Al-An'aam 6:162

Al-An'aam · from ayah 162

6:162

قُلْ اِنَّ صَلَاتِیْ وَنُسُكِیْ وَمَحْیَایَ وَمَمَاتِیْ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ ۟ۙقُلۡ اِنَّ صَلَاتِىۡ وَنُسُكِىۡ وَ مَحۡيَاىَ وَمَمَاتِىۡ لِلّٰهِ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَۙ

(یہ بھی) کہہ دو کہ میری نماز اور میری عبادت اور میرا جینا اور میرا مرنا سب خدائے رب العالمین ہی کے لیے ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Say, "Indeed, my prayer, my rites of sacrifice, my living and my dying are for Allah, Lord of the worlds.

— Saheeh International

Juz 8 · Ruku 20 of surah · Ruku 7 of juz

Read the whole surah · Surah Al-An'aam

All translations of 6:162

کہو، میری نماز، میرے تمام مراسم عبودیت، میرا جینا اور میرا مرنا، سب کچھ اللہ رب العالمین کے لیے ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

(یہ بھی) کہہ دو کہ میری نماز اور میری عبادت اور میرا جینا اور میرا مرنا سب خدائے رب العالمین ہی کے لیے ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

آپ فرما دیجئے کہ بالیقین میری نماز اور میری ساری عبادت اور میرا جینا اور میرا مرنا یہ سب خالص اللہ ہی کا ہے جو سارے جہان کا مالک ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

کہہ دو کہ : بیشک میری نماز، میری عبادت اور میرا جینا مرنا سب کچھ اللہ کے لیے ہے جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تم فرماؤ بیشک میری نماز اور میری قربانیاں اور میرا جینا اور میرا مرنا سب اللہ کے لیے ہے جو رب سارے جہان کا

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

فرما دیجئے کہ بیشک میری نماز اور میرا حج اور قربانی (سمیت سب بندگی) اور میری زندگی اور میری موت اﷲ کے لئے ہے جو تمام جہانوں کا رب ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

کہہ دے بیشک میری نماز اور میری قربانی اور میری زندگی اور میری موت اللہ کے لیے ہے، جو جہانوں کا رب ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

آپ ان سے کہئے کہ : میری نماز، میری قربانی، میری زندگی اور میری موت سب کچھ رب العالمین کے لیے ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

کہہ دو میری نماز اور میری قربانی، میری زندگی اور میری موت اللہ رب العالمین کے لیے ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

کہو بیشک میری نماز اور میری سب عبادتیں، اور میرا جینا اور میرا مرنا سب کچھ اللہ ہی لئے ہے، جو کہ پروردگار ہے سب جہانوں کا،

— مولانا اسحاق مدنی

آپ کہہ دیجیے کہ میری نماز اور میری (ساری) عبادتیں اور میری زندگی اور میری موت (سب) جہانوں کے پروردگار اللہ ہی کے لئے ہیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

آپ ﷺ کہیے میری نماز میری قربانی میری زندگی اور میری موت اللہ ہی کے لیے ہے جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

یہ بھی کہہ دو کہ میری نماز، میری قربانی، میرا جینا اور میرا مرنا سب رب العلمین ہی کے لیے ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Say: 'Surely my Prayer, all my acts of worship, and my living and my dying are for Allah alone, the Lord of the whole universe.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Say, :My prayer, my offering, my life and my death are for Allah, the Lord of all the worlds.

— Muhammad Taqi Usmani

Say, :My prayer, my offering, my life and my death are for Allah, the Lord of all the worlds.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Say: "Verily, my Salah, my sacrifice, my living, and my dying are for Allah, the Lord of all that exists."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Say: Lo! my worship and my sacrifice and my living and my dying are for Allah, Lord of the Worlds.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Say, "Indeed, my prayer, my rites of sacrifice, my living and my dying are for Allah, Lord of the worlds.

— Saheeh International

Say, "My prayer, sacrifice, life, and death are all for God, the Lord of the Universe.

— Muhammad Sarwar

Say. Surely my prayer and my sacrifice and my life and my death are (all) for Allah, the Lord of the worlds;

— Muhammad Habib Shakir

Say thou: verily my prayer and my rites and my living and my dying are all for Allah, Lord of the worlds.

— Abdul Majid Daryabadi

Say: "Truly, my prayer and my service of sacrifice, my life and my death, are (all) for Allah, the Cherisher of the Worlds:

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 6:162

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 161–163

بیوقوف وہی ہے جو دین حنیف سے منہ موڑ لے ورنہ دین اسلام قدیمی ہے سید المرسلین ﷺ کو حکم ہو رہا ہے کہ آپ پر اللہ کی جو نعمت ہے اس کا اعلان کردیں کہ اس رب نے آپ کو صراط مستقیم دکھا دی ہے جس میں کوئی کجی یا کمی نہیں وہ ثابت اور سالم سیدھی اور ستھری راہ ہے۔ ابراہیم حنیف کی ملت ہے جو مشرکوں میں نہ تھے اس دین سے وہی ہٹ جاتا ہے جو محض بیوقوف ہو اور آیت میں ہے اللہ کی راہ میں پورا جہاد کرو وہی اللہ ہے جس نے تمہیں برگزیدہ کیا اور کشادہ دین عطا فرمایا جو تمہارے باپ ابراہیم کا دین ہے، ابراہیم ؑ اللہ کے سچے فرمانبردار تھے مشرک نہ تھے اللہ کی نعمتوں کے شکر گزار تھے اللہ کے پسندیدہ تھے راہ مستقیم کی ہدایت…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 162–163

سورة الْاَنْعَام 143 اصل میں لفظ ”نُسُک“ استعمال ہوا ہے جس کے معنی قربانی کے بھی ہیں اور اس کا اطلاق عمومیت کے ساتھ بندگی و پرستش کی دوسری تمام صورتوں پر بھی ہوتا ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 162–163

تیسری آیت میں فرمایا (آیت) قُلْ اِنَّ صَلَاتِيْ وَنُسُكِيْ وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِيْ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ ، اس میں لفظ ”نُسُک“ کے معنی قربانی کے بھی آتے ہیں، اور حج کے ہر فعل کو بھی نُسُک کہتے ہیں، اعمال حج کو ”مناسک“ کہا جاتا ہے، اور لفظ مطلق عبادت کے معنی میں بھی مستعمل ہوتا ہے، اسی لئے ناسک بمعنی عابد بولا جاتا ہے، اس جگہ ان میں سے ہر ایک معنی مراد لئے جاسکتے ہیں، اور مفسرین صحابہ وتابعین سے یہ سب تفسیریں منقول بھی ہیں، مگر مطلق عبادت کے معنی اس جگہ زیادہ مناسب معلوم ہوتے ہیں، معنی آیت کے یہ ہوگئے کہ ”میری نماز اور میری تمام عبادات اور میری پوری زندگی اور پھر موت یہ سب اللہ رب…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

قُلْ اِنَّ صَلَاتِيْ وَنُسُكِيْ الایہ، نُسُک کے لفظ پر ہم دوسرے مقام میں گفتگو کرچکے ہیں، یہاں نسک کے معنی قربانی کے ہیں، اور نماز کے ساتھ اس کو جوڑ اس مفہوم کے لیے قرینہ فراہم کرتا ہے، سورة کوثر میں ارشاد ہے فصل لربک وانحر (پس اپنے رب ہی کی نماز پڑھ اور اسی کے لیے قربانی کر) ملت ابراہیم و ملت اسلام کی اصل روح :۔ یہ نبی ﷺ کی زبان سے ملت ابراہیم اور ملت اسلام کی اصل روح کی تعبیر کرائی گئی ہے نماز ور قربانی، زندگی اور موت دونوں میں غور کیجیے نہایت حسین تقابل ہے۔ نماز کے مقابل میں زندگی اور قربانی کے مقابل میں موت ہے۔ یہ اشارہ ہے کہ جو اس ملت پر ہے وہ جیتا ہے تو خدا کے لیے اور مرتا ہے تو خدا کے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 160–162

160۔ 1 یہ اللہ تعالیٰ کے اس فضل و احسان کا بیان ہے کہ جو اہل ایمان کے ساتھ وہ کرے گا کہ ایک نیکی کا بدلہ دس نیکیوں کے برابر عطا فرمائے گا، یہ کم از کم اجر ہے۔ ورنہ قرآن اور حدیث دونوں سے ثابت ہے کی بعض نیکیوں کا اجر کئی سو گنا ہے بلکہ ہزار گنا تک ملے گا۔ 160۔ 2 یعنی جن گناہوں پر سزا مقرر نہیں ہے اور اس کے ارتکاب کے بعد اس نے اس سے توبہ بھی نہیں کی یا اس کی نیکیاں اس کی برائیوں پر غالب نہ آئیں یا اللہ نے اپنے فضل خاص سے اسے معاف نہیں فرمادیا کیونکہ ان تمام صورتوں میں مجازات کا قانون بروئے عمل نہیں آئے گا تو پھر اللہ تعالیٰ ایسی برائی کی سزا دے اور اس کے برابر ہی دے گا۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 158–163

84: یعنی اس سے مراد قیامت کی آخری نشانی ہے، جس کے بعد ایمان قبول نہیں ہوگا، کیونکہ معتبر ایمان وہی ہے جو دلائل کی بنیاد پر ایمان بالغیب ہو، کسی چیز کو آنکھوں سے مشاہدہ کر کے ایمان لانے سے امتحان کا وہ مقصد پورا نہیں ہوتا جس کے لیے یہ دنیا پیدا کی گئی ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 160–165

آیت ” نمبر 160 ، تا 165۔ یہ تعقیب اور خاتمہ کلام اس سورة کے شروع کے مضامین کو مد نظر رکھتے ہوئے ‘ ایک نہایت ہی خوبصورت زمزمہ ہے ‘ نہایت موزوں اور خیرہ کن ۔ اس زمزے کے ساتھ ذبیحوں اور نذر ونیاز ‘ پھلوں اور فصلوں سے نیاز ‘ اور اس سلسلے میں جاہلیت کے ادہام ورسومات اور پھر یہ دعوے کہ یہ شریعت من جانب اللہ ہے ‘ کا موضوع یہاں اپنے اختتام کو پہنچتا ہے ۔ یہ تعقیب اور آخری زمزمہ اس مضمون میں کیا اضافہ کرتا ہے ؟ میں سمجھتا ہوں ان موضوعات پر ہم نے جو بات کی ہے اس کے بعد اس پر مزید کچھ کہنے کی ضرورت نہیں ہے ۔ آیت ” قُلْ إِنَّنِیْ ہَدَانِیْ رَبِّیْ إِلَی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ دِیْناً قِیَماً مِّلَّۃَ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 162–163

1 اس آیت میں توحید و تفویض کے سب سے اونچے مقام کا پتہ دیا گیا ہے جس پر ہمارے سید و آقا محمد رسول اللہ ﷺ فائز ہوئے۔ نماز اور قربانی کا خصوصیت سے ذکر کرنے میں مشرکین پر جو بدنی عبادت اور قربانی غیر اللہ کے لئے کرتے تھے، تصریحاً رد ہوگیا۔ 2 عموماً مفسرین (وَاَنَا اَوَّلُ الْمُسْلِمِيْنَ ) 6 ۔ الانعام :163) کا مطلب یہ لیتے ہیں کہ اس امت محمدیہ کے اعتبار سے آپ اول المسلمین ہیں لیکن جامع ترمذی کی حدیث کنت نبیاً و اٰدم بین الروح والجسد کے موافق آپ اول الانبیاء ہیں تو اول المسلمین ہونے میں کیا شبہ ہوسکتا ہے۔ اس کے علاوہ ممکن ہے کہ یہاں اولیت زمانی مراد نہ ہو بلکہ تقدم رتبی مراد ہو۔ یعنی میں سارے جہان…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 162–163

آیت 162 قُلْ اِنَّ صَلاَتِیْ وَنُسُکِیْ وَمَحْیَایَ وَمَمَاتِیْ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ یہاں دوبارہ قل کہہ کر حضور ﷺ کو مخاطب فرمایا گیا ہے اور آپ ﷺ ہی کو یہ اعلان کرنے کے لیے کہا جارہا ہے ‘ لیکن آپ ﷺ کی وساطت سے ہم میں سے ہر ایک کو یہ حکم پہنچ رہا ہے۔ کاش ہم میں سے ہر ایک یہ اعلان کرنے کے قابل ہو سکے کہ میری نماز ‘ میری قربانی ‘ میرا جینا اور میرا مرنا اللہ کے لیے ہے جو رب العالمین ہے۔ لیکن یہ تب ممکن ہے جب ہم اپنی زندگی واقعۃً اللہ کے لیے وقف کردیں۔ دنیوی زندگی کی کم از کم ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ناگزیر حد تک اپنا وقت اور اپنی صلاحیتیں ضرور صرف کریں ‘ لیکن اس ساری تگ و دَو کو اصل…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

185 یہی توحید خالص کا نمونہ ہے جس پر سیدنا ابراہیم عمل پیرا تھے اور جس کا تقاضا یہ تھا کہ میری تمام بدنی عبادات بھی اللہ کے لیے ہیں اور مالی عبادات بھی۔ واضح رہے کہ نسک کا معنیٰ گو قربانی ہی کیا جاتا ہے مگر اس کے وسیع معنیٰ میں سب مالی عبادات مثلاً صدقہ، خیرات، نذر و نیاز اور منت وغیرہ سب کچھ اس میں آجاتا ہے۔ پھر میرے جینے کا مقصد ہی شرک کو ختم کرنا اور اللہ کے کلمہ کو بلند کرنا ہے تاآنکہ اسی راہ میں مجھے موت آجائے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

258 ۔ آیت لب لباب ہے سارے دین اسلام کا، اور عطر یا مغز کل ملت ابراہیمی کا۔ صلوۃ۔ یعنی نماز اور نسک یعنی عام عبادتوں کا تعلق نظام تشریعیات سے اور محیا یعنی زندگی اور ممات یعنی موت کا تعلق نظام تکوینیات سے ہونا بالکل ظاہر ہے تو گویا اقرار اس کا ہورہا ہے کہ الوہیت میں بھی وہی رب برحق منفرد ہے اور ربوبیت میں بھی وہی۔ نسک سے یہاں مراد جمیع عبادات ہیں۔ قال النسک فی ھذہ الایۃ جمیع اعمال الطاعات (قرطبی) مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ آیت توحید کامل کی تعلیم پر دال ہے۔ یعنی جمیع حالات تشریعی وتکوینی میں تسلیم وتفویض عمل و اطاعت سے بھی اور رضابالقضاء سے بھی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 155–163

آیت نمبر 155 تا 165 ترجمہ : اور یہ قرآن ایک بڑی خیر و برکت والی کتاب ہے جس کو ہم نے نازل کیا ہے، اے مکہ والو ! جو کچھ اس میں ہے اس پر عمل کرکے اس کی اتباع کرو، اور کفر سے بچو تاکہ تم پر رحم کیا جائے اس کو نازل کیا تاکہ تم یہ نہ کہو سکو کہ کتاب تو ہم سے پہلے وہ فرقوں یہود و نصاریٰ پر نازل کی گئی تھی اور ہم ان کو پڑھنے پڑھانے سے ناواقف تھے ہماری زبان میں ان کتابوں کے نہ ہونے کی وجہ سے ہمیں ان کی معرفت حاصل نہ تھی (اِنْ ) مخففہ ہے اس کا اسم محذوف ہے ای اِنّا، یا یوں نہ کہو کہ اگر ہم پر کوئی کتاب نازل کی گئی ہوتی تو ہم اپنی تیزی ذہانت کی وجہ سے زیادہ راہ راست پر ہوتے، سو اب تمہارے پاس رب کی جانب…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

قل ان صلاتی ونسکی و محیای ومماتی للہ رب العلمین . آپ کہہ دیجئے کہ بالیقین میری نماز اور میری ساری عبادت اور میری جینا اور میرا مرنا سب اللہ ہی کا ہے جو سارے جہان کا مالک ہے۔ نسک : سے مراد ہے حج وعمرہ میں قربانی۔ مقاتل نے کہا حج مراد ہے بعض نے دین مراد لیا ہے بعض نے عبادت یہ سب معانی قاموس و صحاح میں مذکور ہیں محیا : اور ممات : مصدر ہیں یعنی موت ‘ وحیات۔ زندگی اور موت کا مالک اللہ ہے یعنی وہی زندہ کرتا اور مارتا ہے بعض علماء نے کہا مطلب یہ ہے کہ ایمان وطاعت جس پر میں زندہ ہوں اور جس پر مروں گا سب اللہ ہی کے لئے ہے ‘ یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ محیا : سے مراد ہیں زندگی کی طاعتیں جیسے نماز ‘ روزہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 162–163

(162۔ 163) اور آپ اس کی کچھ تفصیل بیان فرمادیجیے کہ میری پانچوں نمازین اور میرا دین و حج اور میری قربانی اور میری عبادت اس دنیا میں اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور اس کی رضامندی کے لیے ہے جو کہ جن وانس کا پروردگار ہے اور میں سب موحدین اور عابدین میں پہلا ہوں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 162–163

قُلْ اِنَّ صَلَاتِيْ وَنُسُكِيْ۔۔ : ”اَلنُّسُکُ“ کا معنی عبادت ہے، یہ ذبح، قربانی اور حج کے معنی میں بھی آتا ہے، جیسا کہ فرمایا : (وَلِكُلِّ اُمَّةٍ جَعَلْنَا مَنْسَكًا لِّيَذْكُرُوا اسْمَ اللّٰهِ عَلٰي مَا رَزَقَهُمْ مِّنْۢ بَهِيْمَةِ الْاَنْعَامِ) [ الحج : 34 ] ”اور ہم نے ہر امت کے لیے ایک قربانی مقرر کی، تاکہ وہ ان پالتو چوپاؤں پر اللہ کا نام ذکر کریں جو اس نے انھیں دیے ہیں۔“ اور ابراہیم ؑ نے دعا کی : (وَلِكُلِّ اُمَّةٍ جَعَلْنَا مَنْسَكًا لِّيَذْكُرُوا اسْمَ اللّٰهِ عَلٰي مَا رَزَقَهُمْ مِّنْۢ بَهِيْمَةِ الْاَنْعَامِ ۭ) [ البقرۃ : 128] ”اور ہمیں ہماری عبادت (یا حج) کے طریقے دکھا۔“…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 161–163

اس میں چار مسائل ہیں : مسئلہ نمبر 1۔ قولہ تعالیٰ : قل اننی ھدنی ربی الی صراط مستقیم جب اللہ تعالیٰ نے یہ بیان فرمایا کہ کفار نے تفرقہ ڈالا ( تو ساتھ ہی) بیان فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اسے صحیح دین تک پہنچا دیا اور وہ دین ابراہیمی ہے۔ دینا یہ حال ہونے کی بنا پر منصوب ہے یہ قطرب سے منقول ہے۔ اور یہ قول بھی ہے کہ اس کی نصب ھدنی فعل کی وجہ سے ہے یہ اخفش کا قول ہے۔ اس کے علاوہ کسی اور نے کہا ہے : معنی پر محمول ہونے کی وجہ سے یہ منصوب ہے، کیونکہ اس کا معنی ہے ھدانی عرفنی دینا ( اس نے مجھے سیدھے راستے تک پہنچایا اور دین کی مجھے پہچان کرا دی) اور یہ بھی جائز ہے کہ یہ صراط سے بدل ہو یعنی ھدانی صراط…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 162–163

(1) امام ابو الشیخ نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ ہم کو یہ بات ذکر کی گئی کہ ابو موسیٰ ؓ نے فرمایا میں اس بات کو دوست رکھتا ہوں کہ ہر مسلمان کتاب اللہ کی تلاوت کرتے وقت یہ آیت پڑھے (یعنی) لفظ آیت قل ان صلاتی ونسکی الایہ (2) امام ابن ابی حاتم نے مقاتل (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت قل ان صلاتی ونسکی یعنی میری فرض نماز لفظ آیت ونسکی یعنی میرا حج۔ (3) امام عبد بن حمید اور ابو الشیخ نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت قل ان صلاتی سے مراد ہے میری قربانی۔ (4) امام عبد بن حمید اور ابو الشیخ نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت قل ان صلاتی ونسکی یعنی میرا حج اور میری قربانی۔ (5) امام ابن ابی…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

قُلْ [ آپ کہئے ] اِنَّ [ یقینا ] صَلَاتِيْ [ میری نماز ] وَنُسُكِيْ [ اور میری قربانی ] وَمَحْيَايَ [ اور میرا عرصہ حیات ] وَمَمَاتِيْ [ اور میرا عرصہ موت ] لِلّٰهِ [ اللہ کے لیے ہی ہے ] رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ [ جو تمام جہانوں کا رب ہے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

میری سب عبادتیں اور مرنا جینا سب اللہ ہی کے لیے ہے مشرکین کی تردید فرمانے کے بعد اللہ جل شانہٗ نے نبی اکرم ﷺ کو خطاب فرمایا کہ آپ اپنے بارے میں ان لوگوں کو بتادیں کہ میرے رب نے مجھے ہدایت دی ہے سیدھا راستہ بتادیا ہے اور مجھے اسی پر چلا دیا ہے۔ یہ سیدھا راستہ ہے مضبوط دین ہے مستحکم ملت ہے اور ایسی ملت پر ابراہیم (علیہ السلام) بھی تھے وہ تمام دینوں سے کٹ کر توحید ہی کو اختیار کیے ہوئے تھے اور توحید ہی کی دعوت دیتے تھے (اس میں مشرکین پر تعریض ہے کیونکہ وہ بھی ملت ابراہیم کے دعویدار تھے لیکن شرک میں غرق تھے۔ حالانکہ ابراہیم (علیہ السلام) موحد تھے۔ مشرک نہیں تھے) ۔ اس کے بعد اس ہدایت کی تفصیل بیان…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 159–165

خاتمۂ سورت مشتمل بر ترہیب از تفریق دین قویم وترغیب بر اتباع صراط مستقیم قال اللہ تعالیٰ ان الذین فرقوا دینھم وکانوا شیعا۔۔۔ الی۔۔۔ وانہ لغفور رحیم (ربط) گذشتہ آیت میں دین حق سے اعراض اور روگردانی پر توبیخ اور تہدید تھی اب ان آیات میں صراط مستقیم اور ملۃ ابراہیم کے اتباع کی ترغیب اور دین حق میں تفریق اور اختلاف سے ترہیب ہے تاکہ معلوم ہوجائے کہ صراط مستقیم دین ابراہیم ہے اور اس سے اختلاف اور انحراف گمراہی ہے نیز ان آیات میں آں حضرت ﷺ کو تسلی اور تشفی دی جاتی ہے کہ جن لوگوں نے اپنے دین میں اختلاف کیا اور مختلف گروہ بن گئے کوئی عیسیٰ بن مریم کو خدا کہنے لگا اور کوئی بت پرستی میں لگ گیا اور کوئی…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 162–163

185 یہ دوسرا اعلان ہے۔ اس کا حاصل بھی خالص توحید کا اعلان اور تمام اقسان شرک سے براءت کا اظہار ہے۔ “ اِنَّ صَلَاتِيْ ” نفی شرک اعتقادی کی طرف اشارہ ہے اور “ نُسُکِيْ ” الخ نفی شرک فعلی کی طرف مالک و مختار، متصرف و کارساز اور عالم الغیب صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے اور نذر و منت کا مستحق بھی وہی ہے۔ “ لَا شَرِيْکَ لَهٗ ” ان تمام امور میں کوئی اس کا شریک نہیں۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 161–163

ربط آیات پہلے شرک اور مشرکین کا رد ہوا ‘ پھر فرقہ بندی کی تردید ہوئی اور نیکی اور بدی کے حوالے سے جزا اور سزا کا ذکر ہوا۔ اب ملت ابراہیمیہ کا خلاصہ بیان کر کے اس کی پیروی کرنے کی ترغیب دی جا رہی ہے اس کے علاوہ باقی تمام طریقوں کو ترک کرنے کا حکم دیا جا رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ملت ابراہیمیہ کے طریقے کو صراط مستقیم کا لقب دیکر اس کے اتباع کا حکم دیا ہے۔ گویا ملت ابراہیمی ‘ اسلام اور دین حق ایک ہی چیز کے مختلف نام ہیں۔ دین اور شریعت اصل بات یہ ہے کہ تمام انبیاء (علیہم السلام) کا دین کے بنیادی اصولوں میں اتفاق ہے ‘ البتہ مختلف انبیاء کے ادوار میں ہر دور کے تقاضے کے مطابق شریعتیں مختلف رہی ہیں۔…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

قُلْ اِنَّ صَلَاتِيْ وَنُسُكِيْ وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِيْ لِلہِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ۝ 162 ۙ صلا أصل الصَّلْيُ الإيقادُ بالنار، ويقال : صَلِيَ بالنار وبکذا، أي : بلي بها، واصْطَلَى بها، وصَلَيْتُ الشاةَ : شویتها، وهي مَصْلِيَّةٌ. قال تعالی: اصْلَوْهَا الْيَوْمَ [يس/ 64] والصَّلاةُ ، قال کثير من أهل اللّغة : هي الدّعاء، والتّبريك والتّمجید يقال : صَلَّيْتُ عليه، أي : دعوت له وزكّيت، وقال عليه السلام : «إذا دعي أحدکم إلى طعام فلیجب، وإن کان صائما فَلْيُصَلِّ» أي : ليدع لأهله، وَصَلِّ عَلَيْهِمْ إِنَّ صَلاتَكَ سَكَنٌ لَهُمْ [ التوبة/ 103] وصَلَاةُ اللهِ للمسلمین هو في التّحقیق : تزكيته إيّاهم . وقال…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 161–163

4 ؎ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) بت پرستی سے یکسو ہوگئے تھے اور حنیف یکسو کو کہتے ہیں اس لئے ابراہیم (علیہ السلام) کو حنیف کہا جاتا ہے۔ 12 منہ

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 159–164

ارشاد ہوتا ہے : اِنَّ الَّذِیْنَ فَرَّقُوْا دِیْنَھُمْ وَ کَانُوْا شِیَعًا لَّسْتَ مِنْھُمْ فِیْ شَیْئٍ ط اِنَّمَا اَمْرُھُمْ اِلَی اللہِ ثُمَّ یُنَبِّئُھُمْ بِمَا کَانُوْا یَفْعَلُوْنَ ۔ مَنْ جَآئَ بِالْحَسَنَۃِ فَلَہٗ عَشْرُ اَمْثَالِھَا ج وَمَنْ جَآئَ بِالسَّیِّئَۃِ فَلَا یُجْزٰٓی اِلَّا مِثْلَھَا وَھُمْ لَا یُظلَمُوْنَ ۔ قُلْ اِنَّنِیْ ھَدٰنِیْ رَبِّیْٓ اِلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ 5 ج دِیْنًا قِیَمًا مِّلَّۃَ اِبْرٰھِیْمَ حَنِیْفًا ج وَمَا کَانَ مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ ۔ قُلْ اِنَّ صَلَاتِیْ وَ نُسُکِیْ وَ مَحْیَایَ وَ مَمَاتِیْ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ ۔ لَا شَرِیْکَ لَہٗ ج وَبِذٰلِکَ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 161–163

فہم القرآن ربط کلام : دین اسلام میں کوئی اختلاف نہیں اور نہ ہی یہ دین اس قسم کے اختلافات کو پسند کرتا ہے۔ لہٰذا پیغمبر آخر الزمان ﷺ کو حکم ہوا کہ آپ ملت ابراہیم کے متبع رہیں۔ سرور دو عالم ﷺ کا تفرقہ بازی کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔ آپ تو دین قیم اور سیدھی راہ کے راہی اور داعی تھے۔ لہٰذا آپ کی زبان اطہر سے اعلان کروایا گیا کہ اے محبوب برحق ! آپ وضاحت فرمائیں کہ میرا ادھر ادھر کے راستوں اور متضاد نظریات رکھنے والوں کے ساتھ کوئی تعلق نہیں میں اپنے رب کی بتلائی ہوئی راہ پر اس کی توفیق سے گامزن ہوں۔ یہی دین ہمیشہ سے قائم دائم ہے۔ اور اسی پر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا مل یکسوئی کے ساتھ قائم رہے۔ ان…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

خلاصہ ملت : عبادت باری اور شرک سے بیزاری : آیت 162: قُلْ اِنَّ صَلَا تِیْ وَنُسُکِیْ یعنی میری عبادت۔ الناسک عبادت گذار۔ یا میرا ذبیحہ یا میرا حج وَمَحْیَایَ وَمَمَاتِیْ اور وہ اعمال جو میں نے زندگی میں کئے اور اس پر میں مروں گا یعنی ایمان اور اعمال صالحہ وغیرہ۔ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ اسکی ذات کیلئے خالص ہیں۔ ( قراءت) محیای ومماتی میں پہلے یا کا سکون اور دوسرے کا فتحہ مدنی نے پڑھا دوسروں نے اسکا عکس پڑھا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

162 (قل ان صلاتی و نس کی) بعض نے کہا ” نسک “ سے حج اور عمرہ کا ذبیحہ مراد ہے اور مقاتل (رح) فرماتے ہیں کہ ” نسک “ سے حج مراد ہے اور بعض نے کہا دین مراد ہے (ومحیای ومماتی للہ رب العلمین) یعنی وہ مجھے موت وحیات دیتا ہے اور بعض نے کہا ہے کہ ” محیای “ نیک عمل کے ساتھ اور ” مماتی “ جب میں ایمان پر مر جائوں گا۔ ” اللہ رب العالمین “ اور بعض نے کہا ہے میری اطاعت میری زنگدی میں اللہ کے لئے ہے اور میرے مرنے کے بعد میری ” جزاء اللہ رب العالمین “ کی طرف ہے۔ اہل مدینہ نے ” محیای “ یاء کے سکون کے ساتھ اور ” مماتی “ یاء کے زبر کے ساتھ پڑھا ہے اور اکثر حضرات کی قرأت ” محیای “ یاء کے سکون کے ساتھ اور ” مماتی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 161–163

(161 ۔ 163) ۔ اوپر ذکر تھا کہ شیطان کے بہکانے سے عبادت الٰہی کے صحیح طریقہ میں لوگوں نے اپنی طرف سے غلط راہیں نکال لی ہیں اب ان غلط راہوں میں مکہ کے مشرک لوگوں کی یہ غلط راہ تھی کہ ان لوگوں نے ملت ابراہمی کو بگاڑ کر بت پرستی کو اپنا دین ٹھہرا لیا تھا بتوں کی پوجا کرتے تھے ان کے نام پر جانور ذبح کرتے تھے اور اسی کو ملت ابراہیمی جانتے تھے اس لئے اس آیت میں فرمایا اے رسول اللہ کے ان مشرکوں سے کہہ دو کہ تم لوگ تو بت پرست ہو اور ابراہیم خلیل اللہ نے اسی بت پرستی کی نفرت کے سبب سے اپنے وطن اپنے باپ اپنی قوم سب کو چھوڑا اور اس ہجرت کے بعد جب ابراہیم خلیل اللہ نے کعبہ بنایا اور اس کے سبب سے مکہ کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 159–164

آیت 159 (1) صحیح بخاری، کتاب الرفاق، باب، حدیث :65/6 اللہ تبارک و تعالیٰ ان لوگوں کو عید سناتا ہے جنہوں نے اپنے دین میں تفرقہ پیدا کیا اور دین کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے فرقوں میں بٹ گئے اور ہر ایک نے اپنا ایک نام رکھ لیا جو انسان کے لئے اس کے دین میں کوئی کام نہیں آتا جیسے یہودیت، نصرانیت اور مجوسیت وغیرہ یا اس سے انسان کے ایمان کی تکمیل نہیں ہوتی، جیسے وہ شریعت میں سے کسی ایک چیز کو اخذ کر کے اس کو دین بنا لے اور اس جیسییا اس سے کسی افضل چیز کو چھوڑ دے جیسا کہ اہل بدعت اور ان گمراہ فرقوں کا حال ہے جنہوں نے امت سے الگ راستہ اختیار کرلیا ہے۔ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ دین اجتماعیت اور اکٹھے رہنے کا…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 162–163

عبادات صرف اللہ کے لیے ہیں قول باری ہے ( قل ان صلاتی و نس کی و محیای و مماتی للہ رب العالمین۔ کہو میری نماز، میرے تمام مراسم عبودیت، میراجینا اور میرا مرنا سب کچھ اللہ رب العالمین کے لیے ہے) سعید بن جبیر، قتادہ ، ضحاک اور سدی کا قول ہے کہ ( نس کی) سے مراد ” حج اور عمرہ میں میرا طریقہ “ ہے ۔ حسن کا قول ہے ( نس کی) سے مراد ” میرا دین “ ہے۔ دوسرے حضرات کا قول ہے اس سے مراد ” میری عبادت “ ہے۔ تاہم اس لفظ پر اس ذبح اور قربانی کے معنی زیادہ غالب میں جس کے ذریعے اللہ کا تقرب حاصل کیا جاتا ہے۔ عرب کہتے ہیں ” فلان ناسک “ ( فلاں ناسک ہے) یعنی اللہ کے لیے عبادت کرتا ہے۔ عبداللہ بن ابی رافع نے حضرت علی ؓ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

345 ہر قسم کی عبادت اللہ ہی کا حق ہے : جس میں قربانی بھی آگئی۔ اس لئے یہ مفہوم و معنیٰ زیادہ جامع ہے جبکہ بعض علمائے کرام نے اس لفظ سے خاص طور پر قربانی ہی مراد لی ہے اور کہا ہے کہ اس طرح اس آیت کریمہ میں نماز اور قربانی دونوں کا ذکر یکجا طور پر ہوجائے گا۔ جیسا کہ ۔ { فَصَلِّ لِرَبِّکَ وَ انَحَرْ } ۔ میں ہے۔ (الکبیر، الجامع، الطبری، المحاسن، الصفوۃ وغیرہ) ۔ بہرکیف اس ارشاد عالی سے فرما دیا گیا کہ ہر قسم کی عبادت اور اس کی ہر شکل و قسم اللہ وحدہ لاشریک ہی کا حق ہے کہ معبود برحق وہی وحدہ لاشریک ہے۔ سو اس ارشاد سے ملت ابراہیمی اور ملت اسلامیہ کی اصل روح کو واضح فرمایا گیا ہے کہ مومن صادق کی…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 159–165

فرقہ بندی کا نقصان، خالص توحید، انسان کی نیابت تشریح : یہ سورة الانعام کی آخری آیات ہیں اور ان میں بیشمار مسائل کا حل بتایا گیا ہے۔ مسلمانوں میں کئی فرقے بن چکے ہیں۔ فرقہ بندی کسی بھی قوم کو کمزور کرنے کا بہت بڑا سبب ہے اس لیے قومی ترقی، کامیابی اور مضبوطی کے لیے ضروری ہے کہ فرقہ پرستی اور گروہ بندی سے بچا جائے۔ رسول اللہ ﷺ کو مسلمانوں کی گروہ بندی سے فکر ہوتی تھی تو رب العلمین نے ان سے کہا کہ آپ اس بات کی ہرگز فکر نہ کریں کیونکہ آپ کا کام تھا تعلیم دینا وہ آپ نے دیدی اب اس پر عمل کرنا نہ کرنا یا اس کو بگاڑ دینا یہ سب ہر شخص کا ذاتی عمل ہے جو بھی غلط کام یا شریعت سے ہٹ کر کام کرے گا وہ عذاب…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 156–165

رکوع نمبر 20 ۔ آیات 156 تا 166 ۔ اسرار و معارف : اور اب یہ کتاب ہے یعنی قرآن حکیم جسے ہم نے بہت برکت کے ساتھ نازل فرمایا ہے یعنی کتب سابقہ کا دور ختم ہوا پہلی کتابوں کا انکار نہ کیا جائے گا کہ وہ بھی اللہ کی نازل کردہ تھیں مگر ان پر عمل کا زمانہ بیت چکا اب ساری برکات قرآن کا اتباع کرنے سے ہی نصیب ہوسکتی ہیں اور اللہ کی عظمت کا احساس کرو تاکہ اللہ تم پر رحم فرمائے اور تمہاری کوتاہیوں اور کمزوریوں کو معاف فرمائے کہیں یہ نہ کہنا کہ اللہ کی کتابیں تو صرف یہود و نصاری پہ ہی نازل ہوئی تھیں جنہیں ہم سمجھنے سے قاصر تھے ان کا پڑھنا پڑھانا ہمارے بس میں ہی نہ تھا زبان اور تھی یا اصل کتب نہ رہیں اور…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 161–163

ف 8 توحید کے اثبات اور مشرکین اہل جاہلیت کی تردید کے بعد اب سورت کے آخر میں چند حقائق کا اعلان فرمایا ہے (آیت وما کان من المشرکین۔ میں مشرکین کی تردید ہے جن میں مشرکین عرب کے علاوہ یہود و نصاری اور مجوس بھی شامل ہیں۔ وبذالک امرت یعنی اس کے ساتھ کسی دوسرے کی بندگی نہ کروں اور میرا ہر چھاٹا اور بڑاعمل صرف اسی کی رحا جوئی کے لیے ہو،9 حضرت عمران بن جعین ؓ سے روایت ہے کہ جب نبی ﷺ حضرت فاطمہ ؓ کی طرف سے قربانی کا جانور ذبح کرنے لگے تو آپ ﷺ نے ان سے فرمایا فاطمہ آؤ اور اپنے جانورکو ذبح ہوتے دیکھو اس لیے کہ اس کے خون کا پہلا قطرہ جب زمین پر گرے گا تمہارے سب گناہ معاف کردئیے جائیں گے اور فرمایا کہ ان…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 162–163

(6:162) نس کی۔ نسک عبادت ۔ پرستش۔ قربانی۔ النسک کے معنی عبادت کے ہیں۔ ناسک عابد کو کہتے ہیں لیکن یہ لفظ ارکان حج کے ساتھ مخصوص ہوچکا ہے۔ المناسک اعمال حج ادا کرنے کے مقامات فاذا قضیتم پھر کب تم حج کے تمام ارکان پورے ادا کر چکو یہاں عبادت کے معنوں میں آیا ہے یعنی میری عبادت۔ لسان العرب میں ہے النسک والنسک۔ العبادۃ والطاعۃ وکل ما یتقرب بہ الی اللہ تعالیٰ ۔ یعنی ہر وہ عبادت اور اطاعت اور ہر وہ چیز جو اللہ تعالیٰ سے قرب کا ذریعہ ہو۔ بذلک کا اشارہ مندرجہ بالا اقوال کی طرف سے جو آیات 161 میں مذکور ہوئی ہیں۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 161–164

لغات القرآن : آیت نمبر 161 تا 164 : دینا قیما ( مضبوط و مستحکم دین) نس کی (میری قربانی) محیای ( میری زندگی) مماتی ( میری موت) امرت ( مجھے حکم دیا گیا) وازرۃ ( بوجھ) ‘ وزراخری ( دوسرے کا بوجھ) ۔ تشریح : آیت نمبر 161 تا 164 : رد شرک پر بحث کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ چند ٹھوس حقیقتوں پر سورة الانعام کو موثر ترین پیرایہ میں ختم فرما رہے ہیں۔ آیت 158 میں کہا ہے (اے نبی ﷺ صاف صاف پکار دیجئے کہ تم لوگ بھی وقت (موت ) کا انتظار کرو۔ ہم بھی انتظار کررہے ہیں۔ یہاں شرک کے خلاف چند دلائل قائم کئے ہیں اور یہ حجت تمام ہے۔ یہ دلیلیں رسول ﷺ کی زبانی ہیں۔ دعویٰ ہیں ‘ حجت ہیں۔ پہلی دلیل : صراط مستقیم کی طرف رہنمائی…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 160–162

اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ جب کوئی مسلمان نیک عمل کرتا ہے تو دس گنے سے سات سو تک اس کا اجر لکھا جاتا ہے اور بدی ایک کرے تو ایک ہی لکھی جاتی ہے۔ اور نیکی کا کوئی شخص ارادہ کرے اور ارادہ کے موافق عمل نہ کرے تو بھی ایک نیکی محض ارادہ پر لکھی جاتی ہے اور بدی بغیر عمل کے نہیں لکھی جاتی۔ اور نیکی کا کوئی شخص ارادہ کرے تو بھی ایک نیکی لکھی جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کو انصاف بہت پسند ہے اس لئے نیک عمل کی جزا کے کم کرنے میں یا بد عمل کی سزا کے بڑھا دینے میں کسی ظلم و زیادتی کا دخل نہیں ہوگا۔ قیامت کے دن نہایت انصاف سے ہر ایک کو قائل معقول کیا جاوے گا اور قائل معقول کے بعد سزا کا حکم دیا جاوے گا۔ اسی طرح جزا…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 160–162

(ف 1) حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بدرجہ غایت کرم فرما اور رحیم ہے ، وہ چاہتا ہے کہ سب کو اپنی آغوش رحمت میں لے لے اور کوئی نفس انسانی جہنم کی آگ میں نہ جلے نیکیوں کا دس گنا بڑھ جانا تو ایک شکل ہے اس کے التفات سامی کی ورنہ دراصل اس کا ارادہ ہی یہ ہے کہ اس کے بندے رحمت و بخشش کے فیضان عظیم سے محروم نہ رہیں ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

162 اے پیغمبر ﷺ ! آپ فرما دیجئے کہ بالیقین میری نماز اور میری تمام عبادات اور میرا جینا اور میرا مرنا سب اللہ تعالیٰ ہی کے لئے ہے جو پروردگار اور مالک ہے تمام جہان کا۔ یعنی وہی رب ہے اور وہی مستحق عبادت ہے چونکہ نماز اہم عبادت ہے اس لئے اس کو اور عبادات سے جدا ذکر کیا تمام جہان کا یعنی تمام مخلوقات کا مالک ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 160–162

ف 5۔ کہ کوئی نیکی درج نہ ہو یا کوئی بدی زیادہ کرکے لکھ لی جائے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

کہہ دو میری نماز ، میرا حج ، میرا مرنا اور جینا سب اللہ ہی کے لئے ہے : 256: یہ اعلان نبی اعظم وآخر ﷺ سے کرایا گیا جو مبنی برحق تھا اور ساری ملتوں کے لئے ایک ہی طرح کی حیثیت رکھتا تھا۔ یہ ملت ابراہیم (علیہ السلام) اور ملت اسلام بلکہ سارے انبیاء (علیہ السلام) کی ملتوں کی اصل روح ہے جس کو جس ملت کے جسم سے بھی الگ کردیا گیا ہو یا الگ کردیا جائے وہ ملت یقیناً مردہ تھی اور مردہ ہے اور جسم بغیر روح کے جو حیثیت رکھتا ہے وہ سب پر روشن ہے۔ صلوٰۃ اور قربانی اور زندگی اور موت دونوں میں غور کیجئے کہ کتنا حسین تقابل ہے۔ صلوٰۃ کے مقابلہ میں زندگی اور قربانی کے مقابلہ میں موت ہے یہ گویا اس بات کی طرف اشارہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 162–163

In the first verse it has been said: قُلْ إِنَّنِي هَدَانِي رَ‌بِّي إِلَىٰ صِرَ‌اطٍ مُّسْتَقِيمٍ (As for me, my Lord has guided me to a straight path). The hint given here is that he has not taken this path prompted like them by their own ideas or under the weight of ancestral customs. Instead of that, this is a way to which he has been directed by his Lord. Then, by using the word: رَبّ (Rabb, the essential nurturer, benefactor and carer under all conditions, unfortunately not expressed through any equivalent in English), it was indicated that it is the very dictate of His beneficence that…

Read the full tafseer →