4. Surah An-Nisaa

النساءThe Women · 176 ayahsتفسیرِ جلالین

Ayah 4:24

وَّ الْمُحْصَنٰتُ مِنَ النِّسَآءِ اِلَّا مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُكُمْ١ۚ كِتٰبَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ١ۚ وَ اُحِلَّ لَكُمْ مَّا وَرَآءَ ذٰلِكُمْ اَنْ تَبْتَغُوْا بِاَمْوَالِكُمْ مُّحْصِنِیْنَ غَیْرَ مُسٰفِحِیْنَ١ؕ فَمَا اسْتَمْتَعْتُمْ بِهٖ مِنْهُنَّ فَاٰتُوْهُنَّ اُجُوْرَهُنَّ فَرِیْضَةً١ؕ وَ لَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ فِیْمَا تَرٰضَیْتُمْ بِهٖ مِنْۢ بَعْدِ الْفَرِیْضَةِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِیْمًا حَكِیْمًا Open ayah 4:24 in the Quran reader

اور شوہر والی عورتیں بھی (تم پر حرام ہیں) مگر وہ جو (اسیر ہو کر لونڈیوں کے طور پر) تمہارے قبضے میں آجائیں۔ (یہ حکم) خدا نے تم کو لکھ دیا ہے اور ان (محرمات) کے سوا اور عورتیں تم کو حلال ہیں اسطرح سے کہ مال خرچ کر کے ان سے نکاح کرلو بشرطیکہ (نکاح سے) مقصود عفت قائم رکھنا ہو نہ شہوت رانی۔ تو جن عورتوں سے تم فائدہ حاصل کرو انکا مہر جو مقرر کیا ہو ادا کردو۔ اور اگر مقرر کرنے کے بعد آپس کی رضامندی سے مہر میں کمی بیشی کرلو تو تم پر کچھ گناہ نہیں بیشک خدا سب کچھ جاننے والا (اور) حکمت والا ہے

آیت نمبر 24 تا 25 ترجمہ : اور حرام کردی گئی ہیں تمہارے لئے شوہر والی عورتیں یہ کہ ان سے ان کے شوہروں کی مفارقت کے بغیر نکاح کرو خواہ آزاد مسلمان عورتیں ہوں یا دیگر، مگر یہ کہ وہ باندیاں کہ جو گرفتار ہو کر تمہاری قید میں آجائیں تو تمہارے لئے جائز ہے کہ ان سے وطی کرواستبراء (رحم) کے بعد، اگرچہ دارالحراب میں ان کے شوہرموجود ہوں، اللہ نے (ان احکام کو) تم پر فرض کردیا ہے نصب مصدریت کی وجہ سے ہے ای کَتَبَ ذلک، اور تمہارے لئے مذکورہ حرام کردہ عورتوں کے علاوہ حلال کردی گئی ہیں یہ کہ تم عورتوں کو اپنے مالوں کے ذریعہ مہر یا قیمت طلب کرو (اس طریقہ پر) کہ ارادہ نکاح کا ہو نہ کہ (محض) شہوت رانی کرنے والے، اس لئے جن سے تم نے فائدہ اٹھایا ہے تو ان کو ان کا طے شدہ مہر جو تم نیان کے کیلئے مقرر کیا ہے اور تم پر اس مقدار کے بارے میں کوئی گناہ نہیں جس پر تم اور وہ مہر مقرر ہونے کے بعد راضی ہوجائو کل کو ساقط کر کے یا کچھ کمی زیاتی کرکے بیشک اللہ اپنی مخلوق کے بارے میں بڑا جاننے والا اور اس نظم کے بارے میں جو اس نے مخلوق کے لئے قائم کیا بڑی حکمت والا ہے اور جو شخص تم میں سے آزاد مومن عورتوں سے نکاح کرنے کی قدرت نہ رکھتا ہو ایمان کی صفت غالب کی بناء پر ہے لہذا اس کا مفہوم مخالف مراد نہیں ہے۔ تو وہ مسلمان باندیوں سے جن کے مالک ہو (نکاح کرلے) اللہ تمہارے ایمان کو خوب جانتا ہے لہذا اس کے ظاہری ایمان پر اکتفاء کرو، اور رازوں کو اللہ کے حوالہ کرو، اسلئے کہ نکاح سے مانوس کرنا ہے اور تم آپس میں ایک ہی تو ہو یعنی تم اور وہ دین میں برابر ہو لہٰذا ان سے نکاح کرنے میں عار محسوس نہ کرو اس لئے ان کے مالکوں کی اجازت سے ان سے نکاح کرلو، اور دستور کے مطابق بغیر ٹال مٹول اور بغیر کمی ان کے مہر ان کو دیدیا کرو۔ حال یہ کہ وہ پاک دامن ہوں نہ کہ کھلم کھلا زنا کرنے والیاں اور نہ خفیہ آشنائی کرنے والیاں، کہ جس کی وجہ سے خفیہ طور پر زنا کرنے والی ہوں۔ پس جب یہ باندیاں نکاح میں آجائیں اور ایک قراءت میں معروف کے صیغہ کے ساتھ ہے یعنی جب وہ نکاح کرلیں، پھر اگر وہ بےحیائی زنا کی مرتکب ہوں تب ان کی سزا آزاد غیر شادی شدہ کی آدھی ہے جب وہ زنا کریں تو ان کو پچاس کوڑے لگائے جائیں اور نصف سال جلا وطن کردیا جائے۔ اور اسی پر غلاموں کو قیاس کیا جا ئیگا، اور احصان وجوب حد کے شرط کے طور پر نہیں ہے بلکہ اس بات کا فائدہ دینے کے لئے ہے کہ ان پر رجم قطعا نہیں ہے (آزاد پر) قدرت نہ ہونے کی صورت میں باندیوں سے نکاح کا حکم ان لوگوں کیلئے ہے جنہیں تم میں سے گناہ زنا، کا اندیشہ ہے اور عَنَتْ کے اصل معنی مشقت کے ہیں اور زنا کا نام مشقت اسلئے رکھا گیا ہے کہ زنا دْنیا میں حَدْ ، اور آخرت میں سزا کا سبب ہے۔ بخلاف ان آزاد لوگوں کے ان کو (زنا میں مبتلا ہونیکا) خوف نہیں ہے، تو ان کے لئے باندیوں سے نکاح حلال نہیں ہے، اور یہی حکم اس شخص کا ہے جو آزاد عورت سے نکاح کرنے کی قدرت رکھتا ہے اور یہی امام شافعی (رح) تعالیٰ کا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کے قول مومنات کی قید سے کافرات خارج ہوگئیں اس شخص کے لئے بھی باندیوں سے نکاح حلال نہیں ہے اگرچہ قدرت مفقود اور زنا کا خوف ہو۔ اور اگر تم باندیوں سے نکاح کرنے کو ضبط کرو تو یہ تمہارے لئے بہتر ہے تاکہ بچہ غلام نہ ہو۔ اور اللہ بڑا بخشنے والا اس معاملہ میں وسعت کے ذریعہ بڑا رحم کرے والا ہے۔ تحقیق و ترکیب و تسہیل وتفسیری فوائد قولہ : وحُرِّمَتْ عَلَیْکم المحصَنٰتُ ، جمہور کے نزدیک فتئحہ صاد کے ساتھ، اسم مفعول ہے، وہ عورتیں جنہوں نے نکاح کے ذر یعہ اپنی شرمگاہوں کو محفوظ کرلیا ہو ( یعنی شادی شدہ عورتیں) اس آیت کے علاوہ ہر جگہ کسائی نے صاد کے کسرہ کے ساتھ بصیغئہ اسم فاعل پڑھا ہے۔ قولہ : حُرِّمَتْ عَلَیْکم، حُرِّمَتْ کے اضافہ کا مقصد اس بات کی طرف اشارہ کرنا ہے کہ المحصَنٰتُ کا عطف اُمَّھَاتُکُم پر ہے مُحْصَنات (یعنی شوہر والی عورتیں) بھی سلسلئہ محرمات میں داخل ہیں، اَلمحصَنٰت، اسم مفعول جمع مئونث کا صیغہ ہے واحد مُحْصَنٰةُ ' ہے قرآن کریم میں اِحْصَان چار معنی کے لئے استعمال ہوا ہے۔ 1۔ شادیشدہعورتیں 2۔ آزادعورتیں 3۔ پاکدامنعورتیں 4۔ مسلمان عورتیں، یہاں پہلے معنی یعنی شادی شدہ عورتیں مراد ہیں، مفِسّرعَلّام نے ذَوْاتُ الْازْواج کہہ کر اسی معنی کی طرف اشارہ کیا ہے۔ قولہ : اَنْ تَنْکِحُوْھُنَّ ، اس اضافہ کا مقصد ایک سوال مقدر کا جواب ہے۔ سوال : حرمت افعال میں ہوتی ہے نہ کہ ذوات میں حالانکہ حُرِّمَتْ عَلَیکم المحصَنٰت سے ذات کی حرمت مفہوم ہورہی ہے ؟ جواب : مفسر علام نے اَنْ تَنکِحُوھُنَّ ، کا اضافہ کرکے اسی کا جواب دیا ہے یعنی محصَنٰت سے نکاح کرنا حرام ہے نہ کہ ان کی ذات۔ قولہ : قَبْلَ المُفَارَقّةِ اس اضافہ کا مقصد اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ بعد المفارقت نکاح کرنے میں کوئی قباحت نہیں ہے خواہ عورت آزاد ہو یا باندی۔ قولہ : بالسَبْیِ اس میں اشارہ ہے کہ بلا مفارقت، وطی اسی باندی سے جائز ہے جو گرفتار ہو کر آئی ہو اور اگر خرید کردہ ہے اور وہ شادی شدہ ہے تو اس سے بلا مفارقتِ زوْج وطی جائز نہیں ہے۔ قولہ : نَصْبعلی المَصْد رِیّةِ ، اس میں اشارہ ہے کہ، کتابَ اللّٰہ مصدریت کی وجہ سے منصوب ہے کتاب کا عامل کَتَبَ ، حُرِّمَتْ سے مستفاد ہے، اس لئے کہ تحریم اور کتاب اور فرض ایک ہی معنی میں ہیں مفسرّعلام نے کَتَبَ ذلک، کہہ کر اسی عامل مخدوف کی طرف اشارہ کیا ہے۔ قولہ : وَاُحِلَّ لکم، اس کا عطف کتاب اللّٰہ کے عامل مقدر پر ہے، اگر فعل مقدر کَتَبَ پر عطف ہو تو اَحَلَّ ، معروف ہوگا اور اگر حُرِّمَتْ ، پر ہو تو اُحِلَّ ، مجہول ہوگا۔ قولہ : ھُوَجَرْی عَلیَ الغَالِبِ ، اس اضافہ کا مقصد ایک سوال مقدر کا جواب ہے۔ سوال : المئومنات کی قید سے معلوم ہوتا ہے کتابیات سے نکاح درست نہیں ہے۔ جواب : المئومنات کی قید غالب کے اعتبار سے ہے ورنہ نکاح کے بارے میں جو حکم آزاد مومنات کا ہے وہی حکم آزاد کتابیات کا بھی ہے، لہٰذا اس کا مفہوم مخالف مراد لینا درست نہ ہوگا۔ قولہ : مُحْصَنَات، یہ فانکحوھنَّکی ضمیر سے حال ہے نہ کہ صفت اسلئے کہ ضمیر نہ موصوف واقع ہوتی ہے اور نہ صفت، مشہور قاعدہ ہے الضمیرلا یْوْصَفُ ولا یوصفُ بہ۔ قولہ : غَیْرَ مُسَافِحِیْنَ یہ حال مئوکدّہ ہے، مُسَافِحِیْنَ ، کی جمع ہے بمعنی زانی۔ قولہ : اَخْدَان یہ خِِِدْن کی جمع ہے بمعنی دوست۔ تَفسِیروتَشریح اس رکوع میں محرّمات کا ذکر ہے، محرمات کی چار قسمیں ہیں جن میں تین محرماتِ ابدیہ ہیں (1) محرمات نسبیہ (2) محرمات رضاعیہ (3) محرمات بالمصاہرة، انکی تفصیل سابق میں گذر چک ی ہے (4) محرمات غیرابدیہ۔ اس چوتھی قسم کا ذکر والمحصنت من النساء سے کیا ہے محصنٰت سے مراد شوہر دار عورتیں ہیں، عورت جب تک کسی کے نکاح میں ہو تو دوسرے شخص کے لئے اس سے نکاح جائز نہیں اس سے بخوبی واضح ہوگیا کہ عورت بیک وقت ایک سے زائد شوہر دار نہیں ہوسکتی، اِلاّ ماملکت اَیْمانکم یہ جملہ المحصنٰت من النساء سے استثناء ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ شوہردار عورت سے دوسرے شخص کا نکاح جائز نہیں ہے اِلَّایہ کہ وہ عورت مملو کہ باندی ہو کر آجائے اگرچہ اس کا شوہر دارالحرب میں موجود ہو چونکہ عورت کے دارلاسلام میں آجانے کی وجہ سے اس کا نکاح، سابق شوہر سے ختم ہوگیا ہے یہ عورت خواہ کتابیہ ہو یا مسلمہ اس سے دارالاسلام کا کوئی بھی مسلمان نکاح کرسکتا ہے مگر استمتاع ایک حیض آنے کے بعد ہی جائز ہوگا، اور حاملہ ہے تو وضع حمل ضروری ہے، اس کے بغیر استمتاعِ جنسی درست نہ ہوگا، اور اگر حکومت کی جانب سے مال غنیمت میں حاصل شدہ باندی کسی فوجی سپاہی کو مال غنیمت کے طور پر دیدی جائے تب بھی اس سے جنسی استمتاع جائز ہے مگر یہ استمتاع بھی وضع حمل یا ایک حیض آنے کے بعد ہی جائز ہوگا۔ جو عورتیں جنگ میں گرفتار ہوں انکو پکڑتے ہی ہر سپاہی ان کے ساتھ مباثرت کا مجاز نہیں، بلکہ اسلامی قانون یہ ہے کہ ایسی عورتیں حکومت کے حوالہ کردی جائیں گی، حکومت کو اختیار ہوگا کہ چاہے تو ان کو رہا کردے اور اگر چاہے تو ان سے فدیہ لے، چاہے ان کا تبادلہ ان مسلمان قیدیوں سے کرے جو دشمن کے ہاتھ میں ہوں اور چاہے تو انھیں سپاہیوں میں تقسیم کر دے، سپاہی صرف اسی عورت سے استمتاع کا مجاز ہے جو حکومت کی طرف سے باقاعدہ اس کی ملک میں دی گئی ہو۔ جنگ میں پکڑی گئی عورتوں کے لئے یہ شرط نہیں ہے کہ وہ اہل کتاب میں سے ہوں، ان کا مذہب خواہ کچھ بھی ہو جب تقسیم کے بعد جس کے حصے میں آئیں ان سے استمتاع کرسکتا ہے۔ جو عورت جس کے حصے میں آئے وہی شخص اس سے استمتاع کرسکتا ہے کسی دوسرے کو اسے ہاتھ لگانے کا حق نہیں، اس عورت سے جو اولاد ہوگی وہ اسی شخص کی جائز اولاد سمجھی جائیگی جس کی ملک میں وہ عورت ہے، اس اولاد کے قانونی حقوق وہی ہوں گے جو شریعت میں صلبی اولاد کے لئے مقرر ہیں صاحب اولاد ہونے کے بعد وہ عورت فروخت نہ ہو سکے گی وہ عورت ام ولد کہلائے گی اور مالک کے مرتے ہی خودبخود آزاد ہوجائے گی۔ مالک اگر اپنی مملوکہ کا نکاح کسی دوسرے شخص سے کردے تو مالک کو دیگر خدمات لینے کا تو حق رہتا ہے لیکن جنسی تعلقات قائم کرنے کا حق نہیں رہتا۔ اسیرانِ جنگ میں سے اگر کوئی اسیر حکومت کسی شخص کو دیدے تو حکومت کو اس سے واپس لینے کا حق نہیں رہتا۔ کِنابَ اللّٰہِ عَلَیْکم، یہ مصدریت کی وجہ سے فعل مخدوف کے ذریعہ منصوب ہے ای کَتَبُ اللّٰہ ذلک عَلَیْکم کتاباً ، یعنی جن محرمات کا ذکر ہوا ہے ان کی حرمت اللہ کی طرف سے ہے اور یہ خدائی قانون ہے جو تمہارے اوپر لازم ہے۔ اَنْ تَبْتَغُوابِاَمْوَالِکُم، یعنی محرمات کا یہ بیان اس لئے کیا گیا ہے کہ تم اپنے مالوں کے ذریعہ حلال عورتیں تلاش کرو اور ان کو اپنے نکاح میں لائو، ابوبکر جصاص (رح) تعالیٰ احکام القرآن میں لکھتے ہیں کہ اس سے دو باتیں معلوم ہوئیں ایک یہ کہ نکاح مہر کے بغیر نہیں ہوسکتا حتیٰ کہ اگر زوجین آپس میں یہ طے کرلیں کہ نکاح، مہر کے بغیر کریں گے تب بھی مہر لازم ہوگا دوسری بات یہ معلوم ہوئی کہ مہر وہ چیز ہوگی جس کو مال کہا جاسکے، احناف کا مذہب یہ ہے کہ دس درہم سے کم مہر نہ ہونا چاہیے ایک درہم ساڑھے چار ماشہ یا 3 گرام 62 ملی گرام کے برابر ہوتا ہے اور 36 گرام اور 2 ملی گرام کے مساوی ہوں گے۔ متعہ کی بحث : فَمَااستَمْتَعْتُمْ بِہ منھُنَّ فَاٰ تُوھُنَّ اُجُوْرَھُنَّ فَرِیضَةً (یعنی بعد از نکاح) جن عورتوں سے استمتاع کرلو تو ان کے مہر دیدو، یہ دینا تمہارے اوپر فرض کیا گیا ہے، اس آیت میں استمتاع سے بیویوں سے ہمبستر ہونا مراد ہے، اگر محض نکاح ہوجائے مگر شوہر کو وطی کا موقع نہ ملے بلکہ وہ اس سے پہلے ہی طلاق دیدے یا عورت کا انتقال ہوجائے تو نصف مہر واجب ہوتا ہے اور اگر استمتاع کا موقع مل جائے تو پورا مہر واجب ہوتا ہے، اس آیت میں اسی حکم کی طرف خصوصی توجہ دلائی گئی ہے۔ لفظ استمتاع کا مادہ (م ت ع) ہے جس کے معنی استفادہ کرنے اور فائدہ اٹھانے کے ہیں فائدہ خواہ مالی ہو یا جسمانی، اس لغوی تحقیق کی روشنی میں فَمَااسْتَمْتَعْتُم کا سیدھا اور صاف مطلب پوری امت کے نزدیک خلفاً عن سلف وہی ہے جو اوپر بیان کیا ہے لیکن فرقہ امامیہ کے نزدیک اس سے اصطلاحی متعہ مراد ہے اور وہ اسی آیت سے استدلال کرتے ہیں، حالانکہ اصطلاحی متعہ کی صاف تردید قرآن کریم کی آیت بالا میں لفظ مُحْصِنِیْنَ غَیْرَ مُسَافَحِیْنَ سے ہو رہی ہے۔ متعہ کی صورت : اصطلاحی متعہ جس کے جواز کا فرقہ امامیہ مدعی ہے یہ ہے کہ ایک مرد کسی عورت سے یوں کہے کہ اتنے دن یا اتنے وقت کے لئے اتنی رقم کے عوض میں تم سے متعہ کرتا ہوں، متعہ اصطلاحی کا اس آیت سے کوئی تعلق نہیں ہے، محض مادہ اشتقاق کو دیکھ کر یہ فرقہ مدعی ہے کہ اس آیت سے حلت متعہ کا ثبوت ہو رہا ہے۔ جواز متعہ کی نسبت حضرت امام مالک (رح) تعالیٰ کی جانب بھی بعض حضرات نے کی ہے جن میں صاحب ہدایہ اور امام سرخسی صاحب مبسوط بھی شامل ہیں لیکن یہ نسبت تسامح ہے جیسا کہ شراح ہدایہ نے تصریح کی ہے کہ صاحب ہدایہ سے یہ تسامح ہوا ہے۔ البتہ بعض حضرات کا دعویٰ ہے کہ حضرت ابن عباس ؓ آخرتک حلّت متعہ کے قائل تھے، حالانکہ ایسا نہیں ہے امام مالک (رح) تعالیٰ کی جانب جواز متعہ کی نسبت میں بڑی قیل وقال ہوئی ہے بعض اکا بر حنفیہ جن میں پیش پیش ہدایہ کے نا مور شارح ابن ھمام ہیں نے اس انتساب کو غلط ٹھہرایا ہے النسبة الی مالک غلط (فتح القدیر) ونقل الحل عن مالک لا اصل لہ . (روح) اور بڑی بات یہ کہ مالکیہ کی کتابوں سے بھی اس فتوے کے جواز کی تائید نہیں ہوتی بلکہ براہ راست یا بالواسطہ اس کی مخالفت ہی نکلتی ہے۔ وَامّامتعةالنساء فھی من غرائب الشریعةلانّھا ابیحت فی صدرالاسلام ثم حرمت بعد ذلک استقرالامرعلی التحریم (ابن عربی) وَالأنکحةالَّتی وردالنھی فیھا اربعةنکاح منھا المتعة (بدایہ المجتھد) تواترت الَاخْبارعن رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم بتحریمہ . (بدایةالمجتھد) حدیث میں متعہ کی ممانعت : سب سے بڑھ کر یہ خود حدیث بنوی میں اس کی صاف ممانعت آچکی ہے، مسلم میں ایک طویل حدیث سبزہ بن معبد جہنی سے نقل ہوئی ہے جس کے آخر میں حضور ﷺ کا ارشاد ہے۔ یٰایّھا الناس اِنّی آذنْتُ لکم فی الاِسْتِمْتاعِ مِنَ النسَائِ واِنَّ اللّٰہَ تعالیٰ قدحرَّم ذلک الی یَوْمِ الِقیامَةِ فمنْ کان عِنْدَہ ' مِنْھُنّ شِیْیٔ فَلْیُخَلِّ سَبِیْلَہ '، ولاتَاْخُذُوْابِمَااٰتیتُمُوْھُنَّ شَیْئًا . ترجمہ : اے لوگو ! میں نے تمہیں عورتوں سے متعہ کرنے کی اجازت دے رکھی تھی لیکن اب اللہ نے اس کو قیامت تک کے لیے حرام کردیا ہے، سو جس کسی کا اس پر عمل ہو وہ اب اس سے باز آجائے اور جو کچھ تم نے ان عورتوں کو دیا ہے وہ ان سے واپس نہ لو۔ دوسری حدیثیں بھی بخاری و مسلم وغیرہ میں نقل ہوئی ہیں ان کا حاصل بھی حکم متعہ کی حرمت ہے اسی لئے ابن عباس ؓ سے فتوائے جواز سے رجوع منقول ہے۔ ابن عباس رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ صح رجوعہ الی قولھم (ہدایہ) قیل ابن عباس رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہُ رجع عن ذلک (معا لم) اب فقہائے اہل سنت کا حرمت متعہ پر اتفاق ہے اور ان کے تمام مفسرین نے اسی شق کو اختیار کیا ہے، اختلاف صرف فرقہ امامیہ (شیعہ) تک محدود رہ گیا ہے۔ بعض لوگوں کا یہ دعویٰ کہ حضرت ابن عباس ؓ آخر تک حلت متعہ کے قائل رہے صحیح نہیں امام ترمذی نے باب ماجاء فی نکاح المتعةکاباب قائم کرکے دو حدیثیں نقل کی ہیں۔ (1) عن علی بن ابی طالب اَنّالنبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم نھٰی عن متعةالنساء وعن لحومالحمرالاھلیةزمن خَیْبَرَ . ترجمہ : حضرت علی سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے غزوہ خیبر کے موقع پر عورتوں سے متعہ کرنے اور پالتو گدھوں کا گوشت کھانے سے منع فرمایا۔ حضرت علی ؓ کی مذکورہ حدیث بخاری ومسلم میں بھی ہے۔ (2) یہ حدیث بھی امام ترمذی نے نقل کی ہے۔ عن ابن عباس رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہُ قال انماکانتالمتعةفی اولا لاسلام حتّی اذانَزَلَتْ الآیةُاِلّاعلی اَزْوَاجِھماَوْمَامَلَکَتْ اَیمانُھُم قال ابن عباس رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہُ فکُلُّ فَرْجِ سِوَاھمَافَھُوَحَرَام . ترجمہ : حضرت ابن عباس رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہُ سے روایت ہے، فرماتے ہیں متعہ اسلام کے عہد اول میں مشروع تھا یہاں تک کہ آیت کریمہ الاعلی ازواجِھم او ماملکت اَیْمانھم، نازل ہوئی تو وہ منسوخ ہوگیا، اس کے بعد حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ زوجہ شرعیہ اور مملوکہ کے علاوہ ہر طرح کی شرمگاہ سے استمتاع حرام ہے۔ البتہ اتنی بات ضرور ہے کہ حضرت ابن عباس ؓ کچھ عرصہ تک متعہ کے جواز کے قائل رہے پھر حضرت علی ؓ کے سمجھانے (جیسا کہ صحیح مسلم، ج : ا، ص : 452 پر ہے) اور آیت شریفہ اِلَّاعلی ازوجھماوماملکت ایمانھم سے متنبہ ہوکررجوع فرمالیاجیسا کہ ترمذی کی روایت سے معلوم ہوا۔ (معارف) قولِ فیصل دربارہ متعہ : متعہ کے بارے میں قول فیصل محدِّث حازمی کا ہے جسے ابن ھمام نے فتح القدیر میں اور علامہ آلوسی نے روح المعانی میں نقل کیا ہے۔ حازمی نے کہا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے متعہ کو ان لوگوں کے لئے جائز نہیں کیا جو کہ وہ اپنے وطن یا گھروں میں بیٹھے ہوں، آپ نے اسے صرف ضرورت ہی کے موقعوں پر جائز کیا ہے، اور آپ نے اپنی آخری عمر میں حجتہ الودع کے موقعہ پر اسے ہمیشہ کے لئے حرام قرار دے دیا چناچہ اس بارے میں ائمہ اور ملک کے علماء میں سے کسی کو بھی اختلاف نہیں بجز شیعوں کے ایک فرقہ کے۔ (ماجدی) نکاح کا اصل مقصد : نکاح کا اہم مقصد حصول اولاد اور انسانی کی بقا ہوتی ہے نہ کہ محض شہوت رانی، اسی لئے قرآن مجید نے صاف صاف کہہ دیا ہے کہ قید نکاح میں لانیکا مقصد عفت و عصمت کا حصار فراہم کرنا ہو نہ کہ محض مستی نکالنا، اور متعہ مذکورہ باتوں سے خالی ہوتا ہے، متعہ چونکہ ایک محدود وقت کے لئے کیا جاتا ہے اس لئے نہ اس سے حصول اولاد مقصود ہوتی ہے اور نہ گھر بسانا اور نہ عفت و عصمت اور یہی وجہ ہے کہ فریق مخالف اس کو ذوجہ وارثہ قرار نہیں دیتا اور نہ اس کو ازواج معروفہ کی گنتی میں شمار کرتا ہے، چونکہ مقصد قضاء شہوت ہوتا ہے اس لئے مرد اور عورت نئے نئے جوڑے تلاش کرتے رہتے ہیں اس سے یہ بات معلوم ہوگئی کہ متعہ عفت و عصمت کا ضامن نہیں ہے بلکہ دشمن ہے۔ قرآن کریم نے محرمات کا ذکر کرنے کے بعد یوں فرمایا ہے کہ ان کے علاوہ اپنے اموال کے ذریعہ حلال عورتیں تلاش کرو اس حال میں کہ پانی بہا نا یعنی محض مستی نکالنا اور شہوت رانی کرنا ہی مقصد نہ ہو۔ متعہ ایک ہنگامی ضرورت تھی : تاریخی روایتوں اور حدیثوں سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جنگ یا طول سفر کے موقعہ پر عقد مؤقت یا و عارضی نکاح کی اجازت محض سپاہیوں کے لئے ہنگامی اور وقتی ضرورت کے پیش نظر ایک بار یا چند بار دی گئی تھی اور بعض صحابہ ایک عرصہ تک اسی خیال میں رہے، باقی مستقل حکم عدم جواز ہی کا ہے (ماجدی) اسی کی تائید عبداللہ بن مسعود کی روایت سے بھی ہوتی ہے جس کی بخاری اور مسلم میں نقل ہوئی ہے۔ کُنَّانَغْرُوْمع النَّبِی صلی اللّٰہ علیہ وسلم لیس مَعَنَا نِسَائ فقلنا الا نَخْتَصِیْ فنھا ناعن ذلک ثم رَخَّصَ لنا ان نَسْتَمْتِعَ . ترجمہ : ہم لوگ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ جہاد میں تھے اور بیویاں ہمارے ہمراہ نہ تھیں تو ہم لوگوں نے کہا کہ ہم خود کو خصّی کرالیں تو رسول اللہ ﷺ نے ہمیں اس سے منع فرمایا اور ہمارے لئے متعہ کی اجازت دیدی۔ اور مندرجہ ذیل روایت بھی سلمتہ بن اکوع کے حوالہ سے صحیحین میں نقل ہوئی ہے۔ رَخَّصَ النَّبِیّ ُ صلی اللّٰہ علیہ وسلم عَامَ اَوْ طَاس فی المُتْعَةِ ثلاثاً ثٰم نَھَی عنھا . ترجمہ : رسول اللہ ﷺ نے غزوہ اوطاس کے سال متعہ کی اجازت تین رات دیدی تھی مگر اس کے بعد اس کی ممانعت کردی۔ مسئلہ : متعہ کی طرح نکاح مؤقت بھی حرام ہے صرف لفظ نکاح کا فرق ہے۔ ولاجُنَاحَ عَلَیْکُمْ فِیْمَاتَرَا ضَیْتُمْ بہ مِنْ بَعْدِالفَرِیْضَةِ ، اس کا مطلب یہ ہے کہ باہمی رضا مندی سے مہر مقرر کرنے کے بعد اس میں دونوں فریقوں کی رضامندی سے کمی بیشی ہوسکتی ہے، بیوی اگر چاہے تو پورا یا کچھ حصہ معاف کرسکتی ہے اور شوہر کے لئے بھی جائز ہے کہ مقرر کردہ مقدار سے زیادہ دیدے۔
Ayah 4:25

وَ مَنْ لَّمْ یَسْتَطِعْ مِنْكُمْ طَوْلًا اَنْ یَّنْكِحَ الْمُحْصَنٰتِ الْمُؤْمِنٰتِ فَمِنْ مَّا مَلَكَتْ اَیْمَانُكُمْ مِّنْ فَتَیٰتِكُمُ الْمُؤْمِنٰتِ١ؕ وَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِاِیْمَانِكُمْ١ؕ بَعْضُكُمْ مِّنْۢ بَعْضٍ١ۚ فَانْكِحُوْهُنَّ بِاِذْنِ اَهْلِهِنَّ وَ اٰتُوْهُنَّ اُجُوْرَهُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ مُحْصَنٰتٍ غَیْرَ مُسٰفِحٰتٍ وَّ لَا مُتَّخِذٰتِ اَخْدَانٍ١ۚ فَاِذَاۤ اُحْصِنَّ فَاِنْ اَتَیْنَ بِفَاحِشَةٍ فَعَلَیْهِنَّ نِصْفُ مَا عَلَى الْمُحْصَنٰتِ مِنَ الْعَذَابِ١ؕ ذٰلِكَ لِمَنْ خَشِیَ الْعَنَتَ مِنْكُمْ١ؕ وَ اَنْ تَصْبِرُوْا خَیْرٌ لَّكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠ Open ayah 4:25 in the Quran reader

اور جو شخص تم میں سے مومن آزاد عورتوں (یعنی بیبیوں) سے نکاح کرنے کا مقدور نہ رکھے تو مومن لونڈیوں میں ہی جو تمہارے قبضے میں آگئی ہوں (نکاح کرلے) اور خدا تمہارے ایمان کو اچھی طرح جانتا ہے تم آپس میں ایک دوسرے کے ہم جنس ہو تو ان لونڈیوں کے ساتھ ان کے مالکوں سے اجازت حاصل کر کے نکاح کرلو اور دستور کے مطابق ان کا مہر بھی ادا کردو بشرطیکہ عفیفہ ہوں۔ نہ ایسی کہ کھلم کھلا بدکاری کریں اور نہ درپردہ دوستی کرنا چاہیں۔ پھر اگر نکاح میں آ کر بدکاری کا ارتکاب کر بیٹھیں تو جو سزا آزاد عورتوں (یعنی بیبیوں) کے لئے ہے اس کی آدھی انکو (دی جائے) یہ (لونڈی کیساتھ نکاح کرنے کی) اجازت اس شخص کو ہے جسے گناہ کر بیٹھنے کا اندیشہ ہو۔ اور اگر صبر کرو تو یہ تمہارے لئے بہت اچھا ہے اور خدا بخشنے والا مہربان ہے

ومن لَّمْ یَسْتَطِعْ مَنْکُم طَولًا اَنْ یَّنْکِحَ الْمُحْصَنٰتِ (الآیہ) ۔ سابق میں نکاح کے احکام کا بیان تھا، اس لئے اسی کے ذیل میں اب شرعی لونڈیوں کے ساتھ نکاح کرنے کا ذکر شروع ہوا، اسی کے ضمن میں باندی اور غلام کی حد زنا کا بھی حکم بیان کردیا کہ ان کی حد آزاد کی نصف ہوتی ہے۔ طَوْل، قدرت اور غناء کو کہتے ہیں آیت کا مطلب یہ ہے کہ جس کو آزاد عورتوں سے نکاح کرنے کی قدرت نہ ہو تو مومن باندیوں سے نکاح کرسکتا ہے اس سے معلوم ہوا کہ جہاں تک ہوسکے آزاد عورت سے نکاح کرنا چاہیے اگر باندی سے نکاح کرنا پڑہی جائے تو باندی مومنہ ہو۔ امام ابوحنیفہ (رح) تعالیٰ کا یہی مسلک ہے کہ آزاد عورت پر قدرت ہوتے ہوئے باندی یا کتابیہ سے نکاح مکروہ ہے۔ دیگر ائمہ مثلاً امام شافعی (رح) تعالیٰ کے نزدیک آزاد پر قدرت کے باوجود باندی سے نکاح حرام ہے اسی طرح کتابیہ باندی سے نکاح بالکل جائز نہیں۔ (معارف) فانْکِحُوھُنَّ باذْنِ اَھْلِھِنَّ واٰتوْھُنَّ اجور ھن بالمعْرُوْفِ ، (یعنی) باندیوں سے نکاح ان کے مالکوں کی اجازت سے کرو اگر وہ اجازت نہ دیں تو نکاح صحیح نہ ہوگا اسلئے کہ باندی کو خود اپنے اوپر ولایت حاصل نہیں ہوتی یہی حکم غلام کا بھی ہے کہ وہ اپنے آقا کی اجازت کے بغیر نکاح نہیں کرسکتا۔ پھر فرمایا کہ باندیوں کا مہر خوبی کے ساتھ ادا کردو باندی سمجھ کر ٹال مٹول نہ کرو، امام مالک کے نزدیک زر مہر باندی کا حق ہے، دیگر ائمہ کے نزدیک زرمہر مالک کا حق ہے۔ مُحْصَنٰتٍ غیرَمُسٰفِحٰتٍ وَلامُتَّخِذَاتِ اَخْدَانٍ یعنی مومن باندیوں سے نکاح کرو تاکہ وہ حصار نکاح میں محفوظ (محصنات) ہو کر رہیں آزاد شہوت رانی کرتی نہ پھریں اور نہ چوری چھپے آشنائیاں کریں، پھر بھی اگر وہ حصار نکاح میں محفوظ ہونے کے بعد بد چلنی کی مرتکب ہوں تو ان پر اس سزا کا نصف ہے جو آزاد عورتوں کی ہے، اس سے غیرشادی شدہ آزاد عورتیں مراد ہیں ان کی سزاسو کوڑے ہیں، اور اگر شادی شدہ آزاد مرد یا عورت زنا کرے تو اس کی سزا رجم ہے رجم کی چونکہ تنصیف نہیں ہوسکتی اسلئے چاروں اماموں کے نزدیک حکم یہ ہے کہ غلام یا باندی خواہ شادی شدہ ہوں یا غیر شادی شدہ اگر ان سے زنا سر زد ہوجائے تو ان کی سزا پچاس کوڑے ہیں۔ ذلک لِمَنْ خَشِیَ العَنَتَ مِنکُمْ (الآیہ) یعنی باندیوں سے نکاح کرنے کی اجازت ایسے لوگوں کے لئے ہے جو جوانی کے جذبات پر قابو رکھنے کی طاقت نہ رکھتے ہوں اور بدکاری میں مبتلا ہونے کا اندیشہ ہو، اگر ایسا اندیشہ نہ ہو تو اس وقت صبر کرنا بہتر ہے جب تک کہ کسی آزاد خاندانی عورت سے شادی کے قابل نہ ہوجائیں۔
Ayahs 4:26–27

یُرِیْدُ اللّٰهُ لِیُبَیِّنَ لَكُمْ وَ یَهْدِیَكُمْ سُنَنَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ وَ یَتُوْبَ عَلَیْكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 4:26 in the Quran reader

خدا چاہتا ہے کہ (اپنی آیتیں) تم سے کھول کھول کر بیان فرمائے اور تم کو (اگلے لوگوں کے طریقے بتائے) اور تم پر مہربانی کرے اور خدا جاننے والا (اور) حکمت والا ہے

وَ اللّٰهُ یُرِیْدُ اَنْ یَّتُوْبَ عَلَیْكُمْ١۫ وَ یُرِیْدُ الَّذِیْنَ یَتَّبِعُوْنَ الشَّهَوٰتِ اَنْ تَمِیْلُوْا مَیْلًا عَظِیْمًا Open ayah 4:27 in the Quran reader

اور خدا تو چاہتا ہے کہ تم پر مہربانی کرے اور جو لوگ اپنی خواہشوں کے پیچھے چلتے ہیں وہ چاہتے ہیں کہ تم سیدھے راستے سے بھٹک کر دور جا پڑو

آیات نمبر 26 تا 33 ترجمہ : اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ تمہارے لئے تمہارے دین کے احکام اور تمہارے معاملہ کی مصلحتیں خوب کھول کھول کر بیان کرے، اور تم کو تم سے پہلے لوگوں انبیاء کے حلال و حرام میں حالات (طریقے) بتادے تاکہ تم ان کی اتباع کرو (اور اللہ تعالیٰ چاہتا ہے) کہ تم کو ان معصتیوں سے کہ جن پر تم تھے اپنی اطاعت کی طرف پھیر دے اللہ تمہارے حالات کا جاننے والا اور جو نظم اس نے تمہارے لئے قا ئم کیا ہے اس میں باحکمت ہے اور اللہ کو منظور ہے کہ تمہارے حال پر توجہ فرمائے اس (جملہ کو) مکرر لایا ہے تاکہ مابعد کو اس پر مبنی کیا جائے، اور جو لوگ خواہشات کے بندے ہیں یعنی یہود اور نصاری اور مجوسی اور زنا کار وہ چاہتے ہیں کہ حرام چیزوں کا ارتکاب کرا کے تم کو حق سے پوری طرح برگشتہ کردیں، اور اللہ کو منظور ہے کہ تمہارے ساتھ تخفیف کرے کہ تمہارے لئے احکام شرع آسان کردے۔ اور انسان تو کمزور پیدا کیا گیا ہے کہ عورتوں اور شہوتوں سے صبر نہیں کرسکتا، اے ایمان والو تم آپس میں ایک دوسرے کا مال شرعاً حرام طریقہ سے مثلاً سود اور غصب کے طریقہ سے مت کھاؤ ہاں البتہ اگر کوئی تجارت تمہاری باہمی رضا مندی سے ہوجائے (تو کھا سکتے ہو) اور قراءت میں (تجارةً ) کے نصب کے ساتھ ہے یعنی اموال تجارت یعنی آپسی رضامندی اور خوش دلی کے ساتھ وجود میں آئے تو تم اس کے کھانے کی اجازت ہے۔ ہلاک ہونے والی چیز کا ارتکاب کرکے ہلاکت میں نہ ڈالو وہ ہلاکت خواہ دنیا میں ہو یا آخرت میں (اِن اللّٰہ کان بکم رحیمًا) کے قرینہ کی وجہ سے بیشک اللہ تمہارے حق میں بڑا مہربان ہے تم کو اس ہلاکت سے منع کرنے کی وجہ سے، اور جو کوئی ممنوع کا ارتکاب کرے گا حلال کو ترک کرکے (تجاوزًا) حال ہے اور بطور ظلم کے یہ تاکید ہے تو ہم اس کو عنقریب آگ میں ڈالیں گے کہ اس میں جلتا رہے گا، اور یہ اللہ کے لئے آسان ہے اور اگر تم ان بڑے گناہوں کے کاموں سے جن سے تم کو منع کیا گیا ہے بچتے رہے اور بڑے گناہ وہ ہیں جن پر وعید وارد ہوئی ہے مثلاً قتل، زنا، چوری، اور ابن عباس سے مروی ہے کہ وہ سات سو کے قریب ہیں، ہم تمہارے چھوٹے گناہوں کو طاعت کے صلہ میں معاف کردیں گے اور تمہیں ایک معزز مقام میں کہ وہ جنت ہے داخل کریں گے (مُدْخلاً ) میم کے ضمہ اور فتحہ کے ساتھ داخل کرنا اور مقام دخول۔ اور تم ایسی چیز کی تمنا کرو جس میں اللہ نے بعض کو بعض پر دنیا اور دین کی بہت سی فضیلت دے رکھی ہے تاکہ آپس میں حسد اور بغض پیدا نہ ہو۔ مردوں کے لئے ان کے اعمال کا ثواب ہے جو انہوں نے جہاد وغیرہ کی صورت میں کئے ہیں اور عورتوں کے لئے ان کا ثواب ہے جو انہوں نے اپنے شوہروں کی فرمابرداری اور اپنی ناموس کی صورت میں کئے ہے (یہ آیت) اس وقت نازل ہوئی جب حضرت ام سلمہ نے تمنا کی کہ کاش ہم مرد ہوتے تو ہم جہاد کرتے اور ہم کو بھی مردوں کے مانند اجر ملتا، اور اللہ سے اس کا فضل طلب کرو ہمزہ اور بدون ہمزہ کے، جس کے تم محتاج ہوگے وہ تم کو دے گا بیشک اللہ ہر چیز سے بخوبی واقف ہے ان ہی میں محل فضل اور تمہارا سوال بھی ہے اور جو مال والدین اور اقرباء ان کے لئے چھوڑ جائیں ہم نے اس کے لئے وارث مقرر کردیئے ہیں جن کو وہ مال دیا جائیگا، اور جن لوگوں سے تمہارے عہدوپیمان ہوچکے ہیں تو ان کو اب میراث کا حصہ دیدو اور وہ چھٹا حصہ ہے۔ اَیْمان، یمین کی جمع ہے یعنی قسم یا عہد یعنی تمہارے وہ حلفاء کہ جن سے تم نے زمانہ جاہلیت میں نصرت اور ارث پر معاہدہ کیا ہے بیشک اللہ ہر چیز پر مطلع ہے اور ان ہی میں تمہارا حال بھی ہے، اور یہ اللہ تعالیٰ کے قول '' وَاُو لُوا الْاَ رْحَامِ بَعْضُھُمْ اَوْلٰی بِبَعْضٍ '' سے منسوخ ہے۔ تحقیق و ترکیب و تسہیل وتفسیری فوائد قولہ : یُرِیْدُ اللّٰہ لِیُبَیّنَ ، لَیُبَیّنَ ، یُرِیْدُ کا مفعول بہ ہے اور لام زائدہ برائے تاکید ہے۔ قولہ : شَرَائِعَ دِیْنَکُمْ ، شرائع، کے مقدر ماننے میں اشارہ ہے کہ لیبیّنَ کا مفعول محذوف ہے۔ قولہ : یَرْجِعُ بِکُمْ عَنِ المَعْصَیَةِ ، یریدُکی تفسیر یرجع سے کرنے کا مقصد ایک سوال کا جواب ہے۔ سوال : توبہ قبول کرنے کا مقصد ہوتا ہے معصیت سے درگذر کرنا اور معصیت شریعت کے وارد ہونے کے بعد ہوتی ہے اور شریعت وارد ہوئی نہیں، اسلئے کہ سابق میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ وہ تمہارے لئے شریعت بیان کرنا چاہتا ہے، لہذا جب ابھی شریعت وارد نہیں ہوئی تو شریعت کی خلاف ورزی بھی نہیں ہوئی اور جب خلاف ورزی نہیں ہوئی تو معصیت بھی نہیں ہوئی اور جب معصیت نہیں ہوئی تو توبہ قبول کرنے کے معنی نہیں۔ جواب : مفسرّعلّام نے یتوب کی تفسیر یَرْجِع سے کرکے مذکورہ سوال کے جواب ہی کی جانب اشارہ کیا ہے، جواب کا حاصل یہ ہے کہ یتوب کا مطلب ہے یرجع، بازرکھے اور تم کو جاہلی طور طریقوں سے پھیر دے۔ قولہ : تَکُوْنَکی تفسیر تَقَعَسے کرکے اشارہ کردیا کہ کان تامہ ہے اور تجا رة نصب کے ساتھ بھی ہے اس صورت میں کاننا قصہ ہوگا اور اس کا اسم مخدوف ہوگا اور تجارة اس کی خبر ہوگی، تقدیر عبارت یہ ہوگی، اِلَّااَن تکونَ التجارةُ تجارةً ، اِلَّا أن تکونمستثنیٰ منقطع ہے اسلئے کہ مستثنیٰ منہ جو کہ اموال ہے مستثنیٰ یعنی تجارة کی جنس سے نہیں ہے۔ قولہ : اَمْوَالَ التِجَا رَةِ سلفظ اموال کا اضافہ کان کو ناقصہ ماننے کی صورت میں ہوگا، اور اس اضافہ کا مقصد کان کے اسم پر اس کی خبر کے حمل کو درست قرار دینا ہوگا، ورنہ تو مطلب یہ ہوگا کہ تم اپنے مالوں کو نہ کھاؤ مگر یہ کہ وہ تجارت ہوں حالانکہ تجارت کھانے کی چیز نہیں ہوتی۔ قولہ : صَادِ رَةً ، اس اضافہ کا مقصد ایک سوال کا جواب ہے۔ سوال : تَجَا رَةً ، کا صلہ عن نہیں استعمال ہوتا بلکہ باء استعمال ہوتا ہے ؟ جواب : عَنْ ، تجا رةکاصلہ نہیں ہے بلکہ صاد رة مقدرکا صلہ ہے لہٰذا کوئی اشکال نہیں۔ قولہ : بِقَرِیْنَة اس اضافہ کا مقصد ان لوگوں پر رد ہے جو ہلاکت صرف قتل ہی کو مانتے ہیں حالانکہ صحیح بات یہ ہے کہ ہلاکت عام ہے دینوی ہو یا اخروی خواہ قتل نفس کی صورت میں ہو یا ارتکاب معصیت کی صورت میں خواہ حسّی ہو یا معنوی، اور اس عموم کا قرینہ اَنَّ اللّٰہ کان بکم رحیما، ہے اسلئے کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت دنیا اور آخرت دونوں کے لئے عام ہے نہ کے بعض قسم کی ہلاکتوں کے ساتھ خاص ہے۔ قولہ : ھِیَ الی سَبْعِمِأةٍ اَقْرَبُ ۔ یعنی کبائر کی تعداد سات سو کے قریب ہے (مگر ستّر کا قول اقرب الی الصحتہ ہے) ۔ تفسیر و تشریح ربط آیات : سورت کے آغاز سے یہاں تک سورة بقرہ میں مسائل ومعاشرت کے تعلق سے جو ہدایات دی جا چکی ہیں ان سب کی طرف مجموعی اشارہ کرتے ہوئے فرمایا جا رہا ہے کہ یہ معاشرت، اخلاق و تمدن کے وہ قوانین ہیں جن پر قدیم ترین زمانہ سے ہر دور کے انبیاء اور صالح پیروکار عمل کرتے چلے آئے ہیں۔ ان آیتوں میں اللہ جل شانہ اپنا انعام و احسان جتاتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ان احکام کی مشروعیت میں تمہارے ہی منافع ومصالح کی رعایت رکھی گئی ہے اگرچہ تم اس کی تفصیل کو نہ سمجھو، اس کے بعد ان احکام پر عمل کی ترغیب ہے، اور گمراہ لوگوں کے ناپاک ارادوں پر متنبہ کیا گیا ہے کہ یہ لوگ تمہارے بدخواہ ہیں جو تمہارے بہی خواہ بن کر آئے ہیں۔ جو لوگ متبع شہوات ہیں وہ تم کو بھی راہ حق سے ہٹاکرگمراہ کرنا چاہتے ہیں تم ان سے ہوشیاررہنا، بعض مذہبوں میں اپنی محرم عورتوں سے بھی نکاح کرلینا درست ہے، اور بعض ملحدین تو اس دور میں قید نکاح کو بھی ختم کردینے کے حق میں ہیں، اور بعض ممالک میں تو عورت کو متاع مشترک قراردئیے جانے کی باتیں ہورہی ہیں، ایسی باتیں وہ لوگ کرتے جو سراپانفس کے بندے اور خواہش کے غلام ہیں، اسلام کا کلمہ پڑھنے والے بعض ضعیف الایمان لوگ جو ان ملحدوں کے ساتھ اٹھتے بیٹھتے ہیں ان کی باتوں میں آکر اپنے دین کو فرسودہ خیال کرنے لگتے ہیں، اور ملحدین کی انسانیت کی ترقی سمجھتے ہیں اور نادانستہ طور پر ماڈرن نظریات کے حامی ہوجاتے ہیں اور اس خام خیالی میں مبتیلا ہوجاتے ہیں کہ کاش ہمارا دین بھی اس کی اجازت دیتا۔ (العباذبااللہ)
Ayah 4:28

یُرِیْدُ اللّٰهُ اَنْ یُّخَفِّفَ عَنْكُمْ١ۚ وَ خُلِقَ الْاِنْسَانُ ضَعِیْفًا Open ayah 4:28 in the Quran reader

خدا چاہتا ہے کہ تم پر سے بوجھ ہلکا کرے اور انسان (طبعا) کمزور پیدا ہوا ہے

یریداللّٰہ ان یخفف عنکم، یعنی اللہ تعالیٰ تمہاری تکلیف ومشقت کے پیش نظر تمہارے لئے ہلکے احکام کا ارادہ فرماتے ہیں اسی لئے نکاح کے بارے میں ایسے نرم احکام دیئے ہیں جن پر عمل کرنا آسان ہو انسان چونکہ خلقی طور پر ضعیف ہے، اسلئے کہ نفس، خواہش شہوت اسکے اندرخلقتہً موجود ہے، اسی کے پیش نظر اللہ تعالیٰ نے انسان کیلئے آسانیاں رکھی ہیں۔ طرفین کی رضامندی سے طے کرنے کا اختیاردیدیا، اور ضرورت کے وقت ایک سے زائدعورتوں سے نکاح کی بھی اجازت دیدی بشرطیہ کہ دامن عدل ہاتھ سے نہ چھوٹے۔
Ayahs 4:29–30

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَاْكُلُوْۤا اَمْوَالَكُمْ بَیْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ اِلَّاۤ اَنْ تَكُوْنَ تِجَارَةً عَنْ تَرَاضٍ مِّنْكُمْ١۫ وَ لَا تَقْتُلُوْۤا اَنْفُسَكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِكُمْ رَحِیْمًا Open ayah 4:29 in the Quran reader

مومنو ! ایک دوسرے کا مال ناحق نہ کھاؤ ہاں اگر آپس کی رضامندی سے تجارت کا لین دین ہو (اور اس سے مالی فائدہ ہوجائے تو وہ جائز ہے) اور اپنے آپ کو ہلاک نہ کرو۔ کچھ شک نہیں کہ خدا تم پر مہربان ہے

وَ مَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِكَ عُدْوَانًا وَّ ظُلْمًا فَسَوْفَ نُصْلِیْهِ نَارًا١ؕ وَ كَانَ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرًا Open ayah 4:30 in the Quran reader

اور جو تعدی اور ظلم سے ایسا کرے گا ہم اس کو عنقریب جہنم میں داخل کریں گے اور یہ خدا کو آسان ہے

یایّھا الذین امنوالا تاکلوا اموالکم بینکم با لباطل، اے ایمان والو اپنے آپس کے مال ناجائز طریقہ سے مت کھاؤ، باطل میں دھوکہ، فریب، جعلسازی، ملاوٹ کے علاوہ تمام کاروبار بھی شامل ہیں جن سے شریعت نے منع فرمایا ہے، جیسے قمار، رباوغیرہ اسی طرح ممنوع اور حرام چیزوں کا کاروبار کرنا بھی شامل ہے مثلاً بلا ضرورت فوٹوگرافی، ویڈیو، ٹیوی، وی سی آر، ویڈیوفلمیں اور فحش کیسٹیں وغیرہ ان کا بنانا، بیچنا، مرمت کرنا سب ناجائز ہے۔ اِلّاان تکون تجارة عن تراض منکم، دوسروں کا مال باہمی رضامندی سے کھایا جائے خواہ تجارت کی صورت میں ہو یا اور دیگر کسی طریقہ سے، سب معاش کے طریقوں میں تجارت چونکہ افضل طریقہ ہے اسی لئے بطور خاص تجارت کا ذکر کیا ہے ورنہ ہدیہ ہبہ ملازمت، اجرت وغیرہ سب حلال مال میں داخل ہیں۔ حضرت رافع بن خدیج فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ سے حلال وطیب مال کے بارے میں دریافت کیا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا، عمل الرجل بیدہ وکل بیع مبرود، رواہ احمددالحاکم حضرت ابوسعید خدری فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا التا جرالصدوق الامین مع النبیین والصدیقین والشھداء (ترمذی) سچا تاجر جو امانتدارہو وہ انبیاء اور صدیقین اور شہداء کے ساتھ ہوگا۔ حضرت انس فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا، التاجرالصد وق تحت ظل العرش یوم القیامة . (رواہ الا صبھانی، ترغیب) ولاتقتلوالنفسکم، اس کے معنی ہیں تم خود قتل نہ کرو، اس میں باتفاق مفسرین خودکشی داخل ہے اور دوسروں کا قتل بھی، اور ارتکاب معصیت بھی جو دینوی اور اخروی ہلاکت کا باعث ہے۔
Ayah 4:31

اِنْ تَجْتَنِبُوْا كَبَآئِرَ مَا تُنْهَوْنَ عَنْهُ نُكَفِّرْ عَنْكُمْ سَیِّاٰتِكُمْ وَ نُدْخِلْكُمْ مُّدْخَلًا كَرِیْمًا Open ayah 4:31 in the Quran reader

اگر تم بڑے بڑے گناہوں سے جن سے تم کو منع کیا جاتا ہے اجتناب رکھو گے تو ہم تمہارے (چھوٹے چھوٹے) گناہ معاف کردیں گے اور تمہیں عزت کے مکانوں میں داخل کریں گے

اِنْ تَجْتَنِبُواکَبَائِرَمَاتُنْھَوْنَ عَنْہُ نکفِّرعَنْکُمْ سَیّئاتٰکم (الآیة) کبیرہ گناہ کی تعریف میں علماء کا اختلاف ہے، بعض کے نزدیک وہ گناہ کبیرہ ہے جس پر حدمقرر ہے، بعض کے نزدیک وہ ہے جس پر قرآن یا حدیث میں سخت وعید یا لعنت آئی ہے جس پر جہنم کی وعید آئی ہو۔ مذکورہ آیت سے معلوم ہوا کہ گناہوں کی قسمیں ہیں کبیرہ اور صیغرہ۔ اگر کوئی شخص ہمت کرکے گناہ سے بچ جائے تو اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ ان کے صغیرہ گناہوں کو معاف فرمادیں گے، فرائض وواجبات کا ترک بھی کبائر میں داخل ہے۔ اعمال صالحہ صغائر کا کفارہ ہوجاتے ہیں : کفارہ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ صالحہ کو صغیرہ گناہوں کا کفارہ بنا کر اس کا حساب بےباق کردیں گے، مگر گناہ کبیرہ صرف توبہ ہی سے معاف ہوتے ہیں۔ کبیرہ گناہوں کی تعداد : کبیرہ گناہوں کی تعداد میں علماء کا اختلاف ہے، امام ابن حجر مکی نے اپنی کتاب '' الزواجر '' میں ان تمام گناہوں کی فہرست اور ہر ایک کی مکمل تشریح بیان فرمائی ہے، جو مذکورة الصدر تعریف کی رو سے کبائر ہیں، ان کی اس کتاب میں کبائر کی تعداد چار سو سڑسٹھ تک پہنچی ہے ابن حجر کے علاوہ دیگر علماء نے بھی اس موضوع پر کتابیں لکھی ہیں، مثلاً '' الکبائر للذھبی '' الزواجرعن اقتراف الکبائر للھیثمی وغیرہ۔ ابن عباس ؓ کے سامنے کسی نے کبیرہ گناہوں کی تعداد سات بتلائی تو آپ نے فرمایا سات نہیں سات سو کہا جائے تو مناسب ہے، مذکورہ اختلاف کی وجہ یہ ہے کہ جس نے گناہ کے بڑے ابواب شمار کرنے پر اکتفاء کیا ہے تو تعداد کم لکھی ہے اور جس نے ان کی تفصیلات و انواع و اقسام کو پورا لکھا ہے اس کے نزدیک تعداد زیادہ ہوگئی، اسلئے اس میں کوئی تعارض نہیں ہے آپ ﷺ نے بھی مختلف مقامات پر کبائر کو بیان فرمایا ہے، حالات کی مناسبت سے کہیں تین اور کہیں چھ اور کہیں سات اور کہیں اس سے بھی زیادہ بیان فرمائے، اس لئے علماء امت نے یہ سمجھا ہے کہ کسی تعداد میں انحصار مقصود نہیں ہے۔ گناہ کبیرہ کے بارے میں معتزلہ اور اہل سنت کا اختلاف : معتزلہ اور ان کے موافقین نے مذکورہ آیت کے مضمون سے یہ سمجھ لیا ہے کہ اگر کبیرہ گناہوں سے بچتے رہو گے یعنی کبیرہ گناہ ایک بھی نہ کرو گے تو پھر صغائر خواہ کتنے بھی ہوں ضرور معاف کردیئے جائیں گے، اور صغائر کے ساتھ کبیرہ ایک بھی شامل ہوگیا تو اب معافی ممکن نہیں سزا ضرور ملے گی، اور اہل سنت کہتے ہیں کہ مذکورہ دونوں صورتوں میں اللہ تعالیٰ کو معافی اور مواخذہ کا اختیار بدستور حاصل ہے، اول صورت میں معافی کا لازم ہونا اور دوسری صورت میں مواخذہ کو واجب سمجھنا معتزلہ کی کم فہمی ہے، گو اس آیت کے ظاہری الفاظ سے سرسری طور پر معتزلہ کا مذہب راجح معلوم ہوتا ہے، اس کا جواب کسی نے یہ دیا ہے کہ انتفاء شرط سے انتفاء مشروط کوئی ضروری امر ہرگز نہیں، اور کسی نے یہ جواب دیا ہے کہ آیت میں مذکورہ کبائر سے اکبرالکبائر یعنی شرک مراد ہے، اور کبائر کو لفظ جمع کے ساتھ لانا شرک کی مختلف انواع کے اعتبار سے ہے۔ معتزلہ کا اصل جواب : یہ تو ظاہر ہے کہ ارشاد خداوندی '' اِنْ تجتنبواکبائرمَاتنھونَ عنہ نکفرعنکم سیّاٰ تِکم '' جو یہاں مذکور ہے اور آیت والذین یجتنبُوْنَ کبائرالاثم والفواحشَ اِلّااللممجو سورة نجم میں مذکور ہے ان دونوں کا مدعا ایک ہے صرف لفظوں میں قدرے فرق ہے لہذا جو مطلب ایک آیت کا ہوگا وہی دوسری کا لیا جائے گا، سورة نجم کی آیت کے متعلق حضرت عبداللہ بن عباس کا ارشاد بخاری وغیرہ کتب حدیث میں صاف موجود ہے عن ابن عباس قال مَا رأیتُ شیئاً اشبہ باللمم مما قال ابوھریرة عن النبیصلی اللّٰہ علیہ وسلم اِنَ اللّٰہ کتب علی ابن آدم حَظَّہ ' من الزنااد رک ذلک لامحالة فزناالعین النظروزنااللسان المنطق والنفس تمنی وتشتھِیْ والفرج یصدق ذلک ویکذبُ بہ، اس حدیث سے مذکورہ دونوں آیتوں کی حقیقی مراد معلوم ہوگئی، حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ یہ بھی معلوم ہوگیا کہ لمم اور علی ھذا القیاس سیّاٰت دونوں کا مفہوم ایک ہے، حضرت ابن عباس نے جو نکتہ اور جو بات اس سے نکالی ہے وہ ایسی عجیب اور مدلل ہے کہ جس سے دونوں آیتوں کا مضمون محقق ہوگیا، اور اسی سے معتزلہ کا جواب بھی ہوگیا، جس کی وضاحت یہ ہے کہ حضرت عبداللہ بن عباس فرماتے ہیں کہ سورة نجم کی آیت میں جو لمم، فرمایا اس کے معنی کی تعیین کے متعلق حدیث ابوھریرہ سے بہتر کوئی چیز نہیں جس کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ابن آدم کے ذمہ جو زنا کا حصہ مقرر فرمایا ہے وہ اس کو ضرور مل کررہے گا سو فعل زنا میں آنکھ کا حصہ دیکھنا ہے اور زبان کا حصہ باتیں کرنا ہے یعنی ایسی باتیں کرنا کہ جو زناکے مقدمات اور اسباب ہیں، اور نفس کا حصہ یہ ہے کہ زنا کی تمنا اور خواہش کرے، لیکن فعل زنا کا تحقیق یا بطلان دراصل شرمگاہ پر موقوف ہے یعنی اگر شرمگاہ سے زنا کا صدور ہوگیا تو زبان اور دل سب کا زنا متحقق ہوجائیگا، اور اگر باوجود جملہ اسباب ومقدمات کے شرمگاہ سے فعل کا صدور نہ ہوا بلکہ زنا سے توبہ واجتناب نصیب ہوگیا تو اب تمام وسائل زنا کہ جو فی نفسہ مباح تھے فقط زنا کی تبعیت کے باعث گناہ قرار دیئے گئے تھے وہ سب کے سب لائق مغفرت ہوگئے ان کا زنا ہونا باطل ہوگیا، یعنی ان کا قلب ماہیت ہوکربجائے گناہ کے عبادت بن گئے اسلئے کہ فی نفسہ تو وہ اعمال نہ معصیت تھے اور نہ عبادت بلکہ مباح تھے اس لئے کہ وہ زنا کے لئے وسیلہ بنے تھے معصیت میں شمار ہوگئے تھے جب زنا کے لئے وسیلہ نہ رہے بلکہ زناہی بوجہ اجتناب معدوم ہوگیا تو اب ان وسائل کا زنا کے ذیل میں شمار ہونا اور ان کو معصیت قرار دینا انصاف کے صریح خلاف ہے، مثلاً ایک شخص چوری کے ارادہ سے مسجد میں گیا مگر مسجد میں پہنچ کر اس کو تنبہ ہوا اور چوری سے توبہ عبادت کا ذریعہ بن گئی، اس حدیث ابوھریرہ کو سن کر حضرت ابن عباس سمجھ گئے کہ لمم وہ باتیں ہیں کہ جو دراصل گناہ نہیں مگر گناہ کا سبب اور زریعہ بن کر گناہ ہوجاتی ہیں، تو آیت کا مطلب یہ ہوگا کہ وہ لوگ بڑے گناہ سے تو بچتے ہیں البتہ، لمم، کا صدور ہوجاتا ہے مگر بڑے اور اصلی گناہ کے صدور سے پہلے ہی وہ تائب ہوجاتے ہیں، تو ابن عباس ؓ نے جیسے حدیث ابوھریرہ سے سورة نجم کا مطلب سمجھ لیا ہم کو بھی چاہیے کہ وہی معنی ابن عباس کے ارشاد کے مطابق آیت سورة نساء کے بےتکلف سمجھ لیں، جس کے بعد الحمداللہ نہ ہم کو اس کی ضرورت ہوگی کہ اس آیت کی توضیح میں گناہ کبیرہ کی مختلف تفسیریں نقل کریں، اور نہ معتزلہ کے استدلال کے جواب کا فکر ہوگا۔
Ayah 4:32

وَ لَا تَتَمَنَّوْا مَا فَضَّلَ اللّٰهُ بِهٖ بَعْضَكُمْ عَلٰى بَعْضٍ١ؕ لِلرِّجَالِ نَصِیْبٌ مِّمَّا اكْتَسَبُوْا١ؕ وَ لِلنِّسَآءِ نَصِیْبٌ مِّمَّا اكْتَسَبْنَ١ؕ وَ سْئَلُوا اللّٰهَ مِنْ فَضْلِهٖ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمًا Open ayah 4:32 in the Quran reader

اور جس چیز میں خدا نے تم میں سے بعض کو بعض پر فضلیت دی ہے اس کی ہوس مت کرو مردوں کو ان کے کاموں کا ثواب ہے جو انہوں نے کئے اور عورتوں کو ان کے کاموں کا ثواب ہے جو انہوں نے کئے اور خدا سے اس کا فضل (وکرم) مانگتے رہو۔ کچھ شک نہیں کہ خدا ہر چیز سے واقف ہے

وَلَاتتمَنَّوامَافضلَ اللّٰہ بہ بعضکم علی بعض . (الاٰیة) شان نزول : ایک روزحضرت ام سلمہ نے عرض کیا کہ مردجہاد میں حصہ لیتے ہیں اور شہادت حاصل کرتے ہیں، ہم عورتیں ان فضیلت والے کاموں سے محروم ہیں، ہماری میراث بھی مردوں سے نصف ہے (اخرجہ عبدالرزاق وسعیدبن منصورو عبدبن حمیدوالترمذی) اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ مردوں کو اللہ تعالیٰ نے جو جسمانی طاقت وقوت اپنی حکمت کے مطابق عطاکی ہے جس کی بنیاد پر وہ جہاد بھی کرتے ہیں اور دیگر بیرونی کاموں میں حصہ بھی لیتے ہیں یہ ان کے لئے اللہ کا خاص عطیہ ہے ان کو دیکھ کر عورتوں کو مردانہ صلاحیت کے کام کرنے کی آرزو نہیں کرنی چاہیے البتہ اللہ کی اطاعت اور نیک کاموں میں خوب حصہ لینا چاہیے۔ ایک بڑی اہم اخلاقی ہدایت : اس آیت میں ایک بڑی اہم اخلاقی ہدایت دی گئی ہے جسے اگر ملحوظ رکھا جائے تو اجتماعی زندگی میں انسان کو بڑا امن نصیب ہوجائے، اللہ تعالیٰ نے تمام انسانوں کو یکساں نہیں بنایا بلکہ ان کے درمیان بیشمار حیثیتوں سے فرق رکھے ہیں جہاں انسان اس فرق کو نظرانداز کرکے اور اس کے فطری حدود سے بڑھا کر اپنے مصنوعی امتیازات کا اس پر اضافہ کرتا ہے وہاں ایک قسم کا فساد برپا ہوتا ہے، آدمی کی ذہنیت کہ جسے کسی حیثیت سے اپنے مقابلہ میں بڑھا ہوا دیکھے بےچین ہوجائے، یہی اجتماعی زندگی میں رشک وحسد، رقابت وعداوت، مزاحمت وکشاکش کی جڑ ہے، اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اسے جائز طریقوں سے حاصل نہیں ہوتا تو وہ اسے ناجائز طریقوں سے حاصل کرنے پر اتر آتا ہے اللہ تعالیٰ اس آیت میں اسی ذہنیت سے بچنے کی تاکید فرما رہے میں، مطلب یہ کہ جو فضل اس نے دوسروں کو دیا ہے اس کی تمنا نہ کرو البتہ فضل کی دعا کرو وہ اپنے فضل و حکمت سے جس فضل کو اپنے علم و حکمت سے تمہارے لئے مناسب سمجھے گا عطا فرمادے گا۔
Ayah 4:33

وَ لِكُلٍّ جَعَلْنَا مَوَالِیَ مِمَّا تَرَكَ الْوَالِدٰنِ وَ الْاَقْرَبُوْنَ١ؕ وَ الَّذِیْنَ عَقَدَتْ اَیْمَانُكُمْ فَاٰتُوْهُمْ نَصِیْبَهُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ شَهِیْدًا۠ Open ayah 4:33 in the Quran reader

اور جو مال ماں باپ اور رشتہ دار چھوڑ مریں تو (حقداروں میں تو تقسیم کردو کہ) ہم نے ہر ایک کے حقدار مقرر کردیئے ہیں اور جن لوگوں سے تم عہد کرچکے ہو ان کو بھی انکا حصہ دو بیشک خدا ہر چیز کے سامنے ہے

وَلکل جعلناموالی مما ترک الوالدان (الآیة) موالی مولیٰکی جمع ہے مولیٰ کے متعدد معنی ہیں دوست، آزاد کردہ غلام، آزاد کرنے والا، چچازاد، پڑوسی، لیکن یہاں اس سے مراد ورثاء ہیں، مطلب یہ ہے کہ ہر مرد و عورت جو کچھ چھوڑ جائے اس کے وارث ان کے والدین اور دیگر قریبی رشتہ دار ہوں گے، اس آیت کے محکم یا منسوخ ہونے کے بارے میں علماء کا اختلاف ہے، ابن جریرطبری اس کو غیر منسوخ مانتے ہیں اور ابن کثیرنیز دیگر مفسرین کے نزدیک یہ آیت منسوخ ہے۔