6. Surah Al-An'aam

الأنعامThe Cattle · 165 ayahsعروۃ الوثقٰی

Ayah 6:25

وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّسْتَمِعُ اِلَیْكَ١ۚ وَ جَعَلْنَا عَلٰى قُلُوْبِهِمْ اَكِنَّةً اَنْ یَّفْقَهُوْهُ وَ فِیْۤ اٰذَانِهِمْ وَقْرًا١ؕ وَ اِنْ یَّرَوْا كُلَّ اٰیَةٍ لَّا یُؤْمِنُوْا بِهَا١ؕ حَتّٰۤى اِذَا جَآءُوْكَ یُجَادِلُوْنَكَ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ هٰذَاۤ اِلَّاۤ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 6:25 in the Quran reader

اور دیکھو ان میں سے کچھ لوگ ایسے ہیں جو سننے کے لیے تمہاری طرف کان لگاتے ہیں اور ہم نے ان کے دلوں پر پردے ڈال دیئے ہیں اور ان کے کانوں میں بوجھ ہے کہ سن نہیں سکتے ، اگر یہ ہر ایک نشانی بھی دیکھ لیں جب بھی یقین کرنے والے نہیں یہاں تک کہ جب یہ تمہارے پاس آتے ہیں تو تم سے جھگڑتے ہیں تو جن لوگوں نے کفر کی راہ اختیار کی ہے وہ کہنے لگتے ہیں کہ یہ تو اس کے سوا کچھ نہیں ہے کہ پچھلوں کی کہانیاں ہیں

وہ لوگ جن کے دلوں پر غلاف چڑھ گئے اور کانوں میں گرانی آگئی وہ سنتے ، سمجھتے نہیں : 38: ” اَكِنَّةً “ کی اصل ک ن ن ہے جو کن اور کنان کی جمع ہے جس کے معنی پردہ اور کسی ڈھانپ لینے والی چیز کے ہیں ۔ اسی طرح وقر کی اصل وق رہے جس کے معنی بوجھ ، ثقل اور گرانی کے ہیں۔ اس جگہ ” پردہ “ یا ” گرانی “ کا مطلب وہ پردہ اور وہ گرانی ہے جو معنوی اور روحانی ہے نہ کہ حسی۔ یہ وہی چیز ہے جو انسان کے دل اور کانوں کو سننے اور سمجھنے کی صلاحیت سے محروم کردیتی ہے جو انسانیت کے لئے لازم وضروری ہے ۔ جس سے محروم ہو کر انسان چوپائے سے بھی بدتر ہوجاتا ہے ۔ انسان پر یہ محرومی اس کی اپنی شامت اعمال کے نتیجہ میں مسلط ہوتی ہے جس کے لئے اللہ تعالیٰ نے ایک مخصوص ضابطہ بنا دیا ہے چونکہ اس ضابطہ کا بنانے والا اللہ ہی ہے کیونکہ وہی خیر وشر کا خالق ہے اگرچہ خیر اس کی رضا اور شر اس کی تکوین ہے اور دونوں آپس میں لازم وملزوم ہیں اسلئے اس کی نسبت وہ بعض اوقات اپنی طرف دے دیتا ہے اور اکثر لوگ اپنی کم علمی اور بیوقوفی کے باعث ایسے مقامات پر ٹھوکر کھا جاتے ہیں۔ بعض اوقات جب انسان کسی چیز کو حق سمجھنے کے باوجود تسلیم نہیں کرتا اور دانستہ اس سے اعراض کرتا ہے اور منہ پھیر جاتا ہے تو اس کا طبعی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ بطور سزا اس کی نور حق کو دیکھنے والی آنکھ بےنور ہوجاتی ہے۔ آواز سننے والے کان بہرے ہوجاتے ہیں اور حق کو سمجھنے کی قوت سے اس کا دل محروم ہوجاتا ہے پھر وہ سنی ان سنی اور سمجھی ان کو سمجھی کردیتا ہے ۔ قرآن کریم نے بہت سے مقامات پر اس کی تصریح کی ہے۔ اس طرح اس مقام پر فرمایا کہ ہم نے ان کے کانوں کو بہرہ کردیا اور انکے دلوں پر پردے ڈال دیئے۔ جیسا کہ اوپر ذکر کیا گا۔ ہے ان چیزوں کو اللہ تعالیٰ کا اپنی طرف منسوب کرنا ا سوجہ سے ہے کہ سبب پر مسبب کا ، موثر پر اثر کا مرتب کرنا اللہ تعالیٰ ہی کی شان ہے اور اس کا فعل ہے۔ باوجود اس کے کہ اس محرومی کا سبب تو ان کا اعراض اور انکار ہے لیکن اس نے سبب اور اثر کی بجائے ان کو اپنی ذات کی طرف منسوب کردیا اور پھر اس کی کئی جگہ وضاحت فرما دی کہ یہ محض خالق خیر و شر کے باعث ایسا ہے کہ خیر و شردونوں کا خالق ایک ہی ہے اور وہ خود اللہ تعالیٰ ہے۔ اس جگہ ارشاد ہوا کہ ” دیکھو ان میں سے کچھ لوگ ایسے ہیں جو سننے کے لئے تمہاری طرف کان لگاتے ہیں اور ہم نے ان کے دلوں پر پردے ڈال دیئے ہیں کہ ان تک بات کی سمجھ نہیں پہنچتی۔ ‘ ‘ اسلئے کہ وہ سنی ان سنی کردیتے ہیں اور سمجھی ناسمجھی یعنی ان کے لئے سننا اور نہ سننا اس طرح سمجھنا اور نہ سمجھنا دونوں برابر ہیں۔ کیوں ؟ اس لئے کہ وہ سننے کو تو سنیں گے لیکن کریں گے اپنی مرضی اور سمجھنے کو تو سمجھیں گے لیکن کریں گے وہی جو ان کے اپنے دل اور اپنے جی میں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ چارپایوں کی مانند قرار دیئے گئے ہیں اس لئے کہ وہ انسانی اوصاف کو ضائع کر بیٹھے ہیں اور جب انسانی اوصاف ضائع ہوجائیں تو انسان ایک حیوان ہی کی صورت میں باقی رہ جاتا ہے۔ اوصاف انسانی کو ضائع کرنے والے لوگوں پر کوئی بات بھی اثر نہیں کرتی : 39: ظاہر ہے کہ جب کوئی شخص یا گروہ دلیل وحجت اور خیر خواہانہ نصیحت کے مقابلے میں جھگڑالو پن پر اتر آتا ہے اور حق کا مقابلہ جھوٹ اور مکرو فریب کے ہتھیاروں سے کرنے لگتا ہے اور اپنے کرتوتوں کا برا انجام دیکھنے سے پہلے کسی کے سمجھانے سے اپنی غلطی ماننے پر تیار نہیں ہوتا تو اللہ تعالیٰ پھر اس کے دل پر قفل چڑھادیتا ہے اور یہ قفل معنوی اور روحانی ہوتا ہے اور اس کے کان ہر صدائے حق کے لئے بہرے کردیتا ہے یعنی وہ حقیقت جان لینے کے بعد بھی اس پر عمل کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتا ایسے لوگ نصیحت سے نہیں جانا کرتے بلکہ ہلاکت کے گڑھے میں گر کر ہی انہیں یقین آتا ہے کہ وہ ہلاکت تھی جس کی راہ پر وہ بڑھے چلے جا رہے تھے لیکن اب اس یقین آنے کا فائدہ ؟ ” اب پچھتائے کیا ہوت چڑیاں چک گئیں کھیت۔ “ قرآن کریم کا یہ معجزہ ہے کہ وہ جو بات کرتا ہے وہ علم و حکمت سے خالی نہیں ہوتی۔ ان اوصاف انسانی کو ضائع کرنے والوں نے جو الفاظ خود اپنے اوپر بولے تھے وہی اس نے بار بار دہرادیئے اور ان کو سب کچھ کہہ دیا اور کچھ کہا بھی نہیں کیونکہ وہ انہیں کا کہا ہوا تھا ۔ پھر کسی کی کہی ہوئی بات کو اس پر کہنا اپنے اندر ایک خاص مفہوم رکھتا ہے جو وہی دونوں فریق سمجھ سکتے ہیں جو اس طرح کی گفتگو کرنے والے ہوں۔ اس جگہ جو الفاظ بولے گئے ان پر ایک بار دوبارہ نظر ڈالو ” ہم نے انکے دلوں پر پردہ ڈال دیا ہے کہ وہ اس کونہ سمجھیں۔ “ اور ” ان کے کانوں میں بوجھ ہے۔ “ وہ ساری کی ساری نشانیاں دیکھ لیں جب بھی ایمان لانے والے نہیں ۔ “ اور یہ ساری باتیں وہی ہیں جو خود انہوں نے اپنے اوپر استعمال کی تھیں اور ان ہی کی کہی ہوئی باتیں جب ان پر بار بار دہرائی جائیں گی تو ظاہر ہے کہ اس وقت ان کی حالت دیدنی ہوگی انہوں نے اپنے لئے کب استعمال کیں اس کو دیکھنا چاہو تو درج ذیل آیت کو دیکھو۔ ارشاد ہوتا ہے کہ : ” وَ قَالُوْا قُلُوْبُنَا فِیْۤ اَكِنَّةٍ مِّمَّا تَدْعُوْنَاۤ اِلَیْهِ وَ فِیْۤ اٰذَانِنَا وَقْرٌ وَّ مِنْۢ بَیْنِنَا وَ بَیْنِكَ حِجَابٌ فَاعْمَلْ اِنَّنَا عٰمِلُوْنَ 005 “ (حم السجدہ 41 : 5) ” اور وہ لوگ کہتے ہیں کہ ہمارے دل غلاف میں ہیں ، اس بات سے جس کی طرف آپ ہمیں بلاتے ہیں اور (کہتے ہیں کہ) ہمارے کانوں میں ڈٹ ہے اور ہمارے اور آپ کے درمیان ایک حجاب ہے پس آپ اپنا کام کیے جایئے ہم اپنا کام کیے جاتے ہیں۔ “ اوپر جو حوالہ کی آیت درج کی گئی ہے سورة حم السجدہ کی ہے اور سورة حم السجدہ مکی ہے اور اس کا نزول مکی زندگی کے وسط کا ہے جس وقت امیر حمزہ ؓ ایمان لاچکے تھے لیکن ابھی حضرت عمر ؓ ایمان نہیں لائے تھے۔ ایک روز کفار قریش نے جمع کر رسول اللہ ﷺ کو چند تجاویز دیں۔ آپ (علیہ السلام) نے اپنے خاندان کے بزرگوں کی وہ تجویزیں بڑے غور سے سنیں۔ جب عتبہ نے اپنا بیان ختم کیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ابو الولید ! آپ نے جو کہنا تھا کہہ لیا ؟ اس نے کہا ہاں ! اس وقت آپ ﷺ نے سورة حم السجدہ کی پہلی 8 آیات تلاوت فرمائیں جو آپ ﷺ پر وحی ہوچکی تھیں۔ ان ہی میں کفار مکہ کا وہ قول بھی دہرایا گیا جو انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو مخاطب کر کے کہا تھا ۔ جس پر انہوں نے اپنے اوپر اس کلام کا کچھ اثر نہ ہونے کا ذکر کیا تھا اور وہی الفاظ متعدد بار ان کے سامنے ضرورت کے مطابق دہرائے گئے۔ جھگڑا لولوگ جھگڑے میں قرآن کریم کو ” پچھلوں کی کہانیاں “ کہہ دیتے ہیں : 40: ” اساطیر “ کا اصل مادہ س ط ر ہے جو ” اسطورہ “ اور اسطیرہ کی جمع ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ ایسی جمع ہے جس کا کوئی واحد نہیں جیسے مذاکیر اور ابابیل وغیرہ اور اساطیر کے معنی ہیں بےسروپا داستانیں ، بےاصل قصے کہانیاں جن کو آج کل کی زان میں ” افسانہ “ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ کفار کا یہ کہنا کہ قرآن کریم سوائے پہلوں کی بےسند داستانوں کے اور کچھ بھی نہیں ہے ۔ کتنا بڑا جھوٹ ہے ۔ یہی وجہ ہے جن لوگوں نے یہ کہا ان کو قرآن کریم نے ” جھگڑنے والے “ قراردیا اور ظاہر ہے کہ جھگڑا کبھی افہام و تفہیم کے لئے نہیں ہوتا۔ اس کو آج کل ہماری زبان میں ” مناظرہ “ کے لفظ سے یاد کیا جاتا ہے اور قرآن کریم نے اس کو ” مجادلہ “ سے تعبیر کیا ہے۔ جھگڑا کیا ہے ؟ بات سے بات نکالتے جانا اور ہر ممکن کوشش کرنا کہ میری بات بڑی رہے۔ حق کو ناحق اور ناحق کو حق بنانے کی کوشش کرنا۔ شور وغوغا کر کے کتوں اور بلیوں کی طرح غرانا اور پھر ایک دوسرے کے گلے پڑنے کی کوشش کرنا۔ اس کو اچھی طرح سمجھنے کے لئے ہم اس جگہ قرآن کریم ہی سے ایک واقعہ بیان کرتے ہیں جس سے اس حالت کو سمجھنے میں ان شاء اللہ کافی مدد ملے گی۔ قرآن کریم کی ایک آیت میں بیان کیا گیا تھا کہ : ” اے پیغمبر اسلام ! تم سے پہلے ہم نے جتنے رسول بھیجے تھے ان سے پوچھ دیکھ کیا ہم نے خدائے رحمن کے سوا کچھ دوسرے معبود بھی مقرر کئے تھے کہ ان کی بندگی کی جائے ؟ “ (الزخرف 43 : 45) یہ تقریر جب اہل مکہ کے سامنے ہو رہی تھی تو ایک شخص نے جس کا نام روایات میں عبد اللہ بن الزبعری آیا ہے اعتراض جڑ دیا کہ کیوں صاحب ، عیسائی مریم کے بیٹے کو خدا کا بیٹا قرار دے کر اس کی عبادت کرتے ہیں یا نہیں ؟ پھر ہمارے معبود کیا برے ہیں ؟ اس پر کفار کے مجمع سے ایک زور کا قہقہہ بلند ہوا اور نعرے لگنے شروع ہوگئے کہ وہ مارا گیا ، پکڑ گیا۔ اب بولو اس کا کیا جواب ہے ۔ آہا ، آہا۔ کیا کہنے آپ کے ۔ غور کیجئے کہ بات کہاں سے چلی تھی اور کہاں پہنچا دی گئی کیا اس گپ گپاڑے سے اصل کلام کا کوئی تعلق بھی ہے۔ چناچہ قرآن کریم نے ان کی اس بیہودگی کا اس طرح ذکر کیا کہ : ” اور جب مریم کے بیٹے کا حال بیان کیا گیا تو آپ (ﷺ) کی قوم کے لوگ (باتیں بنانے لگے اور) چلا اٹھے۔ اور وہ بولے کہ بھلا ہمارے معبود بہتر ہیں یا وہ (عیسیٰ (علیہ السلام) انہوں نے تو آپ (ﷺ) سے محض جھگڑے کے لیے یہ بات کہی ہے درحقیقت یہ لوگ جھگڑالو ہیں۔ وہ تو محض ایک بندہ تھا جو ہمارے بندوں ہی سے تھا جس پر ہم نے اپنا فضل کیا تھا اور بنی اسرائیل کے لیے ایک نمونہ بنایا۔ “ (الزخرف 43 : 57 ، 59) جو سوال کفار مکہ نے اٹھایا تھا وہ تو اس وقت صحیح ہوتا کہ جب عیسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ یا اللہ کا بیٹا ہونے کا دعویٰ کیا ہوتا حالانکہ ان کی دعوت تو وہی تھی جو دوسرے انبیائے کرام کی دعوت تھی اور اب جس کی طرف محمد رسول اللہ ﷺ ان کو بلا رہے تھے یہ تو ان مکہ والوں کا جھگڑا تھا جو انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے خواہ مخواہ ڈال دیا لیکن آج تو ان جھگڑوں کی کوئی کمی ہی نہیں بلکہ سارے دین اسلام کو جھگڑا بنا کر پیش کیا جانے لگا اور یہی جھگڑا دینی درسگاہوں میں سکھایا اور پڑھایا جاتا ہے۔ اگر تجربہ کرنا ہو تو ایک ہفتہ بڑی خاموشی کے ساتھ کسی ایک اسلامی مدرسہ میں رہ کر دیکھ لو تمہاری عقل کے سارے پردے کھل جائیں گے اور مذہبی گروہ بندی میں اس کے علاوہ کچھ ہوتا بھی نہیں جو کچھ آج ہو رہا ہے ۔ اسی افراط وتفریط نے پہلی قوموں کو تباہ برباد کردیا اور یہی افراط وتفریط آج ہم کو لے کے بیٹھ گئی پہلے تو کم از کم قومیں آپس میں مختلف نظریات کی وجہ سے ٹکراتی تھیں لیکن آج قوم مسلم کو کئی ایک قوموں میں تقسیم کردیا اور آج ایک ملت سے وابستہ لوگوں کا شیرازہ اسطرح بکھرا کہ وہ اس تسبیح کے دانوں کی طرح بالکل الگ الگ ہوگئے جس تسبیح کا دھاگا ٹوٹ گیا ہو۔
Ayah 6:26

وَ هُمْ یَنْهَوْنَ عَنْهُ وَ یَنْئَوْنَ عَنْهُ١ۚ وَ اِنْ یُّهْلِكُوْنَ اِلَّاۤ اَنْفُسَهُمْ وَ مَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 6:26 in the Quran reader

اور دیکھو یہ لوگ قرآن کریم سے دوسروں کو بھی روکتے ہیں اور خود بھی دور بھاگتے ہیں اور وہ ایسا کر کے کسی کا کچھ نہیں بگاڑتے اپنے ہی کو ہلاکت میں ڈالتے ہیں اور اس کا شعور نہیں رکھتے

یہ لوگ قرآن کریم سے دور بھاگتے ہیں اور دوسروں کو بھی روکتے ہیں : 41: ” یتنؤں “ وہ دور بھاگتے ہیں۔ اس کی اصل ن ا ی ہے نئی دور بھاگنا ۔ الگ ہونا ۔ فرمایا کفار مکہ اور یہود و نصاریٰ نے جو رویہ قرآن کریم اور پیغمبر اسلام ﷺ کے ساتھ روا رکھا وہ بڑا ہی عجیب ہے کفار مکہ آپ ﷺ کے خاندان اور برادری کے لوگ تھے وہ آپ ﷺ کی بچین سے لے کر جوانی تک کی حالت کو اچھی طرح جانتے تھے اور آپ ﷺ کی سچائی کی مثالیں بیان کیا کرتے تھے۔ اس طرح اہل کتاب آپ کے حسن اخلاق اور زندگی کے دوسرے مختلف واقعات سے آپ ﷺ کی نبوت کو اچھی طرح پہچانتے تھے لیکن ان سب کو کیا ہوا کہ آپ ﷺ نے جب اللہ کے دین کی دعوت پیش کی تو سارے کے سارے مخالف ہوگئے ۔ لوگوں کو آپ ﷺ پر نازل شدہ کلام کو سننے سے منع کرتے اور سختی سے روکتے تھے کہ اس کا بیان اللہ کا کلام نہیں بلکہ ایک جادو کا کلام ہے جو اس کو سنے گا وہ خود سحر زدہ ہوجائے گا۔ آپ ﷺ کو ساحر اور جادوگر کہنے میں ذرا خوف نہ کھاتے کہ یہ ہم کیا کہہ رہے ہیں اس طرح تو ہمارے اپنے کہے کی بھی کھلی تردید ہوتی ہے کہ کل تک ہم جس کو الامین ، الصادق کہا کرتے تھے آج وہ جادوگر کے سح ہوگیا ؟ جس شخص نے کسی انسان کے بارے میں آج تک کبھی جھوٹ نہیں بولا وہ اللہ کے بارے میں کیسے جھوٹ بول سکتا ہے۔ اہل کتاب جن کی کتابوں میں رسول اللہ ﷺ کی ذات اور رسالت کے سارے نشانات ملتے تھے انہوں نے اپنی کتابوں کی پروانہ کرتے ہوتے کس قدر ڈھٹائی سے کام لیا کہ نہ تو خود قرآن کریم کو اللہ کا کلام اور رسول اللہ ﷺ کو اللہ کا رسول مانا اور نہ ہی دوسروں کو ماننے دیا بلکہ خود بھی رکے اور دوسروں کو رولنے کا باعث بھی ہوئے فرمایا اچھا اگر یہ لوگ ” قرآن کریم سے دوسروں کو بھی روکتے ہیں اور خود بھی دور بھاگتے ہیں تو یاد رکھو کہ وہ ایسا کر کے کسی کا کچھ نہیں بگاڑ رہے بلکہ اپنے آپ ہی کو ہلاکت میں ڈالتے ہیں اور اس ہلاکت میں پڑنے کا شعور نہیں رکھتے۔ “ شعور کا تعلق عقل وفکر سے ہے بلکہ عقل وفکر ہی کا دوسرا نام شعور ہے تو یہ لوگ ایسا کر کے کسی کا کچھ نہیں بگاڑ رہے بلکہ اپنا نقصان کر رہے ہیں۔
Ayah 6:27

وَ لَوْ تَرٰۤى اِذْ وُقِفُوْا عَلَى النَّارِ فَقَالُوْا یٰلَیْتَنَا نُرَدُّ وَ لَا نُكَذِّبَ بِاٰیٰتِ رَبِّنَا وَ نَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 6:27 in the Quran reader

اور تو تعجب کرے اگر انہیں اس حالت میں دیکھے جب یہ آتش دوزخ کے کنارے کھڑے ہوں گے اس وقت کہیں گے اے کاش ! ایسا ہو کہ ہم پھر دنیا کی طرف لوٹا دیئے جائیں اور اپنے پروردگار کی آیتیں نہ جھٹلائیں اور ان میں سے ہوجائیں جو ایمان والے ہیں

ان لوگوں کو جب آگ کے کنارے کھڑا کیا جائے گا اور یہ اپیلیں کر رہے ہوں گے ذرا اس کا تصور بھی کرو : 42: یہ مضمون قرآن کریم میں متعدد مقامات پر آیا ہے کہ مجرمین موت کی سرحد میں داخل ہونے کے وقت سے لے کر آخرت میں واصل جہنم ہونے تک بلکہ اس کے بعد بھی باربار یہی درخواستیں کرتے رہیں گے کہ ہمیں بس ایک دفعہ دنیا میں اور بھیج دیا جائے۔ اب ہماری توبہ ہے ۔ ہماری ماں مرے جو آئندہ ایسا کریں۔ اب ہم کبھی نافرمانی نہیں کریں گے۔ اب ہم سیدھی راہ چلیں گے۔ چناچہ دوسری جگہ فرمایا : ” پھر کیا یہ لوگ اس بات کے انتظار میں ہیں کہ اس کا مطلب وقوع میں آجائے جس دن اس کا مطلب وقوع میں آئے گا اس دن وہ لوگ کہ اسے پہلے بھولے بیٹھے تھے بول اٹھیں گے بلاشبہ ہمارے پروردگار کے پیغمبر ہمارے پاس سچائی کا پیام لے کر آئے تھے ، کاش ! شفاعت کرنے والوں میں سے کوئی ہو جو آج ہماری شفاعت کرے یا کاش ! ایسا ہو کہ ہم پھر دنیا میں لوٹا دیئے جائیں اور جیسے کچھ کام کرتے رہے ہیں اس کے برخلاف کام انجام دیں ، بلاشبہ ان لوگوں نے اپنے ہاتھوں اپنے آپ کو تباہی میں ڈالا اور دنیا میں جو کچھ افتراء بردازیاں کیا کرتے تھے وہ سب ان سے کھوئی گئیں “ (الاعراف 7 : 53) ایک جگہ فرمایا : ” ‘ اور لوگوں کو اس دن کی آمد سے خبردار کر دو جب کہ ان پر عذاب نمودار ہوجائے گا اس دن ظلم کرنے والے کہیں گے اے پروردگار ! تھوڑی سی مدت کے لیے ہمیں مہلت دے دے ہم تیری پکار کا جواب دیں گے اور پیغمبروں کی پیروی کریں گے ، کیا تم وہی نہیں ہو کہ اب سے پہلے قسمیں کھا کھا کر کہا کرتے تھے کہ ہمیں کسی طرح کا زوال نہ ہوگا ؟ اور تم انہیں لوگوں کی بستیوں میں بستے تھے جنہوں نے اپنی جانوں کے ساتھ ناانصافی کی تھی اور تم پر اچھی طرح واضح ہوگیا تھا کہ ہم نے ان کے ساتھ کیا کیا ، نیز تمہیں سمجھانے کے لیے طرح طرح کی [ 2 ] مثالیں بھی ہم نے بیان کردیں۔ “ (ابراہیم 14 : 44 ، 45) ایک جگہ ارشاد فرمایا : ” ان منکروں کا حال ایسا ہی رہے گا یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی کے سرہانے موت آ کھڑی ہوگی تو وہ اس وقت کہنے لگے گا اے اللہ ! مجھے پھر لوٹا دے۔ شاید اب میں نیک کام کرسکوں ، ہرگز نہیں یہ محض ایک کہنے کی بات ہے جو یہ کہہ رہا ہے ، اب ایسا ہونے والا نہیں ، ان لوگوں کے پیچھے ایک آڑ ہے جو اس دن تک رہے گی کہ دوبارہ اٹھائے جائیں “ (المومنون 23 : 99 ، 100) ایک ارشاد فرمایا ہوا : ” پس اب نہ ہمارا کوئی سفارش کرنے والا ہے۔ اور نہ کوئی غم خوار دوست ہے۔ “ (الشعراء 26 : 100 ۔ 101) ایک جگہ ارشاد فرمایا : ” ‘ اور جب منافقوں اور دلوں کے اندر (کدورت کا) مرض رکھنے والوں نے کہا کہ ہم سے تو اللہ اور اس کے رسول نے محض دھوکے کا وعدہ کیا تھا “ (السجدہ 33 : 12) اور اس جگہ ارشاد فرمایا ” اور تو تعجب کرے اگر انہیں اس حالت میں دیکھے جب یہ آتش دوزخ کے کنارے کھڑے ہوں گے ، اس وقت کہیں گے اے کاش ! ایسا ہو کہ ہم پھر دنیا کی طرف لوٹا دیئے جائیں اور اپنے پروردگار کی آیتیں نہ جھٹلائیں اور ان میں سے ہوجائیں جو ایمان لانے والے ہیں۔ “
Ayah 6:28

بَلْ بَدَا لَهُمْ مَّا كَانُوْا یُخْفُوْنَ مِنْ قَبْلُ١ؕ وَ لَوْ رُدُّوْا لَعَادُوْا لِمَا نُهُوْا عَنْهُ وَ اِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ Open ayah 6:28 in the Quran reader

جو کچھ یہ پہلے چھپایا کرتے تھے اس کا بدلہ ان پر نمودار ہوگیا اگر یہ دنیا کی طرف لوٹا دیئے جائیں تو پھر اس بات میں پڑجائیں جس سے انہیں روکا گیا تھا اور کچھ شک نہیں کہ یہ لوگ جھوٹے ہوں گے

پہلے کئے کا بدلہ تو نمودار ہوگیا اگر دوبارہ لوٹائے جائیں تو وہی کریں جس سے روکے گئے تھے : 43: ان کا یہ کہنا کہ اگر ہم دوبارہ دنیا میں لوٹائے جائیں تو ہم کبھی وہ کچھ نہ کریں جو آج تک کرتے رہے تھے بلکہ اس کے برعکس انبیائے کرام کے پروگرام کی تصدیق کریں اور اچھے اعمال کرنے والے بن جائیں ۔ ان کے اس بیان پر اللہ تعالیٰ ارشاد فرما رہا ہے جو سارے انسانوں کے دلوں کے رازوں تک سے واقف ہے کہ اے پیغمبر اسلام ! یہ لوگ اپنے اس اعتراف میں بھی جھوٹے ہیں اگر وہ لوٹا بھی دیئے جائیں تو وہی کچھ کریں گے جس سے وہ روکے گئے تھے اس لئے کہ ان کی تکذیب کی علت یہ نہیں تھی کہ اصل حقیقت ان پر واضح نہیں تھی ۔ وہ جانتے تھے کہ نبی اعظم و آخر ﷺ سچا ہے ، قرآن کریم اللہ کی کتاب ہے ، جزا وسزا یقینی ہے تو جس طرح وہ دل کی شہادت کے خلاف پہلے حق کو جھٹلاتے رہے ہیں اسی طرح پھر اس کو جھٹلائیں گے اور اس مشاہدے کو بھی زیادہ سے زیادہ ایک ڈراؤنا خواب قرار دیں گے۔ اس لئے کہ دنیا کی زندگی میں جب اس کو کسی عذاب میں ڈبکی دی گئی تو انہوں نے اس طرح ہاتھ جوڑے اور کانوں کو ہاتھ لگائے اور کوئی زیادہ ہی مشکل وقت آیا تو ناک سے لکیریں نکالتے رہے لیکن پھر کیا ہوا ؟ یہی کہ وہ وقت نکل گیا ، حالات بدل گئے ، بھلے دن آگئے تو ان کو وہ سب کچھ یاد نہ رہا اور وہی کچھ کرنے لگے جو اس سے پہلے کرتے رہے تھے ۔ یہ لوگ عادی مجرم ہیں جب پھنس جاتے ہیں تو یہ سب کچھ ماننے لگتے ہیں اور جب آزاد ہوتے ہیں تو بس آزاد ہی ہوجاتے ہیں۔ انکو مثل یاد ہے کہ ” ضرورت ایجاد کی ماں ہے “ اور انکو یہ گر بھی آتا ہے کہ وقت پڑنے پر ” گدھے کو باپ کہہ لیتا “ جائز ہے۔ فرمایا یہ سب ان کی چالاکی کا کلام ہے اور یہ سب جھوٹ اور فریب کاری کی باتیں ہیں۔ ان کی فطرت ایسی مسخ ہوچکی ہے کہ اگر انہیں بفرض محال پھر دنیا میں بھیجاجائے تب بھی وہی کرتوت کریں گے جو وہ پہلے کرتے رہے۔ اس وقت جو یہ اتنے بھلے مانس بنے ہوئے ہیں تو اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ اب ان کے راز افشاء کردیئے گئے اور ان کی جھوٹی قسموں کی حقیقت بھی کھل گئی اب اس معذرت کے سوا ان کو کوئی چارہ کار نظر نہیں آیا اس لئے اس طرح کی بات بنا لی اور عاجزی وزاری کرنے لگے ۔ انہوں نے دنیا کی عدالتوں میں دھکے کھا کھا کر ، رشوتیں دے دے کر ، جھوٹی گواہیاں دلوا دلوا کر ، کمرہ عدالت میں جج کے سامنے مگر مچھ کی طرح آنسو بہا بہا کر یہ سارے داؤ سیکھے ہوئے ہیں اس لئے یہاں بھی اسی طرح کی چالاکیاں کر رہے ہیں۔
Ayah 6:29

وَ قَالُوْۤا اِنْ هِیَ اِلَّا حَیَاتُنَا الدُّنْیَا وَ مَا نَحْنُ بِمَبْعُوْثِیْنَ Open ayah 6:29 in the Quran reader

اور انہوں نے کہا کہ زندگی اس کے سوا کچھ نہیں ہے کہ یہی دنیا کی زندگی ہے اور ہمیں پھر اٹھنا نہیں ہے

آج ہاتھ جوڑنے والے کل تک تو اس دن کو تسلیم نہیں کرتے تھے : 44: قوم کے سرداروں کا حافظہ بڑا کمزور ہوتا ہے اگر یہ بات درست نہیں تو پھر وہ پر لے درجے کے ڈھیٹ ہوتے ہیں اور ان کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کے منہ پر ان کو کوئی ڈھیٹ نہیں کہے گا اور پیٹھ پیچھے جو ہو سو ہوتا رہے اور دراصل یہی ان کے ڈھیٹ ہونے کی نشانی ہے ۔ انبیائے کرام کی زندگیوں کا مطالعہ کرو تم دیکھو گے ہر پیغمبر کی مخالفت کے لئے اٹھنے والے اصل لوگ وہ تھے جنہیں قوم کی سرداری حاصل تھی ۔ ان سب کی مشترک گمراہی یہ تھی کہ وہ آخرت کے منکر تھے اس لئے خدا کے سامنے کسی ذمہ داری اور جواب دہی کا انہیں اندیشہ نہ تھا اور اسی لئے وہ دنیا کی اس زندگی پر فریفتہ تھے اور مادی فلاح و بہبود سے بلند تر کسی قدر کے قائل نہ تھے ۔ پھر اس گمراہی میں جس چیز نے ان کو بالکل ہی غرق کردیا تھا وہ ان کی خوشحالی اور آسودگی تھی جسے وہ اپنے برحق ہونے کی دلیل سمجھتے تھے اور یہ ماننے کے لئے تیار نہ تھے کہ وہ عقیدہ ، وہ نظام اخلاق اور وہ طرززندگی غلط بھی ہو سکتا ہے جس پر چل کرا نہیں دنیا میں یہ کچھ کامیابیاں نصیب ہو رہی ہیں۔ انسانی تاریخ بار بار اس حقیقت کو دہراتی رہی ہے کہ دعوت حق کی مخالفت کرنے والے ہمیشہ انہیں تین خصوصیات کے حامل لوگ ہوتے ہیں اور یہی اس وقت کا منظر بھی تھا جب کہ نبی اعظم و آخر ﷺ مکہ میں اصلاح کی سعی فرما رہے تھے ۔ قرآن کریم نے دوسری جگہ ان کی اس حالت کو اس طرح بیان فرمایا ہے کہ : ؟ ؟ ؟ ” اگر تم نے اپنے ہی جیسے آدمی کی اطاعت کرلی (جو تمہاری طرح کھاتا پیتا ہے) تو بس سمجھ لو کہ تم تباہ ہوئے۔ تم سنتے ہو یہ کیا کہتا ہے ؟ یہ تمہیں امید دلاتا ہے کہ جب مرنے کے بعد محض مٹی اور ہڈیوں کا چورا ہوجائے گا تو پھر تمہیں موت سے نکالا جائے گا۔ کیسی [ 1 ] انہونی بات ہے ، کیسی انہونی بات ہے جس کی تمہیں توقع دلاتا ہے۔ زندگی تو بس یہی زندگی ہے جو دنیا میں ہم بسر کرتے ہیں ، یہیں مرتے ہیں یہیں جیتے ہیں ، ایسا کبھی ہونے والا نہیں کہ مر کر پھر جی اٹھیں۔ کچھ نہیں یہ ایک مفتری آدمی ہے جس نے اللہ کے نام سے جھوٹ موٹ بات بنا دی ، ہم کبھی اس پر یقین کرنے والے نہیں۔ “ (المومنون 23 : 34 تا 38) اور یہی مضمون سورة الجاثیہ کی آیت 24 میں بیان ہوا اور یہی بات انہوں نے اس جگہ بیان کی کہ ” زندگی اس کے سوا کچھ نہیں ہے کہ یہی دنیا کی زندگی ہے اور ہمیں پھر اٹھنا نہیں ہے۔ “
Ayah 6:30

وَ لَوْ تَرٰۤى اِذْ وُقِفُوْا عَلٰى رَبِّهِمْ١ؕ قَالَ اَلَیْسَ هٰذَا بِالْحَقِّ١ؕ قَالُوْا بَلٰى وَ رَبِّنَا١ؕ قَالَ فَذُوْقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْفُرُوْنَ۠ Open ayah 6:30 in the Quran reader

اور تو تعجب کرے ! اگر انہیں اس حالت میں دیکھے جب یہ اپنے پروردگار کے سامنے کھڑے کیے جائیں گے اس وقت اللہ ان سے پوچھے گا کیا یہ حقیقت نہیں ہے ؟ یہ کہیں گے ہاں ! ہمیں اپنے پروردگار کی قسم ، اس پر اللہ فرمائے گا تم جو انکار کرتے رہے ہو تو اب اس کی پاداش میں عذاب کا مزہ چکھ لو

ان کی حالت دیدنی ہوگی جب وہ اس دن رب جبار کے سامنے کھڑے ہوں گے : 45: قرآن کریم کے بیان کردہ بنیادی اصول تین ہیں توحید ، رسالت اور آخرت میں دوبارہ زندہ ہونے کا یقین ۔ باقی سارے عقائد انہی بنیادی اصولوں کے گرد گھومتے ہیں۔ اس دنیا کے باسیوں کو سب سے زیادہ تعجب اس تیسرے اصول پر ہوتا ہے کہ یہ دوبارہ جی اٹھنا کیا ہے ؟ ان کو کم ہی یقین آتا ہے کہ یہ بات صحیح ہے ۔ جو لوگ زبان سے اس کے اقراری ہیں وہ بھی صرف زبان کے اقرار تک ہی اس کو سمجھتے ہیں اس سے زیادہ کچھ نہیں۔ الاماشاء اللہ۔ اور یہی تیسرا اصول وہ ہے جو انسان کو اس کی اپنی حقیقت اور مقصد زندگی سے روشناس کر کے اس کی زندگی میں انقلاب پیدا کرتا ہے اور اس کو ایک سیدھی اور صاف راہ پر کھڑا کردیتا ہے کیونکہ اس میں جزاء و سزاء کا یقین انسان کے ہر عمل کا رخ ایک خاص طرف پھیر دیتا ہے اور پھر جب پہلے دونوں اصول بھی اس تیسرے اصول کے ساتھ ممد ومعاون ہوتے ہیں اسلئے کہ یہ اس پہلے اصول کے ساتھ لازم و ملزوم ہیں توتینون اصول انسان کو اس صحیح راستہ پر گامزن کردیتے ہیں پھر اس طرح وہ زندگی کی صحیح لائن پر رواں دواں ہوجاتا ہے ۔ جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا ان تینوں پر اور خصوصاً عقیدہ آخرت پر کم ہی لوگوں کو یقین حاصل ہوتا ہے اور دنیا کے بڑے لوگوں کو تو بہت ہی کم یہی وجہ ہے کہ انبیائے کرام کے مخالفین و معاندین بھی یہی لوگ ہوئے ہیں اور آج بھی انہی لوگوں کے باعث سارا بگاڑ ہے۔ فرمایا ” تو تعجب کرے ! اگر انہیں اس حالت میں دیکھے جب یہ اپنے پروردگار کے سامنے کھڑے ہوں گے یالا کھڑے کئے جائیں گے اور وہ ان سے پوچھے گا کہ کیا یہ دن حققت نہیں ہے ۔ “ جب کہ ان کی کج روی اور غلطی کاری کے لئے سب سے بڑا سبب یہ تھا کہ انہیں قیامت ، جزاء و سزاء اور جنت دوزخ پر یقین ہی نہ تھا۔ ان کا خیال تو بڑا پختہ تھا کہ زندگی بس یہی دنیاوی زندگی ہے اور اس کے بعد کوئی اور زندگی نہیں جس میں اپنے اعمال کے نتائج سے دوچار ہونا پڑے گا وہ اس انہماک میں تھے کہ اچانک انکی آنکھیں بند ہوگئیں اور پھر جب دوبارہ آنکھیں کھلیں تو انہوں نے اپنے آپ کو اس خاص دن کی ہولنا کیوں میں اللہ تعالیٰ کے سامنے کھڑا پایا تو کیا وہ حالت ان کی دیدنی نہیں ہوگی ؟ کیوں نہیں ان کی دنیا اندھیر ہوگئی اور جس چیز کا ان کو مطلق یقین نہیں تھا اس سے وہ دو چار ہوگئے اور ایسی حالت میں جب ایک دم ان پر یہ سوال کیا جائے گا کہ اب بتاؤ قیامت برپا ہونے کی خبر صحیح تھی یا نہیں ؟ سچ بتاؤ کیا وہ ہو اس باختہ نہیں ہوں گے ؟ وہ سراسیمگی کی حالت میں سنبھل کر جواب دیں گے ہاں ! رب کریم کی قسم : 46: ایک مدت تک جس چیز کا یقین نہ آیا جب کہ اس کی یقین دہانی کرانے والوں نے اپنی ساری کوشش کی کہ ان کے کانوں میں یہ بات ڈالنے کی ہر ممکن سعی کی۔ ان کو انفرادی طور پر سمجھایا ، انکی مجلسوں میں جا جا کر انکی تفہیم کرائی لیکن یہ سب کچھ بےنتیجہ رہا لیکن جب آنکھیں بند ہو کر کھلیں اور ان سے سوال کیا ہی گیا تھا کہ وہ بول اٹھے ہاں ! رب کریم کی قسم یہ تو ایک امر واقعہ ہے غور کرو کہ حالات بدلے تو انکی ساری حالت بھی ساتھ ہی بدل گئی کہ نہیں ؟ لیکن ان کی اس بدلی ہوئی حالت نے انکو کوئی فائدہ دیا ؟ حکم ہوگا پھر اب اس دن کے انکار کی پاداش میں عذاب کا مزہ چکھو اور تمہاری اس ہاں کا تم کو کچھ فائدہ نہیں ہوگا اس لئے کہ دار الجزاء ہے دارا لعمل نہیں۔
Ayah 6:31

قَدْ خَسِرَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِلِقَآءِ اللّٰهِ١ؕ حَتّٰۤى اِذَا جَآءَتْهُمُ السَّاعَةُ بَغْتَةً قَالُوْا یٰحَسْرَتَنَا عَلٰى مَا فَرَّطْنَا فِیْهَا١ۙ وَ هُمْ یَحْمِلُوْنَ اَوْزَارَهُمْ عَلٰى ظُهُوْرِهِمْ١ؕ اَلَا سَآءَ مَا یَزِرُوْنَ Open ayah 6:31 in the Quran reader

یقینا وہ لوگ نقصان و تباہی میں پڑے جنہوں نے اللہ کی ملاقات کو جھٹلایا یہانتک کہ جب گھڑی اچانک ان پر آجائے گی تو اس وقت کہیں گے افسوس اس پر جو کچھ ہم سے اس بارے میں تقصیر ہوئی وہ اس وقت اپنے گناہوں کا بوجھ پیٹھوں پر اٹھائے ہوں گے سو دیکھو کیا ہی برا بوجھ ہوا جو یہ لاد رہے ہیں

اللہ کی ملاقات کو جھٹلانے والے اس تباہی میں جاگرے جس سے نکلنے کی کوئی صورت نہیں : 47: غفلت کی بھی کوئی حد ہوتی ہے اور فرض شناسی کی عادت انسان کو اس غفلت سے جلد نکال لیتی ہے لیکن ایک نافرض شناس کبھی حالت غفلت سے نہیں نکل سکتا۔ مثلاً ایک نافرض شناس طالب علم جو اس غلط فہمی میں مبتلا ہو کہ اس کا امتحان نہیں لیا جائے گا اور اپنا سارا تعلیمی سال کھیل کود اور عیش و عشرت کی نذر کر دے پھر اچانک جب اسے بتایا جائے کہ میاں صاجزادے ! کل آپ کا امتحان ہے تیار ہوجاؤ تو یہ خبر اس کے خرمن ہوش پر بجلی بن کر کو ندے گی اور سال بھر کی غفلتوں پر اپنے آپ کو کو سنے لگے گا بس اس سے آپ اندازہ کرلیجئے اس سراسیمگی اور پریشانی کا جس سے ایسا شخص دو چار ہوگا جو یہ سمجھتے ہوئے ساری عمر یہ یقین رکھے کہ قیامت کا دن آئے گا ہی نہیں اور پھر اسے اچانک پکڑ کر اپنے گذشتہ اعمال کی حساب دہی کے لئے بارگاہ رب ذوالجلال میں کھڑا کردیا جائے۔ ” اللہ کی ملاقات کو جھٹلانے “ کا مطلب بھی سمجھ میں آگیا کہ آخرت ہی کو جھٹلانا ہے۔ کیا ہی برا بوجھ ہے جو وہ اپنی پیٹھوں پر لادے ہوئے ہوں گے : 48: وہ عادی مجرم جو جرم کرتے کبھی پکڑا نہ گیا ہو بلکہ کسی کو معلوم تک نہ ہو کہ یہ شخص بھی کسی غیر قانونی فعل کا مجرم ہے اور پھر اچانک وہ پکڑ لیا جائے اور ہتھکڑی لگا کر اس کو پھرایا جائے تو اس وقت جو اس کی حالت ہوگی اس پر ذرا غور کرو کہ وہ کس بوجھ کے نیچے دب کر رہ جائے گا اور وہ شرمندگی اور ندامت کے بحر زخار میں کس طرح ڈوب جائے گا۔ بس یہی مطلب اس بوجھ سے ہے جوان لوگوں کی پیٹھ پر لادا ہوگا جو اس دن کی ملاقات سے بالکل انکاری تھے اور ان کو اس بات کا کبھی یقین نہیں تھا کہ اس دنیا کے اعمال کی ہم سے کسی اور جگہ بھی باز پرس ہوگی۔ پھر جب وہ اس دن حاضر کر لئے جائیں گے اور ان کے سارے اعمال کی فلم ان کو دکھائی جائے گی اور وہ ان حرکتوں کو اپنی آنکھوں سے دیکھیں گے تو یقیناً احساس گناہ اور ندامت ان پر مسلط ہوگی اور فرط ندامت سے ان کی یہ حالت ہوگی جیسے کوئی بھاری بھر کم بوجھ ان کی پیٹھوں پر لاد دیا گیا ہو اور وہ اس کی نگرانی کے نیچے دبے چلے جا رہے ہوں۔ مر تو وہ بھی رہے ہوں گے اور جان یوں تو ان کی بھی نکلے گی جو صرف اپنے ہی بوجھوں میں دبے ہوئے ہوں گے لیکن ان کی حالت تو کیا ہی بےبسی کی حالت ہوگی جن کو اپنے بوجھوں کے ساتھ دوسروں کے بوجھ اٹھانے کا بھی سامنا ہوگا ۔ جن کا ذکر آگے اس سورت میں آنے والا ہے۔ احادیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ” خوب سن لو میں ایسی حالت میں تم کو نہ پاؤں کہ تم میں سے بعض لوگ بلبلاتے اونٹ کو اپنی گردن پر اٹھائے میرے سامنے آئیں اور کہیں یا رسول اللہ ﷺ دہائی ہے اور میں جواب دوں کہ آج اللہ کے سامنے میرا کچھ قابو نہیں میں تجھے دنیا میں پیغام پہنچا چکا۔ “ اس طرح بعض احادیث میں ہنہناتے گھوڑے اور منمناتی بکری اور سونے اور چاندی کے ڈھیروں کا ذکر بھی موجود ہے یہ سب وہی حقیقتیں ہیں جن کا ذکر اوپر بیان کردیا گیا اور نبی اعظم و آخر ﷺ کے ارشادات انہی آیات قرآن کریم کی تفسیر ہیں۔
Ayah 6:32

وَ مَا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَاۤ اِلَّا لَعِبٌ وَّ لَهْوٌ١ؕ وَ لَلدَّارُ الْاٰخِرَةُ خَیْرٌ لِّلَّذِیْنَ یَتَّقُوْنَ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ Open ayah 6:32 in the Quran reader

اور دنیا کی زندگی تو کچھ نہیں ہے مگر ایک عارضی چیز ہے جو متقی ہیں ان کے لیے آخرت ہی کا گھر بہتر ہے کیا تم نہیں سمجھتے ؟

دنیا کا گھر لعب و لہو کے سوا کچھ نہیں اور آخرت کا گھر ہی اصل گھر ہے : 49: اگر لوگ اس حقیقت کو جان جائیں کہ دنیا کی موجودہ زندگی صرف ایک مہلت امتحان ہے اور انسان کے لئے اصل زندگی جو ہمیشہ ہمیشہ رہنے والی ہے آخرت کی زندگی ہے تو وہ یہاں امتحان کی مدت کو اس لہو ولہب میں ضائع کرنے کے بجائے اس کا ایک ایک لمحہ ان کاموں میں استعمال کرتے جو اس ابدی زندگی میں بہتر نتائج پیدا کرنے والے ہوں۔ دنیا کو کھیل تماشا کہہ کر آگے مت گزرو اس لئے کہ دنیا کی زندگی ایک بہت بڑی نعمت ہے اور نہایت ہی قیمتی چیز جس میں رہ کر ہی آخرت کا عظیم الشان سودا خریدا جاسکتا ہے ۔ اسلام میں اس زندگی کو بڑی اہمیت حاصل ہے۔ غور کرو جس کو یہ زندگی عطا کی گئی ہے اگر اس نے کسی وجہ سے اس زندگی کو ختم کرنے کی کوشش کی یا موت کی دعا کی تو اس کو سختی سے منع فرمایا اور دوزخ کا ایندھن بنائے جانے کی خبرسنائی کیوں ؟ اس لئے کہ اس نے اللہ تعالیٰ کی اس بھاری نعمت کی ناشکری کی۔ قرآن کریم نے جو اس کو ” لعب ولہو “ سے بیان کیا تو لوگوں نے اس کا مفہوم صحیح نہ سمجھا ” لعب ولعو “ کے اصل معنی ہیں ” عارضی چیز “ جس میں ” ہمیشگی “ کا مفہوم نہ پایا جائے ۔ مطلب یہ ہے کہ دنیا کی زندگی ایک عارضی اور بےثباتی چیز ہے جس کو ہماری زبان میں اس طرح ادا کیا جاتا ہے کہ ” سانس آیا آیا نہ آیا نہ آیا “ اس کو کسی وقت ختم ہوجانا ہے ابھی یا سو سال بعد۔ ایک تو اس کا ختم ہونا یقینی ہے اور دوسرا اس کے ختم ہونے کا وقت کسی کو معلوم بھی نہیں ہے خواہ وہ کون ہو۔ ” کھیل اور تماشا “ چونکہ ہماری زبان میں ایک عارضی چیز ہی کو کہا جاتا ہے اس لئے اس کا ترجمہ ” کھیل اور تماشا “ بشرطیکہ اس سے عارضی ہونے کا مفہوم سمجھا جائے۔ ورنہ انبیائے کرام ، اولیائے عظام اور اللہ کے نیک بندے جنہوں نے اس عارضی زندگی کے زندوں کو درست کرنے ، ان کو بےمقصد زندگی گزارنے سے منع کرنے اور بامقصد زندگی گزارنے کے گر سکھانے میں اپنی زندگیوں کو صرف کیا وہ کوئی کھیل نہیں کھیلتے رہے بلکہ انہوں نے نہایت ہی بامقصد زندگی گزار کر اللہ تعالیٰ کے اس انجام و احسان کا حق ادا کردیا۔ انسانوں کے لئے آخرت کا بیج بونے کے لئے یہی زندگی اور یہی مقام ہے جس کو دنیا کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے اگر یہ اتنی بےکار شے ہوتی جتنی اس کو بیان کیا جاتا ہے تو آخرت میں لے جانے کے لئے اس میں داخل کرنا کیوں ضروری قرار دیا جاتا ۔ حقیقت یہ ہے کہ آخر انسان کے لئے اعتدال پر رہ کر کام کرنا اور اعتدال پر رہ کر سوچنا بہت مشکل ہوتا ہے وہ ” آر “ کے ہوتے ہیں یا ” پار “ کے ۔ اگر دنیا کے کاموں میں مصروف ہوئے تو ایسے جیسے آخرت کوئی چیز نہیں اور آخرت کا خیال آیا تو سارے کپڑے اتاردیئے۔ کیوں ؟ اسلئے کہ یہ ہمارے جسم کو لگ کر آلودہ گناہ نہ کردیں اور اس طرح وہ اس آلودگی سے بچتے بچتے گناہوں کے اس بحر ذخار میں ڈوب کر رہ جاتے ہیں الا ماشاء اللہ۔ یاد رہے کہ یہ راہ اعتدال نہیں ہے بلکہ اس کو افراط وتفریط کے نام سے پکارا جاتا ہے اور یہ وہ مرض ہے جس نے اس سے پہلے دنیا کی اکثر قوموں اور اکثر انسانوں کو تباہ و برباد کیا اور بدقسمتی سے آج یہی مرض ہماری قوم کو لاحق ہے ۔ جو اس بازار کے ہیں وہ اس بازار والوں کو نشانہ تنقید بنائے ہوئے ہیں اور جو اس بازار کے ہی ہیں وہ اس بازار والوں کا تمسخر اڑا رہے ہیں ۔ جس کا نتیجہ یہ ہے کہ راستے بلاشبہ دونوں کے الگ الگ ہیں لیکن جا ایک ہی مقام کور ہے ہیں جب سنگھم آئے گا تو یہ راز کھل جائے گا۔ ” لعب “ وہی ہے جس سے لعاب بنا ہے وہ رال جو منہ سے ٹپک جاتی ہے اور ” رال ٹپکنا “ محاورہ بھی ہے وہ کام جو دوسروں کی دیکھا دیکھی ہوجائے اور اس کے کرنے کا کوئی خاص مقصد نہ ہو اور ” لہو “ وہ چیز جو ضروری کام سے روک کر غیر ضروری کام میں مشغول کر دے یا ریت کا وہ ٹیلا جس کو ہوائیں اڑا اڑا کر ادھر سے ادھر کردیں اور اس کو ایک جگہ ٹکنا محال ہو۔ امید ہے کہ ان شاء اللہ اب بات سمجھ میں آجائے گی ۔ اچھا زیر نظر آیت کا ترجمہ ایک بار پھر پڑھ لو فرمایا ” اور دنیا کی زندگی تو کچھ نہیں ہے مگر ایک عارضی چیز ہے جو متقی ہیں ان کے لئے آخرت ہی کا گھر بہتر کیا تم نہیں سمجھتے ؟ “ اور دنیا کی زندگی بامقصد گزارنے والے ہی لوگوں کو ” متقی “ کہا جاتا ہے ۔ دعاکرو کہ اے اللہ ! ہماری دنیا کو بھی سنوار دے اور ہماری آخرت کو بھی بہتر فرما کہ دنیا کے سنوارنے والا بھی تو ہے اور آخرت کو بہتر بنانے والا بھی صرف اور صرف تو۔ اس لئے کہ تیری ہی توفیق سے ایسا ہو سکتا ہے۔
Ayah 6:33

قَدْ نَعْلَمُ اِنَّهٗ لَیَحْزُنُكَ الَّذِیْ یَقُوْلُوْنَ فَاِنَّهُمْ لَا یُكَذِّبُوْنَكَ وَ لٰكِنَّ الظّٰلِمِیْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ یَجْحَدُوْنَ Open ayah 6:33 in the Quran reader

ہم جانتے ہیں کہ یہ لوگ جیسی کچھ باتیں کرتے ہیں وہ تمہارے لیے ملال خاطر کا موجب ہوتی ہیں یہ دراصل تمہیں نہیں جھٹلاتے بلکہ یہ ظالم جان بوجھ کر اللہ کی آیتوں کو جھٹلا رہے ہیں

جن لوگوں کی باتیں آپ کے لیے ملال خاطر ہیں وہ ہمارے علم میں ہیں : 50: دنیا کی پرانی گمراہیوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ کسی انسان کی بات سنے بغیر اس کے متعلق ایک خیال قائم کرلینا کہ وہ ایسا ویسا ہے ۔ اس خیال کا مدار کیا ہے ؟ صرف اور صرف لوگوں کی باتیں کہ فلاں نے اسکو ” نیک “ کہا ہے یا فلاں نے اس کو ” برا “ کہا ہے اور یہ گمراہی آج اتنی ہی عام ہے جتنی کہ اس وقت تھی۔ کیوں ؟ اس لئے کہ ہماری اکثریت تو سنی مسلمان ہے اور وہ سنت کا مفہوم نہ سمجھنے کی وجہ سے یہی سمجھتے ہیں کہ جس بات کو ہم نے اپنے مذہبی پیشواؤں سے سن لیا بس وہ ہمارے لئے حرف آخر ہے کہ ہماری فکر کے بہت بڑے عالم ، مفتی اور پیشوا مانے گئے ہیں اور یہی وہ بات ہے جس کو نبی اعظم و آخر ﷺ کی زبان اقدس سے شرک قرار دیا گیا۔ رسول اللہ ﷺ کے متعلق روسائے مکہ نے یہ بات مشہور کردی کہ محمد ﷺ کو جنون ہوگیا۔ وہ ساحر ہے۔ اس پر کسی نے جادو کردیا ہے۔ وہ مجنون ہے ۔ اس کو ہمارے بزرگوں میں سے کسی کی مار لگ گئی ہے۔ اس کے قریب نہ جانا اس پر جنون کا سایہ ہے ۔ یہ اور اس کی بیشمار متضاد باتیں آپ کے متعلق بیان کردی گئیں جس کا اثر یہ ہوا کہ تیرہ سال تک مکہ میں رسول اللہ ﷺ پر نازل کیا گیا کلام کسی کو سننے ہی نہ دیا گیا ۔ ان باتوں سے دل تنگ پڑنا ایک فطری امر ہے۔ اللہ کریم کی طرف سے آپ ﷺ کو تسلی دی جا رہی ہے کہ اے ہمارے رسول ! ﷺ ہم جانتے ہیں کہ یہ لوگ جیسی کچھ باتیں کرتے ہیں اور وہ جس طرح تمہارے لئے ملال خاطر ہوتے ہیں۔ “ قرآن کریم یہ مضمون بار بار دہرایا گیا جیسے سورة الحجر کی آیت 6 (الشعراء : 27) (الصفت : 26) (الدخان : 14) (الذاریات : 39 ، 52) (الطور : 29) (القمر : 9) (القلم : 51) (التکویر : 22) وغیرہ میں۔ یہ آپ ﷺ کو نہیں جھٹلاتے یہ ظالم اللہ کی آیتوں سے انکاری ہیں : 51: اس فقرہ نے نبی اعظم و آخر ﷺ کے سارے غم غلط کردیئے جب اس احکم الحاکمین کی طرف سے یہ اعلان جاری ہوگیا کہ ’۔ اے رسول ! ﷺ یہ دراصل تمہیں نہیں جھٹلاتے بلکہ یہ ظالم جان بوجھ کر اللہ کی آیتوں کو جھٹلا رہے ہیں۔ “ کیا ہی تسلی ہے جو اللہ نے آپ ﷺ کو دی ہے اور کیا ہی حقیقت ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے کھول کر رکھ دیا اور دو ہی لفظوں میں آپ ﷺ کی گذشتہ ساری زندگی کی وضاحت فرما دی۔ آپ ﷺ تو وہی ہیں میرے رسول ! ﷺ جس کو یہ لوگ ” الصادق “ اور ” الامین “ کے لقب سے یاد کیا کرتے تھے اور برسوں انہوں نے آپ نے آپ ﷺ کو صادق اور امین جانا اور بیان کیا۔ پھر کیا ہوا کہ آپ ﷺ کو انہوں نے یہ کچھ کہنا شروع کردیا جس سے آپ ﷺ کو بھی ملال آنا شروع ہوا۔ آخر وہ شے ہے جس نے ان کی وہ حالت تبدیل کردی ؟ فرمایا وہ ہماری آیات کی بارش ہی تو ہے۔ پھر انہوں نے آپ کو جھٹلانا ہوتا تو اس وقت جھٹلاتے ۔ جب آپ محمد بن عبد اللہ تھے لنکم ان کا جھٹلانا اس وقت ہوا جب آپ محمد رسول اللہ ہوگئے اس لئے انہوں نے آپ (علیہ السلام) کو نہیں جھٹلایا بلکہ اس کلام کو جھٹلایا جو ہم نے آپ پر نازل کیا۔ حدیث میں آتا ہے کہ ایک مرتبہ کفار قریش کے دو سردار خنس بن شریق اور عمرو بن ہشام جس کو اسلام نے ابو جہل کے نام سے معروف کرایا۔ اخنس نے عمرو سے پوچھا کہ اے ابو الحکم یہ تنہائی کا موقع ہے میرے اور تمہارے کلام کو کوئی تیسرا نہیں سن رہا ہے مجھے محمد بن عبد اللہ ﷺ کے متعلق اپنا خیال صحیح بتلاؤ کہ ان کو سچا سمجھتے ہو یا جھوٹا ؟ عمرو بن ہشام نے اللہ کی قسم کھا کر کہا کہ بلاشبہ محمد ﷺ سچے ہیں انہوں نے عمر بھر کبھی جھوٹ نہیں بولا لیکن بات یہ ہے کہ قبیلہ قریش کی ایک شاخ بنو قصی میں ساری خوبیاں اور کمالات جمع ہوجائیں اور باقی قریش خالی رہ جائیں اس کو ہم برداشت نہیں کرسکتے۔ جھنڈا بنی قصی کے ہاتھ میں ہے۔ حرم میں حجاج کو پانی پلانے کی اہم خدمت ان کے ہاتھ میں ہے ۔ بیت اللہ کی حفاظت و نگرانی اور اس کی کنجی ان کے ہاتھ میں ہے اب اگر نبوت بھی ہم انہی کے اندر تسلیم کرلیں تو باقی قریش کے پاس کیا رہ جائے گا۔ (بیضاوی) اور ایک روایت میں ہے کہ عمرو بن ہشام نے خود ایک دفعہ نبی اعظم و آخر ﷺ کو کہا کہ ہمیں آپ ﷺ پر جھوٹ کا کوئی گمان نہیں اور نہ ہم آپ ﷺ کی تکذیب کرتے ہیں ، ہاں ! ہم اس کتاب یا دین کی تکذیب کرتے ہیں جس کو آپ ﷺ لائے ہیں۔ (ناجیہ بن کعب) کتاب اور دین کو جھٹلانا بھی کسی دلیل کے تحت نہیں بلکہ اس کا سبب یہ ہے کہ اس سے ان کے باپ دادوں کی تکذیب لازم آتی تھی اور باپ دادا کو جھٹلانا اس وقت ان کے بس میں نہ تھا جس طرح آج کل بھی ہماری اکثریت کے بس میں یہ بات نہیں ہے اور عملی جھٹلانا زبانی جھٹلانے سے بھی زیادہ مشکل ہوتا ہے جیسے عملی تصدیق زبانی تصدیق سے زیادہ مشکل ہوتی ہے۔
Ayah 6:34

وَ لَقَدْ كُذِّبَتْ رُسُلٌ مِّنْ قَبْلِكَ فَصَبَرُوْا عَلٰى مَا كُذِّبُوْا وَ اُوْذُوْا حَتّٰۤى اَتٰىهُمْ نَصْرُنَا١ۚ وَ لَا مُبَدِّلَ لِكَلِمٰتِ اللّٰهِ١ۚ وَ لَقَدْ جَآءَكَ مِنْ نَّبَاِی الْمُرْسَلِیْنَ Open ayah 6:34 in the Quran reader

اور دیکھو یہ واقعہ ہے کہ تم سے پہلے بھی اللہ کے رسول جھٹلائے گئے سو انہوں نے لوگوں کے جھٹلانے اور دکھ دینے پر صبر کیا یہاں تک کہ ہماری مدد آپہنچی اور کوئی نہیں جو اس کی باتوں کو بدل دینے والا ہو اور رسولوں کی خبروں میں بہت سی چیزیں تو تم تک پہنچ ہی چکی ہیں

آپ ﷺ سے پہلے جھٹلائے گئے رسولوں کی ہم نے مدد کی تو آپ ﷺ کی کیوں نہیں کریں گے ؟ : 52: فرمایا کہ ہمارے اصول و قانون تواتنے پختہ ہیں کہ وہ کبھی نہیں بدلا کرتے۔ نہ ہم بدلتے ہیں اور نہ کسی ہیکڑ کو بدلنے دیتے ہیں ۔ ہمارا اصول اس معاملہ میں ہمیشہ یہ رہا ہے کہ ہمارے بھیجے گیوں کو جب جھٹلایا گیا تو ہم نے ان کے صبر کو آزمایا اور ابھی ان کے صبر کا پیالہ لبریز نہیں ہوا تھا کہ ہماری مدد آپہنچی ہے۔ یاد رہے کہ سنت اللہ یہی ہے کہ حق و باطل کی کشمکش جاری رہے۔ مصائب کے پہاڑ حق کے علمبرداروں پر ٹوٹتے رہیں اور وہ صبر واولوالعزمی سے ان کو برداشت کرتے رہیں ۔ حوادثات کے طوفان میں بھی شمع توحید کو ہر وقت وہ روشن رکھیں۔ بلاشبہ آپ ﷺ کو بھی کفار کے کفر وعناد سے بڑی تکلیف ہوتی ہے ۔ آپ ﷺ کو رحمت اللعالمین ہونے کے باعث یہ بات گوارا بھی نہیں کہ لوگ کفر و گمراہی کے اندھیروں میں بھٹکتے پھریں لیکن اللہ کا قانون اپنی جگہ اتنااٹل ہے کہ اس کو بدلا نہیں جائے گا۔ بس آپ ﷺ بھی کفار کی اذیت رسانیوں پر صبر و تحمل ہی سے کام لیں جیسے آپ ﷺ سے پہلے انبیائے کرام نے اپنے اپنے وقتوں میں صبر و تحمل سے کام لیا کفار نے ان کو ستانے میں بھی کوئی کسر اٹھانہ رکھی۔ وقت آنے پر جس کو اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا آپ ﷺ کی مدد بھی کی جائے گی اور آپ ﷺ کے مخالفین کو ٹھکانے لگا دیا جائے گا۔ دیکھو آپ ﷺ سے پہلے انبیائے کرام نے جب تبلیغ اور صبر کا حق ادا کردیا اور کفار کی اذیت رسانیوں اور تعصب کی حد ہوگئی تو اللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت کے وعدہ کے پورا ہونے سے نہ روک سکا اسی طرح آپ ﷺ کے ساتھ بھی ہمارا وعدہ ہے کہ آپ ﷺ کو کامیاب اور آپ (علیہ السلام) کے مخالفین کو ذلیل کرنا ہے اور یہ وعدہ بھی یقیناً پورا ہو کر رہے گا اور پھر لوگوں نے دیکھا کہ جب اس وعدہ کے پورے ہونے کا وقت آیا تو رسول اللہ ﷺ کی کامیابی کو کتنی دیر لگی ؟ کچھ بھی نہیں کہ گنتی کے چند سالوں میں پورا ملک عرب تہ وبالا کر کے رکھ دیا گیا اور لوگوں نے اسلام کے دامن میں ٹڈی دل کی طرح داخل ہو کر پناہ لی اور مخالفین و معاندین ہوا ہوگئے اور آج بھی نصرت الٰہی کا وعدہ سچے مسلمانوں کے ساتھ قرآن کریم کے صفحات میں موجود ہے بشرطیکہ مسلمان بھی سچے مسلمان بن کر صبر و آزمائش کی گھڑیوں میں پورا اترنے کی کوشش کریں۔ اس وقت حالت بلاشبہ دگرگوں ہے لیکن ہمارا ایمان ہے کہ وہ وقت یقیناً آئے گا اگرچہ ہمیں معلوم نہیں تاہم وہ علم الٰہی میں موجود ہے اور وہی جانتا ہے کہ اس کی شرطوں کو پورا کرنے والے کب پورا کریں گے کہ موعود نصرت ان کو پہنچ جائے۔ اللہ کی باتوں کو کوئی نہیں بدل سکتا اور انبیائے کرام کی خبریں آپ ﷺ بھی سن چکے : 53: ” لا مبدل لکلمب اللہ “ اللہ کی باتوں کو کوئی بدل نہیں سکتا۔ کلمہ کیا ہے ؟ بچے بھی اس کو سمجھتے ہیں اور خصوصاً جب اسلامی مدارس میں کسی بچہ کو داخل کیا جاتا ہے اور اس کے ہاتھ میں صرف کا کوئی قاعدہ دیا جاتا ہے تو پہلی چیز جو اس کو بتائی جاتی ہے وہ یہی ” کلمہ “ ہے اور مدرس بچے سے یوں گویا ہوتا ہے کہ ” جب ہم کوئی بات کہتے ہیں تو اس میں کئی لفظ ہوتے ہیں کبھی زیادہ کبھی کم مثلاً ” ذھب حامد الی المسجد “ اس میں چار لفظ ہیں ذھب ، حامد ، الی ، المسجد۔ ان میں سے ہر ایک کے ایک معنی ہیں بس عربی قواعد میں اس کو ” کلمہ “ کہتے ہیں۔ اسی طرح ” کلمت اللہ “ وہ باتیں ہوں گی جو اللہ تعالیٰ نے کسی نبی (علیہ السلام) کے ذریعے سے لوگوں کو بتائیں اور لوگ بھی ان کے معنی سمجھ گئے یا کم از کم یہ کہ ان کے معنی ہوں ” مبدل “ وہ بات جو بدلی جاسکے اور ” لا مبدل “ وہ بات جو بدلی نہ جائے۔ کلمت جمع ہے کلمہ کی یعنی باتیں ۔ پورے فقرہ کا مطلب ہوا کہ ” اللہ کی باتوں کو کوئی بدل نہیں سکتا “ یا ” اللہ اپنی باتوں کو نہیں بدلتا “ پہلا ترجمہ تو ساری دنیا کے لوگ کرتے ہیں اور دوسرے معنی ” اللہ اپنی باتوں کو نہیں بدلتا “ کئے جائیں تو ان سب لوگوں کے سردرد شروع ہوجاتی ہے کہ یہ معنی تو آج تک کسی نے نہیں کئے اور یہ بھی کہ پہلے معنوں میں یہ بات موجود ہے کہ اللہ کی باتوں کو کوئی نہیں بدل سکتا لیکن وہ آپ اپنی باتوں کو جب چاہے بدل دے اور دوسرے معنوں سے یہ بات واضح نہیں ہوتی اور پھر اس پر یوں قیاس کیا جاتا ہے کہ اگر اللہ بھی اپنی باتوں کو نہ بدلے تو پھر وہ اللہ کا ہے کو ہوا اور اسکا قادر ہونا کدھر گیا اس کا مطلب تو صاف یہ سمجھ میں آتا ہے کہ ایسے معنی کرنے والا کوئی نیچری ہوگا یا کوئی دہریہ ہوگا جو خدا کو نہیں مانتا پھر اس کو خیال آئے کہ ” معتزلہ “ بھی اسی طرح کی باتیں کرتے ہیں اور ران کا بڑا پیر ہمارے ملک میں ” سرسید احمد خاں “ تھا ۔ بس یہاں پہنچے گا تو اس وقت تک وہ غصہ سے بھر چکا ہوگا۔ دانت پیسے گا۔ دانت پیسے گا اور گلے کو صاف کرتے ہوئے دو چار گالیاں تابڑ توڑ سنا دے گا اور اگر اس سے کوئی یہ پوچھے کہ حضرت والا ! ” اللہ اپنی باتوں کو نہیں بدلتا “ کی عربی کیا ہے تو بڑبڑا کر اس کو یہی جواب دے پائے گا کہ یہ فقرہ تجھ کو کسی دہریئے نے بتایا ہے ۔ دیکھ تو کہاں بیٹھ کے آگیا توبہ کر یہ توکلمہ کفر ہے جو تیرے منہ سے نکل گیا ” لاحول “ پڑھ تاکہ شیطان مردود تیرے سے دور ہوجائے تو نے یہ کیسی بات کہہ دی ۔ قرآن کریم میں صاف لکھا ہے کہ اللہ کے کلمات گنے نہیں جاسکتے یہ کون ہیں اللہ کے سارے کلمات کو جاننے والے اللہ کے منکر ، اللہ کے رسول کے منکر للہ کی کتاب کے منکر۔ مختصر یہ کہ زیر نظر آیت میں یہ بتایا جا رہا ہے کہ اے میرے رسول ! ﷺ تمام رسولوں کی سرگز شتیں اس سنت اللہ پر شاہد ہیں کہ اللہ نے اپنے رسول کو آزمائشوں میں مبتلا کیا اور ہر نبی کی آزمائش کے بعد ہی اس نے اسکی مدد کی اس لئے کہ اللہ نے سارے انبیاء کرام کو یہ بات بتائی کہ انجام کار کامیابی تمہارے قدم چومے گی اور آپ ﷺ کو کتنے ہی نبیوں کی سرگذشتوں کا کچھ حصہ بنایا بھی گیا جس سے تم پر اس حقیقت کو واضح کرنا مقصود تھا کہ جس طرح کے حالات سے انہیں گزرنا پڑا ہے اسی طرح کے حالات سے تمہیں بھی گزرنا ہوگا اور جس طرح ان کی مدد کی گئی اسی طرح آپ ﷺ کی بھی مدد کی جائے گی۔ میرے باتیں بدلا نہیں کرتیں اس لئے کہ میں نے کبھی ایسی بات کی ہی نہیں جس کو بعد میں بدلنا پڑے اور یہی بات میرے قادرو مطلق ہونے کی دلیل ہے جو اپنی بات کو ادل بدل کرے وہ کمزور ہوتا ہے یہ طاقتور ہونے کی نشانی نہیں۔ ان لوگوں کی عقل میں فتور ہے اس لئے وہ اس بات کو سمجھ نہیں سکتے وہ قادر مطلق کو دنیا کے ان بادشاہوں کے مطابق دیکھنا چاہتے ہیں جن کے ہاں حق ناحق ، جائز ناجائز ، حلال و حرام اور صحیح و غلط کی کوئی تمیز نہیں اور یہ ان سے اتنے خوف زدہ ہیں کہ محض انکی ان بداعتدالیوں کی وجہ سے مطلق العنان بادشاہ کا لقب دیتے ہیں اور ان کے ناموں کو عبادت الٰہی میں ” ظل اللہ “ کہہ کر شریک کرلیتے ہیں ” لکلمتہ “ کا لفظ آگے اسی سورة کی آیت 115 میں آرہا ہے مزید تفصیل کے لئے وہاں سے ملاحظہ کریں :