6. Surah Al-An'aam

الأنعامThe Cattle · 165 ayahsتفسیرِ جلالین

Ayahs 6:35–41

وَ اِنْ كَانَ كَبُرَ عَلَیْكَ اِعْرَاضُهُمْ فَاِنِ اسْتَطَعْتَ اَنْ تَبْتَغِیَ نَفَقًا فِی الْاَرْضِ اَوْ سُلَّمًا فِی السَّمَآءِ فَتَاْتِیَهُمْ بِاٰیَةٍ١ؕ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَجَمَعَهُمْ عَلَى الْهُدٰى فَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْجٰهِلِیْنَ Open ayah 6:35 in the Quran reader

اور اگر ان کی روگردانی تم پر شاق گزرتی ہے تو اگر طاقت ہو تو زمین میں کوئی سرنگ ڈھونڈھ نکالو یا آسمان میں سیڑھی (تلاش کرو) پھر ان کے پاس کوئی معجزہ لاؤ۔ اور اگر خدا چاہتا تو سب کو ہدایت پر جمع کردیتا۔ پس تم ہرگز نادانوں میں نہ ہونا۔

اِنَّمَا یَسْتَجِیْبُ الَّذِیْنَ یَسْمَعُوْنَ١ؔؕ وَ الْمَوْتٰى یَبْعَثُهُمُ اللّٰهُ ثُمَّ اِلَیْهِ یُرْجَعُوْنَؐ Open ayah 6:36 in the Quran reader

بات یہ ہے کہ (حق کو) قبول وہی کرتے ہیں جو سنتے بھی ہیں اور مردوں کو تو خدا (قیامت ہی کو) اٹھائے گا۔ پھر اسی کی طرف لوٹ کر جائیں گے۔

وَ قَالُوْا لَوْ لَا نُزِّلَ عَلَیْهِ اٰیَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ١ؕ قُلْ اِنَّ اللّٰهَ قَادِرٌ عَلٰۤى اَنْ یُّنَزِّلَ اٰیَةً وَّ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 6:37 in the Quran reader

اور کہتے ہیں کہ ان پر ان کے پروردگار کے پاس کے کوئی نشانی کیوں نازل نہیں ہوئی ؟ کہہ دو کہ خدا نشانی اتار نے پر قادر ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔

وَ مَا مِنْ دَآبَّةٍ فِی الْاَرْضِ وَ لَا طٰٓئِرٍ یَّطِیْرُ بِجَنَاحَیْهِ اِلَّاۤ اُمَمٌ اَمْثَالُكُمْ١ؕ مَا فَرَّطْنَا فِی الْكِتٰبِ مِنْ شَیْءٍ ثُمَّ اِلٰى رَبِّهِمْ یُحْشَرُوْنَ Open ayah 6:38 in the Quran reader

اور زمین میں جو چلنے پھرنے والا (حیوان) یا دو پروں سے اڑنے والا جانور ہے انکی بھی تم لوگوں کی طرح جماعتیں ہیں۔ ہم نے کتاب (یعنی لوح محفوظ) میں کسی چیز (کے لکھنے) میں کوتاہی نہیں کی۔ پھر سب اپنے پروردگار کی طرف جمع کئے جائینگے۔

وَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا صُمٌّ وَّ بُكْمٌ فِی الظُّلُمٰتِ١ؕ مَنْ یَّشَاِ اللّٰهُ یُضْلِلْهُ١ؕ وَ مَنْ یَّشَاْ یَجْعَلْهُ عَلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 6:39 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا وہ بہرے اور گونگے ہیں (اسکے علاوہ) اندھیرے میں (پڑے ہوئے) جس کو خدا چاہے گمراہ کردے اور جسے چاہے سیدھے راستے پر چلا دے۔

قُلْ اَرَءَیْتَكُمْ اِنْ اَتٰىكُمْ عَذَابُ اللّٰهِ اَوْ اَتَتْكُمُ السَّاعَةُ اَغَیْرَ اللّٰهِ تَدْعُوْنَ١ۚ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 6:40 in the Quran reader

کہو (کافرو) بھلا دیکھو تو اگر تم پر خدا کا عذاب آجائے یا قیامت آموجود ہو۔ تو کیا تم (ایسی حالت میں) خدا کے سوا کسی اور کو پکارو گے ؟ اگر سچے ہو (تو بتاؤ) ۔

بَلْ اِیَّاهُ تَدْعُوْنَ فَیَكْشِفُ مَا تَدْعُوْنَ اِلَیْهِ اِنْ شَآءَ وَ تَنْسَوْنَ مَا تُشْرِكُوْنَ۠ Open ayah 6:41 in the Quran reader

(نہیں) بلکہ (مصیبت کے وقت تم) اسی کو پکارتے ہو تو جس دکھ کے لئے اسے پکارتے ہو وہ اگر چاہتا ہے تو اس کو دور کردیتا ہے اور جن کو تم شریک بناتے ہو (اس وقت) انھیں بھول جاتے ہو

وَاِن کان کبُرَ عَلیْکَ اِعْراضھم (الآیۃ) مشرکین مکہ کا یہ مطالبہ تھا کہ اگر یہ نبی ہیں تو ان کے ساتھ کوئی نشان ہمیشہ رہنا چاہیے جسے ہم کوئی دیکھ کر یقین کرنے پر ایمان لانے پر مجبور ہوجایا کرے، چونکہ آپ ﷺ تمام انسانوں خصوصاً قریش میں ہدایت پر بہت حریص تھے شاید آپ کے دل میں یہ بات آئی ہو کہ کاش ان کا یہ مطالبہ پورا کردیا جائے تو شاید ان کا کفر ہٹ جائے جس کی وجہ سے قوم کی ہدایت کے راستے کھل جائیں، اس لئے حق تعالیٰ نے یہ تربیت فرمائی کہ تلوینیات میں مشیت۔۔۔ کے تابع رہو تکوین کا مقتضی نہیں کہ ساری دنیا کو ایمان لانے پر مجبور کردیا جائے ورنہ تو خدا اس پر بھی قادر ہے کہ پیغمبروں کے توسط اور نشانیوں کے بغیر سب کو سیدھی راہ پر جمع کر دے، جب خدا کی حکمت ایسے مجبور کن معجزات اور فرمائشی نشانات دکھانے کو مقتضی نہیں تو مشیت الہیٰ کے خلاف کسی کو یہ طاقت کہاں ہے کہ وہ زمین میں سرنگ بنا کر یا آسمان پر سیڑھی لگا کر ایسا فرمائشی معجزہ لا کر دکھا دے خدا کے قوانین حکمت و تدبیر کے خلاف کسی چیز کے وقوع کی امید رکھنا نادانوں کا کام ہے، تاہم اگر لوگوں کے موجودہ جمہود اور ان کے انکار کی سختی پر آپ سے صبر نہیں ہوسکتا اور آپ کو گمان ہے کہ اس جمود کو توڑنے کیلئے کسی محسوس نشانی کا مشاہدہ کرنا ہی ضروری ہے تو خود زور لگاؤ اور اگر تمہارا بس چلے تو زمین میں گھس کر یا آسمان پر چڑھ کر کوئی ایسا معجززہ لانے کی کوشش کرو جسے تم سمجھو کہ یہ بےیقینی کو یقین میں تبدیل کردینے کیلئے کافی ہے مگر ہم سے امید نہ رکھو کہ ہم تمہاری یہ خواہش پوری کریں گے، اسلئے کہ تدبیر و حکمت میں اس کی کوئی گنجائش نہیں۔ ایّاہ تعبدون ان کنتم صٰدِقین، گزشتہ آیت میں ارشاد ہوا تھا کہ تم ایک نشانی کا مطالبہ کرتے ہو حالانکہ تمہارے گرد و پیش میں ہر طرف نشانیاں بکھری پڑی ہیں، کائناتی نشانیوں کے علاوہ خود منکرین حق کے اپنے نفس میں نشانی موجود ہے، جب انسان پر کوئی بڑی آفت آجاتی ہے یا موت اپنی بھیانک صورت کے ساتھ سامنے آکھڑی ہوتی ہے تو اس ایک خدا کے دامن کے سوا کوئی دوسری پناہ گاہ اسے نظر نہیں آتی، بڑے سے بڑے مشرک ایسے موقع پر اپنے معبودوں کو بھول کر خدائے وحدہٗ لاشریک لہٗ کو پکارنے لگتے ہیں ابوجہل کے بیٹے عکرمہ کو اسی نشانی کے مشاہدہ سے ایمان کی توفیق نصیب ہوئی، جب مکہ معظمہ نبی کریم ﷺ کے دست مبارک پر فتح ہوگیا تو عکرمہ گرفتاری کے خوف سے جدہ کی طرف بھاگے اور ایک کشتی پر سوار ہو کر حبشہ کی راہ لی راستہ میں کشتی طوفانی موجوں سے دوچار ہو کر گرداب میں پھنس گئی اول اول تو دیویوں اور دیوتاؤں کو پکارا جاتا رہا مگر جب طوفان کی شدت بڑھتی ہی چلی گئی اور مسافروں کو یقین ہوگیا کہ اب کشتی یقیناً غرق ہوجائیگی تو سب کہنے لگے یہ وقت خدا کے سوا کسی کو پکارنے کا نہیں ہے اگر وہی چاہے تو ہم بچ سکتے ہیں، اس وقت علرمہ کی چشم عبرت کھلی اور اس کے دل نے آواز دی کہ اگر یہاں اللہ کے سوا کوئی مددگار نہیں تو پھر کہیں اور کیوں ہو ؟ یہی وہ بات ہے جس کو وہ نیک بندہ ہمیں کئی برس سے سمجھا رہا ہے اور ہم خواہ مخواہ اس سے لڑ رہے ہیں یہ عکرمہ کی زندگی میں فیصلہ کن لمحہ تھا، انہوں نے اسی وقت خدا سے عہد کیا کہ اگر میں اس طوفان سے بچ گیا تو سیدھا محمد ﷺ کے پاس جاؤں گا اور ان کے ہاتھ میں ہاتھ دیدوں گا چناچہ انہوں نے اپنے عہد کو پورا کیا اور بہت خوب پورا کیا۔
Ayahs 6:42–43

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَاۤ اِلٰۤى اُمَمٍ مِّنْ قَبْلِكَ فَاَخَذْنٰهُمْ بِالْبَاْسَآءِ وَ الضَّرَّآءِ لَعَلَّهُمْ یَتَضَرَّعُوْنَ Open ayah 6:42 in the Quran reader

اور ہم نے تم سے پہلے بہت سی امتوں کی طرف پیغمبر بھیجے (پھر انکی طرف نافرمانیوں کے سبب) ہم انھیں سختیوں اور تکلیفوں میں پکڑتے رہے تاکہ عاجزی کریں۔

فَلَوْ لَاۤ اِذْ جَآءَهُمْ بَاْسُنَا تَضَرَّعُوْا وَ لٰكِنْ قَسَتْ قُلُوْبُهُمْ وَ زَیَّنَ لَهُمُ الشَّیْطٰنُ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 6:43 in the Quran reader

تو جب ان پر ہمارا عذاب آتا رہا کیوں نہیں عاجزی کرتے رہے۔ مگر ان کے تو دل ہی سخت ہوگئے تھے۔ اور جو کام وہ کرتے تھے شیطان ان کو (اُنکی نظروں میں) آراستہ کر دکھاتا تھا۔

آیت نمبر 42 تا 50 ترجمہ : اور ہم نے تم سے پہلے (بہت سی) قوموں کی طرف رسول بھیجے تھے مِن زائدہ ہے تو انہوں نے ان کی تکذیب کی، تو ہم نے ان کی تنگدستی اور بیماری میں پکڑا تاکہ وہ ڈھیلے پڑجائیں (یعنی) عاجزی کریں اور ایمان لے آئیں سو جب ان کو ہمارا عذاب پہنچا تو انہوں نے عاجزی کیوں اختیار نہ کی ؟ یعنی انہوں نے عاجزی اختیار نہیں کہ حالانکہ اس کا مقتضی موجود تھا، لیکن ان کے قلوب (مزید) سخت ہوگئے جس کی وجہ سے ایمان لانے کیلئے نرم نہیں پڑے اور شیطان ان کے برے اعمال کو ان کی نظر میں آراستہ کرکے پیش کرتا رہا اور وہ ان ہی اعمال پر مصر رہے پھر جب انہوں نے اس نصیحت کو بھلا دیا جو ان کو کی گئی تھی اور جس کے ذریعہ مصائب و آلام سے ڈرایا گیا تھا تو انہوں نے نصیحت حاصل نہ کی تو ہم نے ان کیلئے ڈھیل کے طور پر ہر قسم کی خوشحالی کے دروازے کھول دئیے یہاں تک کہ جب وہ بخششوں میں اترانے کے طور پر مگن مست ہوگئے تو ہم نے ان کو عذاب میں اچانک پکڑ لیا (تو اب صورت حال یہ ہوئی) کہ وہ ہر خیر سے ناامید ہوگئے چناچہ اس ظالم قوم کی جڑ کاٹ کر رکھ دی گئی (یعنی) ان کے آخری فرد کی بھی جڑ کاٹ دی گئی، بایں طور کہ ان کو بالکلیہ جڑ سے اکھاڑ پھینکا گیا اور رسولوں کی نصر اور کافروں کی ہلاکت پر تعریف اللہ رب العالمین ہی کیلئے ہے، (اے محمد) اہل مکہ سے کہو تم مجھے بتاؤ اگر اللہ تمہاری قوت و سماعت لے لے (یعنی) تم کو بہرہ کر دے اور تمہاری بینائی سلب کرلے بایں طور کہ تم کو اندھا کر دے اور تمہارے دلوں پر مہر لگا دے کہ تم کچھ نہ سمجھ سکو، اللہ کے سوا تمہارے خیال میں کون معبود ہے کہ سلب کردہ تمہاری ان قوتوں کو واپس دلا دے ؟ دیکھو ہم اپنی وحدانیت پر کس طرح بار بار دلائل پیش کر رہے ہیں پھر (بھی) وہ اس سے اعراض کرتے ہیں جس کی وجہ سے وہ ایمان نہیں لاتے، آپ ان سے پوچھو کہ کبھی تم نے سوچا کہ اگر تم پر اللہ کا عذاب اچانک یا علانیہ رات میں یا دن میں آجائے تو ظالموں کافروں کے سوا کون ہلاک ہوگا یعنی کافروں کے سوا کوئی ہلاک نہ ہوگا، ہم رسول صرف اسی لئے بھیجتے ہیں کہ ایمان لانے والوں کو جنت کی خوشخبری سنائیں اور کافروں کو جہنم سے ڈرائیں، سو جو ان پر ایمان لایا اور اپنے عمل کی اصلاح کرلی ان کے لئے آخرت میں کسی خوف و رنج کا موقع نہیں اور جو ہماری آیتوں کو جھٹلائیں تو ان کو اپنے اعمال فاسقہ کی وجہ سے سزا بھگتنی ہی ہوگی، یعنی ان کے حد طاعت سے نکل جانے کی وجہ سے، (اے محمد) تم ان سے کہہ دو کہ میں تم سے یہ نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں جس میں سے وہ رزق دیتا ہے اور نہ میں غیب کا علم رکھتا ہوں یعنی جو مجھ سے غائب ہے اور حال یہ کہ میری طرف (اس کے بارے میں) وحی نہ بھیجی گئی ہو اور نہ میں یہ کہتا ہوں کہ میں فرشتوں میں سے ایک فرشتہ ہوں میں تو صرف اس وحی کی پیروی کرتا ہوں جو میری طرف وحی کی جاتی ہے، پھر ان سے پوچھو کہ اندھا (یعنی) کافر، اور بینا (یعنی) مومن دونوں برابر ہوسکتے ہیں ؟ نہیں، کیا تم اس میں غور نہیں کرتے ؟ کہ ایمان لے آؤ۔ تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد قولہ : مِن زائدۃٌ، مِن قَبْلِکَ میں مِن زائد ہے، اس لئے کہ ظرف حرف جر کا متقاضی نہیں ہے۔ قولہ : رُسُلاً ، یہ اَرْسَلْنا کا مفعول محذوف ہے۔ قولہ : فَکَذَبُوْھُمْ ۔ سوال : فکذبوھم محذوف ماننے کی کیا ضرورت پیش آئی۔ جواب : تاکہ فاخذناھم، کی تفریح درست ہوجائے، تقدیر عبارت یہ ہوگی، ” وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا اَلی امم من قبلِکَ رُسُلاً فکذبوھم فاخذنٰھم “ ، ورنہ تو محض ارسال رسل پر مؤاخذہ کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ قولہ : اخذہٗ منکم۔ سوال : اخذہٗ میں ضمیر کو واحد کس لئے لائے ہیں حالانکہ اس کا مرجع جمع ہے ؟ جواب : ماخوذ مذکور کی تاویل کی وجہ سے ضمیر واحد لائے ہیں۔ قولہ : بزعمکم، کا تعلق مَن الہٌ سے ہے، یعنی وہ اِلہٰ کہ جس کو تم الہٰ سمجھتے ہو۔ تفسیر و تشریح فَلَولاَ اِذْ جَاءَھم باسُنَا تضرعوا (الآیۃ) قومیں جب اخلاق و کردار کی پستی میں مبتلا ہو کر اپنے دلوں کو زنگ آلود کرلیتی ہیں تو اس وقت اللہ کا عذاب بھی انہیں خواب غفلت سے بیدار کرنے اور جھنجھوڑنے میں ناکام رہتا ہے پھر اسکے ہاتھ طلب مغفرت کیلئے اللہ کے سامنے نہیں اٹھتے نہ ان کے دل اس بارگاہ میں جھکتے ہیں اور ان کے رخ اصلاح کی طرف مڑتے ہیں بلکہ اپنی بد اعمالیوں پر تاویلات اور توجیہات کے حسین غلاف چڑھا کر اپنے دل کو مطمئن کرلیتے ہیں، اس آیت میں ایسی ہی قوموں کا وہ کردار بیان کیا گیا ہے جسے شیطان نے اس کے لئے خوبصورت بنادیا ہے۔
Ayahs 6:44–49

فَلَمَّا نَسُوْا مَا ذُكِّرُوْا بِهٖ فَتَحْنَا عَلَیْهِمْ اَبْوَابَ كُلِّ شَیْءٍ١ؕ حَتّٰۤى اِذَا فَرِحُوْا بِمَاۤ اُوْتُوْۤا اَخَذْنٰهُمْ بَغْتَةً فَاِذَا هُمْ مُّبْلِسُوْنَ Open ayah 6:44 in the Quran reader

پھر جب انہوں نے اس نصیحت کو جو انکو کی گئی تھی فراموش کردیا تو ہم نے ان پر ہر چیز کے دروازے کھولدیے۔ یہاں تک کہ جب ان چیزوں سے جو ان کو دی گئی تھیں خوب خوش ہوگئے تو ہم نے انکو ناگہاں پکڑ لیا۔ اور وہ اس وقت مایوس ہو کر رہ گئے۔

فَقُطِعَ دَابِرُ الْقَوْمِ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا١ؕ وَ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 6:45 in the Quran reader

غرض ظالم لوگوں کی جڑ کاٹ دی گئی۔ اور سب تعریف خدائے رب العالمین ہی کو (سزاوار ہے)

قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ اَخَذَ اللّٰهُ سَمْعَكُمْ وَ اَبْصَارَكُمْ وَ خَتَمَ عَلٰى قُلُوْبِكُمْ مَّنْ اِلٰهٌ غَیْرُ اللّٰهِ یَاْتِیْكُمْ بِهٖ١ؕ اُنْظُرْ كَیْفَ نُصَرِّفُ الْاٰیٰتِ ثُمَّ هُمْ یَصْدِفُوْنَ Open ayah 6:46 in the Quran reader

(ان کافروں سے) کہو کہ بھلا دیکھو تو اگر خدا تمہارے کان اور آنکھوں چھین لے اور تمہارے دلوں پر مہر لگا دے تو خدا کے سوا کونسا معبود ہے جو تمہیں یہ نعمتیں پھر بخشے ؟ دیکھو ہم کس کس طرح اپنی آیتیں بیان کرتے ہیں پھر بھی یہ لوگ روگردنی کرتے ہیں۔

قُلْ اَرَءَیْتَكُمْ اِنْ اَتٰىكُمْ عَذَابُ اللّٰهِ بَغْتَةً اَوْ جَهْرَةً هَلْ یُهْلَكُ اِلَّا الْقَوْمُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 6:47 in the Quran reader

کہو کہ بھلا بتاؤ تو اگر تم پر خدا کا عذاب بیخبر ی میں یا خبر آنے کے بعد آئے تو کیا ظالم لوگوں کے سواء کوئی اور بھی ہلاک ہوگا ؟

وَ مَا نُرْسِلُ الْمُرْسَلِیْنَ اِلَّا مُبَشِّرِیْنَ وَ مُنْذِرِیْنَ١ۚ فَمَنْ اٰمَنَ وَ اَصْلَحَ فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ Open ayah 6:48 in the Quran reader

اور ہم جو پیغمبروں کو بھیجتے رہے ہیں تو خوش خبری سنانے اور ڈرانے کو۔ پھر جو شخص ایمان لائے اور نیکوکار ہوجائے تو ایسے لوگوں کو نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ وہ اندوہناک ہوں گے۔

وَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا یَمَسُّهُمُ الْعَذَابُ بِمَا كَانُوْا یَفْسُقُوْنَ Open ayah 6:49 in the Quran reader

اور جنہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا ان کی نافرمانیوں کے سبب انھیں عذاب ہوگا۔

فلَمّا نَسُوا مَا ذکّروا بہٖ فَتَحنا عَلَیْھم ابوابَ کلِّ شیّٔ (الآیۃ) اس آیت میں خدا فراموش قوموں کی بابت اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ہم بعض دفعہ وقتی طور پر ایسی قوموں پر دنیا کی آسائشوں اور فراوانیوں کے دروازے کھول دیتے ہیں یہاں تک کہ جب وہ اس میں خوب مگن مست ہوجاتی ہیں اور مادی خوشحالی و ترقی پر اترانے لگتی ہیں تو پھر ہم اچانک انہیں اپنی گرفت میں لے لیتے ہیں، اور ان کی جڑ ہی کاٹ کر رکھ دیتے ہیں، حدیث میں بھی وارد ہوا ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا، کہ جب تم دیکھو کہ اللہ تعالیٰ نافرمانیوں کے باوجود کسی کو اس کی خواہشات کے مطابق دنیا دے رہا ہے تو یہ استدراج (ڈھیل) ہے، پھر آپ نے یہی آیت تلاوت فرمائی۔ (مسند احمد) قرآن کریم کی اس آیت اور حدیث نبوی سے معلوم ہوا کہ دنیوی ترقی اور خوش حالی اس بات کی دلیل نہیں ہے کہ ایسے افراد یا۔۔ خدا کے چہیتے اور محبوب ہیں۔
Ayah 6:50

قُلْ لَّاۤ اَقُوْلُ لَكُمْ عِنْدِیْ خَزَآئِنُ اللّٰهِ وَ لَاۤ اَعْلَمُ الْغَیْبَ وَ لَاۤ اَقُوْلُ لَكُمْ اِنِّیْ مَلَكٌ١ۚ اِنْ اَتَّبِعُ اِلَّا مَا یُوْحٰۤى اِلَیَّ١ؕ قُلْ هَلْ یَسْتَوِی الْاَعْمٰى وَ الْبَصِیْرُ١ؕ اَفَلَا تَتَفَكَّرُوْنَ۠ Open ayah 6:50 in the Quran reader

کہہ دو کہ میں تم سے یہ نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ تعالیٰ کے خزانے ہیں اور نہ (یہ کہ) میں غیب جانتا ہوں اور نہ تم سے یہ کہتا ہوں کہ میں فرشتہ ہوں میں تو صرف اس حکم پر چلتا ہوں جو مجھے (خدا کی طرف سے) آتا ہے کہہ دو کہ بھلا اندھا اور آنکھ والا برابر ہوتے ہیں ؟ تو پھر تم غور کیوں نہیں کرتے ؟

قُلْ لاَ اقولُ لکم عندی خزائن اللہ، آپ کہہ دیجئے کہ میں خدائی خزانوں کا مالک نہیں ہوں کہ میں تمہیں خدا کے۔۔ و مشیت کے بغیر تمہارا فرمائشی معجزہ دکھا سکوں میرے پاس غیب کا علم بھی نہیں مطلع کرسکوں مجھے فرشتہ ہونیکا دعویٰ بھی نہیں کہ تم مجھے خرق عادت امور پر مجبور کرو جو انسانی طاقت سے باہر ہوں میں تو صرف نزول وحی کا پیرو ہوں جو مجھ پر نازل ہوتی ہے اور اس میں حدیث بھی شامل ہے جیسا کہ آپ نے فرمایا، ” اُوْتیتُ القرآن و مثلہ۔۔۔ “ مجھے قرآن کے ساتھ اس کا مثل بھی دیا گیا ہے وہ مثل حدیث رسول اللہ ﷺ ہی ہے۔
Ayahs 6:51–55

وَ اَنْذِرْ بِهِ الَّذِیْنَ یَخَافُوْنَ اَنْ یُّحْشَرُوْۤا اِلٰى رَبِّهِمْ لَیْسَ لَهُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ وَلِیٌّ وَّ لَا شَفِیْعٌ لَّعَلَّهُمْ یَتَّقُوْنَ Open ayah 6:51 in the Quran reader

اور جو لوگ خوف رکھتے ہیں کہ اپنے پروردگار کے روبرو حاضر کئے جائیں گے (اور جانتے ہیں کہ) اس کے سوا نہ تو ان کا کوئی دوست ہوگا اور نہ سفارش کرنے والا۔ ان کو اس (قرآن) کے ذریعے سے نصیحت کرو تاکہ پرہیزگار بنیں۔

وَ لَا تَطْرُدِ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَدٰوةِ وَ الْعَشِیِّ یُرِیْدُوْنَ وَجْهَهٗ١ؕ مَا عَلَیْكَ مِنْ حِسَابِهِمْ مِّنْ شَیْءٍ وَّ مَا مِنْ حِسَابِكَ عَلَیْهِمْ مِّنْ شَیْءٍ فَتَطْرُدَهُمْ فَتَكُوْنَ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 6:52 in the Quran reader

اور جو لوگ صبح وشام اپنے پروردگار سے دعا کرتے ہیں (اور) اسکی ذات کے طالب ہیں انکو (اپنے پاس سے) مت نکالو۔ ان کے حساب (اعمال) کی جوابدہی تم پر کچھ نہیں اور تمہارے حساب کی جواب دہی ان پر کچھ نہیں (پس ایسا نہ کرنا) اگر انکو نکالو گے تو ظالموں میں ہوجاؤ گے۔

وَ كَذٰلِكَ فَتَنَّا بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ لِّیَقُوْلُوْۤا اَهٰۤؤُلَآءِ مَنَّ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ مِّنْۢ بَیْنِنَا١ؕ اَلَیْسَ اللّٰهُ بِاَعْلَمَ بِالشّٰكِرِیْنَ Open ayah 6:53 in the Quran reader

اور اسی طرح ہم نے بعض لوگوں کی بعض سے آزمائش کی ہے کہ (جو دولت مند ہیں وہ غریبوں کی نسبت) کہتے ہیں ' کیا یہی لوگ ہیں جن پر خدا نے ہم سے فضل کیا ہے (خدا نے فرمایا) بھلا خدا شکر کرنیوالوں سے واقف نہیں ؟

وَ اِذَا جَآءَكَ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِاٰیٰتِنَا فَقُلْ سَلٰمٌ عَلَیْكُمْ كَتَبَ رَبُّكُمْ عَلٰى نَفْسِهِ الرَّحْمَةَ١ۙ اَنَّهٗ مَنْ عَمِلَ مِنْكُمْ سُوْٓءًۢا بِجَهَالَةٍ ثُمَّ تَابَ مِنْۢ بَعْدِهٖ وَ اَصْلَحَ فَاَنَّهٗ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 6:54 in the Quran reader

اور جب تمہارے پاس ایسے لوگ آیا کریں جو ہماری آیتوں پر ایمان لاتے ہیں تو ( ان سے) سلام علیکم کہا کرو۔ خدا نے اپنی ذات (پاک) پر رحمت کو لازم کرلیا ہے کہ جو کوئی تم میں سے نادانی سے کوئی بری حرکت کر بیٹھے پھر اس کے بعد توبہ کرلے اور نیکوکار ہوجائے تو وہ بخشنے والا مہربان ہے

وَ كَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ وَ لِتَسْتَبِیْنَ سَبِیْلُ الْمُجْرِمِیْنَ۠ Open ayah 6:55 in the Quran reader

اور اسی طرح ہم اپنی آیتیں کھول کھول کر بیان کرتے ہیں (تاکہ تم لوگ ان پر عمل کرو) اور اس لئے کہ گناہ گاروں کا راستہ ظاہر ہوجائے

آیت نمبر 51 تا 55 ترجمہ : اور آپ قرآن کے ذریعہ ایسے لوگوں کو ڈرائیے جو اس بات کا اندیشہ رکھتے ہیں کہ وہ اپنے رب کے سامنے ایسی حالت میں جائیں گے کہ ان کا اس کے سوانہ کوئی ولی ہوگا جو ان کی مدد کرسکے اور نہ شفیع کہ ان کی شفارش کرسکے، اور جملہ منفیہ یحشروا کی ضمیر سے حال ہے اور یہی محل خوف ہے اور مراد اس سے عصاۃ المومنین ہیں، توقع ہے کہ وہ اپنے معمولات کو چھوڑ کر اور اعمال طاعت کو اختیار کرکے خدا ترسی کی روش اختیار کرلیں، اور ان لوگوں کو (مجلس سے) نہ نکالئے جو صبح و شام اپنے رب کی عبادت کرتے ہیں ان کا مقصد ان کی عبادت سے محض خدا کی ذات ہے نہ کہ دنیا کی اور کوئی غرض اور وہ فقراء (نادار) تھے اور مشرکین ان کے بارے میں طعنہ زنی کرتے تھے اور اس بات کا مطالبہ کرتے تھے کہ ان کو (مجلس سے) نکال دیں تاکہ وہ آپ کی مجلس میں بیٹھیں، اور آپ ﷺ نے ان کے اسلام کی خواہش کے پیش نظر اس کا ارادہ بھی کرلیا تھا۔ اگر ان (فقراء) کا باطن ناپسندیدہ ہو تو ان کا ذرہ برابر حساب آپ کے ذمہ نہیں، من زائدہ ہے اور نہ ذرہ برابر آپ کا حساب ان کے ذمہ ہے کہ آپ ان کو (مجلس) سے نکال دیں یہ جواب نفی ہے، اگر آپ نے ایسا کیا تو آپ کا شمار ظالموں میں ہوجائیگا، اور اسی طرح ہم نے بعض کو بعض کے ذریعہ آزمائش میں ڈال رکھا ہے یعنی شریف کو کمینہ کے ذریعہ اور مالدار کو فقیر کے ذریعہ بایں طور کہ ہم نے اس کو ایمان کی طرف سبقت کرنے میں مقدم کردیا، تاکہ شرفاء اور اغنیاء منکرین کہیں کیا یہی فقراء ہیں جن پر ہم میں سے ہدایت کا اللہ نے انعام فرمایا یعنی جس (طریقہ) پر یہ ہیں اگر وہ ہدایت ہوتا تو یہ اس کی طرف ہم سے سبقت نہ کرتے اللہ تعالیٰ نے فرمایا، کیا یہ بات نہیں ہے کہ اللہ اپنے شکر گزاروں کو بخوبی جانتا ہے کہ ان کو ہدایت دے، ہاں کیوں نہیں، اور جب وہ لوگ جو ہماری آیتوں پر ایمان لا چکے ہیں آپ کے پاس آئیں تو ان سے کہئے تم پر سلامتی ہو تمہارے رب نے اپنے ذمہ رحمت کو لازم کرلیا ہے یہ اس کا رحم و کرم ہی تو ہے کہ اگر تم میں سے کوئی نادانی کی وجہ سے کسی برائی کا ارتکاب کر بیٹھا (اور) پھر اس ارتکاب کے بعد اس نے اس برائی سے توبہ کرلی اور اپنے عمل کی اصلاح کرلی تو اللہ اسے معاف کردیتا ہے اور ایک قراءت میں ہمزہ کے فتحہ کے ساتھ ہے (یعنی) اس کیلئے مغفرت ہے، اور جس طرح ہم نے یہ مذ کو رہ مضمون کیا ہے اسی طرح ہم قرآن کی آیتوں کو کھول کھول کر بیان کرتے ہیں، تاکہ حق ظاہر ہوجائے اور اس پر عمل کرے، اور تاکہ مجرموں کی راہ بالکل واضح ہوجائے تاکہ اس سے اجتناب کیا جائے، اور ایک قراءت میں (یَسْتَبِیْن) یاء تحتانیہ کے ساتھ ہے اور دوسری قراءت میں (تاء) فوقانیہ کے ساتھ اور سبیل نصب کے ساتھ ہے (اس صورت میں) خطاب نبی ﷺ کے لئے ہوگا۔ تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد قولہ : وجُمْلَۃُ النَّفِیْ حَالٌ مِنْ ضَمِیْرِ یُحْشَرُوْا، اس میں اشارہ ہے کہ جملہ منفیہ، اَلَّذِیْنَ یَخَافونَ کی صفت نہیں ہے اسلئے کہ اَلذِین معرفہ ہے اور جملہ منفیہ نکرہ اور نکرہ معرفہ کی صفت واقع نہیں ہوتا اور نہ یحشروا کی ضمیر سے صفت ہے اس لئے کہ قاعدہ مشہور ہے الضمیر لا یوصف ولا یوصف بہ، بلکہ، یُحشروا کی ضمیر سے حال ہے۔ قولہ : وھِیَ مَحَلُّ الْخَوْفِ ، اس اضافہ کا مقصد ایک سوال مقدر کا جواب ہے۔ سوال : حشر سے ڈرانے سے کیا مقصد ہے ؟ جبکہ حشر تو لامحالہ واقع ہونے ہی والا ہے اس سے ڈرانا ممکن نہیں ہے کہ نذار مفید ہو۔ جواب : محل انذار یعنی مخوف بہ ایسی حالت میں حشر ہے کہ ان کا کوئی والی اور ناصر نہ ہو، اور مراد والَّذِین یخافون سے گنہگار مؤمنین ہیں، اسلئے کہ جو شخص حشر کا یقین و عقیدہ ہی نہ رکھتا ہو تو اس کو ڈرانا بےسود ہے اور جو پہلے ہی سے متقی ہے اس کو ڈرانا تحصیل حاصل ہے، لہٰذا متعین ہوگیا کہ جن کو ڈرانے کا حکم دیا جا رہا ہے وہ عصاۃ المومنین ہیں۔ قولہ : جواب النفی، یعنی فَتَطْرُدَھُمْ ، مَا عَلَیْکَ مِن حسابھم کا جواب ہے، یہ تطرد کے نصب کی وجہ کا بیان ہے۔ قولہ : ان کَانَ بَاطِنُھُمْ غَیْرَ مَرْضِیّ ، یعنی بقول المشرکین۔ قولہ : اِنْ فَعَلْتَ ذٰلِکَ ، اس میں اشارہ ہے کہ فتکون شرط محذوف کی جزاء مقدم ہے لہٰذا جواب نفی کی تکرار کا شبہ ختم ہوگیا۔ قولہ : بالسبق ای بسبب السبق۔ قولہ : لَیقولوا میں لام عاقبت کا ہے لہٰذا یہ اعتراض ختم ہوگیا کہ ابتلاء کی علت قول مذکور کو قرار دینا درست نہیں ہے۔ قولہ : قضیٰ کتبَ کی تفسیر قضیٰ سے کرکے اشارہ کردیا کہ مراد وعدہ موکد ہے نہ کہ فرض اور الزام۔ قولہ : وفی قِرَاءَۃٍ بِالَفَتْحِ ، فتحہ کی صورت میں رحمۃ سے بدل ہے اور کسرہ کی صورت میں جملہ مستانفہ ہوگا، جو کہ سوال مقدر کا جواب ہوتا ہے یعنی رحمت کے بارے میں سوال کیا ” ماھی “ اور مَن عمل الخ پورا جملہ سوال مقدر کا جواب ہے۔ قولہ : فالمَغْفِرَۃُ لہ، اس میں اشارہ ہے کہ اَنَّہُ میں اَنّ مع اپنے اسم کے مبتداء ہے اور لَہٗ اس کی خبر ہے۔ قولہ : لِیَظَھَرَ الْحَقُّ ، اس میں اشارہ ہے کہ لتستبین کا عطف علت مقدرہ پر ہے لہٰذا سابق پر عطف کی عدم صحت کا شبہ ختم ہوگیا آیات کی تفصیل بصیغہ مضارع کرنے کا مقصد استمرار ہے لہٰذا تخصیص بالمستقبل کا اعتراض ختم ہوگیا۔ قولہ : وفی قِرَاءَۃٍ بالتحتانیہ، یعنی ایک قراءت میں لیستبین، یاء تحتانیہ کے ساتھ ہے اور السبیل اس کا فاعل ہے اور سبیل چونکہ مذکر اور مؤنچ دونوں طرح مستعمل ہے لہٰذا عدم مطابقت کا اعتراض بھی ہوگیا، اور السبیل کے نصب کی صورت میں تستبین کا مفعول ہوگا، صیغہ خطاب کی صورت میں مخاطب آپ ﷺ ہوں گے۔ تفسیر و تشریح وَاَنْذِرْ بہٖ الَّذِیْنَ یَخَافُوْنَ اَنْ یُحْشَرُوا الیٰ رَبِّھِم الخ، اس آیت میں عُصاۃ المومنین کا ذکر ہے نہ کہ منکرین حشر و نشر کا، مطلب یہ ہے کہ انذار کا فائدہ ایسے ہی لوگوں کو ہوسکتا ہے جو توحید اور حشر و نشر کے عقیدہ کے باوجود عملی کوتاہی کے بھی مرتکب ہوئے ہوں ورنہ جو شخص بعث بعد الموت اور آخرت میں جوابدہی کا عقیدہ نہ رکھتا ہو اور وہ اپنے کفر و جحود پر قائم ہو اس کو نہ انذار فائدہ دے سکتا ہے اور نہ کسی کی سفارش کام آسکتی ہے، نبی کا وعظ و نصیحت تو سب کیلئے یکساں ہوتا ہے مگر اپنی اپنی صلاحیت و استعداد کے مطابق ہی اثر قبول کرتے ہیں۔ صحیح بخاری میں اسی مضمون کی ایک حدیث ابو موسیٰ اشعری ؓ سے منقول ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے قرآن کی نصیحت کی مثال بارش کی اور امت کی مثال اچھی بری زمین کی فرمائی ہے یہ حدیث گویا کہ اس آیت کی تفسیر ہے۔ شان نزول : ولا تطرد الذین یدعون ربھم الخ، صحیح مسلم، صحیح ابن حبان وغیرہ کی روایتوں سے اس آیت کا جو شان نزول متعین کیا گیا ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ عتبہ بن ربیعہ اور شیبہ بن ربیعہ اور مطعم بن عدی اور حارث بن نوفل نے جو قریش کے سرداروں اور شرفاء میں شمار ہوتے تھے ایک روز آنحضرت ﷺ سے درخواست کی کہ بلال، عمار بن یاسر، صہیب، خباب فقراء و مساکین کا آپ کے اردگرد ہجوم رہتا ہے اگر آپ ان کو اپنی مجلس سے ہٹا دیں تو ہم بھی آپ کی مجلس میں بیٹھیں، ہمیں ان کے جبوں سے بدبو آتی ہے اور چھوٹے لوگوں کے ساتھ بیٹھنے میں ہمیں شرم آتی ہے اور ہم ایسے معمولی لوگوں کے ساتھ بیٹھنے میں اپنی کسر شان سمجھتے ہیں۔ چونکہ اللہ کے نزدیک ایسی شرافت و امارات سے زیادہ اخلاص مقبول ہے اور یہ فقراء مسلمین اخلاص کے ساتھ آپ کی مجلس میں حاضر ہوتے تھے اس لئے اللہ تعالیٰ نے اشراف قریش کا مشورہ ماننے سے منع کردیا، اور مذکورہ آیت نازل فرمائی، ابتداء میں اکثر غریب و نادار قسم کے لوگ مشرف باسلام ہوئے تھے، یہی چیز روساء کفار کی آزمائش کا ذریعہ بن گئی اور وہ ان فقراء و مساکین کا مذاق بھی اوڑاتے اور جن پر ان کا بس چلتا انھیں ایذاء رسانی سے بھی نہ چوکتے اور کہتے کہ ایمان اور اسلام اگر واقعی کوئی خیر کی چیز ہوتی تو اس سے پہلے اس کی طرف ہم سبقت کرتے اور ہم نے سبقت نہیں کی تو اس سے ظاہر ہوگیا کہ یہ کوئی خیر و شرف کی چیز نہیں ایک دوسرے مقام پر فرمایا ” لو کان خیراً ما سَبَقونا “۔ (احقاف) مطلب یہ کہ اللہ تعالیٰ ظاہری چمک دمک، ٹھاٹھ باٹھ اور رئیسانہ کرّ وفر وغیرہ نہیں دیکھتا اور نہ شکل و صورت ورنگ وروپ کو دیکھتا ہے وہ تو دلوں کیفیت کو دیکھتا ہے لہٰذا وہ جانتا ہے کہ اس کے شکرگزار اور حق شناس بندے کون ہیں ؟ جس میں شکر گزاری کی خوبی دیکھی انہیں ایمان کی سعادت سرفراز فرمایا۔
Ayahs 6:56–58

قُلْ اِنِّیْ نُهِیْتُ اَنْ اَعْبُدَ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ قُلْ لَّاۤ اَتَّبِعُ اَهْوَآءَكُمْ١ۙ قَدْ ضَلَلْتُ اِذًا وَّ مَاۤ اَنَا مِنَ الْمُهْتَدِیْنَ Open ayah 6:56 in the Quran reader

(اے پیغمبر ﷺ کفار سے) کہہ دو کہ جن کو تم خدا کے سوا پکارتے ہو مجھے ان کی عبادت سے منع کیا گیا ہے۔ (یہ بھی) کہہ دو کہ میں تمہاری خواہشوں کی پیروی نہیں کروں گا ایسا کرو تو گمراہ ہوجاؤں اور ہدایت یافتہ لوگوں میں سے نہ رہوں۔

قُلْ اِنِّیْ عَلٰى بَیِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّیْ وَ كَذَّبْتُمْ بِهٖ١ؕ مَا عِنْدِیْ مَا تَسْتَعْجِلُوْنَ بِهٖ١ؕ اِنِ الْحُكْمُ اِلَّا لِلّٰهِ١ؕ یَقُصُّ الْحَقَّ وَ هُوَ خَیْرُ الْفٰصِلِیْنَ Open ayah 6:57 in the Quran reader

کہہ دو کہ میں تو اپنے پروردگار کی دلیل روشن پر ہوں اور تم اس کی تکذیب کرتے ہو۔ جس چیز (یعنی عذاب) کیلئے تم جلدی کر رہے ہو وہ میرے پاس نہیں ہے (ایسا) حکم اللہ ہی کے اختیار میں ہے وہ سچی بات بیان فرماتا ہے وہ سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے

قُلْ لَّوْ اَنَّ عِنْدِیْ مَا تَسْتَعْجِلُوْنَ بِهٖ لَقُضِیَ الْاَمْرُ بَیْنِیْ وَ بَیْنَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِالظّٰلِمِیْنَ Open ayah 6:58 in the Quran reader

کہہ دو کہ جس چیز کیلئے تم جلدی کر رہے ہو اگر وہ میرے اختیار میں ہوتی تو مجھ میں اور تم میں فیصلہ ہوچکا ہوتا اور خدا ظالموں سے خوب واقف ہے

آیت نمبر 56 تا 60 ترجمہ : (اے محمد ﷺ ان سے) کہو کہ اللہ کے سوا جن کی تم بندگی کرتے ہو ان کی بندگی کرنے سے مجھے منع کیا گیا ہے، (اور ان سے یہ بھی) کہو کہ ان کی بندگی کرنے میں، میں تمہاری خواہشات کی پیروی نہیں کروں گا، اگر میں نے خواہشات کی پیروی کی تو میں گمراہ ہوگیا، اور میں ہدایت یافتہ لوگوں میں نہ رہا، کہو کہ میں اپنے رب کی طرف سے روشن دلیل پر ہوں اور تم نے میرے رب کو چھوڑ دیا ہے اس لئے کہ تم نے شرک کیا، جس عذاب کی تم جلدی مچار ہے ہو وہ میرے اختیار میں نہیں ہے اس معاملہ میں اور دیگر معاملات میں صرف الہ وحدہ ہی کا حکم چلتا ہے وہی برحق فیصلہ کرتا ہے اور وہی بہتر فیصلہ کرنے والا ہے اور ایک قراءت میں (یقضِ کے بجائے) یقصُّ ہے بمعنی یقول، کہو اگر وہ چیز جس کی تم جلدی مچا رہے ہو میرے اختیار میں ہوتی تو میرے اور تمہارے درمیان فیصلہ ہوچکا ہوتا بایں طور کہ میں اس میں تمہارے لئے جلدی کرتا اور راحت حاصل کرتا لیکن وہ اللہ کے اختیار میں ہے اور اللہ ہی زیادہ جانتا ہے کہ ظالموں کو کب سزا دے اسی کے پاس غیب کے خزانوں کی کنجیاں ہیں یا غیب کے علم تک رسائی کے طریقے اسی کے پاس ہیں ان کو اس کے سوا کوئی نہیں جانتا اور وہ پانچ ہیں جن کا ذکر اللہ تعالیٰ کے قول ” اَنّ اللہ عندہ علم الساعۃ “ (الآیۃ) میں ہے، کما رواہ البخاری اور بحر و بر میں جو کچھ رونما ہوتا ہے وہ جانتا ہے، (یعنی) چٹیل میدانوں اور ان بستیوں میں جو نہروں کے کنارہ پر واقع ہیں درخت سے گرنے والا کوئی پتہ ایسا نہیں کہ جس کا اسے علم نہ ہو اور نہ کوئی دانہ جو زمین کی تاریکیوں میں ہو اور نہ خشک و تر جو کتاب مبین (یعنی) لوح محفوظ میں نہ ہو اس کا عطف وَرَقَۃٌ پر ہے، اور (دوسرا) استثناء اپنے ماقبل کے استثناء سے بدل لاشتمال ہے وہ وہی ذات ہے جو رات کو نیند میں تمہاری روحیں قبض کرتا ہے اور دن میں جو کچھ تم کرتے ہو اس سے وہ بخوبی واقف ہے تمہاری روحوں کو لوٹا کر (دوسرے) دن تم کو زندہ کردیتا ہے تاکہ تم زندگی کی مدت پوری کرو اور وہ مدت حیات ہے آخر کار بعث کے ذریعہ اسی طرف تمہاری واپس ہے پھر وہ تمہیں بتادے گا کہ تم کیا کرتے رہے اور اس کی تم کو جزا دے گا۔ تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد قولہ : قد کَذَّبْتُم۔ سوال : قد محذوف ماننے کی کیا ضرورت پیش آئی ؟ جواب : ماضی چونکہ بغیر قد کے حال واقع نہیں ہوسکتی اسلئے یہاں قد مقدر مانا۔ قولہ : القَضَاءَ الحَقَّ ۔ سوال : القضاءَ ، کے محذوف ماننے کی کیا ضرورت پیش آئی ؟ جواب : اس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ الحقَّ مصدر محذوف کی سفت ہونے کی وجہ سے منصوب ہے لہٰذا اب یہ احتمال ختم ہوگیا کہ الحقِّ لفظ کی صفت ہونے کی وجہ سے مجرور ہے قولہ : وفی قراءۃ یَقُصُّ ، ای یقص الحقّ بمعنی یقول الحقّ ۔ قولہ : المَفَاتِحُ یہ، مفتح بکسر المیم کی جمع ہے بمعنی کنجی، اور کہا گیا ہے کہ مفتح بفتح المیم کی جمع ہے بمعنی خزانہ۔ قولہ : القَفْر خالی زمین چٹیل میدان، القفار والقفور، قَفر کی جمع ہیں۔ قولہ : الطُرُقُ المُوْسِلہ الی عِلْمِہ، یہ استعارہ بالکنایہ کے طور پر ہے۔ قولہ : بَدَلُ الِاشْتِمَال مِنَ الاِسْتِثْنَاءِ قبلہٗ ، یعنی اِلاَّ فی کتاب مبین یہ استثناء اول یعنی اِلاَّ یعلمھا، سے بدل الاشتمال ہے یہ صاحب کشاف پر رد ہے اس لئے کہ صاحب کشاف نے استثناء ثانی کو اول کی تاکید قرار دیا ہے۔ تفسیر و تشریح شان نزول : قُلْ اِنّی نُھِیْتُ اَنْ اَعْبُد الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللہ (الآیۃ) جیسا کہ ” قل یا ایھا الکافرون “ کے شان نزول میں احادیث میں وارد ہوا ہے کہ مشرکین مکہ کی یہ فرمائش تھی کہ ایک سال آپ ﷺ اور مسلمان ہمارے بتوں کی بندگی کرلیا جریں اور ایک سال ہم اللہ تعالیٰ کی عبادت کرلیا کریں گے تاکہ آپس کا نزوع ختم ہوجائے، اسی پر آنحضرت ﷺ سے کہا جا رہا ہے کہ اے محمد تم ان مشرکوں سے کہہ دو کہ اگر میں ایک اللہ کی عبادت کو چھوڑ کر تمہاری خواہش کے مطابق غیر اللہ کی بندگی شروع کردوں تو یقیناً میں بھی گمراہ ہوجاؤں گا، مجھے اللہ کی طرف سے بتوں کی بندگی کرنے سے ممانعت کردی گئی ہے اگر میں ایسا کروں گا تو ملت ابراہیمی سے تمہاری طرف بھٹک جاؤں گا، اور میں ایسا کر بھی کیسے سکتا ہوں میرے پاس تو اس بات کی قرآنی شہادت موجود ہے کہ ملت ابراہیمی میں بت پرستی کا کہیں پتہ نہیں ہے تم لوگوں نے بےسند ملت ابراہیمی کا بگاڑ دیا ہے قرآن کی آیتوں کی تکذیب کرتے ہو اور جب تم کو خدائی عذاب سے ڈرایا جاتا ہے تو ڈھیٹ بن کر اس عذاب کی جلدی مچاتے ہو، وہ عذاب کچھ میرے اختیار میں نہیں ہے جو تم مجھ سے اس کے جلدی لانیکا مطالبہ کرتے ہو وہ عذاب تو اللہ ہی کے اختیار میں ہے وقت آنے پر اس کا فیصلہ وہ خود فرمائیگا، دنیا میں اس عذاب کا ظہور بدر کی لڑائی کے وقت ہوچکا ہے، مشرکوں میں سے بڑے بڑے سرکش عذاب الہیٰ کی جلدی کرنے والے ستر آدمی بڑی ذلت سے مارے گئے اور ستر فیصد کر لئے گئے، عقبیٰ کا عذاب بھی اللہ کے وعدے کے مطابق وقت مقررہ پر آجائیگا۔
Ayahs 6:59–60

وَ عِنْدَهٗ مَفَاتِحُ الْغَیْبِ لَا یَعْلَمُهَاۤ اِلَّا هُوَ١ؕ وَ یَعْلَمُ مَا فِی الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ١ؕ وَ مَا تَسْقُطُ مِنْ وَّرَقَةٍ اِلَّا یَعْلَمُهَا وَ لَا حَبَّةٍ فِیْ ظُلُمٰتِ الْاَرْضِ وَ لَا رَطْبٍ وَّ لَا یَابِسٍ اِلَّا فِیْ كِتٰبٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 6:59 in the Quran reader

اور اسی کے پاس غیب کی کنجیاں ہیں جن کو اس کے سواء کوئی نہیں جانتا اور اسے جنگلوں اور دریاوں کی سب چیزوں کا علم ہے اور کوئی پتا نہیں چھڑتا مگر وہ اس کو جانتا ہے اور زمین کے اندھیروں میں کوئی دانا اور کوئی ہری اور سوکھی چیز نہیں ہے مگر کتاب روشن میں (لکھی ہوئی) ہے

وَ هُوَ الَّذِیْ یَتَوَفّٰىكُمْ بِالَّیْلِ وَ یَعْلَمُ مَا جَرَحْتُمْ بِالنَّهَارِ ثُمَّ یَبْعَثُكُمْ فِیْهِ لِیُقْضٰۤى اَجَلٌ مُّسَمًّى١ۚ ثُمَّ اِلَیْهِ مَرْجِعُكُمْ ثُمَّ یُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 6:60 in the Quran reader

اور وہی تو ہے جو رات کو (سونے کی حالت میں) تمہاری روح قبض کرلیتا ہے اور جو کچھ تم دن میں کرتے ہو اس سے خبر رکھتا ہے پھر تمہیں دن کو اٹھا دیتا ہے تاکہ (یہی سلسلہ جاری رکھ کر زندگی کی) معین مدت پوری کردی جائے پھر تم (سب) کو اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے (اس روز) وہ تم کو تمہارے عمل جو کرتے ہو (ایک ایک کرکے) بتائے گا

وعندہ مفاتح الغیب لایعلمھا اِلاَّھو، اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ عالم الغیب صرف اللہ کی ذات ہے، غیب کے تمام خزانے اسی کے پاس ہیں، حدیث شریف میں بھی آیا ہے کہ مفاتح الغیب پانچ ہیں، قیامت کا علم، بارش کا نزول، رحم مادر میں پلنے والا بچہ، آئندہ کل پیش آنے والے واقعات اور موت کا مقام، کہ موت کہاں آئے گی، مذکورہ پانچوں باتوں کا صحیح علم اللہ کے سوا کسی کو نہیں۔ (صحیح البخاری تفسیر سورة انعام)
Ayahs 6:61–62

وَ هُوَ الْقَاهِرُ فَوْقَ عِبَادِهٖ وَ یُرْسِلُ عَلَیْكُمْ حَفَظَةً١ؕ حَتّٰۤى اِذَا جَآءَ اَحَدَكُمُ الْمَوْتُ تَوَفَّتْهُ رُسُلُنَا وَ هُمْ لَا یُفَرِّطُوْنَ Open ayah 6:61 in the Quran reader

اور وہ اپنے بندوں پر غالب ہے اور تم پر نگہبان مقرر کئے رکھتا ہے یہاں تک کہ جب تم میں سے کسی کی موت آتی ہے تو ہمارے فرشتے اس کی روح قبض کرلیتے ہیں اور کسی طرح کی کوتاہی نہیں کرتے

ثُمَّ رُدُّوْۤا اِلَى اللّٰهِ مَوْلٰىهُمُ الْحَقِّ١ؕ اَلَا لَهُ الْحُكْمُ١۫ وَ هُوَ اَسْرَعُ الْحٰسِبِیْنَ Open ayah 6:62 in the Quran reader

پھر (قیامت کے دن تمام) لوگ اپنے مالک برحق خدا تعالیٰ کے پاس واپس بلائے جائیں گے سن لو کہ حکم اسی کا ہے اور وہ نہایت جلد حساب لینے والا ہے

آیت نمبر 61 تا 70 ترجمہ : وہ اپنے بندوں پر پوری طرح غالب ہے اور تم پر نگران فرشتے بھیجتا ہے جو تمہارے اعمال کا حساب رکھتے ہیں، یہاں تک کہ جب تم میں سے کسی کی موت کا وقت آجاتا ہے تو ہمارے بھیجے ہوئے فرشتے جو روح قبض کرنے پر متعین ہوتے ہیں اس کی روح قبض کرلیتے ہیں اور ایک قراءت میں توفَّاہ ہے جس کام کا ان کو حکم دیا جاتا ہے وہ اس میں ذرہ برابر کوتاہی نہیں کرتے، پھر مخلوق کو اپنے مالک برحق کی طرف لایا جائیگا جو کہ باقی رہنے والا عادل ہے، تاکہ ان کو جزاء دے، خوب سن لو ان میں اسی کا فیصلہ نافذ ہے اور وہ حساب لینے میں بہت تیز ہے اور پوری مخلوق کا حدیث کی رو سے دنیوی دنوں کے اعتبار سے نصف دن سے حساب لے لیگا، اے محمد ﷺ اہل مکہ سے پوچھو کہ صحراء و سمندر کی تاریکیوں کی ہولناکیوں سے تمہارے سفر کے دوران تم کو کون بچاتا ہے ؟ (اور کون ہے وہ) جس کو تم عاجزی کے ساتھ زور زور سے اور چپکے چپکے پکارتے ہوئے کہتے ہو قسم ہے لام قسمیہ ہے اگر تو نے ہم کو اس تاریکی اور تکلیف سے بچا لیا تو ہم شکر گزار مومن ہوجائیں گے اور ایک قراءت میں ” اَنْجَانَا “ ہے یعنی اگر اللہ نے ہم کو بچا لیا، آپ ان سے کہو اللہ تم کو اس مصیبت اور اس کے علاوہ ہر غم سے نجات دے گا پھر تم دوسروں کو اس کا شریک ٹھہراتے ہو (یُنْجِیْکم) تخفیف اور تشدید کے ساتھ، آپ کہئے کہ وہ اس بات پر قادر ہے کہ تمہارے اوپر (یعنی) آسمان سے عذاب بھیج دے مثلاً پتھر اور چیخ یا تمہارے قدموں کے نیچے سے مثلاً زمین میں دھنسا دے یا تم کو مختلف الخیالات گروہ درگروہ کرکے بھڑا دے، اور قتال کے ذریعہ ایک گرہ کو دوسرے گروہ کی طاقت کا مزہ چکھا دے جب یہ آیت نازل ہوئی تو آپ ﷺ نے فرمایا ” یہ اَھْوَنْ اور آسان ہے “ اور جب اس کا ماقبل نازل ہوا تو آپ نے فرمایا میں تیری ذات کی پناہ چاہتا ہوں، (رواہ البخاری) اور مسلم نے ایک حدیث روایت کی کہ میں نے درخواست کی کہ اے میرے رب تو میری امت کے درمیان آپسی اختلاف نہ ڈال، تو اللہ نے مجھے منع کردیا، اور ایک حدیث میں ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو آپ ﷺ نے فرمایا “ یہ (منازعت) بہرحال ہو کر رہے گا، اور ابتک اس کی تاویل نہیں آئی، آپ دیکھئے تو سہی ہم کس کس طرح اپنی قدرت پر دلالت کرنیوالی نشانیاں بیان کرتے ہیں تاکہ وہ اس بات کو سمجھیں کہ جس پر وہ قائم ہیں وہ باطل ہے اس قرآن کی آپ کی قوم نے تکذیب کی حالانکہ وہ سچ ہے آپ ان سے کہہ دیجئے کہ میں تمہارے اوپر مسلط نہیں کیا گیا ہوں کہ میں تم کو اس کی جزا دوں، میں تو محض ڈرانے والا ہوں اور تمہارا معاملہ اللہ کے حوالے ہے، اور یہ حکم جہاد کے حکم سے پہلے کا ہے، ہر خبر کا وقت مقرر ہے کہ اس میں واقع اور ظہور پذیر ہو اور ان ہی میں سے تمہارا عذاب بھی ہے، اور تم عنقریب (انجام) جان لو گے، یہ ان کے لئے دھمکی ہے، (اور اے محمد) جب تم دیکھو کہ لوگ ہماری آیتوں قرآن میں نکتہ چینی کر رہے ہیں تو ان سے کنارہ کش ہوجائیے اور ان کے پاس نہ بیٹھئے یہاں تکہ کہ دوسری باتوں میں لگ جائیں، اور اگر شیطان آپ کو بھلا دے (اِمّا) میں ان شرطیہ کا ما زائدہ میں ادغام ہے (یُنْسِیَنَّکَ ) نون کے سکون اور تخفیف کے ساتھ اور نون کے فتحہ اور تشدید کے ساتھ (بھی) ہے کہ آپ ان کے ساتھ بیٹھیں، تو یاد آنے کے بعد ایسے ظالم لوگوں کے ساتھ نہ بیٹھیں، اس میں اسم ظاہر کو اسم ضمیر کی جگہ رکھا ہے، مسلمانوں نے کہا جب وہ نکتہ چینی کیا کریں اور ہم اٹھ جایا کریں تو ہم نہ مسجد میں بیٹھ سکتے ہیں اور نہ طواف کرسکتے ہیں، تو (یہ آیت نازل ہوئی) اور جو اللہ سے ڈرتے ہیں تو نکتہ چینی کرنے والوں کے حساب کا ان سے کچھ مواخذہ نہیں ہوگا جب وہ ان کے پاس بیٹھیں، (مِن شئ) میں من زائدہ ہے، مگر ان کے ذمہ ان کے لئے تذکیر اور نصیحت ہے شاید کہ وہ نکتہ چینی سے باز آجائیں، اور ایسے لوگوں سے آپ کنارہ کش رہیں جنہوں نے اس دین کا جس کا ان کو مکلف بنایا گیا ہے استہزاء کرتے ہوئے کھیل تماشا بنا رکھا ہے اور ان کو دنیوی زندگی نے دھوکے میں ڈال رکھا ہے لہٰذا آپ ان سے کوئی تعارض نہ کریں، یہ حکم جہاد کے حکم سے پہلے کا ہے، اور اس قرآن کے ذریعہ لوگوں کو نصیحت کرتے رہئے، کہیں ایسا نہ ہو کہ نفس کو ان کے کرتوتوں کی وجہ سے ہلاکت کے حوالہ کردیا جائے کہ اس کے لئے اللہ کے سوا اس کا کوئی نہ مددگار ہو اور نہ سفارشی کہ جو اس کو عذاب سے بچا سکے اور اگر یہ شخص پوری دنیا کو بھی فدیہ میں دیدے تو بھی وہ قبول نہ کیا جائے، یہی ہیں وہ لوگ جو اپنے کرتوتوں کے سبب پھنس گئے ہیں، ان کو تو نہایت گرم پانی پینے کے لئے ہے اور ان کے کفر کے سبب دردناک عذاب بھگتنے کو ملے گا۔ تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد قولہ : وھو القاھِرُ فَوْقَ عِبَادِہٖ ، یہ کلام مستانف ہے، اپنی مخلوق پر قہر و غلبہ کو بیان کرنے کے لئے لایا گیا ہے، ھُوَ ، مبتداء ہے القاھر اس کی خبر ہے، فوقَ ظرف ہے مستعلیاً محذوف کے متعلق ہے جو کہ حال ہے۔ قولہ : حَتّٰی اِذا جاء الخ یہ حفظ اعمال کی غایت ہے یعنی مدت حیات میں حفاظت کرتے ہیں موت تک۔ قولہ : المَلَائِکَۃ ای ملک الموت وَاَعُوَانہٗ ۔ قولہ : حین لفظ حین مقدر مان کر اشارہ کردیا کہ تدعونَہٗ ، یُنجیکم کی ضمیر مفعولی سے حال ہے۔ قولہ : الظلمٰت والشدائد، اس اضافہ کا مقصد، ھذہ اسم اشارہ مؤنث کے مشارٌ الیہ کی تعیین ہے۔ قولہ : ھذا مبتداء ہے اور اَھْوَن و اَیْسَرُ ، معطوف علیہ یا معطوف مبتداء کی خبر ہے۔ قولہ : عَلَیھِم ذکریٰ ، مبتداء ہونے کی وجہ سے محلاً مرفوع ہے اس کی خبر محذوف ہے۔ قولہ : بکفرھم اس سے اشارہ کردیا کہ بما کانوا یکفرون میں ما مصدریہ ہے نہ کہ موصولہ لہٰذا عدم عائد کا اعتراض وارد نہیں ہوگا۔ تفسیر و تشریح وَھُوَ الْقَاھِرُ فوقَ عِبَادِہٖ ، وہ اپنے بندوں پر پوری قدرت رکھتا ہے، جب تک ان کو زندہ رکھنا منظور ہوتا ہے تو حفاظت کرنے والے فرشتے ان کی حفاظت کیلئے اور نگرانی اعمال کیلئے ساتھ رکھتا ہے جو ہر بندے کی ایک ایک جنبش اور ایک ایک بات پر نگاہ رکھتے ہیں اور ہر ہر حرکت کا ریکارڈ محفوظ کرتے ہیں، وہ اپنے مفوضہ امور میں ذرہ برابر کوتاہی نہیں کرتے۔ ثم رُدُّوا، اس کا عطف تَوَفَّتْہ پر ہے، رُدُّوا، ماضی مجہول جمع مذکر غائب ہے وہ واپس لائے گئے، رُدُّوا کی ضمیر کا مرجع بعض حضرات نے فرشتوں کو قرار دیا ہے یعنی روح قبض کرنے کے بعد فرشتے اللہ کی بارگاہ میں لوٹ جاتے ہیں، اور بعض حضرات نے اس کا مرجع تمام لوگوں کو قرار دیا ہے یعنی تمام لوگ حشر کے بعد اللہ رب العلمین کی بارگاہ میں پیش کئے جائیں گے پھر وہ سب کا فیصلہ فرمائیگا، اور یہ اچھی طرح یاد رکھو کہ فیصلے کے پورے اختیارات اسی کو ہیں۔ فائدہ : آیت میں روح قبض کرنے والے فرشتوں کو ” رُسُل “ جمع کے صیغہ کے ساتھ بیان کیا گیا ہے جس سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ روح قبض کرنے والے فرشتے ایک سے زیادہ ہیں، اس کی توجیہ بعض مفسرین نے اس طرح کی ہے کہ قرآن مجید میں روح قبض کرنے کی نسبت اللہ کی طرف بھی ہے، ” اللہ یتوفی الانفسَ حین موتِھَا “ (الزمر) اللہ لوگوں کی موت کے وقت روح قبض کرلیتا ہے، اور بعض جگہ اس کی نسبت ایک فرشتہ ملک الموت کی طرف بھی کی گئی ہے ” قُل یَتَوفّٰکم مَلَکُ الموتِ الَّذِیْ وکل بکم “ (الم سجدہ) کہہ دو وہ فرشتہ موت کے وقت تمہاری روحیں قبض کرتا ہے جو تمہارے لئے مقرر کیا گیا ہے، اور اس کی نسبت متعدد فرشتوں کی طرف بھی کی گئی ہے جیسا کہ بعض مقام پر ہے اسی طرح سورة نساء میں بھی ہے، اللہ کی طرف نسبت تو اس لحاٖظ سے ہے کہ وہی اصل آمر (حکم دینے والا) ہے اور متعدد فرشتوں کی طرف نسبت اس لحاظ سے ہے کہ ملک الموت کے معاونین و مددگار بہت سے ہیں اور ملک الموت کی طرف نسبت اس لحاظ سے ہے کہ آخر میں اصل روح قبض کرنے والے اور آسمان کی طرف لیجانے والے وہی ہیں۔ (روح المعانی، ابن کثیر، فتح القدیر شوکانی) ۔ جمہور علماء اس بات کے قائل ہیں کہ ملک الموت ایک ہی ہے جیسا کہ سورة الم سجدہ کی آیت سے اور مسند احمد میں حضرت براء بن عازب ؓ کی حدیث سے معلوم ہوتا ہے اور قرآن کریم میں جہاں جمع کا صیغہ آیا ہے تو وہاں ملک الموت کے اعوان انصار مراد ہوتے ہیں، اور بعض آثار میں ملک الموت کا نام عزرائیل بتایا گیا ہے۔
Ayahs 6:63–67

قُلْ مَنْ یُّنَجِّیْكُمْ مِّنْ ظُلُمٰتِ الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ تَدْعُوْنَهٗ تَضَرُّعًا وَّ خُفْیَةً١ۚ لَئِنْ اَنْجٰىنَا مِنْ هٰذِهٖ لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الشّٰكِرِیْنَ Open ayah 6:63 in the Quran reader

کہو بھلا تم کو جنگلوں اور دریاؤں کے اندھیروں سے کون مخلصی دیتا ہے (جب) کہ تم اس سے عاجزی اور نیاز پنہانی سے پکارتے ہو (اور کہتے ہو) اگر خدا ہم کو اس تنگی سے نجات بخشے تو ہم اسکے بہت شکرگزار ہوں

قُلِ اللّٰهُ یُنَجِّیْكُمْ مِّنْهَا وَ مِنْ كُلِّ كَرْبٍ ثُمَّ اَنْتُمْ تُشْرِكُوْنَ Open ayah 6:64 in the Quran reader

کہو کہ خدا ہی تم کو اس (تنگی) سے اور ہر سختی سے نجات بخشتا ہے پھر (تم) اس کے ساتھ شرک کرتے ہو

قُلْ هُوَ الْقَادِرُ عَلٰۤى اَنْ یَّبْعَثَ عَلَیْكُمْ عَذَابًا مِّنْ فَوْقِكُمْ اَوْ مِنْ تَحْتِ اَرْجُلِكُمْ اَوْ یَلْبِسَكُمْ شِیَعًا وَّ یُذِیْقَ بَعْضَكُمْ بَاْسَ بَعْضٍ١ؕ اُنْظُرْ كَیْفَ نُصَرِّفُ الْاٰیٰتِ لَعَلَّهُمْ یَفْقَهُوْنَ Open ayah 6:65 in the Quran reader

کہ دو کہ وہ (اس پر بھی) قدرت رکھتا یے کہ تم پر اوپر کی طرف سے یا تمہارے پاؤں کے نیچے سے عذاب بھیجے یا تمہیں فرقہ فرقہ کر دے اور ایک کو دوسرے (سے لڑا کر آپس) کی لڑائی کا مزا چکھا دے دیکھو ہم اپنی آیتوں کو کس کس طرح بیان کرتے ہیں تاکہ یہ لوگ سمجھیں

وَ كَذَّبَ بِهٖ قَوْمُكَ وَ هُوَ الْحَقُّ١ؕ قُلْ لَّسْتُ عَلَیْكُمْ بِوَكِیْلٍؕ Open ayah 6:66 in the Quran reader

اور اس (قرآن) کو تمہاری قوم نے جھٹلایا حالانکہ وہ سراسر حق ہے کہہ دو کہ میں تمہارا داروغہ نہیں ہوں

لِكُلِّ نَبَاٍ مُّسْتَقَرٌّ١٘ وَّ سَوْفَ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 6:67 in the Quran reader

ہر خبر کیلئے ایک وقت مقرر ہے اور تم کو عنقریب معلوم ہوجائے گا

قُلْ مَنْ یُنجّیْکم من الظلمٰتِ (الآیۃ) یہ حقیقت ہے کہ تنہا وہی قادر مطلق ہے اور وہی تمام اختیارات کا مالک ہے، اسی کے ہاتھ میں قسمتوں کی باگ ڈور ہے، جب تمام اسباب کے سر رشتے ٹوٹتے نظر آتے ہیں تو اس وقت تم بےاختیار اسی کو پکارتے ہو، اس کھلی دلیل کے ہوتے ہوئے بھی تم بلا دلیل دوسروں کو اس کی خدائی میں شریک ٹھہراتے ہو۔ قُلْ ھو القادِرُ علی ان یَبْعَثَ علیکم عذاباً ، (الآیۃ) معتبر سند سے مسند امام احمد اور نسانی وغیرہ میں ابی بن کعب وغیرہ سے روایت ہے کہ اوپر کے عذاب سے مراد آسمان سے پتھر برسانہ ہے جیسا کہ اصحاب فیل پر برسے تھے، اور نیچے کے عذاب سے مراد زمین کا دھنسنا ہے جیسا کہ قادرون دھنس گیا تھا اور اس آیت کی تفسیر میں حضرت عبد اللہ بن عباس کی یہ روایت نقل کی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ میں نے اللہ سے دعاء کی کہ میری امت سے یہ تینوں عذاب جو اس آیت میں مذکور ہیں اٹھ جائیں تو اللہ نے پتھروں کے برسنے اور زمین میں دھنسنے کا (عمومی) عذاب تو اٹھا لیا مگر آپس میں خانہ جنگی کا عذاب باقی ہے۔
Ayahs 6:68–70

وَ اِذَا رَاَیْتَ الَّذِیْنَ یَخُوْضُوْنَ فِیْۤ اٰیٰتِنَا فَاَعْرِضْ عَنْهُمْ حَتّٰى یَخُوْضُوْا فِیْ حَدِیْثٍ غَیْرِهٖ١ؕ وَ اِمَّا یُنْسِیَنَّكَ الشَّیْطٰنُ فَلَا تَقْعُدْ بَعْدَ الذِّكْرٰى مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 6:68 in the Quran reader

اور جب ایسے لوگوں کو دیکھو جو ہماری آیتوں کے بارے میں بےہودہ بکواس کر رہے ہیں تو ان سے الگ ہوجاؤ یہاں تک کہ اور باتوں میں مصروف ہوجائیں اور اگر (یہ بات) شیطان تمہیں بھلا دے تو یاد آنے پر ظالم لوگوں کے ساتھ نہ بیٹھو

وَ مَا عَلَى الَّذِیْنَ یَتَّقُوْنَ مِنْ حِسَابِهِمْ مِّنْ شَیْءٍ وَّ لٰكِنْ ذِكْرٰى لَعَلَّهُمْ یَتَّقُوْنَ Open ayah 6:69 in the Quran reader

اور پرہیزگاروں پر ان لوگوں کے حساب کی کچھ بھی جواب دہی نہیں ہاں نصیحت تاکہ وہ بھی پرہیزگار ہوں

وَ ذَرِ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا دِیْنَهُمْ لَعِبًا وَّ لَهْوًا وَّ غَرَّتْهُمُ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا وَ ذَكِّرْ بِهٖۤ اَنْ تُبْسَلَ نَفْسٌۢ بِمَا كَسَبَتْ١ۖۗ لَیْسَ لَهَا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَلِیٌّ وَّ لَا شَفِیْعٌ١ۚ وَ اِنْ تَعْدِلْ كُلَّ عَدْلٍ لَّا یُؤْخَذْ مِنْهَا١ؕ اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ اُبْسِلُوْا بِمَا كَسَبُوْا١ۚ لَهُمْ شَرَابٌ مِّنْ حَمِیْمٍ وَّ عَذَابٌ اَلِیْمٌۢ بِمَا كَانُوْا یَكْفُرُوْنَ۠ Open ayah 6:70 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے اپنے دین کو کھیل اور تماشا بنا رکھا ہے اور دنیا کی زندگی نے ان کو دھوکے میں ڈال رکھا ہے ان سے کچھ کام نہ رکھو ہاں اس (قرآن) کے ذریعے سے نصیحت کرتے رہو تاکہ (قیامت کے دن) کوئی اپنے اعمال کی سزا میں ہلاکت میں نہ ڈالا جائے (اس روز) خدا کے سوا نہ تو کوئی اس کا دوست ہوگا اور نہ سفارش کرنے والا اور اگر وہ ہر چیز (جو روئے زمین پر ہے بطور) معاوضہ دینا چاہے تو وہ اس سے قبول نہ ہو یہی لوگ ہیں کہ اپنے اعمال کے وبال میں ہلاکت میں ڈالے گئے ان کیلئے پینے کو کھولتا ہوا پانی اور دکھ دینے والا عذاب اس لئے کہ کفر کرتے تھے

وَاِذا رَاَیْتَ الَّذِیْنَ یخوضون فی آیاتنا، (الآیۃ) اس آیت میں اگرچہ خطاب نبی ﷺ سے ہے لیکن مخاطب امت مسلمہ کا ہر فرد ہے، یہ اللہ تعالیٰ کا ایک تاکیدی حکم ہے جس کو قرآن کریم میں متعدد جگہ بیان کیا گیا ہے اس سے ہر وہ مجلس مراد ہے جہاں اللہ اور اس کے رسول کے احکام کا مذاق اڑایا جا رہا ہو یا عملاً اس کا استحفاف کیا جا رہا ہو، اہل بدعت اور اہل زیغ اپنی تاویلات رکیکہ اور توجیہات نحیفہ کے ذریعہ آیات الہیٰ کو توڑ مروڑ کر پیش کر رہے ہوں ایسی مجلسوں میں غلط باتوں پر تنقید کرنے اور کلمہ حق بلند کرنے کی نیت سے تو شرکت جائز ہے بصورت دیگر سخت گناہ اور غضب الہیٰ کا باعث ہے۔ صحیح مسلم میں حضرت ابوہریرہ کی ایک روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ خلاف شرع کوئی بات دیکھ کر ہاتھ سے، زبان سے جس طریقہ سے ممکن ہو اس کی اصلاح کریں یہ اسلام کی علامت ہے اگر کسی میں زبان سے اور ہاتھ سے روکنے کی قدرت نہ ہو تو اس خلاف شریعت بات کو دل سے ناپسند کرنا ایمان کا کمتر درجہ ہے۔ مسند احمد اور ابن ماجہ میں حذیفہ بن یمان کی حدیث ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آپس کی نصیحت کا طریقہ جب لوگوں سے اٹھ جائیگا تو ایسی بستی کے لوگوں پر عذاب آجائیگا اور کسی نیک آدمی کی دعاء عذاب ٹالنے کے باب میں قبول نہ ہوگی، ترمذی نے اس حدیث کو حسن کہا ہے، مطلب یہ ہے کہ جو لوگ خدا کی نافرمانی سے بچ کر کام کرتے ہیں ان پر نافرمانوں کے کسی عمل کی ذمہ داری نہیں ہے پھر وہ کیوں خواہ مخواہ اس بات کو اپنے اوپر فرض کرلیں کہ ان نافرمانوں سے بحث و مناظرہ کرکے ضرور انہیں قائل کرکے چھوڑیں گے ان کا فرض بس اتنا ہے کہ بھٹکنے والوں کو نصیحت کریں اور حق بات ان کے سامنے واضح کردیں، اگر وہ مانیں اور بحث و مباحثہ پر اتر آئیں تو اہل حق کا یہ کام نہیں کہ ان کے ساتھ دماغی کشتیاں لڑنے میں اپنا وقت اور قوت ضائع کرتے پھریں۔ وَذَکّر بہ اَن لا تبسل نفسَ ، تُبْسَلَ ، ای لِئلاَّ تُبْسَلَ ، بَسْلٌ کے اصل معنی روکنے اور منع کرنے کے ہیں، اسی سے شجاع باسلٌ ہے، یہاں اس کے مختلف معنی کئے گئے ہیں تُسَلَّمُ ، سونپ دئیے جائیں، حوالہ کر دئیے جائیں مفسرّ علام نے یہی معنی مراد لئے ہیں، مطلب یہ ہے کہ انہیں اس قرآن کے ذریعہ نصیحت کریں، کہیں ایسا نہ ہو کہ نفس کو اس کے کرتوتوں کے بدلے ہلاکت کے سپرد کردیا جائے۔
Ayah 6:71

قُلْ اَنَدْعُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا یَنْفَعُنَا وَ لَا یَضُرُّنَا وَ نُرَدُّ عَلٰۤى اَعْقَابِنَا بَعْدَ اِذْ هَدٰىنَا اللّٰهُ كَالَّذِی اسْتَهْوَتْهُ الشَّیٰطِیْنُ فِی الْاَرْضِ حَیْرَانَ١۪ لَهٗۤ اَصْحٰبٌ یَّدْعُوْنَهٗۤ اِلَى الْهُدَى ائْتِنَا١ؕ قُلْ اِنَّ هُدَى اللّٰهِ هُوَ الْهُدٰى١ؕ وَ اُمِرْنَا لِنُسْلِمَ لِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 6:71 in the Quran reader

کہو کیا ہم خدا کے سوا ایسی چیز کو پکاریں جو نہ ہمارا بھلا کرسکتے ہیں اور نہ برا اور جب ہم کو خدا نے سیدھا راستہ دکھا دیا تو (کیا) ہم الٹے پاؤں پھرجائیں (پھر ہماری ایسی مثال ہو) جیسے کسی کو جنات نے جنگل میں بھلا دیا ہو (اور وہ) حیران (ہورہا ہو) اور اسکے کچھ رفیق ہوں جو اس کو راستے کی طرف بلائیں کہ ہمارے پاس چلا آ کہہ دو کہ راستہ وہی ہے جو خدا نے بتایا ہے اور ہمیں تو یہ حکم ملا ہے کہ ہم خدا رب العالمین کے فرمابردار ہوں

آیت نمبر 71 تا 82 ترجمہ : آپ کہہ دیجئے کہ کیا ہم اللہ تعالیٰ کے سوا ایسی چیزوں کی بندگی کریں کہ جو نہ ان کی بندگی کرنے سے ہم کو نفع پہنچا سکیں اور نہ ترک بندگی سے ہم کو نقصان پہنچا سکیں، اور وہ بت ہیں، اور جبکہ اللہ ہم کو سیدھا اسلام کا راستہ دکھا چکا تو کیا ہم مشرک ہو کر الٹے پیر پھرجائیں اس شخص کے مانند کی جس کو شیطان نے صحرا میں بھٹکا دیا ہو اور وہ حیران پھر رہا ہو وہ نہیں جانتا کہ کدھر جائے، حیران استھوتْہٗ کی ضمیر سے حال ہے اور اس کے ساتھی اسے سیدھی راہ کی طرف پکار رہے ہوں، اس سے کہہ رہے ہوں کہ ہمارے پاس آ، اور وہ ان کا جواب نہ دے جس کے نتیجے میں ہلاک ہوجائے استفہام انکار کیلئے ہے اور جملہ تثنیہ نُرَدُّ کی ضمیر سے ضال ہے، کہو کہ حقیقت میں صحیح رہنمائی تو صرف اللہ ہی کی ہے اور وہ اسلام ہے، اس کے علاوہ جو کچھ ہے گمراہی ہے، اور اس کی طرف سے ہمیں یہ حکم ملا ہے کہ ہم رب العلمین کے سامنے سرتسلیم خم کردیں اور نماز قائم کریں اور اللہ تعالیٰ سے ڈریں اور وہ اہی ذات ہے کہ تم قیامت کے دن اس کی طرف جمع کئے جاؤ گے، اور وہی ذات ہے کہ جس نے آسمانوں اور زمین کو حق کے ساتھ (با مقصد) پیدا کیا، اور اس دن کو یاد کرو جس دن وہ شئی سے کہے گا کہ ہوجا تو وہ ہوجائے گی، وہ قیامت کا۔۔۔۔ ہے جس دن مخلوق سے کہے گا کھڑے ہوجاؤ تو کھڑے ہوجائیں گے، اس کا فرمان حق ہے یعنی سچ ہے لامحالہ واقع ہونے۔۔۔۔ ہے اور جس روز صور میں دوسرا نفخہ اسرافیل کے ذریعہ پھونکا جائیگا بادشاہی اللہ ہی کی ہوگی، اس روز کسی کی حکومت نہ ہوگی، (جیسا کہ اللہ کا فرمان ہے) لمن الملک الیوم للہ، مخفی اور ظاہر چیزوں کا جاننے والا ہے وہ اپنی مخلوق کے بارے میں حکیم ہے اور اشیاء کے باطن سے ان کے ظاہر کے مانند واقف ہے اور اس وقت کو یاد کرو جب ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے والد آزر سے جو کہ اس کا لقب تھا اور اس کا نام تارخ تھا کہا کیا تم بتوں کو معبود قرار دیتے ہو جن کی تم بندگی کرتے ہو یہ استفہام توبیخی ہے، بیشک میں تم کو اور تمہاری قوم کو ان بتوں کو معبود بنانے کی وجہ سے حق سے دور صریح گمراہی میں دیکھتا ہوں اور جس طرح ہم نے ابراہیم (علیہ السلام) کو ان کے والد اور ان کی قوم کی گمراہی دکھائی اسی طرح ابراہیم (علیہ السلام) کو آسمانوں اور زمین کا نظام سلطنت دکھاتے ہیں تاکہ وہ اس کے ذریعہ ہماری وحدانیت پر استدلال کرے اور تاکہ اس کے ذریعہ (کامل) یقین کرنے والوں میں ہوجائے، اور کذلک اور اس کا مابعد معترضہ ہے اور قَالَ اَبراھیمُ پر عطف ہے چناچہ جب رات کی تاریکی چھا گئی تو انہوں نے ایک تارا دیکھا، کہا گیا ہے کہ وہ زہرہ تھا، اپنی قوم سے جو کہ ستارہ پرست تھی کہا تمہارے خیال میں یہ میرا رب ہے مگر جب وہ غروب ہوگیا تو کہا میں غروب ہونے والوں سے محبت نہیں کرتا، کہ ان کو اپنا رب بنا لوں اسلئے کہ رب پر تغیر اور انتقال طاری نہیں ہوتا اسلئے کہ یہ تو محدثات کی صفت ہے، لیکن یہ دلیل ان میں موثر ثابت نہیں ہوئی، پھر جب چاند کو چمکتا ہوا دیکھا تو ان سے کہا یہ میرا رب ہے وہ بھی غروب ہوگیا تو کہا اگر میرا رب میری رہنمائی نہ کرتا (یعنی) ہدایت پر مجھے ثابت قدم نہ رکھتا، تو میں گمراہ لوگوں میں شامل ہوگیا ہوتا، (یہ) قوم پر تعریض ہے کہ وہ گمراہی پر ہیں، اس بات نے بھی ان میں کوئی اثر نہ کیا پھر جب سورج کو روشن دیکھا تو کہا ھذا کو اس کی خبر کے مذکر ہونے کی وجہ سے مذکر لائے ہیں، یہ میرا رب ہے یہ سب تاروں اور چاند سے بڑا ہے پھر جب وہ بھی غروب ہوگیا اور حجت ان پر تام ہوگئی مگر وہ رجوع نہ ہوئے تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کہہ اٹھے اے برادران قوم میں ان بتوں اور فنا ہونے والے اجسام سے جو کہ فنا کرنے والے کے محتاج ہیں بری ہوں جن کو تم خدا کا شریک ٹھہراتے ہو، وہ کہنے لگے تم کس کی بندگی کرتے ہو کہا میں نے تو اپنا رخ یکسو ہو کر یعنی دین قیم کی طرف مائل ہو کر اس ذات کی طرف کرلیا ہے جس نے آسمان اور زمین پیدا کئے یعنی اللہ کی طرف اور میں ہرگز اس کے ساتھ شرک کرنے والوں میں سے نہیں ہوں تو ان کی قوم ان سے حجت کرنے لگی یعنی ان سے ان کے دین کے بارے میں جھگڑنے لگی، اور ان کو بتوں سے ڈرایا کہ اگر ان کو چھوڑا تو وہ ان کو تکلیف پہنچائیں گے تو (حضرت ابراہیم) نے فرمایا کہ تم مجھ سے اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کے بارے میں جھگڑتے ہو (اتحاجونی) نون کی تشدید اور تخفیف کے ساتھ ہے دونوں میں سے ایک کو حذف کرکے اور وہ نحویوں کی اصطلاح میں نون رفع ہے اور قاریوں کی اصطلاح میں نون وقایہ ہے، اور اللہ نے ہدایت کی طرف میری رہنمائی کی ہے اور میں تمہارے اس کے ساتھ شریک ٹھہرائے ہوئے بتوں سے ڈرتا نہیں ہوں کہ وہ مجھے تکلیف پہنچائیں گے، اسلئے کہ ان کو کسی چیز پر قدرت حاصل نہیں ہے ہاں اگر میرا رب چاہے کہ کچھ تکلیف مجھے پہنچے تو ہوسکتا ہے، میرے رب کا علم ہر شئ پر چھایا ہوا ہے کیا تم اس سے نصیحت حاصل نہیں کرتے کہ ایمان لے آؤ ؟ اور میں ان چیزوں سے کیسے ڈروں جن کو تم نے خدا کا شریک ٹھہرایا ہے اور وہ نہ نقصان پہنچا سکتے ہیں اور نہ نفع حالانکہ تم اللہ تعالیٰ سے نہیں ڈرتے کہ تم نے عبادت میں اللہ کا ان کو شریک ٹھہرایا ہے جن کی عبادت کے بارے میں اللہ نے تم پر کوئی دلیل اور حجت قائم نہیں کی وہ ہر شئ پر قادر ہے، سو بتاؤ دونوں فریقوں میں سے امن کا کون زیادہ مستحق ہے، ہم یا تم ؟ اگر تم جانتے ہو کہ اس کا کون زیادہ مستحق ہے، اور وہ ہم ہیں، لہٰذا تم اس کی اتباع کرو، اللہ تعالیٰ نے فرمایا عذاب سے امن کے حق دار تو وہی ہیں کہ جو ایمان لائے اور انہوں نے اپنے ایمان کو شرک کے ساتھ آلودہ نہیں کیا جیسا کہ صحیحین کی حدیث میں ظلم کی تفسیر شرک سے کی گئی ہے، اور وہی ہدایت یافتہ ہیں۔ تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد قولہ : قُلْ اَنَدْعُوْا، ہمزہ استفہام توبیخ کیلئے ہے اور نَدْعُوْا کے آخر میں الف مشابہ جمع کی وجہ سے ہے یہ رسم الخظ مصحف عثمانی کے مطاق ہے۔ قولہ : نُرَدُّ ، مضارع مجہول متکلم اس کا عطف ندعوا پر ہے انکار کے تحت داخل ہے، نحنُ اس کا نائب فاعل مستتر ہے ترجع نُرَدُّ کی تفسیر ہے مشرکین ” نُرَدُّ “ کی ضمیر سے حال ہے۔ قولہ : استھْوَتْہُ ، یہ اِسْتِھْواءٌ سے ماضی واحد مؤنث غائب، ہٗ ضمیر مفعولی ہے، اس نے گمراہ کردیا۔ قولہ : حَیْرَان، بمعنی متحیر صیغہ صفت مشبہ اس کی مؤنث حیریٰ ۔ قولہ : کالذی استھْوَتْہُ ، یہ جملہ نُرد کی ضمیر نائب فاعل سے حال ہے تقدیر عبارت یہ ہے، نُرَدُّ مشبِّھِیْنَ الذی استھوتہ الشیٰطین اور حیْرانَ استھوتہُ ، کی ضمیر مفعولی سے حال ہے۔ قولہ : ذُکّرَ لِتَذْکِیْرِ خَبَرِہٖ ، یہ ایک اعتراض کا جواب ہے۔ اعتراض : ھذا کا مرجع الشمس ہے جو کہ مؤنث سماعی ہے لہٰذا اسم اشارہ بھی ھذہ ہونا چاہیے تاکہ اسم اشارہ اور مشارٌ الیہ میں مطابقت ہوجائے۔ جواب : جب اسم اشارہ اور مشارٌ الیہ میں مطابقت نہ ہو تو خبر کی رعایت کی جاتی ہے۔ تفسیر و تشریح شان نزول : قُل اَنَدْعُوْا مِن دون اللہ، اسماعیل سُدّی نے اپنی تفسیر میں کہا ہے کہ بعض مشرکین نے بعض نو مسلموں سے مکہ میں کہا کہ تم نے اپنے قدیمی دین کو کیوں چھوڑ دیا ؟ اپنے قدیم دین پر آجاؤ، تو مذکورہ آیت نازل ہوئی، حاشیہ جلالین میں ہے کہ عبد الرحمن بن ابی بکر نے اپنے اسلام لانے سے پہلے اپنے والد ابوبکر کو جواب کا ذمہ دار بنانے کے بجائے آنحضرت ﷺ کو جواب کا مکلف بنایا ہے اس میں حضرت ابوبکر صدیق کی شان کی طرف اشارہ ہے۔ مذکورہ آیت میں ان لوگوں کی مثال بیان فرمائی ہے جو ایمان کے بعد کفر اور توحید کے بعد شرک کی طرف لوٹ جائیں ان کی مثال ایسی ہی ہے کہ ایک شخص اپنے ساتھیوں سے بچھڑ جائے جو سیدھے راستہ پر جا رہے ہوں اور بچھڑنے والا جنگلوں میں حیران و پریشان بھٹکتا پھر رہا ہو، ساتھی اسے بلا رہے ہوں لیکن حیرانی میں اسے کچھ سجھائی نہ دے رہا ہو، یا جنات و شیاطین کے نرغے میں پھنس جانے کے باعث صحیح راستہ کی طرف اس کیلئے مراجعت ممکن نہ رہی ہو۔
Ayahs 6:72–73

وَ اَنْ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اتَّقُوْهُ١ؕ وَ هُوَ الَّذِیْۤ اِلَیْهِ تُحْشَرُوْنَ Open ayah 6:72 in the Quran reader

اور یہ (بھی) کہ نماز پڑھتے رہو اور اس سے ڈرتے رہو اور وہی تو ہے جس کے پاس تم جمع کیے جاو گے

وَ هُوَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بِالْحَقِّ١ؕ وَ یَوْمَ یَقُوْلُ كُنْ فَیَكُوْنُ١ؕ۬ قَوْلُهُ الْحَقُّ١ؕ وَ لَهُ الْمُلْكُ یَوْمَ یُنْفَخُ فِی الصُّوْرِ١ؕ عٰلِمُ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ١ؕ وَ هُوَ الْحَكِیْمُ الْخَبِیْرُ Open ayah 6:73 in the Quran reader

اور وہی تو ہے جس نے آسمانوں اور زمینوں کو تدبیر سے پیدا کیا ہے اور جس دن وہ فرمائے گا کہ ہوجا تو (حشربرپا) ہوجائے گا۔ اسکا ارشاد برحق ہے۔ اور جس دن صور پھونکا جائے گا (اس دن) اسی کی بادشاہت ہوگی۔ وہی پوشیدہ اور ظاہر (سب) کا جاننے والا ہے اور وہی دانا اور خبردار ہے۔

وَاَن اقیموا الصلوۃ الخ، اَن اقیموا کا عطف لِنُسلِم پر ہے، یعنی ہمیں حکم دیا گیا ہے کہ ہم رب العلمین کے مطیع ہوجائیں اور یہ کہ ہم نماز قائم کریں، تسلیم وانقیاد الہیٰ کے بعد سب سے پہلا حکم اقامت صلوٰۃ کا ہے، اس سے نماز کی اہمیت واضح ہوتی ہے اور اس کے تقوی کا حکم ہے کہ نماز کی پابندی اور خضوع کے بغیر ممکن نہیں۔ یومَ یَنْفَخُ فی الصورِ ، صور سے مراد نرسنگا یا بگل ہے جس کے متعلق حدیث میں آیا ہے کہ اسرافیل (علیہ السلام) اسے اپنے منہ سے لگائے اور اپنی پیشانی جھکائے حکم الہیٰ کے منتظر کھڑے ہیں کہ جب حکم دیا جائے پھونک دیں، (ابن کثیر، ابو داؤد ترمذی) بعض علماء کے نزدیک تین نفخ ہوں گے، (1) نفخہ صعق اس سے تمام انسان بےہوش ہوجائیں گے، (2) نفخہ افناء جس سے تمام لوگ فنا ہوجائیں گے، (3) نفخہ انشاء جس سے تمام لوگ دوبارہ زندہ ہوجائیں گے، اور بعض آخری دو ہی کے قائل ہیں۔