6. Surah Al-An'aam

الأنعامThe Cattle · 165 ayahsتفسیر درِ منثور

Ayah 6:1

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ جَعَلَ الظُّلُمٰتِ وَ النُّوْرَ١ؕ۬ ثُمَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِرَبِّهِمْ یَعْدِلُوْنَ Open ayah 6:1 in the Quran reader

سب تعریفیں اللہ کے لئے ہیں جس نے پیدا فرمایا آسمانوں کو اور زمین کو اور بنایا تاریکیوں کو اور روشنیوں کو، پھر بھی وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا اپنے رب کے برابر قرار دیتے ہیں۔

(1) امام ابن الضریس نے فضائل القرآن میں، ابن جریر، ابن منذر اور ابو الشیخ نے کعب ؓ سے روایت کیا کہ توراۃ اس آیت سے شروع کی گئی۔ یعنی لفظ آیت الحمد للہ الذی خلق السموت والارض وجعل الظلمت والنور ثم الذین کفروا بربھم یعدلون اور ختم کیا اس آیات کے ساتھ لفظ آیت وقل الحمد للہ الذی لم یتخذ ولدا (سے لے کر) لفظ آیت وکبرۃ تکبیرا تک (بنی اسرائیل آیت 1) (2) امام عبد بن حمید نے ربیع بن انس (رح) سے روایت کیا کہ (یہ آیت) لفظ آیت الحمد للہ الذی خلق السموت والارض وجعل الظلمت والنور ثم الذین کفروا بربھم یعدلون کہ یہ آیت توراۃ میں چھ سو نمبر پر ہے۔ (3) امام ابو الشیخ نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت الحمد للہ الذی خلق السموت والارض کے بارے میں فرمایا (اللہ تعالیٰ نے) اپنی ذات کی تعریف فرمائی اور اپنی مخلوق کی عظمت کا ذکر فرمایا۔ (4) امام ابن ابی حاتم نے علی ؓ سے روایت کیا کہ ایک آدمی خوارج میں سے ان کے پاس آیا اور کہا لفظ آیت الحمد للہ الذی خلق السموت والارض وجعل الظلمت والنور ثم الذین کفروا بربھم یعدلون کیا اس طرح نہیں فرمایا ہاں پھر وہ آدمی واپس جانے لگا ایک نے فرمایا لوٹ آ تو وہ لوٹ آیا آپ نے فرمایا اے (فلاں) یاد رکھ بیشک یہ اہل کتاب کے بارے میں نازل ہوئی۔ (5) امام عبد بن حمید، ابن جریر اور ابو الشیخ نے عبد الرحمن بن ابزی (رح) اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ان کے پاس خوارج میں کوئی آدمی آیا اور ان پر (یہ آیت) پڑھی لفظ آیت الحمد للہ الذی خلق السموت والارض وجعل الظلمت والنور پھر کہا کیا وہ کافر نہیں ہیں جنہوں نے کفر کیا اور وہ (اللہ تعالیٰ ) کے برابر قرار دیتے ہیں ؟ فرمایا ہاں وہ آدمی ان سے چلا گیا قوم میں سے ایک آدمی نے ان سے کہا اے ابن ابزی اس نے اس سوال کے سبب آپ کے نظریہ کے خلاف ارادہ کیا ہے۔ یہ خوارج میں سے ایک آدمی تھا فرمایا مجھ پر اس کو لوٹاؤ جب وہ آیا تو آپ نے فرمایا کیا تو جانتا ہے کہ یہ آیت کس کے بارے میں نازل ہوئی۔ اس نے کہا نہیں پھر فرمایا یہ اہل کتاب کے بارے میں نازل ہوئی سو تم اس کو اس کی غیر جگہ پر نہ رکھو (یعنی اسے اس کے محل کے بغیر چسپاں نہ کرو) (6) امام ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت الحمد للہ الذی خلق السموت والارض وجعل الظلمت والنور (یہ آیت) زنادقہ کے بارے میں نازل ہوئی۔ جب انہوں نے کہا کہ بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے اندھیروں کو پیدا نہیں فرمایا اور نہ کیڑوں کو نہ بچھوؤں کو اور نہ کسی بری چیز کو اس نے نور کو پیدا کیا اور اچھی چیز کو پیدا فرمایا تو ان کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی۔ (7) امام ابو الشیخ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ جبرئیل ستر ہزار فرشتوں کے ساتھ نازل ہوئے۔ ان کے ساتھ سورة انعام بھی اور وہ تسبیح تکبیر تہلیل اور تحمید کے ساتھ ان کی آواز میں بلند تھیں۔ اور فرمایا کہ لفظ آیت الحمد للہ الذی خلق السموت والارض اس میں سے تین ادیان کا رد ہے۔ اس میں دھریہ پر بھی رد کیا گیا ہے اس لئے ان کا نظریہ یہ ہے کہ ساری اشیاء ہمیشہ سے ہیں۔ پھر فرمایا لفظ آیت وجعل الظلمت والنور اس میں مجوس پر رد کیا ہے۔ جن لوگوں نے گمان کیا کہ اندھیرا اور روشنی کہ وہ دونوں تدبیر کرنے والے ہیں۔ اور فرمایا لفظ آیت ثم الذین کفروا بربھم یعدلون اس میں عرب کے مشرکین پر بھی رد ہے۔ جنہوں نے اللہ کے علاوہ دوسرے خدا کو پکارا۔ (8) امام ابن جریر نے ابوروق (رح) سے روایت کیا کہ ہر چیز قرآن میں لفظ آیت جعل سے مراد ہے پیدا کرنا۔ (9) امام ابو الشیخ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت وجعل الظلمت والنور سے مراد کفر اور ایمان۔ (10) امام عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت الحمد للہ الذی خلق السموت والارض وجعل الظلمت والنور سے مراد ہے کہ اللہ تعالیٰ نے زمین سے پہلے آسمانوں کو پیدا فرمایا اور اندھیرے کو روشنی سے پہلے اور جنت کو دوزخ سے پہلے (پھر فرمایا) لفظ آیت ثم الذین کفروا بربھم یعدلون فرمایا اللہ کے ساتھ برابری کرنے والوں نے جھوٹ کہا یہ لوگ شرک کرنے والے ہیں۔ (11) امام ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت خلق السموت والارض وجعل کے بارے میں فرمایا کہ لفظ آیتالظلمت سے رات کا اندھیرا مراد ہے لفظ آیت النور سے دن کی روشنی مراد ہے۔ لفظ آیت ثم الذین کفروا بربھم یعدلون یعنی وہ شرک ہیں۔ (12) امام ابن ابی شیبہ، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ثم الذین کفروا بربھم یعدلون یعنی وہ لوگ شرک کرتے ہیں۔ (13) امام ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ثم الذین کفروا بربھم یعدلون سے مراد ہے وہ معبودان باطلہ ہیں۔ جن کی انہوں نے عبادت کی اور ان کو اللہ تعالیٰ کے برابر قرار دیا حالانکہ ان کے لئے کوئی برابری نہیں۔ اور کوئی ہمسر نہیں۔ اور اس کے ساتھ کوئی معبود نہیں نہ اس کی بیوی ہے اور نہ اس کی اولاد ہے۔
Ayahs 6:2–5

هُوَ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ مِّنْ طِیْنٍ ثُمَّ قَضٰۤى اَجَلًا١ؕ وَ اَجَلٌ مُّسَمًّى عِنْدَهٗ ثُمَّ اَنْتُمْ تَمْتَرُوْنَ Open ayah 6:2 in the Quran reader

وہی ہے جس نے تم کو پیدا کیا کیچڑ سے، پھر اجل مقرر فرمائی اور اس کے پاس ایک اجل مقرر ہے، پھر تم شک کرتے ہو۔

وَ هُوَ اللّٰهُ فِی السَّمٰوٰتِ وَ فِی الْاَرْضِ١ؕ یَعْلَمُ سِرَّكُمْ وَ جَهْرَكُمْ وَ یَعْلَمُ مَا تَكْسِبُوْنَ Open ayah 6:3 in the Quran reader

اور وہ اللہ ہے آسمانوں میں اور زمین میں وہ جانتا ہے باطنی حالات کو اور ظاہر حالات کو، اور وہ جانتا ہے جو تم عمل کرتے ہو۔

وَ مَا تَاْتِیْهِمْ مِّنْ اٰیَةٍ مِّنْ اٰیٰتِ رَبِّهِمْ اِلَّا كَانُوْا عَنْهَا مُعْرِضِیْنَ Open ayah 6:4 in the Quran reader

اور جب ان کے رب کی نشانیوں میں سے ان کے پاس کوئی نشانی آتی ہے تو اس سے اعراض کرتے ہیں۔

فَقَدْ كَذَّبُوْا بِالْحَقِّ لَمَّا جَآءَهُمْ١ؕ فَسَوْفَ یَاْتِیْهِمْ اَنْۢبٰٓؤُا مَا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ Open ayah 6:5 in the Quran reader

سو بلاشبہ انہوں نے حق کو جھٹلایا جب ان کے پاس آیا۔ سو عنقریب آجائیں گی ان کے پاس اس چیز کی خبریں جس کا مذاق بنایا کرتے ہیں۔

(1) امام ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ھوالذی خلقکم من طین یعنی آدم (علیہ السلام) (مٹی سے پیدا ہوئے) لفظ آیت ثم قضیٰ اجلا یعنی موت کی مدت لفظ آیت واجل مسمی عندہ یعنی قیامت کی مدت بھی مقرر ہے جس کو اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ (2) امام فریابی، ابن ابی شیبہ، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم، ابو الشیخ اور حاکم نے (اور آپ نے اس کی تصحیح بھی کی ہے) ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ثم قضی اجلا یعنی دنیا کی مدت اور دوسرے لفظ پر موت کا مقرر وقت بھی مذکور ہے۔ لفظ آیت واجل مسمی عندہ یعنی آخرت کی مدت بھی مقرر ہے جس کو اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ (3) امام ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت قضی اجلا سے مراد ہے نیند اللہ تعالیٰ اس میں روح قبض کرلیتے ہیں پھر اس کے جاگنے کے وقت اس کی طرف واپس لوٹا دیتے ہیں۔ لفظ آیت واجل مسمی عندہ یعنی انسان کے موت کے وقت۔ (4) امام عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ھوالذی خلقکم من طین سے مراد ہے کہ یہ پیدائش کی ابتدا کا ذکر ہے۔ جب آدم (علیہ السلام) کو مٹی سے پیدا کیا گیا پھر فرمایا لفظ آیت ثم جعل نسلہ من سللۃ من ماء مھین اور فرمایا لفظ آیت ثم قضی اجلا واجل مسمی عندہ کے بارے میں فرماتے ہیں کہ اس سے مراد تیری زندگی کا مقرر وقت موت تک ہے۔ اور تیری موت سے لے کر تیرے (دوبارہ) اٹھنے کے دن تک لفظ آیت ثم انتم تمترون پھر بھی تم اس میں شک کر رہے ہو۔ (5) امام عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر اور ابو الشیخ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ثم قضی اجلا یعنی دنیا کی موت کی مدت لفظ آیت واجل مسمی عندہ یعنی آخرت میں (دوبارہ) اٹھائے جانے کا مقرر وقت۔ (6) امام عبد الرزاق، ابن جریر، ابن منذر اور ابو الشیخ نے قتادہ و حسن رحمۃ اللہ علیہا دونوں حضرات سے روایت کیا کہ لفظ آیت ثم قضی اجلا سے مراد ہے دنیا کی مدت کو پورا ہوتا تیرے پیدا ہونے سے لے کر (تیری) موت تک لفظ آیت واجل مسمی عندہ میں قیامت کے دن۔ (7) امام ابو الشیخ نے یونس بن یزید ایلی (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ثم قضی اجلا سے مراد ہے۔ جب پیدا فرمایا چھ دنوں میں لفظ آیت واجل مسمی عندہ سے مراد ہے کہ اس کے بعد جو قیامت کے دن تک تخلیق فرمائے گا۔ (8) امام ابن جریر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ثم انتم تمترون یعنی تم شک کرتے ہو۔ (9) امام ابن ابی حاتم نے خالد بن معدان (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ثم انتم تمترون یعنی تم دوبارہ اٹھنے میں شک کرتے ہو۔ کتاب اللہ کا مذاق اڑانا بدترین گناہ ہے (10) امام ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت وما تاتیھم من ایۃ من ایت ربھم الا کانوا عنھا معرضین یعنی کتاب اللہ میں سے جو بھی چیز تمہارے پاس آئی تو تم نے اس سے اعراض کیا۔ اور اللہ تعالیٰ کا یہ قول لفظ آیت فقد کذبوا بالحق لما جاء ھم فسوف یاتیھم انبوا ما کانوا بہ یستھزء ون یعنی عنقریب ان کے پاس قیامت کے دن خبریں آئیں گی جو وہ کتاب اللہ عزوجل کے ساتھ مذاق بنایا کرتے تھے۔
Ayah 6:6

اَلَمْ یَرَوْا كَمْ اَهْلَكْنَا مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنْ قَرْنٍ مَّكَّنّٰهُمْ فِی الْاَرْضِ مَا لَمْ نُمَكِّنْ لَّكُمْ وَ اَرْسَلْنَا السَّمَآءَ عَلَیْهِمْ مِّدْرَارًا١۪ وَّ جَعَلْنَا الْاَنْهٰرَ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهِمْ فَاَهْلَكْنٰهُمْ بِذُنُوْبِهِمْ وَ اَنْشَاْنَا مِنْۢ بَعْدِهِمْ قَرْنًا اٰخَرِیْنَ Open ayah 6:6 in the Quran reader

کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ ہم نے ان سے پہلے کتنی امتوں کو ہلاک کردیا، ان کو ہم نے زمین میں ایسا اقتدار دیا تھا جو تم کو نہیں دیا اور ہم نے ان پر زوردار بارشیں برسائیں اور ہم نے نہریں بنا دیں جو ان کے نیچے جاری تھیں پھر ہم نے ان کو ان کے گناہوں کے سبب ہلاک کردیا اور ان کے بعد ہم نے دوسری امتیں پیدا کردیں۔

(1) امام ابن ابی حاتم نے ابو مالک (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت من قرن سے مراد امت ہے۔ (2) امام عبد الرزاق، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ اس آیت کے متعلق لفظ آیت مکنھم فی الارض ما لم نمکن لکم یعنی ہم نے اس کو جو کچھ عطا کیا تھا جو ہم نے تم کو عطا نہیں کیا۔ (3) امام ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے علی کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت وارسلنا السمآء علیھم مدرارا کے بارے میں فرمایا کہ اس سے مراد یہ مسلسل برسنے والی موسلا دھار بارش ہے۔ (4) امام ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے ہارون التمیمی (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت وارسلنا السمآء علیھم مدرارا یعنی ایسی بارش جو موسلادھار اور تیز ہو۔
Ayah 6:7

وَ لَوْ نَزَّلْنَا عَلَیْكَ كِتٰبًا فِیْ قِرْطَاسٍ فَلَمَسُوْهُ بِاَیْدِیْهِمْ لَقَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا سِحْرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 6:7 in the Quran reader

اگر ہم اتار دیں آپ پر کاغذ میں لکھا ہوا کوئی نوشتہ پھر وہ اس کو اپنے ہاتھوں سے چھو لیں تب بھی کافر لوگ کہیں گے کہ یہ کچھ بھی نہیں ہے مگر صریح جادو ہے۔

(1) امام ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے عوفی کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ولو نزلنا علیک کتبا فی قرطاس فلمسوہ بایدیھم یعنی اگر ہم آسمان سے کوئی صحیفہ نازل فرمائیں اس میں لکھا ہوا ہو اس کو اپنے ہاتھوں سے چھو بھی لیں۔ تو یہ بات ان کی تکذیب میں اور زیادہ کردیتی ہے۔ (2) امام عبد الرزاقد، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ولو نزلنا علیک کتبا فی قرطاس کہ اس میں قرطاس سے مراد صحیفہ ہے۔ (3) امام عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت فلمسوہ بایدیھم کے بارے میں فرمایا کہ اگر وہ اس کو (اپنی) آنکھوں سے دیکھ لیں اور اپنے ہاتھوں سے چھو لیں (تب بھی ایمان نہیں لائیں گے) ۔ (4) امام ابن ابی شیبہ، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے مجاہد سے روایت کیا کہ لفظ آیت فلمسوہ بایدیھم یعنی اس کو چھو لیں اور اس کی طرف دیکھ لیں تو اس کی تصدیق نہیں کریں گے۔
Ayahs 6:8–9

وَ قَالُوْا لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْهِ مَلَكٌ١ؕ وَ لَوْ اَنْزَلْنَا مَلَكًا لَّقُضِیَ الْاَمْرُ ثُمَّ لَا یُنْظَرُوْنَ Open ayah 6:8 in the Quran reader

اور وہ کہتے ہیں کہ کیوں نہیں اتارا گیا اس پر فرشتہ اور اگر ہم کوئی فرشتہ اتار دیتے تو فیصلہ کردیا جاتا پھر ان کو کوئی مہلت نہ دی جاتی

وَ لَوْ جَعَلْنٰهُ مَلَكًا لَّجَعَلْنٰهُ رَجُلًا وَّ لَلَبَسْنَا عَلَیْهِمْ مَّا یَلْبِسُوْنَ Open ayah 6:9 in the Quran reader

اور اگر ہم اس کو فرشتہ بناتے تو اس کو آدمی ہی بناتے اور ہم ان پر شبہ ڈال دیتے جس شبہ میں وہ اب پڑ رہے ہیں۔

(1) امام ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے محمد بن اسحاق (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی قوم کو اسلام کی طرف بلایا اور ان سے بات اور ان کو (اللہ کا پیغام پہنچایا) آپ کو زمعہ بن اسود بن عبد المطلب نضر بن حارث ابی کلدہ عبدۃ بن عبد یعوث، ابی بن خلف بن وھب اور عاص بن وائل بن ہشام نے کہا اگر تیرے ساتھ کوئی فرشتہ ہوتا جو تیری طرف سے لوگوں کو بیان کرتا اور وہ تیرے ساتھ دیکھا جاتا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی بات کو اس طرح نازل فرمایا لفظ آیت وقالوا لولا انزل علیہ ملک (الایہ) (2) امام عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس قول لفظ آیت وقالوا لولا انزل علیہ ملک کے بارے میں فرمایا یعنی فرشتہ آدمی اس آیت میں کیوں نہیں اتارا گیا لفظ آیت ولو انزلنا ملکا لقضی الامر تو قیامت قائم ہوجاتی اگر ہم فرشتہ اتارتے۔ (3) امام عبد الرزاق، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس آیت کے متعلق فرمایا لفظ آیت ولو انزلنا ملکا لقضی الامر یعنی اگر اللہ تعالیٰ نے فرشتہ کو اتارتا پھر وہ ایمان نہ لاتے تو ان کے لئے عذاب کی جلدی کی جاتی۔ فرشتے کو مطالبہ پر اتارتے تو کام تمام ہو جاتا (4) امام ابن جریر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ولو انزلنا ملکا اگر ان کے پاس فرشتہ اس کی صورت میں آتا تو لفظ آیت لقضی الامر ہم ان کو ضرور ہلاک کردیتے لفظ آیت ثم لا ینظرون یعنی ڈھیل نہ دئیے جاتے لفظ آیت ولو جعلنہ ملکا لجعلنہ رجلا وللبسنا یعنی اگر ان کے پاس فرشتہ آتا تو ان کے پاس آدمی کی صورت میں آتا۔ کیونکہ وہ اس کی طرف دیکھنے کی طاقت نہ رکھتے۔ لفظ آیت وللبسنا علیھم ما یلبسون تو ہم اس پر ان پر معاملہ خلط کردیتے جس طرح وہ ابھی خلط کر رہے ہیں۔ (5) امام عبد بن حمید اور ابن جریر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ولو جعلنہ ملکا لجعلنہ رجلا کے بارے میں فرمایا اگر ہم کسی فرشتہ کو نبی بناتے تو یقیناً ہم اسے انسان کی شکل میں اور انسان کی طرح پیدا کر کے نبی بناتے۔ (6) امام عبد الرزاق، عبد بن حمید، ابن جریر اور ابو الشیخ نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ولو جعلنہ ملکا لجعلنہ رجلا یعنی آدمی کی صورت میں بناتے۔ (7) امام ابن جریر نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ولو جعلنہ ملکا لجعلنہ رجلا کے بارے میں فرمایا ہم اس فرشتہ کو آدمی کی صورت میں بناتے ہم اس کو فرشتوں کی صورت میں نہ بھیجتے۔ (8) امام ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت وللبسنا علیھم یعنی ہم ان پر مشتبہ بنا دیتے۔ (9) امام ابن جریر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت وللبسنا علیھم ما یلبسون کے بارے میں فرمایا ہم ان پر مشتبہ بنا دیتے جس طرح وہ اس شبہ میں پڑے ہوئے ہیں۔ (10) امام ابن جریر اور ا بو الشیخ نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت وللبسنا علیھم ما یلبسون کے بارے میں فرمایا کہ کوئی قوم شبہات میں نہیں پڑتی مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ ان پر معاملہ کو مشتبہ کردیتے ہیں۔ التباس اور اشتباہ کی جانب سے اور اللہ تعالیٰ (اس بات کو) بندوں کے لئے واقع بیان کردیا۔ اور اپنے رسولوں کو بھیج دیا اور ان پر حجت اور دلائل قائم کئے اور ان کو اپنی آیات اور نشانیاں دکھائی دیں اور ان کو وعید بھی سنا دی۔
Ayah 6:10

وَ لَقَدِ اسْتُهْزِئَ بِرُسُلٍ مِّنْ قَبْلِكَ فَحَاقَ بِالَّذِیْنَ سَخِرُوْا مِنْهُمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ۠ Open ayah 6:10 in the Quran reader

اور بلاشبہ آپ سے پہلے رسولوں کے ساتھ استہزاء کیا گیا پھر جن لوگوں نے استہزاء کیا ان کو اس چیز سے گھیر لیا جس کو وہ مذاق اڑایا کرتے تھے۔

(1) امام ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے محمد بن اسحاق (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ ولید بن مغیرہ، امیہ بن خلف، ابو جہل بن ہشام کے پاس سے گزرے تو۔ انہوں نے آپ کو ہٹا دیا اور آپ کے ساتھ مذاق اڑایا۔ اس بات سے آپ غصہ ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا لفظ آیت ولقد استھزی برسل من قبلک فحاق بالذین سخروا منھم ما کانوا بہ یستھزء ون (2) امام ابن جریر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت فحاق بالذین سخروا منھم سے مراد رسول ہیں جن کو وہ مذاق اڑا رہے تھے۔ لفظ آیت ما کانوا بہ یستھزء ون یعنی انہیں اس چیز نے عذاب میں واقع کیا جس کے ساتھ انہوں نے مذاق کیا۔
Ayahs 6:11–12

قُلْ سِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ ثُمَّ انْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُكَذِّبِیْنَ Open ayah 6:11 in the Quran reader

آپ فرما دیجئے کہ چلو زمین میں پھر دیکھو جھٹلانے والوں کا کیا انجام ہوا۔

قُلْ لِّمَنْ مَّا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ قُلْ لِّلّٰهِ١ؕ كَتَبَ عَلٰى نَفْسِهِ الرَّحْمَةَ١ؕ لَیَجْمَعَنَّكُمْ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ لَا رَیْبَ فِیْهِ١ؕ اَلَّذِیْنَ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ فَهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 6:12 in the Quran reader

آپ فرما دیجئے ! کس کی ملکیت ہے جو آسمانوں میں ہے اور زمینوں میں ہے۔ فرمادیجئے کہ یہ سب اللہ ہی کے لئے ہے اس نے اپنے اوپر رحمت کرنا لازم فرمالیا ہے، وہ ضرور تم کو قیامت کے دن جمع فرمائے گا جس میں کوئی شک نہیں، جن لوگوں نے اپنی جانوں کو نقصان میں ڈالا وہ ایمان نہیں لائیں گے۔

شریعت کا جھٹلانے والوں کا انجام (1) امام ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت قل سیروا فی الارض ثم انظروا کیف کان عاقبۃ المکذبین یعنی برا ہے اللہ کی قسم جھٹلانے والوں کا کیا انجام ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کو ہلاک کردیا۔ اور ان کو ہلاک کرنے کے بعد ان کو دوزخ میں ڈال دیا۔ (2) امام عبد الرزاق، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے سلمان (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت کتب علی نفسہ الرحمۃ یعنی کہ میں نے تورات میں پایا دو مہربانیوں کو اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کو پیدا فرمایا پھر مخلوق کے پیدا کرنے سے پہلے سورتیں پیدا فرمائیں پھر مخلوق کو پیدا فرمایا اور ان میں ایک رحمت رکھی۔ اور اپنے پاس ننانوے رحمتیں روک لیں۔ اسی ایک رحمت کی وجہ سے (مخلوق) آپس میں رحم کرتی ہے۔ اس وجہ سے ایک دوسرے پر مہربانی کرتے ہیں، اسی وجہ سے ایک دوسرے پر خرچ کرتے ہیں اسی وجہ سے ایک دوسرے کی زیارت کرتے ہیں اسی وجہ سے اونٹنی (شفقت والی) آواز نکالتی ہے۔ اسی وجہ سے گائے بچے دیتی ہے۔ اسی وجہ سے بکری ممیاتی ہے، اسی وجہ سے پرندے ایک دوسرے کے پیچھے جاتے ہیں اسی وجہ سے سمندر میں مچھلیاں ایک دوسرے کے پیچھے جاتی ہیں۔ جب قیامت کا دن ہوگا یہ رحمت جمع ہوگی ان رحمتوں کی طرف جو اس کے پاس ہیں اور اس کی رحمت افضل ہے اور بہت وسیع ہے۔ (3) امام احمد، مسلم اور بیہقی نے الاسماء والصفات میں سلمان ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا جس دن اللہ تعالیٰ نے آسمان اور زمین کو پیدا فرمایا سو رحمتوں کو بھی پیدا فرمایا اس میں سے ایک رحمت کے سبب ساری مخلوق آپس میں ایک دوسرے پر رحم کرتی ہے۔ اور ننانوے رحمتیں قیامت کے دن کے لئے ہیں جب قیامت کا دن ہوگا تو اس رحمت کے ساتھ اس کو پورا کردیا جائے گا۔ (4) امام عبد الرزاق، فریابی، ابن ابی شیبہ، بخاری، مسلم، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم، ابن مردویہ اور بیہقی نے الاسماء والصفات میں ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب اللہ تعالیٰ نے (مخلوق کو) پیدا کرنے کا فیصلہ فرمایا تو ایک کتاب کو اپنی قدرت سے جمع فرمایا اور اس کو اپنے پاس عرش کے اوپر رکھ دیا کہ میری رحمت میرے غصے پر سبقت کرگئی ہے۔ (5) امام ترمذی نے (اس کو صحیح بھی قرار دیا) ، ابن جریر، ابن مردویہ اور بیہقی نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا فرمایا تو اپنے ہاتھ سے اپنی ذات کے بارے میں ایک کتاب لکھی کہ میری رحمت غالب ہے میرے غصے پر۔ (6) امام ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب اللہ تعالیٰ مخلوق کے درمیان فیصلہ کرنے سے فارغ ہوجائیں گے تو عرش کے نیچے سے ایک کتاب نکالیں گے۔ (جس میں یہ لکھا ہوگا) میری رحمت میرے غصہ پر غالب ہے۔ اور میں سب رحم کرنے والوں سے زیادہ رحم کرنے والا ہوں۔ پس اللہ تعالیٰ اپنے دست قدرت سے ایک مٹھی بھر کر آگ سے نکالیں گے جو بہت مخلوق ہوگی، جنہوں نے کوئی خیر کا کام نہیں کیا ہوگا۔ ان کی آنکھوں کے درمیان لکھا ہوگا لفظ آیت عتقاء اللہ اللہ تعالیٰ کے آزاد کردہ۔ (7) امام ابن مردویہہ نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے ایک کتاب اپنے ہاتھ سے اپنی ذات کے لئے لکھی۔ آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے سے پہلے اور اس کو اپنے عرش کے نیچے رکھا اس میں یہ تھا میری رحمت میری غصہ سے آگے بڑھ گئی۔ (8) امام عبد الرزاق، عبد بن حمید اور ابن جریر نے طاؤس (رح) سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے جب مخلوق کو پیدا فرمایا تو اس میں سے کوئی چیز دوسری پر مہربان نہ تھی یہاں تک کہ سو رحمتوں کو پیدا فرمایا ان کے درمیان ایک رحمت کو رکھا۔ اس وجہ سے ایک دوسرے پر شفقت کرنے لگے۔ (9) امام ابن جریر نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا (اور کہا کہ میرے گمان کے مطابق عکرمہ نے سند کو رسول اللہ تک پہنچایا ہے) کہ جب اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کے فیصلہ سے فارغ ہوجائیں گے تو ایک کتاب عرش کے نیچے سے نکالیں گے جس میں یہ ہوگا کہ میری رحمت میرے غصہ سے آگے بڑھ گئی۔ اور میں سب رحم کرنے والوں سے زیادہ رحم کرنے والا ہوں۔ پھر اہل جنت کے برابر دوزخ میں سے نکالیں گے۔ یا فرمایا اہل جنت کی مثل لوگوں کو جہنم سے نکالیں گے۔ دنیا کے لئے ایک رحمت قیامت کے لئے سو رحمتیں (10) امام عبد بن حمید، ابن جریر اور ابن ابو الشیخ نے عبد اللہ بن عمر ؓ سے روایت کیا کہ اللہ کے لئے سو رحمتیں ہیں اس میں سے ایک رحمت اہل دنیا کی طرف نیچے اتاری (اس وجہ سے) ایک دوسرے پر رحمت کرتے ہیں جن اور انسان۔ اور آسمان کے پرندے۔ پانی کی مچھلیاں، زمین کے جانور اور وہ (زمین) اس کی ماں ہے اور جو کچھ ہوا کے درمیان ہے۔ اور ننانوے رحمتیں اپنے پاس خزانہ کریں۔ یہاں تک کہ جب قیامت کا دن ہوگا تو اس رحمت کو کھینچ نکالیں گے۔ جس کو اہل دنیا پر اتارا تھا۔ اسے نکال کر اسے اپنی ان رحمتوں میں شامل کرلیں گے جو ان کے پاس ہیں اور پھر ان کو اہل جنت کے دلوں میں اور اہل جنت کے اوپر نازل کریں گے۔ (11) امام ابن جریر نے ابو المخارق زہیر بن مسلم (رح) سے روایت کیا کہ حضرت عمر ؓ نے کعب ؓ سے فرمایا سب سے پہلے کونسی چیز ہے جس سے اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق کی ابتداء کی کعب نے فرمایا اللہ نے ایک کتاب لکھی تو اس کو قلم کے ساتھ لکھا اور نہ ہی روشنائی کے ساتھ۔ لیکن اس کو اپنی انگلی سے لکھا کہ اس کے الفاظ زبر جد موتی اور یاقوت کے تھے (اس میں سے تھا) میں اللہ ہوں سوائے میرے کوئی معبود نہیں۔ میرے رحمت میرے غصہ سے آگے بڑھ گئی۔ (12) امام ابن ابی الدنیا نے کتاب حسن الظن باللہ میں ابو قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں سے فرمایا کیا میں تم کو بنی اسرائیل میں سے دو بندوں کے بارے میں نہ بتاؤں ؟ ان میں سے ایک کو خیال کرتے تھے۔ کہ وہ دین میں علم میں اور اخلاق میں سب سے افضل ہے۔ اور دوسرے زیادتی کرنے والا ہے اپنی ذات پر تو یہ بات اس کے ساتھی سے ذکر کی گئی۔ تو اس نے کہا اللہ تعالیٰ اس کی ہرگز مغفرت نہیں کرے گا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کیا وہ نہیں جانتا کہ میں ارحم الراحمین ہوں۔ کیا وہ نہیں جانتا کہ میرے رحمت میرے غصہ سے آگے بڑھ گئی۔ اور میں نے اس کے لئے عذاب کو واجب کردیا ہے پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کے بارے میں قسمیں نہ لگایا کرو۔ (13) امام ابن ابی شیبہ اور ابن ماجہ نے ابو سعید ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے کے دن اللہ تعالیٰ نے سو رحمتوں کو پیدا فرمایا اس میں سے ایک زمین میں نازل فرمایا۔ اس لئے والدہ شفقت کرتی ہے اپنے بیٹے پر اور درندے بعض پر بعض پر شفقت کرتے ہیں اور ننانوے رحمتیں قیامت کے دن کے لئے اپنے پاس محفوظ رکھیں۔ جب قیامت کا دن ہوگا۔ تو اس رحمت سے سو رحمتوں کو پورا فرمائیں گے۔ (14) امام سلم اور ابن مردویہ نے سلمان ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے کے دن سو رحمتوں کو پیدا فرمایا تمام رحمتیں آسمانوں اور زمین کے درمیان تہہ بہ تہہ موجود ہیں اس میں سے ایک رحمت کو زمین میں رکھا۔ اس وجہ سے والدہ اپنے بچے پر شفقت کرتی ہے۔ اور وحشی درندہ اور پرندے ایک دوسرے کے ساتھ پیار محبت کرتے ہیں۔ جب قیامت کا دن ہوگا تو اس رحمت سے سو رحمتیں مکمل ہوجائیں گی۔
Ayahs 6:13–18

وَ لَهٗ مَا سَكَنَ فِی الَّیْلِ وَ النَّهَارِ١ؕ وَ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 6:13 in the Quran reader

اور اسی کے لئے ہے جو ساکن سے رات میں اور دن میں، اور وہ سننے والا جاننے والا ہے۔

قُلْ اَغَیْرَ اللّٰهِ اَتَّخِذُ وَلِیًّا فَاطِرِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ هُوَ یُطْعِمُ وَ لَا یُطْعَمُ١ؕ قُلْ اِنِّیْۤ اُمِرْتُ اَنْ اَكُوْنَ اَوَّلَ مَنْ اَسْلَمَ وَ لَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُشْرِكِیْنَ Open ayah 6:14 in the Quran reader

آپ فرما دیجئے ! کیا میں اللہ کے سوا کسی کو مددگار بنالوں جو پیدا کرنے والا ہے آسمانوں کا اور زمین کا اور وہ کھلاتا ہے اور اسے کھلایا نہیں جاتا۔ آپ فرمایئے ! بلاشبہ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں سب سے پہلا وہ شخص وہ جاؤں جو فرمانبردار ہوا، اور آپ ہرگز مشرکین میں سے نہ ہوجایئے۔

قُلْ اِنِّیْۤ اَخَافُ اِنْ عَصَیْتُ رَبِّیْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ Open ayah 6:15 in the Quran reader

آپ فرما دیجئے ! کہ بیشک ! میں اگر اپنے رب کی نافرمانی کروں تو بڑے دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں۔

مَنْ یُّصْرَفْ عَنْهُ یَوْمَئِذٍ فَقَدْ رَحِمَهٗ١ؕ وَ ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْمُبِیْنُ Open ayah 6:16 in the Quran reader

اس دن جس سے عذاب ہٹا دیا گیا سو میرے رب نے اس پر رحم فرمایا اور یہ کھلی ہوئی کامیابی ہے۔

وَ اِنْ یَّمْسَسْكَ اللّٰهُ بِضُرٍّ فَلَا كَاشِفَ لَهٗۤ اِلَّا هُوَ١ؕ وَ اِنْ یَّمْسَسْكَ بِخَیْرٍ فَهُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 6:17 in the Quran reader

اور اگر اللہ تعالیٰ تجھے کوئی تکلیف پہنچا دے تو اس تکلیف کا دور کرنے والا اس کے علاوہ کوئی نہیں اور اگر وہ تجھے کوئی بھلائی پہنچا دے تو وہ ہر چیز پر قادر ہے۔

وَ هُوَ الْقَاهِرُ فَوْقَ عِبَادِهٖ١ؕ وَ هُوَ الْحَكِیْمُ الْخَبِیْرُ Open ayah 6:18 in the Quran reader

اور وہ اپنے بندوں پر غالب ہے اور وہ حکمت والا ہے باخبر ہے۔

(1) امام ابن جریر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ولہ ما سکن فی الیل والنھار کے بارے میں فرمایا جو رات میں یا دن میں ساکن ہے اور اللہ تعالیٰ کے اس قول لفظ آیت قل اغیر اللہ اتخذ ولیا کے بارے میں فرمایا کہ یہاں سے ولی سے مراد ایسا ولی ہے جسے ولی بنا کر اس کی ربوبیت کا اقرار کیا جائے۔ (آپ فرما دیجئے کیا میں اللہ کو چھوڑ کر کسی اور کو اپنا رب بنالوں) (2) امام ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت فاطر السموت والارض یعنی بغیر نمونے کے پیدا کرنے والا ہے آسمانوں اور زمین کو۔ (3) امام ابو عبید نے فضائل میں، ابن جریر اور ابن الانباری نے الوقف میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ میں نہیں جانتا تھا کہ کیا معنی ہے لفظ آیت فاطر السموت والارض یہاں تک کہ میرے پاس دو دیہاتی آئے جو ایک کنویں کے بارے میں جھگڑا کر رہے تھے ان میں سے ایک نے کہا لفظ آیت انا فطرتھا یعنی میں نے اس کنویں کی ابتداء کی۔ (4) امام عبد الرزاق، ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت فاطر السموت والارض سے مراد ہے پیدا کرنے والے آسمانوں کے اور زمین کے۔ (5) امام ابن جریر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت وھو یطعم ولا یطعم سے مراد ہے وہ رزق دیتا ہے اور وہ رزق نہیں دیا جاتا۔ کھانے کے بعد کی دعاء (6) امام نسائی، ابن ابی حاکم، بیہقی نے الشعب میں اور ابن مردویہ نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ انصار میں سے ایک آدمی نے نبی ﷺ کی دعوت کی ہم بھی آپ کے ساتھ شریک ہوئے جب نبی ﷺ کھانا کھاچکے اور آپ نے اپنے ہاتھوں کو دھویا تو اس طرح دعا فرمائی سب تعریف اس اللہ کے لئے ہے۔ جو کھلاتا ہے اور (خود) نہیں کھلایا جاتا۔ اور ہم پر احسان فرمایا ہم کو ہدایت دی ہم کو کھلایا اور ہم کو پلایا اور یہ اچھی چیز کے ساتھ ہی ہمیں آزماتا ہے۔ سب تعریف اللہ کے لئے ہے جو میرا رب ہے جسے چھوڑا نہیں جاسکتا اور نہ اس سے بدلہ لیا جاسکتا ہے نہ اس کا انکار کیا گیا ہے اور نہ اس سے بےپرواہی برتی جاسکتی ہے۔ سب تعریف اس اللہ کے لئے ہے جس نے ہم کا کھانا کھلایا اور جس نے ہم کو پانی پلایا اور جس نے ہم کو ننگے ہونے پر کپڑا پہنایا اور ہم کو گمراہی سے ہدایت دی اور اندھے کو آنکھیں دیں اور ہم کو اپنی بہت سی مخلوق پر فضیلت دی سب تعریفیں اس اللہ کے لئے ہیں جو جہاں والوں کا رب ہے۔ (7) امام عبد الرزاق، ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت من یصرف عنہ یومئذ فقد رحمہ یعنی جو شخص جس سے اس دن عذاب کو ہٹا دیا گیا۔ (8) امام ابن ابی حاتم نے بشر بن السری کے طریق سے ہارون نحوی (رح) سے روایت کیا کہ ابی کی قرأۃ میں یوں تھا لفظ آیت من یصرف عنہ یعنی وہ شخص جس سے اللہ تعالیٰ نے اس دن کا عذاب پھیر دیا۔ (9) امام ابو الشیخ نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت وان یمسسک اللہ بضر فلا کاشف لہ سے مراد ہے عافیت یعنی اگر اللہ تعالیٰ تجھے کوئی عافیت پہنچائے تو اسے کوئی روک نہیں سکتا۔
Ayah 6:19

قُلْ اَیُّ شَیْءٍ اَكْبَرُ شَهَادَةً١ؕ قُلِ اللّٰهُ١ۙ۫ شَهِیْدٌۢ بَیْنِیْ وَ بَیْنَكُمْ١۫ وَ اُوْحِیَ اِلَیَّ هٰذَا الْقُرْاٰنُ لِاُنْذِرَكُمْ بِهٖ وَ مَنْۢ بَلَغَ١ؕ اَئِنَّكُمْ لَتَشْهَدُوْنَ اَنَّ مَعَ اللّٰهِ اٰلِهَةً اُخْرٰى١ؕ قُلْ لَّاۤ اَشْهَدُ١ۚ قُلْ اِنَّمَا هُوَ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ وَّ اِنَّنِیْ بَرِیْٓءٌ مِّمَّا تُشْرِكُوْنَۘ Open ayah 6:19 in the Quran reader

آپ فرما دیجئے کہ گواہی کے لئے سب سے بڑھ کر کون سی چیز ہے ؟ آپ فرما دیجئے کہ میرے اور تمہارے درمیان اللہ گواہ ہے اور میری طرف یہ قرآن وحی کے ذریعہ بھیجا گیا ہے تاکہ میں اس کے ذریعہ تمہیں اور جس جس کو یہ قرآن پہنچے اس ڈراؤں، کیا تم گواہی دیتے ہو کہ اللہ کے ساتھ دوسرے معبود ہیں ؟ آپ فرما دیجئے کہ میں تو ایسی گواہی نہیں دیتا، آپ فرما دیجئے کہ صرف وہی ایک معبود ہے اور بلاشبہ میں ان سے بیزار ہوں جن کو تم شریک بناتے ہو۔

(1) امام ابن اسحاق، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نحام بن زید قروم بن کعب اور بحری بن عمرو، خدمت عالی میں آئے اور عرض کیا یا محمد کیا تو اللہ کے سوا کسی اور معبود کو نہیں جانتا ؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اسی کی تبلیغ میں بھیجا گیا ہوں۔ اور اس کی طرف میں بلاتا ہوں تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی لفظ آیت قل ای شیء اکبر شھادۃ (الآیہ) (2) امام آدم بن ابی ایاس، ابن ابی شیبہ، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم، ابو الشیخ اور امام بیہقی نے الاسماء والصفات میں مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت اکبر شھادۃ کے بارے میں فرمایا محمد ﷺ کو حکم دیا گیا کہ وہ قریش سے پوچھیں کون سی چیز بری ہے اشہاد کے لحاظ سے پھر آپ کو حکم فرمایا کہ آپ خود ہی بتایئے کہ اللہ تعالیٰ گواہ ہیں میرے اور تمہارے درمیان۔ (3) امام ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور بیہقی نے الاسماء والصفات میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت واوحی الی ھذا القران لانذرکم بہ یعنی اہل مکہ لفظ آیت ومن بلغ یعنی جس کے پاس یہ قرآن پہنچے تو آپ ﷺ اس کے لئے ڈرانے والے ہیں۔ (4) امام ابو الشیخ اور ابن مردویہ نے انس ؓ سے روایت کیا کہ جب یہ آیت لفظ آیت واوحی الی ھذا القران لانذر کم بہ نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے کسری، قیصر، نجاشی اور دوسرے جابر حاکموں کو اللہ عز وجل کی طرف بلایا (یعنی ان کی طرف خطوط تحریر فرمائے) یہ وہ نجاشی نہیں ہے جس پر آپ نے نماز جنازہ پڑھی۔ (5) امام ابو الشیخ نے ابی بن کعب ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس قیدی لائے گئے۔ آپ نے ان سے فرمایا کیا تم اسلام کی طرف دعوت دیئے گئے۔ انہوں نے کہا نہیں آپ نے ان کا راستہ چھوڑ دیا پھر (یہ آیت) پڑھی لفظ آیت واوحی الی ھذا القران لانذرکم بہ ومن بلغ پھر فرمایا ان کا راستہ چھوڑ دو یہاں تک کہ یہ اپنے افعال و عقائد پر عمل کرتے ہیں۔ کیونکہ ابھی تک انہیں دعوت حق نہیں پہنچی۔ نزول قرآن کا مقصد (6) امام ابن مردویہ، ابو نعیم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس شخص کو قرآن پہنچ گیا گویا میں نے بالمشافہ اس کے پاس حق کا پیغام پہنچا دیا آپ نے یہ آیت پڑھی لفظ آیت واوحی الی ھذا القران لانذرکم بہ ومن بلغ (7) امام ابن ابی شیبہ، ابن الضریس، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے محمد بن کعب قرظی سے روایت کیا کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے اس قول لفظ آیت واوحی الی ھذا القران لانذرکم بہ ومن بلغ کے بارے میں فرمایا جس شخص کو قرآن پہنچ گیا گویا اس نے نبی ﷺ کو دیکھ لیا۔ اور دوسرے لفظ میں جس کو قرآن پہنچ گیا۔ یہاں تک کہ اس کے مفہوم کو سمجھ لیا وہ اس طرح ہوگیا گویا کہ اس نے رسول اللہ ﷺ کا دیدار بھی کرلیا۔ اور آپ سے ہم کلامی کا بھی شرف حاصل کرلیا۔ (8) امام آدم بن ابی ایاس، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم، ابو الشیخ اور بیہقی نے الاسماء والصفات میں مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت واوحی الی ھذا القران لانذرکم بہ ومن بلغ کے بارے میں فرمایا کہ اس سے مراد عرب کے لوگ ہیں اور ” ومن بلغ “ سے مراد عجم کے لوگ ہیں۔ (9) امام ابن جریر اور ابو الشیخ نے حسن بن صالح (رح) سے روایت کیا کہ میں نے لیث (رح) سے سوال کیا کیا کوئی باقی ہے جس کو دعوت نہ پہنچی ہو ؟ پھر راوی نے کہا کہ مجاہد فرمایا کرتے تھے جہاں کہیں قرآن پہنچتا ہے تو وہ دعوت دینے والا ہے اور وہ ڈرانے والا ہے پھر (یہ آیت) پڑھی لفظ آیت لانذرکم بہ ومن بلغ (10) امام عبد الرزاق، عبد بن حمید، ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت واوحی الی ھذا القران لانذرکم بہ ومن بلغ کے بارے میں نبی ﷺ فرمایا کرتے تھے پہنچاؤ اللہ تعالیٰ کی طرف سے۔ جس شخص کے پاس اللہ کی کتاب میں سے ایک آیت بھی پہنچ گئی تو اس کے پاس اللہ کا حکم پہنچ گیا۔ (11) امام ابن جریر اور ابو الشیخ نے قتادہ کے طریق سے حسن ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا (اے لوگو) تبلیغ کرو اگرچہ اللہ کی کتاب میں سے ایک آیت کیوں نہ ہو۔ جس شخص کے پاس اللہ کی کتاب میں سے ایک آیت بھی پہنچ گئی تو اس کے پاس اللہ کے حکم پہنچ گیا چاہے وہ اس پر عمل کرے یا اس کو چھوڑ دے۔ (12) امام بخاری اور ابن مردویہ نے عبد اللہ بن عمرو ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا پہنچا دو میری طرف سے اگرچہ ایک آیت کیوں نہ ہو۔ اور بنی اسرائیل کی طرف سے بھی بیان کرو اس میں کوئی حرج نہیں اور جس شخص نے مجھ پر جان بوجھ کر جھوٹ بولا تو اس کو چاہئے کہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لے۔ (13) امام ابو الشیخ نے محمد بن کعب (رح) سے روایت کیا کہ گویا کہ لوگوں نے نہیں سنا قرآن کو قیامت کے دن سے پہلے جس وقت اللہ تعالیٰ ان پر تلاوت فرماتا رہا۔
Ayah 6:20

اَلَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ یَعْرِفُوْنَهٗ كَمَا یَعْرِفُوْنَ اَبْنَآءَهُمْ١ۘ اَلَّذِیْنَ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ فَهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ۠ Open ayah 6:20 in the Quran reader

جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی اور وہ رسول کو پہچانتے ہیں جیسا کہ وہ اپنے بیٹوں کو پہچانتے ہیں۔ جن لوگوں نے اپنی جانوں کو ضائع کردیا سو وہ ایمان نہیں لائیں گے۔

نصاریٰ کی ہٹ دھرمی (1) سدی (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت الذین اتینھم الکتب یعرفونہ کما یعرفون ابنآء ھم یعنی ان لوگوں نے نبی ﷺ کو پہچانا جیسا کہ اپنے بیٹوں کو پہچانتے ہیں کیونکہ آپ کی صفات ان کے پاس تورات میں موجود ہیں۔ لفظ آیت الذین خسروا انفسھم فھم لا یومنون کیونکہ انہوں نے پہچاننے کے بعد انکار کیا اس لئے انہوں نے اپنے آپ کو نقصان میں ڈال دیا۔
Ayahs 6:21–22

وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اَوْ كَذَّبَ بِاٰیٰتِهٖ١ؕ اِنَّهٗ لَا یُفْلِحُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 6:21 in the Quran reader

اور اس سے زیادہ ظالم کون ہوگا جو اللہ پر بہتان باندھے۔ اس کی آیتوں کو جھٹلائے، بیشک بات یہ ہے کہ ظلم کرنے والے کامیاب نہیں ہوتے۔

وَ یَوْمَ نَحْشُرُهُمْ جَمِیْعًا ثُمَّ نَقُوْلُ لِلَّذِیْنَ اَشْرَكُوْۤا اَیْنَ شُرَكَآؤُكُمُ الَّذِیْنَ كُنْتُمْ تَزْعُمُوْنَ Open ayah 6:22 in the Quran reader

اور جس دن ہم ان سب کو جمع کریں گے پھر ان لوگوں سے ہم کہیں گے جنہوں نے شرک کیا کہاں ہیں تمہارے شریک جن کے بارے میں تم دعویٰ کیا کرتے تھے ؟

(1) امام ابن ابی حاتم نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ نضر نے کہا اور وہ بنو عبدالدار میں سے ہے جب قیامت کا دن ہوگا تو میرے لئے لات اور عزی شفاعت کریں گے۔ اللہ تعالیٰ نے اتارا لفظ آیت ومن اظلم ممن افتری علی اللہ کذبا او کذب بایتہ انہ لا یفلح الظلمون
Ayahs 6:23–24

ثُمَّ لَمْ تَكُنْ فِتْنَتُهُمْ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوْا وَ اللّٰهِ رَبِّنَا مَا كُنَّا مُشْرِكِیْنَ Open ayah 6:23 in the Quran reader

پھر نہ ہوگا ان کا فریب اس کے سوا کہ وہ کہیں گے قسم ہے اللہ کی جو ہمارا رب ہے ہم شرک کرنے والے نہ تھے۔

اُنْظُرْ كَیْفَ كَذَبُوْا عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ وَ ضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ Open ayah 6:24 in the Quran reader

دیکھو کیسا جھوٹ بولا اپنی جانوں پر اور وہ سب کچھ غائب ہوا جو وہ جھوٹ بنایا کرتے تھے۔

(1) امام ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ثم لم تکن فتنتھم یعنی ان کی معذرت (2) امام ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ثم لم تکن فتنتھم یعنی ان کی حجت لفظ آیت الا ان قالوا واللہ ربنا ما کنا مشرکین یعنی منافقین اور مشرکین نے کہا اور وہ آگ میں ہوں گے۔ آجاؤ چاہئے کہ ہم جھوٹ بول لیں شاید کہ ہم نفع دے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا لفظ آیت انظر کیف کذبوا علی انفسھم وضل عنھم قیامت میں (پھر فرمایا) لفظ آیت ما کانوا یفترون یعنی وہ جھوٹ بولتے تھے دنیا میں۔ (3) امام عبد بن حمید نے عاصم (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے یوں پڑھا لفظ آیت ثم لم تکن فتنتھم نصب کے ساتھ لفظ آیت الا ان قالوا واللہ ربنا اور ربنا کے جبر کے ساتھ۔ (4) امام عبد بن حمید نے شعیب بن حجاب (رح) سے روایت کیا کہ میں نے شعبی (رح) کو یوں پڑھتے ہوئے سنا لفظ آیت واللہ ربنا نصب کے ساتھ میں نے کہا نحو والے لوگ اس کو حبر کے ساتھ پڑھتے ہیں لفظ آیت واللہ ربنا زیر کے ساتھ تو انہوں نے جواب دیا : علقمہ بن قیس نے مجھے یہ کلمہ اسی طرح (نصب کے ساتھ) پڑھایا ہے۔ (5) امام عبد بن حمید اور ابو الشیخ نے علقمہ (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس کو یوں پڑھا لفظ آیت واللہ ربنا اور فرمایا اصل میں لفظ آیت واللہ یا ربنا ہے۔ (6) امام ابن جریر اور ابن منذر نے علی کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ان سے لفظ آیت واللہ ربنا ما کنا مشرکین کے بارے میں پوچھا گیا پھر کہا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (النساء) لفظ آیت ولا یکتمون اللہ حدیثا یعنی ان کے اعضاء (کے بولنے کی وجہ سے وہ بات کو نہیں چھپا سکیں گے) مشرکین کی رسوائی (7) امام عبد بن حمید، ابن ابی شیبہ، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت واللہ ربنا ما کنا مشرکین کے بارے میں فرمایا یہ قول شرک والوں کا ہے جب وہ دیکھیں گے کہ گناہوں کو بخشا جا رہا ہے لیکن اللہ تعالیٰ مشرک کو معاف نہیں فرما رہے۔ لفظ آیت انظر کیف علی انفسھم فرمایا دیکھو انہوں نے اپنی نفسوں پر کیا جھوٹ بولا اس وجہ سے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو جھٹلا دیا (اس لئے ان کا یہ قول اپنے خلاف بہت بڑا جھوٹ ہے) (8) امام عبد بن حمید، ابن جریر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے سعید بن جبیر سے روایت کیا کہ وہ اس حرف کو یوں پڑھتے تھے لفظ آیت واللہ ربنا اس کی زبر کے ساتھ اور فرماتے ہیں کہ انہوں نے قسمیں کھائیں اور عذر پیش کیا۔ (9) امام عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت انظر کیف کذبوا علی انفسھم یعنی اس میں ان کے عذر باطل اور جھوٹے ہیں۔ لفظ آیت وضل عنھم ماکانوا یفترون یعنی جو وہ شرک کرتے تھے اس کے ذریعے۔
Ayah 6:25

وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّسْتَمِعُ اِلَیْكَ١ۚ وَ جَعَلْنَا عَلٰى قُلُوْبِهِمْ اَكِنَّةً اَنْ یَّفْقَهُوْهُ وَ فِیْۤ اٰذَانِهِمْ وَقْرًا١ؕ وَ اِنْ یَّرَوْا كُلَّ اٰیَةٍ لَّا یُؤْمِنُوْا بِهَا١ؕ حَتّٰۤى اِذَا جَآءُوْكَ یُجَادِلُوْنَكَ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ هٰذَاۤ اِلَّاۤ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 6:25 in the Quran reader

اور ان میں بعض وہ ہیں جو آپ کی طرف کان لگاتے ہیں اور ہم نے ان کے دلوں پر پردے ڈال دیئے ہیں کہ وہ اس کو سمجھیں اور ان کے کانوں میں بھاری پن کردیا ہے اور اگر یہ لوگ ہر طرح کی نشانیاں دیکھ لیں تب بھی ان پر ایمان نہ لائیں گے، یہاں تک کہ جب آپ کے پاس آتے ہیں تو آپ سے جھگڑا کرتے ہیں، جنہوں نے کفر کیا وہ لوگ کہتے ہیں کہ یہ پچھلے لوگوں کی لکھی ہوئی باتوں کے سوا کچھ بھی نہیں۔

(1) امام عبد بن حمید، ابن ابی شیبہ، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ومنھم من یستمع الیک سے مراد ہیں قریش (اور فرمایا) لفظ آیت وجعلنا علی قلوبھم اکنۃ سے مراد ایسا پردہ ہے جیسے تیر کے لئے ترکش ہوتا ہے۔ (2) امام عبد الرزاق، ابن جریر اور ابن حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت وجعلنا علی قلوبھم اکنۃ ان یفقھوہ وفی اذانھم وقرا سے مراد ہے کہ وہ اس کو سنتے ہیں اپنے کانوں سے اور وہ اس سے کوئی چیز یاد نہیں رکھتے۔ جسے چوپاؤں کی مثال ہے جو آواز کو سنتے ہیں لیکن وہ نہیں جانتے جو کچھ انہیں کہا جاتا ہے۔ (3) امام ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت وجعلنا علی قلوبھم اکنۃ سے مراد ہے ایسا پردہ جس نے ان کے دلوں کو ڈھانک دیا لفظ آیت ان یفقھوہ اس لئے وہ حق کو نہیں سمجھتے ہیں لفظ آیت وفی اذانھم وقرا یعنی ان کے کانوں میں بہرا پن ہے۔ اور لفظ آیت الا اساطیر الاولین یعنی وہ مقفی کلام ہے پہلے لوگوں کا۔ (4) امام ابن جریر نے علی کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت اساطیر الاولین یعنی پہلے لوگوں کے قصے۔ (5) امام عبد بن حمید، ابن ابی حاتم اور ابن منذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت الا اساطیر الاولین یعنی پہلے لوگوں کا جھوٹ اور ان کی بےاصل باتیں واللہ اعلم۔
Ayah 6:26

وَ هُمْ یَنْهَوْنَ عَنْهُ وَ یَنْئَوْنَ عَنْهُ١ۚ وَ اِنْ یُّهْلِكُوْنَ اِلَّاۤ اَنْفُسَهُمْ وَ مَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 6:26 in the Quran reader

اور وہ لوگ اس سے منع کرتے ہیں اور اس سے دور ہوتے ہیں، اور وہ نہیں ہلاک کرتے مگر اپنی ہی جانوں کو اور سمجھتے نہیں ہیں۔

(1) امام فریابی، عبد الرزاق، سعید بن منصور، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم، طبرانی، ابو الشیخ، ابن مردویہ، حاکم اور آپ نے اس کو صحیح بھی کہا ہے۔ اور بیہقی نے دلائل میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت وھم ینھون عنہ وینؤن عنہ یعنی (یہ آیت) ابو طالب کے بارے میں نازل ہوئی۔ وہ مشرکین کو روکتے تھے رسول اللہ ﷺ کو تکلیف پہنچانے سے۔ اور خود اس دین سے دور بھاگتے۔ جس کو آپ ﷺ لے کر آئے۔ (2) امام ابن ابی شیبہ، ابن جریر، ابن منذر اور ابو الشیخ نے قاسم بن مخیمرۃ (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت وھم ینھون عنہ وینؤن عنہ کے بارے میں فرمایا کہ یہ ابو طالب کے بارے میں نازل ہوئی۔ لوگوں کو نبی ﷺ کو تکلیف دینے سے روکتے تھے۔ لیکن خود ان کی تصدیق نہیں کرتے تھے۔ (3) امام ابن جریر نے عطا بن دینار (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت وھم ینھون عنہ وینؤن عنہ کہ (یہ آیت) ابو طالب کے بارے میں نازل ہوئی۔ لوگوں کو رسول اللہ ﷺ سے روکتے تھے۔ اور آپ ﷺ کی لائی ہوئی ہدایت سے دور بھاگتے تھے۔ مشرکین کی لاحاصل کوششیں (4) امام ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابن مردویہ سے علی بن ابی طلحہ کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت وھم ینھون عنہ یعنی لوگوں کو محمد ﷺ سے روکتے تھے کہ وہ ایمان نہ لائیں۔ (اور) لفظ آیت وینؤن عنہ یوں خود بھی آپ ﷺ سے دور رہتے تھے۔ (5) امام ابن جریر نے عوفی کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت وھم ینھون عنہ وینؤن عنہ یعنی نہ وہ اس سے ملاقات کرتے ہیں اور نہ وہ کسی کو بلاتے ہیں کہ وہ اس کے پاس آئے۔ (6) امام ابن ابی شیبہ، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے محمد بن الحنیفہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت وھم ینھون عنہ وینؤن عنہ کہ مکہ کے کافر لوگوں کو رسول اللہ ﷺ سے دور بھگاتے تھے۔ اور خود بھی نبی ﷺ کی تصدیق نہیں کرتے تھے۔ (7) امام ابن ابی شیبہ، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت وھم ینھون عنہ یعنی قریش قرآن سے روکتے تھے۔ اور لفظ آیت وینؤن عنہ یعنی ذکر سے دور بھاگتے تھے۔ (8) امام عبد الرزاق، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت وھم ینھون عنہ کہ وہ قرآن سے اور نبی ﷺ سے روکتے ہیں۔ اور وہ لفظ آیت وینؤن عنہ اور ان سے دور بھاگتے ہیں۔ (9) امام ابن ابی حاتم نے سعید بن ابی بلال (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت وھم ینھون عنہ کہ (یہ آیت) نبی ﷺ کے چچاؤں کے بارے میں نازل ہوئی اور وہ دس تھے۔ اور وہ آپ کے ساتھ تھے ان لوگوں میں سے سب سے بڑھ کر اعلانیہ طور پر اور آپ کے سب سے زیادہ خلاف تھے۔ خفیہ طور پر۔ (10) امام ابن ابی حاتم نے محمد بن کعب (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت وھم ینھون عنہ یعنی وہ آپ کے قتل سے روکتے ہیں۔ (اور) لفظ آیت وینؤن عنہ یعنی وہ آپ کی تابعداری نہیں کرتے ہیں۔
Ayahs 6:27–29

وَ لَوْ تَرٰۤى اِذْ وُقِفُوْا عَلَى النَّارِ فَقَالُوْا یٰلَیْتَنَا نُرَدُّ وَ لَا نُكَذِّبَ بِاٰیٰتِ رَبِّنَا وَ نَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 6:27 in the Quran reader

اور آپ اگر اس دیکھیں جب وہ کھڑے کئے جائیں گے دوزخ پر کہیں گے ہائے ! ہماری بربادی کاش ہم واپس کردیئے جاتے اور اپنے رب کی آیات کو نہ جھٹلاتے ! اور ہم ایمان والوں میں سے ہوجاتے۔

بَلْ بَدَا لَهُمْ مَّا كَانُوْا یُخْفُوْنَ مِنْ قَبْلُ١ؕ وَ لَوْ رُدُّوْا لَعَادُوْا لِمَا نُهُوْا عَنْهُ وَ اِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ Open ayah 6:28 in the Quran reader

بلکہ بات یہ ہے کہ وہ جس چیز کو اس سے پہلے چھپایا کرتے تھے وہ ظاہر ہوگئی اور اگر وہ واپس کردیئے جائیں تب وہ بھی وہ کام کریں گے جس سے وہ منع کئے گئے اور بلاشبہ وہ جھوٹے ہیں۔

وَ قَالُوْۤا اِنْ هِیَ اِلَّا حَیَاتُنَا الدُّنْیَا وَ مَا نَحْنُ بِمَبْعُوْثِیْنَ Open ayah 6:29 in the Quran reader

ہماری اس دنیا کی زندگی کے بغیر اور کوئی زندگی نہیں اور نہیں اٹھائے جائیں گے۔

(1) امام ابو عبید اور ابن جریر نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت یلیتنا نردولا نکذب فاء کے ساتھ یعنی اس میں واو کی جگہ لفظ آیت فلا نکذب ہے۔ (2) امام عبد الرزاق، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت بل بدالھم ماکانوا یخفون من قبل یعنی ان کے وہ اعمال ظاہر ہوں گے جن کو چھپاتے تھے اور فرمایا لفظ آیت ولو ردوا لعادوا لما نھوا عنہ یعنی اگر اللہ تعالیٰ ان کو پہنچا دیں دنیا میں جیسے ان کے لئے وہ دنیا تھی جس میں وہ تھے تو وہ لوٹ جائیں گے۔ اپنے اعمال کی طرف یعنی برے اعمال کی طرف جس سے وہ پہلے ہی منع کئے جاتے ہیں۔ (3) امام ابن جریر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت بل بدالھم ما کانوا یخفون من قبل یعنی ان کے لئے ان کے اعمال آخرت میں ظاہر ہوجائیں گے جو وہ دنیا میں جھوٹ باندھا کرتے ہیں۔ (4) امام ابن ابی حاتم نے علی کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ اللہ سبحان نے خبر دی کہ اگر وہ لوٹا دیئے جائیں تو پھر بھی وہ ہدایت پر قادر نہ ہوں گے۔ اسی کو فرمایا لفظ آیت ولو ردوا لعادوا لمانھوا عنہ یعنی اگر وہ دنیا کی طرف لوٹا دیئے جائیں تو وہ دنیا ہدایت اور ان کے درمیان حائل ہوجائے گی جیسا کہ پہلی بار جب وہ دنیا میں تھے۔ تو ہم نے ہدایت اور ان کے درمیان اپنے حائل کردیا۔ (5) امام ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ولو ردوا لعادوا لما نھوا عنہ اور وہ کہیں گے جب وہ لوٹیں گے۔ لفظ آیت انھی الا حیاتنا الدنیا وما نحن بمبعوثین (کہ ہماری اس دنیا کی زندگی کے بغیر اور کوئی زندگی نہیں اور نہیں اٹھائے جائیں گے۔
Ayahs 6:30–31

وَ لَوْ تَرٰۤى اِذْ وُقِفُوْا عَلٰى رَبِّهِمْ١ؕ قَالَ اَلَیْسَ هٰذَا بِالْحَقِّ١ؕ قَالُوْا بَلٰى وَ رَبِّنَا١ؕ قَالَ فَذُوْقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْفُرُوْنَ۠ Open ayah 6:30 in the Quran reader

اور اگر آپ اس وقت جب کھڑے کئے جائیں گے اپنے حضور کے، رب تعالیٰ شانہ کا سوال ہوگا کیا یہ حق نہیں ہے ؟ جواب میں کہیں گے کہ ہاں ! ہمارے رب کی قسم یہ حق ہے ! رب تعالیٰ شانہ فرمائیں گے کہ چکھو عذاب اس وجہ سے کہ تم کفر کرتے تھے۔

قَدْ خَسِرَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِلِقَآءِ اللّٰهِ١ؕ حَتّٰۤى اِذَا جَآءَتْهُمُ السَّاعَةُ بَغْتَةً قَالُوْا یٰحَسْرَتَنَا عَلٰى مَا فَرَّطْنَا فِیْهَا١ۙ وَ هُمْ یَحْمِلُوْنَ اَوْزَارَهُمْ عَلٰى ظُهُوْرِهِمْ١ؕ اَلَا سَآءَ مَا یَزِرُوْنَ Open ayah 6:31 in the Quran reader

اس میں شک نہیں کہ وہ لوگ خسارہ میں پڑگئے جنہوں نے اللہ کی ملاقات کی جھٹلایا یہاں تک کہ جب ان کے پاس اچانک قیامت آجائے گی تو کہیں گے کہ ہائے ہماری حسرت اس پر جو ہم نے دنیا میں کوتاہی کی اور اپنے بوجھوں کو اپنی کمروں پر اٹھائے ہوئے ہوں گے۔

(1) امام ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ حسرت سے ندامت مراد ہے۔ (2) امام ابن جریر، ابن ابی حاتم، طبرانی، ابو الشیخ، ابن مردویہ اور خطیب نے سند صحیح کے ساتھ ابو سعید خدری ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے لفظ آیت یحسرتنا کے بارے میں فرمایا کہ وہ حسرۃ جس کو دوزخ والے اپنی جنت کی منزلوں کو جنت میں دیکھیں گے (اور حسرت کریں گے) تو یہ حسرت ہوگی۔ قبر میں خوفناک شکل ظاہر ہونا (3) امام ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت یحسرتنا یعنی ہمارے ندامت لفظ آیت علی ما فرطنا فیھا یعنی ہم نے جنت کی عمر کو ضائع کردیالفظ آیت وھم یحملون اوزارھم علی ظھورھم یعنی کوئی ظالم آدمی ایسا نہیں ہوگا جو مر کر اپنی قبر میں داخل ہوگا تو اس کے پاس ایک بری شکل والا آدمی آئے گا۔ کالے رنگ کا بودار اور اس کا لباس انتہائی غلیظ اور میل کچیل سے بھرا ہوتا ہے یہاں تک کہ وہ اس کے ساتھ قبر میں داخل ہوگا جب وہ اس کو دیکھے گا تو اس سے کہے گا کتنا تیرا برا چہرہ ہے ؟ وہ کہے گا اسی طرح تیرے اعمال برے تھے۔ پھر وہ کہے گا کتنی تیری بدبو ہے وہ کہے گا اسی طرح تیرے اعمال بدبودار تھے پھر وہ آدمی کہے گا تیرے کپڑے کتنے میل کچیل سے بھرے ہوئے ہیں وہ کہے کا تیرے اعمال (اسی طرح) میلے تھے۔ وہ پوچھے گا تو کون ہے ؟ وہ کہے گا میں تیرا اعمال ہوں۔ اور وہ اس کے ساتھ اس کی قبر میں رہے گا۔ جب قیامت کے دن اٹھایا جائے گا۔ تو (اس کا عمل) اس سے کہے گا۔ میں نے تجھ کو دنیا میں لذت اور شہوات سے ساتھ اٹھایا تھا۔ اور آج تو مجھ کو اٹھا لے۔ اور وہ اس کی پیٹھ پر سوار ہوجائے گا اور اسے چلاتے چلاتے آگ میں داخل کر دے گا اسی کو فرمایا لفظ آیت وھم یحملون اوزارھم علی ظھورھم (4) امام ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے عمرو بن قیس الملائی (رح) سے روایت کیا کہ جب مومن قبر سے نکلے گا۔ تو اس کا عمل اچھی صورت اور پاکیزہ خوشبو کے ساتھ اس کا استقبال کرے گا۔ اور اس سے کہے گا کیا تو نے مجھے پہچانا ہے۔ وہ کہے گا نہیں ؟ بلاشبہ اللہ نے تیری خوشبو کو پاکیزہ بنا دیا اور تیری صورت انتہائی حسین و جمیل بنائی ہے۔ وہ کہے گا اسی طرح تو دنیا میں تھا میں تیرا نیک عمل ہوں میں نے تجھے دنیا میں سوار کیا آج کے دن تو مجھ پر سوار ہوجا اور یہ آیت لفظ آیت یوم نحشر المتقین الی الرحمن وفدا پڑھی۔ اور کافر کو انتہائی بری صورت اور انتہائی غلیظ بدبودار شخص اس کا استقبال کرے گا اور کہے گا کیا تو نے مجھے پہچانا وہ کہے گا نہیں ؟ خبردار اللہ تعالیٰ نے تیری انتہائی بری صورت بنائی اور تیری بو کو انتہائی بدبودار بنایا۔ وہ کہے گا تو اس طرح دنیا میں تھا۔ میں تیرا برا عمل ہوں۔ تو مجھ پر دنیا میں سوار رہا اور آج کے دن میں تجھ پر سوار ہوں گا۔ اور آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی لفظ آیت وھم یحملون اوزارھم علی ظھورھم الا ساء مایزرون (5) امام عبد الرزاق، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے اسی طرح نقل کیا ہے لفظ آیت الا سآء ما یزرون سے مراد ہے کہ جو کچھ وہ عمل کرتے ہیں کتنے برے ہیں۔
Ayah 6:32

وَ مَا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَاۤ اِلَّا لَعِبٌ وَّ لَهْوٌ١ؕ وَ لَلدَّارُ الْاٰخِرَةُ خَیْرٌ لِّلَّذِیْنَ یَتَّقُوْنَ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ Open ayah 6:32 in the Quran reader

اور نہیں دنیا والی زندگی مگر ایک لہو اور لعب اور البتہ آخرت والا گھر ان لوگوں کے لئے بہتر ہے جو پرہیزگاری اختیار کرتے ہیں کیا تم سمجھتے نہیں ہو۔

(1) مجاہد نے فرمایا ہر کھیل لفظ آیت لھو (یعنی تماشا) ہے۔
Ayah 6:33

قَدْ نَعْلَمُ اِنَّهٗ لَیَحْزُنُكَ الَّذِیْ یَقُوْلُوْنَ فَاِنَّهُمْ لَا یُكَذِّبُوْنَكَ وَ لٰكِنَّ الظّٰلِمِیْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ یَجْحَدُوْنَ Open ayah 6:33 in the Quran reader

ہم جانتے ہیں کہ بیشک آپ کو ان کی باتیں رنجیدہ کرتی ہیں۔ سو یہ یقینی بات ہے کہ وہ آپ کو نہیں جھٹلاتے اور لیکن ظلم کرنے والے اللہ کی آیتوں کا انکار کرتے ہیں۔

(1) امام ترمذی، ابن جریر، ابن ابی حاتم، ابو الشیخ، ابن مردویہ حاکم نے (اور اس کی تصحیح بھی کی ہے) اور ضیاء نے المختارہ میں حضرت علی ؓ سے روایت کیا کہ ابو جہل نے نبی ﷺ سے کہا ہم آپ کو نہیں جھٹلاتے لیکن ہم اس دین کو جھٹلاتے ہیں جس کو آپ لے کر آئے تو اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا لفظ آیت فانھم لا یکذبونک ولکن الظلمین بایت اللہ یجحدون (2) امام ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے ابو یزید المدنی ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ ابو جہل سے ملے تو ابو جہل نے کہا اللہ کی قسم میں اس کے ساتھ اسی طرح کا سلوک کروں گا میں جانتا ہوں کہ وہ سچ بولنے والے ہیں لیکن کب ہم بنو عبد مناف کے تابع ہیں ؟ اور ابو یزید نے (یہ آیت) تلاوت کی لفظ آیت فانھم لا یکذبونک شریعت کا انکار رسول کا انکار ہے (3) امام عبد بن حمید، ابن منذر اور ابن مردویہ نے ابو میسرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ ابو جہل کے پاس سے گزرے اس نے کہا اللہ کی قسم اے محمد ﷺ ہم تجھ کو نہیں جھٹلاتے کیونکہ تو ہمارے نزدیک سچ بولنے والا ہے۔ لیکن ہم اس چیز کو جھٹلاتے ہیں جس کو تو لے کر آیا ہے۔ تو اللہ تعالیٰ نے اتارا لفظ آیت فانھم لا یکذبونک ولکن الظلمین بایت اللہ یجحدون (4) امام ابن جریر نے ابو صالح (رح) سے روایت کیا کہ اس آیت کے بارے میں فرمایا جبرئیل (علیہ السلام) نبی ﷺ کے پاس تشریف لائے اس حال میں کہ آپ غمگین بیٹھے ہوئے تھے۔ جبرئیل نے آپ سے فرمایا کس بات نے آپ کو غم میں ڈال دیا۔ آپ نے فرمایا ان لوگوں نے مجھ کو جھٹلا دیا۔ جبرئیل نے آپ سے فرمایا وہ لوگ آپ کو نہیں جھٹلاتے کیونکہ وہ لوگ جانتے ہیں کہ آپ سچ بولنے والے ہیں لفظ آیت ولکن الظلمین بایت اللہ یجحدون (لیکن یہ ظالم لوگ اللہ کی آیات کا انکار کرتے ہیں) (5) امام ابو الشیخ نے ابو صالح (رح) سے روایت کیا کہ مشرکین جب رسول اللہ ﷺ کو مکہ میں دیکھتے تھے تو ان کے بعض، بعض کو آپس میں کہتے تھے کہ بیشک یہ البتہ نبی ہیں تو اس بارے میں یہ آیت نازل ہوئی لفظ آیت قد نعلم انہ لیحزنک الذی یقولون فانھم لا یکذبونک ولکن الظلمین بایت اللہ یجحدون (6) امام سعید بن منصور، عبد بن حمید، ابن ابی حاتم، ابو الشیخ اور ضیاء نے علی بن ابی طالب ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے یوں پڑھا لفظ آیت فانھم لا یکذبون یخفیف کے ساتھ پھر فرمایا وہ ایسا حق نہیں لاسکتے جو آپ کے حق کے نسبت زیادہ حق ہو۔ (7) امام ابن ابی حاتم، طبرانی اور ابو الشیخ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے یوں پڑھا لفظ آیت فانھم لا یکذبونک یخفیف کے ساتھ اس بات پر وہ قادر نہیں ہوتے کہ آپ رسول نہ ہوں اور نہ اس بات پر قادر ہوتے کہ قرآن قرآن نہ ہو۔ لیکن یہ آپ کو اپنی زبانوں سے جھٹلاتے ہیں وہ آپ کی تکذیب کرتے ہیں۔ چناچہ وہ خود کذاب ہیں اور یہ ان کا جھٹلانا ہے۔ (8) امام سعید بن منصور اور ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے محمد بن کعب (رح) سے روایت کیا کہ وہ اس کو یوں پڑھا کرتے تھے لفظ آیت فانھم لا یکذبونک تخفیف کے ساتھ وہ فرماتے ہیں کہ وہ اسے باطل قرار نہیں دے سکتے جو کچھ آپ کے ہاتھوں میں ہے۔ (9) امام عبدالرزاق، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ولکن الظلمین بایت اللہ یجحدون کے بارے میں فرمایا وہ جانتے ہیں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں اس کے باوجود وہ انکار کرتے ہیں۔ (10) امام ابن ابی حاتم نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ ان کے پاس ایک آدمی نے یوں پڑھا لفظ آیت فانھم لا یکذبونک تخفیف کے ساتھ حسن نے فرمایا لفظ آیت فانھم لا یکذبونک یہ اس قوم کا ذکر ہے جنہوں نے آپ کو پہچان لیا ہے۔ لیکن پھر انکار کردیا۔
Ayah 6:34

وَ لَقَدْ كُذِّبَتْ رُسُلٌ مِّنْ قَبْلِكَ فَصَبَرُوْا عَلٰى مَا كُذِّبُوْا وَ اُوْذُوْا حَتّٰۤى اَتٰىهُمْ نَصْرُنَا١ۚ وَ لَا مُبَدِّلَ لِكَلِمٰتِ اللّٰهِ١ۚ وَ لَقَدْ جَآءَكَ مِنْ نَّبَاِی الْمُرْسَلِیْنَ Open ayah 6:34 in the Quran reader

اور بلاشبہ آپ سے پہلے رسولوں کو جھٹلایا گیا سو انہوں نے جھٹلائے جانے پر اور ایذائیں پہنچنے پر صبر کیا یہاں تک کہ ان کے پاس ہماری مدد آگئی اور اللہ کے کلمات کو کوئی بدلنے والا نہیں اور البتہ پیغمبروں کی بعض خبریں آپ کے پاس پہنچ چکی ہیں۔

(1) امام عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ تسلی دی (اللہ تعالیٰ نے) اپنے نبی ﷺ کو جیسا کہ تم سن رہے ہو اور ان کو خبر دے رہے ہیں۔ رسول جھٹلائے گئے آپ سے پہلے اور انہوں نے صبر کیا۔ اس جھٹلانے پر حتی کہ اللہ تعالیٰ نے فیصلہ فرما دیا۔ اور وہ بہترین فیصلہ فرمانے والے ہیں۔ (2) امام ابن جریر نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ولقد کذبت رسل من قبلک کے بارے میں فرمایا کہ اس میں (اللہ تعالیٰ نے) اپنے نبی ﷺ کو تسلی دے رہے ہیں۔ (3) امام ابن جریر اور ابن منذر نے ابن جریج سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ولقد کذبت رسل من قبلک کے بارے میں فرمایا کہ اس میں (اللہ تعالیٰ نے) اپنے نبی ﷺ کو تسلی دے رہے ہیں۔