نیکی کا دس گنا ثواب اور غلطی کی سزا برابر برابر
ایک اور آیت میں مجملاً یہ آیا ہے کہ (فلہ خیر منھا) جو نیکی لائے اس کیلئے اس سے بہتر بدلہ ہے۔ اسی آیت کے مطابق بہت سی حدیثیں بھی وارد ہوتی ہیں ایک میں ہے تمہارا رب عزوجل بہت بڑا رحیم ہے نیکی کے صرف قصد پر نیکی کے کرنے کا ثواب عطا فرما دیتا ہے اور ایک نیکی کے کرنے پر دس سے ساٹھ تک بڑھا دیتا ہے اور بھی بہت زیادہ اور بہت زیادہ اور اگر برائی کا قصد ہوا پھر نہ کرسکا تو بھی نیکی ملتی ہے اور اگر اس برائی کو کر گذرا تو ایک برائی ہی لکھی جاتی ہے اور بہت ممکن ہے کہ اللہ معاف ہی فرما دے اور بالکل ہی مٹا دے سچ تو یہ ہے کہ ہلاکت والے ہی اللہ کے ہاں ہلاک ہوتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 159–160
سورة الْاَنْعَام 141
خطاب نبی ﷺ سے ہے، اور آپ کے واسطہ سے دین حق کے تمام پیرو اس کے مخاطب ہیں۔ ارشاد کا مدعا یہ ہے کہ اصل دین ہمیشہ سے یہی رہا ہے اور اب بھی یہی ہے کہ ایک خدا کو الٰہ اور رب مانا جائے۔ اللہ کی ذات، صفات، اختیارات اور حقوق میں کسی کو شریک نہ کیا جائے۔ اللہ کے سامنے اپنے آپ کو جواب دہ سمجھتے ہوئے آخرت پر ایمان لایا جائے، اور ان وسیع اصول و کلیات کے مطابق زندگی بسر کی جائے جن کی تعلیم اللہ نے اپنے رسولوں اور کتابوں کے ذریعہ سے دی ہے۔ یہی دین تمام انسانوں کو اول یوم پیدائش سے دیا گیا تھا۔ بعد میں جتنے مختلف مذاہب بنے وہ سب کے سب اس طرح بنے کہ مختلف زمانوں کے لیے لوگوں نے اپنے ذہن…
Read the full tafseer →دوسری آیت میں ارشاد فرمایا(آیت) مَنْ جَاۗءَ بالْحَسَنَةِ فَلَهٗ عَشْرُ اَمْثَالِهَا ۚ وَمَنْ جَاۗءَ بالسَّيِّئَةِ فَلَا يُجْزٰٓى اِلَّا مِثْلَهَا وَهُمْ لَا يُظْلَمُوْنَ
پچھلی آیت میں اس کا بیان تھا کہ صراط مستقیم سے منحرف ہونے والوں کو روز قیامت اللہ تعالیٰ ہی ان کے اعمال کی سزاء دیں گے۔
اس آیت میں آخرت کی جزاء و سزاء کا کریمانہ ضابطہ اس طرح بیان فرمایا ہے کہ جو شخص ایک نیک کام کرے گا اس کو دس گنا بدلہ دیا جائے گا، اور جو ایک گناہ کرے گا اس کا بدلہ صرف ایک گناہ کے برابر دیا جائے گا۔
صحیح بخاری اور مسلم، نسائی اور مسند احمد میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تمہارا رب عزوجل رحیم ہے، جو شخص…
Read the full tafseer →مَنْ جَاۗءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهٗ عَشْرُ اَمْثَالِهَا الایہ، یہ ثُمَّ يُنَبِّئُهُمْ بِمَا كَانُوْا يَفْعَلُوْنَ کی وضاحت ہے۔ ان کے اعمال کی خبر دینے سے مقصود ظاہر ہے کہ مجرد ان کو رپورٹ سنانا نہیں ہے بلکہ اس کا لازم یعنی جزا اور سزا ہے۔ چناچہ اس آیت میں واضح فرما دیا کہ جو نیکی لے کر آئے گا وہ اس کا دس گنا صلہ پائے گا اور جو کوئی برائی لے کر آئے گا وہ ٹھیک ٹھیک اپنی برائی کے بقدر سزا پائے گا۔ نہ نیکی کرنے والوں کے ساتھ کوئی کمی کی جائے گی، نہ برائی کرنے والوں کے ساتھ کوئی زیادتی۔ یہ ملحوظ رہے کہ آیت میں امثالہا اور مثلہا کے جو الفاظ ہیں ان سے مراد ان کا وہ مثل ہے جو اللہ تعالیٰ نے آخرت میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 160–162
160۔ 1 یہ اللہ تعالیٰ کے اس فضل و احسان کا بیان ہے کہ جو اہل ایمان کے ساتھ وہ کرے گا کہ ایک نیکی کا بدلہ دس نیکیوں کے برابر عطا فرمائے گا، یہ کم از کم اجر ہے۔ ورنہ قرآن اور حدیث دونوں سے ثابت ہے کی بعض نیکیوں کا اجر کئی سو گنا ہے بلکہ ہزار گنا تک ملے گا۔
160۔ 2 یعنی جن گناہوں پر سزا مقرر نہیں ہے اور اس کے ارتکاب کے بعد اس نے اس سے توبہ بھی نہیں کی یا اس کی نیکیاں اس کی برائیوں پر غالب نہ آئیں یا اللہ نے اپنے فضل خاص سے اسے معاف نہیں فرمادیا کیونکہ ان تمام صورتوں میں مجازات کا قانون بروئے عمل نہیں آئے گا تو پھر اللہ تعالیٰ ایسی برائی کی سزا دے اور اس کے برابر ہی دے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 158–163
84: یعنی اس سے مراد قیامت کی آخری نشانی ہے، جس کے بعد ایمان قبول نہیں ہوگا، کیونکہ معتبر ایمان وہی ہے جو دلائل کی بنیاد پر ایمان بالغیب ہو، کسی چیز کو آنکھوں سے مشاہدہ کر کے ایمان لانے سے امتحان کا وہ مقصد پورا نہیں ہوتا جس کے لیے یہ دنیا پیدا کی گئی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 160–165
آیت ” نمبر 160 ، تا 165۔
یہ تعقیب اور خاتمہ کلام اس سورة کے شروع کے مضامین کو مد نظر رکھتے ہوئے ‘ ایک نہایت ہی خوبصورت زمزمہ ہے ‘ نہایت موزوں اور خیرہ کن ۔ اس زمزے کے ساتھ ذبیحوں اور نذر ونیاز ‘ پھلوں اور فصلوں سے نیاز ‘ اور اس سلسلے میں جاہلیت کے ادہام ورسومات اور پھر یہ دعوے کہ یہ شریعت من جانب اللہ ہے ‘ کا موضوع یہاں اپنے اختتام کو پہنچتا ہے ۔ یہ تعقیب اور آخری زمزمہ اس مضمون میں کیا اضافہ کرتا ہے ؟ میں سمجھتا ہوں ان موضوعات پر ہم نے جو بات کی ہے اس کے بعد اس پر مزید کچھ کہنے کی ضرورت نہیں ہے ۔
آیت ” قُلْ إِنَّنِیْ ہَدَانِیْ رَبِّیْ إِلَی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ دِیْناً قِیَماً مِّلَّۃَ…
Read the full tafseer →4 (ثُمَّ يُنَبِّئُهُمْ بِمَا كَانُوْا يَفْعَلُوْنَ ) 6 ۔ الانعام :159) میں ان کے افعال شنیعہ کی مجازات پر متنبہ کیا گیا تھا، ساتھ ہی ہر نیک و بد کی مجازات کا عام قانون بتلا دیا کہ بھلائی کا بدلہ کم از کم دس گنا ہے اور برائی کا زائد از زائد اس کے برابر یعنی جس نے ایک نیکی کمائی تو کم از کم ویسی دس نیکیوں کا ثواب ملے گا زائد کی حد نہیں (ۭوَاللّٰهُ يُضٰعِفُ لِمَنْ يَّشَاۗءُ ) 2 ۔ البقرۃ :261) اور جو ایک بدی کا مرتکب ہوا تو ویسی ایک بدی کی جس قدر سزا مقرر ہے اس سے آگے نہ بڑھیں گے، تخفیف کردیں یا بالکل معاف فرما دیں، یہ اختیار ہے۔ پھر جہاں وفور رحمت کی یہ کیفیت ہو وہاں ظلم کا کیا امکان ہے۔
Read the full tafseer →آیت 160 مَنْ جَآء بالْحَسَنَۃِ فَلَہٗ عَشْرُ اَمْثَالِہَا ج وَمَنْ جَآء بالسَّیِءَۃِ فَلاَ یُجْزٰٓی الاَّ مِثْلَہَا
یہ اللہ کا خاص فضل ہے کہ بدی کی سزا بدی کے برابر ہی ملے گی ‘ لیکن نیکی کا اجر بڑھا چڑھا کردیا جائے گا ‘ دو دو گنا ‘ چارگنا ‘ دس گنا ‘ سات سو گنا یا اللہ تعالیٰ اس سے بھی جتنا چاہے بڑھا دے : وَاللّٰہُ یُضٰعِفُ لِمَنْ یَّشَآءُ ط البقرۃ : 261
وَہُمْ لاَ یُظْلَمُوْنَ
اس دن کسی کے ساتھ زیادتی نہیں ہوگی اور کسی کی حق تلفی نہیں کی جائے گی۔
اگلی دو آیات جو قُلْ سے شروع ہو رہی ہیں بہت اہم ہیں۔ یہ ہم میں سے ہر ایک کو یاد رہنی چاہئیں۔
Read the full tafseer →183 یہ اللہ کا کتنا بڑا احسان اور رحمت ہے کہ نیکی کے بدلے میں صرف اتنی ہی نیکی کا اجر نہیں بلکہ اس سے بہت زیادہ اجر وثواب دیتا ہے مگر برائی کا بدلہ اسی قدر ہی دیتا ہے جتنی برائی ہو۔ اس کی مزید وضاحت درج ذیل حدیث سے بھی ہوجاتی ہے۔
خ نیکی کا بدلہ دس گنا :۔ سیدنا ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ آپ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اور اس کا فرمانا سچ ہے کہ جب میرا بندہ نیکی کا ارادہ کرے تو (اے فرشتو ! ) اس کی ایک نیکی لکھ لو۔ پھر اگر وہ کرچکے تو اس کی دس نیکیاں لکھو۔ اور اگر وہ برائی کا ارادہ کرے تو کچھ بھی نہ لکھو۔ اور اگر کرچکے تو ایک ہی برائی لکھو۔ اور اگر نہ کرے تو اس کے لیے بھی ایک نیکی لکھ دو ۔…
Read the full tafseer →254 ۔ یعنی ہر نیکی پر دس گنا اجر ملے گا۔ گویا اس نے وہ نیکی دس بار کی ہے۔ اور یہ تو مرتبہ اقل میں ہے، ورنہ بعض نیکیوں پر تو اس سے بھی بڑھ چڑھ کر اجر دوسرے نصوص سے ثابت ہے یہ نمونہ ہے فضل خداوندی کا ! صوفیہ صافیہ نے یہاں سے یہ نکتہ خوب پیدا کیا ہے، کہ جب ہر نیکی پر اجر کم ازکم دس گنا موجود ہے اور یہ مسلم ہے کہ محبت الہی اور شوق لقاء خدواندی سے بڑھ کر کوئی دوسری نیکی نہیں تو جن بندوں نے اپنے کو لقاء حق کا منتظر ومشتاق بنا رکھا ہے، انہیں یقین رکھنا چاہیے کہ محبوب بےنیاز تو خود ان کی لقاء کا مشتاق ان سے کم از کم دس گنا ہوگا۔
255 ۔ یعنی سزا اس سے زیادہ نہ ملے گی یہ نمونہ ہے عدل خداوندی کا !
256 ۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 155–163
آیت نمبر 155 تا 165
ترجمہ : اور یہ قرآن ایک بڑی خیر و برکت والی کتاب ہے جس کو ہم نے نازل کیا ہے، اے مکہ والو ! جو کچھ اس میں ہے اس پر عمل کرکے اس کی اتباع کرو، اور کفر سے بچو تاکہ تم پر رحم کیا جائے اس کو نازل کیا تاکہ تم یہ نہ کہو سکو کہ کتاب تو ہم سے پہلے وہ فرقوں یہود و نصاریٰ پر نازل کی گئی تھی اور ہم ان کو پڑھنے پڑھانے سے ناواقف تھے ہماری زبان میں ان کتابوں کے نہ ہونے کی وجہ سے ہمیں ان کی معرفت حاصل نہ تھی (اِنْ ) مخففہ ہے اس کا اسم محذوف ہے ای اِنّا، یا یوں نہ کہو کہ اگر ہم پر کوئی کتاب نازل کی گئی ہوتی تو ہم اپنی تیزی ذہانت کی وجہ سے زیادہ راہ راست پر ہوتے، سو اب تمہارے پاس رب کی جانب…
Read the full tafseer →من جآء بالحسنۃ فلہ عشر امثالہا . جو ایک نیکی لے کر آئے گا اس کو اس جیسی دس نیکیوں کا ثواب ملے گا۔ میرے خیال میں اس جگہ ایک شبہ ہوسکتا ہے جس کی تفصیل یہ ہے کہ نیکی بدی کا بدلہ صرف خدا کا مقرر کردہ ہے رائے اور سمجھ کو اس میں کوئی دخل نہیں کیونکہ کسی عمل اور اس کے بدلہ میں کوئی مشابہت نہیں (نیکی یا گناہ ایک قول یا عمل ہے اور اس کا بدلہ جنت کی نعمت اور دوزخ کے عذاب کی شکل میں ہوگا اور عمل و قول کی نعمت و عذاب سے کوئی مشابہت نہیں) ایک مزدور کو کام کے عوض روپیہ دیا جاتا ہے کام روپیہ کا ہم شکل نہیں ہوتا صرف مزدور اور کام لینے والا کام کی اجرت روپیہ کو قرار دے لیتے ہیں جب اچھائی برائی کے بدلہ کی…
Read the full tafseer →(160) جو توحید کے ساتھ نیکی کرے تو اسے دس گناہ ثواب ہے اور جو شرک کے ساتھ برائی کرے تو اس کا بدلا دوزخ ہے، ان کی نیکیوں میں کسی قسم کی کوئی کمی نہیں کی جائے گی اور نہ انکی برائیوں میں اضافہ کیا جائے گا۔
Read the full tafseer →مَنْ جَاۗءَ بالْحَسَنَةِ فَلَهٗ عَشْرُ اَمْثَالِهَا ۚ۔۔ : اللہ تعالیٰ ڈرانے کے ساتھ بشارت کا سلسلہ بھی جاری رکھتا ہے، اب اللہ تعالیٰ کا نیکی کرنے والوں پر اپنے فضل اور برائی کرنے والوں پر عدل کا بیان ہے۔ نیکی کرنے والوں کی نیکی میں دس گنا اضافہ کم از کم ہے، ورنہ وہ سات سو گنا سے لے کر بےحساب تک بھی بڑھایا جاتا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے جہاد فی سبیل اللہ میں خرچ کرنے والے کی مثال ایک دانے کو سات سو دانوں تک بڑھانے کے ساتھ اپنی مرضی کے ساتھ اس سے بھی بڑھانے کی بات فرمائی ہے۔ دیکھیے سورة بقرہ (261) خوشے کی مثال کا جہاد سے تعلق سمجھنے کے لیے سورة بقرہ (273) اور سورة توبہ (60) ملاحظہ فرمائیں۔…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 160
قولہ تعالیٰ : آیت : من جآء بالحسنۃ ان میں من مبتدا اور وہی شرط ہے اور جواب شرط فلہ عشر امثالھا ہے یعنی اس کے لیے اس کی مثل دس نیکیاں ہوں گی، اس میں حسنات کو حذف کردیا گیا ہے اور امثال کو اس کے قائم مقام رکھ دیا گیا ہے جو اس کی صفت ہے ( یعنی حسنات امثالھا) اور امثال، مثل کی جمع ہے۔ اور سیبویہ نے بیان کیا ہے : عندی عشرۃ نسا بات، ای عندی عشرۃ رجال نسابات ( میرے پاس دس صاحب نسب آدمی ہیں تو اس میں رجال کو حذف کر کے اس کا قائم مقام نسابات جو کہ صفت ہے، کر رکھ دیا گیا ہے)
اور ابو علی نے کہا ہے : آیت : عشرامثالھا میں تانیث اچھی ہے، کیونکہ امثال مونث کی طرف مضاف ہے اور مونث کی طرف اضافت…
Read the full tafseer →(1) امام عبد بن حمید نے سعید بن جبیر ؓ سے روایت کیا کہ جب یہ آیت لفظ آیت من جآء بالحسنۃ فلہ عشر امثالھا نازل ہوئی تو مسلمانوں میں سے ایک آدمی نے کہا یا رسول اللہ ” لا الہ الا اللہ “ نیکی ہے ؟ آپ نے فرمایا ہاں تمام نیکیوں میں سب سے افضل نیکی ہے۔
(2) امام ابن ابی شیبہ، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو نعیم نے حلیہ میں ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت من جآء بالحسنۃ سے مراد ہے لا الہ الا اللہ۔
(3) امام ابن منذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت من جآء بالحسنۃ سے مراد ہے لا الہ الا اللہ۔
(4) امام ابو الشیخ نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت من جآء بالحسنۃ سے مراد ہے لا الہ الا اللہ۔
(5)…
Read the full tafseer →مَنْ [ جو ] جَاۗءَ [ آیا ] بِالْحَسَنَةِ [ نیکی کے ساتھ ] فَلَهٗ [ تو اس کے لیے ] عَشْرُ اَمْثَالِهَا ۚ [ اس کے جیسی دس (نیکیاں) ہیں ] وَمَنْ [ اور جو ] جَاۗءَ [ آیا ] بِالسَّيِّئَةِ [ برائی کے ساتھ ] فَلَا يُجْزٰٓى [ تو اس کا بدلہ نہیں دیا جائے گا ] اِلَّا [ مگر ] مِثْلَهَا [ اس کے جیسی (برائی) سے ] وَهُمْ [ اور ان پر ] لَا يُظْلَمُوْنَ [ ظلم نہیں کیا جائے گا ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 160–161
ایک نیکی پر کم از کم دس نیکیوں کا ثواب ملتا ہے
اس آیت میں نیکیوں کی جزا اور برائیوں کی سزا کا قانون بتایا ہے اللہ تعالیٰ ارحم الراحمین ہے اس نے اپنے بندوں پر یہ کرم فرمایا کہ ایک نیکی کرنے پر اس جیسی کم از کم دس نیکیاں کرنے کا ثواب دینے کا وعدہ فرمایا ہے اور اپنی کتاب میں اس کا اعلان عام فرما دیا اور جو شخص کوئی گناہ کرلے تو اس میں اضافہ نہیں ہے بلکہ ایک گناہ پر ایک ہی گناہ کی سزا ملے گی۔
پھر یہ کوئی ضروری نہیں ہے کہ گناہ پر سزا مل ہی جائے۔ توبہ استغفار سے بھی گناہ معاف ہوتے ہیں اور نیکیوں سے بھی معاف ہوتے رہتے ہیں۔ اور نیکی کا جو دس گنا ثواب بتایا ہے یہ کم سے کم ہے اس سے زیادہ بھی ثواب ملتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 159–165
خاتمۂ سورت مشتمل بر ترہیب از تفریق دین قویم وترغیب بر اتباع صراط مستقیم
قال اللہ تعالیٰ ان الذین فرقوا دینھم وکانوا شیعا۔۔۔ الی۔۔۔ وانہ لغفور رحیم
(ربط) گذشتہ آیت میں دین حق سے اعراض اور روگردانی پر توبیخ اور تہدید تھی اب ان آیات میں صراط مستقیم اور ملۃ ابراہیم کے اتباع کی ترغیب اور دین حق میں تفریق اور اختلاف سے ترہیب ہے تاکہ معلوم ہوجائے کہ صراط مستقیم دین ابراہیم ہے اور اس سے اختلاف اور انحراف گمراہی ہے نیز ان آیات میں آں حضرت ﷺ کو تسلی اور تشفی دی جاتی ہے کہ جن لوگوں نے اپنے دین میں اختلاف کیا اور مختلف گروہ بن گئے کوئی عیسیٰ بن مریم کو خدا کہنے لگا اور کوئی بت پرستی میں لگ گیا اور کوئی…
Read the full tafseer →183 یہ ایمان لانے والوں اور اعمال صالحہ بجا لانے والوں کے لیے بشارت ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 159–160
ربط آیات
پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے مشرکین اور ان کی شرکیہ رسوم کا پورے طریقے پر رد کیا اور پھر صراط مستقیم پرچلنے کی ہدایت فرمائی اور اس کا اتباع کرنے کی ہدایت فرمائی۔ موسیٰ (علیہ السلام) اور تورات کا تذکرہ کرنے کے بعد حضور ﷺ اور قرآن پاک کا ذکر کیا اور صراط مستقیم پر ایمان نہ لانے والوں کا شکوہ کیا کہ یہ لوگ جس چیز کا انتظار کر رہے ہیں۔ کیا یہ موت کا انتظار کر رہے ہیں یا قیامت کی نشانیوں کے ظہور کے منتظر ہیں۔ فرمایا کہ ایسی نشانیاں ظاہر ہونے پر تو ایمان بھی قبول نہیں ہوگا کیونکہ اس وقت توبہ کا دروازہ بند ہوچکا ہوگا۔ گذشتہ آیات میں زیادہ شرک کی تردید تھی اب آج کی آیات میں فرقہ پرستی کی مذمت…
Read the full tafseer →مَنْ جَاۗءَ بِالْحَسَـنَۃِ فَلَہٗ عَشْرُ اَمْثَالِہَا 0 ۚ وَمَنْ جَاۗءَ بِالسَّيِّئَۃِ فَلَا يُجْزٰٓى اِلَّا مِثْلَہَا وَہُمْ لَا يُظْلَمُوْنَ 160
جاء
جاء يجيء ومَجِيئا، والمجیء کالإتيان، لکن المجیء أعمّ ، لأنّ الإتيان مجیء بسهولة، والإتيان قد يقال باعتبار القصد وإن لم يكن منه الحصول، والمجیء يقال اعتبارا بالحصول، ويقال : جاء في الأعيان والمعاني، ولما يكون مجيئه بذاته وبأمره، ولمن قصد مکانا أو عملا أو زمانا، قال اللہ عزّ وجلّ : وَجاءَ مِنْ أَقْصَا الْمَدِينَةِ رَجُلٌ يَسْعى [يس/ 20] ،
( ج ی ء ) جاء ( ض )
جاء يجيء و مجيئا والمجیء کالاتیانکے ہم معنی ہے جس کے معنی آنا کے ہیں لیکن مجی کا لفظ…
Read the full tafseer →3 ؎ یعنی قیامت میں دنیا سے نیکی لے کر آوے گا تو دس گنا اجر ملے گا اور گناہ کا اتنا ہی۔ 12 منہ
Read the full tafseer →Explained with ayahs 159–164
ارشاد ہوتا ہے :
اِنَّ الَّذِیْنَ فَرَّقُوْا دِیْنَھُمْ وَ کَانُوْا شِیَعًا لَّسْتَ مِنْھُمْ فِیْ شَیْئٍ ط اِنَّمَا اَمْرُھُمْ اِلَی اللہِ ثُمَّ یُنَبِّئُھُمْ بِمَا کَانُوْا یَفْعَلُوْنَ ۔ مَنْ جَآئَ بِالْحَسَنَۃِ فَلَہٗ عَشْرُ اَمْثَالِھَا ج وَمَنْ جَآئَ بِالسَّیِّئَۃِ فَلَا یُجْزٰٓی اِلَّا مِثْلَھَا وَھُمْ لَا یُظلَمُوْنَ ۔ قُلْ اِنَّنِیْ ھَدٰنِیْ رَبِّیْٓ اِلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ 5 ج دِیْنًا قِیَمًا مِّلَّۃَ اِبْرٰھِیْمَ حَنِیْفًا ج وَمَا کَانَ مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ ۔ قُلْ اِنَّ صَلَاتِیْ وَ نُسُکِیْ وَ مَحْیَایَ وَ مَمَاتِیْ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ ۔ لَا شَرِیْکَ لَہٗ ج وَبِذٰلِکَ…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : اس سے پہلی آیت کے آخری الفاظ ” بما کانو یفعلون “ ہیں۔ یہاں اعمال کی تشریح اور ان کی حیثیت بیان فرمائی کہ اگر لوگ نیکی کریں گے تو اس کا کم ازکم دس گنا اجر پائیں گے اگر برائی کریں گے تو صرف اس کے برابر سزادی جائے گی۔
پارہ تیس کی سورة الزلزال میں فرمایا کہ انسان نے ذرہ بھر بھی نیکی کی تو قیامت کے دن اسے اپنی آنکھوں کے سامنے پائے گا۔ اگر اس نے ذرہ برابر برائی کی تو اسے بھی دیکھ لے گا۔ یہاں نیکی یا بدی کے اجر کے بارے میں وضاحت فرمائی کہ ہر حسنہ کا اجر اس کے دس گنا ہوگا۔ تاہم برائی کی سزا دوگنی یا دس گناہ نہیں بلکہ اسی کے برابر ہوگی۔ لیکن قرآن مجید کی دوسری آیات سے ثابت ہوتا…
Read the full tafseer →نیکی کا بدلہ کم از کم دس گنا :
آیت 160: مَنْ جَآئَ بِالْحَسَنَۃِ فَلَہٗ عَشْرُ اَمْثَالِہَا اس کی تقدیر عبارت یہ ہے عشر حسنات امثالہا۔ کہ دس نیکیاں اس کے مثل دس جنس ممیزہ کی صفت کو موصوف کے قائم مقام قرار دیا جائے۔ وَمَنْ جَآئَ بِالسَّیِّئَۃِ فَـلَا یُجْزٰٓی اِلاَّ مِثْلَہَا وَہُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ ثواب کی کمی اور سزا کے اضافہ کے ساتھ۔
Read the full tafseer →وہ اعمال جن پر دس گنا ثواب ملتا ہے
تفسیر 160 (من جآء بالحسنۃ فلہ عشر امثالھا) یعنی اس کے لئے اس کی مثل دس نیکیاں ہیں (ومن جآء بالسینۃ فلا یجزی الا مثلھا وھم لایظلمون) حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی ایک اپنے اسلام کو اچا کرلے تو جو نیکی وہ کرے گا تو اس کے لئے اس کی دس مثل سے سات سو گنا تک لکھا جائے گا۔ یہاں تک کہ وہ اللہ تعالیٰ سے ملاقات کرلے گا۔ حضرت ابو ذر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ جو کوئی نیکی لائے تو اس کے لئے اس کے مثل دس ہے اور میں بڑھا دوں گا اور جو کوئی برائی لاتا ہے تو اس برائی کی مثل سزا پائے گا یا…
Read the full tafseer →اس آیت کی تفسیر صحیح حدیثوں میں آئی ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ اس آیت میں نیکی کے بدلے دس گنا ثواب کا وعدہ جو اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے اس کے معنے یہ ہیں کہ کم سے کم بھی ہر نیکی پر اجر اور ثواب دیا جاوے گا تو وہ دس گناہ کو ہوگا اور زیادہ سات سو تک بھی ہے اور اس سے زیادہ بھی ہے اور ہر بدی پر ایک گناہ کی سزا کا وعدہ ہے لیکن چاہے تو اللہ تعالیٰ بغیر سزا کے یوں ہی بخش دیوے صحیحین میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا جب کوئی مسلمان نیک عمل کرتا ہے تو دس گنا سے سات سو تک اس کا اجر لکھا جاتا ہے اور بدی ایک کرے تو ایک ہی لکھی جاتی ہے اور کبھی بغیر لکھے معاف بھی ہوجاتی ہے اور صحیحین میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 159–164
آیت 159
(1) صحیح بخاری، کتاب الرفاق، باب، حدیث :65/6
اللہ تبارک و تعالیٰ ان لوگوں کو عید سناتا ہے جنہوں نے اپنے دین میں تفرقہ پیدا کیا اور دین کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے فرقوں میں بٹ گئے اور ہر ایک نے اپنا ایک نام رکھ لیا جو انسان کے لئے اس کے دین میں کوئی کام نہیں آتا جیسے یہودیت، نصرانیت اور مجوسیت وغیرہ یا اس سے انسان کے ایمان کی تکمیل نہیں ہوتی، جیسے وہ شریعت میں سے کسی ایک چیز کو اخذ کر کے اس کو دین بنا لے اور اس جیسییا اس سے کسی افضل چیز کو چھوڑ دے جیسا کہ اہل بدعت اور ان گمراہ فرقوں کا حال ہے جنہوں نے امت سے الگ راستہ اختیار کرلیا ہے۔
آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ دین اجتماعیت اور اکٹھے رہنے کا…
Read the full tafseer →نیکی کا دس گنا اجر
قول باری ہے (من جآء بالحسنۃ فلہ عشر امثالھا۔ جو اللہ کے حضور نیکی لے کر آئے گا اس کے لیے دس گنا اجر ہے) الحسنۃ اس چیز کا نام ہے جو حسن اور خوبی میں سب سے اونچے مپام پر ہو اس لیے کہ اس میں حرف تاء مبالغہ کے لیے ہے۔ اس کے تحت تمام فرائض اور نوافل آ جاتے ہیں تا ہم اس میں مباحات داخل نہیں ہیں اگرچہ وہ بھی حسن ہیں۔ اس لیے کہ مباح پر عمل کر کے ایک شخص نہ کسی تعریف کا مستحق قرار پاتا ہے اور نہ کسی ثواب کا اسی لیے اللہ تعالیٰ نے حسنۃ کی ترغیب دی ہے جو طاعت کے معنوں میں ہے۔
فعل حسن اور حسنہ کا فرق
اس طرح احسان ( فرائض و نوافل کو بہترین طریقے سے سرانجام دینے کا نام ) کی بنا پر بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 159–161
338 آپس میں مختلف گروہ بننے سے مراد ؟ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جنہوں نے ٹکڑے ٹکڑے کردیا اپنے دین کو اور وہ مختلف گروہوں میں بٹ گئے۔ یعنی دین کے اصول و مبادی میں اختلاف کر کے۔ پس حضرات صحابہ اور ائمہ کرام کا اختلاف اس میں داخل نہیں کہ وہ اختلاف اصولی اور بنیادی نہیں بلکہ فروعی ہے۔ اور اس تفرقہ و اختلاف میں یہود و نصاریٰ اور اسلام کے نام لیوا و دعویدار وہ سب فرقے داخل و شامل ہیں۔ جو اہل حق سے بنیادی اختلافات رکھتے ہیں۔ جیسے خوارج و روافض وغیرہ اہل بدعت ۔ کما اختارہ الحافظ ابن کثیر فی تفسیرہ وغیرہ من کبار العلماء و المفسرین ۔ (ابن کثیر، قرطبی اور معارف وغیرہ) ۔ بہرکیف اس بارے پیغمبر کو ہدایت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 159–165
فرقہ بندی کا نقصان، خالص توحید، انسان کی نیابت
تشریح : یہ سورة الانعام کی آخری آیات ہیں اور ان میں بیشمار مسائل کا حل بتایا گیا ہے۔ مسلمانوں میں کئی فرقے بن چکے ہیں۔ فرقہ بندی کسی بھی قوم کو کمزور کرنے کا بہت بڑا سبب ہے اس لیے قومی ترقی، کامیابی اور مضبوطی کے لیے ضروری ہے کہ فرقہ پرستی اور گروہ بندی سے بچا جائے۔ رسول اللہ ﷺ کو مسلمانوں کی گروہ بندی سے فکر ہوتی تھی تو رب العلمین نے ان سے کہا کہ آپ اس بات کی ہرگز فکر نہ کریں کیونکہ آپ کا کام تھا تعلیم دینا وہ آپ نے دیدی اب اس پر عمل کرنا نہ کرنا یا اس کو بگاڑ دینا یہ سب ہر شخص کا ذاتی عمل ہے جو بھی غلط کام یا شریعت سے ہٹ کر کام کرے گا وہ عذاب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 156–165
رکوع نمبر 20 ۔ آیات 156 تا 166 ۔
اسرار و معارف :
اور اب یہ کتاب ہے یعنی قرآن حکیم جسے ہم نے بہت برکت کے ساتھ نازل فرمایا ہے یعنی کتب سابقہ کا دور ختم ہوا پہلی کتابوں کا انکار نہ کیا جائے گا کہ وہ بھی اللہ کی نازل کردہ تھیں مگر ان پر عمل کا زمانہ بیت چکا اب ساری برکات قرآن کا اتباع کرنے سے ہی نصیب ہوسکتی ہیں اور اللہ کی عظمت کا احساس کرو تاکہ اللہ تم پر رحم فرمائے اور تمہاری کوتاہیوں اور کمزوریوں کو معاف فرمائے کہیں یہ نہ کہنا کہ اللہ کی کتابیں تو صرف یہود و نصاری پہ ہی نازل ہوئی تھیں جنہیں ہم سمجھنے سے قاصر تھے ان کا پڑھنا پڑھانا ہمارے بس میں ہی نہ تھا زبان اور تھی یا اصل کتب نہ رہیں اور…
Read the full tafseer →ف 6 یہاں حسنہ او سیئہ عام ہیں جو ہر قسم کی نیکی اور برائی کو شامل ہیں اور یہاں عشر امثال (دس گنا بدلہ) سے مقصد تحدید نہیں ہے بلکہ کئی دس گنے ہوسکتے ہیں جیسا کہ ایک حدیث قدسی میں ہے کہ ساتھ گنا تک اور اس سے بھی زیادہ ثواب ملتا ہے۔ جیسا کہ سورة بقرہ آیت 245، میں گزر چکا ہے۔ (رازی)7 بشر طی کہ دنیا میں توبہ نہ کرلی ہو اگر توبہ کرے یا اس کی نیکیاں برائیوں سے زیادہ ہوں یا اللہ تعالیٰ اپنے رحم و کرم سے معاف فرمادے تو یہ سزا بھی نہیں ملے گی، حدیث میں ہے کہ اگر کوئی شخص نیکی کا قصد کرے اور عمل نہ کرے تو اس کے لیے ایک نیکی لکھی جاتی ہے اگر اور اگر برائی کا قصد کرے اور برائی نہ کرے تو اس کا گناہ نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 159–160
6:159) فرقوا۔ فرق یفرق تفرق (تفعیل) انہوں نے ٹکڑے کر دئیے۔ یعنی انہوں نے مذہب کے کئی فرقے بنا دئیے۔ ماضی جمع مذکر غائب۔ وکانوا شیعا۔ اور ہوگئے کئی گروہ۔ اور گروہوں میں بٹ گئے۔ شیعا۔ جمع ہے شیعۃ کی۔ اصل میں شیاع کے معنی انتشار اور تقویت کے ہیں۔ اس کا اطلاق واحد تثنیہ جمع مذکر اور مؤنث سب پر ہوتا ہے۔
لست منھم فی شئی۔ تو کسی امر میں بھی ان میں سے نہیں ہے۔ یعنی آپ کا ان سے کوئی سروکار نہیں ہے آپ کا ان سے کوئی واسطہ نہیں ہے۔ ینبئہم۔ نبا ینبی تنبئۃ (تفعیل) وہ بتادے گا۔ وہ خبردار کر دے گا۔ مضارع جمع مذکر غائب ہم ضمیر جمع مذکر غائب۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 159–160
لغات القرآن : آیت نمبر 159 تا 160 :
فرقوا (جنہوں نے فرقے بنادیئے) امرھم ( ان کا معاملہ) عشرامثال (دس کے برابر)
تشریح : آیت نمبر 159 تا 160 :
” دین کو ٹکڑے ٹکڑے کردینا “ تفرقہ اس کا نام ہے۔ تفرقہ اور اختلاف میں فرق ہے۔ تفرقہ بنیادی ایمانی عقیدوں اور اصولوں میں الگ راستہ نکال دینا اور اختلاف کے معنی ہیں علمی اور فقہی تفصیلات اور جزئیات میں اجتہاد کرنا۔ اجتہاد میں غلطی ہو سکتی ہے ۔ اگر غلطی اور اختلاف کا دروازہ بند کردیا جائے تو عقل کی ترقی کا راستہ بھی بند ہوجاتا ہے۔ مگر اجتہاد وہی کرسکتا ہے جس کے پاس قرآن و سنت کے ساتھ ساتھ خلوص ہو ‘ علم ہو ‘ عقل ہو ‘ بصیرت ہو اور اعمال صالحہ ہوں۔
جس تفرقہ کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 160–162
اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ جب کوئی مسلمان نیک عمل کرتا ہے تو دس گنے سے سات سو تک اس کا اجر لکھا جاتا ہے اور بدی ایک کرے تو ایک ہی لکھی جاتی ہے۔ اور نیکی کا کوئی شخص ارادہ کرے اور ارادہ کے موافق عمل نہ کرے تو بھی ایک نیکی محض ارادہ پر لکھی جاتی ہے اور بدی بغیر عمل کے نہیں لکھی جاتی۔ اور نیکی کا کوئی شخص ارادہ کرے تو بھی ایک نیکی لکھی جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کو انصاف بہت پسند ہے اس لئے نیک عمل کی جزا کے کم کرنے میں یا بد عمل کی سزا کے بڑھا دینے میں کسی ظلم و زیادتی کا دخل نہیں ہوگا۔ قیامت کے دن نہایت انصاف سے ہر ایک کو قائل معقول کیا جاوے گا اور قائل معقول کے بعد سزا کا حکم دیا جاوے گا۔ اسی طرح جزا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 160–164
[64] یعنی کوئی شخص بھی کسی کے گناہوں کا بوجھ اپنے اوپر نہ لے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 160–162
(ف 1) حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بدرجہ غایت کرم فرما اور رحیم ہے ، وہ چاہتا ہے کہ سب کو اپنی آغوش رحمت میں لے لے اور کوئی نفس انسانی جہنم کی آگ میں نہ جلے نیکیوں کا دس گنا بڑھ جانا تو ایک شکل ہے اس کے التفات سامی کی ورنہ دراصل اس کا ارادہ ہی یہ ہے کہ اس کے بندے رحمت و بخشش کے فیضان عظیم سے محروم نہ رہیں ۔
Read the full tafseer →160 جو شخص کوئی نیکی لے کر حاضر ہوگا اس کو اس جیسی نیکیوں کا ثواب ملے گا اور جو شخص کوئی برائی اور بدی لے کر پیش ہوگا تو اس کو صرف اس برائی کی مثل بدلہ دیا جائے گا اور اس برائی کے برابر ہی سزا دی جائے گی اور ان لوگوں پر ظلم نہ ہوگا اور ان کے ساتھ غیر منصفانہ برتائو نہیں کیا جائے گا۔ یعنی ایک نیکی کا ثواب دس نیکیوں کے برابر اور گناہ کی سزا ایک کی ایک۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 160–162
ف 5۔ کہ کوئی نیکی درج نہ ہو یا کوئی بدی زیادہ کرکے لکھ لی جائے۔
Read the full tafseer →نیکی کمانے والوں کے لئے کم از کم دس گنا اجر دئیے جانے کا اعلان عام :
253: زیر نظر آیت میں آخرت کی جزا و سزا کا کریمانہ ضابطہ ارشاد فرمایا کہ جو شخص ایک نیکی کمائے گا اس کو دس گنا بڑھا کر بدلہ دیا جائے گا اور جو شخص ایک گناہ کرے گا اس کا بدلہ صرف اس گناہ کے برابر اس کو دیا جائے گا۔ ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ تمہارا رب عزو جل رحیم ہے جو شخص کسی نیک کام کا صرف ارادہ کرے اس کے لئے ایک نیکی لکھ دی جاتی ہے خواہ عمل کرنے کی نوبت بھی نہ آئے ، پھر جب وہ نیک کام کو کرلے تو دس نیکیاں اس کے نامہ اعمال میں لکھ دی جاتی ہیں اور جو شخص کسی گناہ کا ارادہ کرے مگر پھر اس پر عمل نہ کرے تو…
Read the full tafseer →Said in the second (160) verse is: مَن جَاءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهُ عَشْرُ أَمْثَالِهَا ۖ وَمَن جَاءَ بِالسَّيِّئَةِ فَلَا يُجْزَىٰ إِلَّا مِثْلَهَا وَهُمْ لَا يُظْلَمُونَ ﴿160﴾ (Whoever comes with a good deed, receives ten times as much, and whoever comes with an evil deed, he will not be recompensed by anything but its equal, and they shall not be wronged).
Stated in the previous verse (159) was that the punishment for the evil deeds of those who turn away from the straight path rested with Allah alone.
In the present verse, the generous procedure of reward and punishment in the Hereafter…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 159–160
141. This is addressed to the Prophet (peace be on him) and through him to all followers of the true faith. The import of this statement is that true faith has always consisted, and still consists, in recognizing the One True God as one's God and Lord; in associating none with God in His divinity - neither in respect of His essence, nor of His attributes, nor of His claims upon His creatures; in believing in the Hereafter and hence considering oneself answerable before God; and in living according to those principles and values which have been communicated by God to mankind through His…
Read the full tafseer →