْ لَّدُنْكَ ذُرِّیَّةً طَیِّبَةً١ۚ اِنَّكَ سَمِیْعُ الدُّعَآءِ Open ayah 3:38 in the Quran reader

اس وقت زکریا نے اپنے پروردگار سے دعا کی (اور) کہا کہ پروردگار ! مجھے اپنی جناب سے اولاد صالح عطا فرما تو بیشک دعا سننے (اور قبول کرنے) والا ہے

ھُنَالِکَ دَعَا زَکَرِیَّا، بےموسمی پھل دیکھ کر حضرت زکریا (علیہ السلام) کے دل میں بھی (بڑھاپے اور بیوی کے بانجھ ہونے کے باوجود) یہ آرزو پیدا ہوئی کاش اللہ تعالیٰ انھیں بھی اسی طرح اولاد سے نواز دے اور وہ اس پر پوری طرح قادر ہے جو ذات بےموسم پھل دے سکتی ہے وہ بےوقت اولاد بھی دے سکتی ہے چناچہ بےاختیار بارگاہ الہیٰ میں دعاء کے لیے ہاتھ اٹھ گئے جس کو اللہ تعالیٰ نے شرف قبولیت سے نوازا۔ چناچہ فرشتے نے پکار کر کہا اللہ تجھے یحییٰ کی خوش خبری دیتا ہے جو کلمۃ اللہ (عیسیٰ (علیہ السلام) کی تصدیق کرنے والا سردار اور ضابط النفس اور نبی ہے اور نیک لوگوں میں سے ہے۔ حضرت یحییٰ (علیہ السلام) کی صفت ” حصور “ فرمائی ہے جس کے معنی ضابط الناس گناہوں کے قریب نہ پھٹکنے والے یعنی حصور بمعنیٰ محصور ہے بعض حضرات نے حصور کے معنیٰ نامرد کے لیے ہیں یہ صحیح نہیں ہے اس لیے کہ حصور یہاں مقام مدح و فضیلت میں واقع ہوا ہے اور نامردی صفت مدح نہیں ہے اس لیے کہ یہ ایک عیب ہے۔
Ayahs 3:39–40

فَنَادَتْهُ الْمَلٰٓئِكَةُ وَ هُوَ قَآئِمٌ یُّصَلِّیْ فِی الْمِحْرَابِ١ۙ اَنَّ اللّٰهَ یُبَشِّرُكَ بِیَحْیٰى مُصَدِّقًۢا بِكَلِمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ وَ سَیِّدًا وَّ حَصُوْرًا وَّ نَبِیًّا مِّنَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 3:39 in the Quran reader

وہ ابھی عبادت گاہ میں کھڑے نماز ہی پڑھ رہے تھے کہ فرشتوں نے آواز دی کہ (زکریا) خدا تمہیں یحییٰ کی بشارت دیتا ہے جو خدا کے فیض (یعنی عیسیٰ ) کی تصدیق کریں گے اور سردار ہوں گے اور عورتوں سے رغبت نہ رکھے والے اور (خدا کے پیغمبر (یعنی) نیکو کاروں میں ہوں گے

قَالَ رَبِّ اَنّٰى یَكُوْنُ لِیْ غُلٰمٌ وَّ قَدْ بَلَغَنِیَ الْكِبَرُ وَ امْرَاَتِیْ عَاقِرٌ١ؕ قَالَ كَذٰلِكَ اللّٰهُ یَفْعَلُ مَا یَشَآءُ Open ayah 3:40 in the Quran reader

زکریا نے کہا اے پروردگار میرے ہاں لڑکا کیونکر پیدا ہوگا کہ میں تو بڈھا ہوگیا ہوں اور میری بیوی بانجھ ہے خدا نے فرمایا اسی طرح خدا جو چاہتا ہے کرتا ہے

قَالَ رَبِّ اَنّٰی یَکُوْنُ لِیْ غُلَامٌ وَّقَدْ بَلَغَنِیَ الْکِبَرُ وَامْرَاَتِیْ عَاقِرٌ، حضرت زکریا (علیہ السلام) کا سوال شک کی وجہ سے نہیں تھا بلکہ کیفیت معلوم کرنے کے لیے تھا۔ آیا ہم دونوں کی جوانی لوٹا دی جائے گی یا بڑھاپا بدستور رہنے کے باوجود اولاد ہوگی یا کیا صورت ہوگی ؟ تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا اسی حالت میں اولاد ہوگی۔
Ayah 3:41

قَالَ رَبِّ اجْعَلْ لِّیْۤ اٰیَةً١ؕ قَالَ اٰیَتُكَ اَلَّا تُكَلِّمَ النَّاسَ ثَلٰثَةَ اَیَّامٍ اِلَّا رَمْزًا١ؕ وَ اذْكُرْ رَّبَّكَ كَثِیْرًا وَّ سَبِّحْ بِالْعَشِیِّ وَ الْاِبْكَارِ۠ Open ayah 3:41 in the Quran reader

(زکریا نے) کہا اے پروردگار کہ (میرے لئے) کوئی نشانی مقرر فرما (خدا نے) فرمایا نشانی یہ ہے کہ تم لوگوں سے تین دن اشارے کے سوا بات نہ کرسکو گے تو (ان دنوں میں) اپنے پروردگار کی کثرت سے یاد اور صبح وشام اس تسبیح کرنا

قَالَ رَبِّ اجْعَلْ لِّی آیَۃً ، بڑھاپے میں معجزانہ طور پر اولاد کی خوشخبری سن کر اشتیاق میں اضافہ ہوا اور نشانی معلوم کرنی چاہی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تین دن کے لیے تیری زبان بند ہوجائے گی، جو ہماری طرف سے بطور نشانی ہوگی لیکن تم اس خاموشی میں صبح و شام اللہ کی تسبیح بیان کرنا۔
Ayah 3:42

وَ اِذْ قَالَتِ الْمَلٰٓئِكَةُ یٰمَرْیَمُ اِنَّ اللّٰهَ اصْطَفٰىكِ وَ طَهَّرَكِ وَ اصْطَفٰىكِ عَلٰى نِسَآءِ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 3:42 in the Quran reader

اور جب فرشتوں نے (مریم سے) کہا کہ مریم خدا نے تم کو برگزیدہ کیا ہے اور پاک بنایا ہے اور جہان کی عورتوں میں منتخب کیا ہے

آیت نمبر 42 تا 54 ترجمہ : اور وہ وقت یاد کرو جب فرشتوں یعنی جبرئیل نے کہا اے مریم بیشک اللہ نے تجھ کو برگزیدہ کیا ہے اور مردوں کے مس کرنے سے تجھے پاک کردیا ہے، اور تجھ کو دنیا جہان کی عورتوں کے مقابلہ میں یعنی اپنے زمانہ کی عورتوں کے مقابلہ میں برگزیدہ کرلیا ہے۔ اے مریم تو اپنے پروردگار کی اطاعت کرتی رہیے اور سجدہ کرتی رہیے۔ اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرتی رہیے یعنی نماز پڑھنے والوں کے ساتھ نماز پڑھتی رہیے۔ یہ مذکورہ واقعات (یعنی) زکریا (علیہ السلام) اور مریم (علیہما السلام) کا واقعہ غیب کی خبروں میں سے ہیں یعنی ان خبروں میں سے جو تم سے پردہ غیب میں ہیں ہم آپ کے اوپر اے محمد ﷺ وحی کر رہے ہیں اور جب وہ اپنے قلموں کو قرعہ اندازی کے لیے پانی میں ڈال رہے تھے تاکہ ان پر یہ بات ظاہر ہوجائے کہ مریم کی کون سرپرستی کرے ؟ اور ان کی سرپرستی کے بارے میں جب وہ اختلاف کر رہے تھے تو آپ ان کے پاس موجود نہیں تھے کہ آپ اس واقعہ کو جانتے ہوں جس کی بنا پر آپ اس کی خبر دے رہے ہوں، آپ کو تو علم بذریعہ وحی ہوا ہے۔ اور وہ وقت یاد کرو جب فرشتوں یعنی جبرئیل نے کہا اے مریم اللہ آپ کو خوشخبری دے رہا ہے اپنی طرف سے ایک کلمہ یعنی لڑکے کی کہ اس کا نام (ولقب) مسیح عیسیٰ ابن مریم ہوگا بچے کی، مریم کی جانب نسبت کرکے مریم سے خطاب اس بات پر تنبیہ کرنے کے لیے کیا کہ وہ اس کو بغیر باپ کے جنے گی، جب کہ لوگوں کی عادت ان کے آباء کی جانب نسبت کرنے کی ہے، دنیا میں نبوت کی وجہ سے اور آخرت میں شفاعت اور اعلیٰ درجات کی وجہ سے عند اللہ معزز اور مقربین میں سے ہوں گے۔ اور وہ لوگوں سے گہوارہ ہیں یعنی بچپن میں کلام کرنے کی عمر سے پہلے کلام کریں گے اور پختہ عمر میں بھی، اور صالحین میں سے ہوں گے۔ وہ بولیں اے میرے پروردگار میرے لڑکا کس طرح ہوگا درآنحالیکہ مجھے کسی مرد نے نکاح کرکے اور نہ بغیر نکاح کے ہاتھ تک نہیں لگایا ارشاد ہوا بغیر باپ کے تجھ سے لڑکا پیدا ہونے کا معاملہ ایسا ہی ہوگا۔ اللہ جو چاہتا ہے پیدا کردیتا ہے جب کسی شئ کے پیدا کرنے کا ارادہ کرلیتا ہے تو اس کے لیے کن کہتا ہے تو وہ ہوجاتی ہے اور وہ اسے نعلمہ، یعلمہ نون اور یاء کے ساتھ ہے لکھنا سکھائے گا اور حکمت اور تورات اور انجیل سکھائئے گا اور ہم اس کو بچپن اور بالغ ہونے کے بعد بنی اسرائیل کا پیغمبر بنائیں گے۔ چناچہ جبرئیل (علیہ السلام) نے ان کی قمیص کے گریبان میں پھونک ماردی تو وہ حاملہ ہوگئیں۔ اور اس کا قصہ اس طرح ہوا کہ جو سورة مریم میں مذکور ہوا ہے۔ چناچہ جب ان کو بنی اسرائیل کی طرف مبعوث فرمایا۔ تو انہوں نے بنی اسرائیل سے فرمایا میں تمہاری طرف اللہ کا رسول ہوں (اور کہے گا) میں تمہارے پاس اپنی صداقت پر تمہارے پروردگار کی طرف سے نشانی لے کر آیا ہوں وہ یہ کہ میں اور ایک قراءت میں بصورت اِنّی، کسرہ کے ساتھ ہے استیناف کے لیے۔ تمہارے لیے مٹی سے پرندوں کے مانند صورت بنا دیتا ہوں یعنی پرندہ جیسی صورت اور کَھَیْئَۃ کا کاف اسم مفعول ہے، پھر اس میں دم کردیتا ہوں تو وہ اللہ کے حکم سے پرندہ بن جاتا ہے اور ایک قراءت میں طائراً ہے، تو ان کے لیے چمگادڑ پیدا کی اس لیے کہ وہ پرندوں میں تخلیق کے اعتبار سے کامل ترین ہے چناچہ وہ اڑتی تھی اور وہ اسے دیکھتے تھے، اور جب وہ ان کی نظروں سے اوجھل ہوجاتی تھی تو وہ مردہ ہو کر گر جاتی تھی، اور میں اللہ کے حکم سے مادر زاد اندھے کو اور کوڑھی کو، ان دونوں مرضوں کی تخصیص کی وجہ یہ ہے کہ ان دونوں نے اطباء کو عاجز کردیا تھا اور آپ کی بعثت طب کے زمانہ میں ہوئی چناچہ ایک دن میں ایمان کی شرط کے ساتھ دعاء کے ذریعہ پچاس ہزار کو تندرست کیا اور اللہ کے حکم سے مردوں کو زندہ کرتا ہوں باذن اللہ کو مکرر ذکر کیا ہے آپ میں الوہیت کے وہم کی نفی کرنے کے لیے۔ چناچہ آپ نے اپنے دوست عاذر اور بڑھیا کے بیٹے کو اور عشر وصول کرنے والے کی بیٹی کو زندہ کیا چناچہ یہ لوگ (ایک مدت تک) زندہ رہے اور صاحب اولاد ہوئے۔ اور سام بن نوح کو زندہ کیا (مگر) وہا سی وقت انتقال کرگئے، اور میں تم کو بتادیتا ہوں جو کچھ تم کھاتے ہو اور جو تم چھپا کر رکھتے ہو اپنے گھروں میں۔ ان چیزوں کو کہ جن کو میں نے دیکھا بھی نہیں ہے چناچہ آپ آدمی کو بتا دیتے تھے کہ اس نے کیا کھایا ہے ؟ اور آئندہ کیا کھائے گا ؟ بیشک ان مذکورہ واقعات میں تمہارے لیے نشانیاں ہیں اگر تم ایمان رکھتے ہو اور میں تمہارے پاس اپنے سے پہلی (کتاب) تورات اور انجیل کی تصدیق کرنے والا ہو کر آیا ہوں۔ (اور اس لیے آیا ہوں) کہ جو کچھ تمہارے اوپر تورات میں حرام کردیا گیا تھا اس میں سے تم پر کچھ حلال کر دوں چناچہ ان کے لیے مچھلی اور وہ پرندہ کہ جس کے خارنہ ہو حلال کردیا۔ اور کہا گیا ہے کہ سب کو حلال کردیا گیا (اس صورت میں) بعض بمعنی کل ہوگا اور میں تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے نشانی لے کر آیا ہوں اس کو تاکید کے لیے مکرر لایا گیا ہے یا اس لیے کہ اس پر (فاتقوا اللہ واطیعون) کی بنا ہو سکے۔ لہٰذا اللہ سے ڈرتے رہو اور جس کا میں تم کو حکم دوں اس میں میری اطاعت کرو، اور وہ اللہ کی توحید اور اس کی اطاعت ہے، بلاشبہ اللہ میرا بھی رب ہے، بس اس کی عبادت کرو، یہی ہے وہ سیدھی رہ ہے جس کا میں تم کو حکم کرتا ہوں مگر انہوں نے (عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام) کی تکذیب کی اور ان پر ایمان نہ لائے۔ چناچہ جب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے ان کی طرف سے انکار کو محسوس کیا اور انہوں نے ان کے قتل کا ارادہ کرلیا۔ تو آپ نے فرمایا اللہ کے لیے میرا کون مددگار ہوگا ؟ حال یہ کہ میں اللہ کی طرف جا رہا ہوں تاکہ میں اس کے دین کی مدد کروں تو حواریوں نے کہا ہم ہیں اللہ کی مددگار یعنی اس کے دین کے مددگار۔ اور وہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے منتخب کردہ لوگ تھے، اور آپ پر سب سے پہلے ایمان لانے والوں میں سے تھے۔ اور وہ بارہ آدمی تھے، (حواریوں) حَوْرٌ سے مشتق ہے اس کے معنیٰ خالص سفیدی کے ہیں۔ کہا گیا ہے کہ وہ دھوبی تھے جو کہ کپڑوں کو سفید (صاف) کرتے تھے۔ ہم اللہ کی تصدیق کرتے ہیں اور اے عیسیٰ تم گواہ رہنا کہ ہم فرمانبردار ہیں اے ہمارے پروردگار ہم ایمان لائے انجیل پر جو تو نے نازل فرمائی ہے اور ہم نے رسول کی اتباع کی جو کہ عیسیٰ (علیہ السلام) ہیں تو ہم کو بھی اپنی توحید کے گواہوں کے ساتھ اور اپنے رسول کی اتباع کرنے والوں کے ساتھ لکھ لے اللہ تعالیٰ نے فرمایا بنی اسرائیل کے کافروں نے عیسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ تدبیر کی جب کہ ان کو ان لوگوں کے حوالہ کردیا جو ان کو اچانک قتل کرنا چاہتے تھے اور اللہ نے بھی ان کے ساتھ خفیہ تدبیر کی اسی طریقہ پر کہ اس شخص پر جو آپ کو قتل کرنا چاہتا تھا آپ کی شبیہ ڈال دی چناچہ لوگوں نے اسی کو قتل کردیا اور عیسیٰ (علیہ السلام) کو آسمانوں پر اٹھا لیا گیا۔ اور اللہ خفیہ تدبیر کرنے والوں میں سب سے بہتر ہیں۔ یعنی خفیہ تدبیر کو ان سے زیادہ جاننے والا ہے۔ تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد قولہ : وَاِذْ قَالَتِ الْمَلآئکَۃُ ، یہ سابقہ قَالَتْ پر عطف قصہ علی القصہ ہے قصہ بنت کا قصہ اُم پر عطف کیا گیا ہے مناسبت ظاہر ہے، اور بعض حضرات نے اذکر فعل مقدر کی وجہ سے منصوب کہا ہے مفسر علام کی بھی یہی رائے ہے۔ قولہ : ای جبرئیل، اس میں ارشاد ہے کہ الملائکۃ اسم جنس ہے مراد ادنی فرد یعنی واحد ہے، یا الملائکہ کو حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کی تعظیم کے طور پر جمع لایا گیا ہے۔ قولہ : اِصْطفیٰ اَصْطفاءٌ سے ماضی واحد مذکر غائب، اس نے چن لیا، اس نے برگزیدہ بنایا، اس نے منتخب کیا۔ قولہ : ای وَلَدٍ یہ کلمۃٍ کی تفسیر ہے۔ قولہ : اَلمَسِیْحُ عیسیٰ ، عیسیٰ المسیح سے بدل ہے، آپ کا لقب مسیح ہے اور مسیح عبرانی زبان میں مبارک کو بھی کہتے ہیں مسیح کو مسیح یا تو اسلیے کہتے ہیں کہ آپ سفر و سیاحت زیادہ کرتے تھے یا اس لیے کہ آپ جس مریض کو مسح کردیتے تھے وہ تبدرست ہوجاتا تھا۔ قولہ : عیسیٰ یہ ایسوع سے ماخوذ ہے اور کہا گیا ہے کہ العیس سے ماخوذ ہے اس سفیدی کو کہتے ہیں جس میں سرخی غالب ہو، چونکہ آپ گندم گوں تھے اس لیے آپ کو عیسیٰ کہا گیا۔ قولہ : ابن مریم، یہ مبتداء محذوف، ھُو، کی خبر ہے۔ قولہ : وَجِیْھًا یہ کلمۃ، سے حال ہے اگرچہ کلمۃٌ نکرہ ہے مگر موصوفہ ہے ای کلمۃٍ کائنۃٍ منہ۔ قولہ : ای طفلاً الخ اس میں اشارہ ہے کہ المہد سے مراد محض گہوارہ ہی نہیں بلکہ حالت طفولیت ہے خواہ کلام کرتے وقت گہوارہ میں ہوں یا ماں کی گود میں یا بستر پر۔ قولہ : ومن الصالحین اس کا عطف وَجِیْھًا پر ہے۔ قولہ : فھو یکون اس میں اشارہ ہے کہ یکون، ھُوَ مبتداء محذوف کی خبر ہے۔ قولہ : الخط الکتٰبَ کی تفسیر الحظ سے کرنے کا مقصد ایک سوال کا جواب ہے۔ سوال : التوارۃ اور انجیل کا عطف الکتاب پر صحیح نہیں ہے اس لیے کہ کتاب میں انجیل و تورات دونوں شامل ہیں لہٰذا یہ عطف الشئ علی نفسہٖ سے ہوگا۔ جواب : الکتاب سے مراد الکتابۃ ہے، اسی کی طرف الخط سے اشارہ فرمایا ہے۔ قولہ : ھِیَ اَنّی، ھِیَ محذوف مان کر اشارہ کردیا کہ أنّی مع اپنے مابعد کے مبتداء محذوف کی خبر ہے۔ نہ کہ أنی قَدْ جئتکم سے بدل ہونے کی وجہ سے منصوب۔ قولہ : الکاف اسم مفعول، اس عبارت کے اضافہ کا مقصد ایک سوال کا جواب ہے۔ سوال : فَاَنْفُخُ فِیْہِ ، فِیْہِ کی ضمیر کَھَیْئَۃِ الطیر میں کاف کی طرف راجع ہے اور کاف حرف ہے اور حرف کی طرف ضمیر راجع نہیں ہوسکتی۔ جواب : کاف بمعنی مثل ہے جو کہ اسم مفعول ہے، مماثل ھَیْئَۃ الطیر، لہٰذا اب کوئی اشکال نہیں۔ اللغۃ والبلاغۃ قولہ : الکنایۃُ ، یُلْقُوْنَ اَقْلَامَھُمْ یہ کنایہ ہے قرعہ اندازی سے چند قلم جن سے تورات لکھی جاتی تھی وہ ہیکل میں محفوظ رہتے تھے اور جب قرعہ اندازی کرنی ہوتی تو ہر امیدواران میں سے ایک قلم لے لیتا تھا اور اس کو نشان زدہ کردیتا تھا اور دریا کے کنارے جاکر سب کو دریا میں ڈال دیا جاتا تھا جس کا قلم پانی کے رخ کے خلاف اوپر کی طرف چڑھتا تھا قرعہ اسی کے نام سمجھا جاتا تھا۔ قولہ : الصِیْصِیَۃُ (ما یُتَحَصَّنُ بھا) وہ آلہ جس کے ذریعہ حفاظت کی جائے اسی وجہ سے بیل اور ہرن کے سینگوں اور مرغ کے خار کو بھی کہتے ہیں جسے شوکۃ الدیک کہتے ہیں مرغ کی ایک ساق میں اکثر اور بعض اوقات دونوں میں پنجہ سے اوپر ایک نوکیلا ناخن ہوتا ہے، جسے شوک الدیک کہتے ہیں، اس شوک کے ذریعہ مرغ اپنا دفاع کرتا ہے اور اسی سے حملہ آور بھی ہوتا ہے، قاضی نے صیصیہ، اس مچھلی کو بھی کہا ہے جس کے اوپر فلوس اور اندر کانٹے نہ ہوں۔ قولہ : ذَاھِبًا، ذاھِبًا کو مفرد لا کر اشارہ کردیا کہ متکلم سے حال ہے۔ استعارہ تمثیلیہ : فَلَمَّا اَحَسَّ عِیْسٰی مِنْھُمُُ الُکُفْرَ ، میں استعارہ تمثیلیہ ہے۔ اَحَسَّ سے مراد عَلِمَ وَاَدْرَکَ ہے اس لیے کہ احساس حواس خمسہ ظاہرہ سے مجسم شئ کا ہوتا ہے نہ کہ عقلی شئ کا اور کفر عقلی ہے لہٰذا احَسَّ سے مراد علِمَ ہے۔ اس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ان کا کفر اس قدر واضح اور ظاہر تھا گویا کہ مجسم شئ کے درجہ میں آگیا تھا۔ تفسیر و تشریح وَاِذْ قَالَتِ الْمَلآئِکَۃُ یَامَرْیَمُ (الآیۃ) حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا کلمۃ اللہ اس اعتبار سے کہا گیا ہے کہ آپ کی ولادت اعجازی شان کی مظہر اور عام انسانی اصول کے برعکس بغیر باپ کے اللہ کی قدرت خاصہ اور اس کے کلمہ کُنْ سے ہوئی تھی، پہلے اصطفیٰ کا تعلق مریم کے بچپن سے ہے یعنی اللہ نے آپ کو شروع ہی سے نزرگی دے رکھی تھی۔ آپ کی والدہ کی دعاؤں کو سن کر آپ کو خلعت وجود بخشا گیا، اس کے علاوہ ہیکل کی خدمت کا کام لڑکوں کے لیے مخصوص تھا آپ کو لڑکی ہونے کے باوجود اس کا موقع عنایت کیا گیا۔ پھر آپ کو آپ کے حجرے میں بےموسمی پھل جس اعجازی طریقہ پر پہنچائے اس نے زکریا (علیہ السلام) کو متحیر کردیا، یہ سب شواہد آپ کی برگزیدگی ہی کے تو ہیں۔ وَطَھَّرَکِ وَاصْطَفٰکِ عَلٰی نِسَآءِ الْعٰلَمِیْنَ ، ٰیہ آیت خصوصیت سے یہود کی رد میں ہے جو گندے الزامات حضرت مریم کو لگائے ہوئے تھے اور آج تک لگاتے چلے آرہے ہیں۔ اس اصطفیٰ کا تعلق بلوغ کے بعد سے ہے مثلاً مواصلت صنفی کے بغیر مَسّ ملکی سے انہیں ماں بنادیا گیا، انجیل میں بھی فضیلت مریم کا ذکر ہے مگر بہت ہلکے الفاظ ہیں۔ اس کنواری کا نام مریم تھا اور فرشتے نے اس کے پاس اندر آکر کہا سلام تجھکو، جس پر فضل ہوا ہے خداوند تیرے ساتھ ہے۔ (لوقا، 28، 27: 1) ۔ حضرت مریم کا یہ شرف و فضل ان کے اپنے زمانہ کے اعتبار سے ہے کیونکہ صحیح احادیث میں حضرت مریم کے ساتھ حضرت خدیجہ ؓ کو بھی خیر نِسَائھا (سب عورتوں سے بہتر کہا گیا ہے) اور بعض عورتوں کو کامل قرار دیا گیا ہے، حضرت مریم، حضرت آسیہ (فرعون کی بیوی) حضرت خدیجہ ؓ اور حضرت عائشہ ؓ ۔ حضرت عائشہ ؓ کے بارے میں کہا گیا ہے کہ ان کی فضیلت تمام عورتوں پر ایسی ہے جیسے ثرید کو تمام کھانوں پر فوقیت حاصل ہے۔ (ابن کثیر) ترمذی کی روایت میں حضرت فاطمہ ؓ کو بھی فضیلت والی عورتوں میں شامل کیا گیا ہے۔ (ابن کثیر)
Ayahs 3:43–45

یٰمَرْیَمُ اقْنُتِیْ لِرَبِّكِ وَ اسْجُدِیْ وَ ارْكَعِیْ مَعَ الرّٰكِعِیْنَ Open ayah 3:43 in the Quran reader

مریم اپنے پروردگار کی فرمانبرداری کرنا اور سجدہ کرنا اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرنا

ذٰلِكَ مِنْ اَنْۢبَآءِ الْغَیْبِ نُوْحِیْهِ اِلَیْكَ١ؕ وَ مَا كُنْتَ لَدَیْهِمْ اِذْ یُلْقُوْنَ اَقْلَامَهُمْ اَیُّهُمْ یَكْفُلُ مَرْیَمَ١۪ وَ مَا كُنْتَ لَدَیْهِمْ اِذْ یَخْتَصِمُوْنَ Open ayah 3:44 in the Quran reader

(اے محمد ﷺ یہ باتیں اخبار غیب میں سے ہیں جو ہم تمہارے پاس بھیجتے ہیں اور جب وہ لوگ اپنے قلم (بطور قرعہ) ڈال رہے تھے کہ مریم کا متکفل کون بنے تو تم ان کے پاس نہیں تھے اور نہ اس وقت ہی انکے پاس تھے جب وہ آپس میں جھگڑے رہے تھے

اِذْ قَالَتِ الْمَلٰٓئِكَةُ یٰمَرْیَمُ اِنَّ اللّٰهَ یُبَشِّرُكِ بِكَلِمَةٍ مِّنْهُ١ۖۗ اسْمُهُ الْمَسِیْحُ عِیْسَى ابْنُ مَرْیَمَ وَجِیْهًا فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ وَ مِنَ الْمُقَرَّبِیْنَۙ Open ayah 3:45 in the Quran reader

(وہ وقت بھی یاد کرنے کے لائق ہے) جب فرشتوں نے (مریم سے کہا) کہ مریم خدا تم کو اپنی طرف سے ایک فیض کی بشارت دیتا ہے جس کا نام مسیح (اور مشہور) عیسیٰ بن مریم ہوگا (اور جو) دنیا اور آخرت میں باآبرو اور (خدا کے) خاصوں میں سے ہوگا

یُبَسِّرُکِ بِکَلِمَۃٍ حضرت مریم کو بیٹے کی بشارت دی جا رہی ہے وہ بیٹا جس کو بن باپ کے پیدا ہونے کی وجہ سے کلمۃ اللہ کہا گیا ہے مریم اس وقت تک یہودی رسم و رواج کے لحاظ سے ناکت خدا تھیں (غیر شادی شدہ) البتہ آپ کی منگنی آپ کے کفوآل داؤد کے ایک نوجوان یوسف نامی لڑکے سے ہوئی تھی، جن کے یہاں لکڑی کا کام ہوتا تھا، انجیل کا بیان ہے۔ جبرائیل فرشتہ خدا کی طرف سے گلیل کے ایک شہر میں جس کا نام ناصرہ تھا ایک کنواری کے پاس بھیجا گیا جس کی منگنی داؤد کے گھرانے کے ایک شخص یوسف نامی سے ہوئی تھی اور اس کنواری کا نام مریم تھا۔ (لوقاء 28: 27: 1) یسوع مسیح کی پیدائش اس طرح ہوئی کہ جب آپ کی ماں مریم کی منگنی یوسف کے ساتھ ہوگئی تو ان کے رکھنا ہوئے سے پہلے وہ روح القدس کی قدرت سے حامل پائی گئی۔ (متیٰ 81: 1) وَجِیْھًا فِی الدُّنْیَا وَالْآخِرَۃِ ، یہ فقرہ یہود کے رد میں ہے کہ تم جس کے حق میں ہر قسم کی توہین و افتراء روا رکھتے ہو وہ صاحب عزت و اکرام ہیں۔ یہود کی قدیم کتابوں میں کوئی دقیقہ حضرت مسیح (علیہ السلام) کی تحقیر و توہین کا اٹھا نہیں رکھا گیا۔ یہ قرآن کی برکت و اعجاز ہے کہ اس کے نزول کے بعد سے رفتہ رفتہ اب یہود کے لہجہ کی تلخی نرمی میں تبدیل ہوتی جا رہی ہے اور تالمود کے الزامات دہراتے ہوئے یہود کو شرم آنے لگی ہے آخرت کا اعزاز تو خیر جب ہوگا، ہوگا مگر دنیا کا اعزاز اس سے ظاہر ہے کہ روئے زمین کے سو کروڑ سے زیادہ مسلمان آج بھی انہیں اللہ کا پیغمبر برحق مان رہے ہیں۔ ان کا نام ” (علیہ السلام) “ کے بغیر نہیں لیتے اور کروڑوں کی تعداد میں نصاریٰ ہیں جو انہیں رسول کے مرتبہ سے بھی بلند تر سمجھ رہے ہیں، یہ عقیدہ گو باطل وا حمقانہ ہے لیکن بہرحال آپ کی تعظیم و احترام کا ہی نتیجہ ہے۔
Ayah 3:46

وَ یُكَلِّمُ النَّاسَ فِی الْمَهْدِ وَ كَهْلًا وَّ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 3:46 in the Quran reader

اور ماں کی گود میں اور بڑی عمر کا ہو کر (دونوں حالتوں میں) لوگوں سے (یکساں) گفتگو کرے گا اور نیکو کاروں میں ہوگا

یُکَلِّمُ النَّاسَ فِی الْمَھْدِ وَکَھْلاً وَّمِنَ الصَّالِحِیْنَ ۔ مہد (گہوارہ) میں کلام کرنے کا مقصد تو صاف ہے کہ شیر خوارگی کے زمانہ میں اعجازی طور پر یا معنیٰ کلام کریں گے۔ کہولت (ادھیڑ عمر) میں بات کرنے کا کیا مطلب ہے ؟ ادھیڑ عمر میں تو سب ہی بات کرتے ہیں۔ اس سوال کا ایک جواب تو یہ ہے کہ مقصد تو حالت شیرخوارگی کے کلام کا بیان کرتا ہے اس کے ساتھ بڑی عمر میں کلام کرنے کو اس لیے لایا گیا ہے کہ جس طرح انسان بڑی عمر میں عاقلانہ دانشمندانہ کلام کرتا ہے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے بچپن میں ہی ایسا کلام کیا۔ دوسرا جواب یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو جب آسمانوں پر اٹھایا گیا تھا تو اس وقت آپ کی عمر 33 سال تھی، جو عین جوانی کی عمر ہوتی ہے۔ دنیا میں رہتے ہوئے آپ پر کہولت کا زمانہ نہیں آیا جب آپ نزول فرمائیں گے تب آپ پر کہولت کا زمانہ آئے گا۔ گویا کہ اس میں آپ کے نزول کی طرف اشارہ ہے اس طریقہ سے ان کے بچپن کے کلام ہی کی طرف زمانہ کہولت کا کلام بھی معجزانہ ہوگا۔
Ayah 3:47

قَالَتْ رَبِّ اَنّٰى یَكُوْنُ لِیْ وَلَدٌ وَّ لَمْ یَمْسَسْنِیْ بَشَرٌ١ؕ قَالَ كَذٰلِكِ اللّٰهُ یَخْلُقُ مَا یَشَآءُ١ؕ اِذَا قَضٰۤى اَمْرًا فَاِنَّمَا یَقُوْلُ لَهٗ كُنْ فَیَكُوْنُ Open ayah 3:47 in the Quran reader

مریم نے کہا پروردگار میرے ہاں بچہ ہاں کیونکر ہوگا کہ انسان نے مجھے ہاتھ تک تو لگایا نہیں ؟ فرمایا کہ خدا اسی طرح جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے جب وہ کوئی کام کرنا چاہتا ہے تو ارشاد فرما دیتا ہے کہ ہوجا تو وہ ہوجاتا ہے

قَالَتْ رَبِّ اَنّٰی یَکُوْنُ لِیْ وَلَدٌ وَّلَمْ یَمْسَسْنِیْ بَشَرٌ۔ تیرا تعجب بجا، لیکن قدرت الہیٰ کے لیے یہ کوئی مشکل بات نہیں ہے۔ وہ تو جب چاہے اسباب عادیہ ظاہریہ کا سلسلہ ختم کرکے حکم کن سے پلک جھپکنے میں جو چاہے کر دے۔ اِنِّیْ اَخْلُقُ لَکُمْْ مِّنَ الطِّیْنِ کَھَیْئَۃِ الطَّیْرِ ، (الآیۃ) یہاں ” خلق “ پیدائش کے معنی میں نہیں ہے اس پر تو صرف اللہ ہی قادر ہے کیونکہ وہی خالق ہے یہاں اس کے معنی ظاہری شکل و صورت گھڑنے اور بنانے کے ہیں۔ مفسر علام نے اخلق کی تفسیر اصور سے کرکے اسی معنیٰ کی طرف اشارہ کیا ہے حضرت عیسیٰ نے خفّاش (چمگادڑ) کی مٹی کی صورت بنائی مشہور ہے کہ چمگاڈر اکمل طیور میں سے ہے۔ اس لئے کہ اس کے دانت بھی ہوتے ہیں اور پستان بھی ہوتی ہیں نیز بغیر پروں کے اڑتی ہے اس کو صرف مغرب کے بعد اور صبح کے بعد نظر آتا ہے۔ (صاوی) بِاِذْنِ اللہِ ، دوبارہ باذن اللہ کہنے کا مقصد یہی ہے کہ کوئی شخص اس غلط فہمی کا شکار نہ ہوجائے کہ میں خدائی صفات یا اختیارات کا حامل ہوں، میں تو اس کا عاجز بندہ اور رسول ہوں، یہ جو کچھ میرے ہاتھ پر ظاہر ہو رہا ہے معجزہ ہے جو محض اللہ کے حکم سے صادر ہو رہا ہے۔ امام ابن کثیر فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ہر نبی کو اس کے زمانہ کے حالات کے مطابق معجزے عطا فرمائے تاکہ اس کی صداقت اور بالاتری نمایاں ہوسکے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے زمانہ میں جادو کا زور تھا انہیں ایسا ہی معجزہ عطا کیا گیا تاکہ اس کی صداقت اور بالاتری نمایاں ہوسکے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے زمانہ میں جادو کا زور تھا انہیں ایسا ہی معجزہ عطا کیا گیا جس کے سامنے بڑے بڑے جادو گر اپنا کرتب دکھانے میں ناکام رہے جس سے ان پر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی صداقت واضح ہوگئی اور وہ ایمان لے آئے۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے زمانے میں طب کا بڑا چرچا تھا، چناچہ انہیں مردہ زندہ کرنے مادرزاد اندھے اور کوڑھی کو اچھا کردینے کا معجزہ عطا کیا گیا۔ جو کوئی بھی بڑا طبیب اپنے فن کے ذریعہ سے کرنے پر قادر نہیں تھا، ہمارے نبی ﷺ کے دور میں شعر و ادب اور فصاحت و بلاغت کا بڑا زور تھا، چناچہ انہیں قرآن جیسا فصیح وبلیغ اور پر اعجاز کلام عطا فرمایا جس کی نظیر پیش کرنے سے دنیا بھر کے فصحاء و بلغاء و ادباء و شعراء عاجز رہے۔ اور یہ چیلنج آج بھی موجود ہے۔ مسئلہ : پرند کی شکل بنانا تصویر ہے جو شریعت عیسیٰ (علیہ السلام) میں جائز تھا، آپ ﷺ کی شریعت میں اس کا جواز منسوخ ہوگیا قولہ : وَلِاُحِلَّ لَکُمْ ، یہ فعل محذوف کا معمول ہے، تقدیر عبارت یہ ہے جئتکم لِاَجلِ التحلیل، مصدقاً ، پر عطف نہیں ہے اس لیے کہ مصدقًا حال ہے اور یہ علت ہے۔
Ayahs 3:48–51

وَ یُعَلِّمُهُ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ وَ التَّوْرٰىةَ وَ الْاِنْجِیْلَۚ Open ayah 3:48 in the Quran reader

اور وہ انہیں لکھا (پڑھنا) اور دانائی اور تورات اور انجیل سکھائے گا

وَ رَسُوْلًا اِلٰى بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ١ۙ۬ اَنِّیْ قَدْ جِئْتُكُمْ بِاٰیَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ١ۙ اَنِّیْۤ اَخْلُقُ لَكُمْ مِّنَ الطِّیْنِ كَهَیْئَةِ الطَّیْرِ فَاَنْفُخُ فِیْهِ فَیَكُوْنُ طَیْرًۢا بِاِذْنِ اللّٰهِ١ۚ وَ اُبْرِئُ الْاَكْمَهَ وَ الْاَبْرَصَ وَ اُحْیِ الْمَوْتٰى بِاِذْنِ اللّٰهِ١ۚ وَ اُنَبِّئُكُمْ بِمَا تَاْكُلُوْنَ وَ مَا تَدَّخِرُوْنَ١ۙ فِیْ بُیُوْتِكُمْ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَۚ Open ayah 3:49 in the Quran reader

اور (عیسی) بنی اسرائیل کی طرف سے پیغمبر (ہو کر جائیں گے اور کہیں گے) میں تمہارے پاس پروردگار کی طرف سے نشانی لے کر آیا ہوں وہ یہ کہ تمہارے سامنے مٹی کی مورت بہ شکل پرندہ بناتا ہوں پھر اس میں پھونک مارتا ہوں تو وہ خدا کے حکم سے (سچ مچ) جانور ہوجاتا ہے اور اندھے اور ابرص کو تندرست کردیتا ہوں اور خدا کے حکم سے مردے میں جان دیتا ہوں اور جو کچھ تم کھا کر آتے ہو اور جو اپنے گھروں میں جمع کر رکھتے ہو سب تم کو بتادیتا ہوں اگر تم صاحب ایمان ہو تو ان باتوں میں تمہارے لئے (قدرت) خدا کی نشانی ہے

وَ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیَّ مِنَ التَّوْرٰىةِ وَ لِاُحِلَّ لَكُمْ بَعْضَ الَّذِیْ حُرِّمَ عَلَیْكُمْ وَ جِئْتُكُمْ بِاٰیَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ١۫ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِ Open ayah 3:50 in the Quran reader

اور مجھ سے پہلے جو تورات (نازل ہوئی) تھی اس کی تصدیق بھی کرتا ہوں اور (میں) اس لئے بھی (آیا ہوں کہ) بعض چیزیں جو تم پر حرام تھیں ان کو تمہارے لئے حلال کردوں اور میں تو تمہارے پروردگار کی طرف سے نشانی لی کر آیا ہوں تو خدا سے ڈرو اور میرا کہا مانو

اِنَّ اللّٰهَ رَبِّیْ وَ رَبُّكُمْ فَاعْبُدُوْهُ١ؕ هٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْمٌ Open ayah 3:51 in the Quran reader

کچھ شک نہیں کہ خدا ہی میرا اور تمہارا پروردگار ہے تو اسی کی عبادت کرو یہی سیدھارستہ ہے

اِنَّ اللہَ رَبِّیْ وَرَبُّکُمْ فَاعْبُدُوْہُ ھٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْمٌ، رَبِّیْ وَرَبُّکُمْ اس میں اشارہ اس طرف ہے کہ اللہ کی مخلوق مربوب اور مخلوق ہونے کے اعتبار سے پیغمبر اور امتی سب برابر ہیں۔ فاعْبُدُوْہُ ، یعنی اس کی بندگی کرو، آج جو انجیلیں روئے زمین پر موجود ہیں، ان میں ایک انجیل برناباسی ہے اس کے انگریزی، عربی ترجمے موجود ہیں اور وہ حضرت برناباسا نامی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے ایک حواری کی جانب منسوب ہے، اس میں ظہور اسلام کی خبریں اور آپ ﷺ کے ختم رسل ہونے کی بابت پیش گوئیاں ایسے صاف اور صریح الفاظوں میں موجود ہیں کہ مسیحیوں کو مفر اسی میں نظر آیا کہ اسے جعلی کہہ کر الگ کردیں اور اس کی تصنیف کو کسی مسلمان کی طرف منسوب کردیں، جب کہ ظہور اسلام سے صدیوں پہلے اس کو غیر معتبر کی فہرست میں شامل کیا جاچکا تھا، انجیل برنابابس تو ہر سچے خدائی کلام کے سفیر کی طرف توحید کی تعلیم و تاکید سے بھری پڑی ہے، لیکن دوسری انجیلیں بھی جو خود کلیسا کے نزدیک مستند ہیں وہ بھی اس توحید کی تعلیم سے خالی نہیں۔
Ayahs 3:52–54

فَلَمَّاۤ اَحَسَّ عِیْسٰى مِنْهُمُ الْكُفْرَ قَالَ مَنْ اَنْصَارِیْۤ اِلَى اللّٰهِ١ؕ قَالَ الْحَوَارِیُّوْنَ نَحْنُ اَنْصَارُ اللّٰهِ١ۚ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ١ۚ وَ اشْهَدْ بِاَنَّا مُسْلِمُوْنَ Open ayah 3:52 in the Quran reader

جب عیسیٰ (علیہ السلام) نے ان کی طرف سے نافرمانی (اور نیت قتل) دیکھی تو کہنے لگے کہ کوئی ہے جو خدا کا طرفدار اور میرے مددگار ہو حواری بولے کہ ہم خدا کے (طرفدار آپکے) مددگار ہیں ہم خدا پر ایمان لائے اور آپ گواہ ہیں کہ ہم فرمانبردار ہیں

رَبَّنَاۤ اٰمَنَّا بِمَاۤ اَنْزَلْتَ وَ اتَّبَعْنَا الرَّسُوْلَ فَاكْتُبْنَا مَعَ الشّٰهِدِیْنَ Open ayah 3:53 in the Quran reader

اے پروردگار جو (کتاب) تو نے نازل فرمائی ہے ہم اس پر ایمان لے آئے اور (تیرے) پیغمبر کے متبع ہوچکے تو ہم کو ماننے والوں میں لکھ رکھ

وَ مَكَرُوْا وَ مَكَرَ اللّٰهُ١ؕ وَ اللّٰهُ خَیْرُ الْمٰكِرِیْنَ۠ Open ayah 3:54 in the Quran reader

اور وہ (یعنی یہود قتل عیسیٰ کے بارے میں ایک) چال چلے اور خدا بھی (عیسی کو بچانے کے لئے) چال چلا اور خدا خوب چال چلنے والا ہے

یہود کی عدالت میں عیسیٰ (علیہ السلام) کو سزائے موت : وَمَلکَرُوْا وَمَکَرَ اللہُ وَاللہُ خَیْرُ الْمَاکِرِیْنَ ، اللہ کی طرف جو مکر کی نسبت کی گئی ہے یہ فن مشاکلت کے طور پر ہے۔ پہلے مکروا کے فاعل یہود ہیں، یہود کے اکابر اور سرداروں نے مخالفت اور ایذاء کے بہت سے درجے طے کرنے کے بعد بالآخر یہ طے کیا کہ یسوع نامی اسرائیلی مدعی نبوت کو ختم ہی کردینا چاہیے، چناچہ پہلے اپنی مذہبی عدالت میں الحاد کا الزام لگا کر آپ کو واجب القتل قرار دیا، پھر رومی حاکموں کی ملکی عدالت میں لاکر آپ پر بغاوت کا مقدمہ چلایا۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور آپ کے مخالفین کا یہ معرکہ ملک شام کے صوبہ فلسطین میں پیش آیا تھا شام اس وقت رومی سلطنت کا ایک جزو تھا، اور یہاں کے یہودی باشندوں کو اپنے معاملات میں نیم آزادی اور نیم خود مختاری حاصل تھی شہنشاہ رومہ کی طرف سے ایک نائب السلطنت (وائسرائے) سارے ملک شام کا تھا، اور اس کے ماتحت ایک والی یا امیر صوبہ فلسطین کا تھا، رومیوں کا مذہب شرک و بت پرستی تھا، یہود کو اتنا اختیار حاصل تھا کہ اپنے لوگوں کے مقامات اپنی مذہبی عدالت میں چلائیں، لیکن سزاؤں کے نفاذ کے لیے ان مقدمات کو ملکی عدالت میں لانا پڑتا تھا جرم الحاد میں قتل کا فتویٰ خود یہود کی عدالت دے سکتی تھی، اور اس نے اسی سزا کا حکم سنایا لیکن واقعۃً سزائے موت کا نفاذ صرف رومی ملکی عدالت کے ہاتھ میں تھا، اور سزائے موت رومی حکومت میں سولی کے ذریعہ دی جاتی تھی یہود کی اس گہری سازش کا تذکرہ قرآن مجید کے لفظ مکروا میں ہے۔ وَمَکَرَ اللہُ ، یعنی اللہ نے مخالفین اور معاندین کی ساری تدبیریں، ساری سازشیں الٹ دیں اور حضرت مسیح (علیہ السلام) کو سولی کی موت سے بچا لیا۔