6. Surah Al-An'aam

الأنعامThe Cattle · 165 ayahsتفسیرِ جلالین

Ayahs 6:74–75

وَ اِذْ قَالَ اِبْرٰهِیْمُ لِاَبِیْهِ اٰزَرَ اَتَتَّخِذُ اَصْنَامًا اٰلِهَةً١ۚ اِنِّیْۤ اَرٰىكَ وَ قَوْمَكَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 6:74 in the Quran reader

اور (وہ وقت بھی یاد کرنے کے لائق ہے) جب ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے باپ آذر سے کہا کہ تم بتوں کو کیا معبود بناتے ہو۔ میں دیکھتا ہو کہ تم اور تمہاری قوم صریح گمراہی میں ہو۔

وَ كَذٰلِكَ نُرِیْۤ اِبْرٰهِیْمَ مَلَكُوْتَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ لِیَكُوْنَ مِنَ الْمُوْقِنِیْنَ Open ayah 6:75 in the Quran reader

اور ہم اس طرح ابراہیم (علیہ السلام) کو آسمانوں اور زمین کے عجائبات دکھانے لگے تاکہ وہ خوب یقین کرنے والوں میں ہوجائیں

واذا قال ابراہیم لابیہ آزر، مورخین نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے والد کے دو نام ذکر کئے ہیں آزر اور تارخ ممکن ہے کہ تارخ آزر کا لقب ہو۔ ابراہیم (علیہ السلام) کے والد کے نام کی تحقیق : آزرعرانی لفظ ہے عجمہ اور علمیت کی وجہ سے غیر منصرف ہے یہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے والد کا نام ہے تورات میں آپ کے والد کا نام تارخ بیان کیا گیا ہے اگر تورات کا بیان نحرف سے محفوظ ہے تو قرین قیاس یہی ہے کہ اس صورت میں آزر تارخ کی تعریب ہے جس طرح اسحقٰ اضحاق کا معرب ہے اور عیسیٰ یشوع کا معرب ہے امام راغب مفردات غریب القرآن میں رقم طراز ہیں، قیل ” کان اسم ابیہ تارخ فعرب فجعل آزر “ یعنی کہا گیا ہے کہ ان کے والدہ کا نام تارخ تھا پھر معرب بنا کر آزر کرلیا گیا، قرآن کریم اور حدیث شریف میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے والد کا نام آزر ہی مذکور ہے، اگر تورات کا بیان صحیح مان لیا جائے تو یہ بھی ممکن ہے کہ آزر اور تارخ یعقوب و اسرائیل کی طرح ایک ہی شخص کے دو نام ہوں، یا ان میں سے ایک لقب اور دوسرا نام ہو، بعض حضرات کا خیال ہے کہ آزر حضرت ابراہیم کے چچا کا نام ہے مگر یہ لغو ہے اسلئے کہ ابٌّ کا لفظ جب مفرد بولا جاتا ہے تو ہمیشہ اس سے باپ ہی مراد ہوتا ہے، البتہ اگر مجاز کا کوئی قرینہ ہو تو دوسری بات ہے، آیت مذکورہ میں کوئی مجاز کا قرینہ موجود نہیں ہے، اس کے علاوہ صحیح بخاری میں ان کا نام آزر ہی بیان کیا گیا ہے ایسی صورت میں بلا قرینہ مجاز، حقیقی معنی کو چھوڑنا بڑی جسارت کی بات ہے۔ مخالطہ کی اصل وجہ : اس مغالطہ کی اصل وجہ اس خیال اور عقیدہ پر ہے کہ نبی ﷺ کے تمام آباء و اجداد کو آدم تک مومن اور موحد تسلیم کیا جائے حالانکہ حسب تصریح امام رازی و بو حیان اندلسی یہ شیعوں کا عقیدہ ہے اسی عقیدہ کے پیش نظر یہ کوشش کی گئی کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا والد آزر کے بجائے کسی اور کو ثابت کیا جائے اس لئے کہ آزر کے بارے میں قرآنی اور حدیثی شہادت کفر کی موجود ہے۔ (لغات القرآن ملخصاً ) مشرکوں کو ابراہیم (علیہ السلام) کا قصہ سنانے کی وجہ : مشرکین چونکہ خود کو ملت ابراہیمی پر کہتے تھے، اس لئے اللہ تعالیٰ نے ابراہیم (علیہ السلام) کا قصہ سنا کر ان لوگوں کو یوں قائل کیا کہ ابراہیم (علیہ السلام) توبت پرستی سے کس قدر بیزار تھے اسکا حال ان لوگوں کو اس قصہ سے معلوم ہوگا، پھر مشرکین مکہ بت پرستی میں مبتلا ہو کر خود کو کس طرح ملت ابراہیمی پر کہہ سکتے ہیں
Ayahs 6:76–82

فَلَمَّا جَنَّ عَلَیْهِ الَّیْلُ رَاٰ كَوْكَبًا١ۚ قَالَ هٰذَا رَبِّیْ١ۚ فَلَمَّاۤ اَفَلَ قَالَ لَاۤ اُحِبُّ الْاٰفِلِیْنَ Open ayah 6:76 in the Quran reader

(یعنی) جب رات نے ان کو (پردہ تاریکی سے) ڈھانپ لیا تو (آسمان میں) ایک ستارا نظر پڑا۔ کہنے لگے یہ میرا پروردگار ہے۔ جب وہ غائب ہوگیا تو کہنے لگے کہ مجھے غائب ہوجانیوالے پسند نہیں۔

فَلَمَّا رَاَ الْقَمَرَ بَازِغًا قَالَ هٰذَا رَبِّیْ١ۚ فَلَمَّاۤ اَفَلَ قَالَ لَئِنْ لَّمْ یَهْدِنِیْ رَبِّیْ لَاَكُوْنَنَّ مِنَ الْقَوْمِ الضَّآلِّیْنَ Open ayah 6:77 in the Quran reader

پھر جب چاند کو دیکھا کہ چمک رہا ہے تو کہنے لگے یہ میرا پروردگار ہے۔ لیکن جب وہ بھی چھپ گیا تو بول اٹھے کہ اگر میرا پروردگار مجھے سیدھا راستہ نہیں دکھائیگا تو میں ان لوگوں میں ہوجاؤں گا جو بھٹک رہے ہیں۔

فَلَمَّا رَاَ الشَّمْسَ بَازِغَةً قَالَ هٰذَا رَبِّیْ هٰذَاۤ اَكْبَرُ١ۚ فَلَمَّاۤ اَفَلَتْ قَالَ یٰقَوْمِ اِنِّیْ بَرِیْٓءٌ مِّمَّا تُشْرِكُوْنَ Open ayah 6:78 in the Quran reader

پھر جب سورج کو دیکھا کہ جگمگا رہا ہے تو کہنے لگے میرا پروردگار یہ ہے۔ یہ سب سے بڑا ہے۔ مگر جب وہ بھی غروب ہوگیا تو کہنے لگے کہ لوگو ! جن چیزوں کو تم (خدا کا ٰ ) شریک بناتے ہو میں ان سے بیزار ہوں۔

اِنِّیْ وَجَّهْتُ وَجْهِیَ لِلَّذِیْ فَطَرَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ حَنِیْفًا وَّ مَاۤ اَنَا مِنَ الْمُشْرِكِیْنَۚ Open ayah 6:79 in the Quran reader

میں نے سب سے یکسو ہو کر اپنے تئیں اسی ذات کی طرف متوجہ کیا جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے اور میں مشرکوں میں سے نہیں ہوں۔

وَ حَآجَّهٗ قَوْمُهٗ١ؕ قَالَ اَتُحَآجُّوْٓنِّیْ فِی اللّٰهِ وَ قَدْ هَدٰىنِ١ؕ وَ لَاۤ اَخَافُ مَا تُشْرِكُوْنَ بِهٖۤ اِلَّاۤ اَنْ یَّشَآءَ رَبِّیْ شَیْئًا١ؕ وَسِعَ رَبِّیْ كُلَّ شَیْءٍ عِلْمًا١ؕ اَفَلَا تَتَذَكَّرُوْنَ Open ayah 6:80 in the Quran reader

اور انکی قوم ان سے بحث کرنے لگی تو انہوں نے کہا کہ تم مجھ سے خدا کے بارے میں (کیا) بحث کرتے ہو اس نے تو مجھے سیدھا راستہ دکھا دیا ہے اور جن چیزوں کو تم اس کا شریک بناتے ہو میں ان سے نہیں ڈرتا۔ ہاں جو میرا پروردگار اپنے علم سے ہر چیز پر احاطہ کئے ہوئے ہے۔ کیا تم خیال نہیں کرتے ؟

وَ كَیْفَ اَخَافُ مَاۤ اَشْرَكْتُمْ وَ لَا تَخَافُوْنَ اَنَّكُمْ اَشْرَكْتُمْ بِاللّٰهِ مَا لَمْ یُنَزِّلْ بِهٖ عَلَیْكُمْ سُلْطٰنًا١ؕ فَاَیُّ الْفَرِیْقَیْنِ اَحَقُّ بِالْاَمْنِ١ۚ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَۘ Open ayah 6:81 in the Quran reader

بھلا میں ان چیزوں سے جن کو تم (خدا کا) شریک بناتے ہو کیونکہ ڈروں جبکہ تم اس نے نہیں ڈرتے کہ خدا کے ساتھ شریک بناتے ہو جس کی اس نے کوئی سند نازل نہیں کی۔ اب دونوں فریق میں سے کون سا فریق امن (اور جمعیت خاطر) کا مستحق ہے۔ اگر سمجھ رکھتے ہو (تو بتاؤ)

اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ لَمْ یَلْبِسُوْۤا اِیْمَانَهُمْ بِظُلْمٍ اُولٰٓئِكَ لَهُمُ الْاَمْنُ وَ هُمْ مُّهْتَدُوْنَ۠ Open ayah 6:82 in the Quran reader

جو لوگ ایمان لائے اور اپنے ایمان کو (شرک کے) ظلم سے مخلوط نہیں کیا ان کے لئے امن (اور جمعیت خاطر) ہے۔ اور وہی ہدایت پانے والے ہیں۔

فَلَمَّا جَنَّ علیہ اللیل راکوکباً قال ھذا ربی ھذا اکبر، سلف کا اس میں اختلاف ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) نے پہلے چمکدار مشتری یا زہرہ اور پھر چاند سورج کو دیکھ کر ھذا ربہ ھذا اکبر جو کہا یہ قول ان کا اس وقت کا ہے کہ جب وہ بچے تھے کہ اس وقت تک آپ کو توحید اور احکام شریعت کا علم نہیں تھا، اور اگر بڑی عمر میں یہ کلام کیا تو لوگوں کو قائل کرنے اور الزام دینے کیلئے یہ بات کہی دوسرا قول رجح ہے۔ (احسن التفاسیر) مشہور ہے کہ اس وقت کے بادشاہ نمرود نے اپنے ایک خواب کی تعبیر کی وجہ سے نومولود بچوں کو قتل کرنے کا حکم دے رکھا تھا، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) بھی اس سال پیدا ہوئے تھے جسکی وجہ سے انھیں چھپا کر ایک غار میں رکھا تاکہ نمرود کے ہاتھوں قتل سے بچ جائے، غار ہی میں جب کچھ شعور آیا اور آپ کو غار سے بار نکالا تو تارے چاند سورج وغیرہ دیکھے تو مذکورہ تاثرات ظاہر فرمائے لیکن غار والی بات مستند نہیں ہے بلکہ صحیح یہ ہے کہ قوم سے مکالمہ کے وقت آپ نے مذکورہ باتیں کہیں
Ayah 6:83

وَ تِلْكَ حُجَّتُنَاۤ اٰتَیْنٰهَاۤ اِبْرٰهِیْمَ عَلٰى قَوْمِهٖ١ؕ نَرْفَعُ دَرَجٰتٍ مَّنْ نَّشَآءُ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ حَكِیْمٌ عَلِیْمٌ Open ayah 6:83 in the Quran reader

اور یہ ہماری دلیل تھی جو ہم نے ابراہیم (علیہ السلام) کو انکی قوم کے مقابلہ میں عطا کی تھی۔ ہم جس کے چاہتے ہیں درجے بلند کردیتے ہیں۔ بیشک تمہارا پروردگار دانا اور خبردار ہے۔

آیت نمبر 83 تا 90 ترجمہ : یہ ہماری حجت ہے جو ہم نے ابراہیم کو عطا کی (یعنی) ہم نے ابراہیم (علیہ السلام) کو حجت کی جانب رہنمائی کی جس سے ابراہیم نے اللہ کی وحدانیت پر تاروں کے غروب پونے اور مابعد سے استدلال کرکے اپنی قوم پر حجت قائم کی، تلک مبدل منہ اور حجتنا بدل ہے، بدل مبدل منہ سے ملکرمبتداء ہے اور آتینا ابراہیم مبتداء کی خبر ہے اور ہم جس کو چاہتے ہیں علم و حکمت میں درجات بلند کردیتے ہیں، (ترفع درجات) اضافت (یعنی بغیر تنوین) اور تنوین کے ساتھ ہے، بیشک تیرا رب اپنی صنعت میں باحکمت (اور) اپنی مخلوق کے حالات سے باخبر ہے، اور ہم نے ابراہیم کو اسحاق اور یعقوب ابن اسحاق دیا اور ہم نے ان میں سے ہر ایک کو ہدایت دی اور ابراہیم سے پہلے ہم نے نوح کو ہدایت دی اور نوح (علیہ السلام) کی ذریت میں سے داؤد کو اور سلیمان بن داؤد کو اور ایوب کو یوسف بن یعقوب کو اور موسیٰ (علیہ السلام) کو اور ہارون کو ہدایت دی اور جس طرح ہم نے ان کو جزاء دی ہم اسی طرح نیکوکاروں کو جزاء دیا کرتے ہیں، اور زکریا کو اور ان کے بیٹے یحییٰ کو اور عیسیٰ ابن مریم کو (ہدایت دی) اس سے یہ بات مستفاد ہوتی ہے کہ لڑکی کی اولاد بھی ذریعت میں شامل ہے اور موسیٰ کے بھائی ہارون کے بھتیجے الیاس کو (ہدایت دی) اور یہ سب نیک لوگوں میں سے تھے، اور اسماعیل ابن ابراہیم کو اور یسع کو (الْیسع) میں لام زائدہ ہے اور یونس کو اور ابراہیم کے بھائی ہارون کے بیٹے لوط کو ہم نے ان میں سے ہر ایک کو اہل عالم پر نبوت کے ذریعہ فضیلت دی نیز ان کے آباء و اجداد اور ان کی اولاد اور ان کے بھائیوں میں سے (بہتوں کو نوازا) عطف یا تو کلاّ پر ہے یا نوحًا پر اور مِن تبعیض کیلئے ہے، اسلئے کہ ان میں سے بعض کی اولاد نہیں تھی اور ان میں سے بعض کی اولاد میں کافر تھے، اور ہم نے ان کو منتخب کرلیا اور راہ راست کی رہنمائی کی یہ دین جس کی طرف ان کی رہنمائی کی گئی، اللہ کی ہدایت ہے اس کے ذریعہ اپنے بندوں میں سے جس کو رہنمائی کرتا ہے اور اگر بالفرض انہوں نے شرک کیا ہوتا تو ان کا سب کیا دھرا غارت ہوجاتا یہ لوگ ایسے تھے کہ ہم نے ان کو کتاب بمعنی کتب اور حکمت اور نبوت عطا کی، اور اگر یہ اہل مکہ ان تینوں کا انکار کرتے ہیں (تو کریں) ہم نے ان (نعمتوں) کیلئے ایسے لوگوں کو مقرر کردیا ہے جو ان کے منکر نہیں ہیں اور وہ مہاجرین اور انصار ہیں (اے محمد) یہی تھے وہ لوگ جن کو اللہ نے ہدایت دی تھی سو آپ بھی ان کے توحید اور صبر کے طریقہ پر چلئے وقفاً اور وصلاً ہاء کے سکوت کے ساتھ اور ایک قراءت میں حالت وصل میں ہاء کو حذف کرکے، آپ اہل مکہ سے کہہ دو میں قرآن پر تم سے کوئی اجرت نہیں چاہتا کہ جو تم مجھے دیتے ہو یہ قرآن تو ایک نصیحت ہے دنیا والوں کیلئے خواہ انس ہوں یا جن۔ تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد قولہ : وَتُبْدَلُ منہ، اس میں اشارہ ہے کہ تلک اسم اشارہ ہے حجتنا مشاءٌ الیہ، دونوں مل کر مبتداء ہیں اور آتیناھا اس کی خبر، (دوسری ترکیب) تلک مبتداء حجتنا خبر اول اور آتیناہ جملہ ہو کر خبر ثانی۔ قولہ : التی احتَجّ یہ تلک کے مشاءٌ الیہ کا بیان ہے۔ قولہ : اَرْشَدْناہ لَھَا۔ سوال : آتینا کی تفسیر اَرْشَدْنَا سے کرنے کا کیا فائدہ ہے ؟ جواب : چونکہ حجت کوئی دینے کی چیز نہیں ہے اسلئے اٰتینا کی تفسیر اَرْشدنا سے کی ہے۔ قولہ : حُجَّۃً عَلیٰ قَوْمِہٖ ۔ سوال : لفظ حجۃ محذوف کس وجہ سے مانا ہے ؟ جواب : اس بات کی طرف اشارہ کرنے کیلئے کہ علیٰ قومہٖ ، حجۃ محذوف کے متعلق ہے نہ کہ آتینا کے، اسلئے کہ ایتاء کا صلہ علیٰ نہیں آتا۔ قولہ : ای نوح، اس اضافہ کا مقصد ذریتہٖ کی ضمیر کا مرجع متعین کرنا ہے اور وہ نوح ہے نہ کہ ابراہیم کہ یونس (علیہ السلام) اور لوط (علیہ السلام) ، ابراہیم (علیہ السلام) کی ذریت میں سے نہیں ہیں حالانکہ ان دونوں کا عطف مذکورین پر ہے۔ قولہ : ابن اخی ہارون اخی موسیٰ ۔ سوال : الیاس ابن اخی موسیٰ مختصر تعبیر کو چھوڑ کر مذکورہ طویل تعبیر کیوں اختیار کی ؟ جواب : اس تعبیر میں اس طرف اشارہ ہے کہ حضرت ہارون (علیہ السلام) موسیٰ (علیہ السلام) کے حقیقی بھائی نہیں ہیں بلکہ ماں شریک بھائی ہیں، مگر یہ قول ضعیف ہے۔ قولہ : الیسع اللام زائدۃ، الیسع پر الف لام زائدہ ہے اسلئے کہ علم پر الف لام داخل نہیں ہوتا۔ قولہ : لِاَنَّ بَعْضَھُم لَمْ یَکُنْ لَہٗ وَلَدٌ وَبَعْضَھُم کَانَ فی وُلْدِہٖ کَافِرٌ، لِاَنَّ ، سے ومن آبائھم میں مِن کے تبعیضیہ ہونے کی وجہ بیان کی گئی ہے، اسلئے کہ اگر من کو تبعیضیہ نہ مانیں تو آیت میں مذکور تمام لوگوں کی ذریت کا ہدایت یافتہ ہونا لاز آئیگا، حالانکہ بعض کی تو ان میں سے اولاد ہی نہیں مثلاً حضرت یحییٰ کی اور ان میں سے بعض کی بعض اولاد کا کافر ہونا متعین ہے جیسا کہ حضرت نوح (علیہ السلام) کا بیٹا کنعان۔ قولہ : اِقْتَدِہْ ۔ سوال : اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ انبیاء سابقین کے تابع تھے آپ کو ان کی اقتداء کا حکم دیا جا رہا ہے۔ جواب : من التوحید والبصر کا اضافہ اسی سوال کا جواب ہے اقتداء اور متابعت، صبر علی الایذاء و توحید میں مراد ہے نہ کہ فروع دین میں قولہ : ھَاءِ السَّکْتِ ، اس ھاء کو کہتے ہیں جو کلمہ کے وقف کے وقت زائد کی جاتی ہے جبکہ آخری حرف متحرک ہو کہا گیا ہے کہ اقتدہ میں ہاء مصدر کی ضمیر کی ہے ای اقتداء الاقتداء۔ (حاشیہ جلالین) قولہ : وقفاً ووَصْلاً ، یعنی وصل کو وقف کے تابع کرکے۔ قولہ : وبِحَذْفِھَا، یہ اصل کے مطابق ہے۔ تفسیر و تشریح وتلک حجتنا، رلک حجتنا سے کونسی حجتیں مراد ہیں ؟ اس سے مراد اوپر کی وہ آیتیں ہیں کہ جن کے ذریعہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے باپ اور اپنی قوم کو قائل ولاجواب کردیا تھا، جن کا سلسلہ فَلَمَّا جَنَّ علیہ اللیلُ سے شروع ہو کر وھم مُھْتَدُونَ ، رکوع کے آخر تک چلا گیا ہے، یہ دلیل اللہ تعالیٰ نے الہام کے طور پر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے دل میں ڈالی تھیں، یعنی توحید الہیٰ پر ایسی حجت اور دلیل پیش فرمائی کہ جن کا جواب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی قوم سے نہ بن پڑا اور لاچار و مجبور ہو کر کٹھ حجتی پر اتر آئی، جس کی وجہ سے آپ کو آتش نمرود میں بھی ڈالا گیا اور بدرجہ مجبوری آپ کو عراق سے ملک شام کی طرف ہجرت کرنی پڑی۔ اور بعض مفسرین نے تلک حجتنا کا مشارٌ الیہ ” وکیف اخافُ مَا اشرکتم ولا تخافون انکم اشرکتم باللہ مالم ینزل بہ علیکم سلطانا فایّ الفریقین احق بالامْنِ “ کو قرار دیا ہے اور اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے اس قول کی تصدیق فرمائی ارشاد فرمایا، ” اَلَّذِیْنَ آمنوا ولم یلبسوا ایمانھم بظلم اولئک لھم الامن وھم مھتدون “۔
Ayahs 6:84–90

وَ وَهَبْنَا لَهٗۤ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ١ؕ كُلًّا هَدَیْنَا١ۚ وَ نُوْحًا هَدَیْنَا مِنْ قَبْلُ وَ مِنْ ذُرِّیَّتِهٖ دَاوٗدَ وَ سُلَیْمٰنَ وَ اَیُّوْبَ وَ یُوْسُفَ وَ مُوْسٰى وَ هٰرُوْنَ١ؕ وَ كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَۙ Open ayah 6:84 in the Quran reader

اور ہم نے انکو اسحاق (علیہ السلام) اور یعقوب (علیہ السلام) بخشے (اور) سب کو ہدایت دی۔ اور پہلے نوح (علیہ السلام) کو بھی ہدایت دی تھی اور ان کی اولاد میں سے داؤد اور سلیمان (علیہ السلام) اور ایوب (علیہ السلام) اور یوسف (علیہ السلام) اور موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) کو بھی۔ یہ ہم نیک لوگوں کو ایسا ہی بدلہ دیا کرتے ہیں

وَ زَكَرِیَّا وَ یَحْیٰى وَ عِیْسٰى وَ اِلْیَاسَ١ؕ كُلٌّ مِّنَ الصّٰلِحِیْنَۙ Open ayah 6:85 in the Quran reader

اور زکریا (علیہ السلام) اور یحیٰی (علیہ السلام) اور عیسیٰ (علیہ السلام) اور الیاس (علیہ السلام) کو بھی۔ یہ سب نیکو کار تھے۔

وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ الْیَسَعَ وَ یُوْنُسَ وَ لُوْطًا١ؕ وَ كُلًّا فَضَّلْنَا عَلَى الْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 6:86 in the Quran reader

اور اسماعیل (علیہ السلام) اور الیسع (علیہ السلام) اور یونس (علیہ السلام) اور لوط (علیہ السلام) کو بھی اور ان سب کو جہان کے لوگوں پر فضیلت بخشی تھی۔

وَ مِنْ اٰبَآئِهِمْ وَ ذُرِّیّٰتِهِمْ وَ اِخْوَانِهِمْ١ۚ وَ اجْتَبَیْنٰهُمْ وَ هَدَیْنٰهُمْ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 6:87 in the Quran reader

اور بعض بعض کو ان کے باپ دادا اور اولاد اور بھائیوں میں سے بھی۔ اور ان کو برگزیدہ بھی کیا تھا ' اور سیدھا راستہ بھی دکھایا تھا۔

ذٰلِكَ هُدَى اللّٰهِ یَهْدِیْ بِهٖ مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ١ؕ وَ لَوْ اَشْرَكُوْا لَحَبِطَ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 6:88 in the Quran reader

یہ خدا کی ہدایت ہے اس پر اپنے بندوں میں سے جسے چاہے چلائے اور اگر وہ لوگ شریک کرتے تو جو عمل وہ کرتے تھے سب ضائع ہوجاتے۔

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ وَ الْحُكْمَ وَ النُّبُوَّةَ١ۚ فَاِنْ یَّكْفُرْ بِهَا هٰۤؤُلَآءِ فَقَدْ وَ كَّلْنَا بِهَا قَوْمًا لَّیْسُوْا بِهَا بِكٰفِرِیْنَ Open ayah 6:89 in the Quran reader

یہ وہ لوگ تھے جن کو ہم نے کتاب اور حکم اور نبوت عطا فرمائی تھی۔ اگر یہ (کفّار) ان باتوں سے انکار کریں تو ہم نے ان پر (ایمان لانے کیلئے) ایسے لوگ مقّرر کردیئے ہیں کہ وہ ان سے کبھی انکار کرنیوالے نہیں۔

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ هَدَى اللّٰهُ فَبِهُدٰىهُمُ اقْتَدِهْ١ؕ قُلْ لَّاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ اَجْرًا١ؕ اِنْ هُوَ اِلَّا ذِكْرٰى لِلْعٰلَمِیْنَ۠ Open ayah 6:90 in the Quran reader

یہ وہ لوگ ہیں جن کو خدا نے ہدیات دی تھی تو تم انھی کی ہدایت کی پیروی کرو۔ کہہ دو کہ میں تم سے اس (قرآن) کا صلہ نہیں مانگتا۔ یہ تو جہان کے لوگوں کے لیے محض نصیحت ہے۔

وَوَھَبْنَا لہ اسحاق ویعقوب، (الآیۃ) یعنی بڑھاپے میں، جب ابراہیم علیہ والصلوٰۃ والسلام اولاد سے ناامید ہوگئے تھے تو اللہ تعالیٰ نے بیٹے کے ساتھ پوتے کی بھی بشارت دی جو کہ یعقوب بن اسحاق ہیں لفظ یعقوب میں اس طرف اشارہ ہے کہ ان کے بعد بھی ان کی اولاد کا سلسلہ چلے گا، اسلئے کہ یعقوب عقب سے مشتق ہے جس کے معنی میں یہ مفہوم شامل ہے۔ ومن ذریتہٖ ، ذریتہٖ کی ضمیر کا مرجع بعض مفسرین نے حضرت نوح (علیہ السلام) کو قرار دیا ہے اسلئے کہ وہی اقرب ہے، یعنی حضرت نوح (علیہ السلام) کی ذریت میں سے حضرت داؤد و سلیمان (علیہما السلام) کو، اور بعض حضرات نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو مرجع قرار دیا ہے اسلئے کہ پوری گفتگو ان ہی کے ضمن میں چل رہی ہے، لیکن اس صورت میں یہ اشکال ہوگا کہ پھر لوط (علیہ السلام) کا ذکر سے فہرست میں نہیں آنا چاہیے تھا اس لئے کہ وہ ذریت ابراہیم (علیہ السلام) سے نہیں ہیں وہ تو ان کے بھائی ہارون بن آزر کے بیٹے یعنی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بھتیجے ہیں اور ابراہیم (علیہ السلام) لوط (علیہ السلام) کے چچا ہیں لیکن ہوسکتا ہے کہ تغلیباً عرف عام کے طور پر چچا کو والد سمجھ لیا گیا ہو حضرت نوح اور حضرت ابراہیم کی ذریت میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے ذکر سے اس بات کی طرف اشارہ ملتا ہے کہ لڑکی کی اولاد بھی ذریت رجال میں شامل ہے، جس طرح نبی کریم ﷺ نے اپنی بیٹی فاطمہ کے صاحبزادے حضرت حسن کو اپنا بیٹا فرمایا، ” اِنَّ ابنی ھذا سیدٌ ولعل اللہ ان یصلح بہ بین فنتین عظمتین من المسلمین۔ (بخاری کتاب الصلح) مذکورہ آیت میں اٹھارہ انبیاء کا ذکر ہے ان کے بارے میں فرمایا جا رہا ہے کہ اگر یہ حضرات بھی شرک کا ارتکاب کرلیتے تو ان کے تمام اعمال اکارت ہوجاتے، ایک دوسرے مقام پر آنحضرت ﷺ کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا، لئن اشرکت لیحبطنّ عملک ( سورة زمر) حالانکہ پیغمبروں سے شرک کا صدور ممکن نہیں (امکان شرعی) مقصد امت کو شرک کی ہلاکت خیزی سے آگاہ کرنا ہے۔
Ayahs 6:91–94

وَ مَا قَدَرُوا اللّٰهَ حَقَّ قَدْرِهٖۤ اِذْ قَالُوْا مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ عَلٰى بَشَرٍ مِّنْ شَیْءٍ١ؕ قُلْ مَنْ اَنْزَلَ الْكِتٰبَ الَّذِیْ جَآءَ بِهٖ مُوْسٰى نُوْرًا وَّ هُدًى لِّلنَّاسِ تَجْعَلُوْنَهٗ قَرَاطِیْسَ تُبْدُوْنَهَا وَ تُخْفُوْنَ كَثِیْرًا١ۚ وَ عُلِّمْتُمْ مَّا لَمْ تَعْلَمُوْۤا اَنْتُمْ وَ لَاۤ اٰبَآؤُكُمْ١ؕ قُلِ اللّٰهُ١ۙ ثُمَّ ذَرْهُمْ فِیْ خَوْضِهِمْ یَلْعَبُوْنَ Open ayah 6:91 in the Quran reader

اور ان لوگوں کے خدا کی قدر جیسی جاننی چاہئے تھی نہ جانی۔ جب انہوں نے کہا کہ خدا نے انسان پر (وحی اور کتاب وغیرہ) کچھ بھی نازل نہیں کیا۔ کہو کہ جو کتاب موسیٰ (علیہ السلام) لے کر آئے تھے اسے کس نے نازل کیا تھا ' جو لوگوں کے لئے نور اور ہدایت تھی۔ اور جسے تم نے علیٰحدہ علیٰحدہ اوراق (پر نقل) کر رکھا ہے۔ ان (کے کچھ حصّے) کو تو ظاہر کرتے ہو اور اکثر کو چھپاتے ہو۔ اور تم کو وہ باتیں سکھائی گئیں جنکو نہ تم جانتے تھے اور نہ تمہارے باپ دادا۔ کہہ دو (اس کتاب) خدا ہی نے (نازل کیا تھا) پھر انکو چھوڑ دو کہ اپنی بیہودہ بکواس میں کھیلتے رہیں۔

وَ هٰذَا كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ مُبٰرَكٌ مُّصَدِّقُ الَّذِیْ بَیْنَ یَدَیْهِ وَ لِتُنْذِرَ اُمَّ الْقُرٰى وَ مَنْ حَوْلَهَا١ؕ وَ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ یُؤْمِنُوْنَ بِهٖ وَ هُمْ عَلٰى صَلَاتِهِمْ یُحَافِظُوْنَ Open ayah 6:92 in the Quran reader

اور (ویسی ہی) یہ کتاب ہے جسے ہم نے نازل کیا ہے بابرکت جو اپنے سے پہلی (کتابوں) کی تصدیق کرتی ہے اور (جو) اسلئے (نازل کی گئی ہے) کہ تم مکّے اور اس کے آس پاس کے لوگوں کو آگاہ کردو۔ اور جو لوگ آخرت پر ایمان رکھتے ہیں وہ اس کتاب پر بھی ایمان رکھتے ہیں اور وہ اپنی نمازوں کی (پوری) خبر رکھتے ہیں۔

وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اَوْ قَالَ اُوْحِیَ اِلَیَّ وَ لَمْ یُوْحَ اِلَیْهِ شَیْءٌ وَّ مَنْ قَالَ سَاُنْزِلُ مِثْلَ مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ١ؕ وَ لَوْ تَرٰۤى اِذِ الظّٰلِمُوْنَ فِیْ غَمَرٰتِ الْمَوْتِ وَ الْمَلٰٓئِكَةُ بَاسِطُوْۤا اَیْدِیْهِمْ١ۚ اَخْرِجُوْۤا اَنْفُسَكُمْ١ؕ اَلْیَوْمَ تُجْزَوْنَ عَذَابَ الْهُوْنِ بِمَا كُنْتُمْ تَقُوْلُوْنَ عَلَى اللّٰهِ غَیْرَ الْحَقِّ وَ كُنْتُمْ عَنْ اٰیٰتِهٖ تَسْتَكْبِرُوْنَ Open ayah 6:93 in the Quran reader

اور اس سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جو خدا پر جھوٹ افترا کرے یا یہ کہے کہ مجھ پر وحی آئی ہے۔ حالانکہ اس پر کچھ بھی وحی نہ آئی ہو اور جو یہ کہے کہ جس طرح کی کتاب خدا نے نازل کی ہے اس طرح میں بھی بنا لیتا ہوں۔ اور کاش تم ان ظالم (یعنی مشرک) لوگوں کو اس وقت دیکھو جب موت کی سختیوں میں (مبتلا) ہوں اور فرشتے (انکی طرف عذاب کے لئے) ہاتھ بڑھا رہے ہوں۔ کہ نکالو اپنی جانیں آج تم کو ذلّت کے عذاب کی سزا دی جائے گی۔ اس لئے کہ تم خدا پر جھوٹ بولا کرتے تھے۔ اور اس کی آیتوں سے سرکشی کرتے تھے۔

وَ لَقَدْ جِئْتُمُوْنَا فُرَادٰى كَمَا خَلَقْنٰكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍ وَّ تَرَكْتُمْ مَّا خَوَّلْنٰكُمْ وَرَآءَ ظُهُوْرِكُمْ١ۚ وَ مَا نَرٰى مَعَكُمْ شُفَعَآءَكُمُ الَّذِیْنَ زَعَمْتُمْ اَنَّهُمْ فِیْكُمْ شُرَكٰٓؤُا١ؕ لَقَدْ تَّقَطَّعَ بَیْنَكُمْ وَ ضَلَّ عَنْكُمْ مَّا كُنْتُمْ تَزْعُمُوْنَ۠ Open ayah 6:94 in the Quran reader

اور جیسا ہم نے تم کو پہلی دفعہ پیدا کیا تھا ایسا ہی آج اکیلے اکیلے ہمارے پاس آئے اور جو (مال و متاع) ہم نے تمہیں عطا فرمایا تھا وہ سب اپنی پیٹھ پیچھے چھوڑ آئے۔ اور ہم تمہارے ساتھ تمہارے شفارشیوں کو بھی نہیں دیکھتے جن کی نسبت تم خیال کرتے تھے کہ وہ تمہارے (شفیع اور ہمارے) شریک ہیں۔ (آج) تمہارے آپس کے سب تعلقات منقطع ہوگئے اور جو دعوے تم کیا کرتے تھے سب جاتے رہے۔

آیت نمبر 91 تا 94 ترجمہ : یہود نے اللہ کی جیسی قدر کرنی چاہیے تھی یعنی جیسی تعظیم کرنی چاہیے تھی ویسی نہیں کی یا جیسی معرفت کا حق تھا ویسا حق ادا نہیں کیا جبکہ نبی ﷺ سے قرآن میں مخاصمت کرتے ہوئے کہا کہ اللہ نے کسی انسان پر کوئی چیز نازل نہیں کی آپ ان سے پوچھو کہ اس کتاب کو کس نے نازل کیا جس کو موسیٰ (علیہ السلام) لے کر آئے تھے اس کی کیفیت یہ تھی کہ وہ لوگوں کیلئے نور اور ہدایت تھی، جس کو تم نے متفرق اوراق میں رکھ چھوڑا ہے یعنی اس کو اوراق متفرقہ میں لکھ رکھا ہے، (تجعلونَہٗ ) تینوں مقامات میں یاء اور تاء کے ساتھ ہے جن کو تم ظاہر کرتے ہو یعنی ان میں سے جن باتوں کو تم ظاہر کرنا پسند کرتے ہو ظاہر کرتے ہو اور اس کی بہت سی باتوں کو تم چھپا جاتے ہو مثلاً محمد ﷺ کی صفات (علامات) کو اور اے یہودیو ! تم کو قرآن میں بہت کچھ سکھایا گیا اس چیز کو بیان کرکے جو تمہارے لئے مشتبہ ہوگئی اور جس میں تم نے اختلاف کیا جس کا تورات سے نہ تم کو علم ہوا اور نہ تمہارے آباء (و اجداد) کو اگر وہ جواب نہ دیں (اقرار نہ کریں) تو تم خود ہی کہہ دو کہ اس کو اللہ نے نازل کیا ہے، پھر ان کو ان کی خرافات میں کھیلنے کیلئے چھوڑ دو یہ (بھی ویسی ہی) کتاب ہے جس کو ہم نے نازل کیا ہے، بڑی برکت والی ہے اور اپنے سے سابقہ کتابوں کی تصدیق کرنے والی ہے (اور اس لئے نازل کی گئی ہے) کہ مکہ والوں اور اس کے اطراف والوں کو یعنی اہل مکہ اور تمام لوگوں کو ڈراؤ (ینذرَ ) تاء اور یاء کے ساتھ ہے، اپنے ماقبل کے معنی پر عطف ہے، یعنی ہم نے اس کو برکت کیلئے اور تصدیق کیلئے اور اس کے ذریعہ ڈرانے کیلئے نازل کیا ہے جو لوگ آخرت پر ایمان رکھتے ہیں وہ اس (قرآن) پر بھی ایمان رکھتے ہیں اور وہ آخرت کے عذاب کے خوف سے اپنی نمازوں کی پابندی کرتے ہیں اور اس سے بڑا ظالم کون ہوگا کہ جس نے اللہ پر جھوٹا بہتان لگایا نبوت کا دعویٰ کرکے حالانہ وہ نبی نہیں ہے یا کہے کہ مجھ پر وحی نازل کی گئی ہے حالانکہ اس پر کوئی چیز نازل نہیں کی گئی (یہ آیت) مسیلمہ کذاب کے بارے میں نازل ہوئی، اور جو شخص یوں کہے کہ جیسا کلام اللہ نے نازل کیا ہے میں بھی ایسا کلام لاسکتا ہوں اور (ایسا کہنے والے) استہزاء کرنے والے ہیں، (اور بعض) کہنے والوں نے کہا اگر ہم چاہیں تو ہم بھی ایسا کلام لاسکتے ہیں، کاش اے محمد تم مذکورہ ظالموں کو اس حالت میں دیکھتے کہ جب وہ موت کی سختیوں میں ہوں اور فرشتے زدوکوب اور عذاب کیلئے ان کی طرف ہاتھ بڑھاتے ہوئے سختی سے کہہ رہے ہوں اپنی جانوں کو ہماری طرف نکالو تاکہ ہم اس پر قبضہ کریں آج تمہیں ان باتوں کی پاداش میں جن کو تم نبوت اور انزال وحی کا ناحق دعوی کرکے اللہ پر جھوٹی تہمت لگایا کرتے تھے ذلت آمیز عذاب دیا جائیگا اور اس کی آیات کے مقابلہ میں سرکشی دکھایا کرتے تھے (یعنی) ان پر ایمان لانے سے تکبر کیا کرتے تھے، اور لَوْ کا جواب لَرَأیت امرًا فظیعًا (محذوف) ہے، تو آپ ایک ہولناک منظر دیکھتے، اور جب ان کو دوبارہ زندہ کیا جائیگا تو ان سے کہا جائیگا کہ تم آگئے نا، تن تنہا ہمارے پاس بغیر مال اور اہل و عیال کے جیسا کہ ہم نے تمہیں ابتداء پیدا کیا تھا، برہنہ پا، برہنہ بدن، غیر مختون، اور جو کچھ ہم نے تم کو مال (ومتاع دنیا میں) دیا تھا وہ سب اپنے پیچھے دنیا میں مجبوراً چھوڑ آئے، اور ان سے تو بیخاً کہا جائیگا ہم تمہارے ساتھ تمہارا سفارشی بتوں کو نہیں دیکھتے جن کے بارے میں تمہارا عقیدہ تھا کہ وہ تمہاری عبادت کے استحقاق میں اللہ کے شریک ہیں واقعی تمہارے آپس میں تو قطع تعلق ثابت ہوگیا، یعنی تمہاری جمعیت منتشر ہوگئی، اور ایک قراءت میں نصب کے ساتھ ظرف ہے یعنی تمہارے آپسی تعلقات، اور تمہارا وہ دعویٰ ختم ہوا جو کہ تم دنیا میں ان کی سفارش کے بارے میں کیا کرتے تھے۔ تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد قولہ : ای الیَھُوْدُ ، ما قَدَرُوا کا فاعل یہود کو ظاہر کرکے مشرکین کے احتمال کو دفع کردیا اس لئے کہ تجعلونَہٗ قَراطیسَ مشرکین کے حال کے مناسب نہیں ہے چونکہ مشرکین اہل کتاب ہی نہیں تھے کہ قراطیس کو متفرق کرتے۔ قولہ : فی المَوَاضِعِ الثَلٰثَۃِ ، ای تجعلونہ، یَبْدونھا، تَخْفُونَھا۔ قولہ : قَرَاطِیْس، قرطاس کی جمع ہے الگ الگ اوراق۔ قولہ : ای یَکْتُوُوْنَہٗ فی دَفَاتِرَ ۔ سوال : قراطیس کا حمل الکتاب پر درست نہیں ہے اسلئے کہ تجعلونَہٗ قراطیس کا کوئی مطلب نہیں ہے ؟ جواب : مفسر علام نے مذکورہ عبارت محذوف مان کر اسی اعتراض کا جواب دیا ہے یعنی وہ تورات کو متفرق دفاتر میں لکھتے تھے۔ قولہ : اَنْزلہٗ ، اس میں اشارہ ہے کہ اللہ مبتداء ہے اور انزلہ، خبر محذوف ہے، قرینہ مَنْ انزل ہے، اَنْزَل محذوف مان کر ایک سو ان کا جواب بھی مقصود ہے۔ سوال : اللہ، قُلْ فعل امر کا مقولہ ہے اور مقولہ کیلئے جملہ ہونا ضروری ہے حالانکہ لفظ اللہ مفرد ہے ؟ جواب : لفظ اللہ کے بعد اَنزلَ محذوف ہے اور اللہ انزل جملہ ہو کر قل کا مقولہ ہے۔ قولہ : عَطْفٌ عَلیٰ مَعْنٰی مَاقَبْلَہٗ ، یہ ماقبل کے معنی پر عطف ہے نہ کہ محذوف کی علت، تقدیر عبارت یہ ہے، وانزلناہ لتنذرَ الخ، اس لئے کہ حذف عند الضرورت ہوتا ہے اور یہاں ضرورت نہیں ہے۔ قولہ : وَلَوْ تَریٰ یا مُحَمَّدُ ، تریٰ کا مفعول الظٰلمون کی دلالت کی وجہ سے محذوف ہے، ای تریٰ الظالمین یا محمد۔ قولہ : حُفاۃً ، عُراۃً ، غُرلا، حُفَاۃ، کا واحد حافٍ وحافی ننگے پیر، عُراۃ، کا واحد عار، ننگے بدن غُرْلاً کا واحد اَغْرَل غیر مختون۔ قولہ : بَیْنَکُمْ ، اگر بینکم مرفوع پڑھا جائے تو تقطع کا فاعل ہوگا اور اگر منصوب پڑھا جائے تو ظرف کی بنا پر ہوگا اور فاعل تقطع کے اندر ضمیر ہوگی جو اتصال کی طرف راجع ہے جس پر ماقبل یعنی شرکاء دلالت کر رہا ہے مفسر علام نے اسی کی طرف اپنے قول ای وَصْلُکم بَیْنَکم سے اشارہ کیا ہے۔ تفسیر و تشریح مَا قَدَرُوا اللہ حَقَّ قَدْرِہٖ ، قدر کے معنی اندازہ کرنے اور کسی چیز کی حقیقت جاننے اور اس کی معرفت حاصل کرنے کے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ یہ مشرکین مکہ ارسال رُسُل اور انزال کتب کا انکار کرتے ہیں، جسکے صاف معنی یہ ہیں کہ انہیں اللہ کی صحیح معرفت ہی حاصل نہیں ورنہ وہ ان چیزوں کا انکار نہ کرتے، اور اسی عدم معرفت الہیٰ کی وجہ سے وہ نبوت و رسالت کی معرفت سے بھی قاصر ہیں، اور وہ یہ سمجھتے ہیں کہ کسی انسان پر اللہ کا کلام کس طرح نازل ہوسکتا ہے ؟ ! شان نزول : بعض مفسرین نے ما فدرُوا اللہ کا فاعل مشرکین مکہ کو قرار دیا ہے ابن جریر اور ابن حاتم اور ابن مردویہ وغیرہ نے حضرت ابن عباس ؓ سے یہی معنی روایت کئے ہیں، بعض مفسرین نے ماقدروا اللہ کا فاعل یہود کو قرار دیا ہے، ایک روز یہود نے آنحضرت ﷺ سے کہا اے محمد کیا اللہ نے تمہاری طرف کتاب نازل کی ہے آپ نے فرمایا نعم (ہاں) تو یہود نے کہا واللہ ما انزل اللہ من السماء کتاباً ، واللہ آسمان سے اللہ نے کوئی کتاب نازل نہیں کی۔ ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے سدی سے نقل کیا ہے فنحاص یہودی نے کہا ” ما انزل اللہ علی محمد ﷺ من شئ “ تو مذکورہ آیت نازل ہوئی، ابن جریر اور ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر سے نقل کیا ہے کہا ایک یہودی جس کا نام مالک بن صیف تھا آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ ﷺ سے جھگڑنے لگا، آپ ﷺ نے فرمایا، کہ میں تم کو اللہ کی قسم دیتا ہوں جس نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر تورات نازل فرمائی، کیا تم تورات میں پاتے ہو کہ اللہ حبر سمین کو مبغوض رکھتا ہے ؟ اور مالک بن صیف حِبْر سمین تھا (فربہ عالم تھا) تو مالک بن صیف اس بات سے ناراض ہوا اور کہا کہ ” واللہ ما انزل اللہ علی بشر من شئ “ تو اس کے ساتھیوں نے کہا ” وَیْحَکَ ولا علیٰ موسیٰ “ قال ما انزل اللہ علی بشرٍ من شئ تو مذکورہ آیت نازل ہوئی۔ تجعلونَہٗ قراطیس، یہود سے خطاب کرتے ہوئے کہا جا رہا ہے کہ تم اس کتاب کو متفرق اوراق میں رکھتے ہو جن میں سے جس کو چاہتے ہو ظاہر کرتے ہو اور جس کو چاہتے ہو چھپالیتے ہو مثلاً رجم کا مسئلہ اور آنحضرت ﷺ کی صفات و علامات کا مسئلہ حافظ ابن کثیر اور امام ابن جریر نے یَجْعلونَہٗ اور یبدونھا، غائب کے صیغوں والی قراءت کو ترجیح دی ہے اور دلیل یہ دی کہ یہ مکی آیت ہے اس میں یہود سے خطاب کیسے ہوسکتا ہے ؟ اور بعض مفسرین نے پوری آیت ہی کو یہود سے متعلق قرار دیا ہے اور اس میں سرے سے نبوت و رسالت کا انکار ہے اسے یہود کی ہٹ دھرمی اور ضد وعناد پر مبنی قرار دیا ہے، گویا اس آیت کی تفسیر میں مفسرین کی تین رائے ہیں، ایک پوری آیت کو یہود سے دوسرے پوری آیت کو مشرکین سے متعلق قرار دیا جائے اور تیسرے، آیت کے ابتدائی حصہ کو مشرکین سے متعلق اور تجعلونہ کو یہود سے متعلق قرار دیا جائے یہود سے متعلق قرار دینے کی صورت میں اس کی تفسیر ہوگی کہ تورات کے ذریعہ سے تمہیں بتائی گئی، بصورت دیگر قرآن کے ذریعہ بتائی گئیں۔ تجعلونَہٗ قراطیس، کی تقدیر کلام تجعلونَہٗ فی القراطیس ہے، جیسا کہ مفسر علام نے تکتبونَہٗ فی دفاتر مقطعۃ کہہ کر اشارہ کیا ہے ورنہ تو حمل درست نہ ہوگا یعنی تم نے اس کو پارہ پارہ کردیا کہ تم اپنی مصلحت کے مطابق جس حصہ کو چاہو ظاہر کرو اور جس کو چاہو چھپاؤ، اور تمہیں اسی کتاب کے ذریعہ ان حقائق کی تعلیم دی گئی جن سے تم ناواقف تھے اور جن کے بارے میں تم التباس و تذبذب کا شکار تھے تمام بشری کوششوں کے باوجود ان حقائق کا علم نہ تم کو ہوسکا اور نہ تمہارے آباء و اجداد کو۔ ھذا کتاب انزلنہُ مبارکٌ، یہ ایسی کتاب ہے کہ مخلوق اس سے جتنا چاہے اپنی ہمت و ظرف کے مطابق فائدہ اٹھا سکتی ہے۔ امام فخر الدین رازی کی رائے : اس آیت کے ذیل میں فخر الدین رازی اپنا ذاتی تجربہ تحریر فرماتے ہیں۔ اس کتاب کے مصنف محمد بن عمر رازی کہتے ہیں کہ میں نے بہت سے علوم حاصل کئے نقلی بھی اور عقلی بھی لیکن کسی بھی علم سے مجھے دین و دنیا میں وہ خیر وسعادت حاصل نہیں ہوئی جو اس علم (قرآن) کی خدمت سے حاصل ہوئی۔ (کبیر)
Ayahs 6:95–97

اِنَّ اللّٰهَ فَالِقُ الْحَبِّ وَ النَّوٰى١ؕ یُخْرِجُ الْحَیَّ مِنَ الْمَیِّتِ وَ مُخْرِجُ الْمَیِّتِ مِنَ الْحَیِّ١ؕ ذٰلِكُمُ اللّٰهُ فَاَنّٰى تُؤْفَكُوْنَ Open ayah 6:95 in the Quran reader

بیشک خدا ہی دانے اور گٹھلی کو پھاڑ (کر ان سے درخت وغیرہ اگاتا) ہے۔ وہی جاندار کو بےجان سے نکالتا ہے اور وہی بےجان کا جان دار سے نکالنے والا ہے۔ یہی تو خدا ہے پھر تم کہاں بہکے پھرتے ہو۔

فَالِقُ الْاِصْبَاحِ١ۚ وَ جَعَلَ الَّیْلَ سَكَنًا وَّ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ حُسْبَانًا١ؕ ذٰلِكَ تَقْدِیْرُ الْعَزِیْزِ الْعَلِیْمِ Open ayah 6:96 in the Quran reader

وہی (رات کے اندھیرے سے) صبح کی روشنی پھاڑ نکالتا ہے۔ اور اسی نے رات کو (موجب) آرام (ٹھیرایا) اور سورج اور چاند کو (ذرائع) شمار بنایا ہے۔ یہ خدا کے (مقرر کئے ہوئے) اندازے ہیں جو غالب (اور) علم والا ہے۔

وَ هُوَ الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ النُّجُوْمَ لِتَهْتَدُوْا بِهَا فِیْ ظُلُمٰتِ الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ١ؕ قَدْ فَصَّلْنَا الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ Open ayah 6:97 in the Quran reader

اور وہی تو ہے جس نے تمہارے لئے ستارے بنائے تاکہ جنگلوں اور دریاؤں کے اندھیروں میں ان سے راستے معلوم کرو۔ عقل والوں کے لئے ہم نے اپنی آیتیں کھول کر بیان کردی ہیں۔

آیت نمبر 95 تا 100 ترجمہ : بیشک بیج کو پھاڑ کر بناتات نکالنے والا اور گٹھلیوں کو چیر کو کھجور کے درخت نکالنے والا اللہ ہی ہے وہ جاندار کو بےجان سے جیسا کہ انسان اور پرندے کو نطفہ اور انڈے سے اور بےجان کو مثلاً نطفہ اور انڈے کو جاندار سے نکالنے والا ہے یہ شق کرنے والا نکالنے والا اللہ ہے تو تم کہاں الٹے چلے جا رہے ہو تو تم دلیل کے موجود ہونے کے باوجود کس طرح ایمان سے پھرے جا رہے ہو، وہ (پردہ شب کو چیر کر) صبح کو نکالنے والا ہے (الاصباح) مصدر بمعنی صبح ہے یعنی وہ ستون صبح (صبح کاذب) کو چاک کرنے والا ہے اور ستون صبح تاریکی شب سے نکلنے والی دن کی اس روشنی کو کہتے ہیں جو ابتداء نمودار ہوتی ہے اور رات کو راحت کی چیز بنایا کہ اس میں مخلوق تعب سے راحت حاصل کرتی ہے اور ضبط اوقات کیلئے سورج اور چاند کا حساب مقرر کیا نصب کے ساتھ اللَّیل کے محل پر عطف ہے یا باء محذوف ہے (ای بحُسْبَان) اس صورت میں مقدر سے حال ہوگا ای یجریان بحُسْبَان، جیسا کہ سورة رحمٰن میں ہے یہ مذکورہ (حساب) اپنے ملک میں غالب اپنی مخلوق کے بارے میں باخبر کا مقرر کیا ہوا ہے اور وہ ایسا ہے کہ جس نے تمہارے لئے تاروں کو پیدا فرمایا تاکہ تم ان کے ذریعہ بحروبر کی ظلمت میں سفر کے دوران رہنمائی حاصل کرو بیشک ہم نے ہماری قدرت پر دلالت کرنے والے دلائل کو کھول کھول کر بیان کیا ایسے لوگوں کے لئے جو غور و فکر کرتے ہیں وہ ایسی ذات ہے کہ جس نے تم کو شخص واحد سے پیدا کیا (اور) وہ آدم ہیں، سو رحم (مادر) تمہارے لئے قرار گاہ ہے اور (صلب پدر) تمہارے لئے امانت گاہ، اور ایک قراءت میں قاف کے فتحہ کے ساتھ ہے یعنی تمہارے لئے جائے قرار، بیشک ہم نے دلائل کو سمجھدار لوگوں کیلئے کھول کھول کر بیان کردیا وہ ایسی ذات ہے کہ جس نے آسمان (بادلوں) سے پانی برسایا اس میں غائب سے (تکلم کی جانب) التفات ہے اور اس پانی کے ذریعہ اگنے والی ہر قسم کی نبات اگائی پھر ہم نے اس نبات سے ہری بھری ایک چیز (کھیتی) اگائی، خضراً بمعنی اخضر ہے ہم نے اس کھیتی سے تہ بر تہ جمے ہوئے دانے پیدا کئے کہ آپس میں ایک دوسرے پر چڑھے رہتے ہیں جیسا کہ گندم وغیرہ کے خوشے، اور کھجور کے شگوفے (من النخل) خبر (مقدم) ہے اور من طلعھا، اس سے بدل ہے، (طلعٌ) اس شئ کو کہتے ہیں جو ابتداء کھجور کے درخت سے اپنے غلافوں سے نکلتی ہے اور قنوان دانیۃ مبتداء مؤخر ہے، قِنْوَان بمعی عراجین ہے بمعنی شاخ عَرَاجین عَرجون کی جمع ہے جس کے معنی شاخ کے ہیں جو جھکی ہوئی شاخوں میں ہوتے ہیں ایک دوسرے سے قریب ہوتے ہیں اور ہم نے پانی سے انگوروں کے اور زیتون کے اور انار کے باغات پیدا کئے کہ ان دونوں کے پتے ایک دوسرے کے مشابہ ہوتے ہیں (مشتبِھاً ) حال ہے اور ان کے پھل مشابہ نہیں ہوتے، اے مخاطبو ! اس کے پھلوں کو چشم عبرت سے دیکھو (ثمر) میں ثاء اور میم کے فتحہ اور دونوں کے ضمہ کے ساتھ ہے یہ ثَمَرَۃٌ کی جمع ہے جیسے شَجَرَۃٌ کی جمع شَجَرٌ ہے، اور خَشَبَۃٌ کی جمع خُشُبٌ ہے کہ جب وہ اول مرتبہ پھل لاتا ہے تو وہ کیسا ہوتا ہے ؟ اور اس کے پکنے (کی حالت) کو دیکھو کہ جب وہ قابل استفادہ ہوجائے تو کیسا ہوجاتا ہے ؟ ! بلاشبہ اس میں ایمان والوں کیلئے بعث بعد الموت وغیرہ کے دلائل ہیں، مومنین کا ذکر خاص طور پر اسلئے کیا ہے کہ کافروں کے خلاف مومنین میں دلائل سے ایمان کے بارے میں استفادہ کرتے ہیں اور لوگوں نے جنات کو اللہ کا شریک قرار دے رکھا ہے، اَللہ جَعَلُوا کا مفعول ثانی ہے اور شرکاء مفعول اول ہے اور الجنَّ ۔ شرکاء سے بدل ہے، اس لئے کہ انہوں نے بتوں کی پرستش کرنے میں ان کی اطاعت کی ہے حالانکہ (خود) ان لوگوں کو اللہ نے پیدا کیا ہے تو جنات اس کے شریک کیسے ہوسکتے ہیں ؟ اور ان لوگوں نے اللہ کیلئے بغیر سمجھے بیٹے اور بیٹیاں گھڑ لئے ہیں، (خرقوا) تخفیف اور تشدید کے ساتھ ہے اسلئے کہ انہوں نے کہا کہ عزیر اللہ کے بیٹے ہیں اور فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں، اللہ اس سے پاک ہے اور ان اوصاف سے برتر ہے جو یہ بیان کرتے ہیں کہ اس کی اولاد ہے۔ تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد قولہ : یُخرِجُ الحیَّ مِنَ المیّت، یہ جملہ کلام مستانف قائم ما قبل کی علت کے ہے اور یہ بھی احتمال ہے کہ اِنَّ کی۔۔۔ ثانی ہو، اور حیّ سے ہر وہ شئ مراد ہے جس میں نموہو خواہ ذی روح ہو یا نہ ہو، اور میت سے ہر شئ مراد ہے جس میں۔۔۔ نہ ہو۔ قولہ : مُخْرِج، اس کا عطف فالِقٌ پر ہے، اس لئے یخرج کے بجائے مخرج اسم فاعل کا صیغہ لائے ہیں تاکہ عطف درست ہوجائے اور یُخرِجُ الحیَّ مِنَ المیّت، فالق الحبّ والنویٰ کا بیان ہے اسی لئے واؤ کو ترک کرکے یُخرِجُ کہا ہے۔ سوال : و مخرج المیتِ مِنَ الحیّ ، بیان واقع کیوں نہیں ہوسکتا ؟ جواب : اس لئے کہ فالق الحب والنویٰ ، اِخْراجُ الحیّ من المیت کی جنس سے ہے نہ کہ اس کا عکس حالانکہ بیان اور مبین کے مفہوم میں مطابقت ضروری ہے۔ قولہ : فکیفَ تصرفون الخ، اَنّیٰ تؤفکون کی تفسیر کیف تصرفون سے کرکے اشارہ کردیا کہ یہ استفہام انکاری ہے۔ قولہ : مصدرٌ یعنی الاصباح، افعال کا مصدر ہے جس کے معنی دخول فی الصبح کے ہیں مگر یہاں یہ معنی مراد نہیں ہیں بلکہ مراد نفس صبح ہے، مصدر بول کر مصدر کا اثر یعنی صبح مراد ہے، اور کو فیین کے نزدیک جاعل کے بجائے جَعَل ہے اس لئے کہ ان کے نزدیک فعل کا عطف اسم پر جائز ہے۔ قولہ : عَلیٰ مَحَلِّ اللَیْلِ ، لیل کا محل جاعل کا مفعول ہونے کی وجہ سے منصوب ہے۔ قولہ : ھو حَالٌ مِنَ المُقَدَّرِ ، یعنی حسبان، یَجْریانِ مقدر سے حال ہے، اگر مفسر علام مقدر سے حال ہے کے بجائے مقدر سے متعلق ہے، فرماتے تو زیادہ بہتر ہوتا۔ قولہ : قِنْوانٌ، یہ قِنْوٌ کی جمع ہے بمعنی خوشہ۔ تفسیر و تشریح گذشتہ آیات میں مشرکین کی ہٹ دھرمی اور حقائق و نتائج سے غفلت کا تذکرہ تھا، اور اب ان کاموں کا تذکرہ ہے جو تمام خرابیوں کی جڑ ہے وہ ہے خدا تعالیٰ کی بےمثال علم وقدرت سے بیخبر ی، مذکورہ آیات میں حق تعالیٰ نے غافل انسان کے اس روگ کا علاج اس طرح فرمایا ہے کہ اپنے وسیع اور عظیم قدرت کے چند نمونے اور انسان پر اپنے انعامات و احسانات کا ایک سلسلہ ذکر فرمایا جن میں ادنی غور کرنے سے ہر سلیم الفطرت انسان خالق کائنات کی عظمت اور بےمثال قدرت کا اور اس بات کا قائل ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا کہ یہ عظیم الشان کارنامے ساری کائنات میں سوائے خدائے تعالیٰ کے کسی کی قدرت میں نہیں۔ اِنَّ اللہ فالق الحب والنویٰ ، اس سے پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنی بےمثال قدرت اور صناعی کے نمونے بیان فرمائے ہیں، دانہ اور گٹھلی جس کا شکار زمین کی تہ میں دبا دیتا ہے اس کو پھاڑ کر اس سے انواع و اقسام کے درخت پیدا فرماتا ہے، جبکہ زمین ایک، پانی ایک، کھاد ایک ہوتا ہے مگر جس قسم کے دانے اور گٹھلیاں ہوتی ہیں اس کے مطابق ہی اللہ مختلف قسم کے غلوں، پھلوں کے درخت پیدا فرما دیتا ہے جن کے پھلوں کے رنگ و بو و مزہ میں بین تفاوت ہوتا ہے، یہ خدا کی قدرت ہی کا کرشمہ ہے۔ مطلب یہ کہ جمادات، نباتات، حیوانات غرضیکہ تمام موجودات کا نظام تکوینی و تخلیقی کلیۃً اسی کے ہاتھ میں ہے اس کے ہوتے ہوئے کسی دیوی دیوتا یا مزار و آستانہ کی طرف متوجہ ہونا کس درجہ کا حمق اور بےدانشی ہے۔ ! ! یہ عظیم الشان کا رخانہ حیات یہ نظام ارضی اور نظام فلکی یوں ہی کیف ما اتقق الل ٹپ نہیں چل رہا، اس کے قانون اور ضابطہ کے مطابق چل رہا ہے جو ہر قادر پر قادر ہے جس کی راہ ہر رکاوٹ سے خالی ہے، اور ساتھ ہی وہ ایسا علیم ہے کہ ہر علم و حکمت کا ابتداء وہی ہے۔ وہ پردہ شب سے نور صبح کو برآمد کرنے والا ہے، رات کی پر سکون کیفیت، سورج اور چاند کی نپی تلی گردش بےانتہاء مصلحتوں اور حکمتوں سے لبریز ہے اور ان کی شرح رفتار و مقدار سب اسی قادر مطلق کے دست قدرت میں ہے اس کی موجودگی میں کسی دیوی دیوتا یا کسی حاجت روا اور مشکل کشا کو فرض کرنا خرافات کی انتہاء ہے۔
Ayahs 6:98–100

وَ هُوَ الَّذِیْۤ اَنْشَاَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ فَمُسْتَقَرٌّ وَّ مُسْتَوْدَعٌ١ؕ قَدْ فَصَّلْنَا الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّفْقَهُوْنَ Open ayah 6:98 in the Quran reader

اور وہی تو ہے جس نے تم کو ایک شخص سے پیدا کیا۔ پھر (تمہارے لئے) ایک ٹھہرنے کی جگہ ہے اور ایک سپرد ہونے کی۔ سمجھنے والوں کے لئے ہم نے (اپنی) آیتیں کھول کھول کر بیان کردی ہیں۔

وَ هُوَ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً١ۚ فَاَخْرَجْنَا بِهٖ نَبَاتَ كُلِّ شَیْءٍ فَاَخْرَجْنَا مِنْهُ خَضِرًا نُّخْرِجُ مِنْهُ حَبًّا مُّتَرَاكِبًا١ۚ وَ مِنَ النَّخْلِ مِنْ طَلْعِهَا قِنْوَانٌ دَانِیَةٌ وَّ جَنّٰتٍ مِّنْ اَعْنَابٍ وَّ الزَّیْتُوْنَ وَ الرُّمَّانَ مُشْتَبِهًا وَّ غَیْرَ مُتَشَابِهٍ١ؕ اُنْظُرُوْۤا اِلٰى ثَمَرِهٖۤ اِذَاۤ اَثْمَرَ وَ یَنْعِهٖ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكُمْ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ Open ayah 6:99 in the Quran reader

اور وہی تو ہے جو آسمان سے مینہ برستا ہے۔ پھر ہم ہی (جو مینہ برساتے ہیں) اس سے ہر طرح کی روئیدگی اگاتے ہیں پھر اس میں سے سبز سبز کونپلیں نکالتے ہیں اور ان کونپلوں میں سے ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے دانے نکالتے ہیں اور کھجور کے گابھے میں سے لٹکتے ہوئے گچھے اور انگوروں کے باغ اور زیتون اور انار جو ایک دوسرے سے ملتے جلتے بھی ہیں اور نہیں بھی ملتے۔ یہ چیزوں جب پھلتی ہیں تو ان کے پھلوں پر اور (جب پکتی ہیں تو) انکے پکنے پر نظر کرو۔ ان میں ان لوگوں کے لئے جو ایمان لاتے ہیں (قدرت خدا کی بہت سی) نشانیاں ہیں۔

وَ جَعَلُوْا لِلّٰهِ شُرَكَآءَ الْجِنَّ وَ خَلَقَهُمْ وَ خَرَقُوْا لَهٗ بَنِیْنَ وَ بَنٰتٍۭ بِغَیْرِ عِلْمٍ١ؕ سُبْحٰنَهٗ وَ تَعٰلٰى عَمَّا یَصِفُوْنَ۠ Open ayah 6:100 in the Quran reader

اور ان لوگوں نے جنوں کو خدا کا شریک ٹھیرایا حالانکہ ان کو اسی نے پیدا کیا اور بےسمجھے (جھوٹ بہتان) اس کے لئے بیٹے اور بیٹیاں بنا کھڑی کیں وہ ان باتوں سے جو اس کے نسبت بیان کرتے ہے پاک ہے۔ اور (اسکی شان ان سے) بلند ہے۔

وھو الذی انشأکم من نفس واحدۃٍ ، اس آیت میں وحدت انسانی کو بطور ایک حقیقت کے بیان کیا ہے اور اس بات سے بالکل واضح کردیا ہے کہ نوع انسانی کا مورث اعلیٰ ایک ہی ہے اس ایک اصل کو تسلیم کرنے سے جو آج مہذب و غیر مہذب، کالی اور گوری، برہمن اور شودر، مشرقی اور مغربی خدا جانے انسانیت کتنے فرقوں اور ٹکڑوں میں بٹی ہوئی ہے، پھر ایک بنی آدمی کی وحدت میں تبدیل ہوسکتی ہے۔
Ayahs 6:101–102

بَدِیْعُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ اَنّٰى یَكُوْنُ لَهٗ وَلَدٌ وَّ لَمْ تَكُنْ لَّهٗ صَاحِبَةٌ١ؕ وَ خَلَقَ كُلَّ شَیْءٍ١ۚ وَ هُوَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ Open ayah 6:101 in the Quran reader

(وہی) آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنیوالا (ہے) اس کے اولاد کہاں سے ہو جبکہ اس کی بیوی ہی نہیں۔ اور اس نے ہر چیز کو پیدا کیا ہے اور وہ ہر چیز سے باخبر ہے۔

ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمْ١ۚ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ خَالِقُ كُلِّ شَیْءٍ فَاعْبُدُوْهُ١ۚ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ وَّكِیْلٌ Open ayah 6:102 in the Quran reader

یہی (اوصاف رکھنے والا) خدا تمہارا پروردگار ہے۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ (وہی) ہر چیز کا پیدا کرنے والا (ہے) تو اسی کی عبادت کرو۔ اور وہ ہر چیز کا نگراں ہے

آیت نمبر 101 تا 110 ترجمہ : وہ آسمانوں اور زمینوں کو سابقہ نمونے کے بغیر پیدا کرنے والا ہے، اس کی اولاد کیسے ہوسکتی ہے اس کی بیوی تو ہے نہیں اور اس نے ہر اس شئ کو پیدا کیا جس کی شان مخلوق ہونا ہے اور وہ ہر چیز سے بخوبی واقف ہے یہ ہے اللہ تعالیٰ تمہارا رب اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں وہ ہر چیز کا پیدا کرنے والا ہے لہٰذا اتنہا اسی کی بندگی کرو وہ ہر شئ کا محافظ ہے آنکھیں اس کا ادراک نہیں کرسکتیں یعنی اس کو انہین دیکھ سکتیں، اور عدم رویت سے آخرت میں مومنین کی رویت مستثنیٰ ہے، اللہ تعالیٰ کے قول ” وجودٌ یومئذً ناضِرَۃ الی ربِّھا ناظرۃ “ اور شیخین کی حدیث کی وجہ سے ” کہ تم عنقریب اپنے رب کو اس طرح دیکھو گے جس طرح چودھویں رات میں چاند کو دیکھتے ہو “ ، اور کہا گیا ہے کہ احاطہ نہیں کرسکتیں اور وہ سب نگاہوں کا ادراک کرتا ہے یعنی دیکھتا ہے اور وہ نگاہیں اللہ تعالیٰ کو نہیں دیکھ سکتیں، اس کے علاوہ کسی اور کی یہ شان نہیں کہ وہ نگاہوں کو دیکھے اور نگاہیں اس کو نہ دیکھ سکیں یا (لاتدرکۃ کا) مطلب اس کا علمی احاطہ نہ کرنا ہے، وہ اپنے دوستوں پر مہربان ہے اور اس سے باخبر ہے، بلاشبہ تمہارے پاس تمہارے رب کی جانب سے (حق بینی کے) دلائل آچکے ہیں، سو جو ان کو دیکھ کر ایمان لایا تو اس نے اپنے ہی فائدہ کے لئے دیکھا، اس لئے کہ اس دیکھنے کا ثواب اسی کو ملے گا، اور جو ان سے اندھا بنا ریا تو وہ گمراہ ہوا، تو اس کی گمراہی کا وبال اسی پر ہوگا اور میں تمہارا نگران نہیں ہوں (یعنی) تمہارے اعمال کا نگران نہیں ہوں، میں تو صرف آگاہ کرنے والا ہوں جس طرح ہم نے مذکورہ احکام بیان کئے، اسی طرح ہم مختلف پہلوؤں سے دلائل بیان کرتے ہیں تاکہ یہ لوگ عبرت حاصل کریں، اور تاکہ آخر کار کافر کہیں کہ تم نے اہل کتاب سے مذاکرہ کیا ہے اور ایک قراءت میں دَرَسْتَ (بغیر الف کے ہے) یعنی تم نے گذشتہ لوگوں کی کتابیں پڑھی ہیں اور یہ تم نے اسی میں سے بیان کیا ہے اور تاکہ ہم اس کو دانشمندوں کیلئے خوب ظاہر کردیں آپ اس قرآن کی اتباع کرتے رہیے جو آپ کی طرف آپ کے رب کی طرف سے وحی کی گئی ہے کہ اس کے علاوہ کوئی لائق عبادت نہیں اور آپ مشرکین سے کنارہ کشی کرلیں اور اگر اللہ کو منظور ہوتا تو یہ شرک نہ کرتے اور ہم نے آپ کو ان پر نگران نہیں بنایا سو ان کو ان کے اعمال کی جزاء ہم دیں گے، اور آپ ان پر مختار نہیں ہیں، کہ آپ ان پر ایمان پر مجبور کریں، اور یہ حکم جہاد کا حکم نازل ہونے سے پہلے کا ہے، اور تم ان کرمعبودوں کو برا مت کہو جن کی وہ اللہ کے علاوہ بندگی کرتے ہیں یعنی بتوں کی، اسلئے کہ وہ ازراہ جہالت وعناد اور ظلم کی وجہ سے اللہ کی شان میں گستاخی کریں گے، جس طرح ان کے اعمال کو ان کیلئے مزین کردیا گیا ہے اسی طرح ہر امت کیلئے ہم نے ان کے اعمال کو مزین کردیا ہے خواہ عمل خیر ہو یا شر، چناچہ وہ ان ہی کو کرتے ہیں پھر ان کو ان کے رب کے پاس آخرت میں لوٹ کر جانا ہے تو جو کچھ وہ کیا کرتے تھے وہ ان کو بتلا دے گا، یعنی وہ ان کو ان کے اعمال کی سزا دے گا اور کفار مکہ نے بڑی زور دار قسمیں کھائیں یعنی انہوں نے اپنی قسموں میں انتہائی زور پیدا کرکے کہا کہ اگر ہمارے پاس ہماری تجویز کردہ نشانیوں میں سے کوئی نشانی آجائے تو ہم ان پر ضرور ایمان لے آئیں گے آپ ان سے کہئے کہ نشانیاں اللہ کی قبضے میں ہیں وہ جس طرح چاہتا ہے ان کو ظاہر فرماتا ہے میں تو صرف آگاہ کرنے والا ہوں (اے مسلمانو ! ) جب وہ فرمائشی نشانی آجائے تو تمہیں ان کے ایمان کے بارے میں کیا خبر ؟ یعنی تمہیں اس کا علم نہیں (کہ وہ ایمان لے ہی آئیں گے) (یعنی) جب وہ (فرمائشی) نشانیاں آجائیں گی تو میرے علم ازلی کے اعتبار سے وہ ایمان نہ لائیں گے اور ایک قراءت میں تاء کے ساتھ (لا تؤمنون) ہے، کفار کو خطاب کرتے ہوئے، اور دوسری قراءت میں اَنَّ کے فتحہ کے ساتھ لَعَلَّ کے معنی میں ہے، یا اپنے ماقبل کا معمول ہے (یعنی) یشعرکم کا مفعول ہے، اور ہم ان کے دلوں کو حق سے پھیر دیتے ہیں جس کی وجہ سے وہ سمجھتے نہیں ہیں، اور ان کی آنکھوں کو حق سے پھیر دیتے ہیں جس کی وجہ سے وہ حق کو دیکھتے نہیں ہیں تو ایمان بھی نہیں لاتے جیسا کہ وہ نازل کردہ آیتوں پر پہلی مرتبہ ایمان نہیں لائے تھے اور ہم ان کو ان کی گمراہی میں حیران رہنے دیں گے یعنی تردد اور حیرانی میں متحیر رہیں گے۔ تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد قولہ : بَدِیعُ السمٰوات والارض، بدیع السمٰوات، مبتداء محذوف کی خبر ہے ای ھُو بدیع السمٰوات، یا بدیع السمٰوات مبتداء ہے اور اس کی خبر اَنیّٰ یکونُ لہ وَلَدٌ ہے، بدیع بمعنی مُبْدِع بھی مستعمل ہے جیسا کہ سمیعٌ بمعنی مُسمِعٌ بکثرت مستعمل ہے، اور بعض حضرات نے کہا ہے کہ بدیع السمٰوات میں صفت مشبہ کی اضافت فاعل کی طرف ہے، اس کی اصل بدیعٌ سمٰواتُہ وَارْضہُ ہے۔ قولہ : من شانہٖ ان یخلق، اس اضافہ کا مقصد ایک سوال مقدر کا جواب ہے۔ سوال : اللہ تعالیٰ کا قول، وخلَقَ کل شئ میں خدا کی ذات وصفات بھی شامل ہیں یا نہیں ؟ اگر نہیں تو خدا کی ذات وصفات کا لاشئ ہونا لازم آئیگا جو کہ محال ہے، اور اگر داخل ہیں تو خدا کی ذات وصفات کا مخلوق ہونا لازم آتا ہے۔ جواب : جواب کا حاصل یہ ہے کہ خَلَقَ کلّ شئ میں شئ عام خصَّ منہ البعض ہے ای ھو خالق کل شئ ما عداذاتِہٖ وصفاتِہٖ ۔ قولہ : وھذا مَخْصُوصٌ برؤیۃ المُؤْمِنِیْنَ لہ فی الآخرَۃِ ، اس اضافہ کا مقصد معتزلہ کے امتناع رویت باری کے عقیدہ کو رد کرنا ہے، معتزلہ کا عقیدہ ہے کہ آخرت میں بھی رویت باری نہیں ہوگی، اہل سنت والجماعت کا عقیدہ یہ ہے کہ آخرت میں مومنین کی رویت باری ہوگی قولہ : وقیل المراد تحیط بہٖ ، اور اگر لاتدر کہ الابصار سے عدم احاطہ ہو تو اس صورت میں مخصوص نہ ہوگا، بلکہ عموم اپنے اطلاق پر باقی رہے گا اس لئے کہ باری تعالیٰ کی حقیقت کا ادراک نہ دنیا میں کسی کو ہوسکتا ہے اور نہ آخرت میں۔ قولہ : او یُحِیْطُ بھا علمًا، یہ ادراک کے دوسرے معنی کا بیان ہے۔ قولہ : قل یا محمد۔ سوال : یہاں قل یا محمد مقدر ماننے کی کیا وجہ ہے ؟ جواب : وجہ یہ ہے کہ اس اضافہ میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ مذکورہ کلام آپ ﷺ کی زبان مبارک سے صادر ہوا ورنہ تو یہ اعتراض ہوگا کہ ” وَمَا انا علیکم بحفیظ “ کے کیا معنی ہیں ؟ اسلئے کہ حفظ کی نفی اللہ تعالیٰ سے جائز نہیں ہے۔ قولہ : لِیَعْتَبِرُوْا۔ سوال : مفسر علام نے لِیَعْتبروا، مقدر کیوں مانا ہے ؟ جواب : تاکہ ولِیَقولوا کا عطف صحیح ہو سکے۔ قولہ : نُبَیِّنَہٗ ، تبیین (تفعیل) سے مضارع جمع متکلم، ہم بیان کریں ہم کھول دیں، لِنُنیِّنَہٗ ، میں لام تعلیل کا ہے اسلئے کہ تصریف سے مقصود تبیین ہی ہے اس کی ضمیر آیات کی طرف راجع ہے اور آیات قرآن کے معنی کی تاویل میں ہے لہٰذا ضمیر کی عدم مطابقت کا اعتراض ختم ہوگیا۔ قولہ : فَاتَوْہٗ ۔ سوال : مفسر علام نے فاتوہ، کیوں مقدر مانا ؟ جواب : تاکہ اس پر ثُمَّ الی ربّھم الخ کا عطف درست ہو سکے، اسلئے کہ معطوف وعدہ اور وعید ہے اور یہ عمل خیر و شر ہی پر مرتب ہوتے ہیں نہ کہ مطلق تزیین پر۔ قولہ : ای اَنْتُمْ لا تَدْرُوْنَ ذلک، یہ مومنین سے خطاب ہے، اس میں مومنوں کو مشرکین کے فرمائشی معجزوں کی تمنا سے منع کیا گیا ہے، مومنین کی یہ تمنا تھی کہ کاش اللہ تعالیٰ مشرکین مکہ کے فرمائشی معجزے آپ ﷺ کے دست مبارک پر ظاہر فرما دیں تو بہر اچھا ہو، تاکہ مشرکین مکہ ایمان لے آئیں، ایسی تمنا کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ اے مسلمانو ! تم جو مشرکین کے فرمائشی معجزات کی تمنا کر رہے ہو تمہیں کیا معلوم کہ یہ لوگ فرمائشی معجزات دیکھ کر ایمان لے ہی آئیں گے، ہماری علم ازلی کے اعتبار سے یہ لوگ فرمائشی معجزات دیکھ کر بھی ایمان لانے والے نہیں ہیں، ظاہر مفہوم کا تقاضا یہ تھا کہ یوں کہا جاتا ” مَا یُدریکم انّھا اذا جاءت یؤمنون “ بغیر، لا، کے اسی وجہ سے بعض مفسرین نے ’ لا ‘ کو زائدہ کہا ہے مطلب یہ ہے کہ تم کو کیا معلوم کہ مشرکین مکہ فرمائشی معجزے دیکھ کر ایمان لے ہی آئیں گے۔ مفسر علام نے اس کی دو توجیہ کی ہیں ایک یہ ہے کہ ما یشعرکم میں ما استفہام انکاری ہے، ای لا تدرون بأنّھا اذا جاءت الآیات لا یؤمنون، فلذلک تتمنّون ونحن نعلم ذلک فلا نتمنیّٰ بھا، یعنی تم نہیں جانتے کہ اگر (فرمائشی) معجزات بھی آجائیں تب بھی یہ لوگ یقیناً ایمان نہ لائیں گے، جیسا کہ میرے علم ازلی میں ہے۔ دوسری توجیہ بفتح أنَّ بمعنی لَعَلَّ سے بیان کی ہے، اس کا خلاصہ یہ ہے، کہ یشعرکم کا مفعول ثانی محذوف ہے ای ما یشعرکم بایمانھم اور أنَّ بمعنی لَعَلَّ ، ای لَعلَّھم اِذَا جاءتھم آیۃٌ لا یؤمنون، اور لعلَّ اس وقت اشفاق (توقع) کے لئے ہوگا اور توقع خدائی کلام میں یقینی الوقوع کیلئے آتا ہے یعنی اگر ان کے فرمائشی معجزے بھی آجائین تب بھی وہ یقیناً ایمان نہیں لائیں گے، مذکورہ دونوں توجیہوں سے کلام مظاہر کے مطابق ہوجائیگا، اور جن مفسرین حضرات نے، لایؤمنون، میں لا کو زائدہ قرار دیا ہے ان کا مقصد بھی کلام کو ظاہر کے مطابق بنانا ہے، اِنَّ بالکسر کی صورت میں جملہ مستانفہ ہوگا جو کہ ہمیشہ سوال مقدر کا جواب ہوتا ہے، گویا کہ سوال ہوا ما یشعرکم ما یکون منھم، اس کا جواب دیا انھا اذا جاءت لا یؤمنون۔ قولہ : ونُقَلِّبُ اَفئِدَتَھُمْ ، اس کا عطف لا یؤمنون پر ہے، ای وَمَا یشعرکم اِنّا حینئذٍ نقلب اَفئدتَھم، عن احق فلا یفھمونَہ واِبصارھم فلا یبصرونَہٗ فلا یؤمنون بِھَا۔ تسہیل المشکل : وَمَا یُشعِرُکم أنَّھَا ذا جاءت لا یؤمنون، اِنّھا کو ابو عمر ابن کثیر اور مجاہد نے انھا بکسر الہمزہ پڑھا ہے، ابن مسعود ؓ کی قراءت سے بھی اسی کی تائید ہوتی ہے مجاہد اور ابن زید نے کہا ہے کہ اس کے مخاطب مشرکین ہیں، اور فرّاء وغیرہ نے کہا ہے کہ اس کے مخاطب مومنین ہیں، اسلئے کہ جب مشرکین نے فرمائشی معجزوں کا مطالبہ کرتے ہوئے آپ ﷺ سے کہا کہ اگر فلاں قسم کا معجزہ دکھا دو تو ہم ایمان لے آئیں گے تو اس وقت مسلمانوں کی خواہش ہوئی کہ کاش آپ ﷺ مشرکین کا مطلوبہ معجزہ دکھا دیں، اسی خواہش کے پیش نظر صحابہ نے آپ ﷺ سے عرض کیا ” لونزولت الآیۃ لعلھم یؤمنون “ تو اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ” وَمَا یُشعرکم انھا جاءت لا یؤمنون “ اور اہل مدینہ واعمش وحمزہ و کسائی و عاصم وغیرہم نے أنَّھا فتحہ کے ساتھ پڑھا، اور خلیل نے کہا ہے کہ اَنَّھا بمعنی یزَکّٰی، اور عرب بولتے ہیں ائتِ السوق اَنّکَ تشتری لنا شیئاً ، ای لعلک، فراء اور کسائی نے کہا ہے کہ ” لایؤمنون “ اور یہ ایسا ہی ہے جیسا ” ما مَنعکَ أن لا تسجد “ میں لا زائدہ ہے، مگر زجاج وغیرہ نے اس کو ضعیف قرار دیا ہے، اور نحاس نے کہا ہے کلام میں حذف ہے، تقدیر عبارت یہ ہے ” أنّھا اذا جَاءت لایؤمنون ویؤمنون “ پھر اس زائد مقدر کا علم سا مع کی وجہ سے حذف کردیا گیا۔ تفسیر و تشریح بدیع السمٰوت والارض، بدیعٌ، موجِدٌ، نیا ایجاد کرنے والا، یہ لفظ قرآن میں صرف دو جگہ آیا ہے اول سورة بقرہ میں اور دوسرے یہاں، یہ اللہ تعالیٰ کے اسماء حسنیٰ میں سے ایک اسم ہے بدیعٌ، بروزن فعیلٌ بمعنی مبدعٌ، بغیر نمونے کے پیدا کرنے والا۔ مطلب یہ ہے کہ جس طرح اللہ تعالیٰ تمام چیزوں کے پیدا کرنے میں یکتا و بےمثال ہے کوئی اس کا شریک وسہیم نہیں، اسی طرح وہ اس کے لائق ہے کہ وہ معبودیت میں بھی واحد و لاشریک ہو لیکن لوگوں نے ازراہ احمق اس ذات واحد کو چھوڑ کر اس کی مخلوق کو اس کا شریک ٹھہرا لیا ہے حالانکہ وہ اسی کی پیدا کردہ ہے، اور یہ سب کچھ شیاطین کی اتباع کی وجہ سے ہوا ہے، اسلئے یہ درحقیقت شیطان کی پرستش ہے۔
Ayahs 6:103–104

لَا تُدْرِكُهُ الْاَبْصَارُ١٘ وَ هُوَ یُدْرِكُ الْاَبْصَارَ١ۚ وَ هُوَ اللَّطِیْفُ الْخَبِیْرُ Open ayah 6:103 in the Quran reader

(وہ ایسا ہے کہ) نگاہیں اس کا ادراک نہیں کرسکتیں اور وہ نگاہوں کا ادراک کرسکتا ہے۔ اور وہ بھید جاننے والا خبردار ہے۔

قَدْ جَآءَكُمْ بَصَآئِرُ مِنْ رَّبِّكُمْ١ۚ فَمَنْ اَبْصَرَ فَلِنَفْسِهٖ١ۚ وَ مَنْ عَمِیَ فَعَلَیْهَا١ؕ وَ مَاۤ اَنَا عَلَیْكُمْ بِحَفِیْظٍ Open ayah 6:104 in the Quran reader

(اے محمد ﷺ ان سے کہہ دو کہ) تم تمہارے (پاس) پروردگار کی طرف سے (روشن) دلیلیں پہنچ چکی ہیں تو جس نے (انکی آنکھ کھول کر) دیکھا اس نے اپنا بھلا کیا اور جو اندھا بنا رہا اس نے اپنے حق میں برا کیا۔ اور میں تمہارا نگہبان نہیں ہوں۔

رؤیت باری کا مسئلہ : لاتدر کہ الابصار، اَبْصار، بصر کی جمع ہے، (نگاہ) انسان کی نظر کی رسائی خدا کی حقیقت اور کنہ تک نہیں ہوسکتی، اس رویت کی نفی سے مراد دنیا میں رویت بصری کی نفی ہے، صحیح اور متواتر روایات سے ثابت ہے کہ روز قیامت ایمان والے اللہ کے دیدار سے مشرف ہوں گے اور جنت میں بھی دیدار باری تعالیٰ نصیب ہوا کرے گا، معتزلہ کا عقیدہ اس کے خلاف ہے وہ دیدار باری کے مطلقا منکر ہیں اور اسی آیت سے استدلال کرتے ہیں، حالانکہ اس کا تعلق دنیا سے ہے یعنی اللہ تعالیٰ کا دیدار دنیا میں بہ چشم سر ممکن نہیں ہے، اسی لئے حضرت عائشہ بھی اسی آیت سے استدلال کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ جس شخص نے یہ دعویٰ کیا کہ نبی ﷺ نے شب معراج میں اللہ تعالیٰ کی زیارت کی اس نے قطعاً دروغ گوئی کی (صحیح بخاری، سورة انعام) البتہ آخرت کی زندگی میں یہ دیدار ممکن ہوگا، جس کا دوسرے مقام پر قرآن نے اثبات فرمایا ہے ” وُجُوہٌ یومئذ ناضرۃ الی ربِّھا ناظرۃ، کئی چہرے اس دن تروتازہ ہوں گے اپنے رب کی طرف دیکھ رہے ہوں گے۔ بصائر، بصیرۃ کی جمع ہے، روشنی قلب کا کہتے ہیں یہاں مراد دلائل وبراہین ہیں جو قرآن میں بار بار اور جگہ جگہ بیان کئے گئے ہیں اور نبی ﷺ نے احادیث میں بھی بیان فرمایا ہے۔ قد جاء کم بَصَائر من ربکم، مطلب یہ ہے کہ تمہارے رب کی طرف سے بصیرت کی روشنیاں آچکی ہیں اب جو بینائی سے کام لے گا وہ اپنا ہی بھلا کرے گا اور جو اندھا بنا رہے گا وہ نقصان اٹھائیگا۔
Ayahs 6:105–107

وَ كَذٰلِكَ نُصَرِّفُ الْاٰیٰتِ وَ لِیَقُوْلُوْا دَرَسْتَ وَ لِنُبَیِّنَهٗ لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ Open ayah 6:105 in the Quran reader

اور ہم اسی طرح اپنی آیتیں پھیر پھیر کر بیان کرتے ہیں تاکہ کافر یہ نہ کہیں کہ تم (یہ باتیں اہل کتاب سے) سیکھے ہوئے ہو اور تاکہ سمجھنے والے لوگوں کیلئے تشریح کردیں۔

اِتَّبِعْ مَاۤ اُوْحِیَ اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَ١ۚ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ وَ اَعْرِضْ عَنِ الْمُشْرِكِیْنَ Open ayah 6:106 in the Quran reader

اور جو حکم تمہارے پروردگار کی طرف سے تمہارے پاس آتا ہے اسی کی پیروی کرو اس (پروردگار) کے سوا کوئی معبود نہیں۔ اور مشرکوں سے کنارا کرلو۔

وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ مَاۤ اَشْرَكُوْا١ؕ وَ مَا جَعَلْنٰكَ عَلَیْهِمْ حَفِیْظًا١ۚ وَ مَاۤ اَنْتَ عَلَیْهِمْ بِوَكِیْلٍ Open ayah 6:107 in the Quran reader

اور اگر خدا چاہتا تو یہ لوگ شرک نہ کرتے۔ اور (اے پیغمبر ﷺ ! ) ہم نے تم کو ان پر نگہبان مقرر نہیں کیا اور نہ تم ان کے دروغہ ہو۔

وکذلک نصرف الآیات، یعنی ہم توحید اور اس کے دلائل کو اس طرح کھول کھول کر اور مختلف انداز سے بیان کرتے ہیں کہ مشرکین یہ کہنے لگتے ہیں کہ محمد ﷺ کسی سے بڑھ کر اور سیکھ کر آتا ہے حالانکہ حقیقت ایسی نہیں ہے۔ وما انت علیھم بوکیل، مطلب یہ ہے کہ آپ ﷺ کو صرف داعی اور مبلغ بنا کر بھیجا گیا ہے کو توال نہیں، آپ کا کام صرف اتنا ہے کہ لوگوں کے سامنے اظہار حق کردیں اور اظہار حق میں اپنی حد تک کوئی کسر نہ اٹھا رکھیں، اب اگر کوئی قبول نہیں کرتا تو نہ کرے، اس کا بار آپ کے اوپر نہیں اور نہ آپ کی یہ ذمہ داری، اگر فی الواقع حکمت الہیٰ کا تقاضہ یہ ہوتا کہ دنیا میں کوئی باطل پرست نہ رہے تو اس کا ایک ہی تکوینی اشارہ تمام انسانوں کو حق پرست بنانے کیلئے کافی ہوسکتا تھا مگر حکمت الہیٰ کا تو مقصد ہی کچھ اور ہے وہ یہ کہ انسان کو حق و باطل کے انتخاب کی آزادی باقی رہے اور حق کی روشنی ان کے سامنے پیش کرکے اس کی آزمائش کی جائے کہ حق و باطل میں سے وہ کس کو پسند کرتا ہے۔