6. Surah Al-An'aam

الأنعامThe Cattle · 165 ayahsتفسیرِ مظہری

Ayah 6:1

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ جَعَلَ الظُّلُمٰتِ وَ النُّوْرَ١ؕ۬ ثُمَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِرَبِّهِمْ یَعْدِلُوْنَ Open ayah 6:1 in the Quran reader

ہر طرح کی تعریف خدا ہی کو سزاوار ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور اندھیرا اور روشنی بنائی پھر بھی کافر (اور چیزوں کو) خدا کے برابر ٹھیراتے ہیں

الحمد للّٰہ ہر طرح کی ستائش ہے اللہ کے لئے۔ یہ (لفظ کے اعتبار سے) جملہ خبریہ ہے کہ تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں لیکن اس سے بندوں کو تعلیم دینا مقصود ہے کہ وہ اللہ کی حمد کریں اور درپردہ اس بات کی بھی تلقین ہے کہ اللہ کو بندوں کی ستائش کی ضرورت نہیں کوئی اس کی تعریف کرے یا نہ کرے بہرحال اس کے لئے واقع میں حمد و ستائش ہے۔ الذی خلق السموات والارض جس نے آسمانوں کو اور زمین کو اندازہ کے مطابق بنایا اور بغیر سابق مثال کے پیدا کیا۔ اللہ کے وصف خالقیت کا ذکر کرنے سے اس طرف اشارہ ہے کہ اللہ کے محمود ہونے کے لئے کسی مزید استدلال کی ضرورت نہیں۔ آسمان و زمین کی تخلیق خود ثبوت حمد کے لئے کافی ہے ‘ مخلوقات میں سے آسمان و زمین کا خصوصیت کے ساتھ تذکرہ اس لئے کیا کہ تمام مخلوقات میں سب سے بڑے یہی نظر آ رہے ہیں انہی کے اندر لوگوں کے لئے ہزاروں درس عبرت ہیں اور انہی سے (بظاہر) لوگوں کے مفاد وابستہ ہیں پھر شب و روز کا حدوث وزوال ہر شخص دیکھ رہا ہے (اور کسی چیز کا حدوث بغیر محدث کے نہیں ہوسکتا) اسی لئے بعض نادان آسمانوں کو قدیم بالزمان کہتے ہیں۔ سموٰت کا ذکر بصیغۂ جمع اور ارض بصیغۂ مفرد ذکر کرنے سے اس امر پر تنبیہ ہے کہ آسمانوں کی ماہیتیں اور اشکال باہم مختلف ہیں اور زمین (باوجودیکہ اسکے طبقات متعدد ہیں) پھر بھی ایک ہی ماہیت اور ایک ہی شکل رکھتی ہے۔ کعب احبار کا قول ہے کہ توریت کی سب سے پہلی یہی آیت ہے اور سب سے آخری آیت : (قُلِ الْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ لَمْ یَتَّخِذْ وَلَدًا۔۔ ) ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا اللہ نے آغاز تخلیق کا ذکر بھی حمد سے کیا اور فرمایا : (اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰت وَالْاَرْضِ ) اور انسانوں کے خاتمہ کے ذکر بھی حمد کے ساتھ کیا اور فرمایا (وَقَضِیَ بَیْنَہُمْ بالْحَقِّ وَقِیْلَ الْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ ) ۔ وجعل الظلمت والنور اور پیدا کیا تاریکیوں کو اور نورکو۔ صاحب قاموس نے لکھا ہے کہ جَعَلَ کا معنی ہے خَلَقَ بیضاوی نے لکھا ہے دونوں میں فرق ہے خلق کا معنی ہے اندازہ کرنا اور جعل کے معنی کے اندر تضمین کا مفہوم ہے یعنی ایک چیز دوسری چیز کے ضمن میں کردینا خواہ اس طرح کہ ایک چیز دوسری چیز سے موجود کردی جائے یا اس طور پر کہ ایک شے کو بدل کر دوسری چیز بنا دیا جائے (جیسے جعل الخاتم من فضۃ) انگوٹھی چاندی سے بنا دی اور جعل النور ظلمۃ روشنی کو تاریکی میں تبدیل کردیا) خلاصہ یہ کہ جعل کے مفہوم کے اندر دو چیزوں کا اعتبار ضروری ہے اسی لئے نور و ظلمت کو عدم سے خارج کر کے وجود میں لانے کے لئے لفظ جعل ذکر کیا تاکہ یہ واضح ہوجائے کہ نور و ظلمت بجائے خود کوئی مستقل حیثیت نہیں رکھتے گویا اس سے فرقۂ ثنویہ کے عقیدہ کی تردید ہوجائے گی (جو کہتے ہیں کہ نور سراسر خیر ہے اور ظلمت سراسر شر۔ یعنی خیر کی طاقت کا نام نور ہے اور شر کی طاقت کا نام ظلمت اور یہ دونوں طاقتیں بجائے خود مستقل اور قائم بذاتہٖ ہیں) ۔ میں کہتا ہوں کہ ظلمت باّجودیکہ عدمی چیز ہے اور عدم (محض) سے جعل کا تعلق نہیں ہوسکتا لیکن اس آیت میں ظلمات کو بھی مجعول قرار دیا ہے کیونکہ ظلمت (معدوم محض نہیں ہے بلکہ اس) کا انتزاع ایسے محل سے ہوتا ہے جو مخلوق ہے ظلمت و نور بجائے خود قائم بذاتہ نہیں ہیں اور چونکہ وہ اجسام جو حامل ظلمت اور تاریک ہیں بکثرت ہیں اس لئے ظلمات کو بصیغۂ جمع ذکر کیا اور اجسام نورانیہ کم ہیں اس لئے صرف نور بصیغۂ واحد ذکر فرمایا گویا نور کی نسبت ظلمت سے ایسی ہے جیسے واحد کی نسبت متعدد سے۔ حسن بصری کے نزدیک ظلمات سے مراد کفر اور نور سے مراد ایمان ہے اس قول پر ظلمات کو بصیغۂ جمع اور نور کو بصیغۂ مفرد لانے کی وجہ یہ ہے کہ کفر کے طریقے بکثرت ہیں اور ایمان کا صرف ایک راستہ ہے۔ حضرت ابن مسعود ؓ : کا بیان ہے رسول اللہ ﷺ نے ہمارے سامنے ایک (سیدھی) لکیر کھینچی اور فرمایا یہ اللہ کا راستہ ہے پھر اس لکیر کے دائیں بائیں مختلف لکیریں کھینچیں اور فرمایا ان راستوں میں سے ہر راستہ پر شیطان موجود ہے جو لوگوں کو اپنی طرف بلا رہا ہے اس کے بعد حضور ﷺ نے آیت (ان ہذا صراط مستقیما فاتبعوہ ولا تتبعوہ السبل فتفرق بکم عن سبیلہ) تلاوت فرمائی۔ رواہ احمد والنسائی والدارمی۔ ظلمت کا وجود چونکہ نور سے پہلے ہوتا ہے (عدم وجود سے مقدم ہے) اس لئے ظلمات کا ذکر نور سے پہلے کیا۔ حضرت عبداللہ ؓ بن عمرو بن عاص کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ نے مخلوق کو تاریکی میں پیدا کیا پھر ان پر اپنے نور کا ایک حصہ ڈالا پس جس پر نور کا کوئی حصہ پڑگیا وہ ہدایت یاب ہوگیا جس پر نہ پڑا وہ گمراہ ہوگیا اسی لئے تو میں کہتا ہوں کہ اللہ کے علم کے مطابق (لکھ کر) قلم خشک ہوگیا۔ رواہ احمد والترمذی۔ ثم الذین کفروا بربہم یعدلون پھر جو لوگ کفر کرتے ہیں وہ (عبادت و تعظیم اور عطاء و انعام کی نسبت میں) دوسروں کو اپنے رب کے برابر قرار دیتے ہیں۔ اس جملہ کا عطف یا تو الحمدللہ پر ہے اس وقت یعدلونکا مطلب یہ ہوگا کہ باوجودیکہ سارے جہان کو پیدا کیا اور بندوں پر یہ اسی کا انعام ہے لیکن کافر اس کی نعمت کا انکار کرتے ہیں (دوسروں کو اس انعام دہی میں شریک سمجھتے ہیں) یا خلق پر عطف ہے یعنی اللہ نے تو تمام جہان پیدا کیا جس کی تخلیق پر سوائے اللہ کے کسی کو قدرت نہیں پھر کافر ایسی مخلوق کو اس کے برابر قرار دیتے ہیں جس کو تخلیقِ کائنات پر قدرت نہیں۔ لفظ ثم (اس جگہ تراخی کے لئے نہیں ہے بلکہ) تعجب کے اظہار کے لئے ہے کہ اس وضاحت کے بعد پھر کافروں کا شرک نہایت عجیب اور بعید (از عقل) ہے۔ بربہمکا تعلق کفروا سے ہے اور یعدلونکا صلہ محذوف ہے یعنی اللہ کا انکار کرتے اور اس سے عدول کرتے ہیں (اس وقت یعدلونکا ترجمہ ہوگا لوٹتے ہیں اللہ سے لوٹتے ہیں) یا بربہمکا تعلق یعدلون سے ہے یعنی بتوں کو اللہ کے برابر قرار دیتے ہیں۔ نضر بن شمیل نے اس صورت میں بھی یعدلونکو عدول سے مشتق قرار دیا ہے اور انحراف و اعراض کے معنی بتائے ہیں اور لکھا ہے کہ بربہم میں باء بمعنی عن (سے) ہے یعنی اپنے رب سے انحراف کرتے ہیں۔
Ayah 6:2

هُوَ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ مِّنْ طِیْنٍ ثُمَّ قَضٰۤى اَجَلًا١ؕ وَ اَجَلٌ مُّسَمًّى عِنْدَهٗ ثُمَّ اَنْتُمْ تَمْتَرُوْنَ Open ayah 6:2 in the Quran reader

وہی تو ہے جس نے تم کو مٹی سے پیدا کیا پھر (مرنے کا) ایک وقت مقرر کر دیا اور ایک مدت اس کے ہاں اور مقرر ہے پھر بھی تم (اے کافرو خدا کے بارے میں) شک کرتے ہو

ہو الذی خلقکم من طین اللہ وہی ہے جس نے تم کو (یعنی تمہارے باپ آدم کو ابتداء میں) گارے سے بنایا۔ یا کم سے پہلے اب کا لفظ محذوف ہے۔ تمہارے باپ آدم کو گارے سے بنایا (اس صورت میں مجاز فی الحذف ہوگا) سدی نے کہا کہ اللہ نے جبرئیل ( علیہ السلام) کو زمین پر کچھ مٹی لانے کے لئے بھیجا۔ زمین نے جبرئیل ( علیہ السلام) سے کہا میں اللہ کی پناہ چاہتی ہوں اس بات سے کہ تو میرا کچھ حصہ کم کر دے (یعنی میرے بدن کا کچھ حصہ مجھ سے جدا کرلے) جبرئیل ( علیہ السلام) نے یہ سن کر کچھ نہیں لیا اور لوٹ کر عرض کیا اے مالک زمین نے مجھ سے تیری پناہ مانگی ( تھی اس لئے میں خالی لوٹ آیا) پھر اللہ نے میکائیل کو بھیجا زمین نے ان سے بھی اللہ کی پناہ مانگی۔ میکائیل بھی لوٹ گئے آخر اللہ نے ملک الموت کو بھیجا۔ زمین نے ان سے بھی اللہ کی پناہ مانگی۔ ملک الموت نے کہا میں اللہ کی نافرمانی کرنے سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں۔ غرض ملک الموت نے (کُل) روئے زمین سے مٹی (تھوڑی تھوڑی) لی۔ سرخ سیاہ سفید ہر طرح کی مٹی مخلوط کی۔ اسی وجہ سے آدمیوں کے رنگ جدا جدا ہوئے پھر اس مٹی کو میٹھے نمکین اور تلخ پانی سے گوندھا اسی وجہ سے انسانوں کے اخلاق مختلف ہوگئے پھر اللہ نے فرمایا جبرئیل ( علیہ السلام) اور میکائیل ( علیہ السلام) نے زمین پر رحم کیا ایسا نہیں کیا لہٰذا جو مخلوق میں اسی مٹی سے بناؤں گا اس کی روحیں تیرے ہی ہاتھ میں دوں گا۔ حضرت ابوہریرہ ؓ کا بیان ہے کہ اللہ نے آدم کی تخلیق خاک سے اس طرح کی کہ خاک کا گارا بنایا پھر (کچھ مدت) اسے چھوڑے رکھا یہاں تک کہ گارا سڑ کر لیس دار کیچڑ بن گیا پھر اس کا پتلا بنایا اور پتلے کی صورت بنائی پھر اتنی مدت اسے چھوڑے رکھا کہ وہ ٹھیکرے کی طرح (خشک ہو کر) کھن کھن بولنے لگا پھر اس میں اپنی طرف سے روح پھونکی۔ کذا قال البغوی۔ حضرت ابو موسیٰ ؓ : کا بیان ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ فرما رہے تھے کہ اللہ نے تمام زمین سے ایک مٹھی (مٹی) لے کر آدم ( علیہ السلام) کی تخلیق کی اسی لئے زمین کے مطابق آدمی سرخ سفید سیاہ اور مخلوط رنگ کے اور نرم خو۔ درشت مزاج ‘ بدخصائل اور پاکیزہ اخلاق والے ہوگئے۔ رواہ احمد والترمذی وابوداؤد۔ حضرت ابوہریرہ ؓ کی مرفوع روایت ہے کہ اللہ نے آدم کو جابیہ کی مٹی سے بنایا اور جنت کے پانی سے اس کو گوندھا (معلوم نہیں جابیہ سے کیا مراد ہے ممکن ہے نشیبی گڑھے مراد ہوں جہاں پانی جمع ہوجاتا ہے اور دلدل بن جاتی ہے اس صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ دلدل اور سڑی ہوئی لیسدار مٹی سے جنت کے پانی سے گوند کر آدم کا پتلا بنایا) رواہ الحکیم وابن عدی بسند حسن۔ ثم قضی اجلا پھر ایک وقت معین کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ جب جسمانی ساخت کی تکمیل ہوجاتی ہے تو فرشتہ اس کی معیاد زندگی لکھتا ہے لفظ ثُمَّاور جملہ فعلیہ اسی پر دلالت کر رہا ہے۔ حضرت ابن مسعود ؓ : کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ہم سے فرمایا کہ تم میں سے ہر ایک کا مادۂ تخلیق ماں کے پیٹ میں چالیس روز تک بصورت نطفہ جمع رکھا جاتا ہے پھر اتنی ہی مدت پھٹکی کی صورت میں رہتا ہے پھر اتنی ہی مدت بوٹی کی شکل میں رہتا ہے پھر اللہ اس کے پاس چار باتوں کا حکم دے کر فرشتہ کو بھیجتا ہے فرشتہ اس کے (اچھے برے) عمل ‘ میعاد زندگی ‘ رزق اور بدبخت نیک بخت ہونا لکھتا ہے پھر اس میں روح پھونکی جاتی ہے پس قسم ہے اس ذات کی جس کے سوا کوئی معبود نہیں کہ تم میں سے کچھ لوگ (ساری عمر) جنت والوں کے سے کام کرتے ہیں یہاں تک کہ ان کے اور جنت کے درمیان صرف آدھے گز کا فاصلہ رہ جاتا ہے کہ کتاب کا لکھا آگے آتا ہے اور وہ دوزخیوں جیسا عمل کرتے ہیں اور دوزخ میں چلے جاتے ہیں۔ اور کچھ لوگ (ساری عمر) دوزخیوں کے سے کام کرتے ہیں یہاں تک کہ ان کے اور دوزخ کے درمیان صرف ایک ہاتھ کا فاصلہ رہ جاتا ہے کہ (اللہ کی) تحریر سامنے آتی ہے اور وہ جنت والوں جیسے عمل کرتے ہیں اور جنت میں چلے جاتے ہیں۔ متفق علیہ۔ واجل مسمی عندہ اور دوسرا معین وقت خاص اللہ ہی کے پاس ہے۔ یعنی معیاد مقرر و معین اللہ کے علم قدیم میں موجود ہے جس میں کوئی تغیر نہیں ہوسکتا اللہ کے علاوہ اور کسی کو اس میں دخل نہیں ہے۔ جملۂ اسمیہ دوام و استمرار پر دلالت کرتا ہے چونکہ اللہ کے علم کے اندر میعاد کا مقرر ہونا ناقابل تغیر ہے اس لئے جملۂ اسمیہ استعمال کیا۔ اجلٌ کی تنوین عظمت کا اظہار کررہی ہے اسی لئے اس جملہ کو بغیر عطف کے ذکر کیا اور چونکہ اجلٌ کی صفت مسمی مذکور ہے اس لئے خبر (عندہٗ ) کو مقدم کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ حسن قتادہ اور ضحاک نے کہا پہلی اجل سے مراد ہے پوری مدت زندگی پیدائش سے موت تک اور دوسری اجل سے مراد ہے موت سے حشر تک پوری برزخی موت۔ حضرت ابن عباس ؓ کا یہی قول روایت میں آیا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا ہر شخص کی دو اجلیں ہیں۔ ایک پیدائش سے موت تک۔ دوسری موت سے حشر تک۔ اگر آدمی نیک پرہیزگار اور کنبہ پرور ہوتا ہے تو برزخی اجل کا کچھ حصہ لے کر میعاد عمر میں بڑھا دیا جاتا ہے اور اگر بدکار رشتہ کو منقطع کرنے والا ہوتا ہے تو مدت زندگی کا کچھ حصہ لے کر اجل برزخی میں بڑھا دیا جاتا ہے۔ مجاہد ؓ اور سعید بن جبیر ؓ نے کہا اوّل اجل دنیا (کی زندگی) کی مدت ہے اور دوسری اجل آخرت کی مدت۔ عطیہ نے حضرت ابن عباس ؓ کا قول نقل کیا ہے کہ ” ثم قضی اجلاً “ میں اجل سے مراد نیند ہے جس میں اللہ روح کو قبض کرلیتا ہے اور بیداری کی حالت میں واپس کردیتا ہے اور اَجَلٌ مَّسمّٰی عندہ سے مراد ہے اجل موت (یعنی مدت زندگی کا خاتمہ) ثم انتم تمترون پھر بھی تم شک میں پڑے ہو۔ تمتّرون مریۃٌسے ماخوذ ہے مریۃٌ کا معنی ہے شک یا مراء سے ماخوذ ہے جس کا معنی ہے جھگڑا کرنا۔ یعنی اللہ کی قضا و قدر میں یا مرنے کے بعد جی اٹھنے میں تم شک یا جھگڑا کرتے ہو ثُمَّکا لفظ اظہار تعجب کے لئے ہے یعنی تعجب ہے کہ تم شک اور جھگڑا کرتے ہو باوجودیکہ یہ بات واضح ہوچکی کہ تمہارے تمام اصول کا خالق اور مدت مقررہ تک زندہ رکھنے والا اللہ ہی ہے پس جس طرح اس نے پہلی مرتبہ پیدا کیا اسی طرح دوبارہ بھی زندہ کر کے اٹھا سکتا ہے اس کے حکم اور علم سے کوئی چیز باہر نہیں۔ حضرت عائشہ ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا چھ شخص ہیں جن پر میں نے اور اللہ نے اور ہر مستجاب الدعوات پیغمبر نے لعنت کی ہے (1) اللہ کی کتاب میں (لفظی یا معنودی) زیادتی کرنے والا (2) تقدیر خداوندی کی تکذیب کرنے والا (3) زبردستی تسلط جمانے والا تاکہ جس کو اللہ نے ذلیل قرار دیا ہے اس کو عزت دار بنائے اور جس کو اللہ نے عزت دار بنایا ہے اس کی ذلت کرے (4) اللہ کی حرام کی ہوئی چیز کو حلال سمجھنے والا۔ (5) اللہ کی حلال قرار دی ہوئی چیز کو حرام بنانے والا۔ (6) اور میرے طریقے کو ترک کرنے والا۔ رواہ البیہقی فی المدخل ورزین فی کتابہ۔ میں کہتا ہوں اللہ کی کتاب میں زیادتی کرنے والے رافضی ہیں جو قرآن کے تیس پاروں میں دس پاروں کی زیادتی کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ عثمان ؓ نے قرآن کے دس پارے ساقط کردیئے تھے۔ ان کا خیال یہ بھی ہے کہ سورة احزاب ‘ سورة بقرہ کے برابر تھی۔ اور رسول اللہ ﷺ : کی اولاد کے قتل کو حلال سمجھنے والے خارجی ہیں اور تقدیر خداوندی کی تکذیب کرنے والے معتزلہ ہیں انہی کی طرف آیت میں اشارہ ہے اور اللہ کی حرام کی ہوئی چیز کو حلال سمجھنے والا فرقہ مرجۂ ہے جو انسان کو محض مجبور قرار دیتا ہے اور زبردستی تسلط جمانے والے ظالم بادشاہ ہیں اور سنت رسول اللہ ﷺ : کو ترک کرنے والے تمام بدعتی اور فاسق ہیں۔
Ayah 6:3

وَ هُوَ اللّٰهُ فِی السَّمٰوٰتِ وَ فِی الْاَرْضِ١ؕ یَعْلَمُ سِرَّكُمْ وَ جَهْرَكُمْ وَ یَعْلَمُ مَا تَكْسِبُوْنَ Open ayah 6:3 in the Quran reader

اور آسمانوں اور زمین میں وہی (ایک) خدا ہے تمہاری پوشیدہ اور ظاہر سب باتیں جانتا ہے اور تم جو عمل کرتے ہو سب سے واقف ہے

وہو اللہ فی السموات وفی الارض اور وہی ہے معبود برحق آسمانوں میں بھی اور زمین میں بھی۔ ہُوَضمیرللہ کی طرف راجع ہے جس کا ذکر پہلے آچکا ہے اور لفظ اللہ (جو اس جگہ مذکور ہے) ہُوَکی خبر ہے یا بدل ہے یہ بھی ہوسکتا ہے کہ قل ہو اللّٰہ احد کی طرح ہُوَضمیر شان ہو اور اللہ مبتدا ہو (اور فی السموات خبر ہو) اگر اللہ کو صیغۂ مشتق کہا جائے تو اس کا ترجمہ ہوگا معبود برحق اور فی السمواتکا اس سے تعلق ہوگا یعنی اللہ آسمانوں میں اور زمین میں معبود برحق ہے اور اگر اللہ کو علم کہا جائے تو بتاویل مشتق قرار دے کر یوں ترجمہ کیا جائے گا کہ اللہ ہی آسمانوں میں اور زمین میں اللہ ہے یعنی اس نام سے معروف ہے اور اسی نام سے اس کا ذکر کیا جاتا ہے۔ یا فی السمواتظرف مستقر ہے اور محذوف کے متعلق ہے اور مجازاً خبر ہے یعنی اللہ آسمانوں میں اور زمین میں موجود ہے۔ اس پر شبہ کیا جاسکتا ہے کہ کیا آسمان و زمین اللہ کے مکان اور محل ہیں لیکن جب اس کو مجاز پر محمول کیا جائے تو کوئی شبہ نہیں رہے گا کیونکہ (آسمان زمین اور) ساری کائنات اللہ کی صفات کا مظہر ہیں (پس موجود ہونے سے مراد ہوگا ظاہر ہونا پر تو انداز ہونا) بیضاوی نے یہ تاویل کی ہے کہ اللہ کو آسمان و زمین کا چونکہ کامل علم ہے اس لئے مجازاً کہا جاسکتا ہے کہ اللہ ان میں موجود ہے۔ یعلم سرکم وجہرکم وہ تمہارے پوشیدہ اور ظاہر احوال کو جانتا ہے۔ یعنی جو باتیں تم دلوں میں پوشیدہ رکھتے ہو ان کو بھی جانتا ہے اور جو ظاہر کرتے ہو ان سے بھی واقف ہے۔ یہ دوسری خبر ہے یا پہلی ہی خبر ہے اور فی السمٰوات والارض یعلم سے متعلق ہے کیونکہ آسمانوں اور زمین میں اللہ کے معلومات واقع ہیں۔ و یعلم ما تکسبون اور جو کچھ تم عمل کرتے ہو ان کو بھی جانتا ہے۔ یعنی اعضاء جسم سے تم جو نیکی بدی کرتے ہو اس کو اللہ جانتا ہے اور اس کا بدلہ (اچھا برا) تم کو دے گا۔ یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ دل اور اعضاء کے اعمال چھپ کر یا ظاہر طور پر تم کرتے ہو ان کو بھی اللہ جانتا ہے اور جو کام ابھی نہیں کئے آئندہ کرو گے اللہ ان سے بھی واقف ہے۔ ماضی ‘ حال اور مستقبل کو جاننا اللہ کے معلومات کی خصوصیت ہے)
Ayah 6:4

وَ مَا تَاْتِیْهِمْ مِّنْ اٰیَةٍ مِّنْ اٰیٰتِ رَبِّهِمْ اِلَّا كَانُوْا عَنْهَا مُعْرِضِیْنَ Open ayah 6:4 in the Quran reader

اور خدا کی نشانیوں میں سے کوئی نشانی ان لوگوں کے پاس نہیں آتی مگر یہ اس سے منہ پھیر لیتے ہیں

وما تاتیہم من ایۃ من ایت ربہم الا کانوا عنہا معرضین اور ان کے پاس کوئی بھی نشانی ان کے رب کی نشانیوں میں سے نہیں آتی مگر وہ اس سے روگردانی کیا ہی کرتے ہیں۔ من ایۃ میں من تعمیم کے لئے ہے اور زائد ہے۔ آیات رب سے مراد معجزات ہیں جیسے چاند کا پھٹنا کنکریوں کا بولنا وغیرہ اور عطاء کے نزدیک قرآن کی آیات مراد ہیں اور مِنْ آیۃٍمیں من تبعیضیہ ہے۔
Ayah 6:5

فَقَدْ كَذَّبُوْا بِالْحَقِّ لَمَّا جَآءَهُمْ١ؕ فَسَوْفَ یَاْتِیْهِمْ اَنْۢبٰٓؤُا مَا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ Open ayah 6:5 in the Quran reader

جب ان کے پاس حق آیا تو اس کو بھی جھٹلا دیا سو ان کو ان چیزوں کا جن سے یہ استہزا کرتے ہیں عنقریب انجام معلوم ہو جائے گا

فقد کذبوا بالحق لما جآء ہم سو انہوں نے حق کو بھی جھوٹا قرار دیا جب حق ان کے پاس آگیا۔ حق سے مراد ہے قرآن یا رسول اللہ کی ذات مبارک۔ فَقَدْمیں فاء تفریع کے لئے ہے یعنی جب انہوں نے تمام معجزات کا انکار کردیا تو قرآن کا بھی انکار کردیا۔ یہ بھی ایک معجزہ ہی ہے۔ یا فاء سببی ہے یعنی جب انہوں نے قرآن کی تکذیب کی جو لفظاً اور معناً ہر زمانہ میں واضح ترین معجزہ ہے اور رسول اللہ ﷺ : کی تکذیب کی جن کا وجود بجائے خود معجزہ ہے ایک شخص جو انہی میں پیدا ہوا اور اس نے نہ کسی سے کچھ پڑھا نہ لکھا پھر ایسے شخص سے علم کے چشمے اور حکمت کے دریا بہ نکلے جس کی تائید سابق آسمانی کتابوں سے ہو رہی ہے اور اس کی نبوت کا اقرار بڑے بڑے یہودی اور عیسائی علماء و مشائخ کرچکے ہیں لیکن انہوں نے اس کی نبوت کا بھی اقرار نہیں کیا تو پھر دوسرے متفرق معجزات سے روگردانی کیوں نہیں کریں گے۔ فسوف یاتیہم انبوء ما کانوا بہ یستہزون سو آئندہ ان کو اس چیز کی خبریں مل جائیں گی جس کا یہ مذاق اڑاتے تھے۔ یعنی قیامت کے دن یا اسلام کے ظہور و عروج کے زمانہ میں۔ مطلب یہ کہ اپنے عمل کی برائی اس وقت ان پر ظاہر ہوجائے گی ‘ جب قیامت کے دن یا دنیا میں ہی ان پر عذاب آجائے گا۔
Ayah 6:6

اَلَمْ یَرَوْا كَمْ اَهْلَكْنَا مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنْ قَرْنٍ مَّكَّنّٰهُمْ فِی الْاَرْضِ مَا لَمْ نُمَكِّنْ لَّكُمْ وَ اَرْسَلْنَا السَّمَآءَ عَلَیْهِمْ مِّدْرَارًا١۪ وَّ جَعَلْنَا الْاَنْهٰرَ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهِمْ فَاَهْلَكْنٰهُمْ بِذُنُوْبِهِمْ وَ اَنْشَاْنَا مِنْۢ بَعْدِهِمْ قَرْنًا اٰخَرِیْنَ Open ayah 6:6 in the Quran reader

کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ ہم نے ان سے پہلے کتنی امتوں کو ہلاک کر دیا جن کے پاؤں ملک میں ایسے جما دیئے تھے کہ تمہارے پاؤں بھی ایسے نہیں جمائے اور ان پر آسمان سے لگاتار مینہ برسایا اور نہریں بنا دیں جو ان کے (مکانوں کے) نیچے بہہ رہی تھیں پھر ان کو ان کے گناہوں کے سبب ہلاک کر دیا اور ان کے بعد اور امتیں پیدا کر دیں

الم یروا کم اہلکنا من قبلہم من قرن کیا (دوران سفر میں شام کے راستہ میں) انہوں نے نہیں دیکھا کہ کتنی کثرت سے جماعتوں کو ہم ہلاک کرچکے ہیں۔ کمخبر یہ ہے بمعنی کثیر اور من قبلہم میں من زائد ہے۔ قرنہم عصر جماعت اس کی جمع قرون ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے خیر القرون قرنی یعنی تمام جماعتوں میں بہتر وہ لوگ ہیں جو میرے ہم عصر ہیں۔ یا قرن کے معنی ہیں زمانہ کا ایک حصہ چالیس سال کا یا دس سال کا یا بیس کا یا تیس یا پچاس یا ساٹھ یا ستر یا اسی یا سو یا ایک سو بیس برس کا ‘ یہ مختلف اقوال آئے ہیں۔ صحیح ترین قول یہ ہے کہ قرن صدی کو کہتے ہیں کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے عبداللہ بن بشر مازنی سے فرمایا تھا تم ایک قرن جیو گے چناچہ ان کی عمر سو برس ہوئی۔ ذکرہ البغوی نہایہ الجوزی میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک لڑکے کے سر پر ہاتھ پھیر کر فرمایا تو ایک قرن جیتا رہے چناچہ اس کی عمر سو برس ہوئی ہوئی۔ اگر قرن کا معنی آیت میں زمانہ کا لیا جائے تو (زمانہ کو ہلاک کرنے سے) مراد اہل زمانہ کو ہلاک کرنا ہوگا۔ مکنا ہم فی الارض جن کو زمین پر ہم نے اتنی قوت دی تھی یعنی ان کو جما دیا تھا اور طاقت سامان اور تعداد عطا کی تھی۔ مالم نمکن لکم کہ تم کو اتنی قوت نہیں دی۔ ما لم نمکن میں مایا مَکَّنَّا کا مفعولِ دوئم ہے کیونکہ مکَّنَّا کے اندر اعطینا کا معنی ہے یا مصدری ہے شیئاً کے معنی میں۔ حضرت ابن عباس ؓ نے (اس طرح تفسیری مطلب) بیان کیا کہ ہم نے ان کی عمر میں اتنی ڈھیل دی کہ اتنی ڈھیل تمہاری عمروں میں نہیں دی جیسے قوم نوح ‘ قوم عاد ‘ قوم ثمود وغیرہ۔ آیت میں (لکم) خطاب ہے لیکن اس سے اوپر (قبلہم۔ یاتیہم۔ الم یرواوغیرہ) غائب کی ضمیریں ہیں اور یہ غیبوبت سے خطاب کی جانب انتقال ہے (جو مستحسن ہے) علماء بصرہ نے کہا اوپر اہل مکہ کے متعلق غائب کی ضمیر استعمال کی اور فرمایا الم یروا لیکن اہل مکہ میں رسول اللہ ﷺ اور آپ کے ساتھی بھی شامل تھے (جو حاضر تھے) اس لئے خطاب کی طرف انتقال کیا۔ وارسلنا السمآء علیہم مدرارا اور ہم نے ان پر خوب بارشیں برسائیں۔ السماء سے مراد ہے بارش۔ مدرار بروزن مفعال۔ مادہ دَرٌّ۔ دَرٌّکا معنی دودھ۔ دودھ عرب کے لئے بہت بڑھیا چیز ہے اس لئے بڑے فائدے اور کثیر بھلائی کو در کہا جاتا ہے (گویا مدرارا کا ترجمہ ہوا بہت مفید۔ ضرورت کے وقت بہت کارآمد) حضرت ابن عباس ؓ نے اسکا ترجمہ کیا۔ پیہم مسلسل۔ وجعلنا الانہار تجری من تحتہم اور ہم نے ان کے نیچے سے نہریں جاری کیں یعنی ان کے مکانوں کے نیچے ہم نے نہریں جاری کردی تھیں اس لئے پھلدار درختوں اور بہتی نہروں کے اندر وہ بڑے مزے اور عیش سے رہتے تھے۔ فاہلکنا ہم بذنوبہم پھر ان کے گناہوں کی وجہ سے ہم نے ان کو تباہ کردیا یعنی جب ہدایت کرنے کے لئے ان کے پاس انبیاء پہنچے اور انہوں نے انبیاء کو جھوٹا قرار دیا تو ہم نے ان کو تباہ کردیا اس وقت ان کی دنیوی طاقت اور خوش عیشی کچھ کام نہ آئی پس یہ کافر جب محمد ﷺ اور قرآن کا انکار کرتے ہیں تو دنیوی ساز و سامان ان کو تباہی سے کس طرح بچا سکتا ہے۔ وانشانا من بعدہم قرنا اخرین اور ان کے بعد ہم نے دوسری قومیں پیدا کیں اور تباہ شدہ لوگوں کی جگہ ان کو قائم کیا پس جس طرح گزشتہ زمانہ میں پیغمبروں کی تکذیب کرنے والوں کو تباہ کر کے دوسری قوموں کو ان کا جانشین بنایا اسی طرح اے اہل مکہ اگر تم ایمان نہ لاؤ گے تو تم کو بھی ہم تباہ کردیں گے (اور تمہاری جگہ دوسرے لوگوں کو لے آئیں گے) کلبی اور مقاتل کا بیان ہے کہ نضر بن حارث ‘ عبداللہ بن ابی امیہ اور نوفل بن خویلد نے کہا محمد ﷺ ہم ہرگز تم پر اس وقت تک ایمان نہیں لائیں گے جب تک اللہ کی طرف سے (ہماری نظروں کے سامنے) تم ایک کتاب نہ لاؤ جس کے ساتھ چار فرشتے ہوں اور وہ شہادت دیں کہ یہ کتاب اللہ کی طرف سے آئی ہے اور محمد اللہ کے رسول ہیں اس پر مندرجۂ ذیل آیت نازل ہوئی۔
Ayah 6:7

وَ لَوْ نَزَّلْنَا عَلَیْكَ كِتٰبًا فِیْ قِرْطَاسٍ فَلَمَسُوْهُ بِاَیْدِیْهِمْ لَقَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا سِحْرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 6:7 in the Quran reader

اور اگر ہم تم پر کاغذوں پر لکھی ہوئی کتاب نازل کرتے اور یہ اسے اپنے ہاتھوں سے بھی ٹٹول لیتے تو جو کافر ہیں وہ یہی کہہ دیتے کہ یہ تو (صاف اور) صریح جادو ہے

ولو نزلنا علیک کتابا فی قرطاس فلمسوہ بایدیہم اور اگر کسی کاغذ پر لکھی ہوئی تحریر ہم تم پر نازل کردیں جس کو اپنے ہاتھوں سے یہ لوگ چھو رہے ہوں۔ لقال الذین کفروا ان ہذا الا سحر مبین تب بھی کافر (محض ضد اور عناد سے) کہیں گے کہ یہ تو بس کھلا ہوا جادو ہے۔ اپنے ہاتھ سے چھونے کے بعد فریب دہی اور فریب خوردگی کی گنجائش نہیں رہتی کیونکہ جن چیزوں کو ہاتھ سے چھو لیا جائے ان کو جادو کی کار فرمائی نہیں کہہ سکتے اور اس کو نظر بندی کہہ کر ساقط الاعتبار قرار دینا ممکن نہیں مگر کافر اس کو بھی جادو ہی کہیں گے اور ایمان نہیں لائیں گے اللہ کے علم ازلی میں پہلے سے موجود ہے کہ یہ لوگ ایمان لانے والے نہیں ہیں۔
Ayah 6:8

وَ قَالُوْا لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْهِ مَلَكٌ١ؕ وَ لَوْ اَنْزَلْنَا مَلَكًا لَّقُضِیَ الْاَمْرُ ثُمَّ لَا یُنْظَرُوْنَ Open ayah 6:8 in the Quran reader

اور کہتے ہیں کہ ان (پیغمبر) پر فرشتہ کیوں نازل نہ ہوا (جو ان کی تصدیق کرتا) اگر ہم فرشتہ نازل کرتے تو کام ہی فیصل ہو جاتا پھر انھیں (مطلق) مہلت نہ دی جاتی

وقالوا لو لا انزل علیہ ملک نے کہا کہ محمد ﷺ پر فرشتہ نازل کیوں نہیں کیا گیا یعنی فرشتے کو کیوں نہیں اتارا گیا جو اس کی نبوت کی شہادت دے اور ہم کو بتائیے کہ یہ پیغمبر ہے اس آیت کا مضمون وہی ہے جو آیت لو لا انزل الیہ ملک فیکون معہ نذیرًا کا ہے۔ ولو انزلنا ملکا لقضی الامر ثم لا ینظرون اور اگر ہم (اس کے ساتھ) فرشتہ کو (شاہد بنا کر) اتار دیں تو کام ہی تمام کردیا جائے گا اس کے بعد ان کو مہلت نہیں دی جائے گی کام تمام کردینے سے مراد ہے درخواست نزول کرنے والوں کو تباہ کردینا کیونکہ ماضی میں اللہ کا طریقہ یہی رہا ہے کہ طلب معجزات کرنے والوں کو ظہور معجزات کے بعد ہلاک کردیا گیا مجاہد نے کہا کام تمام ہونے سے مراد ہے قیامت بپا ہوجانا ضحاک نے کہا اگر فرشتہ اصلی شکل میں ان کے سامنے آجاتا تو ہیبت کے مارے سب مرجاتے۔ لفظ ثم (تراخی کے لئے یہاں نہیں ہے بلکہ) فرق مرتبہ کو ظاہر کرنے کے لئے ہے کام کا فیصلہ ہو چکنا اور مہلت نہ پانا دونوں میں بڑا فرق ہے نفس عذاب سے عذاب کا ناگہاں آجانا زیادہ سخت ہوتا ہے۔
Ayah 6:9

وَ لَوْ جَعَلْنٰهُ مَلَكًا لَّجَعَلْنٰهُ رَجُلًا وَّ لَلَبَسْنَا عَلَیْهِمْ مَّا یَلْبِسُوْنَ Open ayah 6:9 in the Quran reader

نیز اگر ہم کسی فرشتہ کو بھیجتے تو اسے مرد کی صورت میں بھیجتے اور جو شبہ (اب) کرتے ہیں اسی شبے میں پھر انہیں ڈال دیتے

ولو جعلنہ ملکا اور اگر ہم اس (شاہد) کو فرشتے بناتے یا رسول کو فرشتہ بناتے یعنی اگر فرشتہ کو رسول کا ہمراہی (اور شاہد) بناتے یا یہ مطلب کہ کسی فرشتہ کو رسول بنا کر بھیجتے۔ کافروں کی درخواست دونوں طرح کی تھی کبھی تو وہ کہتے لو لا انزل الیہ ملک فیکون معہ نذیرا اور کبھی کہتے لو شاء ربنا لا نزل ملائکۃ (اس لئے آیت مذکورہ کا دونوں طرح ترجمہ اور مطلب صحیح ہے) لجعلنہ رجلا تو ہم اس کو مرد بناتے یعنی مرد کی شکل دے کر بھیجتے۔ جیسے حضرت جبرئیل ( علیہ السلام) حضرت دحیہ کلبی کی شکل میں رسول اللہ ﷺ کے سامنے آتے تھے بات یہ ہے کہ فرشتوں کو ان کی اصل شکل میں دیکھنا عام بشری قوت سے باہر ہے البتہ بعض مخصوص انبیاء نے قوت قدسیہ کا حامل ہونے کی وجہ سے ملائکہ کو اصلی صورت میں کبھی دیکھا تھا ایک وجہ یہ بھی ہے کہ پیغمبر خالق و مخلوق کے درمیان ایک برزخی حیثیت رکھتا ہے اس لئے اس میں طرفین سے مناسبت ہوتی ہے خالق کے ساتھ ارتباط رکھنے کی وجہ سے وہ ان تمام فیوض کو قبول کرتا ہے جو عالم بالا سے جاری ہوتے ہیں اور مخلوق کے ساتھ مناسبت رکھنے کی وجہ سے وہ باری تعالیٰ کی طرف سے نازل شدہ فیوض سے مخلوق کو سرفراز کرتا ہے اگر طرفین کے ساتھ مناسبت نہ ہو تو فیضان روحانی کو حاصل کرنا اور مخلوق کو اس سے بہرہ اندوز کرنا ممکن نہیں انبیاء ہوں یا ملائکہ دونوں کا باطنی لگاؤ خالق سے ہوتا ہے ان کا مبدأ تعین ذات باری کا کوئی مخصوص وصف ہوتا ہے باقی مخلوق کا مبدأ تعین کوئی صفت نہیں بلکہ صفت کا پرتو اور عکس ہوتا ہے۔ (1) [ نبوت اور ملکیت کو ایک آئینہ کہا جاسکتا ہے جس کا رخ پورے مقابلہ کے ساتھ نہیں بلکہ کچھ ترچھے طور پر آفتاب الوہیت کی طرف ہوتا ہے اور بغیر کسی وساطت کے آفتاب الوہیت کی کوئی شعاع جلالی یا جمالی اس آئینہ پر پڑتی ہے مبداء تعین ہونے کا یہی معنی ہے۔ پھر آئینہ کا رخ چونکہ ترچھا ہوتا ہے اس لئے آئینہ نبوت و رسالت پر پڑنے والی کوئی شعاع پلٹ کر اس جگہ چمکنے لگتی ہے جہاں براہ راست وہ شعاع کسی آڑ میں ہونے کی وجہ سے نہیں پہنچ سکتی گویا آفتاب الوہیت کی شعاع براہ راست آئینہ پر پڑتی ہے اور آئینہ کو روشن کردیتی ہے پھر آئینہ سے الٹ کر دالان کمرہ یا کسی اور مسقف جگہ پر پہنچتی ہے اور آئینہ نبوت پر پڑنے والی شعاع کے عکس سے وہ اندرونی جگہ بھی چمکنے لگتی ہے یہی معنی ہیں اس قول کے کہ باقی مخلوق کا مبداء تعین صفت کا سایہ ہے۔ (مؤلف)] اس لئے ضروری ہے کہ رسول کو مخلوق سے شکلی (نوعی اور مادی) مناسبت بھی ہو (پس اگر ملائکہ کو انسانوں کے پاس پیام پہنچانے کے لئے بھیجا جاتا تو کم سے کم ان رسولوں کا آدمی کی شکل پر ہونا ضروری تھا اور ایسی حالت میں ان کی شناخت ناممکن تھی معلوم نہیں ہوسکتا تھا کہ واقع میں وہ ملائکہ انسانی نسل کی پیداوار ہیں اور انسانوں سے نوعی اشتراک رکھتے ہیں یا ملائکہ بشکل بشری ہیں اور انسانوں کے بھیس میں آئے ہوئے ہیں) ۔ پیغمبر فرشتوں کو انسانی شکل میں بھیجنا اس لئے بھی ضروری ہوتا کہ انسان ایمان بالغیب کا مکلف ہے اس ماموریت کا تقاضا ہے کہ فرشتوں کو (پیغمبر بنا کر بھیجنے کے باوجود) مشتبہ اور پردہ کے اندر رکھا جائے (تاکہ غیبی حقیقت غائب ہی رہے) اسی لئے آگے فرمایا ہے۔ وللبسنا علیہم ما یلبسون اور ہمارے اس فعل سے ان کے لئے وہی اشکال پیدا ہوتا جو اشکال اب کررہے ہیں یعنی فرشتوں کی حالت کو ہم اشتباہ میں ہی رکھتے لوگوں کو معلوم بھی نہ ہوتا کہ یہ فرشتے ہیں بلکہ وہ یہی کہتے کہ یہ بھی دوسروں کی طرح انسان ہیں جس طرح اب انبیاء کے کھلے معجزات دیکھنے کے بعد بھی رسالت و نبوت میں اشتباہی کیفیت انہوں نے خود اپنے اوپر طاری کر رکھی ہے کافر حضور ﷺ سے استہزاء کرتے تھے جس سے آپ کو دکھ پہنچتا تھا آئندہ آیت آپ کی تسلی کے لئے نازل ہوئی۔
Ayah 6:10

وَ لَقَدِ اسْتُهْزِئَ بِرُسُلٍ مِّنْ قَبْلِكَ فَحَاقَ بِالَّذِیْنَ سَخِرُوْا مِنْهُمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ۠ Open ayah 6:10 in the Quran reader

اور تم سے پہلے بھی پیغمبروں کے ساتھ تمسخر ہوتے رہے ہیں سو جو لوگ ان میں سے تمسخر کیا کرتے تھے ان کو تمسخر کی سزا نے آگھیرا

ولقد استہزی برسل من قبلک اور آپ سے پہلے پیغمبروں سے بھی استہزاء کیا گیا ہے۔ جس طرح آپ سے استہزاء کیا جاتا ہے اس لئے آپ اس کی پروا نہ کریں۔ فحاق بالذین سخروا منہم ما کانوا بہ یستہزون پھر اسی (عذاب) نے ان مذاق بنانے والوں کو گھیر لیا۔ جس کا وہ مذاق اڑایا کرتے تھے۔ سو ان استہزاء کرنے والوں کو بھی وہی عذاب گھیر لے گا جس سے یہ استہزاء کرتے ہیں۔ ضحاک نے حاقکا ترجمہ کیا ہے گھیر لیا۔ قاموس میں بھی یہی ہے لیکن ربیع بن انس اور عطاء نے علی الترتیب اس کا ترجمہ کیا ہے نزل اور حل یعنی نازل ہوا اور اترا۔ ما کانوا میں مَا موصولہ ہے یا مصدریہ۔ بہرحال اس سے پہلے لفظ عذاب یا وبال محذوف ہے۔
Ayah 6:11

قُلْ سِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ ثُمَّ انْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُكَذِّبِیْنَ Open ayah 6:11 in the Quran reader

کہو کہ (اے منکرین رسالت) ملک میں چلو پھرو پھر دیکھو کہ جھٹلانے والوں کا کیا انجام ہوا

قل سیروا فی الارض (اے محمد ﷺ آپ کہہ دیجئے کہ زمین کی سیر کرو۔ خواہ جسمانی سفر کے ذریعہ سے ہو یا عقل و دانش اور عبرت اندوز سوچ بچار کی سیر ہو۔ ثم انظروا کیف کان عاقبۃ المکذبین پھر (پیغمبروں کو) جھوٹا قرار دینے والوں کے انجام کی کیفیت دیکھو یعنی دیکھو کہ ان کا انجام کار کیا ہوا اور کفر و تکذیب کے نتیجہ میں ان کی کیسی تباہی و ناکامی ہوئی۔ ایک شبہ دوسری آیت ہے قل سیروا فی الارض فانظروا کیف کان عاقبۃ المکذبین اور اس آیت میں ہے ثم انظروافاء صرف تعقیب کے لئے آتی ہے (یعنی فاء کے بعد جو مضمون ہوتا ہے وہ فاء سے پہلے والے مضمون کے بعد بغیر کسی توقف کے واقع ہوتا ہے) اور ثُمَّتراخی کے لئے آتا ہے (یعنی ثم کے بعد والا مضمون پہلے والے مضمون سے کچھ مدت اور وقفہ کے بعد واقع ہوتا ہے اب سوال یہ ہے) کہ سیر ارض کے بعد فوراً انجام نظر کے سامنے آنا ضروری ہے یا کچھ مدت کے بعد دونوں مضمونوں میں مطابقت کس طرح ممکن ہے۔ ازالہ سیر (کوئی لمحاتی اور آنی چیز نہیں بلکہ اس) کے لئے ممتد وقت اور مسافت کی ضرورت ہے ابتداء سیر اور انتہاء سیر کے درمیان کافی وقت ہوتا ہے اہل تکذیب کا کچھ انجام بد تو ابتداء سیر کے بعد ہی نظر کے سامنے آسکتا ہے اور ان کے ویران شہروں اور تباہ شدہ بستیوں کا پورا عبرت آفریں معائنہ انتہاء سیر کے بعد ہوتا ہے اوّل صورت کے لحاظ سے فاء کا استعمال کیا اور دوسری صورت کے لحاظ سے ثمَّ : کو ذکر کیا۔ بیضاوی نے لکھا ہے کہ اس آیت اور آیت سیروا فی الارض فانظروا میں فرق یہ ہے کہ فانظروا والی آیت میں تو سیرکا حکم صرف نظر کے لئے دیا گیا ہے اور اس آیت میں ایسا نہیں ہے اسی لئے کہا گیا ہے کہ اس آیت کا معنی یہ ہے کہ تجارت وغیرہ کے لئے سفر کرنا مباح ہے اور تباہ شدہ لوگوں کے آثار دیکھنا واجب ہے (یعنی تجارت وغیرہ کے لئے جاؤ تو لازم ہے کہ نافرمان کی ویران بستیاں اور ان کا انجام بد دیکھو) صاحب مدارک نے بھی یہی لکھا ہے بلکہ اتنا زائد لکھا ہے کہ اس آیت میں (سیر کا حکم بطور اباحت کے ہے اور ہلاک شدہ لوگوں کے آثار دیکھنے کا حکم وجوبی ہے اور دونوں حکموں کے درمیان) ثم ذکر کیا ہے کیونکہ اباحت و ایجاب میں کامل بعد ہے (اور ثم اس بعد پر دلالت کر رہا ہے) ۔ میں کہتا ہوں ان دونوں بزرگوں کے قول کا سنگ بنیاد یہ ہے کہ فاء کو سببیہ مانا گیا ہے اور سببیت کا تقاضا یہ ہے کہ سیر واقع میں نظر کا سبب ہے (یعنی سیر کے بعد نظر حاصل ہوتی ہی ہے) خواہ نظر مقصود اصلی ہو یا نہ ہو اب دونوں آیتوں کا مقصد یہ نکلا کہ دونوں چیزیں مطلوب ہیں مطلق سیر اور تباہ شدہ لوگوں کے انجام کا معائنہ مگر اس آیت میں چونکہ ثم ہے اس لئے سیر کا سبب نظر ہونا معلوم نہیں ہوتا اور دوسری آیت میں فاء ہے اس لئے سیر کا سبب نظر ہونا ضروری ہے اور دونوں آیتوں کا سیاق چاہتا ہے کہ امر کا اصل مقصد تو نظر انجام ہے اور سیر چونکہ نظر کا ذریعہ ہے اس لئے اس کا بھی حکم دے دیا گیا ہے اور چونکہ بالذات مقصود اور وسیلۂ مطلوب میں بہت زیادہ بعد ہے (مقصد اور ذریعہ مقصد دو الگ الگ چیزیں ہیں) اس لئے لفظ ثماستعمال کیا گیا اب دونوں آیتوں میں مطابقت پیدا کرنے کے لئے اس امر کی ضرورت نہیں رہتی کہ فانظروا والی آیت میں آغاز سیر اور ثم انظروا والی آیت میں انتہاء سیر مراد لی جائے۔
Ayah 6:12

قُلْ لِّمَنْ مَّا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ قُلْ لِّلّٰهِ١ؕ كَتَبَ عَلٰى نَفْسِهِ الرَّحْمَةَ١ؕ لَیَجْمَعَنَّكُمْ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ لَا رَیْبَ فِیْهِ١ؕ اَلَّذِیْنَ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ فَهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 6:12 in the Quran reader

(ان سے) پوچھو کہ آسمان اور زمین میں جو کچھ ہے کس کا ہے کہہ دو خدا کا اس نے اپنی ذات (پاک) پر رحمت کو لازم کر لیا ہے وہ تم سب کو قیامت کے دن جس میں کچھ بھی شک نہیں ضرور جمع کرے گا جن لوگوں نے اپنے تیئیں نقصان میں ڈال رکھا ہے وہ ایمان نہیں لاتے

قل لمن ما فی السموات والارض (اے محمد ﷺ آپ پوچھئے کہ آسمانوں اور زمینوں میں جو کچھ ہے وہ کس کا ( بنایا ہوا قائم کیا ہوا) ہے ما کا لفظ عام ہے اصحاب عقل (جن و انس و ملائک) اور بےعقل (باقی ساری کائنات) سب کو شامل ہے۔ قل للہ (چونکہ اس کا جواب اختلافی نہیں ہوسکتا اور کوئی یہ جواب نہیں دے سکتا کہ یہ کائنات اللہ کے سوا کسی اور کی ہے اس لئے) آپ ہی کہہ دیجئے کہ سب کچھ اللہ کا ہے۔ کتب علی نفسہ الرحمۃ اس نے اپنے اوپر رحمت کا ذمہ لے رکھا ہے۔ یعنی اس نے رحمت کرنے کا ذمہ لے رکھا ہے اور محکم ترین وعدہ کرلیا ہے جس کی خلاف ورزی ناممکن ہے رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جب اللہ نے مخلوق کو پیدا کرنے کا فیصلہ کرلیا تو ایک تحریر لکھ کر اپنے پاس عرش کے اوپر رکھ چھوڑی جس میں لکھا ہے یقیناً میری رحمت میرے غضب پر غالب ہوگئی۔ دوسری روایت میں ہے میری رحمت میرے غضب سے آگے بڑھ گئی۔ رواہ البغوی من حدیث ابی ہریرہ ؓ ۔ حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ کی سو رحمتیں ہیں جن میں سے ایک اس نے نیچے اتار کر جن و بشر اور چوپایوں اور کیڑوں مکوڑوں کو تقسیم کی ہے اسی کی وجہ سے وہ باہم محبت و رحمت کرتے ہیں وحشی جانور اسی کے سبب اپنے بچوں سے پیار کرتے ہیں۔ ننانوے رحمتیں اس نے اپنے لئے رکھ چھوڑی ہیں جن سے قیامت کے دن اپنے بندوں کو سرفراز فرمائے گا۔ رواہ مسلم۔ میں کہتا ہوں غالباً سو کی تعیین عددی نہیں بلکہ بطور تمثیل اظہار کثرت مراد ہے کیونکہ بندوں کے پاس جو کچھ ہے (رحمت ہو یا کچھ اور سب) فنا ہونے والا ہے اور جو اللہ کے پاس ہے وہ لازوال ہے ممکنات کی تمام صفات محدود ہیں اور اللہ کی صفات لامتناہی۔ رحمت کا جو حصہ اللہ نے اتارا اور بندوں کے دلوں میں ڈالا ہے وہ اللہ کی رحمت کا ایک ادنیٰ پر تو ہے۔ حضرت عمر بن خطاب ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ : کی خدمت میں کچھ جنگلی قیدی حاضر کئے گئے ان میں ایک عورت بھی تھی جس کے پستان دودھ سے بھرے ہوئے تھے جب قیدیوں میں ایک بچہ پر اس کی نظر پڑی تو دوڑ کر عورت نے بچہ کو سینہ سے چمٹا لیا اور اس کو دودھ پلایا۔ حضور ﷺ نے فرمایا دیکھو کیا یہ عورت اپنے بچہ کو آگ میں پھینک سکتی ہے ہم نے عرض کیا نہیں وہ ایسا کر ہی نہیں سکتی۔ فرمایا جس قدر یہ عورت اپنے بچہ پر مہربان ہے اس سے زیادہ اللہ اپنے بندوں پر مہربان ہے۔ اللہ کی دنیوی رحمت دنیوی نعمتوں کی شکل میں ظاہر ہوتی ہے (جیسے جسمانی صحت و حسن ‘ مال و دولت کی کثرت اولاد کی فراوانی عیش و راحت ‘ حکومت و عزت۔ اس میں مسلم و کافر سب شریک ہیں) اور رحمت اخروی سے نعمت آخرت وابستہ ہے جیسے پیغمبروں کی بعثت آسمانی کتابوں کا نزول (باطنی و ظاہری انفسی و آفاقی) دلائل توحید کا قیام اور موت اور مرنے کے بعد دوبارہ زندگی جس کے نتیجہ میں جنت اور اللہ کا دیدار حاصل ہوگا۔ یہ سب آخرت سے تعلق رکھنے والی رحمت ہے (جو مسلمانوں کے لئے مخصوص ہے) اور یہی اصل مقصود ہے احادیث مندرجۂ بالا اسی پر دلالت کر رہی ہے اور آئندہ آیت بھی یہی بتارہی ہے۔ لیجمعنکم الی یوم القیمۃ اللہ تم کو (یعنی تمہارے اجزاء کو) قیامت کے دن ضرور جمع کر کے اٹھائے گا۔ اس جگہ الٰی بمعنی فی ہے۔ یا یہ مطلب ہے کہ اللہ قبروں کے اندر تم سب کو قیامت تک جمع رکھے گا (یہ تو آیت کا اصل مطلب ہے جو صراحتہً معلوم ہو رہا ہے لیکن) اس سے ذیلی طور پر یہ بھی معلوم ہو رہا ہے کہ قیامت کے دن اللہ تم کو اٹھائے گا اور تم قبروں سے الگ الگ نکالے جاؤ گے تاکہ اپنی اپنی زندگی کا کیا دھرا دیکھ سکو (اور پھر اس کا بدلہ تم کو دیا جائے۔ اس آیت سے ظاہر ہو رہا ہے کہ اصل مقصد آخرت کی رحمت ہے۔ چونکہ کافر بڑی قوت کے ساتھ پُر زور طور پر دوسری زندگی اور قیامت کے دن اٹھائے جانے کے منکر تھے اس لئے سب سے پہلے تکذیب کرنے والوں کے انجام بد کا معائنہ کرنے کا حکم دیا پھر ہمہ گیر قدرت کا اظہار لمن ما فی السموات والارضکہہ کر فرمایا پھر کتب علی نفسہ الرحمۃ سے دوبارہ جی اٹھنے کی حکمت بیان فرمائی پھر لیجمعنکم میں لام تاکید کے ساتھ بعث و حشر کی صراحت کی پھر آئندہ آیت میں وجود قیامت کو ناقابل شک قرار دیا اور فرمایا لا ریب فیہ اس میں کوئی شک نہیں۔ یعنی جسم کے منتشر اجزاء کا دوبارہ جمع کیا جانا یا روز قیامت کا آنا ناقابل شک ہے۔ اور چونکہ الرحمۃ کا لفظ عام تھا جس سے شبہ ہوتا تھا کہ شاید اللہ کی اخروی نعمت سے کفار بھی بہرہ اندوز ہو سکیں گے اور یہ شبہ تھا غلط اس لئے آئندہ آیت میں کافروں کی آخرت میں محرومی ظاہر کی اور یہ بھی بتادیا کہ یہ محرومی خود کافروں کی آوردہ ہوگی اور فرمایا۔ الذین خسروا انفسہم فہم لا یومنون جن لوگوں نے اپنے کو ضائع کردیا وہ ایمان نہیں لائیں گے۔ یعنی شرک کرنے کی وجہ سے جنہوں نے اپنے کو ضائع کردیا وہ ایمان نہیں لائیں گے کیونکہ انہوں نے اصل پونجی ہی کھو دی فطرت سلیم اور صحیح دانش ضائع کردی اور اللہ کی رحمت کا جو حصہ ان کو مل رہا تھا اس کو فوت کردیا اور اس کے عوض عذاب خرید لیا۔ فہم لا یومنون کی فاء بتارہی ہے کہ اللہ کے علم میں جو کافروں کا خسران ہے (یعنی اللہ پہلے سے جانتا ہے کہ یہ لوگ خاسر رہیں گے) وہی ان کے ایمان نہ لانے کا سبب ہے۔ الذین خسروا سے پہلے واؤ عاطفہ کا ذکر ہونا چاہئے تھا تاکہ لا ریب فیہ پر عطف ہوجاتا مگر لا ریب فیہکہنے کے بعد ایک سوال کیا جاسکتا تھا کہ روز قیامت ناقابل شک ہے تو کافروں کو اس میں شک کیوں ہے اس کا جواب دینے کے لئے فرمایا کہ درحقیقت ان کا خسران عدم ایمان کا سبب ہے (چونکہ ان کو خاسر رہنا ضروری ہے اس لئے روز قیامت پر ان کا ایمان نہیں) یہ بھی ممکن ہے کہ الذینکو فعل ذم محذوف کا مفعول قرار دیا جائے (اور یہ جملہ فعلیہ ہوجائے) حضرت ابو امامہ ؓ کی روایت کردہ حدیث بھی اس امر پر دلالت کر رہی ہے کہ اللہ کی رحمت عام ہے اور کافروں کی محرومی کا سبب ان کا خسران ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا تم میں سے ہر ایک جنت میں جائے گا۔ سوائے اس شخص کے جو اللہ سے ایسا بھاگے جیسے وحشی اونٹ اپنے گھر والوں سے بھاگتا ہے۔ (رواہ الطبرانی والحاکم بسند صحیح)
Ayah 6:13

وَ لَهٗ مَا سَكَنَ فِی الَّیْلِ وَ النَّهَارِ١ؕ وَ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 6:13 in the Quran reader

اور جو مخلوق رات اور دن میں بستی ہے سب اسی کی ہے اور وہ سنتا جانتا ہے

ولہ ما سکن فی اللیل والنہار اور اسی کا ہے وہ سب کچھ جو رات اور دن (کے دور) میں رہتا ہے۔ سکن سکنی سے مشتق ہے اس کے بعد ظرف مکان آتا ہے جس سے پہلے فی ہوتا ہے (جیسے فی البیت فی المسجد وغیرہ) لیکن اس جگہ زمان (اللیل والنہار) کا ذکر بطور اتساع کیا (گویا زمان کو مکان کا قائم مقام قرار دیا اور یہ ظاہر کیا کہ مکان کی طرح زمان بھی قابل سکونت چیز ہے) دوسری آیت میں (سکنتم فی مساکن الذین ظلموا انفسہم) آیا ہے (اور فی کے بعد مکان کا ذکر ہے) یہاں ما سے مراد وہ تمام چیزیں ہیں جن پر روز و شب کا دور ہوتا ہے۔ یا لفظ سکنسکون سے ماخوذ ہے مراد یہ ہے کہ اللہ ہی کا ہے جو دن رات کے چکر میں ساکن رہتا ہے یا حرکت کرتا ہے متحرک کا ذکر اس لئے نہیں کیا کہ متحرک کی ضد یعنی ساکن کا ذکر کردیا (ایک ضد کے ذکر پر اکتفا کرلیا جاتا ہے مگر مراد دونوں ہوتے ہیں) جیسے سرابیل تقیکم الحر یعنی کرتے جو تم کو گرمی سردی سے محفوظ رکھتے ہیں۔ وہو السمیع العلیم اور وہی سننے والا ہے ( مشرکوں کے اقوال کو) اور جاننے والا ہے (ان کے احوال کو) اس آیت میں مشرکوں کو وعید ہے (کہ تمہارا کوئی قول و فعل ہم سے مخفی نہیں ہم ضرور سزا دیں گے)
Ayah 6:14

قُلْ اَغَیْرَ اللّٰهِ اَتَّخِذُ وَلِیًّا فَاطِرِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ هُوَ یُطْعِمُ وَ لَا یُطْعَمُ١ؕ قُلْ اِنِّیْۤ اُمِرْتُ اَنْ اَكُوْنَ اَوَّلَ مَنْ اَسْلَمَ وَ لَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُشْرِكِیْنَ Open ayah 6:14 in the Quran reader

کہو کیا میں خدا کو چھوڑ کر کسی اور کو مددگار بناؤں کہ (وہی تو) آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا ہے اور وہی (سب کو) کھانا دیتا ہے اور خود کسی سے کھانا نہیں لیتا (یہ بھی) کہہ دو کہ مجھے یہ حکم ہوا ہے کہ میں سب سے پہلے اسلام لانے والا ہوں اور یہ کہ تم (اے پیغمبر!) مشرکوں میں نہ ہونا

قل اغیر اللہ اتخذوا ولیا آپ کہہ دیں کہ اللہ کے علاوہ کیا کسی دوسرے کو میں مددگار معبود قرار دوں۔ یہ استفہام انکاری ہے یعنی اللہ کے سوا دوسروں کو کارساز بنانے کا انکار ہے محض ولی بنانے کا انکار نہیں ہے اسی لئے ہمزہ کے بعد اتخذ سے پہلے مفعول کو ذکر کیا ہے۔ فاطر السموات والارض اللہ تو ایسا ہے کہ آسمانوں اور زمینوں کا خالق و موجد ہے فاطر کی اضافت معنویہ ہے (یعنی آسمان و زمین فاطر کا مفعول ہے) مطلب یہ ہے کہ اللہ نے آسمان و زمین کو پیدا کیا ہے۔ وہو یطعم ولا یطعم اور وہی کھانے کو دیتا ہے اس کو کوئی کھانا نہیں دیتا طعام سے مراد ہے رزق (کھانا کپڑا اور تمام چیزیں) کھانے کا ضرورت مند انسان زیادہ ہوتا ہے اس لئے طعام کا ذکر کیا۔ کچھ لوگوں نے رسول اللہ ﷺ : کو باپ دادا کا دین اختیار کرنے کی ترغیب دی تو آیت ذیل نازل ہوئی۔ قل انی امرت ان اکون اول من اسلم آپ کہہ دیں مجھے حکم دیا گیا ہے کہ سب سے پہلے اسلام قبول کروں۔ رسول اللہ ﷺ تمام امت سے پہلے اسلام پر مامور ہوئے تھے۔ ولا تکونن من المشرکین اور (یہ بھی کہا گیا ہے کہ) تم مشرکوں میں سے ہرگز نہ ہونا (قیل محذوف ہے اور لا تکونن اس کا مقولہ ہے۔ یا اس کا عطف قل پر ہے۔ ہم نے اوّل شق کے مطابق ترجمہ کیا ہے)
Ayah 6:15

قُلْ اِنِّیْۤ اَخَافُ اِنْ عَصَیْتُ رَبِّیْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ Open ayah 6:15 in the Quran reader

(یہ بھی) کہہ دو کہ اگر میں اپنے پروردگار کی نافرمانی کروں تو مجھے بڑے دن کے عذاب کا خوف ہے

قل انی اخاف ان عصیت ربی عذاب یوم عظیم آپ کہہ دیجئے مجھے بڑے دن یعنی روز قیامت کے عذاب کا خوف ہے اگر میں اپنے رب کی نافرمانی کروں گا یعنی اس کے سوا کسی اور کی عبادت کروں گا تو قیامت کے دن وہ مجھے عذاب دے گا۔ پُر زور طرز کلام کے ساتھ کافروں کے خیال کا استیصال کردیا اور درپردہ اس بات کی طرف بھی اشارہ کردیا کہ کفر و نافرمانی کی وجہ سے تم لوگ عذاب کے مستحق ہو تم کو ضرور عذاب ہوگا۔ عَذَابَ یَوْمٍ اَخَافُ کا مفعول ہے اور اَخَافُ اِنْ عَصَیْتُکی جزاء نہیں ہے بلکہ جزاء محذوف ہے یعنی اِنْ عَصیتُ رَبی عَذَّبْنِیْچونکہ جملہ جزاء محذوف پر دلالت کر رہا ہے اس لئے اس کے ذکر کی ضرورت نہیں۔
Ayah 6:16

مَنْ یُّصْرَفْ عَنْهُ یَوْمَئِذٍ فَقَدْ رَحِمَهٗ١ؕ وَ ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْمُبِیْنُ Open ayah 6:16 in the Quran reader

جس شخص سے اس روز عذاب ٹال دیا گیا اس پر خدا نے (بڑی) مہربانی فرمائی اور یہ کھلی کامیابی ہے

من یصرف عنہ یومئذ فقد رحمہ جس شخص سے اس روز عذاب ہٹا دیا جائے گا تو یہ اس پر اللہ کی رحمت ہی ہوگی کہ محض اپنی مہربانی سے اس کو عذاب سے بچا لے گا ورنہ عذاب سے محفوظ رہنے والے کا اللہ پر کوئی واجب الادا حق نہیں ہوگا۔ یَوْمَءِذٍفتح پر مبنی ہے۔ عاصم اور یعقوب کی قرأت میں یَصْرِفْہے اس کا فاعل اللہ ہے اور عذاب مفعول محذوف ہے۔ مشہور قرأت یُصْرَفْہے جس کا فاعل عذاب ہے۔ وذلک الفوز المبین اور یہی کھلی کامیابی ہے۔ قاموس میں ہے کہ فوزکا معنی ہے نجات کامیابی۔ ہلاکت۔ ہلاکت تو بہرحال مراد نہیں ہے سیاق کلام کے خلاف ہے اور نجات بھی مراد نہیں ہے کیونکہ عذاب کا ہٹنا خود ہی نجات ہے (تو یہ معنی ہوجائے گا کہ نجات ہے اور یہ مطلب غیر مفید ہے) لامحالہ کامیابی مراد ہے اس تقریر سے واضح ہو رہا ہے کہ عذاب دور ہونے کے لئے جنت میں داخل ہونا لازم ہے (درمیان میں کوئی اور وجہ نہیں کہ عذاب بھی دور کردیا جائے اور پھر جنت میں بھی داخلہ نہ ہو) اس سے معتزلہ کے قول کی غلطی ظاہر ہو رہی ہے جو عذاب اور جنت کے درمیان تیسرے درجہ کے قائل ہیں۔
Ayah 6:17

وَ اِنْ یَّمْسَسْكَ اللّٰهُ بِضُرٍّ فَلَا كَاشِفَ لَهٗۤ اِلَّا هُوَ١ؕ وَ اِنْ یَّمْسَسْكَ بِخَیْرٍ فَهُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 6:17 in the Quran reader

اور اگر خدا تم کو کوئی سختی پہنچائے تو اس کے سوا اس کو کوئی دور کرنے والا نہیں اور اگر نعمت (وراحت) عطا کرے تو (کوئی اس کو روکنے والا نہیں) وہ ہر چیز پر قادر ہے

وان یمسسک اللہ بضر فلا کاشف لہ الا ہو اور اگر تجھ کو اللہ کوئی تکلیف پہنچائے تو اس کا دور کرنے والا سوائے اللہ کے اور کوئی نہیں ضُرّبمعنی شدت جیسے مفلسی ‘ بیماری ‘ عذاب فلا کاشف سے یہ مراد ہے کہ اس کو دور کرنے پر کوئی قادر نہ ہوگا (یعنی اللہ کی بھیجی ہوئی تکلیف کو سوائے اس کے کوئی دوسرا دور نہیں کرسکتا) ورنہ خدا کی کمزوری لازم آئے گی اور کمزوری ‘ الوہیت اور واجب الوجود ہونے کے منافی ہے۔ وان یمسسک بخیر فہو علی کل شی قدیر اور اگر تجھ کو اللہ کوئی نفع پہنچائے تو وہ ہر چیز پر پوری قدرت رکھنے والا ہے۔ خیر۔ بھلائی خواہ عافیت ہو صحت ہو دولت ہو یا کچھ اور۔ یعنی اللہ کے قابو میں سب کچھ ہے پس خیر کو قائم و باقی رکھنا اور زائل دور کرنا بھی اسی کی قدرت میں ہے کوئی اور خدا کی عطا کی ہوئی خیر کو زائل نہیں کرسکتا) بغوی نے اپنی سند سے حضرت ابن عباس ؓ : کا بیان نقل کیا ہے کہ کسریٰ نے رسول اللہ ﷺ : کی خدمت میں ایک خچر بطور ہدیہ بھیجا تھا آپ بالوں کی رسی کی لگام دے کر اس پر سوار ہوئے اور مجھے اپنے پیچھے بٹھا لیا پھر مجھے لے کر روانہ ہوگئے کچھ دیر چلنے کے بعد میری طرف کو رخ موڑ کر فرمایا لڑکے میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ میں حاضر ہوں فرمایا اللہ (کے احکام) کی نگہداشت کر اللہ تیری حفاظت رکھے گا اللہ (کے اوامر ونواہی) کی نگہداشت کر تو اس کو اپنے سامنے پائے گا تو عیش و آرام کے وقت اللہ کو پہچان دکھ اور سختی کے وقت خدا تجھ سے انجان نہ ہوگا کچھ مانگے تو اللہ سے مانگ اگر مدد طلب کرے تو اللہ سے طلب کر جو کچھ ہونے والا ہے قلم اس پر چل چکا ہے۔ فیصلۂ خداوندی کے خلاف اگر ساری مخلوق تجھے فائدہ پہنچانے کی کوشش کرے تو فائدہ نہیں پہنچا سکتی اور اللہ کی تحریر کے خلاف اگر تجھے ضرر پہنچانا چاہے گی تو ضرر نہیں پہنچا سکے گی۔ اگر تجھ سے ہو سکے تو یقین کے ساتھ (مصائب پر) صابر رہ کر عمل کر اگر عمل نہ کرسکتا ہو تو صبر کر ناگوار امور پر صبر رکھنے میں بڑی بہتری ہے۔ یہ بھی جان رکھ کہ صبر کے ساتھ مدد ہوتی ہے اور سختی کے ساتھ کشائش اور دشواری کے ساتھ آسانی۔ احمد اور ترمذی نے یہ حدیث نقل کی ہے ترمذی نے اس کو حسن صحیح کہا ہے لیکن ترمذی کی روایت میں یہ الفاظ نہیں ہیں کہ اگر تجھ سے ہو سکے تو یقین کے ساتھ صابر رہ کر عمل کر الخ (یعنی ترمذی کی روایت مختصر ہے)
Ayah 6:18

وَ هُوَ الْقَاهِرُ فَوْقَ عِبَادِهٖ١ؕ وَ هُوَ الْحَكِیْمُ الْخَبِیْرُ Open ayah 6:18 in the Quran reader

اور وہ اپنے بندوں پر غالب ہے اور وہ دانا اور خبردار ہے

وہو القاہر اور وہی غالب ہے۔ قہر اس غلبہ کو کہتے ہیں جس میں مغلوب کا عاجز ہونا بھی سمجھ میں آتا ہو اور قدرت کا معنی ہے قادر کے ارادہ کے خلاف ارادہ کرنے والے کو اس کے مقصد سے روک دینا۔ قدرت کے مفہوم سے قہر کے معنی میں کچھ بیشی ہے (کیونکہ قدرت کے مفہوم سے مقدور کا عجز ظاہر نہیں ہوتا اور قہر کے مفہوم میں مقہور کا عجز لازم ہے) فوق عبادہ وہی اپنے بندوں سے بالا ہے۔ یہ دوسری خبر ہے (اوّل خبر القاہر ہے) لفظ فوق سے قاہر اور برتر ہونے کی تصویر کشی ہو رہی ہے۔ وہو الحکیم اور وہی حکمت والا ہے۔ اپنے حکم کی حکمت سے واقف ہے۔ الخبیر .(ہر چیز سے) باخبر ہے کوئی شے اس سے مخفی نہیں۔ کلبی نے بیان کیا ہے کہ کچھ مکہ والے رسول اللہ ﷺ : کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا ‘ کیا کوئی شخص ایسا ہے جو تمہارے رسول ہونے کی شہادت دیتا ہو ہمیں تو کوئی ایسا آدمی ملا نہیں جو تمہاری تصدیق کرتا ہو۔ ہم نے یہودیوں اور عیسائیوں سے بھی تمہارے متعلق دریافت کیا سب نے جواب دیا کہ ان کے ہاں تمہارا کوئی ذکر نہیں ہے (یعنی ان کی کتابوں میں تمہارا کوئی تذکرہ نہیں آیا) اس پر آیت ذیل نازل ہوئی۔