4. Surah An-Nisaa

النساءThe Women · 176 ayahsتفسیرِ جلالین

Ayahs 4:142–143

اِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ یُخٰدِعُوْنَ اللّٰهَ وَ هُوَ خَادِعُهُمْ١ۚ وَ اِذَا قَامُوْۤا اِلَى الصَّلٰوةِ قَامُوْا كُسَالٰى١ۙ یُرَآءُوْنَ النَّاسَ وَ لَا یَذْكُرُوْنَ اللّٰهَ اِلَّا قَلِیْلًا٘ۙ Open ayah 4:142 in the Quran reader

منافق (ان چالوں سے اپنے نزدیک) خدا کو دھوکا دیتے ہیں (یہ اس کو کیا دھوکا دیں گے) وہ انہیں کو دھوکے میں ڈالنے والا ہے اور جب یہ نماز کو کھڑے ہوتے ہیں تو سست اور کاہل ہو کر (صرف) لوگوں کے دکھانے کو اور خدا کی یاد ہی نہیں کرتے مگر بہت کم

مُّذَبْذَبِیْنَ بَیْنَ ذٰلِكَ١ۖۗ لَاۤ اِلٰى هٰۤؤُلَآءِ وَ لَاۤ اِلٰى هٰۤؤُلَآءِ١ؕ وَ مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَلَنْ تَجِدَ لَهٗ سَبِیْلًا Open ayah 4:143 in the Quran reader

بیچ میں پڑے لٹک رہے ہیں نہ ان کی طرف ہوتے ہیں اور نہ ان کی طرف اور جس کو خدا بھٹکائے تو تم اس کے لئے کبھی بھی راستہ نہ پاؤ گے

آیات نمبر 142 تا 147 ترجمہ : بیشک منافقین اپنے پوشیدہ کفر کے خلاف ظاہر کرکے تاکہ اپنے اوپر سے دینوی احکام کو دفع کو سکیں اللہ کے ساتھ چال چل رہے ہیں اور وہ انھیں ان کی چالبازی کا بدلہ دینے والا ہے چناچہ وہ دنیا میں اللہ کے اپنے بنی کو ان کے پوشیدہ کفر پر مطلع کرنے کی وجہ سے رسوا ہوں گے اور آخرت میں سزا دیئے جائیں گے، اور جب یہ لوگ مومنوں کے ساتھ نماز کے لئے کھڑے ہوتے ہیں تو بہت ہی کاہلی سے کھڑے ہوتے ہیں (اپنی نماز) لوگوں کو دکھاتے ہیں اور اللہ کا ذکر تو بس یوں ہی برائے نام کرتے ہیں کفر اور ایمان کے درمیان معلق ہیں نہ (پورے) کافروں کی طرف منسوب ہیں اور نہ مومنوں کی طرف اور اللہ جسے گمراہ رکھے تو، تو اس کے لئے ہدایت کا کوئی راستہ نہ پائیگا، اے ایمان والو ! مومنوں کو چھوڑ کر کافروں کو دوست نہ بناؤ کیا تم چاہتے ہو کہ ان کی دوستی سے اپنے اوپر اپنے نفاق پر صریح حجت قائم کرلو، یقینا منافق دوزخ کے سب سے نیچے طبقہ میں ہوں گے، اور وہ جہنم کا سب سے نیچے کا طبقہ ہے، اور تو ان کا کوئی مددگار نہ پائیگا یعنی عذاب سے بچانے والا مگر وہ لوگ جو نفاق سے توبہ کرلیں اور اپنے عمل کی اصلاح کرلیں اور اللہ کی رسی کو تھامے رہیں اور اپنے دین کو اللہ کے لئے ریا کاری سے خالص کریں تو یہ لوگ جنتوں میں مومنوں کے ساتھ ہوں گے اور اللہ مومن کو عنقریب اجر عظیم دے گا اور وہ جنت ہے اللہ تم کو سزا دے کر کیا کرے گا ؟ اگر تم اس کی نعمتوں کی شکر گذاری کرتے رہو اور ایمان رکھو اور استفہام بمعنی نفی ہے یعنی تم کو سزا نہ دے گا، اور اللہ تعالیٰ مومنوں کو اجر عطاکرکے ان کے اعمال کا بڑا قدردان ہے اور اپنی مخلوق سے باخبر ہے۔ تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فواید قولہ : یُجازِیْھِمْ ، یہ ایک سوال مقدر کا جواب ہے۔ سوال : یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف خداع کی نسبت درست نہیں ہے اسلئے کہ خداع صفت قبیح ہے اللہ تعالیٰ اس سے وراء الوراء ہے۔ جواب : یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے لئے خداع کا استعمال مشاکلت کے طور پر ہے یہ جزاء السیئة سیئة کے قبیل سے ہے، یعنی جزاء خداع کو خداع سے تعبیر کردیا گیا ہے۔ قولہ : کُسَالیٰ ، کَسْلان کی جمع ہے، سست کاہل۔ قولہ : یُرَائُ ؤنَ جمع مذکر غائب (مفاعلة) وہ دکھاوا کرتے ہیں۔ قولہ : مَنْسُوْبِیْنَ ، اس اضافہ کا مقصد اس اعتراض کا جواب ہے کہ '' لا اِلیٰ ھٰؤ لائ '' میں حرف لا کا، حرف اِلیٰ پر داخل ہونا لازم آرہا ہے، حالانکہ حرف کا حرف پر داخل ہونا درست نہیں ہے۔ جواب : لا، اِلیٰ پر داخل نہیں ہے بلکہ منسوبین پر داخل ہے۔ قولہ : المَکَان . سوال : اَلدّرکِ ، کی تفسیر مفسرّ علاّم نے طبقة کی بجائے مکان سے کیوں کی ؟ جواب : الا سفل چونکہ مذکر ہے لہذا دَرْک بمعنی طبقة کی صفت واقع نہیں ہوسکتی۔ قولہ : وَالاِ سْتِفْھَامُ بِمَعْنَی النَّفْیِ ، یعنی اللہ کے قول مایفعل اللہ بِعَذَابِکُمْ. میں استفہام بمعنی نفی ہے لہذا یہ اعتراض ختم ہوگیا کہ استفہام اللہ کے لئے محال ہے۔ قولہ : بِالاِثَابَةِ ، یہ اس شبہ کا جواب ہے کہ شکر نعمت منعم کے اظہار کو کہتے ہیں اور یہ ذات باری کے لئے محال ہے۔ جواب : یہاں شکر سے عمل کا اجر وثواب عطاء کرکے قدردانی مقصود ہے۔ تفسیر وتشریح اِنَّ المنافقین یخٰدِعونَ اللہ وَھُو خَادِعُھمْ وَاِذَا قامُوْا اِلی الصلوةِ قاموا کُسَالیٰ نماز اسلام کا اہم ترین رکن اور افضل ترین فرض ہے منافقین اس میں بھی کاہلی اور سستی کرتے تھے کیونکہ ان کا قلب ایمان، خلوص، خشیت الہٰی سے عاری تھا یہی وجہ تھی کہ عشاء اور فجر کی نماز ان کر خاص طور پر گراں گذرتی تھی، جیسا کہ نبی ﷺ کا فرمان ہے اثقل الصلوةِ علی المنافقین صلوة العشاء وصلوة الفجر (صحیح بخاری) منافقین پر عشاء اور فجر کی نماز سب سے زیادہ گراں گذرتی ہے۔ نبی ﷺ کے زمانہ میں کوئی شخص مسلمانوں کی جماعت میں شمار ہی نہیں ہوسکتا تھا جب تک کہ وہ نماز کا پابند نہ ہو جس طرح تمام دینوی جماعتیں اور تنظی میں اپنے اجتماعات میں کسی رکن کے بلا عذر شریک نہ ہونے کو اس کی جماعت سے عدم دلچسپی پر محمول کرتی ہیں اور مسلسل چند اجتماعات سے غیر حاضر رہنے سے اسے ممبری سے خارج کردیتی ہیں اسی طرح اسلامی جماعت کے کسی رکن کا نماز باجماعت سے بلا عذر شرعی غیر حاضر رہنا اس زمانہ میں اس بات کی صریح دلیل سمجھا جاتا تھا کہ وہ مسلمان نہیں ہے ایک حدیث میں آپ ﷺ نے فرمایا '' کہ جو شخص مسلسل تین جمعوں میں شریک نہ ہو وہ مسلمان نہیں ہے '' یہی وجہ تھی کہ سخت سے سخت منافق کو بھی نماز با جماعت سے غیر حاضری کی ہمت نہیں ہوتی تھی البتہ جو چیز ان کو سچے ایمان سے تمیز کرتی تھی وہ تھی کہ سچے مومن ذوق و شوق سے آتے تھے اور وقت سے پہلے ہی مسجدوں میں پہنچ جاتے تھے اور نماز سے فارغ ہونے کے بعد بھی مسجدوں میں ٹھہرے رہتے تھے، بخلاف منافقوں کے کہ اذان ہوتے ہی ان کی جان پر بن آتی تھی اور دل پر جبر کرکے اٹھتے تھے، ان کے قدم گراں ہوجاتے تھے ایسا معلوم ہوتا کہ وہ اپنے آپ کو زبردستی کھینچ کر لارہے ہیں۔ مسئلہ : قاموا کسالی، جس کسل کی یہاں مذمت ہے وہ اعتقادی کسل ہے اور جو باوجود اعتقاد صحیح کے کس ہو وہ اس سے خارج ہے پھر اگر عذر سے ہو مثلاً مرض، تعب، غلبہ نوم تو قابل مذمت بھی نہیں اور اگر بغیر عذر ہو تو مذمت ہے۔ (بیان القرآن) اور منافقین سستی و کاہلی کے ساتھ نماز پڑھتے تھے وہ صرف ریا کاری کے لئے پڑھتے تھے تاکہ مسلمانوں کو فریب دے سکیں۔
Ayahs 4:144–145

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوا الْكٰفِرِیْنَ اَوْلِیَآءَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِیْنَ١ؕ اَتُرِیْدُوْنَ اَنْ تَجْعَلُوْا لِلّٰهِ عَلَیْكُمْ سُلْطٰنًا مُّبِیْنًا Open ayah 4:144 in the Quran reader

اے اہل ایمان ! مومنوں کے سوا کافروں کو دوست نہ بناؤ کیا تم چاہتے ہو کہ اپنے اوپر خدا کا صریح الزام لو۔

اِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ فِی الدَّرْكِ الْاَسْفَلِ مِنَ النَّارِ١ۚ وَ لَنْ تَجِدَ لَهُمْ نَصِیْرًاۙ Open ayah 4:145 in the Quran reader

کچھ شک نہیں کہ منافق لوگ دوزخ کے سب سے نیچے کے درجے میں ہوں گے اور تم ان کو کسی کا مددگار نہ پاؤ گے

یاَیُّھَاالذین آمنوا لا تتخذوا الکفرین اولیاء (الآیة) یعنی اللہ نے تمہیں کافروں کی دوستی سے منع فرمایا ہے، اب اگر تم ان سے دوستی کرو گے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ تم اللہ کو یہ دلیل مہیا کررہے ہو کہ وہ تمہیں بھی سزا دے سکے۔
Ayahs 4:146–147

اِلَّا الَّذِیْنَ تَابُوْا وَ اَصْلَحُوْا وَ اعْتَصَمُوْا بِاللّٰهِ وَ اَخْلَصُوْا دِیْنَهُمْ لِلّٰهِ فَاُولٰٓئِكَ مَعَ الْمُؤْمِنِیْنَ١ؕ وَ سَوْفَ یُؤْتِ اللّٰهُ الْمُؤْمِنِیْنَ اَجْرًا عَظِیْمًا Open ayah 4:146 in the Quran reader

ہاں جنہوں نے توبہ کی اور اپنی حالت کو درست کیا اور خدا (کی رسی) کو مضبوط پکڑا اور خاص خدا کے فرمان بردار ہوگئے تو ایسے لوگ مومنوں کے زمرے میں ہوں گے اور خدا عنقریب مومنوں کو بڑا ثواب دیگا

مَا یَفْعَلُ اللّٰهُ بِعَذَابِكُمْ اِنْ شَكَرْتُمْ وَ اٰمَنْتُمْ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ شَاكِرًا عَلِیْمًا Open ayah 4:147 in the Quran reader

اگر تم (خدا کے) شکر گزار رہو اور (اس پر) ایمان لے آؤ تو خدا کو تم کو عذاب دے کر کیا کرے گا اور خدا تو قدر شناس اور دانا ہے۔

اِلّا الَّذِیْنَ تابواو اصلحوا (الآیة) یعنی منافقین میں سے جو شخص اس میں مذکورہ چار چیزوں کا خلوص دل سے اہتمام کرے گا تو جہنم میں جانے کے بجائے جنت میں اہل ایمان کے ساتھ ہوگا اور اللہ تعالیٰ تم کو سزا سے کر کیا کرے گا ؟ اگر تم اس کے شکر گذار اور دل سے ایمان لاؤ تو اسے کیا پڑی ہے کہ وہ خواہ مخواہ تم کو سزا سے بلکہ وہ تو تمہارے ادنیٰ سے ادنی عمل کا قدر دان ہے بشرطیکہ خلوص دل سے ہو، اور وہ خوب جانتا ہے کہ کون اخلاص سے عمل کررہا ہے اور کون ریاء کاری کے طور پر۔
Ayahs 4:148–151

لَا یُحِبُّ اللّٰهُ الْجَهْرَ بِالسُّوْٓءِ مِنَ الْقَوْلِ اِلَّا مَنْ ظُلِمَ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ سَمِیْعًا عَلِیْمًا Open ayah 4:148 in the Quran reader

خدا اس بات کو پسند نہیں کرتا کہ کوئی کسی کو علانیہ برا کہے مگر وہ جو مظلوم ہو۔ اور خدا سب کچھ سنتا اور جانتا ہے۔

اِنْ تُبْدُوْا خَیْرًا اَوْ تُخْفُوْهُ اَوْ تَعْفُوْا عَنْ سُوْٓءٍ فَاِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَفُوًّا قَدِیْرًا Open ayah 4:149 in the Quran reader

اگر تم لوگ بھلائی کھلم کھلا کرو گے یا چھپا کر۔ یا برائی سے درگزر کرو گے تو خدا بھی معاف کرنیولا اور صاحب قدرت ہے۔

اِنَّ الَّذِیْنَ یَكْفُرُوْنَ بِاللّٰهِ وَ رُسُلِهٖ وَ یُرِیْدُوْنَ اَنْ یُّفَرِّقُوْا بَیْنَ اللّٰهِ وَ رُسُلِهٖ وَ یَقُوْلُوْنَ نُؤْمِنُ بِبَعْضٍ وَّ نَكْفُرُ بِبَعْضٍ١ۙ وَّ یُرِیْدُوْنَ اَنْ یَّتَّخِذُوْا بَیْنَ ذٰلِكَ سَبِیْلًۙا Open ayah 4:150 in the Quran reader

جو لوگ خدا سے اور اس کے پیغمبروں سے کفر کرتے ہیں اور خدا اور اس کے پیغمبروں میں فرق کرنا چاہتے ہیں اور کہتے ہے کہ تم بعض کو مانتے ہیں اور بعض کو نہیں مانتے اور ایمان اور کفر کے بیچ میں ایک راہ نکالنی چاہتے ہیں

اُولٰٓئِكَ هُمُ الْكٰفِرُوْنَ حَقًّا١ۚ وَ اَعْتَدْنَا لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابًا مُّهِیْنًا Open ayah 4:151 in the Quran reader

وہ بلا اشتباہ کافر ہے اور کافروں کے لئے ہم نے ذلت کا عذاب تیار کر رکھا ہے۔

آیت نمبر 148 تا 152 ترجمہ : اللہ کسی کی یہ بات پسند نہیں کرتا کہ کوئی کسی کی بدگوئی کرے یعنی بدگوئی پر سزا دے گا، البتہ مظلوم کو (بیان ظلم کی) اجازت ہے، یہ کہ اپنے ظالم کے ظلم کو افشا کرے اور اس کے لئے بد دعاء کرے، (تو اللہ اس افشاء ظلم پر مواخذہ نہ کرے گا) ، اور جو کچھ کہا جاتا ہے اللہ اس کو سننے والا ہے اور جو کچھ کیا جاتا ہے اس کو جاننے والا ہے، اور اگر تم اعمال نیک میں سے کوئی عمل اعلانیہ کرو یا اس کو چھپا کر کرو یا ظلم کو معاف کردو (تو بہت خوب ہے اسلئے کہ اللہ کی بھی یہی صفت ہے) کہ وہ (انتقام پر) قدرت رکھنے کے باوجود بڑا معاف کرنے والا ہے جو لوگ اللہ سے اور اس کے رسول سے کفر کرتے ہیں اور چاہتے ہیں جی اللہ اور اس کے رسول کے درمیان تقریق کریں بایں طور کہ اللہ پر ایمان لائیں اور رسولوں پر ایمان نہ لائیں، اور وہ کہتے (بھی) ہیں کہ ہم بعض رسولوں پر ایمان لاتے ہیں اور ان میں سے بعض کے منکر ہیں اور یہ لوگ چاہتے ہیں کہ کفر و ایمان کے درمیان کوئی ایسی راہ نکالیں، کہ جس پر وہ چلیں، یقینا یہ لوگ پکے کافر ہیں (حَقَّا) سابقہ جملے کے مضمون کی تاکید ہے، اور ہم کے کافروں کے لئے اھانت آمیز سزا تجویز کررکھی ہے، اور وہ دوزخ کی سزا ہے، اور جو لوگ اللہ پر ایمان رکھتے ہیں اور اس کے تمام رسولوں پر بھی (ایمان رکھتے ہیں) اور ان میں سے کسی میں تفریق نہیں کرتے ان لوگوں کو اللہ ان کے اعمال خیر کا ضرور اجر دے گا (یّؤتیھم) نون اور یاء کے ساتھ ہے، اور اللہ تعالیٰ اپنے دوستوں سے بڑا درگذر کرنے والا اور اپنی اطاعت کرنے والوں پر بڑا رحم کرنے والا ہے۔ تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد قولہ : اَلجَھرِ ، رفع الصوت بالقول وغیرہ، جھر بالقول سے مطلقاً اظہار مرد ہے خواہ جہر ہو یا نہ ہو۔ قولہ : مِنْ احدٍ ، یہ مستثنیٰ منہ مقدر ہے لہٰذا یہ اعتراض ختم ہوگیا کہ اِلاّ مَنْ ظلم، کا استثناء ماقبل سے درست ہے، اور الجھر مصدر م کا فاعل مخدوف ہے، اور مصدر کے فاعل کا حذف جائز ہے، اور مَنْ ظلم، اسی فاعل محذوف سے، مستثنیٰ ہے، یا مضاف محذوف مانا جائے تقدیر عبارت یہ ہوگی '' اَلاّ جَھْرَ مَنْ ظُلِمَ '' مذکورہ دونوں صورتوں میں مستثنیٰ متصل ہوگا۔ قولہ : ای یُعَاقِبُ علیہ، اس میں اشارہ ہے کہ عدم محبت سے غضب اور عقاب مراد ہے۔ قولہ : فاِنَّ اللہ کان عَفُوًّ اقَدِیْرًا، یہ جملہ جواب شرط ہے، اور اِنْ تُبْدُوا اور اَو تُخْفوہ، اور اوتعفوا عن سُوئ، یہ تینوں جملے بذریعہ عطف شرط ہیں۔ جواب شرط سے معلوم ہوتا ہے کہ مقصود تیسرے جملہ یعنی اَوْ تعفوا کا جواب شرط ہے اور اگر ابداء خیر اور اخفاء خیر بھی مقصود بالشرط میں فقط فاِن اللہ کان عفوًا قدیرًا، پر اکتفاء درست یہ ہوگا، اس سے معلوم ہوا کہ ابداء خیر اور اخفاء خیر کو محض بطور تمہید لایا گیا ہے، یہ بتانے کے لیے کہ علانیہ یا پوشیدہ طریقہ سے کار خیر کرنا بھی نیکی ہے مگر قدرت علی الا نتقام کے بادجود معاف کرنا نیکی ہے اسلئے کہ یہی صفت اللہ تعالیٰ کی بھی ہے۔ تفسیر وتشریح ہتک عزت سے ممانعت : لا یحب اللہ الجھر بالسوء (الآیة) اس آیت میں مسلمانوں کو ایک نہایت ہی بلند درجہ کی اخلاقی تعلم دی گئی ہے، غیبت و ندگوئی کو قانونی زبان میں '' ہتک عزت '' کہا جاتا ہے بالکل ناجائز قرار دیا ہے، بلا ضرورت اور بلا مصلحت شرعی کسی کی بدگوئی کو کسی حال میں بھی روا نہیں رکھا، البتہ مظلوم اپنے دل کا بخار بک جھک کر شکوہ شکایت کرکے نکال سکتا ہے اور حاکم کے سامنے داد خواہی اور فریاد رسی کرسکتا ہے، شریعت اسلامی نے انسانی طبعی تقاضوں اور اضطراری یا نیم اضطراری ضرورتوں کا اس حد تک لحاظ رکھا ہے کہ کسی اور نے نہیں رکھا، اس میں کوئی شک نہیں کی شریعت اسلامی مظلام کو اس بات کا حق دیتی ہے کہ ظالم کی بدگوئی کرسکتا ہے مگر ساتھ ہی یہ بھی بتادیا کہ یہ خدا کے نزدیک کوئی پسندیدہ کام نہیں ہے بلکہ افضل اور پسندیدہ یہ ہے کہ تم عفو و درگذر سے کام لو اور اپنے اندر خدائی اخلاق پیدا کرو جس کی شان یہ ہے کہ وہ نہایت حلیم و بردبار ہے سخت سے سخت مجرموں تک کی روزی بند نہیں کرتا اور بڑے سے بڑے قصور داروں کو درگذر کئے چلا جاتا ہے، لہٰذا تم تخلقوا با خلاق اللہ کو پیش نظر رکھکر عالی حوصلہ اور وسیع الظرف بنو۔ یہ ہے رفع ظلم اور اصلاح معاشرہ کا قرآنی اصول کہ ایک طرف مظلوم کو برابر کے مقام کا حق دے کر عدل و انصاف کا قانون بنادیا اور دوسری طرف اعلیٰ اخلاق تعلیم دے کر عفو و درگذر پر آمادہ کیا، جس کا لازمی نتیجہ وہ ہے جس کو قرآن کریم نے دوسری جگہ پر ارشاد فرمایا ہے۔ فاذا الذی بینک وبینہ ' عداؤة کانہ ' ولی حمیم، یعنی جس شخص اور تمہارے درمیان دشمنی تھی اس طرز سے وہ تمہارا مخلص دوست بن جائیگا۔ عدالتی فیصلہ اور ظلم کا انتقام وقتی اور عارضی طور پر تو ظلم کی روک تھام کرسکتے ہیں لیکن فریقین کی دلی کدورت کو دور کرنے کا ذریعہ نہیں بن سکتے، بخلاف اس اخلاقی درس کے جو قرآن کریم نے دیا ہے اس کے نتیجے میں گہری اور پرانی عداوتیں دوستوں میں تبدیل ہوجاتی ہیں۔
Ayah 4:152

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَ رُسُلِهٖ وَ لَمْ یُفَرِّقُوْا بَیْنَ اَحَدٍ مِّنْهُمْ اُولٰٓئِكَ سَوْفَ یُؤْتِیْهِمْ اُجُوْرَهُمْ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا۠ Open ayah 4:152 in the Quran reader

اور جو لوگ خدا اور اس کے پیغمبروں پر ایمان لائے اور ان میں سے کسی میں فرق نہ کیا (یعنی سب کو مانا) ایسے لوگوں کو وہ عنقریب ان (کی نیکیوں) کے صلے میں عطا فرمائے گا اور خدا بخشنے والا مہربان ہے۔

والذین آمنو باللہ ورسولہ ولم یفرقوابین احد منھم (الآیة) اس آیت میں اہل ایمان کا شیوہ بتلایا گیا ہے کہ وہ سب انبیاء کرام پر ایمان رکھتے ہیں جس طرح کہ مسلمان کسی بھی بنی کے منکر نہیں، اس آیت سے وحدت ادیان کے تصور کی نفی ہوتی ہے، جس کے قائلین کے نزدیک رسالت محمدیہ پر ایمان لانا ضروری نہیں اور وہ غیر مسلموں کو بھی نجات یافتہ سمجھتے ہیں جو اپنے تصورات کے مطابق ایمان باللہ رکھتے ہیں، لیکن قرآن کی اس آیت نے واضح کردیا کہ ایمان باللہ کے ساتھ رسالت محمدیہ ﷺ پر ایمان لانا ضروری ہے، اگر اس آخری رسالت کا انکار ہوگیا تو اس انکار کے ساتھ ایمان باللہ بھی غیر معتبر اور نامقبول ہوگا۔ مذکورہ آیت میں اصل اشارہ یہود کی جانب ہے جو انبیاء سابقین میں سے اپنے ہی سلسلہ کے بعض انبیاء کے قائل نہیں تھے، مثلاً حضرت یحییٰ اور حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰة والسلام کے منکر تھے اور آخری بنی محمد ﷺ کے بھی منکر ہوئے، مگر چونکہ قرآن کے الفاظ عام ہیں جن کے تحت نہ صرف یہ کہ مسیحی آتے ہیں بلکہ آجکل کے آزاد خیال نام نہاد روشن خیال بھی اس ذیل میں آجاتے ہیں یورپ میں ایک فرقہ (Deists) خدا پرستوں کا کہلاتا ہے اور ہندستان میں بھی ایک فرقہ برہموسماج ہے فرقہ توحید کا قائل ہے لیکن عقیدہ وحی و نبوت کا منکر ہے یہ سب ایسی غلط اور نا قص ذہنیت ہے جس کو اسلام ختم کرنا چاہتا ہے، اسلام تو وحدت تعلم انبیاء کا قائل ہے اس میں اس کی قطعاً گنجائش نہیں کہ فلاں پیغمبر کو مانا جائے اور فلاں پیغمبر کو نہ مانا جائے، اور ایک درمیانی راہ نکالی جائے۔ اس آیت میں ان نام نہاد روشن خیال مسلمانوں کے لئے بڑی تنبیہ ہے جو شریعت میں سے صرف اپنے پسند و مذاق کی چیزیں چن کرلے لینا چاہتے ہیں، جیسے ہندوستان کے مغل بادشاہ اکبر نے کفر و اسلام کو ملا کر ایک دین الہی ایجاد کیا تھا، اور اکبر ہی کی نسل سے تین پشتوں کے بعد ایک شہزادہ دار اشکوہ نے بھی کچھ ایسی ہی کوشش کی تھی۔ اولٰیئک ھم الکٰفرون حقّا، اس آیت میں اس بات پر تنبیہ ہے کہ کہیں کوئی یہ نہ کہے کہ مذکورہ نظریہ رکھنے والوں کا مرتبہ کافروں سے تو بہرحال بہتر ہوگا، نہیں بلکہ یہ لوگ بھی پکے کافر ہیں اولئک ھم الکٰفرون، جملہ کی ترکیب خود ہی زور پیدا کرنے کیلئے کافی ہے، حَقًّا، کے اضافہ نے مزید تاکید کردی۔
Ayahs 4:153–154

یَسْئَلُكَ اَهْلُ الْكِتٰبِ اَنْ تُنَزِّلَ عَلَیْهِمْ كِتٰبًا مِّنَ السَّمَآءِ فَقَدْ سَاَلُوْا مُوْسٰۤى اَكْبَرَ مِنْ ذٰلِكَ فَقَالُوْۤا اَرِنَا اللّٰهَ جَهْرَةً فَاَخَذَتْهُمُ الصّٰعِقَةُ بِظُلْمِهِمْ١ۚ ثُمَّ اتَّخَذُوا الْعِجْلَ مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَتْهُمُ الْبَیِّنٰتُ فَعَفَوْنَا عَنْ ذٰلِكَ١ۚ وَ اٰتَیْنَا مُوْسٰى سُلْطٰنًا مُّبِیْنًا Open ayah 4:153 in the Quran reader

(اے محمد) اہل کتاب تم سے درخواست کرتے ہیں کہ تم ان پر ایک (لکھی ہوئی) کتاب آسمان سے اتار لاؤ۔ تو یہ موسیٰ سے اس سے بھی بڑی بڑی درخواستیں کرچکے ہیں (ان سے) کہتے تھے ہمیں خدا ظاہر (آنکھوں سے) دکھا دو ۔ سو ان کے گناہ کی وجہ سے انکو بجلی نے آپکڑا۔ پھر کھلی نشانیاں آئے پیچھے بچھڑے کو (معبود) بنا بیٹھے تو اس سے بھی ہم نے درگزر کی۔ اور موسیٰ کو صریح غلبہ دیا۔

وَ رَفَعْنَا فَوْقَهُمُ الطُّوْرَ بِمِیْثَاقِهِمْ وَ قُلْنَا لَهُمُ ادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا وَّ قُلْنَا لَهُمْ لَا تَعْدُوْا فِی السَّبْتِ وَ اَخَذْنَا مِنْهُمْ مِّیْثَاقًا غَلِیْظًا Open ayah 4:154 in the Quran reader

اور ان سے عہد لینے کو ہم نے ان پر کوہ طور اٹھا کھڑا کیا۔ اور انہیں حکم دیا کہ (شہر کے) دروازے میں (داخل ہونا تو) سجدہ کرتے ہوئے داخل ہونا۔ اور یہ بھی حکم دیا کہ ہفتے کے دن (مچھلیاں پکڑنے) میں تجاوز (یعنی حکم کے خلاف) نہ کرنا۔ غرض ہم نے ان سے مضبوط عہد لیا۔

آیت نمبر 153 تا 162 ترجمہ : اے محمد یہ اہل کتاب یعنی یہود عناداً آپ سے مطالبہ کررہے ہیں کہ آپ ان پر اسمان سے کوئی نوشتہ یکبارگی نازل کرا دو جیسا کہ موسیٰ علیہ الصلوٰة والسلام پر نازل کیا گیا تھا، آپ اس مطالبہ کو بڑا سجھ رہے ہیں تو یہ لوگ یعنی ان کے آباء و اجداد موسیٰ علیہ الصلوٰة والسلام سے اس سے بھی بڑا مطالبہ کرچکے ہیں، انہوں نے (موسیٰ علیہ الصلوٰة والسلام) سے مطالبہ کیا تھا کہ ہمیں خدا کا علانیہ دیدار کرادو، تو ان کی اسی سرکشی کی وجہ سے ان کو سزا دینے کے لئے یکایک ان پر موت کی آسمانی بجلی ٹوٹ پڑی، اس لئے کہ انہوں نے مطالبہ میں سرکشی اختار کی تھی پھر انہوں نے بچھڑے کو معبود بنالیا حالانکہ ان کے پاس اللہ کی وحدانیت پر کھلی نشانیاں آچکی تھیں، اس پر بھی ہم نے ان سے درگذر کیا، کہ ان کو ہم نے جڑ سے نہیں اکھاڑپھینکا، (نیست و نابود نہیں کیا) اور ہم نے ان پر موسیٰ علیہ الصلوٰة والسلام کو غلبہ عطا کیا، اس طور پر کہ موسیٰ علیہ الصلوٰة والسلام نے ان کو حکم دیا کہ توبہ کے لئے خود کو قتل کریں، تو انہوں نے موسیٰ علیہ الصلوٰة والسلام کی اطاعت کی، اور ان سے عہد لینے کے لئے ہم نے ان کے اوپر پہاڑ معلق کردیا تاکہ وہ خوف زدہ ہوں اور عہد کو قبول کریں، اور ہم نے ان سے کہا حال یہ کہ پہاڑ ان کے اوپر معلق تھا شنبہ کے بارے میں تعدی نہ کرنا اور ایک قراءت میں عین کے فتحہ اور لام کی تشدید کے ساتھ ہے (یعنی تعَدّیٰ ) اور اس میں اصل میں تاء کا دال ادغام ہے، یعنی ہفتہ کے دن مچھلیوں کا شکار کرکے تعدی نہ کرنا، اور اس پر ہم نے ان سے پختہ عہد لیا مگر انہوں نے عہد شکنی کی، تو ان کی عہد شکنی کی وجہ سے مازائدہ ہے اور باء سببیہ ہے محذوف کے متعلق ہے، یعنی ان کے نقض عہد کی وجہ سے اور ان کے اللہ لی آیتوں کا انکار کرنے کی وجہ سے اور اپنے انبیاء کو ناحق قتل کرنے کی وجہ سے اور ان کے اپنے بنی سے یہ کہنے کی وجہ سے کہ ہمارے قلوب غلاف میں ہیں جس کی وجہ سے تمہارے کلام محفوظ نہیں رکھتے، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ ان کے کفر سے اللہ نے ان کے قلوب پر مہر لگا دی ہے، جس کی وجہ سے وہ نصیحت کو محفوظ نہیں رکھتے، اور اسی وجہ سے ان میں سے بہت کم ایمان لاتے ہیں مثلاً عنداللہ بن سلام اور ان کے ساتھی اور بعد ازاں ان کے عیسیٰ علیہ الصلوٰة والسلام کا انکار کرنے کی وجہ سے اور (بکفرھم) میں باء کو اس کے اور اس کے معطوف علیہ کے درمیان فصل بالا جنبی کی وجہ سے مکررلایا گیا ہے، اور ام کے مریم پر بہتان عظیم لگانے کی وجہ سے کہ ان پر زنا کی تہمت لگائی اور ان کے فخریہ یہ کہنے کی وجہ سے کہ ہم نے اللہ کے رسول مسیح عیسیٰ بن مریم کو خویش قتل کردیا یعنی مذکورہ تمام (صفات قبیحہ) کی وجہ سے ہم نے ان کو سزا دی، اور اللہ ان کے عیسیٰ علیہ الصلوٰة والسلام کے دعوائے قتل کی تکذیب کرتے ہوئے فرمایا، اور انہوں نے نہ تو ان کو قتل کیا اور نہ سولی دی، بلکہ ان کی نظر میں ان کے مقتول و مصلوب ساتھی کو عیسیٰ علیہ الصلوٰة والسلام کی شبیہ بنادیا گیا، یعنی اللہ نے مقتول پر عیسیٰ علیہ الصلوٰة والسلام کی شبیہ ڈالدی تو انہوں نے اپنے ساتھی کو عیسیٰ علیہ الصلوٰة والسلام سمجھ لیا، یقین جانو عیسیٰ علیہ الصلوٰة والسلام کے بارے میں اختلاف کرنے والے عیسیٰ علیہ الصلوٰة والسلام کے قتل کے بارے میں شک میں مبتلا ہیں اسلئے کہ جب انہوں نے مقتول کو دیکھا تو کسی نے کہا چہرہ تو عیسیٰ علیہ الصلوٰة والسلام ہی کا سا ہے مگر دھڑ عیسیٰ علیہ الصلوٰة والسلام کے جیسا نہیں ہے تو مقتول عیسیٰ علیہ الصلوٰة والسلام کے ساتھ مشتبہ ہوگیا، اور کسی نے کہا کہ یہ بعینہ عیسیٰ ہی ہے انھیں عیسیٰ علیہ الصلوٰة والسلام کے قتل کا کوئی علم نہیں وہ محض تخمینی باتوں کی پیروی کرنے والے ہیں یہ استثناء منقطع ہے، یعنی یہ لوگ عیسیٰ علیہ الصلوٰة والسلام کے بارے میں اپنے اس گمان کی پیروی کر رہیں جس کا انہوں نے تصور کرلیا ہے، حالانکہ انہوں نے عیسیٰ علیہ الصلوٰة والسلام کو یقینا قتل نہیں کیا ہے، (لفظ یقینا) نفی قتل کے لئے حال مؤکدہ ہے بلکہ ( حقیقت یہ ہے) کہ اللہ نے ان کو اپنی طرف اٹھالیا ہے، اور اللہ تعالیٰ اپنے ملک میں بڑا زبردست اور اپنی صنعت میں حکمت والا ہے اور اہل کتاب میں سے کوئی بھی نہ بچے گا کہ وہ عیسیٰ علیہ الصلوٰة والسلام پر اپنے مرنے سے پہلے ایمان نہ لے آئے جبکہ وہ ملائکہ ٔ موت کو دیکھے گا (موتہ کی ضمیر کتابی کی طرف راجع ہے) مگر اس وقت ایمان لانا اس کے لئے نافع نہ ہوگا (یا قبل موتہ) کا مطلب ہے کہ عیسیٰ علیہ الصلوٰة والسلام کی موت سے پہلے جبکہ آپ قرب قیامت میں نزول فرمائیں گے، جیسا کہ حدیث میں وارد ہے، اور روز قیامت عیسیٰ علیہ الصلوٰة والسلام ان کے خلاف گواہی دیں گے اس پر کہ جب ان کو ان کی طرف مبعوث کیا گیا تو انہوں نے ان کے ساتھ کیا معاملہ کیا اور یہود کے ظلم کے سبب ان پر پاکیزہ چیزیں جو ان پر حلال کی گئی تھیں، ہم نے حرام کردیں اور وہ چیزیں ہیں جن کو (اللہ تعالیٰ نے) اپنے قول '' حَرّمْنا کل ذی ظفر '' الآیة، میں بیان فرمایا ہے، اور بہت اے لوگوں کو اللہ کے راستہ یعنی دین (حق) سے روکنے کی وجہ سے اور ان کے سود لینے کی وجہ سے حالانکہ تورات میں ان کو اس سے منع کیا گیا تھا اور لوگوں کے مال کو ان کے باطل طریقہ سے (مثلاً ) فیصلہ میں رشوت کے ذریعہ کھانے کی وجہ سے اور ان میں جو کافر ہیں ہم نے ان کے لئے تکلیف دہ عذاب مہیا کر رکھا ہے، لیکن ان میں سے پختہ علم رکھنے والے مثلاً عبد اللہ بن سلام اور ایمان والے جو کہ مہاجر و انصار ہیں اس پر کہ جو آپ پر نازل کیا گیا ہے اور ان کتابوں پر بھی جو آپ سے پہلے نازل کی گئی ہیں اور نماز قائم کرنے والے اور مقیمین منصوب علی المدح ہے اور مقیمون رفع کے ساتھ بھی پڑھا گیا ہے اور جو زکوة ادا کرنے والے ہیں اور اللہ پر اور یوم آخرت پر ایمان رکھنے والے ہیں، یہی ہیں وہ لوگ جن کو ہم وجر عظیم عطا کریں گے یاء اور نون کے ساتھ، اور وہ ( اجر عظیم) جنت ہے۔ تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد قولہ : عِیَاناً ، یا تو مصدر محذوف کی صفت ہے، ای اَرِنَا اِراء ةً عِیَاناً ، اس صورت میں لفظ مصدر ہوگا، یا مصدر بغیر لفظہ ہوگا، ای رُؤیةً عِیَاناً. قولہ : فاِنْ اسْتَکْبَرْتَ الخ، اس میں اشارہ ہے کہ فَقَد سَأ لُوْ اشَرطِ محذوف کی جزاء ہے۔ قولہ : ای آبائُ ھُمْ ، اس لفظ کا اضافہ کرکے اشارہ کردیا کہ آپ علیہ الصلوٰة والسلام کے زمانہ میں موجود یہود کی جانب سوال کی نسبت مجازاً ہے اسلئے کہ موجودین اپنے آباء کے سوال سے راضی تھے۔ قولہ : المُعْجِزَات، البیّنٰت، کی تفسیر المعجزات سے کرکے اشارہ کردیا کہ البیّنٰت سے مراد تورات نہیں جیسا کہ بعض نے کی ہے، اسلئے کہ بچھڑے کو معبود بنانے کے وقت تو رات عطا نہیں کی گئی تھی، اس کے بعد عطا کی گئی تھی۔ قولہ : بَابَ القَرْیَِٰ ، اس میں اشارہ ہے کہ الباب میں لام عوض میں مضاف الیہ کے ہے، اور قریہ سے مراد ایلہ ہے۔ قولہ : سُجُوْدَ اِنْحِنَائٍ اس میں اشارہ ہے سُجدًا سے معروف سجدہ یعنی وضع الْجیھةِ علی الارض مراد نہیں ہے بلکہ جھکنا اور عاجزی و تواضع کرنا مراد ہے۔ قولہ : لا تَعْدُوْا، عَدا یَعْدُوا سے نہی مضارع جمع مذکر حاضر تم تجاوز نہ کرو، تَعْدُوا اصل میں تَعْدُؤوْا تھا داؤ اول کے ضمہ کے ساتھ، جو کہ لام کلمہ ہے، ضمہ داؤ پر ثقیل ہونے کی وجہ سے ساقط ہوگیا اب دو واؤں کے درمیان التقاء ساکنین ہو اداؤ حذف ہوگیا تَعْدُوا ہوگیا، اور ایک قراءت میں تَعَدُّ وا ہے جو کہ اصل میں تَعْتَدُوْا تھا، تاء دال سے بدل گئی اور دال کا دال میں ادغام ہوگیا تَعَدُّ وْا ہوگیا۔ قولہ : عَلیٰ ذٰلِکَ نَقَضُؤہ '، اس اضافہ کا مقصد ایک سوال کا جواب ہے۔ سوال : فَبِمَا نَقْضِھِمْ کا متفرع علیہ موجود نہیں ہے لہٰذا تفریق درست نہیں ہے ؟ جواب : کلام میں اختصار ہے تقدیری عبارت یہ ہے واخذنا منھم میثاقًا غلیظًا علیٰ ذلک فنقضوہ فَبِمَا نقضھم الخ . قولہ : غُلْف، یہ غلاف کی جمع ہے۔ قولہ : ثانیاً بعیسٰی، یعنی اولاً حضرت موسیٰ اور تورات کے ساتھ کفر کی وجہ سے اور ثانیاً حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰة والسلام کے ساتھ کفر کی وجہ سے ان کے قلوب پر مہر لگی دونوں ہی طبع علی القلوب کے اسباب میں سے ہیں جیسا کہ مطلق کفر طبع کے اسباب میں سے ہے یہ عطف سبب علی السبب کے قبیل سے ہے معطوف اور معطوف علیہ میں چونکہ سبب طبع مختلف ہے لہٰذا عطف الشیٔ علی نفسہ لازم نہیں آتا۔ قولہ : فی زَعْمھم، اس کا تعلق اِنّا قتلنا سے ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کا مقولہ ہے یعنی یہود نے اپنے خیال میں قتل کردیا، ورنہ حقیقت میں قتل نہیں کیا، اور فی زعمھم کا تعلق رسول اللہ سے ہو تو یہ یہود کا مقولہ ہوگا مطلب یہ ہوگا کہ ہم نے عیسیٰ ابن مریم کو قتل کردیا جو انصاری کے خیال میں اللہ کے رسول ہیں، اسلئے کہ یہود عیسیٰ علیہ الصلوٰة والسلام کی رسالت کے قائل نہیں تھے۔ قولہ : ای ابِمَجْمُوْعِ ذٰلِکَ ، یعنی تمام مذکورات کا عطف فبمَا نقضھم پر ہے۔ قولہ : المَقْتُولُ والمَصْلُوْبُ ، یہ شُبّہَ کے نائب فاعل ہیں۔ قولہ : اِسْتِثْنَائ مُنْقَطِع، اسلئے کہ ظَنْ علم کی جنس سے نہیں ہے۔ قولہ : ای الکتابی، اس میں اشارہ ہے کہ بِہ کی ضمیر حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰة والسلام کی طرف اور مَوْتِہ کی ضمیر اَحَد، مقدر کی جانب راجع ہے جس سے مراد کتابی ہے۔ قولہ : اوقَبْلَ مَوْتِ عِیْسیٰ ، یہ دوسری ترکیب کی طرف اشارہ ہے اس صورت میں دونوں ضمیریں حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰة والسلام کی طرف راجع ہوں گی۔ قولہ : وھِیَ الَّتِیْ فیِ قَوْلِہ، یہ سورة انعام کی طرف اشارہ ہے۔ قولہ : صَدًّا، اس میں اشارہ ہے کہ یہ کثیراً موصوف محذوف کی صفت ہے۔ قولہ : نَصْب عَلَی المدْحِ یعنی المقیمینَ امدح فعل مقدر کی وجہ سے منصوب ہے ای اَمْدَحُ المقیمینَ الصلوة، اس صورت میں جملہ معتر ضہ ہوگا اور واؤ اعتراضیہ ہوگا۔ قولہ : وقُرِئَ بِالرَّفْعِ ، اور المقیمون کو رفع کے ساتھ بھی پڑھا گیا ہے، اس صورت میں الراسخون پر عطف ہوگا۔ تفسیر وتشریح آیات : یَسئلُکَ اَھْل الکتاب (الایة) ماقبل کی آیات میں یہود کی بد اعتقادیوں اور ان پر مذمت کا ذکر تھا، ان آیات میں ان کی بد اعمالیوں اور دیگر خرابیوں اور ان پر سزا کا ذکر ہے۔ شان نزول : ابن جریر نے محمد بن کعب قرظی سے روایت کی ہے کہ یہود کے سرداروں کی ایک جماعت آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور مطالبہ کیا کہ موسیٰ علیہ الصلوٰة والسلام اللہ کے پاس سے الواح لائے تھے اگر آپ بھی اللہ کے پاس سے الواح لے آئیں تو ہم آپ کی تصدیق کریں گے، تو اللہ تعالیٰ نے مذکورہ آیت نازل فرمائی۔ یہود کا مذکورہ مطالبہ اس لئے نہیں تھا کہ دل سے ایمان لانا چاہتے تھے اور ان کے ایمان لانے کی یہ ایک شرط تھی بلکہ ضداعناد کی وجہ سے وہ کوئی نہ کوئی شرط رکھتے ہی رہتے تھے، اگر یہود مذکورہ شرط میں مخلص ہوتے تو اللہ تعالیٰ کے لئے کوئی بعید نہ تھا کہ وہ ان کے مطالبہ کو پورا فرمادیتے م اللہ تعالیٰ نے مذکورہ آیت نازل فرما کر حقیقت حال سے آگاہ فرمادیا اور آپ کی تسلّی فرمادی کہ یہ قوم ہے ہی ایسی کہ اللہ کے رسولوں کو ہمیشہ ستاتی رہی ہے، ان کے آباء و اجداد نے حضرت موسیٰ علیہ الصلوٰة والسلام سے اس سے بھی کہیں زیادہ بڑی بات کا مطالبہ کیا تھا کہ ہمیں کھلی آنکھوں سے اللہ کا دیدار کرایا جائے تاکہ ہمیں یقین آجائے کہ پس پردہ آپ سے ہمکلام ہونے والا اللہ ہی ہے، ان کی اس گستاخی پر آسمان سے ایک بجلی آئی اور ان کو ہلاک کردیا۔ پھر اس نے بےجا سوال ہی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ توحید باری کے تمام دلائل وبراہین سے واقف ہونے کے باوجود خالق حقیقی کے بجائے بچھڑے کو معبود بنالیا، اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ان کی تمام حرکتوں اور خباثتوں کے باوجود ہم نے عفو و درگذر سے کام لیا ورنہ موقع تو اس کا تھا کہ ان کا قلع قمع کرکے نیست ونابود کردیا جاتا۔ ایک موقع ایسا بھی آیا کہ ان لوگوں نے تورات کی شریعت کو ماننے سے صاف انکار کردیا تھا، تو ہم نے طور پہاڑ اٹھا کر ان پر معلق کردیا تاکہ خوف و دہشت کی وجہ سے شریعت کو قبول کرلیں، اور ہم نے ان سے یہ بھی کہا کہ شہر ایلیا کے دروازہ میں داخل ہوتے وقت نہایت عاجزی سے سر جھکائے ہوئے داخل ہونا اور ہم نے ان سے یہ بھی کہا تھا کہ ہفتہ کے دن کا احترام کرنا اس دن مچھلیوں کا شکار نہ کرنا، مگر ہوا یوں کہ انہوں نے ایک ایک کرکے تمام احکام کی خلاف ورزی کی اور ہمارے ساتھ کئے ہوئے پختہ عہد کو توڑ ڈالا، تو ہم نے بھی ان کو دنیا میں ذلیل کردیا اور آخرت میں بھی بدترین سزا بھگتنی ہوگی۔ (معارف ملخصًا) ثم اتخذوا العجلَ (الآیة) ثمَّ یہاں تاخرزمانی کے لئے نہیں ہے بلکہ استبعاد کے لئے ہے یعنی ایسی بیہودہ فرمائشیں ہی کیا کم تھیں کہ اس سے بڑھ کر حرکت یہ کہ کہ گو سالہ پرستی شروع کردی۔
Ayahs 4:155–156

فَبِمَا نَقْضِهِمْ مِّیْثَاقَهُمْ وَ كُفْرِهِمْ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ قَتْلِهِمُ الْاَنْۢبِیَآءَ بِغَیْرِ حَقٍّ وَّ قَوْلِهِمْ قُلُوْبُنَا غُلْفٌ١ؕ بَلْ طَبَعَ اللّٰهُ عَلَیْهَا بِكُفْرِهِمْ فَلَا یُؤْمِنُوْنَ اِلَّا قَلِیْلًا۪ Open ayah 4:155 in the Quran reader

(لیکن انہوں نے عہد کو توڑ ڈالا) تو ان کے عہد توڑ دینے اور خدا کی آیتوں سے کفر کرنے اور انبیاء کو ناحق مار ڈالنے اور یہ کہنے کے سبب کہ ہمارے دلوں پر پردے (پڑے ہوئے) ہیں (خدا نے ان کو مردود کردیا اور ان کے دلوں پر پردے نہیں ہیں) بلکہ ان کے کفر کے سبب خدا نے ان پر مہر کردی ہے تو یہ کم ہی ایمان لاتے ہیں۔

وَّ بِكُفْرِهِمْ وَ قَوْلِهِمْ عَلٰى مَرْیَمَ بُهْتَانًا عَظِیْمًاۙ Open ayah 4:156 in the Quran reader

اور ان کے کفر کے سبب اور مریم پر بہتان عظیم باندھنے کے سبب۔

ربط و آیات : فبما بقضھم میثاقَھم (الآیة) ماقبل کی آیات میں بھی یہود کی شرارتوں کا ذکر تھا اور ساتھ ہی ان کی سزا کا بھی ذکر تھا، ان آیات میں بھی یہود کے بعض جرائم کی تفصیل ہے، اس کے ضمن میں حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰة والسلام کے متعلق ان کے باطل خیال کی تردید کی گئی ہے۔ یہود کی عہد شکنی : جب یہود نے عہد کو توڑدیا جو حق تعالیٰ سے کیا تھا تو حق تعالیٰ نے ان کی اس عہد شکنی پر اور آیات الہٰی کے انکار پر اور انبیاء علیہ الصلوٰة والسلام کے قتل ناحق پر اور ان کے اس کہنے پر کہ ہمارے قلوب غلاف میں ہیں سخت سے سخت عذاب مسلط فرمادئے، اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ان کے قلوب پر غلاف وغیرہ کچھ نہیں ہے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ ہم نے ان کی نافرمانیوں کی پاداش میں ان کے قلوب کو سر بند کردیا جس کی وجہ سے ان میں معدودے چند کے سوا کوئی ایمان نہیں لایا۔
Ayahs 4:157–159

وَّ قَوْلِهِمْ اِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِیْحَ عِیْسَى ابْنَ مَرْیَمَ رَسُوْلَ اللّٰهِ١ۚ وَ مَا قَتَلُوْهُ وَ مَا صَلَبُوْهُ وَ لٰكِنْ شُبِّهَ لَهُمْ١ؕ وَ اِنَّ الَّذِیْنَ اخْتَلَفُوْا فِیْهِ لَفِیْ شَكٍّ مِّنْهُ١ؕ مَا لَهُمْ بِهٖ مِنْ عِلْمٍ اِلَّا اتِّبَاعَ الظَّنِّ١ۚ وَ مَا قَتَلُوْهُ یَقِیْنًۢاۙ Open ayah 4:157 in the Quran reader

اور یہ کہنے کے سبب کہ ہم نے مریم کے بیٹے عیسیٰ مسیح کو جو خدا کے پیغمبر (کہلاتے) تھے قتل کردیا ہے۔ (خدا نے انکو ملعون کردیا) اور انہوں نے عیسیٰ کو قتل نہیں کیا اور نہ انہیں سولی پر چڑھایا بلکہ ان کو ان کی سی صورت معلوم ہوئی۔ اور جو لوگ ان کے بارے میں اختلاف کرتے ہیں وہ ان کے حال سے شک میں پڑے ہوئے ہیں۔ اور پیروی ظن کے سوا ان کو اس کا مطلق علم نہیں اور انہوں نے عیسیٰ کو یقینا قتل نہیں کیا۔

بَلْ رَّفَعَهُ اللّٰهُ اِلَیْهِ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَزِیْزًا حَكِیْمًا Open ayah 4:158 in the Quran reader

بلکہ خدا نے ان کو اپنی طرف اٹھا لیا۔ اور خدا غالب اور حکمت والا ہے۔

وَ اِنْ مِّنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ اِلَّا لَیُؤْمِنَنَّ بِهٖ قَبْلَ مَوْتِهٖ١ۚ وَ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ یَكُوْنُ عَلَیْهِمْ شَهِیْدًاۚ Open ayah 4:159 in the Quran reader

اور کوئی اہل کتاب نہیں ہوگا مگر انکی موت سے پہلے ان پر ایمان لے آئے گا اور وہ قیامت کے دن ان پر گواہ ہوں کے۔

قتل عیسیٰ علیہ الصلوٰة والسلام کے بارے میں یہود کا اشتباہ : وَمَاقَتَلوہ وَمَا صَلَبوہ، ان آیات میں واضح کیا گیا ہے کہ نہ تو ان لوگوں نے حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰة والسلام کو قتل کیا اور نہ سولی دی بلکہ صورت یہ ہوئی کہ معاملہ ان کے لئے مشتبہ ہوگیا، ولکن شُبّہَ لھم کی تفسیر میں ضحاک (رح) تعالیٰ نے فرمایا کہ قصہ یوں پیش آیا کہ جب یہود نے حضرت مسیح علیہ الصلوٰة والسلام کے قتل کا ارادہ کیا تو آپ کے حواری ایک جگہ جمع ہوگئے، حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰة والسلام بھی ان کے پاس تشریف لے آئے، ابلیس نے ان یہود کو جو حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰة والسلام کے قتل کے درپے تھے آپ کے چھپنے کے مقام کی نشاندی کردی جس کی وجہ سے چار ہزار افراد نے اس مکان کا محاصرہ کرلیا جس میں حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰة والسلام روپوش تھے حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰة والسلام نے اپنے حواریوں سے فرمایا، کہ تم میں سے کوئی شخص اس کے لئے آمادہ ہے کہ باہر نکلے اور اسے قتل کردیا جائے اور پھر وہ جنت میں میرے ساتھ ہو، ان میں ایک شخص نے خود کو اس کام کے لئے پیش کردیا وہ باہر نکلا تو یہود نے اس کو عیسیٰ مسیح سمجھ کر قتل کردیا اور حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰة والسلام کو اٹھالیا گیا۔ (قرطبی ملخصًا) اشتباہ کی دیگر روایات : کہا گیا کہ قاتلین حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰة والسلام کو پہچانتے نہیں تھے قاتلین نے ایک ایسے شخص کو قتل کردیا جس کے بارے میں ان کو شک تھا، یہی وجہ تھی کہ مقتول کے بارے میں آپس میں اختلاف ہوگیا بعض نے کہا مقتول عیسیٰ علیہ الصلوٰة والسلام ہی ہیں اور جن لوگوں نے حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰة والسلام کو آسمان کی طرف جاتے ہوئے دیکھا انہوں نے کہا ہم نے عیسیٰ علیہ الصلوٰة والسلام کو قتل نہیں کیا، قرآن کریم نے ان کے اسی شک و تذبذب کو ان (مذکورہ بالا) الفاظ میں بیان کیا ہے۔ فرقہ نسطوریہ اور ملکانیہ کا اختلاف : نصاری کے فرقہ نسطوریہ کا کہنا تھا کہ عیسیٰ علیہ الصلوٰة والسلام اپنی ناسوت ہونے کی جہت سے مصلوب ہوئے نہ کہ لاہوت کی جہت سے، اور ملکانیہ نے کہا حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰة والسلام کا قتل ناسوت اور لاہوت دونوں حیثیتوں سے ہوا غرضیکہ حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰة والسلام کے قتل کے بارے میں نصاریٰ کے درمیان شدید اختلاف ہے جس کی فہرست طویل ہے، لہٰذا اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے فرمایا '' اِنَّ الذین اختلفوا فیہ لفی شک منہ ''. (فتح القدیر شو کانی) بعض روایات میں ہے کہ یہودیوں نے ایک طیطلا نوس نومی شخص کو حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰة والسلام کے قتل کے لئے بھیجا تھا، حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰة والسلام تو مکان میں نہ ملے اسلئے کہ ان کو تو اللہ تعالیٰ نے اٹھالیا تھا، مگر اس شخص کو اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ علیہ الصلوٰة والسلام کی ہم شکل بنادیا تھا جب یہ شخص گھر سے نکلا تو یہود سمجھے کہ یہی عیسیٰ علیہ الصلوٰة والسلام ہے اور اسی اپنے آدمی کو لیجا کر قتل کردیا۔ (مظھری، معارف) مذکورہ صورتوں میں سے جو بھی صورت پیش آئی ہو سب کی گنجائش ہے قرآن کریم نے کسی خاص صورت کا تعین نہیں کیا اسلئے حقیقت حال کا صحیح علم تو اللہ ہی کو ہے البتہ قرآن کریم کے اس جملہ اور تفسیری روایات سے یہ بات ضرور معلوم ہوتی ہے کہ یہود و نصاری کو زبردست مغالطہ ہوگیا تھا اور حقیقی واقعہ ان سے پوشیدہ رہا جس کی وجہ سے ان کے اختلاف پیدا ہوگئے اسی حقیقت کی طرف قرآن مجید نے ان الفاظ '' وَاِنّ الذین اختلفوا فیہ لفی شک منہ مالھم بہ من علم اِلاّ اتباع الظن وَمَا قتلوہ یقینا '' سے اشارہ کیا ہے۔ بعض روایات سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ کچھ لوگوں کو تنبہ ہوا تو انہوں نے کہا کہ ہم نے تو اپنے ہی آدمی کو قتل کردیا ہے اسلئے کہ مقتول چہرے میں تو مسیح کے مشابہ ہے لیکن باقی جسم میں ان کی طرح نہیں ہے، اگر یہ مقتول مسیح ہے تو ہمارا آدمی کہاں گیا اور اگر یہ ہمارا آدمی ہے تو مسیح کہاں ہے ؟ رفع عیسیٰ علیہ الصلوٰة والسلام اور نزول عیسیٰ علیہ الصلوٰة والسلام کی روایات متواتر ہیں : ان روایاتِ متواترہ کو حجتہ الاسلام علامہ انور شاہ صاحب کشمیری نے ایک رسالہ میں جمع فرمایا ہے جن کی تعداد سو سے زیادہ ہے اس کا نام التصریح بما تواترفی نزول المسیح ہے، شام کے ایک بڑے عالم علامہ عبدالفتاح ابو غدہ نے اس کو مزید شرح و حواشی کے ساتھ بیروت سے شائع کرایا ہے۔ نزول عیسیٰ علیہ الصلوٰة والسلام کا عقیدہ قطعی اور اجماعی ہے جس کا منکر کافر ہے : سورة آل عمران میں اس کی پوری تفصیل گذرچ کی ہے وہاں دیکھ لیا جائے، ان شبہات کا جواب بھی مذکورہ ہے جو اسی زمانہ کے بعض ملحدین کی طرف سے اس عقیدہ کو مشکوک بنانے کے لئے کئے گئے ہیں۔
Ayahs 4:160–162

فَبِظُلْمٍ مِّنَ الَّذِیْنَ هَادُوْا حَرَّمْنَا عَلَیْهِمْ طَیِّبٰتٍ اُحِلَّتْ لَهُمْ وَ بِصَدِّهِمْ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ كَثِیْرًاۙ Open ayah 4:160 in the Quran reader

تو ہم نے یہودیوں کے ظلموں کے سبب (بہت سی) پاکیزہ چیزیں جو ان کو حلال تھیں ان کو حرام کردیں اور اس سبب سے بھی کہ وہ اکثر خدا کے راستے سے (لوگوں کو) روکتے تھے۔

وَّ اَخْذِهِمُ الرِّبٰوا وَ قَدْ نُهُوْا عَنْهُ وَ اَكْلِهِمْ اَمْوَالَ النَّاسِ بِالْبَاطِلِ١ؕ وَ اَعْتَدْنَا لِلْكٰفِرِیْنَ مِنْهُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا Open ayah 4:161 in the Quran reader

اور اس سبب سے بھی کہ باوجود منع کئے جانے کے سود لیتے تھے اور اس سبب سے بھی کہ لوگوں کا مال ناحق کھاتے تھے اور ان میں سے جو کافر ہیں ان کے لئے ہم نے درد دینے والا عذاب تیار کر رکھا ہے۔

لٰكِنِ الرّٰسِخُوْنَ فِی الْعِلْمِ مِنْهُمْ وَ الْمُؤْمِنُوْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِمَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ وَ مَاۤ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ وَ الْمُقِیْمِیْنَ الصَّلٰوةَ وَ الْمُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَ الْمُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ١ؕ اُولٰٓئِكَ سَنُؤْتِیْهِمْ اَجْرًا عَظِیْمًا۠ Open ayah 4:162 in the Quran reader

مگر جو لوگ ان میں سے علم میں پکے ہیں اور جو مومن ہیں وہ اس (کتاب) پر جو تم پر نازل ہوئی اور جو (کتابیں) تم سے پہلے نازل ہوئیں (سب پر) ایمان رکھتے ہیں اور نماز پڑھتے ہیں اور زکوٰۃ دیتے ہیں اور خدا اور روز آخرت کو مانتے ہیں۔ ان کو ہم عنقریب اجر عظیم دیں گے۔

فبظلم من الذین ھادو احرمنا، جملہ معترضہ ختم ہونے کے بعد یہاں سے پھر وہی سلسلہ کلام شروع ہوتا ہے جو اوپر سے چلا آرہا تھا، یعنی صرف اسی پر اکتفاء نہیں کرتے کہ خود اللہ کے راستہ سے منحرف ہیں بلکہ اس قدر بےباک مجرم بن گئے ہیں کہ دنیا میں خدا کے بندوں کو گمراہ کرنے کے لئے جو تحریک بھی اٹھتی ہے اکثر اس کے پیچھے یہودی دماغ اور یہودی سرمایہ ہی کار فرما ہوتا ہے، اور راہ حق کی دعوت کیلئے جو تحریک بھی شروع ہوتی ہے اس راہ کے سنگ گراں یہودی ہی ہوتے ہیں۔ مفید بحث : یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ ان دنوں شام و فلسطین کی غالب آبادی یہودیوں کی تھی اور حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰة والسلام بھی اسی کے ایک فرد تھے، گو کہ یہود کو اندرونی خودمختاری حاصل تھی جس کی رو سے یہود کو اپنے مذہبی فیصلے خود کرنے کا اختیار تھا (جس کو پرسنل لا کی آزادی) بھی کہا جاسکتا ہے مگر سیاسی اور خارجی امور رومی مشرک حکومت کو حاصل تھے جس کی وجہ سے اعلی عہدہ دار، پولیس اور فوج رومیوں پر مشتمل تھی، جب حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰة والسلام نے نبوت کا دعویٰ کیا تو یہودیوں نے اپنے مذہبی قانون (پرسنل لا) کی رو سے حضرت مسیح کو بدعتی اور یہودیت سے خارج قرار دیکر سزائے موت کا فتوی صادر کردیا مگر چونکہ یہود کو سزائے موت نافذ کرنے کا اختیار نہیں تھا اسلئے رومی حکومت سے سزا نافذ کرنے کی درخواست کی گئی اور سزا کے نفاذ کو یقینی بنانے کے لئے حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰة والسلام پر ملک کی غداری اور قومی بغاوت کا الزام بھی لگا دیا، تاریخ کا بیان ہے کہ حضرت مسیح کی سزائے موت کا نفاذ اگرچہ رومی حکومت نے کیا لیکن آپ کو سزا دلوانے کے پیچھے تمام تر کوشش یہود کی کار فرما تھی اس لئے قرآن مجید نے حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰة والسلام کے قتل کی تمام تر ذمہ داری یہود پر ڈالی ہے رومی عدالت کا حاکم پیلاطیس (PILTUS) آپ کو سزا دینا ہرگز نہ چاہتا تھا بلکہ اس سے برابر بچنے کی کوشش کررہا تھا، مگر یہود کہ جنہوں نے جھوٹا استغاثہ گھڑا، جھوٹی شہادتیں فراہم کیں اور سزا نافذ نہ کرنے کی صورت میں بلوہ و فساد کی دھمکی دے دے کر عدالت کو سزائے موت سنانے پر مجبور کردیا۔ انجیل متی کا ایک مختصر سا بیان ملاحظہ ہو : جب پیلاطیس نے دیکھا کہ کچھ نہیں بن پڑتا، بلکہ الٹا بلوہ ہوا جاتا ہے تو پانی لے کر لوگوں کے روبرو اپنے ہاتھ دھوئے اور کہا کہ میں راست باز کے خون سے بری ہوں، تم جانو، سب لوگوں نے کہا اس کا خون ہماری اور ہماری اولاد کی گردن پر، اس پر اس نے برابّا کو ان کی خاطر چھوڑ دیا اور یسوع کو کوڑے لگوا کر حوالہ کردیا کہ صلیب دی جائے۔ (27: 24: 26) (ماجدی) اس کی تائید دوسری انجیلیں بھی کرتی ہیں بلکہ انجیل لوقا میں تو اتنی تصریح اور زائد ہے کہ حاکم نے ملزم کو سزائے موت سے بچانے کیلئے تین بار کوشش کی لیکن یہود نے ہر دفعہ اس کی بات کو رد کردیا۔ (23: 22) (ماجدی) ربط آیات : لکن الراسخون فی العلم، آیات بالا میں ان یہود کا ذکر تھا جو اپنے کفر پر قائم تھے اور مذکورہ بالا منکرات میں مبتلا تھے، آگے ان حضرات کا ذکر ہے جو اہل کتاب تھے اور جب آنحضرت ﷺ کی بعثت ہوئی اور وہ صفات جو خاتم النبیین ﷺ کے متعلق ان کی کتابوں میں موجود تھیں آپ میں پوری پوری دیکھیں تو ایمان لے آئے جیسے حضرت عبداللہ بن سلام واسید و ثعلبہ ؓ ، ان آیات میں ان حضرات کی تعریف و توصیف ہے۔
Ayahs 4:163–169

اِنَّاۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ كَمَاۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى نُوْحٍ وَّ النَّبِیّٖنَ مِنْۢ بَعْدِهٖ١ۚ وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰۤى اِبْرٰهِیْمَ وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ وَ الْاَسْبَاطِ وَ عِیْسٰى وَ اَیُّوْبَ وَ یُوْنُسَ وَ هٰرُوْنَ وَ سُلَیْمٰنَ١ۚ وَ اٰتَیْنَا دَاوٗدَ زَبُوْرًاۚ Open ayah 4:163 in the Quran reader

(اے محمد) ہم نے تمہاری طرف اسی طرح وحی بھیجی ہے جس طرح نوح اور ان سے پچھلے پیغمبروں کیطرف بھیجی تھی۔ اور ابراہیم اور اسماعیل اور اسحاق اور یعقوب اور اولاد یعقوب اور عیسیٰ اور ایوب اور یونس اور ہارون اور سلیمان کو بھی وحی بھیجی تھی اور داؤد کو ہم نے زبور بھی عنایت کی تھی۔

وَ رُسُلًا قَدْ قَصَصْنٰهُمْ عَلَیْكَ مِنْ قَبْلُ وَ رُسُلًا لَّمْ نَقْصُصْهُمْ عَلَیْكَ١ؕ وَ كَلَّمَ اللّٰهُ مُوْسٰى تَكْلِیْمًاۚ Open ayah 4:164 in the Quran reader

اور بہت سے پیغمبر ہے جن کے حالات ہم تم سے پیشتر بیان کرچکے ہیں اور بہت سے پیغمبر ہیں جن کے حالات تم سے بیان نہیں کئے۔ اور موسیٰ سے تو خدا نے باتیں بھی کیں۔

رُسُلًا مُّبَشِّرِیْنَ وَ مُنْذِرِیْنَ لِئَلَّا یَكُوْنَ لِلنَّاسِ عَلَى اللّٰهِ حُجَّةٌۢ بَعْدَ الرُّسُلِ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَزِیْزًا حَكِیْمًا Open ayah 4:165 in the Quran reader

(سب) پیغمبروں کو (خدا نے) خوشخبری سنانے والے اور ڈرانے والے (بنا کر بھیجا تھا) تاکہ پیغمبروں کے آنے کے بعد لوگوں کو خدا پر الزام کا موقع نہ رہے۔ اور خدا غالب حکمت والا ہے۔

لٰكِنِ اللّٰهُ یَشْهَدُ بِمَاۤ اَنْزَلَ اِلَیْكَ اَنْزَلَهٗ بِعِلْمِهٖ١ۚ وَ الْمَلٰٓئِكَةُ یَشْهَدُوْنَ١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ شَهِیْدًاؕ Open ayah 4:166 in the Quran reader

لیکن خدا نے جو (کتاب) تم پر نازل کی ہے اسکی نسبت خدا گواہی دیتا ہے کہ اس نے اپنے علم سے نازل کی ہے اور فرشتے بھی گواہی دیتے ہیں اور گواہ تو خدا ہی کافی ہے۔

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ صَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ قَدْ ضَلُّوْا ضَلٰلًۢا بَعِیْدًا Open ayah 4:167 in the Quran reader

جن لوگوں نے کفر کیا اور (لوگوں کو) خدا کے راستے سے روکا وہ راستے سے بھٹک کر دور جا پڑے۔

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ ظَلَمُوْا لَمْ یَكُنِ اللّٰهُ لِیَغْفِرَ لَهُمْ وَ لَا لِیَهْدِیَهُمْ طَرِیْقًاۙ Open ayah 4:168 in the Quran reader

جو لوگ کافر ہوئے اور ظلم کرتے رہے خدا ان کو بخشنے والا نہیں اور نہ انہیں راستہ ہی دکھائے گا۔

اِلَّا طَرِیْقَ جَهَنَّمَ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًا١ؕ وَ كَانَ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرًا Open ayah 4:169 in the Quran reader

ہاں دوزخ کا راستہ جس میں وہ ہمیشہ (جلتے) ہیں گے۔ اور یہ (بات) خدا کو آسان ہے۔

آیت نمبر 163 تا 171 ترجمہ : اے (محمد) ہم نے تمہاری طرف اسی طرح وحی بھیجی ہے جس طرح نوح علیہ الصلوٰة والسلام اور اس کے بعد کے نبیوں کی طرف بھیجی تھی اور جس طرح ہم نے ابراہیم علیہ الصلوٰة والسلام کی طرف بھیجی ان کے دونوں بیٹوں اسماعیل علیہ الصلوٰة والسلام اور اسحٰق علیہ الصلوٰة والسلام کی طرف (بھی) وحی بھیجی اور یعقوب علیہ الصلوٰة والسلام بن اسحاق اور اولاد یعقوب علیہ الصلوٰة والسلام اور عیسیٰ علیہ الصلوٰة والسلام اور ایوب علیہ الصلوٰة والسلام اور یونس علیہ الصلوٰة والسلام اور سلیمان علیہ الصلوٰة والسلام کی طرف وحی بھیجی اور سلیمان علیہ الصلوٰة والسلام کے دالد داؤد علیہ الصلوٰة والسلام کو زبور عطا کی (زَبور فتحہ کے ساتھ) عطا کی ہوئی کتاب کا نام ہے۔ اور (زُبور) ضمہ کے ساتھ مصدر ہے مکتوب کے معنی میں، یعنی مزبور بمعنی مکتوب ہے، اور ہم نے ان رسولوں کی طرف بھی وحی بھیجی ہے جن کا ذکر ہم تم سے کرچکے ہیں اور ان کی طرف بھی جن کا ذکر تم سے نہیں کیا، روایت کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آٹھ ہزار بنی مبعوث فرمائے، چار ہزار انبیاء بنی اسرائیل میں سے اور (بقیہ) چار ہزار دیگر اقوام میں سے، شیخ (جلال الدین محلّی) نے سورة غافر میں یہی تعداد بیان کی ہے اور اللہ نے موسیٰ علیہ الصلوٰة والسلام سے ایک خاص طریقہ سے بلاواسطہ کلام فرمایا اور تمام رسولوں کو، رُسُلاً ، ماقبل کے رُسُلاً سے بدل ہے، ایمان لانے والوں کو خوشخبری سنانے والا کفر کرنے والوں کو عذاب سے ڈرانے والا بنا کر بھیجا، رسولوں کو ہم نے مبعوث کیا تاکہ لوگوں کو ان کی طرف رسول بھیجنے کے بعد خدا کے روبرو عذر بیان کرنے کی گنجائش باقی نہ رہے کہ وہ یہ کہہ سکیں کہ اے ہمارے پروردگار تو نے ہمارے پاس رسول کیوں نہیں بھیجا ؟ تاکہ ہم بھی تیری آیات کی اتباع کرتے اور ہم مومنین میں سے ہوتے، تو ہم نے ان کے عذر کو ختم کرنے کے لئے ان کی طرف رسولوں کو مبعوث کیا، اور اللہ تعالیٰ اپنے ملک میں غالب اپنی صنعت میں با حکمت ہے، اور آپ کی نبوت کے بارے میں یہود سے سوال کیا گیا اور یہود نے آپ کی نبوت کا انکار کردیا تو (آئندہ) آیت نازل ہوئی، (اگر یہ لوگ شہادت نہیں دیتے نہ دیں) اللہ تو اس معجز قرآن کے ذریعہ آپ کی نبوت کی شہادت دیتا ہے جو آپ پر نازل کیا گیا ہے اور نازل بھی اپنے کمال علمی کے ذریعہ کیا ہے یعنی جو کچھ نازل کیا ہے اس کا جاننے والا ہے، یا اس میں اس کا علم (یعنی معلومات) ہیں اور فرشتہ بھی آپ کی نبوت کی شہادت دیتے ہیں اور اس نبوت پر اللہ کی شہادت کافی ہے جو لوگ اللہ کے منکر ہوئے اور لوگوں کو اللہ کے راستہ ( یعنی) دین اسلام سے محمد ﷺ کی صفات کو چھپا کر روکا اور وہ یہود ہیں تو ایسے لوگ یقینا حق سے گمراہی میں بہت دور نکل گئے بلا شبہ اللہ کے جو لوگ منکر ہوئے اور اس کے نبی پر اس کی صفات چھپا کر ظلم کیا اللہ ان کو کبھی معاف نہ کرے گا اور نہ ان کو جہنم کی راہ کے سوا کوئی راہ دکھائیگا، یعنی وہ راہ جو جہنم تک پہنچانے والی ہو، اس طریقہ پر ان کے لئے اس میں دائمی دخول مقدر ہوچکا ہے جب اس میں داخل ہوجائیں گے، اور اللہ کے لئے یہ آسان ہے اے مکہ کے لوگو ! ، یہ رسول محمد تمہارے رب کی طرف سے حق لے کر آیا ہے اس پر ایمان لے آؤ اور اپنے لئے خیر کا ارادہ کرو اس سے جس میں تم ( فی الحال) ہو اور اس کا کفر کرتے رہے تو آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے وہ ملک اور تخلیق اور مملوک ہونے کے اعتبار سے اسی کا ہے، لہٰذا تمہارا کفر اس کا کچھ نہ بگاڑ سکے گا، اور اللہ تعالیٰ علیم بھی ہے اور ان کی تدبیر کے بارے میں حکیم بھی، اے اہل کتاب (یعنی) انجیل کے ماننے والو اپنے دین کے بارے میں حد سے تجاوز نہ کرو اور اللہ کی طرف حق کے سوا کوئی بات منسوب نہ کرو جو کہ وہ شریک اور ولد سے اس کی پاکی ہے مسیح عیسیٰ علیہ الصلوٰة والسلام ابن مریم اس کے سوا کچھ نہ تھا کہ اللہ کا ایک رسول اور اس کا فرمان تھا جو اللہ نے مریم کی طرف بھیجا تھا اور اس کی طرف سے ایک روح یعنی ذی روح تھا، اور روح کی نسبت اللہ کی طرف تشریفاً ہے، اور ایسا نہیں ہے جیسے کہ تم نے سمجھ رکھا ہے کہ وہ ابن اللہ یا اس کے ساتھ الہٰ ہے یا تین میں کا تیسرا ہے، اس لئے کہ ذی روح مرکب ہوتا ہے اور اِلہٰ ترکیب سے اور اس کی طرف مرکب کی نسبت کرنے سے پاک ہے، پس تم اللہ پر اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور نہ کہو کہ خدا تین ہیں (یعنی) اللہ اور عیسیٰ علیہ الصلوٰة والسلام اور ان کی والدہ، اس تثلیث سے باز آجاؤ اور اپنے لئے اس سے بہتر کو اختیار کرو اور وہ توحید ہے، معبود تو بس ایک ہی خدا ہے وہ اس سے بالاتر ہے کہ اس کا کوئی بیٹا ہو، آسمانوں اور زمین کی ساری چیزیں اسی کی ہیں، مخلوق ہونے کے اعتبار سے اور ملک کے اعتبار سے، اور ملکیت بنوة کے منافی ہے اور وہی اس کی نگرانی کے اعتبار سے کافی ہے۔ تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد قولہ : کما اَوْحَیْنَا اِلیٰ نوحٍ ، کاف مصدر محذوف کی صفت ہے تقدیر عبارت یہ ہے '' اِیْحائً مثلَ اِیْحَائنا '' اور ' ما ' میں دو احتمال ہیں اگر مصدر یہ ہو تو عائد کی ضرورت نہ ہوگی اور اگر الذی کے معنی میں ہو تو عائد محذوف ہوگا تقدیر عبارت یہ ہوگی '' کالذی اَوْحَیْنَاہ الی نوح '' . قولہ : کما اَوْ حَیْنا اِلیٰ اِبْرَھِیْمَ ، مفسرّ علاّم نے، کما، محذوف مان کر اشارہ کردیا کہ اَوْ حَیْنَا الیٰ ابراھیم، کا عطف اَوْحَیْنَا الی نوح پر ہے نہ کہ نوحٍ پر ورنہ تو تکرار لازم آئے گی۔ قولہ : زَبور بالفَتْحِ اِسْمُ الْکِتَابِ ، فتحہ کے ساتھ فعول بمعنی مفعول ہے جیسا کہ رکوب بمعنی مرکوب اور یہ زَبَرَہ بمعنی کتبَہَ سے ماخوذ ہے، زبور داؤد علیہ الصلوٰة والسلام پر نازل کردہ کتاب کا نام ہے اس میں ایک سو پچاس سورتیں تھیں، اور ضمہ کے ساتھ مصدر ہے بمعنی مزبور . قولہ : واَرْسَلْنَا، اس میں اشارہ ہے کہ رُسُلا کا ناصب اَرْسَلنا فعل محذوف ہے۔ قولہ : بِلاَ وَاسِطَةٍ ، یہ اس سوال مقدر کا جواب ہے کہ اللہ کا کلام کرنا تو ہر بنی سے ثابت ہے پھر موسیٰ علیہ الصلوٰة والسلام کی کیا تحصیص ہے ؟ جواب یہ ہے کہ دیگر انبیاء سے کلام بالواسطہ ہوا ہے اور موسیٰ علیہ الصلوٰة والسلام سے بلا واسطہ۔ قولہ : مُقَدِّرِیْنَ الْخُلُوْدَ ، اس اضافہ کا مقصد اس اعتراض کا جواب ہے کہ زمانہ ہدایت اور زمانہ خلود ایک نہیں ہے حالانکہ حال و ذوالحال کے زمانہ کا ایک ہونا ضروری ہے، جواب کا حاصل یہ ہے کہ راہ جہنم کی طرف رہنمائی اس حالت میں ہوگی کہ ان کے لئے خلود فی النار مقدر ہوچکا ہے۔ قولہ : بہٰ ، مفسرّ علاّم نے، بہٰ ، مقدر مان کر اشارہ کردیا کہ آمَنُوا کا متعلق بہٰ ، محذوف ہے نہ کہ خیرًا اس لئے کہ پورے قرآن میں آمنوا کا متعلق باء ہی استعمال ہوا ہے۔ قولہ : فَآمِنُوْا خَیْرًا لکم، خیرًا کے ناصب کے بارے میں علماء نحو کا اختلاف ہے، سیبویہ اور خلیل کا کہنا ہے فعل ناصب اقصدویا اتوا ہے، اور فراء کا کہنا ہے کہ خیرًا مصدر محذوف کی صفت ہونے کی وجہ سے منصوب ہے، ای آمنو ایکن الا یمان خیرًا لکم، مذکورہ تینوں صورتوں میں ثالث سب سے زیادہ راجح ہے پھر اُوّل اور پھر ثانی کا درجہ ہے۔ قولہ : مِمّا اَنْتُمْ ، اس میں اشارہ ہے کہ مِن تفضیلیہ مع مفضل علیہ محذوف ہے لہٰذا اب یہ اعتراض نہیں ہوگا کہ اسم تفضیل کا استعمال تین طریقوں میں سے ایک کے ساتھ ضروری ہے اور یہاں ایک بھی نہیں ہے۔ قولہ : فَلاَ یَضُرُّہ ' کُفْرُکُم، اس میں اشارہ ہے کہ اِنْ تکفروا، شرط کی جزا محذوف ہے اور جو مذکور ہے وہ دال علی الجزاء ہے نہ کہ جزاء اس لئے کہ اگر فَاِنَّ للہ مَا فی السمٰوات الارض، کو جزاء مانا جائے تو عدم ترتب الجزاء علی الشرط کا اعتراض لازم آئیگا۔ قولہ : الاِنْجِیْلِ یہ ایک سوال کا جواب ہے۔ سوال : اہل کتاب کی تفسیر صرف اہل انجیل سے کیوں کی جبکہ اہل کتاب میں یہود بھی شامل ہیں ؟ جواب : آگے غلو فی الدین کی جو تفصیل بیان ہوئی ہے وہ شریک حیات اور ولد سے تنزیہ ہے جس کے مصداق صرف نصاری ہی ہیں نہ کہ یہود۔ (ترویح الا رواح) قولہ : القَوْلَ ، القول کی تقدیر کے اضافہ میں اشارہ ہے کہ الحق موصوف محذوف کی صفت ہونے کی وجہ سے منصوب ہے۔ قولہ : اَوصَلھا . سوال : اَلْقاھَا کی تفسیر اوصَلَھا سے کس مقصد کے پیش نظر کی ہے ؟ جواب : چونکہ القٰی کا صلہ نہیں آتا اسلئے اشارہ کردیا کہ القٰی، اَؤصَلَ کے معنی کو متضمن ہے جسکی وجہ سے، اِلیٰ ، صلہ لانا صحیح ہے۔ قولہ : ای ذُوْرُوْحٍ. سوال : روح کی تفسیر ذو روح حذف مضاف سے کرنے میں کیا مصلحت ہے ؟ جواب : تاکہ روح کا رسول اللہ پر حمل درست ہوجائے۔ قولہ : عن ذلک و آتوا، اس میں اشارہ ہے کہ انتھوا کا مفعول محذوف ہے اور خیرًا فعل مقدر آتوا کی وجہ سے منصوب ہے، لہٰذا یہ اعتراض ختم ہوگیا کہ خیر سے منع کرنا اللہ کی شایان شان نہیں ہے۔ تفسیر وتشریح ربط آیات : سابقہ آیات میں یہود کے کچھ سرداروں نے آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر آپ پر ایمان لانے کی یہ احمقانہ شرط رکھی کہ جس طرح حضرت موسیٰ علیہ الصلوٰة والسلام پر ایک نوشتہ یکجا آسمان سے نازل ہوا تھا اسی طرح کا اگر کوئی نوشتہ آپ پر بھی نازل ہوجائے تو ہم آپ پر ایمان لانے کیلئے تیار ہیں، مگر ان کا یہ سوال ضد اور عناد پر مبنی تھا نہ کہ اخلاص پر رہا یہ سوال کہ اگر ایمان کے لئے نوشتہ کی صورت میں قرآن کا نازل ہونا ضروری ہے تو موسیٰ علیہ الصلوٰة والسلام پر بیک وقت نوشتہ کی شکل میں توریت نازل ہوئی تھی تو تمہارے آباء و اجداد اس پر ایمان کیوں نہیں لائے تھے ؟ بلکہ انہوں نے موسیٰ علیہ الصلوٰة والسلام سے اس سے بھی بڑی بات یعنی عیاناً اللہ کو دیکھنے کا مطالبہ بھی کیا تھا، ان کی اس گستاخی پر ان کو آسمانی بجلی نے جلا کر خاک کردیا تھا۔ ان آیات میں اسی اعتراض کا ایک دوسرے طریقہ سے جواب دیا جارہا ہے کہ تم جو رسول اللہ پر ایمان لانے کے لئے یہ شرط لگاتے ہو کہ آپ آسمان سے ایک لکھی ہوئی کتاب لاکر دکھا دیں تو تم خود ہی بتلاؤ کہ یہ جلیل القدر انبیاء جن کا ذکر ان آیات میں ہے اور ان کا نبی ہونا تم بھی تسلیم کرتے ہو حالانکہ تم ان کے حق میں اس قسم کے مطالبات نہیں کرتے، تو جس دلیل سے تم ان حضرات کو نبی تسلیم کرتے ہو یعنی معجزات کی وجہ سے تو محمد ﷺ کے پاس بھی معجزات ہیں لہٰذا ان پر بھی ایمان لے آؤ، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ تمہارا مطالبہ طلب حق کیلئے نہیں بلکہ ضد وعناد پر مبنی ہے۔ شان نزول : حضرت ابن عباس ؓ سے بعض لوگوں نے کہا کہ حضرت موسیٰ علیہ الصلوٰة والسلام کے بعد کسی انسان پر اللہ نے کچھ نازل نہیں کیا اس طرح انہوں نے آپ ﷺ کی رسالت سے بھی انکار کردیا جس پر آیت اِنّا اَوْ حَیْنَا اِلیک الخ نازل ہوئی۔ قرآن میں مذکورہ تمام انبیاء ورسل کے نام : جن انبیاء اور رسولوں کے اسماء گرامی اور ان کے واقعات قرآن کریم میں بیان کئے گئے ہیں ان کی تعداد چوبیس (24) یا پچیس ہے۔ (1) آدم (علیہ السلام) (2) ادریس (علیہ السلام) (3) نوح (علیہ السلام) (4) ہود (علیہ السلام) (5) صالح (علیہ السلام) (6) ابراہیم (علیہ السلام) (7) لوط (علیہ السلام) (8) اسماعیل (علیہ السلام) (9) اسحٰق (علیہ السلام) (10) یعقوب (علیہ السلام) (11) یوسف (علیہ السلام) (12) ایوب (علیہ السلام) (13) شعیب (علیہ السلام) (14) موسیٰ (علیہ السلام) (15) ہارون (علیہ السلام) (16) یونس (علیہ السلام) (17) داؤد (علیہ السلام) (18) سلیمان (علیہ السلام) (19) الیاس (علیہ السلام) (20) مسیح (علیہ السلام) (21) زکریا (علیہ السلام) (22) یحییٰ (علیہ السلام) (23) عیسیٰ (علیہ السلام) (24) ذوالکفل (علیہ السلام) (اکثر مفسرین کے نزدیک) (25) حضرت محمد ﷺ تمام انبیاء ورسل کی مجموعی تعداد : جن انبیاء کے نام اور واقعات قرآن مجید میں بیان نہیں کئے گئے ان کی صحیح تعداد کتنی ہے اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے ایک حدیث میں جو کہ بہت مشہور ہے، ایک لاکھ چابیس ہزار (124000) کا ذکر ہے اور ایک دوسری حدیث میں آٹھ ہزار (8000) تعداد بتلائی گئی ہے لیکن یہ روایات ضعیف ہیں، قرآن و حدیث سے صرف اتنا معلوم ہوتا ہے کہ مختلف ادوار و حالات میں انبیاء آتے رہے ہیں بالآخر یہ سلسلہ خاتم النبین محمد ﷺ پر ختم ہوگیا، آپ ﷺ کے بعد جتنے بھی مدعی نبوت گذرے ہیں یا آئندہ آئیں گے سب دجال اور کذاب ہیں، اور ان کی جھوٹی نبوت کی تصدیق کرنے والے دائرۂ اسلام سے خارج ہیں۔