6. Surah Al-An'aam

الأنعامThe Cattle · 165 ayahsانوار البیان

Ayah 6:1

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ جَعَلَ الظُّلُمٰتِ وَ النُّوْرَ١ؕ۬ ثُمَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِرَبِّهِمْ یَعْدِلُوْنَ Open ayah 6:1 in the Quran reader

ہر طرح کی تعریف خدا ہی کو سزا وار ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور اندھیرا اور روشنی بنائی۔ پھر بھی کافر (اور چیزوں کو) خدا کے برابر ٹھہراتے ہیں۔

(6:1) ثم حرف عطف ہے۔ لیکن کوئی دوسرا حرف عطف اس کے قائمقام نہیں ہوسکتا کیونکہ یہ معنی عطف پر دلالت کے ساتھ ساتھ کفار کی نادانی اور ان کے عقیدہ کی قبحت کو بھی عیال کر رہا ہے ثم دالۃ علی قبح فعل الکافرین (قرطبی) ۔ یعدلون۔ مضارع جمع مذکر غائب عدل مصدر۔ (باب ضرب) ۔ یعنی وہ الوہیت میں اپنے معبودان باطل کو خدا تعالیٰ کا ہمسر اور اس کے برابر بنائے ہوئے ہیں ۔ (وہ عدل و انصاف کرتے ہیں یہاں یہ معنی مراد نہیں) یہاں بربھم یعدلون کو وہم بہ مشرکون (16:100) کے ہم معنی لیا گیا ہے۔ بعض نے اس کو عدول سے مشتق لیا ہے اور بدبھم میں ب بمعنی عن مراد لیا ہے یعنی عن ہم قوم یعدلون (27:60) بلکہ یہ لوگ راستہ سے الگ ہو رہے ہیں۔
Ayahs 6:2–3

هُوَ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ مِّنْ طِیْنٍ ثُمَّ قَضٰۤى اَجَلًا١ؕ وَ اَجَلٌ مُّسَمًّى عِنْدَهٗ ثُمَّ اَنْتُمْ تَمْتَرُوْنَ Open ayah 6:2 in the Quran reader

وہی تو ہے جس نے تم کو مٹی سے پیدا کیا پھر (مرنے کا) ایک وقت مقرر کردیا۔ اور ایک مدت اسکے ہاں اور مقرر ہے پھر بھی تم (اے کافرو خدا کے بارے میں) شک کرتے ہو۔

وَ هُوَ اللّٰهُ فِی السَّمٰوٰتِ وَ فِی الْاَرْضِ١ؕ یَعْلَمُ سِرَّكُمْ وَ جَهْرَكُمْ وَ یَعْلَمُ مَا تَكْسِبُوْنَ Open ayah 6:3 in the Quran reader

اور آسمان اور زمین میں وہی ایک خدا ہے۔ تمہاری پوشیدہ اور ظاہر سب باتین جانتا ہے اور تم جو عمل کرتے ہو سب سے واقف ہے۔

(6:2) قصی۔ مقرر کردیا۔ ماضی واحد مذکر غائب قضاء مصدر۔ قضاء میں فیصلہ کردینا یا کرلینا۔ کسی بات کے متعلق آخری ارادہ یا حکم یا عمل کو ختم کردینا کا مفہوم ضرور موجود ہوتا ہے۔ سیاق کی مناسبت سے مختلف معانی مراد ہوتے ہیں۔ بنانا۔ پورا کرنا۔ عزم کرنا۔ فیصلہ کرنا۔ حکم جاری کرنا۔ حکم دینا۔ مقدر کرنا۔ قطعی وحی بھیج کر اطلاع دینا۔ مقرر کرنا۔ حاجت پوری کرکے قطع تعلق کرلینا۔ فارغ ہونا۔ مرجانا۔ مار ڈالنا۔ ان سے معانی کے لئے قضاء کا استعمال قرآن مجید میں ہوا ہے اور اس آیۃ میں مراد ” مقرر کی “ ہے۔ اجلا۔ میعاد قضی اجلا۔ یعنی اس نے موت کے وقت کا فیصلہ کر چھوڑا ہے۔ اجلا مفعول ہے قضی کا۔ واجل مسمی عندہ۔ اجل۔ ایک دوسری مدت۔ مسمی۔ طے شدہ۔ نامزدہ۔ مقرر کردہ شدہ۔ اور اول الذکر میعاد کے علاوہ جو زندگی اور موت کے متعلق ہے ایک دوسری مدت بھی اسکے ہاں طے شدہ ہے یعنی اس کا وقت بھی متعین ہے جو صرف اس کے علم میں ہے۔ ثم۔ بعینہ وہی مفہوم ادا کرتا ہے جس کے لئے یہ لفظ پہلی آیت میں استعمال ہوا ہے۔ تمترون۔ تم شک کرتے ہو۔ تم تردد کرتے ہو۔ امتراء (افتعال) سے مضارع کا صیغہ جمع مذکر حاضر۔ امتراء کے معنی ہیں کسی ایسی چیز کی بابت حجت کرنا اور جھگڑنا کہ جس میں شک و شبہ یا تردد ہو۔
Ayah 6:4

وَ مَا تَاْتِیْهِمْ مِّنْ اٰیَةٍ مِّنْ اٰیٰتِ رَبِّهِمْ اِلَّا كَانُوْا عَنْهَا مُعْرِضِیْنَ Open ayah 6:4 in the Quran reader

اور خدا کی نشانیوں میں سے کوئی نشانی ان لوگوں کے پاس نہیں آتی مگر یہ اس سے منہ پھیر لیتے ہیں۔

(6:4) معرضین۔ اعراض کرنے والے۔ منہ موڑنے والے۔ اجتناب کرنے والے۔ اعراض (افعال) سے۔ اسم فاعل جمع مذکر منصوب۔ کذبوا بالحق۔ انہوں نے حق کو جھٹلایا۔ الحق مفعول یہ ہے کذبوا کا۔
Ayah 6:5

فَقَدْ كَذَّبُوْا بِالْحَقِّ لَمَّا جَآءَهُمْ١ؕ فَسَوْفَ یَاْتِیْهِمْ اَنْۢبٰٓؤُا مَا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ Open ayah 6:5 in the Quran reader

جب ان کے پاس حق آیا تو اس کو بھی جھٹلا دیا۔ سو ان کو ان چیزوں کا جن کا یہ استہزاء کرتے ہیں عنقریب انجام معلوم ہوجائے گا۔

ابنائ۔ النبؤ۔ خبریں۔ حقیقتیں۔ بنأ۔ کی جمع ۔ جس سے بڑا فائدہ اور یقین یا ظن غالب حاصل ہو۔ اسے بناء کہا جاتا ہے۔ جس خبر میں یہ باتیں موجود نہ ہوں اس کو بنا نہیں بولتے ۔ کیونکہ اس وقت تک کوئی خبر بنا کہلانے کی مستحق نہیں ہوتی جب تک کہ وہ شائبہ کذب سے پاک نہ ہو۔ جیسے وہ خبر جو بطریق تواتر ثابت ہو یا جس کو اللہ و رسول نے بیان کیا ہو۔
Ayah 6:6

اَلَمْ یَرَوْا كَمْ اَهْلَكْنَا مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنْ قَرْنٍ مَّكَّنّٰهُمْ فِی الْاَرْضِ مَا لَمْ نُمَكِّنْ لَّكُمْ وَ اَرْسَلْنَا السَّمَآءَ عَلَیْهِمْ مِّدْرَارًا١۪ وَّ جَعَلْنَا الْاَنْهٰرَ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهِمْ فَاَهْلَكْنٰهُمْ بِذُنُوْبِهِمْ وَ اَنْشَاْنَا مِنْۢ بَعْدِهِمْ قَرْنًا اٰخَرِیْنَ Open ayah 6:6 in the Quran reader

کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ ہم نے ان سے پہلے کتنی امتوں کو ہلاک کردیا جن کے پاؤں ملک میں ایسے جما دیئے تھے کہ تمہارے پاؤں بھی ایسے نہیں جمائے۔ اور ان پر آسمان سے لگاتار مینہ برسایا اور نہریں بنادیں جو ان کے (مکانوں کے) نیچے بہ رہی تھیں۔ پھر انکو انکے گناہوں کے سبب ہلاک کردیا اور ان کے بعد اور امتیں پیدا کردیں

(6:6) قرن۔ سینگ۔ عورت کے گیسو۔۔ بالوں کا بٹا ہوا حصہ (پٹی) زمانہ۔ ایک زمانہ کے لوگ۔ قرن الشمس۔ سورج کا کنارہ۔ عمر۔ سن۔ ھو علی قرنی۔ وہ میرا ہمعمر ہے۔ 10 ۔ 20 ۔ 30 ۔ 40 ۔ 50 ۔ 60 ۔ 70 ۔ 80 ۔ 90 ۔ 100 ۔ 120 سال کو بھی قرن کہتے ہیں۔ قرن کی جمع قرون ہے۔ یہاں مراد وہ قوم جو کسی ایک زمانہ میں ہو۔ مکنھم۔ ہم نے ان کو با قتدار بنایا۔ ہم نے ان کو جماؤ عطا کیا۔ تمکین تفعیل سے ماضی جمع متکلم ۔ مکن یمکن (باب کرم) حاکم کے پاس مرتبہ حاصل کیا۔ امکن ۔ یمکن (افعال) ب اقتدار ہونا۔ قابو پانا۔ کسی جگہ پر قدرت حاصل کرنا۔ باب کرم۔ افعال سے فعل لازم آئے گا اور تفعیل سے متعدی۔ السمائ۔ ای المطر۔ یعنی بارش ۔ کیونکہ یہ اوپر سے آتی ہے۔ مدرارا۔ در اور درۃ سے بہت برسنے والا۔ لگاتار برسنے والا۔ (صیغہ مبالغہ) ۔ سمائ۔ مدرار۔ لگاتار اور بکثرت برسنے والا مینہ۔ قرآن مجید میں دوسری جگہ آیا ہے یرسل السماء علیکم مدرار (71:11) وہ تم پر لگاتار مینہ برسائے گا۔ من تحتھم۔ من تحت اشجارھم۔ من بساتینھم۔ ان کے باغوں میں ۔ انشانا۔ ہم نے پیدا کیا۔ انشاء سے ماضی کا صیغہ جمع متکلم۔
Ayah 6:7

وَ لَوْ نَزَّلْنَا عَلَیْكَ كِتٰبًا فِیْ قِرْطَاسٍ فَلَمَسُوْهُ بِاَیْدِیْهِمْ لَقَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا سِحْرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 6:7 in the Quran reader

اور اگر ہم تم پر کاغذوں پر لکھی ہوئی کتاب نازل کرتے اور یہ اسے اپنے ہاتھوں سے بھی ٹٹول لیتے تو جو کافر ہیں یہی کہہ دیتے کہ یہ تو (صاف اور) صریح جادو ہے۔

(6:7) فی قرطاس۔ کاغذ پر لکھی ہوئی صحیفہ کی صورت میں ۔ قرطاس کی جمع قراطیس۔
Ayah 6:8

وَ قَالُوْا لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْهِ مَلَكٌ١ؕ وَ لَوْ اَنْزَلْنَا مَلَكًا لَّقُضِیَ الْاَمْرُ ثُمَّ لَا یُنْظَرُوْنَ Open ayah 6:8 in the Quran reader

اور کہتے ہیں کہ ان (پیغمبر ﷺ پر فرشتہ کیوں نازل نہ ہوا (جو انکی تصدیق کرتا) اگر ہم فرشتہ نازل کرتے تو کام ہی فیصل ہوجاتا پھر انھیں (مطلق) مہلت نہ دی جاتی

(6:8) لقضی الامر۔ پھر تو فیصلہ ہی ہوگیا ہوتا۔ پھر تو سارا قصہ ہی ختم ہوگیا ہوتا۔ (ان کی) ہلاکت کا فیصلہ ہوگیا ہوتا۔ لاینظرون۔ مضارع منفی مجہول۔ جمع مذکر غائب۔ ان کو مہلت نہیں دی جائے گی۔ لو انزلنا سے لا ینظرون تک۔ اگر ہم فرشتہ اتارتے تو بات ختم ہی ہوگئی ہوتی۔ قصہ ہی ختم ہوگیا ہوتا۔ پھر ان کو مہلت نہ دی جاتی قضی الامر۔ کے مختلف معانی کے پیش نظر اس فقرے کے مختلف معانی مفسرین نے لئے ہیں۔ (1) اگر فرشتہ جناب رسول اللہ ﷺ کے ساتھ اتارا جاتا تو فرشتہ کو اس کی اصلی صورت میں دیکھ کر معترضین یا تو ہلاک ہوگئے ہوتے یا مخبوط الحواس ہوجاتے۔ لیکن ان دونوں صورتوں میں پھر ان کو مہلت دینے کی ضرورت ہی نہیں رہتی۔ (2) اگر حضور ﷺ کے ہمراہ فرشتہ ان کی تصدیق رسالت کے لئے یا لوگوں کو ڈرانے اور تبلیغ کے لئے اتارا جاتا تو پھر ان کے ایمان لانے یا نہ لانے کا سوال ہی پیدا نہ ہوتا اس صورت میں حقیقت آشکار ہوگئی ہوتی اور سوائے اس حقیقت کے اعتراف کرنے کے کوئی چارہ کار ہی نہ ہوتا۔ اور نہ ہی مزید مہلت کی ضرورت رہتی۔ پھر تو صرف حساب لینا ہی باقی رہے جاتا۔
Ayah 6:9

وَ لَوْ جَعَلْنٰهُ مَلَكًا لَّجَعَلْنٰهُ رَجُلًا وَّ لَلَبَسْنَا عَلَیْهِمْ مَّا یَلْبِسُوْنَ Open ayah 6:9 in the Quran reader

نیز اگر ہم کسی فرشتے کو بھیجتے تو اسے مرد کی صورت میں بھیجتے اور جو شبہہ (اب) کرتے ہیں اسی شبہ میں انہیں پھر ڈال دیتے۔

(6:9) لوجعلناہ۔ اگر ہم بناتے کسی فرشتہ کو نبی ہ ضمیر واحد مذکر نبی (محذوف) کے لئے ہے۔ لجعلناہ رجلا۔ تو ہم اس کو ضرور انسان کی شکل میں بناتے۔ اس میں ہ ضمیر ملکا کی طرف راجع ہے۔ انسانی شکل میں بنانے کی ضرورت اس واسطے کہ فرشتوں کی اصلی صورت غیر مرتی ہے جیسے مادی آنکھ نہیں دیکھ سکتی۔ للبسنا علیہم۔ لبس علیہ (ضرب) کسی پر معاملہ کو مشتبہ یا مخلوط کردینا۔ ہم ان کے لئے حقیقت کو مشکوک کردیتے۔ (یا خود ہی پھر بات مشکوک ہوجاتی کیونکہ جب فرشتہ انسان کی شکل میں آتا ایک مزید شک یہ پیدا ہوجاتا کہ یہ حقیقۃً فرشتہ ہے یا پھر انسان ہی ہے) مایلبسون۔ ای مایلبسون علی انفسھم۔ جس شک میں انہوں نے خود اپنے آپ کو ڈال رکھا ہے۔
Ayahs 6:10–11

وَ لَقَدِ اسْتُهْزِئَ بِرُسُلٍ مِّنْ قَبْلِكَ فَحَاقَ بِالَّذِیْنَ سَخِرُوْا مِنْهُمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ۠ Open ayah 6:10 in the Quran reader

اور تم سے پہلے بھی پیغمبروں کے ساتھ تمسخر ہوتے رہے ہیں۔ سو جو لوگ ان میں سے تمسخر کیا کرتے تھے ان کو تمسخر کی سزا نے آگھیرا۔

قُلْ سِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ ثُمَّ انْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُكَذِّبِیْنَ Open ayah 6:11 in the Quran reader

کہو کہ (اے منکرین رسالت) ملک میں چلو پھرو پھر دیکھو کہ جھٹلانے نے والوں کا کیا انجام ہوا۔

(6:10) استھزی۔ ب اس سے ٹھٹھا کیا گیا۔ (رسولوں کے ساتھ ٹھٹھا کیا گیا تھا اور ان کا مذاق اڑایا گیا تھا) ماضی مجہول کا صیغہ واحد مذکر غائب۔ حاق۔ حاق یحیق (ضرب) اس نے گھیر لیا۔ وہ الٹ پڑا۔ وہ نازل ہوا۔ حیق مادہ۔ سخروا ۔ سخر انہوں نے ٹھٹھا کیا۔ مذاق کیا۔ انہوں نے ہنسی کی۔ فحاق ۔۔ یستھزء ون۔ حاق فعل ما کانوا بہ یستھزء ون فاعل۔ الذین سخروا منہم۔ مفعول۔ جس حقیقت کا وہ مذاق اڑایا کرتے تھے اس نے ان مذاق اڑانے والوں کو (سزا دینے کے لئے آگھیرا ۔ نیز ملاحظہ ہو (21:41)
Ayah 6:12

قُلْ لِّمَنْ مَّا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ قُلْ لِّلّٰهِ١ؕ كَتَبَ عَلٰى نَفْسِهِ الرَّحْمَةَ١ؕ لَیَجْمَعَنَّكُمْ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ لَا رَیْبَ فِیْهِ١ؕ اَلَّذِیْنَ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ فَهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 6:12 in the Quran reader

( ان سے) پوچھو کہ آسمان اور زمین میں جو کچھ ہے کس کا ہے کہہ دو خدا کا۔ اس نے اپنی ذات (پاک) پر رحمت کو لازم کرلیا ہے۔ وہ تم سب کو قیامت کے دن جس میں کچھ بھی شک نہیں ضرور جمع کرے گا۔ جن لوگوں نے اپنے تئیں نقصان میں ڈال رکھا ہے وہ ایمان نہیں لاتے۔

(6:12) لمن۔ کس کا ہے۔ من استفہامیہ ہے۔ کتب علی نفسہ الرحمۃ۔ رحمت فرمانے کو اس نے اپنے اوپر لازم اور واجب کرلیا ہے۔ یہاں واجب سے مراد یہ ہے کہ اس نے رحمت کرنے کا وعدہ مؤکدہ کرلیا ہے۔
Ayah 6:13

وَ لَهٗ مَا سَكَنَ فِی الَّیْلِ وَ النَّهَارِ١ؕ وَ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 6:13 in the Quran reader

اور جو مخلوق رات اور دن میں بستی ہے سب اسی کی ہے اور وہ سنتا جانتا ہے۔

(6:13) سکن وہ ٹھہرا، وہ بسا، وہ رہا۔ اس نے آرام پکڑا۔ سکون جس میں حرکت کرنے کی صلاحیت ہو اس کے حرکت نہ کرنے کا نام ہے
Ayahs 6:14–15

قُلْ اَغَیْرَ اللّٰهِ اَتَّخِذُ وَلِیًّا فَاطِرِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ هُوَ یُطْعِمُ وَ لَا یُطْعَمُ١ؕ قُلْ اِنِّیْۤ اُمِرْتُ اَنْ اَكُوْنَ اَوَّلَ مَنْ اَسْلَمَ وَ لَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُشْرِكِیْنَ Open ayah 6:14 in the Quran reader

کہو کیا میں خدا کو چھوڑ کر کسی اور کو مددگار بناؤں کہ (وہی تو) آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا ہے اور وہی (سب کو) کھانا دیتا ہے اور خود کسی سے کھانا نہیں لیتا۔ (یہ بھی) کہہ دو کہ مجھے یہ حکم ہوا ہے کہ میں سب سے پہلے اسلام لانے والا ہوں اور یہ کہ تم (اے پیغمبر ﷺ مشرکوں میں نہ ہونا۔

قُلْ اِنِّیْۤ اَخَافُ اِنْ عَصَیْتُ رَبِّیْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ Open ayah 6:15 in the Quran reader

(یہ بھی) کہہ دو کہ اگر میں اپنے پروردگار کی نافرمانی کروں تو مجھے بڑے دن کا عذاب کا خوف ہے۔

(6:14) فاطر السموت والارض ۔ اللہ تعالیٰ کی صفت ہے۔ ولا تکونن۔ فعل نہی بانون ثقلیہ۔ تو ہرگز نہ ہو۔ لا تکونن سے قبل وقیل لی محذوف ہے۔ یعنی مجھ سے یہ بھی کہا گیا کہ تم شرک کرنے والوں میں سے ہرگز نہ بننا۔
Ayah 6:16

مَنْ یُّصْرَفْ عَنْهُ یَوْمَئِذٍ فَقَدْ رَحِمَهٗ١ؕ وَ ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْمُبِیْنُ Open ayah 6:16 in the Quran reader

جس شخص سے اس روز عذاب ٹال دیا گیا اس پر خدا نے (بڑی) مہربانی فرمائی اور یہ کھلی کامیابی ہے۔

(6:16) یصرف (ضرب) صرف۔ مصدر۔ مضارع مجہول مجزوم واحد مذکر غائب۔ صرف یصرف صرف۔ وہ ہٹا لیا جائے گا۔ وہ بچا لیا جائے گا۔ اس سے تال دیا جائیگا۔ عنہ میں ہ ضمیر واحد مذکر غائب۔ عذاب کی طرف راجع ہے۔ فقد رحمۃ۔ تو یقینا رحم فرمایا اللہ تعالیٰ نے اس پر ہ کی ضمیر من کی طرف راجع ہے۔
Ayah 6:17

وَ اِنْ یَّمْسَسْكَ اللّٰهُ بِضُرٍّ فَلَا كَاشِفَ لَهٗۤ اِلَّا هُوَ١ؕ وَ اِنْ یَّمْسَسْكَ بِخَیْرٍ فَهُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 6:17 in the Quran reader

اور اگر تم کو خدا کوئی سختی پہنچائے تو اس کے سوا اس کو کوئی دور کرنے والا نہیں اور اگر نعمت (وراحت) عطا کرے تو (کوئی اسکو روکنے والا نہیں) وہ ہر چیز پر قادر ہے۔

(6:17) یمسک۔ مضارع مجزوم بوجہ عمل ان۔ واحد مذکر غائب مس سے (باب سمع) لگائے۔ پہنچائے۔ المس کے معنی چھونا کے ہیں اور لمس کے ہم معنی ہے لیکن مس کا لفظ اس وقت استعمال ہوتا ہے جب حاسۂ لمس کے ساتھ اس کا ادراک بھی ہو۔ ۔۔ عورت سے مجامعت کے معنوں میں بھی استعمال ہوتا ہے جیسے انی یکون لی ولد ولم یمسسنی بشر (3:47) میرے ہاں بچہ کیونکر ہوگا حالانکہ کسی انسان نے ہاتھ تو لگایا نہیں (یعنی میرے ساتھ مجامعت نہیں کی) آیت ہذا کے معنوں میں مستھم الباساء والضراء (2:214) ان کو بڑی بڑی سختیاں اور تکلیفیں پہنچیں۔ ک ضمیر مفعول واحد مذکر حاضر۔ کاشف۔ اسم فاعل مفرد۔ کاشفون اور کاشفین جمع قیاسی۔ کشف کھولنا۔ ظاہر کرنا۔ برہنہ کرنا۔ ضرر کو دفع کرنا۔ باب ضرب سے۔ متعدی اور باب سمع سے لازم آتا ہے یعنی شکست کھانا۔ کاشف ضرر کو دفع کرنے والا۔ تکلیف سے رہائی دلانے والا۔
Ayah 6:18

وَ هُوَ الْقَاهِرُ فَوْقَ عِبَادِهٖ١ؕ وَ هُوَ الْحَكِیْمُ الْخَبِیْرُ Open ayah 6:18 in the Quran reader

اور وہ اپنے بندوں پر غالب ہے اور وہ دانا اور خبردار ہے۔

(6:18) القاھر۔ القھر کے معنی کسی پر غلبہ پا کر اسے ذلیل کرنے کے ہیں اور تذلیل و غلبہ ہر دو کے معنی میں علیحدہ علیحدہ بھی استعمال ہوتا ہے۔ آیت ہذا میں معنی یہ ہوں گے۔ وہ اپنے بندوں پر غالب ہے۔ واما الیتیم فلا تقھر (93:9) تو تم بھی یتیم پر ستم نہ کرو۔ یعنی اسے ذلیل نہ کرو القاھر خبر ہے ھو مبتدا کی۔
Ayah 6:19

قُلْ اَیُّ شَیْءٍ اَكْبَرُ شَهَادَةً١ؕ قُلِ اللّٰهُ١ۙ۫ شَهِیْدٌۢ بَیْنِیْ وَ بَیْنَكُمْ١۫ وَ اُوْحِیَ اِلَیَّ هٰذَا الْقُرْاٰنُ لِاُنْذِرَكُمْ بِهٖ وَ مَنْۢ بَلَغَ١ؕ اَئِنَّكُمْ لَتَشْهَدُوْنَ اَنَّ مَعَ اللّٰهِ اٰلِهَةً اُخْرٰى١ؕ قُلْ لَّاۤ اَشْهَدُ١ۚ قُلْ اِنَّمَا هُوَ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ وَّ اِنَّنِیْ بَرِیْٓءٌ مِّمَّا تُشْرِكُوْنَۘ Open ayah 6:19 in the Quran reader

ان سے پوچھو کہ سب سے بڑھ کر (قرین انصاف) کس کی شہادت ہے۔ کہہ دو کہ خدا ہی مجھ میں اور تم میں گواہ ہے۔ اور یہ قرآن مجھ پر اس لئے اتارا گیا ہے۔ کہ اس کے ذریعے سے تم کو اور جس شخص تک وہ پہنچ سکے اسکو آگاہ کردوں۔ کیا تم اس بات کی شہادت دیتے ہو کہ خدا کے ساتھ اور بھی معبود ہیں۔ (اے محمد ﷺ ! ) کہہ دو کہ میں تو (ایسی) شہادت نہیں دیتا کہہ دو کہ صرف وہی ایک معبود ہے اور جن کو تم لوگ شریک بناتے ہو میں ان سے بیزار ہوں۔

(6:19) قل ای شیء اکبر شھادۃ۔ ای شیء مبتدا اکبر خبر شھادۃ تمیز (اے) رسول ﷺ ) کہہ کہ گواہی کے لحاظ سے کونسی چیز سب سے بڑی (معتبر) ہے۔ یہ اس سوال کے جواب میں ہے کو کلبی کی روایت کے مطابق کفار مکہ نے کیا تھا۔ ارنا من تشھد انک رسول اللہ۔ آپ نے ان سے پوچھا جواب میں کہ کونسی شہادت سب سے معتبر ہے اور پھر فرمان خداوندی کے مطابق ان کو بتایا۔ اللہ شھید بینی وبینکم میرے اور تمہارے درمیان اللہ گواہ ہے۔ بعض کے نزدیک اللہ پر وقف ہے اور یہ پہلے سوال ای شیء اکبر شھادۃ کا جواب ہے اور شھید بینی وبینکم نیا جملہ ہے۔ اور اس سے پہلے وھو محذوف سمجھا جائیگا۔ لانذرکم۔ انذر۔ انذار سے مضارع ہے اور بوجہ عمل لام منصوب ہے۔ یہ لام لام کی کہلاتا ہے۔ لام کی کے بعد ان مقدرہ ہے جو مضارع کو نصب دیتا ہے۔ صیغہ واحد متکلم کم ضمیر مفعول ۔ جمع مذکر حاضر تاکہ میں تم کو ڈراؤں۔ من بلغ۔ لا نذر من بلغ ھذا القرآن۔ تاکہ جس جس کو یہ قرآن پہنچے ان کو متنبہ کروں۔ ائنکم۔ الف استفہامیہ ان حرف مشبہ بالفعل کم ضمیر جمع مذکر حاضر کیا واقعی تم لتشھدون۔ لام تاکید تشھدون مضارع جمع مذکر حاضر۔ تم گواہی دیتے ہو۔ ائنکم لتشھدون کیا تم واقعی یہ شہادت دیتے ہو۔ الھۃ اخری۔ الہۃ بہت سے معبود الہ کی جمع ۔ اخری۔ الہۃ کی صفت ہے۔ اگر موصوف جمع غیر ذوی العقول ہو تو صفت واحد مؤنث آتی ہے ۔ جیسے ولی فیہا ماریب اخری (20:18) اور اس میں اور بھی بہت سی ضرورتیں پوری کرتا ہوں۔ آیۃ ہذا میں پتھروں اور لکڑی کے بنے ہوئے بتوں کو الہۃ کہنے کی وجہ سے تحقیر کے طور پر ان غیر ذوی العقول الہۃ کی صفت بجائے جمع کے واحد مؤنث لائی گئی ہے۔ بری۔ بیزار۔ بےتعلق ۔ بےگناہ۔ بروزن فعیل براء ۃ سے بمعنی اسم فاعل ہے۔
Ayahs 6:20–21

اَلَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ یَعْرِفُوْنَهٗ كَمَا یَعْرِفُوْنَ اَبْنَآءَهُمْ١ۘ اَلَّذِیْنَ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ فَهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ۠ Open ayah 6:20 in the Quran reader

جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی ہے ان (ہمارے پیغمبر ﷺ کو اس طرح پہنچانتے ہیں جس طرح اپنے بیٹوں کو پہنچانا کرتے ہیں جنہوں نے اپنے تئیں نقصان میں ڈال رکھا ہے۔ وہ ایمان نہیں لاتے۔

وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اَوْ كَذَّبَ بِاٰیٰتِهٖ١ؕ اِنَّهٗ لَا یُفْلِحُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 6:21 in the Quran reader

اور اس شخص سے زیادہ کون ظالم ہے جس نے خدا پر جھوٹ افتراء کیا یا اس کی آیتوں کو جھُٹلایا۔ کچھ شک نہیں ظالم لوگ نجات نہیں پائیں گے۔

(6:20) یعرفونہ میں ہ ضمیر واحد مذکر غائب سے رسول اللہ ﷺ مراد ہیں ۔ کہ آپ کا حلیہ مبارک ۔ شمائل۔ صفات تورات اور انجیل میں مذکور ہیں۔ خسروا انفسھم۔ اہلکوا انفسھم۔ او بقوا انفسھم۔ (جنہوں نے) اپنے نفسوں کو ہلاکت اور گھاٹے میں ڈال دیا۔ بانکارھم نبوۃ محمد ﷺ ۔ حضرت محمد ﷺ کی نبوت سے انکار کرکے۔ فھم لا یؤمنون۔ ای لا یؤمنون بہ۔ وہ آپ ﷺ پر ایمان نہیں لائیں گے۔
Ayah 6:22

وَ یَوْمَ نَحْشُرُهُمْ جَمِیْعًا ثُمَّ نَقُوْلُ لِلَّذِیْنَ اَشْرَكُوْۤا اَیْنَ شُرَكَآؤُكُمُ الَّذِیْنَ كُنْتُمْ تَزْعُمُوْنَ Open ayah 6:22 in the Quran reader

اور جس دن ہم سب لوگوں کو جمع کریں گے پھر مشرکوں سے پوچھیں گے کہ (آج) وہ تمہارے شریک کہاں ہیں جن کا تمہیں دعویٰ تھا ؟

(6:22) یوم۔ مفعول بہٖ ۔ تقدیر کلام ہے اذا کر یوم نحشرھم جمیعا۔ تزعمون۔ تم دعویٰ کرتے تھے (باب نصر) زعم سے مضارع جمع مذکر حاضر۔ زعم کا استعمال زیادہ تر دعویٰ باطل اور ایسے قول کے بیان کرنے کے متعلق ہوتا ہے جو مظنۂ کذب ہو۔ متحقق نہ ہو۔ بلکہ مشکوک ہو۔ اس لئے قرآن مجید میں جہاں بھی زعم کا استعمال ہوا ہے مذمت کے لئے ہوا ہے۔ کنتم تزعمون۔ ای کنتم تزعمون انھا تشفع لکم عند ربکم۔ جن کے متعلق تمہارا یہ زعم تھا کہ وہ خدا کے ہاں تمہاری سفارش کریں گے۔
Ayah 6:23

ثُمَّ لَمْ تَكُنْ فِتْنَتُهُمْ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوْا وَ اللّٰهِ رَبِّنَا مَا كُنَّا مُشْرِكِیْنَ Open ayah 6:23 in the Quran reader

تو ان سے کچھ عذر نہ بن پڑے گا (اور) بجز اسکے (کچھ چارہ نہ ہوگا) کہ کہیں خدا کی قسم جو ہمارا پروردگار ہے ہم شریک نہیں بناتے تھے۔

(6:23) فتنۃ۔ اس کا لغوی معنی پرکھنا اور آزمائش کرنا ہے لیکن یہاں فتنہ سے مراد عذر اور بہانہ ہے۔ ثم لم تکن ۔۔ مشرکین۔ پھر ان کے پاس کوئی عذر نہ ہوگا بکز اس کے کہ وہ (جھوٹ کا سہارا لے کر) کہیں گے۔ اللہ کی قسم جو ہمارا پالنے والا ہے ہم شرک کرنے والے نہ تھے۔
Ayah 6:24

اُنْظُرْ كَیْفَ كَذَبُوْا عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ وَ ضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ Open ayah 6:24 in the Quran reader

دیکھو انہوں نے اپنے اوپر کیسا جھوٹ بولا اور کو کچھ یہ افتراء کیا کرتے تھے سب ان سے جاتا رہا۔

(6:24) ضل۔ گم ہوگیا۔ گمراہ ہوگیا۔ ہلاک ہوگیا۔ ما کانوا یفترون۔ جو بت وہ گھڑ کر پوجا کرتے تھے وہ سب بناوٹی معبود گم ہوجائیں گے۔ (یعنی وہ ان کو وہاں نہ پائیں گے)
Ayah 6:25

وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّسْتَمِعُ اِلَیْكَ١ۚ وَ جَعَلْنَا عَلٰى قُلُوْبِهِمْ اَكِنَّةً اَنْ یَّفْقَهُوْهُ وَ فِیْۤ اٰذَانِهِمْ وَقْرًا١ؕ وَ اِنْ یَّرَوْا كُلَّ اٰیَةٍ لَّا یُؤْمِنُوْا بِهَا١ؕ حَتّٰۤى اِذَا جَآءُوْكَ یُجَادِلُوْنَكَ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ هٰذَاۤ اِلَّاۤ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 6:25 in the Quran reader

اور ان میں بعض ایسے ہیں کہ تمہاری (باتوں کی) طرف کان رکھتے ہیں اور ہم نے ان کے دلوں پر تو پردے ڈال دیئے ہیں انکو سمجھ نہ سکیں اور کانوں میں ثقل پیدا کردیا ہے (کہ سن نہ سکیں) اور اگر یہ تمام نشانیاں بھی دیکھ لی تب بھی تو ان پر ایمان نہ لائیں۔ یہاں تک کہ جب تمہارے پاس تم سے بحث کرنے کو آتے ہیں تو جو کافر ہیں کہتے ہیں یہ (قرآن) اور کچھ بھی نہیں صرف پہلے لوگوں کی کہانیاں ہیں۔

(6:25) یستمع الی۔ کان لگا کر سنتے ہیں۔ اکنۃ۔ کنان کی جمع ۔ پردے۔ غلاف۔ وقرا۔ اسم مصدر۔ منصوب۔ ثقل ۔ گرانی۔ بہرہ پن۔ مطلب یہ ہے کہ ان مشرکین و کفار میں سے بعض تیری باتوں کو کان لگا کر سنتے ہیں لیکن ان کی ہٹ دھرمی۔ ضد۔ تعصب اور جمود کی وجہ سے ان کے دلوں پر پردے اور ان کے کانوں میں بہرہ پن ہوگیا ہے کہ سننے کے باوجود نہ وہ کچھ سمجھ پاتے ہیں اور نہ کچھ ان کے پلے پڑتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ان چیزوں کو اپنی طرف منسوب کرنے کہ وجہ یہ ہے کہ گو اصل سبب ان کی محرومی کا تو ان کا متواتر اعراض و انکار ہے لیکن سبب پر مسبب کا مترتب ہونا یا مؤخر پر اثر کا مترتب ہونا اس قانون فطرت کے تحت ہے جو خدا نے بنایا ہے اس لئے سبب اور مؤثر کی بجائے ان کو خود ذات باری کی طرف منسوب کردیا گیا ہے۔ اکنۃ اور وقرا دونوں جعلنا کے مفعول ہیں۔ حتی۔ جب تک۔ جہاں تک۔ لیکن یہاں اس کا مطلب یہ ہے کہ بلغ تکذیبھم الی انہم ان کا اعراض و تکذیب اس حد تک پہنچ چکے ہیں کہ جب بھی وہ تیرے پاس آتے ہیں جھگڑا کرتے ہیں۔ یجادلونک مضارع جمع مذکر غائب مجادلۃ سے جدل مادہ۔ باب مفاعلۃ۔ وہ تم سے جھگڑا کرتے ہیں۔ ان۔ نافیہ ہے۔
Ayah 6:26

وَ هُمْ یَنْهَوْنَ عَنْهُ وَ یَنْئَوْنَ عَنْهُ١ۚ وَ اِنْ یُّهْلِكُوْنَ اِلَّاۤ اَنْفُسَهُمْ وَ مَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 6:26 in the Quran reader

وہ اس سے (اوروں کو بھی) روکتے ہیں اور خود بھی پرے رہتے ہیں۔ مگر (ان باتوں سے) اپنے آپ ہی کو ہلاک کرتے ہیں اور (اس سے) بیخبر ہیں

(6:26) ینھون عنہ۔ مضارع جمع مذکر غائب نہی مصدر (باب فتح) وہ منع کرتے ہیں۔ وہ روکتے ہیں۔ عنہ سے مراد عن اتباع الرسول ۔ ﷺ ۔ ینئون عنہ۔ دور رہتے ہیں۔ مضارع جمع مذکر غائب۔ نای مصدر۔
Ayah 6:27

وَ لَوْ تَرٰۤى اِذْ وُقِفُوْا عَلَى النَّارِ فَقَالُوْا یٰلَیْتَنَا نُرَدُّ وَ لَا نُكَذِّبَ بِاٰیٰتِ رَبِّنَا وَ نَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 6:27 in the Quran reader

کاش تم (انکو اس وقت) دیکھو جب یہ دوزخ کے کنارے کھڑے کئے جائیں گے اور کہیں گے کہ اسے کاش ہم پھر (دنیا میں) لوٹا دیئے جائیں تاکہ اپنے پروردگار کی آیتوں کی تکذیب نہ کریں اور مومن ہوجائیں۔

(6:27) وقفوا۔ ماضی مجہول۔ جمع مذکر غائب۔ وقف او وقوف۔ مصدر۔ (باب ضرب) جب ان کو روک کر کھڑا کیا جائے گا۔ اذوقفوا علی النار۔ جب وہ دوزخ کے کنارے لاکھڑے کئے جاویں گے (ماضی بمعنی مضارع) اس کے معنی یہ بھی ہوسکتے ہیں جب وہ دوزخ کے متعلق مطلع کئے جاویں گے۔ یا دوزخ کے کنارے پیش کئے جائیں گے۔ یا علی بمعنی فی ہے اور مطلب اس کا یہ ہے کہ جب وہ نار جہنم میں ڈالے جائیں گے۔ مثال اس کی علی ملک سلیمان ای فی ملک سلیمان (2:102) حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے عہد حکومت ہیں۔ یلیتنا۔ یا۔ حروف تنبیہ۔ یا حرف نداء جس کا منادی محذوف ہے۔ لیت حرف مشبہ بفعل تمنا کے لئے مستعمل ہے۔ نا اسم ۔ اے کاش ہم۔ نرد۔ مضارع مجہول جمع متکلم۔ رد۔ مصدر۔ (باب نصر) ہم پھر دیئے جائیں۔ یا پھر دئیے جاتے ہیں۔ ہم لوٹا دئیے جائیں۔ یا لوٹا دئیے جاتے ہیں۔ ولا نکذب۔ مضارع منفی منصوب بوجہ جواب تمنا۔ یلیتنا نرد۔ واؤ مثلکے ہے جو تمنا کے جواب میں ہے۔ تکون۔ مضارع جمع متکلم منصوب بوجہ جواب تمنا۔
Ayah 6:28

بَلْ بَدَا لَهُمْ مَّا كَانُوْا یُخْفُوْنَ مِنْ قَبْلُ١ؕ وَ لَوْ رُدُّوْا لَعَادُوْا لِمَا نُهُوْا عَنْهُ وَ اِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ Open ayah 6:28 in the Quran reader

ہاں یہ جو کچھ پہلے چھپایا کرتے تھے (آج) ان پر ظاہر ہوگیا ہے اور اگر یہ (دنیا میں) لوٹائے بھی جائیں تو جن (کاموں سے ان) کو منع کیا گیا تھا وہی پھر کرنے لگیں۔ کچھ شک نہیں کہ یہ جھوٹے ہیں۔

بل۔ للاضراب عن الوفاء بما تمنوا۔ ان کے ایفائے تمنا کے رد میں آیا ہے یعنی ان کی یہ تمنا یا آرزو کہ اگر وہ واپس دنیا میں لوٹائے جائیں تو وہ تکذیب قرآن سے باز رہیں گے اور ومن بن جائیں گے۔ بالکل غلط اور جھوٹ ہے بلکہ وہ یہ اس لئے کہہ رہے ہیں کہ اب بدالہم ما کانوا یخفون من قبل۔ ان کے راز افشا ہوگئے ہیں۔ ان کی جھوٹی قسموں کی حقیقت کھل گئی ہے۔ اور سوائے یہ کہنے کے انہیں کوئی چارہ کار نظر نہیں آتا۔ بدا۔ ظاہر ہوگیا (باب نصر) بدو اور بداء سے جس کے معنی کھلم کھلا ظاہر ہوجانے کے ہیں۔ ماضی واحد مذکر غائب۔ کانوا یخفون۔ ماضی استمراری۔ یخفون مضارع جمع مذکر غائب۔ اخفاء سے وہ چھپایا کرتے تھے۔ لعادوا۔ لام جو اب لو میں واقع ہے وہ پھر کریں۔ وہ پھر کرتے ہیں۔ عود مصدر۔ نھوا۔ ماضی مجہول جمع مذکر غائب۔ نیز ملاحظہ ہو (4:161)
Ayah 6:29

وَ قَالُوْۤا اِنْ هِیَ اِلَّا حَیَاتُنَا الدُّنْیَا وَ مَا نَحْنُ بِمَبْعُوْثِیْنَ Open ayah 6:29 in the Quran reader

اور کہتے ہیں کہ ہماری جو دنیا کی زندگی ہے بس یہی (زندگی) ہے اور ہم (مرنے کے بعد) پھر زندہ نہیں کئے جائیں گے۔

(6:29) ان نافیہ ہے۔ مبعوثین۔ اسم مفعول جمع مذکر۔ اٹھائے جانے والے۔ دوبارہ زندہ کئے جانے والے۔
Ayah 6:30

وَ لَوْ تَرٰۤى اِذْ وُقِفُوْا عَلٰى رَبِّهِمْ١ؕ قَالَ اَلَیْسَ هٰذَا بِالْحَقِّ١ؕ قَالُوْا بَلٰى وَ رَبِّنَا١ؕ قَالَ فَذُوْقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْفُرُوْنَ۠ Open ayah 6:30 in the Quran reader

اور کاش تم (ان کو اسوقت) دیکھو جب یہ اپنے پروردگار کے سامنے کھڑے کئے جائینگے اور وہ فرمائے گا کیا یہ (دوبارہ زندہ ہونا) برحق نہیں تو کہیں گے کیوں نہیں پروردگار کی قسم (بالکل برحق ہے) خدا فرمائے گا اب کفر کے بدلے (جو دنیا میں کرتے تھے) عذاب کے مزے چکھو۔

(6:30) الیس ھذا بالحق۔ الاشارۃ الی البعث۔ دوبارہ اٹھائے جانے کی طرف اشارہ ہے۔ کیا یہ حق نہیں۔
Ayahs 6:31–32

قَدْ خَسِرَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِلِقَآءِ اللّٰهِ١ؕ حَتّٰۤى اِذَا جَآءَتْهُمُ السَّاعَةُ بَغْتَةً قَالُوْا یٰحَسْرَتَنَا عَلٰى مَا فَرَّطْنَا فِیْهَا١ۙ وَ هُمْ یَحْمِلُوْنَ اَوْزَارَهُمْ عَلٰى ظُهُوْرِهِمْ١ؕ اَلَا سَآءَ مَا یَزِرُوْنَ Open ayah 6:31 in the Quran reader

جن لوگوں نے خدا کے روبرو کھڑے ہونے کو جھوٹ سمجھا وہ گھاٹے میں آگئے۔ یہاں تک کہ جب ان پر قیامت ناگہاں آموجود ہوگی تو بول اٹھیں گے کہ (ہائے) اس تقصیر پر افسوس ہے جو ہم نے قیامت کے بارے میں کی۔ اور وہ اپنے (اعمال کے) بوجھ اپنی پیٹھوں پر اٹھائے ہوئے ہوں گے۔ دیکھو جو بوجھ یہ اٹھا رہے ہیں بہت برا ہے۔

وَ مَا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَاۤ اِلَّا لَعِبٌ وَّ لَهْوٌ١ؕ وَ لَلدَّارُ الْاٰخِرَةُ خَیْرٌ لِّلَّذِیْنَ یَتَّقُوْنَ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ Open ayah 6:32 in the Quran reader

اور دنیا کی زندگی تو ایک کھیل اور مشغلہ ہے۔ اور بہت اچھا گھر تو آخرت کا گھر ہے (یعنی) ان کے لئے جو (خدا سے) ڈرتے ہیں کیا تم سمجھتے نہیں ؟

(6:31) لقائ۔ حاصل مصدر۔ پیشی۔ ملاقات۔ لقی۔ یلقی لقاء (سمع) استقبال کرنا۔ پانا۔ ملاقات کرنا۔ لاتی بلاتی (مفاعلۃ) ملاقاۃ۔ آمنے سامنے آنا۔ ملنا۔ ملاقات کرنا۔ لغتۃ۔ ایک دم۔ اچانک۔ یکایک۔ بغت یبغت بغتا۔ اچانک آنا۔ یکایک آنا ناگاہ آنا۔ یحسرتنا۔ کلمۂ تاسف وائے قسمت۔ ہائے افسوس، یا حرف ندا۔ حسرتنا مضاف مضاف الیہ مل کر منادی۔ حست منادیٰ حقیقی نہیں۔ صرف کثرت حسرت کے اظہار کے لئے اسے منادیٰ بنایا گیا ہے۔ علیٰ ما فرطنا فیہا۔ اس کوتاہی پر جو ہم سے اس زندگی میں ہوئی۔ ما نافیہ نہیں ہے بیانیہ ہے۔ فرط فیہ۔ قصرفیہ وضیعہ حتی مات۔ ترکہ واغفلہ۔ کوتاہی کرنا۔ غفلت برتنا۔ فرط سے باب تفعیل۔ افراط و تفریط اسی سے ہے۔ یعنی کسی شے میں معمول سے کمی یا بیشی کرنا۔ باب تفعیل میں تقصیر اور کوتاہی کرنے کے معنی میں مستعمل ہوتا ہے۔ یحملون۔ ۔۔ سے وہ اٹھائیں گے۔ اٹھائے ہوئے ہوں گے۔ اوزارھم۔ ان کے بوجھ۔ اوزار جمع ہے وزر کی۔ الا۔ حرف تنبیہ۔ اور حرف استفعال ہے۔ خبردار ” جان لو “ سن لو۔ سائ۔ ساء یسوء (نصر) پر ہے۔ فعل ۔۔ ہے۔ سوء سے ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب ہے۔
Ayah 6:33

قَدْ نَعْلَمُ اِنَّهٗ لَیَحْزُنُكَ الَّذِیْ یَقُوْلُوْنَ فَاِنَّهُمْ لَا یُكَذِّبُوْنَكَ وَ لٰكِنَّ الظّٰلِمِیْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ یَجْحَدُوْنَ Open ayah 6:33 in the Quran reader

ہم کو معلوم ہے کہ ان (کافروں) کی باتیں تمہیں رنج پہنچاتی ہیں (مگر) یہ تمہاری تکذیب نہیں کرتے بلکہ ظالم خدا کی آیتوں سے انکار کرتے ہیں۔

(6:33) لیحزنک۔ لام تاکید۔ یحزن مضارع واحد مذکر غائب۔ ک ضمیر واحد مذکر حاضر مفعول ۔ تم کو رنجیدہ کرتی ہے (یہ بات) اس کا فاعل الذین یقولون ہے یعنی وہ بات جو یہ کہہ رہے ہیں۔ یجحدون ۔ جحد جحود۔ مصدر۔ باب فتح۔ وہ انکار کرتے ہیں۔
Ayah 6:34

وَ لَقَدْ كُذِّبَتْ رُسُلٌ مِّنْ قَبْلِكَ فَصَبَرُوْا عَلٰى مَا كُذِّبُوْا وَ اُوْذُوْا حَتّٰۤى اَتٰىهُمْ نَصْرُنَا١ۚ وَ لَا مُبَدِّلَ لِكَلِمٰتِ اللّٰهِ١ۚ وَ لَقَدْ جَآءَكَ مِنْ نَّبَاِی الْمُرْسَلِیْنَ Open ayah 6:34 in the Quran reader

اور تم سے پہلے بھی پیغمبر جھٹلائے جاتے رہے تو وہ تکذیب اور ایذاء پر صبر کرتے رہے۔ یہاں تک کہ ان کے پاس ہماری مدد پہنچتی رہی۔ اور خدا کی باتوں کو کوئی بھی بدلنے والا نہیں۔ اور تم کو پیغمبروں (کے احوال) کی خبریں پہنچ چکی ہیں (تو تم بھی صبر سے کام لو)

(6:34) اوذوا۔ وہ ستائے گئے۔ ان کو ایذاء دی گئی۔ ایذاء (افعال) سے ماضی مجہول کا صیغہ۔ جمع مذکر غائب۔ اذی مادہ۔ اذی یوزی ایذاء واوذی یوذی ایذائ۔ مبدل۔ اسم فاعل واحد مذکر۔ تبدیل (تفعیل) مصدر۔ تبدیل کرنے والا۔ نبای۔ اسم مجرور۔ مضاف۔ خبر۔ انبائ۔ جمع۔ خبریں۔
Ayah 6:35

وَ اِنْ كَانَ كَبُرَ عَلَیْكَ اِعْرَاضُهُمْ فَاِنِ اسْتَطَعْتَ اَنْ تَبْتَغِیَ نَفَقًا فِی الْاَرْضِ اَوْ سُلَّمًا فِی السَّمَآءِ فَتَاْتِیَهُمْ بِاٰیَةٍ١ؕ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَجَمَعَهُمْ عَلَى الْهُدٰى فَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْجٰهِلِیْنَ Open ayah 6:35 in the Quran reader

اور اگر ان کی روگردانی تم پر شاق گزرتی ہے تو اگر طاقت ہو تو زمین میں کوئی سرنگ ڈھونڈھ نکالو یا آسمان میں سیڑھی (تلاش کرو) پھر ان کے پاس کوئی معجزہ لاؤ۔ اور اگر خدا چاہتا تو سب کو ہدایت پر جمع کردیتا۔ پس تم ہرگز نادانوں میں نہ ہونا۔

(6:35) کبر۔ ماضی واحد مذکر غائب۔ باب کرم یکرم۔ اس باب میں اس کا مصدر۔ کبر کبر اور کبارۃ آتا ہے جس کے معنی بڑا ہونا۔ کبر شاق ہے۔ دشوار ہے۔ ناگوار ہے ۔ اعراضھم۔ ان کی روگردانی۔ فاعل ہے کبر کا۔ ان تبتغی۔ کہ تو ڈھونڈھے یا تلاش کرے۔ ابتغاء سے مضارع واحد مذکر حاضر۔ منصوب بوجہ عمل ان۔ نفقا۔ اسم منصوب مفعول۔ سرنف۔ نافقاء اور نفقۃ گوہ کا لیٹ جس کے کم از کم دو منہ ہوتے ہیں۔ ایک دہانے سے گوہ داخل ہوتی ہے اور جب شکاری اس سوراخ کی طرف متوجہ ہوتا ہے تو وہ دوسرے سوراخ سے نکل جاتی ہے۔ نفاق اور منافقت اصطلاح قرآنی میں اسی دو رخی کا نام ہے۔ سلما۔ اسم منصوب مفعول ۔ سیٹھی ۔ زینہ۔ سلم کی جمع سلالم اور سلالیم ہے ۔ سلم ۔ السلام ۃ سے مشتق ہے۔ فتاتیہم۔ تو لے آئے ان کے پاس۔ فان استطعت جملہ شرط ہے جس کا جواب فافعل محذوف ہے۔ عبارت یوں ہوگی فان استطعت ان تبتغی نفقا فی الارض او سلما فی السماء فتاتیہم بایۃ فافعل (اگر تو طاقت رکھتا ہے کہ ڈھونڈھ نکالے زمین میں کوئی سرنگ یا آسمان تک جانے کے لئے کوئی سیڑھی کہ لے آئے ان کے پاس کوئی معجزہ تو کر دیکھ) ۔ یہ شرط ۔ اور ان کان کبر علیک اعراضھم جواب شرط ہے۔ بعض کے نزدیک آیت ہذا میں خطاب رسول کریم ﷺ سے ہے لیکن نہی کا مدعا یہ نہیں کہ رسول کریم ﷺ ایسا کر رہے تھے اور آپ کو منع کیا گیا بلکہ یہ اسلوب کلام کسی چیز سے پرہیز اور اجتناب کی تاکید کے لئے اختیار کیا گیا ہے۔ اور بعض کے نزدیک یہ خطاب امت کے ہر فرد کو ہے۔ علامہ ابو حیان نے اسی قول کو اختیار کیا ہے لیکن قرآن حکیم میں قریب قریب اسی حالت کو یوں بیان فرمایا گیا ہے : (1) فلعلک باخع نفسک علی اثارہم ان لم یؤمنوا بحذا الحدیث اسفا (18:6) (اور آپ جو ان پر اتنا غم کھاتے ہیں) سو شاید آپ ان کے پیچھے غم کے مارے جان ہی دیدیں گے۔ اگر یہ لوگ اس مضمون قرآن پر ایمان نہ لائے (یعنی اتنا غم نہ کریں کہ قریب بہ ہلاکت کر دے) (2) لعلک باخع نفسک ان لا یکونوا مؤمنین (26:3) شاید آپ ان کے ایمان نہ لانے پر (رنج پر رنج کرتے کرتے) اپنی جان دیدیں گے۔ (3) انک لا تھدی من احببت ولکن اللہ یھدی من یشاء وھو اعلم بالمھتدین (28:56) آپ جس کو چاہیں ہدایت نہیں دے سکتے۔ بلکہ اللہ تعالیٰ جس کو چاہے ہدایت کردیتا ہے اور ہدایت پانے والوں کا علم (بھی) اسی کو ہے۔ سو صریحاً آیت ہذا میں بھی خطاب حضور ﷺ سے ہے اور فرمایا جا رہا ہے کہ اگر تم پر ان کا اعراض کرنا شاق گزرتا ہو تو تم اس کا علاج کر ہی کیا سکتے ہو۔ زمین میں سرنگ لگاؤ اور وہاں سے خدا کی نشانی نکال لاؤ یا آسمان پر سیڑھی لگا کر چڑھو اور اوپر سے کوئی نشانی ڈھونڈہ نکالا اور لاکر پیش کر دو ۔ اگر ہوسکتا ہے تو ایسا بھی کر دیکھو۔ یہ کبھی ایمان لائیں گے ہی نہیں۔ اگر خدا کو ان کا ایمان لانا منظور ہی ہوتا تو انہیں خود ہدایت پر جمع کرتا۔ (ابن کثیر)
Ayahs 6:36–37

اِنَّمَا یَسْتَجِیْبُ الَّذِیْنَ یَسْمَعُوْنَ١ؔؕ وَ الْمَوْتٰى یَبْعَثُهُمُ اللّٰهُ ثُمَّ اِلَیْهِ یُرْجَعُوْنَؐ Open ayah 6:36 in the Quran reader

بات یہ ہے کہ (حق کو) قبول وہی کرتے ہیں جو سنتے بھی ہیں اور مردوں کو تو خدا (قیامت ہی کو) اٹھائے گا۔ پھر اسی کی طرف لوٹ کر جائیں گے۔

وَ قَالُوْا لَوْ لَا نُزِّلَ عَلَیْهِ اٰیَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ١ؕ قُلْ اِنَّ اللّٰهَ قَادِرٌ عَلٰۤى اَنْ یُّنَزِّلَ اٰیَةً وَّ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 6:37 in the Quran reader

اور کہتے ہیں کہ ان پر ان کے پروردگار کے پاس کے کوئی نشانی کیوں نازل نہیں ہوئی ؟ کہہ دو کہ خدا نشانی اتار نے پر قادر ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔

(6:36) یستجیب۔ مضارع واحد مذکر غائب۔ استجابۃ (استفعال) سے مصدر ج و ب حروف مادہ۔ دعوت قبول کرتے ہیں۔ الموتی۔ المیت کی جمع۔ مردے۔ یہاں الذین یسمعون کے مقابلہ میں الموتی واقع ہوا ہے سننے والوں سے مراد وہ لوگ ہیں جن کے ضمیر زندہ ہیں ۔ جو نیک و بد میں تمیز کرسکتے ہیں۔ ان کے مقابلہ میں مردہ وہ لوگ ہیں جو لکیر کے فقیر ہیں۔ اور اپنی ہٹ دھرمی اور تعصب کی وجہ سے کوئی اثر قبول نہیں کرتے۔ یبعثھم اللہ۔ یبعث مضارع واحد مذکر غائب۔ ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب ن کو اٹھائے گا۔ والموتی یبعثم اللہ۔ رہے مردے تو انہیں تو اللہ تعالیٰ بس قبروں ہی سے اٹھائیگا (تفہیم القرآن) یعنی جو مردہ دل اور مردہ ضمیر ہیں وہ تو ایمان نہیں لائیں گے ۔ اور روز محشر قبروں سے ہی اٹھیں گے۔ اور اپنے کئے کی سزا بھگتنے کے لئے خدا کے حضور لوٹائے جائیں گے۔
Ayah 6:38

وَ مَا مِنْ دَآبَّةٍ فِی الْاَرْضِ وَ لَا طٰٓئِرٍ یَّطِیْرُ بِجَنَاحَیْهِ اِلَّاۤ اُمَمٌ اَمْثَالُكُمْ١ؕ مَا فَرَّطْنَا فِی الْكِتٰبِ مِنْ شَیْءٍ ثُمَّ اِلٰى رَبِّهِمْ یُحْشَرُوْنَ Open ayah 6:38 in the Quran reader

اور زمین میں جو چلنے پھرنے والا (حیوان) یا دو پروں سے اڑنے والا جانور ہے انکی بھی تم لوگوں کی طرح جماعتیں ہیں۔ ہم نے کتاب (یعنی لوح محفوظ) میں کسی چیز (کے لکھنے) میں کوتاہی نہیں کی۔ پھر سب اپنے پروردگار کی طرف جمع کئے جائینگے۔

(6:38) دابۃ جانور۔ چلنے والا۔ پاؤں دھرنے والا۔ رینگنے والا۔ اسم فاعل کا صیغہ مذکر مؤنث دونوں کے لئے آتا ہے اس میں ۃ وحدت کی ہے اس کی جمع دواب ہے۔ قرآن مجید میں دابۃ کا لفظ ہر حیوان کے لئے آیا ہے۔ ما فرطنا۔ ماضی منفی جمع متکلم تفریط مصدر (باب تفعیل) ہم نے کمی یا کوتاہی نہیں کی۔ ہم نے کسی (ضروری) چیز کو نہیں چھوڑا۔ (ملاحظہ ہو 6:31)
Ayah 6:39

وَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا صُمٌّ وَّ بُكْمٌ فِی الظُّلُمٰتِ١ؕ مَنْ یَّشَاِ اللّٰهُ یُضْلِلْهُ١ؕ وَ مَنْ یَّشَاْ یَجْعَلْهُ عَلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 6:39 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا وہ بہرے اور گونگے ہیں (اسکے علاوہ) اندھیرے میں (پڑے ہوئے) جس کو خدا چاہے گمراہ کردے اور جسے چاہے سیدھے راستے پر چلا دے۔

(6:39) صم۔ اصم کی جمع ہے۔ بہرے۔ بکم۔ ابکم کی جمع ہے۔ گونگے۔
Ayah 6:40

قُلْ اَرَءَیْتَكُمْ اِنْ اَتٰىكُمْ عَذَابُ اللّٰهِ اَوْ اَتَتْكُمُ السَّاعَةُ اَغَیْرَ اللّٰهِ تَدْعُوْنَ١ۚ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 6:40 in the Quran reader

کہو (کافرو) بھلا دیکھو تو اگر تم پر خدا کا عذاب آجائے یا قیامت آموجود ہو۔ تو کیا تم (ایسی حالت میں) خدا کے سوا کسی اور کو پکارو گے ؟ اگر سچے ہو (تو بتاؤ) ۔

(6:40) ارئیتکم۔ اخبرونی۔ مجھے بتاؤ۔ بھلا بتاؤ تو۔ اَ ۔ ہمزہ استفہام۔ رایت فعل یا فاعل جس میں ت فاعل ہے۔ اس کے بعد ک ۔ کما ۔ کم خطاب کے لئے ہیں۔ اور محض ضمیر فاعل کی تاکید کے لئے لائے جاتے ہیں۔ ت کو حالت تثنیہ۔ جمع اور تانیث میں اس کی حالت پر چھوٹ دیا جاتا ہے۔ اور ان حالتوں میں بجائے ت کے ک میں حسب مقام تبدیلی ہوتی رہتی ہے۔ اگر ک۔ کما۔ کم برائے تاکید نہ لائے جائیں تو ت میں ضمیر کے مطابق تبدیلی ہوجائے گی۔ مثلاً ارایت الذی ینھی (96:9) کیا تم نے اس شخص کے حال پر نظر کی جو منع کرتا ہے۔ اور قل ارایتم ما تدعون (45:4) (اے پیغمبر) ان لوگوں سے کہو کہ بھلا دیکھو تو سہی کہ جن کو تم (اللہ کے سوا) پکارتے ہو۔ رأی مادہ۔ مہموز العین اور ناقص یائی ہے۔ اس سے مشتق رویۃ آتا ہے۔