Ayahs 6:108–110ولا تسبوا الذین الخ اس آیت میں مسلمانوں کو نصیحت کی گئی ہے کہ اپنی تبلیغ کے جوش میں وہ اتنے بےقابو ہوجائیں کہ معاملہ بحث و تکرار سے بڑھ کر گالی گلوچ تک پہنچ جائے، کیونکہ یہ چیز ان کو حق سے قریب کرنے کے بجائے اور زیادہ دور کر دے گی اور ضد میں وہ بھی تمہارے معبود اور پیشواؤں کی تحقیر و تذلیل پر اتر آئیں گے۔
شان نزول : واقسموا باللہ جھد ایمانھم الخ، تفسیر ابن جریر وغیرہ میں مجاہد کے قول کے مطابق ان آیتوں کا جو شان نزول بیان کیا گیا ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ قریش آنحضرت ﷺ سے مختلف قسم کے معجزوں کا مطالبہ کیا کرتے تھے، اور قسمیں کھا کر یہ کہا کرتے تھے کہ ان معجزوں کو دیکھ لینے کے بعد وہ اسلام کے تابع ہوجائیں گے مشرکوں کی قسموں کو دیکھ کر مسلمانوں کی بھی یہ خواہش ہوتی تھی کہ ان معجزوں کا ظہور ہوجائے تو بہت اچھا ہو، تاکہ مشرکین بھی دائرہ اسلام میں داخل ہوجائیں، مشرکین کے فرمائشی معجزوں میں کوہ صفا کو سونے کا بنادینا اور صحراء عرب کو زرخیز بنادینا شامل تھے اللہ تعالیٰ ان کے حال سے بخوبی واقف ہے جس طرح معجزہ شق القمر کو دیکھ کر ان کے دل متاثر نہیں ہوئے ان معجزوں کو دیکھ کر بھی متاثر نہ ہوں گے۔
Ayah 6:111آیت نمبر 111 تا 121
ترجمہ : اور اگر ہم ان پر فرشتے نازل کردیتے اور ان کی تجویز کے مطبق مردے ان سے باتیں کرتے اور ہم ان کی آنکھوں کے سامنے (دنیا بھر کی) ہر قسم کی چیزیں جمع کردیتے قُبُلاً قاف اور باء کے ضمہ کے ساتھ قبیلٌ کی جمع ہے بمعنی گروہ، اور ایک قراءت میں قاف کے کسرہ اور باء کے فتحہ کے ساتھ ہے بمعنی روبرو (نظروں کے سامنے) اور وہ آپ کی صداقت کی شہادت دیتے تب بھی اللہ کے علم ازلی کے مطابق یہ ایمان لانے والے نہیں تھے، اِلاَّ یہ کہ مشئیت الہیٰ کا تقاضہ یہی ہو تو ایمان لاسکتے ہیں، لیکن ان میں سے زیادہ تر لوگ اس معاملہ میں جہالت کی باتیں کرتے ہیں جس طرح ہم نے ان لوگوں کو آپ کا دشمن بنادیا ہے اسی طرح ہم نے سرکش شیطانوں اور جناتی شیطانوں کو ہر نبی کا دشمن بنادیا ہے اور شیٰطین الانس الخ (عدُوّ ) سے بدل ہے جو آپس میں ایک دوسرے سے وسوسے کے ذریعہ چکنی چپڑی باتیں کرتے رہتے ہیں باطل سے ملمع کی ہوئی باتیں تاکہ ان کو فریب میں مبتلا کرسکیں، اگر تیرے رب کی مشئیت نہ ہوتی تو یہ وسوسہ (مذکورہ) کی جرأت کبھی نہ کرسکتے تو آپ کفار کو اور ان کی افتراء پردازی (یعنی) کفر وغیرہ کو جس کو ان کے لئے آراستہ کردیا گیا ہے (ان کی حالت پر) چھوڑ دو ، اور یہ حکم جہاد سے پہلے کا حکم ہے، اور تاکہ ان لوگوں کے دل جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے چکنی چپڑی باتوں کی طرف مائل ہوجائیں، (لتصغیٰ ) کا عطف غرورًا پر ہے تاکہ وہ جن گناہوں کا ارتکاب کرنا چاہتے ہیں ارتکاب کریں جن کی پاداش میں ان کو سزا دی جائے، اور جب مشرکین نے آپ ﷺ سے اپنے اور آنحضرت ﷺ کے درمیان حکم طلب کیا تو یہ آیت نازل ہوئی، تو کیا میں اللہ کے علاوہ کسی اور کو میرے اور تمہارے درمیان فیصلہ کرنے والے کو طلب کروں حالانکہ وہ ایسی ذات ہے کہ جس نے تمہاری طرف ایک مفصل کتاب (قرآن) نازل کی جس میں حق کو باطل سے ممتاز کیا گیا ہے، اور وہ لوگ جن کو ہم نے کتاب تورات دی ہے جیسا کہ عبد اللہ بن سلام اور ان کے ساتھی، اس بات کو جانتے ہیں کہ قرآن تمہارے رب کی جانب سے حق کے ساتھ نازل کیا گیا ہے (منزل) میں تخفیف اور تشدید دونوں جائز نہیں، لہذا تم قرآن کے بارے میں شک کرنے والوں میں نہ ہو اور مراد مذکورہ بیان سے کافروں سے قرآن کے حق ہونے کا اقرار کرانا ہے اور آپ کے رب کا کلام احکام و مواعید کی صداقت و عدالت کے اعتبار سے کامل ہے (صدقاً اور عدلاً ) تمیز ہے اس کے کلام میں نقص یا خلاف واقعہ ثابت کرکے کوئی تبدیلی کرنے والا نہیں جو کچھ کہا جاتا ہے وہ اس کا سننے والا اور جو کچھ کیا جاتا ہے اس کا جاننے والا ہے اور دنیا میں زیادہ تر لوگ کفار ایسے ہیں کہ اگر آپ ان کا کہنا مانیں تو وہ تم کو اللہ کی راہ یعنی دین سے بےراہ کردیں یہ لوگ مردار کے بارے میں آپ سے مباحثہ کرنے میں محض خیالات کی پیروی کرتے ہیں جبکہ انہوں نے کہا کہ جس کو اللہ نے قتل کیا وہ کھانے کے زیادہ لائق ہے بہ نسبت اس کے کہ جس کو خود تم نے قتل کیا ہے، یہ لوگ قیاسی باتیں کرتے ہیں (یعنی) وہ اس معاملہ میں کذب بیان کرتے ہیں، بالیقین آپ کا رب اس شخص کو بخوبی جانتا ہے جو اس کے راستہ سے بھٹک گیا اور ان کو بھی خوب جانتا ہے جو سیدھی راہ پر چلنے والے ہیں چناچہ ان میں سے ہر ایک کو وہ جزاء دے گا، سو جس جانور پر اس کا نام لیا گیا ہے یعنی اس کے نام پر ذبح کیا گیا ہے تم کو اس میں کھانے کی اجازت ہے اگر اس کے احکام پر ایمان رکھتے ہو آخر کیا وجہ ہے کہ تم ایسے مذبوح جانور سے نہ کھاؤ کہ جس پر اللہ کا نام لیا گیا ہے حالانکہ اللہ نے (آیۃ) حُرِّمَت علیکم المیتۃ میں ان سب جانوروں کی تفصیل بیان کردی ہے جو تم پر حرام کئے گئے ہیں (فُصّل و حرمت) میں مجہول اور معروف دونوں قراءتیں ہیں دونوں فعلوں میں، مگر وہ بھی جب کہ تم اس کے لئے شدید مجبور ہوجاؤ تو تمہارے لئے حلال ہے مطلب یہ ہے کہ مذکورہ چیزوں سے کھانے سے تمہارے لئے کوئی مانع نہیں ہے، تمہارے لئے ان چیزوں کو بیان کردیا گیا ہے جن کا کھانا تمہارے لئے حرام کردیا گیا ہے، اور یہ ان میں سے نہیں ہے، اور یہ یقینی بات ہے کہ بہت سے لوگوں کو حال یہ ہے کہ علم کے بغیر کہ جس پر اس بارے میں اعتماد کریں محض اپنی خواہشات کی بنا پر یعنی اپنے نفس کی خواہش کے مطابق مردار وغیرہ کے حلال ہونے کے بارے میں لوگوں کو گمراہ کرتے ہیں (لیَضلون) یاء کے فتحہ اور ضمہ کے ساتھ ہے، بلاشبہ تمہارا رب حد سے تجاوز کرنے والوں سے بخوبی واقف ہے (یعنی) حلال و حرام کی جانب تجاوز کرنے والوں کو (بخوبی) جانتا ہے (اے مسلمانو) تم ظاہری گناہ سے بھی بچو (یعنی) علانیہ گناہ سے بھی اور پوشیدہ گناہ سے بھی، اور کہا گیا ہے کہ اثم سے مراد زنا ہے اور کہا ہے کہ (اثم) ہر معصیت ہے اس میں کوئی شک نہیں کہ جو لوگ گناہ کا ارتکاب کرتے ہیں ان کو آخرت میں ان کے کئے کی سزا دی جائے گی اور اس جانور سے نہ کھاؤ جس پر (بوقت ذبح) اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو، بایں طور کہ (ازخود) مرگیا ہو یا غیر اللہ کے نام پر ذبح کیا گیا ہو، ورنہ تو جس کو مسلمان نے ذبح کیا ہو اور اس پر قصداً یا نسیاناً اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو تو وہ حلال ہے یہ ابن عباس ؓ کا قول ہے اور یہی امام شافعی (رح) تعالیٰ کا مذہب ہے بلاشبہ یہ (یعنی) اس میں سے کھانا فسق ہے (یعنی) حلال سے (حرام کی جانب) تجاوز کرنا ہے اور یقیناً شیاطین اپنے دوستوں کافروں کے دلوں میں وسوسے ڈالتے ہیں تاکہ وہ تم سے مردار کے حلال ہونے میں (تم سے) مجادلہ کریں اور اگر تم اس معاملہ میں ان کی اطاعت کرو گے تو تم مشرک ہوجاؤ گے۔
تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد
قولہ : جَمْعُ قَبِیْل، قُبُلٌ قبیلٌ کی جمع ہے جیسے رُغُفٌ رَغیف کی جمع ہے، بمعنی جماعت گروہ اور بعض کے نزدیک قِبَلٌ کی جمع ہے، بمعنی نظروں کے سامنے قُبُلاً ، کُلَّ سے حال ہے۔ قولہ : شیٰطین عَدوًّا سے بدل ہے۔
قولہ : مَرَدَۃ، اس اضافہ کا مقصد یہ بتانا ہے کہ شیاطین کے حقیقی معنی مراد نہیں ہیں اسلئے کہ انسان حقیقی شیطان نہیں ہوتا سرکشی کہ وجہ سے انسان کو شیطان کہہ دیا جاتا ہے۔
قولہ : یُوَسْوِسُ ، یوحِی کی تفسیر یُوَسْوِسُ سے کرنے کا مقصد ایک سوال کا جواب ہے۔
سوال : وحِی کی نسبت شیطان کی طرف کرنا جائز ہی نہیں بلکہ محال ہے۔ جواب : وحی سے مراد وسوسہ ہے، لہٰذا کوئی اعتراض نہیں۔
قولہ : جَعَلْنَا ھٰؤلاءِ اَعْدَائَک، اس عبارت کے اضافہ کا مقصد اس بات کی طرف اشارہ کرنا ہے کہ جَعَلَ بمعنی صَبَّرَ ہے، جو دو مفعول چاہتا ہے اول مفعول عَدوًّا ہے جو کہ مؤخر ہے اور لکل نبی مفعول ثانی ہے جو مقدم ہے اور شیٰطین الانس والجن، عدوًّا سے بدل ہے، اور بعض حضرات نے عدوًا کو مفعول ثانی کہا ہے اور شیٰطین مفعول اول ہے اور لکل محذوف سے متعلق ہو کر غدوًّا سے حال ہے۔
قولہ : مَرَدۃ، یہ ماردٌ کی جمع ہے بمعنی سرکش۔ قولہ : لِیَغُرُّوھم اس میں اشارہ ہے کہ غروراً مفعول لہ ہے۔
قولہ : عَطْفٌ علی غرورًا لِتصغٰی کا عطف غروراً پر ہے لتصغٰی چونکہ غرورًا کی علت ہے لہٰذا معطوف اور معطوف علیہ میں عدم مناسبت کا اعتراض بھی نہیں ہوسکتا۔ قولہ : المُرَادُ بذِلکَ التَّقْرِیْر اَنَّہٗ حَقٌّ، اس اضافہ کا مقصد ایک شبہ کو دفع کرنا ہے۔
شبہ : فلا تَکُوْننَّ من المُمْتَرِیْنَ ، میں آنحضرت ﷺ کو قرآن کے من جانب اللہ ہونے میں شک کرنے سے منع فرمایا گیا ہے، حالانکہ آپ کے شبہ کرنے کا سوال ہی نہیں تھا اس لئے کہ قرآن تو خود آنحضرت ہی پر نازل ہوتا تھا تو پھر شک کا کیا مطلب ہے۔
جواب : جواب کا حاصل یہ ہے کہ امتراء کا تعلق حقانیت قرآن کے بارے میں کفار اہل کتاب کے علم سے ہے یعنی کفار سے قرآن کے برحق اور من جانب اللہ ہونے کا اقرار کرانا ہے، اس کا دوسرا جواب یہ کہ کلام میں تعریض ہے خطاب اگرچہ آپ ﷺ کو ہے مگر مراد کفار اہل کتاب ہیں۔
قولہ : تَمَّتْ ، ای بلغت الغایۃ اخبارہ مواعیدہ۔ قولہ : صدقًا وعدلاً ، صدقاً کا تعلق مواعید سے ہے اور عدلاً کا تعلق احکام سے ہے، یہ لف و نشر غیر مرتب کے طور پر ہے۔ قولہ : ای عالم، مفسر علام نے اعلم کی تفسیر عالم سے کرکے ایک اعتراض کا جواب دیا ہے۔
اعتراض : اسم تفصیل اسم ظاہر کو نصب نہیں دیتا اِلاَّ فی مسئلۃ الکحل کما تقرر فی النحو، حالانکہ یہاں اعلم۔۔۔ یضل کو نصب دے رہا ہے اسلئے کہ من یضل محل میں نصب کے ہے۔ جواب : من یضل اعلم کی وجہ سے منصوب نہیں ہے بلکہ اعلم معنی میں عالم کے ہے
تفسیر و تشریح
وَلَوْ اَنَّنَا نَزّلْنَا اِلَیْھم الملائکۃَ الخ، یہ آیت ما قبل میں مذکور اجمال کی تفصیل ہے ماقبل میں مذکور ہوچکا ہے کہ مشرکین مکہ نے جب مخصوص قسم کے معجزے طلب کئے مثلاً یہ کہ کوہ صفاء سونے کا کردیا جائے تو عرب کا ریگ زار کشت زار بنادیا جائے یا مکہ کے اطراف کے پہاڑ ہٹا کر ہموار میدان کردیا جائے تو مومنین المخلصین کی یہ خواہش ہوئی کہ کاش اللہ تعالیٰ مشرکین کے فرمائشی معجزوں کو اتمام حجت کے طور پر آپ ﷺ کے ہاتھ پر ظاہر فرما دیتے تاکہ حجت تام ہوجاتی اور مشرکوں کیلئے ایمان لانے میں کوئی عذر باقی نہ رہتا نیز اسطرح اسلام کو قوت حاصل ہوجاتی۔ مومنین کی خواہش کے جواب میں فرمایا جا رہا ہے کہ اگر ان کی فرمائش کے موافق بلکہ اس سے بھی بڑھ کر مثلاً اگر آسمان سے فرشتے اتر کر آپ کی رسالت کی تصدیق کریں اور مردے قبروں سے نکل کر ان سے باتیں کرنے لگیں اور گذشتہ تمام امتوں کو زندہ کرکے ان کے سامنے لاکر کھڑا کردیا جائے تب بھی سوء استعداد اور تعنت وعناد کی وجہ سے لوگ حق کو ماننے۔۔۔ نہیں، البتہ خدا چاہے تو زبردستی منوا سکتا ہے لیکن ایسا چاہنا اس کی حکمت اور تکوینی نظام کے خلاف ہے جس کو ان۔۔۔۔ کے اکثر لوگ نہیں سمجھتے۔
Ayahs 6:112–113وکذلک جعلنا لکل نبی الخ یعنی آج اگر شیاطین جن و انس متفق ہو کر آپ کے مقابلہ میں ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں تو فکر مند ہونے کی کوئی بات نہیں ہے، یہ کوئی نئی بات نہیں ہے جو کہ آپ ہی کے ساتھ پیش آرہی ہے، ہر زمانہ میں ایسا ہی ہوتا آیا ہے کہ جب بھی کوئی پیغمبر دنیا کو راہ راست دکھانے کے لئے اٹھا تو تمام شیطانی قوتیں اس کے مشن کو ناکام کرنے کیلئے کمر بستہ ہوگئیں۔ خدا کو منظور یہی ہے کہ جب تک نظام عام قائم رکھنا ہے نیکی اور بدی، ہدایت و ضلالت کی حریفانہ جنگ جاری رہے، جس طرح آج یہ مشرکین و معاندیین آپ کو بیہودہ فرمائشوں سے دق کرتے ہیں اور مختلف حیلوں سے لوگوں کو جادہ حق سے ہٹانے کی کوشش کرتے ہیں، اسی طرح پر پیغمبر کے مقابل شیطانی قوتیں کام کرتی رہی ہیں، اسی غرض فاسد کیلئے شیاطین الجن والانس باہم تعاون کرتے ہیں اور ان کی یہ عرضی آزادی اسی عام حکمت اور نظام تکوینی کے ماتحت ہے، اسلئے آپ ان کی فریب دہی سے زیادہ فکر میں نہ پڑیں آپ ان سے اور ان کے کذب و افتراء سے قطع نظر کرکے معاملہ کو خدا کے سپرد کردیں۔
Ayahs 6:114–121شان نزول : اَفَغیر اللہ ابتغی حَکَمًا، مشرکین مکہ آنحضرت ﷺ سے یہ کہا کرتے تھے کہ اہل کتاب میں سے کسی کو ثالث قرار دیا جائے اگر وہ قرآن کا کلم الہیٰ کہہ دے تو ہم لوگ آپ کے نبی برحق اور قرآن کے کلام الہیٰ ہونے کے قائل ہوجائیں گے، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں، اس آیت کا حاصل یہ ہے کہ میرے اور تمہارے درمیان مقدمہ نبوت و رسالت میں اختلاف و نزاع ہے میں اس کا مدعی ہوں اور تم منکر اور اس نزع و اختلاف کا فیصلہ احکم الحاکمین کی عدالت سے میرے حق میں اس طرح ہوچکا ہے کہ میرے اس دعوے پر کافی ثبوت اور دلائل موجود ہیں خود قرآن کا اعجاز ہے جس نے نہ صرف عالم عرب کو بلکہ اقوام عالم کو چیلنچ کیا کہ اس کے کلام الہیٰ ہونے میں کسی کو شبہ ہو تو اس کلام کی ایک چھوٹی سی سورت یا آیت کا مقابلہ کرکے دکھا دے جس کے جواب میں پورا عرب عاجز رہا، اور وہ لوگ آنحضرت ﷺ کو شکست دینے اور عاجز کرنے کے لئے اپنی جان، مال، اولاد، عزت آبرو سب کچھ قربان کرنے کو تیار تھے ان میں سے ایک بھی ایسا نہ نکلا کہ قرآن کے مقابلہ کیلئے ایک چھوٹی سے چھوٹی آیت بنا کر پیش کردیتا، یہ کھلا ہوا معجزہ کیا قبول حق کیلئے کافی نہ تھا ؟ کہ ایک امی جس نے کہیں تعلیم حاصل نہیں کی اس کے پیش کئے ہوئے کلام کے مقابلہ میں پورا عرب بلکہ پوری دنیا عاجز ہوجائے، یہ درحقیقت احکم الحاکمین کی عدالت سے واضح فیصلہ ہے کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول اور قرآن اللہ جل شانہ کا کلام ہے۔
کفار کی جانب سے ایک مغالطہ : کفار نے مسلمانوں کے دلوں میں یہ شبہ ڈالنا چاہا کہ اے مسلمانو تم اللہ کے مارے ہوئے جانور کو تو کھاتے نہیں ہو اور اپنے مارے ہوئے یعنی ذبح کئے ہوئے کو کھاتے ہو اس کی کیا وجہ ہے ؟ ابو داؤد اور حاکم نے ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ بعض مسلمانوں نے حضور ﷺ کی خدمت میں یہ شبہ نقل کیا اس پر یہ آیتیں المشرکون تک نازل ہوئیں۔ حاصل یہ کہ تم مسلمان ہو قرآن پر تمہارا ایمان ہے اللہ تعالیٰ نے قرآن میں حلال و حرام کی تفصیل بیان فرما دی ہے لہٰذا اس پر چلتے رہو حلال پر حرام ہونے کا اور حرام پر حلال ہونے کا شبہ مت کرو اور مشرکوں کے وسوسوں کی طرف التفات نہ کرو۔
متروک التسمیہ مذبوح کا حکم : چونکہ آیت پاک لا تاکلوا ممّا لم یذکر اسم اللہ علیہ واِنَّہٗ لفسق، میں صاف حکم دیا گیا ہے کہ جس جانور پر (بوقت ذبح) اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو اسے نہ کھاؤ، اسلئے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اس سلسلہ کے چند مسائل تحریر کر دئیے جائیں۔
امام احمد (رح) تعالیٰ کا مسلک : امام احمد، امام شعبی اور ابن سیرین (رح) تعالیٰ کا مسلک یہ ہے کہ جس جانور کو اللہ کا انم لئے بغیر ذبح کیا گیا ہوا سے کھانا جائز نہیں، اس سے قطع نظر کہ قصداً ایسا کیا گیا ہو یا بھول کر ایسا ہوگیا، ان حضرات کا مستدل مذکورہ آیت ہے۔
امام مالک (رح) تعالیٰ کا مسلک : امام مالک (رح) تعالیٰ کا مسلک یہ ہے کہ اگر نسیاناً بسم اللہ متروک ہوگئی تو ایسے جانور کو کھانا جائز ہے۔ (الف): حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے آنحضرت ﷺ سے متروک التسمیۃ نسیاناً کا حکم دریافت فرمایا تو آپ نے فرمایا ” ہر مسلمان کی زبان پر اللہ کا نام موجود ہے “ (دار قطنی) ایک روایت میں زبان کے بجائے قلب کا لفظ ہے۔ (ب) : حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ” کہ مسلمان اگر ذبح کرتے وقت اللہ کا نام لینا بھول جائے تب بھی اس کو اللہ کا نام لے کر کھالے “۔ (دار قطنی)
امام ابوحنیفہ (رح) تعالیٰ کا مسلک : امام ابوحنیفہ (رح) تعالیٰ کا مسلک وہی ہے جو امام مالک سے مروی ہے۔
امام شافعی (رح) تعالیٰ کا مسلک : امام شافعی (رح) تعالیٰ کا مسلک یہ ہے کہ ذبح کرتے ہوئے اگر بسم اللہ کو قصداً ترک کردیا یا سہواً ترک ہوگئی تو اس جانور کا کھانا درست ہے ان کی دلیل ہے کہ ہر مومن کے قلب میں اللہ کا نام ہوتا ہے، اور امام شافعی (رح) تعالیٰ متروک التسمیہ سے غیر اللہ کے نام پر ذبح کیا ہوا جانور مراد لیتے ہیں، اسلئے کہ مذکورہ آیت میں نہ کھانے کا سبب فسق بتلایا گیا ہے، امام شافعی (رح) تعالیٰ فسق کا مصداق اس جانور کو لیتے ہیں جس پر بوقت ذبح غیر اللہ کا نام لیا گیا ہو۔
Ayah 6:122آیت نمبر 122 تا 129
ترجمہ : اور (آئندہ آیت) ابوجہل وغیرہ کے بارے میں نازل ہوئی، کیا وہ شخص جو کفر کی وجہ سے مردہ ہو پھر ہم نے اس کو ہدایت کے ذریعہ زندہ کردیا ہو اور اس کو ایسا نور دیا ہو کہ جس کی روشنی میں لوگوں کے درمیان چلتا ہو (یعنی) اس نور کے ذریعہ حق و باطل کو دیکھتا ہو، اور وہ (نور) ایمان ہے اس جیسا لفظ (مثل) زائد ہے ہوسکتا ہے کہ جو تاریکیوں میں بھٹک رہا ہو ؟ تاریکیوں سے نکل ہی نہ پاتا ہو اور وہ کافر ہے، نہیں ہوسکتا، جس طرح مومنوں کیلئے ایمان خوشنما بنادیا گیا ہے اسی طرح کافروں کیلئے ان کے اعمال یعنی کفر و معاصی خوشنما بنا دئیے گئے ہیں اور جس طرح ہم نے مکہ کے سرغنوں کو فاسق (حد سے تجاوز کرنے والے) بنادیا اسی طرح ہر بستی میں اس کے بڑے مجرموں کو ایمان سے روک کر فاسق (حد سے تجاوز کرنے والا) بنادیا تاکہ وہ لوگ وہاں مکر کریں اور وہ لوگ اپنے ہی ساتھ مکر کر رہے ہیں اس لئے کہ اس کا وبال ان ہی پر پڑنے والا ہے، اور ان کو اس کا احساس تک نہیں، اور جب مکہ والوں کے پاس نبی ﷺ کی صداقت کی کوئی نشانی آتی ہے تو کہتے ہیں کہ ہم اس پر ہرگز ایمان نہ لائیں گے تاآنکہ ہم کو ایسی ہی رسالت نہ دیدی جائے جو اللہ کے رسولوں کو دی جاتی ہے اور تاآنکہ ہم کو اطلاع نہ دی جائے، اس لئے کہ ہم ان سے مال میں زیادہ اور عمر میں بڑے ہیں، اللہ تعالیٰ نے فرمایا، اس بات کو تو اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ اپنی پیغمبری کس کے پاس بھیجے (رسالات) جمع اور افراد کے ساتھ ہے، اور حیث اس فعل کا مفعول بہ ہے جس پر اَعْلَمُ دلالت کر رہا ہے یعنی اس مناسب موقع کو خوب جانتا ہے کہ کہاں اپنا پیغام بھیجے چناچہ اسی جگہ اپنا پیغام بھیج دیتا ہے، اور یہ لوگ اس کے اہل نہیں ہیں، عنقریب ان لوگوں کو جنہوں نے مذکورہ بات کہہ کر جرم کا ارتکاب کیا اللہ کے نزدیک ان کے مکر کے سبب ذلت اور سخت عذاب لاحق ہوگا، سو جس شخص کو اللہ ہدایت پر ڈالنا چاہتا ہے تو اس کے سینے کو اسلام کیلئے کھول دیتا ہے، بایں طور کہ اس کے دل میں اور ڈال دیتا ہے جس کی وجہ سے اسکا دل کشادہ ہوجاتا ہے اور اس (اسلام) کو قبول کرتا ہے، جیسا کہ حدیث میں وارد ہوا ہے، اور جس کو اللہ بےراہ رکھنا چاہتا ہے اس کے سینہ کو قبول اسلام سے نہایت تنگ کردیتا ہے (ضیّقًا) تخفیف اور تشدید کے ساتھ ہے، (حَرَجًا) راء کے کسرہ کے ساتھ صفت ہے اور اس کے فتحہ کے ساتھ مصدر ہے بطور مبالغہ صفت لائی گئی ہے، (اسے اسلام کے تصور ہی سے) جب اس کو ایمان کا مکلف بنایا جاتا ہے تو اسلام اس پر بھاری ہونے کی وجہ سے اس کو یوں معلوم ہونے لگتا ہے کہ (اس کی روح) آسمان کی طرف پرواز کر رہی ہے، اور ایک قراءت میں (یَصَّعّدُ ) کی بجائے یَصَّاعَدُ ہے اور دونوں صورتوں میں اصل میں تاء کا صاد میں ادغام ہے، اور (ایک) دوسری قراءت میں صاد کو سکون کے ساتھ ہے، فعل مذکور کے مانند اللہ تعالیٰ ایمان نہ لانے والوں پر عذاب کو یا شیطان کو مسلط کردیتا ہے اور سے محمد ﷺ جس پر تم ہو یہی تیرے رب کا سیدھا راستہ ہے جس میں کسی قسم کی کجی نہیں، اس پر نصب جملہ کا حال مؤکدہ ہونے کی وجہ سے ہے اور اس میں عامل اسم اشارہ ہے اپنے معنی کے اعتبار سے، اور ہم نے نصیحت حاصل کرنے والوں کیلئے آیتوں کو کھول کھول کر بیان کردیا ہے اس میں اصل میں تاء کا ذال میں ادغام ہے یذکرون معنی میں یتعظوں کے ہیں، اور تخصیص کی وجہ یہ ہے کہ یہی لوگ آیات سے نفع حاصل کرتے ہیں، اور ان ہی کیلئے ان کے رب کے پاس سلامتی کا گھر یعنی جنت ہے اور وہی ان کا ولی ہے ان کے اعمال کی وجہ سے اس دن کو یاد کرو جس دن ہم ان سب کو جمع کریں گے نون اور یاء کے ساتھ، یعنی اللہ اپنی تمام مخلوق کو جمع کرے گا اور ان سے کہا جائیگا اے جنوں کی جماعت تم نے اغواء کے ذریعہ بہت سے انسانوں کو اپنا پیرو بنا لیا، انسانوں میں سے جنوں کے وہ دوست جنہوں نے ان کی اطاعت کی کہیں گے اے ہمارے پروردگار ہم میں سے ہر ایک نے ایک دوسرے سے خوب فائدہ اٹھایا (یعنی) انسانوں نے جنوں سے فائدہ اٹھایا جنوں کے انسانوں کیلئے شہوتوں کو خوشنما بنانے کی وجہ سے اور جنات نے (فائدہ اٹھایا) انسانوں کے ان کے پیروی کرنے کی وجہ سے، اور ہم اپنی اس مقررہ میعاد پر پہنچ چکے جو تو نے ہمارے لئے مقرر فرمائی اور وہ قیامت کا دن ہے اور یہ ان کی جانب سے اظہار حسرت ہے اللہ ان سے فرشتوں کے واسطہ سے فرمائیگا جہنم تمہارا ٹھکانہ ہے تم اس میں ہمیشہ ہمیش رہو گے مگر اتنی مدت کہ اللہ چاہے کہ وہ اس مدت میں گرم پانی پینے کیلئے نکلیں گے اس لئے کہ گرم پانی جہنم سے باہر ہوگا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ” پھر ان کی جہنم کی طرف واپسی ہوگی “ اور حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ یہ استثناء ان لوگوں کے بارے میں ہے جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ وہ ایمان لائیں گے تو (اس صورت میں) مَا، من کے معنی میں ہوگا، یقینا ً تیرا رب اپنی صنعت میں حکیم اپنی مخلوق کے بارے میں علیم ہے اور اسی طرح (یعنی) جس طرح نافرمان انسانوں اور جنوں کو ایک دوسرے سے فائدہ حاصل کرنے والا بنایا اسی طرح ہم بعض ظالموں کا بعض کو مددگار بنادیں گے ان کے ان اعمال بد کی وجہ سے جو وہ کیا کرتے تھے۔
تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد
قولہ : مِثْلُ زَائِدَۃٌ، تاکہ تکرار کا شبہ باقی نہ رہے، زائد ہونے کی دوسری وجہ یہ ہے کہ مثل صفت ہے، اگر مثل کو زائد نہ مانیں تو صفت کا ظلمات میں ہونا لازم آتا ہے حالانکہ ظلمات ذات ہے نہ کہ صفت۔
قولہ : ضَیْقًا بالتخفیف، مصدر ہے اس صورت میں حمل مبالغۃً زید عدل کی قبیل سے بطور مجاز ہوگا، اور اگر تشدید کے ساتھ ہو تو صفت مشبہ ہوگا۔
قولہ : حَرِجًا بکسر الراء صفت مشبہ کا صیغہ اختلاف لفظ کی وجہ سے تکرار میں ایک قسم کا حسن پیدا ہوگیا ہے اور باقی حضرات نے راء کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے اس صورت میں حَرَجۃ کی جمع ہوگا بمعنی شدۃ الضیق، اور اگر مصدر ہو تو حمل مبالغۃً ہوگا۔
قولہ : یَصَّعدُ باب تفعل سے اور یصّاعد باب تفاعل سے۔
قولہ : من الولایَۃ بفتح الواء، بمعنی النصرۃ اور واؤ کے کسرہ کے ساتھ ہو تو بمعنی سلطان، دوسرے معنی مقام کے اعتبار سے زیادہ مناسب ہیں، اسی معنی پر مصنف علیہ الرحمۃ کا قول علی البعض دلالت کر رہا ہے۔
تفسیر و تشریح
اَوَمَنْ ۔۔۔ (الآیۃ) اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے کافر کو میت اور مومن کو زندہ سے تعبیر کیا ہے اس لئے کہ کافر کفر و ضلالت کی تاریک وادیوں میں بھٹکتا پھرتا ہے جس سے وہ نکل نہیں پاتا جس کا نتیجہ ہلاکت و بربادی ہوتا ہے، اور مومن کو اللہ تعالیٰ نور ایمان کے ذریعہ زندہ رکھتا ہے جس سے زندگانی کی راہیں اس کیلئے روشن ہوجانی ہیں اور وہ ایمان و ہدایت کے راستہ پر گامزن رہ کر منزل مقصود پر پہنچتا ہے اور یہی کامیابی و کامرانی ہے، اس مضمون کو قرآن کی بہت سی آیات میں بیان فرمایا گیا ہے۔
شان نزول : اگرچہ مفسرین نے کہا ہے کہ یہ آیت حضرت عمر اور ابوجہل کے بارے میں نازل ہوئی ہے اور بعض نے کہا ہے کہ حضرت امیر حمزہ اور ابوجہل کے بارے میں نازل ہوئی ہے لیکن صحیح اور راجع قول یہ ہے کہ ابتداء اسلام سے لیکر قیامت تک آنے والے ہر مسلمان اور کافر کے بارے میں نازل ہوئی ہے جس میں اللہ نے مومن کی مثال زندہ شخص سے اور کافر کی مردہ شخص سے دی
کافروں کی مکاری اور حیلہ جوئی کی ایک مثال : کافر، انبیاء (علیہم السلام) کی صداقت کا جب کوئی نشان دیکھتے تو ازراہ مکرو عناد کہتے ہم ان دلائل و نشانات کو نہیں مانتے، ہم تو اس وقت یقین کرسکتے ہیں جب ہمارے اوپر فرشتے نازل ہوں، اور پیغمبروں کی طرح ہم کو بھی خدائی پیغام سنائیں یا خود حق تعالیٰ ہی ہمارے سامنے آجائیں، ” وقال الذین لا یرجون لقاءنا لولا انزل علینا الملائکۃ او نریٰ ربنا لقد استکبروا فی انفسھم وعتو وتواً کبیرا۔ (فرقان)
Ayahs 6:123–127وکذلک جعلنا فی۔۔۔۔۔۔۔ (الآیۃ) اکابر، اکبر کی جمع ہے مراد کافروں، فاسقوں کے سرغنے ہیں اسلئے کہ یہی انبیاء اور داعیان حق کی مخالفت میں پیش پیش رہتے ہیں، عام اور معمولی درجے کے لوگ ان کے پیچھے لگ لیتے ہیں اسی لئے ان کا بطور خاص ذکر کیا گیا ہے اور ایسے لوگ عام طور پر دنیاوی دولت اور خاندانی وجاہت کے اعتبار سے بھی نمایاں ہوتے ہیں اس لئے مخالفت حق میں بھی ممتاز ہوتے ہیں، ان کی خواہش ہوتی ہے کہ ان کے پاس بھی فرشتے وحی لے کر آئیں اور ان کے سروں پر تاج نبوت رکھا جائے، حالانکہ یہ فیصلہ کرنا کہ کس کو نبی بنایا جائے ؟ یہ تو اللہ ہی کا کام ہے کیونکہ وہ ہر بات کی حکمت مصلحت کو جانتا ہے اور اسے ہی معلوم ہے کہ کون اس منصب کا اہل ہے مکہ کا کوئی چودھری ؟ یا جناب عبد اللہ و حضرت آمنہ کا در یتیم ؟
Ayahs 6:128–129یا معشر الجن قد۔۔ (الآیۃ) اے جنو ! تم نے انسانوں کی ایک بہت بڑی تعداد کو گمراہ کرکے اپنا پیرو بنا لیا ہے، جنوں اور انسانوں نے ایک دوسرے سے کیا فائدہ حاصل کیا ؟ اس کے دو مطلب بیان کئے گئے ہیں جنوں کا انسانوں سے فائدہ اٹھانا ان کو اپنا پیروکار بنا کر ان سے تلمذ حاصل کرنا ہے اور انسانوں کے جنوں سے فائدہ اٹھانے کا مطلب یہ ہے کہ شیطانوں نے ان کے گناہوں کو خوشنما بنا کر پیش کیا جسے انہوں نے قبول کرلیا، دوسرا مطلب یہ ہے کہ انسان ان غیبی خبروں کی تصدیق کرتے رہے جو شیطین و جنات کی طرف سے کہانت کے طور پر پھیلاتی جاتی تھیں یہ گویا کہ جنات نے انسانوں کو بیوقوف بنا کر فائدہ اٹھایا، اور انسانوں کا فائدہ اٹھانا یہ ہے کہ انسان جنات کی بیان کردہ جھوٹی باتوں سے لطف اندوز ہوتے ہیں اور کاہن قسم کے لوگ ان سے دنیوی فائدہ حاصل کرتے ہیں۔
Ayahs 6:130–135آیت نمبر 130 تا 140
ترجمہ : اے جن و انس کے گروہو ! کیا تمہارے پاس تم ہی میں سے رسول نہیں آئے ؟ یعنی تمہارے مجموعہ میں سے جو کہ انسانوں پر صادق ہے، یا رسل جن سے وہ آگاہ کرنے والے جن مراد ہیں جو (انسانی) رسولوں کا کلام سنتے اور اپنی قوم کو پہنچاتے تھے، جو تم کو میری آیتیں پڑھ کر سناتے اور تم کو اس دن کے پیش آنے سے آگاہ کرتے، وہ کہیں گے (ہاں) ہم خود اپنے خلاف گواہی دیتے ہیں کہ انہوں نے ہمارے پاس پیغام پہنچایا تھا، اللہ تعالیٰ فرمائیگا ان کو دنیوی زندگی نے دھوکے میں ڈالے رکھا جس کی وجہ سے وہ ایمان نہیں لائے، اور وہ اپنے خلاف گواہی دیں گے کہ وہ کافر تھے یہ رسولوں کو بھیجنا اس وجہ سے ہے کہ آپ کا رب کسی بستی والوں کو اس حال میں ہلاک کرنا نہیں چاہتا کہ وہ بیخبر ہوں کہ ان کے پاس کوئی رسول نہ بھیجا گیا ہو وہ ان کو آگاہ کرنے والا ہو، اور ہر نیک و بد عمل کرنے والے کو (اس کے عمل کی) جزاء ملے گی، اور آپ کا رب ان کے عمل سے بیخبر نہیں ہے (یعملون) یاء اور تاء کے ساتھ ہے اور آپ کا رب اپنی مخلوق اور اس کی عبادت سے مستغنی ہے، رحمت والا ہے اے اہل مکہ اگر وہ چاہے تو تم کو ہلاک کرکے نیست کر دے اور تمہارے بعد جس مخلوق کو چاہے تمہارا خلیفہ بنا دے جیسا کہ تم کو دوسری قوموں کی نسل سے پیدا کیا ہے جن کو اس نے ہلاک کردیا، لیکن محض اپنے فضل سے تم کو باقی رکھا، یقیناً تم سے جس قیامت اور عذاب کا وعدہ کیا جا رہا ہے وہ یقیناً آنیوالی ہے اور تم (ہم کو) عاجز کرنے والے نہیں ہو یعنی تم ہمارے عذاب سے بچ کر نہیں نکل سکتے، (اے محمد) آپ ان سے کہہ دیجئے کہ اے میری قوم تم اپنے طریقہ پر عمل کرتے رہو میں اپنی طریقہ پر عمل کر رہا ہوں تم کو عنقریب معلوم ہوجائیگا کہ کس کا دار آخرت میں انجام بہتر ہے ؟ مَن موصولہ تعلمون کا مفعول ہے یعنی آخرت میں کون انجام کے اعتبار سے بہتر ہے ؟ ہم یا تم، یہ یقینی بات ہے کہ ظالم کافر کامیاب نہ ہوں گے اور کفار مکہ نے اللہ کی پیدا کی ہوئی کھیتی اور مویشیوں سے ایک حصہ اس کیلئے مقرر کیا ہے جس کو وہ مہمانوں اور مسکینوں کیلئے خرچ کرتے ہیں اور ایک حصہ اپنے معبودوں کیلئے مقرر کیا ہے جس کو وہ کعبہ کے خدام کیلئے خرچ کرتے ہیں، اور بزعم خویش کہتے ہیں یہ اللہ کیلئے ہے (زعم) زاء کے فتحہ اور ضمہ کے ساتھ ہے اور یہ ہمارے معبودوں کیلئے ہے اگر اللہ کے حصہ میں بتوں کے حصے سے کچھ گر جاتا تو اٹھا لیتے اور اگر بتوں کے حصہ میں اللہ کے حصے میں سے کچھ گر جاتا تو چھوڑ دیتے اور کہتے کہ اللہ اس سے بےنیاز ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا، پھر جو ان کے بتوں کا حصہ ہوتا ہے تو وہ اللہ کو نہیں پہنچتا اور جو اللہ کا حصہ ہوتا ہے وہ ان کے بتوں تک پہنچ جاتا ہے جو فیصلہ یہ لوگ کرتے ہیں کس قدر ناپسندیدہ ہے اور جس طرح مذکورہ چیزوں ان کے لئے خوشنما بنادی گئی ہیں اسی طرح بہت سے مشرکوں کیلئے زندہ درگور کے ذریعہ ان کی اولاد کا قتل کرنا ان کے جنی معبودوں نے خوشنما بنادیا ہے (شرکاء) کے رفع کے ساتھ زَیْنَ کا فاعل ہونے کی وجہ سے اور ایک قراءت میں (زُینَ ) مجہول کے صیغہ کے ساتھ اور قتل کے رفع اور (زین کی وجہ سے) الاولادَ کے نصب کے ساتھ اور شرکاء کے جر کے ساتھ، اس کی اضافت کی وجہ سے اور اس میں مضاف اور مضاف الیہ کے درمیان مفعول کا فصل ہے اور اس میں کوئی قباحت نہیں ہے اور قتل کی اضافت شرکاء کی جانب ان کے حکم کرنے کی وجہ سے ہے تاکہ وہ انھیں برباد کریں، اور تاکہ وہ ان کے دین کو ان پر مشتبہ بنادیں، اور اگر اللہ کو منظور ہوتا تو وہ ایسا نہ کرتے، لہٰذا انھیں اور ان کی افتراء پردازیوں کو چھوڑ دو اور وہ کہتے ہیں کہ یہ کچھ جانور اور کھیت ہیں جن کا استعمال ممنوع ہے ان بتوں کے خدام میں سے صرف وہی کھا سکتا ہے جس کو ہم اجازت دیں (یہ پابندی) انکے اپنے گمان کے اعتبار سے ہے یعنی اس پر ان کے پاس کوئی دلیل نہیں ہے اور کچھ جانور ہیں کہ جن پر سواری ممنوع قرار دے لی گئی ہے کہ ان پر سواری نہیں کی جاتی جیسا کہ سوائب اور حوامی، اور کچھ جانور ہیں کہ بوقت ذبح ان پر اللہ کا نام نہیں لیتے بلکہ ان پر اپنے بتوں کا نام لیتے ہیں اور اسکی نسبت وہ اللہ کی طرف کرتے ہیں محض اللہ پر افتراء کے طور پر عنقریب اللہ تعالیٰ ان کو اس پر افتراء پردازیوں کی سزا دے گا، اور وہ کہتے ہیں کہ جو کچھ ان حرام کردہ جانوروں کے پیٹ میں ہے اور وہ سوائب اور بحائر ہیں وہ ہمارے مردوں کیلئے خاص طور پر حلال ہے اور ہماری عورتوں کیلئے حرام ہے اور اگر وہ مردہ ہو (میتہ) رفع اور نصب کے ساتھ ہے فعل (یکن) کی تذکیر اور تانیث کے ساتھ تو اس میں سب برابر کے شریک ہیں عنقریب اللہ تعالیٰ انکی اس تحلیل و تحریم کی گھڑی ہوئی باتوں کی سزا دے گا، یقیناً وہ اپنی صنعت میں حکیم (اور) اپنی مخلوق کے بارے میں باخبر ہے یقیناً وہ لوگ خسارے میں پڑگئے جنہوں نے اپنی اولاد کو زندہ دفن کرکے جہالت اور بیوقوفی کی وجہ سے قتل کیا (قتلوا) تاء کی تشدید و تخفیف کے ساتھ ہے، اور اللہ کے دئیے ہوئے مذکورہ رزق کو اللہ پر افتراء پردازی کرکے حرام ٹھہرا لیا، یقیناً وہ گمراہ ہوگئے راہ راست پانے والے نہیں۔
تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد
قولہ : یقال لَھُمْ ، اس اضافہ کا مقصد یہ بتانا ہے کہ یا معشر الجن کا عامل محذوف ہے اور وہ یقال ہے نہ کہ ماقبل میں مذکور نحشرھم، المعشر بمعنی جماعت اس کی جمع مَعَاشِرَ ہے جنّ سے مراد شیاطین ہیں۔
قولہ : اِسْتَکْثَرْتُمْ ، سین، تاء، کثرت کی تاکید کے لئے ہیں۔ قولہ : باِغْوَائِکم اس میں حذف مضاف کی طرف اشارہ ہے، ای باغواء الانس
قولہ : من مَجْمُوْعِکُم الصَّادِقِ بالانْسِ ، اس عبارت کے اضافہ کا مقصد ایک سوال کا جواب ہے۔
سوال : رسول انسان ہوتا ہے نہ کہ جن حالانکہ رسُلٌ منکم، سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول جنوں میں سے بھی ہوتے ہیں اس لئے خطاب انس و جن دونوں کو ہے۔
جواب : خطاب میں جب ثقلین جمع ہوں جیسا کہ یہاں جمع ہیں تو منکم کہنا درست ہوتا ہے اگرچہ ماد ایک ہی ہوتا ہے جیسا کہ یخرج منھما اللُّوْلُوْ والمرجان میں دریائے شور مراد ہے اسلئے کہ دریائے شور سے موتی نکلتے ہیں نہ کہ شیریں سے مگر پھر بھی منھما کہنا درست ہے، منکم ای من مجموعکم الصادق بالانس، مطلب یہ ہے کہ منکم سے مراد مجموعہ مخاطبین ہے اور مجموعہ میں انس بھی داخل ہیں لہٰذا منکم اس وقت بھی صادق آئیگا جب صرف ایک ہی فریق مراد ہو اور وہ یہاں انس ہے، رسلٌ سے دوسرے جواب کی طرف اشارہ ہے رسُلٌ سے رسول اصطلاحی مراد نہیں ہے بلکہ لغوی بمعنی قاصد مراد ہے اور یہ وہ جنات تھے جنہوں نے آپ ﷺ کا قرآن سنا تھا گویا کہ وہ آپ ﷺ کے ان کی قوم کی طرف قاصد اور نذیر تھے۔
قولہ : ذلک، یہ مبتداء محذوف کی خبر ہے تقدیر عبارت یہ ہے الأمر ذلک، مبتداء محذوف کی وجہ ایک سوال کا جواب ہے سوال یہ ہے، ان لم یکن سے علت بیان ہو رہی اَنْ اصل میں لِاَنْ ہے اور علت حکم کی ہوا کرتی ہے، اور ذلک حکم نہیں ہے جواب کا حاصل یہ ہے ذلک مبتداء محذوف کی خبر ہے ای الأمر ذلک، اور اس میں حکم ہے، لہٰذا علت بیان کرنا صحیح ہوگیا لام مقدر ماننے سے عدم ربط کا اعتراض بھی ختم ہوگیا۔ قولہ : قوم آخرین، سے مراد سفینہ نوح (علیہ السلام) ہیں۔
قولہ : وَلایَضُرُّ ، اس کلمہ کے اضافہ کا مقصد صاحب کشاف اور ان حضرات پر رد کرنا ہے جو مصدر مضاف الی فاعل کے درمیان فصل مفعول بلا ضرورت شعری ناجائز کہتے ہیں۔
تفصیل : وکذلک زَیَّنَ لکثیر۔۔۔۔۔۔ الخ، اس آیت میں متعدد قراءتیں ہیں، مکتوبہ قراءت جمہور کی قراءت ہے، زَیَّنَ معروف اور شرکاؤھم اس کا فاعل ہے قَتْلَ ، زیَّنَ کا مفعول ہے اس قواءت پر کوئی اعتراض نہیں ہے ایک دوسری قراءت ابن عامر کی ہے یہ قراءت بھی قراءت سبعہ میں سے ہے، ابن عامر کی قراءت اس طرح ہے، ” وَکذلک زُیَّنَ لکثیر من المشرکین قتل اولادَھم شرکائھم “ زُیِّنَ فعل مجہول فَتْلُ ، زُیِّنَ فعل مجہول کا نائب فاعل ہونے کی وجہ سے مرفوع اور اَوْلادَھم مفعول ہونے کی وجہ سے منصوب اور شرکائِھم قَتْلُ کا مضاف الیہ ہونے کی وجہ سے مجرور ہے اس صورت میں قتل مضاف اور شرکاء مضاف الیہ کے درمیان اولادَھم مفعول کا فصل لازم آتا ہے جو کہ بلا ضرورت شعری کلام منثور میں جائز نہیں ہے اور وہ بھی قرآن میں جو کہ اپنے لفظ و معنی کے اعتبار سے فصاحت و بلاغت میں حد اعجاز کو پہنچا ہوا ہے اس کے نادرست ہونے کی وجہ حویین کے نزدیک یہ ہے کہ مضاف اور مضاف الیہ کے درمیان بلا ضرورت شعری جائز نہیں ہے، اسلئے کہ مضاف الیہ مضاف کیلئے بمنزلہ جزء کے ہوتا ہے اسلئے کہ مضاف الیہ مضاف کی تنوین کی جگہ واقع ہوتا ہے لہٰذا جس طرح اجزاء اسم کے درمیان فصل جائز نہیں ہے اسی طرح مضاف اور مضاف الیہ کے درمیان فصل درست نہیں ہے اور یہ بصریین کا قول ہے، البتہ کو فیین کے نزدیک اگر مضاف مصدر اور مضاف الیہ اس کا فاعل ہو اور فصل مفعول کا ہو جیسا کہ ابن عامر کی مذکورہ قراءت میں ہے جائز ہے، لا یضرہ کہہ کر مفسر علام نے اسی جواب کی طرف اشارہ کیا ہے، (اعراب القرآن) ابن مالک نے بھی کافیہ کی شرح میں اس فصل کو بلا ضرورت شعری جائز کہا ہے، قال، اضافۃ المصدر الی الفاعل مفعولاً بینھما بمفعول المصدر جائزۃ۔
قولہ : واَضَافَۃُ القَتْلِ اِلی شُرْھائِھِم لَامْرِھِمْ بہ، اضافۃُ القتل مبتداء ہے اور لأمرھم بہ اس کی خبر ہے، مطلب یہ ہے کہ قتل کی اضافت شرکاء کی جانب مجازی ہے، اصل قاتل تو مشرکین ہیں، مگر چونکہ قتل کا حکم دینے والے شرکاء ہیں اس لئے قتل کی اضافت شرکاء کی جانب ان کے آمر ہونے کی وجہ سے کردی گئی ہے اسی کو اسناد مجازی کہتے ہیں، جیسے بنی الامیرُ المدینۃ میں بناء کی اضافت امیر کی جانب مجازی ہے، اس کے بناء کا حکم دینے کی وجہ سے۔
قولہ : بالرَفْعِ والنَصْبِ ، اگر کان تامہ ہو تو میتۃ مرفوع ہوگا اور اگر ناقصہ ہو تو نصب ہوگا۔
تفسیر و تشریح
جنات میں نبی ہوئے ہیں یا نہیں ؟ رُسُل مِنکم سے ایک بڑی بحث چھڑ گئی ہے کہ آیا جنات میں بھی سلسلہ نبوت قائم رہا ہے یا نہیں، مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اس مسئلہ کے بارے میں اسلاف کی رائے بھی معلوم کرلی جائے کہ کیا جنوں کی ہدایت کیلئے ان ہی میں سے اسی طرح رسول آئے ہیں جس طرح انسانوں کی ہدایت و تبلیغ کیلئے خود انسانوں میں سے رسول آئے اس سلسلہ میں چار قول ملتے ہیں۔
دربارہ نبوت جن، اسلاف کی آراء : (1) جس طرح انسانوں کی ہدایت کیلئے انسان رسول آئے ہیں اسی طرح جنوں کی ہدایت کیلئے بھی جن رسول آئے، یہ رائے حضرت حضاک بن مزاحم سے منقول ہے ان سے کسی نے سوال کیا کہ کیا ہمارے رسول ﷺ سے پہلے جنوں میں بھی رسول گذرے ہیں موصوف نے اثبات میں جواب دیا اور دلیل میں یہی آیت پڑھی اسی کی تائید میں ایک قول اور نقل ہوا ہے کہ جن و انس میں پیغمبر ان ہی کے ہم جنس آئے ہیں۔ (بیضاوی، وعلیہ ظاھر النص، مدارک)
(2) جناب رسول اللہ ﷺ کی بعثت سے پہلے انسان بھی رسول ہوتے تھے اور جن بھی یہ شرف آپ ﷺ کو حاصل ہوا کہ آپ جن و انس دونوں کیلئے مبعوث کئے گئے، (یہ کلبی کا قول ہے) ۔
(3) تیرا قول یہ ہے کہ رسول صرف انسان ہی ہوتے رہے ہیں، البتہ جنوں کی ہدایت کے خصوصی نمایندے جنوں میں سے مقرر ہوتے تھے ان کا یہ کام ہوتا تھا کہ انبیاء کرام کے ارشادات سنیں اور پوری احتیاط سے جنوں کی برادری تک پہنچائیں ان کو منذر یا نذر کہا جاتا تھا۔ (یہ مجاہد کا قول ہے)
(4) آیت الم یاتکم رسُلٌ مِنکم سے یہ بات تو صاف معلوم ہوتی ہے کہ جن و انس دونوں کی ہدایت کیلئے رسول آئے، یہ بھی ہوسکتا ہے انسان ہی رسول بنائے گئے ہوں اور یہ بھی ممکن ہے کہ بیکوقت جن اور انس دونوں رسول بنائے گئے ہوں، اس میں یہ بھی احتمال ہے کہ آپ ﷺ کی بعثت سے پہلے جنوں کو بھی شرف نبوت سے نوازا گیا ہو مگر یہ سلسلہ آنحضرت کی بعثت کے بعد موقوف کردیا گیا ہو اس قول کی بناد دو باتوں پر ہے، اول یہ کہ، اللہ تعالیٰ نے فرمایا ” لوکان فی الارض ملٰئکۃ یمشون مطمئنین لنزلنا علیہم من السماء ملکا رسولا “ ، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اور مرسل الیہم میں یکجہتی ہونا ضروری ہے، اگر رسول اور مرسل الیہم میں مناسبت نہ ہو تو افادہ اور استفادہ دونوں دشوار ہوں گے اس اصول کے پیش نظر جنی رسولوں کو غالباً شرف نبوت و رسالت حاصل ہوا ہوگا۔
دوسری بات یہ ہے کہ یہ بات یقینی ہے کہ جنوں کی پیدائش انسانوں سے کہیں پہلے ہے اور یہ بات بھی یقینی ہے کہ جنات بھی اپنے اعمال کے جواب دی ہیں اگر جن اپنے اعمال کے جواب دہ نہ ہوتے تو ارشاد ربانی لاملئن جھنم من الجنۃ والناس، نہ ہوتا۔
جمہور کا فیصلہ : جمہور کا فیصلہ یہ ہے کہ مستقل انبیاء صرف انسانوں میں ہوئے ہیں جنات میں صرف ان کے نائب اور نذیر ہوتے رہے ہیں (ابن جریر) البتہ اجماع اس قول پر بھی نہیں ہے اور جن لوگوں نے اجماع کا دعویٰ کیا ہے وہ محض دعویٰ بلا دلیل ہے کیف ینعقد الاجماع مع حصول الاختلاف۔ (کبیر)
Ayahs 6:136–140وَجَعَلوا للہ مما۔۔۔۔ نصیباً ۔ اس آیت میں مشرکوں کے اس عقیدہ و عمل کا ایک نمونہ پیش کیا گیا ہے جو انہوں نے اپنے طور پر گھڑ رکھا تھا کہ وہ زمینی پیداوار اور مال مویشیوں میں سے کچھ حصہ اللہ کیلئے اور کچھ حصہ خود ساختہ معبودوں کے لئے مقرر کرلیتے تھے، اللہ کے حصہ کو مہمانوں محتاجوں اور صلہ رحمی پر خرچ کرتے تھے اور بتوں کے حصہ کو بتوں کے مجاوروں اور ان کی ضروریات پر خرچ کرتے تھے، پھر اگر بتوں کے حصہ میں توقع کے مطابق پیداوار نہ ہوتی تو اللہ کے حصہ میں سے نکال کر بتوں کے حصہ میں شامل کرلیتے اور اگر اس کے برعکس معاملہ ہوتا تو بتوں کے حصہ میں سے نہ نکالتے اور کہہ دیتے کہ اللہ تو غنی ہے۔