6. Surah Al-An'aam

الأنعامThe Cattle · 165 ayahsتفسیرِ عثمانی

Ayah 6:1

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ جَعَلَ الظُّلُمٰتِ وَ النُّوْرَ١ؕ۬ ثُمَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِرَبِّهِمْ یَعْدِلُوْنَ Open ayah 6:1 in the Quran reader

سب تعریفیں اللہ کے لئے ہیں جس نے پیدا کئے آسمان اور زمین اور بنایا اندھیرا اور اجالا پھر بھی یہ کافر اپنے رب کے ساتھ اوروں کو برابر کئے دیتے ہیں7

7 " مجوس " دنیا کے لئے دو خالق مانتے ہیں " یزدان " جو خالق خیر ہے اور " اہرمن " جو خالق شر ہے۔ اور دونوں کو نور و ظلمت سے ملقب کرتے ہیں۔ ہندوستان کے مشرک تینتیس کروڑ دیوتاؤں کے قائل ہیں۔ آریہ سماج باوجود ادعائے توحید " مادہ " اور " روح " کو خدا کی طرح غیر مخلوق اور انادی کہتے اور خدا کو اپنی صفت تکوین و تخلیق وغیرہ میں ان دونوں کا محتاج بتلاتے ہیں۔ عیسائیوں کو باپ بیٹے کا توازن و تناسب قائم رکھنے کے لئے آخر تین ایک اور ایک تین کا مشہور عقیدہ اختیار کرنا پڑا ہے۔ یہودیوں نے خدا تعالیٰ کے لئے وہ صفات تجویز کیں کہ ایک معمولی انسان بھی نہ صرف اس کا ہمسر بلکہ اس سے برتر ہوسکتا ہے۔ عرب کے مشرکین نے تو خدائی کی تقسیم میں یہاں تک سخاوت دکھلائی کہ شاید ان کے نزدیک پہاڑ کا ہر پتھر نوع انسانی کا معبود بننے کی صلاحیت رکھتا تھا۔ غرض آگ ' پانی ' سورج ' ستارے ' درخت ' پتھر ' حیوان کوئی چیز لوگوں نے نہ چھوڑی جسے خدائی کا کچھ حصہ نہ دیا اور عبادت و استعانت وغیرہ کے وقت اسے خدا کی برابر نہ بٹھایا ہو۔ حالانکہ وہ ذات پاک جو تمام صفات و کمال کی جامع اور ہر قسم کی خوبیوں کا منبع ہونے کی وجہ سے سب تعریفوں اور ہر طرح کی حمد وثناء کی بلا شرکت غیر مستحق ہے۔ جس نے آسمان و زمین یعنی کل علویات و سفلیات کو پیدا کیا اور رات دن اندھیرا اجالا علم و جہل ہدایت و ضلالت موت وحیات غرض متقابل کیفیات اور متضاد احوال ظاہر فرمائے۔ اسے اپنے افعال میں نہ کسی حصہ دار یا مددگار کی ضرورت ہوسکتی ہے نہ بیوی اور اولاد کی نہ اس کی معبودیت اور الوہیت میں کوئی شریک ہوسکتا ہے اور نہ ربوبیت میں نہ اس کے ارادہ پر کوئی غالب آسکتا ہے اور نہ اس پر کسی کا دباؤ اور زور چل سکتا ہے پھر تعجب ہے ان حقائق کو سمجھنے کے بعد بھی کس طرح لوگ کسی چیز کو خدائی کا مرتبہ دے دیتے ہیں۔
Ayah 6:2

هُوَ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ مِّنْ طِیْنٍ ثُمَّ قَضٰۤى اَجَلًا١ؕ وَ اَجَلٌ مُّسَمًّى عِنْدَهٗ ثُمَّ اَنْتُمْ تَمْتَرُوْنَ Open ayah 6:2 in the Quran reader

وہی ہے جس نے پیدا کیا تم کو مٹی سے پھر مقرر کردیا ایک وقت ایک مدت مقرر ہے اللہ کے نزدیک پھر بھی تم شک کرتے ہو1

1 اوپر " عالم کبیر " کی پیدائش کا ذکر تھا یہاں " عالم صغیر " (انسان) کی خلقت کو بیان فرماتے ہیں کہ دیکھو شروع میں بےجان مٹی سے آدم (علیہ السلام) کا پتلا تیار کر کے کس طرح حیات اور کمالات انسانی فائض کئے اور آج بھی مٹی سے غذائیں نکلتی ہیں، غذاؤں سے نطفہ اور نطفہ سے انسان بنتے رہتے ہیں۔ غرض اس طرح تم کو عدم سے وجود میں لائے۔ پھر ہر شخص کی موت کا ایک وقت مقرر کردیا جبکہ آدمی دوبارہ اس مٹی میں جا ملتا ہے جس سے پیدا کیا گیا تھا۔ اسی پر قیاس کرسکتے ہو کہ " عالم کبیر " کی فنا کا بھی ایک وقت مقرر ہے جسے " قیامت کبریٰ " کہتے ہیں۔ " قیامت صغریٰ " یعنی شخصی موتیں چونکہ ہمیں پیش آتی رہتی ہیں ان کا علم بھی لوگوں کو ہوتا رہتا ہے لیکن " قیامت کبریٰ " کی ٹھیک مدت کا علم صرف اللہ ہی کے پاس ہے۔ تعجب ہے کہ " عالم صغیر " یعنی انسانوں میں زندگی اور فنا کا سلسلہ دیکھتے ہوئے بھی " عالم کبیر " کی فنا میں کوئی آدمی تردّد کرتا ہے۔
Ayah 6:3

وَ هُوَ اللّٰهُ فِی السَّمٰوٰتِ وَ فِی الْاَرْضِ١ؕ یَعْلَمُ سِرَّكُمْ وَ جَهْرَكُمْ وَ یَعْلَمُ مَا تَكْسِبُوْنَ Open ayah 6:3 in the Quran reader

اور وہی ہے اللہ آسمانوں میں اور زمین میں2 جانتا ہے تمہارا چھپا اور کھلا اور جانتا ہے جو کچھ تم کرتے ہو3

2 یعنی تمام آسمانوں اور زمینوں میں تنہا وہ ہی معبود، مالک، بادشاہ، متصرِّف اور مدبرِّ ہے اور یہ نام مبارک (اللہ) بھی صرف اسی کی ذات متعالی الصفات کیلئے مخصوص رہا ہے۔ پھر اوروں کیلئے استحقاق معبودیت کہاں سے آیا۔ 3 جب تمام زمین و آسمان میں اسی کی حکومت ہے اور وہ بلا واسطہ ہر کھلی چھپی چیز اور انسان کے ظاہر و باطن اور چھوٹے بڑے عمل پر مطلع ہے تو عابد کو اپنی عبادت و استعانت وغیرہ میں کسی غیر اللہ کو شریک ٹھہرانے کی ضرورت نہیں رہتی۔ مشرکین جو (مَا نَعْبُدُهُمْ اِلَّا لِيُقَرِّبُوْنَآ اِلَى اللّٰهِ زُلْفٰى) 39 ۔ الزمر :3) کہا کرتے تھے۔ یہ ان کا اور انکے ہم نواؤں کا جواب ہوا۔ اور پہلے وَاَجَلٌ مُّسَمًّی عِنْدَہ، سے جو قیامت کی طرف اشارہ کیا تھا۔ یہاں سلسلہ مجازات پر متنبہ فرما دیا کہ زمین و آسمان میں حکومت ہماری ہے اور تمہارے سب کھلے چھپے نیک و بد اعمال بھی ہمارے علم میں موجود ہیں۔ پھر کوئی وجہ نہیں کہ تم یونہی مہمل چھوڑ دیئے جاؤ۔
Ayah 6:4

وَ مَا تَاْتِیْهِمْ مِّنْ اٰیَةٍ مِّنْ اٰیٰتِ رَبِّهِمْ اِلَّا كَانُوْا عَنْهَا مُعْرِضِیْنَ Open ayah 6:4 in the Quran reader

اور نہیں آتی ان کے پاس کوئی نشانی ان کے رب کی نشانیوں میں سے مگر کرتے ہیں اس سے تغافل4

4 " آیات " میں احتمال ہے کہ تکوینی آیات مراد ہوں یا تنزیلی۔
Ayah 6:5

فَقَدْ كَذَّبُوْا بِالْحَقِّ لَمَّا جَآءَهُمْ١ؕ فَسَوْفَ یَاْتِیْهِمْ اَنْۢبٰٓؤُا مَا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ Open ayah 6:5 in the Quran reader

سو بیشک جھٹلایا انہوں نے حق کو جب ان تک پہنچا سو اب آئی جاتی ہے ان کے آگے حقیقت اس بات کی جس پر ہنستے تھے5

5 حق سے مراد غالباً قرآن کریم ہے جو نشانہائے قدرت سے تغافل برتنے والوں کی بد انجامی اور دنیاوی واخروی سزا کو بیان کرتا ہے اسے سن کر منکرین تکذیب و استہزاء کرتے تھے انھیں جتلا دیا کہ جس بات پر تم ہنستے اور آوازیں کستے ہو وہ حقیقت ثابتہ بنکر عنقریب تمہارے سامنے آجائے گی۔ آگے ان اقوام کا حوالہ دیا ہے جو آیات اللہ کی تکذیب و استہزاء اور بد اعمالیوں کی بدولت ہلاک کی گئیں۔
Ayah 6:6

اَلَمْ یَرَوْا كَمْ اَهْلَكْنَا مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنْ قَرْنٍ مَّكَّنّٰهُمْ فِی الْاَرْضِ مَا لَمْ نُمَكِّنْ لَّكُمْ وَ اَرْسَلْنَا السَّمَآءَ عَلَیْهِمْ مِّدْرَارًا١۪ وَّ جَعَلْنَا الْاَنْهٰرَ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهِمْ فَاَهْلَكْنٰهُمْ بِذُنُوْبِهِمْ وَ اَنْشَاْنَا مِنْۢ بَعْدِهِمْ قَرْنًا اٰخَرِیْنَ Open ayah 6:6 in the Quran reader

کیا دیکھتے نہیں کہ کتنی ہلاک کردیں ہم نے ان سے پہلے امتیں جن کو جما دیا تھا ہم نے ملک میں اتنا کہ جتنا تم کو نہیں جمایا اور چھوڑ دیا ہم نے ان پر آسمان کو لگاتار برستا ہوا اور بنادیں ہم نے نہریں بہتی ہوئی ان کے نیچے پھر ہلاک کیا ہم نے ان کو ان کے گناہوں پر اور پیدا کیا ہم نے ان کے بعد اور امتوں کو6

6 یعنی عاد وثمود وغیرہ جن کو تم سے بڑھ کر طاقت اور سازو سامان دیا گیا تھا۔ بارشوں اور نہروں کی وجہ سے ان کے باغ اور کھیت شاداب تھے، عیش و خوشحالی کا دور دورہ تھا۔ جب انھوں نے بغاوت اور تکذیب پر کمر باندھی اور نشانہائے قدرت کی ہنسی اڑانے لگے۔ تو ہم نے ان کے جرموں کی پاداش میں ایسا پکڑا کہ نام و نشان بھی باقی نہ چھوڑا۔ پھر انکے بعد دوسری امتیں پیدا کیں اور منکرین و مکَذِّبین کے ساتھ یہ ہی سلسلہ جاری رہا کیا۔ مجرمین تباہ ہوتے رہے اور دنیا کی آبادی میں کچھ خلل نہیں پڑا۔
Ayah 6:7

وَ لَوْ نَزَّلْنَا عَلَیْكَ كِتٰبًا فِیْ قِرْطَاسٍ فَلَمَسُوْهُ بِاَیْدِیْهِمْ لَقَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا سِحْرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 6:7 in the Quran reader

اور اگر اتاریں ہم تجھ پر لکھا ہوا کاغذ میں پھر چھو لیویں وہ اس کو اپنے ہاتھوں سے البتہ کہیں گے کافر یہ نہیں ہے مگر صریح جادو7

7 بعض مشرکین مکہ نے کہا تھا کہ اگر آپ آسمان سے ایک لکھی لکھائی کتاب لے آئیں اور اسکے ساتھ چار فرشتے بھی ہوں جو ہمارے سامنے ہو کر گواہی دیں کہ بیشک یہ کتاب خدا کی بھیجی ہوئی ہے تو ہم ایمان لے آئیں گے۔ اس کا جواب دیا کہ جو لوگ بحالت موجودہ قرآن کو جادو اور اسکے لانے والے کو جادوگر بتلاتے ہیں اگر واقعی ہم ان پر کاغذ میں لکھی ہوئی کتاب بھی آسمان سے اتار دیں جسے یہ ہاتھوں سے چھو کر معلوم کرلیں کہ کوئی تخیل یا نظر بندی نہیں ہے۔ تب بھی یہ ہی کہیں گے کہ یہ تو صریح جادو ہے جس بدبخت کے حصہ میں ہدایت نہیں ہوتی اس کا شبہ کبھی نہیں مٹتا
Ayah 6:8

وَ قَالُوْا لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْهِ مَلَكٌ١ؕ وَ لَوْ اَنْزَلْنَا مَلَكًا لَّقُضِیَ الْاَمْرُ ثُمَّ لَا یُنْظَرُوْنَ Open ayah 6:8 in the Quran reader

اور کہتے ہیں کیوں نہیں اترا اس پر کوئی فرشتہ8 اور اگر ہم اتاریں فرشتہ تو طے ہوجاوے قصہ پھر ان کو مہلت بھی نہ ملے1

8 یعنی جو ہمارے روبرو ہو کر ان کے صدق کی گواہی دیتا 1 اگر فرشتہ اپنی اصلی صورت میں آئے تو یہ لوگ ایک منٹ کیلئے بھی اس کا تحمل نہ کرسکیں اس کے رعب وہیبت سے دم نکل جائے۔ یہ صرف انبیاء (علیہم السلام) ہی کا ظرف ہوتا ہے جو اصلی صورت میں فرشتہ کی رویت کا تحمل کرسکتے ہیں نبی کریم ﷺ نے عمر بھر میں دو مرتبہ حضرت جبرائیل کو اپنی اصلی صورت میں دیکھا ہے۔ اور کسی نبی کی نسبت ایک مرتبہ بھی ثابت نہیں۔ دوسرے اگر ان لوگوں کی ایسی عظیم الشان خارق عادت فرمائش پوری کردی جائے اور اس پر بھی نہ مانے جیسا کہ ان کے معاندانہ احوال واطوار سے ظاہر ہے تو سنت اللہ کے موافق پھر قطعا مہلت نہ دی جائے گی اور ایسا عذاب آئے گا جو فرمائش کرنے والوں کو بالکل نیست ونابود کر دے گا۔ اس لحاظ سے اس طرح کی فرمائشوں کا پورا نہ کرنا بھی عین رحمت سمجھنا چاہئے۔
Ayah 6:9

وَ لَوْ جَعَلْنٰهُ مَلَكًا لَّجَعَلْنٰهُ رَجُلًا وَّ لَلَبَسْنَا عَلَیْهِمْ مَّا یَلْبِسُوْنَ Open ayah 6:9 in the Quran reader

اور اگر ہم رسول بنا کر بھیجتے کسی فرشتہ کو تو وہ بھی آدمی ہی کی صورت میں ہوتا اور ان کو اسی شبہ میں ڈالتے جس میں اب پڑ رہے ہیں2

2 چونکہ فرشتہ کو اصلی صورت میں بھیجنے کی نفی تو پہلی آیت میں ہوچکی ہے اب دوسرے احتمال کا جواب دیتے ہیں وہ یہ کہ فرشتہ آدمی کی صورت میں بھیجا جائے، کیونکہ اسی صورت میں مجانست صوری کی بناء پر لوگ اس کے نمونہ اور تعلیم سے منتفع ہوسکتے ہیں لیکن اس تقدیر پر منکرین کے شبہات کا ازالہ نہیں ہوسکتا۔ جو شکوک و شبہات رسول کے بشر ہونے پر کرتے تھے وہ ملک کے بصورت بشر آنے پر بھی بدستور کرتے رہیں گے۔
Ayah 6:10

وَ لَقَدِ اسْتُهْزِئَ بِرُسُلٍ مِّنْ قَبْلِكَ فَحَاقَ بِالَّذِیْنَ سَخِرُوْا مِنْهُمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ۠ Open ayah 6:10 in the Quran reader

اور بلاشبہ ہنسی کرتے رہے ہیں رسولوں سے تجھ سے پہلے پھر گھیر لیا ان سے ہنسی کرنے والوں کو اس چیز نے کہ جس پر ہنسا کرتے تھے3

3 معاندین کی فرمائشوں کا جواب دینے کے بعد حضور کی تسلی کی جاتی ہے کہ آپ ان کے استہزاء اور تمسخر سے دل گیر نہ ہوں۔ یہ کوئی نئی بات نہیں انبیاء سابقین کو بھی ان ہی حالات سے دوچار ہونا پڑا ہے۔ پھر جو ان کے مکذبین اور دشمنوں کا حشر ہوا سب کے سامنے ہے۔ ان کو بھی خدا اسی طرح سزا دے سکتا ہے جو اگلے مجرموں کو دی گئی۔
Ayah 6:11

قُلْ سِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ ثُمَّ انْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُكَذِّبِیْنَ Open ayah 6:11 in the Quran reader

تو کہہ دے کہ سیر کرو ملک میں پھر دیکھو کیا انجام ہوا جھٹلانے والوں کا4

4 یعنی ملک کی سیر و سیاحت اور تباہ شدہ اقوام کے آثار کا ملاحظہ کرنے کے بعد اگر نظر عبرت سے واقعات ماضیہ کو دیکھو گے تو انبیاء کی تکذیب کرنے والی قوموں کا جو انجام دنیا میں ہوا وہ صاف نظر آجائے گا۔ اسی سے قیاس کرلو کہ جب تکذیب کرنے والوں کا یہ حشر ہوا تو استہزاء کرنے والوں کا کیا حشر ہوگا۔
Ayah 6:12

قُلْ لِّمَنْ مَّا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ قُلْ لِّلّٰهِ١ؕ كَتَبَ عَلٰى نَفْسِهِ الرَّحْمَةَ١ؕ لَیَجْمَعَنَّكُمْ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ لَا رَیْبَ فِیْهِ١ؕ اَلَّذِیْنَ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ فَهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 6:12 in the Quran reader

پوچھ کہ کس کا ہے جو کچھ کہ ہے آسمانوں اور زمین میں کہہ دے اللہ کا ہے اس نے لکھی ہے اپنے ذمہ مہربانی البتہ تم کو اکھٹا کر دے گا قیامت کے دن تک کہ اس میں کچھ شک نہیں جو لوگ نقصان میں ڈال چکے اپنی جانوں کو وہی ایمان نہیں لاتے5

5 جب تمام آسمان و زمین میں اسی خدا کی حکومت ہے جیسا کہ مشرکین کو بھی اقرار تھا تو مکذبین و مستہزئین کو فوری سزا سے کہاں پناہ مل سکتی ہے ؟ یہ صرف اس کی رحمت عامہ ہے کہ جرائم کو دیکھ کر فوری سزا جاری نہیں کرتا اور قیامت کے دن بھی جو بلاشبہ آنے والا ہے محض ان ہی بدبختوں کو بےایمانی کی سزا دے گا جو باختیار خود جان بوجھ کر اپنے کو نقصان و ہلاکت کے گڑھے میں ڈال چکے ہیں۔
Ayahs 6:13–14

وَ لَهٗ مَا سَكَنَ فِی الَّیْلِ وَ النَّهَارِ١ؕ وَ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 6:13 in the Quran reader

اور اللہ ہی کا ہے جو کچھ کہ آرام پکڑتا ہے رات میں اور دن میں اور وہی ہے سب کچھ سننے والا جاننے والا

قُلْ اَغَیْرَ اللّٰهِ اَتَّخِذُ وَلِیًّا فَاطِرِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ هُوَ یُطْعِمُ وَ لَا یُطْعَمُ١ؕ قُلْ اِنِّیْۤ اُمِرْتُ اَنْ اَكُوْنَ اَوَّلَ مَنْ اَسْلَمَ وَ لَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُشْرِكِیْنَ Open ayah 6:14 in the Quran reader

تو کہہ دے کیا اور کسی کو بناؤں اپنا مددگار اللہ کے سوا جو بنانے والا ہے آسمانوں اور زمین کا6 اور وہ سب کو کھلاتا ہے اور اس کو کوئی نہیں کھلاتا7 کہہ دے مجھ کو حکم ہوا ہے کہ سب سے پہلے حکم مانوں8 اور تو ہرگز نہ ہو شرک والا

6 قُلْ لِّمَنْ مَّا فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ میں مکان کی تعمیم تھی وَلَہ، مَا سَکَنَ فِی الَّیْلِ وَالنَّھَار میں زمانہ کے اعتبار سے تعمیم ہے یعنی ہر جگہ اور ہر وقت اسی کی حکومت اور قبضہ و اقتدار ہے۔ ہر وہ چیز جو رات میں یا دن میں آرام سے زندگی بسر کرتی اور کتنے معلوم و نامعلوم دشمنوں سے مامون و محفوظ رہتی ہے۔ یہ اسی کی رحمت کاملہ کے آثار میں سے ہے (قُلْ مَنْ يَّـكْلَـؤُكُمْ بالَّيْلِ وَالنَّهَارِ مِنَ الرَّحْمٰنِ ) 41 ۔ الانبیآء :42) وہ ہی ہے جو دن کے شورو غل اور رات کے اندھیرے اور سناٹے میں ہر ایک کی پکار سنتا ہے اور سب کی حوائج و ضروریات کو بخوبی جانتا ہے۔ پھر تم ہی بتاؤ کہ ایسے پروردگار کو چھوڑ کر کسی اور سے مدد طلب کرنا کہاں تک موزوں ہوگا۔ 7 کھلانا اشارہ ہے سامان بقاء کی طرف یعنی ایجاد وبقاء دونوں میں اسی کے سب محتاج ہیں۔ اس کو کسی ادنیٰ سے ادنیٰ چیز میں بھی ہماری احتیاج نہیں پھر اس سے علیحدہ ہو کر کسی کو مددگار بنانا انتہائی حماقت نہیں تو اور کیا ہے۔ 8 ایسے پروردگار کے احکام کے سامنے جس کی صفات اوپر مذکور ہوئیں پہلے اس اکمل ترین بندہ کو انتہائی انقیاد و تسلیم کا حکم ہے جو تمام دنیا کیلئے نمونہ طاعت و عبودیت بناکر بھیجا گیا تھا۔ ﷺ
Ayah 6:15

قُلْ اِنِّیْۤ اَخَافُ اِنْ عَصَیْتُ رَبِّیْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ Open ayah 6:15 in the Quran reader

تو کہہ میں ڈرتا ہوں اگر نافرمانی کروں اپنے رب کی ایک بڑے دن کے عذاب سے1

1 یہ آپ پر رکھ کر اوروں کو سنایا گیا ہے یعنی بفرض محال اگر خدا کے معصوم و برگزیدہ ترین بندے سے بھی کسی طرح کا عصیان سرزد ہو تو عذاب الہٰی کا اندیشہ ہوتا ہے پھر کسی دوسرے کو کب لائق ہے کہ باوجود شرک و کفر اور تکذیب انبیاء وغیرہ ہزاروں طرح کے جرائم میں مبتلاء ہونے کے عذاب الہٰی سے بےفکر اور مامون ہو کر بیٹھ رہیں۔
Ayah 6:16

مَنْ یُّصْرَفْ عَنْهُ یَوْمَئِذٍ فَقَدْ رَحِمَهٗ١ؕ وَ ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْمُبِیْنُ Open ayah 6:16 in the Quran reader

جس پر سے ٹل گیا وہ عذاب اس دن تو اس پر رحم کردیا اللہ نے یہی ہے بڑی کامیابی2

2 جنت اور رضائے الہٰی کے اعلیٰ مدارج کا حاصل کرنا تو بہت اونچا مقام ہے۔ اگر آدمی سے قیامت کے دن کا عذاب ٹل جائے تو یہ ہی بہت بڑی کامیابی سمجھو۔ کما قال عمر ؓ کفافاً لالی ولاعلی۔
Ayahs 6:17–18

وَ اِنْ یَّمْسَسْكَ اللّٰهُ بِضُرٍّ فَلَا كَاشِفَ لَهٗۤ اِلَّا هُوَ١ؕ وَ اِنْ یَّمْسَسْكَ بِخَیْرٍ فَهُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 6:17 in the Quran reader

اور اگر پہنچا دے تجھ کو اللہ کچھ سختی تو کوئی اس کو دور کرنے والا نہیں سوا اس کے اور اگر تجھ کو پہنچا دے بھلائی تو وہ ہر چیز پر قادر ہے

وَ هُوَ الْقَاهِرُ فَوْقَ عِبَادِهٖ١ؕ وَ هُوَ الْحَكِیْمُ الْخَبِیْرُ Open ayah 6:18 in the Quran reader

اور اسی کا زور ہے اپنے بندوں پر اور وہی ہے بڑی حکمت والا سب کی خبر رکھنے والاف 3

3 دنیا یا آخرت میں جو تکلیف یا راحت خدا کسی کو پہنچانا چاہے نہ کوئی مقابلہ کر کے روک سکتا ہے اور نہ اس کے غلبہ و اقتدار کے نیچے سے نکل کر بھاگ سکتا ہے۔ وہ پوری طرح خبردار ہے کہ کس بندے کے کیا حالات ہیں اور ان حالات کے مناسب کس قسم کی کاروائی قرین حکمت ہوگی۔
Ayah 6:19

قُلْ اَیُّ شَیْءٍ اَكْبَرُ شَهَادَةً١ؕ قُلِ اللّٰهُ١ۙ۫ شَهِیْدٌۢ بَیْنِیْ وَ بَیْنَكُمْ١۫ وَ اُوْحِیَ اِلَیَّ هٰذَا الْقُرْاٰنُ لِاُنْذِرَكُمْ بِهٖ وَ مَنْۢ بَلَغَ١ؕ اَئِنَّكُمْ لَتَشْهَدُوْنَ اَنَّ مَعَ اللّٰهِ اٰلِهَةً اُخْرٰى١ؕ قُلْ لَّاۤ اَشْهَدُ١ۚ قُلْ اِنَّمَا هُوَ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ وَّ اِنَّنِیْ بَرِیْٓءٌ مِّمَّا تُشْرِكُوْنَۘ Open ayah 6:19 in the Quran reader

تو پوچھ سب سے بڑا گواہ کون ہے کہہ دے اللہ گواہ ہے میرے اور تمہارے درمیان4 اور اترا ہے مجھ پر یہ قرآن تاکہ تم کو اس سے خبردار کروں اور جس کو یہ پہنچے کیا تم گواہی دیتے ہو کہ اللہ کے ساتھ معبود اور بھی ہیں تو کہہ دے میں تو گواہی نہ دوں گا کہہ دے وہی ہے معبود ایک اور میں بیزار ہوں تمہارے شرک سے5

4 جب یہ فرمایا کہ خدا ہی سب نفع و ضرر کا مالک، تمام بندوں پر غالب و قاہر اور رتی رتی سے خبردار ہے تو اس کی شہادت سے زبردست اور بےلوث شہادت کس کی ہوسکتی ہے، پس میں بھی اپنے تمہارے درمیان اسی کو گواہ ٹھہراتا ہوں۔ کیونکہ میں نے دعویٰ رسالت کر کے جو کچھ اس کے پیغامات تم کو پہنچائے اور جو کچھ تم نے اس کے جواب میں میرے ساتھ اور خود پیغام ربانی کے ساتھ برتاؤ کیا وہ سب اس کی آنکھ کے سامنے ہے۔ وہ خود اپنے علم محیط کے موافق میرا اور تمہارا فیصلہ کر دے گا۔ 5 یعنی اگر سمجھو تو میرے صدق پر خدا کی یقینی اور کھلی ہوئی شہادت یہ قرآن موجود ہے جو اپنے کلام الہٰی ہونے پر خود ہی اپنی دلیل ہے۔ ع آفتاب آمد دلیل آفتاب میرا کام یہ ہے کہ تم کو اور ہر اس شخص کو جسے یہ کلام پہنچے خدائی پیغام سے خبردار کر دوں جس میں توحید و معاد وغیرہ تمام اصول دین کی ہدایت کی گئی ہے کیا اس قدر اتمام حجت ہو چکنے اور ایسا قطعی اور صریح پیغام توحید سننے کے بعد بھی تم یہ ہی کہتے رہو گے کہ خدا کے سوا اور بھی معبود ہیں۔ تم کو اختیار ہے جو چاہو کہو۔ میں تو کبھی ایسا حرف زبان پر نہیں لاسکتا بلکہ صاف صاف بیان کرتا ہوں کہ لائق عبادت صرف وہ ہی ایک خدا ہے۔ باقی جو کچھ تم شرک کرتے ہو میں اس سے قطعا بیزاری اور نفرت کا اظہار کرتا ہوں (تنبیہ) " ومن بلغ " نے بتلا دیا کہ نبی کریم ﷺ کی رسالت تمام جن و انس اور مشرق و مغرب کے لئے ہے۔
Ayah 6:20

اَلَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ یَعْرِفُوْنَهٗ كَمَا یَعْرِفُوْنَ اَبْنَآءَهُمْ١ۘ اَلَّذِیْنَ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ فَهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ۠ Open ayah 6:20 in the Quran reader

جن کو ہم نے دی کتاب وہ پہچانتے ہیں اس کو جیسے پہچانتے ہیں اپنے بیٹوں کو جو لوگ نقصان میں ڈال چکے اپنی جانوں کو وہی ایمان نہیں لاتے6

6 یعنی اس کے علاوہ کہ میری صداقت کا خدا گواہ ہے اور قرآن کریم اسکی ناطق اور ناقابل تردید شہادت دے رہا ہے۔ وہ اہل کتاب (یہود و نصاریٰ ) بھی جن کی طرف کتب سماویہ کا عالم سمجھ کر تم میرے معاملہ میں رجوع کرتے ہو، اپنے دلوں میں پورا یقین رکھتے ہیں کہ بلاشبہ میں ہی وہ " نبی آخرالزماں " ہوں جس کی بشارت انبیائے سابقین دیتے چلے آئے ہیں۔ ان کو جس طرح بہت سے بچوں میں سے اپنی اولاد کے شناخت کرنے میں کوئی دقت نہیں ہوتی، ایسے ہی نبی کریم ﷺ اور قرآن کریم کی صداقت کے معلوم کرنے میں بھی کوئی شبہ اور دھوکہ نہیں ہے۔ البتہ حسد، کبر، تقلید آباء، اور حب جاہ ومال وغیرہ اجازت نہیں دیتے کہ مشرف بایمان ہو کر اپنی جانوں کو نقصان دائمی اور ہلاکت ابدی سے بچائیں۔
Ayah 6:21

وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اَوْ كَذَّبَ بِاٰیٰتِهٖ١ؕ اِنَّهٗ لَا یُفْلِحُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 6:21 in the Quran reader

اور اس سے زیادہ ظالم کون جو بہتان باندھے اللہ پر یا جھٹلاوے اس کی آیتوں کو بلا شک بھلائی نصیب نہیں ہوتی ظالموں کو1

1 یعنی نبی نہ ہو اور خدا پر افتراء کر کے دعویٰ نبوت کر بیٹھے یا سچے نبی سے جس کی صداقت کے دلائل واضحہ موجود ہوں خدائی پیام سن کر تکذیب پر کمر بستہ ہوجائے۔ ان دونوں سے بڑھ کر ظالم کوئی نہیں ہوسکتا اور سنت اللہ یہ ہے کہ ظالم کو انجام کار کامیابی اور بھلائی نصیب نہیں ہوتی۔ پس اگر فرض کرو معاذاللہ میں مفتری ہوں تو ہرگز کامیاب نہ ہوں گا اور تم مکذب ہو جیسا کہ دلائل سے ظاہر ہے تو تمہاری خیریت نہیں۔ لہذا حالات میں غور کر کے اور انجام سوچ کر عاقبت کی فکر کرو۔ اور اس دن سے ڈرو جس کا ذکر آگے آتا ہے۔ ابن کثیر نے آیت کے یہی معنی لئے ہیں اور بعض مفسرین نے افتِرائً عَلی اللہ سے مشرکین کا شرک مراد لیا جیسا کہ آگے ( وَضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا يَفْتَرُوْنَ ) 28 ۔ القصص :75) میں اشارہ ہے۔ واللہ اعلم
Ayah 6:22

وَ یَوْمَ نَحْشُرُهُمْ جَمِیْعًا ثُمَّ نَقُوْلُ لِلَّذِیْنَ اَشْرَكُوْۤا اَیْنَ شُرَكَآؤُكُمُ الَّذِیْنَ كُنْتُمْ تَزْعُمُوْنَ Open ayah 6:22 in the Quran reader

اور جس دن ہم جمع کریں گے ان سب کو پھر کہیں گے ان لوگوں کو جنہوں نے شرک کیا تھا کہاں ہیں شریک تمہارے جن کا تم کو دعویٰ تھا2

2 جن کی نسبت تم کو دعویٰ تھا کہ وہ خدائی کے حصہ دار اور شدائد میں تمہارے شفیع و مددگار ہیں، آج ایسی سختی اور مصیبت کے وقت کہاں چلے گئے کہ تمہارے کچھ بھی کام نہیں آتے۔
Ayah 6:23

ثُمَّ لَمْ تَكُنْ فِتْنَتُهُمْ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوْا وَ اللّٰهِ رَبِّنَا مَا كُنَّا مُشْرِكِیْنَ Open ayah 6:23 in the Quran reader

پھر نہ رہے گا ان کے پاس کوئی فریب مگر یہی کہ کہیں گے قسم ہے اللہ کی جو ہمارا رب ہے ہم نہ تھے شرک کرنے والے3

3 یعنی بجز انکار واقعات کے کچھ کرتے دھرتے نہ بن پڑے گی۔ باطل معبودین کی جس عقیدت و محبت میں مفتون ہو رہے تھے، اس کی حقیقت صرف اتنی رہ جائے گی کہ ساری عمر کے عقیدے اور تعلق سے بھی انکار کر بیٹھیں گے۔
Ayah 6:24

اُنْظُرْ كَیْفَ كَذَبُوْا عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ وَ ضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ Open ayah 6:24 in the Quran reader

دیکھو تو کیسا جھوٹ بولے اپنے اوپر اور کھوئی گئیں ان سے وہ باتیں جو بنایا کرتے تھے4

4 یعنی اس صریح جھوٹ سے مشرکین کی انتہائی بد حواسی اور شرکاء کی غایت بےچارگی اور درماندگی کا اظہار ہوگا۔ کاش مشرکین اس رسوا کن انجام کو دنیا ہی میں سمجھ لیں۔
Ayah 6:25

وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّسْتَمِعُ اِلَیْكَ١ۚ وَ جَعَلْنَا عَلٰى قُلُوْبِهِمْ اَكِنَّةً اَنْ یَّفْقَهُوْهُ وَ فِیْۤ اٰذَانِهِمْ وَقْرًا١ؕ وَ اِنْ یَّرَوْا كُلَّ اٰیَةٍ لَّا یُؤْمِنُوْا بِهَا١ؕ حَتّٰۤى اِذَا جَآءُوْكَ یُجَادِلُوْنَكَ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ هٰذَاۤ اِلَّاۤ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 6:25 in the Quran reader

اور بعضے ان میں کان لگائے رہتے ہیں تیری طرف اور ہم نے ان کے دلوں پر ڈال رکھے ہیں پردے تاکہ اس کو نہ سمجھیں اور رکھ دیا ان کے کانوں میں بوجھ اور اگر دیکھ لیں تمام نشانیاں تو بھی ایمان نہ لاویں ان پر5 یہاں تک کہ جب آتے ہیں تیرے پاس تجھ سے جھگڑنے کو تو کہتے ہیں وہ کافر نہیں ہے یہ مگر کہانیاں پہلے لوگوں کی

5 یہ ان لوگوں کا ذکر ہے جو بغرض اعتراض و عیب جوئی قرآن کریم اور حضور ﷺ کی باتوں کی طرف کان لگاتے تھے ہدایت سے منتفع ہونا اور حق کو قبول کرنا مقصود نہ تھا۔ نصیحت و ہدایت سے ممتد اعراض اور کانشنس کی مسلسل تعطیل کا قدرتی نتیجہ یہ ہوا کہ قبول حق کے وسائل و قوی انجام کا رماؤف ہو کر رہ گئے، حق کے سمجھنے سے ان کے دل محروم کردیئے گئے۔ پیغام ہدایت کا سننا کانوں کو بھاری معلوم ہونے لگا، آنکھیں نظر عبرت سے ایسی خالی ہوگئیں کہ ہر قسم کے نشانات دیکھ کر بھی ایمان لانے کی توفیق نہیں ہوتی۔ اور لطف یہ ہے کہ اس حالت موت پر قانع و مسرور بھی ہیں بلکہ فخر کے لہجہ میں اسکا اعلان کرتے ہیں۔ سورة حم السَّجْدَۃ میں ہے (فَاَعْرَضَ اَكْثَرُهُمْ فَهُمْ لَا يَسْمَعُوْنَ ؀ وَقَالُوْا قُلُوْبُنَا فِيْٓ اَكِنَّةٍ مِّمَّا تَدْعُوْنَآ اِلَيْهِ وَفِيْٓ اٰذَانِنَا وَقْرٌ وَّمِنْۢ بَيْنِنَا وَبَيْنِكَ حِجَابٌ فَاعْمَلْ اِنَّنَا عٰمِلُوْنَ ۝) 41 ۔ فصلت :5-4) اس آیت سے معلوم ہوا کہ سماع آیات سے منتفع نہ ہونا اور دلوں پر پردہ پڑجانا خود ان کے اعراض کا نتیجہ تھا اور یہ اعراض ہی اس کیفیت کے حدوث کا سبب ہوا ہے۔ (وَاِذَا تُتْلٰى عَلَيْهِ اٰيٰتُنَا وَلّٰى مُسْتَكْبِرًا كَاَنْ لَّمْ يَسْمَعْهَا كَاَنَّ فِيْٓ اُذُنَيْهِ وَقْرًا) 31 ۔ لقمان :7) (اسباب پر مسببات کا مرتب کرنا چونکہ خالق جل و علا کے سوا کسی کا کام نہیں ہوسکتا اسی لئے آیت حاضرہ (وَّجَعَلْنَا عَلٰي قُلُوْبِهِمْ اَكِنَّةً اَنْ يَّفْقَهُوْهُ وَفِيْٓ اٰذَانِهِمْ وَقْرًا) 17 ۔ الاسراء :46) ( " میں پردے وغیرہ ڈالنے کی نسبت حق تعالیٰ کی طرف کردی گئی۔
Ayah 6:26

وَ هُمْ یَنْهَوْنَ عَنْهُ وَ یَنْئَوْنَ عَنْهُ١ۚ وَ اِنْ یُّهْلِكُوْنَ اِلَّاۤ اَنْفُسَهُمْ وَ مَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 6:26 in the Quran reader

اور یہ لوگ روکتے ہیں اس سے اور بھاگتے ہیں اس سے اور نہیں ہلاک کرتے مگر اپنے آپ کو اور نہیں سمجھتے6

6 یعنی ان میں نہ فہم رہا ہے نہ انصاف ایمان لانا اور ہدایت ربانی سے منتفع ہونا تو کجا، ان کی غرض تو حضور ﷺ کی خدمت میں آنے سے صرف مجادلہ (جھگڑنا) اور پھبتیاں اڑانا ہے۔ چناچہ قرآنی حقائق و بیانات کو معاذ اللہ اساطیر الاولین کہتے ہیں۔ پھر اس تکذیب اور جدل و تمسخر پر اکتفا نہیں، کوشش یہ ہے کہ دوسروں کی طرف بھی اپنی بیماری کا تعدیہ کریں، چناچہ لوگوں کو حق سے روکتے ہیں اور خود بھی اس سے دور بھاگتے ہیں تاکہ انہیں دیکھ کر دوسرے قبول حق سے نفور و بیزار ہوجائیں۔ مگر ان تمام ناپاک کوششوں سے نہ بحمد اللہ دین حق کو کوئی نقصان پہنچ سکتا ہے وہ تو غالب ہو کر رہے گا اور نہ رسول اللہ ﷺ کو، کہ ان کی عصمت و رفعت کا تکفل حق تعالیٰ فرما چکا ہے۔ ہاں یہ احمق خود اپنے لئے ہلاکت کا سامان فراہم کر رہے ہیں۔ اور سمجھتے بھی نہیں کہ ہم اپنے ہاتھ سے خود اپنے پاؤں پر کلہاڑی مار رہے ہیں۔
Ayah 6:27

وَ لَوْ تَرٰۤى اِذْ وُقِفُوْا عَلَى النَّارِ فَقَالُوْا یٰلَیْتَنَا نُرَدُّ وَ لَا نُكَذِّبَ بِاٰیٰتِ رَبِّنَا وَ نَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 6:27 in the Quran reader

اور اگر تو دیکھے جس وقت کہ کھڑے کئے جاویں گے وہ دوزخ پر پس کہیں گے اے کاش ہم پھر بھیج دیے جاویں اور ہم نہ جھٹلائیں اپنے رب کی آیتوں کو اور ہوجاویں ہم ایمان والوں میں7

7 یعنی آیات اللہ کی تکذیب و استہزا وغیرہ ساری فوں فاں اس وقت تک ہے جب تک خدائی سزا کا ہولناک و ہوشربا منظر سامنے نہیں۔ جس وقت دوزخ کی ذرا سی ہوا بھی لگ جائے گی تو ساری شیخی کر کری ہو کر رہ جائے گی اور بہزار تمنا یہ درخواست کریں گے کہ ہم کو دنیا میں دوبارہ بھیج دیا جائے تاکہ آئندہ کبھی اپنے رب کی آیتوں کو نہ جھٹلائیں اور پکے ایماندار بن کر رہیں۔ " الان قد ندمت وما ینفع الندم "
Ayah 6:28

بَلْ بَدَا لَهُمْ مَّا كَانُوْا یُخْفُوْنَ مِنْ قَبْلُ١ؕ وَ لَوْ رُدُّوْا لَعَادُوْا لِمَا نُهُوْا عَنْهُ وَ اِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ Open ayah 6:28 in the Quran reader

کوئی نہیں بلکہ ظاہر ہوگیا جو چھپاتے تھے پہلے1 اور اگر پھر بھیجے جاویں تو پھر بھی وہی کام کریں جس سے منع کئے گئے تھے اور وہ بیشک جھوٹے ہیں2

1 یعنی اب بھی دنیا میں واپس جانے کی تمنا عزم صحیح اور ایمانی رغبت و شوق سے نہیں بلکہ جب مجازات و مکافات عمل کا وہ منظر سامنے آگیا جسے باوجود وضوح ادلہ انکار کے پردہ میں چھپایا کرتے تھے، عذاب الہٰی کو آنکھوں سے دیکھ لیا، تمام اعمال شنیعہ کا جو چھپ چھپ کر کئے جاتے تھے راز فاش ہوگیا، ابھی ابھی جو ( وَاللّٰهِ رَبِّنَا مَا كُنَّا مُشْرِكِيْنَ ) 6 ۔ الانعام :23) کہہ چکے تھے اس جھوٹ کی بھی قلعی کھل گئی غرضیکہ بدی کے جو اثرات مخفی اور غیر مرئی طور پر اندر ہی اندر ان نالائقوں کے دلوں میں پرورش پا رہے تھے وہ دردناک عذاب کی صورت میں ممثل ہو کر سامنے آگئے، تو محض جان بچانے کیلئے دوبارہ دنیا میں جانے کی تمنا کرنے لگے 2 یعنی اب بھی جھوٹ کہتے ہیں کہ ہم دنیا میں واپس ہو کر پکے ایماندار بن جائیں گے اور ہرگز آیات اللہ کی تکذیب نہ کریں گے یہ اشقیاء اگر دنیا میں واپس کردیئے جائیں تو بدی اور شرارت کی جو قوتیں ان میں رکھی ہیں پھر انھی کو کام میں لائیں گے اور جس مصیبت سے گھبرا کر جانے کی تمنا کر رہے ہیں اسے خواب و خیال کی طرح فراموش کردیں گے جیسا کہ بسا اوقات دنیاوی مصائب و مہالک میں پھنس کر آدمی انابت و توبہ اختیار کرلیتا ہے پھر جہاں چند روز گزرے کچھ بھی یاد نہیں رکھتا کہ اس وقت کیا عہد و پیمان کئے تھے۔ (كَاَنْ لَّمْ يَدْعُنَآ اِلٰى ضُرٍّ مَّسَّهٗ ) 10 ۔ یونس :12)
Ayah 6:29

وَ قَالُوْۤا اِنْ هِیَ اِلَّا حَیَاتُنَا الدُّنْیَا وَ مَا نَحْنُ بِمَبْعُوْثِیْنَ Open ayah 6:29 in the Quran reader

اور کہتے ہیں ہمارے لئے زندگی نہیں مگر یہی دنیا کی اور ہم کو پھر نہیں زندہ ہونا3

3 یعنی خوب مزے اڑا لو۔ دنیاوی عیش کو خواہ مخواہ فکر آخرت سے منغص مت کرو۔ یہ ہی حال آج کل یورپ کے مادہ پرستوں کا ہے۔
Ayah 6:30

وَ لَوْ تَرٰۤى اِذْ وُقِفُوْا عَلٰى رَبِّهِمْ١ؕ قَالَ اَلَیْسَ هٰذَا بِالْحَقِّ١ؕ قَالُوْا بَلٰى وَ رَبِّنَا١ؕ قَالَ فَذُوْقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْفُرُوْنَ۠ Open ayah 6:30 in the Quran reader

اور کاش کے تو دیکھے جس وقت وہ کھڑے کئے جاویں گے اپنے رب کے سامنے فرمائے گا کیا یہ سچ نہیں کہیں گے کیوں نہیں قسم ہے اپنے رب کی فرمائے گا تو چکھو عذاب بدلے میں اپنے کفر کے4

4 یعنی جب حقیقت آنکھوں کے سامنے آجائے گی اور " بعث بعد الموت " وغیرہ کے اقرار سے چارہ نہ رہے گا، تب کہا جائے گا کہ انکار حقیقت اور " کفر با المعاد " کا مزہ چکھو۔
Ayah 6:31

قَدْ خَسِرَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِلِقَآءِ اللّٰهِ١ؕ حَتّٰۤى اِذَا جَآءَتْهُمُ السَّاعَةُ بَغْتَةً قَالُوْا یٰحَسْرَتَنَا عَلٰى مَا فَرَّطْنَا فِیْهَا١ۙ وَ هُمْ یَحْمِلُوْنَ اَوْزَارَهُمْ عَلٰى ظُهُوْرِهِمْ١ؕ اَلَا سَآءَ مَا یَزِرُوْنَ Open ayah 6:31 in the Quran reader

تباہ ہوئے وہ لوگ جنہوں نے جھوٹ جانا ملنا اللہ کا یہاں تک کہ جب آپہنچے گی ان پر قیامت اچانک تو کہیں گے اے افسوس کیسی کوتاہی ہم نے اس میں کی اور وہ اٹھاویں گے اپنے بوجھ اپنی پیٹھوں پر خبردار ہوجاؤ کہ برا بوجھ ہے جو وہ اٹھاویں گے5

5 انسان کی بڑی شقاوت اور بدبختی یہ ہے کہ " لقاء اللہ " سے انکار کرے اور زندگی کے اس بلند ترین مقصد کو جھوٹ سمجھے۔ یہاں تک کہ جب موت یا قیامت سر پر آ کھڑی ہو تب بےفائدہ کف افسوس ملتا رہ جائے کہ ہائے میں نے اپنی دنیاوی زندگی میں یا یوم قیامت کیلئے تیاری کرنے میں کیسی ناقابل تلافی کوتاہی کی اس وقت اس افسوس و حسرت سے کچھ نہ ہوگا۔ جرموں اور شرارتوں کے بار گراں کو جس سے اس کی پشت خمیدہ ہوگی، یہ ناوقت کا تأسف و تحسر ذرا بھی ہلکا نہ کرسکے گا۔
Ayah 6:32

وَ مَا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَاۤ اِلَّا لَعِبٌ وَّ لَهْوٌ١ؕ وَ لَلدَّارُ الْاٰخِرَةُ خَیْرٌ لِّلَّذِیْنَ یَتَّقُوْنَ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ Open ayah 6:32 in the Quran reader

اور نہیں ہے زندگانی دنیا کی مگر کھیل اور جی بہلانا اور آخرت کا گھر بہتر ہے پرہیزگاروں کے لئے کیا تم نہیں سمجھتے6

6 کفار تو یہ کہتے تھے کہ دنیاوی زندگی کے سوا کوئی زندگی ہی نہیں، لیکن واقعہ یہ ہے کہ یہ فانی اور مکدر زندگانی حیات اخروی کے مقابلہ میں محض ہیچ اور بےحقیقت ہے۔ یہاں کی زندگی کے صرف انہی لمحات کو زندگی کہا جاسکتا ہے جو آخرت کی درستی میں خرچ کئے جائیں۔ بقیہ تمام اوقات جو آخرت کی فکر و تیاری سے خالی ہوں ایک عاقبت اندیش کے نزدیک لہو و لعب سے زائد وقعت نہیں رکھتے۔ پرہیزگار اور سمجھدار لوگ جانتے ہیں کہ انکا اصلی گھر آخرت کا گھر اور ان کی حقیقی زندگی آخرت کی زندگی ہے۔
Ayahs 6:33–34

قَدْ نَعْلَمُ اِنَّهٗ لَیَحْزُنُكَ الَّذِیْ یَقُوْلُوْنَ فَاِنَّهُمْ لَا یُكَذِّبُوْنَكَ وَ لٰكِنَّ الظّٰلِمِیْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ یَجْحَدُوْنَ Open ayah 6:33 in the Quran reader

ہم کو معلوم ہے کہ تجھ کو غم میں ڈالتی ہیں ان کی باتیں سو وہ تجھ کو نہیں جھٹلاتے لیکن یہ ظالم تو اللہ کی آیتوں کا انکار کرتے ہیں

وَ لَقَدْ كُذِّبَتْ رُسُلٌ مِّنْ قَبْلِكَ فَصَبَرُوْا عَلٰى مَا كُذِّبُوْا وَ اُوْذُوْا حَتّٰۤى اَتٰىهُمْ نَصْرُنَا١ۚ وَ لَا مُبَدِّلَ لِكَلِمٰتِ اللّٰهِ١ۚ وَ لَقَدْ جَآءَكَ مِنْ نَّبَاِی الْمُرْسَلِیْنَ Open ayah 6:34 in the Quran reader

اور جھٹلائے گئے ہیں بہت سے رسول تجھ سے پہلے پس صبر کرتے رہے جھٹلانے پر اور ایذا پر یہاں تک کہ پہنچی ان کو مدد ہماری اور کوئی نہیں بدل سکتا اللہ کی باتیں اور تجھ کو پہنچ چکے ہیں کچھ حالات رسولوں کے1

1 خلائق کے حال پر شفقت و ہمدردی سارے جہان سے زیادہ نبی کریم ﷺ کے دل میں ڈالی گئی تھی۔ آپ ﷺ ان بدبختوں کی تکذیب و اعراض، مستقبل کی تباہی اور مشرکانہ وملحدانہ کلمات سے سخت رنج اور صدمہ محسوس فرماتے تھے۔ ان آیات میں آپ ﷺ کو تسلی اور ان اشقیاء کو دھمکی دی گئی ہے کہ آپ ان کے اعراض و تکذیب سے اس قدر دلگیر اور بےچین نہ ہوں، یہ لوگ جو تکذیب کر رہے ہیں فی الحقیقت آپ ﷺ کو نہیں جھٹلاتے کیونکہ آپ کو تو پہلے سے بالاتفاق صادق وامین سمجھتے تھے، بلکہ خدا کی آیات و نشانات کا جو پیغمبر ﷺ کی تصدیق و تبلیغ کیلئے بھیجی گئی ہیں، جان بوجھ کر ازراہ ظلم وعناد انکار کر رہے ہیں تو آپ بھی ان ظالموں کا معاملہ خدا کے سپرد کر کے مطمئن ہوجائیے۔ وہ خود ان کے ظلم اور آپ کے صبر کا پھل دینے والا ہے۔ انبیاء سابقین کے ساتھ بھی جن کے کچھ حالات آپ کو سنائے جا چکے ہیں ان کی قوموں نے تکذیب و ایذاء رسانی کا برتاؤ کیا جس پر خدا کے معصوم پیغمبر نہایت اولوالعزمی سے صبر کرتے رہے حتی کہ حسب وعدہ خدا کی مدد پہنچی اور بڑے زبردست متکبرین کے مقابلہ میں ان کو مظفر و منصور کیا گیا۔ آپ سے جو نصر و ظفر کے وعدے کیے گئے ہیں ایک ایک کر کے پورے ہوں گے۔ پہاڑ اپنی جگہ سے ٹل جائیں مگر خدا کا وعدہ نہیں ٹل سکتا۔ کس کی طاقت جو خدا کی باتوں کو بدل ڈالے یعنی جو اس نے کہا ہے اسے واقع نہ ہونے دے۔ مکذبین کو یاد رکھنا چاہیے کہ ان کی جنگ حقیقۃ محمد ﷺ کی ذات سے نہیں بلکہ رب محمد ﷺ سے ہے جس نے ان کو اپنا سفیر اعظم اور معتمد بنا کر کھلے نشانات کے ساتھ بھیجا ہے محمد ﷺ کی تکذیب ان خدائی نشانات کی تکذیب ہے۔
Ayah 6:35

وَ اِنْ كَانَ كَبُرَ عَلَیْكَ اِعْرَاضُهُمْ فَاِنِ اسْتَطَعْتَ اَنْ تَبْتَغِیَ نَفَقًا فِی الْاَرْضِ اَوْ سُلَّمًا فِی السَّمَآءِ فَتَاْتِیَهُمْ بِاٰیَةٍ١ؕ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَجَمَعَهُمْ عَلَى الْهُدٰى فَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْجٰهِلِیْنَ Open ayah 6:35 in the Quran reader

اور اگر تجھ پر گراں ہے ان کا منہ پھیرنا تو اگر تجھ سے ہو سکے کہ ڈھونڈھ نکالے کوئی سرنگ زمین میں یا کوئی سیٹرھی آسمان میں پھر لاوے ان کے پاس ایک معجزہ اور اگر اللہ چاہتا تو جمع کردیتا سب کو سیدھی راہ پر سو تو مت ہو نادانوں میں2

2 کفار کا مطالبہ یہ تھا کہ یہ نبی ہیں تو انکے ساتھ ہمیشہ ایسا نشان رہنا چاہیے جسے ہر کوئی دیکھ کر یقین کرلے اور ایمان لانے پر مجبور ہوجایا کرے آنحضرت ﷺ چونکہ تمام دنیا کی ہدایت پر حریص تھے شاید آپ کے دل نے چاہا ہوگا کہ ان کا یہ مطالبہ پورا کردیا جائے۔ اس لئے حق تعالیٰ نے یہ تربیت فرمائی کہ تکوینیات میں مشیت الہٰی کے تابع رہو۔ تکوینی مصالح اس کو مقتضی نہیں کہ ساری دنیا کو ایمان لانے پر مجبور کردیا جائے ورنہ خدا تو اس پر بھی قادر تھا کہ بدون توسط پیغمبروں اور نشانوں کے شروع ہی سے سب کو سیدھی راہ پر جمع کردیتا۔ جب خدا کی حکمت ایسے مجبور کن معجزات اور فرمائشی نشانات دکھلانے کو مقتضی نہیں تو مشیت الہٰی کے خلاف کسی کو یہ طاقت کہاں ہے کہ وہ زمین یا آسمان میں سے سرنگ یا سیڑھی لگا کر ایسا فرمائشی اور مجبور کن معجزہ نکال کر دکھلا دے۔ خدا کے قوانین حکمت و تدبیر کے خلاف کسی چیز کے وقوع کی امید رکھنا نادانوں کا کام ہے۔
Ayah 6:36

اِنَّمَا یَسْتَجِیْبُ الَّذِیْنَ یَسْمَعُوْنَ١ؔؕ وَ الْمَوْتٰى یَبْعَثُهُمُ اللّٰهُ ثُمَّ اِلَیْهِ یُرْجَعُوْنَؐ Open ayah 6:36 in the Quran reader

مانتے وہی ہیں جو سنتے ہیں اور مردوں کو زندہ کرے گا اللہ پھر اس کی طرف لائے جاویں گے3

3 یعنی سب سے توقع نہ رکھو کہ مانیں گے، جن کے دل کے کان بہرے ہوگئے وہ سنتے ہی نہیں، پھر مانیں کس طرح ؟ ہاں یہ کافر جو قلبی و روحانی حیثیت سے مردوں کی طرح ہیں قیامت میں دیکھ کر یقین کریں گے اور ان چیزوں کو مانیں گے جن کا انکار کرتے تھے۔
Ayah 6:37

وَ قَالُوْا لَوْ لَا نُزِّلَ عَلَیْهِ اٰیَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ١ؕ قُلْ اِنَّ اللّٰهَ قَادِرٌ عَلٰۤى اَنْ یُّنَزِّلَ اٰیَةً وَّ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 6:37 in the Quran reader

اور کہتے ہیں کیوں نہیں اتری اس پر کوئی نشانی اس کے رب کی طرف سے4 کہہ دے کہ اللہ کو قدرت ہے اس بات پر کہ اتارے نشانی لیکن ان میں اکثر نہیں جانتے5

4 یعنی ان نشانیوں میں سے کوئی نشانی کیوں نہ اتری جن کی وہ فرمائش کرتے تھے کما فی قولہ تعالیٰ (وَقَالُوْا لَنْ نُّؤْمِنَ لَكَ حَتّٰى تَفْجُرَ لَنَا مِنَ الْاَرْضِ يَنْۢبُوْعًا 90 ۝ ۙ اَوْ تَكُوْنَ لَكَ جَنَّةٌ مِّنْ نَّخِيْلٍ وَّعِنَبٍ فَتُفَجِّرَ الْاَنْهٰرَ خِلٰلَهَا تَفْجِيْرًا 91 ۝ ۙ اَوْ تُسْقِطَ السَّمَاۗءَ كَمَا زَعَمْتَ عَلَيْنَا كِسَفًا اَوْ تَاْتِيَ باللّٰهِ وَالْمَلٰۗىِٕكَةِ قَبِيْلًا 92 ۝ ۙ اَوْ يَكُوْنَ لَكَ بَيْتٌ مِّنْ زُخْرُفٍ اَوْ تَرْقٰى فِي السَّمَاۗءِ ۭ وَلَنْ نُّؤْمِنَ لِرُقِيِّكَ حَتّٰى تُنَزِّلَ عَلَيْنَا كِتٰبًا نَّقْرَؤُهٗ ۭ قُلْ سُبْحَانَ رَبِّيْ هَلْ كُنْتُ اِلَّا بَشَرًا رَّسُوْلًا 93؀ ) 90-91-92-93) ورنہ آپ پر بیشمار علمی و عملی معجزات و نشانات بارش کی طرح اترتے رہتے تھے۔ 5 یعنی خدا فرمائشی معجزات دکھلانے سے عاجز نہیں۔ لیکن جن قوانین حکمت و رحمت پر نظام تکوین کی بنیاد ہے تم میں کے اکثر ان کے سمجھنے سے قاصر ہیں ان قوانین کا اقتضا یہ ہی ہے کہ تمام فرمائشی معجزات نہ دکھلائے جائیں۔
Ayah 6:38

وَ مَا مِنْ دَآبَّةٍ فِی الْاَرْضِ وَ لَا طٰٓئِرٍ یَّطِیْرُ بِجَنَاحَیْهِ اِلَّاۤ اُمَمٌ اَمْثَالُكُمْ١ؕ مَا فَرَّطْنَا فِی الْكِتٰبِ مِنْ شَیْءٍ ثُمَّ اِلٰى رَبِّهِمْ یُحْشَرُوْنَ Open ayah 6:38 in the Quran reader

اور نہیں ہے کوئی چلنے والا زمین میں اور نہ کوئی پرندہ کہ اڑتا ہے اپنے بازوؤں سے مگر ہر ایک امت ہے تمہاری طرح ہم نے نہیں چھوڑی لکھنے میں کوئی چیز پھر سب اپنے رب کے سامنے جمع ہوں گے6

6 ان آیات میں بعض حکمتوں پر متنبہ کیا گیا ہے جو فرمائشی نشانات نہ دکھلائے جانے میں مرعی ہیں۔ یعنی تمام حیوانات خواہ زمین پر رینگتے ہوں یا ہوا میں اڑتے ہوں، وہ بھی انسانوں کی طرح ایک امت ہیں۔ ان میں سے ہر نوع کو حق تعالیٰ نے ایک خاص وضع اور فطرت پر پیدا کیا جو ان کے معین خواص و افعال کے دائرہ میں کام کرتی ہے۔ کوئی جانور اپنے افعال و حرکات کے محدود حلقہ سے جو قدرت نے باعتبار اسکی فطرت و استعداد کے مشخص کر دئیے ہیں، ایک قدم باہر نہیں نکال سکتا۔ چناچہ ابتدائے آفرنیش سے آج تک کسی حیوان نے اپنی نوع کے محدود دائرہ عمل میں کسی طرح کی ترقی نہیں کی۔ اسی طرح ہر چیز کی استعداد و فطرت کو خیال کرلیجئے۔ حق تعالیٰ کے علم قدیم اور لوح محفوظ میں تمام انواع و اجناس کی تدبیر و تربیت کے اصول و فروغ منضبط ہیں۔ کوئی چیز نہ اس زندگی میں اور نہ مرنے کے بعد اس مکمل انضباط و انتظام سے باہر جاسکتی ہے۔ انسان جنس حیوان میں " با اختیار اور ترقی کن " حیوان ہے اسی کسب و اختیار اور ترقی کن عقل وتمیز کی موجودگی نے اسکے " نظام تکوینی اور قانون حیات " کو دوسرے تمام حیوانات سے ایسا اعلیٰ اور ممتاز بنادیا ہے کہ اب اسے حیوان کہتے بھی شرم آتی ہے۔ وہ برخلاف باقی حیوانات کے دیکھنے، سننے اور پوچھنے سے نئی نئی معلومات حاصل کرتا اور قوۃ فکریہ سے ان کو ترتیب دیکر " حیات جدید " کی طرف ترقی کرتا رہتا ہے وہ نیک و بد میں تمیز کرنے ' نافع و ضار کے پہچاننے، آغاز و انجام سمجھنے پر قادر، اور کسی عمل کے کرنے یا چھوڑنے میں فی الجملہ آزاد ہے، اسی لئے اس کو خدا کی جانب سے ایسے نشانات دکھلائے جاتے ہیں جن میں غور و فکر کرنے کا موقع مل سکے اور فکر و کسب کی فطری آزادی کو سلب کرنے والے نہ ہوں۔ اور اگر وہ خدا کے دئیے ہوئے قوائے عقلیہ سے ٹھیک طور پر ان میں غور کرے تو اسے حق و باطل اور نیک و بد کی تمیز کرنے میں کچھ دقت نہ ہو۔ پس ایسے فرمائشی نشانات و معجزات کی درخواست کرنا جو بہمہ وجوہ ایمان لانے پر مجبور کردیں، انسان کی فطری آزادی اور اسکے نظام ترکیبی کو تباہ کرنے، بلکہ انسان کو عام حیوانات کی صف میں اتار لانے کا مرادف ہے۔ اور اگر فرمائشی نشان بہمہ وجوہ مجبور کن نہ ہوں تو انکا دکھلانا بیکار ہے کیونکہ ان میں بھی وہی غیر ناشی عن الدلیل شکوک و شبہات پیدا کر لئے جائیں گے جو ہزاروں غیر فرمائشی نشانات میں کئے جا چکے۔
Ayah 6:39

وَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا صُمٌّ وَّ بُكْمٌ فِی الظُّلُمٰتِ١ؕ مَنْ یَّشَاِ اللّٰهُ یُضْلِلْهُ١ؕ وَ مَنْ یَّشَاْ یَجْعَلْهُ عَلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 6:39 in the Quran reader

اور جو جھٹلاتے ہیں ہماری آیتوں کو وہ بہرے اور گونگے ہیں اندھیروں میں7 جس کو چاہے اللہ گمراہ کرے1 اور جس کو چاہے ڈال دے سیدھی راہ پر

7 نہ کہنے والے کی سنتے ہیں نہ خود دوسرے سے پوچھتے ہیں اور نہ اندھیرے میں کچھ دیکھ سکتے ہیں۔ جب سب قویٰ اپنی بےاعتدالیوں سے بیکار کر لئے تو حق کی تصدیق و قبول کا کیا ذریعہ ہو ؟ 1 گمراہ کرنا اسی کو چاہتا ہے جو خود ذرائع ہدایت کو اپنے اوپر مسدود کرلیتے ہیں (وَلَوْ شِئْنَا لَرَفَعْنٰهُ بِهَا وَلٰكِنَّهٗٓ اَخْلَدَ اِلَى الْاَرْضِ وَاتَّبَعَ هَوٰىهُ ) 7 ۔ الاعراف :176)