Ayahs 4:12–13وَلَکُمْ نِصْفُ مَ اتَرَکَ اَزْوَاجُکُمْ (الآیۃ) سابقہ آیت میں نسبی رشتہ داروں کے حصوں کا بیان تھا۔ اس آیت میں دیگر مستحقین کا ذکر ہے جن کا میت سے نسبی تعلق نہیں ہے بلکہ زوجیت کا رشتہ ہے۔ اولاد کی عدم موجودگی میں بیٹے کی اولاد یعنی پوتے بھی اولاد کے حکم میں ہوتے ہیں اس پر امت کا اجماع ہے۔ تفصیل اس کی یہ ہے کہ فوت ہونے والی عورت نے اگر اولاد نہ چھوڑی ہو تو شوہر کو بعد ادائے دین اور انفاذ و صیت مرحومہ کے کل مال کا نصف ملے گا، اور باقی نصف میں دوسرے ورثاء مثلاً مرحومہ کے والدین، بھائی، بہن حسب قاعدہ حصہ پائیں گے، اور اگر مرحومہ نے اولاد چھوڑی ہو اس شوہر سے ہو یا پہلے شوہر سے ہو تو موجودہ شوہر کو مرحومہ کے مال سے اداء دَیْن اور انفاذ وصیت اور کفن دفن کے اخرجات کے بعد مال کا چوتھائی حصہ ملے گا، بقیہ دیگر مستحقین کے درمیان حسب قاعدہ تقسیم ہوگا۔ اور اگر مرنے والا شوہر ہے اور اس نے کوئی اولاد نہیں چھوڑی نہ اس بیوی سے اور نہ کسی دوسری بیوی سے تو بعد انفاذ وصیت اور اداء دَیْن بیوی کو مرحوم کے مال سے چوتھائی حصہ ملے گا بیوی خواہ ایک ہو یا ایک سے زیادہ، اور اگر مرنے والے شوہر نے اولاد بھی چھوڑی خواہ اسی بیوی سے ہو یا دوسری بیوی سے تو بعد اداء دین، اگر دَیْن ہو اور بعد انفاذ وصیت، اگر وصیت کی ہو، بیوی کو اٹھواں حصہ ملے گا بیوی خواہ ایک ہو یا ایک سے زیادہ۔
وَاِنْ کَانَ رَجُلٌ یُّورَثُ کَلٰلَۃً ، کلالہ کی متعدد تعریفیں کی گئی ہیں مشہور تعریف یہ ہے کہ جس کے اصول و فروع نہ ہوں وہ کلالہ ہے، یعنی جس کے نہ دادا پردادا ہوں اور نہ بیٹے پوتے۔ صاحب روح المعانی نے لکھا ہے کہ کلالہ اصل میں مصدر ہے جو کلال کے معنی میں ہے اور کلال کے معنی ہیں تھک جانا، جو ضعف پر دلالت کرتا ہے، کلالہ کا اطلاق اس مرنے والے پر بھی کیا گیا ہے جس نے نہ اولاد چھوڑی ہو اور نہ والد۔
حاصل کلام : حاصل کلام یہ ہے کہ اگر کوئی شخص مرد یا عورت وفات پاجائے اور اس کے نہ باپ ہو اور نہ دادا، اور نہ اولاد اور اس کے ایک بھائی یا بہن اخیافی (ماں شریک) ہو تو ان میں سے اگر بھائی ہے تو اس کو سدس (چھٹا) حصہ ملے گا اور اگر بہن ہو یا دو بھائی یا دو بہن ہوں تو یہ سب مرنے والے کے کل مال کے تہائی حصے میں شریک ہوں گے اور اس میں مذکر اور مؤنث سب برابر ہوں گے۔ علامہ قرطبی فرماتے ہیں، ولَیْسَ فی الفرائض موضع یکون فیہ الذّکر وَاْلُانثیٰ سَوَاء، اَلّا فی میراثِ الِاخْوۃ لِاُم، یعنی فرائض میں سوائے ماں شریک بھائی بہنوں کے کوئی صورت ایسی نہیں کہ جس میں مذکر اور مؤنث برابر کے حصہ دار ہوں۔
وصیت کے مسائل : اس آیت میں تین مرتبہ وصیت کا ذکر آیا ہے، میت کی تجہیز و تکفین کے بعد کل مال سے قرضہ ادا کرنے کے بعد جو بچے اس میں سے ایک تہائی مال میں وصیت نافذ ہوگی، اگر اس سے زیادہ وصیت ہو تو اس کا شرعاً اعتبار نہیں، ضابطہ کے مطابق ادائے دَیْن وصیت پر مقدم ہے اور دَیْن میں مہر بھی شامل ہے اگر ادا نہ کیا ہو۔
مسئلہ : وارث کے حق میں وصیت کرنا باطل ہے، اگر کسی نے اپنے وارث کے حق میں وصیت کی تو اس کا کوئی اعتبار نہیں وارث کے لئے میراث ہی کافی ہے۔
آپ ﷺ نے حجۃ الوداع کے خطبہ میں ارشاد فرمایا : اِن اللہ قد اَعْطٰی کلَّ ذِیْ حَقٍّ حَقَّہٗ ، فلا وَصِیَّۃ لِوَارِثٍ ۔ اللہ نے ہر حق دار کو اس کا حق دیدیا ہے پس کسی وارث کے حق میں کوئی وصیت معتبر نہیں۔
البتہ اگر دیگر ورثاء اجازت دیدیں تو وصیت نافذ ہوگی، باقی مال شرعی طریقہ پر تقسیم کیا جائیگا جس میں اس وارث کو بھی اپنے حصہ کی میراث ملے گی، بعض آیتوں میں اِلاّ اَنْ یشاء الورثۃ، کا استثناء بھی مذکور ہے۔ (کما ذکرہ صاحب الھدایۃ، معارف)
حَیْرَ مُضَارٍّ کی تفسیر : مطلب یہ ہے کہ مرنے والے کے لئے یہ جائز نہیں کہ وصیت یا دَیْن کے ذریعہ ورثاء کو نقصان پہنچائے، وصیت یا دَیْن کے ذریعہ ورثاء کو ضرر پہنچانے کی کئی صورتیں ہوسکتی ہیں مثلاً یہ کہ قرض کا جھوٹا اقرار کرلے، یا اپنے ذاتی مال کے بارے میں امانت کا اقرار کرے کہ فلاں کی امانت ہے تاکہ اس میں میراث جاری نہ ہو، یا ایک تہائی مال سے زیادہ کی وصیت کرے، یا کسی شخص پر اس کا قرض ہو جو وصول نہ ہوا ہو لیکن یہ کہ دے کہ وصول ہوگیا وغیرہ وغیرہ۔
Ayah 4:14وَمَنْ یَّعْصِ اللہَ وَرَسُوْلَہٗ وَیَتَعَدَّ حُدُوْدَہٗ (الآیۃ) یہ ایک بڑی خوفناک آیت ہے اس میں ان لوگوں کو ہمیشگی کے عذاب کی دھمکی دی گئی ہے جو اللہ تعالیٰ کے مقرر کئے ہوئے قانون وراثت کو تبدیل کریں یا ان دوسری قانونی حدود کو توڑیں جو خدا نے اپنی کتاب میں واضح طور پر مقرر کردی ہیں، لیکن سخت افسوس ہے کہ اس قدر سخت وعید کے ہوتے ہوئے بھی مسلمانوں نے بالکل یہودیوں کی سی جسارت کے ساتھ خدا کے قانون کو بدلا اور اس کی حدود کو توڑا اس قسم کی جسارت خدا کے ساتھ کھلی بغاوت ہے، کہیں عورتوں کو مستقل طور پر میراث سے محروم کیا گیا کہیں صرف بڑے بیٹے کو میراث کا مستحق قرار دیا گیا، کہیں سرے سے تقسیم میراث کے طریقہ کو ہی چھوڑ کر مشترکہ خاندانی جائداد کا طریقہ اختیار کرلیا گیا، کہیں عورتوں اور مردوں کا حصہ برابر کردیا گیا۔
Ayahs 4:15–18آیت نمبر 15 تا 22
ترجمہ : اور تمہاری عورتوں میں سے جو بےحیائی، زنا، کی مرتکب ہوں ان پر اپنوں (مسلمانوں) میں سے چار آدمی گواہ کرلو، سو اگر وہ ان پر بےحیائی کی شہادت دیدیں تو ان کو گھروں میں نظر بند کردو اور ان کو لوگوں سے ملنے جلنے سے روک دو ، یہاں تک کہ موت (ملائکہ) اس کا خاتمہ کر دے یا اللہ ان کے لئے کوئی (اور) راہ نکال دے یعنی اس سے نکلنے کی کوئی صورت نکال دے یہ حکم ابتداء اسلام میں دیا گیا تھا پھر ان کے لئے باکرہ کو سو کوڑے اور ایک سال کی جلاوطنی کی صورت میں اور محصنہ کو رجم کی صورت میں سبیل نکالدی، اور حدیث شریف میں ہے کہ جب اللہ نے حد بیان فرمائی تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ : مجھ سے لے لو مجھ سے حاصل کرلو اللہ نے ان کیلئے سبیل نکالدی۔ (رواہ مسلم) اور تم میں سے یعنی مردوں میں سے جو دو (یعنی جوڑا) فحش کام کے مرتکب ہوں یعنی زنا یا لواطت کے، تو ان کو برا بھلا کہہ کر اور جوتے مار کر تکلیف پہنچاؤ، (وَالّذانِ ) نون کی تخفیف اور تشدید کے ساتھ ہے، پھر اگر دونوں فحش کام سے توبہ کرلیں اور عمل کی اصلاح کرلیں، تو ان کو نظر انداز کردو اور ان کو اذیت نہ پہنچاؤ، بیشک اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والے کی بڑا توبہ قبول کرنے والا (اور) اس پر رحم کرنے والا ہے اور یہ حکم امام شافعی کے نزدیک حد کے ذریعہ منسوخ ہے، اگر اس سے زنا مراد ہو اور اسی طرح اگر لواطت مراد ہو، البتہ مفعول کو ان کے نزدیک رجم نہیں کیا جائیگا، اگرچہ محصن ہی کیوں نہ ہو بلکہ کوڑے مارے جائیں گے اور جلاوطن کردیا جائیگا، اور لواطت مراد لینا زیادہ ظاہر ہے، (اَلّذان یاتیانھا) کی ضمیر تثنیہ کی دلیل کی وجہ سے، اور اول قول کا قائل وہ ہے جس نے (تثنیہ) سے زانی اور زانیہ کا ارادہ کیا ہے، اور اس کی تردید اس مِن بیانیہ سے ہوتی ہے جو کہ منکُمْ ، ضمیر مذکر کے ساتھ بیان کے لئے متصل ہے (اسی طرح) ان کا اذیت اور توبہ اور درگزر میں مشترک ہونا اور یہ مذکورہ تینوں چیزیں مردوں کے ساتھ مخصوص ہیں، اس لئئے کہ عورتوں کا حکم نظر بند کرنا سابق میں گزر چکا ہے، اور توبہ جس کا قبول کرنا اللہ کے ذمہ ہے یعنی توبہ کی قبولیت کو اللہ نے اپنے فضل سے اپنے ذمہ لازم کرلیا ہے وہ تو بس ان ہی لوگوں کی توبہ ہے جو معصیت نادانی سے کر بیٹھتے ہیں (بِجھَالَۃٍ ) حال ہے یعنی اپنے رب کی نافرمانی کرتے وقت نادانی کر بیٹھتے ہیں، اور پھر جلدی ہی حالت نزع پیش آنے سے پہلے ہی توبہ کرلیتے ہیں ایسے ہی لوگوں کی اللہ توبہ قبول کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق سے واقف اور ان کے ساتھ معاملہ کرنے میں باحکمت ہے اور ان کی توبہ نہیں جو برائیاں کرتے چلے جائیں یہاں تک کہ ان میں سے جب کسی کی موت آجائے اور حالت نزع شروع ہوجائے اور حالت نزع میں پیش آنے والی چیزوں کا مشاہدہ کرلے تو کہ دے میں اب توبہ کرتا ہوں تو اس کا یہ توبہ کرنا نہ اس کے لئے مفید ہوگا اور نہ مقبول، اور نہ ان کی توبہ قبول ہوگی جو حالت کفر ہی ہر مرجائیں اور آخرت میں عذاب کے مشاہدہ کے وقت توبہ کرلیں، یہی لوگ ہیں جن کے لیے ہم نے دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے، اے ایمان والو تمہارے لیے جائز نہیں کہ تم عورتوں کی ذات کے جبراً مالک بن جاؤ، کُرھاً ، فتحہ اور ضمہ کے ساتھ دو لغت ہیں، یعنی ان کو مجبور کرکے، یہ طریقہ (زمانہ) جاہلیت میں تھا کہ لوگ اپنے قرابتدار کی بیوی کے مالک ہوجاتے تھے، اگر چاہتے تو خود ہی ان سے بلا مہر نکاح کرلیتے یا ان کا نکاح کسی غیر سے کردیتے اور اس کا مہر خود لے لیتے، یا ان کو روکے رکھتے حتی کہ وہ اپنے مال کا فدیہ دیدے یا مرجائے تو اس کے مال کے وارث ہوجاتے تھے، تو ان کو اس حرکت سے منع کردیا گیا، اور نہ تمہارے لئے یہ جائز ہے کہ تم ان کو دوسروں سے نکاح کرنے سے، نقصان پہنچانے کی غرض سے روکو حالانکہ تم کو ان سے کوئی رغبت نہیں ہے، تاکہ تم ان سے اپنے دئیے ہوئے مہر کا کچھ حصہ وصول کرو بجز اس صورت کے کہ وہ صریح بدکاری کی مرتکب ہوں یاء کے فتحہ اور کسرہ کے ساتھ یعنی جو بالکل عیاں ہے یا وہ ظاہر کرنے والی ہے، یعنی زنا یا نافرمانی، تو تم کو حق ہے کہ ان کو تکلیف پہنچاؤ یہاں تک کہ وہ تم کو کچھ معاوضہ دیں اور خلع کریں۔ اور بیویوں کے ساتھ خوش اسلوبی سے گزر بسر کرو یعنی گفتگو اور نفقہ اور شب باشی میں حسن معاشرت کا مظاہرہ کرو، اگر تم ان کو ناپسند کرو تو صبر کرو کیا عجب کہ تم ایک شئی کو ناپسند کرو اور اللہ اس میں کوئی بڑی بھلائی رکھ دے، اور ہوسکتا ہے کہ اللہ ان میں خیر رکھ دے بایں طور کہ وہ تم کو ان سے ولد صالح عطا فرمائے، اور اگر تم ایک بیوی کی جگہ دوسری بیوی کرنا چاہو یعنی ایک کو طلاق دیکر اس کی جگہ دوسری کرنا چاہو، اور تم ان بیویوں میں سے کسی کو مال کا ایک ڈھیر یعنی مال کیثر مہر میں دے چکے ہو تو اس میں سے کچھ بھی واپس مت لو، کیا تم ظلم اور کھلا گناہ ہونے کے باوجود اس کو لے لو گے (مُبَیّنًا) بمعنی، بیّنًا اور اس کا نصب حال کی وجہ سے ہے اور استفہام توبیخ کے لیے ہے، اور تم اسے کیسے لو گے ؟ یعنی کس طرح لوگے، استفہام انکاری ہے حالانکہ تم جماع کے ذریعہ آپس میں مل چکے ہو جو کہ مہر کو ثابت کرنے والا ہے اور ان عورتوں نے تم سے مضبوط عہد و پیمان لے رکھا ہے اور وہ عہد وہ ہے جس کا تم کو اللہ نے حکم دیا ہے وہ یہ کہ تم ان کو دستور کے مطابق اپنے پاس رکھو یا حسن اخلاق کے ساتھ ان کو چھوڑ دو ، اور ان عورتوں سے نکاح نہ کرو جن سے تمہارے آباء نے نکاح کیا ہے، مَا، بمعنی مَنْ ، ہے مگر جو ہوچکا سو ہوچکا یعنی سابق میں تم سے ہوگیا وہ معاف ہے یہ یعنی ان سے نکاح کرنا بےحیائی اور ناراضگی کا سبب ہے یعنی اللہ کی ناراضگی کا سبب ہے اور وہ شدید ترین بغض ہے اور یہ بڑی بری راہ ہے۔
تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد
قولہ : مِن رجال المسلمین۔ سوال : فَاسْتَشْھِدْوا عَلَیْھِنَّ اَرْبَعَۃً مِّنْکُمْ ، مفسر علام نے منکم کی تفسیر مِن رِجَالِ المسلمین سے کی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ عورتیں مخاطب نہیں ہیں حالانکہ قرآن میں عورتوں کو مردوں کے تابع قرار دے کر اکثر خطاب کیا گیا ہے مگر یہاں مرد ہی مخاطب ہیں اس کی کیا وجہ ہے ؟
جواب : ارْبَعَۃً ، یہاں اس بات کا قرینہ ہے کہ مخاطب مرد ہی ہیں نہ کہ عورتیں اسلئے کہ نجوکا مشہور قاعدہ ہے کہ عدد اگر مؤنث ہو تو اسکا معدود مذکر ہوتا ہے یہاں اَرْبعَۃ مؤنث ہے لہٰذا اس سے معدود مذکر متعین ہے اور وہ رجال ہے کہ نساء، اسی قرینہ کی وجہ سے علامہ سیوطی نے منکم کی تفسیر مَنْ رجالالمسلمین سے کی ہے۔
قولہ : ای الملائکۃ، اس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ کلام خذف مضاف کے ساتھ ہے، ای یَتَوَفّٰھُنّ ملٰئِکۃ الموت۔
سوال : حذف مضاف کی ضرورت کیوں پیش آئی ؟
جواب : اَلتوفّی ھو الموت، اب عبارت یہ ہوگی حَتّٰی یُمیْتُھَنّ الموت، اور یہ درست نہیں ہے، اسلئے کہ اس میں اسناد الشئی الی نفسہ لازم آتی ہے نیز اس میں موت کا فاعل بننا لازم آتا ہے حالانکہ موت میں فاعل بننے کی صلاحیت نہیں ہے، اسلئے مفسر علام نے الملئکۃ، محذوف مان کر بتادیا کہ یَتَوَفّٰھُنّ کا فاعل موت نہیں ہے بلکہ ملئکۃ ہے، نیز اس صورت میں اسناد الشئ الی نفسہ کا اعتراض بھی ختم ہوگیا۔
قولہ : اِلیٰ اَنْ ، اس سے اشارہ کردیا کہ یَجْعَلَ کا عطف یَتَوَفّٰھُنّ پر ہے اور اسی وجہ سے یَجْعَلَ منصوب ہے۔ قولہ : یاتِیانِھَا۔
قولہ : مِن الرّجال دونوں جگہ مذکر کے صیغے استعمال کئے ہیں۔ قولہ : او اللواطۃ، لفظ لواطۃ، کا اضافہ امام شافعی کے مسلک کے مطابق ہے اس لئے کہ ان کے یہاں لواطت کی سزا وہی ہے جو زنا کی ہے احناف کے یہاں ایسا نہیں ہے بلکہ امیر کی رائے پر موقوف ہے وہ جو سزا مناسب سمجھے وہ دے سکتا ہے۔
تفسیر و تشریح
مذکورہ دونوں آیتوں میں زنا کی سزا بیان کی گئی ہے، پہلی آیت صرف زانیہ عورتوں کے متعلق ہے جس میں ان کی سزا یہ ارشاد ہوئی ہے کہ انہیں تاحکم ثانی قید رکھا جائے، دوسری آیت میں زانی مرد اور زانیہ عورت کی سزا بیان کی گئی ہے، یعنی دونوں کو اذیت دی جائے، قرآن کریم کی ان دو آیتوں میں زنا کے لئے کوئی متعین حد بیان نہیں کی گئی بلکہ صرف اتنا کہا گیا ہے کہ ان کو اذیت دو اور زانیہ عورتوں کو گھروں میں بند کردو۔ تکلیف پہنچانے کا کوئی خاص طریقہ بیان نہیں کیا گیا، حکام کے صواب دید پر چھوڑ دیا گیا ہے ابن عباس ؓ فرماتے ہیں یہاں ” ایذاء “ کے معنی یہ ہیں کہ ان کو زبانی عار دلائی جائے اور شرمندہ کیا جائے اور عملی طور پر بھی جوتے وغیرہ سے ضرب تا دیبی کی جائے، حضرت ابن عباس ؓ کا یہ قول بھی بطور تمثیل معلوم ہوتا ہے اصل بات وہی ہے کہ حکام کی رائے پر چھوڑ دیا جائے۔
نزول کے اعتبار سے ان دو آیتوں کی ترتیب یوں ہے کہ شروع میں تو ان کو ایذاء دینے کا حکم نازل ہوا اس کے بعد خاص طور سے عورتوں کے لئے یہ حکم بیان کیا گیا کہ ان کو گھروں میں محبوس رکھا جائے یہاں تک کہ وہ عورت مرجائے اگر اس کی زندگی ہی میں آئندہ آنے والا حکم آجائے گا تو اس کو نافذ کردیا جائے گا چناچہ بعد میں سورة نور میں وہ سبیل بھی بیان کردی گئی جس کا اللہ جل شانہ نے اس آیت میں وعدہ فرمایا تھا۔
حضرت ابن عباس ؓ نے سبیل کی تفسیر اس طرح فرمائی ہے ” الرجم للثیب والجلد للبکر “ شادی شدہ کے حق میں سنگساری اور غیر شادی کیلئے کوڑے۔ (بخاری کتاب التفسیر) ۔ پہلی آیت میں فرمایا جن عورتوں سے زنا کا صدور ہوجائے تو اس کے ثبوت کے لئے چار مرد گواہ طلب کئے جائیں، یعنی جن حکام کے پاس یہ معاملہ جائے تو ان کو چاہیے کہ چار مردوں کی گواہی طلب کریں جو شہادت کی اہلیت رکھتے ہوں۔
زنا کے گواہوں میں شریعت نے دو طریقہ سے سختی کی ہے چونکہ یہ معاملہ بہت اہم ہے، اس سے عزت اور عفت مجروح ہوتی ہے اور خاندان کے لئے ننگ و عار کا مسئلہ پیدا ہوتا ہے اس لیے اولاً تو یہ شرط لگائی کہ گواہ صرف مرد ہوں گے، ثانیاً گواہ بھی چار مردوں کا ہونا ضروری قرار دیا گیا ہے، ظاہر ہے کہ یہ شرط نہایت سخت ہے، جس کا مہیا ہونا شاذ و نادر ہی ہوسکتا ہے، یہ سختی اسلئے کی گئی ہے کہ کہیں عورت کا شوہر اس کی والدہ یا بہن یا دوسری بیوی ذاتی پرخاش کی وجہ سے خواہ مخواہ الزام نہ لگائیں، یا دوسرے بدخوار دشمنی کی وجہ سے الزام اور تہمت لگانے کی جرأت نہ کرسکیں، اس لئے کہ اگر چار عینی شاہدوں سے کم شہادت دیں گے تو ان کی شہادت قابل قبول نہ ہوگی بلکہ الٹا ان کو ہی حدقذف کا سامنا کرنا پڑے گا۔
چار گواہوں کی حکمت : بعض اکابر نے چار گواہوں کی ضرورت و مصلحت بیان کرتے ہوئے فرمایا کے اس معاملہ میں چونکہ دو افراد ملوث ہوتے ہیں دو سے کم میں یہ معاملہ وجود میں نہیں آسکتا تو گویا یہ ایک معاملہ تقدیراً دو معاملوں کے حکم میں ہے، اور ہر معاملہ دو گواہوں کا تقاضہ کرتا ہے لہٰذا اس کے لئے چار گواہ ضروری ہیں۔ آیت کے آخر میں فرمایا کہ اگر وہ توبہ کرلیں اور اپنی اصلاح کرلیں تو ان سے تعرض مت کرو اس کا مطلب یہ ہے کہ سزا پانے کے بعد اگر انہوں نے توبہ کرلی اور اپنے اعمال کی اصلاح کرلی تو اب انہیں ملامت مت کرو اور مزید سزا مت دو ، یہ مطلب نہیں کہ توبہ سے سزا بھی معاف ہوگئی اسلئے کہ یہ توبہ سزا کے بعد مذکور ہے جیسا کہ فاء کی تفریع سے ظاہر ہے، ہاں اگر توبہ نہ کی ہو تو سزا کے بعد ملامت کرسکتے ہیں۔
مفسر علام کو ان دونوں آیتوں کے ظاہری فرق سے غلط فہمی ہوئی ہے کہ پہلی آیت منکوحہ عورتوں کے بارے میں ہے اور دوسری آیت غیر شادی شدہ مرد و عورت کے بارے میں ہے مگر اس کی وزنی دلیل نہیں ہے یہ ایک کمزور تفسیر ہے، اور اس سے بھی زیادہ کمزور بات وہ ہے جو اصفہانی نے لکھی ہے کہ پہلی آیت عورت کے ناجائز تعلق کے بارے میں ہے اور دوسری آیت مرد اور مرد کے ناجائز تعلق کے بارے میں ہے، شاید اصفہانی کی نظر اس حقیقت کی طرف نہیں گئی کہ قرآن انسانی زندگی کے لئے قانون و اخلاق کی شاہ راہ بتاتا ہے اور ان ہی مسائل سے بحث کرتا ہے جو شاہ راہ پر پیش آتے ہیں رہی گلیوں اور پگڈنڈیوں کی بات تو قرآن ان کی طرف توجہ نہیں کرتا اور ان پر پیش آنے والے ضمنی مسائل سے بحث کرنا کلام شاہانہ کے لئے موزوں بھی نہیں ہے، ایسی چیزوں کو اجتہاد کے لئے چھوڑ دیا ہے یہی وجہ ہے کہ عہد نبوت کے بعد جب یہ سوال پیدا ہوا کہ مرد اور مرد کے ناجائز تعلق پر کیا سزا دی جائے تو صحابہ کرام میں سے کسی نے بھی یہ نہ سمجھا کہ سورة نساء کی اس آیت میں اس کا حکم موجود ہے۔
غیر فطری طریقہ سے قضاء شہوت کا حکم : قاضی ثناء اللہ پانی پتی (رح) تعالیٰ تفسیر مظہری میں لکھتے ہیں کہ میرے نزدیک ” اَلَّذِانِ یَاآتِیَانِھَا “ کا مصداق وہ لوگ ہیں جو غیر فطری طریقہ پر قضاء شہوت کرتے ہیں یعنی استلذاذ بالمثل کے مرتکب ہوتے ہیں۔
قاضی صاحب کے علاوہ نے بھی اس قول کو لیا ہے قرآن مجید میں چونکہ لفظ الّذَانِ یَأتِیانِھَا، موصول اور صلہ دونوں مذکر کے لحاظ سے ہیں اسلئے ان حضرات کا یہ قول بعید نہیں ہے، اور جن حضرات نے زانی اور زانیہ مراد لیا ہے انہوں نے بطور تغلیب مذکر کا صیغہ زانیہ کیلئے بھی شامل رکھا ہے تاہم موقع کی مناسبت سے استلذاذ بالمثل کی حرمت و شدت اور اس کی تعزیر کا ذکر اس جگہ بےجا نہ ہوگا، اس قبیح فعل کیلئے کسی متعین حد کے مقرر کرنے میں تو فقہاء کا اختلاف ہے جس کی تفصیل کتب فقہ میں موجود ہے تاہم اس کیلئے شدید سے شدید سزائیں منقول ہیں مثلاً آگ میں جلا دینا، دیوار سے گرا کر مار دینا، سنگسار کردینا، تلوار سے قتل کردینا۔
احادیث و آثار سے اس سلسلہ میں جو کچھ ثابت ہے اس میں سے بطور نمونہ کچھ نقل کیا جاتا ہے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق میں سے سات قسم کے لوگوں پر سات آسمانوں کے اوپر سے لعنت بھیجی ہے اور ان سات میں سے ایک پر تین تین دفعہ لعنت بھیجی ہے اور باقی پر ایک دفعہ، فرمایا ملعون ہے وہ شخص جو قوم لوط والا عمل کرتا ہے۔ (الترغیب والترھیب) حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے فرمایا رسول اللہ ﷺ نے : جس کو تم قوم لوط کی طرح غیر فطری حرکت کرتا ہوا دیکھ لو تو تم فاعل دونوں کو مار ڈالو۔
حافظ ذکی الدین نے ترغیب و ترہیب میں لکھا ہے کہ چار خلفاء ابوبکر صدیق ؓ ، حضرت علی ؓ ، حضرت عبد اللہ بن زبیر ؓ اور ہشام بن عبد الملک (رح) تعالیٰ نے اپنے زمانوں میں غیر فطری حرکت والوں کو آگ میں جلا ڈالا۔ مندرجہ بالا روایت استلذاذ بالجنس سے متعلق تھی، روایات میں عورتوں کے ساتھ غیر فطری فعل کرنے پر بھی شدید ترین وعیدیں آئی ہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ اس مرد کی طرف رحمت کی نگاہ سے نہیں دیکھے گا جو مرد عورت کے ساتھ غیر فطری فعل کرے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : وہ شخص ملعون ہے جو غیر فطری طریقہ سے بیوی کے ساتھ جماع کرتا ہے۔
لفظ سُوْءًا اور توبہ کی وضاحت : کیا قصداً کیا ہوا گناہ معاف نہیں ہوتا ؟ سابقہ آیت سے طبائع غیر سلیم کے لئے ہر قسم کی بدعملی کی گنجائش نکل سکتی ہے، اور وہ اپنے دل میں یہ کہہ سکتے تھے کہ جب توبہ قبول ہو ہی جائے گی تو پھر اطمینان سے ہم ہر قسم کے فسق و فجور پڑے رہ سکتے ہیں، جب مرنے لگیں گے تو بہ کرلیں گے، اس خدشہ کو دور کرنے کے لئے ضرورت تھی کہ قبول توبہ کے قیود و شرائط کو صاف کردیا جائے، سُوْءً ایک جامع لفظ ہے گناہ کبیرہ اور صغیرہ دونوں کو شامل ہے۔
شریعت میں توبہ کی حقیقت یہ ہے کہ ماضی پر ندامت ہو اور مستقبل کیلئے ترک کا عزم ہو، اور یہاں توبہ سے مراد قبول توبہ ہے۔ توبہ کے معنی پلٹنے اور رجوع کرنے کے ہیں گناہ کے بعد بندہ کا خدا سے توبہ کرنا یہ معنی رکھتا ہے کہ ایک غلام جو اپنے آقا کا نافرمان بن کر اس سے منہ پھیر گیا تھا اب اپنے کئے پر پشیمان ہے اور اطاعت و فرمانبرداری کی طرف پلٹ آیا ہے، اللہ نے اس آیت میں فرمایا ہے کہ میرے یہاں معافی صرف ان بندوں کیلئے ہے جو قصداً نہیں بلکہ نادانی کی بنا پر قصور کرتے ہیں اور جب آنکھوں پر سے جہالت کا پردہ ہٹتا ہے تو شرمندہ ہو کر اپنے قصور کی معافی مانگ لیتے ہیں ایسے بندے جب بھی اپنی غلطی پر نادم ہو کر اپنے آقا کی طرف پلٹیں گے اس کا دروازہ کھلا پائیں گے۔
آیت میں جہالت سے یہ مراد نہیں ہے کہ اس کو گناہ ہونے کی خبر نہ ہو یا گناہ کا قصد وار ادہ نہ ہو بلکہ مراد یہ ہے کہ اس گناہ کے انجام بد اور اخروی عذاب سے غفلت اس گناہ پر اقدام کا سبب ہوگئی، اگرچہ گناہ کو گناہ جانتا تھا اور قصداً ارادہ بھی کیا۔ یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ اس جگہ جہالت کا لفظ حماقت اور بےوقوفی کے معنی میں ہے، اس کی نظیر سورة یوسف میں ہے، حضرت یوسف (علیہ السلام) نے اپنے بھائیوں سے فرمایا ” ھَلْ عَلِمْتُمْ مَّا فَعَلْتُمْ بِیُوْسُفَ وَاَخِیْہِ اِذْ اَنْتُمْ جَاھِلُوْنَ “ اس میں بھائیوں کو جاہل کہا گیا ہے، حالانکہ انہوں نے جو کام کیا وہ کسی خطاء یا نسیان سے نہیں بلکہ قصداً جان بوجھ کر کیا تھا مگر اس فعل کے انجام سے غفلت کے سبب ان کو جاہل کہا گیا ہے۔ ابو العالیہ اور قتادہ نے نقل کیا ہے کہ صحابہ کرام اس پر متفق تھے کہ ” کُلُ ذَنْبٍ اَصَابَہٗ عَبدٌ فَھَوَ جَھَالَۃ عمدًا کان اوغیرہٗ “ یعنی بندہ جو گناہ کرتا ہے خواہ بلاقصد ہو یا بالقصد بہرحال جہالت ہے۔
ثُمَّ یَتُوْبُوْنَ مِنْ قَرِیْبٍ ، آیت مذکور میں ایک بات قابل غور یہ ہے کہ اس میں قبول توبہ کیلئے یہ شرط بتلائی کی قریب زمانہ ہی میں توبہ کرلے، توبہ کرنے میں دیر نہ کرے اس میں قریب کا کیا مطلب ہے ؟ اور کتنا زمانہ قریب میں داخل ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے اس کی تفسیر ایک حدیث میں خود اس طرح آئی ہے۔ اِنّ اللہ یَقْبَلُ توبَۃَ الْعَبْدِ مَا لَمْ یُغَرْغِر، اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی توبہ اس وقت تک قبول فرماتے ہیں جب تک اس پر موت اور نزع روح کا غر غرہ طاری نہ ہوجائے، قریب کی اس تفسیر سے جو خود رسول اللہ ﷺ سے منقول ہے معلوم ہوتا ہے کہ انسان کی پوری عمر کا زمانہ قریب ہی میں داخل ہے، موت سے پہلے پہلے جو توبہ کرلی جاوے قبول ہوگی، البتہ موت کے وقت کی توبہ قبول نہیں۔
ایں درگہ ما درگہ نومیدی نیست صدبار اگر توبہ شکستی باز آ
البتہ توبہ ان کے لئے نہیں ہے جو اپنے خدا سے بےخوف اور بےپروا ہو کر تمام عمر گناہ کئے چلے جائیں اور پھر عین اس وقت جبکہ موت کا فرشتہ سامنے آکھڑا ہو معافی مانگنے لگیں، اللہ تعالیٰ بندے کی توبہ اسی وقت تک قبول کرتا ہے جب تک آثار موت شروع نہ ہوں کیونکہ امتحان کی مہلت جب پوری ہوگئی اور کتاب زندگی ختم ہوچکی صحیفہ اعمال بند کردیا گیا تو اب پلٹنے کا کونسا موقعہ ہے۔ اسی طرح جب کوئی شخص کفر کی حالت میں دنیا سے رخصت ہوجائے اور دوسری زندگی کی سرحد میں داخل ہو کر اپنی آنکھوں سے دیکھ لے کہ معاملہ اس کے برعکس ہے جو وہ دنیا میں سمجھتا رہا تو اس وقت معافی مانگنے کا کوئی موقع نہیں۔
امام غزالی نے احیاء العلوم میں فرمایا ہے کہ گناہوں پر اقدام کے تین درجے ہیں، (1) یہ کہ کسی گناہ کا کبھی ارتکاب نہ ہو یہ تو فرشتوں کی خصوصیت ہے یا انبیاء (علیہم السلام) کی، (2) یہ کہ گناہوں پر اقدام کرے اور پھر ان پر اصرار جاری رکھے نہ ان پر کبھی ندامت ہو اور نہ کبھی ترک کا خیال آئے، یہ درجہ شیطان کا ہے۔ (3) یہ ہے کہ اگر گناہ سرزد ہوجائے تو فوراً اس پر ندامت ہو اور آئندہ اس کے ترک کا پختہ عزم ہو، یہ درجہ انسان کا ہے۔
Ayahs 4:19–21یٰآیُّھَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا لَایَحِلُّ لَکُمْ اَنْ تَرِثُوا النِّسَآءَ ، عرب جاہلیت میں میت کی جائداد کی طرح اس کی بیوی بھی سوتیلے لڑکوں کے ورثہ میں آجاتی تھی اور یہی دستور یونانی اور رومی تمدن کے بھی کسی دور میں رہ چکا ہے (ماجدی) عرب جاہلیت میں وارث اگر چاہتا تو ان سے جبراً خود نکاح کرلیتا یا دوسروں کے نکاح میں دیدیتا گار چاہتا تو کسی سے بھی نکاح کی اجازت نہ دیتا اور ساری عمر یوں ہی گزارنے پر مجبور کردیتا، اسلام نے ظلم کے ان تمام طریقوں سے منع کیا ہے، عرب جاہلیت میں ایک ظلم عورت پر یہ بھی کیا جاتا تھا کہ اگر شوہر کو وہ ناپسند ہوتی اور وہ اس سے چھٹکارا حاصل کرنا چاہتا تو از خود اس کو طلاق نہ دیتا بلکہ اسے خوب تنگ کرتا تاکہ وہ مجبور ہو کر حق مہر یا خاوند نے اسے کچھ دیا ہوتا ا از خود واپس کرکے اس سے خلاصی حاصل کرنے کو ترجیح سے اسلام نے اس حرکت کو بھی ظلم قرار دیا ہے۔
فَاِنْ کَرِھْتُمُوْھُنَّ فَعَسٰی اَنْ تَکْرَھُوْا (الآیۃ) بیوی کے ساتھ حسن معاشرت کا وہ حکم ہے جس کی قرآن نے بڑی تاکید کی ہے اور احادیث میں نبی کریم ﷺ نے بھی اس کی بڑی وضاحت اور تاکید کی ہے، ایک حدیث میں آیت کے اسی مفہوم کو یوں بیان کیا گیا ہے۔ لایَفْرُکْ مؤمن مؤمنۃ اِن سَخِطَ منھا خُلْقًا رَضِیَ مِنْھَا آخَرَ ۔ (صحیح مسلم کتاب الرضاع)
مومن (شوہر) مومنہ (بیوی) سے بغض نہ رکھے اگر اس کی ایک عادت اسے ناپسند ہے تو اس کی دوسری عادت پسندیدہ بھی ہوگی، مطلب یہ ہے کہ بےحیائی اور نشوز و عصیان کے علاوہ اگر بیوی میں کچھ اور کو تاہیاں ہوں جن کی وجہ سے شوہر اسے ناپسند کرتا ہو تو اسے جلد بازی کا مظاہرہ کرتے ہوئے طلاق نہ دے بلکہ صبر و برداشت سے کام لے، ہوسکتا ہے اللہ تعالیٰ اس میں سے اس کیلئے خیر کثیر پیدا فرما دے یعنی نیک اولاد دے یا اس کی وجہ سے اللہ اس کے کاروبار میں برکت ڈال دے۔
وَکَیْفَ تَأْخُذُوْنَہٗ (الآیہ) خود طلاق دینے کی صورت میں حق مہر واپس لینے سے نہایت سختی کے ساتھ روک دیا گیا ہے، قنطار خزانے اور مال کثیر کو کہتے ہیں یعنی کتنا بھی حق مہر دیا ہو واپس نہیں لے سکتے، اگر ایسا کرو گے تو یہ ظلم اور کھلا گناہ ہے۔
Ayah 4:22آیت نمبر 22
ترجمہ : اور تم پر تمہاری ماؤں سے نکاح کرنا حرام کردیا گیا ہے اور اس حکم میں دادیاں اور نانیاں بھی شامل ہیں، اور تمہاری بیٹیاں اور اس میں پوتیاں بھی داخل ہیں اگرچہ نیچے تک ہوں، اور علاتی اور اخیافی بہنیں (اور حقیقی بہنیں) تمہارے لئے حرام کردی گئی ہیں، اور تمہاری پھوپھیاں یعنی تمہارے باپ دادوں کی بہنیں اور تمہاری خالائیں یعنی تمہاری ماؤں اور دادیوں کی بہنیں اور بھتیجیاں اور بھانجیاں اور اس میں ان کی لڑکیاں بھی شامل ہیں، اور تمہاری وہ مائیں جنہوں نے تم کو دو سال مکمل ہونے سے پہلے پانچ گھونٹ دودھ پلایا ہو جیسا کہ حدیث نے اس کو بیان کیا ہے، اور تمہاری رضاعی بہنیں، اور ان کے ساتھ ازروئے حدیث رضاعی بیٹیاں بھی لاحق کردی گئی ہیں اور وہ ایسی لڑکیاں ہیں جن کو ان کی موطوئہ نے دودھ پلایا ہو، اور (رضاعی) پھوپیاں اور خالائیں، اور (رضاعی) بھتیجیاں اور (رضاعی) بھانجیاں (اس قاعدہ کی رو سے) کہ جو نسب سے حرام ہوجاتی ہے وہ رضاعت سے بھی حرام ہوجاتی ہے، (رواہ البخاری و مسلم) اور تمہاری خوش دامنیں، اور تمہاری ربیبائیں، رَبَائب رَبیْبَۃ کی جمع ہے اور وہ اس کی بیوی کی لڑکی ہے دوسرے شوہر سے، کہ جو تمہاری پرورش میں ہوں یعنی جن کی تم پرورش کرتے ہو، (أیْ حجورکم) صفت غالب کے اعتبار سے ہے، لہٰذا اس کے مفہوم مخالف کا اعتبار نہیں ہے، (یعنی اس قید کا کوئی اعتبار نہیں ہے) (اور) ان بیویوں سے ہوں کہ جن سے تم ہم بستر رہ چکے ہو یعنی ان سے جماع کرچکے ہو لہٰذا اگر تم نے ان سے جماع نہ کیا ہو تو ان کی بیٹیوں سے نکاح کرنے میں تمہارے لئے کوئی گناہ نہیں ہے، جبکہ تم بیویوں کو الگ کردو، اور تمہارے حقیقی بیٹوں کی بیویاں بخلاف ان بیٹوں کی بیویوں کے کہ جن کو تم نے متبنّٰی بنا لیا ہے تمہارے لئے ان کی بیویوں سے نکاح جائز ہے۔ اور یہ کہ تم دو نسبی یا رضاعی بہنوں کو نکاح میں جمع کرو (حرام ہے) اور ازروئے حدیث بیویوں اور ان کی پھوپھیوں اور ان کی خالاؤں کو بیک وقت جمع کرنا حرام کردیا گیا ہے۔ ہاں، ہر ایک سے الگ الگ نکاح درست ہے۔ اور ان کا مالک ہونا بھی درست ہے مگر وطی ان میں سے ایک ہی سے کرے۔ البتہ جو ہوچکا سو ہوچکا زمانہ جاہلیت میں مذکورہ میں سے بعض کے ساتھ نکاح سے، لہٰذا تمہارے لئے اس میں کوئی گناہ نہیں ہے۔ بیشک اللہ تعالیٰ اس کو معاف کرنے والا ہے جو ممانعت سے پہلے تم سے ہوچکا اس معاملہ میں تم پر رحم کرنے والا ہے۔
تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد
قولہ : اَنْ تَنْکِحُوْھُنّ اس اضافہ کا مقصد ایک سوال کا جواب ہے۔
سوال : حُرِّمَتْ عَلیکم اُمَّھٰتکم، میں حرمت کی نسبت امھات کی ذات کی طرف کی گئی ہے حالانکہ ذوات کی حرمت کوئی معنی نہیں ہیں اسلئے کہ حرمت و حلت افعال کی صفت ہیں۔
جواب : جواب کا حاصل یہ ہے کہ امھات کی حرمت سے ان سے نکاح کی حرمت مراد ہے چونکہ نکاح متبادر الی لفہم ہے اسلئے حذف کردیا گیا ہے، اسلئے کہ جو وصف اہم مقصود ہوا کرتا ہے وہ متبادر الی الفہم ہوا کرتا ہے، جیسا کہ حُرِّمَتْ عَلَیْکُمْ الْمَیْتَۃُ ظاہر ہے کہ مراد اس کا کھانا ہے نہ کہ نفس میتہ اور مثلاً حُرِّمِتْ عَلَیْکم الخمرُ ، مراد شرب خمر کی حرمت ہے نہ کہ ذات حرمت۔
قولہ : مَوْطوئتہٗ ای موطوءۃ الرجل۔ قولہ : حلَائل۔ بیویاں حَلِیْلَۃ، کی جمع ہے اور یہ حَلّ سے مشتق ہے جس کے معنی گرہ کھولنے، اترنے اور حلال ہونے کے ہیں چونکہ شوہر اور بیوی ایک دوسرے کا ازار کھولتے ہیں اور ایک دوسرے کے ساتھ اترتے ہیں اور ایک دوسرے کیلئے حلال ہیں اسلئے حلیل اور حلیلۃ کہلاتے ہیں۔
اللغۃ والبلاغۃ
الرَّبائب : جمع ربیبۃ، وھی بنت الزوجۃ من غیرہ۔ الحجور : جمع حَجْرٍ بفتح الحاء وکسرھا، گود، تربیت، پرورش، فی حجورکم، تمہاری پرورش میں۔ الکنایۃ فی قولہ ” دَخَلْتُمْ بِھِنَّ “ فھِیَ کنایۃ عن الجماع اَوِالْخَلوۃِ ۔
الُامّھات، جمع اُمّ فالھاءُ زائدۃٌ فی الجمع فرقاً بین العقلاء وغیرھم یقال فی العقلاء امھات وفی غیرھم اُمَات، اُخت وبنت، اَصْلھما اَخْوٌ وبَنْوٌ، حذفت واؤھما وعوض عنھا التاء۔
تفسیر و تشریح
وَلَاتَنْکِحُوْا مَا نَکَحَ اَبَآءُکُمْ ، زمانہ جاہلیت میں اس میں کوئی باک نہیں تھا کہ باپ کے مرنے کے بعد اس کی بیوی سے نکاح کرلیتے تھے، اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اس بےشرمی اور بےحیائی کے کام سے منع فرمایا ہے اور اس کو اپنی ناراضگی کا سبب بتایا ہے ظاہر ہے کہ یہ کیسی اخلاق کی موت اور کردار کا دیوالیہ پن ہے کہ جس کو ایک عرصہ تک ماں کہتے رہے اسکو باپ کی موت کے بعد ہی بیوی بنا لیا
مسئلہ : آیت شریفہ میں باپ کی منکوحہ سے نکاح حرام قرار دیا گیا ہے، اس میں اس بات کی قید نہیں لگائی کہ باپ نے اس سے وطی بھی کی ہو، لہٰذا کسی عورت سے اگر باپ کا عقد بھی ہوجائے تو اس عورت سے بیٹے کیلئے نکاح کبھی حلال نہیں، اسی طرح بیٹے کی بیوی سے باپ کا کبھی نکاح کرنا درست نہیں، اگرچہ بیٹے کا صرف نکاح ہی ہوا ہو۔ قال الشامی، وتحرم زوجۃ الاصل والفرع بمجرد العَقْدِ دَخَلَ بِھَا اَوْلاَ ۔ مسئلہ : اگر باپ نے کسی عورت سے زنا کرلیا تو بھی بیٹے کو اس عورت سے نکاح کرنا حلال نہیں ہے۔
Ayah 4:23لفظ اُمّھَاتُکم کے عموم میں دادیاں اور نانیاں سب داخل ہیں، اسی طرح بنْتکم، میں اپنی صلبی لڑکیاں اور لڑکے کی لڑکی اور لڑکی کی لڑکی بھی حرام ہے۔ خلاصہ یہ کہ بیٹیم پوتی، پڑپوتی، نواسی پڑنواسی ان سب سے نکاح حرام ہے، اور سوتیلی لڑکی جو دوسرے شوہر کی ہو اور بیوی ساتھ لائی ہو اس سے نکاح کرنے نہ کرنے میں تفصیل ہے جو آگے آرہی ہے اور جو لڑکا لڑکی صلبی نہ ہو بلکہ گود لے کر پال لیا ہو ان سے اور ان کی اولاد سے نکاح جائز ہے بشرطیکہ کسی دوسرے طریقہ سے حرمت نہ آئی ہو، اسی طرح اگر کسی شخص نے کسی عورت سے زنا کیا تو اس نطفہ سے جو لڑکی پیدا ہو وہ بھی بیٹی کے حکم میں ہے، اس سے بھی نکاح درست نہیں۔
وَاَخَوَاتُکُمْ ، اپنی حقیقی بہن سے نکاح حرام ہے، اور علاتی اور اخیافی بہن سے بھی نکاح حرام ہے۔ وَعَمّٰتُکُمْ ، اپنے باپ کی حقیقی بہن نیز علاقی یا اخیافی بہن ان تینوں سے نکاح حرام ہے غرضیکہ تینوں قسم کی پھوپھیوں سے نکاح نہیں ہوسکتا۔ وَخٰلٰتَکُمْ ، اپنی والدہ کی بہن (خالہ) خواہ حقیقی ہو یا علاقی یا اخیافی کسی سے بھی نکاح نہیں ہوسکتا۔ وَبَنٰتُ الْأَخ، بھائی کی لڑکیوں یعنی بھتیجیوں سے بھی نکاح حرام ہے خواہ حقیقی ہوں یا علاقی واخیافی۔ وَبَنٰتُ الْاُخْتِ ، بہن کی لڑکیوں یعنی بھانجیوں سے بھی نکاح حرام ہے اور یہاں بھی وہی تعمیم ہے کہ خواہ حقیقی بھانجی ہو یا علاقی واخیافی۔
وَاُمَّھٰتُکُمُ الّٰتِی اَرْضَعْنَکُمْ ، اور جن عورتوں کا دودھ تم نے پیا ہے اگرچہ وہ حقیقی مائیں نہ ہوں وہ بھی حرمت نکاح کے بارے میں والدہ کے حکم میں ہیں اور ان سے بھی نکاح حرام ہے تھوڑا دودھ پیا ہو یا زیادہ ایک مرتبہ یا متعدد بار، فقہاء کی اصطلاح میں اس کو حرمت رضاعت سے تعبیر کرتے ہیں۔
حرمت رضاعت کی مدت : یہ بات یاد رکھنا ضروری ہے کہ حرمت رضاعت اسی زمانہ میں دودھ پینے سے ثابت ہوتی ہے جو دودھ پینے کا زمانہ ہوتا ہے، حضور ﷺ کا ارشاد ہے ” اِنَّمَا الرضاعَۃُ مِنَ المجاعَۃِ “ یعنی رضاعت سے جو حرمت ثابت ہوگی وہ اسی زمانہ کے دودھ پینے سے ہوگی جس زمانہ میں دودھ پینے سے بچے کا نشو و نما ہوتا ہے۔ (بخاری و مسلم) اور یہ مدت امام ابوحنیفہ (رح) تعالیٰ کے نزدیک بچے کی پیدائش سے لیکر ڈھائی سال تک ہے اور دیگر فقہاء کے نزدیک جس میں امام ابوحنیفہ کے مخصوص شاگرد امام ابویوسف اور امام محمد رحمہا اللہ تعالیٰ بھی ہیں اس بات کے قائل ہیں کہ اس مدت کے بعد دودھ پینے سے حرمت رضاعت ثابت نہیں ہوتی۔
وَاَخَوَاتُکُمْ مِّنَ الرَّضَاعَۃِ ، یعنی رضاعت کے رشتہ سے جو بہن ہے اس سے بھی نکاح کرنا حرام ہے تفصیل اس کی یوں ہے کہ جب کسی لڑکے یا لڑکی نے ایام رضاعت میں عورت کا دودھ پی لیا تو وہ عورت ان کی رضاعی ماں بن گئی، اور اس عورت کا شوہر ان کا رضاعی باپ بن گیا، اور اس عورت کی بہنیں ان کی خالائیں بن گئیں اور اس عورت کے جیٹھ دیور ان بثوں کے رضاعی چچا بن گئے، اور اس عورت کے شوہر کی بہنیں ان بچوں کی پھوپھیاں بن گئیں، اور ان میں باہم حرمت رضاعت ثابت ہوگئی، نسب کے رشتہ سے جو نکاح آپس میں حرام ہے، رضاعت کے رشتہ سے بھی حرام ہوجاتا ہے، آپ ﷺ کا ارشاد ہے ” اِنَّ اللہ حَرّمَ مِنَ الحضانۃ مَا حَرّم مِنَ النسب۔ (مشکوۃ) مسئلہ : جس طرح رضاعی بہن سے نکاح نہیں ہوسکتا رضاعی بھانجی سے بھی نکاح نہیں ہوسکتا۔
مسئلہ : رضاعی بھائی یا رضاعی بہن کی نسبی ماں سے نکاح جائز ہے اور نسبی بہن کی رضاعی ماں سے بھی نکاح جائز ہے اور رضاعی بہن کی نسبی بہن اور نسبی بہن کی رضعی بہن سے بھی نکاح جائز ہے۔
مسئلہ : منہ یا ناک کے ذریعہ ایام رضاعت میں دودھ اندر جانے سے حرمت ثابت ہوجاتی ہے اور اگر اور کسی راستہ سے دودھ پہنچا دیا جائے یا دودھ کا انجکشن لگا دیا جائے تو حرمت رضاعت ثابت نہ ہوگی۔ (معارف القرآن)
مسئلہ : دودھ اگر دوا میں یا بکری یا گائے بھینس کے دودھ میں ملا ہوا ہو تو اس سے حرمت رضاعت اس وقت ثابت ہوگی جب عورت کا دودھ غالب یا برابر ہو لیکن اگر عورت کا دودھ کم ہے تو حرمت ثابت نہ ہوگی۔
مسئلہ : اگر مرد کے دودھ نکل آئے اور بچہ پی لے تو اس سے حرمت ثابت نہ ہوگی۔
مسئلہ : اگر دودھ پینے کا شک ہو تو حرمت رضاعت ثابت نہ ہوگی۔ اگر بچے کے منہ میں پستان دیا لیکن دودھ جانے کا یقین نہ ہو تو اس سے حرمت رضاعت ثابت نہ ہوگی۔
مسئلہ : اگر کسی شخص نے کسی عورت سے نکاح کرلیا کسی دوسری عورت نے کہا کہ میں نے تم دونوں کو دودھ پلایا ہے تو اگر دونوں اس کی تصدیق کریں تو نکاح فاسدہونیکا فیصلہ کرلیا جائیگا اور اگر یہ دونوں اس کی تکذیب کریں اور عورت دیندار خدا ترس ہو تو فساد نکاح کا فیصلہ نہ ہوگا، لیکن طلاق دے کہ مفارقت کرلینا افضل ہے۔
مسئلہ : رضاعت کے ثبوت کیلئے دو دیندار مردوں کی گواہی ضروری ہے ایک مرد یا ایک عورت کی گواہی سے رضاعت ثابت نہ ہوگی، مگر احتیاط افضل ہے۔
مسئلہ : جس طرح دو دیندار مردوں کی گواہی سے رضاعت ثابت ہوجاتی ہے اسی طرح ایک مرد اور ایک دیندار عورت کی گواہی سے بھی حرمت رضاعت ثابت ہوجاتی ہے۔
وَاُمَّھَاتُ نِسَآئِکُمْ ، بیویوں کی مائیں (خوشدامن) شوہر پر حرام ہیں، اس کی تفصیل یہ ہے کہ اس میں بیویوں کی نانیاں، دادیاں، نسبی ہوں یا رضاعی سب داخل ہیں۔ مسئلہ : جس طرح بیویوں کی مائیں حرام ہیں اسی طرح اس عورت کی ماں بھی حرام ہے جس سے شبہ میں ہم بستری کی ہو، یا جس کے ساتھ زنا کیا ہو یا اس کو شہوت کے ساتھ چھوا ہو۔ مسئلہ : نفس نکاح ہی سے بیوی کی ماں حرام ہوجاتی ہے حرمت کیلئے دخول وغیرہ ضروری نہیں۔
وَرَبَآئِبُکُمْ الّٰتِیْ فِیْ حُجُورِکُمْ (الآیۃ) جس عورت کے ساتھ نکاح کیا اور نکاح کے بعد ہم بستری بھی کی تو اس عورت کی لڑکی جو دوسرے شوہر سے ہے اسی طرح اس کی پوتی، نواسی، حرام ہوگئیں لیکن اگر ہمبستری نہیں کی، صرف نکاح ہوا تو مذکورہ قسمیں حرام نہ ہوں گی، لیکن نکاح کے بعد اگر اس کو شہوت کے ساتھ چھوا، یا اس کے اندام نہانی کی طرف شہوت کی نگاہ سے دیکھا تو یہ بھی ہمبستری کے حکم میں ہے اس سے بھی اس عورت کی لڑکی وغیرہ حرام ہوجاتی ہے۔
وَحَلَآئِلُ اَبْنَائِکُمْ الَّذِیْنَ مِنْ اَصْلاَبِکُمْ ، بیٹے کی بیوی حرام ہے اور بیٹے کے عموم میں پوتا اور نواسا بھی داخل ہے، لہٰذا ان کی بیویوں سے نکاح جائز نہیں۔ مسئلہ : متنبی کی بیوی سے نکاح حلال ہے، اور رضاعی بیٹا بھی حقیقی بیٹے کے حکم میں داخل ہے۔
واَنْ تَجْمَعُوْا بِیْنَ الْاُخْتَیْنِ ، دو بہنوں کو نکاح میں جمع کرنا حرام ہے، خواہ حقیقی بہنیں ہوں یا علاتی یا اخیافی، نسب کے اعتبار سے ہوں یا رضاعت کے اعتبار سے البتہ طلاق ہوجانے کے بعد دوسری بہن سے نکاح جائز ہے لیکن یہ جواز عدت گزرنے کے بعد ہے عدت کے دوران نکاح جائز نہیں۔ مسئلہ : جس طرح ایک ساتھ دو بہنوں کو ایک شخص کے نکاح میں جمع کرنا حرام ہے اسی طرح پھوپھی بھتیجی، خالہ بھانجی کو ایک شخص کے نکاح میں جمع کرنا حرام ہے۔
مسئلہ : فقہاء کرام نے بطور قاعدہ کلیہ یہ لکھا ہے کہ ہر ایسی دو عورتیں جن میں سے اگر کسی ایک کو مرد فرض کیا جائے تو شرعاً ان دونوں کے درمیان نکاح جائز نہ ہو اس طرح کی دو عورتیں ایک مرد کے نکاح میں جمع نہیں ہوسکتیں۔
تم بحمداللہ