Ayah 6:1آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا ہی ساری ستائشوں کا اصل مالک ہے :
1: حمد کا لفظ عربی زبان میں اچھی تعریف اور شکر دونوں کے لئے استعمال ہوتا ہے اور اس جگہ دونوں ہی معنی مراد ہو سکتے ہیں۔ جب اللہ تعالیٰ ساری کائنات اور اس کی ہرچیز کا مالک حقیقی ہے تو لا محالہ اس کائنات میں جمال و کمال اور حکمت وقدرت اور صناعی و کاری گری کی جو شان بھی نظر آتی ہے اس کی ستائشوں کا مستحق اصل بھی وہی ہے اور اس کائنات میں رہنے والا جس چیز سے بھی کوئی فائدہ یا لطیف و لذت حاصل کر رہا ہے اس پر خدا ہی کا شکر اسے ادا کرنا چاہئے کوئی دوسرا جب ان اشیاء کی ملکیت میں شریک نہیں ہے تو اسے نہ حمد کا استحقاق پہنچتا ہے نہ شکر کا۔ خلق کے معنی نیست سے ہست کرنے کے بھی ہیں اور کسی میٹریل سے کوئی دوسری چیز بنانے کے بھی ۔ اس جگہ ایجاد و ابداع یعنی نیست سے ہست کرنے کے معنی ہی میں استعمال ہوا ہے اور اللہ تعالیٰ کی ذات کے لئے جہاں بھی یہ لفظ استعمال ہوا ہے اسکی خصوصیت یہی ہے کہ وہ صرف بنانے ہی کے معنی ہی نہیں استعمال ہوتا ہے بلکہ دراصل پیدا کرنے ہی کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے اور اس کے برعکس غیر اللہ کے لئے جب اور جہاں بھی یہ لفظ استعمال ہوا ہے وہ بنانے اور ترکیب دینے ہی کے معنی میں استعمال ہوا ہے ۔ دوسری بات یہ ہے کہ یہ لفظ غیر اللہ کے لیے جب بھی بولا گیا حقیقی معنوں میں نہیں بلکہ مجازی معنوں ہی میں استعمال ہوا ہے ۔ قرآن کریم کا قاری اگر یہ بات یاد رکھے تو اس کے بہت سے شکوک و شبہات خود بخود ختم ہوجائیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ عوام تو عوام ہمارے خواص بھی ایسی باتیں کم ہی یاد رکھتے ہیں۔ جب توحید کا بیان شروع ہوتا ہے تو برملا اور چیخ چیخ کر کہا جاتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی ” خالق “ نہیں لیکن جب غیر اللہ کے لئے یہی لفظ استعمال ہوتا ہے تو اسی وقت سارا زور بیان ختم ہو کر رہ جاتا ہے اور معجزات کا باب کھول دیا جاتا ہے اور ” اذن الٰہی “ کی بحث چھڑ جاتی ہے اس کی تفصیل ہم نے عروۃ الوثقیٰ جلد دوم تفسیر سورة آل عمران کی آیت 49 میں کردی ہے وہاں سے ملاحظہ فرمائیں۔
یہ اعلان کیسا کیا گیا ؟ نبی اعظم وآخر ﷺ سے یہ اعلان اس وقت کرایا گیا جب صرف ملک عرب پر ہی نہیں بلکہ پوری دنیا پر گمراہی کا بھیانک اندھیرا چھایا ہوا تھا ۔ انسان کا رشتہ اپنے خالق و پروردگار سے بالکل کٹ چکا تھا ۔ کوئی سورج کا پجاری ، کوئی ستاروں کا پرستار ، کوئی پہاڑوں کی بلند چوٹیوں ، بڑے بڑے دریاؤں اور اونچے اونچے درختوں کا عبادت گزار تھا۔ اس ملک ہندوستان میں تینتیس کروڑ خداؤں کی پرستش ہو رہی تھی ۔ ایران کے لالہ زاروں میں آتش کدے روشن تھے ۔ رستم و سہراب کی زمین کے بہادر اور نڈر فرزند آگ کے شعلوں کے سامنے سجدہ ریز تھے۔ مسیح دنیا میں ایک الٰہ برتر ودانا کی جگہ باپ ، بیٹا اور روح القدس تین خداؤں کی پرستش ہو رہی تھی اور پورے جزیرہ نمائے عرب کی حالت نہایت ہی ناگفتہ بہ تھی راہ چلتے انکو جو پتھر نظر آگیا اور نظروں نے اسکو پسند کرلیا تو اس کی تراش خراش کرا کے اپنی محراب عبادت کی زینت بنا لیا بالکل اسی طرح جس طرح آج کل لوگوں کو جو در بار پسند آگیا تو اس کی چوکھٹ پر سجدہ ریز ہوگئے۔
مختصر یہ کہ ان حالات میں رسول اللہ ﷺ نے اللہ کے حکم سے اعلان بلند کیا کہ آسمان یعنی عالم علوی اور زمین یعنی عالم سفی ، اندھیرا اور نور سب کے سب مخلوق ہیں اور اپنے وجود ، اپنی حیات ، اپنی نشو ونما اور اپنی بقاء میں اللہ تعالیٰ کے محتاج ہیں۔ اے شرف انسانیت کے پاسبانو ! اے بحر علم و دانش کے غواصو ! تم خود ہی بتاؤ کیا تمہیں یہ زیب دیتا ہے کہ اپنے خالق سے منہ موڑ کر مخلوق کے بندے بن جاؤ ۔ اس غنی اور صمد کی جگہ محتاج اور بےبس کی عبادت کرنے لگو۔ اپنے ہی جیسے انسانوں کے کبھی بت بنا کر اور کبھی قبروں کو سجا کر ان کی عبادت شروع کردو۔ تم نے یہ بات کہاں سے سیکھ لی اور کس نے تم کو اس غلط راستہ پر لگا دیا ؟
تعجب ہے تم پر کہ تم نے خالق کو مخلوق کے ساتھ کیسے ملا دیا ؟ :
2: فرمایا تم بھی بڑے عجیب انسان ہو کہ تم نے خالق کو مخلوق کے ساتھ ملا دیا ؟ نہیں بلکہ تم نے تو خالق کو مخلوق بنا دیا اور مخلوق کو خالق سمجھ بیٹھے ۔ مان لیا کہ ہرچیز حسین و جمیل سہی ، پر ہیبت و پر جلال سہی ، مفید اور نفع بخش سہی لیکن یہ حسن و جمال یہ افادیت اور نفع رسانی ان میں آئی کہاں سے ؟ یہ اس ذات برتر اعلیٰ کے فضل و کرم کی جلوہ پر طرازی ہے جس نے انہیں نیست سے ہست کیا ۔ عدم سے وجود میں لایا تو پھر حمد و ستائش بھی تو اس کی ہی ہونی چاہئے تھی اور اس طرح ہر تصرف اور توصیف کا وہ مستحق ہے اور اس کو مستحق سمجھنا چاہئے تھا اور اسی کی ذات درحقیقت الٰہ تھی ۔ ” ثم “ صرف عطف ہے لیکن کوئی دوسرا حرف عطف اس کے قائم مقام نہیں ہو سکتا کیونکہ یہ معنی عطف پر دلالت کرنے کے ساتھ کفار کی نادانی اور ان کی عقیدہ کی قباحت کو بھی عیاں کر رہے ہیں ؟ مطلب یہ ہے کہ اچھی طرح جاننے اور سمجھنے کے باوجود کہ کائنات کی ہر بڑی اور چھوٹی چیز اللہ کی پیدا کی ہوئی ہے پھر بھی یہ مخلوق اور محتاج ، چیزوں کو اللہ تعالیٰ کی ذات کے برابر سمجھ رہے ہیں اور یہی ان کی نادانی اور زیاں کاری کی کھلی دلیل ہے۔
قرآن کریم میں جہاں بھی اور جس جگہ بھی ” ظلمت “ کا لفظ نور کے مقابلہ میں ہے ہر جگہ پر ” ظلمت “ جمع ظلم ہی استعمال ہوا ہے لیکن اس کے مقابلہ میں ہمیشہ ” نور “ واحد ہی استعمال ہوا ہے کسی ایک مقام پر بھی نور کی جمع ” انوار “ کا لفظ استعمال نہیں ہوا۔ کیوں ؟ اس لئے کہ گمراہیاں بیشمار اور بہت سی ہو سکتی ہیں لیکن راہ حق ایک اور صرف ایک ہی رہی ہے اور ہمیشہ ایک ہی رہے گی جس طرح دونوں نقطوں کے درمیان خطوط منحنی بیشمار ہو سکتے ہیں لیکن خط مستقیم ایک اور صرف ایک ہی ممکن ہے ۔ اس لئے جس طرح ہر حال میں برابری لازم و ضروری ہے اسی طرح اللہ کی ذات کے ساتھ کسی کی برابری بھی جائز و درست نہیں خواہ وہ کوئی ہویہاں تک کہ کوئی اللہ تعالیٰ کا رسول اور بزگریدہ بندہ ہی کیوں نہ ہو اور اگر کوئی شخص ایسا کرے گا تو گویا اس نے اللہ کے ساتھ کسی دوسرے کو شریک ٹھہرادیا اگرچہ وہ روپے میں ایک پیسے کے برابر ہی کیوں نہ ہو۔ ماحصل اس کا یہ ہوا کہ یہ کائنات بلاشبہ مجموعہ تضاد ہے جس طرح خیر کے مقابلہ میں شر اور اندھیرے کے مقابلہ میں روشنی لیکن اس سارے تضاد کا خالق حقیقی صرف اور صرف ایک ہی ہے ایسا نہیں کہ ” خیر “ پسندیدہ ہے تو اس کا خالق تو اللہ ہے لیکن ” شر “ تو ناپسندیدہ ہے اس لئے اس کا خالق بھی کوئی دوسرا ہو فرمایا نہیں بلکہ اس خیر وشر کے مجموعہ کا خالق ایک ہی ہے ۔ یہ غلطی نہ کر جانا کہ کہیں خیر کا خالق تو اللہ کو سمجھو لیکن اس کے ساتھ ” شر “ کا خالق کسی دوسرے کو تسلیم کر جاؤ ۔ زندگی میں ایسی غلطی لگ گئی توسمجھو کہ تم نے شرک کرلیا اور اللہ کے ساتھ کسی کو برابر مان بیٹھے یاد رکھو کہ ایسی بات ہوئی تو شرک کا ارتکاب ہوگیا اور اس سے تم کو روکا گیا تھا۔
Ayah 6:2انسانوں کی ابتدائی خلقت کی طرف اشارہ کر کے اس کو توحید کی دلیل ٹھہرادیا :
3: مقصد کلام یہ ہے کہ انسان جو اشرف المخلوقات ہے جب اس کی ابتداء مٹی سے ہے اور یہ سب کو تسلیم بھی ہے تو پھر اس سے یہ سمجھنے میں کیوں کوتاہی ہو کہ تمام ارضی مخلوقات کی زندگی کا آغاز مٹی ہی سے ہوا ہے۔ اس مضمون کو قرآن کریم نے بیسیوں بار دہرایا ہے اور ہر بار اس کو ایک مختلف صورت میں پیش کیا ہے تاکہ انسان کو اچھی طرح یہ بات ذہن نشین ہوجائے اور ان مختلف بیانوں سے دو حقیقتوں کی طرف اس کی توجہ دلائی ہے ایک انسان کی بےحقیقتی کی طرف کہ مٹی سے پیدا ہونے والی یہ مخلوق اپنی تخلیق کو بھول نہ جائے دوسرے مرنے کے بعد دوبارہ پیدا کئے جانے پر اس کا یقین مان لے کہ جب انسان کو پہلی دفعہ اس ذات کریمی نے مٹی سے پیدا کیا جب کہ اس کا کوئی نام ونشان نہیں تھا اب جب اس کا وجود موجود ہے تو اس کو فنا کرنے کے بعد وہ پہلی بار پیدا کرنے والا دوبارہ کیوں پید انہیں کرسکے گا۔ جب پہلی بار پیدا کرنے سے وہ عاجز نہیں آیا تو دوسری بار پیدا کرنے سے وہ کیوں عاجز ہوگا اور پہلی پیدائش کے لئے جو وقت مقرر کردیا تھا وہ تمہارے دیکھتے ہی دیکھتے آگیا اور اس پہلی پیدائش کو تم نے مان لیا اور پھر چونکہ پہلی پیدائش کے وقت مقرر پر جو موت کا آنا کہا تھا وہ بھی آگاہ اس سے پہلی پیدائش اور پہلی میعاد مقرر کو ماننے والا دوسری پیدائش اور دوسرے مقرہ وقت کو کیوں تسلیم نہیں کرتا۔ اس کی تسلیم سے اس کو کون سی چیز مانع ہے ؟ اس کی وضاحت گویا پوچھی جا رہی ہے کیوں ؟ اس لئے کہ یہ حیات دیا جانے والا بعض اوقات اس تعجب میں آتا ہے جس کا ذکر قرآن کریم میں اس طرح کیا گیا ہے کہ :
وَ اِنْ تَعْجَبْ فَعَجَبٌ قَوْلُهُمْ ءَاِذَا کُنَّا تُرٰبًا ءَاِنَّا لَفِیْ خَلْقٍ جَدِیْدٍ 1ؕ۬ ۔
” اور اگر تو عجیب بات دیکھنی چاہتا ہے تو عجیب بات ان کا یہ قول ہے کہ جب ہم مٹی ہوگئے تو پھر کیا ہم پر ایک نئی پیدائش طاری ہوگی ؟ تو یقین کرو یہی لوگ ہیں جنہوں نے اپنے پروردگار سے انکار کیا اور جن کی گردنوں میں طوق پڑے ہوں گے اور یہی ہیں کہ دوزخی ہیں ہمہشی ہمیشہ دوزخ میں رہنے والے۔ “ (الرعد 13 : 5)
کسی صاحب کو یہ وہم نہ ہو کہ ہم نے یہ کہہ کر ” تمام ارضی مخلوقات کی زندگی کا آغاز مٹی سے ہوا ہے ۔ “ کوئی نیا نظریہ قائم کر رہے ہیں یا ہم جنوں کی تخلیق نار سے انکاری ہیں۔ نہیں ، اصل بات یہ ہے کہ تمام ارضی مخلوق مجموعہ سے بہت سے قویٰ کا اور پھر جس مجموعہ میں جو عنصر زیادہ ہے اس کی نسبت اس عنصر کی زیادتی کی وجہ سے اس کی طرف کردی گئی ہے جس طرح انسان مجموعہ عناصر ہے اور اسی مجموعہ میں مٹی کا عنصر زیادہ ہے اس لئے اس کی نسبت اس کی طرف کردی گئی ہے ۔ اس طرح جو مخلوق ” جن “ کے نام سے موسوم ہے اور وہ مکلف بھی ہے اس میں آگ کا عنصر زیادہ ہونے کے باعث اس کی نسبت آگ کی طرف کردی گئی ہے اور یہ بات اپنی جگہ حقیقت ہے کہ جو مجموعہ اضداد نہیں اس کے مکلف ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا مکلف ہونے کے لئے ضروری ہے کہ وہ مجموعہ اضداد بھی اور ناطق بھی ہو جیسے ” انسان “۔
تخلیق اول سے دوچار ہونے والا انسان تخلیق ثانی سے کیونکر منکر ہے ؟ :
4: اس دنیا میں کوئی بات بغیر دلیل کے نہیں رکھی گئی ۔ ایک چیز کا اس دنیا سے تعلق ہو اور پھر وہ اپنی دلیل نہ رکھے یہ ممکن نہیں تخلیق اول سے گزرنے والے انسان کو مخاطب کر کے پوچھا جا رہا ہے کہ اے انسان تو ہی بتا کہ تیری یہ تخلیق اول کیسے ہوئی ؟ اور تیرے لئے وعدہ مقرر یعنی وقت موت جو متعین ہے وہ آنا ہے یا نہیں ؟ اگر وہ سب پیدا ہونے والوں کے لئے لازم و ضروری ہے تو جس نے پہلی بار پیدا کیا ہے وہ دوسری بار بھی پیدا کرنے پر قادر ہے اور اس دنیا کے لئے جو وعدہ مقرر ہے وہ بھی یقیناً پورا ہوگا یعنی قیامت کا آنا بھی یقینی ہے جس طرح عالم صغیر یعنی انسان کی موت وحیات ہے اسی طرح عالم کبیر یعنی عالم دنیا کی حیات وموت کا معاملہ ہے۔ اگر اس عالم کی حیات کو تسلیم کرتے ہو تو تم اس کی موت کو بھی تسلیم کرلو یہ بات تمہارے لئے مفید ہے ویسے اگر تم تسلیم نہیں کرو گے تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ قیامت آنے سے رک جائے گی ۔ اس کے لئے جو وقت اللہ تعالیٰ نے مقرر فرما دیا ہے اس وقت مقرر پر اس کا آنا یقینی ہے اور کج بحثوں کا فیصلہ خود بخود ہوجائے گا اس میں الجھنے کی کوئی ضرورت نہیں۔
اس دوسری آیت میں لفظ ” ثم “ کا بعینہٖ وہی مفہوم ہے جو پہلی آیت میں تھا یعنی اللہ تعالیٰ کی قدرت کے ان گنت دلائل دیکھنے کے بعد تمہیں قیامت کا یقین نہیں ۔ انسان اپنی غذا ہی کو دیکھے کہ کس طرح وہ زمین سے پیدا ہوتی ہے پھر کس طرح وہ معدہ میں پہنچ کر ہضم کی مختلف کیفیات سے گزر کر جزوبدن بنتی ہے ۔ اس کا ایک حصہ جب آنکھ کا نور ، کانوں کی سماعت ، زبان کی گویائی اور ایک حصہ ہڈیوں کی سختی ، اعصاب کی نرمی ، دماغ کا ادراک ، ہاتھوں کی گرفت بن جاتا ہے ۔ بس جو ہستی اس باریک نظام کو چلا رہی ہے اس کے لئے خاک کے منتشرذروں کو جمع کرنا کوئی مشکل نہیں لیکن ان ساری باتوں سے فائدہ وہی اٹھا سکتے ہیں جو عقل سے کام لے کر ان معاملات کو سوچتے ہیں اور انہی کی سمجھ میں یہ بات آسکتی ہے اور وہی درحقیقت انسان کہلانے کے حقدار بھی ہیں۔
Ayah 6:3اللہ وہ ذات ہے جو انسانوں کی ہر بات سے واقف ہے اور کوئی بات اس سے پوشیدہ نہیں :
5: وَ ہُوَ اللّٰهُ فِی السَّمٰوٰتِ وَ فِی الْاَرْضِ 1ؕ ” وہی اللہ ہے آسمانوں کا بھی اور زمین کا بھی “ ” ھومبتدا اللہ “ ، خبر اور ” فی السموات الخ “ اللہ کے متعلق۔ پچھلی آیات کی مزید تفصیل فرمادی کہ زمین و آسمان کی ہرچیز کا خالق ومالک زندہ کرنے والا ، مارنے والا ، رزق دینے والا ، زندگی کی ساری ضرورتیں پوری کرنے والا اور امور کا ئنات کی تدبیر کرنے والا بغیر شرکت غیرے وہی اللہ تعالیٰ ہے۔ زیر نظر آیت نے ساری مشرک قوموں کا رد کردیا جو مختلف اغراض کے لئے الگ الگ دیوتا قرار دیتے ہیں ۔ امام رازی (رح) نے اس آیت پر شبہ پیدا کیا ہے کہ اس سے اللہ تعالیٰ کی تجسیم ثابت ہوئی ہے پھر اپنی عادت کے مطابق اس کے بہت سے جواب دیئے ہیں جو اس تجسیم کے رد میں ہیں۔ یہ تجسیم کہاں سے نکل آئی ؟ ” فی السموات “ اور ” فی الارض “ کی ” فی “ سے ۔ اس سے کیا شبہ پیدا ہوا ؟ کہ اللہ تعالیٰ آسمانوں یا زمنہ میں کہیں بیٹھا ہے ۔ یا کسی مقام پر ضرور موجود ہے۔ یہ شبہ پیدا کیوں ہوا ؟ اس لئے ” فی “ کا ترجمہ ” میں “ کیا گیا حالانکہ ” فی “ کا ترجمہ ” میں ‘ ‘ کی بجائے ” کا “ کرلیا جاتا تو یہ شبہ پیدا ہی نہ ہوتا۔ مطلب یہ ہوا کہ آسمانوں اور زمین سب کا خدا وہی ایک ہے نہ یہ کہ ہر عالم کے دیوتا الگ الگ ہوں۔
زیر نظر آیت اس سورة مبارکہ کی تیسری آیت ہے ۔ پہلی دو آیتوں میں اللہ تعالیٰ کی قدرت کا ملہ کا بیان تھا اس آیت میں اس کے علم محیط کا ذکر ہو رہا ہے یعنی وہ اتنا ہمہ دان اور ہمہ بین ہے کہ کوئی چیز اس کے علم سے پوشیدہ نہیں۔ ہمارے دلوں کے پوشیدہ احساسات ، ہماری زبانوں سے نکلے ہوئے کلمات اور ہمارے سب چھوٹے بڑے ، نیک و بدعمل اس کے احاطہ علم میں ہیں ۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوگیا کہ اگر ان صفات میں کسی انسان نے کسی دوسرے کو شامل کرلیا یعنی یہ کہ ہمارے دلوں کے پوشیدہ احسانات وغیرہ کو کوئی دوسرا بھی جانتا ہے خواہ وہ اللہ کا کوئی نیک بندہ یعنی نبی و رسول ہو یا کوئی ولی اللہ یا کوئی دوسرا پیر و مرشد تو اس طرح سمجھ کر گویا اس نے اللہ تعالیٰ کی ذات میں کسی دوسرے کو شریک سمجھ لیا۔ وہ زبان سے باربار اس کی تکذیب کرے اور اللہ تعالیٰ کو وحدہ لاشریک لہ ، کہتا رہے لیکن شرک کا وہ مرتکب ہوگیا۔ اس لئے اس جگہ مشرک اقوام اور مشرک افراد کو بتایا جا رہا ہے کہ اللہ تو وہ ہے جس کی قدرت بےپایاں اور جس کا علم محیط ہو۔ تمہارے معبود نہ تو قادر و توانا ہیں ، نہ علیم و دانا تو پھر اے عقل کے دشمنو ! وہ معبود اور خدا کیونکر ہو سکتے ہیں اور تم نے جو عقیدے ان کے متعلق گھڑے ہیں ان کی اصل کیا ہے ؟
انسانوں کی ساری احتیاجوں سے واقف ہے کوئی بات اس کے علم سے باہر نہیں :
6: جب ہر ایک چیز کا وہ اکیلا پیدا کرنے والا ہے اور سارے انسانوں کو بھی اسی نے تخلیق کیا ہے تو وہ ان کی احتیاجوں سے کیوں واقف نہیں ہوگا ؟ یقیناً وہ سارے انسانوں کی احتیاجوں سے واقف ہے اور ان کی احتیاجوں کو پورا بھی کرتا ہے بلکہ وہ اتنا دانا ہے کہ اس نے انسانوں کی ساری احتیاجوں کو پہلے پورا کرنے کا بندوست فرمایا اور اس بندوبست کے بعد اس نے ان کو پیدا کیا۔ ہر ایک انسان اپنی ذات پر ذرا دھیان دے لے تو ساری بات صاف ہوجاتی ہے اور شرک بیخ وبن سے اکھڑ جاتا ہے بشرطیکہ کوئی آدمی غور وفکر کرنے والا بھی تو ہو ۔ ایک جگہ ارشاد خداوندی اس طرح ہوا کہ :
” کیا ہم نے اسے دو آنکھیں اور ایک زبان اور دو ہونٹ نہیں دیئے ؟ اور دونوں نمایاں راستے اسے نہیں دکھادیئے “ (البلد 90 : 8 تا 10) مطلب یہ ہے کہ کیا ہم نے اسے علم و عقل کے ذرائع نہیں دیئے ؟ دہ آنکھوں سے مرادجانوروں کی سی آنکھیں مراد نہیں بلکہ وہ انسانی آنکھیں مراد ہیں جنہیں کھول کر آدمی دیکھے تو اسے ہر طرف وہ نشانات نظر آئیں جو حقیقت کا پتہ دیتے ہیں اور صحیح و غلط کا فرق سمجھاتے ہیں۔ زبان اور ہونٹوں سے مراد محض بولنے کے آلات نہیں ہیں بلکہ نفس ناطقہ سے جو ان آلات کی پشت پر سوچنے کا کام کرتا ہے اور پھر ان سے اظہار مافی الضمیر کا کام لیتا ہے اور اسی طرح یہ بھی کہ ہم نے محض عقل و فکری طاقتیں عطا کر کے اسے چھوڑ نہیں دیا کہ اپنا راستہ خود تلاش کرے بلکہ اس کی راہنمائی بھی کی اور اس کے سامنے بھلائی اور برائی ، نیکی اور بدی کے دونوں راستے نمایاں کر کے رکھ دیئے تاکہ وہ خوب سمجھ سوچ کر ان میں سے جس کو چاہے اپنی ذمہ داری پر اختیار کرلے۔ اس لئے کہ اس کی ہر بات ہمارے علم میں موجود ہے اور کوئی چیز بھی ہمارے علم سے باہر نہیں۔
Ayah 6:4انسانی سرکشیوں کا بیان کہ ان کے سامنے چاہو جتنے نشانات رکھو ان کو منہ پھیرتے دیر نہیں لگتی :
7: ان نشانیوں سے مراد وہ نشانیاں بھی ہیں جو عقل و فکر کی راہنمائی کے لئے اللہ نے اپنے رسولوں پر نازل فرمائیں جیسے قرآن کریم کی آیات اور وہ نشانیاں بھی مراد ہیں جو تکوینی طور پر وقتاً فوقتاً بھیجی جاتی رہی ہیں ، بھیجی جا رہی ہیں اور بھیجی جائیں گی ۔ جیسے قحط وزلزلے اور اسی قبیل کی دوسری ناگہانی نشانیاں اور پھر ان ساری نشانیوں کی تفصیل قرآن کریم کے صفحات میں جگہ جگہ بتائی گئی ہیں جیسے ارشاد الٰہی ہے کہ :
” بلاشبہ آسمان و زمین کے پیدا کرنے میں اور رات اور دن کے ایک کے بعد ایک آتے رہنے میں اور جہاز میں جو انسان کی کار برایوں کے لئے سمندر میں چلتا ہے اور برسات میں جسے اللہ آسمان سے اتارتا ہے اور اس کی آب پاش سے زمین مرنے کے بعد پھر جی اٹھتی ہے اور اس بات میں کہ ہر قسم کے جانور زمین کے پھیلاؤ میں پھیلے ہوئے ہیں اور ہواؤں کے پھرنے میں اور بادلوں میں جو آسمان و زمین کے درمیان بندھے ہوئے ہیں ان لوگوں کے لئے جو عقل رکھنے والے ہیں بڑی ہی نشانیاں ہیں۔ “ (البقرہ 2 : 164)
” اور کتنی ہی بستیاں ہیں جنہیں ہم نے ہلاک کردیا چناچہ ایسا ہوا کہ لوگ راتوں کو بیخبر سو رہے تھے یا دوپہر کے وقت استراحت میں تھے کہ اچانک عذاب کی سختی نمودار ہوگئی۔ پھر جب عذاب کی سختی نمودار ہوئی تو اس وقت ان کی پکار اس کے سوا کچھ نہ تھی کہ بلاشبہ ہم ظلم کرنے والے تھے۔ “ (الاعراف 7 : 4 ، 5) ایک جگہ ارشاد ہوا :
” اور دیکھو آسمانوں میں اور زمین میں کتنی ہی نشانیاں ہیں جن پر سے لوگ گزر جاتے ہیں اور نظر اٹھا کر دیکھتے بھی نہیں۔ “
(یوسف 12 : 105)
ایک جگہ ارشاد فرمایا :
” اور ہم نے رات اور دن کو ایسا بنایا کہ دو نشانیاں ہوگئیں سو رات کی نشانی دھیمی کردی اور دن کی نشانی روشن کردی کہ اپنے پروردگار کا فضل ڈھونڈو نیز برسوں کی گنتی اور حساب بھی معلوم کرلو ، ہم نے ہرچیز کا بیان کھول کھول کر الگ الگ واضح کردیا ہے ۔ “
( بنی اسرائیل 17 : 12)
” اور اس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ اس نے تم کو مٹی سے بنایا پھر تم اب انسان ہو روئے زمین پر پھیلے ہوئے ۔ اور اس کی نشانیوں میں سے ہے کہ اس نے تمہاری ہی جنس سے تمہارے جوڑے بنائے تاکہ تم ان سے سکون حاصل کرو اور تمہارے درمیان محبت و ہمدردی پیدا کردی اس میں ان لوگوں کے لیے جو فکر سے کام لیں نشانیاں ہیں۔ اور اس کی نشانیوں میں سے آسمانوں اور زمین کی پیدائش اور تمہاری زبانوں اور تمہارے رنگوں کا اختلاف ہے بلاشبہ اس میں (بھی) علم رکھنے والوں کے لیے (بڑی ہی) نشانیاں ہیں۔ اور اس کی نشانیوں میں سے تمہارا رات کے وقت سونا اور دن کے وقت اس کا فضل تلاش کرنا ہے بلاشبہ اس میں (بھی) سننے والوں کے لیے نشانیاں موجود ہیں۔ اور اس کی نشانیوں میں سے ہے کہ تم کو بجلی دکھاتا ہے خوف وامید دلانے کے لیے اور آسمان سے پانی برساتا ہے پھر اس سے زمین کو اس کے مردہ ہونے کے بعد زندہ کرتا ہے ، اس میں ان لوگوں کے لیے جو صاحب عقل ہیں (بڑی ہی) نشانیاں ہیں۔ اور اس کی نشانیوں میں سے (یہ بھی ایک نشانی) ہے کہ آسمان و زمین اس کے حکم سے قائم ہیں پھر جب تم کو زمین سے ایک بار پکارے گا تو تم اسی وقت نکل پڑو گے۔ “
(الروم 30 : 20 ، 25)
فرمایا اس طرح کی سینکڑوں نشانیاں ہیں جو ان کے سامنے آتی ہیں لیکن وہ لوگ بھی بڑے عجیب ہیں کہ ان سے منہ پھیرتے ان کو ذرا دیر نہیں لگتی اور پھر یہ کہ یہ ان ہی کی عادت نہیں ہے کہ ان کے بڑے بھی ایسا ہی کرتے آئے ہیں۔
Ayah 6:5وہ کون سی سچائی ہے جس کو انہوں نے جھٹلایا نہ ہو ؟
8: جب ” حق “ ان کے پاس آیا تو انہوں نے فوراً اس کو جھٹلا دیا ” حق “ سے مراد قرآن کریم بھی ہو سکتا ہے اور خود نبی اعظم وآخر ﷺ بھی ۔ قرآن کریم کا ” حق “ ہونا کسی پر پوشیدہ نہیں پھر اس نے آکر ” تحدی “ بھی فرمادی کہ میرا سچ ہونا یہی ہے کہ میری مثل تم نہیں لاسکتے نہ انفرادی طور پر اور نہ ہی اجتماعی طور پر اور یہ اعلان قرآن کریم کے صفحات میں باربار دہرایا گیا اور آپ (علیہ السلام) کا ” حق “ ہونا بھی کسی پر پوشیدہ نہ تھا اس لئے کہ نبی کریم ﷺ ابتدائے عمر سے آخر تک انہیں قبائل عرب کے درمیان رہے ۔ بچپن سے جوانی اور جوانی سے بڑھاپا انہی کی آنکھوں کے سامنے آیا۔ ان پر یہ بھی پوری طرح واضح تھا کہ نبی اعظم و آخر ﷺ نے کسی انسان سے مطلقاً کوئی تعلیم حاصل نہیں کی ، یہاں تک کہ اپنا نام بھی نبوت سے پہلے خود نہ لکھ سکتے تھے۔ لیکن نبوت کیا ملی کہ یہ سب کچھ لکھنا آگیا۔ اس سے پہلے کچھ نہ پڑھ سکتے تھے لکن بعد از نبوت سب کچھ پڑھنا آگیا اور نبوت آنے تک کا سارا زمانہ ان کی آنکھوں کے سامنے تھا۔ چالیس سال کی عمر اسی حال میں ان کے درمیان گذری کہ نہ کبھی شعروشاعری سے دلچسپی ہوئی اور نہ ہی کبھی علم حاصل کرنے کی طرف میلان ہوا پھر چالیس سال پورے ہوتے ہیں دفعتاً آپ کی زبان اقدس سے وہ حقائق و معارف اور علوم وفنون جاری ہوگئے کہ دنیا کے بڑے بڑے ماہر فلاسفر بھی آپ ﷺ کے سامنے عاجز نظر آئے۔ عرب کے تمام فضلاء وبلغاء کو اپنے لائے ہوئے کلام کا مقابلہ کرنے کے لئے چیلنج دیا ۔ یہ لوگ جو نبی اعظم و آخر ﷺ کو شکست دینے کے لئے اپنی جان و مال ، عزت وآبرو ، اولاد ، خاندان سب کچھ قربان کرنے کے لئے ہر وقت تلے رہتے تھے ان میں سے کسی ایک کی یہ جرأت نہ ہوئی کہ اس چیلنج کو قبول کرکے قرآن کریم کی ایک آیت کی مثال پیش کردے۔ اس طرح نبی کریم ﷺ کے ہاتھوں ایسے ایسے عقدے حل ہوئے کہ جن کا انکار کوئی صاحب عقل اور صحیح الحواس نہیں کرسکتا مگر ان لوگوں نے ان ساری نشانیوں کو یکسر جھٹلادیا اور اس جھٹلانے کا ذکر اس طرح بیان فرمایا کہ ” جب بھی کوئی سچائی ان کے پاس آئی تو انہوں نے اس کو جھٹلانے میں ذرا بھی دیر نہ لگائی۔ “
جس چیز کی انہوں نے ہنسی اڑائی وہی چیز ان کے زوال کا باعث ہوگئی :
9: نبی رحمت ﷺ کو ایک طرح کی تسلی دی جا رہی ہے کہ یہ لوگ جس بات کی ہنسی اڑاتے رہے ہیں عنقریب اس کی حقیقت انہیں معلوم ہوجائے گی اور وہ اپنے کئے کی پاداش میں جکڑ کر رکھ دیئے جائیں گے۔ اس جگہ کفار کے تنی مدارج کا ذکر کیا گیا یعنی جب آیات ان کے سامنے پیش کی گئیں تو انہوں نے اول اول ان سے منہ پھیرا ، اعراض کیا اور ان کو قابل توجہ نہ جانا۔ دوسرا مرحلہ آیا تو انہوں نے آیات الٰہی کو جھٹلانا شروع کردیا کبھی ان کو سچ ماننے کے لئے تیار نہ ہوئے اور پھر تیسرے مرحلہ میں ان کا مذاق اڑانے لگ گئے اور اس آخری مرحلہ میں پہنچ کر انہوں نے آپ ﷺ کی مخالفت کے لئے کمر ہمت باندھ لی۔
نبی اعظم و آخر ﷺ کی دعوت کا اثر جب پھیلنے لگا تو مکہ کے سرداروں نے آپس میں مشورہ کر کے یہ طے کیا کہ آپ ﷺ کے مقابلے میں پروپیگنڈہ کی ایک مہم شروع کی جائے اور ہر اس شخص کو جو مکہ میں زیارت کے لئے آئے آپ ﷺ کے خلاف پہلے ہی سے اتنا بدگمان کردیا جائے کہ وہ آپ ﷺ کی بات سے سننے کے لئے آمادہ ہی نہ ہو۔ یہ مہم ویسے تو بارہ مہینے ہی جاری رہتی تھی مگر خاص طور پر حج کے زمانے میں کثرت سے آدمی پھیلا دیئے جاتے تھے جو تمام بیرونی زائرین کے خیموں میں پہنچ کر ان کو خبردار کرتے پھرتے تھے کہ یہاں ایسا ایسا ایک آدمی ہے اس لئے ہوشیار رہنا۔ پھر ان گفتگوؤں میں طرح طرح کی باتیں بنائی جاتی تھیں ۔ کبھی کہا جاتا کہ یہ شخص جادوگر ہے۔ کبھی کہا جاتا کہ ایک کلام اس نے خود گھڑ لیا ہے اور کہتا ہے کہ خدا کا کلام ہے کبھی کہا جاتا کہ اجی وہ کلام کیا ہے کہ دیوانوں کی بڑ اور پراگندہ خیالات کا پلندا ہے کبھی کہا جاتا کہ شاعرانہ تخیلات اور تک بندیاں ہیں جن کا نام اس نے کلام الٰہی رکھ دیا ہے اور ان ساری باتوں کا مقصد بہر حال ایک ہی تھا کہ کسی نہ کسی طرح لوگوں کو بہکایا جائے تاکہ وہ نبی اعظم وآخر ﷺ کی مجلسوں میں نہ بیٹھیں اور اس کی باتوں پر کان نہ دھریں اور سنی ان سنی کردیں لیکن چونکہ ان کے پاس کوئی جچا تلا سوال نہ تھا جو اس جگہ اٹھا دیتے اور سب کی زبانیں اس کو دہراتیں اس لئے اس جھوٹے پروپیگنڈے کا حاصل جو کچھ ہوا وہ یہ تھا کہ انہوں نے اس طرح نبی کریم ﷺ کا نام ملک کے گوشہ گوشہ میں پہنچا دیا آپ کی جتنی شہرت مسلمانوں کی کوششوں سے سالہا سال میں بھی نہ ہو سکتی تھی وہ کفار کی اسی مخالفانہ مہم سے تھوڑی مدت ہی میں چار سو پھیل گئی۔ اس طرح ہر دل میں ایک سوال پیدا ہوگیا کہ آخر معلوم تو ہو کہ کون ایسا آدمی ہے جس کے خلاف یہ طوفان بپا ہے اور بہت سے سوچنے والوں نے سوچا کہ اس شخص کی بات سنی تو جائے۔ آخر وہ کہتا کیا ہے ؟ اس طرح جس چیز کو انہوں نے ہنسی بنایا وہی ان کے زوال کا اصل باعث ہوگئی۔
ابن اسحٰق نے طفیل بن عمرو دوسی کا قصہ خود ان کی زبان سے نقل کیا ہے وہ کہتے ہیں کہ میں قبیلہ دوسی کا ایک شاعر تھا ۔ کسی کام سے مکہ گیا۔ وہاں پہنچتے ہی قریش کے چند لوگوں نے مجھے گھیر لیا اور نبی اعظم و آخر ﷺ کے خلاف خوب میرے کان بھرے یہاں تک کہ میں آپ ﷺ سے سخت بدگمان ہوگیا اور میں نے طے کرلیا کہ آپ ﷺ سے بچ کر ہی رہوں گا۔ دوسرے روز میں نے حرم میں حاضری دی تو آپ ﷺ کعبہ میں نماز پڑھ رہے تھے۔ میرے کانوں میں چند جملے جو پڑے تو میں نے محسوس کیا کہ یہ تو کوئی بڑا ہی اچھا کلام ہے۔ میں نے اپنے دل میں کہا کہ میں ایک شاعر ہوں۔ جوان مرد ہوں ، کوئی بچہ نہیں۔ عقل رکھتا ہوں اور پھر صحیح اور غلط میں تمیز نہ کرسکوں ، آخر کیوں ؟ میں نے ارادہ کرلیا کہ میں اس شخص سے ضرور ملاقات کروں گا اور یہ معلوم کروں گا کہ یہ کیا کہتا ہے۔ چناچہ نبی کریم ﷺ جب نماز سے فارغ ہو کر واپس چلے تو میں آپ کے پیچھے پیچھے ہو لیا اور آپ ﷺ کے مکان پر پہنچ کر میں نے عرض کیا کہ آپ ﷺ کی قوم نے آپ ﷺ کے متعلق مجھ سے کہا تھا اور میں آپ ﷺ سے اس حد تک بدگمان ہوگیا تھا کہ میں نے اپنے کانوں میں روئی ٹھونس لی تھی تاکہ آپ ﷺ کی آواز میرے کانوں میں نہ پڑے لیکن ابھی چند کلمے ہی میں نے آپ ﷺ کی زبان سے سنے ہیں ن۔ وہ مجھے کچھ اچھے معلوم ہوئے۔ آپ ﷺ ذرا مجھے تفصیل سے بتایئے کہ آپ ﷺ کیا کہتے ہیں ؟ اس کے جواب میں آپ ﷺ نے مجھے قرآن کریم کا کچھ حصّہ سنایا اور میں اس سے اس قدر متاثر ہوا کہ اسی وقت ایمان لے آیا اور پھر واپس جا کر میں نے اپنے باپ اور بیوی کو مسلمان کیا اور ازیں بعد اپنے قبیلے میں مسلسل اشاعت اسلام کرتا رہا یہاں تک کہ غزوہ خندق کے زمانے تک پہنچتے پہنچتے میرے قبیلے کے ستّر ، اسّی گھرانے مسلمان ہوگئے۔ (ابن ہشام ج 2 ص 22 ، 24)
یہ نتیجہ تھا قرآن کریم کو سمجھنے کا لیکن افسوس کہ آج قوم مسلم نے قرآن کریم نہ سمجھ کر پڑھنے کی قسم کھالی ہے اور علماء اسلام کی اکثریت نے عوام کالانعام کو قرآن کریم سے صرف برکت حاصل کرنے اور مردوں کو بخشوانے کے لئے باور کرادیا ہے کہ قرآن کریم اللہ کی کتاب اس لئے ہے کہ اس کی تلاوت کر کے مرنے والوں کے گناہوں کا ازالہ کرایا جائے اسکے لئے یہ نسخہ اکسیر ہے ۔ اس طرح انہوں نے قرآن کریم کا مذاق اڑانے کا یہ ایک نیا طریقہ ایجاد کرلیا ہے اور وہ پہلے مذاق اڑانے والوں کا انجام بالکل بھول چکے ہیں حالانکہ ان کا بھی وہی حشر ہونے والا ہے جو پہلوں کا ہوا۔
Ayah 6:6کیا ان سے پہلے ہلاک کی جانے والی قومیں ان کے لیے درس عبرت نہ ہوئیں ؟ :
10: فرمایا جا رہا ہے کہ تم سے پہلے کتنی قومیں ہلاک کر کے رکھ دی گئی ہیں۔ کبھی تم نے غور وفکر کیا ہے کہ آخر ان کے ساتھ ایسا کیوں ؟ اگر وہ تمہارے لئے درس عبرت نہ ہوئیں تو اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ تم بھی اس طرح اندھے ہوچکے ہو جیسے وہ اندھے ہوئے تھے ۔ حالانکہ حققت یہ ہے کہ ان میں سے کسی قوم کو بھی نبی کی تکذیب کرتے ہی فوراً نہیں پکڑ لیا گیا تھا بلکہ ہر ایک قوم کو سوچنے کے لئے کافی وقت دیا گیا اور گرفت اس وقت کی گئی جب انصاف کے سارے تقاضے پورے کردیئے گئے ۔ اس طرح کفار مکہ بھی یہ نہ سمجھیں کہ ان کی شامت آنے میں جو دیر لگ رہی ہے وہ اس وجہ سے ہے کہ نبی کی تسیہات محض خالی خولی دھمکیاں ہیں درحقیقت یہ مہلت غورو فکر کے لئے ہے جو اللہ اپنی نعمت کے مطابق ان کو دے رہا ہے اور اس مہلت سے اگر انہوں نے فائدہ نہ اٹھایا تو ان کا انجام بھی وہی ہو کر رہے گا جو ان کے پیش روؤں کا ہوچکا جس کا وقت خا ص بھی اللہ تعالیٰ ہی کے پاس ہے ۔ اس مضمون کو دوسری جگہ اس طرح بیان فرمایا گیا :
” اے پیغمبر اسلام ! اگر وہ جھٹلاتے ہیں تو ان سے پہلے قوم نوح اور عاد اور ثمود اور قوم ابراہیم اور قوط لوط اور اہل مدین بھی جھٹلا چکے ہیں اور موسیٰ (علیہ السلام) بھی جھٹلائے جا چکے ہیں۔ ان سب منکرین حق کو میں نے پہلے مہلت دی پھر پکڑ لیا۔ اب دیکھ لو کہ میری عقوبت کیسی تھی۔ کتنی ہی خطاء کار بستیاں ہیں جن کو ہم نے تباہ کیا ہے اور آج وہ اپنی چھتوں پر الٹی پڑی ہیں۔ کتنے ہی کنوئیں بیکار اور کتنے ہی قصر کھنڈر بنے ہوئے ہیں۔ کیا یہ لوگ زمین میں چلے پھرے نہیں ہیں کہ ان کے دل سمجھنے والے اور ان کے کان سننے والے ہوتے ؟ حقیقت یہ ہے کہ ان کی آنکھیں اندھی نہیں ہوئی مگر وہ دل سے اندھے ہوچکے ہیں جو ان کے سینوں میں ہیں۔ “ (الحج 22 : 42 تا 46)
ٹھوکر لگنے پر آئے تو انسان کو سیدھا اور صاف راستہ چلتے بھی بعض اوقات لگ جاتی ہے اور اپنے ہی پلو میں پاؤں الجھنے سے صاف چت جو جاتا ہے۔ ” ان کے دل سمجھنے والے نہیں۔ “ کے الفاظ ٹھوکر کے باعث نہ ہوں خیال رہے کہ قرآن کریم سائنس کی زبان میں نہیں بلکہ ادب کی زبان میں کلام کرتا ہے۔ یہاں خواہ مخواہ ذہن اس سوال میں نہ الجھ جائے کہ سینے والا دل کب سوچا کرتا ہے ۔ ادبی زبان میں احساسات ، جذبات ، خیالات بلکہ قریب قریب تمام ہی افعال دماغ ہی کی طرف منسوب کئے جاتے ہیں اور دل ہی وہ شے ہے کہ اس کی حرکت سلب ہونے سے انسان کی ہرچیز بےکار ہوجاتی ہے اور آج ” حرکت قلب “ ‘ بندہونے کو کون نہیں جانتا ؟ اور کون ہے جو یہ کہے کہ حرکت قلب تو بند ہوگئی لیکن دماغ اپنا کام جاری رکھے ہوئے ہے ۔ جس سے یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ انسانی جسم میں اصل چیز ” قلب “ ہی ہے یعنی ” حرکت قلب “ اس طرح قرآن کریم اصولوں کی طرف اشارہ کردیتا ہے اور فروعات کی طرف بحث کو نہیں پھیرتا۔
دنیوی ترقیوں پر فریفتہ ہونے والے اچھی طرح سمجھ لیں کہ ان سے پہلے بڑی ترقیوں کے دور گزر چکے :
11: لفظ ” قرن “ سے مراد کیا ہے ؟ قرن ایک زمانہ کو کہا جاتا ہے جس کی مدت ایک سو سال تسلیم کی گئی ہے۔ ” الم یروا “ کیا یہ لوگ نہیں دیکھتے یا ان لوگوں نے نہیں دیکھا۔ اس دیکھنے سے مراد تمام مفسرین نے یہ لی ہے کہ ان لوگوں کے حال پر غوروفکر نہیں کیا ۔ مکہ کے لوگ تجارت پیشہ تھے ان کے تجارتی قافلے دور دراز ملکوں میں جایا کرتے تھے۔ راستہ میں ان کا گزر کئی اجڑی ہوئی بستیوں ، ویران کھنڈروں اور غیر آباد کنوؤں اور نہروں پر ہوتا تھا۔ جب انہوں نے دلائل توحید میں غور کرنے کی بجائے ان کا مذاق اڑانا شروع کردیا تو پہلی گمراہ قوموں کے ہولناک انجام کا ذکر کر کے انہیں متنبہ کیا جارہا ہے کہ یہ عاد وثمود کی ویران بستیاں ہیں جن کو تم باربار دیکھ چکے ہو یہاں سے بسنے والے تم سے زیادہ خوشحال تھے ۔ مال و دولت کی فراوانی تھی۔ وسیع و عریض خطہ زمین ان کے زیر نگیں تھا۔ ان کے ملک میں ٹھنڈے اور میٹھے پانی کی نہروں کا جال بچھا ہوا تھا ان کے کھیت سونا اگل رہے تھے اور ان کے گھر رشک ارم بنے ہوئے تھے لیکن جب انہوں نے بےراہ روی اختیار کی اور حدود اللہ کو توڑنا شروع کردیا تو اس وقت قانون مکافات حرکت میں آیا اور وہ اپنے گناہوں کی پاداش میں ایسے عذاب میں مبتلا ہوئے جس نے ان کو نیست ونابود کردیا اور اس دنیا سے حرف غلط کی طرح مٹا کر رکھ دیئے گئے۔
مطلب بالکل صاف ہے کہ دنیوی ترقیوں پر فریفتہ ہونے والوں کو یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہئے کہ اس دنیا میں ایک سے زیادہ بار یہ ترقی کے دور آئے اور گزر گئے اور جب بھی کوئی قوم ترقی کے عروج پر پہنچی تو اس نے یہ سمجھا کہ شاید ان ترقیوں کو اب زوال نہیں ہوگا اور یہ بھی کہ ایسی ترقیوں کا دور کبھی اس سے پہلے نہیں گزرا حالانکہ حالات زمانہ پر ذرا بھی زور دینے والے اچھی طرح سمجھ سکتے ہیں کہ یہ بات ان کی بالکل غلط اور فضول تھی بلکہ حقیقت بالکل اس کے برعکس ہے اسلئے ان کو سمجھ لینا چاہئے کہ آج وہ جس قدر ترقی کے دور سے گزر رہے ہیں اس سے زیادہ ترقی کے ادوار اس سے پہلے گزر چکے ہیں اور یہ بات آج بھی اسی طرح درست ہے جس طرح نزول قرآن کے وقت درست تھی اور رہتی دنیا تک درست رہے گی۔
قرآن کریم نے خود سیدنا داؤد (علیہ السلام) اور سیدنااسماعیل (علیہ السلام) کے ادوار کو بیان کیا اور ان کی ترقیوں کے ادوار کو بتایا جن کے دور کی ترقی اس ترقی کے زمانے سے بھی بہت زیادہ آگے تھی ۔ قرآن کریم کا ارشاد اس طرح ہے کہ :
” ہم نے داؤد (علیہ السلام) کو تمہارے فائدے کے لیے زرہ بنانے کی صنعت سکھا دی تھی تاکہ تم کو ایک دوسرے کی مار سے بچائے پھر کیا تم شکر گزار ہو ؟ اور سلیمان کے لیے ہم نے تیز ہوا کو مسخر کردیا تھا جو اس کے حکم سے اس سرزمین کی طرف چلتی تھی جس میں ہم نے برکتیں رکھی ہیں۔ ہم ہرچیز کا علم رکھنے والے ہیں اور شیاطین میں سے ہم نے ایسے بہت ساروں کو اس کا تابع بنا دیا تھا “ (الاخبار 21 : 81 ، 82)
ایک جگہ ارشاد فرمایا کہ :
” وہ سلیمان (علیہ السلام) کیلئے جو وہ چاہتا تھا بناتے تھے بڑے بڑے قلعے اور تماثیل ، بڑے بڑے لگن جیسے حوض اور ایک جگہ پڑی رہنے والی دیگیں ، اے آل داؤد شکر کے طور پر نیک عمل کرو اور میرے بندوں میں کم ہی شکر گزار ہیں۔ “ (سباء 34 : 13)
” اور ہم نے لوہے کوا س کے لئے نزم کردیا کہ پوری پوری زرہیں بنا اور ٹھیک اندازے سے کڑیاں جوڑ۔ “ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد (علیہ السلام) کو لوہے کے استعمال پر قدرت عطا کی تھی اور خاص طور پر جنگی اغراض کے لئے زرہ سازی کا طریقہ سکھایا تھا۔ موجودہ زمانے کی تاریخی واثری تحقیقات سے ان آیات کے معنی پر جو روشنی پڑتی ہے وہ یہ ہے کہ دنیا میں لوہے کے استعمال کا دور 1200 اور 1000 ق م کے درمیان شروع ہوا اور یہی زمانہ سیدنا داؤد (علیہ السلام) کا زمانہ ہے ۔ اول اول شام اور ایشائے کو چک کی حتی کہ قوم کو جس کے عروج کا زمانہ 2000 سے 1400 ق م تک رہا ہے لوہے کے پگھلانے اور تیار کرنے کا ایک پیچیدہ طریقہ معلوم ہوا اور وہ شدت کے ساتھ اس کو دنیا بھر سے راز میں رکھے رہی مگر اس طریقے سے جو لوہا تیار ہوتا تھا وہ بہت ہی منگا ہوتا تھا جو عام استعمال میں نہ آسکتا تھا بعد میں فلستیوں نے یہ طریقہ معلوم کرلیا اور وہ بھی اسے راز ہی میں رکھتے رہے طالوت کی بادشاہی سے پہلے حتیوں اور فلسیتوں نے بنی اسرائیل کو مسلسل شکستیں دے کر جس طرح فلسطین سے تقریباً بےدخل کردیا تھا۔ بائبل کے بیان کے مطابق اس کے وجوہ میں سے ایک عام وجہ یہ تھی کہ یہ لوگ لوہے کی رتھیں استعمال کرتے تھے اور ان کے پاس دوسرے آہنی ہتھیار بھی موجود تھے (یشوع 17 : 16) (قضاۃ باب اول آیت 19) ازیں بعد جب طالوت اللہ کے حکم سے بنی اسرائیل کے فرمانبردار ہوئے تو حالات کا رخ بدلا اور پھر حضرت داؤد (علیہ السلام) نے 1004۔ 965 ق م فلسطین اور شرق اردن بلکہ شام کے بھی ایک بڑے حصے پر قومی حکومت قائم کردی اور اس سے پہلے بھی ترقی کے جو ادوار گزرے ان کا ذکر جگہ جگہ قرآن کریم میں بطور اشارات ملتا ہے اور خصوصاً پچھلے ادوار میں جو ترقی عمارات کو دی گئی اس کے نمونے آج بھی اس دور کی ترقی کے شاہد ہیں ” کھنڈرات بتا رہے ہیں کہ عمارت عجیب تھی۔ “ آثار قدیمہ میں مدائن صالح کی ثمودی عمارات ، مدین میں ثمودی طرز کی عمارات ، پیڑا میں نبطی طرز کی عمارات ، پیٹرا میں ثمودی طرز کی عمارات ، کوہ طور کے دامن میں سین کتھرائن کی خانقاہ ایسے عجائبات ہیں جو گذشتہ ادوار کی ترقیوں کی نشاندہی کرتے ہیں۔
انعامات الٰہی کی فراوانیاں بھی گذشتہ اوام پر وافر تھیں :
12: ہر قوم کو اللہ تعالیٰ نے قدم جمانے کا موقع دیا لیکن جب قوم اچھی طرح جم گئے تو بہت ہی کم لوگ تھے جنہوں نے اللہ تعالیٰ کے احسانات و انعامات کا شکر ادا کیا لیکن سنت اللہ یہ نہیں ہے کہ ناشکروں اور ناقدر شناسوں کو اسی وقت ناشکری اور ناقدری کی پاداش میں پکڑ لیا جائے بلکہ ان کو ان کی مقررہ میعاد تک وقت دیا گیا اور ان کی ناقدری اور ناشکری کے باوجود اللہ تعالیٰ کے انعامات کا سلسلہ برابر جاری وساری رہا ان انعامات الہیہ میں آسمانی بارشیں ، موافق ہوائیں ، رزق کی فراوانیاں اور اولادوں کی کثرت سب شامل تھے اور دنیا میں پمپنے کے لئے یہ ساری چیزیں ساز گار گنی جاتی ہیں اور جس طرح وہ پہلے تھی آج بھی ہیں چناچہ سید سلیمان (علیہ السلام) کے لئے ایک مہینے کی راہ تک ہوا کی رفتار کو ” مسخر “ کرنے کا مطلب بھی یہی ہے کہ اس زمانے میں بحری سفر کا سارا انحصار باد موافق ملنے پر تھا اور اللہ تعالیٰ کا حضرت سلیمان (علیہ السلام) پر یہ خاص کرم تھا کہ ہوا ہمیشہ ان کے دونوں بحری بیڑوں کو ان کی مرضی کے مطابق ملتی تھی جس کا ذکر قرآن کریم کی سورة سباء میں آگے چل کر تفصیل کے ساتھ آئے گا ۔ چناچہ ایک جگہ ارشاد الٰہی ہوا کہ :
” اور ہم نے جب کبھی کسی بستی میں کوئی نبی بھیجا تو ہمیشہ ایسا کیا کہ اس کے باشندوں کو سختیوں اور نقصانوں میں مبتلا کردیا تاکہ عاجزی و نیازمندی کریں ۔ پھر ہم نے ان کی مصیبت را حت سے بدل دی پھر جب ایسا ہوا کہ وہ خوب بڑھ گئے اور بےپرواہ ہو کر کہنے لگے ہمارے بزرگوں پر سختی کے دن بھی گزرے اور راحت کے بھی ، تو اچانک ہمارے عذاب کی پکڑ میں آگئے اور وہ بالکل بیخبر تھے۔ “ (الاعراف 7 : 94 ، 95)
مرنے کے بعد نیکوں کا ذکر نیکی سے اور بروں کا ذکر برائی کے ساتھ کیا جاتا ہے :
13: مرنے کو تو سب مرتے ہیں نیک بھی اور بد بھی لیکن گناہوں میں ڈوبے ہوؤں کی زندگی جب ختم ہوتی ہے تو انکی داستان ان کے گناہوں کو تازہ رکھتی ہیں اور بعد میں آنے والے بھی ان کی ان داستانوں کو پڑھتے اور ان پر پھٹکار ڈالتے اور ان سے نفرین کرتے ہیں اس لئے ان کی ہلاکت کا ذکر جاری رہتا ہے اور انکی جگہ لینے والی قوموں کے لئے وہ درست عبرت بنے رہتے ہیں ۔ یہی حال آج بھی ان قوموں کا ہے جن کو صفحہ ہستی سے مٹے ہوئے لاکھوں سال گزر چکے ہیں لیکن ان کے گناہوں کی یاد اب تک تازہ ہے اور رہتی دنیا تک تازہ رہے گی۔ اگر یہ لوگ اچھے ہوتے تو آج بھی ان کا ذکر اچھائی سے کیا جاتا۔ لیکن افسوس کہ آج جو قوم ان کی داستانوں کو تازہ رکھے ہوئی تھی وہ اپنی حالت کو اس طرح بھول گئی جس طرح ان لوگوں نے اپنی حالت کو بھلا دیا تھا ۔ اس سے مراد ہماری قوم مسلم ہے۔
Ayah 6:7نہ ماننے والوں کو منانے کی کوئی صورت نہیں ہاں ! دفعہ الوقتی دوسری بات ہے :
14: نبی اعظم و آخر ﷺ کو اور آپ ﷺ کے ذریعہ سے آپ ﷺ کی امت کو بتایا جارہا ہے کہ نہ ماننے والوں کو منانے کی کوئی ایسی صورت نہیں ہے جس سے ان کے دلوں کو ایمان ویقین کی دولت سے بھر دیا جائے بلکہ یہاں تو جو کچھ ہوتا ہے صرف دفعہ الوقتی کے لئے ہوتا ہے جب چاروں طرف سے گھر گئے اور کوئی راستہ نکلنے کا نہ رہا تو سر نیچا کر کے زمین پر لکیریں کھینچنا شروع کردیں یہ ماننے والوں پر دال نہیں بلکہ نہ ماننے والوں کی دفعہ الوقتی ہے ۔ اسمیں کفار کی ہٹ دھری اور عناد کا بیان ہورہا ہے کہ اگر وہ اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کرلیں کہ قرآن کریم کا غذ میں لکھا لکھایا آسمان سے اتررہا ہے اور پھر وہ اسے اپنے ہاتھوں سے ” ٹول کر بھی دیکھ لیں تب بھی اس پر ایمان نہیں لائیں گے اس لئے کہ ایمان لانا اس کے مشن کی بات نہیں بلکہ ان کے مشن میں جھٹلانا ہے اور اس کے لئے ان کے پاس اور کوئی صورت بھی نہ ہوئی تو وہ یہ بہانہ تو تراش ہی لیں گے کہ یہ سوائے اس کے کچھ بھی نہیں کہ ” کھلا جادو ہے۔ “ اللہ تعالیٰ جب کسی فرد وقوم کے دل کی آنکھیں اپنے قانون کے مطابق بےنور کردے اس دل پر کوئی دلیل بھی اثر نہیں کرسکتی اس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ ” خوئے بدرابہانہ ہابسیار “ فرمایا جا رہا ہے کہ ” اگر ہم تم پر ایک کتاب کا غذ پر لکھی لکھائی اتار دیتے اور یہ لوگ اسے ہاتھوں سے چھو کر دیکھ لیتے کہ یہ سچ مچ کی کتاب ہے پھر بھی جن لوگوں نے انکار کی راہ اختیار کی ہے وہ کہتے یہ اس کے سوا کچھ نہیں ہے کہ صریح جادوگری ہے۔ “ اور دوسری جگہ اس کو اسی طرح بیان کیا گیا ہے کہ :
” اور ہم نے اس قرآن کریم میں ہر طرح کی مثالیں بار بار بیان کیں لیکن ان میں سے اکثروں نے کوئی بات قبول نہیں کی اور قبول کی تو صرف ناشکری ! اور انہوں نے کہا ہم تو اس وقت تک تجھے ماننے والے نہیں جب تک کہ تو اس زمین کو حکم دے اور ہمارے لیے اس سے ایک چشمہ پھوٹ نکلے۔ یا تیرے پاس کھجوروں اور انگوروں کا ایک باغ ہو اور اس کے درمیان بہت سی نہریں رواں کر کے دکھا دے۔ یا جیسا کہ تو نے خیال کیا ہے ، آسمان ٹکڑے ٹکڑے ہو کر ہم پر آ گرے یا اللہ اور اس کے فرشتے ہمارے سامنے آ کھڑے ہوں۔ یا ہم دیکھیں کہ سونے کا ایک محل تیرے لیے مہیا ہوگیا ہے تو بلند ہو کر آسمان پر چلا جائے اور اگر تو آسمان پر چلا بھی گیا تو بھی ہم یہ بات ماننے والے نہیں ، جب تک کہ تو ایک کتاب ہم پر نہ اتار دے اور ہم خود اسے پڑھ کر جانچ نہ لیں ، ان لوگوں سے کہہ دے سبحان اللہ ! میں اس کے سوا کیا ہوں کہ ایک آدمی ہوں پاغے مِ حق پہنچانے والا۔ “ (بنی اسرائیل 17 : 89 ، 93)
ٹمنکرین اسلام قرآن کریم کے متعلق عام تاثر یہی دیتے ہیں کہ قرآن کیا ہے ؟ ایک گھڑی گئی کتاب ہے جو محمد ﷺ نے گھڑ لی ہے ان کو باربار یہ کہا گیا تھا کہ اگر یہ گھڑی ہوئی چیز ہے تو تم بھی اس جیسی ایک کتاب گھڑ کر دکھا دو پھر اتنی بڑی کتاب بھی نہیں بلکہ اس جیسی ایک سورت بلکہ ایک آیت ہی سہی۔ جب وہ اس چیلنج کا کوئی جواب نہ دے سکے تو انہوں نے اپنی طرف سے ایک مطالبہ کھڑا کردیا وہ یہ کہ اگر تم پیغمبر ہو تو ابھی زمین کی طرف اشارہ کرو اور یکایک ایک چشمہ پھوٹ بہے یا فوراً ایک لہلہاتا ہوا باغ پیدا ہوجائے ۔ ایک پھونک مارو اور چشم زون میں سونے کا ایک محل بن کر تیار ہوجائے ۔ ایک آواز دو اور ہمارے سامنے خدا اور اس کے فرشتے فوراً آکھڑے ہوں اور وہ شہادت دیں کہ ہم نے محمد کو پیغمبر بنا کر بھیجا ہے۔ ہماری آنکھوں کے سامنے آسمان پر چڑھ کر جاؤ اور اللہ میاں سے ایک خط ہمارے نام لکھوا لاؤ جسے ہم ہاتھ سے چھوئیں اور آنکھوں سے پڑھیں۔ یہ ساری باتیں انہوں نے کیوں بنائیں ؟ اس لئے کہ وہ قرآن کریم کو اللہ کی کتاب ماننے کے لئے تیار نہ تھے اور صحیح جواب اس کا ان کے پاس نہیں تھا لہٰذا وہ اس طرح کی کٹ حجتیاں نہ کرتے تو اور کیا کرتے۔ ان ساری باتوں کا نام انہوں نے معجزہ اور آیت رکھا اور جب رسول اللہ ﷺ کی طرف سے ان کو کھرا کھرا جواب مل گیا کہ میں تو ایک رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں میں نے خدائی کا دعویٰ کب کیا ہے ؟ تو انہوں نے یہ پھبتی کسی کہ یہ اچھا رسول ہے جو ایک انسان ہو کر رسالت کا دعویٰ کرتا ہے۔
Ayah 6:8کفار مکہ کی طرف سے مطالبہ کہ محمد رسول اللہ ﷺ پر کوئی فرشتہ کیوں نازل نہیں ہوتا :
15: کون پوچھے کہ رسول کیسے رسول ہوگیا اگر اس پر کوئی فرشتہ نازل نہیں ہوا ؟ اس فرشتہ سے مراد وحی لانے والا فرشتہ نہیں بلکہ ان کے زعم باطل میں یہ تھا کہ جو اللہ کا رسول بن کر آئے اللہ اس کے ساتھ فرشتے نازل کرتا ہے جو اس کے رسول ہونے کی گواہی دیتے ہیں اور جو اس کو رسول نہ مانے اس کی ہلاکت کا باعث ہوتے ہیں اور اس کو تہس نہس کردیتے ہیں اس طرح پہلے انہوں نے خود ہی ایک نظریہ گھڑا اور پھر خود ہی اس کو رسول ہونے کا معیار مان لیا اور لگے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ کٹ حتیاں کرنے۔ ایک جگہ ارشاد فرمایا کہ :
” پھر یہ لوگ کس بات کی انتظار میں ہیں ؟ کیا اس بات کے منتظر ہیں کہ اللہ ان کے سامنے نمودار ہوجائے ، بادل ان پر سایہ کیے ہوں ، فرشتے ان کے سامنے صف باندھے کھڑے ہوں اور جو کچھ ہونا ہے وہ ہوچکے ؟ اور تمام کاموں کا انجام بالآخر اللہ ہی کے ہاتھ میں ہے۔ “
(البقرہ 2 : 210)
فرمایا گیا کہ اگر ایک گروہ کے ایمان ویقین کے لئے کلام الٰہی کی ہدایت کافی نہیں تو پھر اس کے بعد یہی رہ گیا ہے کہ خدا اس کے سامنے آکر اپنی زبان سے کہہ دے کہ میں تمہارا خدا ہوں مجھ پر ایمان لاؤ لیکن نہ ایسا ہوا اور نہ ہی ہو سکتا ہے کیوں ؟ اس لئے کہ یہ قانون الٰہی کے خلاف ہے اور اللہ تعالیٰ اپنے قانون کے خلاف نہیں کرتا اور نہ ہی ہونے دیتا ہے اور یہی اس کے قادر ہونے کی سب سے بڑی دلیل ہے۔
اور ایک جگہ ارشاد الٰہی اس طرح ہے کہ :
” اور یہ لوگ کہتے ہیں کیوں ایسا نہ ہوا کہ اس پر اس کے پروردگار کی طرف سے کوئی نشانی اترتی ؟ تو تم کہہ دو غیب کا علم صرف اللہ ہی کیلئے ہے پس انتظار کرو میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرنے والوں میں ہوں۔ “ (یونس 10 : 20) نبوت کیا ہے ؟ نبوت فی الواقع ایک نشانی ہے اور نشانی بھی معمولی نہیں بلکہ ہزاروں نشانیوں کے برابر ایک ہی نشانی۔ لیکن اس کے باوجود معاندین نشانی طلب کر رہے ہیں کیوں ؟ اس لئے کہ وہ نشانی دیکھ کر ایمان لائیں ؟ اس سلسلہ میں یہ بات پیش نظر رہے کہ نشانی کے لئے ان کا یہ مطالبہ کچھ اس بنا پر نہ تھا کہ وہ سچے دل سے دعوت حق کو قبول کرتے اور اس کے تقاضوں کے مطابق اپنے اخلاق کو ، عادات کو ، نظام معاشرت اور تمدن کو اور اسی طرح اپنی پوری زندگی کو ڈھال لینے کے لئے تیار تھے اور فقط اس وجہ سے ٹھہرے ہوئے تھے کہ نبی کی تائید میں کوئی نشانی انہوں نے ایسی نہیں دیکھی تھی جس سے انہیں اس کی نبوت کا یقین آجائے۔ اصل بات یہ تھی کہ نشانی کا یہ مطالبہ محض ایمان نہ لانے کے لئے ایک بہانے کے طور پر پیش کیا جاتا تھا جو کچھ بھی ان کو دکھایا جاتا اس کے بعد وہ یہی کہتے کہ کوئی نشانی تو ہم کو دکھائی ہی نہیں گئی اس لئے کہ وہ ایمان لانا چاہتے نہ تھے اور یہ تسلیم بھی نہ کرنا چاہتے تھے کہ ایمان لانا نہیں چاہئے لہٰذا جو کچھ ان کے منہ میں آتا بغیر سوچے سمجھے کہہ دیتے۔
ان کے اس مطالبہ کے مطابق کہ کوئی فرشتہ نازل کیوں نہیں ہوتا ؟ اگر ہم اپنی قوتوں میں سے کسی قوت کو نازل کردیں تو ہمارا قانون یہ ہے کہ پھر ہم نہ ماننے والوں کو مزید مہلت نہیں دیتے اور اس طرح جب یہ لوگ جو عادتاً انکاری ہیں اور ” میں نہ مانوں “ کی رٹ لگانے والے ہیں انکار کردیں گے تو حکم الٰہی ان کے ہلاک کرنے کے لئے جاری ہوجائے گا اور بعد ازیں ان کو ذرا بھی مہلت نہ دی جائے گی اس لئے ان کو سمجھنا چاہئے کہ ان کی مانگی ہوئی کوئی نشانی اگر ظاہر نہیں کی گئی تو اس میں ان ہی کی خیر خواہی کا پہلو غائب ہے اور پھر یہ بھی کہ ایسا سوال کرنے والے عجیب طرح کے بیوقوف ہیں کہ فرشتوں کے نازل کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں کیا ان کے نازل ہونے کو وہ دیکھ لیں گے ؟ کیا ان کی آنکھیں فرشتہ کو دیکھ لینے کی متحمل ہیں ؟ کیا ان کے نزدیک فرشتہ کوئی ” نتھوخیرا “ ہے ؟ مزید تشریح آنے والی آیت پیش کر رہی ہے۔
Ayah 6:9اگر ہم کسی فرشتے کو رسول بنا کر بھیج دیتے تو کیا پھر وہ اس کو رسول مان لیتے ؟ :
16: فرشتہ کیا ہے ؟ قدرت الٰہی کا ایک نشان اور طاقت جس کو ” ملک “ کے لفظ سے یاد کیا گیا ہے ۔ کیا وہ نظر آنے والی چیز ہے ؟ قوت کا اپنا کوئی وجود جس سے وہ نظر آئے ممکن نہیں بلکہ اس کو دیکھنے کے لئے کوئی وجود عطا کرنا پڑتا ہے۔ وہ خیالی ہو یا مثالی یا اس کا جو نام بھی رکھ لیں ۔ فرمایا ” اگر ہم کسی فرشتے کو پیغمبر کردیتے تو اسے بھی انسان ہی بناتے۔ “ یعنی وہ کسی انسان ہی کی شکل میں نظر آتا کیوں ؟ اس لئے کہ اس کو انسانوں کی طرف بھیجا جانا تھا اور پھر انسانوں میں سے خاص کر مرد کی صفت سے اس کا تعلق ہوتا تو اس کا نتیجہ کیا نکلتا یہی کہ ” جیسے کچھ شبہات یہ اب کر رہے ہیں ویسے ہی شبہوں میں اس وقت بھی وہ مبتلا ہوتے۔ “ کیوں ؟ اس لئے کہ وہ تو اس کو انسان ہی کی شکل میں دیکھتے پھر وہ کیا چیز تھی جس سے وہ بار کرلیتے کہ وہ ہے فرشتہ لیکن اس کو صرف وجود انسان کا عطا کیا گیا ہے۔ اس وقت وہ یہ اعتراض کر رہے ہیں لیکن اگر ایسا بنا دیا جاتا تو اس کی شکل و صورت انسان کی ہوتی تو ان کے کرنے کے سوال اور بہت سے تھے وہ کوئی نیا سوال کرلیتے۔ ایک چیز کو جب تسلیم نہ کرنے کی ٹھان لی جائے تو آخر وہ کونسی بات ہے جو اس کو تسلیم کرنے پر مجبور کردے دے اور پھر اگر وہ مجبور ہو بھی جائے تو وہ تسلیم کرنا کیا تسلیم کرنا ہوا جو کسی مجبوری کے تحت تسلیم کیا گیا ہو اس کا نام تو منافقت ہو سکتا ہے اسلام نہیں۔ اسلام تو وہی ہے جو دل کی گہرائیوں سے تسلیم کیا جائے اور اس میں کوئی مجبوری حائل نہ ہو۔ اس طرح کی باتیں بنا کر دراصل یہ لوگ آپ ﷺ کا مذاق اڑا رہے ہیں اور نہ آپ ﷺ پہلے رسول ہیں اور نہ ہی یہ پہلے جھٹلانے والے اور اس طرح کے مذاق اڑانے والے ، وہ وقت یقیناً آئے گا کہ یہ خود مذاق ہو کر رہ جائیں گے اور ان کا یہ نشہ اترتے ذرا بھی دیر نہیں لگے جس نشہ نے انکو اس قدر مخمور کر رکھا ہے کہ یہ اس طرح کی اٹکھیلیوں پر اتر آئے ہیں۔
Ayah 6:10آپ ﷺ سے پہلے رسولوں کی ہنسی بھی اڑائی گئی غور کرو کہ ہنسی اڑانے والوں کا انجام کیا ہوا ؟ :
17: یہ گویا نبی اعظم و آخر ﷺ کو تسلی دی جا رہی ہے کہ اے پیغمبر اسلام ! یہ استہزاء و تمسخر اور ایذاء رسانی کا معاملہ جو آپ ﷺ کی قوم آپ ﷺ کے ساتھ کر رہی ہے کچھ آپ ﷺ ہی کے ساتھ مخصوص نہیں آپ ﷺ سے پہلے بھی سب رسولوں کو ایسے دل دوز اور ہمت شکن واقعات سے سابقہ پڑا ہے مگر انہوں نے ہمت نہیں ہاری اور انجام یہ ہوا کہ استہزاء اور تمسخر کرنے والی قوم کو اس عذاب نے آپکڑا جس کا تمسخر کیا کرتے تھے۔
دیکھو نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو اللہ کا پیغام سنایا لیکن قوم کی اکثریت نے اس کو قبول نہ کیا بلکہ الٹا نوح (علیہ السلام) کا مذاق اڑانا شروع کردیا نتیجہ کیا ہوا کہ سوائے چند معدودے آدمیوں کے جو نوح (علیہ السلام) پر ایمان لائے تھے پوری قوم کی قوم کو غرق کر کے رکھ دیا گیا اور ان غرق ہونے والوں میں آپ کی بیوی اور ایک بیٹا بھی تھا۔ جب ان کے اعمال غرق ہونے والوں کے سے تھے تو ان کو نبی (علیہ السلام) کا قرب بھی کچھ کام نہ آیا۔ اسی طرح ہود (علیہ السلام) کی قوم عاد کا ذکر پڑھو کہ جب انہوں نے سیدنا ہود (علیہ السلام) کی دعوت کا تمسخر اڑایا تو انجام کار وہ بھی اس لعنت کے مستحق ٹھہرے اور ان کو بھی سوائے ان لوگوں کے جو ہود (علیہ السلام) پر ایمان لائے تھے حرف غلط کی طرح مٹا کر رکھ دیا گیا پھر یہی حال صالح (علیہ السلام) کی قوم کا ہوا اور یہی معاملہ دوسرے انبیاء کرام کی امتوں کے ساتھ روا رکھا گیا تھا پھر جب سارے مخالفین کے ساتھ یہی کچھ ہورا آیا ہے تو اللہ تعالیٰ کا طریقہ کبھی بدلنے والا نہیں انجام آپ کا تمسخر اڑانے والوں کا بھی وہی ہوگا جو آپ سے پہلے دوسرے انبیاء کرام کا تمسخر اڑانے والوں کا ہوا۔ عذاب کی صورت خواہ کچھ ہو لیکن ایسا نہیں ہو سکتا کہ آپ ﷺ کے مخالفین کا انجام ویسا نہ ہو جیسا کہ دوسرے انبیائے کرام کے مخالفین کا ہوا ہاں ! ہماری سنت یہ بھی ہے کہ قوم کو عذاب اس وقت آتا ہے جب رسول کو اور اس کے ماننے والوں کو اس علاقہ سے نکال لیا جائے تاکہ وہ عذاب کی زد میں نہ آئیں اور یہی کچھ یہاں بھی ہوگا کہ جب تک آپ ﷺ اپنی قوم میں ہیں یہ لوگ عذاب کی گرفت سے محفوظ ہیں لیکن جب ان پر گرفت کا وقت آئے گا تو آپ ﷺ کو یقیناً یہاں سے نکل جانے کا حکم مل جائے گا اور یہی کچھ ہوا جس کا حکم آپ ﷺ کو دیا گیا اور آپ ﷺ کا تمسخر کرنے والے سب سے پہلے قحط کے عذاب میں مبتلا کردیئے گئے اور ازیں بعد انکو اپنے گھروں اور اپنے علاقے میں اللہ تعالیٰ نے ذلیل و خوار کر کے رکھ دیا اور رسول اللہ ﷺ کو کامیاب وکامران کردیا اور چونکہ آپ ﷺ کے بعد کوئی نیا نبی آنے والا نہ تھا اس لئے آپ ﷺ کی امت پر وہ عذاب نہ آیا جس کی پاداش میں پوری قوم غرق کر کے رکھ دی جاتی بلکہ آپ ﷺ کی امت تا قیامت باقی رہنا قرار پائی۔ اس لئے کہ آپ ﷺ کسی ایک علاقہ کے نبی نہیں تھے۔