Ayah 4:170یاٰیّھا الناس قَدْ جَاء کم الرسول بالحق (الآیة) اس آیت میں تمام جہاں کے انسانوں کو خطاب فرماتے ہیں کہ تمہاری نجات اسی میں ہے کہ محمد ﷺ کی نبوت پر ایمان لاؤ۔
یا اھل الکتاب لا تغلو فی دینکم، یہاں اہل کتاب سے مراد عیسائی ہیں اور غلو کے معنی ہیں کسی کی تائید یا عداوت میں حد سے گذر جانا، یہود کا جرم یہ تھا کہ وہ عیسیٰ علیہ الصلوٰة والسلام کی مخالفت میں حد سے تجاوز کر گئے تھے اور عیسائیوں کا جرم یہ ہے کہ وہ مسیح کی عقیدت و محبت میں حد سے گذر گئے۔
وَکلمتہ ' القٰھا الی مریم وروح منہ، اس آیت میں یہ بتلایا گیا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰة والسلام اللہ کا کلمہ اور اس کی روح ہیں، مفسرین نے کلمہ کے مختلف معانی بیان کئے ہیں۔
(1) امام غزالی (رح) تعالیٰ فرماتے ہیں کہ کسی بچے کی پیدائش میں دو عامل کار فرما ہوتے ہیں، ایک عامل نطفہ ہوتا ہے اور دوسرا اللہ کا کلمہ کُن، مذکورہ دونوں عاملوں کے ذریعہ عام طور پر بچہ وجود میں آتا ہے حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰة والسلام کے حق میں چونکہ پہلا عامل منتقی ہے اسلئے دوسرے عامل کی نسبت کرکے آپ کو کلمہ کہا گیا جس کا مطلب یہ ہے کہ آپ مادی اسباب کے واسطہ کے بغیر کلمہ کن سے پیدا ہوئے اور القاھا الی مریم، کا مطلب ہے کہ اللہ نے یہ کلمہ مریم علیہ الصلوٰة والسلام تک پہنچا دیا، جس کے نتیجہ میں حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰة والسلام پیدا ہوئے۔
(2) بعض نے کلمہ سے مراد بشارت لی ہے اور بشارت سے مراد حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰة والسلام ہیں اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کے ذریعہ عیسیٰ علیہ الصلوٰة والسلام کی جو بشارت حضرت مریم کو دی تھی اس میں کلمہ کا استعمال کیا گیا ہے '' اِذْ قَالَت، الملائکة یٰمَرْیَمُ اِن اللہ یُبَشِّرُک بکلمةٍ '' (اے مریم) اللہ تجھ کو ایک کلمہ (عیسیٰ علیہ الصلوٰة والسلام) کی خوشخبری دیتا ہے۔
وروح منہ، اس لفظ میں دو باتیں قابل غور ہیں ایک یہ کہ حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰة والسلام کو روح کہنے کے معنی ہیں ؟ اور دوسرے یہ کہ روح کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف کی گئی ہے اس نسبت کا کیا مطلب ہے ؟ بعض حضرات نے کہا ہے کہ مقصد حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰة والسلام کی پاکیزگی کو بیان کرنا ہے مبالغہ کے طور پر اس پر روح کا اطلاق کردیا گیا ہے چونکہ حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰة والسلام کی پیدائش میں نطفہ پدر کو دخل نہیں تھا بلکہ وہ صرف کلمہ کن کے نتیجہ میں پیدا ہوئے تھے اس لئے اپنی نظافت و طہارت میں درجہ کمال پر فائز تھے اسی وجہ سے عرف اور محاورہ کے اعتبار سے ان کو روح کہہ گیا، اور اللہ کی طرف اس کی نسبت تشریفاً کردی جس طرح مساجد کی تعظیم کیلئے ان کو بیت اللہ، کعبة اللہ، مساجد اللہ کہا جاتا ہے۔
حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰة والسلام کے بارے میں عیسائیوں کا غلو : جس طرح سنگ دل یہود حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰة والسلام، کو پیغمبر ماننا تو کجا ایک اچھے کردار کا انسان بھی ماننے کے لئے تیار نہ تھے، نہ صرف حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰة والسلام، پر بلکہ ان کی والدہ ماجدہ پر معاذ اللہ حرف گیری کرتے تھے۔
ادھر حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰة والسلام کے ماننے والوں نے یہ ستم کیا کہ حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰة والسلام کی انسانی حیثیت باکل ختم کردی اور ان کو معاذاللہ خدا یا خدا کا بیٹا یا کم از کم خدا کا حصہ سمجھنے لگے، ظاہر ہے کہ یہ عقیدے نہ عقل میں آسکتے ہیں اور نہ یکجا جمع ہوسکتے ہیں۔
Ayah 4:171فآمنوا باللہ ورُسُلِہ ولا تقولوا ثلاثة، اللہ، عیسیٰ علیہ الصلوٰة والسلام وامہ، اب تم سب اللہ پر اور اس کے تمام رسولوں پر ایمان لے آؤ اور نہ کہو کہ تین (ہستیاں) ہیں۔
اللہ تعالیٰ کو صاحب اولاد بنانے کا مطلب : تم نے کبھی یہ سوچا کہ اللہ کو صاحب اولاد کا دوسرا مطلب کیا ہے ؟ اس ذات پاک کے بارے میں اس سے بڑھ کر اور کوئی گستاخی نہیں ہوسکتی، اگر کسی انسان کو آپ یہ کہ دیں کہ قطب مینار آپ کا بیٹا ہے تو وہ انسان آپ کی عقل کے بارے میں کیا فیصلہ کرے گا ؟ یا آپ کسی شخص کے بارے میں بڑے شدومد سے یہ اعلان کرنے لگیں کہ ان کے یہاں خرگوش پیدا ہوا ہے تو وہ شخص آپ کے بارے میں کیا رائے قائم کرے گا ؟ ظاہر ہے کہ دہلی کا قطب مینار ایک تاریخی یادگار تو ہوسکتا ہے ہر کوئی شخص اس کا معمار اور بانی ہونا پسند کرسکتا ہے مگر باپ بننا کوئی گوارہ نہیں کرے گا، ایسا کیوں ؟ اسلئے کہ قطب مینار پتھر ہے اور انسان انسان ہے انسان سے انسان پیدا ہوتا ہے نہ کہ پتھر، اسی طرح خرگوش پالنا بعض لوگوں کو پسند آسکتا ہے لیکن یہ کسی کو پسند نہ آئے گا کہ اس کے یہاں خرگوش پیدا ہو، پھر حضرت حق تعالیٰ شانہ کے بارے میں انسان اس قدر کیوں اندھا ہوگیا کہ ایک طرف انسان نے خدا کو خدا مان کر لافانی اور لا ثانی مان لیا ہے اور دوسری طرف انسان اور فرشتوں کو اسی کی اولاد اور بیوی قرار دیدیا حالانکہ انسان ہو یا فرشتہ اس کا فنا ہونا یقینی ہے، سچ یہ ہے کہ اس سے بڑی گستاخی اور بےادبی کا تصور نہیں ہوسکتا۔
لطیفہ : علامہ آلوسی نے ایک واقعہ لکھا ہے کہ ہارون رشید کے دربار میں ایک نصرانی طبیب نے حضرت علی بن حسین واقدی سے مناظرہ کیا اور کہا کہ تمہاری کتاب میں ایسا لفظ موجود ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰة والسلام اللہ کا جز ہیں اور دلیل میں یہ آیت پڑھ دی جس میں وروح منہ کے الفاظ ہیں، علامہ واقدی نے اس کے جواب میں ایک دوسری آیت پڑھ دی '' وسخر لکم مافی السمٰوات وما فی الارض جمیعًا منہ '' اس آیت میں کہا گیا ہے کہ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے وہ سب اسی سے ہے اور منہ کے ذریعہ سب چیزوں کی نسبت اللہ کی طرف کردی گئی ہے اور فرمایا کہ '' روح منہ '' کا اگر مطلب یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰة والسلام اللہ کا جز ہیں تو اس آیت کا مطلب پھر یہ ہوگا کہ آسمان اور زمین میں جو کچھ ہے وہ بھی اللہ کا جز ہے ! یہ جواب سنکر نصرانی طبیب لا جواب ہوگیا اور مسلمان ہوگیا۔
Ayahs 4:172–176آیت نمبر 172 تا 176
ترجمہ : حضرت مسیح علیہ الصلوٰة والسلام سے تم جن کی الوہیت کا عقدہ رکھتے ہو اللہ کا بندہ ہونے سے عار و انکار ہرگز ممکن نہیں اور نہ اللہ کے مقرب فرشتوں کو بندہ ہونے سے عار و انکار ہوسکتا ہے، اور یہ بہترین (طریقہ) استطر اد ہے (یعنی طریقہ تردید ہے) یہ ان لوگوں پر رد کرنے کیلئے ذکر کیا گیا ہے جو فرشتوں کی الوہیت یا اللہ کی بیٹیاں ہونے کا عقیدہ رکھتے ہیں، جیسا کہ ماقبل (کے جملہ سے) مذکورہ عقیدہ رکھنے والے (نصاری) پر رد کیا ہے، (یہاں) مقصودِ خطاب نصاری ہی ہیں، اور جو بھی اس کی عبادت سے ننگ وعار (سرتابی و انکار) کرے گا تو اللہ آخرت میں ان سب کو گھیر کر اپنے حضور حاضر کرے گا، سو جن لوگوں نے ایمان لاکر نیک اعمال کئے ہوں گے تو ان کو ان کے اعمال کا پورا پورا ثواب عطا کرے گا اور ان کو اپنے فضل سے (ان کے استحقاق سے) زیادہ اجر عطا کرے گا (ایسا اجر) کہ نہ کسی آنکھ نے دیکھا ہوگا اور نہ کسی کان نے سنا ہوگا اور نہ کسی انسان کے دل میں اس کا خیال آیا ہوگا، اور جن لوگوں نے اس کی بندگی سے سرتابی کی اور اس کو عار سمجھا تو ان کو اللہ دردناک سزا دے گا اور وہ دوزخ کی سزا ہے اور وہ لوگ اللہ کے سوا کسی کو حمایتی نہ پائیں گے کہ ان کا دفاع کرسکے اور نہ مددگار کہ (اللہ کے) مقابلہ میں ان کی مدد کرسکے، لوگو تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے حجت آچکی ہے اور وہ نبی (محمد ﷺ ہیں اور ہم نے تمہاری طرف ایک واضح روشنی نازل کی ہے اور وہ قرآن ہے، سو جو لوگ اللہ پر ایمان لائے اور اس کو مضبوطی سے تھام لیا تو وہ اس کو اپنی خصوصی رحمت اور فضل میں داخل کرے گا، اور وہ ان کی راہ راست کی طرف رہنمائی کرے گا کہ وہ دین اسلام ہے، (لوگ) کلالہ کے بارے میں آپ سے فتویٰ معلوم کرتے ہیں آپ کہہ دیجئے کہ اللہ خود تم کو کلالہ کے بارے میں فتویٰ دیتا ہے، اگر کوئی شخص لاولد فوت ہوجائے، نہ اس کا والد ہو اور نہ ولدایسا شخص ہی کلالہ ہے، اِمْرا اس فعل محذوف کی وجہ سے مرفوع ہے جس کی تفسیر (فعل) ھَلَکَ کررہا ہے اور اس کی ایک بہن ہو حقیقی یا علاّتی، تو اس کو تر کہ کا نصف ملے گا، اور اگر بہن لاولد مرجائے اور بھائی حقیقی ہو یا علاتی، بہن کے تمام متروکہ مال کا وارث ہوگا اگر بہن لاولد ہو، اور اگر بہن کے لڑکا ہو تو بھائی کو کچھ نہ ملے گا اور اگر لڑکی ہو تو بھائی لڑکی کے حصہ سے بچے ہوئے کا مستحق ہوگا، اور بھائی بہن اخیافی (ماں شریک) ہوں تو ان کا حصہ چھٹا ہے جیسا کہ ابتداء سورت میں گذر چکا ہے اور اگر (میت) کے دو یا دو سے زیادہ بہنیں ہوں تو ان کو بھائی کے ترکہ میں سے دو ثلث ملے گا اس دلیل سے کہ یہ آیت جابر ؓ کے بارے میں نازل ہوئی جو چند بہنیں چھوڑ کر انتقال کرگئے تھے، اور اگر ورثاء کئی بھائی بہن ہوں تو بھائی کو بہن کا دو گنا ملے گا، اللہ تمہارے لئے تمہارے دین کے احکام بیان کرتا ہے، تاکہ تم بھٹکتے نہ پھرو اور اللہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے اور ان ہی میں سے میراث ہے، شیخین نے براء بن عازب ؓ سے روایت کیا ہے کہ فرائض کے بارے میں نازل ہونے والی یہ آخری آیت ہے۔
تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد
قولہ : وَیَسْتَنْکِفَ ، مضارع واحد مذکر غائب مصدر استنکاف، وہ عار سمجھا ہے اور وہ تکبر و سرتابی کرتا ہے، اس کا مادہ نکف ہے، (س ن) نِکْفًا، ونکَفًا، بےجا تکبر کرنا۔
قولہ : اَلْمَلاَ ئِکَةُ المُقَرَّبُوْنَ ، اس کا عطف المسیح پر ہے، اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ الملائکة المقربون، بترکیب توصیفی مبتداء ہو اور لایستنکفون اس کی خبر محذوف ہے۔
قولہ : ھٰذَا مِنْ اَحْسَنِ الاِسْتِطْرَادِ ، یعنی ولا الملائکة المقربون میں استطر ادا حسن ہے۔
استطراد مطلق کی تعریف : ذکر الشیٰ فی غیر محلہ لمنا سبةٍ ، کسی شئی کو غیر محل میں کسی مناسبت کی وجہ سے ذکر کرنا استطراد ہے۔
استطراد کی دوسری تعریف : مقصود کلام کو اس طرح ذکر کرنا کہ غیر مقصود کو مستلزم ہوجائے۔
استطراد احسن : ایک معنی سے دوسرے معنی کیطرف اسطرح انتقال کرنا کہ اول معنی کو ثانی معنی کے لئے ذریعہ نہ بنایا جائے۔
استطراد حسن : ثانی معنی کے لئے جو کہ مقصود ہوں اول معنی کو ذریعہ بنایا جائے، مفسرّ علاّم نے ھذا من احسن الا ستطراد کہہ کر اشارہ کردیا کہ مذکورہ آیت میں استطراد احسن ہے۔
قولہ : الیہ ای الی اللہ او القرآن .
قولہ : الزَّ اعِمِیْنَ ذٰلِکَ ، یہ النصاری کی صفت ہے اور ذلک کا اشارہ نصاری کے عقیدہ الوہیت وابنیت، اور تثلیت میں سے ہر ایک کی طرف ہے۔
قولہ : صِرَاطًا مُسْتَقِیْمًا، یہ یھد یھم، کا مفعول ثانی ہونے کی وجہ سے منصوب ہے۔
تفسیر وتشریح
شان نزول : نصاری نجران کے ایک وفد نے آپ ﷺ سے ملاقات کرکے شکایت کی کہ آپ ہمارے صاحب کی برائی کیوں بیان کرتے ہیں ؟ کہا آپ نے فرمایا تمہارے صاحب کون ہیں ؟ کہا عیسیٰ علیہ الصلوٰة والسلام، آپ نے فرمایا میں ان کے بارے میں کیا کہتا ہوں ؟ آپ ان کو اللہ کا بندہ اور اس کا رسول کہتے ہیں، تو آپ نے فرمایا اللہ کا بندہ ہونا حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰة والسلام کیلئے کوئی عار کی بات نہیں ہے، تو مذکورہ آیت نازل ہوئی (خازن۔ روح المعانی) یعنی مسیح کو اللہ کا بندہ ہونے میں کوئی ننگ و عار نہیں، اور نہ ہی اللہ کے مقرب فرشتوں کو عار ہے اللہ کا بندہ ہونا تو انتہائی شرافت کی بات ہے، ذلت و غیرت تو اللہ کے سوا کسی اور کی عبادت و بندگی کرنے میں ہے، جیسے نصاری نے حضرت مسیح کو ابن اللہ اور معبود بنالیا اور مشرکین نے فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں قرار دیکر ان کی بندگی شروع کردی۔
انبیاء افضل ہیں یا ملائکہ ؟ بعض مفسرین نے اس آیت کے تحت انبیاء و ملائکہ کے درمیان تفاضل کی بحث چھیڑدی ہے اور ایک فریق افضلیت ملائکہ کا قائل ہوگیا ہے، اور دوسرے فریق نے افضلیت انبیاء کے حق میں فیصلہ دیا ہے۔
بحیثیت مجموعی معتزلہ اور بعض اشاعرہ فریق اول کے ساتھ ہیں، اور جمہور اشاعرہ فریق دوم کے ساتھ لیکن انصاف کی عدالت کا فیصلہ یہ ہے کہ آیت زیر بحث کا اس مسئلہ سے کوئی تعلق ہی نہیں ہے، اور نہ اس مسئلہ میں بحث و مناظرہ سے کچھ حاصل، اسلئے کہ اس مسئلہ میں قرآن و حدیث دونوں خاموش ہیں۔
فائدہ : اسَتَدلَّ بھذہ الآیة القائلون بتفضیل الملائکة علی الا نبی ائ، وھم ابوبکر الباقلانی والحلیمی من ائمة الاشعریہ وجمھور المعتزلہ، وقرر زمخشری وجہ الدلالة بما لا یسمن ولا جوع نغنی من جوع، و اَطَالَ البیضاوی وابن المنیر فی الزد علیہ والمصنف یرٰی اِنّ التفاضل فی ھذا قبیل الر جم بالغیب .
افضلیت ملائکہ کے بارے میں معتزلہ کا عقیدہ : معتزلہ کا عقیدہ ہے کہ ملائکہ انبیاء کرام سے افضل ہیں، صاحب کشاف نے مذکورہ آیت سے افضلیت ملائکہ پر استدلال کیا ہے۔
تمہید : معتزلہ کا دعویٰ ہے کہ آیت مذکورہ کا مقصد عیسیٰ علیہ الصلوٰة والسلام کے مقام عبدیت کی نفی اور ابنیت کا اثبات ہے اور ابن چونکہ اَبْ کا جزء ہوتا ہے لہٰذا بنیت کا ثبوت جزئیت کا ثبوت ہے۔
طریق استدلال : لن یستنکف المسیح ان یکون عبدًا للہ ولا الملائکة المقربون، میں لن یستنکف المسیح معطوف علیہ اور ولا الملائکة معطوف ہے، ترقی من الاذنی الی الاعلی کے قاعدہ سے معطوف، معطوف علیہ سے اعلی و افضل ہوتا ہے، تاکہ معطوف معطوف علیہ کے لئے بمنزلہ دلیل کے ہو، مذکورہ آیت میں حضرت مسیح علیہ الصلوٰة والسلام کا عبدیت سے عدم استنکاف (عارمحسوس نہ کرنا) معطوف علیہ ہے اور ملائکہ کا عدم استنکاف معطوف ہے اور بقول معتزلہ معطوف معطوف علیہ سے افضل ہوتا ہے، مذکورہ قاعدہ کی روشنی میں معتزلہ کے نزدیک آیت کا مطلب ہوگا، مسیح علیہ الصلوٰة والسلام اللہ کی عبدیت سے ننگ و عار محسوس نہیں کرتے، اسلئے کہ فرشتے افضل ہونے کے باوجود عبدیت سے عار محسوس نہیں کرتے، گویا کہ فرشتوں کا عدم استنکاف مسیح علیہ الصلوٰة والسلام کے عدم استنکاف کی دلیل ہے اسی وجہ سے لا یَسْتنکفُ فلان عن خدمتی ولا اباہ بولا جاتا ہے، اس مثال میں ترقی من الا دنی الی الاعلی ہے، اسلئے کہ اب ابن سے اعلی ہوتا ہے، یہی وجہ ہے کہ بیان فضیلت کے موقع پر لا یستنکف فلان عن خدمتی ولا غلامہ '، نہیں بولا جاتا، اسی طرح کہا جاتا ہے '' لن یستنکف من ھذا الامر الوزیرُ ولا السطان نہ کہ اس کا برعکس، لہٰذا آیت کے معنی قاعدہ مذکورہ کے مقتضیٰ کے مطابق ہوں گے، لا یستنکف المسیح ولا مَن فو قَہ .
معتزلہ کے استدلال ککا جواب : آیت مذکورہ کا مقصد اصلی نصاری کے عقیدہ ابنیت کو رد کرنا ہے لیکن ضمناً طردًا للباب افادہ تام کے لئے ادنی مناسبت سے ملائکہ کے بارے میں مشرکوں کے عقیدہ بنتگی کی بھی تردید کردی حالانکہ یہ مشرکین کے مذکورہ عقیدہ کی تردید کا محل نہیں ہے اسلئے کہ ماسبق سے روئے سخن کتاب خصوصاً نصاریٰ کی طرف ہے، مشرکین کے عقیدہ کی تردید کا موقع و محل تو سورة زخرف آیت 15 : وَجَعَلوالَہ ' مِن عبادہ جزئً اِنّ الانسانَ لکفور مبین، ہے معلوم ہوا کہ زیربحث آیت میں فرشتوں کے استنکاف کا ذکر تو طرداً للباب افادہ تام کے لئے ضمناً وتبعاً التزم مالا یلتزم کے طور پر آگیا ہے، ورنہ مقصود اصلی تو حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰة والسلام کے استنکاف کو بیان کرنا ہے، گویا کہ مذکورہ عقیدہ رکھنے والوں سے کہا جارہا ہے کہ جو تم عقیدہ رکھتے ہو بات ایسی نہیں ہے اسلئے کہ جو بیٹا یا بیٹی (یعنی اولاد) ہوتا ہے وہ اَبْ کا عبد (غلام) ہونے میں ننگ و عار محسوس کرتا ہے اور حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰة والسلام کو اللہ کا بندہ ہونے میں کوئی عار نہیں ہے اگر حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰة والسلام ابن اللہ ہوتے تو عبداللہ ہونے میں عار محسوس کرتے اور یہی صورت فرشتوں کی ہے، لہٰذا معلوم ہوگیا کہ بطور معطوف فرشتوں کا بعد میں ذکر کرنا فرشتوں کی افضلیت پر دلالت نہیں کرتا۔
اللہ کا بندہ ہونا اعلیٰ درجہ کی شرافت اور عزت ہے : لن یستنکف المسیح علیہ الصلوٰة والسلام، یعنی مسیح کو اللہ کا بندہ ہونے میں کوئی عار نہیں اور نہ ہی اللہ کے مقرب فرشتوں کو عار ہے، اسلئے کہ اللہ کا بندہ ہونا اور اس کی بندگی کرنا تو اعلی درجہ کی شرافت ہے حضرت مسیح علیہ الصلوٰة والسلام اور ملائکہ مقربین سے اس نعمت کی قدر و قیمت پوچھئے، ان کو اس سے کیسے ننگ وعار ہوسکتی ہے، البتہ ذلت و غیرت تو غیر اللہ کی بندگی کرنے میں ہے، جیسے نصاری نے حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰة والسلام کو ابن اللہ اور معبود بنالیا اور مشرکین فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں مان کر ان کے بت بنا کر ان کی بندگی کرنے لگے تو ایسے لوگوں کیلئے دائمی عذاب وذلت ہے۔
اے لوگو تمہارے پاس نبی ﷺ کی شکل میں ایک دلیل محکم آچکی ہے، اور ہم تمہاری طرف قرآن کی شکل میں ایک نور مبین نازل کرچکے ہیں، سبحان اللہ آنحضرت ﷺ کی جانب دلیل محکم کہہ کر اور قرآن کی جانب نور مبین کہ کر کیا روح پرور اشارہ فرمایا، اب جن کا سران دونوں کی تعلیمات پر جھکا ان کو بشارت دی جارہی ہے کہ آخرت میں بھی ان کو نہال کردیں گے اور دنیا میں بھی خدا پرست زندگی آسان کردیں گے۔
یَسْتَفْتُوْنَکَ قل اللہ یفتیکم فی الکلالة، اس آیت میں کلالہ کی میراث کا حکم بیان فرمایا گیا ہے، چونکہ کلالہ کے لئے اردو زبان میں ایسا کوئی لفظ نہیں ہے کہ جس سے پورا مفہوم سمجھ میں آسکے، اسلئے اولاً کلالہ کا مصداق سمجھنا ضروری ہے کہ کلالہ کونسی میت اور کونسا وارث ہے ؟
(1) کلالہ ایسی میت کو کہتے ہیں کہ جس کے ودثاء میں بیٹا پوتا اور باپ دادانہ ہوں، ان کے علاوہ کوئی اور وارث ہو، یہی قول حضرت علی بن ابی طالب اور عبداللہ بن مسعود ؓ کا ہے۔
(2) جو شخص ایسی میت کا وارث قرار پائے وہ بھی کلالہ کہلاتا ہے، یہ سعید بن جبیر کا قول ہے۔
(3) وارث اور میت کی نسبت کلالہ کہلاتی ہے۔
(4) حضرت ابوبکر ؓ سے کلالہ کی وضاحت پوچھی گئی تو ارشاد فرمایا کہ میں اس لفظ کے بارے میں اپنی سمجھ کے مطابق ایک بات کہتا ہوں اگر درست ہو تو اللہ کا فضل سمجھئے اور اگر غلط ہو تو میری غلطی سمجھنا، غالبًا اس سے مقصود باپ اور بیٹے کے علاوہ دوسرے رشتہ دار ہیں حضرت عمر ؓ کا زمانہ آیا تو غالباً کسی سائل کے جواب میں فرمایا کہ اس بات سے خدا سے ندامت آتی ہے کہ حضرت ابوبکر نے کوئی بات کہی ہو اور میں اس کی تردید کروں۔ (رواہ البیھقی)
(5) حضرت براء ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے جناب رسول اللہ ﷺ سے کلالہ کے بارے میں تفصیل چاہی تو آپ نے فرمایا کہ جو باپ بیٹے کے علاوہ ہو۔ (اخرجہ ابوالشیخ)
(6) حضرت ابو سلمہ بن عبدالرحمٰن ؓ آپ ﷺ سے نقل کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا کہ جس نے اپنا وارث باپ اور بیٹا نہ چھوڑا ہو تو اس کا وارث (جو بھی ہو) کلالہ کہلائیگا۔ (اخرجہ ابو داؤد فی المراسیل)
اگر کوئی شخص وفات پاجائے اس طرح کہ اس کے کوئی اولاد نہ ہو اور اس کی بہن موجود ہو تو بہن کیلئے مرنے والے کی میراث کا آدھا ہے اور اولاد سے بیٹا، بیٹی نیچے تک سب مراد ہیں اور بہن سے مراد سگی بہن ہے۔
اور حقیقی بھائی اپنی حقیقی بہن کا پوری میراث کا حق دار ہوگا بشرطیکہ بہن نے اولاد نہ چھوڑی ہو اور نہ باپ دادا موجود ہوں۔
ختم شد