جھوٹے معبود غلط سہارے کافروں کو نہ تو خلوص عبادت نصیب ہے نہ سچا توکل رب میسر ہے ان سے کہہ دے کہ کیا میں بھی تمہاری طرح اپنے اور سب کے سچے معبود کو چھوڑ کر جھوٹے معبود بنا لوں ؟ میری پرورش کرنے والا حفاظت کرنے والا مجھے بچانے والا میرے کام بنانے والا میری بگڑی کو سنوارنے والا تو اللہ ہی ہے پھر میں دوسرے کا سہارا کیوں لوں ؟ مالک خالق کو چھوڑ کر بےبس اور محتاج کے پاس کیوں جاؤں ؟ گویا اس آیت میں توکل علی اللہ اور عبادت رب کا حکم ہوتا ہے۔ یہ دونوں چیزیں عموماً ایک ساتھ بیان ہوا کرتی ہیں جیسے آیت (ایاک نعبد وایاک نستعین) میں اور (فاعبدہ و توکل علیہ) میں اور (قُلْ هُوَ الرَّحْمٰنُ اٰمَنَّا بِهٖ…
Read the full tafseer →سورة الْاَنْعَام 144
یعنی کائنات کی ساری چیزوں کا رب تو اللہ ہے، میرا رب کوئی اور کیسے ہوسکتا ہے ؟ کس طرح یہ بات معقول ہو سکتی ہے کہ ساری کائنات تو اللہ کی اطاعت کے نظام پر چل رہی ہو، اور کائنات کا ایک جزء ہونے کی حیثیت سے میرا اپنا وجود بھی اسی نظام پر عامل ہو، مگر میں اپنی شعوری و اختیاری زندگی کے لیے کوئی اور رب تلاش کروں ؟ کیا پوری کائنات کے خلاف میں اکیلا ایک دوسرے رخ پر چل پڑوں ؟
سورة الْاَنْعَام 145
یعنی ہر شخص خود ہی اپنے عمل کا ذمہ دار ہے، اور ایک عمل کی ذمہ داری دوسرے پر نہیں ہے۔
Read the full tafseer →کسی کے گناہ کا بھار دوسرا نہیں اٹھا سکتا
چوتھی آیت میں مشرکین مکہ ولید بن مغیرہ وغیرہ کی اس بات کا جواب ہے جو وہ رسول اللہ ﷺ اور عام مسلمانوں سے کہا کرتے تھے کہ تم ہمارے دین میں واپس آجاؤ، تو تمہارے سارے گناہوں کا بھار ہم اٹھالیں گے، اس پر فرمایا (آیت) قُلْ اَغَيْرَ اللّٰهِ اَبْغِيْ رَبًّا وَّهُوَ رَبُّ كُلِّ شَيْءٍ ، اس میں رسول اللہ ﷺ کو ارشاد ہے کہ آپ ﷺ ان سے کہہ دیجئے کہ کیا تم مجھ سے یہ چاہتے ہو کہ تمہاری طرح میں بھی اللہ کے سوا کوئی اور رب تلاش کرلوں، حالانکہ وہی سارے جہان اور ساری کائنات کا رب ہے، اس گمراہی کی مجھ سے کوئی امید نہ رکھو، باقی تمہارا یہ کہنا کہ ہم تمہارے گناہوں کا بھار…
Read the full tafseer →قُلْ اَغَيْرَ اللّٰهِ اَبْغِيْ رَبًّا وَّهُوَ رَبُّ كُلِّ شَيْءٍ الایہ۔ یہ اس اسلام اور اس سرفگندگی و سپردگی کی دلیل بیان ہوئی ہے جس کا اظہار اوپر والی آیت میں ہوا کہ جب اللہ تعالیٰ ہی ہر چیز کا رب ہے تو میں آخر کس طرح اس کے سوا کسی اور کو رب بناؤ اور اپنی زندگی میں کسی اور کی شرکت تسلیم کروں ؟ ہر جان جو کمائی کرے گی اس کی ذمہ داری بہرحال اسی پر آنی ہے، کوئی دوسرا اس کے بوجھ کا اٹھانے والا نہیں بنے گا، خدا ہی کی طرف سب کا پلٹنا ہوگا، اور وہ ان سارے اختلافات کا فیصلہ سنائے گا جن میں آج تم مبتلا ہو۔
Read the full tafseer →164۔ 1 یہاں رب سے مراد وہی اللہ ماننا ہے جس کا انکار مشرکین کرتے رہے ہیں اور جو اس کی ربوبیت کا تقاضا ہے۔ لیکن مشرکین اس کی ربوبیت کو تو مانتے تھے۔ اور اس میں کسی کو شریک نہیں گردانتے تھے لیکن اس کی الوہیت میں شریک ٹھہراتے تھے۔
164۔ 2 یعنی اللہ تعالیٰ عدل و انصاف کا پورا اہتمام فرمائے گا اور جس نے اچھا، یا برا، جو کچھ کیا ہوگا اس کے مطابق جزا اور سزا دے گا، نیکی پر اچھی جزا اور بدی پر سزا دے گا اور ایک کا بوجھ دوسرے پر نہیں ڈالے گا۔
164۔ 3 اس لئے اگر تم اس دعوت توحید کو نہیں مانتے جو تمام انبیاء کی مشترکہ دعوت رہی ہے تو تم اپنا کام کئے جاؤ، ہم اپنا کئے جاتے ہیں۔ قیامت والے دن اللہ کی بارگاہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 164–165
85: کفار کبھی مسلمانوں سے یہ کہتے تھے کہ تم ہمارے مذہب کو اپنا لو، اگر کوئی عذاب ہوا تو تمہارے حصے کا عذاب بھی ہم اپنے سر لے لیں گے، جیسا کہ سورة عنکبوت (12:29) میں قرآن کریم نے ان کی یہ بات ذکر فرمائی ہے۔ یہ آیت اس کے جواب میں نازل ہوئی۔ اور اس میں یہ عظیم سبق ہے کہ ہر شخص کو اپنے انجام کی خود فکر کرنی چاہیے، کوئی دوسرا شخص اسے عذاب سے نہیں بچا سکتا۔ یہی مضمون سورة بنی اسرائیل (15:17) سورة فاطر (18:35) سورة زمر (7:39) اور سورة نجم) (38:53) میں بھی آیا ہے۔ اس کی مزید تفصیل انشاء اللہ سورة نجم میں آئے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 160–165
آیت ” نمبر 160 ، تا 165۔
یہ تعقیب اور خاتمہ کلام اس سورة کے شروع کے مضامین کو مد نظر رکھتے ہوئے ‘ ایک نہایت ہی خوبصورت زمزمہ ہے ‘ نہایت موزوں اور خیرہ کن ۔ اس زمزے کے ساتھ ذبیحوں اور نذر ونیاز ‘ پھلوں اور فصلوں سے نیاز ‘ اور اس سلسلے میں جاہلیت کے ادہام ورسومات اور پھر یہ دعوے کہ یہ شریعت من جانب اللہ ہے ‘ کا موضوع یہاں اپنے اختتام کو پہنچتا ہے ۔ یہ تعقیب اور آخری زمزمہ اس مضمون میں کیا اضافہ کرتا ہے ؟ میں سمجھتا ہوں ان موضوعات پر ہم نے جو بات کی ہے اس کے بعد اس پر مزید کچھ کہنے کی ضرورت نہیں ہے ۔
آیت ” قُلْ إِنَّنِیْ ہَدَانِیْ رَبِّیْ إِلَی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ دِیْناً قِیَماً مِّلَّۃَ…
Read the full tafseer →3 پہلے توحید فی الالوہیت کا ذکر تھا اب توحید فی الربوبیت کی تصریح فرمائی۔ یعنی جس طرح معبود اس کے سوا کوئی نہیں، مستعان بھی کوئی نہیں ہوسکتا، کیونکہ استعانت ربوبیت عامہ پر متفرع ہے۔ اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ ۔
4 کفار مسلمانوں سے توحید وغیرہ میں جھگڑتے اور کہتے تھے کہ تم توحید کی راہ چھوڑ کر ہمارے راستہ پر آجاؤ۔ اگر اس میں کوئی گناہ ہو تو وہ ہمارے سر (وَقَالَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لِلَّذِيْنَ اٰمَنُوا اتَّبِعُوْا سَبِيْلَنَا وَلْنَحْمِلْ خَطٰيٰكُمْ ) 29 ۔ العنکبوت :12) یہاں اس کا جواب دے دیا کہ ہر ایک کا گناہ اسی کے سر ہے، کوئی شخص دوسرے کے گناہوں کا بار نہیں اٹھا سکتا۔ باقی…
Read the full tafseer →آیت 164 قُلْ اَغَیْرَ اللّٰہِ اَبْغِیْ رَبًّا وَّہُوَ رَبُّ کُلِّ شَیْءٍ ط وَلاَ تَکْسِبُ کُلُّ نَفْسٍ الاَّ عَلَیْہَاج ولاَ تَزِرُ وَازِرَۃٌ وِّزْرَ اُخْرٰی ج۔
اس دن ہر ایک کو اپنی اپنی گٹھڑی خود ہی اٹھانی ہوگی ‘ کوئی دوسرا وہاں مدد کو نہیں پہنچے گا۔ یہاں پر لفظ نفس جان کے معنی میں آیا ہے ‘ یعنی کوئی جان کسی دوسری جان کے بوجھ کو نہیں اٹھائے گی ‘ بلکہ ہر ایک کو اپنی ذمہ داری اور اپنے حساب کتاب کا سامنا بنفس نفیس خود کرنا ہوگا۔
Read the full tafseer →187 یعنی کائنات کی ہر چیز کا پروردگار تو اللہ ہے اور میں بھی کائنات کا ایک حصہ ہوں تو پھر میرا پروردگار کوئی دوسرا کیسے ہوسکتا ہے۔ کائنات کی ایک ایک چیز اللہ کے مقرر کردہ قوانین کے مطابق چل رہی ہے اور میں بھی اضطراری امور میں انہی مقررہ قوانین کا پابند ہوں۔ پھر جن باتوں میں مجھے تھوڑا بہت اختیار دیا گیا ہے میں کیوں نہ ان اختیارات کو اللہ کی مرضی کے تابع بنا دوں اور پوری کائنات سے الگ الٹی روش کیوں اختیار کروں ؟
188 یہ ناممکن ہے کہ کرے کوئی بھرے کوئی ! مشرکین مکہ میں سے اکثر جو روز آخرت پر ایمان نہیں رکھتے تھے وہ مسلمانوں سے کہتے تھے کہ ایسی توحید کو چھوڑ کر ہماری طرف آجاؤ، اگر قیامت آئی بھی…
Read the full tafseer →260 ۔ یعنی اس کی ربوبیت جزوی اور ناقص نہیں جیسا کہ مشرکوں اور یونان وغیرہ کے جاہل فلسفیوں نے خیال کیا ہے۔ کوئی صفت کائنات، کوئی شعبہ موجودات اس کی ربوبیت سے خارج نہیں۔ (آیت) ” قل “۔ یعنی آپ ان منکرین توحید اور اہل باطل کے سامنے یہ دعوی پیش کیجئے۔
261 ۔ (اور اسی کے مطابق جزاء وسزا ہوگی) علم بھی اسی کا کامل ہے اور قدرت و حکومت بھی اسی کی کامل (آیت) ” تکسب “۔ جو کچھ بھی حاصل کرتا ہے بہ طور گناہ یا ثواب کے (آیت) ” ولا تزروازرۃ وزر اخری “۔ چناچہ مسیحیوں کا عقیدۂ کفارہ تمام ترمہمل و باطل ہے۔ اسی طرح ان کا یہ عقیدہ بھی کہ آدم (علیہ السلام) کی معصیت کی سزا نسلا بعد نسل ساری اولاد آدم (علیہ السلام) کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 164–165
لاَ تزِرُ ۔۔۔۔۔۔۔ اخریٰ ، یعنی قیامت کے روز کوئی شخص دوسرے کا بار گناہ نہیں اٹھائیگا، اس آیت میں ایک عام ضابطہ بیان کیا گیا ہے کہ قیامت کے معاملہ کو دنیا پر قیاس نہ کرو یہاں ایک شخص جرم کرکے دوسرے کے سر ڈال سکتا ہے خصوصاً جبکہ دوسرا شخص خود رضا مند ہو، مگر عدالت الہٰیہ میں اس کی کوئی گنجائش نہیں وہاں ایک کے جرم میں دوسرا ہرگز نہیں پکڑا جاسکتا ایک میت کے جنازہ پر حضرت عبد اللہ بن عمر نے کسی کو روتے ہوئے دیکھا تو فرمایا زندوں کے رونے سے مردہ کو عذاب ہوتا ہے، ابن ابی ملیکہ کہتے ہیں کہ میں نے یہ قول حضرت عائشہ ؓ کے سامنے نقل کیا تو انہوں نے فرمایا کہ تم ایک ایسے شخص کا یہ قول نقل کر رہے ہو جو…
Read the full tafseer →قل اغیر اللہ ابغی ربا وہو رب کل شی . آپ کہہ دیجئے کہ کیا میں اللہ کے سوا کسی اور کو رب بنانے کے لئے تلاش کروں حالانکہ وہ ہر چیز کا مالک ہے۔ استفہام نکاری ہے اور وہو رب کل شی : حال ہے مگر علت انکار کی جگہ اس کو ذکر کیا گیا ہے (گویا واؤ تعلیل کا ہے) مطلب یہ ہے کہ کیا اللہ کی عبادت میں میں کسی اور کو شریک کروں اور دوسرے کو رب بنانے کی خواہش کروں میں ایسا نہیں کرسکتا کیونکہ وہ ہر چیز کا رب ہے اور میری طرف کائنات کی ہر چیز اسی کی مربوب ہے معبود ہونے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔ سابق آیت میں حکم دیا تھا کہ آپ کہہ دیں میرا دین ابراہیم کا دین ہے اس سے وہم ہوسکتا تھا کہ شاید رسول اللہ ﷺ نے دین ابراہیم کو…
Read the full tafseer →(164) آپ یہ بھی فرمادیجیے کہ کیا اور کسی معبود کی عبادت کروں گناہوں کی سزا گناہ کرنے والے ہی پر رہتی ہے کوئی دوسرے کے گناہوں کا بوجھ نہیں اٹھائے گا یا کسی کو دوسرے کے گناہوں کی سزا میں نہیں پکڑے جائے گا یا یہ کہ کسی پر بغیر گناہ کے عذاب نہیں ہوگا یا یہ کہ خوشی سے کوئی کسی دوسرے کے گناہوں کا بوجھ نہیں اٹھاتا مگر مجبورا (یعنی کسی کا حق وغیرہ مارا ہوگا تو اس کا بوجھ مجبورا اٹھانا ہی پڑے گا) مرنے کے بعد دین میں جو تم مختلف الاعمال ہوگئے تھے وہ اس کی حقیقت بھی تمہیں روز قیامت بتلادے گا۔
Read the full tafseer →قُلْ اَغَيْرَ اللّٰهِ اَبْغِيْ رَبًّا۔۔ : مکہ کے مشرک اللہ تعالیٰ کو رب مانتے تھے، مگر معبود کئی بنا رکھے تھے جن سے وہ نفع و نقصان کی امید رکھتے اور انھی کی پوجا کرتے اور پکارتے تھے، اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں اپنے رب ہونے کو اپنی الوہیت، یعنی معبود ہونے کی دلیل کے طور پر بار بار پیش کیا ہے۔ دیکھیے سورة یونس (31) ، سورة سبا (22) اور سورة فاطر (13)۔ یہاں بھی مراد یہی ہے کہ عبادت تو صرف اسی کی ہوسکتی ہے جو رب ہو، اس لیے تمہارا غیر اللہ کو پکارنا، ان کی عبادت کرنا انھیں رب بنانا ہی ہے، اب اللہ کے سوا میں کسی اور کی عبادت کر کے اسے رب کیسے بناؤں، جب کہ ہر شے کا رب وہی ہے۔
وَلَا تَكْسِبُ كُلُّ…
Read the full tafseer →آیت نمبر 164
قولہ تعالیٰ : آیت : قل اغیر اللہ ابغی ربا وھورب کل شیء یعنی ( آپ فرمائیے کیا اللہ کے سوا میں کوئی اور رب تلاش کروں) حالانکہ وہ ہر شی کا مالک ہے۔ روایت ہے کہ کفار نے حضور نبی مکرم ﷺ کو کہا : اے محمد ! ﷺ ہمارے دین کی طرف لوٹ آؤ اور ہمارے الہٰوں کی عبادت کرو اور جس دین پر تم ہو اسے ترک کر دو ، تو ہم تمہارے لیے ہر اس تاوان کے ضامن ہوں گے (المحرر الوجیز، جلد 2، صفحہ 370) جس میں آپ اپنی دنیا اور آخرت میں واقع ہوں گے۔ تب یہ آیت نازل ہوئی۔ اور یہ استفہام ہے جو تقریر اور زجر وتوبیخ کا تقاضا کرتا ہے اور غیر، ابغی فعل کے سبب منصوب ہے اور ربا تمیز ہونے کی وجہ سے منصوب ہے۔
قولہ تعالیٰ : آیت…
Read the full tafseer →(1) امام فریابی، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ولا تزروا زرۃ وزر اخری کے بارے میں فرمایا کہ کوئی آدمی دوسرے کے گناہ کے بدلے میں نہیں پکڑا جائے گا۔
(2) امام حاکم نے (اور آپ نے اس کو صحیح بھی کہا ہے) عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا زنا سے پیدا ہونے والی اولاد پر اس کے والدین (کے گناہ) کا بوجھ نہیں کہ کوئی بوجھ اٹھانے والا دوسرے کا بوجھ (اپنے اوپر) نہیں اٹھائے گا۔
(3) امام ابن ابی حاتم نے ابن ابی ملیکہ (رح) سے روایت کیا کہ عمر ؓ کی والدہ بنت أبان بن عثمان وفات پا گئی جنازہ حاضر ہوا تو ابن عمر ؓ نے رونے کو سنا فرمایا…
Read the full tafseer →قُلْ [ آپ کہئے ] اَ [ کیا ] غَيْرَ اللّٰهِ [ اللہ کے سوا (کسی ) کو ] اَبْغِيْ [ میں چاہوں ] رَبًّا [ بطور رب کے ] وَّ [ حالانکہ ] هُوَ [ وہ ] رَبُّ كُلِّ شَيْءٍ ۭ [ ہر چیز کا رب ہے ] وَلَا تَكْسِبُ [ اور نہیں کماتی ] كُلُّ نَفْسٍ [ ہر جان ] اِلَّا [ مگر یہ کہ ] عَلَيْهَا ۚ(وہ ) اس پر ہے ] وَلَا تَزِرُ [ اور نہیں اٹھائے گی ] وَازِرَةٌ [ کوئی اٹھانے والی ] وِّزْرَ اُخْرٰي ۚ [ کسی دوسری کا بوجھ ] ثُمَّ [ پھر ] اِلٰي رَبِّكُمْ [ تمہارے رب کی طرف ہی ] مَّرْجِعُكُمْ [ تمہیں لوٹنا ہے ] فَيُنَبِّئُكُمْ [ تو وہ تمہیں جتا دے گا ] بِمَا [ اس کو ] كُنْتُمْ [ تم لوگ ] فِيْهِ [ جس میں ] تَخْتَلِفُوْنَ […
Read the full tafseer →میں اللہ کے سوا کوئی رب تلاش نہیں کرسکتا
یہاں پھر مشرکین سے خطاب کرنے کا حکم فرمایا اور نہ صرف مشرکین بلکہ وہ تمام لوگ اس کے مخاطب ہیں جو اعتقادی یا عملی طور پر غیر اللہ کو رب بناتے ہیں۔ اور ان کے ساتھ ایسا معاملہ کرتے ہیں جو رب جل شانہٗ کے ساتھ ہونا چاہئے۔ ارشاد فرمایا۔
(قُلْ اَغَیْرَ اللّٰہِ اَبْغِیْ رَبًّا وَّ ھُوَ رَبُّ کُلِّ شَیْءٍ ) (آپ فرما دیجیے کیا میں اللہ کے سوا کوئی دوسرا رب تلاش کروں حالانکہ وہ ہر چیز کا رب ہے)
یہ استفہام انکاری ہے اور مطلب یہ ہے کہ میں تو ایسا نہیں کرسکتا اور کر ہی کیسے سکتا ہوں جبکہ اللہ سب کا رب ہے، اپنی بےوقوفی سے تم جن چیزوں کو رب بنائے ہو۔ اللہ تعالیٰ ان کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 159–165
خاتمۂ سورت مشتمل بر ترہیب از تفریق دین قویم وترغیب بر اتباع صراط مستقیم
قال اللہ تعالیٰ ان الذین فرقوا دینھم وکانوا شیعا۔۔۔ الی۔۔۔ وانہ لغفور رحیم
(ربط) گذشتہ آیت میں دین حق سے اعراض اور روگردانی پر توبیخ اور تہدید تھی اب ان آیات میں صراط مستقیم اور ملۃ ابراہیم کے اتباع کی ترغیب اور دین حق میں تفریق اور اختلاف سے ترہیب ہے تاکہ معلوم ہوجائے کہ صراط مستقیم دین ابراہیم ہے اور اس سے اختلاف اور انحراف گمراہی ہے نیز ان آیات میں آں حضرت ﷺ کو تسلی اور تشفی دی جاتی ہے کہ جن لوگوں نے اپنے دین میں اختلاف کیا اور مختلف گروہ بن گئے کوئی عیسیٰ بن مریم کو خدا کہنے لگا اور کوئی بت پرستی میں لگ گیا اور کوئی…
Read the full tafseer →186 یہ تیسرا اعلان ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ جو ساری کائنات کا خالق ومالک ہے کیا اسے چھوڑ کر میں کسی اور کو اپنا رب اور کارساز بنا لوں۔ جب ہر چیز کا خالق ومالک اللہ تعالیٰ ہی ہے تو یہ بات ناممکن ہے کہ کوئی ہستی اس کی شریک ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 164–165
اس سورة کے آخری حصہ میں مشرکین کا رد آرہا ہے چناچہ گذشتہ آیت میں توحید الوہیت کا ذکر تھا ” لاشریک لہ “ اس کا کوئی شریک نہیں اس کے سوا کوئی معبود نہیں جس کی عبادت کی جائے تو حید ربوبیت بھی اللہ تعالیٰ ہی کے ساتھ مختص ہے اس کے سوا کوئی ایسی ذات نہیں جس سے مدد طلب کی جائے ” ربنا الرحمن المستعان علی ماتصفون “ ہمارا رب وہی ہے جس سے مصیبتوں ، پریشانیوں اور مشکلات میں استعانت طلب کی جائے ۔ سورة فاتحہ میں ان دونوں چیزوں کا اکٹھا تذکرہ ہے ” ایاک نعبد وایاک نستعین “ یہ بات ہر وقت پیش نظر رہنی چاہئے کہ عبادت صرف خدا تعالیٰ کی ہی ہو سکتی ہے اور مدد بھی اسی سے طلب کی جاسکتی ہے۔ کائنات میں اللہ کے سوا کوئی…
Read the full tafseer →قُلْ اَغَيْرَ اللہِ اَبْغِيْ رَبًّا وَّہُوَرَبُّ كُلِّ شَيْءٍ 0 ۭ وَلَا تَكْسِبُ كُلُّ نَفْسٍ اِلَّا عَلَيْہَا 0 ۚ وَلَا تَزِرُ وَازِرَۃٌ وِّزْرَ اُخْرٰي 0 ۚ ثُمَّ اِلٰي رَبِّكُمْ مَّرْجِعُكُمْ فَيُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ فِيْہِ تَخْتَلِفُوْنَ 164
غير
أن تکون للنّفي المجرّد من غير إثبات معنی به، نحو : مررت برجل غير قائم . أي : لا قائم، قال : وَمَنْ أَضَلُّ مِمَّنِ اتَّبَعَ هَواهُ بِغَيْرِ هُدىً مِنَ اللَّهِ [ القصص/ 50] ،
( غ ی ر ) غیر
اور محض نفی کے لئے یعنی اس سے کسی دوسرے معنی کا اثبات مقصود نہیں ہوتا جیسے مررت برجل غیر قائم یعنی میں ایسے آدمی کے پاس سے گزرا جو کھڑا نہیں تھا ۔ قرآن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 164–165
ترکیب : قل اغیر اللّٰہ اس کی ترکیب ومن یتبع غیر الاسلام میں گذرچ کی۔ خلائف جمع خلیفہ مفعول ثانی جعل کا۔ فوق بعض رفع کا ظرف درجات کی ترکیب نرفع درجات میں بیان ہوچکی۔
تفسیر : مشرکین یا تو بتوں کو پوجتے اور ان سے مدد مانگتے تھے یا ستاروں کو یا جنوں کو یا ارواح انبیاء و اولیاء کو جیسا کہ عیسائی مسیح (علیہ السلام) کو خدا یا خدا کا بیٹا کہتے ہیں یا عناصر کو لیکن بایں ہمہ سب خدا تعالیٰ کے قائل تھے اور ان چیزوں کو خدا کی پیدا کی ہوئی چیزیں بھی جانتے تھے اور اب بھی مشرکین کا یہی حال ہے اب ان سب کو ایک ایسی دلیل سے ساکت کرتا ہے اور اس کو ان صلاتی ونسکی الخ لاشریک لہ کے بعد بطور دلیل کے لاتا ہے کہ جس کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 159–164
ارشاد ہوتا ہے :
اِنَّ الَّذِیْنَ فَرَّقُوْا دِیْنَھُمْ وَ کَانُوْا شِیَعًا لَّسْتَ مِنْھُمْ فِیْ شَیْئٍ ط اِنَّمَا اَمْرُھُمْ اِلَی اللہِ ثُمَّ یُنَبِّئُھُمْ بِمَا کَانُوْا یَفْعَلُوْنَ ۔ مَنْ جَآئَ بِالْحَسَنَۃِ فَلَہٗ عَشْرُ اَمْثَالِھَا ج وَمَنْ جَآئَ بِالسَّیِّئَۃِ فَلَا یُجْزٰٓی اِلَّا مِثْلَھَا وَھُمْ لَا یُظلَمُوْنَ ۔ قُلْ اِنَّنِیْ ھَدٰنِیْ رَبِّیْٓ اِلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ 5 ج دِیْنًا قِیَمًا مِّلَّۃَ اِبْرٰھِیْمَ حَنِیْفًا ج وَمَا کَانَ مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ ۔ قُلْ اِنَّ صَلَاتِیْ وَ نُسُکِیْ وَ مَحْیَایَ وَ مَمَاتِیْ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ ۔ لَا شَرِیْکَ لَہٗ ج وَبِذٰلِکَ…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ :
کفار نبی معظم ﷺ کی جدوجہد سے تنگ آکر بالآخر یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ کچھ آپ نرم ہوجائیں اور کچھ ہم بدل جاتے ہیں۔ اس کے لیے ان کی آخری تجویز یہ تھی کہ ہم آپ کے الٰہ کی عبادت آپ کے طریقہ کے مطابق کریں گے اور آپ ہمارے بتوں کی تعظیم بھی کریں۔ اس کے جواب میں آپ سے کہلوایا گیا ہے کہ آپ صاف صاف فرما دیں کیا میں ذات کبریا کو چھوڑ کر ایسا رب تلاش کروں جو تمہارے ہاتھوں کے تراشے ہوئے ہیں جبکہ جس رب کی میں عبادت کرتا، اور دعوت دیتا ہوں وہ ہر چیز کا سچا اور حقیقی رب ہے۔ جن باطل معبودوں پر تم بھروسہ کرتے ہو جن کو تم اپناداتاو دستگیر اور مشکل کشا سمجھتے ہو وہ نہ کسی کی…
Read the full tafseer →میں تو حقیقی ربّ کو ماننے والا ہوں :
آیت 164: قُلْ اَغَیْرَ اللّٰہِ اَبْغِیْ رَبًّا یہ جواب ہے اس دعوت کا جو وہ اپنے معبودان باطلہ کی طرف دیتے تھے۔ ہمزہ استفہام انکاری کا ہے یعنی میرا اس کے علاوہ کسی اور رب کو تلاش کرنا اوپری بات ہے۔ مفعول کو اس لیے مقدم کیا گیا کیونکہ یہ اہم بات ہے۔ وَہُوَ رَبُّ کُلِّ شَیْئٍ اور اس کے علاوہ تمام مربوب ہیں اور کوئی ایسا موجود نہیں اس کے علاوہ جس کو ربوبیت کا اختیار ہو۔ وَلَا تَکْسِبُ کُلُّ نَفْسٍ اِلاَّ عَلَیْہَا یہ ان کے اس قول کا جواب ہے جس کا تذکرہ دوسری آیت میں فرمایا : اتَّبِعُوْا سَبِیْلَنَا وَلْنَحْمِلْ خَطٰیٰکُمْ 1 (العنکبوت : 12) وَلَا تَزِرُ…
Read the full tafseer →تفسیر 164 (قل اغیر اللہ ابعی ربا) ابن عباس ؓ فرماتے ہیں سید اور معبود (وھو رب کل شیئ) پس منظر یہ ہے کہ کفار نبی کریم ﷺ کو کہنے لگے آپ ہمارے دین کی طرف لوٹ آئیں۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ ولید بن مغیرہ کہنے لگا تم میرے پیچھے چلو میں تمہارے گناہ اٹھائوں گا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ (ولا تکسب کل نفس الا علیھا) یعنی جو فنس کچھ لاتا ہے تو اس کا گناہ جرم کرنے والے پر ہے اور بوجھ نہ اٹھائے گا (ولا تزروا زرۃ وزر اخری) یعنی ایک کا بوجھ دوسرے پر نہیں ڈالا جائے گا۔ ایک کے گناہ کی سزا دوسرے کو نہیں دی جائے گی۔ ایک شخص دوسرے کا پھر تمہارے رب کے پاس ہی تم سب کو لٹو کر جانا ہے۔ سو وہ جتلائے گا جس بات میں…
Read the full tafseer →سورة عنکبوت سورة اقرأ اور قل یا ایھا الکافرون کی تفسیر میں آویگا کہ مشرکین مکہ آنحضرت ﷺ سے یہ کہتے تھے کہ آپ اور آپ کے ساتھ کے مسلمان ایک سال ہمارے بتوں کی پوجا کرلیا کریں پھر ایک سال ہم لوگ اللہ کی عبادت کرلیا کریں گے اور یہ بھی کہتے تھے کہ اگر قیامت قائم ہوئی اور اسی سال بھر کر بت پرستی کے جرم میں مسلمان کسی عذاب میں پکڑے گئے تو وہ عذاب ہم اپنے ذمہ لے لیویں گے۔ اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے رسول اللہ کے تم ان مشرکوں سے کہہ دو کہ جب سب چیزیں اللہ تعالیٰ کی پیدا کی ہوئی ہیں اور وہی ہر چیز کا رب ہے تو مخلوق الٰہی ہونے میں سب برابر ہیں پھر معبود قرار پانے کا کب مخلوق کو کیا حق ہے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 159–164
آیت 159
(1) صحیح بخاری، کتاب الرفاق، باب، حدیث :65/6
اللہ تبارک و تعالیٰ ان لوگوں کو عید سناتا ہے جنہوں نے اپنے دین میں تفرقہ پیدا کیا اور دین کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے فرقوں میں بٹ گئے اور ہر ایک نے اپنا ایک نام رکھ لیا جو انسان کے لئے اس کے دین میں کوئی کام نہیں آتا جیسے یہودیت، نصرانیت اور مجوسیت وغیرہ یا اس سے انسان کے ایمان کی تکمیل نہیں ہوتی، جیسے وہ شریعت میں سے کسی ایک چیز کو اخذ کر کے اس کو دین بنا لے اور اس جیسییا اس سے کسی افضل چیز کو چھوڑ دے جیسا کہ اہل بدعت اور ان گمراہ فرقوں کا حال ہے جنہوں نے امت سے الگ راستہ اختیار کرلیا ہے۔
آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ دین اجتماعیت اور اکٹھے رہنے کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 164–165
اعمال کی جوابدہی
قول باری ہے ( ولا تکسب گل نفس الا علیھا، ہر شخص جو کچھ کماتا ہے اس کا ذمہ دار وہ خود ہے) آیت سے یہ استدلال کیا جاتا ہے کہ کسی شخص کو دوسرے پر تصرف کرنے کا حق نہیں ہے۔ اور نہ ہی اس کا جواز ہے۔ اِلا یہ کہ کوئی دلالت قائم ہوجائے جو اس تصرف کے جواز کی نشاندہی کرتی ہو اس لی کہ اللہ تعالیٰ نے آیت میں یہ بات بتائی ہے ک ہر شخص کے افعال کے احکامکا اس کی ذات ک ساتھ تعلق ہوتا ہے کسی اور کے ساتھ نہیں۔
ذاتی ملکیت پر پابندی ناروا ہے
اس حکم کے عموم کے تحت یہ استدلال کیا جاتا ہے کہ بالغ باکرہ لڑکی کا اس کی اجازت کے بغیر نکاح کرا دینے کا جواز ممتنع ہے، نیز ایک شخص پر اپنی املاک کی فروخت پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 163–164
346 پیغمبر سب سے پہلا فرمانبردار ہوتا ہے : سو اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ پیغمبر سب سے پہلا فرمانبردار ہوتا ہے۔ یعنی اس کی امت کے اعتبار سے۔ کیونکہ ہر نبی اپنی امت کا مقتدا و پیشوا ہوتا ہے۔ اس لئے اس کا اسلام اپنی امت کے اسلام سے مقدم اور اس کے لئے نمونہ ہوتا ہے۔ سو کوئی مانے یا نہ مانے، تسلیم کرے یا نہ کرے۔ اصل حقیقت بہرحال یہی اور صرف یہی ہے کہ معبود برحق بہرحال اللہ اور صرف اللہ وحدہ لاشریک ہی ہے۔ اس کا نہ کوئی شریک وسہیم ہے اور نہ ہی کسی کو کسی بھی طرح کی عبادت کا کوئی حق پہنچتا ہے۔ بہرکیف پیغمبر اپنی امت کے اعتبار سے پہلا فرمانبردار اور ان کیلئے نمونہ اور پیشوا ہوتا ہے۔ (ابن کثیر،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 159–165
فرقہ بندی کا نقصان، خالص توحید، انسان کی نیابت
تشریح : یہ سورة الانعام کی آخری آیات ہیں اور ان میں بیشمار مسائل کا حل بتایا گیا ہے۔ مسلمانوں میں کئی فرقے بن چکے ہیں۔ فرقہ بندی کسی بھی قوم کو کمزور کرنے کا بہت بڑا سبب ہے اس لیے قومی ترقی، کامیابی اور مضبوطی کے لیے ضروری ہے کہ فرقہ پرستی اور گروہ بندی سے بچا جائے۔ رسول اللہ ﷺ کو مسلمانوں کی گروہ بندی سے فکر ہوتی تھی تو رب العلمین نے ان سے کہا کہ آپ اس بات کی ہرگز فکر نہ کریں کیونکہ آپ کا کام تھا تعلیم دینا وہ آپ نے دیدی اب اس پر عمل کرنا نہ کرنا یا اس کو بگاڑ دینا یہ سب ہر شخص کا ذاتی عمل ہے جو بھی غلط کام یا شریعت سے ہٹ کر کام کرے گا وہ عذاب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 156–165
رکوع نمبر 20 ۔ آیات 156 تا 166 ۔
اسرار و معارف :
اور اب یہ کتاب ہے یعنی قرآن حکیم جسے ہم نے بہت برکت کے ساتھ نازل فرمایا ہے یعنی کتب سابقہ کا دور ختم ہوا پہلی کتابوں کا انکار نہ کیا جائے گا کہ وہ بھی اللہ کی نازل کردہ تھیں مگر ان پر عمل کا زمانہ بیت چکا اب ساری برکات قرآن کا اتباع کرنے سے ہی نصیب ہوسکتی ہیں اور اللہ کی عظمت کا احساس کرو تاکہ اللہ تم پر رحم فرمائے اور تمہاری کوتاہیوں اور کمزوریوں کو معاف فرمائے کہیں یہ نہ کہنا کہ اللہ کی کتابیں تو صرف یہود و نصاری پہ ہی نازل ہوئی تھیں جنہیں ہم سمجھنے سے قاصر تھے ان کا پڑھنا پڑھانا ہمارے بس میں ہی نہ تھا زبان اور تھی یا اصل کتب نہ رہیں اور…
Read the full tafseer →ف 10 اور اس کے سواتم جن جھوٹے معبودون کی بندگی کرتے ہو وہ کسی چیز کے مالک نہیں بلکہ خود دوسری کے محتاج ہیں۔ مروی ہے کہ کفار نے آنحضرت ﷺ سے درخواست کی کہ اپنے آبائی دین کو اختیاکر لو اور ہمارے معبودوں کی عبادت کرو جس الہ کی تم عبادت کرتے ہو اسے تر کردو ہم دنیا و آخرت میں تمہارے ہر نقصان کے ذمہ دار ہیں۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی، (قرطبی )
فوائد صفحہ ہذا1 یعنی اس پر کسی دوسرے عمل کی ذمہ داری نہ ہوگی یہ اس متعارض معبودوں کی آیت سے متعارض نہیں ہے جس میں ارشاد ہے کہ تم اپنے بوجھ بھی اٹھائیں گے اور انکے ساتھ کچھ دوسرے بو جھ بھی ( عنکبوت 13) اس لے کہ دوسرے بوجھوں سے مراد انہی لوگوں کے بو جھ ہیں جنہیں یہ…
Read the full tafseer →(6:164) ابغی۔ میں تلاش کروں۔ بغی یبغی (ضرب) بغی مصدر۔
الاعلیہا۔ مگر اس کا بوجھ (یعنی عمل کا) اس (نفس) پر ہوگا۔ اس کے ذمہ ہوگا۔ وہی اس کا ذمہ دار ہوگا یعنی کوئی شخص بھی ہو عمل کرتا ہے اس کی ذمہ دار اسی کی گردن پر ہوگی۔
تزر۔ وہ بوجھ اٹھاتی ہے یا بوجھ اٹھاوے گی۔ وزر۔ مصدر (باب ضرب ) یعنی بوجھ اٹھانا ۔ وازرۃ بوجھ اٹھانے والی۔ وزر بوجھ۔ وزیر بروزن (فعیل) بادشاہ کا مددگار۔ حکومت کا بوجھ اٹھانے والا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 161–164
لغات القرآن : آیت نمبر 161 تا 164 :
دینا قیما ( مضبوط و مستحکم دین) نس کی (میری قربانی) محیای ( میری زندگی) مماتی ( میری موت) امرت ( مجھے حکم دیا گیا) وازرۃ ( بوجھ) ‘ وزراخری ( دوسرے کا بوجھ) ۔
تشریح : آیت نمبر 161 تا 164 :
رد شرک پر بحث کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ چند ٹھوس حقیقتوں پر سورة الانعام کو موثر ترین پیرایہ میں ختم فرما رہے ہیں۔
آیت 158 میں کہا ہے (اے نبی ﷺ صاف صاف پکار دیجئے کہ تم لوگ بھی وقت (موت ) کا انتظار کرو۔ ہم بھی انتظار کررہے ہیں۔ یہاں شرک کے خلاف چند دلائل قائم کئے ہیں اور یہ حجت تمام ہے۔ یہ دلیلیں رسول ﷺ کی زبانی ہیں۔ دعویٰ ہیں ‘ حجت ہیں۔
پہلی دلیل :
صراط مستقیم کی طرف رہنمائی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 164–165
غریب و امیر کی آزمائش
حاصل مطلب آیت کا یہ ہے کہ پچھلی امتوں کے بعد اے امت محمدیہ ! اللہ تعالیٰ نے ان امتوں کے نائب اور قائم مقام کے طور پر تم کو پیدا کیا ہے۔ اور انظام دنیا چلانے کے لئے بعضوں کو تنگدست پیدا کیا تاکہ تنگدست لوگ مالداروں کا کام کاج کر کے اس کے معاوضہ میں جو کچھ کمائیں اس سے اپنی گزران کریں، اور مالدار لوگ تنگ دست لوگوں کے کام کاج سے اپنی ہر طرح کی ضرورتوں کو رفع کر کے اپنی گزران کریں۔ اور امیر و غریب کے پیدا کرنے میں یہ آزمائش بھی ہے کہ مالدار لوگ کہاں تک اس مال ومتاع کے دینے والے کا شکر کرتے ہیں اور غریب لوگ اپنی غریبی پر کہاں تک صبر سے کام لیتے ہیں۔ پھر فرمایا کہ یہ دنیا اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 160–164
[64] یعنی کوئی شخص بھی کسی کے گناہوں کا بوجھ اپنے اوپر نہ لے گا۔
Read the full tafseer →ذاتی ذمہ داری کا احساس :
(ف 1) قرآن حکیم نے مذہب کا جو تخیل پیش کیا ہے وہ یہ ہے کہ ہر شخص بجائے خود ذمہ دار ہے ، کفارہ اور مشرکانہ شفاعت غلط ہے تناسخ باطل ہے ، کیونکہ ہر شخص ہر ذات اور ہر تعین اپنے احساسات اور اعمال کا کفیل ہے ، (آیت) ” ولا تزر وازرۃ وزر اخری “۔ بالکل حقیقت نفس الامری ہے ۔
Read the full tafseer →164 آپ ان سے کہہ دیجئے کیا میں اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور اس کے سوا کوئی اور پروردگار اور مالک تلاش کروں حالانکہ وہی ہر چیز کا رب اور مالک ہے اور جو شخص بھی کوئی عمل کرتا ہے اور کوئی گناہ کماتا ہے تو وہ اسی پر رہتا ہے اور اس کی ذمہ داری اسی پر ہوتی ہے اور کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھاتا پھر تم سب کی بازگشت اور تم سب کو اپنے پروردگار ہی کی طرف لوٹنا ہے اس وقت وہ تم کو ان باتوں کی حقیقت سے آگاہ کردے گا اور تم کو بتادے گا جن میں تم اختلاف کیا کرتے تھے۔ یعنی رب کے ہوتے ہوئے اور کس رب کی تلاش کروں وہی ہر چیز کا مالک ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 163–164
اس میں دوسروں کو تکلف کے ساتھ دعوت ہے کہ جب بنی تک مکلف بالایمان ہے تو دوسرے کیوں نہ ہوں گے۔
Read the full tafseer →کیا میں اللہ کے سوا کوئی دوسرا پروردگار تلاش کروں جبکہ ہرچیز کا وہی رب ہے :
258: گویا میں اصل رب جو رب العالمین ہے کو چھوڑ کر کوئی دوسرا رب تلاش کروں تو حد سے تجاوز کر جائوں اور یہ میرے لئے کیسے ممکن ہو سکتا ہے۔ کفار مکہ نبی اعظم وآخر ﷺ سے بارہا کہا کرتے تھے کہ آپ ہمارا دین قبول کرلیجئے اور ہمارے خدائوں کی پرستش شروع فرما دیجئے اور اس طرح اگر آپ کو دنیا اور آخرت میں کوئی گزند پہنچے تو ہم اس کے ذمہ دار ہیں۔ نالائق کا کام کیا ہے ؟ یہی کہ جو اس کے منہ میں آیا بغیر سوچے سمجھے کہہ دیا بس یہی حالت ان نالائقوں کی تھی جو بےسوچے سمجھے ان کے منہ میں آیا بک دیا یہی ان کا کام تھا۔
ہر آدمی اپنے کئے کا خود…
Read the full tafseer →One's Burden of Sin Cannot Be Borne By Another
The disbelievers of Makkah al-Mukarramah, with Walid ibn Mughirah among them, used to say to the Holy Prophet ﷺ and to the Muslims in general that they should return to their faith and they will bear the burden of all their sins. This has been answered in the fourth verse (164). It was said: قُلْ أَغَيْرَ اللَّـهِ أَبْغِي رَبًّا وَهُوَ رَبُّ كُلِّ شَيْءٍ Here, the address is to the Holy Prophet ﷺ . He is being asked to tell them: ` Do you want me that I too, like yourself, seek and find some other Rabb, other than Allah, when He is the Lord of…
Read the full tafseer →144. Since God is the Lord of the entire universe, how could anyone be His lord? Since the entire universe is yoked to obedience to God, man is an integral part of the universe, how can he reasonably, look for another lord in that area of his life in which he uses his own volition,ind judgement? Is it appropriate for him to move in diametrical opposition to the entire universe?
145. Every person is responsible for whatever he does; and no one is responsible for the deeds of others.
Read the full tafseer →