Ayah 4:92آیت نمبر 92 تا 96
ترجمہ : کسی مومن کے لئے یہ روا نہیں کہ کسی مومن کو قتل کرے یعنی مومن کے لئے یہ مناسب نہیں کہ اس سے مومن کا قتل سرزد ہو، سوائے غلطی کے یعنی بلا ارادہ غلطی سے قتل ہوجائے (تو اور بات) اور جو کوئی مومن غلطی سے قتل کردے بایں طور کہ نشانہ غیر مومن مثلاً شکار یا درخت کو لگایا مگر مومن کو لگ گیا یا کسی ایسے آلہ سے قتل کردیا کہ جس سے عام طور پر قتل نہیں کیا جاتا تو اس پر ایک مومن غلام آزاد کرنا لازم ہے اور خون بہا بھی جو اس کے عزیزوں کے حوالہ کیا جائیگا، یعنی مقتول کے ورثاء کو، سوا اس کے کہ اسکے (عزیز) دیت معاف کردیں، اور سنت نے بیان کیا ہے کہ دیت سو (100) اونٹ ہیں بیس (20) بنت مخاض، اور اتنی ہی بنت لبون، اور بنولبون، اور حقے اور جذعے اور یہ دیت قاتل کے اہل خاندان پر ہے اور وہ اصل وفرع کے عصبہ ہیں، جو عصبات پر تقسیم کی جائیگی، (اس کی مدت) تین سال ہوگی ان میں سے مالدار پر نصف دینار سالانہ اور متوسط پر ربع دینار سالانہ اور اگر یہ لوگ ادا نہ کرسکیں تو بیت المال سے ادا ہوگی، اور اگر یہ بھی دشوار ہو تو جانی (قاتل) پر واجب ہوگی، اور اگر مقتول تمہاری دشمن قوم (دارلحرب) سے ہو حال یہ کہ وہ مومن ہو تو اس کے قاتل پر ایک غلام آزاد کرنا واجب ہے بطور کفارہ، نہ کہ بطور دیت، تاکہ اس کے اہل خانہ کو سپرد کردی جائے ان کے ساتھ محاربہ ہونے کی وجہ سے اور اگر مقتول ایسی قوم سے تعلق رکھتا ہو کہ تمہارے اور ان کے درمیان معاہدہ ہے جیسا کہ اہل ذمہ، اور اس کے قاتل پر ایک مومن غلام آزاد کرنا ہے سو اگر جو شخص غلام نہ پائے اس وجہ سے کہ غلام دستیاب نہ ہو یا اتنا مال نہ ہو کہ جس سے غلام خرید سکے، تو اس کا کفارہ دو ماہ کے مسلسل روزے رکھنا ہے اور اللہ تعالیٰ نے طعام کی طرف رجوع کا ذکر نہیں فرمایا جیسا کہ ظہار میں فرمایا ہے، اور امام شافعی (رح) تعالیٰ نے اپنے دونوں قولوں میں سے صحیح ترین قول میں اسی کو لیا ہے، اور اللہ کی جانب سے توبہ کی قبولیت ہے، توبة، مصدر ہے فعل مقدر (تاب) کی وجہ سے منصوب ہے اور اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کے بارے میں باخبر ہے، (اور) اس نے جو نظام قائم کیا ہے اس میں حکمت ہے اور جو شخص کسی مومن کو قصداً قتل کردے اس طریقہ پر کہ اس کو ایسی چیز سے قتل کا ارادہ کرکے کہ جس سے غالباً قتل کیا جاتا ہے اس کے ایمان سے واقف ہونے کے باوجود، تو ایسے شخص کی سزا جہنم ہے جس میں وہ ہمیشہ رہے گا اور اس پر اللہ کا غضب اور اس کی لعنت ہے اور اس کو رحمت سے دوری ہے، اور اس کیلئے (اللہ نے) جہنم میں بڑا عذاب تیار کر رکھا ہے، اور یہ (آیت) مؤوّل ہے اس شخص کے ساتھ جو مومن کے قتل کو حلال سمجھے یا اس طریقہ پر کہ یہ اس کی سزاء ہے اگر سزا دیا جائے، اور وعید کے تخلف میں کوئی ندرت نہیں ہے اللہ تعالیٰ کا قول '' ویغفر مادون ذلک لمن یشاء '' کی وجہ سے اور ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ یہ آیت اس کے ظاہر پر محمول ہے اور مغفرت کی دیگر آیتوں کیلئے ناسخ ہے اور سورة بقرہ کی آیت نے بیان کیا ہے کہ عمداً قتل کرنے والا قتل کی وجہ سے قتل کیا جائیگا، اور یقینا اس پر دیت واجب ہے اگرچہ اس کو معاف کردیا جائے اور دیت کی تعداد سابق میں گذر چکی ہے، اور سنت نے بیان کیا ہے کہ قتل عمد اور قتل خطاء کے درمیان ایک قتل اور ہے جس کا نام شبہ عمد ہے اور وہ یہ ہے کہ ایسی چیز سے قتل کردے کہ جس سے عام طور پر قتل کیا جاتا، تو اس میں قصاص نہیں ہے بلکہ اس میں دیت ہے صفت میں قتل عمد کے مانند اور تاجیل (تاخیر) اور خاندان والوں پر ڈالنے میں قتل خطاء کے مانند، قتل شبہ عمد اور قتل عمد کفارہ کے (وجوب) کیلئے قتل خطاء سے اولیٰ ہے، اور نازل ہوئی (آئندہ آیت) اس وقت جبکہ صحابہ کی ایک جماعت کا بنی سلیم کے ایک شخص کے پاس سے گذر ہوا اور وہ بکریاں لے جارہا تھا اس شخص نے ان لوگوں کو سلام کیا تو ان لوگوں نے کہا اس نے سلام محض جان بچانے کے لئے کیا ہے، چناچہ ان لوگوں نے اس کو قتل کردیا اور اس کی بکریوں کو ہانک لائے، (تو آیت یٰا یھا الذین آمنوا نازل ہوئی) اے ایمان والو جب تم خدا کے راستہ میں جہادی سفر کررہے ہو تو تحقیق کرلیا کرو اور ایک قراءت میں دونوں جگہ ثاء مثلثہ کے ساتھ ہے، (فَتَثبتوا) انتظار کیا کرو اور جو تمہیں سلام علیک کرے (سلام) الف کے ساتھ اور بدون الف کے ہے، اور کلمہ شہادت کے ذریعہ جو کہ اس کے اسلام کی علامت ہے انقیاد (فرمانبرداری) کا اظہار کرے تو تم یہ نہ کہ دو یا کرو کہ تو مسلمان نہیں ہے تو نے تو یہ کلمہ اپنی جان اور مال بچانے کے لئے کہا ہے، دنیاوی سامان مال غنیمت طلب کرنیکے لئے اس کو قتل کردو اللہ تعالیٰ کے پاس بہت غنیمتیں ہیں تو وہ غنیمتیں تم کو اس کے مال کے لئے اس کے قتل سے مستغنی کردے گی، اس سے پہلے تم بھی ایسے ہی تھے تمہاری جانیں اور تمہارے اموال محض تمہارے کلمہ شہادت کی وجہ سے محفوظ رکھے جاتے تھے، پھر اللہ تعالیٰ نے تمہارے اوپر ایمان کی شہرت اور استقامت کے ذریعہ احسان فرمایا تو تم تحقیق کرلیا کرو (ایسا نہ ہو کہ) تم کسی مومن کو قتل کردو اور اسلام میں داخل ہونے والے کے ساتھ ویسا ہی معاملہ کرو جیسا تمہارے ساتھ کیا گیا، بیشک اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال سے باخبر ہے، جن کی وہ تم کو جزاء دے گا، بغیر کسی عذر کے جہاد سے بیٹھے رہنے والے مومن (غیرُ ) رفع کے ساتھ حفت ہونے کی وجہ سے، اور نصب کے ساتھ استثناء کی وجہ سے، اپاہج یا اندھا وغیرہ ہونے کی وجہ سے، اور اللہ کے راستہ میں اپنے مالوں اور جانوں سے جہاد کرنے والے برابر نہیں ہوسکتے اور اللہ تعالیٰ نے اپنی جانوں اور مالوں سے جہاد کرنے والوں کو عذر کی وجہ سے جہاد نہ کرنے والوں پر فضیلت بخشی ہے دونوں کے نیت میں مساوی ہونے اور مجاہد کے عملی طور پر جہاد کرنے کی وجہ سے، اور (یوں تو) اللہ تعالیٰ نے دونوں فریقوں سے اچھائی کا وعدہ کررکھا ہے اور مجاہدین کو عذر بیٹھے رہنے والوں پر بڑے اجر کی فضیلت دے رکھی ہے اور درجاتٍ منہ (اجراً ) سے بدل ہے اپنی طرف سے مرتبے کی جو عزت میں ایک سے بڑھ کر ہے اور مغفرت اور رحمة میں دونوں اپنے مقدر فعلوں کی وجہ سے منصوب ہیں، اللہ تعالیٰ اپنے اولیاء کو معاف کرنے والا اور اسکی اطاعت کرنے والوں پر رحم کرنے والا ہے۔
تحقیق و ترکیب وتسہیل وتفسیری فوائد
قولہ : مُخْطِئاً فی قَتْلہ، اس میں اشارہ ہے کہ خَطَأ، حال ہونے کی وجہ سے منصوب ہے اور مصدر بمعنی اسم فاعل ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ مفعول ہونے کی وجہ سے منصوب ہو اور محذوف کی صفت ہو، ای اِلَّا قَتْلاً خَطأَ.
قولہ : عَلَیْہِ : اس میں اشارہ ہے کہ تحریر، مبتداء ہے اور اس کی خبر محذوف ہے، ای فعلیہ تحریر یا مبتداء محذوف کی خبر ہے ای فالو اجب علیہ تحریر رقبةٍ اور فعل محذوف کا فاعل بھی ہوسکتا ہے ای فیجب علیہ تحریر رقبةٍ ، اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ علیہ شرط کی جزاء ہو اور چونکہ جزاء کے لئے جملہ ہونا شرط ہے، لہٰذا علیہ کو محذوف مانا ہو۔
قولہ : وَدِیَة، اس کا عطف تحریر پر ہے وَدیة اصل میں مصدر ہے مال ماخوز پر اس کا اطلاق کیا گیا ہے اسی وجہ سے اس کی صفت مُسَلَّمة لائی گئی ہے اور یہ اصل میں وَدِی تھا داؤکو حذف کردیا اس کے عوض آخر میں تاء تانیث کا اضافہ کردیا، دیة ہوگیا۔
قولہ : نِصْفُ دِیْنَارِ ، یہ امام شافعی (رح) تعالیٰ کے نزدیک ہے۔
قولہ : ثُلُثاَ عُشْرِھا، یہ امام شافعی (رح) تعالیٰ کا مذہب ہے۔
قولہ : مَصْدَر مَنْصُوْب بِفِعْلِہِ الْمُقَدَّرِ ای تاَبَ علیکم تَوْبَةً.
قولہ : عَالِماً باِیْمَانِہ، یعنی مذکورہ عذاب کا مستحق اس وقت ہوگا جبکہ اس کو مومن سمجھ کر قتل کیا ہو، اور اگر حربی سمجھ کر قتل کیا گیا ہو تو مستحق نہ ہوگا۔
قولہ : بِمَنِ اسْتَحَلَّہ '، اس کا اضافہ کا مقصد معتزلہ پر رد کرنا ہے اسلئے کہ جہنم میں دائمی دخول تو کافر کے لئے ہوگا، اسلئے کہ کتاب اور اجماع کے دلائل قطعیہ اس میں صریح ہیں کہ عصاة المسلمین کا دایمی طور پر داخلہ نہیں ہوگا، بخلاف معتزلہ کے کہ یہاں مرتکب گناہ کبیرہ اگر بغیر توبہ کے مرجائے تو وہ بھی دائمی جہنمی ہے۔
قولہ : لا بِدْعَ ای لْا نُدْرَةَ ، ابن عباس ؓ کے نزدیک آیت ظاہر پر محمول ہے، غالباً اس سے مقصد شدت کو ظاہر کرنا ہے، اسلئے کے حضرت ابن عباس ؓ ہی سے اس خلاف بھی مروی ہے۔
قولہ : فیِ قِرَائَ ةٍ بِالْمُثَلَّثَةِ ای بالثائ، ای فَتَثَبَّتُوْا . (یعنی انتظار کیا کرو) ۔
قولہ : بالرَّفْعِ صِفَةً ، یعنی غیر مرفوع ہے قاعدون کی صفت ہونے کی وجہ سے۔
سوال : القاعِدُوْنَ الف لام کی وجہ سے معرفہ ہے اور غیر نکرہ ہے لہٰذا صفت واقع ہونا درست نہیں ہے۔
پہلا جواب : غیر ھب دومتضاد کے درمیان واقع ہوتا ہے تو بھی معرفہ ہوجاتا ہے۔
دوسرا جواب : القاعدون میں الف لام جنس کا ہے جس کی وجہ سے مشابہ بنکرہ ہے۔
تیسرا جواب : القاعدون سے چونکہ کوئی متعین قوم مراد نہیں ہے لہٰذا وہ نکرہ ہی ہے معرفہ جب ہوتا جب متعین قوم مراد ہوتی، ظاہر یہ ہے کہ غیر، القاعدون سے بدل ہے اور ندل و مبدل منہ میں تعریف وتنکیر میں، طابقت ضروری نہیں ہے، اور غیر پر نصب بھی جائز ہے القاعدون سے استثناء کی وجہ سے۔
قولہ : من الزَمَانَةِ ، یہ للضرر کا بیان ہے۔
قولہ : مَنْصُوْ بانِ بِفِعْلِھمَا الْمقَدَّرِ یعنی مغفرةً ورحمةً دونوں اپنے اپنے فعل مقدر کی وجہ سے منصوب ہیں نہ کہ اَجْرًا، پر معطوف ہونے کی وجہ سے، تقدیر عبارت یہ ہے غفر اللہ لھم مغفرةً ورحمھم اللہ رحمةً.
تفسیر وتشریح
وَمَا کان لِمؤمِنٍ (الایة) یہ نفی بمعنی نہی ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے قول ' وَمَا کان لکم أب تُؤ ذُوْا رسول اللہ ' میں نفی بمعنی نہی ہے اور اگر نفی اپنے معنی پر ہو تو یہ خبر ہوگی اور اس کا صادق ہونا صروری ہوگا، جس کی صورت یہ ہوگی کہ کسی مومن کا قتل صادر نہ ہو حالانکہ یہ واقعہ کے خلاف ہے۔
شان نزول : عبدبن حمید ابن جریر وغیرہ نے مجاہد سے نقل کیا ہے کہ عیاش بن ابی ربیعہ نے ایک مومن شخص کو نادانستہ قتل کردیا تھا جس کے بارے میں مذکورہ آیت نازل ہوئی۔
واقعہ کی تفصیل : ابھی آپ ﷺ نے ہجرت نہیں فرمائی تھی، ایک صاحب عیاش بن ابی ربیعہ حلقہ بگوش اسلام ہوگئے تھے، مگر قریش کے ظلم وستم نے ان کو اس کا موقع نہ دیا کہ وہ اپنے اسلام کا علی الاعلان اظہار کردیں اور انھیں اس بات کا بھی خوف تھا کہ کہیں ان کے مسلمان ہونے کی اطلاع ان کے گھر والوں کو نہ ہوجائے جس کی وجہ سے ان کی دقتوں میں اور زیادہ اضافہ ہوجائے، اس وقت مدینہ مسلمانوں کیلئے پناہ گاہ بن چکا تھا اکاّ دکاّ مصیبت زدہ مسلمان مدینہ کا رخ کررہے تھے، عیاش بن ابی ربیعہ اور ابوجہل آپس میں سوتیلے بھائی تھے، دونوں کی ماں ایک اور والد الگ الگ تھے ماں کی پریشانی نے ابوجہل کو اضطراب اور پریشانی میں ڈالدیا، ابوجہل کو کسی طرح معلوم ہوگیا کہ عیاش مدینہ میں پناہ گزیں ہوگیا ہے چناچہ ابوجہل خود اور اس کا دوسرا بھائی حارث اور ایک تیسرا شخص حارث بن زید بن ابی انیسہ مدینہ پہنچے، انہوں نے عیاش کو ان کی والدہ کی رو رو کر پوری حالت سنائی اور پورا یقین دلایا کہ تم صرف اپنی ماں سے مل آؤ، اس سے زیادہ ہم کچھ نہیں چاہتے، حضرت عیاش نے اپنی والدہ کی بےچینی اور بھائیوں کے وعدہ پر اعتماد کرکے خود ان کے سپرد کردیا اور مکہ کے لئے ان کے ساتھ روانہ ہوگئے، مدینہ سے دو منزل مسافت طے کرنے کے بعد ان لوگوں نے غداری کی اور وہی سب کچھ کیا جس کا اندیشہ تھا، بڑی بےدردی سے پہلے تو ان کے ہاتھ پیر باندھے اور اس کے بعد تینوں نے بڑی بےرحمی سے ان پر اتنے کوڑے برسائے کہ پورابدن چھلنی کردیا، جس ماں کے لئے یہ سب کچھ کیا تھا اس نے عیاش کو تپتی ہوئی دھوپ میں ڈلوادیا کہ جب تک خدا اور اس کے رسول سے نہ پھروگے یوں ہی دھوپ میں جلتے رہو گے۔
یہ شہادت کی الفت میں قدم رکھنا ہے لوگ آسان سمجھتے ہیں مسلمان ہونا
لہو میں ڈوبا ہوا بدن، جکڑے ہوئے ہاتھ پاؤں، سفر کی تکلیف، ماں کا یہ ستم، بھائیوں کی یہ درندگی، مکہ کی تپتی ہوئی پتھریلی زمین آخر کب تک ؟ آخر مجبوراً عیاش کو وہ الفاظ کہنے پڑے جنھیں کہنے کے لئے ان کا دل ہرگز آمادہ نہیں تھا، تب کہیں اس عذاب سے چھٹکارا نصیب ہوا، ان کی اس بےکسی پر طعن کرتے ہوئے حارث بن زید نے ایک زبردست چوٹ کی کہنے لگے کیوں عیاش تمہارا دین بس اتنا ہی تھا ؟ عیاش غصہ کا گھونٹ پی کر رہ گئے اور قسم کھالی کہ جب بھی موقع ملے گا اس کو قتل کردوں گا، حضرت عیاش پھر کسی طرح مدینہ پہنچ گئے، ان ہی دنوں حارث بن زید بھی مکہ مکرمہ سے نکل کر مدینہ منورہ حاضر ہو کر جاں نثارانِ نبوت کی صف میں شامل ہوگئے، حضرت عیاش کو حارث بن زید کے اسلام قبول کرنے کی بالکل خبر نہ تھی، ایک روز اتفاق سے قباء کے نواح میں دونوں کا آمنا سامنا ہوگیا، حضرت عیاش ؓ کو حارث بن زید کی ساری حرکتیں یاد تھیں، سمجھے کہ پھر کسی بےکس کے ہاتھ پاؤں باندھنے آئے ہوں گے، اس سے پہلے کہ ایک دوسرے کے حالات سے واقف ہوتے حضرت عیاش کی تلوار اپنا کام کرچکی تھی، اس واقعہ کے بعد لوگوں نے عیاش کو صورت حال سے آگاہ کیا کہ حارث بن زید تو مسلمان ہو کر مدینہ آئے تھے، حضرت عیاش آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انتہائی افسوس کے ساتھ عرض کیا حضور آپ کو بخوبی معلوم ہے کہ حضرت حارث نے میرے ساتھ کیا کچھ کیا تھا میرے دل میں ان سب باتوں کا زخم تھا اور مجھے بالکل معلوم نہ تھا کہ وہ مشرف باسلام ہوچکے ہیں، ابھی یہ بات ہو رہی تھی کہ یہ آیت نازل ہوئی۔
قتل کی تین قسمیں اور ان کا شرعی حکم :
پہلی قسم : قتلِ عمد، جو قصداً ایسے آلہ کے ذریعہ واقع ہو جو آہنی ہو یا تفریق اجزاء میں آہنی آلہ کے مانند ہو جیسے دھار دار پتھر یا بانس وغیرہ۔
دوسری قسم : قتل شبہ عمد، جو قصداً تو ہو مگر ایسے آلہ سے نہ ہو جس سے اجزاء میں تفریق ہوسکتی ہو، یا قتل ایسی چیز سے ہو جس سے عام طور پر قتل نہ ہونا ہو۔
تیسری قسم : قتل شبہ عمد، خطایا تو قصدوظن میں ہو کہ انسان کو شکار سمجھ بیٹھا، یا نشانہ خطا کر گیا کہ نشانہ چوک کر کسی انسان کو لگ گیا، ان دونوں قسموں میں قاتل پر دیت واجب ہے اور قاتل گنہگار بھی ہے مگر دونوں کی دیت میں فرق ہے، دوسری اور تیسری قسم کی دیت (100) اونٹ ہے، مگر اس تفصیل سے کہ چاروں قسم یعنی بنت لبون، جِذعہ، حِقہ ہر ایک قسم میں سے پچیس پچیس اور تیسری قسم میں اس تفصیل سے کہ اونٹ کی پانچ مع (بنولبون) قسموں میں سے ہر ایک میں بیس بیس، البتہ دیت اگر نقد کی صورت میں دی جائے تو مذکورہ دونوں قسموں میں دس ہزار درہم شرعی یا ایک ہزار دینار شرعی ہیں، اور گناہ دوسری قسم میں زیادہ ہے اسلئے کہ اس میں قصد کو دخل ہے اور تیسری قسم میں کم اور وہ بےاحتیاطی کا گناہ ہے۔ (معارف)
مسلہ : دیت کی مذکورہ مقدار اس وقت ہے کہ جب مقتول مرد ہو اور عورت ہو تو دیت اس کی نصف ہوگی۔ (کذافی الھدایة)
مسلہ : دیت مسلم اور ذمی کی برابر ہے حدیث میں ہے آپ نے فرمایا '' دِیَّة کل ذمی عھد فی عھدہ الف دینار ''. (اخرجَہ ' ابو داؤد)
مسلہ : کفارہ یعنی تحریر رقبہ یا روزے رکھنا خود قاتل کے ذمہ ہیں، اور دیت قاتل کے (خاندان) اہل نصرت پر ہے جس کو اصلاح شرع میں عاقلہ کہتے ہیں۔ (معارف)
مسلہ : مقتول کی دیت مقتول کے شرعی ورثاء میں تقسیم ہوگی اور جو اپنا حصہ معاف کردے گا اس قدر معاف ہوجائیگا اور اگر سب معاف کردیں گے تو پوری دیت معاف ہوجائیگی۔
مسلہ : جس مقتول کا وارث شرعی نہ ہو اس کی دیت بیت المال میں جمع ہوگی۔
خلاصہ کلام : کسی کو قتل کرنے کی دو صورتیں ہوسکتی ہیں ایک یہ کہ جان بوجھ کر عمداً قتل کیا جائے اور دوسرے یہ کہ نادانستہ ایسا ہوجائے، دانستہ بلا قصور قتل کرنے کے مسائل سورة بقرہ آیت '' کتب علیکم القصاص '' کی تفسیر میں گذر چکے ہیں، نادانستہ قتل کے مسائل کی تفصیل حسب ذیل ہے، نادانستہ قتل کی کل چار صورتیں ممکن ہیں۔
(1) یہ کہ مقتول مومن ہو۔
(2) یہ کہ مقتول کافر ہو، مگر ذمیّ یا مستامن ہو جسکی جان ومال کی حفاظت کی ذمہ داری مسلمانوں کی ہو۔
(3) یہ کہ مقتول کافر معاہد ہو، یعنی اس ملک کا ہو کہ جس کے ساتھ معاہدۂ امن ہو۔
(4) یہ کہ مقتول کا فرحربی ہو۔
ان میں سے ہر ایک کی دو صورتیں ہیں، (1) اسے عمداً قتل کیا ہو، (2) یا غلطی سے قتل ہوا ہو، اس طرح کل آٹھ صورتیں ہوجاتی ہیں۔
(1) مومن اگر بلا قصور جان بوجھ کر قتل کردیا جائے تو اس کی دنیاوی سزا سورة بقرہ میں بیان فرمائی گئی ہے اور آخرت کی سزا آیت ” ومَنْ قتل مؤمناً متعمدٌا “ میں آرہی ہے۔
(2) مومن کو اگر نادانستہ قتل کردیا گیا تو اس کی سزا یہ ہے کہ ورثاء کو خون بہا ادا کیا جائے اور ایک غلام آزاد کیا جائے اور غلام میسر نہ ہونے کی صورت میں لگا تار دو مہینے کے روزے رکھے جائیں۔
(3) مقتول اگر ذمی ہو اور عمداً قتل کیا گیا ہو تو اس کی سزا یہ ہے کہ قتل کے بدلے قتل کردیا جائے یعنی جو سزا مومن کو عمداً قتل کرنے کی ہے وہی ذمی کو قتل کرنے کی بھی ہے، یہ امام صاحب کا مسلک ہے۔
(4) ذمی اگر نا دانستہ قتل کردیا جائے تو اس کے وارثوں کو خون بہا (خون کی قیمت) ادا کیا جائے گا، خون بہا کی مقدار میں ائمہ کے درمیان اختلاف ہے۔
(5) اگر مقتول معاہدہو اور قصداً قتل کردیا گیا تو اس کے قتل کی سزا میں اختلاف ہے، البتہ خون بہا ادا کرنا ضروری ہے۔
(6) اگر معاہدہ امن کرنے والا نادانستہ قتل ہوجائے تو اس کے لئے تو وہی قانون ہے جو ذمی کے قاتل کے لئے ہے یعنی وارثوں کو خون بہا دیا جائے۔
(7) ، (8) اگر مقتول حربی (مسلمانوں کا دشمن) تھا تو اس کا قتل خواہ دانستہ ہو یا نا دانستہ اس کے قاتل پر نہ قصاص ہے اور نہ دیت کیونکہ وہ حالت جنگ میں ہے۔
خون بہا کی مقدار : اس سلسلہ میں یہ بات ذہن نشین رہے کہ خون بہا کا دارومدار قیل کی نوعیت پر ہے، ایک صورت تو یہ ہے کہ قاتل پر عمداً قتل کا الزام ثابت ہوچکا ہو مگر کسی وجہ سے قصاص کے بجائے خون بہا پر معاملہ ٹھہرا ہے تو یہ سب سے اہم خون بہا سمجھا جائیگا۔
اگر واقعہ کی نوعیت کچھ ایسی ہے کہ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ قتل کرنا مقصود نہیں تھا، یعنی عام حالات میں ایسے واقعہ میں آدمی مرتا نہیں ہے مگر اتفاق سے یہ شخص مرگیا، اس صورت میں جو خون بہا ہوگا وہ یقینا پہلی صورت سے ہلکا ہوگا، تیسری صورت یہ ہے کہ محض غلطی سے قتل کا صدور ہوگیا، ایسی صورے میں خون بہا دوسری صورت سے بھی ہلکا ہوگا۔
اگر خون بہا اونٹوں کی شکل میں ہو تو سو (100) اونٹ ہوں گے، اور گائے کی شکل میں ہو تو دو سو (200) گائے ہوں گی اور بکریوں کی صورت میں ہو تو ایک ہزار بکریاں ہوں گی، اور اگر کپڑوں کی شکل میں ہو تو دو سو (200) جوڑے ہوں گے، اس کے علاوہ اگر کسی اور چیز سے خون بہا ادا کیا جائے تو ان ہی چیزوں کی بازاری قیمت کے لحاظ سے متعین کیا جائیگا، مثلاً نبی ﷺ کے زمانہ میں سو اونٹوں کی قیمت آٹھ سو (800) دیناریا آٹھ ہزار (8000) درہم تھے جب حضرت عمر ؓ کا زمانہ آیا تو فرمایا کہ اب اونٹوں کی قیمت بڑھ گئی ہے لہٰذا اب دیت سونے کی صورت میں ایک ہزار دینار اور چاندی کی صورت میں بارہ ہزار درہم خون بہا دلوایا جائیگا۔ عورت کا خون بہا : عورت کا خون بہا مرد کا آدھا ہے اور باندی و غلام کا خون بہا اس کی ممکن قیمت ہوتی ہے، خون بہا کے معاملہ میں مسلم اور غیر مسلم امام صاحب کے نزدیک دونوں برابر ہیں، جو خون بہا اس کے بجائے قاتل کے ذمہ واجب ہوا ہے وہ صرف قاتل کے ذمہ ہوگا، اور جو خون بہا دوسری کسی وجہ سے عائد ہوتا ہے اس میں قاتل کے تمام رشتہ دار شریک ہو کر بطور چندہ ادا کریں گے۔
Ayah 4:93وَمَنْ یقتل مؤ مناً متعمدًافجزائہ جھنم خالدًافیھا (الآیة) اس آیت میں مومن کے قتل عمد کی سزا بیان فرمائی گئی ہے جو فی الواقع بڑی سخت سزا ہے مثلاً اس کی سزا جہنم ہے جس میں ہمیشہ رہنا ہوگا، نیز اللہ کا غضب اور اس کی لعنت اور عذاب عظیم بھی ہوگا، اتنی سخت سزائیں بیک وقت کسی بھی گناہ کی بیان نہیں کی گئی، جس سے واضح ہوتا ہے کہ ایک مومن کو قتل کرنا اللہ کے نزدیک کتنا بڑا جرم ہے، احادیث میں اس کی سخت مذمت اور وعیدیں بیان کی گئی ہیں۔
مؤمن کے قاتل کی توبہ : مومن کے قاتل کی توبہ قبول ہے یا نہیں، بعض علماء مذکورہ سخت وعیدوں کے پیش نظر قبول توبہ کے قائل نہیں، لیکن قرآن و حدیث کی نصوص سے واضح ہے کہ خالص توبہ سے ہر گناہ معاف ہوسکتا ہے '' اِلّا مَنْ تابَ واٰمَنَ وعَمِلَ عَمَلاً صالِحاً '' (الفرقان) اور دیگر آیات توبہ عام ہیں لہٰذا ہر قسم کے گناہ کو شامل ہوگی، یہاں جو جہنم میں دائمی خلود کی سزا بیان کی گئی ہے اس کا مطلب ہے کہ اگر توبہ نہ کی تو اس کی سزا ہے جو اللہ تعالیٰ اس کے جرم پردے سکتا ہے اسی طرح توبہ نہ کرنے کی صورت میں خلود سے مراد مکث طویل ہے اسلئے کہ جہنم میں خلود کافروں اور مشرکوں ہی کیلئے ہے، قتل کا تعلق اگرچہ حقوق العباد سے ہے جو توبہ سے بھی ساقط نہیں ہوتے لیکن اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے بھی اس کی تلافی فرماسکتا ہے اس میں مقتول کو بھی بدلہ مل جائیگا اور قاتل کی بھی معافی ہوجائیگی۔ (فتح القدیر، ابن کثیر)
Ayah 4:94شان نزول : یایّھا الذین آمنوا اِذَاضَرَبْتم فی سبِیْل اللہ فَتَبَیَّنُوْا (الآیة) اے ایمان والو ! جب تم اللہ کی راہ میں جا رہے ہو تو تحقیق کرلیا کرو اور جو تم سے سلام کرے تم اسے یہ نہ کہ دو کہ وہ تو ایمان والا نہیں۔
حدیث میں آتا ہے کہ صحابہ کی ایک جماعت کسی علاقہ سے گذری جہاں ایک چرواہا بکریاں چرارہا تھا مسلمانوں کو دیکھ کر چرواہے نے سلام کیا بعض صحابہ نے سمجھا شاید یہ جان بچانے کیلئے خود کو مسلمان ظاہر کرنے کے لئے سلام کررہا ہے، چناچہ انہوں نے اسے بغیر تحقیق کے قتل کر ڈالا، اور بکریاں لے کر حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوگئے جس پر مذکورہ آیت نازل ہوئی۔ (بخاری، ترمذی)
روایات سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ آپ ﷺ نے یہ بھی فرمایا کہ مکہ میں تم بھی اس چرواہے کی طرح ایمان چھپانے کے پر مجبور تھے، مطلب یہ کہ اس کے قتل کا کوئی جواز نہیں تھا، تمہیں چند بکریاں اس مقتول سے حاصل ہوگئیں یہ کچھ بھی نہیں اللہ کے پاس اس سے کہیں زیادہ بہتر غنیمتیں ہیں جو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کی وجہ سے دنیا میں بھی مل سکتی ہیں اور آخرت میں ان کا ملنا تو یقینی ہے۔
عبرتناک واقعہ : ابن جریر کے حوالہ سے اسی نوعیت کا ایک واقعہ حضرت ابن عمر ؓ سے منقول ہے آپ ﷺ نے جنگی ضرورت سے صحابہ کی ایک جماعت روانہ فرمائی ان میں ایک شخص محلم بن جثامہ بھی تھا ان لوگوں کی راستہ میں ایک شخص عامر بن اضبط سے ملاقات ہوگئی، عامر نے باقاعدہ اسلامی طریقہ سے ان لوگوں کو سلام کیا یعنی اپنا مسلمان ہونا ظاہر کیا، لیکن محلم اور عامر کے درمیان زمانہ جاہلیت سے کچھ کدورت چلی آرہی تھی محلم نے موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے عامر کو قتل کردیا، ابھی عامر کا اسلام مشہور نہ ہوا تھا، واپسی پر محلم نے آنحضرت ﷺ سے معافی کی درخواست کی لیکن نہایت سختی سے رد کردی گئی ابھی ایک ساعت بھی نہ گذری تھی کہ محلم نے وفات پائی، محلم دفن کردیا گیا لیکن فوراً ہی لاش قبر سے باہر آگئی حاضرین گھبرائے ہوئے آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے، آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا '' زمین اگرچہ اس سے بھی زیادہ برے لوگوں کو قبول کرسکتی ہے مگر اللہ تمہیں ایسی حرکتوں پر تنبیہ فرماتا ہے آخر کارلاش پہاڑ پر ڈالدی گئی۔
Ayahs 4:95–96شان نزول : لا یستوی القاعدون من المؤمنین غیر اولی الضرر (الآیة) جب یہ آیت نازل ہوئی کہ گھروں میں بیٹھے رہنے والے اور اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے برابر نہیں ہوسکتے، تو حضرت عبداللہ ابن ام مکتوم ؓ (نابینا صحابی) وغیرہ نے عرض کیا کہ ہم تو معذور ہیں جس کی وجہ سے ہم جہاد میں حصہ نہیں لے سکتے جس کی وجہ سے ہم جہاد کے اجر وثواب سے محروم رہیں گے، تو اس پر اللہ تعالیٰ نے '' غیرُ اولی الضرر '' استثناء نازل فرمایا، یعنی عذر کی وجہ سے جہاد میں حصہ نہ لینے والے اجرو ثواب میں مجاہدین کے شریک ہیں۔
Ayah 4:97آیت نمبر 97 تا 100
ترجمہ : (آئندہ آیت) ایک گروہ کے بارے میں نازل ہوئی جس نے اسلام قبول کیا مگر ہجرت نہیں کی، اور کفار کے ساتھ بدر میں قتل کردیئے گئے، بیشک ان لوگوں کی روح جنہوں نے کفار کے ساتھ قیام کرکے اور ترک ہجرت کرکے اپنے اوپر ظلم کیا فرشتہ جب (روح) قبض کرتا ہے تو ان سے تو بیخاً پوچھتا ہے تم اپنے دین کے معاملہ میں کس حال میں تھے ؟ تو وہ عذر بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ہم دین کے قائم کرنے کے معاملہ میں مکہ کی سر زمین میں ہم کمزور تھے تو (فرشتے) ان سے تو بیخاً کہیں گے کیا اللہ کی زمین وسیع نہیں تھی ؟ کہ تم اس میں ہجرت کر جاتے یعنی کافروں کی سر زمین سے دوسرے شہر کی طرف ہجرت کر جاتے جیسا کہ دوسروں نے کی اللہ تعالیٰ فرمائیگا، یہی لوگ ہیں جن کا ٹھکانہ جہنم ہے اور وہ برا ٹھکانہ ہے سوائے ان لوگوں کے جو مردوں اور عورتوں اور بچوں میں سے کمزور ہوں کہ جو نہ کوئی یدبیر ہی کرسکتے ہوں اور نہ ہجرت کی کوئی صورت ہی پاتے ہوں تو یہ لوگ ایسے ہیں کہ اللہ ان کو معاف کردے گا اور اللہ ہے ہی بڑا معاف کرنے والا اور بڑا بخشنے والا اور جو کوئی اللہ کی راہ میں ہجرت کرے گا تو وہ زمین میں بہت سی ہجرت گاہیں اور رزق میں وسعت پائیگا، اور جو کوئی اللہ اور اس کے رسول کی خاطر ہجرت کرتے ہوئے نکلے پھر راستہ میں اسے موت آجائے جیسا کہ جندع بن ضمرہ لیثی کو پیش آیا تھا، تو اس کے لئے اللہ پر اجر ثابت ہوگیا اور اللہ تو ہے ہی بڑا بخشنے والا بڑا مہربان۔
تحقیق و ترکیب وتسہیل وتفسیری فوائد
قولہ : قَالُو الَھُمْ مُؤَبِخِیْنَ.
سوال : مُؤَبِّخِیْنَ کے اضافہ سے کیا فائدہ ہے ؟
جواب : مُؤَبِّخِیْنَ کے اضافہ کا مقصد سوال و جواب میں مطابقت پیدا کرنا ہے اسلئے کہ اگر مُؤَبِّخِیْنَ محذوف نہ مانیں تو۔
سوال : فِیْمَ کُنْتُمْ ؟ اور۔
جواب : کُنَّا مُسْتَضْعَفِیْنَ ، میں مطابقت نہیں رہتی، اسلئے کہ سوال ہے تم کس چیز میں تھے اور جواب ہے ہم ضعیف اور عاجز تھے یہ جواب سوال کے مطابق نہیں ہے اور مُؤَبِّخِیْنَ محذوف مان لیں تو دراصل سوال نہ رہا بلکہ ہجرت کے لئے نکلنے پر تو بیخ ہوگی، مطلب یہ ہوا کہ تم ہجرت کیلئے کیوں نہیں نکلے ؟ جواب دیا چونکہ ہم کو ضعف کی وجہ سے ہجرت پر قدرت نہیں اسلئے ہم نے ہجرت نہیں کی۔
قولہ : فی اَیِّ شَی، اس میں اشارہ ہے کہ فِیْمَ ، میں مَا، استفہامیہ ہے نہ کہ موصولہ۔
قولہ : مُرَ اغَما، باب مفاعلہ کا ظرف مکان ہے معنی جائے گریز، مقام ہجرت، مُرَا غَماً ، کی تفسیر مھاجراً سے کرنے کا مقصد تعیین معنی ہے۔
قولہ : جُنْدُع بْن ضَمْرَة، معض مفسرین جندب ابن ضمرہ لکھا ہے۔
تفسیر وتشریح
اِنَّ الَّذِیْنَ تَوْفّٰھُمُ الملا ئکَةُ ظَالِمی انفسِھِمْ قَالو افِیْمَ کنتُم (الآیة) اس آیت میں ان لوگوں کا ذکر ہے کہ جو اسلام قبول کرنے کے بعد بھی بلا مجبوری کے اپنی کافر قوم میں مکہ ہی میں مقیم رہے۔ درآنحالیکہ ایک دارالاسلام مہیا ہوچکا تھا جس کو افرادی قوت کی سخت ضرورت تھی یہی وجہ تھی کہ ہجرت فرض کردی گئی تھی اور عام اعلان کردیا گیا تھا کہ جہاں بھی کوئی اسلام کا فرزند ہو وہ مدینہ پہنچ جائے، اس کے علاوہ مکہ میں رہ کر نیم اسلامی زندگی گذارنے والوں کے لئے کوئی واقعی اور حقیقی مجبوری نہیں تھی، قالو افیمَ کنتم، یعنی دارلکفر میں رہ کر دین کے کن کاموں میں لگے ہوئے تھے کہ ہجرت کو نہ نکلے ؟ دراصل یہ ہجرت نہ کرنے پر تو بیخ و تعریض ہے۔ (کبیر)
جب اسلامی مرکز کو کافی قوت حاصل ہوگئی اور مخالفین کی قوت کا زور ٹوٹ گیا تو ہجرت بھی واجب نہ رہی، اس کے باوجود جب اور جہاں کہیں ویسے حالات پیدا ہوجائیں تو ہجرت واجب ہوجائے گی '' لا ھجرة بعد الفتح '' کا یہی مطلب ہے۔
یہاں ایک بات سمجھ لینا ضروری ہے وہ ظہور اسلام کے وقت پورے عرب میں مکہ معظمہ ایک مرکزی حیثیت رکھتا تھا، اہل مکہ کی مخالفت پورے عرب کی مخالف سمجھی جاتی تھی اور ان کی موافقت پورے ملک کی موافقت تصور کی جاتی تھی، اگرچہ ہجرت کے بعد مسلمانوں کی ہستی اور ان کا وجود واضح ہوچکا تھا مگر پھر بھی اسلام لانے یا نہ لانے کے معاملہ میں پورے عرب کی نظریں مکہ پر لگی ہوئی تھیں، ایسی صورت میں ضروری تھا کہ کوئی بھی کلمہ گو مکہ میں نہ رہے تاکہ قریش کی اجتماعی قوت جلد از جلد ٹوٹ جائے اور دوسری قوت میں اضافہ کریں تاکہ مسلمانوں کی اجتماعی قوت عرب کے لئے مسلمہ قوت بن جائے مکہ فتح ہوجانے کے بعد پورے عرب کیلئے گویا اسلام کی برتری کا اعلان ہوچکا تھا یہی وجہ تھی کہ فتح مکہ کے بعد قبیلے کے قبیلے حلقہ بگوش اسلام ہوتے چلے گئے یہاں تک کہ کچھ عرصہ میں کفر جزیرة العرب سے جلاوطن ہوگیا۔
Ayahs 4:98–99اِلاّ المستضفین (الآیة) ہجرت سے یہ ان مردوں عورتوں اور بچوں کو مستثنی کرنے کا حکم ہے جو ہجرت کے وسائل سے محروم ہوں وسائل خواہ مالی ہوں یا جسمانی چناچہ انتہائی بوڑھا بیمار ایسا کمزور کہ جو نہ پیدل چل سکے اور نہ سواری پر سوار ہوسکے، اور ایسا بال بچوں والا کہ جو نہ انھیں ساتھ لے جاسکتا ہو اور نہ تنہا چھوڑسکتا ہو، ہجرت سے مستثنی ہیں حضرت ابن عباس ؓ کا بیان ہے کہ میں اور میری والدہ ماجدہ ان ہی لوگوں میں تھے، والدہ معذور تھیں اور میں بچہ۔
بچے اگرچہ شرعی احکام کے مکلّف نہیں ہوتے لیکن یہاں بچوں کا ذکر ہجرت کی اہمیت کو واضح کرنے کے لئے کیا گیا ہے۔
Ayah 4:100وَمَنْ یُھاجر فی سبیل اللہ (الآیة) اس میں ہجرت کی ترغیب اور مشرکین سے مفارقت اختیار کرنے کی تلقین ہے اور اخلاص نیت کے مطابق اجر وثواب ملنے کی یقین دہانی ہے۔
شان نزول : ومن یُھَاجر فی سبیل اللہ یجد فی الارضِ مُراغماً ، (الآیة) سعید بن جبیر وغیرہ سے طبری نے روایت کیا ہے کہ مذکورہ آیت ایک ضمرہ نامی شخص کے بارے میں نازل ہوئی جو کہ ہجرت کے بعد مکہ میں مقیم تھا، جب اس نے اللہ کا کلام '' اَلم تکن ارض اللہ واسعة فتھا جروا فیھا '' سنا تو اس نے اپنے اہل خانہ سے کہا حالانکہ وہ مریض تھا، مجھے مدینہ لے چلو چناچہ اس کے اہل خانہ اس کو چارپائی پر ڈال کر مدینہ کی طرف روانہ ہوئے جب مقام تنعیم میں پہنچے تو ان کا انتقال ہوگیا، تو مذکورہ آیت نازل ہوئی۔
Ayahs 4:101–104آیت نمبر 101 تا 104
ترجمہ : اور جب تم سفر کرو تو نماز میں قصر کرنے میں تم پر کوئی گناہ نہیں، بایں طور کہ تم چار (رکعت) کی دو کرلو، اگر تم کو اندیشہ ہو کہ تمہیں تکلیف پیش آئے گی کہ کافر تمہیں ستائیں گے، یہ نزول کے وقت کے واقعہ کا بیان ہے لہٰذا اس کا مفہوم مراد نہیں ہے، اور سنت نے بیان کیا ہے کہ سفر سے سفر طویل مراد ہے اور وہ چار برید ہیں جو مساوی ہے دو مرحلوں کے، اور اللہ کے قول '' فلَیْسَ عَلَیکُمْ جُنَاح '' سے سمجھا جاتا ہے کہ قصر رخصت ہے نہ کہ واجب اور امام شافعی (رح) تعالیٰ کا مذہب ہے، یقینا کافر تمہارے کھلے دشمن ہیں (یعنی) ان کی عداوت کھلی ہوئی ہے، اور اے محمد جب آپ ان میں موجود ہوں اور تم کو دشمن کا خوف ہو اور (صحابہ کو) باجماعت نماز پڑھائیں اور آپ کو خطاب ہے (نہ کہ لوگوں کو) قرآنی اسلوب خطاب کے مطابق ہے، لہٰذا اس کا مفہوم مخالف مراد نہیں ہے، تو چاہیے کہ (صحابہ) کا ایک گروہ آپ کے ساتھ (نماز میں) کھڑا ہوجائے اور (بقیہ دوسرا گروہ دشمن کے مقابلہ کے لئے) مؤخر رہے (یعنی جماعت میں شریک نہ ہو) اور جو گروہ آپ کے ساتھ (نماز میں) کھڑا ہے وہ بھی ہتھیار بند رہے اور جب یہ گروہ نماز میں مشغول ہو تو دوسرے گروہ کو چاہیے کہ وہ تم لوگوں کے پیچھے دشمن کے مقابلہ میں رہے اور حفاظت کرتا رہے یہاں تک کہ یہ گروہ (اپنی) نماز پوری کرے اور (اب) یہ گروہ چلا جائے اور حفاظت کرے، اور دوسرا گروہ اگر وہ کہ جس نے ابھی نماز نہیں پڑھی ہے آئے اور آپ کی ساتھ نماز پڑھے اور اپنے بچاؤ کا سامان اور اپنے ہتھیار اپنے ساتھ لئے رہے یہاں تک کہ یہ گروہ بھی نماز پوری کرلے اور نبی ﷺ نے بطن نخلہ میں ایسا ہی کیا تھا، (رواہ الشیخان) کافر چاہتے ہیں کہ جب تم نماز کے لئے کھڑے ہو رو تم کسی طرح اپنے ہتھیاروں اور سامان سے غافل ہوجاؤ، تو اچانک ٹوٹ پڑیں بایں طور کہ تم پر حملہ کردیں اور تم کو اچانک آدبوچیں اور یہ ہتھیار بند رہنے کے حکم کی علت ہے، الاّ یہ کہ تم کو بارش کی وجہ زحمت ہو رہی ہو یا تم مریض ہو تو تمہارے لئے اس میں کوئی حرج نہیں کہ تم ہتھیار اتار کر رکھ دو یعنی مسلح نہ رہو، اس سے معلوم ہوا کہ عذر نہ ہونے کی صورت میں ہتھیار بند رہنا واجب ہے، اور امام شافعی (رح) تعالیٰ کے دو قولوں میں سے یہ ایک قول ہے اور دوسرا قول یہ کہ ہتھیار بند رہنا سنت ہے، بیشک اللہ نے کافروں کے لئے ایک رسوا کن عذاب تیار کر رکھا ہے اور جب تم نماز سے فارغ ہوجاؤ تو تھلیل، تکبیر کے ذریعہ اللہ کا ذکر کرتے رہو کھڑے کھڑے بیٹھے بیٹھے اور لیٹے لیٹے (یعنی) ہرحال میں، پھر جب تم مامون ہوجاؤ تو نماز قائم کرو اس کے حقوق یعنی (ارکان و شرائط) کے ساتھ ادا کرو یقینا نماز مومنوں پر اس کے اوقات میں فرض ہے یعنی اس کے وقت مقرر میں، لہٰذا تم اس کو اس سے مؤخرنہ کرو، اور جب آپ ﷺ نے ایک جماعت کو غزوہ احد سے فارغ ہونے کے بعد ابو سفیان اور اس کے اصحاب کے تعاقب میں روانہ کیا تو ان لوگوں نے زخموں (سے دردمند ہونے) کی شکایت کی تو یہ آیت نازل ہوئی اور کافر قوم کے تعاقب میں ان کے ساتھ قتال کرنے سے ہمت نہ ہارو اگر تمہیں تکلیف پہنچی ہے یعنی زخموں کی تکلیف لاحق ہوئی ہے تو ان کو بھی تمہاری طرح تکلیف پہنچی ہے جیسی کہ تم کو تکلیف پہنچی ہے اور وہ تمہارے ساتھ قتال کرنے سے ہمت نہیں ہارے اور تم اللہ سے نصرت کی اور (جہاد) پر ثواب کی امید رکھتے ہو جو وہ نہیں رکھتے لہٰذا تم طریقہ سے ان پر فوقیت رکھتے ہو لہٰذا تم کو تو جنگ میں ان سے زیادہ راغب ہونا چاہیے، اور اللہ تعالیٰ ہی تو ہے جو ہر شئی کا جاننے والا اور اپنی صنعت میں حکمت والا ہے۔
تحقیق و ترکیب وتسہیل وتفسیری فوائد
قولہ : بَیَان لِلْوَاقِعِ ، اس اضافہ کا مقصد خوارج کا رد ہے، خوارج کے نزدیک قصر صلوة کے لئے خوف کی شرط ہے اور استدلال ک اللہ تعالیٰ کے قول '' اِنْ خِفْتم '' سے کرتے ہیں۔
جواب : جواب کا حاصل یہ ہے اِنْ خفتم زمانہ نزول کے واقعہ کے مطابق ہے اسلئے کہ نزول کے زمانہ میں عام طور پر مسلمانوں کو سفر میں دشمن کا خطرہ درپیش ہوتا تھا، لہٰذا اس کا مفہوم مخالف مراد نہ ہوگا کہ اگر خوف نہ ہو تو قصر نہیں ہوگی۔
قولہ : بَیِّنَ الْعَدَاَوَةِ ، اس میں اشارہ ہے کہ مُبِیْناً متعدی بمعنی لازم ہے۔
قولہ : المُبَاح، المباح کی قید سے سفر معصیت کو خارج کرنا مقصود ہے۔
قولہ : فَلَاَ مَفْھُوْمَ لہ، اس کے اضافہ کا مقصد امام ابو یوسف پر رد کرنا ہے اس لئے کہ امام ابو یوسف اسی آیت سے استدلال کرتے ہیں کہ آپ کے وصال کے بعد خوف جائز نہیں ہے، دیگر ائمہ کے نزدیک جائز ہے رہا آپ ﷺ کو خطاب تو یہ قرآن عادت کے مطابق ہے۔
نوٹ : مگر کتب فقہ میں یہ اختلاف مذکورہ نہیں ہے۔ (کما قال وصاحب المدارک) ۔
قولہ : باَن یَحْمِلُواَ عَلَیْکُمْ فَیَاْ خُذُوْ کُم، یہ ولیا خُذُوا حِذْرَھم کی علت ہے، یعنی ہتھیار اس لئے ساتھ رکھو کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ اچانک تمہارے اوپر ٹوٹ پڑیں۔
قولہ : اَنْتُمْ تاکید کے لئے ہے تاکہ کفار کی طرف ذہن نہ جائے۔
تفسیر وتشریح
ربط آیات : سابقہ آیات میں جہاد اور ہجرت کا ذکر تھا چونکہ اکثر حالات میں جہاد اور ہجرت کے لئے سفر کرنا پڑتا ہے اور ایسے سفر میں مخالف کی جانب سے گزند کا اندیشہ بھی ہوتا ہے اس لئے سفر اور خوف کی رعایت سے نماز میں جو خصوصی رعایتیں اور سہولتیں دی گئی ہیں آگے ان کا ذکر ہے، وَاذا ضربتم فی الارض اس آیت میں آیت میں نماز کے قصر کا حکم بیان فرمایا جارہا ہے حضرت علی فرماتے ہیں کہ بنو نجار کے کچھ آدمی آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ ہمیں اکثر سفر کی نوبت پیش آتی ہے ایسی حالت میں نماز پڑھنے کی کیا صورت ہوگی اس پر یہ آیت نازل ہوئی (1) اگرچہ قصر کا حکم مخصوص حالات میں نازل ہوا تھا لیکن حالات بدل جانے ہر بھی اس سہولت کو باقی رکھا گیا، اب اس کا مدار سفر کی مسافت پر خواہ سفر آرام دہ ہو یا تکلیف دہ حضرت یعلی بن امیہ ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر سے عرض کیا کہ قصر کے بارے میں تو خوف کی لگی ہوئی ہے اور اب حالات بالکل بدل گئے ہیں پھر بھی اجازت کیوں ؟ حضرت عمر ؓ نے فرمایا میرے دل میں بھی یہ بات کھٹکتی تھی میں نے آپ ﷺ سے معلوم کیا تو آپ نے فرمایا یہ اللہ لہ عنایت و کرم ہے لہٰذا اس کو قبول کرو۔ (مسلم)
سفر اور قصر کے احکام :
(1) جو سفر تین منزل سے کم ہو اس میں قصر کی اجازت نہیں م تین منزل کی مسافت انگریزی میل کے حساب سے 48 میل تقریباً (25.77) کلومیٹر ہوتا ہے۔
(2) جس سفر میں قصر کی اجازت ہے اس میں پوری نماز پڑھنا جائز ہے یا نہیں ؟ حضرت عمر، حضرت علی، حضرت ابن عمر، حضرت جابر بن عبداللہ، حضرت ابن عباس، حضرت حسن بصری حضرت عمر بن عبدالعزیز، حضرت قتادہ اور حضرت امام ابوحنیفہ ؓ کے نزدیک قصر ضروری ہے دوسری طرف حضرت عثمان غنی حضرت سعد بن ابی وقاص، حضرت امام مالک، امام شافعی اور امام احمد بن حنبل ؓ کے نزدیک مسافر کے لئے قصر کرنا اور نہ کرنا دونوں جائز ہیں۔
(3) سفر معصیت میں امام ابوحنیفہ کے نزدیک قصر کی اجازت ہے دیگر ائمہ کرام اجازت نہیں دیتے۔
(4) مسافر اپنی آبادی سے نکلتے ہی قصر کرسکتا ہے اس پر ائمہ اربعہ کا اتفاق ہے البتہ امام مالک کا فتوی یہ بھی کہ مسافر آبادی سے کم از کم تین میل نکلنے کے بعد قصر کرے۔
(5) دوران سفر اگر کسی جگہ اقامت کی نیت کرلی جائے تو امام مالک و شافعی (رح) تعالیٰ کے نزدیک صرف چاروں اقامت کی نیت سے قصر کی اجازت ختم ہوجائے گی، امام احمد کے نزدیک بیس نمازوں سے زائد کی اقامت کی نیت کی قصر کی اجازت ختم ہوجائے گی امام ابوحنیفہ کے نزدیک اگر پندرہ دن ایک ہی جگہ قیام کی نیت کی قصر کی تو اجازت ختم ہوجائے گی۔
(6) جنگل میں خیموں وغیرہ کی صورت میں کسی عارضی پڑاؤ پر اقامت کی نیت شرعاً غیر معتبر ہے مسافر ہی شمار ہوگا۔
(7) اگر کسی جگہ پندرہ دن اقامت کا ارادہ نہ ہو مگر کسی وجہ سے قیام طویل ہوگیا تو قصر ہی کرے گا اگرچہ سالہا سال ہی کیوں نہ گذر جائیں، امام شافعی (رح) تعالیٰ کا ایک فتوی سترہ روز کا بھی ہے۔
(8) کسی ایسی کشتی کا ملاح جس میں وہ بال بچوں کے ساتھ رہتا ہو یا ایسا کوئی شخص جو ہو وقت سفر میں رہتا ہو ہمیشہ قصر کریگا، امام احمد البتہ اس کی اجازت نہیں دیتے۔
(9) اگر کوئی مسافر کسی مقیم کا مقتدی ہو تو اس کو پوری نماز پڑھنی ہوگی اقتداء خواہ پوری نماز میں کی ہو یا کسی ایک جز میں، امام مالک کے نزدیک کم از کم ایک رکعت میں اقتداء ضروری ہے۔ حضرت اسحٰق بن راہو یہ فرماتے ہیں کہ مسافر مقیم کا مقتدی ہونے کے باوجود قصر کرسکتا ہے۔
(10) اگر کوئی شخص حالت سفر میں حالت اقامت کی نمازوں کی قضا کرے تو اس کو پوری نماز پڑہنی ہوگی۔
(11) حالت سفر کی نمازوں کی قضا اقامت میں امام ابوحنیفہ اور امام مالک کے نزیک قصر کے ساتھ کی جائے گی
وَاِذَاکُنْتَ فیھم فَاقمتَ لھم الصلوٰۃ (الایۃ) ان آیات میں عین حالات جنگ میں نماز پڑھنے کا طریقہ بتایا گیا ہے، نیز نماز کے اوقات کی پابندی پر زور دیا گیا ہے۔
شان نزول : حضرت ابوعیاش ؓ فرماتے ہیں کہ ہم مقام عسفان اور مقام ضبحنان پر رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ تھے، مشرکین سے ہماری مڈبھیڑ ہوگئی، خالد بن ولید جو کہ اس وقت تک مسلمان نہیں ہوئے تھے، مشرکین کے فوج کے سپہ سالار تھے، اسی اثناء میں وقت ظہر آگیا اور رسول اللہ ﷺ نے باجماعت نماز ادا فرمائی، مسلمان جب نماز سے فارغ ہو کر مقابلہ پر آئے تو کافروں میں چہ میگوئی شروع ہوئی کہ بڑا اچھا موقع ہاتھ سے نکل گیا، اگر نماز کی حالت میں مسلمانوں پر حملہ کردیا جاتا تو میدان صاف تھا، اس پر ان ہی میں سے ایک بولا ابھی کچھ دیر میں ایک اور نماز کا وقت آنے والا ہے اور وہ نماز ان کو جان ومال سے بھی زیادہ عزیز ہے، مشرکین کا اشارہ عصر کی نماز کی طرف تھا، ادھر مشرکین میں یہ مشورہ ہورہا تھا کہ حضرت جبرئیل مذکورہ آیات کے کر نازل ہوئے۔
صلوة خوف آپ ﷺ کی اقتداء میں : جب عصر کا وقت آیا تو آپ نے پورے لشکر کا مسلح ہونے کا حکم دیا اس کے بعد پورے لشکر نے دو صفیں بنا کر آپ کی اقتداء میں نماز شروع کی، پورے لشکر نے ایک رکعت رکوع اور قیام کے ساتھ پڑھی، جب سجدہ کا موقع آیا تو پہلی صف والوں نے آپ کے ساتھ سجدہ کیا اور دوسری صف والے کھڑے رہے تاکہ مشرکین سب مسلمانوں کو سجدہ میں دیکھ کر آگے بڑھنے کی ہمت نہ کرسکیں، جب پہلی صف کے لوگ آپ کے ساتھ سجدہ کرچکے اور کھڑے ہوگئے تو دوسری صف والوں نے اپنی اپنی جگہ سجدہ ادا کیا، ان لوگوں کے سجدہ کرلینے کے بعد اگلی صف والے پچھلی صف میں اور پچھلی صف والے اگلی صف میں پہنچ گئے اور دوسری رکعت رکوع اور قیام کے ساتھ ایک ساتھ پڑھی گئی، اور سجدہ کے وقت پھر یہی صورت ہوئی کہ پہلی صف والوں نے سجدہ کیا اور دوسری صف والے رکے رہے، اس طرح آپ نے نماز پوری فرمائی۔
آگیا عین لڑائی میں اگر وقت نماز قبلہ رو ہو کے زمین بوس ہوئی قوم حجاز
صلوة خوف کے مختلف طریقے : یہ بات سمجھ لینی ضروری ہے کہ جنگ کا میدان عیدگاہ کا میدان نہیں ہوتا کہ ہمیشہ ایک ہی انداز سے نماز پڑھی جاتی رہے بلکہ یہ تلواروں کی چمک، تیروں کی بوچھار، بندوقوں کی باڑھ توپوں کی آتش بازی، جہازوں کی بم باری کی حالت میں ادا کی جاتی ہے اسلئے لازمی طور ہر جنگی حالات کے اعتبار سے اس کی صورت بھی مختلف ہوگی۔ جناب رسول اللہ ﷺ سے نماز چودہ طریقوں سے منقول ہے ائمہ کرام نے اپنی اپنی صواب دید کے مطابق ان ہی صورتوں میں سے کوئی ایک یا چند صورتیں پسند فرمائی ہیں مثلا امام ابوحنیفہ (رح) تعالیٰ نے یہ صورت پسند فرمائی ہے۔
امام ابوحنیفہ (رح) تعالیٰ کے نزدیک پسندیدہ طریقہ : فوج کا ایک حصہ امام کے ساتھ نماز پڑھے اور دوسرا حصہ دوسرا حصہ دشمن کے مقابل رہے، پھر جب ایک رکعت پوری ہوجائے تو پہلا سلام پھیر کر دشمن کے مقابل چلا جائے اور دوسرا حصہ آکر دوسری رکعت امام کے ساتھ پوری کرے اس طرح امام کی دو رکعتیں ہوں گی اور فوج کی ایک ایک رکعت اسی صورت کو ابن عباس، جابربن عبداللہ اور مجاہد ؓ نے روایت کیا ہے۔
صلوة خوف کا دوسرا طریقہ : دوسرا طریقہ یہ ہے کہ ایک حصہ امام کے ساتھ ایک رکعت پڑھکر چلا جائے پھر دوسرا دوسرا حصہ آکر ایک رکعت امام کے پیچھے پڑھے، اس کے بعد دونوں حصے باری باری سے آکر اپنی چھوٹی ہوئی ایک ایک رکعت بطور خود ادا کرے، اس طرح دونوں حصوں کی ایک ایک رکعت امام کے پیچھے ادا ہوگئی اور ایک ایک رکعت انفرادی طور پر۔
صلوة خوف کا تیسرا طریقہ : تیسرا طریقہ یہ ہے کہ فوج کا ایک حصہ امام کے ساتھ ایک رکعت پڑھے اور جب امام دوسری رکعت کے لئے کھڑا ہو تو مقتدی بطور ایک رکعت مع تشہد پڑھ کر سلام پھیر دیں، پھر دوسرا حصہ آکر اس حال میں امام کے پیچھے کھڑا ہو کہ ابھی دوسری ہی رکعت میں ہو، اور یہ لوگ بقیہ نماز امام کے ساتھ ادا کرنے کے بعد ایک رکعت خود اٹھ کر پڑھ لیں، اس صورت میں امام کو دوسری رکعت کا قیام طویل کرنا ہوگا، تیسرے طریقہ کو حسن بصری نے ابوبکرہ سے روایت کیا ہے اور چوتھے طریقے کو امام شافعی اور امام مالک نے تھوڑے اختلاف کے ساتھ ترجیح دی ہے اس کا ماخذ سہل بن ابی خیثمہ کی روایت ہے۔
ان کے علاوہ صلوة خوف کی اور بھی صورتیں ہیں جن کی تفصیل مبسوطات میں مل سکتی ہے۔
آپ ﷺ کی وفات ظاہری کے بعد صلوة خوف کا مسٔلہ : ائمہ کرام کے حلقہ میں تنہا امام ابو یوسف کا مسلک یہ ہے کہ آپ ﷺ کے بعد صلوة خوف پڑھنا جائز نہیں، اسلئے کہ آپ کے بعد اب کوئی ایسی ہستی باقی نہیں کہ تمام لوگ اسی کے پیچھے نماز پڑھنے پر مصر ہوں، بلکہ اب یہ صورت ہوسکتی ہے کہ لشکر کے مختلف حصے کرکے الگ الگ امام کے پیچھے نماز پڑھ لی جائے۔
محض دشمن کے خوف کے اندیشے کے پیش نظر صلوة خوف جائز نہیں : دشمن کے محض خیالی اندیشے سے صلوة خوف درست نہیں تاوقتیکہ دشمن آنکھوں کے سامنے نہ ہو، نیز جس طرح دشمن کا خوف ہوسکتا ہے اسی طرح درندے یا کسی چیز کا بھی ہوسکتا ہے۔