4. Surah An-Nisaa

النساءThe Women · 176 ayahsتفسیرِ جلالین

Ayah 4:59

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَ اُولِی الْاَمْرِ مِنْكُمْ١ۚ فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِیْ شَیْءٍ فَرُدُّوْهُ اِلَى اللّٰهِ وَ الرَّسُوْلِ اِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ١ؕ ذٰلِكَ خَیْرٌ وَّ اَحْسَنُ تَاْوِیْلًا۠ Open ayah 4:59 in the Quran reader

مومنو ! خدا اور اس کے رسول کی کی فرمانبرداری کرو اور جو تم میں سے صاحب حکومت ہے ان کی بھی اور اگر کسی بات میں تم میں اختلاف واقع ہو تو اگر خدا اور روز آخرت پر ایمان رکھتے ہو تو اس میں خدا اور اسکے رسول کے حکم کی طرف رجوع کرو اور یہ بہت اچھی بات ہے اور اس کا مآل بھی اچھا ہے

یٰاَ یھا الذین اٰمنوا اطیعو اللہ واطیعو الرسول واولی الامر منکم پہلی آیت میں حکام کو عدل و انصاف کا حکم فرما کر اب دوسروں کو متابعت کا حکم دیا جارہا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکام کی اطاعت اسی وقت واجب ہوگی کہ جب وہ حق کی اطاعت کریں گے حکام کی یہ اطاعت اسی وقت تک ضروری ہے جب تک وہ خدا اور رسول کے خلاف حکم نہ دیں، اگر حاکم خدا اور رسول کے حکم کے صریح خلاف کرے تو اس کا حکم ہرگز نہ مانے۔ مذکورہ آیت کا شان نزول : ایک مرتبہ حضور اقدس ﷺ نے خالد بن ولید کی سر کردگی میں جنگی ضرورت سے ایک دستہ روانہ فرمایا، اس میں حضرت عماربن یاسر بھی شریک تھے، رات کے کسی حصہ میں یہ دستہ منزل مقصود پر پہنچ گیا، دشمنوں کو جب علم ہوا تو پورا قبیلہ سوائے ایک شخص کے فرار ہوگیا یہ شخص خفیہ طور پر رات کے وقت کسی طرح اسلامی لشکر میں پہنچا، اتفاق سے اس کی ملاقات حضرت عمار سے ہوگئی، اس شخص نے عرض کیا میں اسلام لاچکا ہوں اور سچے دل سے توحید و رسالت کا اقرار کرچکا ہوں، حضرت عمار نے فرمایا تمہارا اسلام ضرور تمہاری حفاظت کرے گا، جاؤ اطمینان سے جہاں ہو وہیں رہو، صبح ہوتے ہی حضرت خالد نے حملہ کردیا، حضرت عمار نے موقع پر پہنچ کر اس شخص کو یہ کہ کر امان دلانی چاہی کہ یہ مسلمان ہے اور میں اسے امان دے چکا ہوں خالد ؓ اس امان کو جنگی مصلحت کے خلاف سمجھ رہے تھے، اس پر دونوں حضرات میں تیز گفتگو ہوگئی واپسی پر یہ معاملہ حضور اقدس ﷺ کی خدمت میں پیش ہوا، آپ نے حضرت عمار کی کاروائی کو برقرار رکھتے ہوئے آئندہ کے لئے حضرت عمار کو منع فرمایا کہ سالار لشکر کی اطلاع کے بغیر ایسا نہ کریں اس کے بعد پھر دونوں حضرات میں تیز گفتگو ہوئی، تب آپ نے فرمایا خالد جو عمار کے ساتھ گستاخی سے پیش آئیگا اللہ تعالیٰ اس کو مزا چکھا دیں گے، جو عمار سے نفرت کرے گا اس سے اللہ نفرت فرمائیگا، جو عمار پر لعنت کرے گا اللہ خود اس کو ملعون کردیں گے، یہ سننا تھا کہ حضرت خالد بڑے عاجزانہ انداز میں معافی مانگنے لگے اس طرح دونوں بزرگوں کے دل صاف ہوگئے، معاً مذکورہ آیت نازل ہوئی اور قرآن کریم نے مسلمانوں کے لئے لازم کردیا کہ اپنے ذمہ داروں کی اطاعت اور فرمانبرداری کریں۔ (ھدایة القرآن ملخصّا)
Ayahs 4:60–70

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ یَزْعُمُوْنَ اَنَّهُمْ اٰمَنُوْا بِمَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ وَ مَاۤ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ یُرِیْدُوْنَ اَنْ یَّتَحَاكَمُوْۤا اِلَى الطَّاغُوْتِ وَ قَدْ اُمِرُوْۤا اَنْ یَّكْفُرُوْا بِهٖ١ؕ وَ یُرِیْدُ الشَّیْطٰنُ اَنْ یُّضِلَّهُمْ ضَلٰلًۢا بَعِیْدًا Open ayah 4:60 in the Quran reader

کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو دعوی تو یہ کرتے ہیں کہ جو (کتاب) تم پر نازل ہوئی اور جو (کتابیں) تم سے پہلے نازل ہوئیں ان سب ہر ایمان رکھتے ہیں اور چاہتے یہ ہیں کہ اپنا مقدمہ ایک سرکش کے پاس لیجا کر فیصلہ کرائیں حالانکہ ان کو حکم دیا گیا تھا کہ اس سے اعتقاد نہ رکھیں اور شیطان (تو یہ) چاہتا ہے کہ ان کو بہکا کر راستے سے دور ڈال دے

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ تَعَالَوْا اِلٰى مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ وَ اِلَى الرَّسُوْلِ رَاَیْتَ الْمُنٰفِقِیْنَ یَصُدُّوْنَ عَنْكَ صُدُوْدًاۚ Open ayah 4:61 in the Quran reader

اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ جو حکم خدا نے نازل فرمایا ہے اس کی طرف (رجوع کرو) اور پیغمبر کی طرف آؤ تو تم منافقوں کو دیکھتے ہو کہ تم سے اعراض کرتے اور رکے جاتے ہیں

فَكَیْفَ اِذَاۤ اَصَابَتْهُمْ مُّصِیْبَةٌۢ بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْهِمْ ثُمَّ جَآءُوْكَ یَحْلِفُوْنَ١ۖۗ بِاللّٰهِ اِنْ اَرَدْنَاۤ اِلَّاۤ اِحْسَانًا وَّ تَوْفِیْقًا Open ayah 4:62 in the Quran reader

تو کیسی (ندامت کی) بات ہے کہ جب ان کے اعمال (کی شامت) سے ان پر کوئی مصیبت واقع ہوتی ہے تو تمہارے پاس بھاگے آتے ہیں اور قسمیں کھاتے ہیں کہ واللہ ہمارا مقصود تو بھلائی اور موافقت تھا

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ یَعْلَمُ اللّٰهُ مَا فِیْ قُلُوْبِهِمْ١ۗ فَاَعْرِضْ عَنْهُمْ وَ عِظْهُمْ وَ قُلْ لَّهُمْ فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ قَوْلًۢا بَلِیْغًا Open ayah 4:63 in the Quran reader

ان لوگوں کے دلوں میں جو جو کچھ ہے خدا اس کو خوب جانتا ہے تم ان (کی باتوں) کا کچھ خیال نہ کرو اور انہیں نصیحت کرو۔ اور ان سے ایسی باتیں کہو جو ان کے دلوں پر اثر کر جائیں

وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا لِیُطَاعَ بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ وَ لَوْ اَنَّهُمْ اِذْ ظَّلَمُوْۤا اَنْفُسَهُمْ جَآءُوْكَ فَاسْتَغْفَرُوا اللّٰهَ وَ اسْتَغْفَرَ لَهُمُ الرَّسُوْلُ لَوَجَدُوا اللّٰهَ تَوَّابًا رَّحِیْمًا Open ayah 4:64 in the Quran reader

اور ہم نے جو پیغمبر بھیجا ہے اس لئے بھیجا ہے کہ خدا کے فرمان کے مطابق اس کا حکم مانا جائے اور یہ لوگ جب اپنے حق میں ظلم کر بیٹھتے تھے اگر تمہارے پاس آتے اور خدا سے بخشش مانگتے اور رسول (خدا) بھی ان کے لیے بخشش طلب کرتے تو خدا کو معاف کرنے والا (اور) مہربان پاتے

فَلَا وَ رَبِّكَ لَا یُؤْمِنُوْنَ حَتّٰى یُحَكِّمُوْكَ فِیْمَا شَجَرَ بَیْنَهُمْ ثُمَّ لَا یَجِدُوْا فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَیْتَ وَ یُسَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا Open ayah 4:65 in the Quran reader

تمہارے پروردگار کی قسم یہ لوگ جب تک اپنے تنازعات میں تمہیں منصف نہ بنائیں اور جو فیصلہ تم کردو اس سے اپنے دل میں تنگ نہ ہوں بلکہ اس کو خوشی سے مان لیں تب تک مومن نہیں ہوں گے

وَ لَوْ اَنَّا كَتَبْنَا عَلَیْهِمْ اَنِ اقْتُلُوْۤا اَنْفُسَكُمْ اَوِ اخْرُجُوْا مِنْ دِیَارِكُمْ مَّا فَعَلُوْهُ اِلَّا قَلِیْلٌ مِّنْهُمْ١ؕ وَ لَوْ اَنَّهُمْ فَعَلُوْا مَا یُوْعَظُوْنَ بِهٖ لَكَانَ خَیْرًا لَّهُمْ وَ اَشَدَّ تَثْبِیْتًاۙ Open ayah 4:66 in the Quran reader

اور اگر ہم انہیں حکم دیتے کہ اپنے آپ کو قتل کر ڈالوا یا اپنے گھر چھوڑ کر نکل جاؤ تو ان میں سے تھوڑے ہی ایسا کرتے اور اگر یہ اس نصیحت پر کار بند ہوتے جو ان کو کیجاتی ہے تو ان کے حق میں بہتر اور (دین میں) زیادہ ثابت قدمی کا موجب ہوتا

وَّ اِذًا لَّاٰتَیْنٰهُمْ مِّنْ لَّدُنَّاۤ اَجْرًا عَظِیْمًاۙ Open ayah 4:67 in the Quran reader

اور ہم ان کو اپنے ہاں سے اجر عظیم بھی عطا فرماتے

وَّ لَهَدَیْنٰهُمْ صِرَاطًا مُّسْتَقِیْمًا Open ayah 4:68 in the Quran reader

اور سیدھا راستہ بھی دکھاتے

وَ مَنْ یُّطِعِ اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ فَاُولٰٓئِكَ مَعَ الَّذِیْنَ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ مِّنَ النَّبِیّٖنَ وَ الصِّدِّیْقِیْنَ وَ الشُّهَدَآءِ وَ الصّٰلِحِیْنَ١ۚ وَ حَسُنَ اُولٰٓئِكَ رَفِیْقًاؕ Open ayah 4:69 in the Quran reader

اور جو لوگ خدا اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے ہیں وہ قیامت کے دن ان لوگوں کے ساتھ ہوں گے جن پر خدا نے بڑا فضل کیا یعنی انیباء اور صدیق اور شہد اور نیک لوگ اور ان لوگوں کی رفاقت بہت ہی خوب ہے

ذٰلِكَ الْفَضْلُ مِنَ اللّٰهِ١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ عَلِیْمًا۠ Open ayah 4:70 in the Quran reader

یہ خدا کا فضل ہے اور خدا جاننے والا کافی ہے

آیت نمبر 60 تا 70 ترجمہ : (آئندہ آیت) اس وقت نازل ہوئی جب ایک یہودی اور منافق کے درمیان ایک مقتول کے معاملہ میں نزاع پیدا ہوگیا، منافق نے کعب بن اشرف کے پاس جانے کے لئے کہا تاکہ وہ ان کے درمیان فیصلہ کرے، اور یہودی نے رسول اللہ ﷺ کے پاس جانے کے لئے کہا، چناچہ جب یہ لوگ آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ ﷺ نے فیصلہ یہودی کے حق میں فرمایا، مگر منافق اس پر راضی نہ ہوا، اور دونوں حضرت عمر ؓ کے پاس آئے، اور یہودی نے آپ ﷺ کے فیصلہ کا تذکرہ حضرت عمر ؓ کے روبرو کردیا، (حضرت عمر نے) منافق سے کہا کیا بات ایسی ہی ہے ؟ منافق نے اقرار کیا چناچہ حضرت عمر نے منافق کو قتل کردیا، کیا آپ نے ان معاملہ میں غور کیا کہ جن کا دعویٰ ہے کہ وہ اس پر ایمان لائے جو آپ پر نازل کیا گیا ہے اور جو آپ سے پہلے نازل کیا گیا ہے اپنے فیصلے غیر اللہ کے پاس لیجانا چاہتے ہیں (طاغوت) کثیر الطغیان کو کہتے ہیں، اور وہ کعب بن اشرف ہے، حالانکہ ان کو حکم دیا گیا ہے کہ طاغوت کے سامنے گردن نہ جھکائیں، اور اس کا اقتدار تسلیم نہ کریں، شیطان تو چاہتا یہ ہے کہ ان کو حق سے بھٹکا کر دوردراز لے جائے، اور ان سے کہا جاتا ہے کہ اس حکم کی طرف آؤ کہ جس کو قرآن میں اللہ نے نازل کیا ہے اور رسول کی طرف آؤ تاکہ ان کے درمیان فیصلہ کرے تو آپ ان منافقین کو دیکھیں گے کہ آپ سے بڑی بےرخی کر کے دوسروں کی طرف رخ کرنے والے ہیں تو اس وقت کیا کریں گے جب ان کے کرتوتوں کی بدولت کہ وہ کفر و معاصی ہیں ان پر مصیبت (عقوبت) آئیگی یعنی کیا یہ لوگ اس سے اعراض اور فرار پر قادر ہوں گے ؟ نہیں، پھر یہ (منافق) اللہ کی قسم کھاتے ہوئے آپ کے پاس آتے ہیں اس کا عطف یَصُدُّوْنَ پر ہے، کہ غیر کے پاس مقدمہ لیجانے سے ہمارا مقصد حکم میں اعتدال پیدا کرکے فریقین کے درمیان صلح اور میل ملاپ کرانا تھا نہ کہ تلخ حق پر آمادہ کرنا یہ وہ لوگ ہیں کہ جن کے دلوں کا راز اللہ تعالیٰ پر بخوبی روشن ہے اور وہ نفاق اور ان کا عذر میں کذب بیانی کرنا ہے، لہٰذا آپ ان سے چشم پوشی کیجئے (یعنی) ان کو خدا کے خوف سے ڈرایئے، اور ان کے معاملہ میں ان سے مؤثربات کہتے رہئے یعنی زیادہ رکنے والی تاکہ اس وہ اپنے کفر سے باز آجائیں، اور ہم نے رسول بھی بھیجا ہے وہ اسلئے بھیجا ہے کہ جس چیز کا وہ حکم کرے اس میں اللہ کے حکم سے اس کی اطاعت کی جائے اور اس کی نافرمانی اور مخالفت نہ کی جائے اور کاش کہ جس وقت یہ لوگ طاغوت کے پاس مقدمہ لیجا کر اپنے اوپر زیادتی کر بیٹھے تھے توبہ کرتے ہوئے آپ کے پاس آجاتے اور معافی طلب کرتے اور رسول بھی ان کیلئے استغفار کرتے اس میں سے (غیبت) کی جانب (التفات ہے) آپ کی عظمت شان کے اظہار کے لئے تو یہ ضرور اللہ کو ان کی توبہ کا قبول کرنے والا اور مہربان پاتے سو قسم ہے تیرے ہر وردگار کی ' لا ' زائدہ ہے، یہ اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتے جب تک کہ اپنے درمیان اختلافی معاملہ میں آپ کو حَکُم تسلیم نہ کریں، پھر جو فیصلہ آپ کردیں اس میں اپنے دل میں کوئی تنگی نہ پائیں، اور آپ کے حکم کو بغیر کسی معارضہ کے پورا پورا تسلیم کرلیں، اور اگر ہم ان پر یہ فرض کردیتے کہ اپنی جانوں کا قتل کو ڈالو یا اپنے گھروں سے نکل جاؤ جیسا کہ ہم نے بنی اسرائیل پر فرض کیا تھا (ان) مفسرہ ہے، تو اس فرض کو بہت کم لوگ ادا کرتے، قلیل، رفع کے ساتھ ہے بدلیت کی وجہ سے اور نصب کے ساتھ ہے استثناء کی وجہ سے، اور اگر یہ لوگ وہ کام کر ڈالتے جس کا ان کو حکم دیا گیا ہے اور وہ طاعت رسول ہے تو یہ ان کے حق میں بہت بہتر ہوتا اور ان کے ایمان کو بہت زیادہ مضبوط رکھنے والا بھی اور اس وقت ہم انھیں اپنے پاس سے ضرور اجر عظیم دیتے اور وہ جنت ہے، اور ہم انھیں سیدھی شاہراہ دکھاتے بعض صحابہ نے آپ ﷺ سے عرض کیا کہ یارسول اللہ ہم جنت میں آپ کا کیسے دیدار کریں گے ؟ اسلئے کہ آپ اعلی درجوں میں ہوں گے اور ہم آپ سے نیچے درجوں میں، تو یہ آیت نازل ہوئی، اور جو بھی اللہ کی اور اسکے رسول کی مامور بہ میں فرمانبرداری کرے وہ لوگوں کے ساتھ ہوگا جن پر اللہ تعالیٰ نے انعام فرمایا ہے، جیسے نبی اور صدیق اصحاب انبیاء میں وہ لوگ ہیں جو افضل ترین ہیں، اور شہداء یعنی راہ خدا میں مقتول، اور مذکورین کے علاوہ دیگر صالحین، یہ بہترین رفیق ہیں جنت میں رفقاء ہیں، اس طور پر کہ ان کے دیدار سے اور ان کی زیارت سے اور ان کے ساتھ حاضری سے مستفید ہوں گے، اگرچہ ان کے ٹھکانے دوسروں کی نسبت اونچے درجوں میں ہوں گے یہ فضل یعنی انکا مذکورین کے ساتھ ہونا اللہ کی جانب سے ہے، (ذلک) مبتداء ہے اور (الفضل) اس کی خبر ہے، جس کا اللہ نے ان پر فضل کیا ہے، نہ یہ کہ انہوں نے اپنی طاعت کے ذریعہ حاصل کیا ہے، اور اللہ تعالیٰ ہی کا علم کافی ہے آخرت کے ثواب کو جاننے کے اعتبار سے لہذا جس کی وہ تم کو خبر دے اس پر اعتماد کرو تم کو اس کے جیسی کوئی خبر دینے والا خبر نہیں دے سکتا۔ تحقیق و ترکیب وتسہیل وتفسیری فوائد قولہ : یَصُدُّونَ صَدّ (ن) سے مضارع جمع مذکر غائب، وہ اعراض کرتے ہیں اور روکتے ہیں، یَصُدُّونَ کی تفسیر یُعْرضُوْنَ سے بیان معنی کے لئے ہے، اگر رَأیْتَ سے بصری مراد ہو تو یصدون جملہ حالیہ ہوگا، اور اگر رویت قلبیہ مراد ہو تو یَصُدُّونَ مفعول ثانی ہوگا، اور منافقین مفعول اول، اور صدوداً مفعول مطلق۔ قولہ : معطوف علیٰ یصدون، یعنی ابتداء میں آپ سے اعراض کرتے ہیں اور بعد اعراض کے معافی مانگتے ہیں اور جھوٹی قسمیں کھا کر کہتے ہیں کہ ہمارا مقصد طرفین کی اصلاح تھا نہ کہ آپ کی مخالفت۔ قولہ : جَائُ وْکَ ، کا عطف یصدون پر ہے اور درمیان میں جملہ معترضہ ہے، یحلفون جملہ حالیہ ہے۔ قولہ : بِالتَّقْرِیْبِ فی الحُکْمِ یعنی خصمین کو ان کی مراد کے قریب کرکے صلح کرانا ہے نہ کہ حق کے مطابق فیصلہ کرکے الحق مرُّکے قبول کرنے پر مجبور کرنا۔ قولہ : اِلْتِفَات عَنِ الْخِطَابِ یہ جَاءوک میں آپ ﷺ کو خطاب ہے اور استغفرَ لَھُمْ الرسولُ میں رسول اسم ظاہر ہونے کی وجہ سے غائب ہے۔ قولہ : تَفْخِیْماً لِشَانِہ، یعنی خطاب سے اعراض کرکے آپ کے وصف خاص (رسالت) کی طرف التفات فرمایا۔ قولہ : بِہ، مِمّا قضیتَ ، میں ماموصولہ ہے اسلئے کہ صلہ جب جملہ ہوتا ہے عائد کی ضرورت ہوتی ہے۔ قولہ : اَفاضِلِ ، اَصْحَابِ الْاَ نْبِیَائِ ، یہ صدّیق کی چند تعریفوں میں سے ایک کی طرف اشارہ ہے۔ قولہ : غَیْرِمَنْ ذُکِرَ ، اس میں تکرار سے اجتناب کی طرف اشارہ ہے۔ قولہ : لَا انَّھُمْ نَالُوْہ ' بِطَاعَتِھِمْ ، اس میں معتزلہ پر رد ہے۔ تفسیر ویشریح ربط آیات : پہلی آیات میں تمام معاملات میں اللہ اور اس کے طرف رجوع کرنیکا حکم تھا ان آیات میں شرع قوانین کی طرف رجوع کرنے کی مذمت بیان کی گئی ہے۔ شان نزول : مذکورہ آیات کے شان نزول کے سلسلہ میں متعدد واقعات مذکور ہوئے ہیں۔ (1) حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ بشر نامی ایک منافق اور ایک یہودی کا کسی معاملہ میں نزاع ہوگیا، فیصلے کے لئے یہودی نے آنحضرت ﷺ کا اسم گرامی پیش کیا کیونکہ وہ اس بات سے بخوبی واقف تھا کہ آپ ﷺ بغیر کسی رو رعایت اور رشوت و سفارش کے حق فیصلہ فرمائیں گے، اور بشر نامی منافق نے فیصلہ کے لئے یہودیوں کے مشہور عالم اور سردار کعب بن اشرف کا نام پیش کیا اسلئے کہ وہ جانتا تھا کہ کعب بن اشرف سے رشوت و سفارش کے ذریعہ اپنے حق میں فیصلہ کرالے گا، آخر کار یہودی کعب بن اشرف کے پاس مقدمہ لیجانے کیلئے تیارنہ ہوا مجبوراً منافق بھی آپ ﷺ کی خدمت میں مقدمہ لیجانے کے لئے رضامند ہوگیا، آپ نے پورا واقعہ سماعت فرمانے کے بعد یہودی کے حق میں فیصلہ فرمادیا، اسلئے کہ یہودی حق پر تھا، آپ ﷺ کا فیصلہ سن کر منافق سخت دل گیر ہوا اور اس نے یہودی کو مجبور کیا کہ وہ دوبارہ فیصلہ حضرت عمر ؓ کے پاس لیجائے منافق کا خیال تھا کہ عمر ؓ چونکہ کفار کے معاملہ میں نہایت سخت ہیں لہذا عین ممکن ہے کہ وہ میرے کلمہ گو ہونے کی وجہ سے (گوبظاہر ہی سہی) میرے حق میں رعایت کریں، جب یہ دونوں حضرات حضرت عمر ؓ کی خدمت میں پہنچے تو یہودی نے آپ ﷺ سے فیصلہ کرانے اور منافق کے قبول نہ کرنے کی پوری سرگذشت سنائی، حضرت عمر ؓ نے منافق سے معاملہ کی تصدیق چاہی منافق نے اقرار کرلیا حضرت عمرنے فرمایا تم یہیں ٹھہرو میں ابھی اندر سے آتا ہوں حضرت عمر ؓ اندر سے تلوار چادر میں لپیٹ کر باہر تشریف لائے اور یہ کہتے ہوئے کہ جو بدبخت انسان، اللہ اور اس کے رسول کے فیصلے پر رضامند نہ ہو میرے یہاں اس کا فیصلہ یوں ہوا کرتا ہے، اسی پر آیت نازل ہوئی، اس واقعہ کو ابن کثیر نے سنداً ضعیف کہا ہے ابن لہیعہ اسمیں ضعیف ہے۔ (2) دوسراواقعہ : حضرت زبیربن عوام جو رشتہ میں آنحضرت ﷺ کے پھوپھی زاد بھائی بھی تھے، ان کا ایک انصاری کے ساتھ پہاڑی پانی کی ایک گول (نالی) کے بارے میں جس سے دونوں اپنے باغ سیراب کیا کرتے تھے نزاع ہوگیا معاملہ آپ ﷺ کی خدمت میں پیش ہوا آپ ﷺ نے حضرت زبیر ؓ سے فرمایا کہ جب تمہارا کھیت سیراب ہوجایا کرے تو گول چھوڑ دیا کرو تاکہ تمہارے بعد یہ شخص اپنا کھیت سیراب کرسکے، اس فیصلہ پر وہ شخص بھڑک اٹھا اور کہا یہ فیصلہ آپ نے اسلئے کیا ہے کہ زبیر ؓ آپ کے پھوپھی زاد بھائی ہیں، اس پر آپ کے روئے انور کا رنگ متغیر ہوگیا، تو آپ نے ارشاد فرمایا زبیر اپنا کھیت سیراب کرو اور اس وقت تک گول روکے رکھو جب تک کھیت میں پانی خوب نہ بھر جائے، جب یہ دونوں حضرات واپس ہوئے تو حضرت مقداد نے پوچھا کہ کس کے حق میں فیصلہ ہوا ؟ انصاری فوراً بولا پھوپھی زاد بھائی کے حق میں، جواب کا یہ انداز ظاہر کر رہا تھا کہ یہ شخص آپ کے فیصلہ سے خوش نہیں ہے، اتفاق سے وہاں ایک یہودی موجود تھا وہ بولا خدا انھیں سمجھے ایک طرف کہتے ہیں کہ محمد اللہ کے رسول ہیں دوسری طرف ان کے فیصلہ سے ناراض بھی ہوتے ہیں۔ (اخرجہ البخاری ومسلم واھل السنن وغیرھم) (3) تیسراواقعہ : ابن ابی حاتم و طبرانی نے سند کے ساتھ روایت کیا ہے جس کو سیوطی نے صحیحٌ عن ابن عباس کہا ہے، فرمایا ابو برزۃ الاسلمی ایک کاہن تھا یہود کے تنازع کا فیصلہ کیا کرتا تھا، بعض مسلمان بھی اس کے پاس فیصلے کے لئے پہنچ گئے تو اللہ تعالیٰ نے مذکورہ آیت نازل فرمائی۔ (فتح القدیر) وَلواَنّا کتبنا علیھم ان اقتلوا، (الآیة) یعنی یہ منافقین ایک طرف تو یہ کہتے ہیں کہ ہماری جان ومال سب کچھ خدا کے لئے ہے دوسری طرف یہ حالت ہے کہ اگر ہم براہ راست جان ومال کی قربانی مانگ لیتے تو شاہد دو چار کے سوا کوئی بھی نہ کرتا۔
Ayah 4:71

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا خُذُوْا حِذْرَكُمْ فَانْفِرُوْا ثُبَاتٍ اَوِ انْفِرُوْا جَمِیْعًا Open ayah 4:71 in the Quran reader

مومنو ! (جہاد کے لئے) ہتھیار لے لیا کرو پھر یا تو جماعت جماعت ہو کر نکلا کرو یا سب اکٹھے کوچ کیا کرو

آیت نمبر 71 تا 76 ترجمہ : اے ایمان والو ! اپنے دشمنوں سے محتاط رہو یعنی ان سے احتیاطی تدابیر اختیار کرو اور ان سے بیدار مغز رہو پھر دشمن سے لڑنے کے لئے جماعتوں کی شکل میں یکے بعد دیگرے نکلویا اجتماعی طور پر نکلو اور یقیناً تم میں بعض وہ بھی ہیں جو نکلنے میں پس وپیش کرتے ہیں، یعنی لڑائی سے پیچھے رہنے کی کوشش کرتے ہیں، جیسا کہ عبداللہ بن ابیّ اور اس کے ساتھی، اور اس کو مومن ظاہر کے اعتبار سے کہا گیا ہے، اور لام، فعل پر قسمیہ ہے، اور پھر اگر تم کو کوئی مصیبت (نقصان) پہنچتی ہے مثلاً قتل اور شکست تو کہتا ہے کہ مجھ پر اللہ کا بڑا فضل ہوا کہ میں ان کے ساتھ (لڑائی) میں حاضر نہ ہو اور نہ تو میں مصیبت میں پھنس جاتا، اور اگر تم کو اللہ کا فضل پہنچتا ہے جیسا کہ فتح اور مال غنیمت تو شرمندگی سے کہنے لگتا ہے کہ گویا کہ اور اس کے درمیان کوئی جان پہچان اور دوستی کا کوئی تعلق ہی نہیں ہے (کَاَنْ ) مخففہ ہے اور اس کا اسم مخدوف ہے، ای کانّہ '، (تکن) یاء اور تاء کے ساتھ ہے اور اس جملہ کا تعلق، قد انعم اللہ عَلَیَّ ، سے ہے اور یہ جملہ قول ( یعنی، لَیَقُولَنَّ ) اور مقولہ (یعنی یا لَیْتَنِیْ ) کے درمیان جملہ معترضہ ہے کاش میں بھی ان کے ساتھ ہوتا تو بڑی کامیابی حاصل کرتا یعنی مال غنیمت سے بڑا حصہ پاتا، اللہ تعالیٰ نے فرمایا، جو لوگ دینوی زندگی کو آخرت کے عوض فروخت کرچکے ہیں تو ان کو اللہ کے دین کی سر بلندی کے لئے اللہ کی راہ میں جہاد کرنا چاہیے اور جو شخص اللہ کی راہ میں جہاد کرتے ہوئے شہادت پائے یا اپنے دشمن پر غالب آجائے تو ہم اس کو اجرعظیم عطا فرمائیں گے اور عورتوں اور بچوں کو چھڑانے میں جن کافروں نے ہجرت سے روک رکھا ہے ان کو اذیت پہنچاتے ہیں، ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ میں اور میری والدہ بھی ان ہی میں تھے، جہاد نہیں کرتے جو دعاء کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار تو ہم کو اس بستی سے یعنی مکہ سے کہ جس کے باشندوں نے کفر کرکے ظلم کیا ہے اور اپنے پاس سے ہمارا کوئی والی مقرر فرما جو ہمارے معاملات کی تولیت کرے اور ہمارے لئے اپنے پاس سے مددگار متعین فرما کہ ہم کو ان سے بچائے، اور اللہ تعالیٰ نے ان کی دعاء قبول فرمائی کہ ان کے لئے ( مکہ) سے نکلنا آسان فرمادیا، اور کچھ لوگ فتح مکہ میں رہ گئے، اور محمد ﷺ نے ان کا متولی عَتّاب بن اَسِیْد کو بنادیا جس نے مظلوموں سے انصاف دلایا، جو لوگ ایمان لائے ہیں وہ اللہ کے راستہ میں جہاد کرتے ہیں اور جو کافر ہیں سو وہ شیطان کے راستہ میں قتال کرتے ہیں لہٰذا تم شیطان کے دوستوں سے جہاد کرو یعنی شیطان کے دین کے مدگاروں سے جہاد کرو خدادادقوت کی وجہ سے تم ہی غالب رہو گے، یقین مانو مومنین کے ساتھ شیطان کا مکر نہایت بودا (کمزور) ہے کافروں کے ساتھ اللہ کی تدبیر کا مقابلہ نہیں کرسکتا۔ تحقیق و ترکیب وتسہیل وتفسیری فوائد قولہ : حِذْر، حاء کے کسرہ اور ذال کے سکون اور دونوں کے فتحہ کے ساتھ، احتیاط، بیدارمغزی، خطرناک چیز سے احتراز یقال اَخَذَ حذرہ ' اذا تیقظ واحترزمن المخوف، اس میں استعارہ بالکنایہ ہے، حذر کو سلاخ کے ساتھ دل ہی دل میں تشبیہ دی ہے مشبہ مذکورہ اور مشبہ بہ محذوف (فارسی ترجمہ) اے مسلمانان بگیرید سلاح خود پس بیروں یعنی بقتال دشمنان گروہ درگر وہ در جہات مختلف، یاسر کنید برائے جہاد جمع شدہ با یکدگر۔ قولہ : ثُبِات جمع ثُبَةٍ ، دس سے زیادہ لوگوں کی جماعت۔ قولہ : یُبَطِئَنّ مضارع واحد مذکر غائب بانوں تاکید ثقیلہ (تفعیل) تَبْطِیْئی، دیر لگانا، سستی کرنا، پیچھے رہنا، مادہ بطوئ . قولہ : والّلام لِلْقَسَمِ اس سے مراد لَیُبَطِّئَنَّ کالام ہے۔ اور لَمَنْ ، میں لام ابتدائیہ ہے تقدیر عبارت یہ ہے، وَاِنّ منکم لَمَنْ اقسم باللہ لَیُبَطِئن . قولہ : فَاَصَابَ ، ای اَصَابنی ما اَصَابَھُمْ. سوال : لَیَقُولَنّ ، جزائِ شرط ہے، اور قاعدہ ہے کہ جزاء جب فعل مضارع واقع ہو تو اس پر فاء لازم ہوتی ہے حالانکہ یہاں فاء نہیں ہے۔ جواب : لَئِنْ اَصَابَکُمْ ، میں قسم اور شرط دونوں جمع ہیں اور قسم مقدم محذوف ہے، اور قاعدہ ہے کہ قسم اور شرط دونوں جمع ہوجائیں تو آنیوالا جملہ اول کی جزاء ہوتی ہے لہذا الیَقُوْلَنّ جواب قسم ہے نہ کہ جواب شرط۔ قولہ : نَادِماً ، ای نادماً لفواة الغنیمة لا لِطَلَبِ الثو ّاب . قولہ : وھٰذارَاجِع اِلیٰ قَوْلِہ قَدْ اَنْعَمَ اللہ ' عَلَیَّ الخ یَعْنِی کَاَنْ لَمْ یَکُنْ الخ کا تعلق با عتبار معنی کے سابق جملہ قدانعم اللہ عَلَیَّ سے ہے، تقدیر عبارت ہے، قال قد انعم اللہ عَلَیَّ الخ کان لم یکن الخ پھر اس جملہ کو بطور جملہ معترضہ کے مؤخر کردیا۔ قولہ : لَیَقُوْلَنَّ قول ہے اور یالیتنی کتب معھم الخ مقولہ ہے اور کان لم یکن بینکم وبینہ ' موَدة جملہ معترضہ ہے۔ قولہ : فَاَفُوْزَ ، جواب تمینی کی وجہ سے منصوب ہے۔ تفسیر وتشریح یٰایَّھا الذین آمنواخذوا حذر کم (الآیة) ان آیتوں کا مضمون پوری طرح سمجھنے کے لئے ان کا پس منظر سمجھنا ضروری ہے، غزوہ احد میں مسلمانوں کو ابھی حال ہی میں عارضی شکست ہوئی تھی اس سے قدرة مشرکین کی ٹوٹی ہوئی ہمتیں بڑھ گئی تھیں، آئے دن یہ خبریں آتی رہتی تھی کہ فلاں قبیلہ حملہ آور ہونے کی تیاری کر رہا ہے، فلاں قبیلہ کے تیور بگڑے ہوئے ہیں، فلاں قبیلہ دشمنی پر آمادہ ہے، مسلمانوں کے ساتھ پے درپے غداریاں کی جارہی تھیں مسلمان مبلغین کو فریب سے دعوت دی جاتی تھی اور قتل کردیا جاتا تھا، مدینہ سے باہر مسلمانوں کے جان ومال کی سلامتی باقی نہیں رہی تھی غرضیکہ مسلمان ہر طرف سے خطرات میں گھرے ہوئے تھے، ان حالات میں مسلمانوں کی طرف سے ایک زبردست سعی وجہد اور سخت جانفشانی کی ضرورت تھی، ایسے حالات میں مسلمانوں کو ثبات و استقامت کا درس دیا جارہا ہے کہ اے ایمان والو مقابلہ کے لئے ہر وقت تیار رہو، پھر جیسا موقع ہو الگ الگ دستوں کی شکل میں نکلویا اکھٹے ہو کر۔ خذعا حذر کم، کا مفہوم بہت وسیع اور جامع ہے، ہر وہ چیز جو دشمن سے دفاع کے کام آسکے اس میں شامل ہے خواہ ہتھیار ہوں یا تدبیر۔ مطلب یہ کہ دشمن کے مقابلہ میں ہر طرح کیل کانٹے سے درست و آمادہ رہو، حِذْرَ کم، ای مافیہ الحذر من السلاح وغیرہ . (راغب) فائدہ عظیمہ : یایھا الذین آمنو خذوا حذر کم الخ اس آیت کے پہلے حصہ میں جہاد کرنے کے لئے اسلحہ کی فراہمی کا حکم دیا گیا ہے اور دوسرے حصہ میں اقدام علی الجہاد کا۔
Ayah 4:72

وَ اِنَّ مِنْكُمْ لَمَنْ لَّیُبَطِّئَنَّ١ۚ فَاِنْ اَصَابَتْكُمْ مُّصِیْبَةٌ قَالَ قَدْ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَیَّ اِذْ لَمْ اَكُنْ مَّعَهُمْ شَهِیْدًا Open ayah 4:72 in the Quran reader

اور تم میں کوئی ایسا بھی ہے کہ (عمدا) دیر لگاتا ہے پھر اگر تم پر کوئی مصیبت پڑجائے تو کہتا ہے کہ خدا نے مجھ بڑی مہربانی کی کہ میں ان میں موجود نہ تھا

وَاِنَّ منکم لَمَنْ لَیُبَطّئَنَّ ، یہ منافقین کا ذکر ہے جو جہاد میں جانے سے پس وپیش کرتے تھے اور کوشش کرتے تھے کہ پیچھے رہ جائیں، زمانہ ٔ بنوت میں منافقین کا ایک مستقل کام یہ تھا کہ نہ صرف یہ کہ خود جہاد میں شریک ہونے سے پس و پیش کرتے تھے بلکہ دوسروں کو روکنے کے لئے ہمت شکنی کا کام کرتے تھے، چناچہ جنگ احد میں ان کی یہ حرکت بالکل بےنقاب ہوچکی تھی، آج بھی ایسے لوگوں کی کمی نہیں کہ جہاں مسلمان کے لئے کوئی ایسا موقع ہوتا ہے تو وہ اعلاء کلمة اللہ کے راستہ کا سنگ گراں ثابت ہوتے ہیں، چناچہ تقریباً دو برسوں سے دیکھا جا رہا ہے کہ جب بھی کوئی تحریک اعلاء کلمة اللہ کے لئے اٹھی ہے اسے سب سے پہلے ان پتھروں ہی سے سابقہ پڑتا ہے۔
Ayahs 4:73–74

وَ لَئِنْ اَصَابَكُمْ فَضْلٌ مِّنَ اللّٰهِ لَیَقُوْلَنَّ كَاَنْ لَّمْ تَكُنْۢ بَیْنَكُمْ وَ بَیْنَهٗ مَوَدَّةٌ یّٰلَیْتَنِیْ كُنْتُ مَعَهُمْ فَاَفُوْزَ فَوْزًا عَظِیْمًا Open ayah 4:73 in the Quran reader

اور اگر خدا تم پر فضل کرے تو اس طرح سے کہ گویا تم میں اس میں دوستی تھی ہی نہیں (افسوس کرتا اور) کہتا ہے کہ کاش میں بھی ان کے ساتھ ہوتا تو مقصد عظیم حاصل کرتا

فَلْیُقَاتِلْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ الَّذِیْنَ یَشْرُوْنَ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا بِالْاٰخِرَةِ١ؕ وَ مَنْ یُّقَاتِلْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ فَیُقْتَلْ اَوْ یَغْلِبْ فَسَوْفَ نُؤْتِیْهِ اَجْرًا عَظِیْمًا Open ayah 4:74 in the Quran reader

جو لوگ آخرت (کو خریدتے اور اس) کے بدلے دنیا کی زندگی کو بیچنا چاہتے ہیں ان کو چاہئے کہ خدا کی راہ میں جنگ کریں اور جو شخص خدا کی راہ میں جنگ کرے پھر شہد ہوجائے یا غلبہ پائے ہم عنقریب اس کو بڑا ثواب دیں گے

وَلَئِنَ اَصَابَکم فضل الخ اس آیت میں منافقین کے قلبی اضطراب کا ذکر ہے، یعنی اگر مسلمان کو کوئی مصیبت پیش آجائے منافق کہتے ہیں کہ مجھ پر خدا کا احسان و انعام ہے کہ میں ان کے ساتھ بروقت موجود نہ تھا ورنہ میں بھی مارا جاتا، اور میرا بھی وہی حال ہوتا جو ان کا ہوا، یہ ایک بدترین جذبہ ہے کہ ایک انسان خود کو ایک جماعت کا فرد بھی تسلیم کرے اور اس پر مصیبت پڑے تو اپنی سلامتی پر یوں خوش بھی ہو۔ اور اگر مسلمانوں کو اللہ کا فضل یعنی مال غنیمت حاصل ہو تو حسرت وپشیمانی کا اظہار کرے کہ معلوم ہو کہ مال و دولت ہی سب کچھ ہے اور اسی کی خاطر ربط وتعلق ہے اگر یہ نہیں تو کچھ بھی نہیں مصیبت سے دامن بچانا اور دولت کے ساتھ ہولینا یہ ہر دور کے منافقوں کی عادت رہی ہے یہ اتنی واضح علامت ہے کہ اس کے ہوتے ہوئے کسی اور علامت کی ضرورت ہی نہیں۔
Ayah 4:75

وَ مَا لَكُمْ لَا تُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ الْمُسْتَضْعَفِیْنَ مِنَ الرِّجَالِ وَ النِّسَآءِ وَ الْوِلْدَانِ الَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَاۤ اَخْرِجْنَا مِنْ هٰذِهِ الْقَرْیَةِ الظَّالِمِ اَهْلُهَا١ۚ وَ اجْعَلْ لَّنَا مِنْ لَّدُنْكَ وَلِیًّا١ۙۚ وَّ اجْعَلْ لَّنَا مِنْ لَّدُنْكَ نَصِیْرًاؕ Open ayah 4:75 in the Quran reader

اور تم کو کیا ہوا ہے کہ خدا کی راہ میں ان بےبس مردوں اور عورتوں اور بچوں کی خاطر نہیں لڑتے جو دعائیں کیا کرتے ہیں کہ اے پروردگار ہم کو اس شہر سے جس کے رہنے والے ظالم ہیں نکال کر کہیں اور لے جا اور اپنی طرف سے کسی کو ہمارا حامی بنا اور اپنی ہی طرف سے کسی کو ہمارا مددگار مقرر فرما

وَمَالکم لا تقاتلون فی سبیل اللہ (الآیة) ظالموں کی بستی سے مراد ( نزول کے اعتبار سے) مکہ ہے ہجرت کے بعد وہاں باقی رہ جانے والے مسلمان خاص طور پر بوڑھے مرد عورتیں اور بچے، کافروں کے ظلم وستم سے تنگ آکر اللہ کی بارگاہ میں مدد کی دعا کرتے تھے، اللہ تعالیٰ نے مسلمان کو متنبہ فرمایا کہ تم ان کمزور مسلمانوں کو کفار سے نجات دلانے کیلئے جہاد کیوں نہیں کرتے ؟ اس سے استدعا لال کرتے ہوئے علماء نے کہا ہے کہ جس علاقہ میں مسلمان اس طرح ظلم وستم کا شکار اور نرغہ کفار میں گھرے ہوں تو دوسرے مسلمانوں پر فرض عائد ہوتا ہے کہ ان کو کافروں کے ظلم وستم سے بچانے کیلئے جہاد کریں، یہ جہاد کی دوسری قسم ہے پہلی قسم اعلاء کلمة اللہ یعنی دین کی نشرواشاعت کے لئے تھی۔
Ayah 4:76

اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا یُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ۚ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا یُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ الطَّاغُوْتِ فَقَاتِلُوْۤا اَوْلِیَآءَ الشَّیْطٰنِ١ۚ اِنَّ كَیْدَ الشَّیْطٰنِ كَانَ ضَعِیْفًا۠ Open ayah 4:76 in the Quran reader

جو مومن ہیں سو وہ تو خدا کے لئے لڑتے ہیں اور جو کافر ہیں وہ بتوں کے لئے لڑتے ہیں سو تم شیطان کے مدد گاروں سے لڑو (اور ڈرو مت) کیونکہ شیطان کا داؤ بود ہوتا ہے

الذین آمنوا یقاتلون فی سبیل اللہ (الآیة) جنگ کی ضروت مومن اور کافر دونوں کو پیش آتی ہے لیکن دونوں کے مقصد جنگ میں عظیم فرق ہے، مومن اللہ کے لئے لڑتا ہے محض دنیا طلبی یا ہوس ملک گیری کے لئے نہیں جبکہ کافر کا مقصد یہی ہوتا ہے۔
Ayah 4:77

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ قِیْلَ لَهُمْ كُفُّوْۤا اَیْدِیَكُمْ وَ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ١ۚ فَلَمَّا كُتِبَ عَلَیْهِمُ الْقِتَالُ اِذَا فَرِیْقٌ مِّنْهُمْ یَخْشَوْنَ النَّاسَ كَخَشْیَةِ اللّٰهِ اَوْ اَشَدَّ خَشْیَةً١ۚ وَ قَالُوْا رَبَّنَا لِمَ كَتَبْتَ عَلَیْنَا الْقِتَالَ١ۚ لَوْ لَاۤ اَخَّرْتَنَاۤ اِلٰۤى اَجَلٍ قَرِیْبٍ١ؕ قُلْ مَتَاعُ الدُّنْیَا قَلِیْلٌ١ۚ وَ الْاٰخِرَةُ خَیْرٌ لِّمَنِ اتَّقٰى١۫ وَ لَا تُظْلَمُوْنَ فَتِیْلًا Open ayah 4:77 in the Quran reader

بھلا تم ان لوگوں کو نہیں دیکھا جن کو (پہلے یہ) حکم دیا گیا تھا کہ اپنے ہاتھوں کو (جنگ سے) روکے رہو اور نماز پڑھتے اور زکوٰۃ دیتے رہو پھر جب ان پر جہاد فرض کردیا گیا تو بعض لوگ ان میں سے لوگوں سے یوں ڈرنے لگے جیسے خدا سے ڈرا کرتے ہیں بلکہ اس سے بھی زیادہ اور بڑ بڑانے لگے کہ اے خدا تو نے ہم پر جہاد (جلد) کیوں فرض کردیا ؟ تھوڑی مدت اور ہمیں کیوں مہلت نہ دی ؟ (اے پیغمبر ﷺ ان سے) کہہ دو کہ دنیا کا فائدہ بہت تھوڑا ہے اور بہت اچھی چیز تو پرہیزگار کے لئے (نجات) آخرت ہے اور تم پر دھاگے برابر ظلم نہیں کیا جائے گا

آیت نمبر 77 تا 87 ترجمہ : کیا تم نے انھیں نہیں دیکھا جنہیں حکم دیا گیا کہ کافروں کے ساتھ قتال سے ہاتھ روکے رکھو، جبکہ انہوں نے مکہ میں کفار کی ایذا رسانی کی وجہ سے جہاد کا مطالبہ کیا، اور وہ صحابہ کی ایک جماعت تھی اور نماز پڑھتے رہو اور زکوة ادا کرتے رہو، پھر ھب ان پر جہاد فرض کیا گیا تو اسی وقت ایک جماعت ان میں سے کافروں سے ڈرنے لگی، یعنی قتل کے ذریعہ ان کے عذاب سے جیسا کہ وہ اللہ کے عذاب سے ڈرتے ہیں بلکہ اس خوف سے بھی بڑھکر اور اشَدَّ ، کا نصب حال ہونے کی وجہ سے ہے اور ' لَمَّا ' کے جواب پر اذا اور اس کا مابعد دلالت کررہا ہے، یعنی ان کو اچانک خوف لاحق ہوگیا، اور کہنے لگے اے ہمارے پروردگار تو نے ہم پر جہاد کیوں فرض کیا ؟ کیوں نہ ہم کو تھوڑی سی زندگی اور جینے دی ؟ آپ کہہ دیجئے کہ دنیا کی سود مندی (یعنی) سامان عیش جس سے تم نفع اندوز ہوتے ہو یا نفع اندوز ہونا، تو بہت کم ہے (یعنی) اس کا انجام فنا ہے اور ترک معصیت کرکے اللہ کے عذاب سے ڈرنے کیلئے آخرت یعنی جنت بہتر ہے اور تمہارے اعمال (حسنہ) میں کمی کرکے ایک دھاگے یعنی گٹھلی کے چھلکے کے برابر بھی ظلم نہ کیا جائیگا تم جہاں کہیں بھی ہوگے گو تم مضبوط اونچے قلعوں میں ہو موت تم کو آپکڑے گی لہٰذا موت کے خوف سے جہاد سے مت ڈرو، اور اگر یہودیوں کو کوئی بھلائی (مثلاً ) خشک سالی اور مصیبت پہنچتی ہے جیسا کہ آپ ﷺ کے مدینہ آمد کے وقت (خشک سالی) لاحق ہوئی تھی، تو کہتے ہیں اے محمد یہ تیری یعنی تیری نحوست کی وجہ سے ہے آپ ان سے کہہ دو یہ سب خواہ بھلائی یا برائی سب اللہ کی طرف سے ہے ان لوگوں کو کیا ہوگیا کہ کوئی بات جو ان کو بتائی جائے سمجھنے کے قریب بھی نہیں ہیں اور ' ما ' استفہام تعجبی کے لئے ہے، ان کی کثرت جہالت سے، قرب فعل کی نفی (نفس) فعل کی نفی سے شدید تر ہوتی ہے اے انسان جو بھی خیر تجھکو پہنچتی ہے سو وہ اللہ کی طرف سے ہے یعنی اس کے فضل سے ہے اور جو مصیبت تجھ کو پہنچتی ہے تو وہ تیرے نفس کی طرف سے ہے اس طریقہ پر کہ تو گناہوں کا ارتکاب کرتا ہے جو موجبات مصائب میں سے ہے، اور اے محمد ہم نے تم کو رسول بنا کر بھیجا ہے رسولا، حال مؤکدہ ہے اور تیری رسالت پر اللہ کی شہادت کافی ہے جو رسول کی اطاعت کرے اس نے اللہ کی اطاعت کی، اور جس نے آپ کی اطاعت سے اعراض کیا تو آپ رنجیدہ نہ ہوں اس لئے کہ ہم نے آپ کو ان کا نگہبان بنا کر نہیں بھیجا، یعنی ان کے اعمال کا نگران، بلکہ ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے، اور ان کا معاملہ ہماری ہی طرف لوٹنے والا ہے، لہٰذا ہم ان کو جزاء دیں گے، اور یہ حکم جہاد کے حکم سے پہلے کا ہے، منافقین جب آپ کے پاس آتے ہیں تو کہتے ہیں کہ آپ کی فرمانبرداری ہے مگر جب آپ کے پاس سے باہر نکلتے ہیں (بَیَّتْ طَّآئفة) میں تاء کو طاء میں ادغام کرکے اور بغیر ادغام کے، تو ان میں کی ایک جماعت رات کو اس کے خلاف مشورہ کرتی ہے جو آپ کے حضور طاعت کی بات کرتی ہے یعنی آپ کی نافرمانی کا مشورہ کرتی ہے اور اللہ ان کے اعمال ناموں میں لکھوالیتا ہے جو یہ راتوں کو مشورہ کرتے ہیں۔ نوٹ : بَیَّتَ ، کی تفسیر اَضْمَرْتَ سے تسامح ہے، اسلئے کہ عصیان و نافرمانی کا تعلق آپ کے پاس سے نکلنے سے متعلق نہیں تھا بلکہ مجلس میں موجودگی کی صورت میں عصیان و نافرمانی ان کے دلوں میں ہوتی تھی، لہٰذا بیّت کی تفسر رات کو مشورہ کرنا انسب ہے، سو آپ ان سے درگزر کرکے منہ پھیر لیں اور اللہ پر بھروسہ کریں، اسلئے کہ وہ آپ کے لئے کافی ہے، اللہ کارسازی کیلئے کافی ہے کیا یہ لوگ قرآن میں اور اس کے معانی میں غور نہیں کرتے جو اس میں موجود ہیں اگر یہ قرآن اللہ کے سوا کسی اور کی طرف سے ہوتا تو اس میں بہت اختلاف پاتے، یعنی اس کے معانی میں تناقض اور نظم میں تباین پاتے جہاں ان کے پاس کوئی بات آپ ﷺ کے سرایا کی پہنچی جو ان کو آئی خواہ نصرت کی ہو یا ھزیمت کی تو اس کو شہرت دینا شروع کردیتے ہیں (یہ آیت) منافقین کی ایک جماعت یا کمزور ایمان والے مومنوں کے بارے میں نازل ہوئی جو ایسا کرتے تھے، اور اگر یہ لوگ رسول کو اور صحابہ میں سے ذمہ دار اکابر صحابہ کو پہنچادیتے یعنی اگر یہ لوگ سکوت اختیار کرتے تاآنکہ ان کو اس معاملہ کی خبر دیدی جاتی، تو یہ لوگ جو اس خبر کی تحقیق کے درپے ہیں اور اس خبر کی جانکاری حاصل کرنا چاہتے ہیں اور یہ وہی شہرت دینے والے لوگ ہیں تو اس بات کو جان لیتے کہ یہ خبر شہرت دینے کی لائق ہے یا نہیں، اور اگر اسلام کے ذریعہ تم پر اللہ کا فضل اور قرآن کے ذریعہ تم پر اس کی رحمت نہ ہوتی تو معدودے چند کے علاوہ تم بےحیائی کی باتوں میں جن کا تم کو شیطان حکم کرتا ہے شیطان کے پیروبن جاتے اے محمد تو خدا کی راہ میں جہاد کرتا رہ تجھ کو تیری ذات کی نسبت حکم دیا جاتا ہے لہٰذا آپ سے ان کے پیچھے رہ جانے پر آپ رنجیدہ نہ ہوں، مطلب یہ کہ تم جہاد کرو اگرچہ تم تنہا ہو اس لئے نصرت کا وعدہ آپ سے ہے، اور ایمان والوں کو رغبت دلاتے رہئے یعنی مومنوں کو جہاد پر آمادہ کرتے رہئے اور ان کو رغبت دلاتے رہئے ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ کافروں کی جنگ کو روک دے اور اللہ تعالیٰ ان سے باعتبار موت کے باعتبار عذاب کے ان سے شدید تر ہے تو آپ ﷺ نے فرمایا، قسم ہے اس ذات کہ جس کے قبضہ میں میری کان ہے میں ضرور (جہاد کیلئے) نکلوں گا اگرچہ میں اکیلا ہی کیوں نہ ہوں، چناچہ آپ ﷺ (صرف) ستر (70) سواروں کے ساتھ بدر صغریٰ کی جانب نکل پڑے تو اللہ تعالیٰ نے کافروں کے حملہ کو انکے دلوں میں رعب ڈال کر روک دیا، اور ابوسفیان کو (جنگ کے لئے) نکلنے سے روک کر، جیسا کہ سورة آل عمران میں گزر چکا ہے، جو شخص لوگوں کے درمیان شریعت کے مطابق بھلائی کی سفارش کرے تو اس کو بھی اس کی وجہ سے اجر کا حصہ ملے گا، اور جو شخص شریعت کے خلاف برائی کرے گا تو اس سفارش کی وجہ سے گناہ کا ایک حصہ ملے گا، اور اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے لہٰذا ہر ایک کو اس کے اعمال کا بدلہ دے گا، اور جب تم کو سلام کیا جائے مثلا تم سے کہا جائے سلام علیکم، تو تم سلام کرنے والے کو اس کے سلام سے اچھا جواب دو اس طریقہ پر کہ تم اس سے کہو وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ '، یا ان ہی الفاظ کو لوٹا دو ، اس طریقہ پر کہ جیسا اس نے کہا ہے تم بھی ویسا ہی کہدو، یعنی ان میں سے ایک واجب ہے، مگر پہلا افضل ہے بلا شبہ اللہ تعالیٰ ہر چیز کا حساب لینے والے ہیں، لہٰذا ہر (عمل) کی جزاء دے گا، اور ان ہی میں سے سلام کا جواب دینا بھی ہے، اور شریعت نے مستثنیٰ کردیا ہے کافر کو اور بدعتی کو اور قضائے حاجت کرنیوالے پر سلام کرنے والے کو اور اس شخص پر جو حمام میں ہو اور کھانے والے پر کہ ان کو سلام کا جواب دینا واجب نہیں ہے بلکہ اخیر کے علاوہ میں مکروہ ہے اور کافر کے جواب میں کہا جائیگا وعَلَیْکَ (یعنی تجھ پر بھی) اللہ وہ ہے کہ جس کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ تم کو یقینا رتمہاری قبروں سے قیامت کے دن جمع کرے گا اس میں کوئی شک نہیں، اور اللہ سے زیادہ بات والا کون ہوگا ؟ کوئی نہیں۔ تحقیق و ترکیب وتسہیل وتفسیری فوائد قولہ : مِنْ خَشْیَتِھمْ الخ اس میں اشارہ ہے کہ اس کا عطف کخشیة اللہ پر ہے۔ قولہ : ونَصْب علی الحال یعنی کخشیة اللہ سے حال ہونے کی وجہ سے منصوب ہے تقدیر عبارت یہ ہے یخشَوْنَ الناسَ مِثلَ خَشْیةِ اللہ . قولہ : اَوْاَشَدَّ خَشْیَةً بھی حال ہونے کی وجہ سے منصوب ہے اسلئے کہ اس کا عطف کخشیةِ اللہ پر ہے، اس میں ان لوگوں کے قول کی تردید ہے جو کہتے ہیں خشیة اللہ مصدریة کی وجہ سے منصوب ہے۔ قولہ : جَوابُ لَمَّادَلَّ علیہ اِذا، مناسب یہ تھا کہ مفسرّعلاّم و جواب لمّا اِذَا وَ مَا بعدھا، فرماتے۔ قولہ : اِذافَرِیْق مِّنْھُمْ ، میں اذا مفاجاتیہ قائم مقام فاء ہے فَلَمّا کَتَبَ ، لَمَّا کا جواب ہے۔ قولہ : جَزَعاً مِنَ الْمَوْتِ ، اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ لِمَ کتبتَ علینا القتال، بطور اعتراض نہیں تھا بلکہ موت سے خوف طبعی کی وجہ سے تھا اسلئے کہ قائلین خیار صحابہ تھے۔ قولہ : مایُتَمتّعُ بہ، اس میں اشارہ ہے کہ متاع مصدر بمعنی مفول ہے۔ قولہ : اولاِ سْتِمْتَاعُ بھا اس میں اشارہ ہے کہ مَتَاع سے مصدری مراد ہوسکتے ہیں۔ قولہ : بِھَا، ای بعین المتاع . قولہ : بَیَّتَ طَائِفَة، بیّتَ کا فاعل طائفة ہے، طائفة چونکہ مؤنث غیر حقیقی ہے جس کے لئے فعل کا مذکر اور مؤنث دونوں لانا جائز ہے، مفسر علام نے، بَیَّتَ ، کی تفسیر اضمرت سے کی ہے، اور مطلب یہ بیان کیا ہے کہ منافقین جب آپ کے پاس سے باہر آتے تھے تو آپ کے قول کے برخلاف دل میں پوشیدہ رکھتے تھے حالانکہ یہ مفہوم مناسب نہیں اسلئے کہ آپ کے قول کے برخلاف تو ان کے دلوں میں اس وقت بھی مضمر ہوتا تھا جبکہ وہ آپ کی مجلس میں ہوتے تھے اسلئے کہ منافقین مجلس میں سمعنا وعصینا کہا کرتے تھے، مفسر علام اگر بیّتَ کی تفسیر تدبیر الامر لیلاً سے کرتے تو زیادہ مناسب ہوتا اسلئے کہ منافقین خفیہ تدبیریں کرتے تھے۔ قولہ : المُذِیْعُوْنَ افواہ پھیلا نیوالے۔ تفسیر وتشریح شان نزول : الم تَرَاِلَی الَّذِیْنَ قیل لَھُمْ کُفُّوْااَیْدیَکم مکہ میں ہجرت سے پہلے کافر مسلمانوں کو بہت ستایا کرتے تھے کوئی دن ایسا نہیں گذرتا تھا کہ ایک نہ ایک مسلمان مشرکوں کے دست ستم سے زخم خوردہ ہو کر نہ آتا ہو، مسلمانوں کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوچکا تھا اس وقت مسلمانوں کی تعداد مکہ میں اچھی خاصی ہوچکی تھی، مسلمان سوچنے پر مجبور ہوئے کہ آخر کب تک ہم اسی طرح ظلم کی چکی میں پستے رہیں گے ؟ مسلمانوں کی ایک جماعت جس میں عبدالرحمٰن بن عوف اور دیگر چند اصحاب شامل تھے آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا، یا نبی اللہ جب ہم مشرک تھے تو باعزت تھے اور جبکہ ہم مسلمان ہوگئے تو ذلیل ہوگئے، تو آپ نے فرمایا، مجھے درگذر کرنے کا حکم دیا گیا ہے، لہٰذا تم قوم سے مقابلہ نہ کرو، (حضرت ابن عباس ؓ سے نسائی وابن جریرو ابن ابی حاتم وغیرہ نے نقل کیا ہے) ۔ ہجرت کے بعد جب مسلمانوں کو جہاد کا حکم ہوا تو ان کو حوش ہونا چاہیے تھا کہ ہماری دیرینہ خواہش پوری ہوئی اور بارگاہ ایزدی میں دعاء شرف قبولیت کو پہنچی، مگر بعض ضعیف الایمان مسلمان کافروں کے مقابلہ سے ایسے خوف زدہ ہونے لگے جیسا کہ اللہ کے عذاب سے ڈرنا چاہیے، اور سوچنے لگے کہ کاش تھوڑی مدت اور قتال کا حکم نہ آتا، اس پر مذکورہ آیتیں نازل ہوئیں۔ ظاہر بات ہے کہ مسلمانوں کی جہاد سے مہلت کی تمنا درحقیقت کوئی اعتراض نہیں تھا بلکہ یہ ایک طبعی اور فطری بات تھی، دوسری بات یہ تھی کہ جب مسلمان مکہ میں تھے تو مشرکوں کی ایذاؤں سے تنگ آکر جہاد کے حکم کی تمنا کررہے تھے، گویا کہ تنگ آمد، کا مصداق تھے، لیکن جب مدینہ میں آکر قدرے سکون نصیب ہوا، ایسی صورت میں جب قتال کا حکم نازل ہوا تو سابق جذبہ کم ہوچکا تھا۔ بعض مفسرین کے نزدیک آیت کا تعلق مسلمانوں سے نہیں بلکہ منافقین سے ہے اس صورت میں کسی قسم کا اشکال نہیں۔ (فتح القدیر، تفسیر کبیر، معارف)
Ayahs 4:78–80

اَیْنَ مَا تَكُوْنُوْا یُدْرِكْكُّمُ الْمَوْتُ وَ لَوْ كُنْتُمْ فِیْ بُرُوْجٍ مُّشَیَّدَةٍ١ؕ وَ اِنْ تُصِبْهُمْ حَسَنَةٌ یَّقُوْلُوْا هٰذِهٖ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ١ۚ وَ اِنْ تُصِبْهُمْ سَیِّئَةٌ یَّقُوْلُوْا هٰذِهٖ مِنْ عِنْدِكَ١ؕ قُلْ كُلٌّ مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ١ؕ فَمَالِ هٰۤؤُلَآءِ الْقَوْمِ لَا یَكَادُوْنَ یَفْقَهُوْنَ حَدِیْثًا Open ayah 4:78 in the Quran reader

(اے جہاد سے ڈرنے والو ! ) تم کہیں رہو موت تو تمہیں آ کر رہیں گی خواہ بڑے بڑے محلوں میں رہو اور اگر ان کو کوئی فائدہ پہنچتا ہے تو (اے محمد تم سے) کہتے ہیں کہ یہ خدا کی طرف سے ہے اور اگر کوئی گزند پہنچتا ہے تو (اے محمد تم سے) کہتے ہیں کہ یہ (گزند) آپ کی وجہ سے (ہمیں پہنچا) ہے کہہ دو کہ (رنج و راحت) سب اللہ ہی کی طرف سے ہے ان لوگوں کو کیا ہوگیا ہے کہ بات بھی نہیں سمجھ سکتے ؟

مَاۤ اَصَابَكَ مِنْ حَسَنَةٍ فَمِنَ اللّٰهِ١٘ وَ مَاۤ اَصَابَكَ مِنْ سَیِّئَةٍ فَمِنْ نَّفْسِكَ١ؕ وَ اَرْسَلْنٰكَ لِلنَّاسِ رَسُوْلًا١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ شَهِیْدًا Open ayah 4:79 in the Quran reader

(اے آدم زاد) تجھ کو جو فائدہ پہنچے وہ خدا کی طرف سے ہے اور جو نقصان پہنچے وہ تیری ہی (شامت اعمال کی) وجہ سے ہے اور (اے محمد) ہم نے تم کو لوگوں (کی ہدایت) کے لیے پیغمبر بنا کر بھیجا ہے اور (اس بات کا) خدا ہی گواہ کافی ہے

مَنْ یُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰهَ١ۚ وَ مَنْ تَوَلّٰى فَمَاۤ اَرْسَلْنٰكَ عَلَیْهِمْ حَفِیْظًاؕ Open ayah 4:80 in the Quran reader

جو شخص رسول کی فرماں برداری کرے گا تو بیشک اس نے خدا کی فرماں برداری کی اور جو نافرمانی کرے تو (اے پیغمبر ﷺ تمہیں ہم نے ان کا نگہبان بنا کر نہیں بھیجا ہے

اَیْنَ ما تکونوایُدْرِکْکم الموتُ ، مذکورہ ضعیف الایمان لوگوں کو سمجھایا جا رہا ہے کہ ایک تو یہ دنیا اور اس کا آرام و راحت فانی اور عارضی ہے جس کے لئے تم مہلت طلب کررہے ہو، اس کے مقابلہ میں آخرت بہت بہتر اور پائیدار ہے جس کے اطاعت الہٰی کے صلہ میں تم سزا وار ہوگے، دوسرے یہ کہ جہاد کرویا نہ کرو موت تو اپنے وقت پر آکر ہے گی چاہے تم مضبوط قلعوں میں بندہو کر ہی کیوں نہ بیٹھ جاؤ، پھر جہاد سے گریز کا کیا فائدہ ؟
Ayah 4:81

وَ یَقُوْلُوْنَ طَاعَةٌ١٘ فَاِذَا بَرَزُوْا مِنْ عِنْدِكَ بَیَّتَ طَآئِفَةٌ مِّنْهُمْ غَیْرَ الَّذِیْ تَقُوْلُ١ؕ وَ اللّٰهُ یَكْتُبُ مَا یُبَیِّتُوْنَ١ۚ فَاَعْرِضْ عَنْهُمْ وَ تَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ وَكِیْلًا Open ayah 4:81 in the Quran reader

اور یہ لوگ منہ سے تو کہتے ہیں کہ (آپ کی) فرمانبرداری (دل سے منظور) ہے لیکن جب تمہارے پاس سے چلے جاتے ہیں تو ان میں سے بعض لوگ رات کو تمہاری باتوں کے خلاف مشورے کرتے ہیں اور جو مشورے یہ کرتے ہیں خدا ان کو لکھ لیتا ہے تو ان کا کچھ خیال نہ کرو اور خدا پر بھروسہ کرو اور خدا ہی کافی کار ساز ہے

ویقولوں طاعة، فَاِذَا بَرزُوا مِنْ عندک بیَّتَ طایفة منھم، (الآیة) اس آیت میں ان لوگوں کی مذمت کی گئی ہے جو دوزخی پالیسی رکھتے ہیں زبان سے کچھ کہتے ہیں اور دل میں کچھ ہوتا ہے۔ اس نفاق وبدباطنی کا کیا ٹھکانہ کہ رسول اللہ ﷺ کے روبرو تو اطاعت و تسلیم کا دم بھرتے ہیں اور ہر طرح یقین دلاتے ہیں کہ ہم سے بڑھکر آپ کا کوئی مطیع نہیں، مگر آپ کے پاس سے جانے کے بعد رات کو آپ کے خلاف مشورہ کرتے ہیں جسے قدرت کی آنکھ دیکھتی ہے اور ان کے راز دارانہ مشوروں کو سنتی ہے۔ لہٰذا آپ ان کی طرف سے توجہ ہٹالیجئے اور اللہ پر بھروسہ کیجئے، نہ ان کی اصلاح ممکن ہے اور نہ ان کی راتوں کو راز دارانہ سازشیں اسلام کو کوئی نقصان پہنچا سکتی ہیں۔
Ayah 4:82

اَفَلَا یَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَ١ؕ وَ لَوْ كَانَ مِنْ عِنْدِ غَیْرِ اللّٰهِ لَوَجَدُوْا فِیْهِ اخْتِلَافًا كَثِیْرًا Open ayah 4:82 in the Quran reader

بھلا یہ قرآن میں غور کیوں نہیں کرتے ؟ اگر یہ خدا کے سوا کسی اور کا (کلام) ہوتا تو اس میں (بہت سا) اختلاف پاتے

اَفَلاَیتدبرون القرآن، اسلام کی بلند عمارت دوستونوں پر قائم ہے ایک ذات پیغمبر اور دوسرا قرآن حکیم، یہ منافقین پیغمبر کی ذات گرامی سے منہ موڑتے ہیں ساتھ ہی قرآن سے بھی برگشتہ ہیں، اگر یہ لوگ ایک لمحہ کے لئے قرآن پاک پر غور کرتے تو ان پر یہ بات واضح ہوجاتی کہ قرآن خدائی کلام ہے۔
Ayahs 4:83–85

وَ اِذَا جَآءَهُمْ اَمْرٌ مِّنَ الْاَمْنِ اَوِ الْخَوْفِ اَذَاعُوْا بِهٖ١ؕ وَ لَوْ رَدُّوْهُ اِلَى الرَّسُوْلِ وَ اِلٰۤى اُولِی الْاَمْرِ مِنْهُمْ لَعَلِمَهُ الَّذِیْنَ یَسْتَنْۢبِطُوْنَهٗ مِنْهُمْ١ؕ وَ لَوْ لَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ وَ رَحْمَتُهٗ لَاتَّبَعْتُمُ الشَّیْطٰنَ اِلَّا قَلِیْلًا Open ayah 4:83 in the Quran reader

اور جب ان کے پاس امن یا خوف کی کوئی خبر پہنچتی ہے تو اسے مشہور کردیتے ہیں اور اگر اس کو پیغمبر اور اپنے سرداروں کے پاس پہنچا دیتے تو تحقیق کرنے والے اس کی تحقیق کرلیتے اور اگر تم پر خدا کا فضل اور اس کی مہربانی نہ ہوتی تو چند اشخاص کے سوا سب شیطان کے پیرو ہوجاتے

فَقَاتِلْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ۚ لَا تُكَلَّفُ اِلَّا نَفْسَكَ وَ حَرِّضِ الْمُؤْمِنِیْنَ١ۚ عَسَى اللّٰهُ اَنْ یَّكُفَّ بَاْسَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ؕ وَ اللّٰهُ اَشَدُّ بَاْسًا وَّ اَشَدُّ تَنْكِیْلًا Open ayah 4:84 in the Quran reader

تو (اے محمد ﷺ تم خدا کی راہ میں لڑو تم اپنے سوا کسی کے ذمہ دار نہیں ہو اور مومنوں کو بھی ترغیب دو قریب ہے کہ خدا کافروں کی لڑائی کو بند کر دے اور خدا لڑائی کے اعتبار سے بہت سخت ہے اور سزا کے لحاظ سے بھی سخت ہے

مَنْ یَّشْفَعْ شَفَاعَةً حَسَنَةً یَّكُنْ لَّهٗ نَصِیْبٌ مِّنْهَا١ۚ وَ مَنْ یَّشْفَعْ شَفَاعَةً سَیِّئَةً یَّكُنْ لَّهٗ كِفْلٌ مِّنْهَا١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ مُّقِیْتًا Open ayah 4:85 in the Quran reader

جو شخص نیک بات کی سفارش کرے تو اس کو اس (کے ثواب) میں حصہ ملے گا اور جو بری بات کی سفارش کرے تو اس کو اس کے (عذاب) میں سے حصہ ملے گا اور خدا ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے

شان نزال : وَاِذاجَاء ھم امرمن الامن اوالخوف اذاعوابہ، یہ آیت اس ہنگامی دور میں نازل ہوئی جبکہ ہر طرف افواہیں اڑرہی تھیں۔ کبھی خطرہ بےبنیاد کی مبالغہ آمیز اطلاعتیں آئیں جن سے مسلمانوں میں افسردگی پھیلنے اور ان کے حوصلے پست ہونے کا امکان ہوتا اور بعض دفعہ مسلمانوں کی کامیابی اور دشمن کی ناکامی کی خبریں آتیں جس کے نتیجے میں بعض دفعہ ضرورت سے زیادہ خود اعتمادی پیدا ہوجاتی جو نقصان کا باعث بن سکتی تھی، مذکورہ آیت میں کمزور اور جلد باز اور افواہ پھیلانے کی اصلاح کی خاطر سرزیش کرتے ہوئے کہا جا ہا ہے کہ افواہیں پھیلانے سے باز رہیں اور عام لوگوں میں افواہیں پھیلانے کے بجائے رسول اللہ ﷺ اور ذمہ داروں کے پاس پہنچادیا کریں تاکہ وہ یہ دیکھ سکیں کہ یہ خبریں صحیح ہیں یا غلط۔ علامہ ابن کثیر نے فرمایا کہ اس آیت کے شان نزول میں حضرت عمر خطاب کی حدیث کو ذکر کرنا مناسب ہے وہ یہ کہ حضرت عمر ؓ کو یہ خبر پہنچی کہ رسول ﷺ نے اپنی ازاوج مطہرات کو طلاق دیدی ہے حضرت عمر ؓ یہ سنکر اپنے گھر سے مسجد نبوی کی طرف آئے جب مسجد کے دروازے پر پہنچے تو معلوم ہوا کہ اندر بھی یہی چرچہ ہورہا ہے، یہ دیکھ کر حضرت عمر نے سوچا کہ اس خبر کی تصدیق کرنی چاہیے، چناچہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ سے عرض کیا کہ کیا آپ نے اپنی ازواج کو طلاق دیدی ہے ؟ حضرت عمر فرماتے ہیں کہ میں یہ تحقیق کرنے کے بعد مسجد میں گیا اور دروازے پر کھڑے ہو کر یہ اعلان کیا کہ رسول ﷺ نے اپنی ازواج کو طلاق نہیں دی جو آپ لوگ کہہ رہے ہو غلط ہے، تو اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ افواہیں پھیلانا گناہ اور فتنہ ہے : اس آیت سے معلوم ہوا کہ سنی سنائی بات کو تحقیق کے بیان نہیں کرنا چاہیے چناچہ آپ ﷺ نے ایک حدیث میں فرمایا '' کَفیٰ بالمٰرْئِ کَذِبًا اَن یُّحَدِّثَ بِکُلِّ مَاسَمِعَ '' یعنی انسان کے جھوٹا ہونے کیلئے اتنی بات کافی ہے کہ وہ ہر سنی سنائی بات بغیر تحقیق کے بیان کردے۔
Ayahs 4:86–87

وَ اِذَا حُیِّیْتُمْ بِتَحِیَّةٍ فَحَیُّوْا بِاَحْسَنَ مِنْهَاۤ اَوْ رُدُّوْهَا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ حَسِیْبًا Open ayah 4:86 in the Quran reader

اور جب تم کو کوئی دعا دے تو (جواب میں) تم اس سے بہتر (کلمے) سے (اسے) دعا دو یا انہیں لفظوں سے دعا دو ، بیشک خدا ہر چیز کا حساب لینے والا ہے

اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ؕ لَیَجْمَعَنَّكُمْ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ لَا رَیْبَ فِیْهِ١ؕ وَ مَنْ اَصْدَقُ مِنَ اللّٰهِ حَدِیْثًا۠ Open ayah 4:87 in the Quran reader

خدا (وہ معبود برحق ہے کہ) اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں وہ قیامت کے دن تم سب کو ضرور جمع کرے گا اور خدا سے بڑھ کر بات کا سچا کون ہے ؟

وَاِذاحُیّیتُمْ بتحیةٍ فحیوا باَحْسَنَ منھا، تحیَّة، اصل میں تَحْییَة بروزن تَفْعِلَة، یاء کو یاء میں ادغام کردیا تحِیَّة ہوگیا، اس کے معنی ہیں درازی عمر کی دعاء کرنا یہاں سلام کرنے کے معنی میں ہے سلام کا اچھا جواب دینے کی تفسیر حدیث میں اس طرح تو آئی ہے کہ السلام علیکم کے جواب میں ورحمتہ اللہ کا اضافہ کے بغیر انہی الفاظ میں جواب دیا جائے۔ قبل ازاسلام سلام کا طریقہ : اسلام سے پہلے عرب کی عام عادت یہ تھی کہ ملاقات کے وقت آپس میں حیاک اللہ یا انعم اللہ بک عینا یا انعم صباحاً وغیرہ الفاظ کہتے تھے اسلام نے سلام کے اس طریقہ کو بدل کر السلام علیکم کا طریقہ جاری کیا، جس کے معنی ہیں تم تکلیف اور رنج اور مصیبت سے سلامت رہو۔ اسلامی سلام تمام دیگر قوموں کے سلام سے بہتر ہے : دنیا کی مہذب قوم میں اس کارواج ہے کہ ملاقات کے وقت کوئی نہ کوئی اظہار محبت اور موانسب کے لئے کہیں، لیکن اگر موازنہ کرکے دیکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ اسلامی سلام جتنا جامع ہے کوئی دوسرا سلام نہیں، کیونکہ اس میں صرف اظہار محبت ہی نہیں بلکہ ادائے حق بھی ہے کہ اللہ سے دعاء کرتے کہ اللہ آپ کو تمام آفات وبلیات سے سلامت رکھے۔
Ayahs 4:88–90

فَمَا لَكُمْ فِی الْمُنٰفِقِیْنَ فِئَتَیْنِ وَ اللّٰهُ اَرْكَسَهُمْ بِمَا كَسَبُوْا١ؕ اَتُرِیْدُوْنَ اَنْ تَهْدُوْا مَنْ اَضَلَّ اللّٰهُ١ؕ وَ مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَلَنْ تَجِدَ لَهٗ سَبِیْلًا Open ayah 4:88 in the Quran reader

تو کیا سبب ہے کہ تم منافقوں کے بارے میں دو گروہ ہو ہے ہو حالانکہ خدا نے ان کو ان کے کرتوتوں کے سبب اوندھا کردیا ہے ؟ کیا تم چاہتے ہو کہ جس شخص کو خدا نے گمراہ کردیا ہے اس کو راستے پر لے آؤ ؟ اور جس شخص کو خدا گمراہ کر دے تم اس کے لیے کبھی بھی راستہ نہ پاؤ گے

وَدُّوْا لَوْ تَكْفُرُوْنَ كَمَا كَفَرُوْا فَتَكُوْنُوْنَ سَوَآءً فَلَا تَتَّخِذُوْا مِنْهُمْ اَوْلِیَآءَ حَتّٰى یُهَاجِرُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَخُذُوْهُمْ وَ اقْتُلُوْهُمْ حَیْثُ وَجَدْتُّمُوْهُمْ١۪ وَ لَا تَتَّخِذُوْا مِنْهُمْ وَلِیًّا وَّ لَا نَصِیْرًاۙ Open ayah 4:89 in the Quran reader

وہ تو یہی چاہتے ہیں کہ جس طرح وہ خود کافر ہیں (اسی طرح) تم بھی کافر ہو کر (سب) برابر ہوجاؤ تو جب تک وہ خدا کی راہ میں وطن نہ چھوڑ جائیں ان میں سے کسی کو دوست نہ بنانا اگر (ترک وطن) قبول نہ کریں تو ان کو پکڑ لو اور جہاں پاؤ قتل کردو اور ان میں سے کسی کو اپنا رفیق اور مددگار نہ بناؤ

اِلَّا الَّذِیْنَ یَصِلُوْنَ اِلٰى قَوْمٍۭ بَیْنَكُمْ وَ بَیْنَهُمْ مِّیْثَاقٌ اَوْ جَآءُوْكُمْ حَصِرَتْ صُدُوْرُهُمْ اَنْ یُّقَاتِلُوْكُمْ اَوْ یُقَاتِلُوْا قَوْمَهُمْ١ؕ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَسَلَّطَهُمْ عَلَیْكُمْ فَلَقٰتَلُوْكُمْ١ۚ فَاِنِ اعْتَزَلُوْكُمْ فَلَمْ یُقَاتِلُوْكُمْ وَ اَلْقَوْا اِلَیْكُمُ السَّلَمَ١ۙ فَمَا جَعَلَ اللّٰهُ لَكُمْ عَلَیْهِمْ سَبِیْلًا Open ayah 4:90 in the Quran reader

مگر جو لوگ ایسے لوگوں سے جا ملے ہوں جن میں اور تم میں (صلح کا) عہد ہو یا اس حال میں کہ ان کے دل تمہارے ساتھ یا اپنی قوم کے ساتھ لڑنے سے رک گئے ہوں تمہارے پاس آجائیں (تو احتراز ضرور نہیں) اور اگر خدا چاہتا تو ان کو تم پر غالب کردیتا تو وہ تم سے ضرور لڑتے پھر اگر وہ تم سے (جنگ کرنے سے) کنارہ کشی کریں اور لڑیں نہیں اور تمہاری طرف صلح (کا پیغام) بھیجیں تو خدا نے تمہارے لئے ان پر (زبردستی کرنے کی) کوئی سبیل مقرر نہیں کی

آیت نمبر 88 تا 91 ترجمہ : اور جب لوگ اُحُدْ سے لوٹے تو لوگوں نے ان کے بارے میں اختلاف کیا، ایک فریق نے کہا ان کو قتل کرو اور دوسرے فریق نے کہا مت قتل کرو، تو یہ آیت نازل ہوئی، (فَمَالکم) تمہارا کیا حال ہے کہ تم منافقین کے بارے میں دو جماعت ہوگئے اللہ نے ان کو ان کے کفر و معاصی کی ندولت واپس پھیر دیا کیا تم چاہتے ہو کہ جن کو اللہ نے گمراہ کردیا تم راہ راست پر لے آؤ یعنی تم ان کو من جملہ ہدایت یافتہ لوگوں میں شمار کرتے ہو، استفہام دونوں جگہ انکاری ہے، اور جس کو اللہ گمراہ کردے اس کے لئے تو ہرگز ہدایت کا راستہ نہ پائیگا یہ لوگ تو دل سے چاہتے ہیں کہ تم بھی کفر کرو جس طرح یہ لوگ کفر کررہے ہیں تاکہ وہ اور تم کفر میں برابر ہوجاؤ سو تم ان میں سے کسی کو دوست نہ بنانا کہ ان سے دوستی کرنے لگو، اگرچہ وہ ایمان کا اظہار کریں، جب تک اللہ تعالیٰ کے راستہ میں صحیح طور پر ہجرت کریں جو ان کے ایمان کو محقق کردے، اور اگر وہ رو گردانی کریں اور اگر وہ موجودہ نفاق ہی پر قائم رہیں تو ان کو قید کرو اور کہیں انھیں پاؤ قتل کرو ان میں سے کسی کو دوست نہ بناؤ کہ ان سے دوستی کرنے لگو، اور نہ مددگار بناؤ کہ ان سے دشمن کے مقابلہ میں مدد لینے لگو، سوائے ان لوگوں کے جو ان لوگوں سے جا ملیں کہ ان کے اور تمہارے درمیان معاہدہ امن ہے اور ان کا جو ان سے جاملے ہیں جیسا کہ آپ ﷺ نے ہلال بن عویمر اسلمی سے معاہدہ فرمایا تھا، یا وہ لوگ اسطرح آتے ہیں کہ ان کے سینے اس سے تنگ ہو رہے ہیں کہ وہ اپنی قوم کے ساتھ ہو کر تم سے لڑیں یا تمہارے ساتھ ہو کر اپنی قوم سے لڑیں، یعنی وہ تمہارے ساتھ اور ان کے ساتھ قتال کرنے سے رکے ہوئے ہیں، لہذا تم ان سے قید وقتل کرکے تعرض نہ کرو یہ حکم اور اس کا مابعد آیت سیف سے منسوخ ہے اور اگر اللہ کو تم پر ان کا غلبہ منظور ہوتا تو وہ ان کو ان کے دلوں کو قوی کرکے تمہارے اوپر غالب کردیتا تو وہ ضرور لڑتے لیکن اس کو منظور نہ ہوا جس کی وجہ سے اس نے ان کے دلوں میں رعب ڈالدیا، پس اگر وہ تمہیں چھوڑے رہیں اور تم سے قتال نہ کریں اور تمہارے ساتھ سلامت روی رکھیں، یعنی تمہارے تابع فرمان رہیں، تو اللہ نے ان کے خلاف تمہارے لئے قیدوقتل کی کوئی راہ نہیں رکھی اور عنقریب تم کچھ اور لوگ بھی پاؤ گے جو چاہتے ہیں کہ تمہارے سامنے ایمان کا اظہار کرکے تم سے بھی امن میں رہیں، اور جب اپنی قوم کے پاس جائیں تو (اظہار) کفر کے ذریعہ اپنی قوم سے بھی سے بھی امن میں رہیں اور اَسَدْ اور غطفان ہیں، اور انھیں جب کبھی فتنہ شرک کی طرف بلایا جاتا ہے تو وہ اس کی طرف پلٹ پڑتے ہیں یعنی اس میں شدت کے ساتھ واقع ہوجاتے ہیں، پس اگر ترک قتال کرکے تم کو چھوڑے نہ رکھیں اور نہ تم سے اپنے ہاتھوں کو روکے رکھیں، تو تم ان کو قید کرو اور انھیں جہاں کہیں پاؤ قتل کرو یہی لوگ تو ہیں کہ جن کے خلاف ہم نے تم کو کھلی گرفت دیدی ہے یعنی ان کے قتل وقید پر ان کی غداری کی وجہ سے کھلی اور وضح دلیل دیدی ہے۔ تحقیق و ترکیب وتسہیل وتفسیری فوائد قولہ : مَاشَانُکُمْ ، دخولِ حرف علی الحرف سے بچنے کے لئے مفسرعلام نے شان مضاف محذوف مانا ہے۔ قولہ : صِرْتُمْ ، اس کے حذف میں اشارہ ہے کہ فِی المنفقین، صرتُمْ محذوف کے متعلق ہے اور فِئَتَیْنِ صِرتم کی خبر ہونے کی وجہ سے منصوب ہے اور جملہ ہو کر مالکم مبتداء کی خبر ہے۔ قولہ : تَمنَّوا، وَدُّوا، کی تفسیر تَمنَّوْا سے کرکے بتادیا کہ اگر وَدُّ کے بعد لَوْ واقع ہو تو تمنا کے معنی میں ہوتا ہے، قولہ : یَلْجَأُوْنَ مفسرّ علاّم نے یَصِلون، کی تفسیر یَلْجَأن سے تصحیح صلہ کے لئے کی ہے۔ قولہ : اوالّذِیْنَ اس میں اشارہ ہے کہ جائُ وکم کا عطف یصلون پر ہے نہ کہ قوم کی صفت پر۔ قولہ : وقد حَصِرتْ ، قد محذوف مان کر ان لوگوں پر رد کرنا مقصود ہے جو حَصِرت کو قوماً محذوف کی صفت مانتے ہیں، اس لئے کہ اس میں بلا ضروت حذف لازم آتا ہے بلکہ حَصِرت جَاء وکم کی ضمیر سے حال ہے، اور ماضی جب حال واقع ہو تو قَدْ ضروری ہوتا ہے خواہ لفظاً ہو یا معنی اسی لئے مفسرّ علاّم نے قد مقدر مانا ہے۔ قولہ : عن، حصِرت چونکہ متعدی بنفسہ نہیں ہوتا اس لئے عَنْ محذوف ماننا ضروری ہے۔ تفسیر وتشریح فَمَالکم فی المنافقین فئتَیْنِ ، یہ استفہام انکاری ہے یعنی تمہارے درمیان ان منافقوں کے بارے میں اختلاف نہیں ہونا چاہیے تھا، ان منافقین سے وہ منافقین مراد ہیں جو غزوہ احد میں مدینہ سے کچھ دور جا کر واپس آگئے تھے، اور بہانہ یہ کیا تھا کہ مشورہ میں ہماری بات نہیں مانی گئی۔ (صحیح بخاری صحیح مسلم) ان منافقوں کے بارے میں مسلمانوں کے گروہ ہوگئے تھے، ایک گروہ کا کہنا تھا کہ ہمیں ان منافقوں سے بھی لڑنا چاہیے دوسرا اسے مصلحت کے خلاف سمجھتا تھا۔ شان نزول : مذکورہ آیت میں تین فرقوں کے واقعات کی طرف اشارہ ہے جو مندرجہ ذیل روایت سے معلوم ہوں گے۔ پہلی روایت : عبداللہ بن حمید نے مجاہد سے روایت کی ہے کہ بعض مشرکین مکہ سے مدینہ آئے اور ظاہر یہ کیا کہ ہم مسلمان اور مہاجر ہو کر آئے ہیں، پھر مرتد ہوگئے، رسول اللہ ﷺ سے اسباب تجارت لانیکا بہانہ کرکے مکہ چلے گئے اور واپس نہیں آئے، ان کے بارے میں مسلمانوں کی رائے مختلف ہوئی، بعض نے کہا یہ کافر ہیں بعض نے کہا مومن ہیں اللہ تعالیٰ نے ان کا کافر ہونا فَمَالکم فی المنافقین، میں بیان فرمایا اور ان کے قتل کا حکم دیا ہے۔ منافقین کو گو قتل نہیں کیا جاتا تھا مگر یہ اسی وقت تک تھا کہ ان کا نفاق ظاہر نہ ہو مگر جب یہ لوگ مکہ واپس چلے گئے اور ان کا ارتداد ظاہر ہوگیا تو ایک جماعت نے ان کے قتل کا مشورہ دیا، اور جنہوں نے مسلمان کہا شاہد حسن ظن کی وجہ سے کہا ہو اور ان کے دلائل ارتداد میں کوئی تاویل کی ہو اس لئے ان کے قتل نہ کرنے کا مشورہ دیا ہو۔ دوسری روایت : دوسری روایت ابن ابی شیبہ نے حسن سے روایت کی ہے کہ سراقہ بن مالک مدلجی نے واقعہ بدرواحد کے بعد رسول اللہ ﷺ کے حضور میں آکر درخواست کی کہ ہماری قوم بنی مدلج سے صلح کرلیجئے، آپ نے خالد بن ولید کو تکمیل کے لئے وہاں بھیجا مضمون صلح مندرجہ ذیل تھا۔ ہم لوگ رسول اللہ ﷺ کے خلاف کسی کی مدد نہ کریں گے اور اگر قریش مسلمان ہوجائیں گے تو ہم بھی ہوجائیں گے اور جو قومیں ہم سے متحد ہوں گی وہ بھی اس معاہدہ میں ہمارے شریک ہیں۔ اس پر آیت وَدُّوالوتکفرون الخ نازل ہوئی۔
Ayah 4:91

سَتَجِدُوْنَ اٰخَرِیْنَ یُرِیْدُوْنَ اَنْ یَّاْمَنُوْكُمْ وَ یَاْمَنُوْا قَوْمَهُمْ١ؕ كُلَّمَا رُدُّوْۤا اِلَى الْفِتْنَةِ اُرْكِسُوْا فِیْهَا١ۚ فَاِنْ لَّمْ یَعْتَزِلُوْكُمْ وَ یُلْقُوْۤا اِلَیْكُمُ السَّلَمَ وَ یَكُفُّوْۤا اَیْدِیَهُمْ فَخُذُوْهُمْ وَ اقْتُلُوْهُمْ حَیْثُ ثَقِفْتُمُوْهُمْ١ؕ وَ اُولٰٓئِكُمْ جَعَلْنَا لَكُمْ عَلَیْهِمْ سُلْطٰنًا مُّبِیْنًا۠ Open ayah 4:91 in the Quran reader

تم کچھ اور لوگ ایسے بھی پاؤ گے جو یہ چاہتے ہی کہ تم سے بھی امن میں رہیں اور اپنی قوم سے بھی امین میں رہیں لیکن جب فتنہ انگیزی کو بلائے جائیں تو اس میں اوندھے منہ گرپڑیں تو ایسے لوگ اگر تم سے (لڑنے سے) کنارہ کشی نہ کریں اور نہ تمہاری طرف (پیغام) صلح بھیجیں اور نہ اپنے ہاتھوں کو روکیں تو ان کو پکڑ لو اور جہاں پاؤ قتل کردو ان لوگوں کے مقابلے میں ہم نے تمہارے لئے سند صریح مقرر کردی ہے

تیسری روایت : حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا گیا ہے کہ آیت، سَتَجِدُوْنَ الخ میں جن لوگوں کا ذکر ہے وہ قبیلہ اسد اور غطفان کے لوگ ہیں کہ جنہوں نے مدینہ میں آکر اسلام کا اظہار کیا، مگر اپنی قوم سے کہتے تھے کہ ہم توبندر اور بچھو پر ایمان لائے ہیں اور ضحاک نے ابن عباس سے یہی حالت بنی عبدالدار کی نقل کی ہے، پہلی اور دوسری روایت روح المعانی اور تیسری معالم میں ہے۔ (معارف) خلاصہ کلام : مطلب یہ ہے کہ ان کے ظاہری میل ملاپ سے دھوکا کھا کر ان کو اپنا مخلص دوست نہ سمجھو اور نہ اس بناء پر ان کے قیدوقتل سے دست کش ہو، البتہ دو صورتیں ایسی ہیں کہ ان میں ان کو قتل کیا جائیگا، (1) ایک تو یہ کہ جن لوگوں سے تمہارا معاہدۂ صلح ہو ان سے ان کا بھی معاہدۂ ہو تو ایسے لوگوں کو قتل کرنے کی شریعت اجازت نہیں دیتی، اسلئے کہ حلیف کا حلیف، اپنا بھی حلیف سمجھا جاتا ہے، (2) دوسری صورت یہ کہ عاجز ہو کر تم سے صلح کریں اور اس بات کا عہد کریں کہ نہ اپنی قوم کے طرف دار ہو کر تم سے لڑیں گے اور نہ تمہارے طرفدار ہو کر اپنی قوم سے لڑیں گے، اور اس عہد پر قائم بھی رہیں تو ایسے لوگوں سے بھی مت لڑو اور ان کی مصالحت کو منظور کرلو، اور اللہ کا احسان سمجھو کہ تمہاری لڑائی سے باز آئے اگر اللہ چاہتا تو ان کو تمہارے اوپر جری کردیتا۔ ہجرت کی مختلف صورتیں : حتی یھا جروا فی سبیل اللہ الخ ابتداء اسلام میں دارلکفر سے ہجرت تمام مسلمانوں پر فرض تھی، اسلئے ایسے لوگوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں جیسا برتاؤ کرنے سے منع فرمایا ہے جو اس فرض کے تارک ہوں، جب مکہ فتح ہوگیا تو ہجرت کا لازمی حکم منسوخ ہوگیا، آپ نے فرمایا '' لا ھجرة بعد الفتح '' (رواہ البخاری) یعنی فتح مکہ کے بعد جب مکہ دارالاسلام بن گیا تو وہاں سے ہجرت فرض نہ رہی، یہ اس زمانہ کا حکم ہے جبکہ ہجرت شرط ایمان تھی، اس آدمی کو مسلمان نہیں سمجھا جاتا تھا جو قدرت کے باوجود ہجرت نہ کرے، لیکن بعد میں یہ حکم منسوخ ہوگیا۔ ہجرت کی دوسری صورت یہ ہے جو قیامت تک باقی رہے گی جس کے بارے میں حدیث میں آیا ہے '' لا تنقطع الھجرة حتی تقطع التوبة '' یعنی ہجرت اس وقت تک باقی رہے گی جب تک توبہ کی قبولیت کا وقت باقی رہے (بخاری) علامہ عینی شارح بخاری نے لکھا ہے اس ہجرت سے مراد سیّنات سے ہجرت ہے یعنی گناہوں کو ترک کرکے نیکیوں کی طرف آنا۔