6. Surah Al-An'aam

الأنعامThe Cattle · 165 ayahsتفسیرِ جلالین

Ayahs 6:141–144

وَ هُوَ الَّذِیْۤ اَنْشَاَ جَنّٰتٍ مَّعْرُوْشٰتٍ وَّ غَیْرَ مَعْرُوْشٰتٍ وَّ النَّخْلَ وَ الزَّرْعَ مُخْتَلِفًا اُكُلُهٗ وَ الزَّیْتُوْنَ وَ الرُّمَّانَ مُتَشَابِهًا وَّ غَیْرَ مُتَشَابِهٍ١ؕ كُلُوْا مِنْ ثَمَرِهٖۤ اِذَاۤ اَثْمَرَ وَ اٰتُوْا حَقَّهٗ یَوْمَ حَصَادِهٖ١ۖ٘ وَ لَا تُسْرِفُوْا١ؕ اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الْمُسْرِفِیْنَۙ Open ayah 6:141 in the Quran reader

اور خدا ہی تو ہے جس نے باغ پیدا کیے چھتریوں پر چڑھائے ہوئے بھی اور جو چھتریوں پر نہیں چڑھائے ہوئے وہ بھی اور کھجور اور کھیتی جن کے طرح طرح کے پھل ہوتے ہیں اور زیتون اور انار جو (بعض باتوں میں) ایک دوسرے سے ملتے جلتے ہیں اور (بعض باتوں میں) نہیں ملتے۔ جب یہ چیزیں پھلیں تو ان کے پھل کھاؤ اور جس دن (پھل توڑو اور کھیتی) کاٹو تو خدا کا حق بھی اس میں سے ادا کرو۔ اور بےجا نہ اڑانا۔ کہ خدا بےجا اڑانے والوں کو دوست نہیں رکھتا۔

وَ مِنَ الْاَنْعَامِ حَمُوْلَةً وَّ فَرْشًا١ؕ كُلُوْا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللّٰهُ وَ لَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِ١ؕ اِنَّهٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌۙ Open ayah 6:142 in the Quran reader

اور چارپایوں میں بوجھ اٹھانے والے (یعنی بڑے بڑے) بھی پیدا کیے اور زمین سے لگے ہوئے (یعنی چھوٹے چھوٹے) بھی۔ (پس) خدا کا دیا ہوا رزوق کھاؤ اور شیطان کے قدموں پر نہ چلو۔ وہ تمہارا صریح دشمن ہے۔

ثَمٰنِیَةَ اَزْوَاجٍ١ۚ مِنَ الضَّاْنِ اثْنَیْنِ وَ مِنَ الْمَعْزِ اثْنَیْنِ١ؕ قُلْ ءٰٓالذَّكَرَیْنِ حَرَّمَ اَمِ الْاُنْثَیَیْنِ اَمَّا اشْتَمَلَتْ عَلَیْهِ اَرْحَامُ الْاُنْثَیَیْنِ١ؕ نَبِّئُوْنِیْ بِعِلْمٍ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَۙ Open ayah 6:143 in the Quran reader

(یہ بڑے چھوٹے چارپائے) آٹھ قسم کے (ہیں) دو (دو ) بھیڑوں میں سے اور دو (دو ) بکریوں میں سے (یعنی ایک ایک نر اور ایک ایک مادہ) (اے پیغمبر ان سے) پوچھو کہ (خدا نے) دونوں (کے) نروں کو حرام کیا ہے یا دونوں (کی) مادینوں کو یا جو بچہ مادینوں کے پیٹ میں لپٹ رہا ہو اسے ؟ اگر سچے ہو تو مجھے سند سے بتاؤ۔

وَ مِنَ الْاِبِلِ اثْنَیْنِ وَ مِنَ الْبَقَرِ اثْنَیْنِ١ؕ قُلْ ءٰٓالذَّكَرَیْنِ حَرَّمَ اَمِ الْاُنْثَیَیْنِ اَمَّا اشْتَمَلَتْ عَلَیْهِ اَرْحَامُ الْاُنْثَیَیْنِ١ؕ اَمْ كُنْتُمْ شُهَدَآءَ اِذْ وَصّٰىكُمُ اللّٰهُ بِهٰذَا١ۚ فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا لِّیُضِلَّ النَّاسَ بِغَیْرِ عِلْمٍ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ۠ Open ayah 6:144 in the Quran reader

اور دو (دو ) اونٹوں میں سے دو (دو ) گایوں میں سے (ان کے بارے میں بھی ان سے) پوچھو کہ (خدا نے) دونوں (کے نروں کو حرام کیا ہے یا دونوں (کی) مادینوں کو یا جو بچہ مادینوں کے پیٹ میں لپٹ رہا ہو اس کو بھلا جس وقت خدا نے تم کو اس کا حکم دیا تھا تم اس وقت موجود تھے ـ؟ تو اس شخص سے زیادہ کون ظالم ہے جو خدا پر جھوٹ افترا کرے تاکہ ازراہ بیدانشی لوگوں کو گمراہ کرے ؟ کچھ شک نہیں کہ خدا ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔

آیت نمبر 141 تا 144 ترجمہ : اور وہی ہے جس نے باغات پیدا کئے بیلدار زمین پر پھیلنے والے بھی مثلاً خربوزہ (وغیرہ) اور تنے دار بھی جوتنے پر قائم ہوتے ہیں مثلاً کھجور کے درخت (وغیرہ) اور کھجور اور کھیتی پیدا کیں کہ اس کے پھل اور دانے ہیئت (شکل) اور مزے میں مختلف ہوتے ہیں اور زیتون اور انار (پیدا کئے) کہ جن کے پتے ملتے جلتے اور ان کا مزہ الگ الگ ہوتا ہے پھل لگنے کے بعد پکنے سے پہلے کھاؤ (اور بعد بھی) اور اس کی کٹائی کے وقت اس کا حق زکوۃ ادا کرو (حِصَاد) فتحہ اور کسرہ کے ساتھ ہے، (مراد) عشر یا نصف عشر ہے اور (انفاق میں) اسراف نہ کرو کہ کل پیداوار دے ڈالو، کہ تمہاری عیال کیلئے کچھ بھی باقی نہ رہے، اللہ تعالیٰ متعین کردہ شئ میں تجاوز کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا کچھ جانور ایسے پیدا کئے جو بار برداری کے لائق ہیں مثلاً بڑے اونٹ اور کچھ چھوٹے ناقابل بار برداری جیسا کہ اونٹوں کے بچے اور بکریاں، ان کو فرش کہنے کی وجہ یہ ہے کہ وہ زمین کیلئے زمین سے قریب ہونے کی وجہ سے فرش کے مانند ہوتے ہیں، جو کچھ اللہ تعالیٰ نے تم کو دیا ہے اس میں سے کھاؤ، (پیو) اور حلال و حرام کرنے میں شیطان کے طریقوں کی پیروی نہ کرو یقیناً وہ تمہارا صریح دشمن ہے، (پیدا کیں) آٹھ قسمیں (ثمانیۃ ازواج) حمولۃ وفرشاً سے بدل ہے، بھیڑوں کا نر و مادہ کا جوڑا اور بکریوں کا جوڑا (لمعز) عین فتحہ اور سکون کے ساتھ، اے محمد ﷺ آپ ان لوگوں سے پوچھئے جنہوں نے کبھی تو جانوروں کے نروں کو حرام کیا اور کبھی ان کی ماداؤں کو اور اس (حرمت) کی نست اللہ کی طرف کردی، یا بھیڑ بکریوں مذکورہ دونوں قسموں کے نروں کو اللہ نے تمہارے لئے حرام کیا ہے یا ان کی ماداؤں کو ؟ یا اس کو جس کو دونوں مادائیں پیٹ میں لئے ہوئے ہیں نر ہو یا مادہ تم مجھے ان کی تحریم کی کیفیت کسی دلیل سے بتاؤ اگر تم اس میں سچے ہو، مطلب یہ ہے کہ تحریم کہاں سے آئی ؟ اگر نر ہونے کی وجہ سے ہے تو تمام نر حرام ہونے چاہئیں، یا مادہ ہونے کی وجہ سے ہے تو تمام مادائیں حرام ہونی چاہئیں (یا تحریم بچہ کے) رحم میں ہونے کی وجہ سے آئی تو (نر و مادہ) دونوں قسمیں حرام ہونی چاہئیں، مگر یہ تخصیص کہاں سے آئی ؟ اور استفہام انکاری ہے، اور اونٹ میں دو قسمیں اور گایوں میں دو قسمیں آپ ان سے پوچھئے کیا اللہ نے ان دونوں نروں کو حرام کیا ہے یا دونوں ماداؤں کو ؟ یا اس (بچہ) کو جس کو مادائیں پیٹ میں لئے ہوئے ہیں کیا تم حاضر تھے جس وقت اللہ تعالیٰ نے تم کو اس تحریم کا حکم دیا کہ تم نے اس پر یقین کرلیا، ایسا نہیں ہے بلکہ تم اس معاملہ میں دروغ گو ہو تو اس سے بڑا ظالم کون ہوگا ؟ کوئی نہیں، جس نے اس معاملہ میں اللہ پر بہتان لگایا تاکہ لوگوں کو بلا دلیل گمراہ کرے اللہ تعالیٰ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔ تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد قولہ : مَعْرُوْشَات، اسم مفعول جمع مؤنث، واحد معروشۃ چھتریوں پر چڑھائی ہوئی بیلیں، ابن عباس ؓ نے فرمایا مطلق بیلوں کو کہتے ہیں چھتریوں پر چڑھائی گئی ہوں، اس میں انگور، تربوز، خربوز، کدو وغیرہ ہر قسم کی بیلیں آگئیں۔ قولہ : اُکُلُہ، ضمیر مضاف الیہ ذرعٌ کی طرف راجع ہے نہ کہ نخلٌ کی طرف اسلئے کہ نخل مؤنث سماعی ہے اور اُکُلُہٗ کی ضمیر مذکر ہے، جس کی وجہ سے مطابقت نہ ہوگی، باقی کو ذرع پر قیاس کیا جائیگا۔ قولہ : قَبْلَ النَضْجِ یہ ایک سوال کا جواب ہے۔ سوال : اِذَا اَثَمرَ کا بظاہر کوئی فائدہ معلوم نہیں ہوتا اسلئے کہ کھانے کا تعلق پھل آنے کے بعد ہی ہوتا ہے پھل آنے سے پہلے کھانا ممکن ہی نہیں ہے۔ جواب : قبل النضج کا اضافہ اسی سوال کا جواب ہے مطلب یہ ہے کہ عام طور پر یہ وہم ہوتا ہے کہ پھل کھانے کا تعلق پھل پکنے کے بعد ہی ہوتا ہے حالانکہ بعض پھل پکنے سے پہلے بھی کھائے جاتے ہیں۔ قولہ : وَانشاَ من الاَنْعَامِ ، لفظ اَنشاَ مقدر مان کر اشارہ کردیا کہ من الانعام کا عطف جنّٰت پر ہے اسلئے کہ قریب پر عطف کرنے سے معنی فاسد ہوجائیں گے۔ قولہ : بَدَلٌ مِنْ حَمُوْلَۃ، یہ ان لوگوں پر رد ہے جو ثمانیۃَ ازواجٍ کو فعل مقدر کا مفعول قرار دیکر تقدیر عبارت کلوا ثمانیۃ ازواج مانتے ہیں اسلئے کہ تقدیر بلا ضرورت جائز نہیں ہے۔ قولہ : من الضان، یہ ثمانیۃ ازواج سے بدل ہے ضان، ضائن کی جمع ہے۔ قولہ : زوجین اثنین۔ سوال : زوجین زوجٌ کا تثنیہ ہے زوج جوڑے کو کہتے ہیں جو کہ دو پر مشتمل ہوتا ہے لہٰذا زوجین کا مطلب ہوگا چار، تو اس صورت میں زوجین کی صفت اثنین لانا درست نہیں ہوگا ؟ جواب : زوج کے دو معنی ہیں، (1) زوج اس کو کہتے ہیں کہ جس کے ساتھ اسی کی جنس کا دوسرا ہو اس کے لئے دو کا ہونا ضروری نہیں ہے جیسا کہ شوہر کو زوج کہہ دیتے ہیں۔ (2) دوسرے معنی جوڑا اس وقت زوجین کے معنی ہوں گے چار، اس معنی کے اعتبار سے زوجین کی صفت اثنین لانا درست نہ ہوگا، یہاں اول معنی مراد ہیں۔ قولہ : ء الذکَرَیْن، حرّم کا مفعول بہ مقدم ہے اور ام حرف عطف ہے الانثیین، ذکرین پر معطوف ہے جملہ ہو کر قل کا مقولہ ہونے کی وجہ سے محل میں نصب کے ہے۔ (لغات القرآن للدرویش) تفسیر و تشریح وَھو الذی۔۔۔۔ معروشات الخ معروشات کا مادہ عرش ہے جس کے معنی بلند کرنے اور اٹھانے کے ہیں، مراد وہ بیلیں ہیں جو ٹٹیوں، چھپروں، منڈیروں وغیرہ پر چڑھائی ہوئی ہیں، مثلاً انگور اور بعض سبزی ترکاریوں کی بیلیں اور غیر معروشٰت سے وہ بیلیں جو ٹٹیوں پر نہیں چڑھائی جاتی بلکہ زمین پر پھیلتی ہیں مثلاً تربوز خربوز وغیرہ یا تنے دار درخت جو بیل کی شکل میں نہیں ہوتے مثلاً کھجور اور کھیتیاں وغیرہ مذکورہ تمام کھیتیاں اور درخت وغیرہ جن کے ذائقہ اور خوشبو رنگ وغیرہ مختلف ہوتے ہیں، ان سب کا پیدا کرنے والا اللہ ہے لہٰذا ان میں کسی کی شرکت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ وَآتُوْ ۔۔۔۔۔ حَصَادِہٖ یعنی جب کھیتی کاٹ کر غلہ صاف کرلو اور پھل درختوں سے توڑ لو تو اس کا حق ادا کرو جس میں صدقات واجبہ عشر وغیرہ اور صدقات نافلہ عطیہ اور ہبہ و ہدیہ وغیرہ سب داخل ہیں۔ وَلا تُسْرِفُوْا۔۔۔۔ المُسْفِیْن یعنی صدقہ و خیرات میں بھی حد سے تجاوز نہ کرو، یعنی نفلی صدقات میں اسلئے کہ صدقات واجبہ تو محدود و متعین ہیں ان میں اسراف کا سوال ہی نہیں ہے۔
Ayah 6:145

قُلْ لَّاۤ اَجِدُ فِیْ مَاۤ اُوْحِیَ اِلَیَّ مُحَرَّمًا عَلٰى طَاعِمٍ یَّطْعَمُهٗۤ اِلَّاۤ اَنْ یَّكُوْنَ مَیْتَةً اَوْ دَمًا مَّسْفُوْحًا اَوْ لَحْمَ خِنْزِیْرٍ فَاِنَّهٗ رِجْسٌ اَوْ فِسْقًا اُهِلَّ لِغَیْرِ اللّٰهِ بِهٖ١ۚ فَمَنِ اضْطُرَّ غَیْرَ بَاغٍ وَّ لَا عَادٍ فَاِنَّ رَبَّكَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 6:145 in the Quran reader

کہو کہ جو احکام مجھ پر نازل ہوئے ہیں میں ان میں کوئی چیز جسے کھانے والا کھائے حرام نہیں پاتا۔ بجز اس کے کہ وہ مرا ہوا جانور ہو یا بہتا لہو یا سور کا گوشت کہ یہ سب ناپاک ہیں یا گناہ کی کوئی چیز ہو کہ اس پر خدا کے سوا کسی اور کا نام لیا گیا ہے۔ (اور) اگر کوئی مجبور ہوجائے لیکن نہ تو نافرمانی کرے اور نہ حد سے باہر نکل جائے تو تمہارا پروردگار بخشنے والا مہربان ہے۔

آیت نمبر 145 تا 150 ترجمہ : (اے محمد ﷺ ان سے کہو کہ جو وحی میرے پاس لائی گئی ہے اس میں تو میں کوئی چیز ایسی نہیں پاتا کہ کسی کھانے والے پر حرام ہو اِلاَّ یہ کہ وہ مردار ہو (یکون) یاء اور تاء کے ساتھ (میتۃً ) نصب کے ساتھ ہے اور ایک قراء میں یاء تحتانیہ کے ساتھ ہے، یا بہایا ہوا خون ہو یعنی دم سائل بخلاف غیر سائل کے مثلاً جگر، اور تلّی، یا خنزیر کا گوشت اسلئے کہ وہ تو ناپاک حرام ہے یا فسق ہو جو غیر اللہ کے نام پر ذبح کیا گیا ہے، یعنی غیر اللہ کا نام لے کر ذبح کیا گیا ہو، سو جو شخص مذکورہ چیزوں میں سے کسی چیز کی طرف مجبور ہوا اور اس نے ان میں سے کھالیا بغیر اس کے کہ وہ نافرمانی کرنے کا ارادہ رکھتا ہو اور بغیر اس کے کہ حد ضرورت سے تجاوز کرے، تو یقیناً اس کھائے ہوئے کے بارے میں تمہارا رب درگذر سے کام لینے والا رحم فرمانے والا ہے اور مذکورہ چیزوں کے ساتھ حدیث کی وجہ سے کچلی والے درندوں اور پنجے والے پرندوں کو شامل کرلیا گیا ہے، اور یہود پر ہم نے ناخن والے تمام جانور حرام کر دئیے اور وہ ایسے جانور ہیں کہ ان کی انگلیاں الگ نہ ہوں جیسا کہ اونٹ اور شتر مرغ، اور گائے اور بکری کہ اوجھ اور گردے کی چربی ہم نے ان پر حرام کردی مگر وہ چربی جو ان کی پیٹھ میں لگی ہو، یا آنتوں میں لگی ہو، حوایا بمعنی انتڑی حوویا یا حاویہ کی جمع ہے یا وہ چربی جو ہڈی سے لگی ہو اور سرین کی چربی ہے وہ ان کے لئے حلال تھی، تحریم کی یہ سزا ہم نے ان کی سرکشی کی وجہ سے دی جس کا ذکر سورة نساء میں گذر چکا ہے اور ہم اپنی خبروں میں اور وعدوں میں سچے ہیں اور جو کچھ آپ لے کر آئے ہیں اگر یہ اس میں آپ کی تکذیب کریں تو ان سے کہہ دو کہ تمہارا رب بڑی وسیع رحمت والا ہے اسلئے کہ اس کی سزا میں اس نے تمہارے اوپر جلدی نہیں کی، اور (ربکم) کہنے میں ان کو ایمان کی دعوت دینے میں نرمی ہے اور اس کا عذاب جب آجائیگا تو مجرموں سے نہ ٹلے گا، یہ مشرکین یوں کہیں گے کہ اگر اللہ چاہتا تو نہ ہم شرک کرتے اور نہ ہمارے آباء اور نہ ہم کسی چیز کو حرام ٹھہراتے، (معلوم ہوا) ہمارا شرک کرنا اور ہمارا حرم ٹھہرانا اللہ کی مشیئت سے ہے اور وہ اس سے راضی ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا اسی طرح جس طرح ان لوگوں نے تکذیب کی ان سے پہلے لوگوں نے بھی اپنے رسولوں کی تکذیب کی تھی یہاں تک کہ انہوں نے ہمارے عذاب کا مزا چکھ لیا آپ ان سے پوچھئے کیا ان کے پاس اس بات پر کہ اللہ اس سے راضی ہے کوئی دلیل ہے (اگر ہے) تو اسے ہمارے روبرو ظاہر کرو یعنی تمہارے پاس کوئی نہیں ہے، تم اس معاملہ میں محض خیالی باتوں کی اتباع کرتے ہو اور اس معاملہ میں محض اٹکل سے باتیں کرتے ہو یعنی اس میں دروغ گوئی سے کام لیتے ہو، آپ کہئے اگر تمہارے پاس دلیل نہیں تو اللہ کے پاس حجت تامہ موجود ہے اگر اسے تمہاری ہدایت منظور ہوتی تو وہ تم سب کو ہدایت دیدیتا آپ کہئے کہ اپنے گواہ پیش کرو جو اس بات پر گواہی دیں کہ جس چیز کو تم نے حرام کرلیا ہے اللہ نے اس کو حرام کیا ہے پھر وہ تصدیق کریں تو تم ان کی تصدیق نہ کرنا اور ایسے لوگوں کے باطل خیالات کا اتباع نہ کیجئے جو ہماری آیتوں کی تکذیب کرتے ہیں اور وہ جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے اور جو (دوسروں کو) اپنے رب کا ہمسر ٹھہراتے ہیں (یعنی) شرک کرتے ہیں۔ تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد قولہ : ما اُوحِیَ اِلَیّ ، شیئًا، مَا موصولہ اُحِیَ اس کا صلہ عائد محذوف ہے، تقدیر عبارت یہ ہے اَلّذی اَوْحَاہُ اللہ اِلیّ ۔ قولہ : شیئًا، اس میں اشارہ ہے کہ محرماً موصوف محذوف کی صفت ہے ای شیئًا محرماً ۔ قولہ : مَیتَۃْ بالنصب، کان اگر ناقصہ مانا جائے تو اس کا اسم ضمیر مستتر ہوگی، اور اس ضمیر کا مرجع شئ محرم ہوگی، اور مَیْتَۃً کانَ کی خبر ہونے کی وجہ سے منصوب ہوگا، اور یکون اپنے اسم کے مرجع جو کہ محرّم ہے کہ رعایت کی وجہ سے مذکر کا صیغہ ہوگا اس صورت میں خبر، یعنی میتۃ کی رعایت نہ ہوگی، اور تکون مؤنث کا صیغہ خبر کی رعایت کی وجہ سے ہوگا، یہ دونوں صورتیں میتۃً کے نصب کی صورت میں ہوں گی، میتۃٌ کے رفع کی صورت میں تکون میں صرف ایک ہی قراء ہوگی، یعنی تاء گو قانیہ، اور تکون اس صورت میں تامہ ہوگا، اور میتۃٌ اس کا فاعل ہوگا جب مذکورہ بات سمجھ لی گئی تو مفسر علام کا وفی قراء ۃٍ بالرفع مع التحتانیۃ سبقت قلم ہوگی، صحیح الفوقانیہ ہے فقط۔ قولہ : اِلاَّ اَنْ تکونَ ، اگر عموم احوال سے مستثنیٰ مانا جائے تو مستثنیٰ متصل ہوگا اور اگر یہ کہا جائے کہ مستثنیٰ منہ محرماً ہے جو کہ ذات ہے اور مستثنیٰ میتۃً صفت ہے لہٰذا مستثنیٰ مستثنیٰ منہ کی جنس سے نہ ہونے کی وجہ سے مستثنیٰ منقطع ہوگا، والاول اقرب۔ قولہ : حرام، بہتر ہوتا کہ مفسر علاّم رجسٌ کی تفسیر حرام کے بجائے نجس سے کرتے اسلئے کہ حرمت تو اِلاّ ان یکون میتۃ الخ استثناء سے مفہوم ہے۔ قولہ : اوفسقا، اس کا عطف میتۃً پر ہے، اس کا مضاف محذوف ہے ایا فسقٍ یا مبالغہ کے طور پر حمل ہوگا اس صورت میں زید عدلٌ کے قبیل سے ہوگا، لحم خنزیر پر بھی قرب کی وجہ سے عطف درست ہے، اور فاِنّہٗ رجس جملہ معترضہ ہے۔ قولہ : اُھِلَّ لغیر اللہ یہ فسقاً کی صفت ہے۔ قولہ : ویُلحَقُ بِمَا ذُکِرَ بالسُّتَّۃِ اس اضافہ میں ایک سوال مقدر کے جواب کی طرف اشارہ ہے۔ سوال : آیت سے مذکورہ چار چیزوں میں حرمت کا حصر مفہوم ہوتا ہے حالانکہ ان کے علاوہ اور بھی بہت سی چیزیں حرام ہیں۔ جواب : حصر حقیقی مراد نہیں ہے بلکہ حدیث کی رو سے اور بہت سی چیزیں بھی حرام ہیں۔ قولہ : الثروب، جمع ثربٍ ، چربی کی اس باریک جھلی کو کہتے ہیں جو معدہ اور آنتوں وغیرہ پر لپٹی ہوئی ہوتی ہے۔ قولہ : کُلی، یہ کُلْبَۃ کی جمع ہے گردہ کو کہتے ہیں۔ قولہ : شَحْمُ الاِلْیَۃِ پُٹھ کی چربی جو دم کی ہڈی سے لگی ہوتی ہے۔ قولہ : نحنُ ، یہ اشرکنا کے اندر ضمیر مستتر کی تاکید ہے تاکہ مرفوع متصل پر عطف درست ہوسکے، اسلئے کہ ضمیر مرفوع متصل پر عطف کیلئے فصل یا تاکید ضروری ہوتی ہے۔ قولہ : اِن لَمْ یَکُنْ لَکُمْ حُجَّۃٌ، اس میں اشارہ ہے کہ فلِلّٰہ الحجۃ البالغۃ شرط محذوف کی جزاء ہے جس کو مفسر علام نے ظاہر کردیا ہے لہٰذا اب عطف الخبر علی الانشاء کا اعتراض بھی ختم ہوگیا۔ قولہ : اُحْضُرُوا۔ سوال : ھَلُمَّ کی تفسیر احضروا بصیغہ جمع کرنے میں کیا مصلحت ہے ؟ جواب : ھَلُمَّ اسماء افعال میں سے ہے اور یہاں لغت حجاز کے مطابق استعمال ہوا ہے اسلئے کہ حجاز یین کے نزدیک یہ غیر منصرف ہے بخلاف بنو تمیم کے، لہٰذا یہ اعتراض ختم ہوگیا کہ یہاں مناسب ھلمّوا بصیغہ جمع تھا اسلئے کہ اس کے مخاطب کثیر لوگ ہیں۔ تفسیر و تشریح قُلْ لاَ اَجِدُ ۔۔۔۔ محرّمًا (الآیۃ) سابق میں ان چار محرمات کا ذکر تھا جن کو اغوائے شیطانی کی وجہ سے مشرکوں نے انے اوپر حرام کرلیا تھا، اس کی پوری تفصیل سورة بقرہ آیت (173) میں گذر چکی ہے، اس آیت میں مشرکوں کو قائل کرنے کیلئے کہا جا رہا ہے، کہ اے محمد ﷺ تم ان لوگوں سے کہہ دو کہ جن جانوروں کو تم نے اپنی طرف سے حرام ٹھہرا دکھا ہے ان کا ذکر میں، میرے اوپر نازل کردہ وحی میں کہیں نہیں پاتا سوائے ان چار چیزوں کے جن کو تم نے حلال ٹھہرا رکھا ہے، (1) مردار جانور، (2) بہتا ہوا خون (3) خنزیر کا گوشت (4) غیر اللہ کے تقرب کیلئے ذبح کیا ہوا جانور، ان مذکورہ حرام چیزوں کو تم نے حلال ٹھہرا رکھا ہے حالانکہ یہ حرام ہیں۔ نکتہ : یہاں یہ نکتہ قابل توجہ ہے کہ مذکورہ چاروں محرمات کا ذکر کلمہ حصر کے ساتھ کیا گیا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ مذکورہ چار جانوروں کے علاوہ تمام جانور حلال ہیں جبکہ واقعہ یہ ہے کہ ان چار کے علاوہ اور بہت سے جانور بھی شریعت میں حرام ہیں، پھر یہاں حصر کیوں کیا گیا ؟ بات دراصل یہ ہے کہ ماقبل سے مشرکوں کے جاہلانہ طریقوں اور عقیدوں کا ذکر چلا آرہا ہے اسی سلسلہ میں بعض جانوروں کا بھی ذکر آیا جن کو مشرکوں نے بطور خود حرام کر رکھا تھا اسی سیاق وسباق کے ضمن میں یہ کہا جا رہا یہ کہ مجھ پر جو وحی کی گئی ہے اس میں تو ان محرمات کا ذکر نہیں ہے اگر یہ مذکورہ چاروں چیزیں حرام ہوتیں تو اللہ تعالیٰ ان کا ذکر ضرور فرماتا، مذکورہ حصر سے معلوم ہوتا ہے کہ مکی زندگی میں یہی جانور حرام تھے جن کا ذکر اس آیت میں ہے، پھر ہجرت کے بعد سورة مائدہ میں وہ جانور حرام ہوئے جن کی تفصیل اسی جگہ گذر چکی ہے۔ جانروں کی حلت و حرمت کے اختلافی مسائل : فقہاء اسلام میں ایک جماعت اس بات کی قابل ہے کہ حیوانی غذاؤں میں جن چار چیزوں کی حرمت کا یہاں ذکر ہے بس یہی چار چیزیں حرام ہیں یہی مسلک حضرت عبد اللہ بن عباس اور حضرت عائشہ صدیقہ ؓ اور امام مالک کا ہے لیکن جمہور سلف نے اس کو تسلیم نہیں کیا، معتبر سند سے حضرت عبد اللہ بن عمر کی حدیث سورة بقرہ میں گذر چکی ہے جس کی رہ سے مردار میں سے دو مردار مچھلی اور ٹڈی اور خون میں سے دو خون کلیجی اور تلیّ حلال ہیں، سوّر تمام علماء کے نزدیک حرام ہے اور اس کا جسم ناپاک ہے۔ خنزیر اور کتے کی کھال کا حکم : سور اور کتے کے کھال کی دباغت کے بعد پاک ہونے یا نہ ہونے کا اختلاف سورة مائدہ میں گذر چکا ہے ما اُھِلَّ بہ کی تفسیر بھی سورة بقرہ اور سورة مائدہ میں گذر چکی ہے فمن اضطر غیر باغ ولا عادٍ ، کی تفسیر بھی سورة بقرہ میں گذر چکی ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ جو شخص بھوک کے سبب ایسا عاجز اور مجبور ہو کہ اس کو اپنی جان کے تلف ہوجانے کا خوف لاحق ہوجائے تو وہ بقدر اپنی جان بچانے کے ان حرام چیزوں کو استعمال کرسکتا ہے، ایسی اضطراری کیفیت میں چونکہ احتیاط باقی نہیں رہتی اسلئے اللہ تعالیٰ نے آگے فرمایا ” فانَّ ربک غفور رحیم “۔
Ayahs 6:146–150

وَ عَلَى الَّذِیْنَ هَادُوْا حَرَّمْنَا كُلَّ ذِیْ ظُفُرٍ١ۚ وَ مِنَ الْبَقَرِ وَ الْغَنَمِ حَرَّمْنَا عَلَیْهِمْ شُحُوْمَهُمَاۤ اِلَّا مَا حَمَلَتْ ظُهُوْرُهُمَاۤ اَوِ الْحَوَایَاۤ اَوْ مَا اخْتَلَطَ بِعَظْمٍ١ؕ ذٰلِكَ جَزَیْنٰهُمْ بِبَغْیِهِمْ١ۖ٘ وَ اِنَّا لَصٰدِقُوْنَ Open ayah 6:146 in the Quran reader

اور یہودیوں پر ہم نے سب ناخن والے جانور حرام کردیے تھے اور گایوں اور بکریوں سے ان کے چربی حرام کو دی تھی سوا اس کے جو ان کی پیٹھ پر لگی ہو یا اوجھڑی ہو یا ہڈی میں ملی ہو۔ یہ سزا ہم نے ان کو ان کی شرارت کے سبب دی تھی اور ہم سچ کہنے والے ہیں۔

فَاِنْ كَذَّبُوْكَ فَقُلْ رَّبُّكُمْ ذُوْ رَحْمَةٍ وَّاسِعَةٍ١ۚ وَ لَا یُرَدُّ بَاْسُهٗ عَنِ الْقَوْمِ الْمُجْرِمِیْنَ Open ayah 6:147 in the Quran reader

اور اگر یہ لوگ تمہاری تکذیب کریں تو کہہ دو تمہارا پروردگار صاحب رحمت وسیع ہے۔ مگر اس کا عذاب گنہگار لوگوں سے نہیں ٹلے گا۔

سَیَقُوْلُ الَّذِیْنَ اَشْرَكُوْا لَوْ شَآءَ اللّٰهُ مَاۤ اَشْرَكْنَا وَ لَاۤ اٰبَآؤُنَا وَ لَا حَرَّمْنَا مِنْ شَیْءٍ١ؕ كَذٰلِكَ كَذَّبَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ حَتّٰى ذَاقُوْا بَاْسَنَا١ؕ قُلْ هَلْ عِنْدَكُمْ مِّنْ عِلْمٍ فَتُخْرِجُوْهُ لَنَا١ؕ اِنْ تَتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ وَ اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا تَخْرُصُوْنَ Open ayah 6:148 in the Quran reader

جو لوگ شرک کرتے ہیں وہ کہیں گے کہ اگر خدا چاہتا تو (ہم سب شرک نہ کرتے اور نہ ہمارے باپ دادا (شرک کرتے) اور نہ ہم کسی چیز کو حرام ٹھہراتے۔ اسی طرح ان لوگوں نے تکذیب کی تھی جو ان سے پہلے تھے۔ یہاں تک کہ ہمارے عذاب کا مزہ چکھ کر رہے۔ کہہ دو کیا تمہارے پاس کوئی سند ہے ؟ (اگر ہے) تو اسے ہمارے سامنے نکالو۔ تم محض خیال کے پیچھے چلتے اور اٹکل کے تیر چلاتے ہو۔

قُلْ فَلِلّٰهِ الْحُجَّةُ الْبَالِغَةُ١ۚ فَلَوْ شَآءَ لَهَدٰىكُمْ اَجْمَعِیْنَ Open ayah 6:149 in the Quran reader

کہہ دو کہ خدا ہی کی حجت غالب ہے۔ اگر وہ چاہتا تو تم سب کو ہدایت دیدیتا۔

قُلْ هَلُمَّ شُهَدَآءَكُمُ الَّذِیْنَ یَشْهَدُوْنَ اَنَّ اللّٰهَ حَرَّمَ هٰذَا١ۚ فَاِنْ شَهِدُوْا فَلَا تَشْهَدْ مَعَهُمْ١ۚ وَ لَا تَتَّبِعْ اَهْوَآءَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ وَ هُمْ بِرَبِّهِمْ یَعْدِلُوْنَ۠ Open ayah 6:150 in the Quran reader

کہو کہ اپنے گواہوں کو لاؤ جو بتائیں کہ خدا نے یہ چیزیں حرام کی ہیں پھر اگر وہ (آکر) گواہی دیں تو تم ان کے ساتھ گواہی نہ دینا اور نہ ان لوگوں کی خواہشوں کی پیروی کرنا جو ہماری آیتوں کو جھٹلاتے ہیں اور جو آخرت پر ایمان نہیں لاتے اور (بتوں کو) اپنے پروردگار کے برابر ٹھیراتے ہیں۔

وعلی الذین۔۔۔۔ ذی ظفر (الآیۃ) سابق میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ حرام صرف وہی چیزیں ہیں جن کو اللہ نے حرام کیا ہے کسی انسان کو کسی چیز کے حرام یا حلال ٹھہرانے کا اختیار نہیں اس پر مشرکین مکہ نے یہ کہا کہ یہود جب چیزوں کو نہیں کھاتے اس کی وجہ یہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے ان چیزوں کو اپنے اوپر حرام ٹھہرا لیا تھا اسلئے ہم بھی وہ چیزیں نہیں کھاتے، پھر یہ بات کیونکر درست ہوسکتی ہے کہ انسان کو کسی چیز کے حرام یا حلام ٹھہرانیکا اختیار نہیں ہے بلکہ اس وقت کے نبی کی معرفت ان کی سرکشی کی پاداش میں اللہ تعالیٰ نے یہود کے اوپر حرام کردی تھیں یہ بات غلط ہے کہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے ازخود اپنے اوپر کچھ چیزوں کو حرام کرلیا تھا۔ ذی ظفر سے وہ جانور مراد ہیں جن کی انگلیاں الگ الگ نہ ہوں مثلاً چرند میں اونٹ گائے وغیرہ، اور پرند میں بطخ، مرغ آبی۔ بعض اختلافی مسائل : پالتو گدھے کو امام حنیفہ، امام مالک اور امام شافعی حرام قرار دیتے ہیں، بعض دوسرے فقہاء کہتے ہیں کہ حرام نہیں ہیں بلکہ کسی خاص موقع پر نبی ﷺ نے ان کی کسی خاص وجہ سے ممانعت فرمادی تھی، درندہ جانوروں اور شکاری پرندروں اور مردار خور حیوانات کو حنفیہ مطلقًا حرام قرار دیتے ہیں، مگر امام مالک اور رازعی کے نزدیک شکاری پرندے حلال ہیں، لیث (رح) تعالیٰ کے نزدیک بلّی حلال ہے، امام شافعی (رح) تعالیٰ کے نزدیک صرف وہ درندے حرام ہیں جو انسان پر حملہ آور ہوتے ہیں جیسے شیر، چیتا، بھیڑیا وغیرہ، عکرمہ کے نزدیک کوا اور بجّو دونوں حلال ہیں، اسی طرح حنفیہ تمام حشرات الارض کو حرام قرار دیتے ہیں مگر ابن ابی لیلیٰ ، امام مالک اور اوزاعی کے نزدیک سانپ حلال ہے۔ (ھدایۃ القرآن)
Ayah 6:151

قُلْ تَعَالَوْا اَتْلُ مَا حَرَّمَ رَبُّكُمْ عَلَیْكُمْ اَلَّا تُشْرِكُوْا بِهٖ شَیْئًا وَّ بِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًا١ۚ وَ لَا تَقْتُلُوْۤا اَوْلَادَكُمْ مِّنْ اِمْلَاقٍ١ؕ نَحْنُ نَرْزُقُكُمْ وَ اِیَّاهُمْ١ۚ وَ لَا تَقْرَبُوا الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَ مَا بَطَنَ١ۚ وَ لَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِیْ حَرَّمَ اللّٰهُ اِلَّا بِالْحَقِّ١ؕ ذٰلِكُمْ وَصّٰىكُمْ بِهٖ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ Open ayah 6:151 in the Quran reader

کہہ کہ (لوگو) آؤ میں تمہیں وہ چیزیں پڑھ کر سناؤں جو تمہارے پروردگار نے تم پر حرام کی ہیں ( ان کی نسبت اس نے اس طرح ارشاد فرمایا ہے) کہ کسی چیز کو خدا کا شریک نہ بنانا اور ماں باپ سے (بد سلوکی نہ کرنا بلکہ) سلوک کرتے رہنا اور ناداری (کے اندیشے) سے اپنی اولاد کو قتل نہ کرنا (کیونکہ) تم کو اور ان کو ہمیں رزق دیتے ہیں۔ اور بےحیائی کا کام ظاہر ہوں یا پوشیدہ ان کے پاس نہ پھٹکنا۔ اور کسی جان (والے کو) جس کے قتل کو خدا نے حرام کردیا ہے قتل نہ کرنا۔ مگر جائز طور پر (یعنی جس کا شریعت حکم دے) ان باتوں کا وہ تمہیں تاکید فرماتا ہے تاکہ تم سمجھو۔

آیت نمبر 151 تا 154 ترجمہ : (اے محمد) ان سے کہو کہ آؤ میں تمہیں سناؤں کہ تمہارے رب نے تم پر کیا پابندیاں عائد کی ہیں (1) یہ کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ (أن) مفسرہ ہے (2) والدین کے ساتھ حسن سلوک کرو (3) اور اپنی اولاد کو فقر (فاقہ) کے خوف سے زندہ درگور کرکے قتل نہ کرو ہم تمہیں رزق دیتے ہیں اور ان کو بھی (دیں گے) (4) بےشرمی (یعنی) بڑے گناہوں مثلاً زنا کے پاس بھی مت جاؤ خواہ کھلم کھلا ہوں یا مخفی یعنی علی الاعلان ہوں یا چھپ کر، (5) اور کسی جان کو جس کو اللہ نے محترم بنایا ہے قتل نہ کرو مگر حق کے ساتھ مثلاً قصاص اور مرتد کی سزا کے طور پر اور شادی شدہ کو رجم کے طور پر یہ مذکورہ (وہ باتیں ہیں) جن کی تمہیں تاکید کی ہے تاکہ تم سمجھ بوجھ سے کام لو غور و فکر سے کام لو، (6) اور یتیم کے مال کے پاس بھی نہ جاؤ مگر ایسے طریقہ سے جو مستحسن ہے اور وہ طریقہ وہ ہے کہ جس میں (مال یتیم کی) اصلاح ہو یہاں تک کہ وہ سن رشد کو پہنچ جائے بایں طور کہ بالغ ہوجائے (7) اور ناپ تول میں پورا تول کر انصاف سے کام لو ڈنڈی مارنا چھوڑ دو ، ہم کسی پر اس معاملہ میں اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتے اور اگر ناپ تول میں غلطی ہوجائے تو اللہ تعالیٰ صحت نیت کو خوب جانتے ہیں لہٰذا اس پر مؤاخذہ نہیں ہے جیسا کہ حدیث میں وارد ہوا ہے (8) اور جب تم کسی فیصلے وغیرہ میں بات کرو تو انصاف کی کرو اگرچہ وہ شخص جس کی موافقت یا مخالفت میں یہ بات ہے قرابتدار ہی کیوں نہ ہو، (9) اور اللہ سے جو عہد کرو اس کو پورا کرو، ان باتوں کا اللہ نے تم کو تاکیدی حکم دیا ہے تاکہ تم نصیحت قبول کرو (تذکرون) ذال کی تشدید کے ساتھ اور سکون کے ساتھ، (تاکہ تم یود رکھو) اور یہ باتیں جن کا میں نے تم کو تاکیدی حکم دیا ہے میرا سیدھا راستہ ہے مستقیمًا حال ہے، (اَنَّ ) فتحہ کے ساتھ ہے لام کی تقدیر کی صورت میں اور کسرہ کے ساتھ ہے استیناف کی صورت میں، لہٰذا اسی راستہ پر چلو اور اس کے خلاف راستوں پر نہ چلو کہ وہ تم کو اللہ کے دین کے راستہ سے بھٹکا دیں گے (فتفرق) میں ایک تاء کے حذف کے ساتھ ہے (یعنی راہ حق سے) پھیر دیں گے، یہ ہے وہ راہ مستقیم جس کی تم کو اللہ نے تاکید کی ہے تاکہ تم کجروی سے بچو، اور پھر ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب تورات دی تھی ثم ترتیب اخبار کیلئے ہے اس شخص پر نعمت کی تکمیل کیلئے ہو جس نے اس پر بہتر طریقہ پر عمل کیا، اور احکام کی تفصیل ہو جن کی دین میں ضرورت ہوتی ہے، اور ہدایت و رحمت ہو، تاکہ بنی اسرائیل بعث کے ذریعہ اپنے رب کی ملاقات پر ایمان لے آئیں۔ تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیر فوائد قولہ : مُفَسَّرۃٌ، اَلاَّ ، میں اَنْ فعل تلاوت کیلئے مفسرہ ہے اردو کے لفظ (یعنی) کے مترادف ہے، نہ کہ ناصبہ، اسلئے کہ ناصبہ ہونے کی صورت میں عطف طلب علی الخبر لازم آنے کی وجہ سے عطف درست نہ ہوگا، مذکورہ ’ اَنْ ‘ میں متعدد وجوہ ہیں ان میں دو وجہ مختار ہیں، (1) اَن مفسرہ ہو اسلئے کہ ماقبل میں اَتلُ ، قول کے معنی میں ہے اسلئے کہ اَن مفسرہ کیلئے قول یا قول کے ہم معنی ہونا ضروری ہے، لا، ناہیہ ہے اور تشرکوا فعل مضارع مجزوم ہے، (2) اَن مصدریہ ہو اس صورت میں اَن اور جو اس کے تحت ہے ما حَرَّمَ ، سے بدل ہوگا قولہ : اِملاق، کے معنی، فقر و فاقہ، تنگدستی کے ہیں۔ قولہ : بالخَصْلَۃِ ، اس سے التی کی وجہ تانیث کی طرف اشارہ ہے۔ قولہ : ثم لِتَرْتِیْبِ الاَخْبَارِ ، یہ ایک سوال کا جواب ہے۔ سوال : ثم آتینا، کا عطف وَصّٰکم پر ہے جو اعطاء کتاب لموسیٰ کے مؤخر ہونے پر دلالت کرتا ہے حالانکہ ایتاءِ کتاب وصیت پر مقدم ہے جواب : یہاں ثُمَّ ترتیب اخباری کیلئے ہے نہ کہ ترتیب وجودی کے لئے۔ قولہ : لِلنِّعْمَۃِ ، اس میں اشارہ ہے کہ تماماً مفعول ہونے کی وجہ سے منصوب ہے تماماً سے لام اسلئے حذف کردیا کہ تمامًا معنی میں اتماماً کے ہے۔ قولہ : بلِقَاءِ رَبِّھِمْ یہ یؤمنون کے متعلق ہے، فواصل کی رعایت کے لئے مقدم کردیا گیا ہے۔ تفسیر و تشریح قل تعالوْا (الآیۃ) اس آیت میں خطاب یہود و مشرکین بلکہ پوری نوع انسانی کے لئے ہے مطلب یہ ہے کہ حرام وہ نہیں ہے کہ جن کو تم نے بلادلیل محض اپنے اوھام باطلہ کی بنیاد پر حرام کرلیا ہے، بلکہ حرام وہ چیزیں ہیں جن کو تمہارے رب نے حرام کیا ہے، اَلاَّ تشرکوا، سے پہلے اوصاکم محذوف ہے، یعنی اللہ نے تمہیں اس بات کا حکم دیا ہے کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو، شرک سب سے بڑا گناہ ہے، جس کے لئے معافی نہیں ہے، مشرک پر جنت حرام اور دوزخ واجب ہے، قرآن مجید میں اس مضمون کو مختلف انداز سے بار بار بیان کیا گیا ہے، نبی ﷺ نے بھی اس مضمون کو بڑی صراحت سے بیان فرمایا ہے، اس کے باوجود لوگ شیطانی بہکاوے میں آکر شرک کا ارتکاب کرتے ہیں۔ وبالوالدین احسانا، اللہ تعالیٰ نے توحید و اطاعت کے بعد یہاں بھی اور دیگر مقامات پر بھی والدین کے ساتھ حسن سلوک کا حکم دیا ہے، جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ اطاعت رب کے بعد اطاعت والدین کی بڑی اہمیت ہے، جس نے اس ربوبیت صغریٰ (والدین کی پرورش) کے تقاضے پورے نہیں کئے تو وہ ربوبیت کبریٰ کے تقاضے پورا کرنے میں بھی ناکام رہے گا۔ ولا تقتلوا اولادکم من املاق، زمانہ جاہلیت کا یہ فعل قبیح آجکل ضبط تولید یا خاندانی منصوبہ بندی کے نام سے پوری دنیا میں زور و شور سے جاری ہے اور اس کو معاشی مسئلہ سے جوڑ دیا گیا ہے جو کہ ایک غلط نظریہ ہے، معاشیات کے صحیح قوانین دوسرے ہیں جن کو اسلامی نظام اقتصادیات سے متعلق کتابوں میں دیکھا جاسکتا ہے، آیت میں (املاق) افلاس کا ذکر اس لئے فرمایا ہے کہ فلاسفہ مادئیین اور مفکرین جاہلیت اپنے نظریہ کی عقلی توجیہ عموماً یہی کرتے ہیں، چناچہ آج جاہلیت فرنگ کے زیر سایہ قتل اولاد کی تحریکیں اور نئے نئے طریقے سے جاری ہیں اس کا محرک بھی یہی خوف افلاس ہے، مالتھس نامی ایک ماہر اقتصادیات و معاشیات انیسویں صدی کے شروع میں ہوا ہے اور یہ منع حمل اور قتل اولاد کی تحریک اصلاً اسی کی برپا کردہ ہے، مذکورہ آیت میں اسی ذہنی افلاس اور دیوالیہ پن کے علاج کی جانب اشارہ کیا گیا ہے، عرب میں قتل اولاد کی دامادی شرم و عار کے علاوہ ایک وجہ اقتصادی بھی تھی، اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں ارشاد فرمایا کہ کھانا کھلانے اور رزق فراہم کرنے کے اصلی ذمہ دار ہم ہیں تم نہیں، یہ کام براہ راست اللہ کا ہے تم خود اپنے رزق میں اللہ کے محتاج ہو تم اولاد کو کیا کھلا سکتے ہو ؟ وہ تم کو رزق دیتا ہے تو تم بچوں کو کھلاتے ہو اگر وہ تمہیں نہ دے تو تمہاری کیا مجال کہ تم ایک دانہ گندم خود پیدا کرسکو۔ قتل نفس کی بڑی شدت سے ممانعت فرمائی گئی ہے، البتہ عالم میں امن وامان قائم رکھنے کیلئے حق شرع کے طور پر قتل نفس نہ صرف یہ کہ جائز ہے بلکہ ضروری ہے اِلاَّ یہ کہ مقتول کے وارث معاف کردیں، اسلئے کہ قصاص میں سب کی زندگی ہے، بحق شرع قتل کے رف پانچ مواقع ہیں۔ (1) قتل عمد کے مجرم (2) قیام دین کے مزاحم کو جبکہ کوئی چار انہ رہا ہو، (3) دار الاسلام میں بدامنی پھیلانے والا اور نظام اسلامی کو الٹنے کی سعی کرنے والے کو، (4) شادی شدہ ہونیکے باوجودزنا کا مرتکب ہونا، (5) ارتداد کا مرتکب ہونا، مذکورہ پانچ صورتوں کے علاوہ اسلام میں کسی انسان کا قتل جائز نہیں خواہ مومن ہو یا ذمی یا عام کافر ہو۔
Ayah 6:152

وَ لَا تَقْرَبُوْا مَالَ الْیَتِیْمِ اِلَّا بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ حَتّٰى یَبْلُغَ اَشُدَّهٗ١ۚ وَ اَوْفُوا الْكَیْلَ وَ الْمِیْزَانَ بِالْقِسْطِ١ۚ لَا نُكَلِّفُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَا١ۚ وَ اِذَا قُلْتُمْ فَاعْدِلُوْا وَ لَوْ كَانَ ذَا قُرْبٰى١ۚ وَ بِعَهْدِ اللّٰهِ اَوْفُوْا١ؕ ذٰلِكُمْ وَصّٰىكُمْ بِهٖ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَۙ Open ayah 6:152 in the Quran reader

اور یتیم کے مال کے پاس بھی نہ جانا مگر ایسے طریق سے کہ بہت ہی پسندیدہ ہو۔ یہاں تک کہ وہ جوانی کو پہنچ جائے۔ اور ناپ اور تول انصاف کے ساتھ پوری پوری کیا کرو۔ ہم کسی کو تکلیف نہیں دیتے مگر اس کی طاقت کے مطابق۔ اور جب (کسی کی نسبت) کوئی بات کہو تو انصاف سے کہو گو وہ (تمہارا) رشتہ دار ہو اور خدا کے عہد کو پورا کرو۔ ان باتوں کا خدا تمہیں حکم دیتا ہے تاکہ تم نصیحت پکڑو۔

وَلا تقربوا مال الیتیم، جس یتیم کی کفالت تمہاری ذمہ داری ہے، ہر طرح اس کی خیرخواہی کرنا تمہارا فرض ہے اسی خیر خواہی کا تقاضا ہے کہ یتیم کے مال سے خواہ وہ نقدی کی شکل میں ہو یا زمین جائداد اور اثاثہ کی صورت میں اور یتیم ابھی اس کی حفاظت کی اہلیت نہ رکھتا ہو اس کے مال کی اس وقت تک حفاظت کرنا ولی پر فرض ہے کہ وہ سن بلوغ و شعور کو پہنچ جائے۔ وَاوفوا الکیل والمیزان، ناپ تول میں کمی کرنا نہایت ذلیل اور اخلاق سے گری ہوئی بات ہے قوم شعیب میں یہی اخلاقی بیماری تھی جو ان کی تباہی کے منجملہ اسباب میں سے ایک تھی، سورة مطففین میں اس کو اسباب ہلاکت و بربادی میں شمار کرایا گیا ہے، حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے مروی ہے آپ ﷺ نے ان لوگوں کو جو ناپ تول میں بےانصافی کرتے ہیں خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ وہ کام ہے کہ جس کی وجہ سے تم سے پہلے امتیں عذاب الہٰی کے ذریعہ ہلاک ہوچکی ہیں تم اس میں ہورے احتیاط سے کام لو۔ (ابن کثیر ملحضا)
Ayahs 6:153–154

وَ اَنَّ هٰذَا صِرَاطِیْ مُسْتَقِیْمًا فَاتَّبِعُوْهُ١ۚ وَ لَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَنْ سَبِیْلِهٖ١ؕ ذٰلِكُمْ وَصّٰىكُمْ بِهٖ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ Open ayah 6:153 in the Quran reader

اور یہ کہ میرا سیدھا راستہ یہی ہے تو تم اسی پر چلنا اور راستوں پر نہ چلنا کہ (ان پر چل کر) خدا کے راستے سے الگ ہوجاؤ گے۔ ان باتوں کا خدا تمہیں حکم دیتا ہے تاکہ تم پرہیزگار بنو۔

ثُمَّ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ تَمَامًا عَلَى الَّذِیْۤ اَحْسَنَ وَ تَفْصِیْلًا لِّكُلِّ شَیْءٍ وَّ هُدًى وَّ رَحْمَةً لَّعَلَّهُمْ بِلِقَآءِ رَبِّهِمْ یُؤْمِنُوْنَ۠ Open ayah 6:154 in the Quran reader

(ہاں) پھر (سن لو کہ) ہم نے موسیٰ کو کتاب عنایت کی تھی تاکہ ان لوگوں پر جو نیکو کار ہیں نعمت پوری کردیں اور (اس میں) ہر چیز کا بیان (ہے) اور ہدایت (ہے) اور رحمت ہے تاکہ (انکی امت کے) لوگ اپنے پروردگار کے روبرو حاضر ہونیکا یقین کریں۔

وان ھذا صراطی مستقیما، صراط مستقیم کو واحد کے صیغہ سے بیان فرمایا کیونکہ اللہ کی اور قرآن اور رسول کی اور صحابہ کی راہ ایک ہی ہے یہی ملت اسلامیہ کی وحدت و اجتماع کی بنیاد ہے، اگر امت مسلمہ اس واحد صراط مستقیم سے ہٹی تو مختلف گروہوں میں بٹ جائیگی اللہ تعالیٰ نے دوسری جگہ فرمایا ” اَن اقیموا الدین ولا تتفرقوا “ (شوریٰ ) دین کو قائم رکھو اور اس میں پھوٹ نہ ڈالو گویا اختلاف اور تفرقہ کی قطعاً اجازت نہیں، اسی مفہوم کو حدیث پاک میں آپ نے اس طرح واضح فرمایا۔ آپ نے اپنے دست مبارک سے ایک سیدھا خط کھینچا اور فرمایا کہ یہ اللہ کا سیدھا راستہ ہے اور چند خطوط اس کے دائیں بائیں کھینچے اور فرمایا یہ وہ راستے ہیں جن پر شیطان بیٹھا ہوا ہے اور ان کی طرف لوگوں کو بلاتا ہے پھر آپ نے یہی آیت تلاوت فرمائی۔ (مسند احمد)
Ayahs 6:155–163

وَ هٰذَا كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ مُبٰرَكٌ فَاتَّبِعُوْهُ وَ اتَّقُوْا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَۙ Open ayah 6:155 in the Quran reader

اور (اے کفر کرنے والو) یہ کتاب بھی ہمیں نے اتاری ہے برکت والی۔ تو اس کی پیروی کرو اور (خدا سے) ڈرو تاکہ تم پر مہربانی کی جائے

اَنْ تَقُوْلُوْۤا اِنَّمَاۤ اُنْزِلَ الْكِتٰبُ عَلٰى طَآئِفَتَیْنِ مِنْ قَبْلِنَا١۪ وَ اِنْ كُنَّا عَنْ دِرَاسَتِهِمْ لَغٰفِلِیْنَۙ Open ayah 6:156 in the Quran reader

(اور اس لئے اتاری ہے) کہ (تم یوں نہ) کہو کہ ہم سے پہلے دوہی گروہوں پر کتابیں اتری تھیں۔ اور ہم ان کے پڑھنے سے (معذور اور) بیخبر تھے۔

اَوْ تَقُوْلُوْا لَوْ اَنَّاۤ اُنْزِلَ عَلَیْنَا الْكِتٰبُ لَكُنَّاۤ اَهْدٰى مِنْهُمْ١ۚ فَقَدْ جَآءَكُمْ بَیِّنَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ هُدًى وَّ رَحْمَةٌ١ۚ فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ كَذَّبَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ صَدَفَ عَنْهَا١ؕ سَنَجْزِی الَّذِیْنَ یَصْدِفُوْنَ عَنْ اٰیٰتِنَا سُوْٓءَ الْعَذَابِ بِمَا كَانُوْا یَصْدِفُوْنَ Open ayah 6:157 in the Quran reader

یا (یہ نہ) کہو کہ اگر ہم پر بھی کتاب نازل ہوتی تو ہم ان لوگوں کی نسبت کہیں سیدھے راستے پر ہوتے۔ سو تمہارے پس تمہارے پروردگار کی طرف سے دلیل اور ہدایت اور رحمت آگئی ہے۔ اور اس سے بڑھ کر ظالم ہوگا جو خدا کی آیتوں کی تکذیب کرے اور ان کے (لوگوں کو) پھیرے ؟ جو لوگ ہماری آیتوں سے پھیرتے ہیں اس پھیرنے کے سبب ہم ان کو برے عذاب کی سزادیں گے۔

هَلْ یَنْظُرُوْنَ اِلَّاۤ اَنْ تَاْتِیَهُمُ الْمَلٰٓئِكَةُ اَوْ یَاْتِیَ رَبُّكَ اَوْ یَاْتِیَ بَعْضُ اٰیٰتِ رَبِّكَ١ؕ یَوْمَ یَاْتِیْ بَعْضُ اٰیٰتِ رَبِّكَ لَا یَنْفَعُ نَفْسًا اِیْمَانُهَا لَمْ تَكُنْ اٰمَنَتْ مِنْ قَبْلُ اَوْ كَسَبَتْ فِیْۤ اِیْمَانِهَا خَیْرًا١ؕ قُلِ انْتَظِرُوْۤا اِنَّا مُنْتَظِرُوْنَ Open ayah 6:158 in the Quran reader

یہ اس کے سوا اور کس بات کے منتظر ہیں کہ انکے پاس فرشتے آئیں۔ یا خود تمہارا پروردگار آئے یا تمہارے پروردگار کی کچھ نشانیاں آئیں ؟ (مگر) جس روز تمہارے پروردگار کی کچھ نشانیاں آجائیں گی تو جو شخص پہلے ایمان نہیں لایا ہوگا اس وقت اسے ایمان لانا کچھ فائدہ نہیں دے گا۔ یا اپنے ایمان (کی حالت) میں نیک عمل نہیں کئے ہوں گے (تو گناہوں سے توبہ کرنا مفید نہ ہوگا) ۔ (اے پیغمبر ان سے) کہہ دو کہ تم بھی انتظار کرو ہم بھی کرتے ہیں۔

اِنَّ الَّذِیْنَ فَرَّقُوْا دِیْنَهُمْ وَ كَانُوْا شِیَعًا لَّسْتَ مِنْهُمْ فِیْ شَیْءٍ١ؕ اِنَّمَاۤ اَمْرُهُمْ اِلَى اللّٰهِ ثُمَّ یُنَبِّئُهُمْ بِمَا كَانُوْا یَفْعَلُوْنَ Open ayah 6:159 in the Quran reader

جن لوگوں نے اپنے دین میں (بہت سے) راستے نکالے اور کئی کئی فرقے ہوگئے ان سے تم کو کچھ کام نہیں۔ ان کا کام خدا کے حوالے پھر جو کچھ وہ کرتے رہے ہیں وہ ان کو (سب) بتائے گا۔

مَنْ جَآءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهٗ عَشْرُ اَمْثَالِهَا١ۚ وَ مَنْ جَآءَ بِالسَّیِّئَةِ فَلَا یُجْزٰۤى اِلَّا مِثْلَهَا وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ Open ayah 6:160 in the Quran reader

جو کوئی (خدا کے حضور) نیکی لے کر آئے گا اس کو ویسی دس نیکیاں ملیں گی اور جو برائی لائے گا اسے سزا ویسی ہی ملے گی۔ اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔

قُلْ اِنَّنِیْ هَدٰىنِیْ رَبِّیْۤ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ١ۚ۬ دِیْنًا قِیَمًا مِّلَّةَ اِبْرٰهِیْمَ حَنِیْفًا١ۚ وَ مَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِیْنَ Open ayah 6:161 in the Quran reader

کہہ دو کہ میرے پروردگار نے سیدھا راستہ دکھا دیا ہے۔ (یعنی) دین صحیح مذہب ابراہیم کا جو ایک (خدا) ہی کی طرف کے تھے اور مشرکوں میں سے نہ تھے۔

قُلْ اِنَّ صَلَاتِیْ وَ نُسُكِیْ وَ مَحْیَایَ وَ مَمَاتِیْ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 6:162 in the Quran reader

(یہ بھی) کہہ دو کہ میری نماز اور میری عبادت اور میرا جینا اور میرا مرنا سب خدائے رب العالمین ہی کے لئے ہے۔

لَا شَرِیْكَ لَهٗ١ۚ وَ بِذٰلِكَ اُمِرْتُ وَ اَنَا اَوَّلُ الْمُسْلِمِیْنَ Open ayah 6:163 in the Quran reader

جس کا کوئی شریک نہیں اور مجھ کو اسی بات کا حکم ملا ہے۔ اور میں سب سے اوّل فرماں بردار ہوں۔

آیت نمبر 155 تا 165 ترجمہ : اور یہ قرآن ایک بڑی خیر و برکت والی کتاب ہے جس کو ہم نے نازل کیا ہے، اے مکہ والو ! جو کچھ اس میں ہے اس پر عمل کرکے اس کی اتباع کرو، اور کفر سے بچو تاکہ تم پر رحم کیا جائے اس کو نازل کیا تاکہ تم یہ نہ کہو سکو کہ کتاب تو ہم سے پہلے وہ فرقوں یہود و نصاریٰ پر نازل کی گئی تھی اور ہم ان کو پڑھنے پڑھانے سے ناواقف تھے ہماری زبان میں ان کتابوں کے نہ ہونے کی وجہ سے ہمیں ان کی معرفت حاصل نہ تھی (اِنْ ) مخففہ ہے اس کا اسم محذوف ہے ای اِنّا، یا یوں نہ کہو کہ اگر ہم پر کوئی کتاب نازل کی گئی ہوتی تو ہم اپنی تیزی ذہانت کی وجہ سے زیادہ راہ راست پر ہوتے، سو اب تمہارے پاس رب کی جانب سے اس شخص کے لئے جو اس کی اتباع کرلے ایک (واضح) بیان اور ہدایت اور رحمت آچکی ہے، اب اس شخص سے زیادہ ظالم کون ہوگا جس نے اللہ کی آیتوں کو جھٹلایا ؟ اور ان سے اعراض کیا، کوئی نہیں، ہم جلدی ہی ان لوگوں کو جو ہماری آیتوں سے اعراض کرتے ہیں بدترین یعنی سخت ترین عذاب دیں گے ان کے اعراض کرنے کی وجہ سے ان جھٹلانے والوں کو صرف اس بات کا انتظار ہے کہ ان کے پاس ان کی روحیں قبض کرنے کیلئے فرشتے آجائیں، (تاتیھم) یاء اور تاء کے ساتھ، یا اس کے پاس تیرا رب آجائے یعنی اس کا حکم بشکل عذاب آجائے یا آپ کے رب کی کوئی نشانی آجائے، جس دن آپ کے رب کی کوئی نشانی آجائے گی اور وہ مغرب کی جانب سے سورج کا نکلنا ہے جیسا کہ صحیحین کی حدیث میں ہے، کسی شخص کو کسی ایسے شخص کا ایمان کام نہ آیئگا جو پہلے (دنیا میں) ایمان نہ لایا ہوگا (جملہ لم تکن) نفساً کی صفت ہے یا اس نے اپنے ایمان میں کوئی نیک عمل نہ کیا ہو یعنی اس کی توبہ اس کے کوئی کام نہ آئے گی ؛ جیسا کہ حدیث میں وارد ہوا ہے، ان سے کہہ دو ان اشیاء میں سے کسی ایک کا انتظار کرو، ہم بھی اس کے منتظر ہیں بیشک جن لوگوں نے اپنے دین کو اس میں اختلاف کرکے جدا جدا کرلیا بایں طور کر بعض کو لیا اور بعض کو ترک کردیا، اور اس میں گروہ گروہ ہوگے، اور ایک قراءت میں فارقوا ہے یعنی اپنے اس دین کو ترک کردیا جس کا انھیں حکم دیا گیا تھا، اور وہ یہود و نصاریٰ ہیں، آپ کا ان سے کوئی تعلق نہیں لہٰذا آپ ان سے تعرض نہ کریں (بس) ان کا معاملہ اللہ کے حوالے ہے وہ دیکھ لے گا، پھر ان کو آخرت میں ان کے سب کرتوت بتادے گا کہ ان کو ان کے اعمال کی سزا دے گا یہ حکم آیت سیف (یعنی) حکم جہاد سے منسوخ ہے، جو شخص نیک کام کرے گا یعنی لا الہٰ الا اللہ کا اقرار کرے گا تو اس کو دس گنا یعنی دس نیکیوں کے برابر اجر ملے گا اور جو شخص برا کام کرے گا اس کو اس کے برابر ہی سزا ملے گی اور ان پر ظلم نہیں کیا جائیگا یعنی ان کے اجر میں کچھ بھی کم نہ کیا جائیگا، آپ کہہ دیجئے کہ مجھے میرے رب نے ایک سیدھا راستہ بتادیا ہے بالکل ٹھیک دین اور دیناً قیماً (صراط) کے محل سے بدل ہے، جو ابراہیم (علیہ السلام) کا راستہ ہے جو اللہ کی طرف یکسو تھے اور وہ شرک کو نیوالوں میں نہی تھے، کہہ دو میری نماز اور میرے تمام مراسم عبادت حج وغیرہ اور میرا جینا اور میرا مرنا اللہ رب العالمین کے لئے ہے، اس میں جس کا کوئی شریک نہیں اور اسی توحید کا مجھے حکم دیا گیا ہے اور میں اس امت میں سب سے پہلا ماننے والا ہوں آپ کہہ دیجئے کیا اللہ کے سوا کسی اور کو معبود بنانے کیلئے تلاش کروں یعنی اس کے غیر کو تلاش نہ کروں گا، حالانکہ وہ ہر شئ کا مالک ہے ہر شخص جو بھی بدی کرتا ہے اس کا ذمہ دار وہ خود ہے، اور کوئی گنہگار نفس کسی دوسرے نفس کا بوجھ نہ اٹھائیگا پھر تم سب کو تمہارے رب کی طرف پلٹ کر جانا ہے پھر وہ تم کو اس چیز کی حقیقت بتلا دے گا جس میں تم اختلاف کیا کرتے تھے وہ وہی ہے جس نے تم کو زمین میں ایک دوسرے کا خلیفہ بنایا خلائف، خلیفہ کی جمع ہے اور ایک کو دوسرے پر مال و جاہ وغیرہ کے درجات میں فوقیت دی تاکہ تم کو عطا کردہ چیزوں میں آزمائے تاکہ فرمانبردار کر نافرمان سے ممتاز کرے یقیناً تیرا رب اپنی نافرمانی کرنے والوں کو بہت جلد سزا دینے والا ہے اور یقیناً وہ مومنین کی مغفرت کرنے والا ان پر رحم کرنے والا ہے۔ تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد قولہ : لِاَنْ لاَ تَقُوْلُوْا، لام اور لامقدر ماننے کا مقصد ایک سوال کا مقدر کا جواب ہے، سوال یہ ہے کہ اَنْ تَقُوْلُوْا، انزلناہ کا مفعول لہ واقع ہونا معنی درست نہیں ہے بلکہ عدم قول مفعول لہ ہے اسی سوال کے جواب کیلئے مفسر علام نے لام جارہ محذوف مان کر انزلناہ کی علت کے بیان کی جانب اشارہ کردیا اور اس بات کی طرف بھی اشارہ کردیا کہ ان مصدریہ ہے یہی وجہ ہے کہ تقولوا سے نون حذف ہوگیا، کسائی اور فراء نے کہا ہے کہ ان تقولوا کی اصل لِان لا تقولوا ہے، حرف جار اور حرف نفی کو حذف کیا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے قول یُبَیْنُ اللہ لکم اَن تضلوا، اس کی اصل لِئلا تضلوا تھی اسی طرح اللہ تعالیٰ کے قول ” رَوَاسِی اَنْ تَمِیْدَ بکم کی اصل لِئلا تمیدَبکم تھی، شارح علیہ الرحمۃ نے اسی توجیہ کو اختیار فرمایا ہے اور بصریین نے حذف مضاف کی توجیہ اختیار کی ہے تقدیر عبارت یہ ہے انزلناہ کراھیۃَ اَنْ تقولوا بصریین کہتے ہیں کہ ’ لا ‘ کا حذف جائز نہیں ہے اسلئے کہ جئت اَنْ اکرمَکَ کہنا درست نہیں ہے بمعنی ان لا اکرمک۔ قولہ : او تقولوا اس کا عطف سابق اَنْ تقولوا پر ہے لہٰذا یہاں بھی لام اور لا مقدر ہوں گے۔ قولہ : اَلْجُمْلَۃُ صِفَۃُ نفساً ، اس میں اشارہ ہے کہ جملہ لم تکن آمنتْ لکم من قبل، نفساً کی صفت ہے نہ کہ ایمان کی جیسا کہ قرب سے بظاہر شبہ ہوتا ہے، اسلئے کہ ایمان کیلئے ایمان لازم آئیگا جو کہ محال ہے۔ (ترویح الارواح) قولہ : اونَفْسًا لَمْ تَکُنْ ، اس میں اشارہ ہے کہ او کَسَبَتْ کا عطف آمَنَتْ پر ہے نہ کہ ایمانُھَا پر ہے۔ قولہ : ای لا تَنْفَعُھَا تَوْبَتُھا، اس اضافہ کا مقصد ایک سوال مقدر کا جواب ہے۔ سوال : یہ آیت معتزلہ کے مذہب کی حقانیت پر دلالت کرتی ہے اسلئے کہ ان کے نزدیک ایمان مجرد عن الاعمال الصالحہ نافع نہ ہوگا۔ جواب : جواب کا حاصل یہ ہے کہ آیت لف تقدیری کے قبیل سے ہے، ای لا ینفع نفساً ایمانُھا ولا کَسبُھَا فی الایمان لم تکن آمنت من قبل او کسبت فیہ خیرًا۔ قولہ : جَزَاءُ عَشَرِ حَسَنَاتٍ اس عبارت میں مفسر علام نے فَلَہٗ عَشْرُ اَمثالھا “ میں عشر میں ترک تاء کی وجہ کی جانب اشارہ کیا ہے اسلئے کہ بظاہر عشرۃ امثالھا ہونا چاہیے اسلئے کہ مثل مذکر ہے، جواب کا حاصل یہ ہے کہ امثال معنی مؤنث ہے۔ قولہ : ویُبْدَلُ مِِنْ مَحَلِّہٖ ، ھدانی کا مفعول اول ھدانی کی یاء ہے اور مفعول ثانی الی صراط مستقیم ہے اور دینًا قیماً ، صراط کے محل سے بدل ہونے کی وجہ سے منصوب ہے نہ کہ مفعول ثانی جیسا کہ بعض حضرات کو یہ مغالطہ لاحق ہوا ہے۔ قولہ : اعطاکم اس میں اشارہ ہے کہ آتاکم ایتاء سے ہے نہ کہ اتیان سے۔ تفسیر و تشریح ربط آیات : وَھٰذَا کتابٌ۔۔۔۔ (الآیۃ) گذشتہ آیات میں مشرکین کی بد عقیدگی اور خود ساختہ حلال و حرام کی پوری شدت کے ساتھ تردید کی گئی تھی، اسی سلسلہ میں بالواسطہ طور پر نبوت و رسالت کا ذکر آگیا تھا، ان آیات میں سمجھایا جا رہا ہے کہ انسان کی رہبری اور دارین کی سعادت و کامرانی کے لئے نبوت کا تاج کسی نہ کسی انسان کے سر پر رکھا جانا ضروری ہے اور یہ کوئی تعجب کی بات نہیں، پہلے بہت سے انبیاء گذر چکے ہیں جو سب کے سب انسان ہی تھے جن میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) بہت معروف و مشہور ہیں آخر میں جناب محمد رسول اللہ ﷺ تشریف لائے ہیں آخر ان کا انکار کس بناء پر کیا جاتا ہے ؟ آپ ﷺ کو جو کتاب ہدایت عطا کی گئی ہے وہ بڑی خیر و برکت والی ہے اور تمہاری زبان میں ہے لہٰذا اس کا اتباع کرکے رحمت خداوندی کے مستحق بنو، قرآن کے نزول کے بعد اب تمہارے پاس یہ عذر بھی باقی نہیں رہا کہ تم یہ کہہ سکو کہ کتابیں تو پہلے دو فرقوں یہود و نصاری پر نازل ہوئی تھیں وہ چونکہ ہماری زبان میں نہیں تھیں اسلئے ہمیں کیا معلوم کہ اس میں کیا تھا، تمہاری زبان میں کتاب نازل کرکے حجت پوری کردی گئی اب روز قیامت تمہارا کوئی عذر مسموع نہیں ہوگا، آفتاب ہدایت کے طلوع ہونے اور رہبر اعظم کے آجانے کے بعد کیا اب ان لوگوں کو صرف ملائکہ موت ہی کا انتظار ہے خوب یاد رکھو موت کے وقت عالم غیب مشاہد ہوجانے کے بعد ایمان معتبر نہیں ہے۔
Ayahs 6:164–165

قُلْ اَغَیْرَ اللّٰهِ اَبْغِیْ رَبًّا وَّ هُوَ رَبُّ كُلِّ شَیْءٍ١ؕ وَ لَا تَكْسِبُ كُلُّ نَفْسٍ اِلَّا عَلَیْهَا١ۚ وَ لَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰى١ۚ ثُمَّ اِلٰى رَبِّكُمْ مَّرْجِعُكُمْ فَیُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ فِیْهِ تَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 6:164 in the Quran reader

کہو کیا میں خدا کے سوا اور پروردگار تلاش کروں ؟ اور وہی تو ہر چیز کا مالک اور جو کوئی (بُرا) کام کرتا ہے تو اس کا ضرر اسی کو ہوتا ہے۔ اور کوئی شخص کسی (کے گناہ) کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ پھر تم سب کو اپنے پروردگار کیطرف لوٹ کر جانا ہے۔ تو جن جن باتوں میں تم اختلاف کیا کرتے تھے وہ تم کو بتائے گا۔

وَ هُوَ الَّذِیْ جَعَلَكُمْ خَلٰٓئِفَ الْاَرْضِ وَ رَفَعَ بَعْضَكُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجٰتٍ لِّیَبْلُوَكُمْ فِیْ مَاۤ اٰتٰىكُمْ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ سَرِیْعُ الْعِقَابِ١ۖ٘ وَ اِنَّهٗ لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠ Open ayah 6:165 in the Quran reader

اور وہی تو ہے جس نے زمین میں تم کو اپنا نائب بنایا اور ایک دوسرے پر درجے بلند کئے۔ تاکہ جو کچھ اس نے تمہیں بخشا ہے اس میں تمہاری آزمائش کرے۔ بیشک تمہارا پروردگار جلد عذاب دینے والا ہے اور بیشک وہ بخشے والا مہربان (بھی) ہے۔

لاَ تزِرُ ۔۔۔۔۔۔۔ اخریٰ ، یعنی قیامت کے روز کوئی شخص دوسرے کا بار گناہ نہیں اٹھائیگا، اس آیت میں ایک عام ضابطہ بیان کیا گیا ہے کہ قیامت کے معاملہ کو دنیا پر قیاس نہ کرو یہاں ایک شخص جرم کرکے دوسرے کے سر ڈال سکتا ہے خصوصاً جبکہ دوسرا شخص خود رضا مند ہو، مگر عدالت الہٰیہ میں اس کی کوئی گنجائش نہیں وہاں ایک کے جرم میں دوسرا ہرگز نہیں پکڑا جاسکتا ایک میت کے جنازہ پر حضرت عبد اللہ بن عمر نے کسی کو روتے ہوئے دیکھا تو فرمایا زندوں کے رونے سے مردہ کو عذاب ہوتا ہے، ابن ابی ملیکہ کہتے ہیں کہ میں نے یہ قول حضرت عائشہ ؓ کے سامنے نقل کیا تو انہوں نے فرمایا کہ تم ایک ایسے شخص کا یہ قول نقل کر رہے ہو جو کبھی نہ جھوٹ بولتا ہے نہ اس کی ثقاہت میں کوئی شبہ ہوسکتا ہے، مگر کبھی سننے میں بھی غلطی ہوجاتی ہے، اس معاملہ میں تو قرآن کا ناطق فیصلہ موجود ہے لا تزر وازرۃ وزرَ اخریٰ یعنی ایک کا گناہ دوسرے کے سر نہیں رکھا جاسکتا تو کسی زندہ کے رونے سے مردہ بےقصور کس طرح معذب ہوسکتا ہے۔ (در منثور، معارف) مذکورہ تفصیل سے معلوم ہوا کہ مسیحیوں کا عقیدہ کفارہ محض باطل اور لغو ہے کہ حضرت مسیح (علیہ السلام) نے سولی پر چڑھ کر تمام مسیحیوں کے گناہوں کا کفارہ ادا کردیا، اب کوئی مسیحی کسی گناہ میں ماخوذ نہیں ہوگا اسی طرح مسیحیوں کا یہ عقیدہ بھی مہمل اور باطل ہے کہ آدم (علیہ السلام) کی معصیت کی سزا نسلاً بعد نسل پوری اولاد آدم کو ملتی رہے گی نیز مشرکوں کا یہ عقیدہ بھی باطل قرار پایا کہ خدا کسی کو بھی کسی کے بدلے سزا دے سکتا ہے۔ (ماجدی) تمَّ بحمد اللہ