Explained with ayahs 161–163
بیوقوف وہی ہے جو دین حنیف سے منہ موڑ لے ورنہ دین اسلام قدیمی ہے سید المرسلین ﷺ کو حکم ہو رہا ہے کہ آپ پر اللہ کی جو نعمت ہے اس کا اعلان کردیں کہ اس رب نے آپ کو صراط مستقیم دکھا دی ہے جس میں کوئی کجی یا کمی نہیں وہ ثابت اور سالم سیدھی اور ستھری راہ ہے۔ ابراہیم حنیف کی ملت ہے جو مشرکوں میں نہ تھے اس دین سے وہی ہٹ جاتا ہے جو محض بیوقوف ہو اور آیت میں ہے اللہ کی راہ میں پورا جہاد کرو وہی اللہ ہے جس نے تمہیں برگزیدہ کیا اور کشادہ دین عطا فرمایا جو تمہارے باپ ابراہیم کا دین ہے، ابراہیم ؑ اللہ کے سچے فرمانبردار تھے مشرک نہ تھے اللہ کی نعمتوں کے شکر گزار تھے اللہ کے پسندیدہ تھے راہ مستقیم کی ہدایت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 162–163
سورة الْاَنْعَام 143
اصل میں لفظ ”نُسُک“ استعمال ہوا ہے جس کے معنی قربانی کے بھی ہیں اور اس کا اطلاق عمومیت کے ساتھ بندگی و پرستش کی دوسری تمام صورتوں پر بھی ہوتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 162–163
تیسری آیت میں فرمایا (آیت) قُلْ اِنَّ صَلَاتِيْ وَنُسُكِيْ وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِيْ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ ، اس میں لفظ ”نُسُک“ کے معنی قربانی کے بھی آتے ہیں، اور حج کے ہر فعل کو بھی نُسُک کہتے ہیں، اعمال حج کو ”مناسک“ کہا جاتا ہے، اور لفظ مطلق عبادت کے معنی میں بھی مستعمل ہوتا ہے، اسی لئے ناسک بمعنی عابد بولا جاتا ہے، اس جگہ ان میں سے ہر ایک معنی مراد لئے جاسکتے ہیں، اور مفسرین صحابہ وتابعین سے یہ سب تفسیریں منقول بھی ہیں، مگر مطلق عبادت کے معنی اس جگہ زیادہ مناسب معلوم ہوتے ہیں، معنی آیت کے یہ ہوگئے کہ ”میری نماز اور میری تمام عبادات اور میری پوری زندگی اور پھر موت یہ سب اللہ رب…
Read the full tafseer →لَا شَرِيْكَ لَهٗ خدا کا کوئی ساجھی نہیں۔ اس وجہ سے بندے کی زندگی میں بھی کوئی ساجھی نہیں۔ یہ پوری کی پوری، بغیر کسی تقسیم و تجزیہ اور بغیر کسی تحفظ و استثنا کے صرف اللہ وحدہ لا شریک لہ کے لیے ہے۔ فرمایا کہ وَبِذٰلِكَ اُمِرْتُ وَاَنَا اَوَّلُ الْمُسْلِمِيْنَ ، یہی میری فطرت ہے اور اسی کی مجھے اوپر سے ہدایت آئی ہے۔ اس وجہ میں نے سب سے آگے بڑھ کر اس قلادہ کو اپنی گردن میں ڈالا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ میں تو اس راہ پر چل پڑا ہوں اب جس میں ہمت ہو اس راہ میں میرا ساتھ دے۔ میں اپنا سفر دوسروں کے انتظار میں ملتوی نہیں کرسکتا۔
Read the full tafseer →163۔ 1 توحید الوہیت کی یہ دعوت تمام انبیاء نے دی، جس طرح یہاں آخری پیغمبر کی زبان مبارک سے کہلوایا گیا کہ ' مجھے اسی کا حکم دیا گیا ہے اور میں سب ماننے والوں سے پہلا ہوں۔ ' دوسرے مقام پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا ' ہم نے آپ سے پہلے جتنے بھی انبیاء بھیجے، سب کو یہ وحی کی کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں پس تم میری ہی عبادت کرو ' (انبیا۔ 25) چناچہ حضرت نوح ؑ کے بارے میں آتا ہے جب اللہ تعالیٰ نے انہیں کہا کہ اسلم تو انہوں نے فرمایا اسلمت لرب العالمین۔ حضرت ابراہیم ؑ و یعقوب ؑ نے اپنی اولاد کو وصیت فرمائی کہ تمہیں موت اسلام پر آنی چاہیے۔ حضرت یوسف ؑ نے دعا فرمائی کہ مجھے اسلام کی حالت میں دنیا سے اٹھانا۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 158–163
84: یعنی اس سے مراد قیامت کی آخری نشانی ہے، جس کے بعد ایمان قبول نہیں ہوگا، کیونکہ معتبر ایمان وہی ہے جو دلائل کی بنیاد پر ایمان بالغیب ہو، کسی چیز کو آنکھوں سے مشاہدہ کر کے ایمان لانے سے امتحان کا وہ مقصد پورا نہیں ہوتا جس کے لیے یہ دنیا پیدا کی گئی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 160–165
آیت ” نمبر 160 ، تا 165۔
یہ تعقیب اور خاتمہ کلام اس سورة کے شروع کے مضامین کو مد نظر رکھتے ہوئے ‘ ایک نہایت ہی خوبصورت زمزمہ ہے ‘ نہایت موزوں اور خیرہ کن ۔ اس زمزے کے ساتھ ذبیحوں اور نذر ونیاز ‘ پھلوں اور فصلوں سے نیاز ‘ اور اس سلسلے میں جاہلیت کے ادہام ورسومات اور پھر یہ دعوے کہ یہ شریعت من جانب اللہ ہے ‘ کا موضوع یہاں اپنے اختتام کو پہنچتا ہے ۔ یہ تعقیب اور آخری زمزمہ اس مضمون میں کیا اضافہ کرتا ہے ؟ میں سمجھتا ہوں ان موضوعات پر ہم نے جو بات کی ہے اس کے بعد اس پر مزید کچھ کہنے کی ضرورت نہیں ہے ۔
آیت ” قُلْ إِنَّنِیْ ہَدَانِیْ رَبِّیْ إِلَی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ دِیْناً قِیَماً مِّلَّۃَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 162–163
1 اس آیت میں توحید و تفویض کے سب سے اونچے مقام کا پتہ دیا گیا ہے جس پر ہمارے سید و آقا محمد رسول اللہ ﷺ فائز ہوئے۔ نماز اور قربانی کا خصوصیت سے ذکر کرنے میں مشرکین پر جو بدنی عبادت اور قربانی غیر اللہ کے لئے کرتے تھے، تصریحاً رد ہوگیا۔
2 عموماً مفسرین (وَاَنَا اَوَّلُ الْمُسْلِمِيْنَ ) 6 ۔ الانعام :163) کا مطلب یہ لیتے ہیں کہ اس امت محمدیہ کے اعتبار سے آپ اول المسلمین ہیں لیکن جامع ترمذی کی حدیث کنت نبیاً و اٰدم بین الروح والجسد کے موافق آپ اول الانبیاء ہیں تو اول المسلمین ہونے میں کیا شبہ ہوسکتا ہے۔ اس کے علاوہ ممکن ہے کہ یہاں اولیت زمانی مراد نہ ہو بلکہ تقدم رتبی مراد ہو۔ یعنی میں سارے جہان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 162–163
آیت 162 قُلْ اِنَّ صَلاَتِیْ وَنُسُکِیْ وَمَحْیَایَ وَمَمَاتِیْ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ
یہاں دوبارہ قل کہہ کر حضور ﷺ کو مخاطب فرمایا گیا ہے اور آپ ﷺ ہی کو یہ اعلان کرنے کے لیے کہا جارہا ہے ‘ لیکن آپ ﷺ کی وساطت سے ہم میں سے ہر ایک کو یہ حکم پہنچ رہا ہے۔ کاش ہم میں سے ہر ایک یہ اعلان کرنے کے قابل ہو سکے کہ میری نماز ‘ میری قربانی ‘ میرا جینا اور میرا مرنا اللہ کے لیے ہے جو رب العالمین ہے۔ لیکن یہ تب ممکن ہے جب ہم اپنی زندگی واقعۃً اللہ کے لیے وقف کردیں۔ دنیوی زندگی کی کم از کم ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ناگزیر حد تک اپنا وقت اور اپنی صلاحیتیں ضرور صرف کریں ‘ لیکن اس ساری تگ و دَو کو اصل…
Read the full tafseer →186 ہر نبی پر یہ فرض ہوتا ہے کہ سب سے پہلے اپنی نبوت پر خود ایمان لائے اور وحی کی اتباع کرے اسی لحاظ سے رسول اللہ اپنی امت میں اول المسلمین ہیں۔
Read the full tafseer →259 ۔ یعنی اپنی اس دعوت پر خود ہی سب سے پہلا ایمان لانے والا، اسلام میں نبی کی حیثیت محض ایک پیشین گویا مخبر کی یا زیادہ سے زیادہ محض ایک داعی کی نہیں، جیسا کہ بعض باطل مذاہب نے فرض کر رکھا ہے بلکہ سب سے پہلے خود ایک صاحب عمل انسان کی ہے جو دوسروں کے لیے مثال اور نمونہ کا کام دے سے۔ (آیت) ” لاشریک لہ “۔ یعنی اس کا کوئی شریک نہیں۔ نہ ذات میں نہ صفات میں نہ بہ حیثیت اقنوم نہ بہ حیثیت مظہر، نہ اور کسی حیثیت سے (آیت) ” وبذلک امرت “۔ مجھے اس کا حکم ملا ہے بہ حیثیت فرد بھی اور بہ حیثیت نبی بھی، یعنی اس دین کو میں خود بھی اختیار کروں اور اسی کی دعوت بھی دوسروں کو دوں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 155–163
آیت نمبر 155 تا 165
ترجمہ : اور یہ قرآن ایک بڑی خیر و برکت والی کتاب ہے جس کو ہم نے نازل کیا ہے، اے مکہ والو ! جو کچھ اس میں ہے اس پر عمل کرکے اس کی اتباع کرو، اور کفر سے بچو تاکہ تم پر رحم کیا جائے اس کو نازل کیا تاکہ تم یہ نہ کہو سکو کہ کتاب تو ہم سے پہلے وہ فرقوں یہود و نصاریٰ پر نازل کی گئی تھی اور ہم ان کو پڑھنے پڑھانے سے ناواقف تھے ہماری زبان میں ان کتابوں کے نہ ہونے کی وجہ سے ہمیں ان کی معرفت حاصل نہ تھی (اِنْ ) مخففہ ہے اس کا اسم محذوف ہے ای اِنّا، یا یوں نہ کہو کہ اگر ہم پر کوئی کتاب نازل کی گئی ہوتی تو ہم اپنی تیزی ذہانت کی وجہ سے زیادہ راہ راست پر ہوتے، سو اب تمہارے پاس رب کی جانب…
Read the full tafseer →لا شریک لہ . اس کا کوئی شریک نہیں ‘ یعنی اس کے ساتھ میں کسی کو شریک نہیں قرار دیتا۔
وبذلک امرت . اور اسی (اقرار و اخلاص) کا مجھے حکم دیا گیا ہے۔
وانا اول المسلمین . اور میں سب ماننے والوں سے پہلا ہوں۔ یعنی اس امت میں سب سے پہلا مسلم ہوں اور جس بات کو تم سے پہلے میں حاصل کرچکا ہوں اسی کی تم کو دعوت دیتا ہوں اس سے تم کو سمجھ لینا چاہئے کہ میں تمہارا بہی خواہ ہوں۔
بغوی نے لکھا ہے کہ کفار قریش رسول اللہ ﷺ سے درخواست کرتے تھے کہ آپ ہمارے مذہب کی طرف لوٹ آئیے اس کے جواب میں اللہ نے فرمایا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 162–163
(162۔ 163) اور آپ اس کی کچھ تفصیل بیان فرمادیجیے کہ میری پانچوں نمازین اور میرا دین و حج اور میری قربانی اور میری عبادت اس دنیا میں اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور اس کی رضامندی کے لیے ہے جو کہ جن وانس کا پروردگار ہے اور میں سب موحدین اور عابدین میں پہلا ہوں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 162–163
قُلْ اِنَّ صَلَاتِيْ وَنُسُكِيْ۔۔ : ”اَلنُّسُکُ“ کا معنی عبادت ہے، یہ ذبح، قربانی اور حج کے معنی میں بھی آتا ہے، جیسا کہ فرمایا : (وَلِكُلِّ اُمَّةٍ جَعَلْنَا مَنْسَكًا لِّيَذْكُرُوا اسْمَ اللّٰهِ عَلٰي مَا رَزَقَهُمْ مِّنْۢ بَهِيْمَةِ الْاَنْعَامِ) [ الحج : 34 ] ”اور ہم نے ہر امت کے لیے ایک قربانی مقرر کی، تاکہ وہ ان پالتو چوپاؤں پر اللہ کا نام ذکر کریں جو اس نے انھیں دیے ہیں۔“ اور ابراہیم ؑ نے دعا کی : (وَلِكُلِّ اُمَّةٍ جَعَلْنَا مَنْسَكًا لِّيَذْكُرُوا اسْمَ اللّٰهِ عَلٰي مَا رَزَقَهُمْ مِّنْۢ بَهِيْمَةِ الْاَنْعَامِ ۭ) [ البقرۃ : 128] ”اور ہمیں ہماری عبادت (یا حج) کے طریقے دکھا۔“…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 161–163
اس میں چار مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1۔ قولہ تعالیٰ : قل اننی ھدنی ربی الی صراط مستقیم جب اللہ تعالیٰ نے یہ بیان فرمایا کہ کفار نے تفرقہ ڈالا ( تو ساتھ ہی) بیان فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اسے صحیح دین تک پہنچا دیا اور وہ دین ابراہیمی ہے۔ دینا یہ حال ہونے کی بنا پر منصوب ہے یہ قطرب سے منقول ہے۔ اور یہ قول بھی ہے کہ اس کی نصب ھدنی فعل کی وجہ سے ہے یہ اخفش کا قول ہے۔ اس کے علاوہ کسی اور نے کہا ہے : معنی پر محمول ہونے کی وجہ سے یہ منصوب ہے، کیونکہ اس کا معنی ہے ھدانی عرفنی دینا ( اس نے مجھے سیدھے راستے تک پہنچایا اور دین کی مجھے پہچان کرا دی) اور یہ بھی جائز ہے کہ یہ صراط سے بدل ہو یعنی ھدانی صراط…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 162–163
(1) امام ابو الشیخ نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ ہم کو یہ بات ذکر کی گئی کہ ابو موسیٰ ؓ نے فرمایا میں اس بات کو دوست رکھتا ہوں کہ ہر مسلمان کتاب اللہ کی تلاوت کرتے وقت یہ آیت پڑھے (یعنی) لفظ آیت قل ان صلاتی ونسکی الایہ
(2) امام ابن ابی حاتم نے مقاتل (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت قل ان صلاتی ونسکی یعنی میری فرض نماز لفظ آیت ونسکی یعنی میرا حج۔
(3) امام عبد بن حمید اور ابو الشیخ نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت قل ان صلاتی سے مراد ہے میری قربانی۔
(4) امام عبد بن حمید اور ابو الشیخ نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت قل ان صلاتی ونسکی یعنی میرا حج اور میری قربانی۔
(5) امام ابن ابی…
Read the full tafseer →لَا شَرِيْكَ [ کسی قسم کا کوئی شریک نہیں ] لَهٗ ۚ [ اس کے لئے ] وَبِذٰلِكَ [ اور اس کا ہی ] اُمِرْتُ [ مجھے حکم دیا گیا ] وَاَنَا [ اور میں ] اَوَّلُ الْمُسْلِمِيْنَ [ فرمانبرداری کرنے والوں کا پہلا ہوں ]
Read the full tafseer →(وَ بِذٰلِکَ اُمِرْتُ وَ اَنَا اَوَّلُ الْمُسْلِمِیْنَ ) (اور مجھے اسی کا حکم ہوا ہے اور میں سب سے پہلا فرماں بردار ہوں) یہ اولیت اس امت کے اعتبار سے ہے یعنی میں امت موجودہ میں جو آخر الامم ہے سب سے پہلا مسلم ہوں اور اللہ تعالیٰ کا فرمانبر دار ہوں۔
دیگر حضرات انبیاء (علیہ السلام) بھی اپنی اپنی امتوں میں سب سے پہلے مسلم اور فرمانبر دار تھے۔ و ھٰذا شان کل نبی بالنسبۃ الیٰ اُمتہٖ (روح المعانی) اس میں اس طرف بھی اشارہ ہے کہ میں صرف دعوت دینے والا ہی نہیں عمل کرنے والا بھی ہوں۔
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے بار گاہ خداوندی میں یوں عرض کیا تھا۔ (سُبْحٰنَکَ تُبْتُ اِلَیْکَ وَ اَنَا اَوَّلُ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 159–165
خاتمۂ سورت مشتمل بر ترہیب از تفریق دین قویم وترغیب بر اتباع صراط مستقیم
قال اللہ تعالیٰ ان الذین فرقوا دینھم وکانوا شیعا۔۔۔ الی۔۔۔ وانہ لغفور رحیم
(ربط) گذشتہ آیت میں دین حق سے اعراض اور روگردانی پر توبیخ اور تہدید تھی اب ان آیات میں صراط مستقیم اور ملۃ ابراہیم کے اتباع کی ترغیب اور دین حق میں تفریق اور اختلاف سے ترہیب ہے تاکہ معلوم ہوجائے کہ صراط مستقیم دین ابراہیم ہے اور اس سے اختلاف اور انحراف گمراہی ہے نیز ان آیات میں آں حضرت ﷺ کو تسلی اور تشفی دی جاتی ہے کہ جن لوگوں نے اپنے دین میں اختلاف کیا اور مختلف گروہ بن گئے کوئی عیسیٰ بن مریم کو خدا کہنے لگا اور کوئی بت پرستی میں لگ گیا اور کوئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 162–163
185 یہ دوسرا اعلان ہے۔ اس کا حاصل بھی خالص توحید کا اعلان اور تمام اقسان شرک سے براءت کا اظہار ہے۔ “ اِنَّ صَلَاتِيْ ” نفی شرک اعتقادی کی طرف اشارہ ہے اور “ نُسُکِيْ ” الخ نفی شرک فعلی کی طرف مالک و مختار، متصرف و کارساز اور عالم الغیب صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے اور نذر و منت کا مستحق بھی وہی ہے۔ “ لَا شَرِيْکَ لَهٗ ” ان تمام امور میں کوئی اس کا شریک نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 161–163
ربط آیات
پہلے شرک اور مشرکین کا رد ہوا ‘ پھر فرقہ بندی کی تردید ہوئی اور نیکی اور بدی کے حوالے سے جزا اور سزا کا ذکر ہوا۔ اب ملت ابراہیمیہ کا خلاصہ بیان کر کے اس کی پیروی کرنے کی ترغیب دی جا رہی ہے اس کے علاوہ باقی تمام طریقوں کو ترک کرنے کا حکم دیا جا رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ملت ابراہیمیہ کے طریقے کو صراط مستقیم کا لقب دیکر اس کے اتباع کا حکم دیا ہے۔ گویا ملت ابراہیمی ‘ اسلام اور دین حق ایک ہی چیز کے مختلف نام ہیں۔
دین اور شریعت
اصل بات یہ ہے کہ تمام انبیاء (علیہم السلام) کا دین کے بنیادی اصولوں میں اتفاق ہے ‘ البتہ مختلف انبیاء کے ادوار میں ہر دور کے تقاضے کے مطابق شریعتیں مختلف رہی ہیں۔…
Read the full tafseer →لَا شَرِيْكَ لَہٗ 0 ۚ وَبِذٰلِكَ اُمِرْتُ وَاَنَا اَوَّلُ الْمُسْلِـمِيْنَ 163
شرك ( شريك)
الشِّرْكَةُ والْمُشَارَكَةُ : خلط الملکين، وقیل : هو أن يوجد شيء لاثنین فصاعدا، عينا کان ذلک الشیء، أو معنی، كَمُشَارَكَةِ الإنسان والفرس في الحیوانيّة، ومُشَارَكَةِ فرس وفرس في الکمتة، والدّهمة، يقال : شَرَكْتُهُ ، وشَارَكْتُهُ ، وتَشَارَكُوا، واشْتَرَكُوا، وأَشْرَكْتُهُ في كذا . قال تعالی:
وَأَشْرِكْهُ فِي أَمْرِي[ طه/ 32] ، وفي الحدیث : «اللهمّ أَشْرِكْنَا في دعاء الصّالحین» «1» . وروي أنّ اللہ تعالیٰ قال لنبيّه عليه السلام : «إنّي شرّفتک وفضّلتک علی جمیع خلقي وأَشْرَكْتُكَ في أمري» «2» أي : جعلتک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 161–163
4 ؎ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) بت پرستی سے یکسو ہوگئے تھے اور حنیف یکسو کو کہتے ہیں اس لئے ابراہیم (علیہ السلام) کو حنیف کہا جاتا ہے۔ 12 منہ
Read the full tafseer →Explained with ayahs 159–164
ارشاد ہوتا ہے :
اِنَّ الَّذِیْنَ فَرَّقُوْا دِیْنَھُمْ وَ کَانُوْا شِیَعًا لَّسْتَ مِنْھُمْ فِیْ شَیْئٍ ط اِنَّمَا اَمْرُھُمْ اِلَی اللہِ ثُمَّ یُنَبِّئُھُمْ بِمَا کَانُوْا یَفْعَلُوْنَ ۔ مَنْ جَآئَ بِالْحَسَنَۃِ فَلَہٗ عَشْرُ اَمْثَالِھَا ج وَمَنْ جَآئَ بِالسَّیِّئَۃِ فَلَا یُجْزٰٓی اِلَّا مِثْلَھَا وَھُمْ لَا یُظلَمُوْنَ ۔ قُلْ اِنَّنِیْ ھَدٰنِیْ رَبِّیْٓ اِلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ 5 ج دِیْنًا قِیَمًا مِّلَّۃَ اِبْرٰھِیْمَ حَنِیْفًا ج وَمَا کَانَ مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ ۔ قُلْ اِنَّ صَلَاتِیْ وَ نُسُکِیْ وَ مَحْیَایَ وَ مَمَاتِیْ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ ۔ لَا شَرِیْکَ لَہٗ ج وَبِذٰلِکَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 161–163
فہم القرآن
ربط کلام : دین اسلام میں کوئی اختلاف نہیں اور نہ ہی یہ دین اس قسم کے اختلافات کو پسند کرتا ہے۔ لہٰذا پیغمبر آخر الزمان ﷺ کو حکم ہوا کہ آپ ملت ابراہیم کے متبع رہیں۔
سرور دو عالم ﷺ کا تفرقہ بازی کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔ آپ تو دین قیم اور سیدھی راہ کے راہی اور داعی تھے۔ لہٰذا آپ کی زبان اطہر سے اعلان کروایا گیا کہ اے محبوب برحق ! آپ وضاحت فرمائیں کہ میرا ادھر ادھر کے راستوں اور متضاد نظریات رکھنے والوں کے ساتھ کوئی تعلق نہیں میں اپنے رب کی بتلائی ہوئی راہ پر اس کی توفیق سے گامزن ہوں۔ یہی دین ہمیشہ سے قائم دائم ہے۔ اور اسی پر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا مل یکسوئی کے ساتھ قائم رہے۔ ان…
Read the full tafseer →آیت 163: لَاشَرِیْکَ لَہٗ ان میں سے کسی چیز میں وَبِذٰلِکَ اخلاص اُمِرْتُ وَاَنَا اَوَّلُ الْمُسْلِمِیْنَ کیونکہ ہر پیغمبر کا اسلام اپنے دین پر امت کے اسلام سے مقدم ہوتا ہے۔
Read the full tafseer →163 (لا شریک لہ وبذلک امرت وانا اول السلمین) قتادہ (رح) فرماتے ہیں کہ میں اس امت میں سے پہلا مسلمان ہوں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 161–163
(161 ۔ 163) ۔ اوپر ذکر تھا کہ شیطان کے بہکانے سے عبادت الٰہی کے صحیح طریقہ میں لوگوں نے اپنی طرف سے غلط راہیں نکال لی ہیں اب ان غلط راہوں میں مکہ کے مشرک لوگوں کی یہ غلط راہ تھی کہ ان لوگوں نے ملت ابراہمی کو بگاڑ کر بت پرستی کو اپنا دین ٹھہرا لیا تھا بتوں کی پوجا کرتے تھے ان کے نام پر جانور ذبح کرتے تھے اور اسی کو ملت ابراہیمی جانتے تھے اس لئے اس آیت میں فرمایا اے رسول اللہ کے ان مشرکوں سے کہہ دو کہ تم لوگ تو بت پرست ہو اور ابراہیم خلیل اللہ نے اسی بت پرستی کی نفرت کے سبب سے اپنے وطن اپنے باپ اپنی قوم سب کو چھوڑا اور اس ہجرت کے بعد جب ابراہیم خلیل اللہ نے کعبہ بنایا اور اس کے سبب سے مکہ کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 159–164
آیت 159
(1) صحیح بخاری، کتاب الرفاق، باب، حدیث :65/6
اللہ تبارک و تعالیٰ ان لوگوں کو عید سناتا ہے جنہوں نے اپنے دین میں تفرقہ پیدا کیا اور دین کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے فرقوں میں بٹ گئے اور ہر ایک نے اپنا ایک نام رکھ لیا جو انسان کے لئے اس کے دین میں کوئی کام نہیں آتا جیسے یہودیت، نصرانیت اور مجوسیت وغیرہ یا اس سے انسان کے ایمان کی تکمیل نہیں ہوتی، جیسے وہ شریعت میں سے کسی ایک چیز کو اخذ کر کے اس کو دین بنا لے اور اس جیسییا اس سے کسی افضل چیز کو چھوڑ دے جیسا کہ اہل بدعت اور ان گمراہ فرقوں کا حال ہے جنہوں نے امت سے الگ راستہ اختیار کرلیا ہے۔
آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ دین اجتماعیت اور اکٹھے رہنے کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 162–163
عبادات صرف اللہ کے لیے ہیں
قول باری ہے ( قل ان صلاتی و نس کی و محیای و مماتی للہ رب العالمین۔ کہو میری نماز، میرے تمام مراسم عبودیت، میراجینا اور میرا مرنا سب کچھ اللہ رب العالمین کے لیے ہے) سعید بن جبیر، قتادہ ، ضحاک اور سدی کا قول ہے کہ ( نس کی) سے مراد ” حج اور عمرہ میں میرا طریقہ “ ہے ۔ حسن کا قول ہے ( نس کی) سے مراد ” میرا دین “ ہے۔ دوسرے حضرات کا قول ہے اس سے مراد ” میری عبادت “ ہے۔ تاہم اس لفظ پر اس ذبح اور قربانی کے معنی زیادہ غالب میں جس کے ذریعے اللہ کا تقرب حاصل کیا جاتا ہے۔ عرب کہتے ہیں ” فلان ناسک “ ( فلاں ناسک ہے) یعنی اللہ کے لیے عبادت کرتا ہے۔ عبداللہ بن ابی رافع نے حضرت علی ؓ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 163–164
346 پیغمبر سب سے پہلا فرمانبردار ہوتا ہے : سو اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ پیغمبر سب سے پہلا فرمانبردار ہوتا ہے۔ یعنی اس کی امت کے اعتبار سے۔ کیونکہ ہر نبی اپنی امت کا مقتدا و پیشوا ہوتا ہے۔ اس لئے اس کا اسلام اپنی امت کے اسلام سے مقدم اور اس کے لئے نمونہ ہوتا ہے۔ سو کوئی مانے یا نہ مانے، تسلیم کرے یا نہ کرے۔ اصل حقیقت بہرحال یہی اور صرف یہی ہے کہ معبود برحق بہرحال اللہ اور صرف اللہ وحدہ لاشریک ہی ہے۔ اس کا نہ کوئی شریک وسہیم ہے اور نہ ہی کسی کو کسی بھی طرح کی عبادت کا کوئی حق پہنچتا ہے۔ بہرکیف پیغمبر اپنی امت کے اعتبار سے پہلا فرمانبردار اور ان کیلئے نمونہ اور پیشوا ہوتا ہے۔ (ابن کثیر،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 159–165
فرقہ بندی کا نقصان، خالص توحید، انسان کی نیابت
تشریح : یہ سورة الانعام کی آخری آیات ہیں اور ان میں بیشمار مسائل کا حل بتایا گیا ہے۔ مسلمانوں میں کئی فرقے بن چکے ہیں۔ فرقہ بندی کسی بھی قوم کو کمزور کرنے کا بہت بڑا سبب ہے اس لیے قومی ترقی، کامیابی اور مضبوطی کے لیے ضروری ہے کہ فرقہ پرستی اور گروہ بندی سے بچا جائے۔ رسول اللہ ﷺ کو مسلمانوں کی گروہ بندی سے فکر ہوتی تھی تو رب العلمین نے ان سے کہا کہ آپ اس بات کی ہرگز فکر نہ کریں کیونکہ آپ کا کام تھا تعلیم دینا وہ آپ نے دیدی اب اس پر عمل کرنا نہ کرنا یا اس کو بگاڑ دینا یہ سب ہر شخص کا ذاتی عمل ہے جو بھی غلط کام یا شریعت سے ہٹ کر کام کرے گا وہ عذاب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 156–165
رکوع نمبر 20 ۔ آیات 156 تا 166 ۔
اسرار و معارف :
اور اب یہ کتاب ہے یعنی قرآن حکیم جسے ہم نے بہت برکت کے ساتھ نازل فرمایا ہے یعنی کتب سابقہ کا دور ختم ہوا پہلی کتابوں کا انکار نہ کیا جائے گا کہ وہ بھی اللہ کی نازل کردہ تھیں مگر ان پر عمل کا زمانہ بیت چکا اب ساری برکات قرآن کا اتباع کرنے سے ہی نصیب ہوسکتی ہیں اور اللہ کی عظمت کا احساس کرو تاکہ اللہ تم پر رحم فرمائے اور تمہاری کوتاہیوں اور کمزوریوں کو معاف فرمائے کہیں یہ نہ کہنا کہ اللہ کی کتابیں تو صرف یہود و نصاری پہ ہی نازل ہوئی تھیں جنہیں ہم سمجھنے سے قاصر تھے ان کا پڑھنا پڑھانا ہمارے بس میں ہی نہ تھا زبان اور تھی یا اصل کتب نہ رہیں اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 161–163
ف 8 توحید کے اثبات اور مشرکین اہل جاہلیت کی تردید کے بعد اب سورت کے آخر میں چند حقائق کا اعلان فرمایا ہے (آیت وما کان من المشرکین۔ میں مشرکین کی تردید ہے جن میں مشرکین عرب کے علاوہ یہود و نصاری اور مجوس بھی شامل ہیں۔ وبذالک امرت یعنی اس کے ساتھ کسی دوسرے کی بندگی نہ کروں اور میرا ہر چھاٹا اور بڑاعمل صرف اسی کی رحا جوئی کے لیے ہو،9 حضرت عمران بن جعین ؓ سے روایت ہے کہ جب نبی ﷺ حضرت فاطمہ ؓ کی طرف سے قربانی کا جانور ذبح کرنے لگے تو آپ ﷺ نے ان سے فرمایا فاطمہ آؤ اور اپنے جانورکو ذبح ہوتے دیکھو اس لیے کہ اس کے خون کا پہلا قطرہ جب زمین پر گرے گا تمہارے سب گناہ معاف کردئیے جائیں گے اور فرمایا کہ ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 162–163
(6:162) نس کی۔ نسک عبادت ۔ پرستش۔ قربانی۔ النسک کے معنی عبادت کے ہیں۔ ناسک عابد کو کہتے ہیں لیکن یہ لفظ ارکان حج کے ساتھ مخصوص ہوچکا ہے۔ المناسک اعمال حج ادا کرنے کے مقامات فاذا قضیتم پھر کب تم حج کے تمام ارکان پورے ادا کر چکو یہاں عبادت کے معنوں میں آیا ہے یعنی میری عبادت۔
لسان العرب میں ہے النسک والنسک۔ العبادۃ والطاعۃ وکل ما یتقرب بہ الی اللہ تعالیٰ ۔ یعنی ہر وہ عبادت اور اطاعت اور ہر وہ چیز جو اللہ تعالیٰ سے قرب کا ذریعہ ہو۔
بذلک کا اشارہ مندرجہ بالا اقوال کی طرف سے جو آیات 161 میں مذکور ہوئی ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 161–164
لغات القرآن : آیت نمبر 161 تا 164 :
دینا قیما ( مضبوط و مستحکم دین) نس کی (میری قربانی) محیای ( میری زندگی) مماتی ( میری موت) امرت ( مجھے حکم دیا گیا) وازرۃ ( بوجھ) ‘ وزراخری ( دوسرے کا بوجھ) ۔
تشریح : آیت نمبر 161 تا 164 :
رد شرک پر بحث کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ چند ٹھوس حقیقتوں پر سورة الانعام کو موثر ترین پیرایہ میں ختم فرما رہے ہیں۔
آیت 158 میں کہا ہے (اے نبی ﷺ صاف صاف پکار دیجئے کہ تم لوگ بھی وقت (موت ) کا انتظار کرو۔ ہم بھی انتظار کررہے ہیں۔ یہاں شرک کے خلاف چند دلائل قائم کئے ہیں اور یہ حجت تمام ہے۔ یہ دلیلیں رسول ﷺ کی زبانی ہیں۔ دعویٰ ہیں ‘ حجت ہیں۔
پہلی دلیل :
صراط مستقیم کی طرف رہنمائی…
Read the full tafseer →مطلب یہ ہے کہ اے رسول اللہ کے ! تم ان مشرکوں سے کہہ دو کہ جب سب چیزیں اللہ تعالیٰ کی پیدا کی ہوئی ہیں اور وہی ہر چیز کا رب ہے۔ تو مخلوقو الٰہی ہونے میں سب برابر ہیں پھر معبود قرار پانے کا کسی مخلوق کو کیا حق ہے۔ اور سوائے اللہ کے میں کوئی دوسرا معبود کیونکر ڈھونڈ دکتا ہوں، اور تم لوگوں نے دوسروں کا عذاب اپنے ذمہ لینے کا جو ذکر کیا تو ایک مجرم کی سزا دوسرے شخص کو کیونکر ہوسکتی ہے۔ پھر فرمایا اس فہمائش پر بھی یہ لوگ اپنی نادانی کی باتوں سے باز نہ آویں تو مرنے کے بعد ایک دن سب کو اللہ تعالیٰ کے روبرو حاضر ہونا پڑے گا اس وقت ان سب جھگڑے کی باتوں کی سزا ان لوگوں کے سامنے آجاوے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 160–164
[64] یعنی کوئی شخص بھی کسی کے گناہوں کا بوجھ اپنے اوپر نہ لے گا۔
Read the full tafseer →معیار حیات کی بلندی :
(ف 2) ان آیات میں زندگی کا جو معیار اور نصب العین پیش کیا گیا ہے وہ یہ ہے کشاکش حیات کا ہر نشیب و فراز تگ ودو کی ہر قسم اور قربانی کی ہر شکل اللہ کے لئے مختص ہو ، مسلمان کا جینا اور مرنا اللہ کے لئے ہو ، اس کی عبادتیں اور نمازیں رب العزت کے لئے وقف ہوں ، اس کی زندگی کا ہر لمحہ اللہ کے لئے ہو ، اللہ کے دین کے لئے ہو ، یعنی مسلمان کی اللہ سے الگ کوئی زندگی نہیں کوئی انفرادی خواہش نہیں ، کوئی ذاتی مطالبہ اور مفاد نہیں ،
یہ خلوص و احسان کا آخری مقام ہے ، توحید تفرید کا صحیح مطلب ہے اور خدا پرستی کا سچا اظہار ہے ، یہ نہیں ، تو سمجھ لیجئے ریا کاری ہے اور فریب :
حل لغات :
قیما…
Read the full tafseer →163 اس کا کوئی ساجھی اور شریک نہیں ہے اور مجھ کو اسی کا حکم دیا گیا ہے اور میں اس دین والوں میں سب سے پہلا ماننے والا اور سب فرمانبرداروں میں سب سے پہلا فرمانبردار ہوں۔ یعنی مجھ کو عبادت میں اخلاص کا حکم دیا گیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 163–164
اس میں دوسروں کو تکلف کے ساتھ دعوت ہے کہ جب بنی تک مکلف بالایمان ہے تو دوسرے کیوں نہ ہوں گے۔
Read the full tafseer →اللہ کا کوئی شریک نہیں اور ” مجھے ہے حکم اذاں لا الٰہ الا اللہ “ :
257: جب اللہ تعالیٰ ہی ہرچیز کا رب ہے تو میں آخر کس طرح اس کے سوا کسی اور کو رب بنائوں جس طرح اللہ کی الوہیت میں اس کا کوئی شریک نہیں بالکل اسی طرح اس کی ربوبیت میں بھی اس کا کوئی شریک نہیں۔ یہی وہ دین خاص دین ہے جسے قرآن کریم پیش کر رہا ہے جس میں بندگی ، عبادت اور طاعت کا مستحق اللہ وحدہ لا شریک لہ کے سوا اور کوئی نہیں ہے۔ یہی وہ دین ہے جس کی اذان کا مجھے حکم دیا گیا ہے۔ ہر جان جو کمائی کرے گی اس کی ذمہ داری بہرحال اس پر لازم ہے کوئی دوسرا اس کے بوجھ کا اٹھانے والا نہیں بنے گا۔ اللہ ہی کی طرف سب کا پلٹنا ہوگا اور ہر بات کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 162–163
In the first verse it has been said: قُلْ إِنَّنِي هَدَانِي رَبِّي إِلَىٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ (As for me, my Lord has guided me to a straight path). The hint given here is that he has not taken this path prompted like them by their own ideas or under the weight of ancestral customs. Instead of that, this is a way to which he has been directed by his Lord. Then, by using the word: رَبّ (Rabb, the essential nurturer, benefactor and carer under all conditions, unfortunately not expressed through any equivalent in English), it was indicated that it is the very dictate of His beneficence that…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 162–163
143. 'The Arabic word nusuk used here signifies ritual sacrifice as well as the other forms of devotion and worship.
Read the full tafseer →