Al-An'aam 6:161

Al-An'aam · from ayah 161

6:161

قُلْ اِنَّنِیْ هَدٰىنِیْ رَبِّیْۤ اِلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ ۚ۬— دِیْنًا قِیَمًا مِّلَّةَ اِبْرٰهِیْمَ حَنِیْفًا ۚ— وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِیْنَ ۟قُلۡ اِنَّنِىۡ هَدٰٮنِىۡ رَبِّىۡۤ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسۡتَقِيۡمٍۚ دِيۡنًا قِيَمًا مِّلَّةَ اِبۡرٰهِيۡمَ حَنِيۡفًا‌ ۚ وَمَا كَانَ مِنَ الۡمُشۡرِكِيۡنَ

کہہ دو کہ مجھے میرے پروردگار نے سیدھا رستہ دکھا دیا ہے (یعنی دین صحیح) مذہب ابراہیم کا جو ایک (خدا) ہی کی طرف کے تھے اور مشرکوں میں سے نہ تھے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Say, "Indeed, my Lord has guided me to a straight path - a correct religion - the way of Abraham, inclining toward truth. And he was not among those who associated others with Allah."

— Saheeh International

Juz 8 · Ruku 20 of surah · Ruku 7 of juz

Read the whole surah · Surah Al-An'aam

All translations of 6:161

اے محمدؐ! کہو میرے رب نے بالیقین مجھے سیدھا راستہ دکھا دیا ہے، بالکل ٹھیک دین جس میں کوئی ٹیڑھ نہیں، ابراہیمؑ کا طریقہ جسے یکسو ہو کر اُس نے اختیار کیا تھا اور وہ مشرکوں میں سے نہ تھا

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

کہہ دو کہ مجھے میرے پروردگار نے سیدھا رستہ دکھا دیا ہے (یعنی دین صحیح) مذہب ابراہیم کا جو ایک (خدا) ہی کی طرف کے تھے اور مشرکوں میں سے نہ تھے

— مولانا فتح محمد جالندہری

آپ کہہ دیجئے کہ مجھ کو میرے رب نے ایک سیدھا راستہ بتادیا ہے کہ وه ایک دین مستحکم ہے جو طریقہ ہے ابراہیم ؑ کا جو اللہ کی طرف یکسو تھے۔ اور وه شرک کرنے والوں میں سے نہ تھے

— مولانا محمد جوناگڑہی

(اے پیغمبر) کہہ دو کہ میرے پروردگار نے مجھے ایک سیدھے راستے پر لگا دیا ہے جو کجی سے پاک دین ہے، ابراہیم کا دین۔ جنہوں نے پوری طرح یکسو ہو کر اپنا رخ صرف اللہ کی طرف کیا ہوا تھا، اور وہ شرک کرنے والوں میں سے نہیں تھے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تم فرماؤ بیشک مجھے میرے رب نے سیدھی راہ دکھائی ٹھیک دین ابراہیم کی ملّت جو ہر باطل سے جُدا تھے، اور مشرک نہ تھے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

فرما دیجئے: بیشک مجھے میرے رب نے سیدھے راستے کی ہدایت فرما دی ہے، (یہ) مضبوط دین (کی راہ ہے اور یہی) اﷲ کی طرف یک سو اور ہر باطل سے جدا ابراہیم ؑ کی ملت ہے، اور وہ مشرکوں میں سے نہ تھے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

کہہ دے بیشک مجھے تو میرے رب نے سیدھے راستے کی طرف رہنمائی کردی ہے، جو مضبوط دین ہے، ابراہیم کی ملت، جو ایک ہی طرف کا تھا اور مشرکوں سے نہ تھا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

آپ ان سے کہئے کہ : میرے پروردگار نے مجھے سیدھی راہ دکھا دی ہے یہی وہ مستحکم دین ہے جو ابراہیم حنیف کا طریق زندگی تھا اور سیدنا ابراہیم مشرکوں میں سے نہ تھے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

کہہ دو ، میرے رب نے میری رہنمائی ایک سیدھے رستے کی طرف فرما دی ہے، دین قیم ابراہیم کی ملت کی طرف جو یکسو تھے اور مشرکین میں سے نہ تھے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

کہو کہ بیشک مجھے ہدایت (ور رہنمائی) فرما دی ہے، میرے رب نے سیدھے راستے کی، یعنی اس دین عظیم کی جو کہ ہر لحاظ سے درست ہے، (جس میں کسی طرح کی کوئی کجی نہیں) یعنی ابرایم کی اس ملت کی جس کو انہوں نے اختیار کیا تھا اور ان کو کوئی لگاؤ نہیں تھا مشرکوں سے،

— مولانا اسحاق مدنی

آپ کہہ دیجیے کہ مجھ کو میرے پروردگار نے ایک سیدھا راستہ بتا دیا ہے ایک دین مستحکم طریقہ ابراہیم ؑ راست رو کا اور وہ مشرکین میں سے نہ تھے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

(اے نبی ﷺ !) کہیے کہ میرے رب نے تو مجھے ہدایت دے دی ہے سیدھے راستے کی طرف وہ دین ہے سیدھا جس میں کوئی ٹیڑھ نہیں اور ملت ہے ابراہیم کی جو یکسو تھا (اللہ کی طرف) اور وہ مشرکوں میں سے نہ تھا

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

کہہ دو کہ میرے رب نے مجھے سیدھا راستہ دکھا دیا ہے یہی وہ مستحکم دین ہے جو ابراہیم حنیف کا دین تھا، اور وہ مشرکوں میں سے نہ تھے

— محترمہ رفعت اعجاز

Say: 'As for me, my Lord has guided me on to a straight way, a right religion, the way of Abraham who adopted it in exclusive devotion to Allah, and he was not of those who associated others with Allah in His divinity.'

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Say, :As for me, my Lord has guided me to a straight path, the straight religion, the faith of Ibrahim who was upright and was not of those who associate partners with Allah.

— Muhammad Taqi Usmani

Say, :As for me, my Lord has guided me to a straight path, the straight religion, the faith of Ibrahim who was upright and was not of those who associate partners with Allah.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Say: "Truly, my Lord has guided me to a straight path, a right religion, the religion of Ibrahim, Hanifan (monotheism) and he was not of the Mushrikin."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Say: Lo! As for me, my Lord hath guided me unto a straight path, a right religion, the community of Abraham, the upright, who was no idolater.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Say, "Indeed, my Lord has guided me to a straight path - a correct religion - the way of Abraham, inclining toward truth. And he was not among those who associated others with Allah."

— Saheeh International

(Muhammad), tell them, "My Lord has guided me to the right path, a well established religion and the upright tradition of Abraham who was not a pagan".

— Muhammad Sarwar

Say: Surely, (as for) me, my Lord has guided me to the right path; (to) a most right religion, the faith of Ibrahim the upright one, and he was not of the polytheists.

— Muhammad Habib Shakir

Say thou as for me, my Lord hath guided me unto a straight path, a right religion, the faith of Ibrahim, the upright, and he was not of the associaters.

— Abdul Majid Daryabadi

Say: "Verily, my Lord hath guided me to a way that is straight,- a religion of right,- the path (trod) by Abraham the true in Faith, and he (certainly) joined not gods with Allah."

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 6:161

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 161–163

بیوقوف وہی ہے جو دین حنیف سے منہ موڑ لے ورنہ دین اسلام قدیمی ہے سید المرسلین ﷺ کو حکم ہو رہا ہے کہ آپ پر اللہ کی جو نعمت ہے اس کا اعلان کردیں کہ اس رب نے آپ کو صراط مستقیم دکھا دی ہے جس میں کوئی کجی یا کمی نہیں وہ ثابت اور سالم سیدھی اور ستھری راہ ہے۔ ابراہیم حنیف کی ملت ہے جو مشرکوں میں نہ تھے اس دین سے وہی ہٹ جاتا ہے جو محض بیوقوف ہو اور آیت میں ہے اللہ کی راہ میں پورا جہاد کرو وہی اللہ ہے جس نے تمہیں برگزیدہ کیا اور کشادہ دین عطا فرمایا جو تمہارے باپ ابراہیم کا دین ہے، ابراہیم ؑ اللہ کے سچے فرمانبردار تھے مشرک نہ تھے اللہ کی نعمتوں کے شکر گزار تھے اللہ کے پسندیدہ تھے راہ مستقیم کی ہدایت…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْاَنْعَام 142 ”ابراہیم ؑ کا طریقہ“ یہ اس راستے کی نشان دہی کے لیے مزید ایک تعریف ہے۔ اگرچہ اس کو موسیٰ ؑ کا طریقہ یا عیسیٰ ؑ کا طریقہ بھی کہا جاسکتا تھا، مگر حضرت موسیٰ ؑ کی طرف دنیا نے یہودیت کو اور حضرت عیسیٰ ؑ کی طرف مسیحیت کو منسوب کر رکھا ہے، اس لیے ”ابراہیم ؑ کا طریقہ“ فرمایا۔ حضرت ابراہیم ؑ کو یہودی اور عیسائی، دونوں گروہ بر حق تسلیم کرتے ہیں، اور دونوں یہ بھی جانتے ہیں کہ وہ یہودیت اور عیسائیت کی پیدائش سے بہت پہلے گزر چکے تھے۔ نیز مشرکین عرب بھی ان کو راست رو مانتے تھے اور اپنی جہالت کے باوجود کم از کم اتنی بات انہیں بھی تسلیم تھی کہ کعبہ کی بنا رکھنے والا پاکیزہ انسان خالص…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

خلاصہ تفسیر آپ ﷺ کہہ دیجئے کہ مجھ کو میرے رب نے ایک سیدھا راستہ (وحی کے ذریعہ سے) بتلا دیا ہے کہ وہ ایک دین ہے (جو بوجہ ثبوت بدلائل کے) مستحکم (ہے) جو طریقہ ہے ابراہیم ؑ کا جس میں ذرا کجی نہیں اور وہ (ابراہیم علیہ السلام) شرک کرنے والوں میں سے نہ تھے (اور) آپ (اس دین مذکور میں قدرے تفصیل کے لئے) فرما دیجئے کہ (اس دین کا حاصل یہ ہے کہ) بالیقین میری نماز اور میری ساری عبادات اور میرا جینا اور مرنا یہ سب خالص اللہ ہی کے لئے ہے جو مالک ہے سارے جہان کا، اس کا (استحقاق عبادت یا تصرفات ربوبیت میں) کوئی شریک نہیں، اور مجھ کو اسی (دین مذکور پر رہنے) کا حکم ہوا ہے اور (حکم کے موافق) میں (اس دین والوں…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

قُلْ اِنَّنِيْ هَدٰىنِيْ رَبِّيْٓ اِلٰي صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍ ڬ دِيْنًا قِــيَمًا مِّلَّةَ اِبْرٰهِيْمَ حَنِيْفًا ۚ وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ۔ دِيْنًا قِــيَمًا، صراط مستقیم، سے بدل ہے اور لحاظ اس کے موقع و محل کا ہے۔ قِیَمٌ اور قَیِّمٌ دونوں ہم معنی ہیں یعنی سیدھا اور فطری دین جس میں کوئی کجی اور انحراف نہیں ہے۔ قرآن میں یہ لفظ ملت ابراہیم اور ملت اسلام کے لیے استعمال ہوا ہے اور مقصود اس سے اس ملت کے اس پہلو کو واضح کرنا ہوتا ہے کہ یہ اس زیغ و انحراف سے بالکل پاک ہے جو مشرکین، یہود اور نصاری نے اپنے دین میں پیدا کرلیا۔ یہ وہی اوپر والی بات نبی ﷺ کی زبان سے مثبت انداز میں کہلائی گئی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 160–162

160۔ 1 یہ اللہ تعالیٰ کے اس فضل و احسان کا بیان ہے کہ جو اہل ایمان کے ساتھ وہ کرے گا کہ ایک نیکی کا بدلہ دس نیکیوں کے برابر عطا فرمائے گا، یہ کم از کم اجر ہے۔ ورنہ قرآن اور حدیث دونوں سے ثابت ہے کی بعض نیکیوں کا اجر کئی سو گنا ہے بلکہ ہزار گنا تک ملے گا۔ 160۔ 2 یعنی جن گناہوں پر سزا مقرر نہیں ہے اور اس کے ارتکاب کے بعد اس نے اس سے توبہ بھی نہیں کی یا اس کی نیکیاں اس کی برائیوں پر غالب نہ آئیں یا اللہ نے اپنے فضل خاص سے اسے معاف نہیں فرمادیا کیونکہ ان تمام صورتوں میں مجازات کا قانون بروئے عمل نہیں آئے گا تو پھر اللہ تعالیٰ ایسی برائی کی سزا دے اور اس کے برابر ہی دے گا۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 158–163

84: یعنی اس سے مراد قیامت کی آخری نشانی ہے، جس کے بعد ایمان قبول نہیں ہوگا، کیونکہ معتبر ایمان وہی ہے جو دلائل کی بنیاد پر ایمان بالغیب ہو، کسی چیز کو آنکھوں سے مشاہدہ کر کے ایمان لانے سے امتحان کا وہ مقصد پورا نہیں ہوتا جس کے لیے یہ دنیا پیدا کی گئی ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 160–165

آیت ” نمبر 160 ، تا 165۔ یہ تعقیب اور خاتمہ کلام اس سورة کے شروع کے مضامین کو مد نظر رکھتے ہوئے ‘ ایک نہایت ہی خوبصورت زمزمہ ہے ‘ نہایت موزوں اور خیرہ کن ۔ اس زمزے کے ساتھ ذبیحوں اور نذر ونیاز ‘ پھلوں اور فصلوں سے نیاز ‘ اور اس سلسلے میں جاہلیت کے ادہام ورسومات اور پھر یہ دعوے کہ یہ شریعت من جانب اللہ ہے ‘ کا موضوع یہاں اپنے اختتام کو پہنچتا ہے ۔ یہ تعقیب اور آخری زمزمہ اس مضمون میں کیا اضافہ کرتا ہے ؟ میں سمجھتا ہوں ان موضوعات پر ہم نے جو بات کی ہے اس کے بعد اس پر مزید کچھ کہنے کی ضرورت نہیں ہے ۔ آیت ” قُلْ إِنَّنِیْ ہَدَانِیْ رَبِّیْ إِلَی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ دِیْناً قِیَماً مِّلَّۃَ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

5 یعنی ایک خدا ہی کا ہو رہا تھا۔ 6 یعنی تم دین میں جتنی چاہو راہیں نکالو اور جس قدر معبود چاہو ٹھہرا لو۔ مجھ کو تو میرا پروردگار صراط مستقیم بتلا چکا اور وہ ہی خالص توحید اور کامل تفویض و توکل کا راستہ ہے، جس پر موحد اعظم ابو الانبیاء ابراہیم خلیل اللہ بڑے زور شور سے چلے جن کا نام آج بھی تمام عرب اور کل ادیان سماویہ غایت عظمت و احترام سے لیتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 161 قُلْ اِنَّنِیْ ہَدٰٹنِیْ رَبِّیْٓ اِلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ ج دِیْنًا قِیَمًا مِّلَّۃَ اِبْرٰہٖمَ حَنِیْفًاج وَمَا کَانَ مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ یہ خطاب واحد کے صیغے میں براہ راست حضور ﷺ سے ہے اور آپ ﷺ کی وساطت سے پوری امت سے۔ ذرا غور کریں 20 رکوعوں پر مشتمل اس سورت میں ایک دفعہ بھی یَا اَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کے الفاظ کے ساتھ اہل ایمان سے خطاب نہیں کیا گیا۔ کاش کہ ہم میں سے ہر شخص اس آیت کا مخاطب بننے کی سعادت حاصل کرسکے اور یہ اعلان کرسکے کہ مجھے تو میرے رب نے سیدھی راہ کی طرف ہدایت دے دی ہے۔ لیکن یہ تو تبھی ممکن ہوگا جب کوئی اللہ کی راہ ہدایت کو صدق دل سے اختیار کرے گا۔…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

184 اللہ تعالیٰ نے سیدنا ابراہیم کا ذکر اس لیے فرمایا کہ یہود و نصاریٰ اور مشرکین مکہ تینوں فریق انہیں اپنا پیشوا تسلیم کرتے تھے اور یہ بھی تسلیم کرتے تھے کہ سیدنا ابراہیم خالصتہ ایک اللہ ہی کی پرستش کرتے تھے۔ حتیٰ کہ مشرکین مکہ کو بھی یہ اعتراف تھا کہ ابراہیم بت پرست نہیں تھے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ میری سیدھی راہ یہی ہے اور اسی پر سیدنا ابراہیم گامزن تھے۔ لہذا تم لوگ اس دین میں الگ عقیدے گھڑ کر شامل نہ کرو، اور اس طرح الگ الگ فرقے نہ بنو۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

257 ۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی توحید پرستی پر حاشیے سورة بقر ع 15 (پ 1) میں اور اور مقامات پر گزر چکے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 155–163

آیت نمبر 155 تا 165 ترجمہ : اور یہ قرآن ایک بڑی خیر و برکت والی کتاب ہے جس کو ہم نے نازل کیا ہے، اے مکہ والو ! جو کچھ اس میں ہے اس پر عمل کرکے اس کی اتباع کرو، اور کفر سے بچو تاکہ تم پر رحم کیا جائے اس کو نازل کیا تاکہ تم یہ نہ کہو سکو کہ کتاب تو ہم سے پہلے وہ فرقوں یہود و نصاریٰ پر نازل کی گئی تھی اور ہم ان کو پڑھنے پڑھانے سے ناواقف تھے ہماری زبان میں ان کتابوں کے نہ ہونے کی وجہ سے ہمیں ان کی معرفت حاصل نہ تھی (اِنْ ) مخففہ ہے اس کا اسم محذوف ہے ای اِنّا، یا یوں نہ کہو کہ اگر ہم پر کوئی کتاب نازل کی گئی ہوتی تو ہم اپنی تیزی ذہانت کی وجہ سے زیادہ راہ راست پر ہوتے، سو اب تمہارے پاس رب کی جانب…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

قل اننی ہدنی ربی الی صراط مستقیم . آپ کہہ دیجئے کہ میرے رب نے مجھے ایک سیدھا راستہ بتادیا ہے یعنی فطری اور تخلیقی طور پر بھی معصوم بنایا ہے پھر وحی اور دلائل واضحہ کے ذریعہ سے بھی ہدایت فرما دی ہے۔ دینا قیما ملۃ ابراہیم حنیفا وما کان من المشرکین . کہ وہ ایک دن ہے مستحکم جو طریقہ ہے ابراہیم کا ابراہیم میں کوئی کجی نہ تھی اور نہ وہ مشرکوں میں سے تھے قیما : مخفف ہے مصدر ہے بمعنی صفت۔ اصل میں قیما : تھا۔ چونکہ مادہ واوی ہے اس لئے قیما : کی اصل بھی قوما : تھی جیسا قیام کی اصل قوام تھی۔ بغوی نے لکھا ہے کہ مستقیم اور قیم ہم معنی ہیں۔ ملۃ ابراہیم : عطف بیان ہے اور حنیفا ابراہیم : سے حال ہے۔ یعنی…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(161) اے محمد ﷺ آپ مکہ والوں اور یہودیوں اور نصرانیوں سے فرما دیجیے کہ میرے پروردگار نے مجھے اپنے دین کی وجہ سے عزت عطا فرمائی ہے اور مجھے دین حق کی دعوت دینے کا حکم دیا ہے یا یہ کہ مجھے دعوت حق کا طریقہ میرے پروردگار نے بتادیا ہے جو حضرت ابراہیم ؑ کا دین ہے، اس میں کجی نہیں اور وہ مشرکوں کے دین پر نہیں تھے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

قُلْ اِنَّنِيْ هَدٰىنِيْ رَبِّيْٓ اِلٰي صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍ۔۔ : پوری سورت میں توحید کو دلائل سے ثابت کرنے اور مشرکین کی تردید کے بعد آخر میں خلاصہ چند حقائق کی صورت میں بیان فرمایا۔ ”قِــيَمًا“ یہ ”قِیَامٌ“ کے معنی میں مصدر ہے جسے مبالغے کے لیے دین کی صفت قرار دیا ہے، جیسے ”زَیْدٌ عَدْلٌ“ ہے، یعنی زید بہت عادل ہے، گویا سراسر عدل ہے، یعنی یہ دین نہایت قائم، مضبوط اور سیدھا ہے۔ وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ : اس میں مشرکین مکہ اور یہود و نصاریٰ کی تردید ہے جو اس زعم میں مبتلا تھے کہ وہ دین ابراہیم پر قائم ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کو حکم دیا کہ آپ ان سے کہہ دیجیے کہ تمہارا دعویٰ غلط…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 161–163

اس میں چار مسائل ہیں : مسئلہ نمبر 1۔ قولہ تعالیٰ : قل اننی ھدنی ربی الی صراط مستقیم جب اللہ تعالیٰ نے یہ بیان فرمایا کہ کفار نے تفرقہ ڈالا ( تو ساتھ ہی) بیان فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اسے صحیح دین تک پہنچا دیا اور وہ دین ابراہیمی ہے۔ دینا یہ حال ہونے کی بنا پر منصوب ہے یہ قطرب سے منقول ہے۔ اور یہ قول بھی ہے کہ اس کی نصب ھدنی فعل کی وجہ سے ہے یہ اخفش کا قول ہے۔ اس کے علاوہ کسی اور نے کہا ہے : معنی پر محمول ہونے کی وجہ سے یہ منصوب ہے، کیونکہ اس کا معنی ہے ھدانی عرفنی دینا ( اس نے مجھے سیدھے راستے تک پہنچایا اور دین کی مجھے پہچان کرا دی) اور یہ بھی جائز ہے کہ یہ صراط سے بدل ہو یعنی ھدانی صراط…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

(1) امام عبد بن حمید نے عاصم (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے یوں پڑھا لفظ آیت دینا قیما قاف کے کسرہ اور یاء مخففہ کے نصب کے ساتھ۔ (2) امام احمد، ابو الشیخ اور ابن مردویہ نے ابن ابزی (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ جب صبح فرماتے تو (یہ دعا پڑھتے) لفظ آیت اصبحنا علی فطرۃ الاسلام وکلمۃ الاخلاص ودین نبینا محمد ﷺ و ملۃ ابراہیم علیہ اسلام حنیفا وما کان من المشرکین ہم نے صبح کی فطرت اسلام پر اور اخلاص کے کلمہ پر اور اپنے نبی محمد ﷺ کے دین پر اور ابراہیم کے دین پر جو سب باطل دینوں سے کٹ کر ایک اللہ کے دین کی طرف آنے والے تھے اور وہ مشرکین میں سے نہ تھے۔ اور جب شام ہوتی تو اسی طرح فرماتے۔

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

قُلْ [ آپ کہئے ] اِنَّنِيْ [ بیشک میں ہوں (کہ ) ] هَدٰىنِيْ [ مجھے ہدایت دی ] رَبِّيْٓ [ میرے رب نے ] اِلٰي صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍ [ ایک سیدھے راستے کی طرف ] ڬ دِيْنًا قِــيَمًا [ سیدھا سادہ دین ہوتے ہو ] مِّلَّةَ اِبْرٰهِيْمَ [ جو ابراہیم کا مذہب ہے ] حَنِيْفًا ۚ [ اس حال میں کہ وہ یکسو تھے ] وَمَا كَانَ [ اور وہ نہیں تھے ] مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ [ شرک کرنے والوں میں سے ] ترکیب : (آیت ۔ 161) صراط مستقیم کا حال ہونے کیوجہ سے دینا قیما حالت نصب میں آیا ہے اور دینا قیما کا بدل ہونے کی وجہ سے ملۃ ابراہیم حالت نصب میں ہے ، جبکہ ابراہیم کا حال حنیفا ہے۔ (آیت ۔ 164) ابغی کا مفعول غیر اللہ ہے اور ربا…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 160–161

ایک نیکی پر کم از کم دس نیکیوں کا ثواب ملتا ہے اس آیت میں نیکیوں کی جزا اور برائیوں کی سزا کا قانون بتایا ہے اللہ تعالیٰ ارحم الراحمین ہے اس نے اپنے بندوں پر یہ کرم فرمایا کہ ایک نیکی کرنے پر اس جیسی کم از کم دس نیکیاں کرنے کا ثواب دینے کا وعدہ فرمایا ہے اور اپنی کتاب میں اس کا اعلان عام فرما دیا اور جو شخص کوئی گناہ کرلے تو اس میں اضافہ نہیں ہے بلکہ ایک گناہ پر ایک ہی گناہ کی سزا ملے گی۔ پھر یہ کوئی ضروری نہیں ہے کہ گناہ پر سزا مل ہی جائے۔ توبہ استغفار سے بھی گناہ معاف ہوتے ہیں اور نیکیوں سے بھی معاف ہوتے رہتے ہیں۔ اور نیکی کا جو دس گنا ثواب بتایا ہے یہ کم سے کم ہے اس سے زیادہ بھی ثواب ملتا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 159–165

خاتمۂ سورت مشتمل بر ترہیب از تفریق دین قویم وترغیب بر اتباع صراط مستقیم قال اللہ تعالیٰ ان الذین فرقوا دینھم وکانوا شیعا۔۔۔ الی۔۔۔ وانہ لغفور رحیم (ربط) گذشتہ آیت میں دین حق سے اعراض اور روگردانی پر توبیخ اور تہدید تھی اب ان آیات میں صراط مستقیم اور ملۃ ابراہیم کے اتباع کی ترغیب اور دین حق میں تفریق اور اختلاف سے ترہیب ہے تاکہ معلوم ہوجائے کہ صراط مستقیم دین ابراہیم ہے اور اس سے اختلاف اور انحراف گمراہی ہے نیز ان آیات میں آں حضرت ﷺ کو تسلی اور تشفی دی جاتی ہے کہ جن لوگوں نے اپنے دین میں اختلاف کیا اور مختلف گروہ بن گئے کوئی عیسیٰ بن مریم کو خدا کہنے لگا اور کوئی بت پرستی میں لگ گیا اور کوئی…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

184:۔ سورت کے اختتام پر آنحضرت ﷺ کی زبان مبارک سے تین اعلان کرائے گئے۔ پہلا اعلان : قُلْ اِنَّنِیْ ھَدَانِیْ رَبِّیْالخ۔ ای بالدلائل العقلیۃ والنقلیۃ۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے صراط مستقیم کی طرف میری رہنمائی فرمائی ہے اور اس کی سچائی پر عقلی اور نقلی دلائل بھی قائم فرمائے ہیں۔ “ دِيْنًا قِیَمًا ” یہ موصوف صفت “ صِرَاطٍ ” کے محل سے بدل ہے کیونکہ اصل معنی یوں ہیں۔ “ ھَدَانِیْ رَبِّیْ صِرَاطًا مُّسْتَقِیْمًا ”(روح ج 8 ص 70) ۔ “ مَلَّةَ اِبْرَاھِیْمَ ” یہ بتقدیر اَعْنِیْ منصوب ہے (روح) ۔ “ وَ مَا کَانَ الْمُشْرِکِيْنَ ” وہ ہر قسم کے شرک سے بیزار تھا شرک فعلی سے بھی اور شرک اعتقادی سے بھی۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 161–163

ربط آیات پہلے شرک اور مشرکین کا رد ہوا ‘ پھر فرقہ بندی کی تردید ہوئی اور نیکی اور بدی کے حوالے سے جزا اور سزا کا ذکر ہوا۔ اب ملت ابراہیمیہ کا خلاصہ بیان کر کے اس کی پیروی کرنے کی ترغیب دی جا رہی ہے اس کے علاوہ باقی تمام طریقوں کو ترک کرنے کا حکم دیا جا رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ملت ابراہیمیہ کے طریقے کو صراط مستقیم کا لقب دیکر اس کے اتباع کا حکم دیا ہے۔ گویا ملت ابراہیمی ‘ اسلام اور دین حق ایک ہی چیز کے مختلف نام ہیں۔ دین اور شریعت اصل بات یہ ہے کہ تمام انبیاء (علیہم السلام) کا دین کے بنیادی اصولوں میں اتفاق ہے ‘ البتہ مختلف انبیاء کے ادوار میں ہر دور کے تقاضے کے مطابق شریعتیں مختلف رہی ہیں۔…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

قُلْ اِنَّنِيْ ہَدٰىنِيْ رَبِّيْٓ اِلٰي صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍ۝ 0ۥۚ دِيْنًا قِــيَمًا مِّلَّۃَ اِبْرٰہِيْمَ حَنِيْفًا۝ 0 ۚ وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ۝ 161 هدى الهداية دلالة بلطف، وهداية اللہ تعالیٰ للإنسان علی أربعة أوجه : الأوّل : الهداية التي عمّ بجنسها كلّ مكلّف من العقل، والفطنة، والمعارف الضّروريّة التي أعمّ منها كلّ شيء بقدر فيه حسب احتماله كما قال : رَبُّنَا الَّذِي أَعْطى كُلَّ شَيْءٍ خَلْقَهُ ثُمَّ هَدى [ طه/ 50] . الثاني : الهداية التي جعل للناس بدعائه إيّاهم علی ألسنة الأنبیاء، وإنزال القرآن ونحو ذلك، وهو المقصود بقوله تعالی: وَجَعَلْنا مِنْهُمْ أَئِمَّةً يَهْدُونَ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 161–163

4 ؎ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) بت پرستی سے یکسو ہوگئے تھے اور حنیف یکسو کو کہتے ہیں اس لئے ابراہیم (علیہ السلام) کو حنیف کہا جاتا ہے۔ 12 منہ

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 159–164

ارشاد ہوتا ہے : اِنَّ الَّذِیْنَ فَرَّقُوْا دِیْنَھُمْ وَ کَانُوْا شِیَعًا لَّسْتَ مِنْھُمْ فِیْ شَیْئٍ ط اِنَّمَا اَمْرُھُمْ اِلَی اللہِ ثُمَّ یُنَبِّئُھُمْ بِمَا کَانُوْا یَفْعَلُوْنَ ۔ مَنْ جَآئَ بِالْحَسَنَۃِ فَلَہٗ عَشْرُ اَمْثَالِھَا ج وَمَنْ جَآئَ بِالسَّیِّئَۃِ فَلَا یُجْزٰٓی اِلَّا مِثْلَھَا وَھُمْ لَا یُظلَمُوْنَ ۔ قُلْ اِنَّنِیْ ھَدٰنِیْ رَبِّیْٓ اِلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ 5 ج دِیْنًا قِیَمًا مِّلَّۃَ اِبْرٰھِیْمَ حَنِیْفًا ج وَمَا کَانَ مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ ۔ قُلْ اِنَّ صَلَاتِیْ وَ نُسُکِیْ وَ مَحْیَایَ وَ مَمَاتِیْ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ ۔ لَا شَرِیْکَ لَہٗ ج وَبِذٰلِکَ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 161–163

فہم القرآن ربط کلام : دین اسلام میں کوئی اختلاف نہیں اور نہ ہی یہ دین اس قسم کے اختلافات کو پسند کرتا ہے۔ لہٰذا پیغمبر آخر الزمان ﷺ کو حکم ہوا کہ آپ ملت ابراہیم کے متبع رہیں۔ سرور دو عالم ﷺ کا تفرقہ بازی کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔ آپ تو دین قیم اور سیدھی راہ کے راہی اور داعی تھے۔ لہٰذا آپ کی زبان اطہر سے اعلان کروایا گیا کہ اے محبوب برحق ! آپ وضاحت فرمائیں کہ میرا ادھر ادھر کے راستوں اور متضاد نظریات رکھنے والوں کے ساتھ کوئی تعلق نہیں میں اپنے رب کی بتلائی ہوئی راہ پر اس کی توفیق سے گامزن ہوں۔ یہی دین ہمیشہ سے قائم دائم ہے۔ اور اسی پر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا مل یکسوئی کے ساتھ قائم رہے۔ ان…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

میں ملّت ابراہیم ( علیہ السلام) پر ہوں ‘ آئو مان لو : آیت 161: قُلْ اِنَّنِیْ ہَدٰنِیْ رَبِّیْٓ ۔ قراءت : ابوعمرو اور مدنی نے رَبِّی پڑھا اِلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ دِیْنًا دیناً منصوب ہے الی صراط مستقیم کے محل کا بدل ہونے کی وجہ سے۔ کیونکہ اس کا معنی یہ ہے ہدانی صراطاً اس کی دلیل یہ ارشاد الٰہی ہے : وَیَہْدِیَکَ صِرَاطًا مُّسْتَقِیْمًا (الفتح : 2) قِیَمًا قَـیِّمہ فیعل کے وزن پر قام سے ہے یہ قائم سے زیادہ بلیغ ہے۔ قراءت : قیّمًا کوفی شامی نے پڑھا یہ مصدر ہے اور اس کا معنی قیام ہے۔ اس کو بطور صفت کے لایا گیا۔ مِلَّۃَ اِبْرٰہِیْمَ یہ عطف بیان ہے۔ حَنِیْفًا یہ ابراہیم سے حال ہے۔ وَمَا کَانَ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

161 (قل اننی ھدنی ربی الی صراط مستقیم دینا قیماً ) اہل کوفہ اور شام نے ” قیما “ قاف کی زیر اور باء کے زبر کے ساتھ بغیر شد کے پڑھا ہے اور دیگر حضرات نے قاف کی زبر اور یاء کی زیر کے ساتھ مشدد پڑھا ہے دونوں کا معنی ایک ہے اور وہ سیدھا درست اور اس کا منصوب ہونا اس بناء پر ہے کہ اصل عبارت ” ھدانی دینا قیماً “ ہے کہ مجھے دین قیم کی ہدایت دی۔ (ملۃ ابراہیم حنیفاً وما کان من المشرکین)

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 161–163

(161 ۔ 163) ۔ اوپر ذکر تھا کہ شیطان کے بہکانے سے عبادت الٰہی کے صحیح طریقہ میں لوگوں نے اپنی طرف سے غلط راہیں نکال لی ہیں اب ان غلط راہوں میں مکہ کے مشرک لوگوں کی یہ غلط راہ تھی کہ ان لوگوں نے ملت ابراہمی کو بگاڑ کر بت پرستی کو اپنا دین ٹھہرا لیا تھا بتوں کی پوجا کرتے تھے ان کے نام پر جانور ذبح کرتے تھے اور اسی کو ملت ابراہیمی جانتے تھے اس لئے اس آیت میں فرمایا اے رسول اللہ کے ان مشرکوں سے کہہ دو کہ تم لوگ تو بت پرست ہو اور ابراہیم خلیل اللہ نے اسی بت پرستی کی نفرت کے سبب سے اپنے وطن اپنے باپ اپنی قوم سب کو چھوڑا اور اس ہجرت کے بعد جب ابراہیم خلیل اللہ نے کعبہ بنایا اور اس کے سبب سے مکہ کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 159–164

آیت 159 (1) صحیح بخاری، کتاب الرفاق، باب، حدیث :65/6 اللہ تبارک و تعالیٰ ان لوگوں کو عید سناتا ہے جنہوں نے اپنے دین میں تفرقہ پیدا کیا اور دین کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے فرقوں میں بٹ گئے اور ہر ایک نے اپنا ایک نام رکھ لیا جو انسان کے لئے اس کے دین میں کوئی کام نہیں آتا جیسے یہودیت، نصرانیت اور مجوسیت وغیرہ یا اس سے انسان کے ایمان کی تکمیل نہیں ہوتی، جیسے وہ شریعت میں سے کسی ایک چیز کو اخذ کر کے اس کو دین بنا لے اور اس جیسییا اس سے کسی افضل چیز کو چھوڑ دے جیسا کہ اہل بدعت اور ان گمراہ فرقوں کا حال ہے جنہوں نے امت سے الگ راستہ اختیار کرلیا ہے۔ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ دین اجتماعیت اور اکٹھے رہنے کا…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

ملت ابراہیمی قول باری ہے ( قل اننی مدانی ربی الیٰ صراط مستقیم دینا قیما ملۃ ابراھیم حنیفا۔ اے محمد ﷺ ! کہو میرے رب نے بالیقین مجھے سیدھا راستہ دکھایا ہے بالکل ٹھیک دین جس میں کوئی ٹیڑھ نہیں، ابراہیم (علیہ السلام) کا طریقہ جسے یکسو ہو کر اس نے اختیار کیا تھا) قول باری ( دینا قیما) کے معنی ” دین مستقیم “ ( سیدھا راستہ کے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اسے حضر ابراہیم (علیہ السلام) کا طریقہ قرار دیا۔ حنیف اس شخص کو کہتے ہیں جو پورے اخلاص کے ساتھ اللہ کی عبادت کرتا ہو۔ یہ قول حسن سے مروی ہے۔ ایک قول کے مطابق اس کے اصل معنی میل یعنی ملان کے ہیں عربی میں ” رجل احنف “ اس شخص کو کہا جاتا ہے جس کے قدموں میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 159–161

338 آپس میں مختلف گروہ بننے سے مراد ؟ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جنہوں نے ٹکڑے ٹکڑے کردیا اپنے دین کو اور وہ مختلف گروہوں میں بٹ گئے۔ یعنی دین کے اصول و مبادی میں اختلاف کر کے۔ پس حضرات صحابہ اور ائمہ کرام کا اختلاف اس میں داخل نہیں کہ وہ اختلاف اصولی اور بنیادی نہیں بلکہ فروعی ہے۔ اور اس تفرقہ و اختلاف میں یہود و نصاریٰ اور اسلام کے نام لیوا و دعویدار وہ سب فرقے داخل و شامل ہیں۔ جو اہل حق سے بنیادی اختلافات رکھتے ہیں۔ جیسے خوارج و روافض وغیرہ اہل بدعت ۔ کما اختارہ الحافظ ابن کثیر فی تفسیرہ وغیرہ من کبار العلماء و المفسرین ۔ (ابن کثیر، قرطبی اور معارف وغیرہ) ۔ بہرکیف اس بارے پیغمبر کو ہدایت…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 159–165

فرقہ بندی کا نقصان، خالص توحید، انسان کی نیابت تشریح : یہ سورة الانعام کی آخری آیات ہیں اور ان میں بیشمار مسائل کا حل بتایا گیا ہے۔ مسلمانوں میں کئی فرقے بن چکے ہیں۔ فرقہ بندی کسی بھی قوم کو کمزور کرنے کا بہت بڑا سبب ہے اس لیے قومی ترقی، کامیابی اور مضبوطی کے لیے ضروری ہے کہ فرقہ پرستی اور گروہ بندی سے بچا جائے۔ رسول اللہ ﷺ کو مسلمانوں کی گروہ بندی سے فکر ہوتی تھی تو رب العلمین نے ان سے کہا کہ آپ اس بات کی ہرگز فکر نہ کریں کیونکہ آپ کا کام تھا تعلیم دینا وہ آپ نے دیدی اب اس پر عمل کرنا نہ کرنا یا اس کو بگاڑ دینا یہ سب ہر شخص کا ذاتی عمل ہے جو بھی غلط کام یا شریعت سے ہٹ کر کام کرے گا وہ عذاب…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 156–165

رکوع نمبر 20 ۔ آیات 156 تا 166 ۔ اسرار و معارف : اور اب یہ کتاب ہے یعنی قرآن حکیم جسے ہم نے بہت برکت کے ساتھ نازل فرمایا ہے یعنی کتب سابقہ کا دور ختم ہوا پہلی کتابوں کا انکار نہ کیا جائے گا کہ وہ بھی اللہ کی نازل کردہ تھیں مگر ان پر عمل کا زمانہ بیت چکا اب ساری برکات قرآن کا اتباع کرنے سے ہی نصیب ہوسکتی ہیں اور اللہ کی عظمت کا احساس کرو تاکہ اللہ تم پر رحم فرمائے اور تمہاری کوتاہیوں اور کمزوریوں کو معاف فرمائے کہیں یہ نہ کہنا کہ اللہ کی کتابیں تو صرف یہود و نصاری پہ ہی نازل ہوئی تھیں جنہیں ہم سمجھنے سے قاصر تھے ان کا پڑھنا پڑھانا ہمارے بس میں ہی نہ تھا زبان اور تھی یا اصل کتب نہ رہیں اور…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 161–163

ف 8 توحید کے اثبات اور مشرکین اہل جاہلیت کی تردید کے بعد اب سورت کے آخر میں چند حقائق کا اعلان فرمایا ہے (آیت وما کان من المشرکین۔ میں مشرکین کی تردید ہے جن میں مشرکین عرب کے علاوہ یہود و نصاری اور مجوس بھی شامل ہیں۔ وبذالک امرت یعنی اس کے ساتھ کسی دوسرے کی بندگی نہ کروں اور میرا ہر چھاٹا اور بڑاعمل صرف اسی کی رحا جوئی کے لیے ہو،9 حضرت عمران بن جعین ؓ سے روایت ہے کہ جب نبی ﷺ حضرت فاطمہ ؓ کی طرف سے قربانی کا جانور ذبح کرنے لگے تو آپ ﷺ نے ان سے فرمایا فاطمہ آؤ اور اپنے جانورکو ذبح ہوتے دیکھو اس لیے کہ اس کے خون کا پہلا قطرہ جب زمین پر گرے گا تمہارے سب گناہ معاف کردئیے جائیں گے اور فرمایا کہ ان…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(6:161) قیما۔ صیغہ صفت ہے یا قیام کا مخفف ہے۔ درست ، ثابت۔ صلاح وبقاء کا مدار احوال دنیا و آخرت کو درست کرنے والا۔ مستقیم۔ مستحکم ۔ حنیفا۔ تمام باطل راستوں سے ہٹ کر ایک راہ حق اختیار کرنے والا۔ دینا قیما اور ملۃ ابراہیم دونوں صراط مستقیم کی تعریف ہیں۔ حنیفا ابراہیم کی صفت ہے یا دینا قیما۔ (1) صراط کا بدل محلی ہے۔ (2) ھدنی کا دوسرا مفعول ہے (3) اس سے قبل عرفنی وغیرہ محذوف ہے۔ اور ملۃ ابراہیم۔ دین کا عطف بیان ہے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 161–164

لغات القرآن : آیت نمبر 161 تا 164 : دینا قیما ( مضبوط و مستحکم دین) نس کی (میری قربانی) محیای ( میری زندگی) مماتی ( میری موت) امرت ( مجھے حکم دیا گیا) وازرۃ ( بوجھ) ‘ وزراخری ( دوسرے کا بوجھ) ۔ تشریح : آیت نمبر 161 تا 164 : رد شرک پر بحث کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ چند ٹھوس حقیقتوں پر سورة الانعام کو موثر ترین پیرایہ میں ختم فرما رہے ہیں۔ آیت 158 میں کہا ہے (اے نبی ﷺ صاف صاف پکار دیجئے کہ تم لوگ بھی وقت (موت ) کا انتظار کرو۔ ہم بھی انتظار کررہے ہیں۔ یہاں شرک کے خلاف چند دلائل قائم کئے ہیں اور یہ حجت تمام ہے۔ یہ دلیلیں رسول ﷺ کی زبانی ہیں۔ دعویٰ ہیں ‘ حجت ہیں۔ پہلی دلیل : صراط مستقیم کی طرف رہنمائی…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 160–162

اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ جب کوئی مسلمان نیک عمل کرتا ہے تو دس گنے سے سات سو تک اس کا اجر لکھا جاتا ہے اور بدی ایک کرے تو ایک ہی لکھی جاتی ہے۔ اور نیکی کا کوئی شخص ارادہ کرے اور ارادہ کے موافق عمل نہ کرے تو بھی ایک نیکی محض ارادہ پر لکھی جاتی ہے اور بدی بغیر عمل کے نہیں لکھی جاتی۔ اور نیکی کا کوئی شخص ارادہ کرے تو بھی ایک نیکی لکھی جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کو انصاف بہت پسند ہے اس لئے نیک عمل کی جزا کے کم کرنے میں یا بد عمل کی سزا کے بڑھا دینے میں کسی ظلم و زیادتی کا دخل نہیں ہوگا۔ قیامت کے دن نہایت انصاف سے ہر ایک کو قائل معقول کیا جاوے گا اور قائل معقول کے بعد سزا کا حکم دیا جاوے گا۔ اسی طرح جزا…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 160–162

(ف 1) حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بدرجہ غایت کرم فرما اور رحیم ہے ، وہ چاہتا ہے کہ سب کو اپنی آغوش رحمت میں لے لے اور کوئی نفس انسانی جہنم کی آگ میں نہ جلے نیکیوں کا دس گنا بڑھ جانا تو ایک شکل ہے اس کے التفات سامی کی ورنہ دراصل اس کا ارادہ ہی یہ ہے کہ اس کے بندے رحمت و بخشش کے فیضان عظیم سے محروم نہ رہیں ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

161 آپ ان سے فرما دیجئے یقیناً مجھ کو تو میرے پروردگار نے سیدھی راہ اور راہ راست بتادی ہے کہ وہ ایک صحیح اور مستحکم دین ہے جو ملت اور طریقہ اور مسلک ہے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا وہ ابراہیم (علیہ السلام) جو سب طرف سے کٹ کر اللہ تعالیٰ ہی کے ہوگئے تھے اور وہ شرک کرنے والوں میں سے نہ تھے۔ یعنی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) حنیف تھے یا وہ ملت سیدھی سادھی تھی اور اس میں کسی قسم کی کجی اور ہیر پھیر نہیں تھا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 160–162

ف 5۔ کہ کوئی نیکی درج نہ ہو یا کوئی بدی زیادہ کرکے لکھ لی جائے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

ابراہیم (علیہ السلام) کا دین حنیف بھی شرک سے بیزاری ہی تھا اور یہی اسلام ہے : 255: اسلام کو قرآن کریم میں بار بار ملت ابراہیمی (علیہ السلام) کہا گیا ہے اگرچہ اسلام کو ملت نوح (علیہ السلام) ، ملت موسیٰ (علیہ السلام) اور ملت عیسیٰ (علیہ السلام) بھی کہا جاسکتا ہے پھر کیا یہ ہے کہ ملت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعوت ہی کی اتباع کرنے کا حکم دیا گیا ہے ؟ ملت ابراہیم (علیہ السلام) کی اتباع کی دعوت تین وجوہ سے دی گئی ہے ایک یہ کہ قرآن کریم کے اولین مخاطب اہل عرب تھے اور وہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے جس طرح مانوس تھے کسی اور سے نہ تھے۔ ان کی تاریخ ، روایات اور معتقدات میں جس شخص کا اثرو رسوخ رچا ہوا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Commentary These are the last five verses of Surah Al-An'am. It will be recalled from previous verses how people had altered the true religion through a process of excess and deficiency, making many more out of it, and had themselves split into factions and groups. In contrast, the first three of the present verses present an authentic profile of the true religion describing its fundamental principles, and some important subsidiaries and details. The first two verses carry the principle while the third mentions their subsidiaries - and in both, the address is to the Holy Prophet ﷺ where he…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

142. The 'Way of Abraham' is one further indication of the way of true religion which one is required to follow. This way could also have been designated as the way of Moses or of Jesus But since their names have become falsely associated with Judaism and Christianity respectively, it was necessary to call it the 'Way of Abraham'. Moreover, Abraham was acknowledged by both the Jews and the Christians as rightly-guided and both knew, of course, that he lived long before either Judaism or Christianity was born. In the same way, the polytheists of Arabia also considered Abraham to be…

Read the full tafseer →