Ayahs 3:131–134اَلَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ فِی السَّرَّآءِ وَالضَّرَّآءِ (الآیۃ) مطلب یہ ہے کہ محض خوشحالی میں ہی نہیں، تنگ دستی کی حالت میں بھی خرچ کرتے ہیں یعنی ہرحال اور ہر موقع پر خرچ کرتے ہیں، اور انتقام پر قدرت ہونے کے باوجود زیادتی کو معاف کردیتے ہیں اور غصہ کو ضبط کر جاتے ہیں۔
Ayah 3:135وَالَّذِیْنَ اِذَا فَعَلُوْا فَاحِشَۃً : یعنی جب ان سے بتقاضائے بشریت کسی غلطی یا گناہ کا صدور ہوجاتا ہے تو وہ فوراً استغفار کا اہتمام کرتے ہیں۔ قَدْخَلَتْ مِنْ قَبْلِکُمْ سَنَنٌ۔ یہ آیت غزوہ احد میں شکست کے بارے میں نازل ہوئی، غزوہ کی تفصیل سابق میں گزر چکی ہے۔
وَلَقَدْ کُنْتُمْ تَمَنَّوْنَ الْمَوْتَ مِنْ قَبْلُ ۔ جب نبی کریم ﷺ کی شہادت کی خبر مشہور ہوئی تو اکثر صحابہ ؓ کی ہمتیں جواب دے گئیں اس حالت میں منافقین نے (جو مسلمانوں کے ساتھ لگے ہوئے تھے) کہنا شروع کردیا کہ چلو عبد اللہ بن ابی کے پاس چلیں تاکہ وہ ہمارے لئے ابو سفیان سے امان دلا دے، اور بعض نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ محمد ﷺ اگر خدا کے رسول ہوتے تو قتل کیسے ہوتے ؟ چلو اب دین آبائی کی طرف لوٹ چلیں، ان ہی باتوں کے جواب میں ارشاد ہوا ہے کہ اگر تمہاری حق پرستی محض محمد ﷺ کی شخصیت سے وابستہ ہے تو اللہ کے دین کو تمہاری ضرورت نہیں ہے۔
Ayahs 3:136–144آیت نمبر 144 تا 148
ترجمہ : اور آئندہ آیت صحابہ کے بارے میں اس وقت نازل ہوئی جب یہ بات مشہور ہوگئی کہ محمد ﷺ شہید کر دئیے گئے، اور صحابہ (مخلصین) سے منافقین نے کہا اب جب کہ محمد ﷺ قتل کر دئیے گئے تو اپنے (سابق) دین کی طرف پلٹ جاؤ۔ تو (وَمَا محمدٌ اِلاّ رسول الخ) نازل ہوئی۔ اور محمد تو بس ایک رسول ہیں، اور ان سے پہلے اور بھی رسول گزر چکے ہیں سو اگر یہ وفات پاجائیں یا قتل ہوجائیں تو کیا تم الٹے پاؤں واپس چلے جاؤ گے ؟ یعنی کفر کی طرف پلٹ جاؤ گے ؟ اور آخری جملہ استفہام انکاری کے محل میں ہے۔ یعنی وہ معبود نہیں تھے (کہ اس کی موت کی وجہ سے) تم پلٹ جاؤ اور جو کوئی الٹے پاؤں (کفر کی طرف) پلٹ جائے گا تو وہ اللہ کا کچھ بھی نقصان نہ کرے گا بلکہ خود اپنا نقصان کرے گا۔ اور اللہ عنقریب اس کی نعمتوں کے شکر گزاروں کو ثواب کی صورت میں اچھا صلہ دے گا۔ اور ممکن نہیں کہ کوئی جاندار مقررہ وقت پر قضائے الہیٰ کے بغیر مرجائے (کتابًا) مصدر ہے یعنی اللہ نے موت کا وقت مقرر لکھ دیا ہے۔ موت نہ مقدم ہوتی ہے اور نہ مؤخر پھر تم کیوں ہمت ہار گئے ؟ ہمت کا ہارنا موت کو نہیں ٹال سکتا، اور ثابت قدمی حیات کو ختم نہیں کرسکتی، اور جو شخص اپنے عمل سے دنیا کا فائدہ چاہتا ہے۔ یعنی دنیا کا صلہ چاہتا ہے تو ہم اس میں سے جو اس کی قسمت میں ہوتا ہے اس کو دیدیتے ہیں اور جو آخرت کا نفع چاہتا ہے تو ہم اس کو اس کا ثواب دیں گے اور ہم عنقریب شکر گزاروں کو صلہ دیں گے اور کتنے ہی نبی قتل کیے جا چکے ہیں اور ایک قراءت قاتَلَ ہے اور فاعل اس کی ضمیر ہے، کہ ان کے ساتھ میں بہت سے اللہ والے تھے۔ مَعَہٗ خبر ہے اور ربّیون کثیرٌ، اس کا مبتدا ہے، بڑی جماعت۔
دوسرا ترجمہ : اور بہت سے نبیوں کے ہم رکاب ہو کر بہت سے اللہ والے جہاد کرچکے ہیں۔ جو کچھ انہیں زخم اور ان کے انبیاء و اصحاب کا قتل اللہ کی راہ میں پیش آیا۔ اس سے نہ تو انہوں نے ہمت ہاری اور نہ وہ جہاد میں کمزور پڑے اور نہ وہ اپنے دشمن سے ربے جیسا کہ تم نے کیا جب مشہور ہوگیا کہ آپ ﷺ شہید کر دئیے گئے۔ اور اللہ تعالیٰ مصیبتوں پر صبر کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے یعنی ان کو اجر دیتا ہے ان کے نبی کے قتل کے وقت ان کی ثابت قدمی اور صبر کے باوجود ان کی دعاء تو بس اتنی تھی کہ وہ دعاء کرتے رہے کہ اے ہمارے پروردگار ہمارے گناہوں کو اور ہمارے معاملہ میں ہماری زیادتیوں یعنی ہمارے حد سے تجاوز کرنے کو معاف کر دے یہ ظاہر کرنے کے لیے جو کچھ ان کو پیش آیا ہے وہ ان کی بداعمالیوں کی وجہ سے ہے اور اپنی کسی نفسی کو ظاہر کرنے کے لیے تھا۔ اور جہاد میں قوت دے کر ہم کو ثابت قدم رکھ اور ہم کو کافروں پر غلبہ عطا فرما سو اللہ نے ان کی دنیا کا بھی عوض دیا یعنی نصرت اور غنیمت، اور آخرت کا بھی عمدہ بدلہ دیا۔ اور وہ جنت ہے، اور ثواب کا حسن، استحقاق سے بڑھ کر عطا کرنا ہے، اور اللہ نیکوکاروں سے محبت رکھتا ہے۔
تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد
قولہ : الجملۃ الاخیرۃ محل الاستفھام الانکاری۔ مطلب یہ ہے کہ اَفَاِنْ مَاتَ ، پر جو ہمزہ استفہام داخل ہے وہ دراصل اِنْقَلَبْتُمْ علیٰ اَعْقَابِکُمْ ۔ پر داخل ہے اور یہی محل استفہام ہے۔ تقدیر عبارت یہ ہے ” اَاِنْقَلَبْتُمْ عَلیٰ اَعْقَابِکُمْ اِنْ مَاتَ اَوْ قُتِلَ الخ “ ای لا ینبغی منکم الانقلاب والارتداد لانّ محمدًا ﷺ مبلَّغ لَا مَعْبُوْدٌ۔ لہٰذا ان یہ اعتراض واقع نہیں ہوگا کہ موت اور قتل سے سوال کے کیا معنی ؟
قولہ ؛ بقضائہٖ ، اِذن کی تفسیر قضاءٌ سے کرکے ایک سوال مقدر کا جواب دیا ہے۔
سوال : مَا کَانَ لِنَفْسٍ أنْ تَمُوْتَ اِلاَّ بِاِذْنِ اللہِ ، سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان کی موت اس کے اختیار میں ہے اس لیے کہ موت کی نسبت نفس کی طرف کی گئی ہے۔ جواب : اِذن بمعنی قضاء ہے۔
قولہ : مصدرٌ، یعنی کتاباً مفعول لہ نہیں ہے اس لیے کہ مفعول لہ کی صورت میں معنی درست نہیں۔ کتاباً کی صفت ہے اور ابن عطیہ نے منصوب علی التمیز کہا ہے۔
قولہ : جزاء۔ یہ ایک شبہ کا جواب ہے۔ شبہ : اس شبہ کا جواب ہے کہ ثواب کا اطلاق اجر دنیا پر نہیں ہوتا ثواب کا اطلاق تو اجر آخرت پر ہوتا ہے۔ جواب : کا حاصل یہ ہے کہ ثواب بمعنی جزاء ہے جس کا اطلاق اجر آخرت اور صلہء دنیا دونوں پر ہوتا ہے۔ خاص بول کر عام مراد ہے۔
قولہ : فیھا، کا اضافہ کرکے اشارہ کردیا کہ ثواب کی اضافت دنیا کی طرف اضافت مظروف الی الظرف ہے۔ لہٰذا یہ اعتراض ختم ہوگیا کہ دنیا ثواب کا نہ فاعل ہے اور نہ مفعول لہٰذا ثواب کی اضافت دنیا کی طرف کیا معنی ؟
نوٹ : بعض نسخوں میں جزاء منھا کے بجائے جزاء فیھا ہے جو زیادہ صحیح ہے مذکورہ تشریح جزاء فیھا کے نسخہ کے مطابق کی گئی ہے۔
قولہ : کَأَیِّنْ یہ دراصل اَیٌّ تھا، اس پر کاف تشبیہ داخل کیا نون، نون، تنوین ہے خلاف قیاس اس کو باقی رکھا ہے، کَاَین بمعنی کم خبر یہ برائے تکثیر ہے۔
قولہ : مَعَہ، خبر مقدم ہے اور ربّیون، مبتداء موخر ہے، مبتدا خبر مقدم سے مل کر جملہ اسمیہ ہو کر حال ہے۔
قولہ : وَمَا کَانَ قَوْلَھُمْ اِلاَّ اَنْ قَالُوْا الخ، قَوْلَھُمْ ، کَانَ کی خبر مقدم اور أن قَالُوْا بتاویل مصدر ہو کر کَانَ کا اسم مؤخر ہے، ابن کثیر اور عاصم رحمہما اللہ تعالیٰ نے ” قَوْلَھُمْ “ کو کان کے اسم ہونے کی وجہ سے مرفوع پڑھا ہے اس صورت میں ” أنْ قالوا “ کان کی خبر ہوگی۔
اللغۃ والبلاغۃ
اَلَاعْقَاب۔ جمعُ عَقَبٍ ، ایڑھی، الٹے پاؤں واپس ہونا، راہ فرار اختیار کرنا، قصر موصوف علی الصفت فی اللغۃ : الحبس، وفی الاصلاح تخصیص احد الامرین علی الآخر ونفیہ عما عداہ۔ وھو یقع للموصوف علی الصفۃ وبالعکس، والآیۃ من النوع الاول، ای قصر الموصوف علی الصفۃ بالاضافۃ۔ یعنی محمد ﷺ صفت رسالت پر ہی مقصود ہیں موت کی طرف متعدی نہیں۔ صحابہ کرام ؓ آپ کو بعید عن الہلاک سمجھتے تھے اور آپ کی جدائی کو امر عظیم سمجھتے تھے تو گویا کہ صحابہ ؓ نے آپ کے لیے دو وصف ثابت کیے، الرسالۃ، وعدم الھلاک، پھر تخصیص کے ذریعہ وصف رسالت پر مقصود کردیا۔
قولہ : رِبّیُّوْنَ ۔ اللہ والے۔ خدا پرست، ہزاروں، جماعتیں، یہ رِبِّیٌّ کی جمع ہے امام بخاری (رح) تعالیٰ نے اس کے معنی جماعتوں کے کیے ہیں۔ بقول قاضی بیضاوی (رح) تعالیٰ ربّیۃ کی طرف بطور مبالغہ منسوب ہے جس کے معنیٰ جماعت کے ہیں، حضرت ابن عباس ؓ ، مجاہد اور قتادہ نے ربّیون کثیر، کے معنی جماعات کثیر، بیان کیے ہیں، صاحب جلالین نے بھی جموع کثیر، کہہ کر اسی معنیٰ کی طرف اشارہ کیا ہے، کلبی کا قول ہے کہ ربّیۃ دس ہزار کا ہوتا ہے۔ (لغات القرآن، ملخصًا)
تفسیر و تشریح
وَمَا مُحَمَّدٌ اِلاَّ رَسُوْلٌ، محمد ﷺ ، نام مبارک قرآن میں پہلی مرتبیہ آیا ہے، اس کے لفظی معنی ہیں وہ شخص جس کی مدح بہت زیادہ یا بار بار کی جائے۔ یا جو صفات حسنہ کا مجموعہ ہو۔ آپ ﷺ کی بعثت سے قبل اس نام کا رواج بہت کم تھا۔ علامہ ابو جعفر محمد بن حبیب بغدادی المتوفی 245 ھ نے کل سات آدمیوں کے نام گنائے ہیں۔ (کتاب المعتبر، بحوالہ ماجدی) ۔ ان میں سے ایک شخص محمد بن سفیان بن مجاشع کی بابت لکھا ہے کہ اس کے والد نے ایک شامی راہب سے یہ سن کر کہ آئندہ پیغمبر کا نام محمد ہوگا یہ نام اپنے لڑکے کا رکھ دیا۔ کان سفیان اتی الشام فنزل علی راھب فاعحبتہُ فصاحتہ وعقلہ فسال الراھب عن نسبہٖ فانتسب لہ اِلیٰ مُضَرَ فقال لہ اما انّہ یُبْعَثُ فی العرب نبی یقال لہ محمد فسمّٰی سفیان اِبْنَہ محمداً (ماجدی)
محمد ﷺ صرف رسول ہیں، یعنی ان کا امتیاز یہی وصف رسالت ہی ہے یہ نہیں کہ وہ بشری خصائص سے بالا تر اور خدائی صفات سے متصف ہوں کہ انہیں موت سے دوچار ہونا نہ پڑے۔
جنگ احد کی شکست کے اسباب میں سے ایک یہ بھی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے بارے میں کافروں نے یہ افواہ اڑا دی کہ محمد قتل کر دئیے گئے۔ اس کی صورت یہ ہوئی کہ ابن قمیہ نے رسول اللہ ﷺ کو ایک پتھر مارا جس کی وجہ سے آپ کی رباعی مبارک (آگے کے چار دانت) شہید ہوگئے۔ اور قتل کرنے کے لیے آگے بڑھا تو مصعب بن عمیر ؓ نے آپ کا دفاع کیا اور وہی صاحب الرایہ (پرچم بردار) تھے ابن قمیہ نے حضرت مصعب بن عمیر کو شہید کردیا اور وہ سمجھا کہ رسول اللہ ﷺ مقتول ہوگئے تو اس نے شور مچا دیا ” قتلتُ محمدٌا “ اور کہا گیا ہے کہ شیطان نے شور مچا دیا کہ محمد قتل کر دئیے گئے۔ یہ خبر آناً فاناً مشہور ہوگئی۔ اس خبر کو سن کر مسلمانوں میں بددلی اور کم ہمتی پیدا ہوگئی اور لڑائی سے پیچھے ہٹنے لگے۔ جس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ نبی ﷺ کا کافروں کے ہاتھوں قتل ہوجانا ان کا موت سے دوچار ہوجانا کوئی نئی بات نہیں ہے پچھلے انبیاء بھی موت اور قتل سے دوچار ہوچکے ہیں، آپ ﷺ بھی بالفرض اگر اس سے دوچار ہوجائیں تو کیا تم اس دین ہی سے پھر جاؤ گے ؟ یاد رکھو جو پھرجائے گا وہ اپنا ہی نقصان کرے گا۔ نبی کریم ﷺ نے سانحہ وفات کے وقت جب حضرت عمر ؓ شدّت جذبات میں وفات نبوی کا انکار کر رہے تھے تو حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے نہایت حکمت سے کام لے کر منبر رسول ﷺ کے پہلو میں کھڑے ہو کر انہی آیات کی تلاوت کی جس سے حضرت عمر ؓ متأثر بھی ہوئے اور انہیں محسوس ہوا کہ یہ آیات ابھی ابھی نازل ہوئی
Ayah 3:145وَمَاکَانَ لِنَفْسٍ أَنْ تَمُوْتَ اِلاَّ بِاِذَنِ اللہِ (الآیۃ) یہ کمزوری اور بزدلی کا مظاہرہ کرنے والوں کے حوصلوں میں اضافہ کرنے کے لیے کہا جاتا ہے کہ موت تو اپنے وقت پر آکر ہی رہے گی، پھر بھاگنے یا بزدلی دکھانے سے کیا فائدہ ؟ اسی طرح دنیا طلب کرنے سے بقدر قسمت تو دنیا مل جاتی ہے لیکن آخرت میں کچھ نہیں ملے گا، اس کے برعکس آخرت کے طالبوں کو آخرت میں اخروری نعمتیں تو ملیں گی ہی دنیا میں بھی اللہ تعالیٰ انہیں نعمتیں عطا فرمائے گا۔ آگے مزید حوصلہ افزائی کے لئے پچھلے انبیاء (علیہم السلام) اور ان کے پیروکاروں کے صبر و استقامت کی مثالیں بیان فرمائیں۔
Ayahs 3:146–149آیت نمبر 149 تا 155
ترجمہ : اے ایمان والو اگر تم کافروں کی باتیں مانو گے تو وہ تم کو تمہاری ایڑیوں کے بل کفر کی طرف پلٹا دیں گے (یعنی مرتد بنادیں گے) اور تم زیاں کاروں میں ہوجاؤ گے بلکہ اللہ ہی تمہارا مددگار ہے اور وہی تمہارا بہترین مددگار ہے لہٰذا اسی کی اطاعت کرو نہ کہ دوسروں کی۔ ہم عنقریب کافروں کے دلوں میں رعب ڈالدیں گے (رعب) عین کے سکون اور ضمہ کے ساتھ ہے یعنی خوف۔ احد سے پلٹنے کے بعد انہوں نے (احد) واپس آنے اور مسلمانوں کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کا عزم کیا تھا مگر مرعوب ہوگئے جس کی وجہ سے واپس نہیں آئے اللہ کے ساتھ ان چیزوں کو شریک کرنے کی وجہ سے جن کے بارے میں ان کی عبادت پر (اللہ نے) کوئی دلیل نہیں اتاری اور وہ بت ہیں۔ ان کا ٹھکانہ جہنم ہے۔ اور ظالموں کافروں کا یہ برا ٹھکانہ ہے اور یقیناً اللہ نے تم سے اپنا وعدہ سچ کر دکھایا جب کہ تم انہیں اسکے حکم سے قتل کر رہے تھے یہاں تک کہ جب تم نے قتال سے پست ہمتی دکھائی اور معاملہ میں اختلاف کرنے لگے یعنی پہاڑ کی گھاٹی میں نبی کریم ﷺ کے حکم کے مطابق تیر اندوزی کے لیے رہنے کے بارے میں اختلاف کرنے لگے۔ چناچہ بعض لوگوں نے کہا ہم جاتے ہیں اس لیے کہ ہمارے ساتھی کامیاب ہوگئے، اور بعض نے کہا ہم نبی کے حکم کی خلاف ورزی نہیں کریں گے۔ اور تم نے نافرمانی کی، مال غنیمت کی طلب میں مرکز کو چھوڑ دیا۔ یعد اس کے کہ اللہ نے تم کو تمہاری محبوب چیز (یعنی) نصرت دکھادی اور جواب اذا (محذوف ہے) جس پر اس کا ماقبل دلالت کرتا ہے (اور وہ جواب) مَنَعَکم نَصْرہٗ ہے تم میں سے بعض دنیا چاہتے تھے تو انہوں نے مال غنیمت کے لیے مرکز کو چھوڑ دیا۔ اور بعض کا ارادہ آخرت کا تھا تو وہ اس مقام پر ڈٹے رہے حتی کہ شہید کر دئیے گئے جیسا کہ عبد اللہ بن جبیر اور اس کے ساتھی پھر تم کو کافروں سے شکست کے ساتھ پھیر دیا اذا کے جواب مقدر (مَنَعَکم نَصْرَہٗ ) پر عطف ہے، تاکہ تمہیں آزمائے جس کے نتیجے میں مخلص غیر مخلص سے ممتاز ہوجائے۔ اور بلاشبہ اللہ نے تمہارے جرم کو معاف کردیا اور اللہ تعالیٰ مومنین پر عفو و درگزر کے ذریعہ فضل کرنے والا ہے اس وقت کو یاد کرو کہ جب میدان سے بھاگے چلے جا رہے تھے اور کسی کی طرف مڑ کر بھی نہ دیکھتے تھے اور (اللہ کے) رسول تمہیں تمہارے پیچھے سے آواز دے رہے تھے فرما رہے تھے۔ اے اللہ کے بندو ! میری طرف آؤ۔ اے اللہ کے بندوں میری طرف آؤ۔ تو تمہیں غم پر غم پہنچا ایک غم ہزیمت کی وجہ سے (اور دوسرا) غم تمہارے رسول کی خلاف ورزی کرنے کی وجہ سے اور کہا گیا ہے کہ باء بمعنی، علیٰ ، ہے یعنی فوت غنیمت پر مزید غم تاکہ تم رنجیدہ نہ ہو اس پر جو تمہارے ہاتھ سے نکل گئی اور وہ مال غنیمت ہے اور نہ اس پر جو تم کو قتل و ہزیمت پیش آئی۔ (اس صورت میں) لِکَیْلَا کا تعلق عَفَا عنکم، سے ہوگا۔ یا اس کا تعلق اَثَابِکُمْ سے ہے۔ تو اس صورت میں، لا، زائدہ ہوگا۔ اور اللہ تمہارے کاموں سے خبردار ہے۔ پھر اس نے اس غم کے بعد تم پر راحت کی نیند نازل کی نعاسًا اَمَنَۃً سے بدل ہے جو تم میں سے ایک جماعت پر چھاگئی یغشیٰ یاء اور تاء کے ساتھ ہے اور وہ مومن تھے۔ کہ وہ (اپنی) ڈھالوں کے نیچے (نیند کے) جھونکے مار رہے تھے اور تلواریں (ان کے ہاتھوں) سے گر گر پڑتی تھیں۔ اور ایک جماعت وہ تھی کہ اسے اپنی جانوں کی پڑی تھی یعنی وہ غم میں مبتلا تھے انہیں تو صرف اپنی جان بچانے کی فکر تھی نہ نبی ﷺ کی پڑی تھی اور نہ اصحاب نبی کی، چناچہ ان کو نیند نہیں آئی اور وہ منافق تھے، وہ اللہ کے ساتھ ناحق جہالت بھری بدگمانیاں کر رہے تھے بایں طور کہ انہوں نے یقین کرلیا تھا کہ نبی قتل کر دئیے گئے یا ان کی مدد نہ کی جائے گی۔ (اور) کہہ رہے تھے کہ جس نصرت کا ہم سے وعدہ کیا گیا تھا اس میں سے کچھ نہیں ہے (دوسرا ترجمہ) کہ ہمارا کچھ اختیار چلتا ہے ؟ ، مِن، زائدہ ہے آپ کہہ دیجئے ان سے کہ اختیار تو سارا کا سارا اللہ کا ہے، کلّہ، نصب کے ساتھ تاکید کے لیے ہے اور رفع کے ساتھ مبتداء ہے جس کی خبر للہ ہے، یعنی حکم تو صرف اللہ کا ہے وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے یہ لوگ اپنے دلوں کے بھید آپ کو نہیں بتاتے کہتے ہیں کہ یہ ماقبل کا بیان ہے کہ اگر ہمیں کچھ بھی اختیار ہوتا تو ہم یہاں قتل نہ کیے جاتے۔ یعنی اگر ہم کو اختیار ہوتا (یعنی اگر ہماری بات چلتی) تو ہم (مدینہ) سے نہ نکلتے تو قتل بھی نہ کیے جاتے، لیکن ہم کو زبردستی یہاں لایا گیا، آپ ان سے کہہ دیجئے اگر تم اپنے گھروں میں بھی ہوتے تو تم میں سے جس کی قسمت میں قتل ہونا لکھا ہوا تھا تو وہ مقتل کی طرف نکل کھڑے ہوتے، اور قتل کیے جاتے، (یعنی تم میں سے اللہ نے جس کے قتل کا منصوبہ کردیا، ان کا (گھروں) میں بیٹھ رہنا ان کو نہ بچا سکتا اس لیے کہ تقدیر الہیٰ لامحالہ نافذ ہو کر رہتی ہے۔ اور احد میں اس کو جو کرنا تھا وہ کیا۔ (اور یہ سب اسی لیے ہوا) کہ اللہ تمہارے سینوں میں جو اخلاص و نفاق ہے اس کی آزمائش کرے اور تاکہ جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے اسے صاف کرے (ممتاز کرے) اور اللہ سینوں کی باتوں کو خوب جانتا ہے۔ یعنی دلوں میں جو کچھ ہے وہ اس سے مخفی نہیں۔ اور آزمائش تو صرف اس لیے ہے کہ لوگوں پر ظاہر کرے۔ یقیناً تم میں سے جو لوگ دونوں جماعتوں کے مقابلہ کے وقت احد میں قتال سے پھرگئے تھے (دونوں جماعتوں سے مراد) مسلمانوں اور کافروں کی جماعتیں ہیں اور بارہ افراد کے علاوہ سب مسلمان پلٹ گئے تھے۔ ان لوگوں کو ان کے بعض کرتوتوں کی وجہ سے شیطان نے وسوسے کے ذریعہ پھسلا دیا اور (وہ کرتوت) آپ ﷺ کے حکم کی خلاف ورزی تھی لیکن اللہ تعالیٰ نے انہیں یقیناً معاف کردیا بلاشبہ اللہ تعالیٰ مومنین کو معاف کرنے والے اور حلیم ہیں (یعنی) نافرمانوں سے مواخذہ میں جلدی نہ کرنے والے ہیں۔
تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد
قولہ : بسبب اشراکھم، اس میں اشارہ ہے کہ، بما، میں باسببیہ اور ما مصدریہ ہے، لہٰذا اس کو عائد کی ضرورت نہیں ہے۔
قولہ : ھِیَ ، مخصوص بالذم ہے۔
قولہ : تَحُسُّوْنَھُمْ ای تَقْتُلُونَھُمْ یہ حَسَّ یَحُسُّ (ن) سے مشتق ہے اس وقت بولتے ہیں جب حس کو باطل کر دے۔ اور حس قتل سے باطل ہوتی ہے ملزوم بول کر لازم مراد ہے۔ قال جریر۔ ؎
تحُسُّھُم السیوف کما تسامی عریق النار فی الاجم الحصید
قولہ : جواب اذا، دل علیہ ماقبلہُ ، یعنی اذا کا جواب ما قبل میں مذکور نہیں ہے کہ جزا کا شرط پر مقدم ہونا لازم آئے بلکہ مقدر ہے جس پر ماقبل دلالت کرتا ہے اور وہ دال ” لَقَدْ صَدَقَکُمُ اللہُ “ ہے اور مدلول جو کہ مقدر ہے ہے ” مَنَعَکم نَصْرَہٗ “ ہے جیسا کہ صاحب جلالین نے ظاہر فرما دیا ہے۔
قولہ : عطف علیٰ جواب اذا المقدر، اس عبارت کے اضافہ کا مقصد یہ بتانا ہے کہ صَرَفَکم، کا عطف اذا کے جواب مقدر پر ہے اس لیے کہ اس کا ماقبل مضارع ہے اور صَرَفکم، ماضی ہے لہٰذا ماقبل پر عطف نہیں ہوسکتا۔
قولہ : مِنْ وَرَائِکُمْ ، اس میں اشارہ ہے کہ فی بمعنی مِنْ ہے۔
قولہ : متعلق بعَفَا اوبَاثابکم فلا زائدۃ اگر لکیلا کا تعلق عفا سے مانا جائے تو لانا ہیہ غیر زائد ہوگا۔ یعنی تم کو ہزیمت کے ذریعہ غم دیا تاکہ تم مال غنیمت کے فوت ہونے پر رنجیدہ نہ ہو۔
قولہ : وَلَا مَا اَصَابکم، لا زائدہ ہے۔ (جمل) قولہ : اَمَنَۃً مفعول ہونے کی وجہ سے منصوب ہے اور نُعَاسًا اس سے بدل ہے۔
قولہ : الجَحَف، بفتحتین، جُحْفَۃٌ م کی جمع ہے، بمعنی ڈھال (سپر) ۔
قولہ : ظنّا غَیْر الظَّنِّ الحقِّ اس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ” غیر الحقِّ “ محذوف کی صفت ہے جو کہ یَظُنُّ کا مفعول مطلق ہے۔ الظَّنّ کو مقدر ماننے کا مقصد اس بات کی طرف اشارہ کرنا ہے کہ غیر مفعول بہ نہیں ہے اس لیے کہ اگر اس سے مفعول بہ مراد ہوتا تو الظن کے بجائے الأمر یا الشئ مقدر مانا جاتا۔
قولہ : ای کظنِّ اس میں اشارہ ہے کہ ظن منصوب بنزع الخافض ہے۔ قولہ : اَزَلَّھُمْ اس سے اشارہ کردیا کہ استفعال بمعنیٰ افعال ہے۔
اللغۃ والبلاغۃ
تَصْعِدُوْنَ ، بضم التاء، (افعال) مضارع جمع مذکر حاضر، تم چڑھے چلے جا رہے تھے، تم دور جا رہے تھے، تَلْوٗنَ ، لَیٌّ، سے جمع مذکر حاضر اس کا صلہ میں جب علیٰ ، آتا ہے تو اس کے معنیٰ دوسرے کی طرف مڑنا، متوجہ ہونا۔ فُلاَنٌ لَا یَلْویْ علیٰ اَحَدٍ (فلاں کسی کی طرف مڑ کر بھی نہیں دیکھتا) سخت ہزیمت کے موقع پر استعمال ہوتا ہے۔ اِذْ تُصْعِدُوْنَ وَلَا تَلْوٗنَ عَلٰی اَحَدٍ ۔ جب تم بھاگم بھاگ چلے جا رہے تھے اور کسی کی طرف مڑ کر بھی نہیں دیکھتے تھے۔ یہ اسی سخت ہزیمت کے موقع پر استعمال ہوا ہے۔
الکنایۃ : فقد کنیٰ بالمضاجع عن المصارع، یعنی خواب گاہ سے مقتل کی طرف کنایہ ہے۔
تفسیر و تشریح
غزوہ احد میں مسلمانوں کو عارضی شکست اور رسول اللہ ﷺ کی وفات کی افواہ گرم ہونے پر منافقین نے جب جنگ کا پانسہ پلٹتے دیکھا تو ان کو شرارت کا موقع مل گیا، مسلمانوں سے کہنے لگے کہ محمد اگر واقعی نبی ہوتے تو شکست کیوں کھاتے ؟ یہ تو دوسرے انسانوں کی طرح ایک معمولہ انسان ہیں آج فتح ہے تو کل شکست، خدا کی جس نصرت و حمایت کا انہوں نے یقین دلا رکھا تھا وہ محض ایک ڈھونگ تھا اور جب آپ ہی نہ رہے تو ہم اپنا دین ہی کیوں نہ اختیار کرلیں جس سے سارے جھگڑے ختم ہوجائیں، ان باتوں سے منافقین کی خباثت اور ان کا مسلمانوں کا بدخواہ ہونا ظاہر ہے۔ اس لیے اس آیت میں مسلمانوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ ان دشمنوں کی بات پر کان نہ لگائیں ان کو اپنے کسی مشورہ میں شریک نہ کریں۔ پچھلی آیت میں اللہ والوں کا اتباع کرنے کی ہدایت تھی اس میں منافقین اور مخالفین اسلام کے مشورہ پر عمل نہ کرنے اور ان سے بچتے رہنے کی ہدایت ہے۔
Ayahs 3:150–151سَنُلْقِیْ فِیْ قُلُوْبِ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا الرُّعْبَ (الآیۃ) دشمنان دین کے دلوں میں القاء رعب کی یہ واضح مثال تاریخ کے صفحات میں یوں محفوظ ہے کہ معرکہ احد میں جب آخری فتح بظاہر مشرکین مکہ کو ہوگئی تھی۔ اب قدرتی نتیجہ یہ نکلنا تھا کہ وہ لوگ وہیں سے شہر مدینہ پر چڑھ دوڑتے، لیکن انہیں اس کی ہمت نہ پڑی، اور بلا کسی ظاہری سبب کے مکہ کی طرف واپس لوٹ گئے، پھر جب کچھ راستہ طے کرچکے تو اپنی حماقت پر افسوس کرنے لگے کہ جب مسلمانوں کو شکست ہو ہی چکی تھی تو اس وقت وہاں سے واپس آنا کوئی دانشمندی نہیں تھی۔ اور پھر مدینہ منورہ کی طرف واپسی کا ارادہ کیا تو اللہ نے ان کے دلوں پر ایسا رعب ڈالا کہ مدینہ کی طرف بڑھنے کی ہمت نہ ہوئی۔ کسی راہ گیر کو کچھ مال دے کر اس بات پر راضی کرلیا کہ تم مدینہ جا کر مسلمانوں کو ڈرا دو کہ وہ پھر لوٹ کر واپس آرہے ہیں، یہاں یہ سارا واقعہ آنحضرت ﷺ کو بذریعہ وحی معلوم ہوگیا تو رسول اللہ ﷺ ان کے تعاقب کے لیے مقام حمراء الاسد تک پہنچے مگر وہ بھاگ چکے تھے یہ آیت اسی واقعہ کے متعلق نازل ہوئی۔
Ayahs 3:152–156آیت نمبر 156 تا 171
ترجمہ : اے ایمان والو ! تم ان کافروں منافقوں کی سی باتیں نہ کرو جو اپنے بھائیوں کے بارے میں جب کہ وہ سفر میں ہوتے ہیں اور انتقال کر جاتے ہیں یا کہیں جہاد میں جاتے ہیں اور مقتول ہوجاتے ہیں۔ عُزًّی، غازٍ کی جمع ہے۔ کہتے ہیں اگر وہ ہمارے پاس ہوتے تو نہ مرتے اور نہ مارے جاتے یعنی ان کے جیسی بات مت کہو (یہ بات اس لیے ان کی زبان پر آئی تھی) تاکہ اللہ تعالیٰ اسے (یعنی) اس بات کو آخر کار ان کے دلوں میں سبب حسرت بنا دے۔ اللہ ہی جلاتا اور مارتا ہے۔ لہٰذا گھروں میں بیٹھ رہنا ان کو موت سے نہیں بچا سکتا۔ اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اسے خوب دیکھتا ہے تو اس کی وہ تم کو جزاء دے گا۔ تاء اور یاء کے ساتھ اگر تم اللہ کے راستہ یعنی جہاد میں مارے جاؤ یا مرجاؤ میم کے ضمہ اور کسرہ کے ساتھ (اول) مات یموت سے اور (دوسرا) مات یمات (س) سے ہے یعنی تم کو اس میں موت آجائے، تو تمہارے گناہوں کے لیے اللہ کی مغفرت اور اس پر اس کی رحمت کہیں بہتر ہے۔ اس دنیا سے جس کو تم جمع کر رہے ہو تاء اور یاء کے ساتھ، لام اور اس کا مدخول جواب قسم ہے، اور وہ مقام فعل میں مبتداء ہے اور اس کی خبر (خَیْرٌ مِّمَّا تَجْمَعُوْنَ ) ہے اور اگر تم مرجاؤ یا جہاد وغیرہ میں مارے جاؤ (لَئِنْ ) میں لام دونوں صورتوں میں قسمیہ ہے۔ تو تم ضرور اللہ ہی کی طرف نہ کہ کسی اور کی طرف آخرت میں جمع کیے جاؤ گے، سو وہ تم کو جزاء دے گا۔ سوائے محمد ﷺ اللہ کی رحمت کے باعث آپ ان پر نرم دل ہیں۔ ما، زائدہ ہے اور اگر آپ بد زبان اور تند خو خشک مزاج ہوتے اور ان پر سختی کرتے تو وہ سب آپ کے پاس سے چھٹ جاتے، لہٰذا آپ ان سے (یوم احد) میں جو کچھ (کوتاہی) ہوئی اس سے درگذر کیجئے۔ اور ان کے گناہوں کے لیے مغفرت طلب کیجئے۔ تاکہ میں ان کی مغفرت کروں اور جنگ وغیرہ کے معاملات میں ان کی رائے معلوم کرنے کے لئے ان سے ان کی دل جوئی کے لیے مشورہ کیجئے اور اس لیے تاکہ آپ کی سنت قائم ہوجائے اور آنحضرت ﷺ اپنے اصحاب سے بکثرت مشورہ فرمایا کرتے تھے، اور جب آپ مشورہ کے بعد کسی کام کے کرنے کا پختہ عزم کرلیں تو پھر اللہ پر بھروسہ کریں۔ نہ کہ مشاورت پر۔ بلاشبہ اللہ تعالیٰ اپنے اوپر بھروسہ کرنے والوں سے محبت کرتا ہے اور اگر اللہ دشمن کے مقابلہ میں تمہاری مدد کرے جیسی کہ یوم بدر میں کی۔ تو تم پر کوئی غالب نہیں آسکتا اور اگر وہ تمہیں چھوڑ دے یعنی تمہاری مدد ترک کر دے۔ جیسا کہ یوم احد میں ہوا۔ تو پھر کون ہے جو اس کے علاوہ تمہاری مدد کرے یعنی اس کے چھوڑنے کے بعد، یعنی تمہارا کوئی مددگار نہ ہوگا۔ ایمان والوں کو اللہ ہی پر توکل کرنا چاہیے اور جب یوم بدر میں ایک سرخ چادر گم ہوگئی تو بعض نے کہا شاید نبی ﷺ نے لے لی ہوگی۔ اور نبی کی شان نہیں کہ وہ مال غنیمت میں خیانت کرے لہٰذا آپ اس کے بارے میں ایسا گمان مت کرو اور ایک قراءت میں مجہول کے صیغہ کے ساتھ ہے، یعنی خیانت کی جانب نسبت کی جائے، اور جو کوئی خیانت کرے گا تو وہ خیانت کی ہوئی چیز کو قیامت کے دن اپنی گردن پر اٹھائے ہوئے لائے گا اور ہر خائن اور غیر خائن نفس کو اس کے اعمال کا پورا پورا بدلہ ملے گا اور ان پر ذرہ برابر ظلم نہ کیا جائے گا کیا جو شخص رضائے الہیٰ کا تابع ہو کہ اس نے اطاعت کی اور خیانت نہیں کی۔ بھلا وہ اس جیسا ہوجائے گا جو معصیت اور خیانت کی وجہ سے اللہ کا غضب لے کر لوٹتا ہے ؟ نہیں، اور اس کا ٹھکانہ جہنم ہے اور وہ بری جگہ ہے اور اللہ کے نزریک دونوں قسم کے لوگوں میں بدر جہا فرق ہے۔ یعنی ان کے مختلف درجے ہوں گے۔ لہٰذا جو اللہ کو خوشنودی کے درپے ہوگا اس کے لیے ثواب ہوگا، اور جو اس کا غصہ لے کر لوٹے گا وہ مستحق عذاب ہوگا۔ اور اللہ تعالیٰ ان کے عملوں کو دیکھتے ہیں، لہٰذا ان کے اعمال کا ان کو بدلہ دیں گے حقیقت میں اللہ نے مومنین پر (بڑا) احسان کیا کہ ان ہی میں سے ایک رسول ان میں بھیجا، یعنی ان کے جیسا عربی۔ تاکہ اس کی بات سمجھیں اور اس سے شرف حاصل کریں۔ نہ کہ فرشتہ اور غیر عربی۔ جو ان کو آیتیں قرآن پڑھ پڑھ کر سناتا ہے، اور انہیں گناہوں سے پاک کرتا ہے اور انہیں کتاب قرآن اور حکمت سنت کی تعلیم دیتا ہے اور یقیناً اس سے (یعنی) اس کی بعثت سے پہلے وہ کھلی گمراہی میں تھے اور جب احد میں تمہیں ایسی تکلیف پہنچی کہ تمہارے ستر آدمی مقتول ہوئے۔ جس کی دو چند تکلیف (فریق مقابل کو) بدر میں ستر کو قتل کرکے اور ستر کو قید کرکے پہنچا چکے تھے۔ تو تم تعجب سے کہنے لگے یہ کہاں سے آگئی ؟ حالانکہ اللہ کا رسول ہمارے اندر موجود ہے آپ کہہ دیجئے یہ خود تمہاری طرف سے ہے اس لیے کہ تم نے مرکز کو چھوڑ دیا جس کی وجہ سے تم شکست کھا گئے۔ آخری جملہ استفہام انکاری کے محل میں ہے، بیشک اللہ ہر چیز پر قادر ہے اور مصیبت تم پر اس دن پڑی جس دن احد میں دو جماعتیں باہم مقابل ہوئیں سو وہ اللہ کی مشیت سے ہوئیں۔ اور اس لیے تاکہ اللہ مومنین کو علم ظہور کے طور پر جان لے اور تاکہ منافقین کو جان لے جن سے کہا گیا جب وہ قتال سے پھرگئے اور وہ عبداللہ بن ابی اور اس کے ساتھی تھے آؤ اللہ کی راہ میں اس کے دشمنوں سے لڑو اگر تم نہیں لڑسکتے تو کافروں کو ہم سے اپنی تعداد بڑھا کر ہٹاؤ تو وہ بولے اگر ہم کوئی (ڈھنگ) کی جنگ دیکھتے تو ضرور ہم تمہارا ساتھ دیتے اللہ تعالیٰ نے ان کی تکذیب کرتے ہوئے فرمایا یہ لوگ اس روز ایمان کی بہ نسبت کفر سے زیادہ قریب ہوگئے اس سبب سے کہ انہوں نے مومنین کے لیے اپنی بزدلی ظاہر کردی اور اس سے پہلے وہ بظاہر ایمان کے قریب تھے۔ یہ لوگ اپنی زبان سے وہ باتیں کہتے ہیں جو ان کے دل میں نہیں اور اگر انہیں قتال کا علم ہوتا تو تمہارے ساتھ نہ آتے اور جو نفاق یہ لوگ چھپائے ہوئے ہیں اللہ اس سے بخوبی واقف ہے وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنی دینی بھائیوں سے کہا حال یہ کہ وہ خود بھی جہاد سے بیٹھے رہے اور اگر شہداء احد یا ہمارے بھائی ہماری بات مان لیتے تو قتل نہ کئے جاتے۔ آپ ان سے کہہ دیجئے اگر تم اس بات میں سچے ہو کہ جنگ سے بیٹھ رہنا موت سے بچا سکتا ہے تو خود کو موت سے بچا لو اور (آئندہ آیت) شہدائے احد کے بارے میں نازل ہوئی، جو لوگ راہ خدا میں دین کے لیے مارے گئے۔ تم ان کو ہرگز مردہ خیال مت کرو (قتلوا) تخفیف اور تشدید کے ساتھ ہے۔ بلکہ وہ زندہ ہیں۔ ان کی روحیں سبز رنگ کے پرندوں کے پوٹوں میں جہاں چاہتی ہیں جنت میں سیر کرتی ہیں جیسا کہ حدیث میں وارد ہے، ان کو ان کے رب کے پاس رزق دیا جاتا ہے جنت کے پھل کھاتے ہیں۔ حال یہ کہ وہ ان (نعمتوں) سے خوش ہیں جو اللہ نے انہیں اپنے فضل سے عطاء کی ہیں (فَرِحِیْنَ ) یرزقون کی ضمیر سے حال ہے۔ اور ان کی بابت کہ ان کے مومن بھائیوں میں سے بعد والے جو ابھی تک ان سے نہیں ملے ہیں خوشی منا رہے ہیں اس پر کہ انہیں (یعنی) جو ابھی ان سے جا کر نہیں ملے ہیں۔ نہ کوئی خوف ہے اور نہ آخرت میں وہ غم زدہ ہوں گے اور اَلّذِیں سے اَنْ لَاخَوْفٌ عَلَیْھِمْ بدل ہے۔ وہ ان کے امن اور ان کی مسرت سے خوش ہیں وہ لوگ اللہ کے انعام ثواب اور فضل سے خوش ہو رہے ہیں۔ اور اس پر کہ اللہ مومنین کے اجر کو ضائع نہ کرے گا (اَنْ ) فتحہ کے ساتھ ہے نعمۃٍ پر عطف کرتے ہوئے اور کسرہ کے ساتھ استیناف ہے۔ بلکہ ان کو اجر عطا کرے گا۔
تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد
قولہ : فی شانھم، اس میں اشارہ ہے کہ لام بمعنیٰ فی، ہے۔ قولہ : فی عَاقِبَۃِ اَمْرِھِمْ ، اس میں اشارہ ہے کہ لِیَجْعَل، میں لام، لام عاقبت ہے
قولہ : کائِنَۃً ، کائنۃ مقدر مان کر ایک سوال کا جواب دینا مقصود ہے۔
سوال : لَمَغْفِرَۃ، اپنے معطوف وَرَحْمَۃٌ، سے مل کر مبتدا ہے حالانکہ اس کے نکرہ ہونے کی وجہ سے مبتدا بننا درست نہیں ہے۔
جواب : نکرہ جب موصوف بالصفت ہو تو اس کا مبتدا بننا درست ہوتا ہے یہاں پر مِن اللہ جار مجرور سے مل کر کائنۃٌ کے متعلق ہو کر مغفرۃ کی صفت ہے لہٰذا مَغْفِرَۃٌ کا مبتدا بننا درست ہے۔ اور خَیْرٌ، اس کی خبر ہے اور لَمَغْفِرَۃٌ اپنی خبر سے مل جواب قسم ہے اور جواب شرط محذوف ہے۔
قولہ : وَھُوَ فی موضع الفعل ھُوَ کا مرجع لَمَغْفِرَۃٌ ہے، تقدیر عبارت یہ ہے، وَاللہ لئِنْ قُتِلْتم فِی سَبِیْلِ اللہ لَغَفَرْتُ لکن وَرَحِمْتُکُمْ ، جواب شرط محذوف ہے۔ اس لیے کہ مشہور قاعدہ ہے کہ قسم اور شرط جب جمع ہوجائیں تو مذکور، مقدم کا جواب ہوتا ہے اور مؤخر کا جواب محذوف ہوتا ہے، اسی قاعدہ کی رو سے، لَمَغْفِرۃ الخ، جواب قسم ہے اور جواب شرط محذوف ہے جس پر جواب قسم دلالت کر رہا ہے۔
ملحوظۃ : مفسر علام کا وَھُوَ فِی مَوْضِعِ الفِعْلِ ، کہنا محل تامل ہے اس لیے کہ اس سے یہ بات مفہوم ہوتی ہے کہ جواب قسم کے لئے فعل ہونا ضروری ہے حالانکہ اسم اور فعل دونوں جواب قسم واقع ہوتے ہیں فتامل۔
قولہ : من الدنیا، یہ اشارہ ہے کہ بِمَا یَعْلَمُوْنَ ، میں ما، موصولہ ہے اور یَعْلَمُوْنَ جملہ ہو کر صلہ ہے اور مِنْہُ ، عائد محذوف ہے۔
قولہ : بوجھین یعنی مُتُّمْ ، بالضمۃ والکسرۃ۔
قولہ : زائدۃ للتاکید، مَا، کو زائدہ قرار دینے کی دو وجہ ہیں اول یہ کہ مَا، یہاں نہ موصولہ ہوسکتا ہے اور نہ شرطیہ اور نافیہ اور نہ موصولہ اور نہ مصدریہ اس لیے کہ یہاں ان میں سے کوئی بھی معنیٰ درست نہیں ہے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ اگر مَا، کو زائدہ قرار دیا جائے تو حرف کا حرف پر داخل ہونا لازم آئے گا جو کہ درست نہیں ہیں۔
قولہ : اَصْحَابُ الدرجات، اصحاب، مقدر مانا ہے تاکہ حمل درست ہو سکے۔
قولہ : بَیّنٌ، مُبِیْن کی تفسیر بَیِّن سے کرکے اشارہ کردیا کہ متعدی بمعنیٰ لازم ہے۔ قولہ : الجملۃ الاخیرۃ، ای قُلْتُمْ اَنّٰی لَنَا ھٰذا۔
قولہ : وَقَدْ قَعَدُوْا، قَعَدُوٌا، قالوا کی ضمیر سے حال ہے۔ اور ماضی بغیر قد کے حال نہیں ہوسکتا اس لیے مفسر علام نے قَدْ مقدر مان کر اشارہ کردیا کہ قَعَدُوْا بتقدیر قد، حال ہے۔
اللغۃ والبلاغۃ
الضرب فی الارض، ای السّفر، ضَرَبُوْا فی الأرض، ای سافروا فیھا۔ غُزًّی، خلاف قیاس غازٍ کی جمع ہے، اور قیاس گُزَاۃ تھا بروزن رُمَاۃ۔ حکایۃ حال الماضیۃ۔ اِذا ضربوا فی الارض، ضربوا فعل ماضی ہے مناسب تھا کہ اذا کے بجائے اِذْ ، لاتے اس لیے کہ اِذْ ماضی کے لیے آتا ہے۔ مگر حکایت حال صیغہ کے طور پر اذا لائے ہیں، تاکہ حال، ماضی کا ذہن میں استحضار ہوجائے۔
طباق : یُحْیٖ ویمیت۔ لام صَیْرورت۔ لیجعل اللہ میں لام صیرورت کیلئے ہے جس کو لام عاقبت بھی کہتے ہیں۔ یہ لام انجام اور مأل شی پر دلالت کرتا ہے۔ اس کے بعد أن مقدر ہونے میں لام تعلیل کے مانند ہے۔ غَلَّ کسی چیز کو خفیۃً وخیانۃً لینا، غُل بالضم خیانت، بالکسر کینہ جُو، یقال، یدُالمومنین لایغلُّ وقلب المومن لایَغِلُّ بالکسر، یعنی مومن کا ہاتھ خیانت نہیں کرتا اور نہ مومن کا قلب حسد اور کینہ کرتا ہے
تشبیہ بلیغ : ھُمْ دَرَجَاتٌ، درجات کو اصحاب درجات کا عین قرار دیا ہے، یہ عین تشبیہ بلیغ کے طور پر ہے، اس میں مبالغہ زیادہ ہے
تفسیر و تشریح
یَاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَاتَکُوْنُوْا کَالَّذِیْنَ کَفَرُوْا (الآیۃ) اہل ایمان کو فساد عقیدہ سے روکا جا رہا ہے جس کے حامل کفار اور منافقین تھے کیوں کہ یہ عقیدہ بزدلی کی بنیاد ہے اس کے برعکس جب یہ عقیدہ ہو کہ موت وحیات اللہ کے ہاتھ میں ہے نیز یہ کہ موت کا ایک وقت مقرر ہے تو اس سے انسان کے اندر عزم و حوصلہ اور اللہ کی راہ میں جہاد کرنے کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔ یعنی یہ باتیں جو کفار و منافقین کرتے ہیں حقیقت پر مبنی نہیں ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ قضائے الہیٰ کسی کے ٹالے نہیں ٹل سکتی۔ مگر جو لوگ اللہ پر ایمان نہیں رکھتے اور سب کچھ اپنی تدبیروں پر ہی موقوف سمجھتے ہیں، ان کیلئے اس قسم کے قیاسات حسرت واندوہ بن کر رہ جاتے ہیں اور کف افسوس ملتے ہوئے کہتے ہیں کاش یوں ہوتا تو ہوجاتا، یہ نہ ہوتا تو وہ نہ ہوتا۔
Ayah 3:157وَلَئِنْ قُتِلْتُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللہِ (الآیۃ) موت تو بہرحال آنی ہی ہے لیکن اگر موت ایسی آئے کہ جس کے بعد انسان اللہ کی رحمت و مغفرت کا مستحق قرار پائے تو دنیا کے مال و اسباب سے بہتر ہے جسکے جمع کرنے میں انسان عمر کھپا دیتا ہے اسلیے اللہ کی راہ میں جہاد سے گریز نہیں بلکہ اس میں شوق ورغبت ہونا چاہیے کہ اس طرح اللہ کی رحمت و مغفرت یقینی ہوجاتی ہے بشرطیکہ اخلاص کے ساتھ ہو۔
Ayahs 3:158–159فَبِمَا رَحْمَۃ مِّنَ اللہِ لِنْتَ لَھُمْ (الآیۃ) نبی ﷺ خلق عظیم کے پیکر تھے، اللہ تعالیٰ اپنے نبی پر ایک احسان عظیم فرما رہے ہیں کہ آپ کے اندر جو نرمی اور ملائمت ہے یہ اللہ تعالیٰ کی خاص مہربانی کا نتیجہ ہے اور نہ نرمی، دعوت و تبلیغ کے لیے نہایت ضروری ہے اگر آپ کے اندر یہ وصف نہ ہوتا بلکہ اس کے برعکس آپ ﷺ تندخو، سخت دل، تلخ سخن ہوتے تو لوگ آپ کے قریب ہونے کے بجائے آپ ﷺ سے دور بھاگتے۔ اس لیے آپ عفو و درگذر سے کام لیتے رہیے۔
شَاوِرْھُمْ فِی الاآمْرِ ، یعنی مسلمانوں کی دل جوئی اور تطییب خاطر کے لیے ان سے مشورہ کرلیا کیجئے اس آیت سے مشورہ کی اہمیت و افادیت اور اس کی ضرورت و مشروعیت ثابت ہوتی ہے مشاورت کا یہ حکم و جوب کے لیے ہے اور بعض کے بزدیک استحباب کیلئے۔ (ابن کثیر) ۔ حکمرانوں کے لیے ضروری ہے کہ علماء سے ایسے معاملات میں مشورہ کریں جن کا انہیں علم نہیں ہے یا ان کے بارے میں انہیں اشکال ہے۔ فوج کے سربراہ ہونے سے فوجی معاملات میں اور سربر آوردہ لوگوں سے عوام کے مصالح کے بارے میں اور ماتحت حکام اور والیوں سے ان کے علاقوں کی ضروریات و ترجیحات کے بارے میں مشورہ کریں۔ ابن عطیہ کہتے ہیں کہ ایسے حکمرانوں کے عزل پر اختلاف نہیں ہے جو اہل علم اور اہل دین سے مشورہ نہیں کرتے، یہ مشورہ صرف ان معاملات تک محدود ہوگا جن کی بابت شریعت خاموش ہے یا جن کا تعلق انتظامی امور سے ہے۔
فَاِذَا عَزَمْتَ فَتَوَکَّلْ عَلَی اللہِ ۔ یعنی مشورہ کے بعد جس پر آپ ﷺ کی رائے پختہ ہوجائے، پھر اللہ پر بھروسہ کرکے اسے کر گزرئیے۔ اس سے ایک بات تو یہ معلوم ہوئی کہ مشورہ کے بعد آخری فیصلہ حکمراں ہی کا ہوگا نہ کہ ارباب مشاورت یا ان کی اکثریت کا جیسا کہ جمہوریت میں ہے دوسری یہ کہ پورا اعتماد توکل اللہ کی ذات پر ہو نہ کہ مشورہ دینے والوں کی عقل و فہم پر۔ اگلی آیت میں بھی توکل علی اللہ کی مزید تاکید ہے۔
Ayahs 3:160–161وَمَا کَانَ لِنَبِیٍّ أَنْ یَّغُلَّ (الآیۃ) جنگ احد کے دوران جو لوگ مورچہ چھوڑ کر مال غنیمت سمیٹنے دوڑ پڑے تھے ان کا کٰال تھا کہ اگر ہم نہ پہنچے تو سارا مال غنیمت دوسرے سمیٹ لے جائیں گے، اس پر تنبیہ کی جا رہی ہے کہ آخر تم نے یہ تصور کیسے کرلیا کہ اس مال میں تمہارا حصہ تم کو نہیں دیا جائے گا ؟ کیا تمہیں اپنے قائد محمد ﷺ پر اطمینان نہیں ؟ یاد رکھو ایک پیغمبر سے کسی قسم کی خیانت کا صدور ممکن نہیں ہے کیوں کہ خیانت نبوت کے منافی ہے، اگر نبی ہی خائن ہو تو اس کی نبوت پر کیوں کر یقین کیا جاسکتا ہے ؟ خیانت بہت بڑا گناہ ہے۔ احادیث میں اس کی سخت مذمت آئی ہے۔ جن تیر اندازوں کو نبی ﷺ نے عقب کی حفاظت کے لئے مامور کیا تھا انہوں نے اس خیال سے کہ دشمن کا لشکر لوٹا جا رہا ہے کہیں ہم محروم نہ رہ جائیں ؟ انہوں نے اپنی جگہ چھوڑ دی تھی، جنگ ختم ہونے کے بعد جب نبی ﷺ مدینہ واپس تشریف لائے تو آپ ﷺ نے ان لوگوں کو بلا کر نافرمانی کی وجہ دریافت فرمائی انہوں نے کچھ اعذار پیش کیے جو کمزور ہونے کی وجہ سے قابل قبول نہیں تھے اس پر آپ نے فرمایا ” بَلْ ظَنَنْتُمْ اِنَّا نَغُلّ وَلَانقسم لکم “ اصل بات یہ ہے کہ تم کو ہمارے اوپر اطمینان نہیں تھا، تم نے یہ گمان کیا کہ ہم تمہارے ساتھ خیانت کریں گے اور تم کو تمہارا حصہ نہیں دیں گے، اس آیت میں اشارہ اسی معاملہ کی طرف ہے۔ ابو داؤد، ترمذی اور ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ یہ آیت ” وَمَا کَانَ لِنَبِیٍّ اَنْ یَغُلَّ “ ایک سرخ چادر کے بارے میں جو کہ یوم بدر میں گم ہوگئی تھی نازل ہوئی۔ بعض لوگوں نے یہ بات کہی تھی کہ شاید رسول اللہ ﷺ نے لے لی ہوگی۔
Ayahs 3:162–164لَقَدْ مَنَّ اللہُ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ (الآیۃ) اس آیت میں نبی کے بشر اور انسان ہونے ہی کو اللہ ایک احسان کے طور پر بیان فرما رہے ہیں اور فی الواقع یہ احسان عظیم ہے کہ اس طرح ایک تو وہ اپنی قوم کی زبان میں ہی اللہ کا پیغام پہنچائے گا جسے سمجھنا ہر شخص کے لیے آسان ہوگا۔ دوسرے لوگ ہم جنس ہونے کی وجہ سے اس سے مانوس اور اس کے قریب ہوں گے، تیسرے، انسان کے لیے انسان کی پیروی تو ممکن ہے لیکن فرشتوں کی پیروی اس کے بس کی بات نہیں اور نہ فرشتہ انسان کے وجدان و شعور کی گہرائیوں اور باریکیوں کا ادراک کرسکتا ہے، اس لئے اگر پیغمبر فرشتوں میں سے ہوتے تو وہ ان ساری خوبیوں سے محروم ہوتے جو تبلیغ و دعوت کے لیے نہایت ضروری ہیں، اس لیے جتنے بھی انبیاء آئے ہیں سب کے سب بشر ہی تھے، قرآن نے ان کی بشریت کو خوب کھول کھول کر بیان کیا ہے
Ayah 3:165اَوَلَمَّآ اَصَابَتْکُمْ مُّصِیْبَۃٌ (الآیۃ) اکابر صحابہ ؓ تو حقیقت شناس تھے ہی کسی غلط فہمی میں مبتلا نہ ہوسکتے تھے مگر عام مسلمان یہ سمجھ رہے تھے کہ جب اللہ کا رسول ہمارے اندر موجود ہے، اور اللہ کی تائید و نصرت ہمارے ساتھ ہے تو کسی حال میں کفار ہمارے اوپر فتح نہیں پاسکتے، اس لیے احد میں جب شکست ہوئی تو ان کی توقعات کو سخت صدمہ پہنچا تو انہوں نے حیران ہو کر پوچھنا شروع کردیا کہ یہ کیا ہوا ؟ ہم اللہ کے دین کی خاطر لڑنے گئے تھے اور شکست بھی ان سے جو اللہ کے دین کو مٹانے آئے تھے، یہ آیات اسی حیرانی کو دور کرنے کے لیے نازل کی گئی ہیں۔ جنگ احد میں مسلمانوں کے ستر آدمی شہید ہوئے اس کے برخلاف جنگ بدر میں کفار کے ستر آدمی مسلمانوں کے ہاتھوں مارے گئے تھے اور ستر گرفتار کیے گئے تھے۔
قُلْ ھُوَ مِنْ عِنْدِ اَنْفُسِکُمْ ، یعنی یہ سب کچھ تمہاری اس غلطی کی وجہ سے ہوا جو کہ تم نے رسول اللہ ﷺ کے تاکید حکم کے باوجود پہاڑی کا مورچہ چھوڑ کر کی تھی۔
Ayahs 3:166–167وَلِیَعْلَمَ الَّذِیْنَ نَافَقُوْا (الآیۃ) اور اس شکست کا دوسرا مقصد یہ بھی تھا کہ وہ مومنین اور منافقین کو ایک دوسرے سے ممتاز کر دے۔ عبد اللہ بن ابی جب تین سو منافقوں کو اپنے ساتھ لے کر راستہ سے واپس ہونے لگا تو بعض مسلمانوں نے جاکر اسے سمجھانے کی کوشش کی اور ساتھ چلنے کے لیے راضی کرنا چاہا، مگر اس نے جواب دیا کہ ہمیں یقین ہے کہ یہ کوئی جنگ نہیں ہے بلکہ ہلاکت اور خودکشی ہے اگر کوئی ڈھنگ کی لڑائی ہوتی تو ہم ضرور ساتھ چلتے ایسے غلط کام میں ہم آپ کا کیوں ساتھ دیں ؟ عبد اللہ بن ابی اور اس کے ساتھیوں نے یہ بات اس لیے کہی تھی کہ مدینہ کے اندر رہ کر لڑنے کی ان کی بات نہیں مانی گئی تھی عبد اللہ بن ابی منافق اور اس کے ساتھیوں نے یہ بات اس وقت کہی جب مقام شوط پر پہنچ کر واپس ہو رہے تھے۔ اور عبد اللہ بن حرام انصاری انہیں سمجھا کر واپس لانے کی کوشش کر رہے تھے۔
Ayahs 3:168–169وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ قُتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللہ (الآیۃ) اس آیت میں شہداء کے خاص فضائل کا بیان ہے اور احادیث صحیحہ میں اس کی بڑی تفصیل وارد ہوئی ہے، یہاں شہداء کی پہلئ فضیلت تو یہ بیان کی گئی ہے کہ وہ مردے نہیں بلکہ دائمی زندگی کے مالک ہوگئے ہیں، یہاں پر بظاہر ان کا مرنا اور قبر میں دفن ہونا تو مشاہد ہے پھر قرآن کی متعدد آیات میں ان کو مردہ کہنے اور مردہ سمجھنے سے جو منع کیا گیا ہے اس کا کیا مطلب ہے ؟ اگر کہا جائے کہ حیات برزخٰ مراد ہے، تو وہ ہر شخص مومن و کافر کو حاصل ہے مرنے کے بعد اس کی روح زندہ رہتی ہے اور قبر میں سوال و جواب کے بعد مومنین صالحین کے لیے سامان راحت اور کفار و فجار کے لیے قبر کا عذاب قرآن و سنت سے ثابت ہے تو یہ حیات برزخی جب سب کے لیے عام ہے تو شہداء کی کیا خصوصیت ہوئی ؟
جواب : یہ ہے کہ قرآن کریم کی اس آیت نے یہ بتلایا ہے کہ شہداء کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے جنت کا رزق ملتا ہے اور ایک خاص قسم کی زندگی مل جاتی ہے جو ہر عام مردوں سے ممتاز ہوتی ہے۔ اب رہی یہ بات کہ وہ امتیاز کیا اور وہ زندگی کیسی ہے ؟ اس کی حقیقت سوائے خالق کائنات کے نہ کوئی جان سکتا ہے اور نہ جاننے کی ضرورت ہے البتہ بعض اوقات ان کی حیات خاص کا اثر اس دنیا میں بھی ان کے ابدان پر ظاہر ہوتا ہے کہ زمین ان کو نہیں کھاتی، جس کے بہت سے واقعات مشاہدہ کیے گئے ہیں۔
شان نزول : اس آیت کا شان نزول جس کو ابوداؤد نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا وہ یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کرام ؓ وعنہم سے فرمایا کہ جب واقعہ احد میں تمہارے بھائی شہید ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے ان کی ارواح و سبز پرندوں کے جسم میں رکھ کر آزاد کردیا وہ جنت کی نہروں اور باغات کے پھلوں سے اپنا رزق حاصل کرتے ہیں۔ پھر ان قندیلوں میں آجاتے ہیں جو ان کے لیے عرش کے نیچے لٹکی ہوئی ہیں۔ جب ان لوگوں نے اپنی آرام و راحت کی یہ زندگی دیکھی تو کہنے لگے کہ کیا کوئی ہمارے حالات کی خبر ہمارے عزیزوں کو پہنچا سکتا ہے جو ہمارے شہید ہونے کی وجہ سے دنیا میں غمزدہ ہیں تاکہ وہ غم نہ کریں اور وہ بھی جہاد میں کوشش کرتے رہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہم تمہاری یہ خبر ان کو پہنچائے دیتے ہیں اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ (معارف، قرطبی)