Ayah 4:105آیت نمبر 105 تا 112
ترجمہ : طعمہ بن اُبَْرق نے ایک زرہ چرالی تھی اور ایک یہودی کے یہاں اسے چھپا دیا تھا، وہ زرہ یہودی کے یہاں سے برآمد ہوگئی طعمہ نے زرہ کا الزام یہودی پر ڈال دیا اور قسم کھا گیا کہ میں نے زرہ نہیں چرائی ہے، طعمہ کے خاندان والوں نے آپ ﷺ سے درخواست کی کہ طعمہ کا دفاع فرمائیں اور اس کو بری قراردیدیں تو (آئندہ) آیت نازل ہوئی، یقینا ہم نے آپ پر کتاب قرآن حق کے ساتھ نازل کی ہے، بالحق، اَنزلنا کے متعلق ہے کہ اس معاملہ میں اللہ نے جو آپ کو بتادیا ہے اس کے مطابق لوگوں کا فیصلہ کریں، اور خائنوں مثلاً طعمہ کا دفاع نہ کریں اور آپ نے جو قصد کیا اس سے استغفار کریں، بیشک اللہ تعالیٰ بڑا ہی مغفرت کرنے والا بڑا ہی رحم کرنے والا ہے، اور ان لوگوں کی وکالت نہ کریں جو اپنے حق میں خیانت کرتے ہیں (یعنی) معاصی کے ذریعہ اپنے نفسوں کے ساتھ خیانت کرتے ہیں، اسلئے کہ ان کی خیانت کا وبال خود ان کے اوپر پڑتا ہے، اللہ کسی بھی ایسے شخص کو پسند نہیں کرتا جو خائن اور گنہگار ہو، یعنی اس کو سزا دے گا، طعمہ اور اس کی قوم شرم کی وجہ سے لوگوں سے چھپتے ہیں مگر اللہ سے نہیں چھپ سکتے اسلئے کہ وہ ان کے ساتھ ہے، ان کے راز کو جانتا ہے، جبکہ وہ رات کو ناپسندیدہ بات کا کہ یعنی جو چوری کے انکار اور زرہ کی چوری کا الزام یہودی پر ڈالنے کا مشورہ کرتے ہیں، اور جو کچھ وہ کرتے ہیں اللہ تعالیٰ اس کا عملی احاطہ کئے ہوئے ہے تم وہ لوگ ہو یہ طعمہ کی قوم کو خطاب ہے کہ دنیا میں تو تم نے ان کی طرف سے دفاع کرلیا اور ' عنھم ' کی بجائے عنہ، بھی پڑھا گیا ہے، لیکن اللہ کے سامنے قیامت کے دن ان کا دفاع کون کرے گا ؟ جب ان کو عذاب دے گا، اور کون ہے جو اس کا وکیل بن کر کھڑا ہوسکے گا ؟ (یعنی) ان کے معاملہ کی کفالت کرے گا، اور ان کا دفاع کریگا، یعنی کوئی یہ کام نہ کرے گا، جو شخص کوئی برائی کرے کہ اس سے دوسرے کو تکلیف پہنچے جیسا کہ طعمہ کا یہودی پر الزام لگانا، اس سے ظلم کرے کہ اسی تک محدود ہے پھر وہ اس سے استغفار کرے یعنی توبہ کرے تو وہ اللہ کو اپنے لئے بخشش کرنے والا اور اپنے اوپر رحم کرنے والا پائیگا، اور جو گناہ کرتا ہے تو وہ اپنے ہی لئے کرتا ہے اس لئے کہ اس کا وبال اسی پر پڑتا ہے اور دوسرے کو نقصان نہیں دیتام اور اللہ بخوبی جاننے والا اور اپنی صنعت میں با حکمت ہے اور جس نے کوئی چھوٹا یا بڑا گناہ کیا اور پھر وہ گناہ کسی بےگناہ پر تھوپ دیا تو وہ بہت بڑے بہتان کا متحمل ہوا، اور اپنے عمل سے کھلا گناہ کیا۔
تحقیق و ترکیب تسہیل و تفسیری فوائد
قولہ : طُِعْمَة، بتثلیث الطاء، والکسر اشھر .
قولہ : ابن اُبَیْرِق، ہمزہ مضمومہ اور باء موحدہ مفتوحہ اور راء مک سورة کے ساتھ، یہ غیر منصرف ہے۔
قولہ : وخَبَاھَا، ای الدِرْعَ درع جو کہ لوہے کی ہوتی ہے مؤنث ہے اور درع بمعنی خمار (اوڑھنی) مذکر ہے۔
قولہ : عَلَّمَکَ ، اس میں اشارہ ہے کہ رویت بمعنی علم ہے اور علم بمعنی معرفت ہے ورنہ تو متعدی بہ سہ مفعول ہونا ضروری ہے جو کہ موجود نہیں ہیں۔
قولہ : فیہِ ، کی ضمیر مَا، کی طرف راجع ہے۔
قولہ : مِمّا ھَمَمْتَ ای بقطع یدالیھودی .
قولہ : بِالْمَعَاصِی، خیانت سے مراد معصیت ہے کہ اس میں طعمہ کے طرف دار شامل ہوجائیں اسلئے کہ جرم خیانت تو صرف طعمہ سے صادر ہوا تھا۔
قولہ : حَیَائً ، اس میں اشارہ ہے کہ استخفاء بمعنی حَیَاء ہے تاکہ مشاکلت ہوجائے اس لئے کہ لا یستخفون من اللہ میں استخفاء بمعنی حیاء ہے اسلئے کہ استخفاء، اللہ سے محال ہے لہٰذا اس کی نفی سے کوئی فائدہ نہیں ہے۔
قولہ : قُرِئَ عنہ یعنی عنھم کے بجائے عنہ بھی ایک قراءت میں پڑھا گیا ہے، ای عن طُعْمَة .
قولہ : تَحَمَّلَ ، احتمل کی تفسیر تَحمَّلَ سے کی ہے اس لئے کہ تَفَعُّلْ اخذ فی الا ثم میں زیادہ مشہور ہے۔
قولہ : بَیِّناً ، اس میں اشارہ ہے کہ متعدی بمعنی لازم ہے۔
تفسیر و تشریح
اِنّا اَنْزَلْنَا اِلَیْکَ الکتابَ بالحق، (الآیة) اَرَاکَ ، یہاں بتادیا، سمجھا دیا کے معنی میں ہے، کہ مذکورہ آیت اس باب میں صریح ہے کہ حیلے جو کچھ بھی کئے جائیں قرآنی قانون ہی کے مطابق کئے جائیں نہ کہ اپنی ہوائے نفس کے مطابق یا کسی انسانی دماغ کے گھڑے ہوئے آئین و دستور کے مطابق۔
نزول آیات کا پس منظر : مذکورہ سات آیات ایک خاص واقعہ سے متعلق ہیں، لیکن عام قرآنی اسلوب کے مطابق جو ہدایات اس سلسلہ میں دی گئی ہیں وہ اس واقعہ کے ساتھ مخصوص نہیں ہیں بلکہ تمام مسلمانوں کے لئے عام ہدایات ہیں جو کہ بہت سے اصول و فروع پر مشتمل ہیں۔
واقعہ کی تفصیل : انصار کے قبیلہ بنو اُبَْرِق کے ایک گھرانے میں چار بھائی تھے، بشیر، ولثر، مبشر، اور بُشَیْر، یہ چوتھا بھائی منافق تھا، بغوی اور ابن جریر کی ردایت میں اس کا نام طعمہ بتلایا گیا ہے اس نے حضرت قتادہ بن نعمان کے چچا رفاعہ ؓ کے گھر میں نقب لگا کر آٹے کی ایک بوری اور اس میں رکھی ہوئی ایک زرہ چرالی، صبح کو جب حضرت رفاعہ نے ماجرا دیکھا تو اپنے بھتیجے قتادہ کے پاس آئے اور چوری کے واقعہ کا ذکر کیا، سب نے مل کر محلہ میں جستجو شروع کی، بعض لوگوں نے بتایا کہ آج رات ہم نے دیکھا تھا کہ بنو ابیرق کے گھر میں آگ روشن تھی، ہمارا خیال ہے کہ وہی کھانا پکایا گیا ہے بنو ابیرق کو راز فاش ہونے کی خبر ملی تو خود ہی کہنے لگے کہ یہ کام لبیدبن سہل کا ہے لبید ایک مخلص اور نیک مسلمان تھے جب ان کو اس الزام کی خبر ہوئی تو وہ تلوار لے کر آئے اور کہا چوری میرے سر لگاتے ہو اب میں تلوار اس وقت تک میان میں نہ رکھونگا جب تک کہ چوری کی حقیقت معلوم نہ ہوجائے۔
بنو ابَْیرق نے آہستہ سے لبید سے کہا آپ بےفکر رہیں آپ کا نام کوئی نہیں لیتا اور نہ یہ کام آپ کا ہوسکتا ہے بغوی اور ابن جریر کی روایت میں یہ بھی ہے کہ بنو ابیرق نے چوری ایک یہودی کے نام لگادی، اور ہوشیاری یہ کی کہ آٹے کی بوری کو تھوڑا سا پھاڑ دیا جس کی وجہ سے رعافہ کے مکان سے یہودی کے گھر تک آٹا گرتا چلا گیا، ابیرق نے زرہ اور دیگر چوری کا سامان اس یہودی کے پاس رکھوا دیا، چناچہ تحقیق کے وقت مسروقہ مال یہودی کے گھر سے برآمد ہوا یہودی نے قسم کھا کر کہا کہ زرہ وغیرہ مجھے ابن ابیرق نے دی ہیں ادھر حضرت قتادہ اور رفاعہ کو مختلف قرائن سے غالب گمان ہوگیا تھا کہ یہ کاروائی بنو اُبَْیرق کی ہے، حضرت قتادہ نے آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر چوری کے واقعہ کی تفصیل اور بنو ابیرق کے بارے میں گمان غالب کا ذکر کردیا۔
بنو ابیرق کو جب خبر ملی آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر حضرت قتادہ اور رفاعہ کی شکایت کی کہ بلا ثبوت شرعی ہمارے اوپر چوری کا الزام لگاتے ہیں، حالانکہ مسروقہ مال یہودی کے گھر سے برآمد ہوا ہے آپ ان کو منع کریں ہمارے نام چوری نہ لگائیں، یہودی پر دعوی کریں، ظاہری حالات و آثار سے آنحضرت ﷺ کا بھی اسی طرف رجحان ہوگیا کہ یہ کام یہودی کا ہے، بغوی کی روایت میں ہے کہ آپ ﷺ کا ارادہ ہوگیا کہ یہودی پر چوری کی سزا جاری کریں اور اس کا ہاتھ کاٹ دیں۔
ادھر یہ ہوا کہ حضرت قتادہ جب آنحضرت کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ نے فرمایا کہ بغیر دلیل اور ثبوت کے ایک مسلمان گھرانے پر چوری کا الزام لگا رہے ہو، حضرت قتادہ اس معاملہ سے بہت رنجیدہ ہوئے اور افسوس کرنے لگے کہ کاش میں اس معاملہ میں آنحضرت ﷺ کے سامنے کوئی بات نہ کرتا اور حضرت رفاعہ کو جب آپ ﷺ کی گفتگو کا علم ہوا تو ان کو بھی تکلیف ہوئی مگر صبر کیا اور فرمایا '' وَاللہ المُسْتَعَانُ ''.
اس واقعہ پر ابھی کچھ وقت نہ گذرا تھا کہ قرآن کریم کا پورا ایک رکوع اس بارے میں نازل ہوگیا جس کے ذریعہ آپ پر واقعہ کی حقیقت منکشف کر سی گئی، اور ایسے معاملات کے متعلق عام ہدایات دی گئیں۔
قرآن کریم نے بنو ابیرق کی چوری کھول دی اور یہودی کو بری کردیا تو بنو ابیرق مجبور ہوئے اور مسروقہ مال آنحضرت کی خدمت میں پیش کردیا، آپ ﷺ نے رفاعہ ؓ کو واپس دلوادیا انہوں نے یہ سب اسلحہ جہاد کے لئے وقف کردیا ادھرجب بنو ابیرق کی چوری کھل گئی تو بشیر بن ابیرق مدینہ سے بھاگ کر مکہ چلا گیا، اور مشرکین سے جا کر مل گیا پہلے منافق تھا اب کھلا کافر ہوگیا، اس نے مکہ میں جا کر ایک مکان میں نقب لگایا اور دیور اس کے اوپر گرگئی اور وہیں دب کر مرگیا۔
مذکورہ واقعہ میں قرآنی اشارات : اس واقعہ سے ایک بات تو معلوم ہوئی کہ نبی کو بھی بحیثیت انسان غلط فہمی ہوسکتی ہے، دوسری بات یہ معلوم ہوئی کہ آپ عالم الغیب نہیں تھے ورنہ آپ پر صورت حال فوراً واضح ہوجاتی تیسری بات یہ معلوم ہوئی کہ اللہ تعالیٰ اپنے پیغمبر کی حفاظت فرماتا ہے اور اگر کبھی خطاء اجتہادی ہوجائے تو فوراً اصلاح کردی جاتی ہے۔
Ayahs 4:106–112وَاسْتغفِرِ اللہ ان اللہ کان غفورارحیما، یعنی اس بات پر کہ بغیر تحقیق کے آپ نے جو خیانت کرنے والوں کی حمایت کی ہے اس پر اللہ سے مغفرت طلب کریں، اس کا ایک مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جو مومنین اس منافق کے ساتھ اس کی حمایت کرنے کی وجہ سے خیانت یعنی معصیت میں مبتیلا ہوگئے آپ ان کے لئے مغفرت طلب کریں مذکورہ واقعہ سے یہ بھی معلوم ہوا کہ فریقین میں سے جب تک کسی پر پورا یقین نہ ہو کہ وہ حق پر ہے اس کی حمایت اور وکالت کرنا جائز نہیں۔
اگر کوئی فریق دھوکے اور فریب اور چرب زبانی سے عدالت یا حاکم سے اپنے حق میں فیصلہ کرالے تو ایسے فیصلے کی عند اللہ کوئی حیثیت نہیں، اس بات کو نبی ﷺ نے ایک حدیث میں اسطرح بیان فرمایا ہے، خبردار میں ایک انسان ہی ہوں اور جس طرح میں سنتا ہوں اسی کی روشنی میں فیصلہ کرتا ہوں ممکن ہے کہ ایک شخص اپنی دلیل اور حجت پیش کرنے میں تیز طرار ہو اور ہوشیار ہو اور اس طرح میں ایک مسلمان کا حق دوسرے کو دیدوں، اسے یاد رکھنا چاہیے کہ یہ آگ کا ٹکڑا ہے یہ اس کی مرضی ہے کہ اسے لے لے یا چھوڑ دے۔ (صحیح بخاری)
روداد کے مطابق فیصلہ کرنا گناہ نہیں : اگرچہ قاضی کی حیثیت سے نبی ﷺ کا روادا کے مطابق فیصلہ کردینا بجائے خود آپ کے لئے کوئی گناہ نہ ہوتا، اور ایسی صورتیں قاضیوں کو پیش آتی رہتی ہیں کہ ان کے سامنے غلط روداد پیش کرکے حقیقت کے خلاف فیصلے حاصل کرلئے جاتے ہیں، لیکن ایسے وقت جبکہ اسلام اور کفر کے درمیان ایک زبردست کشمکش برپا تھی، اگر نبی ﷺ روداد مقدمہ کے مطابق فیصلہ صادر فرما دتے تو اسلام کے مخالفوں کو آپ کے خلاف بلکہ پوری اسلامی جماعت اور خود وحدت اسلامی کے خلاف ایک زبردست اخلاقی حربہ مل جاتا وہ یہ کہتے پھرتے کہ اجی یہاں حق و انصاف کا کیا سوال ہے ؟ یہاں تو وہی جتھ بندی اور عصبیت کام کررہی ہے جس کے خلاف تبلغ کی جاتی ہے، اسی خطرے سے بچانے کیلئے اللہ تعالیٰ نے خاص طور پر مقدمے میں مداخلت فرمائی۔
آپ ﷺ کو اجتہاد کا حق حاصل تھا : اِناانزلنا الیک الکتاب بالحق الخ، اس آیت سے پانچ باتیں ثابت ہوئیں، (1) ایک یہ کہ آنحضرت ﷺ کو ایسے مسائل میں جن میں قرآن کریم کی کوئی صریح نص نہ ہو اپنی رائے سے اجتہاد کا حق حاصل تھا اور آپ نے مہمات میں بسا اوقات فیصلے اپنے اجتہاد سے فرمائے بھی ہیں، (2) دوسری بات یہ معلوم ہوئی کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک اجتہاد وہی معتبر ہے جو قرآنی اصول اور نصوص سے ماخوذ ہو خالص اپنی رائے اور خیال معتبر نہیں (3) تیسری بات یہ معلوم ہوئی کہ آپ کا اجتہاد دوسرے ائمہ مجتہدین کے اجتہاد سے مختلف تھا اسلئے کہ ائمہ مجتہدین کے اجتہاد میں غلطی کا احتمال ہمیشہ باقی رہتا ہے بخلاف آپ ﷺ کے اجتہاد کے کہ اگر آپ سے کبھی اجتہادی خطا ہوجاتی تو حق تعالیٰ اس پر آپ کو متنبہ فرمادیتے اور حق کے مطابق کرادیتے، اور اگر آپ نے اجتہاد سے کوئی فیصلہ فرمایا اور حق تعالیٰ کی طرف سے اس میں تنبیہ وغیرہ نہیں آئی تو یہ اس بات کی علامت تھی کہ آپ کا فیصلہ صحیح ہے، (4) چوتھی بات یہ معلوم ہوئی کہ نبی ﷺ جو کچھ قرآن سے سمجھتے تھے وہ اللہ ہی کا سمجھا یا ہوا تھا اس میں غلطی کا امکان نہ ہوتا تھا بخلاف دیگر علماء مجتہدین کے، یہ بات لفظ بِمَا اَرَاکَ اللہ سے سمجھ میں آتی ہے، اسی وجہ سے جب ایک شخص نے فاروق اعظم ؓ ، سے کہا فاحکم بما اراک اللہ تو آپ نے اس کو ڈانٹا کہ یہ خصوصیت آپ ﷺ کی ہے، (5) پانچویں بات یہ معلوم ہوئی کہ کسی جھوٹے مقدمہ کی دانستہ پیروی کرنا یا اس کی تائید و حمایت کرنا سب حرام ہے۔ (معارف ملحصّا)
Ayahs 4:113–115آیت نمبر 113 تا 115
ترجمہ : اے محمد اگر آپ کے اوپر اللہ کا فضل اور حفاظت کی مہربانی نہ ہوتی تو (طُعْمَة ابن اُبَْیرق) کی قوم کی ایک جماعت نے آپ کے برحق فیصلہ کرنے سے اشتباہ میں ڈال کر بہکانے کا قصد کر ہی لیا تھام مگر دراصل یہ لوگ اپنے آپکو گمراہ کررہے ہیں اور یہ لوگ آپ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے مِن، زائدہ ہے، گمراہ کرنے کا وبال خود ان کے اوپر ہے اور اللہ تعالیٰ نے آپ پر کتاب قرآن اور حکمت کہ جس میں احکام ہیں نازل فرمایا اور اپکو وہ احکام اور مغیبات سکھائے کہ جن کو آپ نہیں جانتے تھے، اور اللہ تعالیٰ کا تیرے اوپر یہ اور اس کے علاوہ کا بڑا بھاری فضل ہے، ان لوگوں کے خفیہ مشوروں میں اکثر کوئی خیر نہیں یعنی جس میں یہ سرگوشی اور گفتگو کرتے ہیں (اس میں کوئی خیر نہیں) ہاں، اسی شخص کے مشورہ میں کہ جو صدقہ یا کار خیر کا خفیہ مشورہ کرے یا لوگوں کے درمیان اصلاح کا مشورہ کرے (خیر ہے) اور جو یہ مذکورہ کام اللہ کی رضا جوئی کے لئے کرے نہ کہ کسی اور دنیوی غرض کے لئے تو ہم اسے یقینا اجر عطا فرمائیں گے (نؤتیہ) میں یا اور نون دونوں ہیں، یعنی اللہ، اور جو شخص اس حق میں جس کو رسول لایا ہے معجزات کے ذریعہ راہ ہدایت واضح ہوجانے کے بعد (بھی) رسول کی مخالفت کرے اور جو (عام) ایمان والوں کا راستہ چھوڑ کر دوسروں کا راستہ اختیار کرے یعنی اس دین کے راستہ کو چھوڑ کر جس پر وہ ہے بایں طور کہ اس کا انکار کرے تو ہم اسے وہی کرنے دیں گے جو وہ کررہا ہے یعنی ہم اسے اسی گمراہی کا والی بنادیں گے جس کا وہ والی بنا ہے، اس طریقہ پر کہ ہم اس کو اور اس کی اختیار کردہ دنیا میں گمراہی کے درمیان آزاد چھوڑ دیں گے اور اس کو آخرت میں جہنم میں جھونک دیں گے تاکہ اس میں جلتا رہے اور وہ برا ٹھکانہ ہے۔
تحقیق و ترکیب وتسہیل وتفسیری فوائد
قولہ : لَھَمَّتْ ، یہ لَو لا فضل اللہ، کا جواب ہے۔
سوال : لولا وجوداول کی وجہ سے امتناع ثانی پر دلالت کرتا ہے مطلب یہ ہوا کہ اللہ کے فضل کی وجہ سے ان لوگوں نے آپ کو بےراہ کرنے کا ارادہ نہیں کیا، حالانکہ وہ ارادہ کرچکے تھے۔
جواب : یہاں ارادہ سے مراد وہ ارادہ ہے کہ جو مع الضلال ہو اب مطلب یہ ہوا کہ اللہ کی فضل کی وجہ سے اضلال مقصود منتفی ہوگیا۔
قولہ : مِنْ زَائِدَة، اسلئے کہ یَضُرُّ متعدی بنفسہ بدومفعول ہے تقدیر عبارت یہ ہے '' ومَا ےَضُرُّوْکَ مِن شیَ.
قولہ : مَایَتَنَا جَوْنَ فیہ، اس میں اشارہ ہے کہ نجوی مصدر بمعنی اسم مفعول ہے۔
قولہ : اِلاّ نَجْوَی، نجویٰ مضاف محذوف مان کر اشارہ کردیا کہ حذف مضاف کے بغیر مَا یَتَنَا جَوْنَ سے مَنْ اُمَرَ کا استثناء درست نہیں ہے۔
تفسیر وتشریح
عصمتِ نبی کی خصوصی حفاظت : وَلَوْ لا فضل اللہ علیک ورحمتہ (الآیة) اس آیت میں اللہ تعالیٰ کی حفاظت و نگرانی کا ذکر ہے جس کا اہتمام انبیاء (علیہم السلام) کے لئے کیا جاتا ہے، جو انبیاء (علیہم السلام) کیلئے اللہ کے فضل کا مظہر ہے۔
طائفة سے وہ لوگ مراد ہیں جو بنو اُبَْیرق کی حمایت میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں ان کی صفائی پیش کررہے تھے، جس سے یہ اندیشہ پیدا ہوچلا تھا کہ نبی ﷺ اس شخص کو چوری سے بری کردیں گے جو فی الواقع چور تھا۔
وَاَنْزَل اللہ عَلَیْکَ الکتاب والحکمة الخ اس آیت میں کتاب کے ساتھ حکمت کو بھی داخل فرماکر اس طرف اشارہ کردیا کہ حکمت جو نام ہے آپ کی سنت کا یہ بھی من جانب اللہ تعلیم کردہ ہے فرق صرف یہ ہے کہ اس کے الفاظ اللہ کی طرف سے نہیں ہوتے البتہ معانی من جانب اللہ ہی ہوتے ہیں۔
یہیں سے یہ بات بھی سمجھ میں آئی کہ وحی کی دو قسمیں ہیں متلو اور غیر متلو۔ وحی متلو قرآن ہے جس کے معنی اور الفاظ دونوں اللہ کی جانب سے ہیں اور غیر متلو حدیث رسول کا نام ہے جن کے الفاظ آنحضرت ﷺ کے اور معانی من جانب اللہ۔
لاخیرَفی نجواھم الخ یہاں سرگوشی سے وہ سرگوشی مراد ہے جو منافقین آپس میں مسلمانوں کے خلاف کرتے تھے اور صدقتہ سے مراد ہر قسم کی نیکی ہے اور اصلاح بین الناس کے لئے آپس میں مشورے بھی خیر میں شامل ہیں، احادیث میں بھی ان امور کی اہمیت اور فضیلت کی گئی ہے اور ہر نیکی کے اجروثواب اور فضیلت کے مانند اس کا اجرو ثواب بھی اخلاص نیت پر موقوف ہے، رشتہ دار و دوستوں اور باہم ناراض دیگر لوگوں کے درمیان صلح کرادینا بہت عظیم عمل ہے ایک حدیث میں اسے نفلی روزوں، نفلی صدقات و خیرات سے بھی افضل بتلایا گیا ہے (ابوداؤد) حتی کہ صلح کرانے والے کے لئے جھوٹ تک بولنے کی اجازت ہے یعنی گر ایک دوسرے کو قریب لانے کے لئے دروغ مصلحت آمیز کی ضرورت پڑے تو وہ اس میں بھی تامل نہ کرے۔ (بخاری شریف کتاب الصلح، ترمذی شریف کتاب البر)
Ayahs 4:116–126آیت نمبر 116 تا 126
ترجمہ : اللہ تعالیٰ قطعاً معاف نہ کرے گا اس بات کو کہ اس کے ساتھ شرک کیا جائے (ہاں) شرک کے علاوہ گناہ جس کے چاہے گا معاف کردے گا، اور جو اللہ کے ساتھ شرک کرتا ہے وہ حق سے دور جا پڑتا ہے مشرک اللہ کو چھوڑ کر عورتوں یعنی (دیویوں) کی بندگی (پوجا) کرتے ہیں، جیسا کہ لات کی اور عزّیٰ کی اور مناة کی، ان کی عبادت نہیں ہے مگر سرکش شیطان کی عبادت جو حد طاعت سے خارج ہونیوالا ہے بتوں کی عبادت میں مشرکوں کے شیطان کی بات ماننے کی وجہ سے اور وہ ابلیس ہے، اللہ نے اس پر لعنت فرمائی یعنی اس کو اپنی رحمت سے دور کردیا، اور وہ شیطان کہہ چکا ہے کہ میں تیرے بندوں میں سے اپنا مقرر حصہ لے کر رہوں گا (یعنی) میں ان کو اپنی اطاعت کی دعوت دوں گا، اور وسوسہ کے ذریعہ میں انھیں حق سے ضرور گمراہ کرکے رہوں گا اور میں ان میں طول حیات کی (باطل) آرزو ضرور ڈالوں گا اور یہ کہ بعث و حساب ہو نیوالا نہیں ہے، اور یہ کہ میں ان کو حکم دوں گا کہ جانوروں کے کانوں کو شگاف دیں چناچہ ایسا بحائر میں کیا گیا، (بحیرہ وہ اونٹنی کہ جس نے چار مرتبہ نر جننے کے بعد پانچویں مرتبہ مادہ جنا ہو) اور میں ان سے کہوں گا کہ اللہ کی مخلوق کو (یعنی) اس کے دین کو کفر کے ذریعہ اور حرام کردہ کو حلال کرکے اور حلال کو حرام کرکے بگاڑ دیں، اور جو شخص اللہ کو چھوڑ کر شیطان کو رفیق بنا ئیگا یعنی اس سے دوستی کرے گا اور اس کی اطاعت کرے گا، وہ یقینا کھلے نقصان میں پڑے گا، اس کے دائمی عذاب کی طرف لوٹنے کی وجہ سے، وہ ان سے زندگی بھر (زبانی) وعدے کرتا رہیگا اور ان کو دنیا میں آرزو پوری ہونے کی امید دلاتارہیگا، اور یہ کہ بعث و حساب کچھ ہو نیوالا نہیں ہے، ان سے شیطان کے وعدے سراسر فریب کاریاں ہیں یہ وہ لوگ ہیں کہ ان کا ٹھکانہ جہنم ہے جہاں سے انھیں چھٹکارہ نہ ملے گا، اور جو ایمان لائیں گے اور نیک عمل کریں گے تو ہم ان کو ایسی جنت میں داخل کریں کے جن میں نہریں جاری ہوں گی اور جن میں وہ ہمیشہ ہمیش رہیں گے اللہ کا وعدہ حق ہے یعنی اللہ نے ان سے وعدہ کیا ہے جو سراسر حق ہے اور اللہ سے زیادہ سچی بات کس کی ہے ؟ کسی کی نہیں، اور جب مسلمانوں اور اہل کتاب نے فخر کیا تو (آئندہ) آیت نازل ہوئی اور (ایمان و اطاعت) کا مدار (اے مسلمانوں) نہ تمہاری آرزؤں پر ہے نہ اہل کتاب کی آرزؤں پر بلکہ عمل صالح پر ہے، جو برے عمل کرے گا اس کو سزا دی جائیگی یا تو آخرت میں یا دنیا میں آزمائش اور محنت کے ساتھ جیسا کہ حدیث میں وارد ہے، وہ اللہ کی سوا کسی کو اپنا دوست نہ پائیگا، کہ اس حفاظت کرسکے، اور نہ مدگار کہ اس کا دفاع کرسکے، اور جو کوئی کچھ بھی نیک عمل کرے گا خواہ مرد ہو یا عورت اور مومن بھی ہو تو ایسے سب لوگ جنت میں جائیں گے (یدخلون) مجہول اور معروف دونوں ہیں، اور ان پر ذرہ برابر (یعنی) بقدر گٹھلی کے شگاف کے بھی ان پر ظلم نہ کیا جا ئیگا، اور دین میں اس سے بہتر کون ہے ؟ کوئی نہیں، جو اپنا رخ اللہ کی طرف کردے، یعنی اس کا فرمانبردار ہوجائے اور اپنا عمل (اللہ کیلئے) خالص کرلے، اور وہ محسن موحد بھی ہو اور ابراہیم راست روکے مذہب کی جو کہ ملت اسلام کے مطابق ہے مطابق ہے پیروی کرے حال یہ کہ وہ تمام ادیان سے بےرخی کرکے صحیح دین کی طرف رخ کرے، اور اللہ نے ابراہیم کو تو اپنا دوست بنالیا یعنی اس سے خالص محبت کرنے والا اور اللہ ہی کی ملک ہے جو کچھ زمینوں اور آسمانوں میں ہے ملکیت کے اعتبار سے اور تخلیق کے اعتبار سے اور مملوکیت کے اعتبار سے اور اللہ ہر شئی کا علم وقدرت کے اعتبار سے احاطہ کئے ہوئے ہے یعنی وہ اس صفت کے ساتھ ہمیشہ متصف ہے۔
تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد
قولہ : مَرِیْدًا (ن ک) صفت مشبہ، سرکش، ہر خیر سے خالی، اِنَّ اللہ لَا یَغْفِر اَنْ یُشرکَ بہ یہ کلام مستانف ہے شرک کو معاف نہ کرنے کی تاکید کے لئے لایا گیا ہے۔
قولہ : لَعَنَہ ' اللہ '، یہ شیطاناً کی دوسری صفت ہے پہلی مریدًا ہے۔
قولہ : اُمَنِّیَّنَّھُمْ ، میں ان کو امیدیں دلاؤں گا، ان کے دلوں میں لمبی لمبی تمنائیں ڈالوں گا، تمنیّة سے مضارع واحد متکلم بانون تاکید ثقیلہ۔
قولہ : یُبَتِّکُنُّ مضارع مذکر غائب بانون تاکید ثقیلہ، تَبْتیک، (تفصیل) مادہ بَتْک، وہ خوب کاٹیں گے۔
قولہ : بَحَابِٔر، بَحیرة کی جمع ہے وہ اونٹنی جو مسلسل چار مرتبہ نرجنے اور پانچوں بار مادہ جنے، ایسی اونٹنی کے کان چیر کر مشرکین بتوں کے نام پر آزاد چھوڑدیتے تھے اور اس سے خدمت لینا گناہ سمجھتے تھے، بحر کے مادہ میں چونکہ وسعت اور کثرت کے معنی ملحوظ ہیں اس لئے جس اونٹنی کے اچھی طرح کان چیر دیئے گئے ہوں اسکو بحیرہ کہتے ہیں یہ فعیل بمعنی مفعول ہے۔
قولہ : دِیْنَہ '، خلق کی تفسیر دین سے کرنے میں ایک سوال کے جواب کی طرف اشارہ ہے۔
سوال : مشرکین کا کوئی دین حق تھا ہی نہیں پھر اس کے بدلنے کا کیا سوال پیدا ہوتا ہے ؟
جواب : دین سے مراد دین فطرت ہے جو شخص کے اندر موجود ہوتا ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے '' ولا تبدیل لخلق اللہ ای لدین اللہ ''.
قولہ : یَعِدُھم، اور یُمَنِّیھِمْ ، ان دونوں کے مفعول مخدوف ہیں جن کو مفسرّ علاّم نے ظاہر کردیا ہے۔
قولہ : عَنْھا مَحِیْھا، عنھا، مخدوف کے متعلق ہے اور مَحِیصًا سے حال ہے ای کائناً عَنْھا، یَجدُؤنَ کے متعلق اس لئے نہیں ہوسکتا کہ یجدون کا صلہ عن نہیں آتا، اور نہ محیصًا کے متعلق ہوسکتا ہے اسلئے کہ محیصًا یا تو اسم مکان ہے جو کہ عمل نہیں کرتا یا مصد رہے اور مصدر کا معمول مصدر پر مقدم نہیں ہوسکتا۔
تفسیر و تشریح
اِنَّ اللہ لا یغفر اَنْ یُشْرک بہ، (الآیة) ان آیات میں یہ بات واضح کی جارہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے یہاں ایسے شخص کے لئے معافی اور رحمت کی قطعاً گنجائش نہیں جس نے شرک و کفر کیا ہو۔
شرک و کفر کی سزا دائمی کیوں ؟ یہاں بعض لوگوں کو یہ شبہ ہوا ہے کہ سزا بقدر عمل ہونی چاہیے جو جرم کفر و شرک کیا ہے وہ محدود مدت عمر کے اندر کیا ہے تو اس کی سزا غیر محدود و دائمی کیوں ہوئی ؟
جواب : یہ ہے کہ کفر و شرک کرنے والا چونکہ کفر کو کوئی جرم ہی نہیں سمجھتا بلکہ نیکی سمجھتا ہے اسلئے اس کا عزم و قصد بھی یہی ہوتا ہے کہ وہ ہمیشہ اسی حال پر قائم رہے گا، اور جب مرتے دم تک وہ اس پر قائم رہا تو اس نے اپنے اختیار کی حد تک اپنا جرم دائمی کرلیا اس لئے سزا بھی دائمی ہوئی۔
شیطان کو معبود بنا نیکا مطلب : معروف معنی میں کوئی شیطان کو معبود نہیں بناتا کہ اس کے سامنے سر بسجدہ ہو کر مراسم بندگی ادا کرتا ہو اور اس کو الوہیتہ کا درجہ دیتا ہو البتہ شیطان کو معبود بنانے کی صورت یہ ہے کہ آدمی اپنے نفس کی باگ ڈور شیطان کے ہاتھ میں دیدیتا ہے اور جدھر وہ چلاتا ہے ادھر ہی چلتا ہے، گویا کہ یہ اس کا بندہ ہے اور وہ اس کا خدا، شیطان ان سے وعدہ کرتا ہے اور ان کو تمناؤں میں الجھا دیتا ہے، انسان کو سمجھنا چاہیے کہ بہکانے اور سبز باغ دکھانے کے سوا شیطان کے پاس اور کچھ نہیں ہے، جو لوگ اس کے فریب میں مبتلا ہیں ان کا ٹھکانہ دوزخ ہے۔
مسلمانوں اور اہل کتاب کے درمیان ایک مفاخرانہ گفتگو : لَیْسَ بِا مَا نیکم ولا اَمَانی اَھْل الکتاب، ان آیات میں ایک مکالمہ کا ذکر ہے جو مسلمانوں اور اہل کتاب کے درمیان ہوا تھا، پھر اس مکالمہ پر محاکمہ کیا گیا ہے آخر میں اللہ کے نزدیک مقبول اور افضل و اعلیٰ ہونے کا ایک معیار بتایا گیا ہے۔
حضرت قتادہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ کچھ مسلمانوں اور اہل کتاب کے درمیان مفاخرت کی گفتگو ہونے لگی، اہل کتاب نے کہا ہم تم سے افضل و اشرف ہیں کیونکہ ہمارے نبی تمہارے نبی سے پہلے ہیں اور ہماری کتاب تمہاری کتاب سے پہلے ہے، مسلمانوں نے کہا ہم تم سے افضل ہیں اسلئے کہ ہمارے بنی خاتم النبین ہیں اور ہماری کتاب آخری کتاب ہے جس نے سب کتابوں کو منسوخ کردیا ہے اس پر یہ آیت نازل ہوئی '' لَیْسَ باما نیکم الخ '' یعنی یہ تفاخروتعلّی کسی کو زیب نہیں دیتی اور محض خیالات اور تمناؤں سے کوئی کسی پر افضل نہیں ہوتا بلکہ مدار اعمال پر ہے۔
Ayah 4:127آیت نمبر 127 تا 134
ترجمہ : (لوگ) آپ سے عورتوں اور میراث کے بارے میں فتوی پوچھتے ہیں آپ ان سے کہئے اللہ تم کو ان کے بارے میں فتوی دیتا ہے، اور وہ وہی ہے جو تم کو قرآن میں آیت میراث میں پڑھکر سنایا جاتا ہے اور تم کو یتیم عورتوں کے بارے میں فتوی دیتا ہے کہ جن کو تم ان کا میراث کا مقرر حصہ نہیں دیتے ہو اور اے اولیاء تم ان کی بدصورتی کی وجہ سے ان سے نکاح کرنے سے گریز کرتے ہو اور تم ان کی میراث کی لالچ کی وجہ سے ان کو نکاح کرنے سے بھی روکتے ہو، وہ تم کو فتوی دیتا ہے کہ ایسا نہ کرو، (اور تم کو) کمزور بچوں کے بارے میں (فتوی دیتا ہے) کہ تم ان کے حقوق ادا کرو اور تم کو (اس کا بھی) حکم کرتا ہے کہ تم یتیموں کے ساتھ میراث اور مہر کے معاملہ میں انصاف سے کام لو اور تم جو بھی کرو بلاشبہ اللہ تعالیٰ اس سے بخوبی واقف ہے سو وہ اس پر تم کو صلہ دے گا، اگر عورت کو اپنے شوہر کی طرف سے زیادتی کا اندیشہ ہو اس پر بالادستی رکھنے کی وجہ سے اس کو بستر سے الگ کرکے یا اس سے بغض کی وجہ سے اس کے نفقہ میں کمی کرکے یا اس کی نظر کے اس سے زیادہ خوبصورت کی طرف اٹھنے کی وجہ سے یا اس سے بےرخی کرنے کا اندیشہ ہو تو اگر دونوں آپس میں باری میں اور نفقہ میں صلح کرلیں، اس طریقہ پر کہ شوہر کو بقاء صحبت کے لئے کچھ رعایت دے اگر بیوی اس پر راضی ہوجائے تو فبہا ورنہ تو شوہر پر اس کے حق کی ادائیگی واجب ہے یا اس کو جدا کردے تو ان پر کوئی گناہ نہیں، اس میں اصل میں تاء کا صاد میں ادغام ہے، اور ایک قراءت میں یُصْلِحَا ہے اَصْلَحَ سے، اور صلح، جدائی اور نافرمانی اور بےرخی سے بہتر ہے، اور اللہ تعالیٰ نے انسانی پیدائشی فطرت کو بیان کرتے ہوئے فرمایا اور طمع ہر نفس میں شامل کردی گئی ہے یعنی شدت بخل، نفوس کو اسی پر پیدا کیا گیا ہے گویا کہ وہ بخل ہمہ وقت موجود رہتا ہے کسی وقت اس سے جدا نہیں ہوتا معنی یہ ہیں کہ عورت اپنے شوہر سے اپنے حصہ سے دست بردار ہونے کیلئے تیار نہیں ہوتی اور مرد جبکہ دوسری سے محبت کرتا ہو تو اپنی ذات کے بارے میں بیوی کو رعایت دینے کیلئے تیار نہیں ہوتا، اور اگر تم عورتوں سے حسن معاشرت کا معاملہ کرو اور ان پر ظلم کرنے سے اجتناب کرو تو جو کچھ تم کررہے ہو اللہ اس سے بخوبی واقف ہے جس کی وہ تم کو جزاء دے گا، اور تم سے یہ تو کبھی نہ ہوسکے گا کہ تم عورتوں کی محبت میں مساوات کرسکو اگرچہ تم اس کی کتنی ہی خواہش رکھتے ہو اس لئے باری اور نفقہ میں بالکل ہی ایک کی طرف مائل نہ ہوجاؤ کہ جس سے تم محبت کرتے ہو (اس کے مقابلہ میں) کہ جس سے تم کو رغبت نہیں ہے اس کو لٹکتی ہوئی چھوڑدو بایں طور کہ وہ نہ بیواؤں میں ہو اور نہ شوہر والیوں میں اور اگر باری میں عدل کے ساتھ اصلاح کرو اور ظلم سے بچو تو اللہ تعالیٰ تمہاری قلبی رغبت کو معاف کرنے والا ہے اور اس معاملہ میں تمہارے اوپر رحم کرنے والا ہے، اور اگر بیوی اور شوہر طلاق کی وجہ سے ایک دوسرے سے الگ ہوجائیں تو اللہ تعالیٰ اپنی وسعت سے ہر ایک کو دوسرے سے بےنیاز کردے گا (یعنی) اپنے فضل سے بایں طور کہ بیوی کو دوسرا شوہر عطا کردے گا اور شوہر کو دوسری بیوی، اور اللہ تعالیٰ اپنے مخلوق پر فضل میں وسعت والا اور ان کے لئے تدبیر میں حکمت والا ہے زمین اور آسمان کی ہر چیز اللہ ہی کی ملک ہے اور ہم ان لوگوں کو جن کو تم سے پہلے کتاب دی گئی کتاب بمعنی کتب ہے ہعنی یہود اور انصاری، اور تم کو بھی اے اہل قرآن حکم دیا ہے کہ اللہ سے ڈور یعنی جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے تخلیق کے اعتبار سے اور ملک کے اعتبار سے اور مملوک ہونے کے اعتبار سے لہذا تمہارا کفر اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا، اسی کی ملک ہے اور اللہ اپنی مخلوق اور اس کی عبادت سے بڑا بےنیاز اور ستودہ صفات ہے یعنی ان کے ساتھ اپنی صنعت میں محمود ہے اور اللہ کے اختیار میں ہے زمین و آسمان میں جو کچھ بھی ہے اس کو مکرر ذکر کیا ہے موجبات تقویٰ کی تاکید کے لئے، اور اللہ کارساز ہونے کے اعتبار سے کافی ہے یعنی اس بات پر شہادت کیلئے کہ جو زمین اور آسمانوں میں ہے اسی کی ملک ہے، اے لوگو، اگر اسے منظور ہو تو وہ تم کو ہلاک کر دے اور تمہاری جگہ دوسروں کو لے آئے اللہ تعالیٰ کو اس پر پوری قدرت حاصل ہے اور جو شخص اپنے عمل سے دنیا کے اجر کا خواہشمند ہو سو اللہ کے پاس دنیا اور آخرت دونوں کا اجر ہے اس کیلئے جو اس کا طالب ہو نہ کہ اس کے غیر کے پاس، تو ان میں سے کمتر کو کیوں طلب کرے ؟ اور اپنے اخلاص کے ذریعہ اعلیٰ کو کیوں طلب نہ کرے، جبکہ اس کا مطلوب اس سے حاصل ہوسکتا ہے اور اللہ تعالیٰ خوب سننے والا اور خوب دیکھنے والا ہے۔
تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فواید
قولہ : فی شَان، مضاف محذوف مان کر اشارہ کردیا کہ سوال احوال سے ہوتا ہے نہ کہ ذوات سے۔
قولہ : مِیْرَاثِھِنَّ ، یہ شان کا بیان ہے۔
قولہ : وَمَا یُتْلیٰ علیکم، اس کا عطف اللہ، پر ہے یعنی عورتوں کی میراث کے بارے میں اللہ اور قرآن کی آیت میراث جو تم کو پڑھ کر سنائی جاتی فتویٰ دیتی ہے۔
قولہ : ایضًا، اس سے بھی اشادہ ہے کہ وما یُتلیٰ ، کا عطف لفظ اللہ پر ہے۔
قولہ : دَمَامَة، بدصورتی۔
قولہ : اَنْ لاَ تَفْعَلُو اذلک، یہ أنْ تفسیر یہ ہے، اس میں اشارہ ہے کہ مایُفْتی بِہ، محذوف ہے لہٰذا فائدہ کے تام نہ ہونے کا اعتراض ختم ہوگیا۔
قولہ : وَفِی المُسْتَضْعَفِیْنَ ، فی مقدر مان کر اشارہ کردیا کہ اس کا عطف یتامیٰ النساء پر ہے۔
قولہ : تُعْطُوْ ھُمْ حُقُوْ قَھم، یہ مفتی بہ کا بیان ہے۔
قولہ : وَیَامُرُکُمّ ، اس میں اشارہ ہے کہ أنّ تقوموا، فعل مقدر کی وجہ سے منصوب ہے۔
قولہ : مَرْفُوّع بِفِعْلٍ یُفَسِّرُہ ' خَافَتْ ، اس عبارت کا مقصد یہ بتانا ہے کہ اِمْرأة، خافَتْ فعل مقدر کی وجہ سے مرفوع ہے جس کی تفسیر بعد کا خافت کو رہا ہے، تقدیر عبارت یہ ہے '' واِنْ خافَتْ اِمرأة خَافَت ''.
قولہ : اَجْمَلَ مِنْھا، ای جمیلة مِنھا .
قولہ : فیہ اِدْغَامُ التَّائِ ، یہ اس وقت ہے کہ جب کہ یصلحا کی اصل یصتلحا مانی جائے۔
قولہ : شِدَّ ةَ الْبُخْلِ ، یہ الشح کے معنی کا بیان ہے۔
قولہ : الَا نْفُسُ یہ اُحضَرت، کا مفعول اول قائم مقام نائب فاعل ہے اور الشُحَّ ، مفعول ثانی ہے۔
تفسیر وتشریح
ربط آیات : ابتداء سورت میں یتیموں اور عورتوں کے خاص احکام اور ان کے حقوق ادا کرنے کا وجوب مذکور تھا، اس کے بعد کی آیات میں عورتوں سے متعلق چند اور مسائل بیان کئے گئے ہیں۔
شان نزول : وَیَسْتَفْتُوْ نَکَ فی النسا، ان آیات کے شان نزول کے بارے میں متعدد واقعات نقل کئے ہیں اور وہ سب ہی سبب نزول ہوسکتے ہیں۔
ابن جریر، ابن منذر اور حاکم نے ابن عباس سے نقل کیا ہے، زمانہ جاہلیت میں لوگ بچوں کو بڑے ہونے تک اور عورتوں کو میراث نہیں دیا کرتے تھے، جب اسلام کا زمانہ آیا تو یہ مسئلہ صحابہ نے آپ سے دریافت کیا، تو مذکورہ آیات نازل ہوئی۔
ابن جریر اور ابن منذر نے مجاہد سے نقل کیا ہے کہ زمانہ جاہلیت میں بچوں کو اس وقت تک میراث میں حصہ نہ دیتے تھے جب تک وہ لڑنے کے لائق نہ ہوجائے اور نہ عورتوں کو کچھ دیتے تھے، زمانہ اسلام کے بعد اس بارے میں آپ سے سوال کیا گیا، تو مذکورہ آیت نازل ہوئی۔
عبدبن حمید اور ابن جریر نے ابراہیم سے نقل کیا ہے کہ اہل جاہلیت کا یہ دستور تھا کہ اگر گھر میں کوئی یتیم لڑکی بدصورت ہوتی تو نہ تو اس سے خود نکاح کرتے اور نہ دوسروں سے کرتے بلکہ تا زندگی ان کو یوں ہی رکھتے، خود شادی ان کی بد صورتی کی وجہ سے نہیں کرتے تھے اور مال کے گھر سے چلے جانے کے خوف سے کسی دوسرے سے بھی ان کا نکاح نہ کرتے تھے، اس کے مرنے کے بعد خود ہی اس کے مال کے مالک ہوجاتے تھے، بخاری و مسلم نے بھی حضرت عائشہ ؓ سے اسی مضمون کی روایت نقل کی ہے، جب اسلام کا زمانہ آیا تو لوگوں نے اس معاملہ میں آپ سے سوال کیا تو مندرجہ بالا آیات نازل ہوئیں۔
وَمَایُتلیٰ علیکم، کا عطف اللہ یفتیکم، پر ہے اور مَا یتلیٰ علیکم، سے سورة نساء کی وہ آیات مراد ہیں جن میں یتیموں اور بچوں پر ظلم کرنے سے روکا گیا ہے اور حقوق ادا کرنے کی تاکید کی گئی ہے۔
وترغبون ان تنکحوھنَّ ، اس کے دو ترجمہ کئے گئے، ایک رغبت کرنا اس صورت میں فی محذوف ہوگی اور جن حضرات نے اعراض کرنے کا ترجمہ کیا ہے انہوں نے عن محذوف مانا ہے۔
ازدواجی زندگی کے متعلق چند قرآنی ہدایات : وَاِنْ اِمْرَأة خَافَتْ مِنْ بَعْلِھا الخ ان آیات میں حق تعالیٰ شانہ نے ازدواجی زندگی میں پیش آنے والے تلخ حالات کے متعلق کچھ ہدایات اور احکام بیان فرمائے ہیں، اور ان تلخ حالات پر صحیح اصول کے مطابق قابو پانے کی سنجیدہ کوشش نہ کی جائے تو نہ صرف زوجین کے لئے دنیا جہنم بن جاتی ہے بلکہ بعض اوقات یہ گھریلورنجش اور کشمکش خاندانوں اور قبیلوں کو باہمی قتل و قتال تک پہنچا دیتی ہے، قرآن حکیم کے مردو عورت دونوں کے تمام جذبات و احساسات کو پیش نظر رکھ کر ہر فریق کو ایک ایسا نظام زندگی پیش کیا ہے جس پر عمل کرنے کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ انسان کا گھر دنیا ہی میں جنت نشان بن جاتا ہے، گھریلو رنجشیں اور تلخیاں محبت دراحت میں تبدیل ہوجاتی ہیں، اور اگر نا گزیر حالات میں جدائی کی نوبت آجائے تو وہ بھی خوشگواری اور خوش اسلوبی کے ساتھ انجام پائے۔
Ayah 4:128وَاِنْ اِمْراً ة خافت الخ اس آیت میں ان غیر اختیاری حالات کا حل پیش کیا گیا ہے جو ایسی رنجش کا سبب بن جاتے ہیں، اور ہر فریق خود کو معذور سمجھتا ہے جس کی وجہ سے حقوق واجبہ میں کوتاہی کا اندیشہ پیدا ہوجاتا ہے مثلاً ایک شوہر کا اپنی بیوی سے بدصورتی کے دل نہیں ملتا یا بیوی کا شوہر کی بد صورتی کی وجہ سے دل نہیں ملتا اور ان اسباب کو رفع کرنا نہ بیوی کے ساتھ میں ہے اور نہ شوہر کے۔
چناچہ اس صورت حال میں مرد کء لئے تو قرآن کریم نے ایک عام قانون یہ بتلایا ہے کہ '' فاِساک بمعروف او تسریح با حسان '' یعنی اگر عورت کو عقد نکاح میں رکھنا ہے تو اس سے پورے حقوق کی رعایت کے ساتھ رکھے، اور اگر اس پر قدرت نہیں تو اس کو خوش اسلوبی سے چھوڑ دے، اگر عورت بھی جدائی پر راضی ہے تو مسئلہ آسان ہے اور اگر عورت کسی وجہ سے جدائی پر آمادہ نہیں تو کوشش کی جائے کہ شوہر کسی نہ کسی طرح بیوی کو رکھنے پر راضی ہوجائے مثلاً یہ کہ عورت اپنے تمام یا بعض حقوق کا مطالبہ ترک کردے۔
قولہ : شُحَّ ، بخل، طمع کو کہتے ہیں، یہاں مراد اپنا اپنا مفاد ہے جا ہر نفس کو عزیز ہوتا ہے مطلب یہ ہے کہ طرفین کے اپنے بعض حقوق سے سبکدوش ہونے کی رعایت ملتی نظر آئے تو ممکن ہے کہ فرقین ایک دوسرے کے ساتھ رہنے پر راضی ہوجائیں، مثلاً حضرت سودہ ؓ نے بڑھاپے میں اپنی باری حضرت عائشہ ؓ کے لئے ہبہ کردی تھی جسے نبی ﷺ نے قبول فرمالیا۔ (صحیح بخاری و مسلم)
بینھُمَا، کے لفظ سے یہ اشارہ نکلتا ہے کہ میاں بیوی کے معاملات میں بہتر تو یہ ہے کہ تیسرا دخل نہ دے دونوں ہی آپس میں طے کرلیں، اسلئے کہ تیسرے شخص کے دخیل بننے سے بعض اوقات بات اور بگڑ جاتی ہے۔
Ayahs 4:129–134وَلَنْ تسّطیعوا ان تعدلو ابین النساء (الایة) اس آیت میں ایک دوسری صورت کا بیان ہے کہ ایک شخص کی ایک سے زائد بیویاں ہوں تو دلی تعلق اور محبت میں وہ سب کے ساتھ ایک سا سلوک نہیں کرسکتا اسلئے کہ محبت، دلی تعلق کا نام ہے جس پر کسی کو اختیار نہیں ہوتا، خود آنحضرت ﷺ کو بھی اپنی تمام ازواج میں سے حضرت عائشہ ؓ سے زیادہ محبت تھی، اگر یہ قلبی میلان ظاہری حقوق کے مساوات میں مانع نہ بنے تو عند اللہ قابل مواخذہ نہیں۔
حدیث : جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جس شخص کے یہاں دو بیویاں ہوں اور وہ ایک ہی کا خیال رکھتا ہو تو قیامت میں وہ شخص اس حالت میں آئیگا کہ اس کا ایک پہلو جھکا ہوا ہوگا۔
Ayahs 4:135–136آیت نمبر 135 تا 141
ترجمہ : اے ایمان والو ! انصاف پر خوب قائم رہنے والے اور اللہ کے لئے حق کی گواہی دینے والے رہو چاہے وہ شہادت خود تمہارے خلاف ہی ہو تو اپنے خلاف گواہی دو بایں طور کہ حق کا اقرار کرو اور اس کو چھپاؤ نہیں یا تمہارے والدین کے اور عزیزوں کے خلاف ہی کیوں نہ ہو، مشہور علیہ مالدار ہو یا مفلس اللہ ان دونوں سے تمہاری بہ نسبت قریب ہے اور ان دونوں کی مصلحتوں سے واقف ہے، اپنی شہادت نفس کی پیروی نہ کرو بایں طور کہ مالدار کی اس کی رضا جوئی کے لئے رعایت کرو یا فقیر پر رحم کے طور پر اس کی رعایت کرو بایں طور کہ حق سے ہٹ جاؤ، اور یہ کہ شہادت میں تحریف کرو، اور ایک قراءت میں تخفیفاً اول کے حذف کے ساتھ ہے، یا یہ کہ اداء شہادت سے اعراض کرو جو کچھ تم کررہے ہو اللہ اس سے باخبر ہے تو تم کو اس کی جزاء دے گا، اے ایمان والو ! اللہ پر اور اس کے رسول پر اور اس کی کتاب پر جو اس نے اپنے رسول محمد ﷺ پر نازل کی ہے اور وہ قرآن ہے اور ان کتابوں پر جو سابق میں رسولوں پر نازل کی ہیں ایمان پر قائم رہو اور کتاب بمعنی کتب ہے اور ایک قراءت میں دونوں فعل معروف کے صیغے کے ساتھ ہیں، اور جو کوئی اللہ اور اس کے فرشتوں اور اس کی کتابوں اور اس کے رسولوں اور قیامت کے دن سے کفر کرتا ہے وہ گمراہی میں حق سے بہت دور جاپڑا بیشک جو لوگ موسیٰ پر ایمان لائے اور وہ یہود ہیں، پھر بچھڑے کی پوجا کرکے کافر ہوگئے پھر اس کے بعد ایمان لائے پھر عیسیٰ علیہ الصلوٰة والسلام کے منکر ہوئے پھر محمد ﷺ کا انکار کرکے کفر میں ترقی کرتے گئے اللہ ہرگز ان کی مغفرت نہ کرے گا جب تک وہ کفر پر قائم رہیں گے اور نہ ان کو حق کی طرف سیدھا راستہ دکھائیگا، اے محمد منافقوں کو بتادو کہ ان کے لئے دردناک عذاب ہے اور وہ آگ کا عذاب ہے وہ لوگ جو مومنوں کو چھوڑ کر کافروں کو دوست بنائے ہوئے ہیں، اسلئے کہ ان میں قوت خیال کرتے ہیں، (الذین) منا یقین سے بدل یا صفت واقع ہے کیا ان کے پاس عزت تلاش کر رہے ہیں ؟ استفہام انکاری ہے، یعنی ان عزت نہ پائیں گے، اس لئے کہ دنیا اور آخرت میں تمام تر عزت اللہ کے پاس ہے اس کو خدا کے دوست ہی حاصل کرسکتے ہیں اور اللہ تمہارے پاس اپنی کتاب قرآن میں (نَزّل) معروف اور مجہول دونوں ہے سورة انعام میں یہ حکم نازل کرچکا ہے (اَنْ ) مخففہ ہے اس کا اسم محذوف ہے، ای اَنَّہ '، کہ جب تم (کسی مجلس میں) لوگوں کو اللہ کی آیتوں کے ساتھ کفر کرتے اور ان کا مذاق اڑاتے سنو تو تم ان کے پاس نہ بیٹھو، یعنی استہزاء کرنے والے کافروں کے پاس، تاکہ وہ کسی اور بات میں مشغول ہوجائیں، ورنہ تو یعنی اگر ان کے پاس بیٹھے تو تم بھی گناہ میں ان کے مثل ہوجاؤ گے اللہ تعالیٰ منافقوں اور کافروں سب کو جہنم میں جمع کرے گا جیسا کہ وہ دنیا میں کفر و استہزاء پر جمع ہوئے تھے (یہ) وہ (لوگ) ہیں کہ جو تمہارے لئے مصیبتوں کے منتظر ہیں تو اگر تمہیں اللہ کی جانب سے فتح اور (مال) غنیمت حاصل ہوتا ہے تو کہتے ہیں کہ دین اور جہاد میں کیا ہم تمہارے ساتھ نہیں تھے ؟ لہذا ہم کو بھی مال غنیمت سے حصہ دو اور اگر کافروں کو تمہارے اوپر فتح نصیب ہوتی ہے تو ان سے کہتے ہیں کیا ہم تم پر غالب نہیں آنے لگے تھے ؟ اور کیا ہم تمہاری گرفت اور قتل پر قادر نہیں ہوچکے تھے، مگر ہم نے تم پر رحم کیا، اور کیا یہ بات نہیں کہ ہم مسلمانوں کو پست ہمت کرکے اور ان کی خبریں تم کو پہنچا کر تمہارے اوپر مسلمانوں کو غالب آنے سے بچایا لہٰذا ہمارا تم پر احسان ہے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اللہ ہی تمہارے اور ان کے درمیان قیامت کے دن فیصلہ کردے گا اس طریقہ پر کہ تم کو جنت میں اور ان کو دوزخ میں داخل کرے گا، اور اللہ کافروں کو مومنوں پر ہرگز غلبہ نہ دے گا، یعنی ان کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے پر غلبہ نہ دے گا۔
تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد
قولہ : فَاشْھَدُوْا عَلَیْھَا، یہ لَوْ کا جواب ہے، دلالتِ ماقبل کی وجہ سے حذف کردیا گیا ہے۔
قولہ : باِنْ تُقِرّوا، اس میں اشارہ ہے کہ اپنے نفس کے خلاف گواہی دینے کا مطلب ہے اقرار کرنا۔
قولہ : المَشْھُوْدُ عَلَیْہ، اس اضافہ کا مقصد ایک سوال کا جواب ہے۔
سوال : یہ ہے کہ یکن کے اندر جو ضمیر ہے وہ والدین اور اقربین کی طرف راجع ہے جو کہ جمع ہے اور یکن کے اندر ضمیر واحد ہے لہٰذا ضمیر اور مرجع میں اتحاد نہیں ہے جو کہ ضروری ہے۔
جواب : یہ ہے کہ یکن کی ضمیر کا مرجع مشھود علیہ ہے جو کہ جنس ہونے کی وجہ سے معنی میں جمع کے ہے۔
قولہ : منکم، اس میں اشارہ ہے کہ مفضل علیہ محذوف ہے۔
قولہ : لاَنْ تَعْدِلُوْا، تتبعُوا الھدیٰ . تَتَّبِعُوْا متعدی بیک مفعول ہے اور وہ ھویٰ ہے اب یہ دوسرے مفعول کی طرف بغیر حرف کے متعدی نہیں ہوسکتا، اسی لئے لام مقدر مانا ہے تاکہ دوسرے مفعول کی طرف متعدی ہوجائے۔
قولہ : بعدہ، ای بعد عودموسیٰ ،
قولہ : اَلذَّیْنَ ، عَنیٰ محذوف کی وجہ سے منصوب بھی ہوسکتا ہے۔
تفسیر وتشریح
یٰا یُّھَا الَّذین آمنوا کونواقوّامینَ بالقسطِ شُھَدَاء لِلّٰہ، اس آیت میں اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو عدل و انصاف قائم کرنے اور حق کے مطابق گواہی دینے کی تاکید فرما رہے ہیں نہ صرف یہ کہ حق و انصاف کی روش پر چلنے کے لئے کہا جا رہا ہے بلکہ فرمایا جارہا ہے کہ حق و انصاف کے علمبردار بنو تمہارا کام صرف انصاف کرنا ہی نہیں بلکہ حق و انصاف کا جھنڈا لیکر اٹھانا ہے تمہیں اس بات ہر کمر بستہ ہونا چاہیے کہ ظلم مٹے اور اس کی جگہ عدل وراستی قائم ہو حق و انصاف کے گواہ بنو اگرچہ تمہارے انصاف و شہادت کی زد خود تمہاری ذات پر یا تمہارے والدین اور رشتہ داروں پر ہی کیوں نہ پڑے۔
یعنی تمہاری گواہی محض خدا کے لئے ہونی چاہیے نہ اس میں کسی کی روعایت ہو نہ کوئی ذاتی مفاد یا خدا کے سوا کسی کی خوشنودی تمہارے مد نظر نہ ہو، یعنی نہ مالدار کی مالداری کی وجہ سے رعایت کی جائے اور نہ کسی فقیر کے فقر کی وجہ سے سچی بات کہنے سے تم کو باز رہنا چایئے اسلئے کہ اللہ ان کا تم سے زیادہ خیر خواہ ہے لہٰذا تمہاری خیر خواہی کی ضرورت نہیں ہے لہذا خواہش نفس، عصبیت یا بغض تمہیں کسی قوم کی دشمنی اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ تم انصاف نہ کرو، جس معاشرہ میں عدل کا اہتمام ہوگا وہاں امن و سکون اور اللہ کی طرف سے رحمتوں اور برکتوں کا نزول ہوگا صحابہ کرام ؓ نے اس نکتہ کو خوب سمجھ لیا تھا، چناچہ عبداللہ ابن رواحہ ؓ کی بابت آتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے انہیں خیبر کے یہودیوں کے پاس بھیجا کہ وہاں کے پھلوں اور فصلوں کا تخمینہ لگا کر آئیں یہودیوں نے انہیں رشوت کی پیش کش کی تاکہ کچھ رعایت و نرمی سے کام لیں تو آپ نے فرمایا '' میں اس کی طرف سے نمائندہ بن کر آیا ہوں جو دنیا میں مجھے سب سے زیادہ محبوب ہے اور تم میرے نزدیک سب سے زیادہ ناپسندیدہ ہو، لیکن اپنے محبوب کی محبت اور تمہاری دشمنی مجھے اس بات پر آمادہ نہیں کرسکتی کہ میں تمہارے معاملہ میں انصاف نہ کروں '' یہ سنکر یہود نے کہا اسی عدل کی وجہ سے آسمان و زمین کا یہ نظام قائم ہے۔ (ابن کثیر)
Ayahs 4:137–138اِن الّذین آمنوا ثم کفروا ثم آمنوا ثم کفروا، بعض مفسرین کا کہنا ہے کہ یہ آیت یہود کے بارے میں نازل ہوئی ہے یہی رائے علامہ سیوطی کی ہے اور بعض حضرات نے کہا ہے کہ یہ آیت منافقین کے بارے میں نازل ہوئی ہے، سیاق وسباق سے یہی رائے زیادہ صحیح معلوم ہوتی ہے۔
Ayah 4:139عزت اللہ ہی سے طلب کرنی چاہیے : الذین یتخذون الکافرین اولیاء من دون المؤمنین، مطلب یہ ہے کہ یہ منافقین مسلمانوں جیسے عقیدے تو کیا رکھتے یہ تو ظاہری تعلقات بھی مسلمانوں کے ساتھ پسند نہیں کرتے بلکہ مسلمانوں کو چھوڑکر کافروں کو دوست بناتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ کافروں کے پاس بیٹھ کر ہم کو دنیا میں عزت ملے گی، ان کا یہ خیال بالکل غلط ہے عزت تو اللہ کے ہاتھ میں ہے جو اس کی اطاعت کرے گا اس کو عزت ملے گی، اور ایسے لوگ دنیا و آخرت دونوں میں ذلیل ہوں گے۔
Ayahs 4:140–141وقد نزل علیکم فی الکتاب، (الآ یة) یعنی اللہ اس کتاب میں تم کو پہلے ہی حکم دے چکا ہے کہ جہاں تم سنو کہ اللہ کی آیات کے خلاف کفر بکا جارہا ہے اور اس کا مذاق اڑایا جا رہا ہے وہاں نہ بیٹھو، مطلب یہ ہے کہ اگر ایک شخص خاموشی سے خدا اور اس کے رسول کا مذاق اڑاتے ہوئے سنتا ہے تو اس میں اور کافروں میں کوئی فرق باقی نہیں رہ جاتا۔
مسند احمد کی ایک روایت میں ہے کہ جو شخص اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہے وہ اس دعوت میں شریک نہ ہو جس میں شراب کا دور چلے، اس سے معلوم ہوا کہ ایسی مجلسوں اور اجتماعات میں شریک ہونا جس میں اللہ رسول کے احکام کا قولاً عملاً مذاق اڑایا جاتا ہو سخت گناہ ہے، ہاں البتہ جو شخص اس گفتگو کو ختم کرکے کوئی دوسری بات کردیں تو اس وقت ان کے ساتھ مجالست جائز ہے یا نہیں ؟ قرآن کریم نے اس کو صراحت سے بیان نہیں فرمایا، اسی لئے علماء کا اس میں اختلاف ہے بعض نے کہا ایسے وقت شرکت جائز ہے اس لئے کہ شرکت کی ممانعت کی علت مفقود ہے اور بعض حضرات نے فرمایا کہ ایسے کفارو فجار کے ساتھ بعد میں بھی مجالست درست نہیں ہے، حسن بصری کی یہی رائے ہے۔