6. Surah Al-An'aam

الأنعامThe Cattle · 165 ayahsعروۃ الوثقٰی

Ayah 6:35

وَ اِنْ كَانَ كَبُرَ عَلَیْكَ اِعْرَاضُهُمْ فَاِنِ اسْتَطَعْتَ اَنْ تَبْتَغِیَ نَفَقًا فِی الْاَرْضِ اَوْ سُلَّمًا فِی السَّمَآءِ فَتَاْتِیَهُمْ بِاٰیَةٍ١ؕ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَجَمَعَهُمْ عَلَى الْهُدٰى فَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْجٰهِلِیْنَ Open ayah 6:35 in the Quran reader

اور اگر ان لوگوں کی روگردانی تم پر کٹھن گزرتی ہے تو اگر تم سے ہو سکے تو زمین کے اندر کوئی سرنگ ڈھونڈ نکالو یا آسمان میں کوئی سیڑھی مل جائے تو لگا لو اور اس طرح انہیں ایک نشانی لا کر دکھاؤ اگر اللہ چاہتا تو ان سب کو دین حق پر جمع کردیتا دیکھو ان میں سے نہ ہوجاؤ جو علم نہیں رکھتے !

انسانیت سے پیار اور محبت بالکل صحیح لیکن اس کی کچھ حدود بھی ہیں جن سے تجاوز جائز نہیں : 54: زیر نظر آیت میں نبی اعظم و آخر ﷺ کی اسی محبت اور پیار کا ذکر کیا گیا ہے جو آپ ﷺ کو انسانوں کے ساتھ تھا۔ اسی محبت کا تقاضا اتنا شدید تھا کہ آپ ﷺ کا جی چاہتا کہ کوئی بیوقوف سے بیوقوف بھی اسلام کو قبول کرنے کیلئے کوئی شرط لگا دے کہ آپ ﷺ یہ کردیں تو ہم آپ ﷺ پر ایمان لے آئیں گے تو اس کا کہا اس وقت پورا کردیا جائے تاکہ وہ ہدایت سے محروم نہ رہے کیونکہ ہدایت سے محروم رہا تو دوزخ کا ایندھن ہوگیا اور یہ بات آپ ﷺ کے لئے بہت تکلیف دہ تھی کہ کوئی انسان دوزخ کا ایندھن بنے۔ آپ ﷺ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ پیغام دیا جا رہا ہے کہ آپ ﷺ اس قدر جذبات سے مغلوب نہ ہوجائیں اسلئے الٰہی مشیت کے فیصلے کبھی بدلا نہیں کرتے اور ہمیشہ جو ئندہ یا بندہ ہوتا ہے جو متلاشی نہ ہوا س کو دیا نہیں جاتا۔ یہ مشروط طور پر ہدایت کو قبول کرنے والے لوگ اس شرط لگانے میں بھی سچے نہیں بلکہ یہ وقت گزاری کے لئے بہانے تراشنے والے ہیں۔ میں ان کے دلوں کے رازوں کو بھی جانتا ہوں یہ جو کچھ کہہ رہے ہیں ازراہ شرارت کہہ رہے ہیں نہ کہ ہدایت کو قبول کرنے کے لئے۔ اگر ان کو ہدایت مطلوب ہوتی تو وہ آپ ﷺ کے لائے ہوئے کلام دیکھتے ، پڑھتے اور سمجھنے کی کوشش کرتے۔ آپ ﷺ نے اپنی نبوت کے اعلان میں یہ بات کب کہی ہے کہ میں یہ اور یہ کر کے دکھا سکتا ہوں ؟ آپ ﷺ کے پیغام کا ماحصل تو صرف تو صرف یہ ہے کہ ” میں بھی ایک انسان ہوں جیسے کہ تم انسان ہو لیکن مجھ پر اللہ نے وحی کی ہے اور اس میں بتایا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی دوسرا تمہارا معبود و مسجود اور مشکل کشاو حاجت روا نہیں۔ “ اور یہ پیغام فی نفسہ ان کے لئے سارے خوارق سے بڑا خارق تھا کہ آپ ﷺ جیسا ایک امی انسان ان سے مخاطب ہے اور وہ یہ بات کہہ رہا ہے جو ان کے بڑے بڑے خواندہ لوگ بھی نہ کہہ پائے اور نہ ہی کہہ سکتے تھے۔ فرمایا اچھا اگر آپ ﷺ ان راہ گم کردہ لوگوں کی ہدایت پانے پر اتنے ہی حریص ہیں اور چاہتے ہیں کہ جو بات وہ منہ سے نکالیں فوراً پوری کردی جائے اور ان کی ہر طلب کو فوراً مان لیا جائے تو پھر آپ ﷺ کے بس میں ہے تو ان کا وہ مطالبہ پورا کردیں خواہ اس کے لئے زمین میں سرنگ لگانی پڑے یا آسمان پر کوئی زینہ لگا کے چڑھنا پڑے۔ اس طرح گویا رحمت للعالمین ﷺ کو یہ بتانا مقصود ہے کہ اللہ تعالیٰ کی حکمت کا یہ تقاضا نہیں کہ کسی انسان کو اتنا مجبور ومقہور کردیا جائے گا کہ اسلام کو تسلیم کئے بغیر اس کے لئے کوئی چارہ کار نہ رہے کیونکہ اسلام صرف چند رسوم کی ادائیگی کا نام نہیں اور نہ ہی چند کلمات کے تلفظ کردینے کا نام ہے بلکہ وہ ایک ہمہ گیر انقلاب ہے جو روح قلب اور شعور واحساس کی پرانی دنیا کو زیر و زبر کر کے نئی دنیا کی تعمیر کرنے کا نام ہے اور یہ انقلاب فقط اس وقت رو پذیر ہو سکتا ہے جب کوئی شخص اپنی مرضی سے خوب سوچ سمجھ کر اس نظریہ حیات کو قبول کرلے۔ ان لوگوں کا کیا ہے جو آج ایک نشانی طلب کرتے ہیں اور برملا کہتے ہیں کہ آپ ﷺ یہ کر دکھائیں تو ہم آپ ﷺ کی لائی ہوئی بات قبول کرلیں گے اور پھر جب وہ نشانی اللہ تعالیٰ سے پوری کرادیں تو وہ بول اٹھیں کہ لو اس جادوگر نے یہ شعبدہ بھی دکھادیا کیونکہ ان کو بات الٹنے ، پلٹنے میں کتنی دیر لگے گی پھر اس طرح آپ ﷺ کے لئے ایک مزید دکھ بڑھے گا اور آپ ﷺ کی اصل مراد بھی پوری نہ ہوگی جو آپ ﷺ کے دل میں ہے یہ کہ یہ لوگ ہدایت لے آئیں اور دوزخ کا ایندھن نہ بنیں۔ تم ہی بتاؤ کہ اس طرح تمہاری تکلیف بڑھے گی یا کم ہوگی ؟ ظاہر ہے کہ یقیناً بڑھے گی۔ اس لئے آپ ﷺ اس بات کے پیچھے نہ پڑھیں جو آپ ﷺ ہی کے لئے مزید دکھ کا باعث ہو۔ یہ انہی لوگوں کی اولادیں ہیں جو آپ ﷺ سے پہلے اللہ کے دوسرے رسولوں کے سامنے ایسی ایسی باتیں کرچکے ہیں اور یہ بات ان کی گھٹی میں پڑچکی ہے کہ ان کی زبانوں پر وہ ہو جو ان کے دلوں میں موجود نہیں اور جو ان کے دلوں میں ہے وہ ان کی زبانوں تک کم ہی آتا ہے ۔ سوائے اس کے کوئی بات جو ان کے مطلب کی ہو۔ اس سلسلہ میں قانون الٰہی یہ ہے کہ پیدا کیا اور ایک حدتک آزاد چھوڑ دیا کہ یہ چاہیں عقل و فکر سے کام لے کر ہدایت الٰہی کو قبول کریں اور چاہیں ہٹ دھرمی اور اندھی تقلید کے باعث جامد ہو کر رہ جائیں اور شیطان کی پیروی کر کے عقل و فکر کے قریب بھی نہ بھٹکیں ورنہ ہم چاہتے تو ان کو مجبور کر کے سیدھی راہ پر لگا سکتے تھے لیکن جب ہم نے کسی کو مجبور نہ کرنے کا وعدہ کردیا تو اب وعدہ خلافی نہیں ہوگی۔ یہ چاہیں ابو ذر ؓ اور بلال ؓ ۔ ابوبکر ؓ و عمر ؓ کی مانند ہیں اور چاہیں ابوجہل ، عتبہ اور شیبہ کا کردار ادا کریں جیسا کریں گے ویسا بھریں گے۔ آپ ﷺ صرف وہ پیغام ان کے کانوں میں ڈالتے رہیں اور اپنی امت کے نیک لوگوں کو بھی یہی ہدایت کریں۔ مجبور کر کے لوگوں کو دین حق پر جمع کرنا مقصود ہوتا تو اللہ ایسا کردیتا : 55: دیکھو دنیا میں اللہ نے کتنی مخلوق پیدا فرمادی ہے لیکن اس مخلوقات میں سے سوائے انسانوں کے کوئی ہے جو مکلف کہلائے ہاں جنوں میں سے بھی وہی مخلوق مکلف ہے جو ذوی العقول کہلاتی ہے جو ذوی العقول نہیں وہ قطعاً مکلف نہیں انسانوں میں سے بھی جو انسان عقل کھودے وہ مکلف نہیں رہتا۔ پھر ان ذوی العقول کو اگر محض بےاختیار کردیا جائے تو وہ ذوی العقول کیونکر ہوئے وہ غیر ذوی العقول ہی ہوگئے اور ممتعات کو ممکنات میں کیسے داخل کیا جاسکتا ہے اور جس وصف سے کوئی شے پہچانی جاتی ہے اور شناخت کی جاتی ہے اگر وہی وصف اس سے الگ کردیا جائے تو وہ چیز وہ کیسے رہی مثلاً مایہ کا وصف خاص یہ ہے کہ وہ نشیب کو بہتا ہے اس کو فراز کی طرف لے جانے کے لیئے فراز کو نشیب کرنا ہوگا کیونکہ مائع اگر یہ وصف خاص بدل دے تو مائع کیو نکر رہا وہ تو یقیناً کچھ اور ہی ہوگیا۔ صاحب ارادہ کیلئے ارادہ واختیار لازم ہے اگر اس کا اختیار بالکل سلب کرلیا گیا تو بلاشبہ وہ حیوان تو ہوگا لیکن انسان نہیں کیونکہ انسانوں کے سے اوصاف اس میں نہ رہے اگر وہ بشکل و صورت انسان ہی نظر آیا پھر بھی اس پر مکلف ہونے کا قانون اطلاق نہیں کرے گا اور اس لحاظ سے اس کو انسان نہیں کہا جائے گا بلکہ صرف بشکل و صورت۔ اگلے جملے پر مزید غور کرو کہ نبی اعظم و آخر ﷺ ہی کو مخاطب فرما کر پوری انسانیت کو تنبیہ فرمادی کہ ایسی بات کرنا علم کی بات نہ ہوئی بلکہ جہالت کی ہوئی اور ظاہر ہے کہ علم اور جہل دونوں ایک دوسرے کی ضد ہیں اس لئے یہ دونوں اکٹھے نہیں ہوسکتے۔ آپ ﷺ امت کے لوگوں کو بتادیں کہ وہ جاہلوں کی سی باتیں نہ کریں۔ والذی اختارہ ان ھذا الخطاب لیس للرسول فانما ذلک للسامع فالخطاب والنھی فی فلاتکونن للسا مع دون الرسول۔ (بحرمحیط) ہمیں افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ جن لوگوں کو ” پیشوایان مذہب “ اور ” راہنمایان اسلام “ کے ناموں سے یاد کیا جاتا ہے ان میں سے بھی بہت کم ایسے ہیں جن کو یہ بات یاد ہو اس لئے وہ عوام کو کیا سمجھائیں گے جب وہ عالم کہلانے کے باوجود خود جاہل ہیں وہ دوسرے لوگوں کو یہ علم کہاں سے دیں گے انہوں نے خاص جہالت گاہوں سے جہالت سیکھی اور بلاشبہ اب وہ بےسیکھے جاہل نہ رہے بلکہ جہالت سیکھ سیکھ کر جاہل ہوگئے۔ ان کی جہالت بھی بڑی پختہ ہوئی بےسیکھے جاہلوں پر صحیح علم اثر کر دے اور ان کو علم والا بنا دے ممکن ہے لیکن ان جہالت سیکھنے والوں پر صحیح علم کبھی اثر نہیں کرسکتا الایہ کہ وہ خود تسلیم کرلیں کہ ہم نے آج تک جہالت سیکھی تھی اور یہ وہی تسلیم کرسکتا ہے جس پر اللہ تعالیٰ کا خاص فضل ہوجائے اور بلاشبہ وہ ” فَعَّالٌ لِّمَا یُرِیْدُ 00107 “ ہے۔ یہ بات بھی بالکل صحیح ہے کہ آج فی زماننا ان جہالت سیکھ کر جاہل ہونے والوں کی کوئی کمی موجود نہیں کہ آج حق کی تبلیغ اور حق کی تعلیم دینے والوں کے لئے پہلے سے بھی زیادہ مشکلات ہیں کیونکہ پہلوں کا زیادہ تر واسطہ بےسیکھے جاہلوں سے تھا اور آج کے علمائے حق کو جہالت سیکھے ہوئے جاہلوں سے سابقہ ہے جن کو عرف عام میں جاہل نہیں بلکہ ” علامے “ کہا جاتا ہے اور ان سند یافتہ جاہلوں کا مقابلہ لوہے کے چنے چپانے کے مترادف ہے۔ آپ اسی معاشرہ کے رہنے والے ہیں خود غور کریں کہ جہاں ہزاروں آدمی رشوت خوار ہیں ایک آدمی جو رشوت نہ لیتا ہو اس کا کیا حال ہے ؟ ہنسی کسی کی اڑائی جاتی ہے ، مذاق کس سے کیا جاتا ہے ؟ پریشان حال کون ہے ؟ تنگ کس کو کیا جا رہا ہے ؟ برے ناموں سے کون یاد کیا جاتا ہے ؟ جاہل اور بیوقوف کس کو کہتے ہیں ؟ پھر ممکن ہے کہ رشوت کو رشوت نہ سمجھنے والے تو مل جائیں لیکن کوئی آدمی ’ ’ رشوت “ کو اچھا کہتا دکھائی نہیں دے گا۔ رشوت کے خلاف بڑے بڑے بورڈلکھوائے جاتے ہیں کیونکہ یہ بڑے بڑے راشیوں کا حکم ہے لیکن آپ تحقیق کریں گے تو وہ سارے کے سارے رشوت ہی لکھوائے گئے ہوں گے۔ اس سے رشوت بڑھی یا کم ہوئی جو جواب آپ کا وہی ہمارا۔ بس جس طرح رشوت رشوت نہ رہی بلکہ ” اللہ کا فضل “ ہوگیا بالکل اسی طرح جہالت ، جہالت نہ رہی بلکہ ” علم “ ہوگیا جس کا نتیجہ وہی رہا جو آپ پڑھ چکے۔
Ayah 6:36

اِنَّمَا یَسْتَجِیْبُ الَّذِیْنَ یَسْمَعُوْنَ١ؔؕ وَ الْمَوْتٰى یَبْعَثُهُمُ اللّٰهُ ثُمَّ اِلَیْهِ یُرْجَعُوْنَؐ Open ayah 6:36 in the Quran reader

تمہاری دعوت کا وہی جواب دے سکتے ہیں جو تمہاری پکار سنتے ہیں لیکن جو مردے ہیں انہیں تو اللہ ہی اٹھائے گا پھر اس کے حضور لوٹائے جائیں گے

آپ ﷺ کی پکار کا جواب وہی دیں گے جو سنتے ہیں ، مرے ہوئے کیا جواب دیں گے ؟ : 56: بات کو کون قبول کرتے ہیں ؟ وہی جو بات کو اس طرح سنتے ہیں جس طرح اس کے سننے کا حق ہے۔ پھر جو بات کو قبول نہیں کرتے انہوں نے کیا سنا ؟ کچھ بھی نہیں۔ کیوں ؟ اسلئے کہ انہوں نے جو سنا وہ ان سنا کردیا۔ زیر نظر آیت میں سنی ان سنی کردینے والوں کو ” مردے “ فرمایا گیا۔ کیوں ؟ اس لئے کہ مردے سنتے نہیں ؟ یہ قرآن کریم کی تعلیم ہے۔ ہمارے علمائے گرامی قدر نے ” مردوں “ کو سننے والے ثابت کیا لیکن نہ سننے والوں کو ” مردے “ نہ مانا۔ کیوں ؟ اس لئے کہ اس طرح وہ خود نہ سننے والے ثابت ہو کر ” مردے “ تصور ہوتے تھے۔ تحریر ہے کہ : ” بیشک پاک جانیں جب بدن کے علاقوں سے جدا ہوتی ہیں۔ عالم بالا سے مل جاتی ہیں اور سب کچھ ایسے دیکھتی سنتی ہیں جیسے یہاں حاضر ہیں۔ “ (بہار شریعت ص 58) ” مردے سنتے ہیں اور محبوبین کی وفات کے بعد مدد کرتے ہیں۔ “ (علم القرآن از احمد یار ص 189) ” یا علی یا غوث کہنا جائز ہے کیونکہ اللہ کے پیارے بندے برزخ میں سن لیتے ہیں۔ “ (نور اللہ قادری۔ فتاویٰ ص 527) ” حضور ﷺ کی زندگی اور وفات میں کوئی فرق نہیں۔ اپنی موت کو دیکھتے ہیں اور بعد ان کے حالات و نیات اور ارادے اور دل کی باتوں کو جانتے ہیں۔ یہ آپ ﷺ کو بالکل ظاہر ہیں۔ ان میں پوشیدہ نہیں۔ “ ( حیات النبی للکاظمی ص 104) زیر نظر آیت میں قرآن کریم نے ان کے ایمان نہ لانے کی وجہ کہہ دی کہ وہ حق کو قبول توا س وقت کریں جب وہ حق کی آواز کو سنیں لیکن انہوں نے تو لگاتار انکار سے ان کانوں ہی کو بہرا کردیا ہے جو حق کی آواز سن سکتے ہیں پھر ایسی جہالت میں وہ ایمان کیونکر لائیں گے جب کہ وہ ” زندہ “ دکھائی دینے کے باوجود ” مر “ چکے ہیں۔ بھلا ” مردے “ کبھی سنتے ہیں۔ ہاں ! وہ جو ” مردے ہیں انہیں تو اللہ ہی اٹھائے گا پھر اسی کے حضور وہ لوٹائے جائیں گے۔ “ اور اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے جو کبھی ختم ہونے والا نہیں۔
Ayah 6:37

وَ قَالُوْا لَوْ لَا نُزِّلَ عَلَیْهِ اٰیَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ١ؕ قُلْ اِنَّ اللّٰهَ قَادِرٌ عَلٰۤى اَنْ یُّنَزِّلَ اٰیَةً وَّ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 6:37 in the Quran reader

اور انہوں نے کہا کیونکر اس کے پروردگار کی طرف سے کوئی نشانی اس پر نہیں اتاری گئی ، تم کہہ دو اللہ یقینا اس پر قادر ہے کہ ایک نشانی اتار دے لیکن اکثر آدمی ایسے ہیں جو نہیں جانتے

ان کا مطالبہ کیا ہے ؟ یہی کہ آپ ﷺ پر کوئی نشانی کیوں نہیں اتاری جاتی : 57: یہ مطالبہ کرنے والے کون لوگ ہیں ؟ وہی کفار جن کا ذکر پیچھے گزر چکا۔ یہ نشانی طلب کر رہے ہیں یا عذاب الٰہی کو دعوت دے رہے ہیں ؟ اس لئے کہ دراصل وہ مذاق کر رہے ہیں جب آپ ﷺ بار بار کہتے ہیں کہ اگر تم نے حق کو تسلیم نہ کیا تو تباہ و برباد ہوجاؤ گے۔ دراصل ان کا مدعایہ ہے کہ جب ہم اس حق کو جس کو تو ” حق “ کہتا ہے قبول نہیں کر رہے تو پھر ہم پر عذاب آکیوں نہیں جاتا۔ اس طرح وہ اور بھی فرمائشیں نبی اعظم و آخر ﷺ سے کیا کرتے تھے جیسے یہ کہ اس ریگ زار میں دریا بہنے لگیں۔ چشم زون میں یہاں سرسبز و شاداب باغات لہلہانے لگیں اور ان کے نیچے ندیاں رواں دواں ہوں۔ آپ ﷺ سچے نبی ہیں تو ہم پر کوئی آسمان کا ٹکڑا گرا دے وغیرہ وغیرہ اور ظاہر ہے کہ ان کے یہ مطالبے قبول حق کے لئے نہ تھے بلکہ استہزاء تھے جیسا کہ پیچھے حاشیہ 54 میں بیان ہوا فرمایا ” اے پیغمبر اسلام ! تم کہہ دو اللہ یقیناً اسی پر قادر ہے کہ ایک نشانی اتاردے لیکن ان میں سے اکثر لوگ جانتے نہیں۔ “ کیوں ؟ اس لئے کہ یہ نادان اور مغرور لوگ اس طرح کی نشانی کے ظہور کے نتائج سے آگاہ نہیں۔ ان کے نزدیک یہ محض ایک کھیل تماشہ ہے حالانکہ وہ نشانی اگر ظاہر ہوگئی تو سب کی کمر توڑ کر رکھ دے گی اور وہ اللہ کی اس سنت سے بھی غافل ہیں جو انبیائے کرام اور ان کے مکذبین کے معاملے میں اس نے جاری کر رکھی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا طریقہ یہ نہیں ہے کہ وہ اپنے رسولوں کی تکذیب کرنے والوں کو فوراً پکڑ لے وہ ان کو ایک خاص مدت تک مہلت دیتا ہے جس میں ان پر ہر پہلو سے اللہ تعالیٰ کی حجت پوری کردی جاتی ہے۔ جب یہ حجت پوری ہو چکتی ہے تب اللہ تعالیٰ ان کو پکڑ لیتا ہے اور جب وہ پکڑ لیتا ہے تو پھر ان کو کوئی چھڑا نہیں سکتا۔ ہاں ! وہ یہ سمجھ رہے ہیں کہ پیغمبر کی دھمکی جھوٹی ہے یا خدا کے ہاتھ ہی بےبس ہیں حالانکہ اللہ تعالیٰ جو سرکشوں کو ڈھیل پر ڈھیل دیتا ہے توا س کی اصل وجہ یہ ہے کہ اللہ کی تدبیربڑی محکم ہوتی ہے وہ رسی خواہ کتنی ہی دراز کردے لیکن ہر انسان کی چوٹی اسی کے ہاتھ میں رہتی ہے کیونکہ وہ اس کے قابو سے باہر نہیں ہوجاتا۔ پھر یہ لوگ کتنے بدقسمت ہیں کہ اس رحمت سے نا آشنا ہیں جو اس مہلت کے اندر مضمر ہے اچھا ہوتا کہ وہ اس سے فائدہ اٹھاتے کہ اللہ تعالیٰ رحمت میں سبقت کرتا ہے ، غضب میں سبقت نہیں کرتا وہ اپنے بندوں پر بڑا مہربان ہے اگرچہ وہ کتنے ہی گندے کیوں نہ ہوں کیونکہ ہیں بہر حال اسی کے بندے۔ وہ توبہ و اصطلاح کے سارے دروازے اس وقت تک کھلے رکھتا ہے جب تک وہ اپنی ضد اور ہٹ دھرمی سے خود ان کو اپنے اوپر بند نہ کرلیں اور پھر وہ کتنے ہی بدنصیب ہوں گے جو اپنے اوپر خود ان دروازوں کو بند کردیں یعنی اس حال میں اس دار فانی سے رخصت ہوجائیں۔
Ayah 6:38

وَ مَا مِنْ دَآبَّةٍ فِی الْاَرْضِ وَ لَا طٰٓئِرٍ یَّطِیْرُ بِجَنَاحَیْهِ اِلَّاۤ اُمَمٌ اَمْثَالُكُمْ١ؕ مَا فَرَّطْنَا فِی الْكِتٰبِ مِنْ شَیْءٍ ثُمَّ اِلٰى رَبِّهِمْ یُحْشَرُوْنَ Open ayah 6:38 in the Quran reader

اور دیکھو زمین میں چلنے والا کوئی حیوان اور ہوا میں پروں سے اڑنے والا کوئی پرند ایسا نہیں جو تمہاری ہی طرح اپنی امتیں نہ رکھتا ہو ہم نے نوشتہ میں کوئی بات بھی فروگزاشت نہیں کی پھر سب اپنے پروردگار کے حضور جمع کیے جائیں گے

زمین پر چلنے والے حشرات الارض اور ہوا میں اڑنے والے پرندے بھی تمہاری طرح امتیں ہیں : 58: یہ جتنے چرند اور پرند ہیں سب کیا ہیں ؟ فرمایا تمہاری ہی طرح وہ بھی امتیں ہیں۔ تم پیدا ہوئے اور وہ بھی پیدا ہوئے اللہ نے جو انتظام تمہاری پیدائش کا مقرر کیا تم اسی انتظام کے تحت پیدا ہو رہے ہو اور جو ان کی پیدائش کا انتظام کیا اسی کے مطابق وہ پیدا ہو رہے ہیں۔ تم کھاتے پیتے ہو اسی طرح وہ سب بھی کھاتے پیتے ہیں۔ تم اپنے گھروں میں سکونت پذیر ہو اسی طرح وہ بھی اپنے بھٹوں اور آشیانوں میں سکونت پذیر ہیں۔ تم نسل چھوڑ جاتے ہو بالکل اسی طرح ان کی نسلیں بھی قائم ہیں۔ تم مرتے ہو تو اللہ تعالیٰ نے ان کی موت کا بھی ایک وقت مقرر کردیا ہے۔ پھر تم میں اور ان میں فرق کیا رہا ؟ یہی کہ تم صاحب عقل و ارادہ اور ایک حد تک اختیار رکھتے ہو لیکن وہ کھانے پینے ، رہنے سہنے اور نسل چھوڑنے کے سوا کسی حالت میں تمہارا مقابلہ نہیں کرسکتے۔ وہ تم سے پست اور تم ان سے بہت بلند مقام رکھتے ہو۔ اس آیت کو گذشتہ آیت 36 کے ساتھ ملاؤ ۔ فرمایا جب تم نے عقل سے کام لینا چھوڑ دیا اور سنی بات ان سنی کردی تو تمہارے اور ان کے درمیان باقی فرق کیا رہا جیسے اس مضمون کی دوسری جگہ یوں فرمایا کہ : ” ان کے پاس عقل ہے مگر اس سے سمجھ بوجھ کا کام نہیں لیتے۔ کان ہیں مگر ان سے سننے کا کام نہیں لیتے۔ آنکھیں ہیں مگر ان سے دیکھنے کا کام نہیں لیتے۔ وہ چارپایوں کی طرح ہوگئے بلکہ ان سے بھی زیادہ گئے گزرے۔ ایسے ہی لوگ ہیں جو یک قلم غفلت میں ڈوب گئے۔ “ (الاعراف 7 : 179) پھر اس مضمون کو قرآن کریم میں جگہ جگہ بیان کیا گیا ہے اور ہر جگہ اس کا طریقہ بیان مختلف رکھا ہے تاکہ بات اچھی طرح ذہن نشین ہوجائے۔ زیر نظر آیت میں بھی اسی طرح اشارہ ہے۔ قرآن کریم میں ہم نے یہ باتیں تفصیل سے لکھ دی ہیں تاکہ وہ حشر کے لئے تیار رہیں : 59: فرمایا جو لوگ علم و بصیرت رکھتے ہیں انہیں قرآن کریم کی تفصیل کے بعد کسی نشانی کی احتیاج نہیں ہو سکتی۔ اب ان کو ایسے اعمال کر کے اس دنیا سے رخصت ہوناچاہئے کہ وہ میدان حشر میں اپنی کامیابی کے نمبر حاصل کرسکیں۔ اگر ان کے اعمال ان جانوروں ہی کی طرح کے ہوئے تو ان کی عقل و بصیرت نے کیا کام دکھایا ؟ تم کس نشان کی طلب کرتے ہو نشانیوں سے تو پوری کائنات بھری پڑی ہے ، زمین پر چلنے والا ہر جاندار اور فضاؤں میں اڑنے والا ہر پرند اللہ کی ایک نشانی ہے اور تمہارا وجود بھی نشانیوں سے بھرا پڑا ہے۔ اپنے جسم کے ایک ایک حصہ پر غور کرو صرف ایک دل ہی کی حرکت کو دیکھتے رہو کہ تم سارا دن اپنے کاموں میں مصروف ہو۔ محنت و مشقت کرتے ہو ، سوچ وبچار کرتے ہوئے مگر وہ ہے کہ برابر حرکت کرے چلا جا رہا ہے۔ تم ساری رات میٹھی نیند سو کر گزارتے ہو لیکن وہ ایک آن بھی نہیں رکتا۔ غور کرو کہ اگر وہ ذرا رک جائے تو پھر کیا ہو ؟ جبکہ اس کے رکنے کا نام موت ہے۔ اس کائنات کی ایک ایک چیز پر غور کرتے چلے جاؤ تو تمہاری آنکھیں خود بخود کھلتی چلی جائیں گی اور اس مخلوق کو گننا چاہو گے تو تم گن نہیں پاؤ گے۔ اس ساری مخلوق کو پیدا کرکے کیا وہ ایک گوشہ تنہائی میں بیٹھ گیا ہے یا براہ راست اس پوری کا ئنات کی حفاظت ونگرانی بھی فرما رہا ہے ؟ کیا یہ سب کچھ کسی اندھی اور بہری قوت کا ظہور ہے یا اس دانا وبینا ، قادر وقیوم اور غفور ورحیم ہستی کی قدرت ورحمت کا فیضان ہے ؟ کیا یہ سارا کارخانہ بالکل بےمقصد ، بےغایت وبے انجام نظرآتا ہے یا اس کے ایک ایک چیز پکار پکار کر اس وحدہ لاشریک لہ کی شہادت دے رہی ہے لیکن اس شہادت کا کوئی سننے والا بھی تو ہو ؟ اس جگہ کچھ لوگوں نے ” الکتب “ سے خدائی رجسٹر مراد لے کر جس میں ہرچیز کا اندراج موجود ہے دنیا کی ہرچیز کے لئے حشر میں ایک بار جمع ہونا ضروری قرار دیا ہے اور فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا انصاف اس حد تک ہے کہ اس کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لئے قیامت کے روز انسانوں کے ساتھ ہر جاندار بھی زندگ کئے جائیں گے اور اگر کسی سینگ والے جانور نے بےسینگ کے جانوروں کو دنیا میں مارا تھا تو آج اس کا انتقام اس سے لیا جائے گا اور جب ان کے پاس کے حقوق و مظالم کے بدلے اور انتقام ہو چکیں گے تو ان کو حکم ہوگا کہ سب مٹی ہوجاؤ اور تمام جانداد اسی وقت پھر مٹی ہوجائیں گے۔ اگر کوئی شخص اس کو قرآن کریم کی اس آیت کی تفسیر سمجھتا ہے تو سمجھے ! ہمارے خیال میں تو بلاشبہ اس کو قرآن کریم کی تفسیر نہیں کہا جاسکتا اسلئے کہ اس طرح حیوانات کو بھی کملف ماننا پڑتا ہے حالانکہ اس کے لئے کتاب و سنت سے کوئی ایک دلیل بھی نہیں دی جاسکتی اور پوری امت میں سے اس کا ایک بھی قائل نہیں۔ جن لوگوں نے بہام و حیوانات کا حشر اس آیت سے تسلیم کیا ہے انہوں نے بھی یہ کہا ہے کہ اس سے مراد بہام و حیوانات کی موت ہے کیونکہ وہی ان کا حشر ہے۔ (ابن عباس ؓ ہاں ! بعض احادیث میں سینگ کی بکری اور بےسینگ کی بکری کا جو ذکر ہے وہ مثالی رنگ میں جس طرح ہماری زبان میں بڑی مچھلی چھوٹی مچھلی کو کھاتی ہے کا محاورہ استعمال کیا جاتا ہے کہ مچھلی کا نام لے کر مراد انسانوں ہی سے لی جاتی ہے اس لئے ایسی روایات سے اس طرح کی غلط فہمیوں میں مبتلا ہونا کوئی مناسب بات نہیں۔
Ayah 6:39

وَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا صُمٌّ وَّ بُكْمٌ فِی الظُّلُمٰتِ١ؕ مَنْ یَّشَاِ اللّٰهُ یُضْلِلْهُ١ؕ وَ مَنْ یَّشَاْ یَجْعَلْهُ عَلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 6:39 in the Quran reader

اور دیکھو جن لوگوں نے ہماری آیتیں جھٹلائیں وہ بہرے گونگے تاریکیوں میں گم ہیں ، اللہ جس کسی پر چاہے راہ گم کر دے جسے چاہے کامیابی کی سیدھی راہ پر لگا دے

اللہ تعالیٰ کی آیات کو جھٹلانے والے ہی بہرے ، گونگے ہیں جو تاریکیوں میں گم ہیں : 60: فرمایا جن لوگوں نے اللہ کی دی ہوئی عقل و بصرت تاراج کردی اور گونگے اور بہرے ہو کر تاریکیوں میں گم ہوگئے تو ان کے لئے کوئی نشانی بھی سود مند نہیں ہو سکتی کیونکہ جو شخص گونگا اور بہرا ہو اور پھر تاریکیوں میں کھوگیا ہو تو اسے کیونکر راہ مل سکتی ہے ؟ تو اسے راہ دکھانے کے لئے پکارو تو وہ سنے گا نہیں۔ خود پکارنا چاہے تو پکار نہیں سکتا۔ ہاں ! یہ ہو سکتا ہے کہ کوئی اسے جبرا اٹھا کر روشنی میں لے آئے تو یاد رہے کہ ہدایت ایسی چیز نہیں جو جبراً کسی کے دل میں ٹھونس دی جائے۔ زیر نظر آیت میں جن لوگوں کو بہرے اور گونگے کہا گیا ہے کیا وہ فی الحقیقت بہرے اور گونگے ہیں ؟ ہرگز نہیں بلکہ یہ وہی لوگ ہیں جو عقل و فکر سے کام نہ لے کر اندھی تقلید میں جکڑے ہوئے ہیں اور اس قدر جکڑتے ہی چلے گئے ہیں کہ اب انکا نکلنا محال نہیں تو مشکل بہرحال ضرور ہے۔ ان لوگوں کو درست کرنے کے لئے انبیاء کرام کو بھیجا جاتا رہا وہ ان کی تعلیم کرتے رہے پھر کسی کو اللہ نے نبی کی تعلیم وتبلیغ سے کان عطا فرما دیئے اور زبان سے بھی نواز دیا اور کوئی محروم ہی رہ گیا۔ راہ گم کردینے اور سیدھی راہ پر گامزن کردینے کا الٰہی قانون بھی اپنی جگہ اٹل ہے : 61: آیت کے اس حصہ میں اس سنت اللہ کا بیان ہے جس کے تحت کسی کو ہدایت کی توفیق ملتی ہے اور کوئی گمرائی کا سزاوار پاتا ہے اور آیت کے پہلے حصہ میں یہ بات واضح کی جا چکی ہے کہ جو لوگ اپنی آنکھیں اور کان نہیں کھولتے اللہ تعالیٰ ان کے اندر زبردستی اپنی ہدایت نہیں اتارتا ؟ اس لئے کہ یہ بات اس کے قانون ہدایت کے بالکل خلاف ہے جس کا اعلان وہ بار بار کرچکا ہے اور وہ قانون کے خلاف نہ وہ کرتا ہے اور نہ ہی ہونے دیتا ہے۔ الٰہی توفیق صرف انہی لوگوں کو سہارا دیتی ہے جو راہ حق پر چلنے کا خود ارادہ کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ صلاحیتوں سے وہ کام لیتے ہیں جو کام لینے کا ان کو حکم دیا گیا ہے۔ تفصیل اسکی عروہ الوثقیٰ جلد اول تفسیر سورة البقرہ کی آیت 18 اور 171 میں گزر چکی ہے ، وہاں سے ملاحظہ کریں۔
Ayah 6:40

قُلْ اَرَءَیْتَكُمْ اِنْ اَتٰىكُمْ عَذَابُ اللّٰهِ اَوْ اَتَتْكُمُ السَّاعَةُ اَغَیْرَ اللّٰهِ تَدْعُوْنَ١ۚ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 6:40 in the Quran reader

ان سے کہو کیا تم نے اس بات پر غور کیا کہ اگر اللہ کا عذاب تم پر آجائے یا آنے والی گھڑی سامنے آ کھڑی ہو تو اس وقت بھی تم اللہ کے سوا دوسروں کو پکارو گے ؟ اگر تم سچے ہو

جب اللہ کا عذاب تم کو اپنی لپیٹ میں لے لے تو کیا اس وقت بھی تم غیر اللہ کو پکارو گے ؟ : 62: لفظ ” اَرَءَیْتَكُمْ ‘ ‘ پر مفسرین نے بہت کچھ تحریر کیا ہے۔ لفظ کی ترکیب پر بھی اور اس کے معانی پر بھی۔ اپنا خیال یہ ہے کہ اَرَءَیْتَكُمْ بالکل اسی طرح ہے جس طرح ” ارایتم “ ہے جیسا کہ آگے چل کر اس سورت کی آیت 46 میں آرہا ہے فرمایا ” اے پیغمبر اسلام ! ان سے کہو کیا تم نے اس بات پر غور کیا ہے کہ اگر اللہ کا عذاب تم پر آجائے یا آنے والی گھڑی یعنی موت سامنے آگھڑی تو اس وقت بھی تم اللہ کے سوا دوسروں کو پکارو گے ؟ “ جس کو استفہام انکاری کے نام سے پکارا جاتا ہے یعنی یقیناً ہرگز نہیں ہو سکتا کہ ان دونوں نازل ترین وقتوں میں تم غیر اللہ کو پکارو۔ کیوں ؟ اس لئے کہ مکہ والوں کے شرک کی تشریح آپ پیچھے پڑھ آئے ہیں ان کے خیال میں آسمان و زمین کا پیدا کرنے والا ، بارش بھیجنے والا اور مشکلات کو دور کرنے والا ، رزق دینے والا صرف اور صرف اللہ ہی تھا۔ اس لئے ان کو اس طریقہ سے مخاطب کیا گیا وہ جن بتوں اور دیوی دیوتاؤں کی کو رنش بجا لاتے تھے اور جنہیں اللہ تعالیٰ کے ساتھ پکارتے اور سورتے تھے اور جن کے متعلق ان کا گمان تھا کہ یہ اللہ کے ہاں ہمارے سفارشی ہیں اور ان کی سفارش اللہ تعالیٰ نہیں موڑتا۔ فرمایا ایسے مشکل وقت میں جب تم کو موت نے آگھیرا ہو یا کسی دوسری مصیبت میں مبتلا ہوجاتے ہو تو اسوقت تمہارے وہ مددگار اور حاجت روا اور سفارش کرنے والے کہاں چلے جاتے ہیں تم ان کو بلا کیوں نہیں لیتے۔ ایسے مشکل اوقات میں تو تم بھی اللہ ہی کو پکارتے ہو۔ اگر تم غیر اللہ کی نذر و نیاز اور غیر اللہ کے نام کے وظیفے اور غیر اللہ کی منت وچڑھا وا دینے میں سچے ہو تو پھر ایسے اوقات میں بھی انہی کو پکار دیکھو ؟ نہیں توسیدھے طریقے سے مان جاؤ اور اس شرک سے گلو خلاصی کر الو ورنہ وہ وقت آنے والا ہے جب اس شرک کی پاداش میں پکڑ لئے جاؤ گے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس وقت کے مشرکوں کا شرک اس وقت کے مشرکوں سے بہت زیادہ قویٰ اور مضبوط ہے اس لئے کہ اس وقت کے مشرک سخت ترین مشکلات میں گھر جاتے تو کم از کم ایسے اوقات میں غیر اللہ کو نہیں پکارتے تھے اور اس بات پر قرآن کریم کی شہادتیں موجود ہیں۔ چناچہ ایک جگہ ارشاد فرمایا : ” وہی ہے جس نے تمہارے لیے زمین کی خشکی اور تری میں سیر و گردش کا سامان کردیا ہے پھر جب ایسا ہوتا ہے کہ تم جہازوں میں سوار ہوتے ہو ، جہاز موافق ہوا پا کر تمہیں لے اڑتے ہیں مسافر خوش ہوتے ہیں کہ اچانک ہوائے تند کے جھونکے نمودار ہوجاتے ہیں اور ہر طرح سے موجیں ہجوم کرنے لگتی ہیں اور مسافر خیال کرتے ہیں بس اب ان میں گھر گئے تو اس وقت وہ دین کے اخلاص کے ساتھ اللہ کو پکارنے لگتے ہیں کہ اے اللہ ! اگر اس حالت سے ہمیں نجات دے دے تو ہم ضرور تیرے شکرگزار ہوں گے۔ “ (یونس 10 : 22) ایک جگہ ارشاد فرمایا : ” پھر جب یہ (لوگ) کشتیوں پر سوار ہوتے ہیں تو اللہ پر خالص اعتقاد رکھ کر اسے پکارتے ہیں اور جب اللہ تعالیٰ ان کو (طوفان سے) نجات دے کر خشکی میں پہنچا دیتا ہے تو ذرا دیر لگائے بغیر شرک میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ تاکہ جو ہم نے ان کو دیا ہے اس کی ناشکری کریں اور زمین میں فائدہ اٹھاتے رہیں پس عنقریب یہ (لوگ) جان لیں گے۔ “ (العنکبوت 29 : 65۔ 66) ” اور جب لوگوں کو تکلیف پہنچتی ہے تو اپنے پروردگار کی طرف رجوع ہو کر اس کو پکارنے لگتے ہیں اور جب وہ اپنی رحمت کا مزہ چکھاتا ہے تو ان میں سے ایک گروہ اپنے رب کے ساتھ شرک کرنے لگتا ہے۔ تاکہ جو ہم نے ان کو دیا ہے اس کی ناشکری کریں ، پس (اے کافرو ! ) مزے اڑا لو پھر تم کو عنقریب معلوم ہوجائے گا۔ “ (الروم 30 : 33 ، 34) ایک جگہ ارشاد فرمایا کہ : ” اور جب کبھی ان پر سمندر کی لہریں سائے کی طرح چھا [ 2 ] جاتی ہیں تو وہ محض اللہ کے ہو کر اللہ کو پکارتے ہیں پھر جب اللہ ان کو نجات دے کر خشکی پر پہنچا دیتا ہے تو ان میں سے بعض اعتدال پر رہتے ہیں اور ہماری نشانیوں سے وہی منکر ہوتے ہیں جو عہد پر قائم نہ رہنے والے احسان فراموش ہیں۔ “ (لقمان 31 : 32) یہ تو اس وقت کے مشرکین کا حال تھا اور آج کے بعض علماء ، مقتدا اور پیشوا کہلانے والوں کا جو حال ہے اس کو بھی ملاحظہ کرلیں۔ تحریر ہے کہ : ” اولیاء سے مدد مانگنا اور انہیں پکارنا اور ان کے ساتھ تو سل کرنا امر مشروع اور شے مرغوب ہے جس کا انکار نہ کرے گا مگر ہٹ دھرم یا دشمن انصاف “۔ (رسالہ حیات الموات ازاحمد رضا خاں بریلوں ص 29) ” انبیاء ومرسلین اولیاء و علماء صالحین سے ان کے وصال کے بعد بھی استعانت واستمداد جائز ہے۔ اولیاء بعد انتقال بھی دنیا میں تصرف کرتے ہیں۔ “ (رسالہ حیات الموات از احمد رضاخاں بریلوی درج فتویٰ رضویہ ج ، 4 ص 300) ” حضور ہی ہر مصیبت میں کام آتے ہیںحضور ﷺ ہی بہتر عطا کرنے والے ہیں۔ عاجزی وتذلل کے ساتھ حضور کو ندا کرے۔ حضور ہی ہر بلا سے پناہ ہیں۔ “ (الامن والعلی ازاحمد رضا خاں صاحب بریلوی ص 10) ” جبرئیل (علیہ السلام) حاجت روا ہیں پھر حضور اقدس ﷺ کو حاجت روا ، مشکل کشا ، دافع البلاء ماننے میں کس کو تامل ہو سکتا ہے وہ تو جبرئیل (علیہ السلام) کے بھی حاجت روا ہیں۔ “ (ملفوعات ص 99 طبع لاہور) ” پکار علی مرتضیٰ کو کہ مظہر عجائب ہیں تو انہیں مدد گار پائے گا۔ مصیبتوں میں سب پریشانی و غم اب دور ہوجائیں گے حضور کی ولایت سے یا علی یا علی۔ “ (الامن والعلی ازا حمد رضا خاں صاحب بریلوی ص 10) ” میں نے جب بھی مدد طلب کی یا غوث ہی کہا۔ ایک مرتبہ میں نے ایک دوسرے ولی (حضرت محبوب الٰہی) سے مدد مانگنی چاہی مگر میری زبان سے ان کا نام ہی نہ نکلا بلکہ زبان سے یا غوث ہی نکلا۔ “ (مدائن بخشش ص 186) پہلے چار حوالے قرآن کریم کی آیات کے ہیں جن کا حوالہ بھی ساتھ درج ہے اور نیچے کے پانچ حوالے بعض ” علمائے اسلام و پیشوایان دین ‘ ‘ کے ہیں جن کا حوالہ بھی ان کی کتب کے نام وصفحہ نمبر کے ساتھ درج کردیا۔ غور سے پڑھ کر فیصلہ خود فرما لیں کہ یہ جو تم نے بیان کیا ہے کہ ان مشرکین کا شرک ہلکا اور نرم تھا لیکن آج کا شرک ان سے بھاری اور ٹھوس قسم کا ہے کہاں تک صحیح ہے ؟
Ayah 6:41

بَلْ اِیَّاهُ تَدْعُوْنَ فَیَكْشِفُ مَا تَدْعُوْنَ اِلَیْهِ اِنْ شَآءَ وَ تَنْسَوْنَ مَا تُشْرِكُوْنَ۠ Open ayah 6:41 in the Quran reader

نہیں ، اس کو پکارو گے اور اگر وہ چاہے گا تو تمہاری مصیبت دور کر دے گا اور اس وقت بھول جاؤ گے جو کچھ تم شرک کرتے رہے تھے

غیروں کو بھول کر اس وقت تم صرف اسی کو پکارو گے اور وہ معاف فرمادے گا اگر چاہے گا : 63: زندگی میں یقیناً ایسے مشکل اوقات بھی آجاتے ہیں کہ انسان کی اصل فطرت اگرچہ وہ کتنی ہی مسخ کیوں نہ ہوچکی ہو جاگ جاتی ہے اور اصل فطرت میں چونکہ ایک ہی خدا کی شہادت موجود ہے دوسرے حاجت روا اور مشکل کشا اور سفارشی جن کو وہ مانتا ہے ان کی کوئی شہادت اس کی فطرت کے باطن میں موجود نہیں ہوتی بلکہ وہ محض خیال ہوتے ہیں اس وجہ سے جب اس کی زندگی میں کوئی ایسا مرحلہ آجاتا ہے جو اصل آزمائش کا ہوتا ہے تو انسان اپنے تمام فرضی سہاروں کو بھول جاتا ہے۔ وہ وقت ہے کہ صرف اسی کو پکارتا ہے جس کی شہادت وہ اپنی فطرت میں پاتا ہے۔ قرآن کریم نے اس حقیقت کو نہایت دلاویز تمثیلوں اور نہایت ہی حقیقت افروز دلائل سے واضح کیا ہے جیسا کہ آپ پیچھے پڑھتے آرہے ہیں اور آگے بھی انکا بیان آئے گا۔ فرمایا ” بل ایاہ تدعون “ نہیں ، تم صرف اسی کو پکارو گے اور اگر وہ چاہے گا تو تمہاری مصیبت دو رکردے گا اور اسوقت بھول جاؤ گے جو کچھ تم شرک کرتے رہے تھے۔ “ ظاہر ہے کہ پکارنے سے مراد اپنی حاجتوں میں مدد کے لئے پکارنا ہے اور یہی وہ پکارنا ہے جو عین فطرت کے مطابق ہے۔ ایک جگہ قرآن کریم نے اس کو اس طرح بیان فرمایا : ” اسی کا پکارنا ہی سچا پکارنا ہے جو لوگ اس کے سوا دوسروں کو پکارتے ہیں وہ پکارنے والے کی کچھ نہیں سنتے ان کی مثال ایسی ہے جیسے ایک آدمی دونوں ہاتھ پانی کی طرف پھیلائے کہ بس پانی اس کے منہ تک پہنچ جائے حالانکہ وہ اس کے منہ تک پہنچنے والا نہیں اور منکرین حق کی پکار اس کے سوا کچھ نہیں کہ ٹیڑھے راستوں میں بھٹکتے پھرنا ہے۔ “ (الرعد 13 : 14) ” اور وہ دن جب اللہ فرمائے گا جن ہستیوں کو تم سمجھتے تھے کہ وہ میرے ساتھ شریک ہیں اب انہیں بلاؤ ، وہ پکاریں گے مگر کچھ جواب نہیں پائیں گے ، ہم نے ان دونوں کے درمیان آڑ کردی ہے۔ “ (الکہف : 18 : 52) ایک جگہ ارشاد فرمایا : غور کیجئے کہ جہاں تک دلیل و حجت کا تعلق ہے قرآن کریم نے حق واضح کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی ہے دل اور دماغ کو اپیل کرنے کے جتنے موثر طریقے اختیار کرنے ممکن تھے وہ سب کے سب بہترین انداز میں یہاں اختیار کئے جا چکے ہیں۔ اب وہ کیا چیز ہے جو انہیں قبول حق میں مانع ہورہی ہے ؟ صرف یہ کہ انہیں عذاب کا انتظار ہے اور یہی ان کی ضد ہے اور ضدی آدمی کبھی جوتے کھائے بغیر سیدھے نہیں ہوتے ؟ ایک بار نہیں سو بار یہ بات دیکھنے میں آچکی ہے کہ دنیا کی چھوٹی مصیبتوں میں بعض انسان جب پھنستے ہیں تو ادھر ادھر ٹھوکریں کھاتے پھرتے ہیں۔ درباروں اور خانقاہوں پر سلامی دینے ، منت چڑھاوا چڑھانے ، پیرجی کے نامکا چھترا ، بکرا دینے اور شیرینیاں پیش کرنے میں مصروف نظر آتے ہیں لیکن جب کوئی بڑی مصیبت جیسے ” موت “ وغیرہ سر پر کھڑی ہوتی ہے تو کوئی کام بھی ان کو یاد نہیں رہتا اس گمراہی کا اس آیت میں ذکر کیا گیا فرمایا ” تم ان سب کو بھول بھال جاتے ہو جنہیں تم شریک ٹھہراتے رہے۔ “
Ayah 6:42

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَاۤ اِلٰۤى اُمَمٍ مِّنْ قَبْلِكَ فَاَخَذْنٰهُمْ بِالْبَاْسَآءِ وَ الضَّرَّآءِ لَعَلَّهُمْ یَتَضَرَّعُوْنَ Open ayah 6:42 in the Quran reader

اور یہ واقعہ ہے کہ جو امتیں تم سے پہلے گزر چکی ہیں ہم نے ان کی طرف رسول بھیجے اور انہیں جن کی طرف رسول بھیجے گئے سختی اور محنت میں گرفتار کیا کہ عجب نہیں کہ وہ عجز و نیاز کریں

منہ زوروں کا علاج ؟ ان کے زور کو توڑ دینے کے سوا کچھ نہیں : 64: نبی اعظم و آخر ﷺ کو مخاطب کر کے فرمایا جا رہا ہے کہ اے ہمارے رسول ! جس طرح آپ ﷺ اس دنیا میں پہلے رسول نہیں بالکل اسی طرح آپ ﷺ کی امت بھی پہلی امت نہیں۔ آپ ﷺ سے پہلے لاکھوں رسول گزر چکے اور لاکھوں امتوں کو ہم نے ٹھکانے لگایا۔ آپ ﷺ کی امت کے منہ زوروں سے وہ زیادہ منہ زور اور ہیکڑ تھے اور آپ ﷺ سے عذاب کا مطالبہ کرنے والوں سے ان کا اپنے رسولوں سے زیادہ زور دار مطالبہ تھا ہم نے ان کے مطالبہ کے پیش نظر دو طرح سے انکا امتحان لیا۔ پہلے کچھ سختی اور تکیف ان پر ڈال کر دیکھا کہ یہ کیا کرتے ہیں ؟ کیا یہ اس تکلیف اور مصیبت سے گھبرا کر بھی معبود حقیقی کی طرف رجوع کرتے ہیں یا نہیں ؟ قرآن کریم کی تعلیم میں دنیا کے عذاب کو ” عذاب ادنیٰ “ سے موسوم کیا گیا ہے اور عذاب آخرت کو ” عذاب اکبر “ سے اور زیر نظر آیت میں ” بِالْبَاْسَآءِ وَ الضَّرَّآءِ “ کے الفاظ سے ” عذاب ادنیٰ “ ہی کی پکڑ مراد لی گئی ہے اور یہی وہ پہلا امتحان ہے۔ ” عذاب ادنیٰ “ جس سے مراد وہ تکلیفیں ہیں جو اس دنیا میں انسان کو پہنچتی ہیں مثلاً افراد کی زندگی میں سخت بیماریاں ، اپنے عزیز ترین لوگوں کی موت ، المناک حادثات ، نقصانات ، ناکامیاں اور شرمندگیاں وغیرہ اور اجتماعی زندگی میں طوفان بادوباراں ، طغیانیاں اور سیلاب ، زلزلے ، وبائیں ، قحط ، فسادات اور لڑائیاں اور بہت سی آسمانی بلیات جو ہزاروں لاکھوں اور کروڑوں انسانوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہیں ان آفات کے نازل کرنے کے مصلحت یہ بیان کی گئی ہے کہ عذاب اکبر میں مبتلا ہونے سے پہلے ہی لوگ ہوش میں آجائیں اور اس طرز فکر کو چھوڑ دیں جس کی پاداش میں آخر کار انہیں وہ بڑا عذاب بھگتنا پڑے گا۔ دوسرے الفاظ میں اس کا مطلب یہ ہے کہ دنیا میں اللہ تعالیٰ نے انسان کو بالکل بخیریت ہی نہیں رکھا ہے کہ پورے آرام و سکون سے زندگی کی گاڑی چلتی رہے اور آدمی اس غلط فہمی میں مبتلا ہوجائے کہ اس سے بالاتر کوئی طاقت نہیں ہے جو اس کا کچھ بگاڑ سکتی ہو بلکہ اللہ تعالیٰ نے ایسا انتظام کر رکھا ہے کہ وقتاً فوقتاً افراد پر بھی اور قوموں اور ملکوں پر بھی ایسی آفات بھیجتا رہتا ہے جو انسان کو اپنی بےبسی کا اور اپنے سے بالاتر ایک ہمہ گیر سلطنت کی کارفرمائی کا احساس دلاتی ہیں۔ یہ آفات ایک ایک شخص کو ، ایک ایک گروہ اور ایک ایک قوم کو یہ یاد دلاتی ہیں کہ اوپر تمہاری قسمتوں کو کوئی اور کنٹرول کر رہا ہے۔ سب کچھ تمہارے ہاتھ میں نہیں دے دیا گیا ہے۔ اصل طاقت اس کارفرما اقتدار کے ہاتھ میں ہے۔ اسی کی طرف سے جب کوئی آفت تمہارے اوپر آئے تو نہ تمہاری کوئی تدبیر اسے رفع کرسکتی ہے نہ کسی جن یا روح یا دیوی اور دیوتا۔ یا نبی اور ولی سے مدد مانگ کر تم اس کو روک سکتے ہو۔ اس لحاظ سے یہ آفات محض آفات ہی نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی تنبیہات بھی ہیں جو انسان کو حقیقت سے آگاہ کرنے اور اس کی غلط فہمیاں رفع کرنے کے لئے بھیجی جاتی ہیں۔ ان سے سبق لے کر دنیا ہی میں آدمی اپنا عقیدہ اور عمل ٹھیک کرلے تو آخرت میں اللہ کا بڑا عذاب دیکھنے کی نوبت ہی کیوں آئے۔ یہ گویا پہلے امتحان کی کامیابی ہے۔
Ayah 6:43

فَلَوْ لَاۤ اِذْ جَآءَهُمْ بَاْسُنَا تَضَرَّعُوْا وَ لٰكِنْ قَسَتْ قُلُوْبُهُمْ وَ زَیَّنَ لَهُمُ الشَّیْطٰنُ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 6:43 in the Quran reader

پھر ایسا کیوں نہ ہوا کہ جب ہماری طرف سے ان پر سختی آئی تو وہ گڑگڑائے ؟ اس لیے ان کے دل سخت پڑگئے تھے اور جو کچھ وہ بدعملیاں کر رہے تھے انہیں شیطان نے ان کی نظروں میں خوشنما کر دکھایا تھا

لگام ! منہ زوری کا علاج ہے لیکن کچھ اتنے منہ زور ہوتے ہیں کہ لگام بھی توڑ جاتے ہیں : 65: فرمایا جا رہا ہے کہ کچھ ایسے سخت اور بدمزاج بھی ہوتے ہیں کہ ان پر ” عذاب ادنیٰ “ کوئی خاص اثر نہیں کرتا اور وہ اپنی منہ زوری کے باعث یہ لگام توڑ جاتے ہیں اور وہ تضرع و عاجزی کی بجائے مزید اکڑ جاتے ہیں اور اترانے لگتے ہیں ـ حالانکہ سوائے عناد اور قسوت قلب اور خود بینی کے کوئی مانع تضرع و عاجزی ان کے پاس نہ تھا۔ انہوں نے ان تکالیف کو معمولی اور زور مرہ زندگی کے واقعات سمجھ کر ہضم کرلیا تو ہمارے قانون نے ان کو ایک دوسرے امتحان میں مبتلا کرنے کے لئے کھلا چھوڑ دیا اور انعامات کی بارش شروع کردی تو وہ اپنی جہالت اور نادانی کے باعث یہ سمجھے کہ انہیں اس وقت جتنی نعمتیں مل رہی ہیں وہ لازماً ان کی اہلیت و قابلیت کی بناء پر مل رہی ہیں اور ان نعمتوں کا ملنا ان کے مقبول بارگاہ الٰہی ہونے کی کھلی دلیل ہے۔ حالانکہ یہاں جس کو جو کچھ دیا جا رہا ہے اللہ تعالیٰ کی طرف سے آزمائش کے طور پر دیا جا رہا ہے اور یہ ان کے دوسرے امتحان کا سامان ہے نہ کہ کسی قابلیت کا انعام ورنہ آخر کیا وجہ ہے کہ بہت سے قابل آدمی خستہ حال ہیں اور بہت سے ناقابل آدمی نعمتوں میں کھیل رہے ہیں۔ اس طرح یہ دینوی نعمتیں بھی مقبول بارگاہ کی علامت نہیں ہیں۔ ہر شخص دیکھ سکتا ہے کہ دنیا میں بکثرت ایسے نیک آدمی مصائب میں مبتلا ہیں جن کے نیک ہونے سے انکار نہیں کیا جاسکتا اور بہت سے برے آدمی جن کی قبیح حرکات سے ایک دنیا واقف ہے عیش کر رہے ہیں اور مزے اڑا رہے ہیں۔ اب کیا کوئی صاحب عقل آدمی ایک کی مصیبت اور دوسرے کے عیش کو اس بات کی دلیل بنا سکتا ہے کہ نیک انسان کو اللہ پسند نہیں کرتا اور برے انسان کو پسند کرتا ہے ؟ ایسے منہ زوروں اور دوسرے امتحان میں مبتلا لوگوں کا ذکر بھی قرآن کریم میں دوسرے مقامات پر کیا گیا ہے۔ چناچہ ایک جگہ ارشاد ہوا : ” اور ہم نے جب کبھی کسی بستی میں کوئی نبی بھیجا تو ہمیشہ ایسا کیا کہ اس کے باشندوں کو سختیوں اور نقصانوں میں مبتلا کردیا تاکہ سرکشی سے باز آئیں اور عاجزی و نیازمندی کریں۔ پھر ہم نے مصیبت راحت سے بدل دی پھر جب وہ خوب بڑھ گئے اور کہنے لگے ہمارے بزرگوں پر سختی کے دن بھی گزرے ، راحت کے بھی ، تو اچانک ہمارے عذاب کی پکڑ میں آگئے اور وہ بالکل بیخبر تھے۔ “ (الاعراف 7 : 94۔ 95) دوسری جگہ قرآن کریم نے کچھ ایسے لوگوں کا ذکر بھی کیا ہے کہ وہ ” عذاب ادنیٰ “ میں جب مبتلا کئے گئے تو فوراً آرام کرنے لگے لیکن جبھی نے ہم نے ان کو ” عذاب ادنیٰ “ سے بچاباہر کیا تو پھر وہ ڈینگیں مارنے لگے۔ جیسا کہ ارشاد الٰہی ہے : ” اور [ 1 ] جب کبھی انسان کو کوئی رنج پہنچتا ہے خواہ کسی حال میں ہو کروٹ پر لیٹا ہو ، بیٹھا ہو ، کھڑا ہو ہمیں پکارنے لگے گا لیکن جب ہم اس کا رنج دور کردیتے ہیں تو پھر اسی طرح چل دیتا ہے گویا رنج و مصیبت میں کبھی اس نے ہمیں پکارا ہی نہیں تھا تو دیکھو ! جو حد سے گزر گئے ہیں ان کے کام خوشنما کردیئے گئے ہیں۔ “ (یونس 10 : 12) ایک جگہ فرمایا : ” اور جب لوگوں کو تکلیف پہنچتی ہے تو اپنے پروردگار کی طرف رجوع ہو کر اس کو پکارنے لگتے ہیں اور جب وہ اپنی رحمت کا مزہ چکھاتا ہے تو ان میں سے ایک گروہ اپنے رب کے ساتھ شرک کرنے لگتا ہے۔ تاکہ جو ہم نے ان کو دیا ہے اس کی ناشکری کریں ، پس (اے کافرو ! ) مزے اڑا لو پھر تم کو عنقریب معلوم ہوجائے گا۔ “ (الروم 30 : 33۔ 34) ان کی بدعملیوں کو شیطان نے جب خوشنما کر دکھایا تو وہ مزید اترانے لگے : 66: زیر نظر آیت کو دو حصوں میں بیان کیا گیا اور دوسرا حصہ پہلے حصہ کی مزید تشریح کر رہا ہے۔ پہلے حصہ میں انسان کی جہالت و حماقت اور اس کی ناشکری و نمک حرامی پر گرفت تھی اور اس آیت کے دوسرے حصے میں اس کی کم ظرفی اور ہو شیاری پر گرفت کی گئی ہے کہ اس کم بخت کو جب دنیا میں کچھ دولت ، طاقت ، عزت اور وافر فراوانی نصیب ہوجاتی ہے اور وہ دیکھتا ہے کہ اس کا کام خوب چل رہا ہے تو اسے یاد نہیں رہتا کہ یہ سب کچھ اللہ کا دیا ہوا ہے بلکہ وہ سمجھتا ہے کہ مجھے ہی کچھ سرخاب کے پر لگے ہوئے ہیں جو مجھے وہ کچھ میسر ہوا جس سے دوسرے محروم ہیں۔ اس غلط فہمی میں فخر و غرور کا نشہ اس پر ایسا چڑھتا ہے کہ پھر یہ نہ اللہ تعالیٰ کو خاطر میں لاتا ہے ، نہ اللہ کی مخلوق کو لیکن جو نہی کہ اقبال نے پھر منہ موڑا اس کی ہمت جواب دینے لگتی ہے اور پھر کیا ہوتا ہے کہ بدنصیبی کی ایک ہی چوٹ اس پر دل شکستگی کی وہ کیفیت طاری کردیتی ہے جس میں یہ ہر ذلیل حرکت کر گرزتا ہے اور یہی مضمون آگے مزید جاری ہے۔
Ayah 6:44

فَلَمَّا نَسُوْا مَا ذُكِّرُوْا بِهٖ فَتَحْنَا عَلَیْهِمْ اَبْوَابَ كُلِّ شَیْءٍ١ؕ حَتّٰۤى اِذَا فَرِحُوْا بِمَاۤ اُوْتُوْۤا اَخَذْنٰهُمْ بَغْتَةً فَاِذَا هُمْ مُّبْلِسُوْنَ Open ayah 6:44 in the Quran reader

پھر جب ایسا ہوا کہ جو کچھ نصیحت انہیں کی گئی تھی اسے انہوں نے بھلا دیا تو ہم نے ان پر ہر طرح کے دروازے کھول دیئے یہاں تک کہ وہ خوشیاں منانے لگے لیکن اچانک ہم نے انہیں پکڑ لیا پس ناگہاں وہ ناامید ہو کر رہ گئے

جو نصیحت ان کو کی گئی تھی اس کو انہوں نے بھلا دیا اور چیخنے کی بجائے تالیوں پر لگ گئے : 67: نصیحت تو یہ تھی کہ ان ذلیل حرکتوں سے باز آجاؤ اور آنے والے عذاب کو بھول نہ جاؤ ۔ اس غرض کے لیے ان کو ” عذاب ادنیٰ “ میں مبتلا کیا تھا لیکن جونہی انہوں نے اس عذاب سے نجات حاصل کی تو بجائے اس کے کہ اپنے مالک حقیقی کے سامنے رو رو کر اور چیخ چیخ کر اپنی غلطیوں کی معافی طلب کرنے کے لئے عرضیاں پیش کرتے انعامات الٰہی کے ملنے کے بعد جو ان پر بطور آزمائش کئے جا رہے تھے انہوں نے ناچنا اور تالیاں بجانا شروع کردیں۔ جس کی تفصیل پیچھے گزر چکی ہے۔ زیر نظر آیت میں اس بات پر عام انسانوں کو تنبیہ کی گئی ہے کہ دنیا میں کسی شخص یا جماعت پر عیش و عشرت کی فراوانی دیکھ کر دھوکا نہ کھائیں کہ یہی لوگ صحیح راستہ پر ہیں اور یہی کامیاب زندگی کے مالک ہیں بلکہ بسا اوقات یہ حالت ان مبتلائے عذاب نافرمانوں کی بھی ہوتی ہے جن کو سخت سزا میں دفعتاً پکڑنا طے کرلیا جاتا ہے اور عام محاورہ بھی ہے کہ جب موت قریب آتی ہے تو سب بیماریاں چھوڑجاتی ہیں اور ایسا لگتا ہے کہ بس اب صحت آگئی مگر کچھ دیر نہیں لگتی کہ پیشانی پر پسینہ آنا شروع ہوجاتا ہے اور ناک ٹھنڈی پڑجاتی ہے اور اگر کوئی دوسرا آنکھیں بند نہ کرے تو وہ کھلی کی کھلی رہ جاتی ہیں اور لوگ اس کو موت سے تعبیر کرتے ہیں۔ نبی اعظم و آخر ﷺ کا ارشاد گرامی ہے۔ فرمایا جب تم یہ دیکھو کہ کسی شخص پر نعمت و دولت برس رہی ہے حالانکہ وہ اپنے گناہوں اور نافرمانیوں پر جماہوا ہے تو سمجھ لو کہ اس کے ساتھ استدراج ہو رہا ہے یعنی اس کی عیش و عشرت اس کو سخت عذاب میں پکڑے جانے کی ایک واضح علامت ہے۔ (رواہ احمد عن عقبہ بن عامر) عبادہ بن صامت ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب اللہ تعالیٰ کسی قوم کو باقی رکھنا اور بڑھانا چاہتا ہے تو دہ وصف ان میں پیدا کردیتا ہے۔ ایک ہر کام میں اعتدال اور میانہ روی دوسرے عفت و عصمت یعنی خلاف شریعت چیزوں کے استعمال سے پرہیز اور جب اللہ تعالیٰ کسی قوم کو ہلاک و برباد کرنا چاہتا ہے تو ان پر خیانت کے دروازے کھول دیتا ہے یعنی وہ اپنی خیانتوں اور بد عملیوں کے باوجود دنیا میں کامیاب نظرآتے ہیں۔ “ (ابن جریر طبری ؓ اس مضمون کو علامہ اقبال ؓ نے اس طرح نظم فرمایا۔ ؎ آ میں تجھ کو بتاؤں کی تقدیر امم کیا ہے۔ شمشیرو سناں اول ، طاؤس و رباب آخر وہ ناچنے اور تالیاں بجانے میں مصروف تھے کہ پکڑے گئے اور ناامید ہو کر رہ گئے : 68: آیت کے اس حصہ میں بڑی وضاحت سے بیان فرما دیا کہ جاہ و ثروت ، خوشحالی اور اقبال مندی کو صداقت و حقانیت کی دلیل سمجھ لینا تمام تر حماقت سقاہت ہے۔ اس کا لازمی تعلق حق و صداقت سے ہرگز نہیں گو اکثرحالات میں اہل حق کو یہ دنیوی سر بلندیاں بھی بہ طور انعام مل جاتی ہیں لیکن اکثر دیکھنے میں یہی آیا ہے کہ یہ اقبال مندیاں انہیں لوگوں کے حصے میں آتی ہیں جو جاہ و حشمت کی غفلت و مستی میں پڑ کر کفر میں بہت آگے نکل چکے ہوتے ہیں اور ان کو پکڑے جانے کا کوئی خطرہ موجود نہیں ہوتا وہ بڑے اطمینان کے ساتھ اس بدمستی میں پڑے ہوتے ہیں کہ شکاری جانور کی طرح فوراً دبوچ لئے جاتے ہیں جس سے اردو محاورہ میں ان کے ہاتھوں کے طوطے اڑ جاتے ہیں اور اس طرح وہ غایت یاس میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ زیر نظر آیت میں لفظ ” مُّبْلِسُوْنَ “ استعمال ہوا جس کا پورا مفہوم مایوسی سے ادا نہیں ہوتا بلس اور ابلاس کا لفظ بہت سے معنوں میں استعمال ہوتا ہے ” حیرت کی وجہ سے دنگ ہو کر رہ جانا۔ “ ” خوف اور دہشت کے مارے دم بخود ہوجانا۔ “ ” رنج و غم کے مارے دل شکستہ ہوجانا۔ “ ” ہر طرف سے ناامید ہو کر ہمت توڑ بیٹھنا۔ “ اور اس کا ایک پہلو مایوس ونامرادی کی وجہ سے ” برا فروختہ ہوجانا۔ “ بھی ہے۔ اس وجہ سے شیطان کو ” ابلیس “ کا نام دیا گیا اور اسی طرح اس کے نام میں یہ معنی پوشیدہ ہیں کہ یا س اور نامرادی کی بناء پر اس کا زخمی تکبر اس قدر برانگیختہ ہوگیا کہ اب وہ جان سے ہاتھ دھوکر بازی کھیل جانے اور ہر جرم کا ارتکاب کر گزرنے پر تلا ہوا ہے۔ بس وہ یاس و حسرت کے اس عالم میں پڑجاتے ہیں جہاں اپنی جان خطرہ میں دیکھ کر دوسروں کی جان کی کوئی پرواہ نہیں رہتی۔
Ayah 6:45

فَقُطِعَ دَابِرُ الْقَوْمِ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا١ؕ وَ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 6:45 in the Quran reader

اس طرح اس گروہ کی جڑ کاٹ دی گئی جو ظلم کرنے والا تھا اور تمام ستائشیں اللہ ہی کے لیے ہیں جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے

اس مایوسی کے عالم میں ہی ان کی جڑ کاٹ کر رکھ دی جاتی ہے : 69: بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ ایک قوم ظلم اور بد عملی میں مبتلا ہوتی ہے اس پر بھی ہر طرح کی خوشحالیاں اسے ملتی رہتی ہیں تب لوگ دھوکے میں پڑجاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ظلم و بد عملی کے نتائج کیا ہوئے ؟ یہ تو سب بس ہاتھ نہ پہنچنے والوں کے ڈھکو سلے ہیں۔ حالانکہ یہ اس لئے نہیں ہوتا کہ جزاء و عمل کا قانون موجود نہیں بلکہ اس لئے کہ اللہ نے ہرچیز کی طرح مفاسد کی نشونما اور بلوغ کے لئے بھی مقدار و اوقات کا قانون ٹھہرا دیا ہے جب تک وہ وقت نہیں آتا نتائج آشکارا نہیں ہوتے۔ اس حقیقت کی طرف پچھلی آیت میں اشارہ ہے اور اس آیت میں بس کام تمام ہوجانے کی اطلاع ، فرمایا کہ جب اللہ تعالیٰ کا عذاب عام آیا تو ظالموں کی نسل تک قطع کر کے رکھ دی گئی اور قوم کی قوم کا کام تمام کردیا گیا کہ ( نہ رہے بانس نہ بجے بانسری) فرمایا اس طرح ظالم ہٹا کر ظلم مٹا دیا جاتا ہے۔ خلق خدا کی زبان پر خدا کی ستائش بےساختہ جاری ہوجاتی ہے : 70: آیت کے اس حصہ میں اس طرف اشارہ فرمادیا گیا کہ مجرموں اور ظالموں پر جب کوئی عذاب و مصیبت آئے تو پورے عالم کے لئے ایک نعمت سے کم نہیں ثابت ہوتا۔ اس لئے ظالم قومیں جن کی چیرہ دستیوں سے اللہ کی مخلوق تنگ آچکی ہوتی ہے۔ جب تباہ و برباد کردی جاتی ہیں تو ہر طرف اطمینان اور آرام کا سانس لیا جاتا ہے اور واقعی وہ لمحہ اس قابل ہوتا ہے کہ مظلوم اور ستم رسیدہ لوگ اپنے رب کریم کی حمد وثناء کے گیت گائیں اس لئے کہ اس نے ان کی بےکسی اور بےبسی پر ترس کھا کر ان کو ان جابر ظالموں کی قید غلامی سے نجات بخشی۔ آج پوری دنیا کے لوگوں کو چند ملکوں نے ایک قوم بن کر ظلم کی چکی ہیں اس طرح پیسنا شروع کیا ہے جس طرح غلہ کی چکی غلہ کو پیستی ہے۔ بلاشبہ اس وقت قوم مسلم پر یہ عمل جاری ہے اور مسلمان ہیں کہ غلے کی طرح پستے جا رہے ہیں اور اس ظلم عظیم کو اللہ کی آنکھ دیکھ رہی ہے۔ دیکھتے ہیں کہ اللہ کا ہاتھ کب اٹھتا ہے ؟ لیکن اس کو اٹھتے دیر کب لگتی ہے ؟ ہاں ! اس کا وقت یقیناً مقررومتعین ہے اور وہی جانتا ہے کہ وہ وقت کب آئے گا ہم تو ایمانیات کے باعث اس بات کا اعلان کرسکتے ہیں کہ وہ یقیناً اٹھے گا اور جب اٹھے گا انشاء اللہ ظالم رہے گا نہ اس کا ظلم۔ دونوں ایک ساتھ نابود ہوجائیں گے۔ اس وقت 1995 ء جا رہا ہے اور قوموں کی زندگی و موت کے لئے ایک سو سال کوئی زیادہ مدت نہیں ہے اور خطرہ کی گھنٹی یقیناً بج چکی ہے اور یہ تائید ایزدی کی بصیرت کا فیصلہ ہے وحی ہے نہ الہام۔ یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ انیسویں صدی میں اب تک پوری دنیا دو بار خوفناک عالمی جنگ کی لپیٹ میں آچکی ہے۔ پہلی جنگ عظیم 1914 ء سے 1918 ء اور دوسری عالمی جنگ 1939 ء سے 1945 ء تک۔ بس اس خوفناک عالمی جنگ کے دفاع کے لئے وہ چکی تیار کی گئی کہ کچھ پسنے والے ہوں اور کچھ پیسنے والے تاکہ عالمی جنگ کا خطرہ ٹلا رہے اور اس کا باقاعدہ انتظام کیا گیا اور اس چکی کے پاٹ تیار کرنے والے امریکہ کے اس وقت کے صدر مسٹر روز ویلٹ اور برطانیہ کے وزیر اعظم مسٹر چرچل تھے۔ تفصیل اس کی کسی مناسب مقام پر ہوگی۔ ان شاء اللہ