6. Surah Al-An'aam

الأنعامThe Cattle · 165 ayahsعروۃ الوثقٰی

Ayah 6:64

قُلِ اللّٰهُ یُنَجِّیْكُمْ مِّنْهَا وَ مِنْ كُلِّ كَرْبٍ ثُمَّ اَنْتُمْ تُشْرِكُوْنَ Open ayah 6:64 in the Quran reader

تم کہو اللہ ہی ہے جو تمہیں اس بلا سے اور ہر طرح کے دکھ سے نجات دیتا ہے لیکن اس پر بھی تم ہو کہ اس کے ساتھ شریک ٹھہراتے ہو

ان غموں سے نجات دینے والا تو اللہ ہی ہے لیکن تم ہو کہ شرک کئے جاتے ہو : 100: انسان کی کم ظرفی کا بیان ہے کہ مصیبت کے وقت تو گڑگڑانے اور چلانے لگتا ہے اور اللہ اس کے روئیں رؤیں کی آواز ہوتا ہے لیکن ادھر مصیبت ٹلی کہ ادھر پھر وہی شرک کرنا شروع کردیا اور اترانے لگا اور اسکو یاد بھی نہ رہا کہ وہ ناک سے لکیریں کھینچنے والا ہی تھا۔ فرمایا مصیبت اور تیف سے نجات دینے پر اس کی پوری قدرت ہے اور یہ بھی کہ ہر قسم کی مصیبتوں اور تکلیفوں اور پر یشانیوں کو دور کرنا صرف اللہ تعالیٰ ہی کے ہاتھ میں ہے اور یہ بھی کھلی ہوئی حقیقت ہے کہ ساری عمر فرشتوں ، نبیوں ، ولیوں اور بزرگوں اور اسطرح دیوی اور دیوتاؤں کو پوچنے اور پکارنے والے بھی خالص اللہ تعالیٰ کو پکارنے لگتے ہیں۔ دکھ اور مصیبت پہنچتے ہی نہ سہی سب کو پکار پکار کر تھک جانے کے بعد ہی سہی لیکن بہرحال وہ اس کی طرف متوجہ ہو ہی جاتے ہیں۔ مشرکوں کا یہ طرز عمل بھی ان کی غداری کے اعتبار سے کتنا ہی بڑا جرم ہے مگر مصیبت کے وقت صرف اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہونا اور اس حقیقت کا اعتراف ہم قوم مسلم کے کتنے لوگوں کے لئے تازیانہ عبرت ہے کہ ہماری اکثریت اللہ پر ایمان رکھنے کے باوجود مصیبتوں کے وقت بھی صرف اللہ تعالیٰ کو ید نہیں کرتے بلکہ ہمارا سارا دھیان غرک اللہ ہی کی طرف ہو کر رہ جاتا ہے اور ایسے ایسے نازک موقعوں پر بھی ہم کو غیر اللہ کے نام کے وظیفے سکھائے جاتے ہیں جن کو ہماری اکثریت پڑھتی نظر آتی ہے اور کتنے ہیں وہ صرف مادی سامان اسباب و آلات ہی میں پھنس کر رہ جاتے ہیں اور اللہ کا نام ان کی زبان پر کبھی بھول کر بھی نہیں آتا۔ استغفر اللہ ، لاحول ولاقوۃ الا باللہ۔ اس کا مطلب کہیں یہ نہ سمجھ لیں کہ مادی اسباب دوا علاج اور مصائب سے بچنے کی مادی تدبیریں ہم سب بےکار سمجھتے ہیں ؟ بالکل نہیں ، مقصد اپنا صرف یہ ہے کہ ان سب چیزوں کو اللہ تعالیٰ کا انعام سمجھ کر استعمال کریں کہ سب کچھ اس کا پیدا کیا ہوا ہے۔ یہ دوائیں اور اسباب جو تم نے ایجاد کئے وہ اور ان سب چیزوں کا مادہ و میٹریل اسی کا پیدا کردہ ہے اور وہ عقل جس سے تم نے ان ساری چیزوں کو جانا وہ اس کی عطا کردہ ہے۔ موجدین کو اگر یہ خیال بھی ہوگا کہ کتنے لوگ اس دنیا میں ایسے ہیں جن کو ہماری طرح کھانے پینے اور ضروریات کی ساری آسائشیں اور آرام میسر۔ لیکن ان کو ایجاد کرنا نہیں آیا پھر یہ کتنا اللہ کا فضل ہے کہ اس نے ہم کو نئی نئی چیزیں ایجاد کرنے کی توفیق بخشی اور ہم اس کے دیئے ہوئے میٹریل کو جوڑ کر ان چیزوں کو ایجاد کر رہے ہیں تو وہ یقیناً موجدین ہونے کے ساتھ موحدین بھی ہوجائیں اور اپنی ایجادات سے جو انہوں نے خلق خدا کی خدمت کی اس کے اجر کے مستحق بھی ٹھہریں اور جس طرح ان کی زندگی موجدین کی زندگی بن کر دکھائی دیتی ہے موحدین کی زندگی دکھائی دینے لگے۔ جس کا نتیجہ یقینا ” ہم خرما وہم صواب “ سے ظاہر ہو۔ کاش کہ سچے مسلمان اپنے سچے رب کے اس میٹریل سے وہ فوائد حاصل کریں جو کفارومنکرین اس سچے رب کے اس میٹریل سے حاص کر رہے ہیں۔ آگ کیوں آگ ہے ؟ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کے اندر جلانے کی صفت رکھ دی جو کبھی اس سے جدا نہیں ہوتی۔ پانی کیوں پانی ہے ؟ اس لئے کہ اللہ نے اس کے اندر ایک صفت رکھ دی ہے کہ وہ آگ کو بجھاتا ہے اور یہ صفت اس سے کبھی جدا نہیں ہوتی۔ دنیا میں جتنے مایہ ، ٹھوس اور گیسیں ہیں سب پر غور کرتے چلے جاؤ وہ سب کے سب اللہ کی وحدانیت کی نشانیاں ہیں۔ اس لئے کہ جو جو خاصیتیں اللہ نے ان میں رکھ دی ہیں وہ کبھی ان سے جدا نہیں ہوتیں اور اس کا نام تم نے سائنس رکھا ہے ہاں ! ہاں ! نام سارے تمہارے ہی رکھے ہوئے ہیں لیکن ان کے افعال و خاصیتیں سب اللہ کی رکھی ہوئی ہیں جو ان سے کبھی جدا نہیں ہوتیں۔ غور کرو کہ جن مفردات کو اکٹھا کر کے تم نے ایک مرکب تیار کیا ہے اور تمہاری دنیا اس نے روشن کردی ہے اور تم اس پر کتنے نازاں اور کتنے خوش ہو۔ کبھی تم یہ بھی سوچ لیتے کہ وہ مفردات جن کو تم نے اکٹھا کیا ہے وہی نہ ہوتے تو نتیجہ کیا نکلتا ؟ اس بات کو رومی مدت ہوئی اس طرح بیان کر گئے تھے۔ خاک وباد و آب آتش بندہ اند ۔ بامن وتو مردہ باہق زندہ اند
Ayah 6:65

قُلْ هُوَ الْقَادِرُ عَلٰۤى اَنْ یَّبْعَثَ عَلَیْكُمْ عَذَابًا مِّنْ فَوْقِكُمْ اَوْ مِنْ تَحْتِ اَرْجُلِكُمْ اَوْ یَلْبِسَكُمْ شِیَعًا وَّ یُذِیْقَ بَعْضَكُمْ بَاْسَ بَعْضٍ١ؕ اُنْظُرْ كَیْفَ نُصَرِّفُ الْاٰیٰتِ لَعَلَّهُمْ یَفْقَهُوْنَ Open ayah 6:65 in the Quran reader

(اے پیغمبر اسلام ! ) تم کہہ دو وہ اس پر قادر ہے کہ تم پر اوپر (یعنی آسمان) سے کوئی عذاب بھیج دے یا تمہارے پاؤں تلے سے کوئی عذاب اٹھا دے یا ایسا کرے کہ تم گروہ گروہ ہو کر آپس میں لڑ پڑو اور ایک دوسرے کی شدت کا مزہ چکھو سو دیکھو کس طرح ہم گوناگوں طریقوں سے آیتیں بیان کرتے ہیں تاکہ وہ سمجھیں بوجھیں

اے پیغمبر اسلام ! تم کہہ دو وہ قادر ہے کہ تم پر اوپر سے کوئی عذاب بھیج دے : 101: اس آیت میں عذاب الٰہی کی تین قسموں کا ذکر کیا گیا۔ ایک وہ عذاب جو اوپر سے آئے۔ دوسرے وہ عذاب جو نیچے سے آئے اور تیسرا وہ عذاب جو اپنی قوم یا نسل انسانی کے اندر سے پھوٹ پڑے۔ پھر ان تینوں ہی قسموں کے عذاب دیئے گئے ، دیئے جا رہے ہیں اور دیئے جائیں گے۔ اگر کوئی فرق ہے تو صرف یہ کہ انبیاء کرام (علیہ السلام) کی بعثت کے زمانہ میں علاقہ و قوم کا نبی اپنے مخالفین کو حکم الٰہی کے مطابق آگاہ کردیتا تھا جس کیلئے وقت اور تاریخ کا اعلان ہوجاتا تھا اور پھر وہ عذاب جو وقت اور تاریخ کے ساتھ اعلان کردیا جائے وہ اس تاریخ اور وقت پر آدھمکتا اور لوگوں کو تہس نہس کر کے رکھ دیتا تھا اب جب کہ انبیاء کا دور ختم ہوگیا تو اس طرح اس کا اعلان نہیں کیا جاتا۔ پھر مفسرین نے ان تینوں عذابوں کی مختلف کیفیتیں بھی بیان کی ہیں کہ اوپر سے عذاب کا مطلب کیا ہے اور نیچے سے عذاب کا مطلب کیا اور اس میں اختلاف بھی موجود ہے۔ قرآن کریم کی آیات سے جو ہماری تفہیم ہوئی ہے وہ یہ ہے کہ اوپر سے عذاب وہ آسمانی بلیات ہیں اور نیچے سے عذاب کا مطلب مختلف وباؤں کا پھوٹنا ، طغیانی اور طوفان کا اٹھنا اور اندورنی عذاب نسل انسانی کا جنگ وجدال ہے۔ اس جگہ ان تینوں مختلف عذابوں کی ایک ایک مثال اس آیت کے تحت بیان کی جائے گی تاکہ عبرت حاصل ہو۔ اوپر کے عذابوں کا بیان قرآن کریم میں ہوا ان ہی سے قوم عاد ، قوم ثمود اور قوم لوط کی مثالیں قرآن کریم میں بیان کی گئی ہیں ہم اس جگہ مختصر سے مختصر ذکر قوم عاد کے عذاب کا کرتے ہیں جو قرآن کریم نے بیان فرمایا ہے : قوم عاد ایک بت پرست قوم تھی ، عاد کا مسکن ارض احقاف ہے جو حضر موت کے شمال میں اسطرح واقع تھا کہ مشرق میں عمان اور شمال میں ربع الخالی خلیج فارس سے عراق تک وسیع تھا۔ یہ لوگ اپنے بزرگوں کے مجسمے تیار کر کے ان کی پرستش کرتے تھے۔ اس قوم کی طرف ہود (علیہ السلام) کو نبی مبعوث کیا گیا۔ انہوں نے اپنی قوم کو اللہ تعالیٰ کی توحید اور اس کی عبادت کی طرف دعوت دی۔ قوم عاد نے جب سناتو وہ عجیب حیرت میں پڑگئے۔ ان کی سمجھ میں نہ آیا کہ ایک اللہ کی عبادت چہ معنی دارد ؟ وہ غم و غصہ میں آگئے کہ کس طرح ہم باپ دادا کی ریت یعنی بزرگوں کے بتوں کی پرستش کو چھوڑ دیں ؟ یہ تو ہماری اور ہمارے باپ دادا کی سخت توہین ہے۔ ان کا غیظ و غضب بھڑک اٹھا کہ ان کی یاد کو تازہ کرنے کیلئے تراشتے ہیں۔ ان کے نزدیک ہود (علیہ السلام) کی دعوت کو مان لینا ان کے معبودوں اور بزرگوں کی توہین و تحقیر تھی جن کو وہ ” الہٰ “ کی بارگاہ میں اپنا وسیلہ اور شفیع مانتے تھے اور اس لئے ان کی پرستش کرتے تھے کہ وہ خوش ہو کر ہماری سفارش کریں گے اور عذاب الٰہی سے نجات دلائیں گے۔ ہود (علیہ السلام) ایک مدت تک تبلیغ کا فرض انجام دیتے رہے لیکن اس سے ان کی سرکشی مزید بڑھتی گئی اور سوائے چند معدودے آدمیوں کے اکثریت ان سے بگڑ گئی اور جب ہود (علیہ السلام) نے عذاب الٰہی سے ان کو ڈرایا تو وہ بپھر گئے کہ تو نے ہم کو عذاب الٰہی کی دھمکی دی ہے ہم سے تیری یہ روز روز کی نصیں ودت نہیں سنی جا سکتیں اگر تو اپنی بات میں سچا ہے تو وہ عذاب جلد لے آ کہ ہمارا تیرا قصہ پاک ہو اور یہ روز روز کی فرخش ختم ہوجائے۔ ہود (علیہ السلام) نے فرمایا کہ اگر میری مخلصانہ اور صادقانہ نصائح کا یہی جواب ہے تو بسم اللہ ، تم کو عذاب کا اگر اتنا ہی شوق ہے تو وہ کچھ دور نہیں۔ جن کی تم پرستش کرتے ہو ان کے نام تو تم نے اور تمہارے آباء و اجداد نے خود گھڑے ہیں اور اس من گھڑت طریقہ سے تم ان کو اپنا شفیع اور سفارشی مانتے ہو اور میرے روشن دلائل سے انحراف اور سرکشی کر کے عذاب کے طالب ہوتے ہو اگر ایسا ہی شوق ہے تو اب تم بھی انتطار کرو اور میں بھی انتظار کرتا ہوں کہ وہ وقت کب آتا ہے جس سے تمہارا تیاپانچہ کردیا جاتا ہے یا تکہ بوٹی ہوتی ہے۔ الحاصل قوم ہود جن کو عاد کہا جاتا تھا کی انتہائی شرارت وبغاوت اور اپنے پیغمبر کی تعلیم سے بےپناہ بغض وعناد کی پاداش عمل اور قانون جزاء کا وقت آپہنچا اور غیرت حق حرکت میں آئی اور عذاب الٰہی نے سب سے پہلے خشک سالی شکل اختیار کی۔ عاد سخت گھبرائے ، پر یسان ہوئے اور عاجز و درماندہ نظر آنے لگے تو حضرت ہود علہا اسلام کو جوش ہمدردی نے اکسایا اور مایوسی کے بعد پھر ایک مرتبہ ان کو سمجھایا کہ راہ حق اختیار کرلو ، میری نصائح پر ایمان لے آؤ کہ یہی نجات کی راہ ہے ، دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی ورنہ پچھتاؤ گے۔ لیکن بدبخت و بدنصیب قوم پر کوئی اثر نہ ہوا بلکہ بغض وعناد اور دوبالا ہوگیا تب ہولناک عذاب نے ان کو آگھیرا۔ آٹھ دن اور سات راتیں پہیم تیز و تند ہوا کے طوفان اٹھے اور ان کو اور ان کی آبادی کو تہ بالا کر کے رکھ دیا۔ تنومند اور قوی ہیکل انسان جو اپنی جسمانی قوتوں کے گھمنڈ سر مست سرکش تھے اس طرح بےحس و حرکت پڑے نظر آتے تھے جس طرح آندھی سے تن آور درخت بےجان ہو کر گر جاتا ہے۔ غرض ان کو صفحہ ہستی سے مٹادیا گیا ہے تاکہ آنے والی نسلوں کے لئے عبرت بنیں اور دنیا و آخرت کی لعنت کا عذاب ان پر مسلط کردیا گیا کہ وہ اس کے مستحق تھے۔ حضرت ہود (علیہ السلام) کے اس واقعہ کو قرآن کریم میں سورة الاعراف آیت 65 سورة ہود کی آیات 50 سے 89 اور سورة الشعراء کی آیت 134 میں بیان کیا گیا ہے۔ اللہ اپنے قانوں کے مطابق تمہارے نیچے ہی سے عذاب کھڑا کرسکتا ہے : 102: نیچے سے عذاب الٰہی کی مثالیں نوح (علیہ السلام) کے مشہور سیلاب اور فرعون اور اسکی قوم کے غرق ہونے سے دی جاسکتی ہیں اس جگہ مختصر ذکر غرق فرعون ہی کا کیا جاتا ہے۔ موسیٰ (علیہ السلام) اللہ کے رسول اور فرعون کی داستان سے کون واقف نہیں ، بچہ بچہ کی زبان پر ہے۔ موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم بنی اسرائیل کو فرعون اور اسکی قوم نے مصر میں غلام بنا رکھا تھا اور اس قوم پر اس نے وہ زیادتیاں کیں جن کا نام سن کر قوی سے قوی۔ قوی دل بھی کانپ اٹھتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو زندہ کرنے کے لئے سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کو مبعوث فرمایا۔ موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) کو نبی بنا کر فرعون کی طرف بھیجا گیا لیکن فرعون نے سیدھے منہ بات کرنا بھی پسند نہ کیا۔ ایک عرصہ تک اس دعوت کا سلسلہ جاری رہا جب فرعون نے موسیٰ (علیہ السلام) کی کوئی بات بھی نہ مانی تو انجام کار موسیٰ (علیہ السلام) نے بنی اسرائیل قوم کو مصر سے لے جانے کی ٹھان لی۔ فرعون نے بنی اسرائیل کونہ نکلنے دینے کے سارے سامان کر لئے لیکن اس کے باوجود وہ وقت آیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) اپنی قوم کی اکثریت کو لے کر مصر سے نکل گئے ، آپ ﷺ بحر احمر یا بحر قلزم کے راستے سمندر پار کرنا چاہتے تھے کہ فرعون کو بھی آپ کا نکلنا معلوم ہوگیا۔ اس نے اپنے ایک بڑے لشکر کے ساتھ ان پر پیچھے سے حملہ کردیا۔ موسیٰ (علیہ السلام) سمندر تک ابھی پہنچے ہی تھے کہ پیچھے سے فرعون کا لشکر بھی گرد اڑاتے چلا آتا نظر آیا۔ بنی اسرائیل گھبرائے لیکن موسیٰ (علیہ السلام) نے ان کو تسلی دی کہ میں اپنے ارادے سے نہیں نکلا بلکہ اللہ کے فرمان کے مطابق خروج کیا ہے۔ مختصر یہ کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو اس جگہ سے سمندر پار کرنے کا حکم دیا جہاں سے وہ پایاب تھا اور حکم الٰہی کے مطابق اپنی لاٹھی سے ان کی نشاندہی بھی کردی کہ اس سے اس جگہ تک تمہارے پار ہونے کی جگہ ہے بس اللہ کا نام لے کر اس طرح پار نکل جاؤ جس طرح ایک صحرا سے آدمی نکل جاتا ہے۔ جب بنی اسرائیل موسیٰ (علیہ السلام) کے نشان زدہ راستہ سے نکل رہے تھے تو فرعون اور اس کے لشکر نے بھی ان کا پیچھا شروع کردیا بلکہ قوم کو للکار کر کہا کہ بس اب بنی اسرائیل مارے گئے ، پکڑے گئے دیکھتے کیا ہو آگے بڑھو اور اس بحر میں ان کو دھر رکھو اللہ تعالیٰ کی کرشمہ سازی دیکھو کہ جب اس کا پورا لشکر سمندر میں اتر گیا تو اس کا حکم ان کی غرقابی کا نافذ ہوگیا۔ اللہ نے ان سب کو پانی کی منجھدار میں اسطرح پھنسا دیا کہ ان کے لیڈر سمیت ہزاروں کو غرق کر کے رکھ دیا اور بنی اسرائیل کی آنکھوں کے سامنے ان کو وہ ڈبکیاں دیں کہ وہ بنی اسرائیل کو پکڑتے پکڑتے ہی خود ہی قانون الٰہی کی پکڑ میں آگئے اور ایسے آئے کہ شاید ہی ان میں سے کوئی جان بچا کر نکل سکا ہو۔ فرعون کے منہ میں پانی کے دو گھونٹ گئے تو وہ تائب ہونے لگا لیکن اب وہ وقت نکل چکا تھا اور اس کی جان کو امان دینا قانون خداوندی کے خلاف تھا۔ حکم ہوا ! اے فرعون ! اب تیری اپیل سے بھی تیری جان کو امان تو نہیں مل سکتی لیکن تیری نعش کو درس عبرت بنانے کے لئے ایک عرصہ تک ہم محفوظ کردیں گے تاکہ آنے والی قوموں کو یاد رہے کہ اللہ تعالیٰ کو عذاب میں مبتلا کرنے کے لئے کہیں سے لاؤ لشکر لانے کی ضرورت نہیں پڑتی بلکہ وہی چیزیں جن پر اس کی زندگی کی بقاء کا انحصار ہوتا ہے وہی اس کی ہلاکت کا باعث بنا کر رکھ دی جاتی ہیں اور قوموں کا عروج وزوال بھی اسی طرح معرض وجود میں آجاتا ہے کیونکہ ہرچیز اس کے حکم تکوینی کی پابند ہے۔ سبحان اللہ وبحمدہ سبحان اللہ العظیم۔ عذاب کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ تم گروہ بندیوں میں تقسیم ہو کر رہ جاؤ : 103: عذاب الٰہی کی یہ تیسری صورت پہلی دونوں صورتوں سے زیادہ خطرناک اور زیادہ ہلاکت انسان کی باعث ہوئی لیکن افسوس کہ انسانوں نے بہت کم اس عذاب الٰہی کو سمجھا۔ اس کی داستانیں اتنی لمبی ہیں کہ اس عذاب الٰہی سے دنیا کی تاریخ بھری پڑی ہے اور ہر روز اس میں ہزاروں صفحات کا اصافہ ہوتا چلا جا رہا ہے اس میں سے کسی ایک واقعہ کا انتخاب بھی اتنا مشکل ہے جتنا کہ اس کا شمار کرنا مشکل ہے تاہم ایک مختصر سا واقعہ نقل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے اگر کسی نے بغور پڑھا تو انشاء اللہ بہت مفید رہے گا۔ لیکن کوئی پڑھے گا بھی ؟ کچھ نہیں کہا جاسکتا۔۔۔۔۔ آریہ اور منگوں قومول کا شمار دنیا کی بڑی قوموں میں ہوتا ہے۔ ظہور اسلام سے قبل منگولیا کا آخری قبائلی سیلاب وہ تھا جو چوتھی صدی مسیح میں مغرب و شمال کی طرف پھیلنا شروع ہوا اور یورپ کے مختلف قطعات میں منقسم ہو کر تھم گیا۔ اس کے بعد ان قبائل کے نئے سیلابوں کا خروج رک گیا۔ اسلام آیا اور پھر اسلامی فتوحات کا دور شروع ہوا تو انہی قبائل کو وہاں آباد پایا جو آہستہ آہستہ مسلمان ہوتے گئے چناچہ ترک ، خزر ، قجر ، تاجیک ، چرکس ، کرد زبک اور سلجوق وغیرہ سے مقصود یہی قبائل ہیں۔ مسلمانوں کا زور بھی آہستہ آہستہ کمزور ہوتا گیا۔ حتی کہ چھٹی صدی ہجری میں اصل منگول قوم جو ابھی تک اپنے علاقے میں آباد تھی اس کا زور شروع ہوا اور ان مختلف منگول قبائل کو اکٹھا کر کے مشہور سنگدل سردار چنگیز خاں ایک ایسا منظم سیلاب لایا جس کو دنیا کی کوئی طاقت روک نہ سکی۔ چنگیز خاں کے بیٹے اوکتائی خان کے عہد میں اس سیلاب کا بند ٹوتا اور پھر اس طرح ہر طرف پھیل گیا گویا دنیا اپنی بربادی کے لئے صرف اسی بند کے ٹوٹنے کی منتظر تھی۔ اس سیلاب کے انقلاب حال کی ایک نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ اس سے عرب خلافت کا مکمل خاتمہ ہوگیا۔ اس آہ وفغاں کے لئے ہم نے اسکو اس جگہ درج کرنے کے لئے انتخاب کیا کیونکہ اسلام کامورخ کبھی اس واقعہ کے ماتم سے فارغ نہیں ہو سکتا کہ تاتاریوں کی ابتدائی تاخت اور آخری تاخت دونوں کا باعث خود مسلمانوں کی فرقہ بندی اور اس کی جاہلی عصبیت ہوئی یعنی بربادی کا پہلا دروازہ حنفیوں اور شافعیوں کے باہمی جدال سے کھلا اور بربادی کی آخری تکمیل یعنی بغداد کا قتل عام سنیوں اور شیعوں کے اختلاف کا نتیجہ تھا۔ بلاشبہ چنگیز خاں سے وسط ایشیاء کا بالائی علاقہ خوارزم تک فتح کرلیا تھا لیکن وہ اس سے آگے قدم نہ بڑھا سکا بعد میں جب اس کے پوتوں میں سلطنت تقسیم ہوئی تو وسط ایشیا اور اس کے ملحقات ہلاکو خاں کے زیر حکومت آئے لیکن اسے بھی آگے بڑھنے کی جرات نہ ہوئی کیونکہ اسلامی مملکتوں کی شش صد سالہ عظمت کا رعب ابھی تک دلوں سے محو نہیں ہوا تھا مگر اس اثناء میں اچانک ایک واقعہ ایسا پیش آیا جس نے خود بخود ہلاکو کے آگے فتح و تسخیر کی راہیں کھول دیں۔ خراسان میں حنفیوں اور شافعیوں میں باہمی جنگ وجدال کا بازار گرم تھا۔ طوس کے حنفیوں نے شافعیوں کی ضد میں آکر ہلاکو کو حملہ کی دعوت دی اور اس کے لئے شہر کے دروازے کھول دیئے پھر جب تاتاریوں کی تلوار چمک گئی تو اس نے نہ حنفیوں کی چھوڑا نہ شافعیوں کو دونوں کا خاتمہ کردیا۔ اس طرح خراسان کی تسخیر نے بغداد کی شاہراہ کھول دی تھی۔ پھر بھی ہلاکو اس کی جرات نہ کرسکا کہ عباسی دار الخلافہ پر حملہ کرے لیکن اب پھر خود مسلمانوں کے باہمی قتال نے اسے بلوا بھیجا۔ بغداد سنیوں اور شیعوں کے باہمی پیکار کا میدان جنگ بن چکا تھا۔ خلیفہ معتصم کا وزیر ابن علقمی شیعہ تھا اور سنیوں کے ہاتھوں اذیتیں برداشت کرچکا تھا۔ اس نے خواجہ نصیر الدین طوس کے ذریعہ جو ہلاکو کا وزیر اور معتمد تھا ہلاکو کو بغداد آنے کی ترغیب دی اور اس طرح تاریخ اسلام کی سب سے بڑی بربادی اپنی آخری تکمیل تک پہنچ گئی۔ آج تاریخی حیثیت سے یہ واقعہ بھی ثابت ہوچکا ہے کہ چنگیز خاں کو خوار زم پر حملہ کرنے کی ترغیب خود خلیفہ الناصر الدین اللہ عباسی نے دی تھی کیونکہ سلجوقیوں کے بعد خوارزم شاہیوں کا اقتدار قائم ہوگیا تھا ، خلیفہ بغداد اس اقتدار کی وجہ سے سخت تنگی میں تھا۔ چنگیز خاں کا نام تیموجن تھا۔ 601 ھ مطابق 1602 ء میں اس نے چنگیز خاں کا شہنشاہی لقب اختیار کیا 614 ھ بمطابق 1219 ء میں خوارزم فتح کرلیا اس کا سال وفات 622 ھ 1227 ہے۔ اس کے بعد اس کا بیٹا اوکتائی خاں جانشین ہوا اوکتائی کے بعد منکوخاں اور منکو کے بعد قبلائی اور قبلائی کے بعد ہلاکو کے حصے میں وسط ایشیاء آیا اس نے 656 ھ بمطابق 1258 میں بغداد پر حملہ کیا اور عربی خلافت کا آخری نقش قدم بھی مٹ گیا۔ اس وقت سے آج تک جو کچھ ہوتا چلا آرہا ہے یہ سب کچھ سورج کی طرح عیاں ہے اور اس وقت پوری دنیا میں مسلمانوں کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے اس میں بھی خود مسلمانوں کا اپنا ہاتھ سب سے زیادہ تیزی کے ساتھ کام کر رہا ہے۔ اس ملک پاکستان کی سیاسی ، مذہبی گروہ بندی کا حال بھی سب کی آنکھوں کے سامنے ہے اسکی تفصیل کی ضرورت نہیں اس جگہ ایک بار زیر نظر آیت کو پھر دیکھ لیں۔ فرمایا۔ قُلْ ہُوَ الْقَادِرُ عَلٰۤى اَنْ یَّبْعَثَ عَلَیْكُمْ عَذَابًا مِّنْ فَوْقِكُمْ اَوْ مِنْ تَحْتِ اَرْجُلِكُمْ اَوْ یَلْبِسَكُمْ شِیَعًا وَّ یُذِیْقَ بَعْضَكُمْ بَاْسَ بَعْضٍ 1ؕ اُنْظُرْ کَیْفَ نُصَرِّفُ الْاٰیٰتِ لَعَلَّهُمْ یَفْقَهُوْنَ 0065 ( الانعام 6 : 65) ” (اے پیغمبر اسلام ! ) تم کہہ دو وہ اس پر قادر ہے کہ تم پر اوپر (یعنی آسمان) سے کوئی عذاب بھیج دے یا تمہارے پاؤں تلے سے کوئی عذاب اٹھا دے یا ایسا کرے کہ تم گروہ گر [ 1 ] وہ ہو کر آپس میں لڑ پڑو اور ایک دوسرے کی شدت کا مزہ چکھو سو دیکھو کس طرح ہم گوناگوں طریقوں سے آیتیں بیان کرتے ہیں تاکہ وہ سمجھیں بوجھیں۔ “ دیکھو کس طرح گوناں گوں طریقوں سے آیتیں بیان کرتے ہیں تاکہ وہ سمجھیں : 104: اوپر جو کچھ بیان ہوا وہ اتنا مختصر ہے کہ شاید کوئی اس سے صحیح نتیجہ اخذ کرسکے گا یا نہیں ؟ اچھی طرح سمجھ لینے اور یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ اس سے یہ نتیجہ نکالنا کہ اس وقت تک جتنی خرابیاں معرض وجود میں آئیں ان کا اصل باعث وسبب اختلاف رائے ہے یا اس وقت جو کچھ ہو رہا ہے یہ محض اس لئے ہے کہ سیاسی بصیرت رکھنے والوں اور مذہبی بصیرت رکھنے والوں میں اختلاف رائے موجود ہے۔ اگر یہ نہ ہوتا تو حالات اس سے مختلف ہوتے۔ ہم آپ کی اس رائے سے کبھی متفق نہیں ہو سکتے۔ ہمارے خیال میں اختلاف رائے کا ہونا نہ برا ہے اور نہ مہلک بلکہ بعض اوقات اس کے بہت اچھے نتائج برآمد ہوتے ہیں اس لئے کہ اختلاف رائے فطری چیز ہے اور فطری چیز کو ختم کردینا کبھی محمود نہیں ہو سکتا۔ ہماری رائے میں جو چیز مہلک ہے وہ صرف ایک دوسرے کے اختلاف کو برداشت نہ کرنے کا مرض ہے۔ آپس کا سارا جنگ وجدال محض اختلاف کے برداشت نہ کرنے کے باعث ہے۔ مثلاً حنفیوں اور شافعیوں میں اختلاف تھا اگر وہ اس کو برداشت کرتے اور دونوں ایک دوسرے کے جواب تک ہی محدود رہتے اور جو ان کے ذہن میں حق تھا اس پر عمل کرتے رہتے تو وہ حالت پیدا ہوتی جس سے وہ دوچار ہوئے ؟ اس طرح بغداد میں سنیوں اور شعیوں میں جو اختلاف تھا اگر وہ اختلاف تک محدود رہتا۔ وہ ضد ، ہٹ دھرمی اور ایک دوسرے کو مٹا دینے کا تصور اختیار نہ کرتا تو اس کا وہ نتیجہ برآمد ہوتا جو اس وقت ہوا ؟ جس طرح فطری بداعتدالی بری چیز ہے بالکل اسی طرح فطری رکاوٹ بھی بری چیز ہے جس طرح فطری بداعتدالیوں کے کبھی نتائج اچھے نہیں نکل سکتے اسی طرح فطری رکاوٹوں کے نتایج بھی کبھی اچھے نہیں نکل سکتے۔ بدقسمتی سے ہماری ہر سوچ الٹی ہے اور اس کا کوئی رخ بھی سیدھا ہونے میں نہیں آتا۔ قرآن پڑھتے ہیں ، حدیث کا مطالعہ کرتے ہیں۔ وعظ کہتے ہیں اور وعظ سنتے ہیں لیکن مخالف کو برداشت کرنا ہمارے بس کی بات نہیں اور مزید بدقسمتی یہ ہے کہ ہمارے واعظ اور مذہبی پیشوا بھی ہمیں یہ بات اچھی طرح یاد کراتے ہیں کہ مخالف کے وجود کو ختم کردینا جنت کا مستحق ہونا ہے۔ حالانکہ یہ بات اتنی ہی غلط ہے جتنی کہ ” گدھے کے سر پر سینگ “ اگر میری قوم مسلم کو مخالف کے وجود کو برداشت کرنا آجائے اور مخالف کے ساتھ پیار کرنا آجائے تو یہ خود بخود زندہ قوم بن جائے بشرطیکہ برداشت کرنا بےغیرتی کا برداشت کرنا نہ ہو اور یہ پیار کرنا اندھوں جیسا پیار نہ ہو کیونکہ ہر رحمت اپنی حدتک رحمت ہوتی ہے اگر حد سے تجاوز کر جائے تو وہ زحمت بن کر رہ جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو سمجھ عطا فرمادے۔ آمین اس آیت 65 کا ماحصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اور اس کے احکام سے سرتابی کر کے انسان امن و عافیت کی زندگی بسر نہیں کرسکتا۔ کبھی اوپر سے بجلی کڑک رہی ہے۔ موسلادھار بارشیں سیلاب کی صورت اختیار کر کے قیامت ڈھارہی ہیں۔ تو پیں آگ اگل رہی ہیں ، بلند پرواز طیارے اور راکٹ بم اور ایٹم بم برسا رہے ہیں۔ کبھی نیچے سے باردوی سرنگیں پھٹ رہی ہیں۔ آبدوز کشتیاں سمندر کی گہرائیوں سے ابھر کر بھاری بھرکم جہازوں کو اڑا رہی ہیں۔ کہیں زلزلے آباد شہروں کو کھنڈرات میں بدل رہے ہیں۔ علاوہ ازیں سخت تر عذاب یہ ہے کہ آپس میں انتشار اور بےاتفاقی کی وبا پھوٹ پڑتی ہے۔ ایک قوم کے فرزند ، ایک ملت کے افراد مختلف ٹولیوں اور فرقوں میں بٹ جاتے ہیں۔ کہیں مذہب وجہ فساد بن جاتا ہے اور کہیں سیاست باعث انتشار۔ اپنوں کی عزت کو اپنے ہاتھوں خاک میں ملا دینا بڑا کارنامہ تصور کیا جاتا ہے۔ اوروں کو رہنے دیجئے ، اپنے گھر کا حال دیکھئے جب سے ہم نے صرا ط مستقیم سے انحراف کیا ہم کن پستیوں میں دھکیل دیئے گئے ہیں۔ ایک رب ، ایک رسول ، ایک کتاب ، ایک کعبہ پر ایمان رکھنے والے کس نفاق اور انتشار کا شکار ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمارے حال زار پر رحم فرمائے۔ ہم کیا تھے اور کیا ہو کر رہ گئے ؟ اور کیا سے کیا ہوتے چلے جا رہے ہیں ؟
Ayah 6:66

وَ كَذَّبَ بِهٖ قَوْمُكَ وَ هُوَ الْحَقُّ١ؕ قُلْ لَّسْتُ عَلَیْكُمْ بِوَكِیْلٍؕ Open ayah 6:66 in the Quran reader

اور تیری قوم نے اسے جھٹلایا ہے حالانکہ وہ حق پر ہے تم کہہ دو میں تم پر کچھ نگہبان نہیں ہوں

اے پیغمبر اسلام ! تیری قوم نے حق کو جھٹلایا ہے اچھا تم ان پر کوئی نگہبان نہیں : 105: اس آیت میں نبی اعظم و آخر ﷺ کے خاندان قریش مکہ کی مخالفت حق کا بیان ہے اور آپ ﷺ کو یہ ہدایت دی جارہی ہے کہ یہ لوگ جو آپ ﷺ سے وقوع عذاب کا معین وقت پوچھتے ہیں اور بار بار اس کا سوال کرتے ہیں آپ ﷺ ان سے فرما دیں کہ میں اس کام کے لئے مسلط نہیں کیا گیا اور ہر بات کا وقت اللہ تعالیٰ کے علم میں مقرر ہے وہ اپنے وقت پر ہو کر رہے گی اور اس کا نتیجہ یقیناً تمہارے سامنے آجائے گا۔ چناچہ اس بات کے پورے ہونے کا جب وقت آیا تو انہوں نے بھی اس کو اپنی آنکھوں سے دیکھا اور ان کے ساتھ دوسروں نے بھی جو اس وقت موجود تھے اور آج تک ہمارے کان سنتے آرہے ہیں اور رہتی دنیا تک لوگ سنتے رہیں گے کیونکہ قرآن کریم نے ان ساری چیزوں کو اپنے اندر محفوظ کرلیا ہے جو نہ مٹنے والا کلام ہے۔ لست علیکم بوکیل ” میں تم پر کوئی داروغہ نہیں “ ” نہیں ہوں میں تمہارے ذمہ دار “ (ضیاء القرآن) یعنی عذاب میرے اختیار میں نہیں اور نہ ہی میں نے تم کو یہ کہا ہے کہ میں تم پر عذاب نازل کروں گا۔ ہاں ! اللہ کا حکم میں نے تم کو سنایا اور اللہ کا حکم ہمیشہ ” حق “ ہوتا ہے اس لئے یقینی ہے کہ وہ واقعہ ہو۔
Ayah 6:67

لِكُلِّ نَبَاٍ مُّسْتَقَرٌّ١٘ وَّ سَوْفَ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 6:67 in the Quran reader

ہر خبر کیلئے ایک ٹھہرایا ہوا وقت ہے اور قریب ہے کہ تمہیں معلوم ہو جائے

ہر خبر کا ایک وقت مقرر ہے اور اس کو اپنے وقت پر ہو کر ہی رہنا ہے : 106: فرمایا مجھے تمہارے عذاب کی اطلاع دی گئی وہ تم کو پہنچا دی۔ رہی وہ بات جس کا تم خیال کرتے ہو کہ عذاب کی جو دھمکیاں ہمیں دی جا رہی ہیں ان کی کوئی حقیقت نہیں ، یہ محض ڈرا وا ہے تو اس کا جواب عذاب کی خبر دینے والے کے ذمہ ہے اور وہ فرماتا ہے کہ تم یونہی جلدی کر رہے ہو ، میرے علم ازلی میں ہرچیز کے لئے ایک وقت مقرر ہے اور ہرچیز اپنے وقت پر ہی ظہور پذیر ہوتی آئی ہے اور اس طرح اب بھی اپنے وقت پر ہی ظہور پذیر ہوگی اور تم اس وقت خود بخود جان لو گے۔ تمہارے اس الجھاؤ سے یہ نہیں ہو سکتا کہ کل ہونے والا کام آج کر دکھایا جائے یا آج کا کام کل پر چھوڑ دیا جائے۔ اس لئے کہ ہمارے اصول ہیں اندھیر کھاتہ نہیں۔
Ayah 6:68

وَ اِذَا رَاَیْتَ الَّذِیْنَ یَخُوْضُوْنَ فِیْۤ اٰیٰتِنَا فَاَعْرِضْ عَنْهُمْ حَتّٰى یَخُوْضُوْا فِیْ حَدِیْثٍ غَیْرِهٖ١ؕ وَ اِمَّا یُنْسِیَنَّكَ الشَّیْطٰنُ فَلَا تَقْعُدْ بَعْدَ الذِّكْرٰى مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 6:68 in the Quran reader

اور جب تم ایسے لوگوں کو دیکھو جو ہماری آیتوں میں کا وشیں کرتے ہیں تو تم ان کے ساتھ بحث کرنے میں وقت ضائع نہ کرو اور ان سے کنارہ کش ہوجاؤ یہاں تک کہ وہ کسی دوسری بات میں غور و خوض کرنے لگیں اور اگر ایسا ہو کہ شیطان تمہیں بھلا دے تو چاہیے کہ یاد آنے کے بعد ایسے گروہ میں نہ بیٹھو جو ظلم کرنے والے ہیں

فضول بحثیں کرنے والوں کے ساتھ بحث ہیں الجھ کر اپنے قیمتی وقت کو ضائع نہ کرو : 107: ” یَخُوْضُوْنَ “ کی اصل خ و ص ہے اور خوض کے معنی کسی چیز میں گھس جانے کے ہیں۔ اس سے خوض فی الحدیث کا محاورہ بنا ہے جس کے معنی ہیں بات سے بات نکالنا ، بال کی کھال اتارنا ، نکتہ چینی اور کٹ حجتیاں کرنا ، نئے نئے شوشے چھوڑنا دور کی کوڑی لانا ، پانی میں مدھانی ڈالنا ، پانی بلونا ، ذہنی عیاشی کرنا وغیرہ وغیرہ۔ کچھ لوگوں کی عادت ثانیہ بن جاتی ہے کہ وقت گزارنے کے لئے دین کی باتوں پر بحث شروع کردی اور پھر بات سے بات نکالتے کہاں کے کہاں پہنچ گئے۔ دل لگی کے لئے دوسرے شغلوں سے وقت نکال کر دین کو شغل بنا لیا۔ آیت کا خطاب عام ہے جس میں نبی اعظم وآخر ﷺ بھی داخل ہیں اور امت کے سارے افراد بھی اور آپ ﷺ کو خطاب بھی دوسرے عام مسلمانوں کو سمجھانے ہی کے لئے ہے ورنہ آپ ﷺ پوری زندگی خواہ وہ نبوت سے پہلے کی تھی یا بعد کی کبھی ایسی مجلسوں میں تشریف فرما نہیں ہوئے۔ آپ ﷺ سے کوئی ایسی بات سرزد نہ ہوئی جس کی وجہ سے یہ آیت نازل کی گئی بلکہ یہ آپ ﷺ کی امت کے لئے ایک خاص راہنمائی ہے اور خصوصاً ان لوگوں کے لئے جو مذہبی پیشوا کہلاتے ہیں کیونکہ ان کو اکثر ایسے لوگوں سے واسطہ پڑنے کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔ لیکن افسوس سے کہناپڑتا ہے کہ علمائے امت کی اکثریت نے اس ہدایت سے کان بند ہی رکھے اور ایسے ایسے الجھاؤ پیدا گئے کہ مذہب اسلام کو چوں چوں کا مربہ بنا کر رکھ دیا۔ چونکہ یہ آیت پچھے سورة النساء میں گزر چکی ہے اس لئے اس کی تفسیر کے لئے عروۃ الوثقیٰ جلد دوم سورة النساء کی آیت 140 کے حاشیہ 226 اور 227 ملاحظہ کریں۔ ان سے کنارہ کش ہوجاؤ یہاں کہ وہ کسی دوسری بات میں مصروف ہوں : 108: آیت کے اس حصہ میں مجلس کے سارے آداب سکھا دیئے گئے اور دوسری قوموں کے ساتھ تعلقات قائم رکھنے کا معیار بھی مقرر کردیا گیا ” فَلَا تَقْعُدْ “ وہاں مت بیٹھو کے لفظی معنی مراد لے کر یہ نہ سمجھ لیا جائے کہ وہاں کھڑے رہنے کی اجازت ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ایسی مجلس سے کنارہ کش ہوجاؤ جس کو واک آوٹ کے لفظ سے تعبیر کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے رسول ﷺ یا قرآن کریم کی آیات کریمات یعنی تعلیمات اسلامی کا تمسخر اڑایا جارہا ہو تو تم تمسخر اڑانے والوں کے ساتھ مل کر مت بیٹھو اس لئے بےدینوں اور خصوصاً ان بےدینوں کے ساتھ جو ایک دین کے ماننے والے ہوں اور اس کے باوجود اس دین کا تمسخر بھی اڑائیں تو ان سے محبت و اختلاط تو کسی حال میں بھی جائز نہیں۔ غور کیجئے کہ اس وقت ہمارے ملک میں مغربی جمہوریت کو جب قانوناً تسلیم کرلیا گیا ہے تو اس سے زیادہ تمسخر اللہ ، اس کے رسول اور کتاب اللہ کے ساتھ اور کیا ہوگا کہ ایک ملک اسلامی بھی کہلائے اور قانون الٰہی کا تمسخر بھی اڑائے۔ دونوں باتیں ایک جگہ جمع نہیں ہو سکتیں۔ پھر ان تمسخر اڑانے والوں کے ساتھ مل کر اس مغربی جمہوریت کے مطابق ملک کے الیکشن میں حصہ لینا اور سارے داؤ ، فریب اور مکاریاں کرنا جو اس نظام میں جائز رکھی گئی ہیں ” علمائے حق “ کا کام ہو سکتا ہے ؟ جن لوگوں نے مذہبی پیشوا ہونے کے بڑے بڑے گون اور چوغے پہن رکھے ہیں اور وہ اس نظام میں باقاعدہ حصہ بھی لے رہے ہیں وہ اس آیت کریمہ کے مطابق کھلے مجرم ہیں۔ اللہ ، اس کے رسول اور کتاب اللہ کے ساتھ مذاق کرنے کے۔ ان لوگوں کو اپنے مطلب کے خلاف باتوں پر قومی ، صوبائی اسمبلیوں میں واک آوٹ کر جانا عذاب الٰہی سے نہیں بچا سکتا۔ ایک آدمی خبث وناپا کی کی دلدل میں پھنسا ہوا ہو اور اس سے نکلنے کی کوشش بھی نہ کرے اور ساتھ ہی اس بات کا دعویدار بھی ہو کہ میں نے اپنے کپڑوں پر کوئی چھینٹ نہیں پڑنے دی تو وہ جتنا اس دعویٰ میں صادق ہوگا سب کو معلوم ہے۔ تقسیم ہند کے بعد اس ملک عزیز کی باگ ڈور جن ہاتھوں میں دی گئی وہ سب کے سب الاماشاء اللہ انگریز کی پیوند کاری سے جہنم لینے والے لوگ تھے ان کے ہاتھوں میں زمام حکومت دینے کا طریقہ بھی ظاہر ہے کہ انگریزوں کا اختراع کردہ تھا اسوقت علمائے کرام نے اس کی کوشش بھی کی کہ اس طریقہ کی اصطلاح ہو اور اس کو کسی نہ کسی صورت میں بدل دیا جائے لیکن یہ سب کچھ سمجھنے کے باوجود وہ متحد نہ ہو سکے اور ان کے متحد نہ ہونے کی اصل وجہ ان کی مذہبی گروہ بندی تھی جو بذاتہ غیر اسلامی چیز تھی۔ انہوں نے ایک ہاتھ سے اسلام کو لانے کی کوشش کی لیکن دوسرا ہاتھ کفر سے نہ اٹھایا۔ اس کا جو فطری نتیجہ نکلنا چاہئے تھا وہی نکلا اور انہوں نے ناکامی کا منہ دیکھا۔ پھر جب انہوں نے دیکھا کہ انگریز کی پیوند کاری سے جہنم لینے والے دونوں ہاتھوں سے کھا رہے ہیں اور ہمارا ایک ہاتھ اسلام پر اور دوسرا کفر پر ہونے کے باعث کوئی بھی ہاتھ خالی نہیں تو اب ہاتھوں نے اس میں نجات سمجھی کہ کسی نہ کسی طریقہ سے پیوند کاری سے پیدا ہونے والوں کے ساتھ مل جائیں۔ یہ بات اس وقت پیوند کاری ہونے والوں کو بھی معلوم ہوئی کہ اس طرح نہ رہے گا بانس نہ بجے گی بانسری۔ تعجب یہ ہے کہ اس وقت جو لوگ مغربی جمہوریت کی مخالفت میں پیش پیش تھے اور اپنے آپ کو ” جماعت اسلامی “ کے امیر سمجھتے تھے وہی اس میدان میں سب سے پہلے کو دنے والے ہوئے۔ پھر چل سو چل والا معاملہ شروع ہوگیا اور آج جس دور سے ہم گزر رہے ہیں وہ سب کی آنکھوں کے سامنے ہے۔ لیکن کیا ہمارے علمائے کرام کی ان قلابازیوں سے اللہ کی کتاب بدل جائے گی ’ اللہ کا یہ قانون بدل جائے گا ؟ یقیناً نہیں وہ اپنی جگہ پر اٹل ہے۔ انشاء اللہ العزیز وہ وقت آئے گا کہ اس سیاست اور اس پیشوائیت کی جڑیں اکھاڑ کر رکھ دی جائیں گی اور اس ذات ” الٰ “ کے ایک ہی گا تھ سے دونوں کا صفایا ہوجائے گا اور اسکا حکم ” کن “ کب آئے گا ؟ یہ وہی جانتا ہے لیکن ہمارا ایمان اس بات پر پختہ ہے کہ جب اس کا حکم ” کن “ آئے گا بس ” فیکون “ ہوجائے گا۔ کوئی ہمارا مذاق اڑاتا ہے تو سو بار اڑائے اگر اس کو مذاق اڑانے کا حق ہے تو ہم کو بھی ” بات “ کہنے کا حق ہے۔ قرآن کریم کا حکم ایک بار پھر پڑھ لو فرمایا ” اور ان سے یعنی تمسخر اڑانے والوں سے کنارہ کش ہوجاؤ یہاں تک کہ وہ کسی دوسری بات میں غور و خوض کرنے لگیں۔ اگر شیطان تم کو بھلا دے تو یاد آنے کے بعد اس گروہ سے لاتعلقی کرلو : 109: فرمایا باتوں ہی باتوں میں ایسے مصروف ہوئے کہ یہ بات سمجھ ہی میں نہ آئی اور کسی شغل میں پڑ کر ان لوگوں سے صحبت و ہم نشین ہوگئے تو چونکہ یہ ایک انسانی کمزوری ہے اس لئے سہو ونسیان سے شریعت نے مواخذہ اٹھا دیا ہے لہٰذا یاد آنے کے بعد اب دیر نہ لگائے اور گذشت آنچہ گزشت کر کے ایسے نظام سے لاتعلقی کا اظہار کردو اور عملی حصہ لینا بھی ترک کردو کہ ایسے ظالموں سے الگ تھلگ ہونے ہی میں نجات ہے۔ آیت کے اس آخری حصہ نے یہ بات مزید صاف کردی کہ یہ حکم جو اس آیت میں دیا گیا یہ نبی اعظم و آخر ﷺ کے ذریعہ سے آپ ﷺ کی امت کے ہر فرد کے لئے ہے جن سے ایسی لغزش کے ہونے کا امکان تھا۔ آپ ﷺ کے لئے نہیں کیونکہ اللہ کے رسول ﷺ سے ایسی کسی بھول کا امکان ہی نہ تھا اور نہ ہی آپ ﷺ سے کبھی کوئی ایسی لغزش ہوئی۔ نسیان سے بلاشبہ کوئی نبی بیی مستثنیٰ نہیں لیکن ” اتفاقی نسیان “ اور ” شیطانی نسیان “ کا فرق بھی ملحوظ خاطر رہنا چاہئے کہ یہ دونوں ایک نہیں بلکہ ان میں بہت بڑا فرق موجود ہے جو کسی سے پوشیدہ نہیں۔ جماعتی زندگی بلاشبہ اسلام میں ایک بہت بڑی ضرورت ہے ، اس لئے اس کو لازم و ضروری قرار دیا گیا ہے لیکن اس جماعتی زندگی کا کوئی تصور اسلام میں نہیں ہے جو اس وقت ہم نے اپنا لی ہے ” کفر “ کے مقابلہ میں ” اسلام “ ایک جماعت ہے بالکل صحیح لیکن اسلام کے اندر اگر کوئی دوسری جماعت بنائے تو اسکی سزا ” قتل “ ہے اس طرح اس وقت کون کون اس کی زد میں آتا ہے کچھ نہ پوچھئے اور یاد رکھئے کہ ایسی جماعتوں سے الگ تھلک رہنا ہی نجات کا باعث ہے۔ قرآن کریم کا حکم ایک بار پھر سن لیں اور خود یاد رکھیں ” اگر ایسا ہو کہ شیطان تمہیں بھلا دے تو چاہئے کہ یاد آنے کے بعد ایسے گروہ میں نہ بیٹھو جو ظلم کرنے والے ہیں۔ “ ” ظلم کرنے والے ہیں “ مع القوم الظلمین اور لوگوں کے جمع ہونے سے جماعت بنتی ہے۔ ایسے ظالم کتنے ہی اکٹھے ہوجائیں ان سے الگ ہونا لازم و ضروری ہے اور ان کے ساتھ رہنا انہی میں سے شمار ہونے کے مترادف ہے خواہ وہ کتنا ہی صالح اور نیک انسان کیوں نہ ہو۔ آنے والی آیت اس کی مزید وضاحت فرما رہی ہے۔
Ayah 6:69

وَ مَا عَلَى الَّذِیْنَ یَتَّقُوْنَ مِنْ حِسَابِهِمْ مِّنْ شَیْءٍ وَّ لٰكِنْ ذِكْرٰى لَعَلَّهُمْ یَتَّقُوْنَ Open ayah 6:69 in the Quran reader

اور جو لوگ پرہیزگاری کی راہ چلنے والے ہیں تو ان پر ایسے لوگوں کے کاموں کی کوئی ذمہ داری نہیں جو کچھ ان کے ذمہ ہے وہ تو یہ ہے کہ خود نصیحت پکڑیں تاکہ وہ بچیں

پرہیز گاری کی راہ اختیار کرنے والوں پر ظالموں کی کوئی ذمہ داری نہیں : 110: مل بیٹھنا اور اتفاقاً کہیں بیٹھ جانا اس میں بہت بڑا فرق ہے۔ مطلب یہ کہ بعض جگہ مؤمنین کو بالکل علیحدگی سے یقیناً تعذر ہوگا مثلاً سکولوں اور کالجوں میں ، بازاروں میں ، دفتروں میں ، ریل پر ، بس پر ، جہاز پر اور اس طرح کسی تقریب میں اس طرح سے کئی ایک جگہ پر اجتماع پیش آسکتے ہیں ایسے موقعوں پر مسلمانوں کو سمجھا یا جا رہا ہے کہ ان کی بک جھک میں حصہ نہ لینا اور خاموشی سے اپنا وقت گزارنا ایک دوسری بات ہے اس سے نامہ اعمال پر تو کوئی اثر نہیں پڑے گا اور اپنی اس طرح کی بیہودگی کے وہ خود ذمہ دار ہیں۔ تم اس سے مت گھبراؤ اور ایسی ضروریات کو بہر حال پورا کیا جاسکتا ہے البتہ اتنا تم پر واجب ہے کہ اپنے امکان اور وسعت بھر انہیں تقلین و تبلیغ کرتے رہو ممکن ہے کہ ان کے راہ راست پر آنے کی کوئی صورت نکل آئے اور اگر وہ ایسی باتوں سے باز نہ بھی آئے تو کم از کم تمہارا اجر تو محفوظ رہے گا۔ اس سے بات مزید واضح ہوگئی کہ ان ساری جماعتوں سے عملی طور پر الگ تھلک رہنا اور ضرورت کے وقت کسی سے بھی یہ چڑنہ رکھنا کہ یہ چونکہ فلاں جماعت سے ہے اس لئے اس سے رسمی علیک سلیک نہیں کرسکتے اس گمراہی سے بھی بچ گئے اس طرح تمہاری حالت بعینہ یہ ہوگی کہ تم کو گناہوں سے نفرت ہے لیکن گنہگاروں سے نہیں جب کہ تم ان کو گنگار خیال کرتے ہو تو یہی بات تمہارے لئے خیرو برکت کا باعث ہوگی۔ فرمایا ” جو لوگ خود پرہیز گاری کی راہ چلنے والے ہیں تو ان پر ایسے لوگوں کی ذمہ داری نہیں جو کچھ ان کے ذمہ ہے وہ تو یہ ہے کہ خود نصیحت پکڑیں تاکہ وہ بچیں۔ “ بات واضح ہوگئی کہ اپنی حد سے تجاوز نہ کرو یعنی استقامت کار کا نتیجہ یہ نہیں ہونا چاہئے کہ مخالفوں پر کسی طرح کی زیادتی کا خیال کرنے لگویا لڑنے جھگڑنے لگو۔ اپنے دائرہ کے اندر رہ کر اور اپنا دامن بچا کر نکل جاؤ ۔ جیسے دوسری جگہ ارشاد فرمایا کہ : ” اور ایسا بھی نہ کرنا کہ ظالموں کی طرف جھک پڑو اور (قریب ہونے کے باعث) آگ تمہیں بھی چھو جائے اللہ کے سوا تمہارا کوئی رفیق نہیں پھر کہیں مدد نہ پاؤ گے۔ “ (ھود 11 : 113)
Ayah 6:70

وَ ذَرِ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا دِیْنَهُمْ لَعِبًا وَّ لَهْوًا وَّ غَرَّتْهُمُ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا وَ ذَكِّرْ بِهٖۤ اَنْ تُبْسَلَ نَفْسٌۢ بِمَا كَسَبَتْ١ۖۗ لَیْسَ لَهَا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَلِیٌّ وَّ لَا شَفِیْعٌ١ۚ وَ اِنْ تَعْدِلْ كُلَّ عَدْلٍ لَّا یُؤْخَذْ مِنْهَا١ؕ اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ اُبْسِلُوْا بِمَا كَسَبُوْا١ۚ لَهُمْ شَرَابٌ مِّنْ حَمِیْمٍ وَّ عَذَابٌ اَلِیْمٌۢ بِمَا كَانُوْا یَكْفُرُوْنَ۠ Open ayah 6:70 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے اپنے دین کو کھیل اور تماشہ بنا لیا ہے اور دنیا کی زندگی نے انہیں دھوکے میں ڈال رکھا ہے تو ایسے لوگوں کو ان کے حال پر چھوڑ دو اور کلام الٰہی کے ذریعہ نصیحت کرتے رہو کہیں ایسا نہ ہو کہ کوئی انسان اپنی بدعملی کی وجہ سے ہلاکت میں چھوڑ دیا جائے ، اللہ کے سوا کوئی نہیں جو اس کا مددگار ہوگا یا اس کی شفاعت کر کے اسے بچا لے گا ، جس قدر بدلے بھی ہو سکتے ہیں اگر وہ سب دے دے تو بھی اس سے نہ لیے جائیں یہ وہ لوگ ہیں جو اپنی بدعملیوں کی وجہ سے ہلاکت میں چھوڑ دیئے گئے ، ان کے لیے کھولتا ہوا پانی پینے کو ہوگا اور انکار حق کی جزا میں دردناک عذاب

جن لوگوں نے اپنے دین کو لہو ولعب بنا لیا ان کو چھوڑ دو مگر نصیحت کرنا نہ بھولو : 111: لہو ولعب دراصل کا فروں کی زندگی کا نچوڑ ہے کیونکہ وہ یہ قیمتی لمحے نخوت اور باطل میں ضائع کردیتے ہیں لیکن ایک مؤمن کی زندگی اعمال صالحہ سے لبریز ہوتی ہے۔ اس لئے وہ لہو و لعب کے قریب بھی نہیں پھٹکتا۔ دین کو لہو ولعب بنانا چہ معنی دارد ؟ ایسے کو نہیں جنہوں نے اپنے دین کو لہو و لعب یا مشغلہ تفریح بنا لیا ہے ؟ دین کو بھلا کوئی قوم بھی مشغلہ تفریح بنا سکتی ہے ؟ یہی وہ سوالات ہیں جنہوں نے مفسرین کو بہت دور دراز نکال دیا اور وہ کہیں سے کہیں چلے گئے۔ حالانکہ برصیغر کے مسلمان ایک مدت سے اپنے ارد گرد دیکھ رہے تھے آریہ قوم کے وہ گروہ جو آج بھی ہندو ، ہندو مت ، بدھ مت اور اس طرح کے کئی متوں میں تقسیم نظر آتے ہیں جن تہواروں کو مقدس جانتے ہیں اور سمجھتے ہیں ان کو محض ناچ ، رنگ رلیوں ، فحش گوئیوں اور اس طرح کے مختلف شغلوں میں نہیں گزارتے ؟ اور ان کی دیکھا دیکھی آج خود مسلمانوں نے مذہبی تہواروں کو کس انداز اور کون کون سے حبشنوں میں منانا شروع کردیا ہے بلکہ اپنے دین کا مکمل انحصار انہی حبشنوں کے اظہار پر ٹھہرادیا ہے جو ان حبشنوں میں جتنا حصہ لیتا ہے اتنا ہی وہ بڑا مسلمان تصور ہوتا ہے۔ محرم کے غموں کا اظہار کس طریقہ سے کیا جاتا ہے ؟ کیا کیا شبیہیں نکالی جاتی ہیں کہیں امام حسین ؓ کے روضے کی شبہیہ اور کہیں آپ کے گھوڑے کی شبیہہ اور اس طرح اس کو ” خیر العمل “ قراردے کر اس کو دین کا ایک بڑا حصہ قرار نہیں دے لیا ؟ پھر ہم اہل سنت نے ان کے بھی کان کاٹ ڈالے اور ” میلاد النبی “ کے نام سے جو جشن منانا شروع کیا۔ جس کی عمر بمشکل 1995 ء میں پچیں تیس سال ہوگی اور اب اس کو سرکاری طور پر مناناشروع کیا ہے۔ یہ سب کا سب لہو ولعب بنا کر پیش نہیں کیا جاتا ہے۔ یہ خچر ، گھوڑے ، اونٹ اور بیلوں کو سنوارنا کیا ہے ؟ یہ طرح طرح کے گیٹ اور فوارے بنا کر ، بجلی کے تاروں سے مزین کر کے ، راتوں کو چراغاں کرنا کیا ہے ؟ یہ قوالیاں اور طرح طرح کے گانے بجانے کیا ہیں ؟ کیا رسول اللہ ﷺ نے اس طرح اپنا یوم میلاد منایا تھا ؟ کیا صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین نے منایا تھا ؟ کیا تابعین وتبع تابعین نے منایا تھا ؟ کیا ائمہ اربعہ اور دیگر ائمہ نے منایا تھا ؟ کیا چاروں اماموں میں سے کسی ایک امام یا امام ابوحنیفہ (رح) کے شاگردوں میں سے کسی ایک شاگرد نے اس طرح کا کوئی دن منایا تھا ؟ اگر نہیں تو ہمارے بھائیوں نے اسکو کہاں سے نکال لیا ؟ کیا یہ محبت کا اظہار وہی ہندوؤں والا اظہار محبت تو نہیں ؟ کیا صرف دن کے بدلنے سے حقیقت بھی بدل جاتی ہے ؟ کیا ظرف کے بدل دینے سے اس چیز پر بھی کوئی اثر پڑتا ہے جو اس ظرف کے اندر رکھی گئی ہے۔ الایہ کہ کسی کو دھوکا لگ جائے یا کسی کو دھوکہ دے دیا جائے ؟ اسلام کیا تھا اور آج ہم مسلمانوں نے اس کو کیا بنا کر رکھ دیا ؟ نبی اعظم ﷺ کی ولادت باسعادت بلاشبہ صرف مسلمانوں ہی کے لئے نہیں بلکہ ساری دنیا کے انسانوں ، حیوانوں ، چرندوں ، پرندوں اور نباتات و جمادات تک کے لئے بلاشبہ رحمت الٰہی ہے اور بلا ریب آپ ﷺ رحمت للعالمین ﷺ ہیں لیکن آپ ﷺ کی ولادت با سعادت کے دن کو اس طرح منانا اور اس مبارک دن کو کھیل اور تماشے کا دن بنا دینا کہاں کی دینداری اور کہاں کا اسلام ہے ؟ ” وہ بدنصیب لوگ جنہوں نے دین کو کھیل اور دل لگی بنا رکھا ہے اور سنجیدگی اور متانت سے اسے سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے۔ طلب حق کا شوق ہی دل میں نہیں رکھتے بلکہ الٹا مذاق کرتے ہیں انہیں اپنے حال پر رہنے دو زندگی کے عیش و عشرت اور ساز و سامان نے انہیں بدمست و مدہوش کردیا ہے ان سے یہ توقع نہیں کہ وہ صحیح معنوں میں دعوت اسلام کو قبول کریں گے ؟ اور کبھی اپنے آپ کو سنورانے کی کوشش بھی کریں گے۔ کیونکہ ان کے بگاڑ کا سبب ہی وہ چیز بن گئی جو سنورانے کے لئے آئی تھی۔ بلاشبہ یہ بات معروف ہے کہ ادرک باد کو ختم کرتا ہے لیکن جو ادرک باد بنا دیا جائے وہ خاک باد کو روکے گا۔ دین انسان کی اصطلاح کے لئے ہے۔ جس دین کو ” فساد “ بنا دیا گیا ہو وہ آخر کیا اصطلاح کرے گا ؟ ہاں ! ایسے لوگوں کو نصیحت کرنا ترک نہیں کردینا چاہئے کہ ان نہ ماننے والوں میں کچھ ماننے والے بھی نکل آئیں گے اگرچہ وہ کتنے ہی کم کیوں نہ ہوں۔ تفصیل کے لیے اس سورت کی آیت 32 حاشیہ 41 ملاحظہ کریں۔ دین کو لہو و لعب بنانے والوں سے نہ تو کوئی بدلہ لیا جائے گا اور نہ کوئی مددگار ان کی مدد کرے گا : 112: چونکہ دنیا میں انسان اس کا خوگر ہے کہ اگر کبھی کوئی غلطی یا ظلم کسی پر کر بیٹھا یا یہ کہ اس پر ثابت ہوگیا کہ اس نے یہ ظلم کیا ہے اور اس کی سزا اس کے سامنے آگئی تو سزا سے بچنے کے لئے تین طرح کے ذرائع استعمال کرتا ہے۔ کبھی اپنی جماعت اور جتھے کا زور اس کے خلاف استعمال کر کے اپنے ظلم کی پاداش سے بچنے کی کوشش کرتا ہے۔ کیوں ؟ اس لئے کہ ہمارا کیک نہ کسی جماعت سے وابستگی رکھنا اس وجہ سے تو ضروری قرار پایا کہ وہ جماعت اس کے ایسے نازک موقع پر کام آئے اور ہم دیکھ رہے ہیں کہ فی الواقع جماعت ان اوقات میں کام کرتی ہے۔ یہی وجہ یہ ہے کہ آج کوئی ڈاکو ڈاکو نہیں ؟ اور کوئی چور بھی چور نہیں ؟ اور کوئی ظالم ظالم نہیں ؟ کیوں ؟ اس لئے کہ ان کو کوئی شخص ڈاکو ، چور اور ظالم نہیں کہہ سکتا۔ راہزنوں اور قاتلوں سے لے کر محراب منبر تک سارے ظالموں کو ان کے ظلم سے بچانے والی چیز یہی جماعتی وابستگی ہے پھر وہ کون بیوقوف ہے جو اس وابستگی سے مستثنیٰ ہوگا۔ اس ظلم کی پاداش سے بچنے کے لئے دوسری چیز سفارش ہے اور ظاہر ہے کہ سفارش کون کرسکتا ہے ’ وہی جو پارٹی کا برا لیڈر ہوتا ہے۔ جس کی خاطر یہ سارے ظلم روا رکھے جاتے ہیں اور ان ظلموں کو کوئی ظلم کہہ بھی نہیں سکتا اور پھر اس کے بعد سزا سے بچانے کے لئے کچھ مال خرچ کرے جس کو ” رشوت “ کی بجائے آج کل ” حق “ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ یہی تینوں چیزیں وہ ہیں جن جن سے کسی نہ کسی صورت اس دنیا میں کام لیا جاتا ہے اور اس طرح دنیا میں کام نکالنے والے بھی یہ سمجھتے ہیں کہ ان تینوں داؤں میں سے کوئی ایک داؤ ہمارا وہاں بھی چل جائے گا اور یہ تصور کیوں نہ ہو جب ملک کے صدارتی ایوانوں سے لے کر وزیر اعظم کے ارد گرد چکر لگاتا ہوا صوبوں کے وزارء اعلیٰ اور قومی وصوبائی اسمبلیوں کے سارے ممبروں تک انہیں تین چیزوں میں سے کسی ایک کے ساتھ واسطہ ہے تو ظاہر ہے کہ پھر اس تصور سے کون بچے گا ؟ جہاں کے دو رکعت کے اماموں سے لے کر العلماء ورشۃ الانبیاء تک کے سارے لوگ مع پیروں ، سیدوں اور مرشدوں تک کے سارے مذہبی راہنماؤں کا انحصار انہی تینوں باتوں میں سے کسی ایک پر آکر ٹھہرے وہاں ہمارے عوام کا تصور کیا ہوگا ؟ فرمایا ” اس کے سوا کوئی نہیں جو اس کا مدد گار ہوگا یا اس کی شفاعت کرے گا جس قدر بدلے بھی ہو سکتے ہیں اگر وہ سب کے سب دے دے تو بھی اس سے نہ لیا جائے گا یہی لوگ ہیں جو اپنی بد اعمالیوں کی وجہ سے ہلاکت میں چھوڑ دیئے گئے۔ “ آخری زندگی میں جو کچھ ان کو پیش کیا جائے گا وہ درد ناک عذاب کے سوا کچھ نہیں ہوگا : 113: فرمایا اے پیغمبر اسلام ! تمہارا فرض لوگوں کو اس خطرہ سے آگاہ کردینا ہے کہ آگے کی منزل میں ہر ایک کو اپنے عمل سے سابقہ پیش آتا ہے ، عمل ہی ہلاک کرے گا اور عمل ہی نجات دے گا۔ اس جگہ چونکہ ذکر ان لوگوں کا ہے جو درد ناک عذاب کے مستحق ٹھہریں گے۔ فرمایا اگر کوئی خود اپنی شامت اعمال میں گرفتار ہونا چاہتا ہے تو اسکی ذمہ داری خود اس پر ہے۔ تم اپنی ذمہ داری سے سبکدوش ہو ، جو لوگ اس آگاہی کی پروا نہیں کریں گے وہ اپنے کرتوتوں کے حوالے ہوں گے اور ان کے کفر کی پاداش میں ان کے لئے کھولتا ہوا پانی پینے کو پیش کیا جائے گا۔ گویا یہ وہ شے ہے جس سے عذاب کی کیفیت شروع ہوگی کیونکہ ضروریات زندگی میں سب سے زیادہ اولیت کھائی پی جانے والی اشیاء میں پانی ہی کو حاصل ہے۔ اس لئے فرمایا ان کی ضیافت کا جو سامان ہم نے تیار کر رکھا ہے اس میں سے پہلے پیش کی جانے والی شے پانی ہے پھر اس کے بعد ان کے لئے ” عذاب الیم “ کے دروازے کھول دیئے جائیں گے۔ سورة واقعہ میں اسکی تفصیل اس طرح کی گئی کہ : ” اور بائیں (طرف) والے کیا (برے حال میں ہوں گے) یہ بائیں (طرف) والے۔ گرم ہوا اور کھولتے ہوئے پانی میں۔ اور سیاہ دھوئیں کے سائے میں ہوں گے۔ نہ اس میں ٹھنڈک ہوگی اور نہ ہی فرحت ہوگی۔ بلاشبہ وہ اس سے پہلے بڑے خوشحال لوگ تھے۔ اور وہ گناہ عظیم پر مصر رہتے تھے۔ اور کہا کرتے تھے کہ کیا جب ہم مر گئے اور مٹی اور ہڈیاں ہوگئے تو کیا پھر ہم زندہ کیے جائیں گے۔ کیا ہمارے آباؤ اجداد بھی ؟ آپ (ﷺ) فرما دیجئے کہ ہاں ! بلاشبہ اگلوں کو بھی اور پچھلوں کو بھی۔ سب کو جمع کیا جائے گا ایک مقرر دن کے مقرر وقت پر۔ پھر بلاشبہ تم کو بھی اے جھٹلانے والو گمراہو ! یقینا تھوہر کے درخت سے کھانا ہوگا۔ “ (الواقعہ 56 : 41 ، 52) اس جگہ ارشاد فرمایا کہ ” ان کے لئے کھولتا ہوا پانی پینے کو ہوگا اور ان کار حق کی جزا میں درد ناک عذاب۔ “
Ayah 6:71

قُلْ اَنَدْعُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا یَنْفَعُنَا وَ لَا یَضُرُّنَا وَ نُرَدُّ عَلٰۤى اَعْقَابِنَا بَعْدَ اِذْ هَدٰىنَا اللّٰهُ كَالَّذِی اسْتَهْوَتْهُ الشَّیٰطِیْنُ فِی الْاَرْضِ حَیْرَانَ١۪ لَهٗۤ اَصْحٰبٌ یَّدْعُوْنَهٗۤ اِلَى الْهُدَى ائْتِنَا١ؕ قُلْ اِنَّ هُدَى اللّٰهِ هُوَ الْهُدٰى١ؕ وَ اُمِرْنَا لِنُسْلِمَ لِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 6:71 in the Quran reader

ان لوگوں سے پوچھو کیا تم چاہتے ہو ہم اللہ کو چھوڑ کر انہیں پکاریں جو نہ تو ہمیں فائدہ پہنچا سکتے ہیں نہ نقصان ؟ اور باوجودیکہ اللہ ہمیں سیدھی راہ دکھا چکا ہے لیکن ہم الٹے پاؤں پھرجائیں ؟ اور ہماری مثال اس آدمی کی سی ہوجائے جسے شیطان نے بیابان میں گمراہ کردیا ہو حیران و پریشان پھر رہا ہے اور اس کے ساتھ ہیں جو اس راہ کی طرف بلا رہے ہیں کہ تو کدھر کھو گیا ؟ ادھر آ ! کہہ دو اللہ کی ہدایت وہی { اَلْھُدٰی } ہے اور ہمیں حکم دیا گیا ہے کہ تمام جہانوں کے پروردگار کے آگے سر اطاعت جھکا دیں

ان سے کہو کیا ہم اللہ کو پکارنے کی سیدھی راہ چھوڑ کر غیر اللہ کو پکارنے کی الٹی راہ اختیار کرلیں ؟ : 114: دنیا کی پرانی گمراہیوں میں سے ایک گمراہی یہ بھی ہے کہ لوگ باپ دادا کی رسوم کی غلط راہ کو چھوڑ کر سیدھی راہ اور صاف راہ کی طرف کم ہی متوجہ ہوتے ہیں۔ ان کے پاس کوئی دلیل نہیں ہوتی کہ وہ ایسا کیوں کرتے ہیں۔ ان سے جب بھی پوچھا گیا کہ تم جس راہ پر گامزن ہو اس راہ پر چلنے اور اس راستہ کو اختیار کرنے کی دلیل کیا ہے ؟ تو انہوں نے ہمیشہ جو دلیل بتائی ہے وہ یہی تھی کہ یہ راہ ہمارے باپ داد کی بتائی یا دکھائی ہوئی راہ ہے۔ اس لئے ہم اس کو چھوڑنے کے لئے تیار نہیں۔ خود نبی اعظم و آخر ﷺ کے دعویٰ نبوت کے بعد جو آپ ﷺ پر زور دیا گیا وہ یہی تھا کہ جس رسم و رواج پر ہم ہیں ، وہ ہمارا ہی راستہ نہیں بلکہ ہمارے باپ دادوں کا بھی یہی راستہ تھا۔ اسلئے اس کو ترک نہیں کیا جاسکتا۔ آپ ﷺ کے خلاف بھی کفار اس بات پر کوشاں رہے کہ مسلمان اسلام کو چھوڑ کر اپنے باپ دادا کا مذہب پھر اختیار کرلیں۔ اللہ تعالیٰ نبی اعظم و آخر سے مخاطب ہو کر آپ ﷺ کو حکم دیتا ہے کہ آپ ﷺ انہیں کہہ دیں کہ یہ خام خیالی اپنے دل سے نکال دیں کیا یہ ممکن ہے کہ وہ شاہراہ ہدایت پالینے کے بعد جس پر نور ہی نور ہے ہم شرک و کفر اور فسق و فجور کے بھیانک اندھیروں کی طرف لوٹ جائیں۔ ہرگز نہیں ہو سکتا۔ ایک مسلمان کی شان یہ ہے کہ گمراہوں کو نصیحت کر کے سیدھی رہ پر لائے اور جو اپنے مالک حقیقی سے بھاگ کر غیر اللہ کی چوکھٹ پر سر رکھے ہوئے ہیں ان کو خدائے کے سامنے سر سجود کرنے کی فکر کرے۔ اس سے یہ توقع رکھنا فضول ہے کہ وہ خدا کے سوا کسی ایسی ہستی کے آگے سر جھکائے گا جس کے قبضہ میں نہ نفع ہے نہ نقصان۔ سیدھی راہ چھوڑ کر الٹی راہ چلنے والا انسان انسان کہلانے کا حق دار ہی نہیں ہو سکتا۔ پھر ایک انسانیت کے درس دینے والے سے یہ توقع کہ وہ خود بھی سیدھی راہ چھوڑ کر ہمارے کہنے سے الٹی راہ اختیار کرلے گا کہ ہم اس سے یہ بات کہہ رہے ہیں اور ہمارا پاس نہیں کرے گا تو اور کس کا ؟ اللہ کی بتائی ہوئی راہ چلنے والا کبھی اس بات سے متاثر نہیں ہوتا کہ اس سے کون مخاطب ہے اسلئے کہ وہ جس کی راہ لگ چکا ہوتا ہے اس سے بڑا کوئی موجود نہیں ہوتا جس کے ڈر اور خوف سے خود زدہ ہو کر وہ ایسا کرے گا۔ تمہاری سوچ کب سیدھی ہوگی اور تمہارے یہ دودھ کے دانت کب کریں گے اور تمہاری عقل داڑھ کب نکلے گی ؟ اگر ہم غیر اللہ کو پکارنا شروع کردیں تو ہماری عقل کا جنازہ تو نکل گیا : 115: اس جگہ قرآن کریم نے ایک مثال بیان فرمائی ہے کہ اگر ہم ایسا کریں یعنی سیدھی راہ جو اللہ تعالیٰ کو پکارنے کی ہے اس کو چھوڑ کر الٹی راہ چلنے لگیں یعنی غیر اللہ کو حاجت روا اور مشکل کشا سمجھ کر پکارنے لگیں تو پھر ہماری حالت تو اس شخص سے مختلف نہ ہوگی جو اپنی منزل مقصود کی طرف ایسے ساتھیوں کی رفاقت میں بڑھا چلا جا رہا ہے جو راہ کے پیچ و خم اور نشیب و فراز سے اچھی طرح واقف ہیں اور پھر راستہ میں کوئی شیطان اسے بہکا دے اور وہ اپنے ساتھیوں کو چھوڑ کر اس کے پیچھے ہو لے اور اسکے ہمراہ ہی اس کو پیچھے سے آواز دیں کہ کدھر بھٹک کر جا رہے ہو اور وہ کچھ فیصلہ نہ کرسکے کہ اسے کدھر جانا ہے اور خصوصاً جب وہ بہرا اور اندھا بھی ہو تو اسکی کیا صورت بنے گی یہی کہ وہ مکمل طور پر مخبوط الحواس ہوجائے گا اور اسکی سمجھ میں کچھ نہیں آئے گا کہ اب وہ کیا کرے ؟ بات بالکل صاف اور سیدھی تھی کہ صحیح راہ سے بھٹک جانے والا ایسا ہی ہوتا ہے جیسے مخبوط الحواس۔ لیکن ہمارے دوستوں نے اس سے جنوں کے انسانوں کے اندر حلول کر جانے اور پھر حواس باختہ کردینے ، تکلیف واذیت دینے اور اس طرح کے کئی علوم ” جن “ نکالنے اور ” جن “ ڈالنے اور سایہ ہونے اور سایہ اتارنے کے نکال لئے اور اس سادہ لوح قوم کو ایسا مخبوط الحواس بنایا کہ وہ اس لکھے پڑھے دور میں لکھے پڑھے کہلوانے کے باوجود پھر ان لوگوں کے نرغے میں پھنسے ہوئے نظر آتے ہیں جس طرح دیکھو بس ” جن “ ڈالنے ، ” جن نکالنے والے ، غیب کی خبریں دینے والے اور کالے علم کے ذریعہ ہونی ان ہونی اور ان ہونی ہونی کر دکھانے والے ، پوری قوم کو لوٹے اور کھائے جا رہے ہیں اور قرآن کریم کی اس طرح کی آیات سے وہ ثبوت فراہم کرتے ہیں کہ دیکھو ” جن “ کے اثر سے انسان کی ایسی حالت ہوجاتی ہے اور اس کو کچھ پتہ نہیں چلتا کہ دراصل اس کی اس حالت کو بگاڑنے والا ” جن “ ہوتا ہے اور ” جن “ کو یہ طاقت دی گئی ہے کہ وہ انسان کے اندر داخل ہو کر انسان سے جو چاہتا ہے وہ نکلواتا رہتا ہے۔ اس طرح پوری قوم کو دھوکا دے کر اپنے پیٹ کو دوزخ کے ایندھن سے بھر رہے ہیں اور اس ظلم میں قوم کے سارے مکاتب فکر خواہ بریلی ہوں یا دیو بندی ، اہل حدیث ہوں یا اہل الرائے سب کے سب برابر کے شریک ہیں۔ غیر مسلم تو خیر جو کچھ تھے وہ تھے لیکن افسوس کہ مسلمانوں اور خصوصاً علمائے اسلام کہلانے والوں نے غیر مسلموں کے بھی کان کاٹ دیئے۔ تفصیل اسکی عروہ الوثقیٰ جلد اول کی آیت 102 میں گزر چکی ہے وہاں سے ملاحظہ کریں۔ یہ بات کسی سے پوشیدہ نہیں کہ جو بات بھی برائی کی ہے اسکی نسبت شیطان کی طرف کی جاتی ہے اس لئے کہ شیطنت کی قوت کا دوسرا نام شیطان ہے جو ہر انسان کے اندر رکھ دی گئی ہے تاکہ اس کی انسانیت کا امتحان ہوتا رہے اور اس طاقت نے انسان کو مکلف بنا رکھا ہے اور قوت وہمہ بھی اس قوت کا ایک حصہ ہے۔ اس بات کا اعلان کہ ہدایت وہی ہے جو من اللہ ہو جس سے اللہ کی پہچان ہوتی ہے : 116: نبی اعظم و آخر ﷺ سے اس بات کا اعلان کرایا جا رہا ہے کہ ہدایت وہی ہدایت ہے جو اللہ کی طرف سے ہو اور پھر اللہ کی ہدایت پاجانے کے بعد اب ہم کسی اور طریقہ کی پیروی کرسکتے ہیں ؟ کیا زندگی کا موت سے تبادلہ ممکن ہے ؟ پھر جس کو علم ہے کہ اسلام زندگی اور کفر موت ہے وہ اسلام کو تمہارے کہنے پر چھوڑدے گا ؟ پھر تم ہمیں ان چیزوں کی طرف دعوت دیتے ہو کہ ان کی پرستش کرو جو ہمیں نہ نفع پہنچا سکتی ہیں اور نہ نقصان پہنچا سکتی ہیں اور ہم کو حکم بھی صرف اور صرف ایک الٰہ کی پرستش کا دیا گیا ہے اور پھر یہ بھی کہ حکم دینے والا ہمارا باپ دادا نہیں بلکہ وہی احکم الحاکمین ہے جو میرا ، تمہارا اور سارے جہانوں کا رب ہے۔ پھر اس رب کریم کے سوا کون اس بات کا مستحق ہے کہ اپنے آپ کو اس کے حوالے کیا جائے۔ فرمایا غور کرو کہ ہم کو دعوت ایسے قانون کی اطاعت کی دی جا رہی ہے جو کسی ملک ، قوم ، نسل اور قبیلہ کے ساتھ مخصوص نہیں بلکہ جس میں رعایت ساری دنیا کے انسانوں ، حیوانوں اور جملہ مخلوقات کی رکھ لی گئی ہے۔ اس آیت میں یہ بات بھی واضح فرما دی کہ جس راہ پر راہ کا اطلاق ہو سکے وہ تو بس وہی ہے جو خدا وند عالم کی بتائی ہوئی ہے نہ کہ وہ جو محدود نظر رکھنے والے بندوں کی عقل یا جذبات کی سمجھائی ہوئی ہے۔ کیونکہ جس راہ پر چلنے سے انسان منزل مقصود پر پہنچ جائے ظاہر ہے کہ وہی راہ صحیح اور سیدھی ہو سکتی ہے اور پھر اس راہ پر چل کر کہاں جانا ہے ؟ ظاہر ہے کہ رب العالمین کی ملاقات کے لئے جانا ہے تو اس ملاقات کے لئے وہی راہ درست اور صحیح ہوگی جو رب العالمین کی طرف سے بھیجا جانے والاراہنما راہ دکھائے گا اور اللہ کی طرف سے بھیجا گیا آخری راہ نما محمد رسول اللہ ﷺ ہی تو ہے جس کے بعد نہ کوئی نبی آئے گا اور نہ ہی کوئی نئی راہ دکھائی جائے گی۔ بس ہم اس کے سامنے سر اطاعت جھکا رہے ہیں اس کے غیر کے سامنے نہیں۔