6. Surah Al-An'aam

الأنعامThe Cattle · 165 ayahsتفسیر ابن عباس

Ayah 6:1

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ جَعَلَ الظُّلُمٰتِ وَ النُّوْرَ١ؕ۬ ثُمَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِرَبِّهِمْ یَعْدِلُوْنَ Open ayah 6:1 in the Quran reader

ہر طرح کی تعریف خدا ہی کو سزا وار ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور اندھیرا اور روشنی بنائی۔ پھر بھی کافر (اور چیزوں کو) خدا کے برابر ٹھہراتے ہیں۔

(1) ہر قسم کے شکر اور خدائی اس ذات کے لیے ہے جس نے تمام آسمانوں کو اتوار اور پیر صرف دو دنوں میں اور اسی طرح تمام زمینوں کو منگل اور بدھ کے دو دنوں میں پیدا کیا ہے اور کفر و ایمان یا رات اور دن کو پیدا کیا، اس کے باوجود یہ کفار مکہ بتوں کو عبادت میں اللہ کا درجہ دیتے ہیں۔
Ayah 6:2

هُوَ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ مِّنْ طِیْنٍ ثُمَّ قَضٰۤى اَجَلًا١ؕ وَ اَجَلٌ مُّسَمًّى عِنْدَهٗ ثُمَّ اَنْتُمْ تَمْتَرُوْنَ Open ayah 6:2 in the Quran reader

وہی تو ہے جس نے تم کو مٹی سے پیدا کیا پھر (مرنے کا) ایک وقت مقرر کردیا۔ اور ایک مدت اسکے ہاں اور مقرر ہے پھر بھی تم (اے کافرو خدا کے بارے میں) شک کرتے ہو۔

(2) اس ذات نے تمہیں آدم سے اور آدم کو مٹی سے پیدا کا دنیا کو پیدا کیا اور اس کی مدت فنا بنائی اور مخلوق کو پیدا کرکے ان کی میعاد موت کو قرار دیا اور آخرت کے آنے کی مدت اللہ تعالیٰ ہی کو معلوم ہے، جس میں نہ موت ہے اور نہ فنا، اس کے بعد بھی اے مکہ والو تم اللہ تعالیٰ کے بارے اور مرنے کے بعد زندہ ہونے میں شک کرتے ہو،
Ayah 6:3

وَ هُوَ اللّٰهُ فِی السَّمٰوٰتِ وَ فِی الْاَرْضِ١ؕ یَعْلَمُ سِرَّكُمْ وَ جَهْرَكُمْ وَ یَعْلَمُ مَا تَكْسِبُوْنَ Open ayah 6:3 in the Quran reader

اور آسمان اور زمین میں وہی ایک خدا ہے۔ تمہاری پوشیدہ اور ظاہر سب باتین جانتا ہے اور تم جو عمل کرتے ہو سب سے واقف ہے۔

(3) اور وہی ہے معبود برحق آسمانوں میں اور وہ ہی معبود برحق زمینوں میں ہے جو تمہاری ظاہری اور پوشیدہ سب باتوں کا اور جو تم نیکیاں اور برائیاں کرتے ہو وہ سب سے باخبر ہے۔
Ayah 6:4

وَ مَا تَاْتِیْهِمْ مِّنْ اٰیَةٍ مِّنْ اٰیٰتِ رَبِّهِمْ اِلَّا كَانُوْا عَنْهَا مُعْرِضِیْنَ Open ayah 6:4 in the Quran reader

اور خدا کی نشانیوں میں سے کوئی نشانی ان لوگوں کے پاس نہیں آتی مگر یہ اس سے منہ پھیر لیتے ہیں۔

(4) اور ان اہل مکہ کے پاس جو بھی نشانیاں ان کے پروردگار کی طرف سے آتی ہیں مثلا سورج گرہن ہونا، چاند کے دو ٹکرے ہونا اور تاروں کا ٹوٹ کر بکھرنا مگر یہ ان سب باتوں کی تکذیب ہی کرتے ہیں۔
Ayah 6:5

فَقَدْ كَذَّبُوْا بِالْحَقِّ لَمَّا جَآءَهُمْ١ؕ فَسَوْفَ یَاْتِیْهِمْ اَنْۢبٰٓؤُا مَا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ Open ayah 6:5 in the Quran reader

جب ان کے پاس حق آیا تو اس کو بھی جھٹلا دیا۔ سو ان کو ان چیزوں کا جن کا یہ استہزاء کرتے ہیں عنقریب انجام معلوم ہوجائے گا۔

(5) قرآن کریم اور اس کی کھلی ہوئی نشانیاں جب رسول اکرم ﷺ ان کے پاس لے کر آئے ان اہل مکہ نے ان کی بھی تکذیب کی۔ اب اللہ تعالیٰ ان کو ڈرا رہے ہیں، چناچہ ان کے مذاق اڑانے کا انجام، بدر، احد اور احزاب کا دن ان کے سامنے آگیا۔
Ayah 6:6

اَلَمْ یَرَوْا كَمْ اَهْلَكْنَا مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنْ قَرْنٍ مَّكَّنّٰهُمْ فِی الْاَرْضِ مَا لَمْ نُمَكِّنْ لَّكُمْ وَ اَرْسَلْنَا السَّمَآءَ عَلَیْهِمْ مِّدْرَارًا١۪ وَّ جَعَلْنَا الْاَنْهٰرَ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهِمْ فَاَهْلَكْنٰهُمْ بِذُنُوْبِهِمْ وَ اَنْشَاْنَا مِنْۢ بَعْدِهِمْ قَرْنًا اٰخَرِیْنَ Open ayah 6:6 in the Quran reader

کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ ہم نے ان سے پہلے کتنی امتوں کو ہلاک کردیا جن کے پاؤں ملک میں ایسے جما دیئے تھے کہ تمہارے پاؤں بھی ایسے نہیں جمائے۔ اور ان پر آسمان سے لگاتار مینہ برسایا اور نہریں بنادیں جو ان کے (مکانوں کے) نیچے بہ رہی تھیں۔ پھر انکو انکے گناہوں کے سبب ہلاک کردیا اور ان کے بعد اور امتیں پیدا کردیں

(6) ان اہل مکہ کو قرآن کریم کے ذریعے سے کیا یہ معلوم نہیں ہوا کہ ہم نے ان سے پہلے کس قدر ایسی زبردست قوت والوں کو ہلاک کیا ہے کہ ایسی قوت ان مکہ والوں کو نہیں دی گئی۔ اور پھر جب ان کو حاجت پیش آئی تو ہم نے ان پر خوب بارشیں برسائیں اور ان کے باغوں، کھیتوں اور درختوں کے نیچے سے نہریں جاری کیں مگر پھر انبیاء کرام کی تکذیب کرنے کی وجہ سے ان کو ہلاک کردیا، اور ان کے بعد ان سے بہتر لوگوں کو پیدا کیا۔
Ayah 6:7

وَ لَوْ نَزَّلْنَا عَلَیْكَ كِتٰبًا فِیْ قِرْطَاسٍ فَلَمَسُوْهُ بِاَیْدِیْهِمْ لَقَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا سِحْرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 6:7 in the Quran reader

اور اگر ہم تم پر کاغذوں پر لکھی ہوئی کتاب نازل کرتے اور یہ اسے اپنے ہاتھوں سے بھی ٹٹول لیتے تو جو کافر ہیں یہی کہہ دیتے کہ یہ تو (صاف اور) صریح جادو ہے۔

(7) اگر ہم جبریل امین ؑ کے ذریعے سارا قرآن کریم کا غذ پر لکھا ہوا آپ ﷺ پر نازل کردیتے جیسا کہ عبد اللہ بن امیہ مخزومی اور اس کے ساتھیوں نے کہا تھا اور پھر یہ اپنے ہاتھوں میں اسے لے کر پڑھ بھی لیتے مگر پھر بھی یہ عبداللہ بن امیہ مخزومی اور اس کے ساتھ اپنی ہٹ دھرمی کے سبب یہی کہتے کہ یہ صریح جادو ہے۔
Ayahs 6:8–9

وَ قَالُوْا لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْهِ مَلَكٌ١ؕ وَ لَوْ اَنْزَلْنَا مَلَكًا لَّقُضِیَ الْاَمْرُ ثُمَّ لَا یُنْظَرُوْنَ Open ayah 6:8 in the Quran reader

اور کہتے ہیں کہ ان (پیغمبر ﷺ پر فرشتہ کیوں نازل نہ ہوا (جو انکی تصدیق کرتا) اگر ہم فرشتہ نازل کرتے تو کام ہی فیصل ہوجاتا پھر انھیں (مطلق) مہلت نہ دی جاتی

وَ لَوْ جَعَلْنٰهُ مَلَكًا لَّجَعَلْنٰهُ رَجُلًا وَّ لَلَبَسْنَا عَلَیْهِمْ مَّا یَلْبِسُوْنَ Open ayah 6:9 in the Quran reader

نیز اگر ہم کسی فرشتے کو بھیجتے تو اسے مرد کی صورت میں بھیجتے اور جو شبہہ (اب) کرتے ہیں اسی شبہ میں انہیں پھر ڈال دیتے۔

(8۔ 9) اور یہ عبداللہ بن امیہ اور دیگر کافر یہ بھی کہتے ہیں کہ آپ کے پاس کوئی فرشتہ کیوں نہیں بھیجا جاتا جسے ہم دیکھ سکیں اور اس کی باتیں بھی سنیں تو اگر ان کی درخواست کے مطابق ہی معاملہ ہوتا تو ان پر عذاب نازل ہوجاتا اور ان کی روحیں قبض ہوجاتیں اور ان کا خاتمہ ہوجاتا اور پھر ان کو مہلت بھی نہ دی جاتی اور اگر ہم رسول کسی فرشتہ کو کرکے بھیجتے تب بھی اسے انسانی شکل میں ہی میں بھیجتے تاکہ لوگ ان اس کو دیکھ سکیں تو پھر فرشتوں کے بارے میں بھی ان کے وہی اشکال اور اشتباہ ہوتے جو ان کو رسول اکرم ﷺ اور آپ کی صفت کے بارے میں شک ہو رہا ہے
Ayah 6:10

وَ لَقَدِ اسْتُهْزِئَ بِرُسُلٍ مِّنْ قَبْلِكَ فَحَاقَ بِالَّذِیْنَ سَخِرُوْا مِنْهُمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ۠ Open ayah 6:10 in the Quran reader

اور تم سے پہلے بھی پیغمبروں کے ساتھ تمسخر ہوتے رہے ہیں۔ سو جو لوگ ان میں سے تمسخر کیا کرتے تھے ان کو تمسخر کی سزا نے آگھیرا۔

(10) اور دیگر انبیاء کرام کے ساتھ بھی ان کی قوموں نے وہی تمسخر کیا ہے جو آپ کی قوم آپ کے ساتھ کررہی ہے، ان کے تمسخر کے انجام میں آخرکار ان کافروں کو عذاب نے آگھیرا۔
Ayah 6:11

قُلْ سِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ ثُمَّ انْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُكَذِّبِیْنَ Open ayah 6:11 in the Quran reader

کہو کہ (اے منکرین رسالت) ملک میں چلو پھرو پھر دیکھو کہ جھٹلانے نے والوں کا کیا انجام ہوا۔

(11) اے محمد ﷺ آپ ان اہل مکہ کو فرمادیجیے کہ ذرا چل پھر کر دیکھو اور غور کرو کہ اللہ تعالیٰ کے رسولوں کی تکذیب کرنے والوں کا انجام کیا ہوا۔
Ayah 6:12

قُلْ لِّمَنْ مَّا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ قُلْ لِّلّٰهِ١ؕ كَتَبَ عَلٰى نَفْسِهِ الرَّحْمَةَ١ؕ لَیَجْمَعَنَّكُمْ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ لَا رَیْبَ فِیْهِ١ؕ اَلَّذِیْنَ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ فَهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 6:12 in the Quran reader

(ان سے) پوچھو کہ آسمان اور زمین میں جو کچھ ہے کس کا ہے کہہ دو خدا کا۔ اس نے اپنی ذات (پاک) پر رحمت کو لازم کرلیا ہے۔ وہ تم سب کو قیامت کے دن جس میں کچھ بھی شک نہیں ضرور جمع کرے گا۔ جن لوگوں نے اپنے تئیں نقصان میں ڈال رکھا ہے وہ ایمان نہیں لاتے۔

(12) اے محمد ﷺ آپ ان اہل مکہ سے سوال کریں کہ یہ تمام مخلوقات کس کی ملکیت ہیں اول تو وہ جواب دیں گے اور اگر وہ جواب نہ دے سکیں تو آپ فرما دیجیے کہ اس اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہیں جس نے آسمانوں اور زمینوں کو پیدا کیا۔ اور رسول اکرم ﷺ کی امت کی وجہ سے عذاب کو موخر کرکے اللہ تعالیٰ نے مہربانی فرمانا اپنے اوپر لازم فرما لیا ہے اور یقیناً اللہ تعالیٰ ہی قیامت کے دن تم سب کو جمع کریں گے، جس دن کے واقع ہونے میں کسی قسم کا کوئی شبہ نہیں۔ مگر جن لوگوں نے اپنی جسمانی منازل خدام اور بیبیوں کو ضائع کردیا ہے۔ وہ رسول اکرم ﷺ اور قرآن حکیم پر ایمان نہیں لائیں گے۔
Ayah 6:13

وَ لَهٗ مَا سَكَنَ فِی الَّیْلِ وَ النَّهَارِ١ؕ وَ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 6:13 in the Quran reader

اور جو مخلوق رات اور دن میں بستی ہے سب اسی کی ہے اور وہ سنتا جانتا ہے۔

(13) اور کفار نے رسول اکرم ﷺ سے کہا تھا کہ ہمارے دین کی طرف لوٹ آؤ ہم تمہیں مالا مال کردیں گے اور تمہاری بہترین جگہ پر شادی بھی کرا دیں گے اور تمہیں عزت دیں گے اور اپنا رہبر بنائیں گے اس پر یہ آیات نازل ہوئیں، آپ کے وطن میں رات دن میں جو کچھ ہے وہ سب اللہ ہی کی ملک ہے۔
Ayah 6:14

قُلْ اَغَیْرَ اللّٰهِ اَتَّخِذُ وَلِیًّا فَاطِرِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ هُوَ یُطْعِمُ وَ لَا یُطْعَمُ١ؕ قُلْ اِنِّیْۤ اُمِرْتُ اَنْ اَكُوْنَ اَوَّلَ مَنْ اَسْلَمَ وَ لَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُشْرِكِیْنَ Open ayah 6:14 in the Quran reader

کہو کیا میں خدا کو چھوڑ کر کسی اور کو مددگار بناؤں کہ (وہی تو) آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا ہے اور وہی (سب کو) کھانا دیتا ہے اور خود کسی سے کھانا نہیں لیتا۔ (یہ بھی) کہہ دو کہ مجھے یہ حکم ہوا ہے کہ میں سب سے پہلے اسلام لانے والا ہوں اور یہ کہ تم (اے پیغمبر ﷺ مشرکوں میں نہ ہونا۔

(14) اور اے محمد ﷺ آپ کا رب کفار کی باتوں کو سننے والا اور ان کے انجام اور مخلوق کے روزی دینے کو جاننے والا ہے اے محمد ﷺ آپ ان سے فرمادیجیے کیا ایسے اللہ کے علاوہ کسی اور کو معبود بناؤں جو کہ زمین و آسمان کا پیدا کرنے والا ہے اور وہ تمام مخلوق کو کھانے کو دیتا ہے اور اس کو کوئی بوجہ عدم ضرورت کھانے کو نہیں دیتا اور نہ ہی یہ ہوتا ہے کہ مخلوق کو روزی دینے میں اس کو کسی سے مددلینا پڑتی ہے۔ اے محمد ﷺ آپ کفار مکہ سے یہ فرما دیجیے کہ مجھے یہ حکم ہوا ہے کہ سب سے پہلے میں اسلام قبول کروں یا اپنے زمانہ والوں میں سب سے پہلے خلوص کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی توحید اور عبادت بجا لاؤں اور دیکھو ! تم مشرکین کے دین پر ہرگز مت ہونا۔
Ayah 6:15

قُلْ اِنِّیْۤ اَخَافُ اِنْ عَصَیْتُ رَبِّیْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ Open ayah 6:15 in the Quran reader

(یہ بھی) کہہ دو کہ اگر میں اپنے پروردگار کی نافرمانی کروں تو مجھے بڑے دن کا عذاب کا خوف ہے۔

(15) آپ فرما دیجیے کہ اگر بالفرض میں اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کی عبادت کروں اور تمہارے دین کی طرف لوٹ آؤں تو مجھے آنے والے دن کے بڑے عذاب کا ڈر ہے یا یہ کہ بڑے دن کے عذاب کا ڈر ہے۔
Ayah 6:16

مَنْ یُّصْرَفْ عَنْهُ یَوْمَئِذٍ فَقَدْ رَحِمَهٗ١ؕ وَ ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْمُبِیْنُ Open ayah 6:16 in the Quran reader

جس شخص سے اس روز عذاب ٹال دیا گیا اس پر خدا نے (بڑی) مہربانی فرمائی اور یہ کھلی کامیابی ہے۔

(16) اور قیامت کے دن جس شخص سے عذاب ہٹا دیا جائے گا تو وہ محفوظ ہوجائے گا اور اس کی مغفرت ہوجائے گی اور مغفرت انسان کی اعلی کامیابی ہے۔
Ayahs 6:17–18

وَ اِنْ یَّمْسَسْكَ اللّٰهُ بِضُرٍّ فَلَا كَاشِفَ لَهٗۤ اِلَّا هُوَ١ؕ وَ اِنْ یَّمْسَسْكَ بِخَیْرٍ فَهُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 6:17 in the Quran reader

اور اگر تم کو خدا کوئی سختی پہنچائے تو اس کے سوا اس کو کوئی دور کرنے والا نہیں اور اگر نعمت (وراحت) عطا کرے تو (کوئی اسکو روکنے والا نہیں) وہ ہر چیز پر قادر ہے۔

وَ هُوَ الْقَاهِرُ فَوْقَ عِبَادِهٖ١ؕ وَ هُوَ الْحَكِیْمُ الْخَبِیْرُ Open ayah 6:18 in the Quran reader

اور وہ اپنے بندوں پر غالب ہے اور وہ دانا اور خبردار ہے۔

(17۔ 18) اور اے لوگو ! تمہیں اگر اللہ تعالیٰ کسی سختی یا تنگی میں مبتلا کردیں تو ان کے علاوہ کوئی اور اسے دور کرنے والا نہیں اور اگر وہ کوئی نعمت عطا کریں تو وہ سختی اور تنگی نعمت ومالداری پر قدرت رکھتے ہیں اور اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر غالب ہیں اور ان کے امور وقضا میں بڑی حکمت والے اور مخلوق اور ان کے اعمال سے پوری طرح آگاہ ہیں۔
Ayah 6:19

قُلْ اَیُّ شَیْءٍ اَكْبَرُ شَهَادَةً١ؕ قُلِ اللّٰهُ١ۙ۫ شَهِیْدٌۢ بَیْنِیْ وَ بَیْنَكُمْ١۫ وَ اُوْحِیَ اِلَیَّ هٰذَا الْقُرْاٰنُ لِاُنْذِرَكُمْ بِهٖ وَ مَنْۢ بَلَغَ١ؕ اَئِنَّكُمْ لَتَشْهَدُوْنَ اَنَّ مَعَ اللّٰهِ اٰلِهَةً اُخْرٰى١ؕ قُلْ لَّاۤ اَشْهَدُ١ۚ قُلْ اِنَّمَا هُوَ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ وَّ اِنَّنِیْ بَرِیْٓءٌ مِّمَّا تُشْرِكُوْنَۘ Open ayah 6:19 in the Quran reader

ان سے پوچھو کہ سب سے بڑھ کر (قرین انصاف) کس کی شہادت ہے۔ کہہ دو کہ خدا ہی مجھ میں اور تم میں گواہ ہے۔ اور یہ قرآن مجھ پر اس لئے اتارا گیا ہے۔ کہ اس کے ذریعے سے تم کو اور جس شخص تک وہ پہنچ سکے اسکو آگاہ کردوں۔ کیا تم اس بات کی شہادت دیتے ہو کہ خدا کے ساتھ اور بھی معبود ہیں۔ (اے محمد ﷺ !) کہہ دو کہ میں تو (ایسی) شہادت نہیں دیتا کہہ دو کہ صرف وہی ایک معبود ہے اور جن کو تم لوگ شریک بناتے ہو میں ان سے بیزار ہوں۔

(19) اب آگلی آیت کفار کے مقولہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے کیوں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے آکر کہا کہ اگر آپ نبی ہیں تو اپنی نبوت پر کوئی گواہ لائیں، اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں آپ ان سے فرما دیجیے کہ سب سے بڑھ کر اور پسندیدہ چیز گواہ کے لیے کون سی ہے اگر یہ آپ کی بات کا جواب دیں تو ٹھیک ہے ورنہ ان سے فرمائیے کہ بس اللہ تعالیٰ اس بات کا گواہ ہے کہ میں اس کا رسول ہوں اور قرآن کریم اس کا کلام برحق ہے۔ اور جبریل امین کے ذریعے یہ قرآن حکیم مجھ پر نازل کیا گیا تاکہ میں تمہیں اور جس کو یہ قرآن کی خبر پہنچے اس کو برے انجام سے ڈراؤں۔ اے اہل مکہ کیا تم پھر بھی بتوں کے متعلق گواہی دو گے ؟ اور ان کو خدا کی العیاذباللہ بیٹیاں کہوگے ؟ اگر یہ لوگ پھر بھی اس کی گواہی دیں تو آپ فرما دیجیے کہ میں تو اس شرکیہ چیز کو تمہارے ساتھ گواہی نہیں دیتا، آپ فرما دیجیے بیشک اللہ تعالیٰ ہی ایک معبود حقیقی ہے اور تم ان بتوں کو پوجتے ہو، میں ان سے بری ہوں۔ شان نزول : (آیت) ”قل ای شیء اکبر“۔ (الخ) ابن اسحاق ؒ اور ابن جریر ؒ نے سعید ؒ یا عکرمہ ؒ کے واسطہ سے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت نقل کی ہے کہ نمام بن زید اور قروم بن کعب اور حجری بن عمرو آئے اور کہنے لگے اے محمد ﷺ ہمیں نہیں معلوم کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کوئی دوسرا معبود ہے، آپ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی معبود نہیں، مجھے اسی توحید حق پر مبعوث کیا گیا اور میں اسی کی طرف دعوت دیتا ہوں، تو اللہ تعالیٰ نے ان کے قول کے بارے میں یہ آیت نازل فرمائی یعنی آپ فرما دیجیے کہ سب سے بڑھ کر گواہی کے لیے کون سی چیز ہے۔
Ayah 6:20

اَلَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ یَعْرِفُوْنَهٗ كَمَا یَعْرِفُوْنَ اَبْنَآءَهُمْ١ۘ اَلَّذِیْنَ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ فَهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ۠ Open ayah 6:20 in the Quran reader

جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی ہے ان (ہمارے پیغمبر ﷺ کو اس طرح پہنچانتے ہیں جس طرح اپنے بیٹوں کو پہنچانا کرتے ہیں جنہوں نے اپنے تئیں نقصان میں ڈال رکھا ہے۔ وہ ایمان نہیں لاتے۔

(20) جن حضرات کو ہم نے توریت کا علم دیا ہے جیسا کہ حضرت عبداللہ بن سلام اور ان کے ساتھی وہ رسول اکرم ﷺ کو آپ کے اوصاف اور تعریف کے ساتھ اپنے بیٹوں کی طرح جانتے ہیں اور جنہوں نے اپنی دنیا و آخرت کو برباد کردیا ہے جیسا کہ کعب بن اشرف اور اس کے ساتھی وہ قرآن حکیم اور رسول اکرم ﷺ پر ایمان نہیں لاتے۔
Ayah 6:21

وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اَوْ كَذَّبَ بِاٰیٰتِهٖ١ؕ اِنَّهٗ لَا یُفْلِحُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 6:21 in the Quran reader

اور اس شخص سے زیادہ کون ظالم ہے جس نے خدا پر جھوٹ افتراء کیا یا اس کی آیتوں کو جھُٹلایا۔ کچھ شک نہیں ظالم لوگ نجات نہیں پائیں گے۔

(21) اور اس سے بڑھ کر بھلا بےانصاف کون ہوگا جو توحید خداوندی اپنے ہاتھوں سے تراشے ہوئے بتوں کو شریک کرے یا رسول اللہ ﷺ اور قرآن کریم کی تکذیب کرے، یقیناً ظالموں اور مشرکوں کو عذاب خداوندی سے کسی طرح چھٹکارا حاصل نہیں ہوگا۔
Ayahs 6:22–23

وَ یَوْمَ نَحْشُرُهُمْ جَمِیْعًا ثُمَّ نَقُوْلُ لِلَّذِیْنَ اَشْرَكُوْۤا اَیْنَ شُرَكَآؤُكُمُ الَّذِیْنَ كُنْتُمْ تَزْعُمُوْنَ Open ayah 6:22 in the Quran reader

اور جس دن ہم سب لوگوں کو جمع کریں گے پھر مشرکوں سے پوچھیں گے کہ (آج) وہ تمہارے شریک کہاں ہیں جن کا تمہیں دعویٰ تھا ؟

ثُمَّ لَمْ تَكُنْ فِتْنَتُهُمْ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوْا وَ اللّٰهِ رَبِّنَا مَا كُنَّا مُشْرِكِیْنَ Open ayah 6:23 in the Quran reader

تو ان سے کچھ عذر نہ بن پڑے گا (اور) بجز اسکے (کچھ چارہ نہ ہوگا) کہ کہیں خدا کی قسم جو ہمارا پروردگار ہے ہم شریک نہیں بناتے تھے۔

(22۔ 23) او قیامت کے دن ہم تمام لوگوں کو جمع کرلیں گے، پھر ان معبودان باطل کے بچاریوں سے کہیں گے کہ جن معبودوں کی تم عبادت کرتے تھے اور کہتے تھے کہ یہ ہمارے سفارشی ہیں انہیں لے کر آؤ وہ آج کدھر ہیں۔ پھر ان کا عذر اور جواب اپنی بےگناہی کے عذر کے علاوہ اور کچھ نہیں ہوگا۔
Ayah 6:24

اُنْظُرْ كَیْفَ كَذَبُوْا عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ وَ ضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ Open ayah 6:24 in the Quran reader

دیکھو انہوں نے اپنے اوپر کیسا جھوٹ بولا اور کو کچھ یہ افتراء کیا کرتے تھے سب ان سے جاتا رہا۔

(24) اے محمد ﷺ ذرا دیکھیے تو یا یہ کہ فرشتوں ان کی ڈھٹائی دیکھو تو سہی کس طرح ان لوگوں نے کھلم کھلا جھوٹ بول کر اپنے اوپر خود عذاب کو مسلط کرلیا۔ اور جن باطل چیزوں کی یہ پوجا کرتے تھے ان کے نفس خود ان سے متنفر ہوجائیں گے اور یا یہ کہ ان کے جھوٹ کا بالآخر خاتمہ ہوگیا۔
Ayah 6:25

وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّسْتَمِعُ اِلَیْكَ١ۚ وَ جَعَلْنَا عَلٰى قُلُوْبِهِمْ اَكِنَّةً اَنْ یَّفْقَهُوْهُ وَ فِیْۤ اٰذَانِهِمْ وَقْرًا١ؕ وَ اِنْ یَّرَوْا كُلَّ اٰیَةٍ لَّا یُؤْمِنُوْا بِهَا١ؕ حَتّٰۤى اِذَا جَآءُوْكَ یُجَادِلُوْنَكَ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ هٰذَاۤ اِلَّاۤ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 6:25 in the Quran reader

اور ان میں بعض ایسے ہیں کہ تمہاری (باتوں کی) طرف کان رکھتے ہیں اور ہم نے ان کے دلوں پر تو پردے ڈال دیئے ہیں انکو سمجھ نہ سکیں اور کانوں میں ثقل پیدا کردیا ہے (کہ سن نہ سکیں) اور اگر یہ تمام نشانیاں بھی دیکھ لی تب بھی تو ان پر ایمان نہ لائیں۔ یہاں تک کہ جب تمہارے پاس تم سے بحث کرنے کو آتے ہیں تو جو کافر ہیں کہتے ہیں یہ (قرآن) اور کچھ بھی نہیں صرف پہلے لوگوں کی کہانیاں ہیں۔

(25) اور ان کفار مکہ میں سے بعض لوگ آپ کی طرف سے قرآن کریم کی تلاوت کو سننے کے لیے آپ کی طرف کان لگاتے ہیں جن میں سے ابوسفیان بن حرب، ولید بن صغیرہ، نضربن حارث، عتبہ بن ربیعہ، شیبہ بن ربیعہ، امیہ بن خلف، ابی بن خلف اور حارث بن عامر ہیں، مگر ہم نے ان کے دلوں پر پردے ڈال دیے تاکہ آپ کے کلام کو نہ سمجھ سکیں اور ان کے کان بند کردیے ہیں تاکہ حق اور ہدایت کی بات کو نہ سمجھ سکیں اور ایک معنی یہ بھی بیان کیے ہیں کہ سیدھے راستے کو سمجھنے سے ان کے کان عاری ہوگئے ہیں۔
Ayahs 6:26–27

وَ هُمْ یَنْهَوْنَ عَنْهُ وَ یَنْئَوْنَ عَنْهُ١ۚ وَ اِنْ یُّهْلِكُوْنَ اِلَّاۤ اَنْفُسَهُمْ وَ مَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 6:26 in the Quran reader

وہ اس سے (اوروں کو بھی) روکتے ہیں اور خود بھی پرے رہتے ہیں۔ مگر (ان باتوں سے) اپنے آپ ہی کو ہلاک کرتے ہیں اور (اس سے) بیخبر ہیں

وَ لَوْ تَرٰۤى اِذْ وُقِفُوْا عَلَى النَّارِ فَقَالُوْا یٰلَیْتَنَا نُرَدُّ وَ لَا نُكَذِّبَ بِاٰیٰتِ رَبِّنَا وَ نَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 6:27 in the Quran reader

کاش تم (انکو اس وقت) دیکھو جب یہ دوزخ کے کنارے کھڑے کئے جائیں گے اور کہیں گے کہ اسے کاش ہم پھر (دنیا میں) لوٹا دیئے جائیں تاکہ اپنے پروردگار کی آیتوں کی تکذیب نہ کریں اور مومن ہوجائیں۔

(26۔ 27) حارث بن عامر نے آپ سے دلائل نبوت کا مطابلہ کیا، اس پر فرمان الہی نازل ہوا کہ اگر یہ لوگ تمام دلائل کو بھی دیکھ لیں تب بھی ایمان نہ لائیں اور یہ جب آپ کے پاس آتے ہیں تو قرآن کے نازل ہونے کے بارے میں پوچھتے ہیں اور جب انکو اس کی اطلاع کردی جاتی ہے تو خصوصا نضر بن حارث کہتا ہے کہ محمد ﷺ جو کچھ بیان کرتے ہیں یہ تو بس گزرے ہوئے لوگوں کے کچھ جھوٹے افسانے ہیں اور ابوجہل اور اس کے ساتھی رسول اکرم ﷺ اور قرآن کریم سے دوسروں کو بھی روکتے ہیں اور خود بھی اس سے رکتے اور دور رہتے ہیں اور یہ بھی معنی بیان کیے گئے ہیں کہ ابوطالب لوگوں کو رسول اکرم ﷺ کو تکلیف پہنچانے سے روکتے ہیں مگر خود آپ کی پیروی نہیں کرتے مگر یہ خود ہلاک ہورہے ہیں اور یہ نہیں سمجھتے کہ جن لوگوں کو آپ کی اطاعت سے روکتے ہیں، ان سب کا گناہ ان پر ہے، اور اگر محمد ﷺ آپ ان کو اس وقت دیکھیں جب کہ یہ دوزخ کے پاس کھڑے ہوں گے تو دنیا میں واپسی اور آسمانی کتابوں اور رسول کی تکفیر نہ کرنے کی تمنا کریں گے اور ہر ایک طریقہ سے ایمان والوں کے ساتھ ہونے کی تمنا کریں گے۔ شان نزول : (آیت) ”وھم ینھون عنہ“۔ (الخ) امام حاکم ؒ وغیرہ نے ابن عباس ؓ سے روایت نقل کی ہے کہ یہ آیت ابو طالب کے بارے میں نازل ہوئی ہے، وہ مشرکین کو رسول اکرم ﷺ کو ایذا پہنچانے سے روکتے تھے اور خود آپ کے دین کو قبول نہیں کرتے تھے اور ابن ابی حاتم ؒ نے سعید بن ابی ہلال سے روایت کیا ہے کہ یہ آیت رسول اکرم ﷺ کے چچاؤں کے بارے میں نازل ہوئی ہے وہ تعداد میں دس تھے علانیہ طور پر تو وہ آپ کی مدد میں لوگوں پر بھاری تھے مگر خفیہ طور پر تمام لوگوں سے آپ پر زیادہ سخت تھے۔
Ayah 6:28

بَلْ بَدَا لَهُمْ مَّا كَانُوْا یُخْفُوْنَ مِنْ قَبْلُ١ؕ وَ لَوْ رُدُّوْا لَعَادُوْا لِمَا نُهُوْا عَنْهُ وَ اِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ Open ayah 6:28 in the Quran reader

ہاں یہ جو کچھ پہلے چھپایا کرتے تھے (آج) ان پر ظاہر ہوگیا ہے اور اگر یہ (دنیا میں) لوٹائے بھی جائیں تو جن (کاموں سے ان) کو منع کیا گیا تھا وہی پھر کرنے لگیں۔ کچھ شک نہیں کہ یہ جھوٹے ہیں۔

(28) بلکہ دنیا میں جو کفر وشرک کو چھپایا کرتے تھے، اس کا انجام اب ظاہر ہوگیا اور اگر ان کی خواہش کے مطابق ان کو دنیا میں بھیج دیا جائے تب بھی یہ کفر وشرک نہیں چھوڑیں گے اور ہرگز ایمان قبول نہیں کریں گے۔
Ayah 6:29

وَ قَالُوْۤا اِنْ هِیَ اِلَّا حَیَاتُنَا الدُّنْیَا وَ مَا نَحْنُ بِمَبْعُوْثِیْنَ Open ayah 6:29 in the Quran reader

اور کہتے ہیں کہ ہماری جو دنیا کی زندگی ہے بس یہی (زندگی) ہے اور ہم (مرنے کے بعد) پھر زندہ نہیں کئے جائیں گے۔

(29) اور کفار مکہ کہتے ہیں کہ زندگی تو صرف دنیا ہی کی زندگی ہے، موت کے بعد کچھ نہیں۔
Ayah 6:30

وَ لَوْ تَرٰۤى اِذْ وُقِفُوْا عَلٰى رَبِّهِمْ١ؕ قَالَ اَلَیْسَ هٰذَا بِالْحَقِّ١ؕ قَالُوْا بَلٰى وَ رَبِّنَا١ؕ قَالَ فَذُوْقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْفُرُوْنَ۠ Open ayah 6:30 in the Quran reader

اور کاش تم (ان کو اسوقت) دیکھو جب یہ اپنے پروردگار کے سامنے کھڑے کئے جائینگے اور وہ فرمائے گا کیا یہ (دوبارہ زندہ ہونا) برحق نہیں تو کہیں گے کیوں نہیں پروردگار کی قسم (بالکل برحق ہے) خدا فرمائے گا اب کفر کے بدلے (جو دنیا میں کرتے تھے) عذاب کے مزے چکھو۔

(30) اور محمد ﷺ اگر آپ ان کو اس وقت دیکھیں، جب کہ وہ اپنے رب کے سامنے حاضر کیے جائیں گے اور اللہ تعالیٰ یا فرشتے ان سے کہیں گے کیا یہ عذاب اور مرنے کے بعد زندہ ہونا حق نہیں ہے یہ کہیں گے بیشک جیسا کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا یہ یقینی اور حق ہے تو اب موت کے بعد دوبارہ اٹھنے کے انکار کے مزہ میں اللہ کے عذاب کا مزہ چکھو۔
Ayah 6:31

قَدْ خَسِرَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِلِقَآءِ اللّٰهِ١ؕ حَتّٰۤى اِذَا جَآءَتْهُمُ السَّاعَةُ بَغْتَةً قَالُوْا یٰحَسْرَتَنَا عَلٰى مَا فَرَّطْنَا فِیْهَا١ۙ وَ هُمْ یَحْمِلُوْنَ اَوْزَارَهُمْ عَلٰى ظُهُوْرِهِمْ١ؕ اَلَا سَآءَ مَا یَزِرُوْنَ Open ayah 6:31 in the Quran reader

جن لوگوں نے خدا کے روبرو کھڑے ہونے کو جھوٹ سمجھا وہ گھاٹے میں آگئے۔ یہاں تک کہ جب ان پر قیامت ناگہاں آموجود ہوگی تو بول اٹھیں گے کہ (ہائے) اس تقصیر پر افسوس ہے جو ہم نے قیامت کے بارے میں کی۔ اور وہ اپنے (اعمال کے) بوجھ اپنی پیٹھوں پر اٹھائے ہوئے ہوں گے۔ دیکھو جو بوجھ یہ اٹھا رہے ہیں بہت برا ہے۔

(31) بعث بعد الموت کے منکروں پر جب اللہ کی طرف سے اچانک عذاب آئے گا تو بولیں گے ہائے افسوس اور ہائے ہماری کم بختی کہ دنیا میں ہم سے ایمان لانے اور توبہ کرنے میں ایسی زبردست غلطی ہوگئی، اور وہ اپنے گناہوں کا بوجھ لادے ہوں گے اور ان کا یہ بوجھ بہت ہی برا ہوگا۔
Ayah 6:32

وَ مَا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَاۤ اِلَّا لَعِبٌ وَّ لَهْوٌ١ؕ وَ لَلدَّارُ الْاٰخِرَةُ خَیْرٌ لِّلَّذِیْنَ یَتَّقُوْنَ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ Open ayah 6:32 in the Quran reader

اور دنیا کی زندگی تو ایک کھیل اور مشغلہ ہے۔ اور بہت اچھا گھر تو آخرت کا گھر ہے (یعنی) ان کے لئے جو (خدا سے) ڈرتے ہیں کیا تم سمجھتے نہیں ؟

(32) اور دنیاوی زندگی میں جو بھی کچھ عیش و عشرت نظر آتی ہے وہ ایک عارضی اور جھوٹی خوشی کی طرح ہے اور اس کے بالمقابل جنت کفر وشرک اور فواحش سے بچنے والوں کے لیے بہتر ہے، یہ منکرین حق پھر بھی نہیں سمجھتے کہ دنیا فانی اور جنت کو بقا ہے۔
Ayah 6:33

قَدْ نَعْلَمُ اِنَّهٗ لَیَحْزُنُكَ الَّذِیْ یَقُوْلُوْنَ فَاِنَّهُمْ لَا یُكَذِّبُوْنَكَ وَ لٰكِنَّ الظّٰلِمِیْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ یَجْحَدُوْنَ Open ayah 6:33 in the Quran reader

ہم کو معلوم ہے کہ ان (کافروں) کی باتیں تمہیں رنج پہنچاتی ہیں (مگر) یہ تمہاری تکذیب نہیں کرتے بلکہ ظالم خدا کی آیتوں سے انکار کرتے ہیں۔

(33) اور حارث بن عامر اور اس کے ساتھیوں کی طعن وتکذیب اور دلائل نبوت کا مطالبہ آپ کو مغموم کرتا ہے اور یہ براہ راست آپ کی تکذیب نہیں کرتے، لیکن یہ مشرکین آیات خداوندی کا جان بوجھ کر انکار کرتے ہیں۔ شان نزول : (آیت) ”قد نعلم انہ“۔ (الخ) امام ترمذی ؒ اور حاکم ؒ نے حضرت علی ؓ سے روایت کیا ہے کہ ابوجہل نے رسول اکرم ﷺ سے کہا کہ ہم آپ کی تکذیب نہیں کرتے بلکہ اس چیز کی تکذیب کرتے ہیں جو آپ لے کر آئے ہیں، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی یہ ظالم آپ کو جھوٹا نہیں کہتے لیکن یہ ظالم اللہ تعالیٰ کی آیات کا انکار کرتے ہیں۔
Ayah 6:34

وَ لَقَدْ كُذِّبَتْ رُسُلٌ مِّنْ قَبْلِكَ فَصَبَرُوْا عَلٰى مَا كُذِّبُوْا وَ اُوْذُوْا حَتّٰۤى اَتٰىهُمْ نَصْرُنَا١ۚ وَ لَا مُبَدِّلَ لِكَلِمٰتِ اللّٰهِ١ۚ وَ لَقَدْ جَآءَكَ مِنْ نَّبَاِی الْمُرْسَلِیْنَ Open ayah 6:34 in the Quran reader

اور تم سے پہلے بھی پیغمبر جھٹلائے جاتے رہے تو وہ تکذیب اور ایذاء پر صبر کرتے رہے۔ یہاں تک کہ ان کے پاس ہماری مدد پہنچتی رہی۔ اور خدا کی باتوں کو کوئی بھی بدلنے والا نہیں۔ اور تم کو پیغمبروں (کے احوال) کی خبریں پہنچ چکی ہیں (تو تم بھی صبر سے کام لو)

(34) جیسا کہ آپ کی قوم آپ کی تکذیب کرتی ہے، اسی طرح اور قوموں نے اپنے رسولوں کی تکذیب کی، چناچہ انہوں نے اپنی قوم کی تکذیب اور ان کی تکلیف پر صبر کیا، یہاں تک کہ اللہ کی طرف سے بصورت عذاب ان کی قوم کی ہلاکت کا وقت آگیا۔ اور اللہ تعالیٰ کی باتوں کو کوئی بدلنے والا نہیں کہ وہ اپنے خاص بندوں کی ان کے دشمنوں کے مقابلہ میں مدد فرماتے ہیں اور محمد ﷺ آپ کے پاس پیغمبروں کے واقعات قرآن کریم میں پہنچ چکے ہیں کہ جیسا آپ کی قوم نے آپ کی تکذیب کی، اسی طرح ان کی قوموں نے انکی بھی تکذیب کی اور اس پر انہوں نے صبر کیا، اگرچہ ان کی یہ تکذیب آپ پر گراں گزرتی ہے۔ (لیکن آپ بھی صبر فرمائیے، اللہ ان کفار سے عنقریب خود ہی نمٹ لے گا)
Ayah 6:35

وَ اِنْ كَانَ كَبُرَ عَلَیْكَ اِعْرَاضُهُمْ فَاِنِ اسْتَطَعْتَ اَنْ تَبْتَغِیَ نَفَقًا فِی الْاَرْضِ اَوْ سُلَّمًا فِی السَّمَآءِ فَتَاْتِیَهُمْ بِاٰیَةٍ١ؕ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَجَمَعَهُمْ عَلَى الْهُدٰى فَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْجٰهِلِیْنَ Open ayah 6:35 in the Quran reader

اور اگر ان کی روگردانی تم پر شاق گزرتی ہے تو اگر طاقت ہو تو زمین میں کوئی سرنگ ڈھونڈھ نکالو یا آسمان میں سیڑھی (تلاش کرو) پھر ان کے پاس کوئی معجزہ لاؤ۔ اور اگر خدا چاہتا تو سب کو ہدایت پر جمع کردیتا۔ پس تم ہرگز نادانوں میں نہ ہونا۔

(35) اور اگر آپ میں یہ قدرت ہے کہ زمین کے اندر جانے کے لیے کوئی سرنگ یا آسمان پر چڑھنے کے لیے کوئی راستہ یا اور کوئی سبب تلاش کرکے پھر ایسا معجزہ لے کر آؤ، جس کا یہ لوگ مطالبہ کررہے ہیں تو پھر ایسا کرو مگر اللہ کی مشیت و ارادے میں ان کے غلط کاموں کی بدولت ان کے لیے کفر ہی لکھا ہوا ہے، ایمان تو صرف وہی حضرات لاتے ہیں جو امر حق کی تصدیق کرتے ہیں یا یہ کہ نصیحت والی باتوں کو سمجھتے ہیں۔
Ayah 6:36

اِنَّمَا یَسْتَجِیْبُ الَّذِیْنَ یَسْمَعُوْنَ١ؔؕ وَ الْمَوْتٰى یَبْعَثُهُمُ اللّٰهُ ثُمَّ اِلَیْهِ یُرْجَعُوْنَؐ Open ayah 6:36 in the Quran reader

بات یہ ہے کہ (حق کو) قبول وہی کرتے ہیں جو سنتے بھی ہیں اور مردوں کو تو خدا (قیامت ہی کو) اٹھائے گا۔ پھر اسی کی طرف لوٹ کر جائیں گے۔

(36) غزوہ بدر، احد، احزاب میں جو لوگے مرے یا یہ کہ ان کے دل مردہ ہیں، وہ سب مرنے کے بعد میدان حشر میں پیش کیے جائیں گے، پھر ان کے اعمال کی جزا وسزا ملے گی۔
Ayah 6:37

وَ قَالُوْا لَوْ لَا نُزِّلَ عَلَیْهِ اٰیَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ١ؕ قُلْ اِنَّ اللّٰهَ قَادِرٌ عَلٰۤى اَنْ یُّنَزِّلَ اٰیَةً وَّ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 6:37 in the Quran reader

اور کہتے ہیں کہ ان پر ان کے پروردگار کے پاس کے کوئی نشانی کیوں نازل نہیں ہوئی ؟ کہہ دو کہ خدا نشانی اتار نے پر قادر ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔

(37) حارث بن عامر اور اس کے ساتھی اور ابوجہل ولید بن صغیرہ، امیہ بن خلف، ابی بن خلف، نضر بن حارث کہتے ہیں کہ آپ کے پروردگار کی طرف آپ کی نبوت کے لیے کوئی معجزہ کیوں نہیں نازل کیا گیا، آپ محمد ﷺ ان سے کہہ دیجیے کہ تمہارے مطالبہ کے مطابق ایسا ہی ہوجاتا مگر اکثر ان میں سے اس کے نزول کے انجام سے بیخبر ہیں۔
Ayah 6:38

وَ مَا مِنْ دَآبَّةٍ فِی الْاَرْضِ وَ لَا طٰٓئِرٍ یَّطِیْرُ بِجَنَاحَیْهِ اِلَّاۤ اُمَمٌ اَمْثَالُكُمْ١ؕ مَا فَرَّطْنَا فِی الْكِتٰبِ مِنْ شَیْءٍ ثُمَّ اِلٰى رَبِّهِمْ یُحْشَرُوْنَ Open ayah 6:38 in the Quran reader

اور زمین میں جو چلنے پھرنے والا (حیوان) یا دو پروں سے اڑنے والا جانور ہے انکی بھی تم لوگوں کی طرح جماعتیں ہیں۔ ہم نے کتاب (یعنی لوح محفوظ) میں کسی چیز (کے لکھنے) میں کوتاہی نہیں کی۔ پھر سب اپنے پروردگار کی طرف جمع کئے جائینگے۔

(38) آسمان و زمین میں جتنے بھی انسان اور مخلوقات ہیں، وہ کھانے اور تقاضہ بشری کے پورا کرنے میں تم جیسے ہیں ، ان میں سے بھی ایک ایک کی بات کو سمجھتا ہے، جیسا کہ تم میں سے ایک دوسرے کی بات کو سمجھتا ہے، مزید تم لوگوں کے لیے اب اور کیا دلیل ومعجزہ ہوگا، لوح محفوظ میں جو بھی ہم نے لکھا ہے، ان میں سے ہر ایک چیز کا قرآن کریم میں (اشارتا) ذکر کردیا ہے، اور پھر یہ پرندے اور تمام جانور تمام مخلوقات کے ساتھ قیامت کے دن اپنے پروردگار کے سامنے جمع کیے جائیں گے۔
Ayah 6:39

وَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا صُمٌّ وَّ بُكْمٌ فِی الظُّلُمٰتِ١ؕ مَنْ یَّشَاِ اللّٰهُ یُضْلِلْهُ١ؕ وَ مَنْ یَّشَاْ یَجْعَلْهُ عَلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 6:39 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا وہ بہرے اور گونگے ہیں (اسکے علاوہ) اندھیرے میں (پڑے ہوئے) جس کو خدا چاہے گمراہ کردے اور جسے چاہے سیدھے راستے پر چلا دے۔

(39) اور جو لوگ رسول اکرم محمد ﷺ اور قرآن کریم کی تکذیب کررہے ہیں، وہ اپنے دلوں سے یہ حق بات کو سننے سے بہرے اور حق کی بات کہنے سے گونگے ہورہے ہیں کفر میں گرفتار ہیں، وہ ذات جس کو چاہے کفر پر موت دے اور جس کو چاہے اپنے پسندیدہ راستہ پر استقامت عطا کرے یا یہ کہ جس کو چاہے ذلیل کرے اور جس کو چاہے ہدایت دے اور صراط مستقیم پر چلائے یعنی دین اسلام کی توفیق عطا فرما دے۔
Ayah 6:40

قُلْ اَرَءَیْتَكُمْ اِنْ اَتٰىكُمْ عَذَابُ اللّٰهِ اَوْ اَتَتْكُمُ السَّاعَةُ اَغَیْرَ اللّٰهِ تَدْعُوْنَ١ۚ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 6:40 in the Quran reader

کہو (کافرو) بھلا دیکھو تو اگر تم پر خدا کا عذاب آجائے یا قیامت آموجود ہو۔ تو کیا تم (ایسی حالت میں) خدا کے سوا کسی اور کو پکارو گے ؟ اگر سچے ہو (تو بتاؤ)۔

(40) اہل مکہ ذرا اپنی حالت تو بتاؤ کہ اگر تمہیں مثلا بدر، احد، احزاب کا سامان کرنا پڑجائے یا قیامت کا عذاب تم پر آجائے تو کیا اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی اور اس عذاب کو ٹال دے گا اگر تم اپنی بات میں سچے ہو کہ یہ بت سفارشی اور اللہ کی خدائی میں شریک ہیں تو اس بات کا جواب دو۔