6. Surah Al-An'aam

الأنعامThe Cattle · 165 ayahsعروۃ الوثقٰی

Ayah 6:158

هَلْ یَنْظُرُوْنَ اِلَّاۤ اَنْ تَاْتِیَهُمُ الْمَلٰٓئِكَةُ اَوْ یَاْتِیَ رَبُّكَ اَوْ یَاْتِیَ بَعْضُ اٰیٰتِ رَبِّكَ١ؕ یَوْمَ یَاْتِیْ بَعْضُ اٰیٰتِ رَبِّكَ لَا یَنْفَعُ نَفْسًا اِیْمَانُهَا لَمْ تَكُنْ اٰمَنَتْ مِنْ قَبْلُ اَوْ كَسَبَتْ فِیْۤ اِیْمَانِهَا خَیْرًا١ؕ قُلِ انْتَظِرُوْۤا اِنَّا مُنْتَظِرُوْنَ Open ayah 6:158 in the Quran reader

پھر یہ لوگ کس بات کی انتظار میں ہیں ؟ اس بات کی انتظار میں کہ فرشتے ان کے پاس آجائیں یا خود تمہارا پروردگار ان کے سامنے آکھڑا ہو یا پھر تمہارے پروردگار کی بعض نشانیاں نمودار ہوجائیں ؟ تو (سن لو) جس دن تمہارے پروردگار کی بعض نشانیاں نمودار ہوں گی اس دن کسی انسان کو جو پہلے سے ایمان نہ لا چکا ہو یا اپنے ایمان میں نیکی نہ کما لی ہو ایمان لانا سود مند نہ ہوگا تم کہہ دو انتظار کرتے رہو پھر ہم بھی انتظار کرتے ہیں

کیا یہ لوگ اللہ ، اس کے فرشتے اور اس کے مزید کسی نشان کے منتظر ہیں ؟ : 250: جہاں تک سمجھانے کا تعلق تھا اے پیغمبر اسلام ! آپ نے ایک ایک حقیقت پوری طرح کھول کر سمجھا دی ، دلائل سے اس کا ثبوت پیش کردیا ، کائنات کے پورے نظام سے اس کی شہادتیں پیش کردیں۔ کسی ذی فہم آدمی کے لئے کفر وشرک اور انکار پر جمے رہنے کی کوئی گنجائش باقی نہ چھوڑی اب یہ لوگ ایک صاف ، سیدھی بات کو مان لینے میں کیوں تامل کر رہے ہیں ؟ ایک بار پھر غور کرو کہ لوگوں کو خواب غفلت سے بیدار کرنے کے لئے اور گمراہی کے ظلمت کدے سے باہر نکالنے کے لئے اللہ نے اپنا جلیل القدر رسول مبعوث فرمایا اور اس رسول پر قرآن کریم جیسی بےمثال کتاب نازل کی۔ طرح طرح کے دلائل وبراہین اور معجزات سے اس کی صداقت کو آشکارا کیا اس کے باوجود اگر لوگ ایمان نہیں لاتے اور دین اسلام کو قبول نہیں کرتے تو کیا وہ اس انتظار میں ہیں کہ موت کا فرشتہ ان کے سامنے آکھڑا ہو تو اس طرح زندگی کے اس آخری لمحہ میں وہ مانیں گے ؟ یا اللہ کا عذاب ان کے سروں پر آجائے تو اس کی پہلی چوٹ کھا لینے کے بعد مانیں گے ؟ یا قیامت قائم ہوجائے اور خود اللہ تعالیٰ کرسی عدالت پر تشریف فرما ہو تو وہ وقت ان کے حقائق کو تسلیم کرنے کا ہے ؟ یا اللہ کی کوئی ایسی نشانی ظاہر ہو جس کے آنے کے بعد وہ مان لینے اور تسلیم کرلینے پر مجبور ہوجائیں تب وہ مانیں گے ؟ آخر کوئی بات تو وہ کہیں کہ ان کے مان لینے میں اصل رکاوٹ کیا ہے ؟ کسی ایسے وقت کا انتظار جب ایمان لانے کی کوئی قیمت باقی نہ رہے آخر فائدہ ؟ 251: تعجب ہے کہ گولی لگ گئی اور جس کے گولی لگی وہی پکار پکار کہتا ہے کہ خدا کرے جھوٹ ہو۔ فرمایا جن چیزوں کا اوپر ذکر کیا گیا اگر واقعی ان میں سے کسی کے انتظار میں ہیں اور اس انتظار میں وہ وقت آگیا تو گویا گولی لگ گئی اب جھوٹ ہو کی صدائیں ان کے لئے کچھ مفدع ثابت نہیں ہو سکتیں کیونکہ ان چیزوں کے ظہور کے بعد وہ ایمان لے بھی آئے تو وہ قابل قبول نہیں ہوگا اب توبہ کی قبولیت کا وقت نکل گیا اور اس طرح یہ لوگ جوتے بھی کھائیں گے اور پیاز بھی۔ کیونکہ ایمان تو وہی مقبول ہے جو اللہ تعالیٰ کے رسول ﷺ کی زبان پر یقین کرتے ہوئے لایا جائے۔ جب سب پردے اور حجاب اٹھ جائیں گے اور غیب شہادت میں بدل جائے گا تو اس وقت کا ایمان معتبر نہ ہوگا کیونکہ گولی لگ چکنے کے بعد جھوٹ نہیں ہو سکتی۔ قرآن کریم کی ان گنت آیات میں یہ مضمون دہرایا گیا ہے کہ اہل دوزخ دوزخ میں پہنچ کر فریاد کریں گے اور بڑے بڑے وعدے کریں گے کہ اگر ہم کو اب دنیا میں دوبارہ لوٹا دیا جائے تو ہم ایمان وعمل صالح کے سوا کچھ نہ کریں گے مگر ان سب کے لئے جواب یہی ہوگا کہ ایمان وعمل کا وقت ختم ہوچکا اور اب جو کچھ کہہ رہے ہو مجبور ہو کر کہہ رہے ہو اور مجبوری کے وقت کہی ہوئی بات کا کچھ اعتبار نہیں ہے۔ صحیح بخاری اور دوسری احادیث کی کتابوں میں یہ حدیث موجود ہے کہ : ” قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی جب تک یہ واقعہ پیش نہ آجائے کہ آفتاب مغرب کی طرف سے طلوع ہو ، جب لوگ یہ نشانی دیکھیں گے تو اس وقت جتنے لوگ ہوں گے سب ایمان لے آئیں گے ، یہی وہ وقت ہوگا جس کے لئے قرآن کریم میں یہ ارشاد ہے کہ اس وقت کسی نفس کو ایمان لانا نفع نہیں دے گا۔ “ یہ بات ہر ایک انسان جو کچھ بھی غورو فکر رکھتا ہے جانتا ہے کہ کوئی مسلسل گھومنے والی چیز جب اپنے گھومنے سے رکتی ہے تو وہ پیچھے کو حرکت کرتی ہے اگر بات خیال میں نہ آئے تو لاٹو جیسی کوئی چیز گھما کر دیکھ لو جب وہ گھومنا بند کرے گا تو پیچھے کو چکر کھائے گا یہی صورت اس وقت ہوگی کہ جب زمین گھومنے کی حرکت رکنے پر آئے گی تو ایک بار پیچھے گھومے گی جس سے سورج کے واپس آنے کا مشاہدہ ہوگا اور اس حدیث میں اس مشاہدہ میں آنے والی بات کا ذکر کیا گیا۔ زیر نظر آیت اور اس آیت کی تشریح نے جو خود رسول کریم ﷺ سے منقول ہے یہ بات ثابت ہوگئی کہ اس نظام کو درہم برہم ہونے کے وقت گردوں میں ایک خاص طرح کی تبدیلی ؟ ؟ ؟ وقتاً فوقتاً بیان کر رہی ہے اور ابھی مزید بیان کرے گی کاش کہ قوم مسلم میں ایسے سائنس دان پیدا ہوں جو قرآن و احادیث کے ان نظریوں کو آگے بڑھ کر دوسرے لوگوں سے زیادہ جلد سچ کر دکھائیں اور شاید ان کی کاوش سے لوگ جلد سیدھی راہ اختیار کریں اور اللہ ہمارے علماء گرامی کو اس سوچ کے قریب لے آئے کہ اللہ کے کلام " Word of God" اور اللہ کے کام " Work of God" یعنی قرآن کریم اور نظام کائنات ایک دوسرے کی خود تصدیق ہیں اور یہی قرآن کریم کے کلام الٰہی ہونے کی وہ دلیل ہے جو غیر مسلم قوموں کو بھی قرآن کریم کو اللہ کی کتاب ماننے پر مجبور کر دے گی اگرچہ اس وقت کا ماننا ان کے لئے مفید نہیں ہوگا۔ جس طرح قیامت کبریٰ کا بیان قرآن کریم نے بار بار دیا ہے جس کے سمجھانے کا ایک انداز اس آیت زیر نظر میں اختیار کیا ہے اس طرح ایک قیامت صغریٰ کے نام سے معروف ہے جو ہر انسان پر انفرادی طور پر طاری ہوتی ہے ، ہوتی رہی ہے اور ہوتی رہے گی اس کی علامات جب ظاہری ہوں تو وہ وقت بھی ایسا ہے کہ اس وقت کا لایا ہوا ایمان بےقیمت ہے کیونکہ وہ مرنے والے کے مشاہدہ میں آچکا ہے۔ چناچہ قرآن کریم میں ہے کہ : ” لیکن ان لوگوں کی توبہ توبہ نہیں جو برائیاں کرتے رہے لیکن جب ان میں سے کسی کے آگے موت آکھڑی ہوئی تو وہ کہنے لگے کہ اب تو میں توبہ کرتا ہوں۔ “ (النساء 4 : 18) (بقرہ 2 : 162 ، 217 ) (ال عمران 3 : 191) (الانعام 6 : 27 ، 28) (یونس 10 : 90 ، 91) (سباء : 34 : 53) (ال مومن 40 : 85) ( المنافقون 63 : 11) اور حدیث میں نبی اعظم وآخر ﷺ کا ارشاد ہے کہ : ان توبۃ العبد تقبل مالم یغر غر ” بندہ کی توبہ قبول ہوتی رہتی ہے اس وقت تک جب تک غرغرہ موت کی صورت پیدا نہ ہوجائے۔ “ آخر آیت میں ارشاد فرمایا : ” تم کہہ دو انتظار کرتے رہو ہم بھی انتظار کرتے ہیں۔ “ مطلب یہ ہے کہ آپ ﷺ ان لوگوں سے فرما دیجئے کہ اللہ کی ساری حجتیں پوری ہوجانے کے بعد بھی اگر تمہیں موت یا قیامت کا انتظار ہے تو یہ انتظار کرتے رہو ، ہم بھی اس کا انتظار کریں گے کہ تمہارے ساتھ تمہارے رب کا کیا معاملہ ہوتا ہے۔
Ayah 6:159

اِنَّ الَّذِیْنَ فَرَّقُوْا دِیْنَهُمْ وَ كَانُوْا شِیَعًا لَّسْتَ مِنْهُمْ فِیْ شَیْءٍ١ؕ اِنَّمَاۤ اَمْرُهُمْ اِلَى اللّٰهِ ثُمَّ یُنَبِّئُهُمْ بِمَا كَانُوْا یَفْعَلُوْنَ Open ayah 6:159 in the Quran reader

جن لوگوں نے اپنے دین میں تفرقہ ڈالا اور الگ الگ گروہ بن گئے تمہیں ان سے کچھ سروکار نہیں ان کا معاملہ اللہ کے حوالے ہے ، پھر وہی بتلائے گا کہ جو کچھ وہ کرتے رہے ہیں اس کی حقیقت کیا ہے ؟

دین میں تفرقہ ڈالنے والوں سے بیزاری کا اعلان اور ان سب سے الگ تھلگ رہنے کا حکم : 252: وہ کہتا ہے کہ خدا کے ٹھہرائے ہوئے دین کی حقیقت تو یہ تھی کہ وہ نوع انسانی پر خدا پرستی اور نیک عمل کی راہ کھولتا تھا یعنی اللہ کے اس قانون کا اعلان کرتا تھا کہ دنیا کہ ہرچیز کی طرح انسانی افکارو اعمال کے بھی خواص و نتائج ہیں۔ اچھے فکر و عمل کا بدلہ اچھا ہے ، برے فکر وعمل کا بدلہ برا ہے لیکن لوگوں نے یہ حقیقت فراموش کردی اور دین و مذہب کو نسلوں ، قوموں ، ملکوں اور طرح طرح کی رسموں اور رواجوں کا ایک جتھا بنا دیا نتیجہ یہ نکلا کہ اب انسان کی نجات وسعادت کی راہ یہ نہیں سمجھی جاتی کہ کسی کا اعتقاد اور عمل کیا ہے ؟ بلکہ سارا دارومدار اس پر آکر ٹھہر گیا ہے کہ کون کس جتھے اور گروہ بندی میں داخل ہے ؟ اگر ایک آدمی کسی خاص گروہ بندی میں داخل ہے تو یقین کیا جاتا ہے کہ وہ نجات یافتہ ہے اور دین کی سچائی اسے مل گئی اگر داخل نہیں ہے یقین کیا جاتا ہے کہ نجات کا دروازہ اس پر بند ہوگیا اور دین کی سچائی میں اس کا کوئی حصہ نہیں گویا دین کی سچائی ، آخرت کی نجات اور حق و باطل کا معیار تمام گروہ بندی اور گروہ پرستی ہوگئی اعتقاد وعمل کوئی چیز نہیں ہے۔ پھر باوجودیکہ تمام مذاہب کا اصل مقصود اصل ایک ہی ہے اور سب ایک ہی پروردگار عالم کی پرستش کرنے کے مدعی ہیں لیکن ہر گروہ یقین کرتا ہے کہ دین صرف اسی کے حصے میں آیا ہے باقی تمام نوع انسانی اس سے محروم ہے۔ چناچہ ہر مذہب کا پیرو دوسرے مذہب کے خلاف نفرت وتعصب کی تعلیم دیتا ہے اور دنیا میں خدا پرستی اور دین داری کی راہ سر تا سر بغض وعداوت ، نفرت وتوحش اور قتل و خونریزی کی راہ بن گئی ہے۔ اس سلسلہ میں قرآن کریم نے جن مہمات پر زور دیا ہے ان میں تین باتیں سب سے زیادہ نمایاں ہیں : 1 ۔ انسان کی نجات وسعات کا دارومدار اعتقاد عمل پر ہے نہ کہ کسی خاص گروہ بندی پر۔ 2 ۔ نوع انسانی کے لئے دین الٰہی ایک ہی ہے اور یکساں طور پر سب کو اس کی تعلیم دی گئی ہے اور محمد رسول اللہ ﷺ پوری نوع انسانی کے رسول ہیں اور یہ جو پیروان مذاہب نے دین کی وحدت اور عالمگیر حقیقت ضائع کر کے بہت سے متخالف اور متخاصم جتھے بنا لئے ہیں یہ صریح گمراہی ہے۔ 3 ۔ اصل دین توحید ہے یعنی ایک پروردگار عالم کی براہ راست پر ستش کرنا اور تمام بانیان مذاہب نے اس کی تعلیم دی ہے اور خصوصاً نبی اعظم وآخر ﷺ کی تعلیم دنیا کے سارے انسانوں کے لئے یہی ہے اس کے خلاف جس قدر عقائد و اعمال اختیار کر لئے گئے ہیں وہ سب کے سب اصلیت سے انحراف کا نتیجہ ہیں اور آپ کے لئے ہدایت یہ ہے کہ ان تمام گروہ بندیوں سے بیزاری کا اعلان کردیں اور ان میں سے کسی گروہ بندی کا ساتھ نہ دیں۔ لست منھم فی شیء یعنی تم کو ان سے کوئی واسطہ نہیں ہونا چاہئے۔ ان کا معاملہ خدا کے حوالے ہے جیسے کچھ ان کے اعمال رہے ہیں ان کا نتیجہ اللہ انہیں بتلا دے گا۔ اس کی تفصیل عروۃ الوثقیٰ جلد اول تفسیر سورة البقرہ کی آیت 59 ، آیت 81 ، آیت 106 ، آیت 113 ، آیت 127 ، آیت 129 میں اور اسی طرح عروۃ الوثقیٰ جلد دوم سورة آل عمران کی آیت 70 ، آیت 74 ، آیت 78 اور سورة النساء کی آیت 12 ، 149 میں ملاحظہ کریں۔
Ayah 6:160

مَنْ جَآءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهٗ عَشْرُ اَمْثَالِهَا١ۚ وَ مَنْ جَآءَ بِالسَّیِّئَةِ فَلَا یُجْزٰۤى اِلَّا مِثْلَهَا وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ Open ayah 6:160 in the Quran reader

جو کوئی نیکی لائے گا تو اس کے لیے اس کے عمل سے دس گنا زیادہ ثواب ہوگا اور جو کوئی برائی لائے گا تو وہ برائی کے بدلے اتنی ہی سزا پائے گا جتنی برائی کی ہوگی اور ایسا نہ ہوگا کہ لوگوں کے ساتھ ناانصافی کی جائے

نیکی کمانے والوں کے لئے کم از کم دس گنا اجر دئیے جانے کا اعلان عام : 253: زیر نظر آیت میں آخرت کی جزا و سزا کا کریمانہ ضابطہ ارشاد فرمایا کہ جو شخص ایک نیکی کمائے گا اس کو دس گنا بڑھا کر بدلہ دیا جائے گا اور جو شخص ایک گناہ کرے گا اس کا بدلہ صرف اس گناہ کے برابر اس کو دیا جائے گا۔ ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ تمہارا رب عزو جل رحیم ہے جو شخص کسی نیک کام کا صرف ارادہ کرے اس کے لئے ایک نیکی لکھ دی جاتی ہے خواہ عمل کرنے کی نوبت بھی نہ آئے ، پھر جب وہ نیک کام کو کرلے تو دس نیکیاں اس کے نامہ اعمال میں لکھ دی جاتی ہیں اور جو شخص کسی گناہ کا ارادہ کرے مگر پھر اس پر عمل نہ کرے تو اس کے لئے بھی ایک نیکی لکھ دی جاتی ہے اور اگر وہ گناہ کا عمل کرے تو ایک گناہ اس کے اعمال نامہ میں لکھ دیا جاتا ہے اور اگر اللہ چاہے تو اس کو بھی معاف فرما دے پھر اس عفو وکرم کے ہوتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے ہاں وہی شخص ہلاک ہو سکتا ہے جس نے خود ہلاک ہونے کی ٹھان لی ہے۔ (صحیح بخاری ، مسلم ، نسائی اور مسند احمد ) ایک قدسی حدیث میں بروایت ابو ذر ؓ بیان ہوا کہ جو شخص ایک نیکی کرتا ہے اس کو دس نیکیوں کا ثواب ملتا ہے اور اس سے بھی زیادہ اور جو شخص ایک گناہ کرتا ہے تو اس کی سزاصرف اس کے گناہ ہی کے برابر ملتی ہے یا وہ بھی معاف کردیا جاتا ہے اور جو شخص اتنے گناہ کر کے میرے پاس آئے جن سے ساری زمین بھر جائے (یہ کثرت گناہ کے لئے محاورہ ہے ) اور مغفرت کا طالب ہو تو میں اتنی ہی مغفرت سے اس کے ساتھ معاملہ کروں گا اور جو شخص میری طرف ایک بالشت قریب ہوتا ہے میں ایک ہاتھ اس کی طرف بڑھتا ہوں اور جو شخص ایک ہاتھ میری طرف آتا ہے میں اس کی طرف بقدر ایک باع کے آتا ہوں اور جو شخص میری طرف جھپٹ کر آتا ہے میں اس کی طرف دوڑ کر آتا ہوں۔ (ایک سادہ لوح انسان کی تفہیم کا کیا پیارا انداز ہے لیکن نکتہ چینوں نے اس کو کیا بنا دیا ) ۔ معلوم ہوا کہ نیکی کی جزا میں دس تک کی زیادتی جو اس آیت میں مذکور ہے ادنیٰ حد کا بیان ہے یعنی کم از کم جو بدلہ دیا جانے والا ہے اور اللہ تعالیٰ اپنے رحم وکرم سے اس سے زیادہ ہی دے گا جب کہ دوسری روایات میں ستر گنا یا سات سو گنا تک ثابت ہوتا ہے۔ ایک حدیث میں ہے کہ آپ نے فرمایا لوگ چار قسم کے ہوتے ہیں اور اعمال چھ قسم کے اور پھر لوگوں کی اقسام اس طرح گنوائیں کہ : (1) بعض وہ ہیں جو دنیا اور آخرت دونوں جگہ خوش نصیب نکلتے ہیں۔ (2) بعض صرف دنیا میں صاحب نصیب ہوتے ہیں اور آخرت میں صاحب نصیب نہیں ہوتے۔ (3) بعض دنا میں بدنصیب ہوتے ہیں اور آخرت میں وہ خوش نصیب ہوتے ہیں۔ (4) بعض بد بخت ایسے ہیں جو دنیا اور آخرت دونوں جگہ بدنصیب ہوتے اور اعمال کی چھ اقسام کو اس طرح بیان فرمایا : ” دو قسمیں تو واجب کردینے والی ہیں یعنی برابر برابر بدلہ ملے گا یا دس گنا زیادہ یا سات سو گنا زیادہ جو اللہ کے فضل پر ہی ایسا ہوگا اور نتیجہ بخش چیزیں بھی دو ہیں یعنی کوئی شخص مومن مرجائے اور اس نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرایا ہو تو نتیجہ میں جنت اس کے لئے ہے اور اس طرح جو کافر مرگیا ہو تو نتیجہ میں اس کے لئے دوزخ ہے۔ پانچویں قسم یہ ہے کہ ایک شخص نے نیکی کا ارادہ کیا لیکن کسی وجہ سے عمل نہ کرسکا تو اللہ جانتا ہے کہ اس کے دل میں یہ بات تھی اور وہ اس کو عمل میں لانے کے لئے حریص تھا اس لئے اس کے حق میں نیکی لکھ دی جاتی ہے اور چھٹی یہ کہ کسی شخص نے اللہ کی راہ میں کچھ خرچ کیا تو کبھی دس حصے زیادہ ثواب ملتا ہے اور کبھی سات سو گنا اس کے اجر میں اضافہ ہوتا ہے۔ “ برائی کا بدلہ برائی کے مطابق دیا جاتا ہے زیادہ نہیں : 254: آخرت میں تو ایسا ہی ہوگا کہ برائی کا بدلہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اگر دیا گیا تو اس کی برائی کے برابر ہی ہوگا زیادہ نہیں کیونکہ زیادہ ہونا ظلم ہے جب کہ وہ برائی میں ہو اور نیکی میں زیادہ ہو تو وہ ظلم نہیں بلکہ وہ عفو ورحم ہے اور اللہ سے عفو ورحم کا صدور یقینی ہے لیکن ظلم کا تصور ممتنع ہے کیونکہ اللہ کی ذات رحیم وکریم تو ہے اور ہونا بھی چاہئے لیکن ظلم کا صدور اس سے ممکن ہی نہیں ہاں ! عفو وکرم اس طرح ہو سکتا ہے کہ وہ چاہے تو اس کی برائی کو معاف فرما دے اور انسان کو یہی امید اپنے رب سے رکھنی چاہئے کہ وہ ضرور کرم فرمائے گا اور وہ یقیناً بخش دے گا بشرطیکہ انسان نے خود اپنی ذات پر ظلم نہ کیا ہو اور اس ظلم سے ہماری مراد شرک کا ارتکاب ہے کیونکہ مشرک سے بڑا کوئی اور ظالم نہیں ہوسکتا کہ وہ خود اپنی جان پر ظلم کرتا ہے۔
Ayah 6:161

قُلْ اِنَّنِیْ هَدٰىنِیْ رَبِّیْۤ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ١ۚ۬ دِیْنًا قِیَمًا مِّلَّةَ اِبْرٰهِیْمَ حَنِیْفًا١ۚ وَ مَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِیْنَ Open ayah 6:161 in the Quran reader

تم کہہ دو مجھے تو میرے پروردگار نے سیدھا راستہ دکھایا ہے وہی درست اور صحیح دین ہے ابراہیم (علیہ السلام) کا طریقہ کہ ایک ہی اللہ کے لیے ہوجانا اور ابراہیم (علیہ السلام) ہرگز مشرکوں میں سے نہ تھا

ابراہیم (علیہ السلام) کا دین حنیف بھی شرک سے بیزاری ہی تھا اور یہی اسلام ہے : 255: اسلام کو قرآن کریم میں بار بار ملت ابراہیمی (علیہ السلام) کہا گیا ہے اگرچہ اسلام کو ملت نوح (علیہ السلام) ، ملت موسیٰ (علیہ السلام) اور ملت عیسیٰ (علیہ السلام) بھی کہا جاسکتا ہے پھر کیا یہ ہے کہ ملت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعوت ہی کی اتباع کرنے کا حکم دیا گیا ہے ؟ ملت ابراہیم (علیہ السلام) کی اتباع کی دعوت تین وجوہ سے دی گئی ہے ایک یہ کہ قرآن کریم کے اولین مخاطب اہل عرب تھے اور وہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے جس طرح مانوس تھے کسی اور سے نہ تھے۔ ان کی تاریخ ، روایات اور معتقدات میں جس شخص کا اثرو رسوخ رچا ہوا تھا وہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ہی کی شخصیت تھی۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ہی وہ شخص تھے جن کی بزرگی پر یہودی ، عیسائی ، مسلمان ، مشرکین عرب اور شرق اوسط کے صائبی سب متفق تھے انبیاء (علیہ السلام) میں کوئی دوسرا شخص ایسا نہ تھا اور نہ ہے جس پر سب کا اتفاق ہو۔ تیسری وجہ ہے یہ کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ان سب ملتوں کی پیدائش سے پہلے گزرے ہیں۔ یہودیت ، عیسائیت اور سائبیت کے متعلق تو معلوم ہی ہے کہ سب بعد کی پیداوار ہیں رہے مشرکین عرب تو وہ بھی یہ مانتے تھے کہ ان کے ہاں بت پرستی کا رواج عمرو بن لحی سے شروع ہوا جو نبی خزاعہ کا سردار تھا اور موآب کے علاقہ سے ہبل نامی بت لے آیا تھا اور اس کا زمانہ زیادہ تر پانچ چھ سو سال قبل مسیح کا ہے لہٰذا یہ ملت بھی ابراہیم (علیہ السلام) سے صدیوں بعد پیدا ہوئی اس صورت حال کے پیش نظر قرآن کریم جب کہتا ہے کہ ان ملتوں کی بجائے ملت ابراہیم (علیہ السلام) کو اختیار کرو تو وہ دراصل اس حقیقت پر متنبہ کرتا ہے کہ اگر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) برحق اور برسر ہدایت تھے اور ان حلقوں میں سے کسی کے پیرو نہ تھے تو لا محالہ پھر وہی ملت اصل ملت حق ہے نہ کہ یہ بعد کی ملتیں اور محمد رسول اللہ ﷺ کی دعوت اسی ملت کی طرف ہے جو سب کی متفق علیہ ہے پھر اس سے گنجائش انکار کیسے ؟ اس ایک بات پر غور کرلیا جائے تو کتنے جھگڑے ہیں جو خود بخود ختم ہوجاتے ہیں اور اس طرح کے سوالات کا جواز ختم ہوجاتا ہے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) ہی کو ” ابن مریم “ اور ” کلمۃ اللہ “ اور ” روح منہ “ کے الفاظ سے کیوں خطاب کیا گیا ہے ؟ موسیٰ (علیہ السلام) کی صرف ماں ہی کا ذکر کیوں قرآن میں آیا ہے ؟ یونس (علیہ السلام) ہی کو کیوں صاحب حوت اور صاحب نون کہا گیا ہے ؟ ؟ ؟ ؟ جواب واضح ہے کہ یہ سب اسی طرح مشہور ومعروف ہوچکے تھے اور ان کا عرف ان کے حق بالکل صحیح تھا۔
Ayah 6:162

قُلْ اِنَّ صَلَاتِیْ وَ نُسُكِیْ وَ مَحْیَایَ وَ مَمَاتِیْ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 6:162 in the Quran reader

تم کہہ دو میری نماز ، میرا حج ، میرا جینا ، میرا مرنا سب کچھ اللہ ہی کے لیے ہے جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے

کہہ دو میری نماز ، میرا حج ، میرا مرنا اور جینا سب اللہ ہی کے لئے ہے : 256: یہ اعلان نبی اعظم وآخر ﷺ سے کرایا گیا جو مبنی برحق تھا اور ساری ملتوں کے لئے ایک ہی طرح کی حیثیت رکھتا تھا۔ یہ ملت ابراہیم (علیہ السلام) اور ملت اسلام بلکہ سارے انبیاء (علیہ السلام) کی ملتوں کی اصل روح ہے جس کو جس ملت کے جسم سے بھی الگ کردیا گیا ہو یا الگ کردیا جائے وہ ملت یقیناً مردہ تھی اور مردہ ہے اور جسم بغیر روح کے جو حیثیت رکھتا ہے وہ سب پر روشن ہے۔ صلوٰۃ اور قربانی اور زندگی اور موت دونوں میں غور کیجئے کہ کتنا حسین تقابل ہے۔ صلوٰۃ کے مقابلہ میں زندگی اور قربانی کے مقابلہ میں موت ہے یہ گویا اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ جو اس ملت پر ہے وہ جیتا ہے تو اللہ کے لئے اور مرتا ہے تو اللہ کے لئے۔ اس کو زندگی میں کوئی تقسیم نہیں ہے یہ راز ابتداء وانتہا بالکل ہم رنگ اور ہم آہنگ ہے۔ اللہ کا کوئی ساجھی نہیں اس وجہ سے بندے کی زندگی میں بھی کوئی ساجھی نہیں۔ مطلب یہ ہے کہ پوری زندگی بغیر کسی تقسیم وتجزیہ کے صرف اللہ وحدہ لا شریک لہ کے لئے ہے۔ یہی میری فطرت ہے اور اسی کی مجھے ہدایت دی گئی ہے۔ یہ ایک قلادہ ہے جو میں نے اپنی گردن میں پہن لیا ہے اور میں ہوں کہ اس راہ پر چل پڑا ہوں اب جس میں ہمت ہے وہ اس راہ میں میرا ساتھ دے اور یہ بھی کہ جو میرا ساتھ دے گا وہی میرا ہے اور جو میرا ساتھ نہیں دے گا وہ یقیناً میرا نہیں اور میں اپنا سفر دوسروں کے لئے ملتوی کرنے والا بھی نہیں اور میری ہی وہ ملت ہے جو ملت ابراہیم (علیہ السلام) کہلانے کی حق دار ہے اور میری ہی وہ راہ ہے جو ” راہ مستقیم “ کہلاتی ہے ، باقی ساری راہیں ٹیڑھی ہیں اور میں اس دین کا پیرو اور پرچار کرنے والا ہوں جو دین صرف اور صرف ایک طرف کا دین ہے ہر جائی دین نہیں۔ غور کرو کہ ہر نبی کی تحریک شرک کے خلاف تھی کوئی نبی ورسول بھی شرک کی دعوت لے کر نہیں آیا بلکہ ہر نبی و رسول نے شرک کا ایک جیسا رد کیا اور پورے زور وشور سے کیا۔ ہر نبی نے توحید کا سبق پڑھایا اور زور وشور سے پڑھایا لیکن حَنِیْفًا 1ۚ کا لفظ صرف اور صرف ابراہیم (علیہ السلام) ہی کے حق میں بولا گیا۔ قرآن کریم میں یہ لفظ دس بار استعمال ہوا اور ہر بار ابراہیم (علیہ السلام) کے لئے بولا گیا اور اسی طرح ” حُنَفَآءَ “ کا لفظ دو بار استعمال ہوا اور دونوں بار شرک کے خلاف آیا جیسا کہ ارشاد الٰہی ہوا کہ : ” حُنَفَآءَ لِلّٰهِ غَیْرَ مُشْرِكِیْنَ بِهٖ 1ؕ“ یکسو ہو کر اللہ کے بندے بنو اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو۔ ” حُنَفَآءَ وَ یُقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ یُؤْتُوا الزَّكٰوةَ وَ ذٰلِكَ دِیْنُ الْقَیِّمَةِؕ005 “ یکسو ہو کر اللہ کی بندگی کریں اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کریں یہی نہایت صحیح اور درست دین ہے اور اس دین کی تعلیم وتبلیغ کے لئے محمد رسول اللہ ﷺ کو مبعوث کیا گیا اور یہی تعلیم وتبلیغ وہ زندگی بھر دیتے رہے اور اسی کی طرف قیامت تک دعوت دی جاتی رہے گی اس کے علاوہ سب کچھ باطل وفاسد ہے اور یہی وہ دعوت اسلام ہے جس کی دعوت دنیا کے سارے نبی ورسول دیتے رہے۔ اس لئے یہی وہ دعوت ہے جس کو اسلام کی دعوت کہا جاسکتا ہے۔
Ayah 6:163

لَا شَرِیْكَ لَهٗ١ۚ وَ بِذٰلِكَ اُمِرْتُ وَ اَنَا اَوَّلُ الْمُسْلِمِیْنَ Open ayah 6:163 in the Quran reader

اس کا کوئی شریک نہیں مجھے اس بات کا حکم دیا گیا ہے اور میں فرمانبرداروں میں پہلا فرمانبردار ہوں

اللہ کا کوئی شریک نہیں اور ” مجھے ہے حکم اذاں لا الٰہ الا اللہ “ : 257: جب اللہ تعالیٰ ہی ہرچیز کا رب ہے تو میں آخر کس طرح اس کے سوا کسی اور کو رب بنائوں جس طرح اللہ کی الوہیت میں اس کا کوئی شریک نہیں بالکل اسی طرح اس کی ربوبیت میں بھی اس کا کوئی شریک نہیں۔ یہی وہ دین خاص دین ہے جسے قرآن کریم پیش کر رہا ہے جس میں بندگی ، عبادت اور طاعت کا مستحق اللہ وحدہ لا شریک لہ کے سوا اور کوئی نہیں ہے۔ یہی وہ دین ہے جس کی اذان کا مجھے حکم دیا گیا ہے۔ ہر جان جو کمائی کرے گی اس کی ذمہ داری بہرحال اس پر لازم ہے کوئی دوسرا اس کے بوجھ کا اٹھانے والا نہیں بنے گا۔ اللہ ہی کی طرف سب کا پلٹنا ہوگا اور ہر بات کا فیصلہ فرما دے گا میں نے اپنا رخ یکسو ہو کر اس کی طرف جما دیا ہے اور اس کے بعد کسی دوسرے کی طرف رخ پھیرنے والا نہیں۔ زندگی کے لئے میں نے جو راہ اختیار کرلی ہے وہ خود نہیں کی بلکہ اس کے حکم سے اختیار کی ہے اور اس راہ سے اب کسی دوسری راہ کی طرف التفات نہیں کرسکتا اور میں مسلمانوں میں پہلا فرمانبردار ہوں۔
Ayah 6:164

قُلْ اَغَیْرَ اللّٰهِ اَبْغِیْ رَبًّا وَّ هُوَ رَبُّ كُلِّ شَیْءٍ١ؕ وَ لَا تَكْسِبُ كُلُّ نَفْسٍ اِلَّا عَلَیْهَا١ۚ وَ لَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰى١ۚ ثُمَّ اِلٰى رَبِّكُمْ مَّرْجِعُكُمْ فَیُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ فِیْهِ تَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 6:164 in the Quran reader

تم ان لوگوں سے پوچھو کیا میں اللہ کے سوا کوئی دوسرا پروردگار ڈھونڈوں حالانکہ وہی ہرچیز کا پرورش کرنے والا ہے ؟ اور دیکھو ہر آدمی اپنے عمل سے جو کچھ کماتا ہے وہ اس کے ذمہ ہوتا ہے کوئی بوجھ اٹھانے والا دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھاتا ، پھر تم سب کو اپنے پروردگار کی طرف لوٹنا ہے اور وہ بتلائے گا کہ تم جن باتوں میں اختلاف کیا کرتے تھے ان کی حقیقت کیا تھی

کیا میں اللہ کے سوا کوئی دوسرا پروردگار تلاش کروں جبکہ ہرچیز کا وہی رب ہے : 258: گویا میں اصل رب جو رب العالمین ہے کو چھوڑ کر کوئی دوسرا رب تلاش کروں تو حد سے تجاوز کر جائوں اور یہ میرے لئے کیسے ممکن ہو سکتا ہے۔ کفار مکہ نبی اعظم وآخر ﷺ سے بارہا کہا کرتے تھے کہ آپ ہمارا دین قبول کرلیجئے اور ہمارے خدائوں کی پرستش شروع فرما دیجئے اور اس طرح اگر آپ کو دنیا اور آخرت میں کوئی گزند پہنچے تو ہم اس کے ذمہ دار ہیں۔ نالائق کا کام کیا ہے ؟ یہی کہ جو اس کے منہ میں آیا بغیر سوچے سمجھے کہہ دیا بس یہی حالت ان نالائقوں کی تھی جو بےسوچے سمجھے ان کے منہ میں آیا بک دیا یہی ان کا کام تھا۔ ہر آدمی اپنے کئے کا خود ذمہ دار ہے اور کوئی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھا سکتا : 259: اللہ تعالیٰ اپنے رسول ﷺ سے ارشاد فرماتا ہے کہ آپ ﷺ ان احمقوں سے کہئے کہ تم کتنے بیوقوف ہو کیا میں اس پروردگار کو چھوڑ کر جو میرا بھی رب ہے اور کائنات کی ہرچیز کا بھی رب ہے کسی اور کو رب بنا لوں۔ تمہارا یہ خیال کتنا احمقانہ ہے اور تمہارا یہ کہنا کتنا لغو کہ تم میرا بوجھ اٹھا لو گے جب کہ حقیقت یہ ہے کہ کوئی کسی کا بوجھ نہیں اٹھا سکتا ہر ایک کو اپنا بوجھ خود ہی اٹھانا پڑے گا اور کسی کے بدلے کوئی دوسرا نہیں پکڑا جائے گا۔ یہ بات تمہاری صحیح نہیں ہو سکتی کہ تم میرا بوجھ اٹھائو گے اور جب کہ میں بھی تمہارا بوجھ نہیں اٹھا سکتا حالانکہ میں اللہ کا رسول ہوں اور انجام کار تم کو بھی اور ہم کو بھی لوٹ کر اپنے رب کے پاس جانا ہے وہ تم کو ہر اس بات میں کہ جس میں تم اختلاف کرتے رہے خبردار کر دے گا اگرچہ اس وقت تمہارا خبردار ہونا بھی تم کو کچھ فائدہ نہیں دے گا۔
Ayah 6:165

وَ هُوَ الَّذِیْ جَعَلَكُمْ خَلٰٓئِفَ الْاَرْضِ وَ رَفَعَ بَعْضَكُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجٰتٍ لِّیَبْلُوَكُمْ فِیْ مَاۤ اٰتٰىكُمْ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ سَرِیْعُ الْعِقَابِ١ۖ٘ وَ اِنَّهٗ لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠ Open ayah 6:165 in the Quran reader

اور وہی ہے جس نے تمہیں زمین میں (ایک دوسرے کا) جانشین بنایا اور تم میں سے بعض کو بعض پر مرتبے دیئے تاکہ جو کچھ تمہیں دیا گیا اس میں تمہیں آزمائے ، بلاشبہ تمہارا پروردگار جلد سزا دینے والا ہے اور بلاشبہ وہ بخشنے والا رحمت والا ہے

وہی ہے جس نے تم کو جانشین بنایا اور تمہیں درجات میں بلند کیا تاکہ آزمائش کرے : 260: یہ نبی اعظم وآخر ﷺ کے ان مخالفین ومعاندین کے لئے تنبیہ ہے جو آپ ﷺ کو بڑی ڈھٹائی سے یہ کہہ رہے تھے کہ اگر آپ ہمارا دین قبول کرلیں اور ہمارے خدائوں کی پرستش شروع کردیں تو اس سلسلہ میں آپ کو دنیا و آخرت میں کوئی گزند پہنچے تو ہم ذمہ دار ہیں فرمایا تم اس بات کی ذمہ داری کیسے لے سکتے ہو جب کہ تمہارے پہلوں کو اس دنیا سے اٹھانے والا اور تم کو ان کا جانشین بنانے والا اللہ ہے نہ تمہارے پہلے اپنی مرضی کے مطابق یہاں سے رخصت ہوئے اور نہ تم اپنی مرضی سے ان کی جگہ برا جمان ہو کر ان کے جانشین ہوگئے۔ تمہارے پہلوں کو اس دنیا سے اپنے قانون کے مطابق رخصت کرنے والا وہی ہے جو تمہارا اس جگہ لا کر ان کا جانشین بنانے والا ہے اور اب جبکہ تم خود کسی کے جانشین ہو اس جگہ کو کبھی خالی کرنے کے لئے تیار نہیں اور وہی اللہ اپنے قانون کے مطابق تم کو پہلوں کا جانشین بنانے والا ، دوسروں کو لا کر تمہارا جانشین بنا دے گا اور تمہیں اپنے قانون کے مطابق واپس بلا لے گا تم آنے پر بھی مجبور محض تھے اور جانے پر بھی مجبور محض ہو اور اسی آنے اور جانے کے درمیان کچھ وقت جو اس نے تم کو دے دیا ہے اس میں کسی قدر باتیں بنا رہے ہو جیسے تم ہی اس کائنات کے مالک ہو اور تم جیسا چاہو گے کر دکھائو گے۔ اتنی بڑی بھول اور اتنے مختصر وقت میں تمہیں کوئی عقل مند انسان نہیں کہے گا بلکہ کہے گا تو احمق اور نالائق ہی کہہ سکے گا۔ تم کو اللہ ہی نے ایک دوسرے پر فوقیت بخشی ہے کوئی اولاد میں زیادہ ہے تو کوئی دولت میں ، کوئی اقتدار میں زیادہ ہے تو کوئی دنیوی ترقیوں میں فوقیت لے جانے والا ہے اور یہ سب کچھ کیوں ہے ؟ اس لئے کہ وہ تمہاری آزمائش کر رہا ہے اور اسی قانون امہال کے تحت وقت دئیے چلا جا رہا ہے۔ اس نے تم کو گزری ہوئی امتوں کا قائم مقام بنا یا ہے اور ایک دوسرے پر فوقیت دی ہے تو ان ساری سرفرازیوں کا مقصد یہ ہے کہ تمہارا امتحان کرے کہ تم اپنے منعم حقیقی کی کس طرح شکر گزاری کرتے ہو اگر وہ چاہے تو چشم زدن میں تم کو عذاب میں گرفتار کر دے لیکن وہ غفور ورحیم اور اس کی رحمت اور مغفرت بےانداز ہے تمہارا فرض یہ ہے کہ تم اس کی آزمائش میں پورے اترتے ہوئے اس کا شکر بجا لائو ، اس کے قانون مکافات سے ڈرتے رہو کہ وہ نافرمانوں پر عذاب بھیجنے والا ہے اور اس کے فرمانبردار ہو کہ وہ فرمانبرداروں کے لئے شفقت رکھنے والا پیار کرنے والا ہے۔ سورة الانعام کو ” اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ “ سے شروع کیا گیا تھا اور ” اِنَّهٗ لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ (رح) 00165 “ پر ختم کیا جا رہا ہے اور حدیث میں ہے کہ سورة الانعام مکمل ایک ہی دفعہ نازل ہوئی اور بہت بڑی شان کے ساتھ نازل ہوئی کہ اللہ کی ان طاقتوں اور قوتوں میں ایک خاص جلو تھا یعنی فرشتے تسبیح خواں تھے اور اس سورة کا شمار افضل و اعلیٰ سورتوں میں ہوتا ہے اور شرک وکفر کے بیماروں کا اس میں بہترین علاج موجود ہے ۔ وَ اٰخِرُ دَعْوٰنَا اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ ۔