6. Surah Al-An'aam

الأنعامThe Cattle · 165 ayahsتفسیر انوار البیان

Ayah 6:1

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ جَعَلَ الظُّلُمٰتِ وَ النُّوْرَ١ؕ۬ ثُمَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِرَبِّهِمْ یَعْدِلُوْنَ Open ayah 6:1 in the Quran reader

سب تعریفیں اللہ کے لئے ہیں جس نے پیدا فرمایا آسمانوں کو اور زمین کو اور بنایا تاریکیوں کو، اور روشنیوں کو، پھر بھی وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا اپنے رب کے برابرقرار دیتے ہیں

اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان اور ظلمات اور نور کو پیدا فرمایا اور ہر ایک کی اجل مقرر فرمائی یہاں سے سورة انعام شروع ہے یہ سورت مکی ہے البتہ بعض مفسرین نے تین چار آیات کو مستثنیٰ لکھا ہے اور فرمایا ہے کہ وہ مدنی ہیں۔ حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ جب سورة انعام نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے سبحان اللہ کہا پھر فرمایا کہ اس سورت کو اتنے فرشتوں نے رخصت کیا جنہوں نے افق یعنی آسمان کے کناروں کو بھر دیا۔ اور بعض روایات میں ہے کہ ستر ہزار فرشتوں نے اس کو رخصت کیا۔ (من روح المعانی ج 7 ص 76) اس سورت میں انعام یعنی چو پاؤں کے بعض احکام بیان فرمائے ہیں اس لئے سورة الانعام کے نام سے موسوم ہے۔ اس سورت میں احکام کم ہیں۔ زیادہ تر توحید کے اصول اور توحید کے دلائل بیان فرمائے ہیں۔ سورة فاتحہ کی طرح اس کی ابتداء بھی اَلْحَمْدُ للّٰہِسے فرمائی ہے اور بتایا ہے کہ سب تعریفیں اللہ ہی کے لئے ہیں وہ ہر تعریف کا مستحق ہے اس کو کسی حمد اور تعریف کی حاجت نہیں۔ کوئی حمد کرے یا نہ کرے وہ اپنی ذات وصفات کاملہ کے اعتبار سے محمود ہے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ کی صفت خالقیت بیان فرمائی۔ اور فرمایا (الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ ) کہ اس کی وہ عظیم ذات ہے جس نے آسمانوں کو اور زمین کو پیدا فرمایا۔ آسمان و زمین سب کی نظروں کے سامنے ہیں جس ذات پاک نے ان کی تخلیق فرمائی ظاہر ہے کہ وہ مستحق حمد و ثنا ہے۔ پھر فرمایا (وَ جَعَلَ الظُّلُمٰتِ وَ النُّوْرَ ) کہ اس نے تاریکیوں کو بنایا اور نور کو بنایا۔ روشنی اور اندھیریاں بھی آسمان و زمین کی طرح نظروں کے سامنے ہیں ان میں بھی انقلاب ہوتا رہتا ہے۔ کبھی روشنی ہے اور کبھی اندھیرا۔ یہ انقلاب اور الٹ پھیر بھی اس بات کی دلیل ہے کہ یہ خود بخود وجود میں نہیں آئیں۔ ان کو وجود دینے والی کوئی ذات ہے اس بات کے ماننے کے لئے کسی خاص غور و فکر کی ضرورت نہیں سب پر عیاں ہے۔ (السموت والارض) کے ساتھ خلق اور ظلمات اور نور کے ساتھ لفظ جعل لانے کے بارے میں بعض مفسرین نے یہ نکتہ بتایا ہے کہ آسمان و زمین اجسام و اجرام ہیں اپنے وجود میں کسی دوسری مخلوق کے محتاج نہیں اور اندھیرا اور اجالا عوارض ہیں قائم بالذات نہیں ان کو محل ومکان یعنی جگہ کی ضرورت ہے، جو لوگ آسمانوں کے وجود کو نہیں مانتے ان کے وجود میں متردد ہیں۔ اس آیت شریفہ میں ان کی بھی تردید ہوگئی۔ اور جو لوگ دو خدا مانتے ہیں یعنی یزداں اور اھر من (اور یزداں کو خالق خیر اور اھرمن کو خالق شر بتاتے ہیں پھر ان دونوں کو نور اور ظلمت سے تعبیر کرتے ہیں) آیت شریفہ سے ان کی بھی تردید ہوگئی اس کے بعد ارشاد فرمایا ( ثُمَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا بِِرَبِّھِمْ یَعْدِلُوْنَ ) (پھر بھی وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا اپنے رب کے برابر قرار دیتے ہیں) یعنی خالق جل مجدہ جس نے اتنی بڑی کائنات کو پیدا فرمایا اس کے شرکاء تجویز کرتے ہیں اور ان کی عبادت کرتے ہیں جو بہت بڑی حماقت اور سفاہت ہے۔ پھر فرمایا (ھُوَ الَّذِیْ خَلَقَکُمْ مِّنْ طِیْنٍ ) (اللہ ہی ہے جس نے تم کو کیچڑ سے پیدا فرمایا) انسان کی ابتدائی تخلیق چونکہ مٹی سے ہے اس لئے سبھی کی اصل مٹی ہے۔ آدم (علیہ السلام) بلاواسطہ مٹی سے پیدا ہوئے اور ان کی نسل اپنے باپ کی توسط سے مٹی سے پیداہوئی قرآن مجید میں (خَلَقَکُمْ مِّنْ تُرَابٍ ) بھی فرمایا (سورۃ مومن) یعنی تم کو مٹی سے پیدا فرمایا اور (خَلَقَکُمْ مِّنْ طِیْنٍ ) بھی فرمایا (سورۂ انعام) یعنی تم کو کیچڑ سے پیدا کیا اور (اِنَّا خَلَقْنَا ھُمْ مِّنْ طِیْنٍ لاَّزِبٍ ) بھی فرمایا (سورۂ صافات) یعنی ہم نے ان کو چپکتی ہوئی مٹی سے پیدا کیا اور (خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ صَلْصَالٍ کَالْفَخَّارِ ) بھی فرمایا (سورۂ رحمن) اس نے انسان کو بجتی ہوئی مٹی سے پیدا فرمایا جو ٹھیکری جیسی تھی اور یہ بھی فرمایا (وَ لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ صَلْصَالٍ مِّنْ حَمَاٍ مَّسْنُوْنٍ ) ( اور البتہ تحقیق ہم نے پیدا کیا انسان کو بجتی ہوئی سڑی ہوئی مٹی سے ) ۔ (سورء حجر)
Ayah 6:2

هُوَ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ مِّنْ طِیْنٍ ثُمَّ قَضٰۤى اَجَلًا١ؕ وَ اَجَلٌ مُّسَمًّى عِنْدَهٗ ثُمَّ اَنْتُمْ تَمْتَرُوْنَ Open ayah 6:2 in the Quran reader

، وہی ہے جس نے تم کو پیدا کیا کیچڑ سے پھر اجل مقرر فرمائی اور اس کے پاس ایک اجل مقرر ہے، پھر تم شک کرتے ،

بات یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم (علیہ السلام) کی تخلیق کا ارادہ فرمایا تو زمین کے مختلف حصوں سے مٹی جمع فرمائی۔ اس مٹی میں پانی ڈال دیا گیا توطین (کیچڑ) ہوگئی۔ پھر وہ کیچڑ پڑی رہی تو سڑ گئی پھر اس سے آدم (علیہ السلام) کا پتلا بنایا گیا۔ وہ پتلا سوکھ گیا تو بجنے والی مٹی ہوگئی۔ اس کے بعد اس میں روح پھونکی گئی۔ چونکہ یہ مختلف ادوار اس مٹی پر گذرے اس لئے انسان کی تخلیق بیان کرتے ہوئے کبھی تُرَابٍٍ کبھی طِیْنٍ اور کبھی حَمَاٍ مَّسْنُوْنِ فرمایا۔ تخلیق انسانی بیان فرمانے کے بعد ارشاد فرمایا (ثُمَّ قَضآی اَجَلًا) (پھر اجل مقرر فرما دی) اس سے موت کا وقت مراد ہے جو ہر فرد کے لئے مقرر ہے اس سے آگے پیچھے نہ ہوگا جیسا کہ سورة منافقون میں فرمایا (وَ لَنْ یُّؤخِّرَ اللّٰہُ نَفْسًا اِذَا جَآءَ اَجَلُھَا) (اور اللہ تعالیٰ ہرگز کسی جان کو مہلت نہ دے گا جبکہ اس کی اجل مقرر آجائے) اس کے بعد فرمایا (وَ اَجَلٌ مُّسَمًّی عِنْدَہٗ ) (اور ایک اجل اس کے پاس مقرر ہے) اس سے قیامت کے دن صور پھونکے جانے اور قبروں سے اٹھنے کی اجل مراد ہے۔ فرد کی اجل جو مقرر ہے وہ اس کی موت کے وقت پوری ہوجاتی ہے اور ساری دنیا کی جو اجل مقرر ہے وہ قیامت کے دن پوری ہو جائیگی۔ پہلی اجل کا علم فرشتوں کو ہوجاتا ہے کیونکہ انہیں روح قبض کرنا ہوتا ہے اور دوسری اجل کا علم اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو نہیں۔ اللہ تعالیٰ شانہ کے علم کے مطابق جب قیامت کے آنے کا وقت ہوگا تو اچانک آجائیگی۔ پھر فرمایا (ثُمَّ اَنْتُمْ تَمْتَرُوْنَ ) (پھر تم شک کرتے ہو) پہلی آیت میں توحید کے دلائل بیان فرمائے اور دوسری آیت میں بعث و نشور یعنی قیامت کے دن دوبارہ زندہ ہونے کی دلیل بیان فرمائی۔
Ayah 6:3

وَ هُوَ اللّٰهُ فِی السَّمٰوٰتِ وَ فِی الْاَرْضِ١ؕ یَعْلَمُ سِرَّكُمْ وَ جَهْرَكُمْ وَ یَعْلَمُ مَا تَكْسِبُوْنَ Open ayah 6:3 in the Quran reader

اور وہ اللہ ہے آسمانوں اور زمین میں، وہ جانتا ہے تمہارے باطنی حالات کو اور ظاہر حالت کو، اور وہ جانتا ہے جو تم عمل کرتے ہو۔

پھر فرمایا (وَ ھُوَ اللّٰہُ فِی السَّمٰوٰتِ وَ فِی الْاَرْضِ ) (یعنی وہ اللہ ہے جو آسمانوں اور زمین میں معبود ہے) صاحب روح المعانی لکھتے ہیں کہ (فِی السَّمٰوٰتِ وَ فِی الْاَرْضِ ) معنی وصفی سے متعلق صرف اللہ تعالیٰ ہی معبود ہے اور عبادت کے لائق ہے۔ بعض حضرات نے جار مجرور کو المالک اور المتصرف سے بھی متعلق بتایا ہے جو محذوف ہے اور مطلب یہ ہے وَ ھُوَ الْمَالِکُ وَ الْمُتَصَرِّفُ الْمُدَبِّرُ فِیْھِمَا حَسْبُ مَا یَقْتَضِیْہِ مَشِیْءَۃِ المبینۃ علی الحکم البالغۃ (من روح المعانی ص 89 ج 7) اللہ تعالیٰ کو ظاہر اور پوشیدہ ہر چیز کا علم ہے پھر فرمایا (یَعْلَمُ سِرَّکُمْ وَ جَھْرَکُمْ وَ یَعْلَمُ مَا تَکْسِبُوْنَ ) کہ جو اقوال و اعمال ہیں جو جو نیتیں اور ارادے ہیں جو تم چھپاتے ہو اور ظاہر کرتے ہو اللہ تعالیٰ ان سب کو جانتا ہے۔ تمہارے اعمال کو بھی جانتا ہے خواہ یہ اعمال قلب کے ہوں یا جو ارح کے اس کے بعد تکذیب کرنے والوں کی عادت بیان فرمائی۔
Ayah 6:4

وَ مَا تَاْتِیْهِمْ مِّنْ اٰیَةٍ مِّنْ اٰیٰتِ رَبِّهِمْ اِلَّا كَانُوْا عَنْهَا مُعْرِضِیْنَ Open ayah 6:4 in the Quran reader

اور جب ان کے رب کی نشانیوں میں سے ان کے پاس کوئی نشانی آتی ہے تو اس سے اعراض کرتے ہیں۔

(وَ مَا تَاْتِیْھِمْ مِّنْ اٰیَۃٍ مِّنْ اٰیٰتِ رَبِّھِمْ اِلَّا کَانُوْا عَنْھَا مُعْرِضِیْنَ ) (جو بھی کوئی آیت اللہ کی آیات میں سے ان کے سامنے آتی ہے تو اس سے اعراض کرتے ہیں) اس سے آیات قرآنیہ مراد ہوسکتی ہیں۔ اور آیات تکوینیہ بھی مراد لی جاسکتی ہیں۔ یعنی قرآنی آیات کو جھٹلاتے ہیں اور جو آیات تکونیہ سامنے آتی ہیں جن میں دلائل توحید ہیں ان سے بھی اعراض کرتے ہیں۔
Ayah 6:5

فَقَدْ كَذَّبُوْا بِالْحَقِّ لَمَّا جَآءَهُمْ١ؕ فَسَوْفَ یَاْتِیْهِمْ اَنْۢبٰٓؤُا مَا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ Open ayah 6:5 in the Quran reader

سو بلا شبہ انہوں نے حق کو جھٹلایا جب ان کے پاس آیا۔ سو عنقریب آجائیں گی ان کے پاس اس چیز کی خبریں جس کا مذاق بنایا کرتے تھے۔

مکذبین کے لئے وعید پھر فرمایا (فَقَدْ کَذَّبُوْا بالْحَقِّ لَمَّا جَآءَ ھُمْ فَسَوْفَ یَاْتِیْھِمْ اَنْبآؤُا مَا کَانُوْا بِہٖ یَسْتَھْزِءُ وْنَ ) مطلب یہ ہے کہ جب ان کے پاس حق آیا تو اس کو جھٹلا دیا، حق کو جھٹلاتے بھی ہیں اور مذاق بھی بناتے ہیں۔ اس مذاق بنانے اور جھٹلانے کا انجام عنقریب حاضر ہوجائیگا اور اپنے اعمال کے نتائج دیکھ لیں گے اور بطور تو بیخ ان سے کہا جائیگا کہ یہ ہے تمہارے اعمال کا نتیجہ۔ ففی سورة الدخان (اِنَّ ھٰذَا مَا کُنْتُمْ بِہٖ تَمْتَرُوْنَ ) (بیشک یہ وہ ہے جس میں تم شک کرتے ہو) (اِصْلَوْھَا الْیَوْمَ بِمَا کُنْتُمْ تَکْفُرُوْنَ ) (آج اس میں داخل ہوجاؤ اس وجہ سے کہ تم کفر کرتے تھے)
Ayah 6:6

اَلَمْ یَرَوْا كَمْ اَهْلَكْنَا مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنْ قَرْنٍ مَّكَّنّٰهُمْ فِی الْاَرْضِ مَا لَمْ نُمَكِّنْ لَّكُمْ وَ اَرْسَلْنَا السَّمَآءَ عَلَیْهِمْ مِّدْرَارًا١۪ وَّ جَعَلْنَا الْاَنْهٰرَ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهِمْ فَاَهْلَكْنٰهُمْ بِذُنُوْبِهِمْ وَ اَنْشَاْنَا مِنْۢ بَعْدِهِمْ قَرْنًا اٰخَرِیْنَ Open ayah 6:6 in the Quran reader

کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ ہم نے ان سے پہلے کتنی امتوں کو ہلاک کردیا، انکو ہم نے زمین ایسا اقتدار دیا تھا جو تم کو نہیں دیا، اور ہم نے ان پر زور دار بارشیں برسائیں اور ہم نے نہریں بنا دیں جو انکے نیچے جاری تھیں پھر ہم نے ان کو ان کے گناہوں کے سبب ہلاک کردیا۔ اور ان کے بعد ہم نے پیدا کردیں دوسری امتیں

قرون ماضیہ ہالکہ سے عبرت حاصل کرنے کا حکم نزول قرآن کے وقت عرب کے مشرکین اولین مخاطب تھے۔ وہ قرآن مجید کی بھی تکذیب کرتے تھے اور رسول ﷺ کے ساتھ بھی بری طرح پیش آتے تھے ایذائیں بھی دیتے تھے اور مذاق بھی بناتے تھے، پڑھے لکھے تو تھے نہیں جو پرانی امتوں کے واقعات کتابوں میں پڑھ لیتے اور تالیف و تصنیف کا ایسا دور بھی نہ تھا کہ کتابیں مدون ہوتیں لیکن یہ لوگ تجارت کے لیے ملک شام جا یا کرتے تھے۔ اس سفر میں مدینہ منورہ کے یہودیوں پر گذر ہوتا تھا۔ شام میں نصاریٰ آباد تھے۔ ان قوموں سے مل کر پرانی امتوں کے واقعات اور قصے سنتے تھے اور خود بھی سابقہ امتوں کی بربادی کے نشانات اپنی آنکھوں سے دیکھتے تھے۔ حضرت صالح (علیہ السلام) کے پہاڑوں سے تراشے ہوئے گھر ان کے سامنے آتے تھے جو تبوک جاتے ہوئے راستے میں پڑتے تھے۔ کہاں گئے ان گھروں کے بنانے والے اور کہاں گیا ان کا کرو فرساری تمکنت اور سارا اقتدار خاک میں مل گیا۔ اصحاب فیل کی بربادی کا واقعہ تو اہل مکہ کے بچہ بچہ کی زبان پر تھا۔ یہ چیزیں ان کو اللہ تعالیٰ نے یا ددلائیں اور فرمایا کہ تم جو ہمارے رسول اور ہماری کتب کی تکذیب کرتے ہو کیا تمہیں اس سے کچھ بھی عبرت نہیں پھر کیسے عذاب سے بچ سکتے ہو ؟ ان کی زبردست حکومت بھی تھی اور مالی اعتبار سے بھی ہم نے خوب نواز تھا۔ ان پر موسلا دھار بارشیں برسائیں ان کے لئے نہریں جاری کیں جو ان کے باغوں اور کھیتوں میں جاری تھیں یہ لوگ اوپر بیٹھ کر ان سب کا نظارہ کرتے تھے اور خوش ہوتے تھے۔ انہوں نے نعمتوں کی بےقدری کی۔ بغاوت اور سرکشی پر اتر آئے کفر سے باز نہ آئے۔ برابر گناہوں میں لپٹے رہے لہٰذا ہم نے انہیں ہلاک کردیا۔ ایک قوم ہلاک ہوئی تو ان کے بعد دوسری قوم پیدا کردی جو لوگ اس وقت موجود ہیں وہ اس سے عبرت حاصل کریں۔ سورة سبا میں فرمایا (وَ کَذَّبَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِھِمْ وَ مَا بَلَغُوْا مِعْشَارَ مَآ اٰتَیْنٰھُمْ فَکَذَّبُوْا رُسُلِیْ فَکَیْفَ کَانَ نَکِیْرِ ) (ترجمہ) اور جھٹلایا ان لوگوں نے جو ان سے پہلے تھے اور یہ لوگ نہیں پہنچے اس کے دسویں حصے کو بھی جو ہم نے ان کو دے رکھا تھا۔ سو جھٹلایا میرے پیغمبروں کو تو کیسا ہوا میرا عذاب ؟ مشرکین کو تنبیہ فرمانے اور یہ بتانے کے بعد کہ تم سے پہلے بہت سی امتیں آئیں اور وہ اپنے گناہوں کی وجہ سے برباد ہوئیں۔ ان کے ایک معاندانہ سوال کا ذکر فرمایا پھر اس کی تردید فرمائی۔ معالم التنزیل ص 85 ج 2 میں لکھا ہے کہ نضر بن الحارث، عبد اللہ بن ابی امیہ اور نوفل بن خویلد نے کہا اے محمد ﷺ ہم ہرگز ایمان نہ لائیں گے جب تک کہ آپ اللہ کے پاس سے ایسی کتاب نہ لائیں جس کے ساتھ چار فرشتے ہوں وہ گواہی دے رہے ہوں کہ یہ اللہ کی طرف سے ہے اور آپ اللہ کے رسول ہیں۔
Ayah 6:7

وَ لَوْ نَزَّلْنَا عَلَیْكَ كِتٰبًا فِیْ قِرْطَاسٍ فَلَمَسُوْهُ بِاَیْدِیْهِمْ لَقَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا سِحْرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 6:7 in the Quran reader

اور اگر ہم اتار دیں آپ پر کاغذ میں لکھا ہوا کوئی نوشتہ پھر وہ اس کو اپنے ہاتھوں سے چھولیں تب بھی کافر لوگ یوں کہیں گے کہ یہ کچھ نہیں ہے مگر صریح جادو ہے،

اس پر اللہ تعالیٰ شانہ نے آیت کریمہ (وَ لَوْ نَزَّلْنَا عَلَیْکَ کِتٰبًا فِیْ قِرْطَاسٍ الخ) نازل فرمائی یعنی اگر ہم ان پر کاغذ میں لکھی ہوئی کتاب نازل کردیں پھر وہ اسے اپنے ہاتھوں سے چھولیں تب بھی ایمان لانے والے نہیں۔ کتاب کو دیکھ کر ہاتھ لگا کر بھی منکر ہی رہیں گے اور یوں کہہ دیں گے کہ یہ کھلا ہوا جادو ہے یہ جو کہہ رہے ہیں کہ کتاب آجائے اور فرشتے آجائیں تو ہم ایمان لے آئیں گے یہ ضد اور عناد ہے ایمان لانا مقصود نہیں ہے۔
Ayah 6:8

وَ قَالُوْا لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْهِ مَلَكٌ١ؕ وَ لَوْ اَنْزَلْنَا مَلَكًا لَّقُضِیَ الْاَمْرُ ثُمَّ لَا یُنْظَرُوْنَ Open ayah 6:8 in the Quran reader

اور وہ کہتے ہیں کہ کیوں نہیں اتارا گیا اس پر فرشتہ اور اگر ہم کوئی فرشتہ اتار دیتے تو فیصلہ کردیا جاتا پھر ان کو کوئی مہلت نہ دی جاتی

مشرکوں کی اس بات کا جواب کہ فرشتوں کو کیوں مبعوث نہیں کیا گیا اس کے بعد مشرکین کے ایک مطالبہ کا تذکرہ فرمایا، ارشاد فرمایا (وَ قَالُوْا لَوْ لَآ اُنْزِلَ عَلَیْہِ مَلَکٌ) (اور انہوں نے کہ کہ کیوں نہ نازل ہوا فرشتہ) مشرکین مکہ یہ بھی مطالبہ کرتے تھے کہ محمد ﷺ کے پاس فرشتہ آتا اور ان کی تصدیق کرتا تو ہم ایمان لے آتے۔ اس کے جواب میں فرمایا۔ (وَ لَوْ اَنْزَلْنَا مَلَکًا لَّقُضِیَ الْاَمْرُ ثُمَّ لَا یُنْظَرُوْنَ ) (کہ اگر ہم کوئی فرشتہ بھیج دیتے تو فیصلہ ہوجاتا اور پھر انکو ذرا مہلت نہ دی جاتی) کیونکہ اللہ تعالیٰ کی عادت یہ ہے کہ جو لوگ اپنی طرف سے کوئی معجزہ تجویز کر کے طلب کرتے ہیں اور پھر وہ معجزہ ظاہر ہوجاتا ہے اور اس کے بعد بھی ایمان نہیں لاتے تو پھر ان کے کو ڈھیل نہیں دی جاتی اور بغیر مہلت عذاب دیا جاتا ہے۔ قال صاحب معالم التنزیل قال قتادۃ لواَنْزَلْنَا ملکالًا یومنو العجل لھم العذاب ولم یوخروا طرفۃ عین اور بعض مفسرین نے (لَقُضِیَ الْاَمْرُ ) کا یہ مطلب بتایا ہے کہ اگر ہم فرشتہ بھیج دیتے اور وہ اپنی صورت میں ہوتا تو یہ لوگ اس کو دیکھنے کی تاب نہ لاسکتے اور اسے دیکھ کر مرجاتے۔ نقلہ فی معالم التنزیل عن الضحاک۔
Ayah 6:9

وَ لَوْ جَعَلْنٰهُ مَلَكًا لَّجَعَلْنٰهُ رَجُلًا وَّ لَلَبَسْنَا عَلَیْهِمْ مَّا یَلْبِسُوْنَ Open ayah 6:9 in the Quran reader

اور اگر ہم اس کو فرشتہ بناتے تو اس کو آدمی ہی بناتے اور ہم ان پر شبہ ڈال دیتے جس شبہ میں وہ اب پڑ رہے ہیں ،

پھر فرمایا (وَ لَوْ جَعَلْنٰہُ مَلَکًا لَّجَعَلْنٰہُ رَجُلًا وَّ لَلَبَسْنَا عَلَیْھِمْ مَّا یَلْبِسُوْنَ ) اگر ہم اس کو فرشتہ بناتے تو اس کو آدمی ہی بناتے اور ہم ان پر شبہ ڈال دیتے جس شبہ میں وہ اب پڑئے ہوئے ہیں مطلب یہ ہے کہ اگر ہم فرشتہ کو نبی بنا کر بھیجتے تو آدمی کی صورت میں آتا کیونکہ انسانوں کو اتنی طاقت اور تاب نہیں ہے کہ وہ فرشتے کو اس کی اصلی صورت میں دیکھ سکیں۔ جب اس کی صورت انسانی صورت ہی ہوتی تو یہ لوگ پھر معاندانہ باتیں کرتے اور کہتے کیا معلوم یہ فرشتہ ہے، جو باتیں اب کہہ رہے ہیں کہ یہ صاحب جو نبوت کا دعویٰ کر رہے ہیں ہمارے جیسے آدمی ہیں فرشتہ کو انسانی صورت میں دیکھ کر ایسی باتیں کرتے اور یہی کہہ دیتے کہ یہ تو ہمارے جیسا ہے اس میں کون سے خصوصیت ہے جو نبی بنادیا گیا۔ لہٰذا فرشتہ کو رسول بنا کر آنے کی صورت میں بھی لوگوں جواب شبہ ہو رہا ہے، پھر بھی باقی رہتا، اور حقیقت میں ان لوگوں کے یہ بہانے ہیں کہ ایسا ہوتا تو ہم مان لیتے، یہ حق کے طالب نہیں اگر حق کے طالب ہوتے تو نبی اکرم ﷺ کے معجزات دیکھ کر جو بشر ہیں اور انہیں میں سے ہیں ایمان لے آتے۔
Ayah 6:10

وَ لَقَدِ اسْتُهْزِئَ بِرُسُلٍ مِّنْ قَبْلِكَ فَحَاقَ بِالَّذِیْنَ سَخِرُوْا مِنْهُمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ۠ Open ayah 6:10 in the Quran reader

اور بلاشبہ آپ سے پہلے رسولوں کے ساتھ استہزا کیا گیا۔ پھر جب لوگوں نے استہزا کیا تو ان کو اس چیز نے گھیر لیا جس کا وہ مذاق اڑیا کرتے تھے۔

استہزا کرنے والوں کے لئے وعید پھر رسول اللہ ﷺ کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا (وَ لَقَدِ اسْتُھْزِئَ بِرُسُلٍ مِّنْ قَبْلِکَ فَحَاق بالَّذِیْنَ سَخِرُوْا مِنْھُمْ مَّا کَانُوْا بِہٖ یَسْتَھْزِءُ وْنَ ) (اور بلاشبہ آپ سے پہلے رسولوں کے ساتھ بھی استہزا کیا گیا۔ پھر جن لوگوں نے استہزا کیا ان کو اس چیز نے گھیر لیا جس کا وہ مذاق اڑایا کرتے تھے۔ ) اس میں اول تو رسول اللہ ﷺ کو تسلی ہے کہ تکذیب کرنے والے جو کچھ آپ کے ساتھ استہزا کرتے ہیں مذاق بناتے ہیں ہے یہ کوئی نئی چیزیں نہیں ہے آپ سے پہلے جو رسول گذرے ہیں ان کے ساتھ بھی ایسا ہوتا رہا ہے لہٰذا آپ بھی صبر کریں جیسا ان حضرات نے صبر کیا پھر انجام یہ ہوا کہ جن لوگوں نے ایسی حرکتیں کی تھیں وہ ان کے وبال میں مبتلا ہوئے اور استہزاء اور مسخرہ پن کی سزا میں ان کو عذاب نے گھیر لیا۔ ان معاندین و مستہزئین کا بھی ایسا ہی انجام ہونے والا ہے۔ قال صاحب الروح فکانہ سبحانہ وتعالیٰ وعدہ ﷺ بعقوبۃ من استھزابہٖ (علیہ السلام) ان اصرعلی ذلک ج 7 ص 101
Ayah 6:11

قُلْ سِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ ثُمَّ انْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُكَذِّبِیْنَ Open ayah 6:11 in the Quran reader

آپ فرما دیجئے کہ چلو زمین میں پھر دیکھو جھٹلانے والوں کا کیا انجام ہوا۔

اس کے بعد مکذبین اور معاندین کو مزید تنبیہ فرمائی اور ارشاد فرمایا (قُلْ سِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ ثُمَّ انْظُرُوْا کَیْفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الْمُکَذِّبِیْنَ ) کہ زمین میں چلو پھر دیکھو کیسا انجام ہو اجھٹلانے والوں کا، دنیا میں چلیں پھریں دنیاوالوں کے کھنڈروں سے اور ان کی ہلاکت و بربادی کے واقعات سے عبرت حاصل کریں۔
Ayah 6:12

قُلْ لِّمَنْ مَّا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ قُلْ لِّلّٰهِ١ؕ كَتَبَ عَلٰى نَفْسِهِ الرَّحْمَةَ١ؕ لَیَجْمَعَنَّكُمْ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ لَا رَیْبَ فِیْهِ١ؕ اَلَّذِیْنَ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ فَهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 6:12 in the Quran reader

آپ فرما دیجئے ! کس کی ملکیت ہے جو آسمانوں میں ہے اور زمینوں میں ہے۔ فرما دیجئے یہ سب اللہ ہی کے لئے ہے اس نے اپنے اوپر رحمت کرنا لازم فرما لیا ہے اور وہ ضرور تم کو قیامت کے دن جمع فرمائے گا جس میں کوئی شک نہیں جن لوگوں نے اپنی جانوں کو نقصان میں ڈالا وہ ایمان نہیں لائیں گے ،

آسمانوں اور زمین میں سب اللہ ہی کا ہے وہ قیامت کے دن سب کو جمع فرمائیگا ان آیات میں اول تو نبی اکرم ﷺ کو حکم فرمایا گیا کہ آپ ان سے پوچھ لیں کہ بتاؤ جو کچھ آسمانوں میں ہے اور زمین میں ہے یہ کس کا ہے ؟ یہ سب کس کی مخلوق ہے ؟ اور کس کی ملکیت ہے ؟ اور ان سب میں کس کا تصرف ہے ؟ پھر فرمایا کہ آپ خود ہی جواب دیدیں کہ یہ سب چیزیں اللہ کی ہیں سب اس کے زیر تصرف ہیں جو بھی کوئی ذرا بہت اختیار اور اقتدار رکھتا ہے وہ سب اسی کا دیا ہوا ہے۔ وہ جب چاہتا ہے چھین لیتا ہے۔ اس نے ان سب کو پیدا فرمایا وہ سب پر مہربان بھی ہے۔ اس نے اپنے اوپر لازم قرار دیا ہے کہ وہ رحمت فرمائے گا۔ مومنین پر تو اس کی رحمت دنیا اور آخرت دونوں میں ہے، اور اہل کفر کے ساتھ بھی دنیا میں مہربانی کا معاملہ ہے۔ اور اگر وہ بغاوت چھوڑ دیں اور ایمان قبول کرلیں اللہ کے رسولوں ( علیہ السلام) اور اس کی کتابوں کی تکذیب سے باز آجائیں تو آخرت میں بھی ان پر رحم ہوگا۔ سورة اعراف میں فرمایا (قَالَ عَذَابِیْٓ اُصِیْبُ بِہٖ مَنْ اَشَآءُ وَ رَحْمَتِیْ وَسِعَتْ کُلَّ شَیْءٍ فَسَاَکْتُبُھَا لِلَّذِیْنَ یَتَّقُوْنَ وَ یُؤْتُوْنَ الزَّکٰوۃَ وَ الَّذِیْنَ ھُمْ بِاٰیٰتِنَا یُؤْمِنُوْنَ ) (فرمایا اللہ تعالیٰ نے کہ میرا عذاب ہے میں جسے چاہوں پہنچا دوں، اور میری رحمت ہر چیز کے لئے عام ہے۔ سو میں اپنی رحمت کو لکھ دوں گا ان لوگوں کے لئے جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں زکوٰۃ دیتے ہیں اور جو لوگ ہماری آیات پر ایمان لاتے ہیں۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جب اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا فرمایا تو ایک نوشتہ لکھا جو اس کے پاس عرش پر ہے اس میں لکھا ہے کہ میری رحمت میرے غضب پر غالب رہے گی۔ (رواہ البخاری ج 2 ص 1101) نیز حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ بلا شبہ اللہ تعالیٰ کی سو رحمتیں ہیں ان میں سے ایک رحمت نازل فرمائی جو جن اور انسان اور چوپائے اور زہریلے جانوروں میں بٹی ہوئی ہے اس ایک رحمت کے ذریعہ آپس میں ایک دوسرے پر مہربانی کرتے ہیں اور رحم کرتے ہیں اور اسی کے ذریعہ وحشی جانور تک اپنی اولاد پر مہربانی کرتے ہیں اور ننانوے رحمتیں اللہ نے رکھ لی ہیں جن کے ذریعہ قیامت کے دن وہ اپنے بندوں پر رحم فرمائے گا۔ (رواہ البخاری) پھر فرمایا (لَیَجْمَعَنَّکُمْ اِلٰی یَوْمِ الْقِیٰمَۃِ لَا رَیْبَ فِیْہِ اَلَّذِیْنَ خَسِرُوْٓا اَنْفُسَھُمْ فَھُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ ) (کہ اللہ تعالیٰ تم سب کو قیامت کے دن ضرور جمع فرمائے گا جس میں کوئی شک نہیں جن لوگوں نے اپنے نفسوں کو خسارہ میں ڈالا وہ ایمان نہ لائیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے سب کو اپنی مہربانی سے پیدا فرمایا وہ سب کی پرورش فرماتا ہے وہاں کے حساب و کتاب سے باخبر فرمایا لیکن جن لوگوں نے اپنے نفسوں کو خسارے میں ڈال لیا فطرت اصلیہ کو کھو دیا عقل سلیم سے کام نہیں لیا وہ اپنی جانوں کو ضائع کرچکے۔ اب ان کو ایمان لانا نہیں کوئی تو اپنے مال کو ضائع کرتا ہے ان لوگوں نے اپنی جانوں کو ضائع کردیا اور ایمان جیسی پونجی کو ہاتھ نہ لگنے دیا۔ (اَلَا ذَالِکَ ھُوَ الْخُسْرَانُ الْمُبِیْنُ )
Ayah 6:13

وَ لَهٗ مَا سَكَنَ فِی الَّیْلِ وَ النَّهَارِ١ؕ وَ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 6:13 in the Quran reader

اور اسی کے لئے ہے جو ساکن ہے رات میں اور دن میں اور وہ سننے والا جاننے والا ہے۔

رات اور دن میں جو کچھ سکونت پذیر ہے سب اللہ ہی کا ہے پھر فرمایا (وَ لَہٗ مَا سَکَنَ فِی الَّیْلِ وَ النَّھَارِ ) (اور اللہ ہی کے لئے ہے جو ساکن ہے رات اور دن میں) سکن ٹھہرنے کے معنی میں بھی ہوسکتا ہے یعنی جو کچھ رات اور دن میں ٹھہرا ہوا ہے وہ اللہ ہی کی مخلوق ہے ساکن غیر متحرک ہونے کے معنی میں بھی ہوسکتا ہے یعنی جو چیزیں رات اور دن میں غیر متحرک ہیں وہ بھی اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہیں یہ چیزیں بھی (مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ ) میں داخل ہیں لیکن پھر بھی الگ سے ان کا ذکر فرمایا کیونکہ یہ چیزیں ہر وقت مخاطبین کے سامنے ہیں اور خود مخاطبین بھی اس میں شامل ہیں جو کچھ نظر کے سامنے ہو اس کو دیکھ کر زیادہ بصیرت اور عبرت حاصل ہوتی ہے۔ پھر فرمایا (وَ ھُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ ) کہ اللہ تعالیٰ سننے والا جاننے والا ہے۔ سب اپنے اقوال اور اعمال کی طرف غور کریں کہ رضا کے خلاف تو نہیں چل رہے ہیں۔ آپ یہ اعلان کردیں کہ میں غیر اللہ کو ولی نہیں بنا سکتا
Ayah 6:14

قُلْ اَغَیْرَ اللّٰهِ اَتَّخِذُ وَلِیًّا فَاطِرِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ هُوَ یُطْعِمُ وَ لَا یُطْعَمُ١ؕ قُلْ اِنِّیْۤ اُمِرْتُ اَنْ اَكُوْنَ اَوَّلَ مَنْ اَسْلَمَ وَ لَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُشْرِكِیْنَ Open ayah 6:14 in the Quran reader

آپ فرما دیجئے ! کیا میں اللہ کے سوا کسی کو مددگار بنالوں جو پیدا کرنے والا ہے آسمانوں اور زمین کا۔ اور وہ کھلاتا ہے اور اسے کھلایا نہیں جاتا۔ آپ فرما دیئے ! بلاشبہ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں سب سے پہلا وہ شخص ہوجاؤں جو فرمانبردار ہوا، اور آپ ہرگز مشرکین میں سے نہ ہوجائیے۔

پھر فرمایا (قُلْ اَغَیْرَ اللّٰہِ اَتَّخِذُ وَ لِیًّا) جو لوگ مشرک تھے وہ اپنے شرک کو چھوڑنے کو تیار نہ تھے اور وہ چاہتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ دعوت توحید چھوڑدیں اور ہمارے دین میں شامل ہوجائیں، اور یہ بات نئی نہیں تھی آنحضرت ﷺ سے پہلے جو انبیاء کرام (علیہ السلام) تشریف لائے تھے ان کی امتوں نے بھی یہی بات کہی تھی۔ (وَ قَالَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا لِرُسُلِھِمْ لَنُخْرِجَنَّکُمْ مِّنْ اَرْضِنَآ اَوْ لَتَعُوْدُنَّ فِیْ مِلَّتِنَا) اللہ تعالیٰ شانہ نے حضرت رسول اکرم ﷺ کو حکم دیا کہ آپ ان سے فرما دیں کیا اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو اپنا ولی بنا لوں ؟ یہ کیسے ہوسکتا ہے اللہ تعالیٰ آسمانوں کا اور زمین کا پیدا کرنے والا ہے اور وہ سب کو کھلاتا ہے اور اس کو کھلایا نہیں جاتا اس میں مشرکین کی بےوقوفی پر تنبیہ ہے کہ وہ اللہ کے علاوہ جن کی پرستش کرتے ہیں انہوں نے تو کچھ بھی پیدا نہیں کیا اور نہ اللہ کے سوا کوئی پیدا کرنے والا ہے۔ یہ تو خود مخلوق ہیں یہ کیسی ناسمجھی کی بات ہے کہ خالق تعالیٰ شانہ کو چھوڑ کر مخلوق کی عبادت کی جائے، تم خود بےقوفی میں مبتلا ہو مجھے بھی اس کی دعوت دیتے ہو، اللہ تعالیٰ شانہ خالق بھی ہے رازق بھی ہے۔ تم بھی اس کا دیا ہواکھاتے ہو اور اس کے علاوہ جن کی پرستش کرتے ہو ان کی حاجتیں بھی وہی پوری فرماتا ہے اس کو چھوڑ کر کسی دوسرے کو کیونکر معبود بنایا جاسکتا ہے، وہ کھلاتا ہے اس کو کھلایا نہیں جاتا اس کو کھانے کی حاجت نہیں جو لوگ کھاتے ہیں وہ حاجت مند ہیں جو خود حاجت مند ہو اس میں معبود ہونے کی صلاحیت کہاں ہے ؟ پھر فرمایا (اِنِّیْٓ اُمِرْتُ اَنْ اَکُوْنَ اَوَّلَ مَنْ اَسْلَمَ ) آپ فرما دیجئے ! کہ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں اپنے رب کا سب سے پہلا فرمانبر دار اور دل وجان سے اس کے احکام کو ماننے والا اور تعمیل کرنے والا بن جاؤں میرے رب نے مجھ سے یہ بھی فرمایا (وَ لَا تَکُوْنَنَّ مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ ) (آپ ہرگز مشرکین میں سے نہ ہوجائیں) لہٰذا میں توحید ہی پر رہوں گا اور شرک اختیار نہیں کرسکتا تم بھی شرک چھوڑو اور توحید پر آجاؤ۔ (اَوَّلَ مَنْ اَسْلَمَ ) جو فرمایا یہ اس اعتبار سے ہے کہ آخر الامم کے اولین مسلم اور فرمانبردار آپ ہی ہیں نیز شریعت پر عمل کرنے میں بھی آپ اول ہیں۔ قال صاحب الروح لان النبی (علیہ السلام) مامور بما شرعہ الاما کان من خصائصہ و ھو امام امَّتِہٖ و مقتداھم و ینبغی لکل آمران یکون ھو العامل اوّلا بما امربہ لیکون ادعی الا متثال (ج 7 ص 110)
Ayah 6:15

قُلْ اِنِّیْۤ اَخَافُ اِنْ عَصَیْتُ رَبِّیْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ Open ayah 6:15 in the Quran reader

آپ فرما دیجئے ! کہ بیشک ! میں اگر اپنے رب کی نافرمانی کروں تو بڑے دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں،

اس کے بعد فرمایا (قُلْ اِنِّیْٓ اَخَافُ اِنْ عَصَیْتُ رَبِّیْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ ) (آپ فرما دیجیے ! کہ میں اپنے رب کی نافرمانی کروں تو مجھے بڑے دن کے عذاب کا خوف ہے) بڑے دن سے قیامت کا دن مراد ہے،
Ayah 6:16

مَنْ یُّصْرَفْ عَنْهُ یَوْمَئِذٍ فَقَدْ رَحِمَهٗ١ؕ وَ ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْمُبِیْنُ Open ayah 6:16 in the Quran reader

اس دن جس سے عذاب ہٹا دیا گیا سو میرے رب نے اس پر رحم فرمایا، اور یہ کھلی کامیابی ہے۔

اس دن کا عذاب بہت بڑا ہے (مَنْ یُّصْرَفْ عَنْہُ یَوْمَءِذٍ فَقَدْ رَحِمَہٗ ) جس سے اس دن عذاب ٹل گیا تو اللہ تعالیٰ نے اس پر رحم فرما دیا (وَ ذٰلِکَ الْفَوْزُ الْمُبِیْنُ ) اور اس دن عذاب کا ٹل جانا واضح اور کھلی کامیابی ہے۔
Ayah 6:17

وَ اِنْ یَّمْسَسْكَ اللّٰهُ بِضُرٍّ فَلَا كَاشِفَ لَهٗۤ اِلَّا هُوَ١ؕ وَ اِنْ یَّمْسَسْكَ بِخَیْرٍ فَهُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 6:17 in the Quran reader

اور اگر اللہ تجھے کوئی تکلیف پہنچا دے تو اس تکلیف کا دور کرنے والا اس کے علاوہ کوئی نہیں۔ اور اگر وہ تجھے کوئی بھلائی پہنچا دے تو وہ ہر چیز پر قادر ہے

ضرر اور خیر صرف اللہ تعالیٰ ہی پہنچا سکتا ہے : اس کے بعد فرمایا (وَ اِنْ یَّمْسَسْکَ اللّٰہُ ) (الآیۃ) کہ اے مخاطب ! اگر اللہ تجھے کوئی ضرر دکھ یا تکلیف پہنچا دے تو اسے اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی بھی دور کرنے والا نہیں۔ اور اگر وہ کوئی خیر (صحت و غناء وغیرہ) پہنچا دے تو اسے کوئی روکنے والا نہیں (فَلَا رَآدَّ لِفَضْلِہٖ ) اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ اسے چھوڑ کر جو غیروں کی عبادت کرتے ہو۔ انہیں تو خیر و شر پہنچانے کی کچھ بھی قدرت نہیں ہے۔ صحیح مسلم میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ رکوع سے سر اٹھا کر جو اللہ کی حمد ثنا بیان کرتے تھے اس میں یہ بھی تھا۔ (اَللّٰھُمَّ لَا مَانِعًا لِمَآ اَعْطَیْتَ وَ لَا مُعْطِیً لَمَا مَنَعْتَ وَ لَا یَنْفَعُ ذَاالْجَدُّ مِنْکَ الْجَدُّ ) (مشکوٰۃ المصابیح ج 1 ص : 82) (اے اللہ ! جو کچھ آپ عطا فرمائیں اس کا کوئی روکنے والا نہیں اور جو کچھ آپ روک لیں اس کا کوئی دینے والا نہیں اور کسی مالدار کو اس کی مالداری آپ کے مقابلہ میں نفع نہیں دے سکتی) حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے بیان فرمایا کہ میں ایک دن رسول اللہ ﷺ کے پیچھے پیچھے چل رہا تھا آپ نے فرمایا اے لڑکے ! تو اللہ کا دھیان رکھ اللہ تیری حفاظت فرمائے گا۔ تو اللہ کا دھیان رکھ تو اسے اپنے آگے پائے گا۔ اور جب تو سوال کرے تو اللہ ہی سے سوال کر ! اور جب تو مدد مانگے تو اللہ ہی سے مدد مانگ اور اس کا یقین رکھ کہ اگر ساری امت اس مقصد سے جمع ہوجائے کہ تجھے کچھ نفع پہنچا دے تو اس کے سوا کچھ نفع نہیں پہنچا سکتے جو اللہ نے تیرے لیے لکھ دیا ہے اور اگر ساری امت اس مقصد کے لیے جمع ہوجائے کہ تجھے کچھ ضرر نہیں پہنچا سکتے جو اللہ نے تیرے لیے لکھ دیا ہے۔ (رواہ الترمذی قبیل ابواب صفۃ الجنۃ۔ 12) نفع اور ضرر مقدر ہے اور سب اللہ ہی کے قبضہ قدرت میں ہے وہ جسے محروم کر دے اسے کوئی کچھ نہیں دے سکتا اور وہ جسے دکھ تکلیف اور نقصان پہنچائے اسے اس کے علاوہ کوئی نہیں ہٹا سکتا۔
Ayah 6:18

وَ هُوَ الْقَاهِرُ فَوْقَ عِبَادِهٖ١ؕ وَ هُوَ الْحَكِیْمُ الْخَبِیْرُ Open ayah 6:18 in the Quran reader

اور وہ اپنے بندوں پر غالب ہے اور وہ حکمت والا ہے باخبر ہے۔

پھر فرمایا (وَ ھُوَ الْقَاھِرُ فَوْقَ عِبَادِہٖ ) (اور وہ اپنے بندوں پر غالب ہے اور حکمت والا ہے باخبر ہے، وہ جسے جس حال میں رکھے اسے اختیار ہے وہ حکیم ہے سب کچھ اس کی حکمت کے موافق ہے اور وہ خبیر بھی ہے سب کے احوال و اعمال کا اسے علم ہے جس کے ساتھ جو بھی معاملہ ہے حکمت کے موافق ہے اور علم کے مطابق ہے۔ )
Ayah 6:19

قُلْ اَیُّ شَیْءٍ اَكْبَرُ شَهَادَةً١ؕ قُلِ اللّٰهُ١ۙ۫ شَهِیْدٌۢ بَیْنِیْ وَ بَیْنَكُمْ١۫ وَ اُوْحِیَ اِلَیَّ هٰذَا الْقُرْاٰنُ لِاُنْذِرَكُمْ بِهٖ وَ مَنْۢ بَلَغَ١ؕ اَئِنَّكُمْ لَتَشْهَدُوْنَ اَنَّ مَعَ اللّٰهِ اٰلِهَةً اُخْرٰى١ؕ قُلْ لَّاۤ اَشْهَدُ١ۚ قُلْ اِنَّمَا هُوَ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ وَّ اِنَّنِیْ بَرِیْٓءٌ مِّمَّا تُشْرِكُوْنَۘ Open ayah 6:19 in the Quran reader

آپ فرما دیجیے کہ گواہی کے لیے سب سے بڑھ کر کون سی چیز ہے ؟ آپ فرما دیجیے کہ میرے اور تمہارے درمیان اللہ گواہ ہے، اور میری طرف یہ قرآن وحی کے ذریعہ بھیجا گیا ہے تاکہ میں اس کے ذریعہ تمہیں اور جس جس کو یہ قرآن پہنچے اس سے ڈراؤں، کیا تم گواہی دیتے ہو کہ اللہ کے ساتھ دوسرے معبود ہیں ؟ آپ فرما دیجیے کہ میں تو ایسی گواہی نہیں دیتا، آپ فرما دیجیے کہ صرف وہی ایک معبود ہے اور بلاشبہ میں اس سے بیزار ہوں جن کو تم شریک بناتے ہو،

اللہ کی گواہی سب سے بڑی گواہی ہے تفسیر لباب النقول میں حضرت ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ نحام بن زید، قروم بن کعب اور بحری بن عمرو (مشرکین) رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آئے اور کہنے لگے اے محمد ! کیا تم اللہ کے سوا کسی دوسرے کو معبود جانتے ہو ؟ آپ نے فرمایا (لَا اِلٰہَ الاَّ اللّٰہ) (اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں) میں اسی کو لے کر بھیجا گیا ہوں اور اسی کی طرف دعوت دیتا ہوں، اس پر اللہ تعالیٰ نے آیت شریفہ (قُلْ اَیُّ شَیْءٍ اَکْبَرُ شَھَادَۃً ) نازل فرمائی۔ کہ آپ فرما دیجیے کون سی چیز شہادت کے اعتبار سے بڑی ہے۔ پھر خود ہی جواب دیجیے کہ اللہ میرے اور تمہارے درمیان گواہ ہے اس سے بڑھ کر کسی کی گواہی نہیں اس نے مجھے اپنا پیغامبر بنا کر بھیجا ہے۔ اور لا الہ اللہ کی دعوت دینے کا حکم فرمایا ہے۔ میں اس کی دعوت پر قائم ہوں اور اسی کا پابند ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے جو معجزات اور آیات عطا فرمائے تھے ان سے آپ کے رسول برحق ہونے کی تصدیق ہوتی ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے بعثت اور رسول ہونے کی گواہی ہے مزید فرمایا (وَ اُوْحِیَ اِلَیَّ ھٰذَا الْقُرْاٰنُ لِاُنْذِرَکُمْ بِہٖ وَ مَنْ بَلَغَ ) ( اور میری طرف یہ قرآن وحی کے ذریعہ اتارا گیا تاکہ میں تمہیں اس کے ذریعہ ڈراؤں کہ اللہ کی توحید کے علاوہ دوسرے راستہ اختیار کرو گے تو عذاب میں مبتلا ہو گے تمہارے علاوہ اور جس جس کے پاس یہ قرآن پہنچے ان سب کو میں توحید کی دعوت دیتا ہوں) اس میں اس بات کا بھی اعلان ہے کہ سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ صرف اپنے زمانے کے مخاطبین ہی کی طرف مبعوث نہیں تھے بلکہ تا قیامت جس جس شخص کو آپ کی بعثت کا علم ہوتا رہے اور قرآن پہنچاتا رہے وہ سب آپ کی دعوت کے مخاطب ہیں اور سب پر آپ کی رسالت کا اقرار کرنا فرض ہے۔ سورۂ سبا میں فرمایا (وَ مَآ اَرْسَلْنٰکَ اِلَّا کَآفَّۃً لِّلنَّاسِ بَشِیْرًا وَّ نَذِیْرًا وَّ لٰکِنَّ اَکْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ ) اور ہم نے آپ کو تمام انسانوں کے لیے پیغمبر بنا کر بھیجا ہے خوش خبری سنانے والا اور ڈرانے والا لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔ (صحیح مسلم ج 1 ص 86) میں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا۔ و الذی نفس محمد بیدہ لا یسمع بی احد من ھذہ الاّمۃ یھودی و لا نصرانی ثم یموت و لم یومن بالذی ارسلت بہ الا کان من اصحاب النّار (قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں محمد کی جان ہے اس امت میں سے جس کسی کو میرے نبی ہونے کی خبر پہنچے گی خواہ وہ یہودی یا نصرانی ہو اور وہ اس دین پر ایمان لائے بغیر مرجائے گا جو دین لے کر میں بھیجا گیا ہوں تو وہ ضرور دوزخ والوں میں سے ہوگا۔ وہ یہودی ہو یا نصرانی) پھر فرمایا (اِءِنَّکُمْ لَتَشْھَدُوْنَ اَنَّ مَعَ اللّٰہِ اٰلِھَۃً اُخْرٰی) (کیا تم یہ گواہی دیتے ہو کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ اور بھی معبود ہیں ؟ ) پھر فرمایا (قُلْ لَّآ اَشْھَدُ ) (آپ فرما دیجیے ! میں اس بات کی گواہی نہیں دیتا) (قُلْ لَّآ اَشْھَدُ قُلْ اِنَّمَا ھُوَ اِلٰہٌ وَّاحِدٌ وَّ اِنَّنِیْ بَرِیْٓءٌ مِّمَّا تُشْرِکُوْنَ ) (آپ فرما دیجیے کہ معبود تو صرف ایک ہی ہے اور بلاشبہ میں تمہارے شرک سے بیزار ہوں) ۔
Ayah 6:20

اَلَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ یَعْرِفُوْنَهٗ كَمَا یَعْرِفُوْنَ اَبْنَآءَهُمْ١ۘ اَلَّذِیْنَ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ فَهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ۠ Open ayah 6:20 in the Quran reader

جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی وہ رسول کو پہچانتے ہیں جیسا کہ وہ اپنے بیٹوں کو پہچانتے ہیں۔ جن لوگوں نے اپنی جانوں کو ضائع کردیا سو وہ ایمان نہیں لائیں گے۔

یہود و نصاریٰ کی ہٹ دھرمی : اس کے بعد یہود و نصاریٰ کی ضد اور ہٹ دھرمی بیان فرمائی اور فرمایا (اَلَّذِیْنَ اٰتَیْنٰھُمُ الْکِتٰبَ یَعْرِفُوْنَہٗ کَمَا یَعْرِفُوْنَ اَبْنَآءَ ھُمْ ) (کہ جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی وہ ان کو پہنچانتے ہیں کہ وہ واقعی اللہ کے نبی ہیں جیسے وہ اپنے بیٹوں کو پہنچاتے ہیں) کیونکہ توریت اور انجیل میں آپ کی آمد کی خبر اور بشارت پڑھ چکے ہیں اور جو صفات و علامات آپ کے بارے میں بتائے گئے تھے انہیں دیکھ چکے ہیں۔ پہچاننے کے باو جود منکر ہو رہے ہیں۔ (اَلَّذِیْنَ خَسِرُوْٓا اَنْفُسَھُمْ فَھُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ ) (جن لوگوں نے اپنی ضد اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے حق کا انکار کیا اور آپ کی نبوت کو نہ مانا یہ لوگ اپنی جانوں ہی کو تباہ کر بیٹھے یہ ایمان نہ لائیں گے) ۔
Ayah 6:21

وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اَوْ كَذَّبَ بِاٰیٰتِهٖ١ؕ اِنَّهٗ لَا یُفْلِحُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 6:21 in the Quran reader

اور اس سے زیادہ ظالم کون ہوگا جو اللہ پر بہتان باندھے یا اس کی آیتوں کو جھٹلائے بیشک بات یہ ہے کہ ظلم کرنے والے کامیاب نہیں ہوتے

قیامت کے دن مشرکین سے سوال فرمانا اور ان کا مشرک ہونے کا انکار کرنا مشرکین کا یہ طریقہ تھا کہ شرک بھی کرتے تھے اور جب کہا جاتا تھا کہ اللہ پاک کے باغی مت بنو۔ توحید کو چھوڑ کر شرک اختیار نہ کرو تو کہہ دیتے تھے کہ ہم جو کچھ کر رہے ہیں اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس کا حکم دیا ہے اور جو آیات بینات نبیوں کے واسطہ سے ان تک پہنچی تھیں انہیں جھٹلا دیتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اس سے بڑھ کر کون ظالم ہوگا جو اللہ پر جھوٹ باندھے یا اس کی آیات کو جھٹلائے۔ یہ ظالم سمجھتے ہیں کہ ہم منہ زوری کر کے جو گمراہی پر جمے ہوئے ہیں اور نبی کی بات کو قبول نہیں کرتے یہ کامیابی کی بات ہے۔ ان کا یہ سمجھنا جہالت اور سفاہت پر مبنی ہے۔ (اِنَّہٗ لَا یُفْلِحُ الظّٰلِمُوْنَ ) (بلاشبہ بات یہ ہے کہ ظالم کامیاب نہ ہوں گے) یہ منہ زوری اور ہٹ دھرمی کام نہ آئے گی۔ آخرت میں دائمی عذاب میں مبتلا ہوں گے۔ ظالموں کی نا کامی اور بربادی کا تذکرہ فرما کر آخرت کا ایک منظر بیان فرمایا۔
Ayah 6:22

وَ یَوْمَ نَحْشُرُهُمْ جَمِیْعًا ثُمَّ نَقُوْلُ لِلَّذِیْنَ اَشْرَكُوْۤا اَیْنَ شُرَكَآؤُكُمُ الَّذِیْنَ كُنْتُمْ تَزْعُمُوْنَ Open ayah 6:22 in the Quran reader

اور جس دن ہم ان سب کو جمع کریں گے پھر ان لوگوں سے ہم کہیں گے جنہوں نے شرک کیا کہاں ہیں تمہارے شریک جن کے بارے میں تم دعویٰ کیا کرتے تھے ؟

اور ارشاد فرمایا (وَ یَوْمَ نَحْشُرُھُمْ جَمِیْعًا ثُمَّ نَقُوْلُ لِلَّذِیْنَ اَشْرَکُوْٓا اَیْنَ شُرَکَآؤُکُمُ الَّذِیْنَ کُنْتُمْ تَزْعُمُوْنَ ) (اور جس دن ہم ان سب کو جمع کریں گے پھر ہم مشرکین سے کہیں گے کہ تمہارے وہ شرکاء کہاں ہیں جن کے بارے میں تم دعویٰ کرتے تھے کہ وہ بھی معبود ہیں) یہ سن کر وہ شرک سے منکر ہوجائیں گے اور وہاں بھی فریب کاری سے کام لیں گے۔
Ayah 6:23

ثُمَّ لَمْ تَكُنْ فِتْنَتُهُمْ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوْا وَ اللّٰهِ رَبِّنَا مَا كُنَّا مُشْرِكِیْنَ Open ayah 6:23 in the Quran reader

پھر نہ ہوگا ان کا فریب اس کے سوا کہ وہ کہیں گے قسم ہے اللہ کی جو ہمارا رب ہے ہم شرک کرنے والے نہ تھے۔

ان کا فریب یہی ہوگا کہ وہ کہیں گے (وَ اللّٰہِ رَبِّنَا مَا کُنَّا مُشْرِکِیْنَ ) (کہ اللہ کی قسم ہم تو شرک کرنے والے نہ تھے) وہاں کا عذاب دیکھیں گے تو جھوٹ بول کر عذاب سے بچنے کی کوشش کریں گے جیسا کہ دنیا میں بعض مرتبہ اپنے افعال و اعمال کا انکار کر کے دنیاوی حاکموں کے سامنے چھٹکارا پالیتے تھے۔ آخرت کے دن اللہ تعالیٰ قاضی ہوگا وہ علیم وخبیر سمیع بصیر ہے اس کے سامنے جھوٹ نہ چل سکے گا لیکن یہ لوگ اپنی ہٹ دھرمی سے اپنے قصور کا انکار ہی کردیں گے۔
Ayah 6:24

اُنْظُرْ كَیْفَ كَذَبُوْا عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ وَ ضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ Open ayah 6:24 in the Quran reader

دیکھو کیسا جھوٹ بولا اپنی جانوں پر اور وہ سب کچھ غائب ہوا جو وہ جھوٹ بنایا کرتے تھے،

اللہ تعالیٰ نے فرمایا (اُنْظُرْ کَیْفَ کَذَبُوْا عَلآی اَنْفُسِھِمْ وَ ضَلَّ عَنْھُمْ مَّا کَانُوْا یَفْتَرُوْنَ ) (دیکھو اپنی جانوں پر کیسا جھوٹ بولا اور وہ سب کچھ غائب ہوا جو وہ جھوٹ بنایا کرتے تھے) قیامت کے دن مشرکین کے اقوال مختلف اوقات میں مختلف ہوں گے۔ اوّلا تو صاف صریح جھوٹ بول دیں گے کہ ہم مشرک نہ تھے کہ شاید اسی جھوٹ سے کام چل جائے اور عذاب میں داخل ہونے سے چھٹکارا ہوجائے، پھر جب ان کے خلاف گواہیاں ہوں گی اور خود ان کے اعضاء بھی ان کے خلاف گواہی دیں گے تو اپنے جرم کا اقرار کرلیں گے۔ (فَا عْتَرَ فْنَا بِذُنُوْبِنَا فَھَلْ الیٰ خُرُوْجٍ مّنْ سَبِیْلٍ )
Ayah 6:25

وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّسْتَمِعُ اِلَیْكَ١ۚ وَ جَعَلْنَا عَلٰى قُلُوْبِهِمْ اَكِنَّةً اَنْ یَّفْقَهُوْهُ وَ فِیْۤ اٰذَانِهِمْ وَقْرًا١ؕ وَ اِنْ یَّرَوْا كُلَّ اٰیَةٍ لَّا یُؤْمِنُوْا بِهَا١ؕ حَتّٰۤى اِذَا جَآءُوْكَ یُجَادِلُوْنَكَ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ هٰذَاۤ اِلَّاۤ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 6:25 in the Quran reader

اور ان میں بعض وہ ہیں جو آپ کی طرف کان لگاتے ہیں اور ہم نے ان کے دلوں پر پردے ڈال دیئے ہیں کہ وہ اس کو سمجھیں اور ان کے کانوں میں بھاری پن کردیا ہے۔ اور اگر یہ لوگ ہر طرح کی نشانیاں دیکھ لیں تب بھی ان پر ایمان نہ لائیں گے، یہاں تک کہ جب آپ کے پاس آتے ہیں تو آپ سے جھگڑا کرتے ہیں جنہوں نے کفر کیا وہ لوگ کہتے ہیں کہ یہ پچھلے لوگوں کی لکھی ہوئی باتوں کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔

مشرکین کا قرآن سے منتفع نہ ہونا اور یوں کہنا کہ یہ پرانے لوگوں کی باتیں ہیں اس کے بعد فرمایا (وَ مِنْھُمْ مَّنْ یَّسْتَمِعُ اِلَیْکَ ) (اور ان میں سے بعض وہ ہیں جو آپ کی طرف کان لگاتے ہیں) (وَ جَعَلْنَا عَلٰی قُلُوْبِھِمْ اَکِنَّۃً اَنْ یَّفْقَھُوْہُ ) (اور ہم نے ان کے دلوں پر پردے کردیئے کہ وہ اس کو سمجھیں، یعنی یہ پردے انہیں قرآن سمجھنے نہ دیں گے) (وَ فِیْٓ اٰذَانِھِمْ وَقْرًا) (اور ان کے کانوں میں بھاری پن کردیا) (جس کی وجہ سے ٹھیک طرح سے سن بھی نہیں سکتے) اور اس محرومی کی وجہ یہ ہے کہ وہ جو کان لگاتے ہیں تو سننے اور سمجھنے کے لیے نہیں لگاتے بلکہ بطور تمسخر اور استہزاء کے کان لگاتے ہیں۔ (وَ اِنْ یَّرَوْا کُلَّ اٰیَۃٍ لَّا یُؤْمِنُوْا بِھَا) (اور اگر ساری نشانیاں دیکھ لیں تب بھی ایمان نہ لائیں گے) کیونکہ ضد پر اترے ہوئے ہیں اور ہٹ دھرمی پر کمر باندھ رکھی ہے۔ (حَتّٰٓی اِذَا جَآءُ وْکَ یُجَادِلُوْنَکَ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْٓا اِنْ ھٰذَآ اِلَّآ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ ) (یہاں تک کہ جب آپ کے پاس آتے ہیں تو آپ سے جھگڑتے ہیں قرآن مجید جو کتاب مبین ہے دلائل سے بھری ہوئی ہے فصاحت و بلاغت کے اعلیٰ مرتبہ کو پہنچی ہوئی ہے اس کے بارے میں کافر لوگ کہہ دیتے ہیں کہ یہ تو پرانے لوگوں کی لکھی ہوئی باتیں ہیں) دلائل کے سامنے عاجز ہیں لیکن ماننے کا ارادہ نہیں ہے بات نہیں بن پڑتی تو پہلے لوگوں کی لکھی ہوئی باتیں بتا دیتے ہیں۔
Ayah 6:26

وَ هُمْ یَنْهَوْنَ عَنْهُ وَ یَنْئَوْنَ عَنْهُ١ۚ وَ اِنْ یُّهْلِكُوْنَ اِلَّاۤ اَنْفُسَهُمْ وَ مَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 6:26 in the Quran reader

اور وہ لوگ اس سے منع کرتے ہیں اور اس سے دور ہوتے ہیں، اور وہ نہیں ہلاک کرتے مگر اپنی جانوں کو اور سمجھتے نہیں ہیں۔

پھر فرمایا (وَ ھُمْ یَنْھَوْنَ عَنْہُ وَ یَنْھَوْنَ عَنْہُ ) (وہ لوگ آپ کے پاس آنے سے روکتے ہیں اور خود بھی دور ہوتے ہیں) دو ہرے جرم کے مرتکب ہیں بعض حضرات نے اس کا یہ مطلب بتایا ہے کہ ایذاء پہنچانے والوں کو روکتے ہیں اور آپ تک پہنچنے نہیں دیتے اور خود آپ کی دعوت توحید سے دور رہتے ہیں۔ اگر یہ معنی مراد ہوں تو اس سے آپ کے چچا ابو طالب اور دوسرے اقرباء مراد ہیں ان کو یہ بھی گوارا نہ تھا کہ لوگ آپ کو تکلیف پہنچائیں لیکن آپ کے دین کو بھی قبول نہ کرتے تھے۔ قال صاحب معالم التنزیل 2 ص 91 نرلت فی ابی طالب کان یَنْھی الناس عن اذی النبی ﷺ و یمنعھم وَیَنْھٰی عن الایمان بہٖ و فی تفسیر ابن کثیر ج 2 ص 127 قال سعید بن ابی ھلال نزلت فی عمومۃ النبی ﷺ کانوا عشرۃ و کانوا اشد الناس فی العلانیۃ و اشد الناس علیہ فی السّرّ ۔ آخر میں فرمایا (وَ اِنْ یُّھْلِکُوْنَ اِلَّآ اَنْفُسَھُمْ وَ مَا یَشْعُرُوْنَ ) (یہ لوگ اپنی گمراہی اور افتراء اور کذب بیانی کی وجہ سے اپنی ہی جانوں کو ہلاک کرتے ہیں اور وہ سمجھتے نہیں کہ اس طریق کار کا انجام کیا ہوگا)
Ayah 6:27

وَ لَوْ تَرٰۤى اِذْ وُقِفُوْا عَلَى النَّارِ فَقَالُوْا یٰلَیْتَنَا نُرَدُّ وَ لَا نُكَذِّبَ بِاٰیٰتِ رَبِّنَا وَ نَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 6:27 in the Quran reader

اور آپ اگر اس وقت دیکھیں جب وہ کھڑے کیے جائیں گے دوزخ پر تو کہیں گے ہائے ! ہماری بربادی کاش ہم واپس کر دئیے جاتے اور اپنے رب کی آیات کو نہ جھٹلاتے اور ایمان والوں میں سے ہوجاتے !

کافروں کا دنیا میں دو بارہ آنے کی آرزو کرنا ان آیات میں اللہ جل شانہٗ نے کافروں کا حال بیان فرمایا ہے اور روز محشر کا ایک منظر بتایا ہے فرمایا کہ اگر آپ ان لوگوں کا وہ حال دیکھیں جب وہ دوزخ پر کھڑے کیے جائیں گے تاکہ اس میں داخل کیے جائیں اور اپنی آنکھوں سے وہاں کا عذاب دیکھ لیں گے تو کہیں گے کہ کاش ! ہم دینا میں واپس کردیئے جاتے اور اب وہاں جا کر اپنے رب کی آیتوں کو نہ جھٹلاتے۔ آپ یہ دیکھیں گے تو عجب منظر ہوگا۔ اللہ جل شانہٗ کا ارشاد ہے کہ یہ بات نہیں ہے کہ ایمان کی رغبت اور محبت کی وجہ سے دنیا میں واپس جانے کی آرزو کر رہے ہیں بلکہ بات یہ ہے کہ جو کچھ اپنے سینوں میں چھپائے ہوئے تھے۔ یعنی کفر اس کا نتیجہ سامنے آگیا۔ دنیا میں جانے کی آرزو اس لیے کر رہے ہیں کہ عذاب نار سے خلاصی ہوجائے۔
Ayah 6:28

بَلْ بَدَا لَهُمْ مَّا كَانُوْا یُخْفُوْنَ مِنْ قَبْلُ١ؕ وَ لَوْ رُدُّوْا لَعَادُوْا لِمَا نُهُوْا عَنْهُ وَ اِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ Open ayah 6:28 in the Quran reader

بلکہ بات یہ ہے کہ وہ جس چیز کو اس سے پہلے چھپایا کرتے تھے وہ ظاہر ہوگئی اور اگر وہ واپس کردیئے جائیں تب بھی وہ کام کریں گے جس سے وہ منع کیے گئے اور بلاشبہ جھوٹے ہیں،

اگر دنیا میں بھیج دیئے جائیں تو پھر بغاوت کریں گے : مزید ارشاد ہوگا (وَ لَوْ رُدُّوْا لَعَادُوْا لِمَانُھُوْا) اور اگر ان کو دنیا میں دو بارہ بھیج دیا جائے تو پھر وہی کریں گے جس سے منع کیا گیا ہے۔ (اِنَّھُمْ لَکٰذِبُوْنَ ) (بلاشبہ وہ اپنی اسی بات میں جھوٹے ہیں کہ ہم آیات کی تکذیب نہ کریں گے۔ اور مومن بن جائیں گے)
Ayah 6:29

وَ قَالُوْۤا اِنْ هِیَ اِلَّا حَیَاتُنَا الدُّنْیَا وَ مَا نَحْنُ بِمَبْعُوْثِیْنَ Open ayah 6:29 in the Quran reader

اور انہوں نے کہا کہ بس یہی ہے ہماری دنیا والی زندگی اور ہم نہیں ہیں اٹھائے جانے والے،

(وَ قَالُوْٓا اِنْ ھِیَ اِلَّا حَیَاتُنَا الدُّنْیَا وَ مَا نَحْنُ بِمَبْعُوْثِیْنَ ) (اور وہ یوں کہتے ہیں کہ اجی اور کوئی زندگی نہیں ہے بس یہی دنیا والی زندگی ہے) انہوں نے رسولوں کی بات کو نہ اب مانا نہ جب مانیں گے۔ پھر فرمایا
Ayah 6:30

وَ لَوْ تَرٰۤى اِذْ وُقِفُوْا عَلٰى رَبِّهِمْ١ؕ قَالَ اَلَیْسَ هٰذَا بِالْحَقِّ١ؕ قَالُوْا بَلٰى وَ رَبِّنَا١ؕ قَالَ فَذُوْقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْفُرُوْنَ۠ Open ayah 6:30 in the Quran reader

اور اگر آپ اس وقت دیکھیں جب کھڑے کیے جائیں گے اپنے رب کے حضور رب تعالیٰ شانہ، کا سوال ہوگا کیا یہ حق نہیں ہے ؟ جواب میں کہیں گے کہ ہاں ! ہمارے رب کی قسم یہ حق ہے ! رب تعالیٰ شانہ، فرمائیں گے کہ چکھ لو عذاب اس وجہ سے کہ تم کفر کرتے تھے۔

(وَ لَوْ تَرٰٓی اِذْ وُقِفُوْا عَلٰی رَبِّھِمْ قَالَ اَلَیْسَ ھٰذَا بالْحَقِّ قَالُوْا بَلٰی وَ رَبِّنَا) (اگر آپ اس منظر کو دیکھیں جبکہ وہ قیامت کے دن اپنے رب کے سامنے کھڑے کیے جائیں گے اور اس وقت اللہ جل شانہٗ وعم نوالہ کا سوال ہوگا کہ کیا یہ حق نہیں ہے ؟ اس پر وہ جواب میں کہیں گے ہاں ! ہمارے رب کی قسم یہ حق ہے) لیکن اس وقت کی تصدیق کچھ کام نہ دے گی۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہوگا (فَذُوْقُوا الْعَذَابَ بِمَا کُنْتُمْ تَکْفُرُوْنَ ) کہ اپنے کفر کی وجہ سے عذاب چکھ لو۔
Ayah 6:31

قَدْ خَسِرَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِلِقَآءِ اللّٰهِ١ؕ حَتّٰۤى اِذَا جَآءَتْهُمُ السَّاعَةُ بَغْتَةً قَالُوْا یٰحَسْرَتَنَا عَلٰى مَا فَرَّطْنَا فِیْهَا١ۙ وَ هُمْ یَحْمِلُوْنَ اَوْزَارَهُمْ عَلٰى ظُهُوْرِهِمْ١ؕ اَلَا سَآءَ مَا یَزِرُوْنَ Open ayah 6:31 in the Quran reader

اس میں شک نہیں کہ وہ لوگ خسارہ میں پڑگئے جنہوں نے اللہ کی ملاقات کو جھٹلایا یہاں تک کہ جب ان کے پاس اچانک قیامت آ جائیگی تو کہیں گے کہ ہائے ہماری حسرت اس پر جو ہم نے دنیا میں کوتاہی کی، اور وہ اپنے بوجھوں کو اپنی کمروں پر اٹھائے ہوئے ہوں گے خبر دار ! برا ہے وہ بوجھ جسے وہ اٹھا رہے ہوں گے،

ان آیات میں اوّل تو اللہ جل شانہٗ نے یہ فرمایا کہ جنہوں نے اللہ کی ملاقات کو جھٹلایا یعنی قیامت کے دن کا انکار کیا اور اس دن کے آنے کو نہ مانا وہ خسارہ میں پڑگئے۔ اور انہوں نے اپنا نقصان بھی کیا ؟ دنیا میں تو کچھ مال ہی کا نقصان ہوجاتا ہے آخرت کے اعتبار سے انہوں نے اپنی جانوں ہی کا نقصان کردیا اور اپنی جانوں کو عذاب میں ڈالنے کا ذریعہ بن کر بالکل ہی جانوں کو کھو بیٹھے، روز قیامت کا انکار کردیا۔ اور انکار کرتے ہی چلے جا رہے ہیں۔ یہاں تک کہ جب اچانک قیامت آ جائیگی تو کہیں گے کہ کتنی بڑی حسرت کی چیز ہے جو ہم نے دنیا میں تقصیر کی، دنیا میں لگے رہے اسی کو سب کچھ سمجھا اور آخرت کی حاضری کو نہ مانا۔ اس وقت یہ لوگ اپنے گناہوں کے بوجھ اپنے اوپر لادے ہوئے ہوں گے۔ اور کفر اور دیگر اعمال کی سزا اور پاداش سے بچنے کا کوئی راستہ نہ ہوگا۔ موت کے وقت توبہ کے سب دروازے بند ہوگئے اور گناہوں کا بوجھ اتار کر پھینکنے کا کوئی راستہ نہ رہا۔ اب تو ان گناہوں کی سزا بھگتنی ہی ہوگی۔ خبر دار ! خوب سمجھ لیں کہ جو بوجھ اٹھائے ہوئے ہیں وہ بہت برا بوجھ ہے جو ان کے دائمی عذاب کا ذریعہ بن رہا ہے۔
Ayah 6:32

وَ مَا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَاۤ اِلَّا لَعِبٌ وَّ لَهْوٌ١ؕ وَ لَلدَّارُ الْاٰخِرَةُ خَیْرٌ لِّلَّذِیْنَ یَتَّقُوْنَ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ Open ayah 6:32 in the Quran reader

اور نہیں ہے دنیا والی زندگی مگر ایک لعب اور لہو البتہ آخرت والا گھر ان لوگوں کے لیے بہتر ہے جو پرہیزگاری اختیار کرتے ہیں کیا تم سمجھتے نہیں ہو ؟

پھر فرمایا کہ (وَ مَا الْحَیٰوۃُ الدُّنْیَآ اِلَّا لَعِبٌ وَّ لَھْوٌ) (دنیا والی زندگی بس لعب و لہو ہے) یعنی باطل ہے اور غرور ہے نہ اس کو دوام ہے نہ اس کے منافع اور لذتوں کو بقا ہے، اس کے ذریعہ حقیقی حاجت پوری نہیں ہوتی۔ حقیقی حاجت آخرت کی حاجت ہے، دنیا میں جس طرح بچے آپس میں مل کر کھیلتے ہیں کھانے کی دکان بھی کھولتے ہیں اور جھوٹ موٹ کو کھاتے بھی ہیں پھر تھوڑی دیر میں ماں باپ سے کھانا مانگنے لگتے ہیں، اگر ان سے کہا جائے کہ تمہارا ہوٹل کھلا ہوا تھا اس میں سے کیوں نہیں کھاتے اس کا کیا ہوا ؟ تو اس کا جواب یہی ہے کہ وہ تو ایک کھیل تھا حقیقت نہیں تھی۔ پیٹ تو حقیقی کھانے سے بھرتا ہے، پیاس حقیقی پینے سے بجھتی ہے دنیا چونکہ لہو و لعب ہے اس لیے اس سے آخرت کی حاجتیں پوری نہ ہوں گی۔ وہاں تو مجرم شخص یہ کہے گا۔ (مَآ اَغْنیٰ عَنِّیْ مَالِیَہْ ۔ ھَلَکَ عَنِّیْ سُلْطٰنِیَہْ ) (مجھے فائدہ نہ دیا میرے مال نے برباد ہوگیا میرا اقتدار) ہاں اسی دنیا میں جو حصہ اللہ کی رضا میں لگا دیا وہ حدود دنیا داری سے نکل گیا وہ آخرت میں کام دے گا۔ بشرطیکہ ایمان پر موت آئی ہو۔ پھر فرمایا (وَ لَلدَّارُ الْاٰخِرَۃُ خَیْرٌ لِّلَّذِیْنَ یَتَّقُوْنَ ) (اور البتہ دار آخرت بہتر ہے ان لوگوں کے لیے جو شرک اور کفر سے بچتے ہیں) لہٰذا دار آخرت کے لیے کوشش کرنا لازم ہے یہاں فنا ہے وہاں بقا ہے یہاں ذرا سا مزہ ہے وہاں اہل تقویٰ کے لیے مستقل دائمی لذت اور آرام ہے۔ (اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ ) (کیا تم نہیں سمجھتے) کفر و شرک کو چھوڑ کر ایمان اور اعمال صالح کیوں اختیار نہیں کرتے ؟ سمجھ سے کام لیں تو کفر و شرک کی قباحت واضح ہوجائے اور ایمان اور اعمال صالح کا اخروی نفع سمجھ میں آجائے۔
Ayah 6:33

قَدْ نَعْلَمُ اِنَّهٗ لَیَحْزُنُكَ الَّذِیْ یَقُوْلُوْنَ فَاِنَّهُمْ لَا یُكَذِّبُوْنَكَ وَ لٰكِنَّ الظّٰلِمِیْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ یَجْحَدُوْنَ Open ayah 6:33 in the Quran reader

ہم جانتے ہیں کہ بیشک آپ کو ان کی باتیں رنجیدہ کرتی ہیں۔ سو یہ یقینی بات ہے وہ آپ کو نہیں جھٹلاتے اور لیکن ظلم کرنے والے اللہ کی آیتوں کا انکار کرتے ہیں۔

مشرکین مکہ آپ کی تکذیب نہیں کرتے بلکہ اللہ تعالیٰ کی آیات کو جھٹلاتے ہیں معالم التنزیل ج 2 ص 93 میں لکھا ہے کہ اخنس بن شریق کی ابو جہل سے ملاقات ہوگئی۔ اخنس نے ابو جہل سے کہا کہ اس وقت یہاں تیرے اور میرے سوا کوئی نہیں تو مجھے سچی بات بتادے کہ محمد بن عبداللہ ﷺ اپنے دعوے میں سچے ہیں یا جھوٹے ؟ ابو جہل نے کہا اللہ کی قسم ! اس میں کوئی شک نہیں کہ محمد ﷺ سچے ہیں انہوں نے کبھی جھوٹ نہیں بولا لیکن ہمارے جھٹلانے کی وجہ یہ ہے کہ جب بنو قصی (جو قریش کا ایک قبیلہ تھا جس میں سے رسول اللہ ﷺ تھے) کے پاس علمبر داری بھی چلی جائے اور سقایہ (یعنی حاجیوں کو پانی پلانے کی خدمت) بھی چلی جائے اور کعبہ شریف کی کلید برادری بھی چلی جائے اور مجلس شوریٰ کی سرداری بھی انہی کو پہنچ جائے اور نبی بھی انہیں میں سے ہوجائے تو باقی قریش کے لیے کیا بچے گا ؟ اور بعض روایات میں ہے کہ ابوجہل نے نبی اکرم ﷺ سے کہا کہ ہم آپ پر تہمت نہیں دھرتے اور نہ آپ کو جھٹلاتے ہیں ہم تو اس چیز کو جھٹلاتے ہیں جس کی دعوت لے کر آپ تشریف لائے اس پر آیت بالا نازل ہوئی۔ اللہ تعالیٰ شانہٗ نے فرمایا کہ ان کو آپ کی نبوت و رسالت میں اور آپ کے دعوے کے سچے ہونے میں کوئی شک نہیں یہ آپ کو سچا سمجھتے ہیں لیکن ان کو اللہ کی آیات سے ضد ہے۔ اللہ کی آیات ان کے اعتقادات اور ان کے شرک کے خلاف کھول کھول کر بیان کر رہی ہیں اس لیے ان کے مخالف ہیں اور ان کو جھٹلاتے ہیں۔
Ayah 6:34

وَ لَقَدْ كُذِّبَتْ رُسُلٌ مِّنْ قَبْلِكَ فَصَبَرُوْا عَلٰى مَا كُذِّبُوْا وَ اُوْذُوْا حَتّٰۤى اَتٰىهُمْ نَصْرُنَا١ۚ وَ لَا مُبَدِّلَ لِكَلِمٰتِ اللّٰهِ١ۚ وَ لَقَدْ جَآءَكَ مِنْ نَّبَاِی الْمُرْسَلِیْنَ Open ayah 6:34 in the Quran reader

اور بلاشبہ آپ سے پہلے رسولوں کو جھٹلایا گیا سو انہوں نے جھٹلائے جانے پر اور ایذائیں پہنچنے پر صبر کیا یہاں تک کہ ان کے پاس ہماری مدد آگئی اور اللہ کے کلمات کو کوئی بدلنے والا نہیں۔ اور البتہ پیغمبروں کی بعض خبریں آپ کے پاس پہنچ چکی ہیں۔

رسول اللہ ﷺ کو تسلی : اس کے بعد رسول اللہ ﷺ کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا (وَ لَقَدْ کُذِّبَتْ رُسُلٌ مِّنْ قَبْلِکَ فَصَبَرُوْاعَلٰی مَا کُذِّبُوْا وَ اُوْذُوْا حَتّآی اَتٰھُمْ نَصْرُنَا) (اور آپ سے پہلے رسولوں کو جھٹلایا جا چکا ہے انہوں نے مخالفین کی تکذیب و ایذاء رسانی پر صبر کیا یہاں تک کہ ان کے پاس ہماری مدد آگئی) اس میں دو باتیں ہیں۔ اول تو یہ کہ ان لوگوں کا جھٹلانا اور دکھ اور تکلیف دینا کوئی نئی بات نہیں ہے آپ سے پہلے جو انبیاء کرام (علیہ السلام) آئے ان کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا۔ ان حضرات نے صبر کیا آپ بھی صبر کریں دوسری بات یہ ہے کہ انبیاء سابقین ( علیہ السلام) کے پاس ہماری مدد آگئی۔ انشاء اللہ آپ کے پاس بھی ہماری مدد آجائے گی۔ (وَ لَا مُبَدِّلَ لَکَلِمٰتِ اللّٰہِ ) (اور اللہ کے کلمات کو کوئی بدلنے والا نہیں) اس کی تفسیر اور ربط بیان کرتے ہوئے صاحب معالم التنزیل لکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں ارشاد فرمایا کہ (اِنَّا لَنَنْصُرُرُسُلَنَا) (بےشک ہم ضرور ضرور اپنے رسول کی مدد کریں گے) اور فرمایا (کَتَبَ اللّٰہُ لَا غْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِیْ ) (اللہ نے لکھ دیا کہ میں ضرور بالضرور غالب ہوں گا اور میرے رسول) اللہ تعالیٰ کا یہ فیصلہ سارے رسولوں کے بارے میں ہے جیسے انبیاء سابقین کی مدد ہوئی آپ کی بھی مدد ہوگی۔ اللہ کے کلمات کو یعنی اس کے فیصلوں کو کوئی بدلنے والا نہیں۔ پھر فرمایا (وَ لَقَدْ جَآءَ کَ مِنْ نَّبَاِی الْمُرْسَلِیْنَ ) اور البتہ آپ کے پاس پیغمبروں کی بعض خبریں آچکی ہیں یعنی انبیاء سابقین ( علیہ السلام) کے واقعات آپ کو معلوم ہیں ان کی امتوں نے ان کے ساتھ دشمنی اور ایذاء رسانی کا معاملہ کیا پھر اللہ تعالیٰ نے ان کی مدد فرمائی اور ظالمین اور معاندین ہلاک اور برباد ہوئے آپ بھی صبر کریں اور مدد کا انتظار کریں۔
Ayah 6:35

وَ اِنْ كَانَ كَبُرَ عَلَیْكَ اِعْرَاضُهُمْ فَاِنِ اسْتَطَعْتَ اَنْ تَبْتَغِیَ نَفَقًا فِی الْاَرْضِ اَوْ سُلَّمًا فِی السَّمَآءِ فَتَاْتِیَهُمْ بِاٰیَةٍ١ؕ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَجَمَعَهُمْ عَلَى الْهُدٰى فَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْجٰهِلِیْنَ Open ayah 6:35 in the Quran reader

اور اگر آپ کو ان کا اعراض کرنا گراں گزر رہا ہے تو اگر آپ سے ہو سکے تو آپ زمین میں کوئی سرنگ یا آسمان میں کوئی زینہ تلاش کرلیں پھر آپ ان کے پاس معجزہ لے آئیں تو آپ ایسا کر لیجیے۔ اور اگر اللہ چاہتا تو ان سب کو ہدایات پر جمع کردیتا لہٰذا آپ نا دانوں میں سے نہ ہوجایئے۔

(وَ اِنْ کَانَ کَبُرَ عَلَیْکَ اِعْرَاضُھُمْ ) (الآیۃ) رسول اللہ ﷺ کو اس کی بہت زیادہ حرص تھی کہ میری قوم اسلام قبول کرلے وہ لوگ ایمان قبول نہیں کرتے تھے اور بطور عناد طرح طرح کے معجزات کی فرمائش کرتے تھے کہ یہ معجزہ دکھاؤ اور یہ کام کر کے بتاؤ آپ کی خواہش ہوتی تھی کہ ان کی فرمائش کے معجزات ظاہر ہوجائیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کی فرمائش پوری نہ کی جاتی تھی۔ خود قرآن کریم ان کے پاس بہت بڑا معجزہ موجود تھا اور دوسرے بھی معجزات سامنے آتے رہتے تھے لیکن وہ کہتے رہے کہ ایسا ہوجائے تو ہم مان لیں گے جب فرمائشی معجزات کا ظہور نہ ہوتا تھا تو آنحضرت ﷺ کبیدہ خاطر ہوتے تھے یعنی طبعی طور پر آپ کو ملال ہوتا تھا، اللہ جل شانہٗ نے آپ کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ اگر آپ کو ان کا اعراض کرنا گراں گزر رہا ہے تو اگر آپ سے ہو سکے تو آپ زمین میں کوئی سرنگ یا کوئی زینہ آسمان میں جانے کو تلاش کرلیں پھر آپ ان کے پاس معجزہ لے آئیں تو آپ ایسا کر لیجیے۔ مطلب یہ ہے کہ اگر آپ زمین میں نیچے اتر کر یا آسمان کے اوپر جا کر ان کا فرمائشی معجزہ لاسکتے ہیں تو آپ ایسا کر لیجیے۔ ان کی فرمائش کے مطابق معجزہ پیدا کرنا لازم نہیں ہے آپ کو اگر اصرار ہے تو آپ خود ہی فرمائشی معجزہ دکھا دیجیے لیکن اللہ کی مشیت کے بغیر تو کچھ ہو ہی نہیں سکتا۔ اس لیے آپ صبر ہی سے کام لیں اور تکوینی طور پر سب کو مسلمان ہونا بھی نہیں اس لیے اس فکر میں پڑنے کی ضرورت نہیں کہ سب مسلمان ہوجائیں۔ (وَ لَوْ شَآء اللّٰہُ لَجَمَعَھُمْ عَلَی الْھُدٰی) (اور اگر اللہ چاہتا تو سب کو ہدایت پر جمع فرما دیتا) (فَلَا تَکُوْنَنَّ مِنَ الْجٰھِلِیْنَ ) (تو آپ نا دانوں میں سے نہ ہوجائیے) جو کچھ ہے اللہ کی حکمت کے مطابق ہے۔ آپ اللہ کی حکمت اور قضا و قدر پر راضی رہیں۔
Ayah 6:36

اِنَّمَا یَسْتَجِیْبُ الَّذِیْنَ یَسْمَعُوْنَ١ؔؕ وَ الْمَوْتٰى یَبْعَثُهُمُ اللّٰهُ ثُمَّ اِلَیْهِ یُرْجَعُوْنَؐ Open ayah 6:36 in the Quran reader

بات کو وہی قبول کرتے ہیں جو سنتے ہیں اور مردوں کو اللہ زندہ فرمائے گا پھر اسی کی طرف لوٹائے جائیں گے،

پھر فرمایا (اِنَّمَا یَسْتَجِیْبُ الَّذِیْنَ یَسْمَعُوْنَ ) (حق کو وہی لوگ قبول کرتے ہیں جو قبول کرنے کے ارادہ سے سنتے ہیں) (وَ الْمَوْتٰی یَبْعَثُھُمُ اللّٰہُ ) (اور مردہ لوگ یعنی کافر جن کے دل مردہ ہوچکے ہیں اللہ تعالیٰ انہیں قیامت کے دن اٹھائے گا) (ثُمَّ اِلَیْہِ یُرْجَعُوْنَ ) (پھر اسی کی طرف لوٹائے جائیں گے) اور اپنے عقیدہ اور عمل کی سزا پالیں گے۔
Ayah 6:37

وَ قَالُوْا لَوْ لَا نُزِّلَ عَلَیْهِ اٰیَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ١ؕ قُلْ اِنَّ اللّٰهَ قَادِرٌ عَلٰۤى اَنْ یُّنَزِّلَ اٰیَةً وَّ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 6:37 in the Quran reader

اور انہوں نے کہا کہ اس کے رب کی طرف سے اس پر کوئی نشانی کیوں نہیں اتاری گئی آپ فرما دیجیے ! کہ بلاشبہ اللہ اس پر قادر ہے کہ نشانی نازل فرمائے لیکن ان میں سے بہت سے لوگ نہیں جانتے

پھر فرمایا (وَ قَالُوْا لَوْ لَا نُزِّلَ عَلَیْہِ اٰیَۃٌ مِّنْ رَّبِّہٖ ) (اور ان لوگوں نے کہا کہ کیوں نہیں اتاری گئی نشانی اس پر اس کے رب کی طرف سے) نشانیاں تو بہت تھیں لیکن جو اپنی تجویز کردہ نشانی چاہتے تھے اس کے بارے میں انہوں نے یہ بات کہی، اس کے جواب میں فرمایا۔ (قُلْ اِنَّ اللّٰہَ قَادِرٌ عَلآی اَنْ یُّنَزِّلَ اٰیَۃً ) (آپ فرما دیجیے کہ بلاشبہ اللہ تعالیٰ اس پر قادر ہے کہ نشانی نازل فرمائے) (وَّ لٰکِنَّ اَکْثَرَھُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ ) (لیکن ان میں سے بہت سے لوگ نہیں جانتے) اللہ تعالیٰ ان کا پابند نہیں کہ ان کے کہنے کے مطابق معجزات پیدا فرمائے، فرمائش کے مطابق معجزہ پیدا نہ فرمانا اس بات کی دلیل نہیں کہ اسے اس بات پر قدرت نہیں ہے۔ اسے قدرت سب کچھ ہے لیکن اس کی تخلیق اس کی حکمت کے مطابق ہوتی ہے اور یہ بات بھی سمجھنے کی ہے کہ فرمائش کے مطابق اگر معجزہ ظاہر ہوجائے اور پھر بھی نہ مانیں تو پھر ڈھیل نہیں دی جاتی۔ ان کو صرف عناد ہے قبول کرنا ہی نہیں اور اپنا بھلا برا نہیں جانتے۔