6. Surah Al-An'aam

الأنعامThe Cattle · 165 ayahsتفسیرِ مدنی

Ayah 6:1

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ جَعَلَ الظُّلُمٰتِ وَ النُّوْرَ١ؕ۬ ثُمَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِرَبِّهِمْ یَعْدِلُوْنَ Open ayah 6:1 in the Quran reader

سب تعریفیں اللہ ہی کے لئے ہیں جس نے پیدا فرمایا (ان عظیم الشان) آسمانوں اور (اس حکمت بھری) زمین کو، اور اس نے بنائے اندھیرے اور روشنی، پھر بھی کافر لوگ اپنے رب کے برابر ٹھہراتے ہیں (دوسروں کو) ،

1 آسمان و زمین کی تخلیق توحید خداوندی کی زبردست دلیل : سو آسمانوں اور زمین کی یہ عظیم الشان کائنات اور اس کے اندر جو کچھ ہے وہ سب کا سب جب اسی وحدہٗ لاشریک کا پیدا کردہ اور عطا فرمودہ ہے تو پھر ہر قسم کی حمد و ثنا اور تعریف و توصیف کا حق دار بھی وہی وحدہٗ لاشریک ہے۔ یہاں پر آسمان کو جمع " سَمٰوَات " کے لفظ سے ذکر فرمایا گیا اور زمین کو مفرد " الارض " کے لفظ سے۔ کیونکہ آسمانوں کا تعدد عقل ونقل سے ثابت اور ظاہر ہے بخلاف زمین کے۔ کہ اس کی یہ کیفیت ایسے نہیں۔ (وجیز، محاسن، بیضاوی وغیرہ) ۔ بہرکیف آسمانوں اور زمین کی اس حکمتوں بھری تخلیق میں قدرت کی وحدانیت ویکتائی اور اس کی حکمت بالغہ اور رحمت شاملہ کے عظیم الشان دلائل ہیں۔ اور جب ان کی تخلیق و پیدائش میں کوئی اسکا شریک وسہیم نہیں تو پھر اس کی اطاعت و عبادت میں کوئی اسکا شریک کس طرح ہوسکتا ہے ؟۔ سو جب اس ساری کائنات کا خالق ومالک بلا شرکت غیرے وہی وحدہٗ لاشریک ہے اور اس میں حاکم و متصرف بھی وہی ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ تو اس کا لازمی نتیجہ اور بدیہی تقاضا یہ ہے کہ عبادت و بندگی بھی اسی کی اور صرف اسی کی ہو۔ سو اس لئے عبادت و بندگی اور اس کی ہر قسم و شکل اسی وحدہٗ لاشریک کا حق ہے ۔ { اَلَا لَہٗ الْخَلْقُ وَالْاَمْرُ } ۔ سبحانہٗ و تعالیٰ ۔ اللہ ہمیشہ اپنی رضا کی راہوں پر چلنا نصیب فرمائے ۔ آمین ثم آمین۔ 2 شرک عقل و نقل دونوں کیخلاف ہے : یعنی { ثُمَّ } استبعادیہ ہے کہ جب جواہر یعنی ۔ آسمانوں اور زمین ۔ اور اعراض یعنی ۔ اندھیروں اور روشنی ۔ میں سے کسی بھی چیز کے بنانے اور پیدا کرنے میں اس وحدہ لاشریک کا کوئی شریک اور حصے دار نہیں تو پھر اس کی عبادت و بندگی میں کوئی اس کا شریک اور سہیم کیسے ہوسکتا ہے ؟۔ (محاسن، جواہر وغیرہ) ۔ سو شرک عقل کے بھی خلاف ہے اور نقل کے بھی۔ اور جو لوگ اس کے باوجود شرک کا ارتکاب کرتے ہیں ان کی مت مار دی جاتی ہے جس سے وہ اندھے اور اوندھے ہوجاتے ہیں ـ ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اور اس کائنات کی تخلیق اور اس کے وجود میں توحید خداوندی کا ایک اور اہم پہلو یہ پایا جاتا ہے کہ یہ تضادات کا مجموعہ ہے۔ جیسے آسمان و زمین، اندھیرا و روشنی، سردی و گرمی، دن و رات وغیرہ وغیرہ۔ لیکن اس کائنات کے مجموعی مقصد اور اس کائنات کے اندر پائی جانے والی قسما قسم اور گوناگوں مخلوق کی طرح طرح کی ضروریات کی تعمیل و تکمیل کے لئے ان متضاد اشیاء میں ایسا حیرت انگیز توافق اور ایسی پر حکمت ہم آہنگی پائی جاتی ہے کہ اس مخلوق کو ان میں سے ہر ایک کی ضرورت اور شدید ضرورت ہے۔ سو یہ اس بات کا ایک کھلا اور نہایت واضح ثبوت ہے کہ اس پوری کائنات میں ایک ہی ارادے کی حکمرانی کارفرما ہے جو کہ نہایت ہی قدرت و حکمت کا مالک ہے۔ ورنہ ایسے پر حکمت توافق اور اس قدر پر حکمت ہم آہنگی کا پایا جانا ممکن نہ تھا ۔ فَالْحَمْدُ للّٰہِ رِبِّ الْعَالَمِیْنَ- 3 { یَعْدِلُوْنَ } کا مادہ اشتقاق اور اس کے دو معانی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ پھر بھی کافر لوگ اپنے رب کے برابر ٹھہراتے ہیں دوسروں کو۔ یہ معنیٰ و مطلب اس وقت ہے جبکہ { یَعْدِلُوْنَ } کو " عدل " سے ماخوذ مانا جائے جس کے معنیٰ برابر کرنے کے آتے ہیں۔ اور اگر اس کو " عدول " سے ماخوذ مانا جائے جس کے معنیٰ انحراف اور پھرجانے کے آتے ہیں تو اس وقت اس کے معنیٰ ہوں گے کہ پھر بھی یہ لوگ اپنے رب سے پھرتے اور اس کی راہ سے انحراف کرتے ہیں۔ اس صورت میں { بِرَبّہِمْ } کی " بَآئ "، " عَنْ " کے معنیٰ میں ہوگی۔ (جامع البیان، معارف للکاندھلوی وغیرہ) ۔ یہاں سے یہ بھی معلوم ہوگیا کہ رب تعالیٰ کی کسی بھی صفت میں اس کی مخلوق میں سے کسی کو بھی اس کا شریک ٹھہرانا دراصل اس کو رب کے برابر قرار دینا ہے جو کہ شرک اور ناقابل معافی جرم ہے۔ پس اللہ کے سوا کسی اور کو عالم الغیب ماننا اور مختار کل جاننا یا حاجت روا اور مشکل کشا سمجھنا اور اس کو مافوق الاسباب معین و مددگار سمجھ کر بلانا، پکارنا، سب شرک اور ممنوع ہے۔ کیونکہ مشرکین عرب بھی اپنے معبودان باطلہ کو مِنْ کُلِّ الْوُجُوہ حق تعالیٰ کا ہمسر اور برابر نہ سمجھتے تھے، بلکہ قرآن و سنت کی بیشمار قطعی اور صریح نصوص کے مطابق وہ لوگ آسمانوں اور زمین اور ان کے درمیان کی تمام مخلوق اور سب انسانوں کا خالق ومالک، رازق و متصرف، موت وحیات کا مالک و مختار اور آسمان سے بارشیں برسانے والا اور اس سے نباتات اگانے والا، مشکل کشا و حاجت روا، عزیز وعلیم اور شہنشاہِ کل اور دافع البلاء وغیرہ اللہ تعالیٰ ہی کو مانتے تھے۔ چناچہ بطور نمونہ یہ چند حوالہ جات ذیل میں ملاحظہ ہوں : سورة عنکبوت : آیت نمبر 61، نمبر 63، لقمٰن : نمبر 25، الزمر : نمبر 38، الزخرف : نمبر 9، نمبر 87 وغیرہ۔ اور بتوں کی پوجا بھی وہ لوگ اپنے اس گمراہانہ عقیدئہ و فلسفہ کی بنا پر کرتے تھے کہ یہ دراصل اللہ تعالیٰ کے یہاں ہمارے سفارشی اور واسطہ ہیں۔ چناچہ ان لوگوں کا کہنا تھا ۔ { ہٰٓؤُلآئِ شُفَعَآئُ نَا عِنْدَ اللّٰہِ } ۔ نیز یہ کہ ان کی پوجا پاٹ کے ذریعے ہم اللہ تعالیٰ کے یہاں قرب حاصل کرسکیں گے ۔ { مَا نَعْبُدُہُمْ اِلّا لِیُقَرِّبُوْنَآ اِلَی اللّٰہِ زُلْفٰی } ۔ اور مشرکوں کا یہی خود ساختہ مشرکانہ فلسفہ کل بھی تھا اور یہی آج بھی ہے۔ سو مشرکین مکہ اپنے معبودان باطلہ کو اس معنیٰ میں کبھی بھی خدا کا شریک نہیں مانتے تھے کہ وہ ان کو ہر لحاظ سے خدا کے برابر سمجھتے ہوں اور ان کو بھی اللہ تعالیٰ کی طرح زمین و آسمان کا خالق ومالک اور روزی رساں وغیرہ جانتے ہوں۔ بلکہ وہ تو اپنے خود ساختہ خداؤں کو چھوٹے خدا اور خدا تک رسائی کا وسیلہ و ذریعہ مانتے تھے۔ اور اسی کو یہاں پر خدا کے برابر جاننا قرار دیا گیا ہے۔ پس اہل بدعت کے جن بڑوں نے اس موقع پر اپنی مطلب برآری کے لئے اس طرح کی جو منطق بگھاری ہے وہ محض ان کی اپنی ذاتی اپج اور ذہنی اختراع ہے ـ ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ تعالیٰ بہرحال وحدہٗ لاشریک ہے اور کوئی کسی بھی طرح اس کا شریک نہیں ۔ سبحانہ و تعالیٰ -
Ayahs 6:2–3

هُوَ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ مِّنْ طِیْنٍ ثُمَّ قَضٰۤى اَجَلًا١ؕ وَ اَجَلٌ مُّسَمًّى عِنْدَهٗ ثُمَّ اَنْتُمْ تَمْتَرُوْنَ Open ayah 6:2 in the Quran reader

وہ (اللہ) وہی تو ہے جس نے پیدا فرمایا تم سب کو مٹی سے، پھر اس نے مقرر فرما دی ایک مدت (تمہاری موت کی) اور ایک اور مدت بھی اس کے یہاں طے شدہ ہے، (تو کیا) پھر بھی تم لوگ شک کرتے ہو1

وَ هُوَ اللّٰهُ فِی السَّمٰوٰتِ وَ فِی الْاَرْضِ١ؕ یَعْلَمُ سِرَّكُمْ وَ جَهْرَكُمْ وَ یَعْلَمُ مَا تَكْسِبُوْنَ Open ayah 6:3 in the Quran reader

اور وہی اللہ (معبود برحق) ہے آسمانوں میں بھی، اور زمین میں بھی، وہ جانتا ہے تمہارے پوشیدہ (احوال) کو بھی، اور کھلے کو بھی، اور اسے خوب معلوم ہے وہ سب کچھ جو تم لوگ کرتے ہو،2

4 انسان کا خود اپنا وجود دلائل توحید کا ایک عظیم الشان مجموعہ : سو توحید خداوندی کے عظیم الشان دلائل خود انسان کے اپنے وجود کے اندر موجود ہیں۔ سو اسی وحدہٗ لاشریک نے تم سب کو اس مٹی سے پیدا فرمایا کہ تم سب آدم کی نسل ہو۔ اور آدم کی تخلیق اس نے اسی مٹی سے فرمائی۔ نیز اس طرح کہ تمہارا مادئہ تولید خون سے بنتا ہے جو کہ تیار اور حاصل ہوتا ہے ان مختلف غذاؤں سے جو کہ سب کی سب بالواسطہ یا بلا واسطہ زمین سے ہی حاصل ہوتی ہیں۔ پھر اس وحدہ لا شریک کی اس بےمثال قدرت کا یہ مظہر دیکھو کہ کہاں پاؤں تلے روندی جانے والی یہ بےحس و بےجان مٹی اور کہاں اس سے وجود میں آنے والا اور بےپناہ صلاحیتوں کا مالک یہ انسان ؟ پھر بھی اس خالق ومالک کی قدرت میں شک یا اس کی بخشش و عطا کا انکار یا اس میں دوسروں کو اس کا ہمسر و شریک ماننا ؟ اس سے بڑھ کر ظلم اور ناانصافی اور کیا ہوسکتی ہے ؟ ـ ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو اللہ پاک کی توحید اور اس کی وحدانیت ویکتائی اور اس کی عظمت شان اور جلالت قدر اور اس کی قدرت و حکمت اور رحمت و عنایت کے دلائل خود انسان کے اپنے وجود کے اندر موجود ہیں۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { وَفِیْ اَنْفُسِکُمْ اَفَلَا تُبْصِرُوْنَ } ۔ یعنی " خود تمہاری جانوں کے اندر عظیم الشان دلائل قدرت و حکمت موجود ہیں تو کیا تم لوگ آنکھیں نہیں کھولتے ؟ "۔ سو انسان اگر خود اپنی ذات میں غور و فکر سے کام لے تو اس کو اپنا وجود قدرت کی رحمتوں، عنایتوں اور دلائل وبراہین کا ایک عظیم الشان مجموعہ نظر آئے لیکن برا ہو غفلت اور لاپرواہی کا کہ انسان غور و فکر سے کام لیتا ہی نہیں ۔ الا ما شاء اللہ ۔ والعیاذ باللہ جل وعلا - 5 دو عظیم الشان اور طے شدہ مدتوں کا ذکر : سو اس ارشاد ربانی میں دو ایسی مدتوں کا ذکر فرمایا گیا ہے جو اللہ تعالیٰ کے یہاں طے شدہ ہیں۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس نے ایک مدت مقرر فرمادی اور ایک اور مدت اس کے یہاں طے شدہ ہے۔ یعنی تمہارے دوبارہ زندہ ہو کر اٹھنے کی اور بعث بعد الموت کی مدت۔ اور اس مدت کو اس وحدہ لاشریک کے سوا اور کوئی نہیں جانتا۔ سو پہلی " اجل " سے مراد موت ہے اور دوسری سے مراد قیامت۔ (صفوہ وغیرہ) ۔ سو پہلی مدت کا تعلق فرد کی موت سے ہے اور دوسری کا اس پوری کائنات کی موت اور اس کے فنا وزوال سے ہے۔ سو جس طرح پہلی موت یعنی فرد کی موت کے وقت کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا اسی طرح اس پورے عالم کی موت اور اس کے فنا وزوال کو بھی اس وحدہ لاشریک کے سوا کوئی نہیں جان سکتا۔ اور جس طرح اس پہلی مدت نے اپنے وقت پر بہرحال آکر رہنا ہے کوئی اس کو ٹال نہیں سکتا، اسی طرح اس دوسری مدت کو بھی کوئی نہیں ٹال سکتا۔ اور جس طرح اس پہلی مدت کے بعد کوئی اس دنیا میں واپس نہیں آسکتا اسی طرح اس دوسری مدت کے بعد بھی کسی کی واپسی کی کوئی صورت ممکن نہ ہوگی۔ پس عقل و نقل دونوں کا تقاضا یہ ہے کہ انسان آنے والے اس وقت کے لئے تیاری کرے قبل اس سے کہ عمر رواں کی یہ فرصت محدود اس کے ہاتھ سے نکل جائے۔ نیز جب اس نے تم سب لوگوں کو پہلی مرتبہ پیدا کرلیا ہے تو وہ تم کو دوبارہ آخر کیوں نہ پیدا کرے گا ؟ جبکہ دوبارہ پیدا کرنا پہلی مرتبہ پیدا کرنے کے مقابلے میں نسبتاً زیادہ آسان ہے ۔ اَللّٰہُمَّ فَزِدْنَا اِیْمَانًا وَّ یَقِیْنًا وَّخُشُوْعًا وَّخُضُوْعًا - 6 دلائل کا تقاضا صدق ایمان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ کیا پھر بھی تم لوگ شک کرتے ہو ؟ یعنی یہ جاننے کے باوجود یعنی ایسا کرنا بہت تعجب کی بات ہے۔ { ثُمَّ } استِبْعاد کے لئے ہے اور { تَمْتُرُوْنَ } " مِرْیہ " سے بھی ماخوذ ہوسکتا ہے جس کے معنیٰ شک کرنے کے آتے ہیں اور " مراء " سے بھی ماخوذ ہوسکتا ہے جس کے معنیٰ جھگڑا کرنے کے آتے ہیں۔ معنیٰ دونوں صورتوں میں واضح ہے۔ (صفوہ، مدارک، قرطبی وغیرہ) ۔ سو ان دلائل قدرت کا تقاضا یہ ہے کہ انسان شک و ریب کی دلدل سے نکل کر اور بحث و مباحثہ سے بچ کر صدق دل سے ایمان لائے اور دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفراز ہوجائے ۔ وَبِاللّٰہِ التوفیق ۔ سو جس خدا نے تم لوگوں کو مٹی سے پیدا فرمایا اور نیست سے ہست کیا آخر وہ تم کو دوبارہ کیوں نہ پیدا کرسکے گا ؟۔ سو وہ تم کو دوبارہ پیدا کرسکتا ہے اور ضرور پیدا کرے گا تاکہ تم کو اپنے زندگی بھر کے کئے کرائے کا صلہ و بدلہ ملے اور اس طرح عدل و انصاف کے تقاضے پورے ہوں اور علی وجہ التمام والکمال پورے ہوں۔ اور اس کے لئے اس نے ایک وقت مقرر فرما رکھا ہے جس کا علم اسی وحدہٗ لاشریک کے پاس ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو اس کا تقاضا ہے صدق ایمان اور صالح اعمال ۔ وباللہ التوفیق -
Ayah 6:4

وَ مَا تَاْتِیْهِمْ مِّنْ اٰیَةٍ مِّنْ اٰیٰتِ رَبِّهِمْ اِلَّا كَانُوْا عَنْهَا مُعْرِضِیْنَ Open ayah 6:4 in the Quran reader

اور نہیں آتی ان کے پاس کوئی نشانی ان کے رب کی نشانیوں میں سے مگر یہ لوگ اس سے منہ موڑے ہی رہتے ہیں،

9 اِعراض و روگردانی باعث ہلاکت و محرومی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان لوگوں کے پاس جو بھی کوئی نشانی ان کے رب کی طرف سے آتی ہے یہ اس سے اعراض و روگردانی ہی برتتے ہیں۔ اور یہ چیز باعث ہلاکت و محرومی ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو یہ لوگ ایسی ہر نشانی سے منہ موڑے ہی رہتے ہیں اور اس کے بارے میں غور و فکر سے کام لینے کے لئے تیار نہیں ہوتے۔ تو پھر حق ان کی سمجھ میں آئے تو آخر کس طرح ؟ اور راہ حق و ہدایت ان کو نصیب ہو تو کیو نکر ؟ افسوس کہ غفلت و اعراض کا یہی مرض انسانی معاشرے میں اور خود مسلمان معاشرے میں آج بھی موجود ہے بلکہ آج کا مادہ پرست انسان اس مرض کا اور بھی زیادہ اور بری طرح سے شکار ہے۔ وہ را ہِ حق و باطل کے درمیان فرق وتمیز کی غرض سے سوچنے سمجھنے اور اس بارے دلائل وبراہین میں غور و فکر کرنے کے لئے نہ تیار ہوتا ہے اور نہ ہی اس کے پاس اس کے لئے کوئی وقت ہی ہے۔ اس کی تمام تر مصروفیت اور ساری تگ و دو دنیاوی مفادات کی تحصیل، نفسانی خواہشات کی تکمیل اور مادئہ و معدہ کے تقاضوں کی تعمیل کے محور کے گرد گھومتی ہے اور بس۔ اس سے آگے بڑھ کر کچھ سوچنے سمجھنے کے لیے یہ لوگ تیار ہی نہیں ہوتے۔ سو اعراض و روگردانی بیماریوں کی بیماری اور محرومیوں کی محرومی ہے ۔ والعیاذ باللہ -
Ayah 6:5

فَقَدْ كَذَّبُوْا بِالْحَقِّ لَمَّا جَآءَهُمْ١ؕ فَسَوْفَ یَاْتِیْهِمْ اَنْۢبٰٓؤُا مَا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ Open ayah 6:5 in the Quran reader

چناچہ اب انہوں نے اس حق کو بھی جھٹلا دیا جب کہ وہ ان کے پاس پہنچ گیا، سو عنقریب ہی آجائے گی ان کے پاس حقیقت ان خبروں کی جن کا یہ لوگ مذاق اڑاتے تھے

10 نور حق سے محرومی سب سے بڑی محرومی ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہِ الْعَظِیْمِ : سو اس سے واضح فرما دیا گیا تکذیبِ حق اور نور حق سے اعراض و روگردانی خساروں کا خسارہ اور سب سے بڑی محرومی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اور اسی بنا پر انہوں نے جھٹلایا اس حق کو جو ان کے پاس آچکا قرآن حکیم کے نزول اور نبی آخر الزمان کی بعثت و تشریف آوری کی صورت میں۔ اور اپنی کامل، مکمل اور آخری شکل میں۔ اور قیام قیامت تک تمام زمانوں اور جملہ انسانوں کے لئے۔ تو اس کو جھٹلا کر یہ لوگ دارین کے خسارئہ و نقصان میں مبتلا ہوگئے اور نور حق و ہدایت سے بہرہ ور و سرفراز ہونے کی بجائے کفر و باطل کے دبیز اور گھٹا ٹوپ اندھیروں میں ڈوب گئے۔ سو حق سے اعراض و روگردانی سب سے بڑا خسارہ اور محرومی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اور ایسے لوگ اپنے اس ہولناک انجام کو پہنچ کر رہیں گے جس کے یہ اپنے جرم تکذیب و انکار کی بنا پر مستحق ہیں۔ تب ان کے سامنے وہ تمام حقائق اپنی اصل اور حقیقی شکل میں سامنے آجائیں گے جن کو یہ زندگی بھر جھٹلاتے رہے تھے۔
Ayah 6:6

اَلَمْ یَرَوْا كَمْ اَهْلَكْنَا مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنْ قَرْنٍ مَّكَّنّٰهُمْ فِی الْاَرْضِ مَا لَمْ نُمَكِّنْ لَّكُمْ وَ اَرْسَلْنَا السَّمَآءَ عَلَیْهِمْ مِّدْرَارًا١۪ وَّ جَعَلْنَا الْاَنْهٰرَ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهِمْ فَاَهْلَكْنٰهُمْ بِذُنُوْبِهِمْ وَ اَنْشَاْنَا مِنْۢ بَعْدِهِمْ قَرْنًا اٰخَرِیْنَ Open ayah 6:6 in the Quran reader

کیا دیکھا نہیں ان لوگوں نے (اور سبق نہیں لیا اس سے) کہ ہم ان سے پہلے کتنی ہی ایسی قوموں کو ہلاک کرچکے جن کو ہم نے زمین میں وہ اقتدار بخشا تھا جو تمہیں نہیں بخشا ان پر ہم نے اوپر سے موسلا دھار مینہ برسائے، اور ان کے نیچے سے نہریں جاری کردیں مگر آخرکار (جب ان لوگوں نے ان نعمتوں کے کفران ہی سے کام لیا تو) ہم نے ان کو ہلاک کردیا، ان کے گناہوں کی پاداش میں، اور ان کے بعد (ان کی جگہ) ہم نے پیدا کردیا دوسری قوموں کو،

11 محض مادی ترقی لوگوں کو مہالک سے نہیں بچا سکتی : سو تاریخ کا حوالہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا اور تحضیض وتحریض کے لیے بطور استفہام وسوال ارشاد فرمایا گیا کہ کیا ان لوگوں نے دیکھا نہیں کہ ہم ان سے پہلے بہت سی ایسی قوموں کو ہلاک کرچکے ہیں جن کو ہم نے زمین میں وہ اقتدار بخشا تھا جو تم لوگوں کو نہیں بخشا۔ سو وہ لوگ جسمانی قوت میں بھی تم سے کہیں بڑھ کر تھے اور مال و دولت کی کثرت و فراخی میں بھی تم سے کہیں زیادہ تھے۔ اور ان کو عمریں بھی تم سے کہیں زیادہ لمبی عطا ہوئی تھیں۔ مگر اس کے باوجود پیغام حق و ہدایت کی تکذیب اور اس سے اعراض و روگردانی کے نتیجے میں جب وہ اپنے آخری اور ہولناک انجام کو پہنچے تو ان کی اس تعمیر و ترقی میں سے کچھ بھی ان کے کام نہ آسکا جس کا ان کو بڑا دعویٰ اور گھمنڈ تھا۔ سو محض مادی ترقی لوگوں کو مہالک سے نہیں بچا سکتی۔ اس لئے یہاں پر ان گزشتہ قوموں کے انجام سے درس عبرت لینے کے لئے تحضیص و ترغیب ہے کہ دیکھو تکذیب و انکار حق کے نتیجے میں ان لوگوں کو کس ہولناک انجام سے دوچار ہونا پڑا۔ پس تم لوگ اس روش سے بچ کر رہو جس پر وہ لوگ چلے تھے تاکہ تم اس انجام بد سے بچ سکو جس سے وہ لوگ دوچار ہوئے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ 12 گزشتہ قوموں کی ہلاکت سے درس عبرت لینے کی ضرورت : پس اس میں تمہارے لئے بڑا درس عبرت اور سامان فکر و بصیرت ہے اے لوگو کہ جس انجام سے وہ لوگ دوچار ہوئے وہ تمہیں بھی پیش آسکتا ہے۔ اگر تم لوگوں نے اپنی اصلاح نہ کی اور اپنی روش نہ بدلی کہ اللہ کا قانون سب کیلئے یکساں اور بےلاگ ہے۔ سو دور حاضر کے کافروں اور منکروں کو اپنی روش بدل لینی چاہیئے قبل اس سے کہ وہ اپنے اس آخری اور ہولناک انجام سے دوچار ہوں جس سے گزشتہ قومیں دوچار ہوچکی ہیں اور سعادتمندی اور نیک بختی کا تقاضا یہی ہے کہ انسان دوسروں کے احوال و کو ائف اور ان کے انجام سے درس عبرت لے اور اس انجام سے بچنے کی فکر و سعی کرے جس سے دوسرے دوچار ہوچکے ہیں۔ سو تاریخ اقوام سے اصل مقصود درس عبرت لینا ہوتا ہے کہ وہ کون اور کیسے لوگ تھے اور کیسے ہولناک انجام سے درچار ہوئے۔ اور کیوں ہوئے ۔ وَبِاللّٰہِ التَّوْفِیْقُ لِمَا یُحِبُّ وَیُرِیْدُ وَہُوَ الْہَادِیْ الی سَوِائِ السَّبِیْلِ-
Ayah 6:7

وَ لَوْ نَزَّلْنَا عَلَیْكَ كِتٰبًا فِیْ قِرْطَاسٍ فَلَمَسُوْهُ بِاَیْدِیْهِمْ لَقَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا سِحْرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 6:7 in the Quran reader

اور (ان لوگوں کے عناد اور ہٹ دھرمی کا یہ حال ہے کہ) اگر ہم آپ پر (اے پیغمبر ! کاغذ میں لکھی کوئی کتاب بھی اتار دیتے جسے یہ لوگ اپنے ہاتھوں سے چھو کر دیکھ بھی لیتے، تب بھی ان کافروں نے یقیناً یہی کہنا تھا کہ یہ کچھ نہیں مگر ایک جادو ہے کھلم کھلا

13 عناد وہٹ دھرمی کا نتیجہ ہلاکت و محرومی : سو پیغمبر کو خطاب کر کے ارشاد فرمایا گیا کہ اگر ہم آپ پر کوئی ایسی لکھی لکھائی کتاب بھی اتار دیتے جس کو یہ لوگ اپنے ہاتھوں سے چھو کر دیکھ بھی لیتے تو بھی ایسے منکروں نے یہی کہنا تھا کہ یہ تو ایک جادو ہے کھلم کھلا۔ سو جن کی ضد اور ہٹ دھرمی کا یہ عالم ہو ان سے خیر کی کیا توقع کی جاسکتی ہے ؟ اور ان پر کوئی افسوس کا ہے کو ؟ سو عناد اور ہٹ دھرمی ہلاکتوں کی ہلاکت اور اس کا نتیجہ و انجام ہمیشہ کی محرومی اور ہولناک تباہی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ پس اس ارشاد عالی میں در اصل پیغمبر کے لئے اور آپ ﷺ کے توسط سے ہر داعی حق کے لئے تسلیہ و تسکین کا سامان ہے کہ منکرین کا انکار کسی واقعی عذر کی بنا پر نہیں بلکہ محض عناد اور ہٹ دھرمی کی بنا پر ہے۔ اس لئے آپ ﷺ کو ان کے اعراض و انکار کی بنا پر دل گیر نہیں ہونا چاہئے اور ان کی بنا پر اپنے آپ کو کڑھن میں نہیں ڈالنا چاہئے ۔ { فَلَا تَذْھَبْ نَفْسُکَ عَلَیْہِمْ حَسَرَاتٍ } ۔ سو ایسوں سے اعراض اور روگردانی ہی سے کام لیں ۔ { وَاَعْرِضْ عَنِ الْجَاہِلِیْنَ } ۔ اور ایسے ہٹ دھرموں کو ان کے حال پر چھوڑ دیں۔ یہ اپنے انجام کو بہرحال پہنچ کر رہیں گے ۔ والعیاذ باللہ -
Ayah 6:8

وَ قَالُوْا لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْهِ مَلَكٌ١ؕ وَ لَوْ اَنْزَلْنَا مَلَكًا لَّقُضِیَ الْاَمْرُ ثُمَّ لَا یُنْظَرُوْنَ Open ayah 6:8 in the Quran reader

اور کہتے ہیں کہ کیوں نہیں اتارا گیا اس (پیغمبر) پر کوئی فرشتہ، اور اگر ہم (ان فرمائش کے مطابق) کوئی فرشتہ اتار دیتے تو فیصلہ کبھی کا چکا دیا گیا ہوتا، پھر کوئی مہلت نہ ملتی ان (منکر) لوگوں کو،1

14 فرمائشی معجزوں کے بارے میں قانون و دستور خداوندی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ یہ لوگ کہتے ہیں کہ کیوں نہیں اتارا گیا اس پیغمبر پر کوئی فرشتہ اور اگر ہم ان کی فرمائش کے مطابق کوئی فرشتہ اتار دیتے تو فیصلہ کبھی کا چکا دیا گیا ہوتا اور پھر ایسے منکر لوگوں کو کوئی مہلت نہ ملتی کہ اللہ پاک کا قانون اور دستور یہی ہے کہ فرمائشی معجزے کے انکار کے بعد مہلت نہیں دی جاتی۔ کیونکہ حقائقِ غیبیہ کے اس طرح مکشوف اور واضح ہوجانے کے بعد نہ ماننے والوں کے لئے کوئی عذر باقی نہیں رہ جاتا۔ سو فرمائشی معجزوں کا پورا نہ ہونا خود ان لوگوں کے لئے بہتر ہے مگر لوگوں کی اکثریت ایسی ہے کہ اس حقیقت کو سمجھتی نہیں۔ اس لیے وہ ایسے فرمائشی معجزوں کا مطالبہ کرتے ہیں۔ سو ایمان وہی معتبر ہے جو بن دیکھے اور غائبانہ ہو۔ ورنہ رفع حجاب اور کشف حقائق کے بعد کا ایمان نہ مطلوب ہے اور نہ معتبر کہ وہ ایمان ایمان بالغیب نہیں بلکہ ایمان بالمشاہدۃ ہے۔ جبکہ اصل مقصود ایمان بالغیب ہے۔ اور غیبی حقائق کے ظہور کے بعد بھی جو انکار کریں گے ان کو مہلت نہیں ملے گی کہ ان پر حجت تمام ہوچکی ہوتی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayahs 6:9–10

وَ لَوْ جَعَلْنٰهُ مَلَكًا لَّجَعَلْنٰهُ رَجُلًا وَّ لَلَبَسْنَا عَلَیْهِمْ مَّا یَلْبِسُوْنَ Open ayah 6:9 in the Quran reader

اور اگر ہم کوئی فرشہ اتارتے بھی تو یقیناً اس کو کسی انسان کی شکل ہی میں اتارتے، اور (اس صورت میں) انکو اس پر بھی یقیناً وہی شبہ ہوتا جس میں یہ اب پڑے ہوئے ہیں،2

وَ لَقَدِ اسْتُهْزِئَ بِرُسُلٍ مِّنْ قَبْلِكَ فَحَاقَ بِالَّذِیْنَ سَخِرُوْا مِنْهُمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ۠ Open ayah 6:10 in the Quran reader

اور (آپ ان کی باتوں سے دل گیر نہ ہوں اے پیغمبر ! کہ) بلاشبہ آپ سے پہلے بھی بہت سے رسولوں کا مذاق اڑایا جا چکا ہے، آخرکار آگھیرا مذاق اڑانے والوں کو اسی عذاب نے جس کا وہ مذاق اڑاتے رہے تھے3

15 فرمائشوں پر فرشتوں کو اتارنے کا فائدہ نہیں : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اگر ہم کوئی فرشتہ اتار بھی دیتے تو یقینا وہ کسی انسان ہی کی شکل میں ہوتا۔ کیونکہ فرشتے کو اپنی اصل شکل میں دیکھنا کسی عام انسان کے بس میں نہیں۔ کیونکہ فرشتے کی اصل حقیقت جو کہ نور مجرد ہے اس کو اپنی ان ناسوتی آنکھوں سے دیکھنا عام انسان کے بس میں نہیں۔ اور یہ حضرات انبیائے کرام ۔ علیھم الصلوۃ والسلام ۔ ہی کا ظرف اور انہی کا مقام ہوسکتا ہے کہ وہ ان نوری وجودوں کو دیکھ سکیں اور اس رؤیت کو سہار سکیں۔ (جامع البیان، ابن کثیر اور معارف القرآن وغیرہ) ۔ تو پھر یہ لوگ فرشتوں کو اپنی ان ناسوتی آنکھوں سے کس طرح دیکھ سکتے ہیں۔ سو ایسے میں ان کا یہ مطالبہ سراسر ایک نامعقول اور ناقابل عمل مطالبہ ہے۔ بہرکیف ان لوگوں کے اس بیہودہ مطالبے اور سوال کے جواب میں ارشاد فرمایا گیا کہ فرشتے کو اپنی اصل اور حقیقی شکل میں دیکھنا کسی عام انسان کے بس میں نہیں۔ اور اگر فرشتے کو کسی انسانی شکل میں بھیجا جاتا تو ان کا وہ اشتباہ بدستور باقی رہتا جس میں یہ اب پڑے ہوئے ہیں۔ 16 فرشتے کو اتارنے کا مطالبہ ایک نامعقول مطالبہ : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ ہدایت کے لئے فرشتوں کے اتارنے کا مطالبہ ایک نامعقول مطالبہ ہے۔ کیونکہ فرشتہ اگر اپنی اصل شکل میں اتارا جاتا تو اس کو یہ لوگ دیکھ نہ سکتے کہ وہ ایک غیر مرئی مخلوق ہے۔ اور اگر وہ کسی انسان کی شکل میں ہوتا تو اس صورت میں یہ لوگ اسی اشتباہ میں پڑجاتے جس میں یہ اب پڑے ہوئے ہیں کہ اس کی ظاہری شکل کو دیکھ کر یہ لوگ یہی کہتے کہ یہ تو بشر ہے، فرشتہ ہے ہی نہیں۔ پس فرشتے اتارنے کا ان لوگوں کا یہ مطالبہ ایک نامعقول اور غیر مفید مطالبہ تھا۔ کیونکہ اگر فرشتہ اپنی اصل شکل میں آتا تو اس کو یہ لوگ دیکھ نہ سکتے۔ اور اگر فرشتہ کسی انسانی شکل میں ظاہر ہوتا تو اس کو پہچاننا ان کیلئے ممکن نہ ہوتا۔ اور اس صورت میں یہ لوگ کہتے کہ یہ فرشتہ ہے ہی نہیں۔ سو رسول کے بشر ہونے پر ان لوگوں کا اعتراض اور کسی فرشتہ کو رسول بنا کر بھیجنے کا مطالبہ ایک نامعقول مطالبہ ہے مگر عجوبہ پرست لوگوں کے اندر یہ استعجاب اور مطالبہ ہمیشہ ہی رہا۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ان کے اس نامعقول مطالبے کا ذکر اس طرح فرمایا گیا ہے ۔ { وَمَا مَنَعَ النَّاسَ اَنْ یُؤْمِنُوْا اِذْ جَائَ ھُمُ الْہُدیٰ اِلَّا اَنْ قَالُوْا اَبَعَثَ اللّٰہُ بَشَرًا رَّسُوْلاً } ۔ (بنی اسرائیل : 94) ۔
Ayah 6:11

قُلْ سِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ ثُمَّ انْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُكَذِّبِیْنَ Open ayah 6:11 in the Quran reader

ان سے کہا کہ چلو (پھرو) تم لوگ (عبرتوں بھری) اس زمین میں، پھر دیکھو کہ کیسا ہوا انجام (حق و صداقت کے) جھٹلانے والوں کا،

17 تکذیبِ حق کا آخری نتیجہ ہولناک تباہی : سو اس بارے دعوت غور وفکر دیتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا کہ سو دیکھو کہ کیسا ہوا انجام جھٹلانے والوں کا کہ تکذیبِ حق کے سنگین جرم کی پاداش میں یہ لوگ کس طرح تباہ و برباد ہوئے۔ معلوم ہوا کہ سیر و سیاحت کا اصل مقصد عبرت پکڑنا اور سبق لینا ہے۔ لیکن افسوس کہ آج کل کی سیر و سیاحت سے یہی مقصودی عنصر غائب اور عنقا ہے۔ ہڑپہ، ٹیکسلا اور موہنجوڈا رو وغیرہ وغیرہ جیسے آثار قدیمہ کی حفاظت کے لئے لاکھوں کروڑوں کے خرچے تو بہرحال کئے جاتے ہیں لیکن عبرت پذیری کا یہی اصل عنصر اور بڑا مقصد مفقود اور عنقا ہے ۔ اِلّا مَا شَا ئََ اللّٰہُ ۔ بلکہ اس کے برعکس وہاں پر مزید غفلت، لاپرواہی اور خرمستی کے مظاہر دیکھنے میں آتے ہیں۔ عورتوں اور مردوں کے بےمحابہ اختلاط، فوٹوگرافی اور نظربازی وغیرہ کیا کچھ نہیں ہوتا ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہِ وَاِلَی اللّٰہِ الْمُشْتَکٰی ۔ بہرکیف حکم و ارشاد فرمایا گیا کہ غفلت کے مارے ان لوگوں سے کہو کہ تم عبرتوں بھری اس زمین میں چل پھر کر دیکھو اور درس عبرت و بصیرت لو کہ کیسا ہولناک انجام ہوا ان لوگوں کا جنہوں نے حق کو جھٹلایا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ ہمیشہ اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے ۔ آمین۔
Ayah 6:12

قُلْ لِّمَنْ مَّا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ قُلْ لِّلّٰهِ١ؕ كَتَبَ عَلٰى نَفْسِهِ الرَّحْمَةَ١ؕ لَیَجْمَعَنَّكُمْ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ لَا رَیْبَ فِیْهِ١ؕ اَلَّذِیْنَ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ فَهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 6:12 in the Quran reader

(ان سے) پوچھو کہ کس کا ہے وہ سب کچھ جو کہ آسمانوں اور زمین (کی عظیم الشان کائنات) میں ہے ؟ کہو یہ سب کچھ اللہ ہی کا ہے، اس نے لازم فرما دیا اپنے اوپر رحمت کو (اپنے کرم بےپایاں سے) وہ یقیناً جمع کر لائے گا تم سب کو قیامت کے اس دن میں جس میں کوئی شک نہیں (مگر) جن لوگوں نے خود خسارے میں ڈال دیا اپنے آپ کو، وہ پھر بھی ایمان نہیں لائیں گے

18 آسمانوں اور زمینوں میں جو کچھ ہے وہ سب اللہ ہی کا ہے : خَلْقًا وَمِلْکًا وَتَصَرُّفًا۔ یعنی اس سب کا خالق ومالک بھی وہی وحدہ لاشریک ہے، اس کا بادشاہ حقیقی اور حاکم مطلق بھی وہی ہے اور اس میں حکم اور تصرف بھی اسی کا اور صرف اسی کا چلتا ہے۔ پس جن لوگوں نے خلاف اسباب اس مالک حقیقی کی اس ملکیت کے حصے بخرے کر رکھے ہیں کہ یہ فلاں کی نگری، اور یہ فلاں کی بستی اور یہ فلاں سرکار کا حصہ و علاقہ ہے وغیرہ وغیرہ تو وہ یقینا ناروا بات اور مشرکانہ حرکت کا ارتکاب کرتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ ان منکروں سے پوچھو کہ آسمان و زمین کی یہ عظیم الشان کائنات اور اس کے اندر جو کچھ ہے وہ سب کس کا ہے ؟ تو اس کا جواب یہ لوگ بھی یہی دیں گے کہ یہ سب کچھ اللہ ہی کا ہے کیونکہ مشرکین مکہ شرک میں غرق ہونے کے باوجود اس بات کے قائل تھے کہ آسمانوں اور زمین کی اس عظیم الشان اور حکمتوں بھری کائنات کا خالق ومالک اللہ وحدہٗ لاشریک ہی ہے۔ جیسا کہ قرآن حکیم میں دوسرے مختلف مقامات پر اس کی تصریح فرمائی گئی ہے۔ سو اس طرح یہ ارشاد منکرین و مُکَذّبینَ کے دلوں کے لئے ایک دستک ہے کہ یہ سب کچھ ماننے کے باوجود تم لوگ حق کی تکذیب و انکار آخر کیسے کرتے ہو ؟۔ اور دوسروں کو اس وحدہ لا شریک کا شریک وسہیم آخر کیسے مانتے ہو ؟ جبکہ ان میں سے کوئی نہ آسمان و زمین کی اس کائنات کی ایجاد و تخلیق میں اس کا شریک ہے اور نہ اس کے حکم و تصرف میں ؟ ۔ سبحانہ وتعالیٰ - 19 اللہ تعالیٰ کی طرف سے سب کیلئے رحمت ہی رحمت ہے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ا نے رحمت کو اپنے اوپر لکھ رکھا ہے۔ سو اس سے اس کے بندوں کو اور اس کی باقی تمام مخلوق کو رحمت ہی رحمت ملتی ہے۔ اور جو تکلیف اور عذاب لوگوں کو پہنچتا ہے وہ ان کے اپنے ہی کئے کی سزا ہوتی ہے۔ یا پھر اس میں بھی رحمت کے کئی اور پہلو مضمر ہوتے ہیں جن کو بندہ اپنی کوتاہ فہمی کی بنا پر بعض اوقات، بلکہ بسا اوقات، سمجھنے سے قاصر رہتا ہے۔ سو یہ پوری کائنات اس کی گوناگوں رحمتوں اور عنایتوں سے بھری پڑی ہے لیکن اس کا کیا کیا جائے کہ بندہ اس کی بارگاہ اقدس واعلیٰ سے منہ موڑ کر اپنے آپ کو اس کی نقمت اور عذاب کا ہی مستحق بنا دے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف اس ارشاد سے ایک طرف تو یہ امر واضح ہوجاتا ہے کہ وہ صفت رحمت سے بدرجہ تمام و کمال موصوف ہے۔ اور دوسری طرف یہ بات کہ اس کی اس صفت کا ظہور بہرحال ہو کر رہے گا۔ کوئی اس میں مزاحم اور رکاوٹ نہیں ہوسکتا۔ اور یہ اس دنیا میں بھی ہو رہا ہے۔ لیکن اس کا کامل ظہور آخرت کے اس حقیقی اور ابدی جہاں ہی میں ہوگا جو کہ اس دنیا کے بعد آئیگا اور جس کے انتہائی یقینی ہونے کو دوسرے مقام پر آنے والے کل [ غد ] سے تعبیر فرمایا گیا ہے۔ سو اس یوم عظیم کا قیام اس کی رحمت کا سب سے بڑا اور عظیم الشان مظہر ہے ۔ اللہ نصیب فرمائے ۔ آمین ثم آمین۔ 20 نور حق سے محرومی سب سے بڑا خسارہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جن لوگوں نے اپنے آپ کو خسارے میں ڈال دیا وہ پھر بھی ایمان نہیں لائیں گے۔ سو ان لوگوں نے اپنے آپ کو خسارے میں ڈال دیا اپنی فطرت سلیمہ کو ضائع کرکے۔ اور اپنے جوہر عقل کو خراب کر کے۔ اور اس کے نتیجے میں یہ لوگ حق سے منہ موڑ کر اور اپنے انجام سے غافل ہو کر خواہشات نفس کے پیچھے لگ گئے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اور یہ ایک ہولناک خسارہ ہے کہ یہ خسارہ ایسا خسارہ ہے کہ اس جیسا اور کوئی خسارہ نہیں ہوسکتا۔ اور حیات دنیا کی اس فرصت محدود کے ہاتھ سے نکل جانے کے بعد اس خسارہ کی تلافی وتدارک کی پھر کوئی صورت ممکن نہ ہوگی ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو نور حق و ہدایت سے منہ موڑنا اور اس سے محروم ہونا دارین کی سعادت و سرخروئی سے محرومی اور سب سے بڑا اور انتہائی ہولناک خسارہ ہے ۔ والعیاذ باللہ -
Ayah 6:13

وَ لَهٗ مَا سَكَنَ فِی الَّیْلِ وَ النَّهَارِ١ؕ وَ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 6:13 in the Quran reader

اور اسی (وحدہ لاشریک) کا ہے وہ سب کچھ جو کہ ساکن ہوتا ہے رات (کے اندھیرے) میں، اور (جو متحرک ہوتا ہے) دن (کے اجالے) میں اور وہی ہے ہر کسی کی سنتا، سب کچھ جانتا

21 کائنات میں جو کچھ ہے وہ سب اللہ ہی کا ہے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اسی کا ہے وہ سب کچھ جو کہ ساکت ہوتا ہے رات کے اندھیروں میں اور جو متحرک ہوتا ہے دن کے اجالے میں۔ اور وہی ہے ہر کسی کی سنتا سب کچھ جانتا۔ سو یہاں پر ضدین میں سے ایک پر اکتفاء کرتے ہوئے دوسرے کو ذکر نہیں فرمایا گیا۔ لیکن معنیٰ میں وہ بہرحال مراد ہے۔ (جامع، محاسن، جواہر وغیرہ) ۔ اور یہ بلاغت وبیان کا ایک عظیم اسلوب ہے۔ ہم نے اپنے ترجمے میں اسی کو واضح اور ظاہر کرنے کی کوشش کی ہے ۔ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ ۔ بہرکیف اس سے واضح فرما دیا گیا کہ اس کائنات ہست و بود میں جو بھی کچھ ہے وہ سب اللہ ہی کا ہے کہ اس سب کا خالق ومالک بھی وہی وحدہٗ لاشریک ہے اور اس سب میں حکم و تصرف بھی اسی کا اور صرف اسی کا چلتا ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو ایسے میں وہ لوگ جو اس وحدہ لاشریک کے ساتھ کفر و شرک کرتے ہیں وہ ظالم ہونے کے ساتھ ساتھ عقل و فطرت اور ان کے تقاضوں کے بھی دشمن ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ اسی کا ہے وہ سب کچھ جو کہ ساکن ہوتا ہے رات کے گھٹاٹوپ اندھیروں میں اور جو کچھ کہ متحرک ہوتا ہے دن کے اجالوں میں۔ اور وہی ہے جو ہر کسی کی سنتا اور سب کچھ جانتا ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ -
Ayahs 6:14–16

قُلْ اَغَیْرَ اللّٰهِ اَتَّخِذُ وَلِیًّا فَاطِرِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ هُوَ یُطْعِمُ وَ لَا یُطْعَمُ١ؕ قُلْ اِنِّیْۤ اُمِرْتُ اَنْ اَكُوْنَ اَوَّلَ مَنْ اَسْلَمَ وَ لَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُشْرِكِیْنَ Open ayah 6:14 in the Quran reader

کہو کیا میں اس اللہ کے سوا اور کسی کو اپنا سرپرست (و کارساز) بنالوں ؟ جو کہ پیدا کرنے والا ہے آسمانوں اور زمین (کی اس پوری کائنات) کا ؟ اور وہ روزی دیتا ہے روزی لیتا نہیں ؟ کہو مجھے تو قطعی طور پر یہی حکم دیا گیا ہے کہ میں سب سے پہلے اس کا فرمانبردار ہوجاؤں، نیز یہ کہ تم ہرگز کبھی مشرکوں میں سے نہیں ہونا،

قُلْ اِنِّیْۤ اَخَافُ اِنْ عَصَیْتُ رَبِّیْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ Open ayah 6:15 in the Quran reader

کہو کہ میں تو بہر حال ڈرتا ہوں ایک بڑے (ہی ہولناک) دن کے عذاب سے، اگر میں اپنے رب کی نافرمانی کرلوں،1

مَنْ یُّصْرَفْ عَنْهُ یَوْمَئِذٍ فَقَدْ رَحِمَهٗ١ؕ وَ ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْمُبِیْنُ Open ayah 6:16 in the Quran reader

جو بچا دیا گیا اس عذاب سے اس روز، تو یقیناً رب تعالیٰ کا اس پر بڑا ہی کرم ہوگیا، اور یہی ہے کھلی (اور حقیقی) کامیابی،2

22 کارساز و کارفرما سب کا اللہ وحدہ لاشریک ہی ہے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ کہو کیا میں اللہ کے سوا اور کسی کو اپنا ولی و سرپرست اور کارساز بنا لوں ؟ جو کہ پیدا کرنے والا ہے آسمانوں اور زمین کی اس پوری کائنات کا ؟ استفہام انکاری ہے۔ یعنی ایسا نہیں ہوسکتا کہ ایسا کرنا عقل و نقل کے بھی سراسر خلاف ہے اور انصاف کے بھی منافی۔ کیونکہ اس وحدہ لاشریک کے سوا کوئی کارساز اور حاجت روا ہے ہی نہیں اور اس کی بیحد و حساب نعمتوں سے فائدہ اٹھانے کے باوجود دوسروں کو کارساز ماننا بڑا ظلم بھی ہے اور نہایت بےانصافی بھی ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو کارساز و کارفرما اس ساری مخلوق کا اللہ وحدہ لاشریک ہی ہے۔ اس کے سوا نہ کوئی کارساز و کارفرما ہے اور نہ کوئی حاجت روا و مشکل کشا۔ پس غلط کہتے اور کرتے ہیں وہ لوگ جو اس کے سوا اوروں کو کارساز و کارفرما اور حاجت روا و مشکل کشا جانتے، مانتے اور پوجتے پکارتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف اس استفہامیہ ارشاد سے اوپر والی مسلمہ حقیقت کا نتیجہ وثمرہ بیان فرما دیا گیا ہے کہ جب اس کائنات میں جو کچھ موجود ہے وہ سب اسی کا ہے اور اس پر حکم و ارشاد بھی اسی وحدہٗ لاشریک کا چلتا ہے تو پھر اس کے سوا کسی اور کو کارساز و کارفرما اور حاجت روا و مشکل کشا ماننا آخر کس طرح جائز ہوسکتا ہے ؟۔ پس کارساز و کارفرما سب کا اللہ وحدہ لاشریک ہی ہے جو کہ خالق کل، مالک مطلق ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ - 23 روزی رساں اور حاجت روا سب کا اللہ ہی ہے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ کیا میں اللہ کے سوا اور کسی کو اپنا ولی و کارساز بنالوں، حالانکہ وہی ہے پیدا کرنے والا آسمانوں اور زمین کی اس پوری کائنات کا۔ اور وہی ہے جو روزی دیتا سب کو اور وہی ہے جو روزی لیتا نہیں۔ وہ سب کو کھلاتا ہے خود کھاتا نہیں ۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ پس اللہ کے سوا اور کسی کو بھی مافوق الاسباب کار ساز و کارفرما ماننا جائز نہیں کہ وہی وحدہ لا شریک ہے جو آسمانوں اور زمین کی اس حکمتوں بھری کائنات کا بلا شرکت غیرے خالق ومالک اور اس میں حاکم و متصرف بھی ہے اور وہی ہے جو سب کو روزی دیتا ہے اور کسی سے روزی لیتا نہیں۔ سو یعنی ہر چیز اپنے ظہور و وجود میں بھی اسی کی محتاج ہے اور سامان عیش و بقا میں بھی۔ اور وہ کسی کا محتاج نہیں بلکہ سب سے اور ہر اعتبار سے غنی و بےنیاز ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ یہ استفہام انکاری ہے۔ یعنی ایسے نہیں ہوسکتا کہ میں اپنے اس خدائے وحدہ لاشریک کو جو کہ اس ساری کائنات کا خالق ومالک ہے چھوڑ کر کسی اور ہستی کو اپنا کارساز بنا لوں کہ یہ شرک اور ظلم و بےانصافی ہے، جس سے میں بہرحال دور و نفور اور بری و بیزار ہوں۔ پس دنیاوی اسباب و وسائل کے خلاف اور خرق عادت کے طور پر کسی بھی ہستی کو ازخود ولی و کارساز بنانا جائز نہیں مگر افسوس کہ اس کے باوجود آج کا کلمہ گو مشرک اپنے ایمان و اسلام اور عشق و محبت کے تمام دعو وں کے باوجود اسی شرک میں مبتلا ہے۔ اور وہ خم ٹھونک کر کہتا ہے کہ میں ٹھیک ہوں ۔ { وَہُمْ یَحْسَبُوْنَ اَنَّہُمْ یُحْسِنُوْنَ صُنْعًا } ۔ اہل بدعت کے بڑے بڑے گروہ عام طور پر سادہ لوح عوام کو دھوکہ دینے کی غرض سے کہتے ہیں کہ اجی یہ تو بتوں کے بارے میں ہے اور بس۔ حالانکہ ایک عام عربی دان بھی صاف اور واضح طور پر سمجھتا ہے کہ { غَیَْرُ اللّٰہِ } کے لفظ کا عموم سب کو شامل ہے خواہ وہ کوئی لکڑی پتھر کا بت ہو یا کوئی زندہ یا مردہ انسان وغیرہ۔ جس میں بھی مافوق الاسباب طریقے سے کوئی ایسی خدائی صفت مانی جائے گی وہ شرک ہوگا۔ اور تمام بڑے بڑے اور ثقہ مفسرین کرام اس کی تصریح بھی فرماتے رہے۔ مثال کے طور پر شیخ احمد مصطفیٰ المراغی المصری الازہری اپنی شہرئہ آفاق تفسیر میں اس مقام پر اس طرح رقمطراز ہیں " مشرکوں نے اپنے خود ساختہ معبودوں اور اپنے نبیوں، ولیوں کو اپنا سرپرست و کارساز بنا رکھا تھا۔ اور وہ صحت، روزی اور دشمنوں کے مقابلے میں کامیابی وغیرہ اپنی حاجتوں میں ان سے مدد مانگتے تھے۔ اور یہ بلاشبہ شرک اور غیر اللہ کی پوجا ہے۔ کیونکہ انہوں نے اسباب عادیہ کے بغیر اس طرح کی استمداد و استعانت میں ان ہستیوں کو شریک کردیا تھا " ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ (تفسیر المراغی : ج 7 ص 88 طبع بیروت) ۔ اور یہ ایک ظاہر اور واضح امر ہے کہ جب آسمانوں اور زمین کی اس پوری کائنات کا خالق اور مالک اللہ وحدہ لاشریک ہی ہے اور اسی وحدہ لاشریک کی یہ صفت و شان ہے کہ وہ سب کو روزی دیتا ہے اور کسی سے روزی لیتا نہیں جبکہ اس کے سوا باقی تمام مخلوق اسی کی محتاج ہے۔ تو پھر حاجت روا و مشکل کشا اور کارفرما و کارساز اس وحدہ لاشریک کے سوا اور کون ہوسکتا ہے ؟ ۔ سبحانہ و تعالیٰ - 24 پیغمبر تسلیم و رضا کے اعلیٰ نمونے ہوتے ہیں : ۔ سو ارشاد ہوا کہ کہو مجھے یہی حکم ملا ہے کہ میں سب سے پہلا اسلام لانے والا بنوں اور اپنے آپ کو بالکلیہ اس کے حوالے کر دوں۔ تاکہ اس وحدہ لاشریک کے حضور تسلیم و رضا کے میدان میں اپنی امت کے لئے اسوئہ و قدوہ اور نمونہ بن سکوں۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر فرمایا گیا ۔ { وَبِذٰلِکَ اُمِرْتُ وَاَنَا اَوَّلُ الْمُسْلِمِیْنَ } ۔ (الانعام : 163) ۔ سو اس ارشاد ربانی میں امتثال اوامر الہیہ کے لئے تحریض و ترغیب ہے۔ اور یہ ایسے ہی ہے جیسے کوئی بادشاہ اپنی رعایا کو کوئی حکم دینے کے بعد یوں کہے کہ اور میں سب سے پہلے اس پر خود عمل کرتا ہوں۔ (تفسیر القاسمی وغیرہ) ۔ بہرکیف اطاعت و فرمانبرداری اور بلا چون و چرا اور غیر مشروط اطاعت و فرما نبرداری اللہ وحدہ لاشریک ہی کا حق ہے۔ اور پیغمبر اس ضمن میں سب سے آگے اور اپنی امت کیلئے نمونہ ہوتے ہیں۔ سو پیغمبر نے اپنے اس ارشاد سے واضح فرما دیا کہ تم لوگوں نے اگر مذکورہ بالا مسلمہ حقائق کے باوجود اپنے خود ساختہ اور من گھڑت معبودوں کو اس وحدہٗ لاشریک کی خدائی میں شریک کر رکھا ہے اور تم ان کے آگے جھکتے اور مراسم عبودیت بجا لاتے ہو تو تم جانو اور تمہارا کام۔ مجھے تو بہرحال اسی کا حکم ملا ہے کہ میں سب سے پہلا اسلام لانے والا بنوں اور اسی وحدہ لاشریک کے آگے جھکوں جو کہ معبود برحق اور ہر قسم کی عبادت کا حقدار ہے۔ اور اس کی خدائی میں کوئی بھی اس کا شریک نہیں۔ ہر قسم کی عبادت اسی وحدہ لا شریک کا حق ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ - 25 شرک کی سنگینی کا ایک مظہر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ مجھے تو قطعی طور پر اسی کا حکم دیا گیا ہے کہ میں اس کا سب سے پہلا فرمانبردار بن جاؤں اور یہ کہ تم ہرگز کبھی مشرکوں میں سے نہیں ہوجانا۔ سو اس سے شرک کی سنگینی کا اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ اس سے امام الموحدین حضرت خاتم الانبیاء ۔ ﷺ ۔ کو اس تاکیدی صیغے کے ساتھ اس سے منع فرمایا جا رہا ہے۔ اور وہ بھی دوہرے اسلوب اور ڈبل انداز میں۔ کیونکہ پہلے " اسلام وجہ " یعنی اللہ کے لئے اپنی حوالگی اور سپردگی کا جو حکم فرمایا گیا ہے اس میں شرک سے نہی کا حکم ضمنًا اور لزوماً آگیا ہے۔ کیونکہ مشہور قاعدے کے مطابق کسی چیز کا حکم اس کی ضد کی نہی کو مستلزم ہوتا ہے اور پھر ۔ { وَلَا تَکُوْنَنَّ مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ } ۔ سے تصریح و تاکید کے ساتھ شرک سے منع فرمایا گیا۔ (تفسیر التحریرو التنویر للعلامہ ابن عاشور) ۔ اللہ تعالیٰ شرک کے ہر شائبہ سے محفوظ رکھے ۔ آمین ۔ اَللّٰہُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُ بِکَ مِِنْ اََنْ اُشْرِکَ بِکَ شََیْئًا اََعْلَمُہٗ وَاَسْتَغْفِرُکَ لِمَا لَا اَعْلَمُہٗ ۔ پس شرک بڑا ہی سنگین جرم اور ظلم عظیم ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ مجھے یہی حکم ملا ہے کہ تم کسی بھی طرح مشرکوں میں سے نہیں ہوجانا کہ توحید کے ساتھ شرک کا کسی طرح کا کوئی جوڑ ممکن ہی نہیں۔
Ayah 6:17

وَ اِنْ یَّمْسَسْكَ اللّٰهُ بِضُرٍّ فَلَا كَاشِفَ لَهٗۤ اِلَّا هُوَ١ؕ وَ اِنْ یَّمْسَسْكَ بِخَیْرٍ فَهُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 6:17 in the Quran reader

اور اگر اللہ تمہیں کسی قسم کی کوئی تکلیف پہنچائے تو اس کے سوا کوئی نہیں جو اس کو دور کرسکے اور اگر وہ تمہیں کسی بھلائی سے بہرہ مند کرے تو کوئی اسے روکنے والا نہیں، کہ وہ ہر چیز پر پوری قدرت رکھتا ہے،3

26 اللہ تعالیٰ کے کمال قدرت کا حوالہ و ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ ہر چیز پر پوری قدرت رکھتا ہے۔ پس وہ جو چاہے اور جب چاہے کرے۔ اور جہاں اور جیسے چاہے کرے۔ نہ کوئی اس کو روکنے والا نہ پوچھنے والا کہ اس کی شان ہے ۔ { لا یُسْْأَلُ عَمَّا یَفْعَلُ وَہُمْ یُسْْئَلُوْنَ } مگر اس کا ہر کام کمال علم وحکمت پر مبنی ہوتا ہے کہ وہ قاہر ہونے کے ساتھ ساتھ حکیم اور خبیر بھی ہے ۔ سبحانہ وتعالی ۔ پس مومن صادق کو چاہیئے کہ وہ ہمیشہ اپنا تکیہ اور بھروسہ اسی وحدہ لاشریک پر رکھے کہ سب کچھ اسی کے قبضہ قدرت و اختیار میں ہے۔ ہر چیز اسی سے مانگے اور ہر حال میں اسی سے مانگے کہ وہ جو دینا چاہے کوئی اس کو اس سے روک نہیں سکتا۔ اور جس کو وہ روک دے اس کو کوئی دلا نہیں سکتا ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ بہرکیف اس ارشاد ربانی سے پوری طرح واضح فرما دیا گیا کہ نفع و نقصان اور فائدہ و ضرر دونوں اسی وحدہٗ لاشریک کے قبضہ قدرت و اختیار میں ہیں۔ اس لئے بندے کو ہر حال میں اور ہر موقع و مقام پر اس کے آگے جھکنا اور اسی کے حضور دست دعا وسوال دراز کرنا چاہئے ۔ وَبِاللّٰہِ التَّوْفِیْق لِمَا یُحِبُّ وَیُرِیْدُ ۔ سبحانہ و تعالیٰ -
Ayah 6:18

وَ هُوَ الْقَاهِرُ فَوْقَ عِبَادِهٖ١ؕ وَ هُوَ الْحَكِیْمُ الْخَبِیْرُ Open ayah 6:18 in the Quran reader

اور وہی (وحدہ لاشریک) ہے غالب (اور کنٹرول رکھنے والا) اپنے بندوں پر، اور وہی ہے حکمتوں والا، پورا باخبر،

27 " القاہر " سے مقصود و مراد ؟ : یعنی قہر سے یہاں پر ظلم و زیادتی والا قہر مراد نہیں، جیسا کہ ہمارے محاورے میں بولا اور سمجھا جاتا ہے کہ اس طرح کے ہر قہر اور ظلم و زیادتی کے ہر شائبہ سے وہ ربِّ غفور و رحیم پاک اور بلند وبالا ہے۔ بلکہ قہر سے یہاں پر مراد ہے غلبہ و کنٹرول کہ وہ اپنے بندوں پر پوری طرح غالب اور حاوی اور ان پر کنٹرول رکھنے والا ہے۔ وہ ان کی جملہ حوائج و ضروریات کا کفیل اور قیوم ہے۔ اور اس کا غلبہ و کنٹرول اپنے سب بندوں اور تمام مخلوق پر ہے اور پوری طرح ہے۔ نہ کوئی اس کے غلبہ و کنٹرول سے نکل سکتا ہے اور نہ کوئی اس کے کسی حکم و ارشاد کو ٹال سکتا ہے اور نہ ہی کسی میں اس کی مشبت ومرضی میں آڑے آنے اور رکاوٹ بننے کا یارا ہوسکتا ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ پس بندے کو چاہیے کہ وہ ہمیشہ اور ہر حال میں اسی کو پکارے اور اس کی قوت وقدرت میں کسی کو بھی کسی بھی طرح اور کسی بھی درجے میں شریک وسہیم نہ جانے کہ سب کچھ اسی کے قبضہ قدرت واختیار میں اور اسی کی مشیت وقدرت کے تابع اور اسی کے حکم وارشاد کے ماتحت ہے ۔ وَبِاللّٰہِ التَّوْفِیْقُ لِمَا یُحِبُّ وَیُرِیْد -
Ayah 6:19

قُلْ اَیُّ شَیْءٍ اَكْبَرُ شَهَادَةً١ؕ قُلِ اللّٰهُ١ۙ۫ شَهِیْدٌۢ بَیْنِیْ وَ بَیْنَكُمْ١۫ وَ اُوْحِیَ اِلَیَّ هٰذَا الْقُرْاٰنُ لِاُنْذِرَكُمْ بِهٖ وَ مَنْۢ بَلَغَ١ؕ اَئِنَّكُمْ لَتَشْهَدُوْنَ اَنَّ مَعَ اللّٰهِ اٰلِهَةً اُخْرٰى١ؕ قُلْ لَّاۤ اَشْهَدُ١ۚ قُلْ اِنَّمَا هُوَ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ وَّ اِنَّنِیْ بَرِیْٓءٌ مِّمَّا تُشْرِكُوْنَۘ Open ayah 6:19 in the Quran reader

(ان سے) پوچھو کہ کس کی گواہی سب سے بڑھ کر ہے، کہو اللہ ہی (سب سے بڑا اور سب سے سچا گواہ ہے، میرے اور تمہارے درمیان، اور وحی کے ذریعے بھیجا گیا میری طرف یہ قرآن تاکہ اس کے ذریعے میں خبردار کروں تم لوگوں کو بھی اور ہر اس شخص کو بھی جس کو یہ پہنچے، کیا (اس کے بعد بھی) تم لوگ واقعی یہ شہادت دے سکتے ہو کہ اللہ کے ساتھ کچھ اور معبود بھی ہیں، کہو میں تو بہر حال یہ گواہی نہیں دے سکتا، کہو کہ بیشک معبود تو بس وہی ایک (اللہ) ہے، اور میں قطعی بیزار ہوں ان سے جنہیں تم لوگ شریک ٹھہراتے ہو4

28 اللہ کی گواہی پیغمبر کی حقانیت کیلئے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان سے پوچھو کہ کس کی گواہی سب سے بڑھ کر ہے۔ کہو کہ اللہ ہی سب سے بڑا اور سچا گواہ ہے میرے اور تمہارے درمیان۔ اور اس نے میری صداقت و حقانیت کی گواہی دے دی اور کئی طرح سے دے دی ہے۔ جن میں سب سے بڑی گواہی قرآن حکیم کا یہ معجزہ کبریٰ ہے جو اس نے مجھ پر نازل فرمایا۔ اور جس کے مقابلے سے دنیا ساری عاجز ہے۔ اس کے علاوہ دوسرے مختلف معجزات کے ذریعے بھی اس نے میری صداقت و حقانیت کی گواہی دی ہے اور گزشتہ انبیاء و رسل اور ان کی کتابوں کے ذریعے بھی۔ (المراغی وغیرہ) ۔ سو اس وحدہٗ لاشریک نے میری صداقت و حقانیت کے بارے میں قولی اور فعلی ہر اعتبار سے ایسی قطعی اور واضح گواہی دے دی ہے کہ میرے اور تمہارے درمیان اس بارے کسی نزاع اور جھگڑے کی اب کوئی گنجائش باقی نہیں رہ گئی۔ (محاسن التاویل وغیرہ) ۔ 29 باطل اور اہل باطل سے اظہار بیزاری کی تعلیم و تلقین : سو ارشاد ہوا کہ کہو کہ معبود برحق بہرحال وہی ایک ہے اور میں قطعی طور پر بری اور بیزار ہوں ان سب سے جن کو تم لوگ اس [ وحدہ لا شریک ] کا شریک ٹھہراتے ہو۔ معلوم ہوا کہ ایمان کے لئے توحید و رسالت کے اقرار کے ساتھ ساتھ اہل باطل سے اعلان براءت و بیزاری بھی ضروری ہے نہ کہ تقیہ بازوں کی طرح ظاہر کچھ رکھے اور باطن کچھ اور کہ یہ منافقت ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو مومن صادق کا کام اور اس کی شان یہ ہے کہ وہ کفر و باطل کی دوسری تمام شکلوں اور صورتوں سے اپنی براءت و بیزاری اور علیحدگی و لاتعلقی کا اظہار و اعلان کرے کہ راہ حق و صواب صرف ایمان و یقین اور توحید ربانی کی راہ ہے۔ راہ صدق و صواب سے جو لوگ ہٹے اور کٹے ہوئے ہیں وہ بہرحال ہلاکت و تباہی کی راہ پر ہیں اور نور ایمان و یقین کا کفر و شرک سے کسی طرح کا کوئی رشتہ اور لگاؤ ممکن نہیں۔ سو تم لوگ اگر نہیں مانتے تو میں تم سے قطعی طور پر بری اور بیزار ہوں۔ تم لوگوں سے بھی اور تمہارے ان خود ساختہ معبودوں اور شریکوں سے بھی۔
Ayah 6:20

اَلَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ یَعْرِفُوْنَهٗ كَمَا یَعْرِفُوْنَ اَبْنَآءَهُمْ١ۘ اَلَّذِیْنَ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ فَهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ۠ Open ayah 6:20 in the Quran reader

جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی وہ ایسا پہچانتے ہیں اس پیغمبر) کو، جیسا کہ وہ پہچانتے ہیں اپنے بیٹوں کو، مگر جن لوگوں نے خسارے میں ڈال رکھا ہے اپنے آپ کو، وہ پھر بھی ایمان نہیں لاتے5

30 عناد و ہٹ دھرمی باعث ہلاکت و محرومی ۔ والعیاذ باللہ : سو اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ اہل کتاب حضرت خاتمی مرتبت نبی اکرم ﷺ کو ایسا پہچانتے ہیں جیسا کہ یہ اپنے بیٹوں کو پہنچانتے ہیں۔ سو جس طرح کسی کو اپنے بیٹے کو پہچاننے میں کوئی دقت اور دشواری نہیں ہوتی اسی طرح ان لوگوں کو بھی اس بات میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ آپ وہی نبی برحق ہیں جن سے متعلق پیشگوئیاں ان کی کتابوں میں موجود ہیں آپ ﷺ کی صفات کی بنا پر۔ اور آپ ﷺ سے متعلق ان بشارات سے جو کہ ان کی آسمانی کتابوں میں موجود تھیں اور ہیں۔ مگر ضد اور ہٹ دھرمی کی بنا پر یہ لوگ ایمان سے محروم ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو عناد و ہٹ دھرمی انسان کو نور ایمان و یقین اور دولت حق و ہدایت سے محروم کردیتی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ " یَعْرِفُوْنَہٗ " کی اس ضمیر منصوب کا مرجع قرآن بھی ہوسکتا ہے اور پیغمبر بھی۔ لیکن باعتبار مدعا و مفہوم ان دونوں میں کوئی خاص فرق نہیں کہ قرآن اور پیغمبر دونوں باہم لازم و ملزوم ہیں۔ اور ایسے لازم و ملزوم کہ قرآن حکیم میں دوسرے مقام پر یہ باہم بدل واقع ہوئے ہیں۔ سو ان میں سے ایک کا ماننا لازماً دوسرے کا ماننا اور ایک کا انکار ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ دوسرے کا انکار ہے۔ 31 اتباع ھویٰ تمام شر و فساد کی جڑ بنیاد ۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جن لوگوں نے اپنے آپ کو خسارے میں ڈال رکھا ہے وہ پھر بھی ایمان نہیں لاتے۔ سو اس قدر یقینی طور پر جاننے کے باوجود یہ لوگ ایمان نہیں لاتے محض حسد اور بغض وعناد کی وجہ سے اور اپنے دنیاوی مفادات کی بنا پر۔ اور اس طرح یہ لوگ اپنی ہی ہلاکت و تباہی کا سامان کرتے ہیں کہ ایمان سے محرومی دراصل ہر خیر سے محرومی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اور بغض و حسد اور دنیوی مفادات کی ترجیح و پاسداری کے ان تمام امراض و مفاسد کا منبع ومصدر خواہشات نفس کی پیروی ہے۔ سو اتباع ھویٰ یعنی ہویٰ و ہوس کی پیروی اور خواہشات نفس کی ترجیح و پاسداری خرابیوں کی خرابی اور تمام شر و فساد کی جڑ بنیاد اور محرومیوں کی محرومی ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ اس کے برعکس اتباع ھدیٰ دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفرازی کا ذریعہ و وسیلہ ہے ۔ وَبِاللّٰہِ التَّوْفِیْق ۔ بہرکیف اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ اس پیغمبر اور اس کے لائے ہوئے دین حق کی صداقت و حقانیت ان لوگوں سے کوئی مخفی چیز نہیں۔ اور ان میں سے جو صالح اہل کتاب ہیں وہ ایمان لانے کے شرف سے مشرف ہوتے ہیں مگر جو ہٹ دھرمی کے مارے ہوئے ہیں اور حسد وجلن کا شکار ہیں اور انہوں نے اپنے آپ کو خود خسارے میں ڈال دیا وہ پھر بھی ایمان نہیں لائے ۔ والعیاذ باللہ -
Ayah 6:21

وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اَوْ كَذَّبَ بِاٰیٰتِهٖ١ؕ اِنَّهٗ لَا یُفْلِحُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 6:21 in the Quran reader

اور اس سے بڑھ کر ظالم اور کون ہوسکتا ہے جو جھوٹا بہتان باندھے اللہ پر، یا جھٹلائے اس کی آیتوں کو، بیشک کبھی فلاح نہیں پاسکتے ایسے ظالم1

32 اللہ پر افترا باندھنا سب سے بڑا ظلم ۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس سے بڑھ کر ظالم اور کون ہوسکتا ہے جو جھوٹا بہتان باندھے اللہ پر۔ جیسا کہ یہود و نصاریٰ جو اپنے آپ کو خدا کے بیٹے اور پیارے بتاتے تھے اور حضرت عزیر اور حضرت عیسیٰ کو یہ لوگ خدا کے بیٹے مانتے تھے۔ اور جیسا کہ مشرکین عرب فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں قرار دیتے تھے۔ جیسا کہ ارشاد فرمایا گیا ۔ { وَجَعَلُوْا لِلّٰہِ شُرَکَائَ الجنَّ } ۔ (الانعام : 101) نیز فرمایا گیا ۔ { وَیَجْعَلُُوْنَ لِلّٰہِ الْبَنَاتِ سُبْحَانَہٗ } ۔ (النحل : 57) ۔ نیز جیسا کہ بےحیائی کا ارتکاب کرنے والوں کا کہنا تھا کہ اس بےحیائی کے ارتکاب کا حکم ہمیں اللہ نے دیا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ جیسا کہ فرمایا گیا ۔ { قَالُوْا وَجَدْنَا عَلَیْہَا اٰبَائَ نَا وَاللّٰہُ اَمَرَنَا بِہَا } ۔ (الاعراف : 28) اور جیسا کہ آج کا کلمہ گو مشرک حضرت علی ۔ ؓ ۔ اور حضرت شیخ جیلانی ۔ (رح) ۔ وغیرہ وغیرہ جیسی پاکیزہ ہستیوں کو حاجت روا، مشکل کشا، فریاد رس اور دستگیر وغیرہ قراردیکر ان کو خدا کی خدائی میں شریک مانتا ہے۔ یہاں تک کہ ان کو محیی و ممیت مانتا ہے۔ یا جس طرح قادیانی دجّال نے اپنی جھوٹی نبوت کا دعوی کیا یا جیسے آج کل کے جعلی پیر سادہ لوح لوگوں سے ازخود اپنی بناوٹ سے کہتے ہیں کہ مجھے خدا تعالیٰ نے یوں حکم دیا ہے یا خواب میں یوں فرمایا ہے وغیرہ۔ سو یہ سب ہی صورتیں اللہ پر افترا اور جھوٹ باندھنے کی ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ استفہام یہاں پر انکاری ہے یعنی ایسے لوگوں سے بڑھ کر ظالم اور کوئی نہیں ہوسکتا۔ سو اللہ پر افترا اور جھوٹ باندھنا سب سے بڑا ظلم اور ہولناک سنگین جرم ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی رضا کی راہوں پر چلنا نصیب فرمائے ۔ آمین ثم آمین۔ 33{ آیات اللہ } کا عموم اور ان کا مفہوم ؟: ۔ سو ارشاد فرمایا گیا یا جو جھٹلائے اس کی آیتوں کو یعنی اس سے بڑھ کر ظالم اور کون ہوسکتا ہے۔ سو " آیات اللہ " یعنی اللہ کی آیتوں کی تکذیب بھی سب سے بڑا ظلم ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ " آیات اللہ " سے مراد عام ہے۔ اس سے کہ وہ قرآنی آیتیں ہوں یا ان قطعی معجزات کی شکل میں جو اللہ پاک نے اپنے پیغمبر کے ہاتھ پر ان کی صداقت و حقانیت کے اظہار کیلئے ظاہر فرمائے ہیں۔ یا وہ آیات کونیہ جو اس کی وحدانیت ویکتائی پر دلالت کرتی ہیں۔ یا وہ آیات جنکے ذریعے وہ وحدہ لاشریک اپنے رسولوں کی تائید کا سامان کرتا ہے کہ لفظ آیت اپنے عموم وشمول کے ساتھ ان سب کو شامل اور عام ہے۔ سو اللہ کی آیات کو ماننے اور ان کے مطابق دین حق پر ایمان لانے کی بجائے ان کی تکذیب کرنا اور اللہ تعالیٰ کی خدائی اس کی صفات اور اس کے حقوق و اختیارات میں دوسرے خود ساختہ معبودوں اور من گھڑت و بناوٹی خداؤں کو شریک وسہیم قرار دینا اور اللہ کو چھوڑ کر ان کو اسی حاجت روائی اور مشکل کشائی کے لئے پکارنا بہت بڑا ظلم ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ تعالیٰ ہر شائبہ ظلم سے ہمیشہ محفوظ رکھے ۔ آمین۔
Ayahs 6:22–23

وَ یَوْمَ نَحْشُرُهُمْ جَمِیْعًا ثُمَّ نَقُوْلُ لِلَّذِیْنَ اَشْرَكُوْۤا اَیْنَ شُرَكَآؤُكُمُ الَّذِیْنَ كُنْتُمْ تَزْعُمُوْنَ Open ayah 6:22 in the Quran reader

اور جس دن اکٹھا کر لائیں گے ہم ان سب کو، پھر مشرکوں سے ہم (ان تذلیل و توبیخ کے لئے) کہیں گے کہ کہاں ہیں تمہارے ٹھہرائے ہوئے شریک جن کا تمہیں بڑا دعویٰ (او گھمنڈ) تھا ؟2

ثُمَّ لَمْ تَكُنْ فِتْنَتُهُمْ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوْا وَ اللّٰهِ رَبِّنَا مَا كُنَّا مُشْرِكِیْنَ Open ayah 6:23 in the Quran reader

پھر ان کا کوئی (عذر اور) بہانہ نہ ہوگا سوائے اس کے کہ وہ کہیں گے کہ ہمیں قسم ہے اللہ کی، جو کہ رب ہے ہمارا کہ ہم مشرک نہیں تھے

34 میدان حشر میں مشرکین سے سوال ان کی تذلیل و تحقیر کیلئے : سو میدان حشر میں مشرکوں سے پوچھا جائیگا کہ کہاں ہیں تمہارے وہ شریک جن کے بارے میں تمہارا کہنا اور ماننا تھا کہ وہ ہمیں برے وقت میں کام آئیں گے۔ اور عذاب و مصائب سے چھڑالیں گے کہ ہم نے ان کا لڑ پکڑ رکھا ہے وغیرہ ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو وہ آج کہاں گئے۔ انکو بلاؤ تو سہی تاکہ اس سب سے بڑے مشکل و قت میں وہ تمہارے کچھ کام آسکیں۔ سو یہ سب کچھ فرمانا ان لوگوں کی تقبیح و تذلیل کے لئے ہوگا۔ اور قیامت کے اس ہولناک دن میں پیش آنے والے ان ہولناک وقائع کو قرآن ِ حکیم نے اس دنیا میں اور اس صراحت و وضاحت سے بیان فرما دیا تاکہ دنیا ہو ش کے ناخن لے اور اس ہولناک انجام سے بچنے کی فکر و کوشش کرسکے قبل اس سے کہ حیات دنیا کی یہ فرصت محدود ان کے ہاتھ سے نکل جائے۔ سو یہ قرآن حکیم کا پوری دنیا و انسانیت پر ایک عظیم الشان احسان ہے کہ اس نے ان غیبی حقائق سے اس طرح آگاہ کیا۔ ورنہ اس کتاب حکیم کے سوا ان اہم اور جلیل القدر حقائق کو جاننے کا اور کوئی ذریعہ ممکن ہی نہیں۔ مگر دنیا ہے کہ اس سب کے باوجود غفلت و لاپرواہی میں پڑی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 6:24

اُنْظُرْ كَیْفَ كَذَبُوْا عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ وَ ضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ Open ayah 6:24 in the Quran reader

دیکو تو سہی کہ (اس وقت) وہ کیسا صاف جھوٹ بولیں گے خود اپنے خلاف ؟ اور گم ہوجائیں گے ان کے وہ سب معبود جن کو وہ جھوٹ موٹ گھڑا کرتے تھے3

35 میدان حشر میں مشرکین کی خود اپنی تکذیب : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس روز مشرک اس سوال کے جواب میں کہیں گے کہ قسم ہے اللہ کی جو کہ ہمارا رب ہے ہم مشرک تھے ہی نہیں۔ سو اس روز گم ہوجائیں گے ان کے وہ خدا یعنی جن کو وہ جھوٹ موٹ کے طرح طرح کے ناموں سے گھڑا کرتے تھے اور ان کو وہ حاجت روا و مشکل کشا سمجھا کرتے تھے۔ سو وہ ان سے کھو جائیں گے اور اس آڑے وقت میں وہ ان کے کچھ بھی کام نہ آسکیں گے۔ اور مشرکین اس روز اس قدر سختی سے اپنے اس شرک کا انکار کریں گے اور سب کے سامنے خود اپنی تکذیب کریں گے۔ سو یہ قرآن حکیم کا کس قدر احسان ہے پوری دنیائے انسانیت پر کہ اس نے ان غیبی حقائق کو اس قدر صراحت کے ساتھ اس طرح بیان فرما دیا تاکہ جس نے بچنا ہو وہ بچ جائے۔ بہرکیف اس روز جب اصل حقیقت پوری طرح واضح ہو جائیگی اور ان کی موہوم و مکذوب اور خود ساختہ آرزؤوں کا پردہ چاک ہوجائیگا اور ان کو معلوم ہوجائیگا کہ جن بےبنیادی سہاروں پر وہ جی رہے تھے وہ سب فریب محض تھے تو اس وقت یہ لوگ اصل حقیقت کا اقرار و اعتراف کریں گے۔ مگر بےوقت کے اس اقرار و اعتراف کا ان کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا بجز ان کی اپنی آتش یاس و حسرت میں اضافے کے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف اس وقت حقائق اپنی اصل شکل میں ان کے سامنے آجائیں گے۔