6. Surah Al-An'aam

الأنعامThe Cattle · 165 ayahsعروۃ الوثقٰی

Ayah 6:11

قُلْ سِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ ثُمَّ انْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُكَذِّبِیْنَ Open ayah 6:11 in the Quran reader

ان سے کہو زمین میں پھرو اور دیکھو جھٹلانے والوں کو کیسا انجام پیش آچکا ہے ؟

نبی اعظم و آخر ﷺ کے مخالفین کو حکم کہ گذشتہ امتوں کا حال پڑھ سن لو : 18: ” اے پیغمبر اسلام ! ان سے کہو زمین میں پھرو اور دیکھو جھٹلانے والوں کو کیسا انجام پیش آچکا ہے۔ ‘ ‘ اس چھوٹی سی آیت میں آخرت کی وہ زبردست دلیلیں بھی ہیں اور نصیحت بھی۔ پہلی دلیل یہ ہے کہ دنیا کی جن قوموں نے بھی آخرت کو نظر انداز کیا ہے وہ مجرم ومکذب بنے بغیر نہیں رہ سکی ہیں۔ وہ ہمیشہ غیر ذمہ دار بن کر رہیں ۔ انہوں نے ظلم وستم ڈھائے۔ وہ فسق وفجور میں غرق ہوگئیں اور اخلاق کی تباہی نے آخر کار ان کو برباد کر کے چھوڑا۔ یہ تاریخ انسانی کا مسلسل تجربہ ، جس پر زمین میں ہر طرف تباہ شدہ قوموں کے آثار شہادت دے رہے ہیں صاف ظاہر ہوتا ہے کہ آخرت کے ماننے اور نہ ماننے کا نہایت گہرا تعلق انسانی رویئے کی صحت اور عدم صحت سے ہے ۔ اس کو مانا جائے تورویہ درست رہتا ہے ۔ نہ مانا جائے تو رویہ غلط ہوجاتا ہے ۔ یہ اس امر کی صریح دلیل ہے کہ اس کا ماننا حقیقت کے مطابق ہے اس لئے اس کے ماننے سے انسانی زندگی ٹھیک ڈگر پر چلتی ہے اور اس کا نہ ماننا حقیقت کے خلاف ہے اسی وجہ سے یہ گاڑی پٹری سے اتر جاتی ہے۔ دوسری دلیل یہ ہے کہ تاریخ کے اس طویل تجربے میں مجرم بن جانے والی قوموں کا مسلسل تباہ ہونا اس حقیقت پر صاف دلالت کرتا ہے کہ یہ کائنات بےشعور طاقتوں کی اندھی ، بہری فرمانروائی نہیں ہے بلکہ یہ ایک حکیمانہ نظام ہے جس کے اندر ایک اٹل قانون مکافات کام کر رہا ہے جس کی حکومت انسانی قوموں کے ساتھ سراسر اخلاقی بنیادوں پر معاملہ کر رہی ہے جس میں کسی قوم کو بدکرداریوں کی کھلی چھوٹ نہیں دی جاتی کہ ایک دفعہ عروج پا جانے کے بعد وہ ابد الاباد تک داد عیش لیتی رہے اور ظلم وستم کے ڈنکے بجائے چلی جائے بلکہ ایک خاص حد کو پہنچ کر ایک زبر دست ہاتھ آگے بڑھتا ہے اور اسکو بام عروج سے گرا کر قصر مذلت میں پھینک دیتا ہے۔ اس حقیقت کو جو شخص سمجھ لے وہ کبھی اس امر میں شک نہیں کرسکتا کہ یہی قانون مکافات اور دنیوی زندگی کے بعد ایک دوسرے عالم کا تقاضا کرتا ہے جہاں افراد کا اور قوموں کا اور بحیثیت مجموعی پوری نوع انسانی کا انصاف چکایا جائے ۔ کیونکہ محض ایک ظالم قوم کے تباہ ہوجانے سے تو انصاف کے سارے تقاضے پورے نہیں ہوگئے۔ اس سے ان مظلوموں کی تو کوئی داد رسی نہیں ہوئی جن کی لاشوں پر انہوں نے اپنی عظمت کا قصر بنایا تھا۔ اس سے ان ظالموں کو تو کوئی سزا نہیں ملی جو تباہی کے آنے سے پہلے مزے اڑا کر جاچکے تھے ۔ اس سے ان بدکاروں پر بھی کوئی مواخذہ نہیں ہوا جو پشت درپشت اپنے بعد آنے والی نسلوں کے لئے گمراہیوں اور بد اخلاقیوں کی میراث چھوڑتے چلے گئے تھے ۔ دنیا میں عذاب بھیج کر تو صرف ان کی آخری نسل کے مزید ظلم کا سلسلہ توڑ دیا گیا۔ ابھی عدالت کا اصل کام تو ہوا ہی نہیں کہ ہر ظالم کو اس کے کئے کا بدلہ دیا جائے اور ہر مظلوم کے نقصان کی تلافی کی جائے اور ان سب لوگوں کو انعام دیا جائے جو بدی کے اس طوفان میں راستی پر قائم اور اصطلاح کے لئے کوشاں رہے اور پوری عمر اس راہ میں اذیتیں سہتے رہے۔ یہ سب لازماً کسی وقت ہونا چاہئے کیونکہ دنیا میں قانوں مکافات کی مسلسل کار فرمائی کائنات کی فرمانبروا حکومت کا یہ مزاج اور طریقہ کار صاف بتا رہی ہے کہ وہ انسانی اعمال کی اخلاقی قدر کے لحاظ سے تولتی اور انکی جزاء و سزاء دیتی ہے۔ ان دلیلوں کے ساتھ اس آیت میں نصیحت کا پہلو یہ ہے کہ پچھلے مجرموں کا انجام دیکھ کر اس سے سبق سیکھ لو اور انکار رسول اور انکار آخرت کے اس احمقانہ عقیدے پر اصرار نہ کئے چلے جاؤ ورنہ جس نے انہیں مجرم بنا کر چھوڑا تھا تم کو بھی مجرم بنادے گا۔ یہ انکار زبان سے ہو یا عمل سے ایک ہی نتہج رکھتا ہے اور یہی مضمون قرآن کریم کے مختلف مقامات پر تصریف آیات کے تحت بیان کیا گیا ہے جیسے سورة النحل کی آیت 36 میں ، سورة النحل کی آیت 69 میں ، سورة العنکبوت کی آیت 20 میں اور سورة الروم کی آیت 42 میں مزید تفصیل کے لئے عروہ الوثقیٰ جلد دوم تفسیر سورة آل عمران کی آیت 137 پر نگاہ ڈال لیں۔
Ayah 6:12

قُلْ لِّمَنْ مَّا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ قُلْ لِّلّٰهِ١ؕ كَتَبَ عَلٰى نَفْسِهِ الرَّحْمَةَ١ؕ لَیَجْمَعَنَّكُمْ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ لَا رَیْبَ فِیْهِ١ؕ اَلَّذِیْنَ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ فَهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 6:12 in the Quran reader

اے پیغمبر اسلام ! ان سے پوچھو آسمانوں میں اور زمین میں جو کچھ ہے وہ کس کے لیے ہے ، کہو اللہ کے لیے اس نے اپنے اوپر لازم کرلیا ہے کہ رحمت فرمائے وہ ضرور تمہیں قیامت کے دن جمع کرے گا اس میں کوئی شک نہیں ، جو لوگ اپنے آپ کو تباہ کرچکے ہیں وہ کبھی یقین کرنے والے نہیں

مخالفین سے سوال کہ آسمان و زمین میں جو کچھ ہے اس کا اصل مالک کون ہے ؟ : 19: ” اے پیغمبر اسلام ! ان سے پوچھو آسمانوں میں اور زمین میں جو کچھ ہے وہ کس کے لئے ہے ۔ ” بس حسن ترجمہ کے لئے یہ کہہ دیا کہ ” کس کے لئے ہے ؟ “ اصل میں سوال یہ ہے کہ ” کس کا ہے ؟ “ یعنی اس کا مالک کون ہے ؟ یہ سوال مشرکین مکہ سے کیا گیا جن کا شرک آج کل کے مشرکوں سے بہت ہلکا تھا ۔ ممکن ہے کہ ان سے پوچھا جائے تو یہ کسی اور ہی کا نام لے لیں کیونکہ مانگا اس سے جاتا ہے جو ایک چیز کا مالک و مختار ہو اور آج کا مشرک تو برملا اور پکار پکار کہتا ہے کہ۔ اللہ کے پلے میں وحدت کے سوا کیا ہے ۔ جو کچھ ہمیں لینا ہے لے لیں گے محمد (علیہ السلام) سے اور آج ہی کے مشرک ہیں کہ ان کو غیر اللہ سے سب کچھ ہونے کا یقین ہے اور اللہ سے کچھ بھی ہونے کا ان کو یقین نہیں۔ اسی لئے علامہ اقبال ؓ نے ان کو مخاطب کر کے کہہ دیا کہ بتوں سے تجھ کو امیدیں خدا سے ناامیدبتا تو سہی اور کافری کیا ہے ؟ عرض کیا جا رہا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول محمد رسول اللہ ﷺ کو مخاطب کر کے فرمایا کہ ان مکہ والوں سے پوچھتے کہ آسمان و زمین میں جو کچھ ہے وہ کس کا ہے ؟ چونکہ یہ سوال ان سے بار بار کیا جا چکا تھا جیسے سورة المومنون میں فرمایا ” ان سے کہو بتاؤ اگر تم جانتے ہو کہ یہ زمین اور اس کی ساری آبادی کس کی ہے ؟ یہ ضرور کہیں گے اللہ کی۔ “ (المومنون 23 : 84) ” ان سے کہو ، بتاؤ اگر تم جانتے ہو کہ ہرچیز پر اقتدار کس کا ہے ؟ اور کون ہے وہ جو پناہ دیتا ہے اور اس کے مقابلہ میں کوئی پناہ نہیں دے سکتا ؟ وہ فوراً بول اٹھیں گے کہ اللہ “ (المومنون 23 : 88) اور یہی مختلف مقامات پر ان سے دہرایا گیا جیسے : قُلْ مَنْ یُّنَجِّیْكُمْ مِّنْ ظُلُمٰتِ الْبَرِّ (الانعام 6 : 63) قُلْ مَنْ یَّرْزُقُكُمْ مِّنَ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ (یونس 10 : 31) قُلْ مَنْ یَّكْلَؤُكُمْ بِالَّیْلِ وَ النَّهَارِ (الانبیاء 21 : 42) قُلْ مَنْۢ بِیَدِهٖ مَلَكُوْتُ کُلِّ شَیْءٍ (مومنون 23 : 88) قُلْ مَنْ یَّرْزُقُكُمْ مِّنَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ 1ؕ (سباء 34 : 24) اس لئے زیر نظر آیت تھوڑے سے وقفہ کے بعد اللہ تعالیٰ نے خود جواب دے دیا کیونکہ وہ یہی جواب اس سے پہلے دے چکے تھے اور یہ طریقہ جواب سارے انسانوں کی زبان میں معروف ہے کہ جس جگہ ایک ہی جواب دیا جاسکے وہاں خود ہی جواب دے دیا جاتا ہے اور اس طرح کلام میں ایک خاص زور پیدا ہوجاتا ہے اور اہل زبان سے یہ امر مخفی نہیں۔ مخالفین کا جواب ہوگا ” اللہ کے لئے “ فرما دیجئے بس وہی تم سب کو جمع کرنے والا بھی ہے : 20: جیسا کہ اوپر ذکر کیا گیا کہ یہ بات قاعدہ کی ہے کہ جب سوال کا جواب صرف اور صرف ایک ہی ہو اور جس سے سوال کیا جا رہا ہے اس کو بھی اس سے انکار نہ ہو تو سائل خود ہی جواب دے دیتا ہے چونکہ اس سوال کے جواب میں اس وقت کے مشرکین کو بھی اختلاف نہ تھا اس لئے نبی اعظم وآخر ﷺ کی زبان مبارک سے جواب دلادیا گیا۔ پھر اس جواب پر یہ سوال بھی فطری تھا کہ ایسے نابکار لوگوں کو زندہ کیوں رہنے دیا جاتا اور انہیں فوراً نیست و نابود کیوں نہیں کردیا جاتا ؟ اس لئے خود ہی اس کی وضاحت فرما دی کہ اللہ تعالیٰ نے کسی مجبوری یا کمزوری کی وجہ سے نہیں بلکہ محض اپنے فضل و کرم سے رحمت کو اپنے اوپر لازم کرلیا ہے اور جس چیز کو اس نے خود ہی لازم کیا ہو اور جس وقت اس کو مہلت دینا اپنے قانون میں طے کردیا ہو وہ خواہ کتنی ہی نافرمانیاں کریں اس کے ساتھ شریک ٹھہرائیں یہاں تک کہ اس کی ہستی ہی کا انکار کردیں اس کی رحمت کا وسیع دامن اس وقت تک ان پر سایہ فگن رہتا ہے اور انکی زندگی کی جو میعاد مقرر کردی گئی ہے اس وقت تک انہیں زندہ رہنے کے وسائل بہم پہنچائے جاتے ہیں کیوں ؟ اس لئے کہ وہ صرف مومنوں اور نیک لوگوں ہی کا رب نہیں بلکہ دنیا کے سارے فاسقوں ، ظالموں اور کافروں کا رب بھی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اس کا بنایا ہوا سورج ، چاند ، ستارے ، بارش اور ہوا وغیرہ سب کے لئے ایک ہی حیات آفرین تاثر رکھتے ہیں۔ پھر یہ بھی کہ انہی چیزوں کو دیکھو ان فاسقوں ، ظالموں اور کافروں میں سے ایمان لانے والے ایمان بھی لاتے رہتے ہیں اور انہی مردوں سے زندہ کے لئے اس نے ہدایت کا نظام چلا رکھا ہے کہ مختلف ادوار میں مختلف ہادی ان مردوں کو زندگی کی دعوت دیتے رہے اور جن کے مقدر میں اللہ نے حیات رکھی تھی وہ زندہ بھی ہوتے رہے ، ہو رہے ہیں اور ہوتے رہیں گے۔ اس جگہ بھی ان ساری قوم کے لوگوں کو ترغیب دلائی جا رہی ہے کہ وہ اپنی سابقہ بداعمالیوں کی وجہ سے مایوس نہ ہوجائیں اگر اب بھی وہ سچے دل سے توبہ کرلیں تو دامن الٰہی ان کو اپنی لپیٹ میں لینے کے لئے آج بھی تیار ہے اور اس کا متعین وقت آجانے تک تیار ہی رہے گا۔ اس لئے کہ اس کی رحمت کے تقاضوں کو کوئی روک نہیں سکتا۔ پھر سب انسانوں کو خواہ وہ نیک ہوں یا بد ایک مقرر دن میں وہ سب کو جمع کرنے والا بھی ہے اور کوئی نہیں جو اکڑ کر اترا کر اس جگہ حاضر ہونے سے انکار کر دے۔ نہ ماننے والوں کو ہزار دلیلیں دی جائیں لیکن وہ ماننے والے نہیں : 21: خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ ” جنہوں نے اپنے آپ کو نقصان میں ڈالا “ خسارہ صرف جان ومال اور کاروبار ہی کے نقصان کو نہیں کہا جاتا بلکہ اصل خسارہ اس قیمتی استعداد کو ضائع کرنا ہے جو حق و باطل میں فرق کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو عطا کی ہے ۔ کفار چونکہ سب کچھ جاننے بوجھنے کے باوجود حق کو قبول کرنے سے گریزاں ہوتے ہیں اس لئے ان کی وہ استعداد ضائع ہوجاتی ہے اور اس کے بعد ان سے کم ہی توقع ہوتی ہے کہ وہ ایمان جیسی دولت کو زندگی میں کما سکیں اور اس جگہ اس خسارہ کا ذکر کیا گیا ہے۔ حضرت ابو امامہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد گرامی ہے ” کہ اللہ کی رحمت عام ہے اس لئے تم میں سے ہر ایک جنت میں جائے گا سوائے اس شخص کے جو اللہ سے ایسا بھاگے جیسے وحشی اونٹ اپنے گھر والوں سے بھاگتا ہے۔ “ (طبرانی و حاکم) یاد رہے کہ دنیا کا خسارہ بھی کوئی اچھی اور خوبی کی بات نہیں لیکن آخرت کا خسارہ دنیا کے مقابلہ میں بہت ہی زیادہ ہے جس طرح دنیا کی زندگی عارضی ہے ، دنیا کا خسارہ بھی بلاشبہ عارضی ہے لیکن آخرت جس طرح ابدالاباد ہے بالکل اسی طرح اس کا خسارہ بھی ابدالاباد ہے لیکن حقیقت یہی ہے کہ جس قدر انسان دنیوی زندگی کے خساروں سے بچنے کی کوشش کرتا ہے اس کے مقابلہ میں آخرت کے خساروں سے بچنے کی کم ہی کوشش کرتا ہے ۔ ایسا کیوں ہے ؟ اس کا جواب اپنے دل سے طلب کریں وہی زیادہ مفید ہوگا۔
Ayah 6:13

وَ لَهٗ مَا سَكَنَ فِی الَّیْلِ وَ النَّهَارِ١ؕ وَ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 6:13 in the Quran reader

اور اس کے لیے ہے جو کچھ رات اور دن میں ٹھہرا ہوا ہے اور وہ سننے والا اور جاننے والا ہے

جو کچھ رات اور دن میں ہے سب اللہ ہی کے لئے ہے وہ دیکھتا اور سنتا ہے : 22: زیر نظر آیت بھی گذشتہ آیات کی طرح توحید الٰہی کی کتنی بڑی دلیل ہے کہ زمین و آسمان جس طرح ظرف مکان ہیں بالکل اسی طرح رات اور دن “ ظرف زمان “ ہیں۔ پہلے فرمایا تھا کہ بلندی اور پستی میں جو کچھ ہے وہ سب کا سب اللہ ہی کا ہے۔ اب بتایا جا رہا ہے کہ زمانے کے پیمانے میں جو کچھ ہے وہ بھی اسی کی ملکیت ہے تو جب سب مکانیات اور زمانیات اس کی پیدا کردہ ہیں اور اس کے قبضہ قدرت میں ہیں تو پھر ان میں سے کوئی انسان خواہ وہ کون ہو اور کوئی پتھر خواہ وہ کسی کی طرف منسوب کیا گیا ہو اور کوئی چیز حیوانات ، نباتات اور جمادات میں سے خواہ کوئی ہو معبود کیسے بن سکتی ہے ؟ ظاہر ہے کہ محتاج کبھی معبود نہیں ہو سکتا۔ محتاج کبھی مشکل کشا نہیں ہو سکتا اور جو خود مشکل میں پھنس جائے وہ کبھی خدا نہیں ہو سکتا۔ یاد رہے کہ اس جگہ ” سکون “ حرکت کی ضد نہیں بلکہ حرکت کو شامل ہے اور محض استقراء کے معنی میں ہے۔ (کبیر) اور متحرک کا ذکر اس لئے نہیں کیا کہ متحرک کی ضد یعنی ساکن کا ذکر کردیا گیا اور ضدین میں سے ایک کا ذکر کردینا دوسرے کے وجود کا خود بخود اثبات ہوجاتا ہے ۔ قرآن کریم میں یہ بات اس قدر عام ہے کہ اس کی طرف اشارہ کی بھی کوئی ضرورت نہ تھی لیکن افسوس کہ بعض اوقات بڑے بڑے علامہ کہلانے والے اس اصل کو بھول جاتے ہیں اور بچوں کی طرح ضد کرنا شروع کردیتے ہیں ۔ ’ وہ سننے والا اور جاننے والا ہے۔ “ اس جگہ اللہ تعالیٰ نے اپنی دو صفتوں کا ذکر فرما دیا کہ یہ مشرکوں کے لئے وعید کا کام دیں کہ تمہارے بول سنے جا رہے ہیں تمہارے افعال دیکھے جا رہے ہیں اس لئے تم سے تمہاری ایک ایک بحث ہمارے علم میں ہے۔ تمہیں ہم اپنے قانون امہال کی وجہ سے ڈھیل پر ڈھیل دیئے جا رہے ہیں اور جب مقررہ وقت آجائے گا تو پھر ایک پل کی دیر بھی نہیں ہوگی۔
Ayah 6:14

قُلْ اَغَیْرَ اللّٰهِ اَتَّخِذُ وَلِیًّا فَاطِرِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ هُوَ یُطْعِمُ وَ لَا یُطْعَمُ١ؕ قُلْ اِنِّیْۤ اُمِرْتُ اَنْ اَكُوْنَ اَوَّلَ مَنْ اَسْلَمَ وَ لَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُشْرِكِیْنَ Open ayah 6:14 in the Quran reader

اور تم کہو کیا میں اللہ کو چھوڑ کر جو آسمان و زمین کا پیدا کرنے والا ہے کسی دوسری ہستی کو کارساز بنا لوں ؟ وہ سب کو روزی دیتا ہے لیکن کوئی نہیں جو اسے روزی دینے والا ہو ، تم کہو مجھے یہی حکم دیا گیا ہے کہ میں اللہ کے آگے جھکنے والوں میں پہلا جھکنے والا ہوں اور مجھے کہا گیا ہے کہ ایسا نہ کر کہ مشرکوں میں سے ہو جا

آپ ﷺ ان سے کہہ دیجئے کہ کیا میں اللہ کے سوا اپنا کوئی کار ساز بنا لوں ؟ : 23: ” کیا میں بنا لوں ؟ “ اس کو استفہام انکاری کے نام سے یاد کیا جاتا ہے مطلب یہ ہے کہ میں ایسا نہیں کرسکتا۔ تعلیم کا یہ طریقہ اپنے اندر بہت گہرائی رکھتا ہے۔ ولیا یعنی کار ساز۔ ” آسمان و زمین کو پیدا کرنے والا “ یہ اللہ تعالیٰ کی صفت خاص ہے یعنی اس کے مقابلہ میں کوئی دوسرا نہیں جو زمین و آسمان کو پیدا کرنے والا یا ان کے کسی حصہ ہی میں شریک ہو۔ خطاب دنیا کے سارے مشرکین سے ہے۔ آپ ﷺ کے وقت میں آپ ﷺ کو پوچھنے کا حکم اور آپ ﷺ کے بعد ہر موحد کو ہر مشرک سے پوچھنے کا یہ حق ہے کہ یہ جو تم اپنے عاجز معبودوں کی عبادت کی دعوت دیتے ہو کیا یہ اللہ کو چھوڑ کر کسی اور کو کار ساز مان لیں حالانکہ وہی اللہ ہے جوہر چیز کا پیدا کرنے والا اور سب کو روزی دینے والا ہے اور خود سب سے بےنیاز ہے۔ مشرکین مکہ چونکہ اللہ تعالیٰ کو ” آسمان و زمین کو پیدا کرنے والا “ تسلیم کرتے تھے اور کسی دوسرے کو اس میں شریک بھی نہیں کرتے تھے جیسا کہ پیچھے اس کا ذکر گزر چکا اس لئے ان کو مخاطب کرکے پوچھا گیا کہ کیا ” آسمان و زمین کو پیدا کرنے والے “ اللہ کے سوا میں کسی اور کو اپنا کار ساز مان لوں ؟ حالانکہ جس طرح اللہ تعالیٰ اپنی ذات میں وحدہ لا شریک ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ اپنی خاص صفت میں بھی یکتا و تنہا ہے اس کے سوا نہ کوئی معبود ہے اور نہ خالق و رب اور نہ کوئی حاکمیت میں اس کا شریک ہے اور نہ آمریت میں۔ اس کے حکم کے سامنے کسی دوسرے کا حکم نہیں چلے گا اور اس کے فیصلے کے بعد کسی دوسرے کا فیصلہ نہیں تسلیم کیا جاسکتا۔ اس کا فیصلہ سارے فیصلہ کرنے والوں سے زیادہ سچا اور زیادہ صحیح ہے۔ ” وَلِیًّا “ یعنی کارساز حقیقی وہی ہے ” جو سب کو روزی دینے والا ہے لیکن کوئی نہیں جو اس کو روزی دینے والا ہو۔ “ یہ ایک طرح کا چیلنج ہے جو کفار مکہ کو کردیا گیا اس لئے کہ وہ نبی اعظم وآخر ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے اور آپ ﷺ کو کہا تھا کہ تم نادار ہو اور تنگ دست ہو اور تم نے مال و دولت جمع کرنے کے لئے نبوت کا سنگ رچاہا ہے ” جس سے ہر گھر میں فتنہ و فساد کی آگ بھڑک اٹھی ہے اسلئے آپ جتنی دولت مانگیں ہم آپ کے قدموں میں ڈھیر کرنے کے لئے تیار ہیں آپ اپنے نئے دین کی تبلیغ بند کر دیجئے اور جس طرح ہمارے اسلاف ان بتوں کی پوجا کرتے تھے آپ بھی انہیں کی پرستش کیا کریں۔ “ (ضیا القرآن) جن بزرگوں کے انہوں نے بت بنا رکھے تھے وہ سارے کے سارے اولیاء کرام اور اللہ کے نیک بندے ہی تو تھے ۔ خواہ ان کے وہم میں وہ نیک تصور کئے گئے تھے یا فی الواقع وہ نیک ہی تھے ۔ کارساز تو وہ ہوسکتا ہے ” جو کسی کا محتاج نہ ہو اور ہرچیز اس کی محتاج ہو تمہارے یہ بنائے ہوئے معبود اور خدا تو سراپا احتیاج ہیں۔ ہاں ! میرا معبود جو زمین و آسمان کا خالق ہے وہی وہ معبود برحق ہے جو ہر محتاج کی حاجت روائی فرماتا ہے ۔ ہرچیز کو روزق پہنچتا ہے اور خود کسی چیز کا محتاج نہیں ، نہ کھانے کا نہ پینے کا نہ کسی اور چیز کا اب تم خود ہی انصاف کرو کہ معبود حقیقی کون ہے۔ (ضیاء القرآن) اور جو معبود حقیق ہے وہی اصل میں ( ولیا) کارساز حقیقی ہے۔ اے پیغمبر اسلام ! آپ ﷺ اللہ کے آگے جھکنے والوں میں پہلے جھکنے والے ہیں : 24: ” تم کہو مجھے تو یہی حکم دیا گیا ہے کہ اللہ کے آگے جھکنے والوں میں پہلا جھکنے والا ہوں “ یعنی مجھے اللہ کی طرف سے اس قول وقرار اور اخلاص کا مل کا حکم دیا گیا ہے کہ اس امت مسلمہ میں سب سے پہلا مسلمان ہوں کیونکہ ہر امت کا پہلا مسلمان خود وہ نبی و رسول ہی ہوتا تھا جس پر وہی شریعت نازل کی جاتی تھی ۔ فرمایا آپ ﷺ اعلان عام کر دیجئے کہ مجھے تو اپنے رب کا یہ حکم ہے کہ میں سب سے پہلے اس کی الوہیت اس کی کبریائی اور اس کی عظمت و جلال کے سامنے سر تسلیم خم کروں اور شرک کی آلودگیوں سے اپنا دامن بچانے کی مجھے تاکید کی گئی ہے اس لئے میں اپنے رب کے حکم سے سرتابی کر کے کیونکر تمہارے کہنے سے ان باطل خداؤں کی پرستش شروع کرسکتا ہوں جن کو تم نے اور تمہارے باپ دادوں نے خدا تسلیم کرلیا پھر صرف یہی نہیں بلکہ مجھے ” مشرکوں میں سے نہ ہونے “ کی تاکید مزید بھی کی گئی ہے اس لئے مجھ سے تمہاری ایسی توقع بالکل عبث ہے۔ عقل کے ناخن لو اور مجھ سے ایسی بات مت کہو اور اس مال و دولت پر اترانا چھوڑ دو کیونکہ جس نے تم کو یہ دیا ہے اس کو واپس لیتے کوئی زیادہ دیر نہیں لگتی اور اس کا قانون گرفت جب آتا ہے تو اس سے کوئی بچا نہیں سکتا۔
Ayah 6:15

قُلْ اِنِّیْۤ اَخَافُ اِنْ عَصَیْتُ رَبِّیْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ Open ayah 6:15 in the Quran reader

تم کہو میں کس طرح اللہ کی نافرمانی کروں ؟ میں تو اس دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں جو بہت بڑا دن ہے

میں نافرمانی کروں ، تو پھر مجھے اللہ کے عذاب سے کون بچائے گا ؟ : 25: یہ اعلان کس سے کرایا جا رہا ہے ؟ خود نبی کریم ﷺ سے تاکہ شرک کی جڑ اکھڑ جائے اور انبیائے کرام کو حاجت روا اور مشکل کشا بنانے اور اولیاء کرام کا ساجھی اور شریک ٹھہرانے والوں کی آنکھیں بھی کھلیں اور وہ اس کھلے شرک سے باز آجائیں اور اس طرح وہ دلیوں اور بزرگوں کے نام کو وظیفہ بنانے کی بجائے اللہ کے نام اور اس کے کلام ہی کو ورد زبان بنائیں اور شرم کھائیں کہ جس چیز سے اللہ نے اپنے رسول ﷺ کو منع فرمایا حالانکہ آپ ﷺ کا ان چیزوں میں مبتلا ہونے کا کوئی خطرہ ہی موجود نہ تھا پھر آپ ﷺ کو مخاطب کر کے جب آپ ﷺ کی پوری امت کو یہ سبق سکھایا گیا ہے تو یہی سبق ان کو بھی یاد کرنا چاہئے ۔ جب نبی اعظم و آخر ﷺ سے یہ اعلان کرادیا گیا کہ ” اگر میں سرمو بھی حکم خداوندی سے انحراف کروں تو مجھے اندیشہ ہے کہ کہیں عذاب میں گرفتار نہ ہوجاؤں۔ “ (ضیا الفرآن ) تو دوسرا کون ہے جو اس خوف اور ڈر سے مستثنیٰ قرار دیا جائے۔
Ayah 6:16

مَنْ یُّصْرَفْ عَنْهُ یَوْمَئِذٍ فَقَدْ رَحِمَهٗ١ؕ وَ ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْمُبِیْنُ Open ayah 6:16 in the Quran reader

اس دن جس کے سر سے عذاب ٹل گیا تو اس پر اللہ نے رحم کیا اور بڑی سے بڑی کامیابی یہی ہے

اس دن جس کے سر سے عذاب ٹل گیا وہ یقیناً کا میاب ہوگیا : 26: اگر اس دنیا میں عذاب آتے آتے کسی سے ٹل جائے تو وہ اللہ کی رحمت بےپایاں کا مستحق ٹھہرتا ہے تو اس کے مقابلہ میں جو شخص کہ اس سے عذاب دوزخ ٹل گیا اس کی کامیابی کے کے کیا کہنے بلاشبہ وہ تو مبارکباد کا مستحق ہوگیا۔ ” اس روز جس کے سر سے عذاب ٹل گیا تو اس پر اللہ نے رحم کیا اور بڑی سے بڑی کامیابی یہی ہے “ کہ وہ دوزخ کے عذاب سے بچالیا گیا ۔ اس طرح کفار مکہ کو بھی ان کے کلام کا جواب دے دیا گیا جنہوں نے رسول اللہ ﷺ کو دنیا کے مال کا لالچ دے کر دنیا کا ایک مالدار آدمی بنا دینے کا کہا تھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا ” مجھے دولت کی آرزو نہیں اور نہ ہی دولت و عزت میرے نزدیک کامیابی کا کوئی معیار ہے ۔ کامیاب و کامران تو وہ ہے جس کو قیامت کے دن عذاب الٰہی سے نجات مل گئی۔ “ نبی اعظم و آخر ﷺ کی امت کو بھی یہ حقیقت ہر لمحہ پیش نظر رکھنی چاہئے اور ایسا اس وقت ممکن ہو سکتا ہے جب ناجائز طریقوں سے دنیا کا مال حاصل کرنے سے گریز کیا جائے اور اکل حلال کی کوشش کی جائے اور دنیا داروں کے جھانسے میں نہ آیا جائے۔ خصوصاً جس دور سے ہم گزر رہے ہیں یہ دور بڑا نازک ہے اس لئے کہ عوام تو عوام خواص کو بھی آخرت کی کامیابی کی فکر نہیں رہی اور دنیا کی کامیابیان حاصل کرنے کے لئے جھوٹ ، فریب ، دھوکہ اور دغا بازیوں سے کام لیا جارہا ہے ۔ پھر سیاست تو ایک عرصہ سے جب وہ اسلامی سیاست نہ رہی بلکہ خالصتاً مغربی سیاست کا لبادہ اس نے پہن لیا وہ جھوٹ ، فریب ، دھوکہ ، مکاریوں اور دغا بازیوں کی مرہون منت ہو کر ہی رہ گئی تھی لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ اس وقت مذہب کو بھی مذہبی راہنماؤں نے اس بحربے پایاں میں ڈبو کر رکھ دیا اور ساری کامیابیوں کا مدار اسی کو سمجھ لیا۔ زمرہ علماء کے رؤسائے اعظم بھی اسی میدان کے مداری بن کر رہ گئے۔ ان کی ساری سحربیانیاں ، للہیت کی دعویداریاں ، عشق رسول ﷺ کی خماریاں ، اللہ والوں کی دلداریاں اور مذہب وملت کی سرشاریاں اس کے ارد گردگھومنے لگیں اور قیامت کی کامیابی کی کوشش انہوں نے بالکل ترک کردی الامان والحفیظ ۔ یاد رکھنا چاہئے کہ اصل کامیابی وہی کامیابی ہے جو آخرت کی کامیابی ہے وذلک الفوز المبین۔
Ayah 6:17

وَ اِنْ یَّمْسَسْكَ اللّٰهُ بِضُرٍّ فَلَا كَاشِفَ لَهٗۤ اِلَّا هُوَ١ؕ وَ اِنْ یَّمْسَسْكَ بِخَیْرٍ فَهُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 6:17 in the Quran reader

اور اگر اللہ تجھے اپنے قانون کے مطابق دکھ پہنچائے تو اس کا ٹالنے والا کوئی نہیں ہے مگر اس کی ذات اور اگر وہ تجھے بھلائی پہنچائے تو وہ ہر بات پر قادر ہے

دکھ اور سکھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے اور وہی قادرمطلق ہے : 27: جب تک انسان ہے نفع وضرر بھی لازم ہے پھر انسان کا پیدا کرنے والا وہی نفع و ضرور کا خالق ہے ۔ انسان کو چونکہ ایک حد تک اختیار دیا گیا ہے اس لئے وہ جس کو چاہتا ہے نفع کا مالک قرار دے دیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے نقصان کا لیکن فی نفسہ نفع و ضرر کو کوئی اختیار نہیں دیا گیا کہ ” نفع “ جس کو چاہے اس کو جا پکڑے اور ” ضرر “ جس کو چاہئے اس کو چھولے۔ نہیں وہ اللہ کے حکم کا ہر لحاظ سے پابند ہے اس لئے وہ اللہ ہی کے قبضہ قدرت میں ہے اور اس نے اس کیلئے جو قانون بنا دیا ہے وہ اس قانون کے مطابق کام کر رہا ہے وہ جس کو دکھ پہنچا دے اس کو کوئی سکھ نہیں پہنچا سکتا اس لئے کہ پہلے اس کو دکھ دور کرنا چاہئے اور وہ اللہ کے سوا کوئی دوسرا موجود ہی نہیں کہ اس کو دور کر دے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے اس بات کا قرآن کریم میں باربار اعلان فرمایا کہ نفع و ضرور کا مالک صرف اور صرف میں ہی ہوں دوسرا کوئی نہیں۔ اس لئے جس کو ” ضرر ‘ پہنچے اس کو چاہئے کہ وہ مجھ ہی سے اپیل کرے اور میں جب چاہوں اس کے فرد کو اپنے قانون کے مطابق دور کر دوں اور جس کو جائز ” نفع “ پہنچے اس کا حق ہے کہ وہ اس بات کا اعتراف کرے یہ اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے آیا ہے کسی غیر کی طرف سے نہیں۔ پھر اس کا اعلان بھی نبی اعظم و آخر ﷺ کی زبان اقدس سے کرایا تاکہ کسی قسم کا کوئی ابہام باقی نہ رہ جائے اور ہر ایک ٹھوکر کھا کر گرنے سے بچ جائے۔ یاد رکھو ” تکلیف اور راحت ، بیماری اور صحت ، ناکامی اور کامیابی ، ذلت اور عزت سب اللہ تعالیٰ وحدہ کے دست قدرت میں ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ کسی کو فقر ، مرض یا قرض میں مبتلا کر دے تو کسی کے بس میں نہیں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا ان مصائب سے اسے نجات دے دے اور اگر اللہ تعالیٰ کسی پر اپنا فضل و کرم فرمائے اور اسے اپنے انعامات سے نوازے تو کسی کی طاقت نہیں کہ اس سے چھین لے۔ وہی مالک حقیقی ہے۔ وہی قادر مطلق ہے ۔ اس کے اذن کے بغیر کوئی پتہ ، کوئی ذرہ ، کوئی قطرہ اپنی جگہ سے جنبش نہیں کرسکتا۔ مشرک قوموں اور مشرک افراد نے نیکی ، بدی ، بارش ، فتح دولت اور علم وغیرہ کے لئے الگ الگ خد ابنا لئے ان سب کے سب خیالات فاسدہ کی اس آیت نے تردید کردی۔ “ حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ کسریٰ نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں ایک خچر بطور ہدیہ بھیجی۔ آپ ﷺ نے بالوں کی رسی بنا کر اس کو لگام دی اور اس پر سوار ہوئے اور مجھے اپنے پیچھے بٹھا لیا اور روانہ ہوئے کچھ دیر چلنے کے بعد میری طرف رخ پھیرا اور فرمایا لڑکے میں نے عرض کی حاضر یا رسول اللہ ! فرمایا اللہ کے احکام کی نگہداشت کر اللہ تیری حفاظت کرے گا۔ اللہ کے اومراو نواہی کی نگہداشت کر تو اس کو اپنے سامنے پائے گا۔ تو عیش و آرام کے وقت اللہ کے پہچان دکھ اور سختی کے وقت اللہ تجھ سے انجان نہ ہوگا۔ کچھ مانگے تو اللہ سے مانگ ، اگر مدد طلب کرے تو اللہ سے طلب کر جو کچھ ہونے والا ہے قلم اس پر چل چکا ہے ۔ فیصلہ خداوندی کے خلاف اگر ساری مخلوق تجھے فائدہ پہنچانے کی کوشش کرے تو فائدہ نہیں پہنچا سکتی اور اللہ کی تحریر کے خلاف اگر کوئی تجھے ضرر پہنچانا چاہے گا تو ضرر نہیں پہنچا سکے گا۔ اگر تجھ سے ہو سکے تو یقین کے ساتھ صابر رہ کر عمل کہ اگر عمل نہ کرسکتا ہو تو صبر کر۔ نا گوار امور پر صبر رکھنے میں بڑی بہتری ہے اور یہ بھی جان کہ صبر کے ساتھ مدد ہوتی ہے اور سختی کے ساتھ کشائش اور دشواری کے ساتھ آسانی۔ (احمد ، ترمذی حسن صحیح)
Ayah 6:18

وَ هُوَ الْقَاهِرُ فَوْقَ عِبَادِهٖ١ؕ وَ هُوَ الْحَكِیْمُ الْخَبِیْرُ Open ayah 6:18 in the Quran reader

اور وہی ہے جو اپنے تمام بندوں پر زور و غلبہ رکھنے والا ہے اور وہی ہے حکمت رکھنے والا اور آگاہ

اللہ تعالیٰ ہی سب سے زور آور اور حکمت و دانش والا ہے : 28: بہت سے الفاظ ایسے ہیں جو عربی اور اردو دونوں زبانوں میں استعمال ہوتے ہیں لیکن مفہوم کے لحاظ سے ان میں بہت فرق ہوتا ہے انہی الفاظ میں سے لفظ ” قہر “ بھی ہے ” قہر “ کا لفظ عربی زبان میں اس معنی میں نہیں آتا جس معنی میں اردو میں آتا ہے بلکہ اس کے مینا اختیار ، حکومت اور تسلط رکھنے کے آتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ وہ ذات ہے جو قدرت و قوت کے لحاظ سے ساری مخلوقات پر غالب ہے اور کوئی جو اس پر غالب آئے اور ربوبیت کے لئے جن اوصاف کے ضرورت ہے وہ سب صرف اسی کی ذات میں جمع ہیں پھر یہ کتنی حماقت کی بات ہے کہ ایسی ذات کامل الصفات کے ساتھ کسی دوسرے کی شرکت روار کھی جائے اور ” فوق “ کا تعلق اس جگہ اوپر کی سمت سے نہیں بلکہ مرتبہ اور حکومت کی بلندی سے ہے۔ وہ کون ہے جو اس کے قدرت کے تحت اس کا محتاج نہ ہو ۔ دنیا کے سارے انسان اس کے تحت اور اس کے محتاج ہیں ، یہی وجہ ہے کہ دنیا کا کوئی بڑے سے بڑا انسان خواہ وہ اللہ کا رسول ومقرب ہو یا دنیا کا بڑے سے بڑے سے بادشاہ وہ اپنے ہر ارادہ میں کامیاب نہیں ہو سکتا اور نہ ہی اسکی ہر مراد پوری ہو سکتی ہے۔ وہ حکیم بھی ہے کہ اس کے تمام افعال عین حکمت ہیں اور وہ چیز کو جاننے والا ہے۔
Ayah 6:19

قُلْ اَیُّ شَیْءٍ اَكْبَرُ شَهَادَةً١ؕ قُلِ اللّٰهُ١ۙ۫ شَهِیْدٌۢ بَیْنِیْ وَ بَیْنَكُمْ١۫ وَ اُوْحِیَ اِلَیَّ هٰذَا الْقُرْاٰنُ لِاُنْذِرَكُمْ بِهٖ وَ مَنْۢ بَلَغَ١ؕ اَئِنَّكُمْ لَتَشْهَدُوْنَ اَنَّ مَعَ اللّٰهِ اٰلِهَةً اُخْرٰى١ؕ قُلْ لَّاۤ اَشْهَدُ١ۚ قُلْ اِنَّمَا هُوَ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ وَّ اِنَّنِیْ بَرِیْٓءٌ مِّمَّا تُشْرِكُوْنَۘ Open ayah 6:19 in the Quran reader

اور تم پوچھو کونسی چیز ہے جس کی گواہی بڑی گواہی ہوئی ؟ تم کہہ دو اللہ میرے اور تمہارے درمیان گواہ ہے ، اس نے مجھ پر اس قرآن کی وحی کی تاکہ انہیں اور ان کو جن تک اس کی تعلیم پہنچ جائے متنبہ کروں ، کیا تم گواہی دیتے ہو کہ اللہ کے ساتھ دوسرے معبود بھی شریک ہیں ؟ تم کہو میں اس کی گواہی نہیں دیتا ، میری گواہی یہ ہے کہ صرف وہی معبود یگانہ ہے اس کے ساتھ کوئی نہیں اور جو کچھ تم شریک ٹھہراتے ہو میں ان سے بیزار ہوں

وہ کون ہے جس کی گواہی سب سے بڑی ہے ؟ ” اللہ “ بس وہی میرا گواہ ہے : 29: اے پیغمبر اسلام ! ان سے پوچھئے کہ اللہ سے بڑھ کر کس کی شہادت ہوگی جس کے قبضہ قدرت میں کل جہان اور کل جہان کا نفع و ضرر ہے۔ چونکہ یہ سوال ایسا تھا کہ اس کا ایک اور صرف ایک ہی جواب ہوسکتا تھا اس لئے ارشاد فرمایا کہ اے رسول ﷺ ! آپ ﷺ ہی اس کا جواب بھی دے دیجئے اس لئے کہ اس جواب سے کوئی مشرک بھی انکار نہیں کرتا کہ ” سب سے بڑی گواہی تو اللہ تعالیٰ ہی کی گواہی ہے ۔ “ اور پھر ان سے برملا کہہ دیجئے کہ میرے اور تمہارے درمیان اللہ گواہ ہے ۔ رہی یہ بات کہ یہ گواہی کس بات پر طلب کی گئی تو بات بالکل واضح ہے کہ آپ ﷺ کی رسالت پر۔ مخالفین کا سوال یہ تھا کہ آپ ﷺ نے جو رسالت کا دعویٰ کیا ہے اور آپ کہتے ہیں کہ میں اللہ کا رسول ہوں تو اس پر آپ ﷺ کا گواہ کون ہے ؟ ہمیں کوئی ایسا آدمی نہیں ملا جو آپ ﷺ کی نبوت کی تصدیق کرتا ہو حالانکہ ہم نے یہود و نصاریٰ سے اس کی تحقیق میں پوری کوشش کی ہے کو ان کہ وہ دونوں قومیں رسول کے آنے کی بہر حال امید رکھتی ہیں ظاہر ہے کہ ان کا یہ سوال براہ راست نہ تھا بلکہ یہو دونصاریٰ ہی کے اکسانے پر تھا اس لئے اس کا اس کے علاوہ کوئی جواب بھی دیا جاتا تو ایک نیا موضوع شروع ہوتا تھا جس سے الجھاؤ مزید بڑھ جاتا۔ ان کو وہ جواب دے دیا گیا جس پر وہ مزید کوئی بحث نہ کرسکتے تھے اور نہ ہی انہوں نے کی ۔ ان کے سوال کا مسکت جواب دینے کے بعد ان سے پوچھا جا رہا ہے کہ تم بھی اس گواہی کو مانتے ہو یا نہیں ؟ کون ہے جو اس کی گواہی سے انکار کرے اور وحی الٰہی کوئی ایسی بات نہیں جس پر انسانوں کو گواہی لازم و ضروری ہو۔ اس لئے کہ یہ نکاح و طلاق یا لین دین کا مسئلہ نہیں جو دو انسانوں کے درمیان طے پاتا ہے یہ معاملہ اللہ اور اس کے رسول کا ہے اس میں انسانوں کی گواہی لوازمات قانون میں سے نہیں۔ اس رب کریم نے یہ قرآن کریم مجھ پر وحی کیا تاکہ لوگوں تک اس کو پہنچاؤں : 30: قرآن کریم نبی اعظم و آخر ﷺ پر وحی کیا گیا جس کا مطلب اور مقصد یہ بیان ہوا کہ تاکہ اس کے ذریعہ میں تم کو اللہ کے عذاب سے ڈراؤں اور ان لوگوں کو بھی جن کو قیامت تک یہ قرآن کرم پہنچے۔ کیونکہ پیغام دینے والا اگرچہ موجود نہ رہے لیکن پیغام تو وہی رہے گا جو اس نے خود دیا۔ جس سے یہ بات خودبخود ثابت ہوگئی کہ نبی کریم ﷺ خاتم النبین اور اللہ تعالیٰ کے آخری نبی و رسول ہیں اور اسی طرح قرآن کریم اللہ تعالیٰ کی آخری کتاب ، قیامت تک اس کی تعلیم اور تلاوت باقی رہے گی اور آپ ﷺ کے بعد تمام لوگوں پر خواہ وہ کسی زمانہ سے تعلق رکھیں وہ پہلی صدی کے ہوں یا پندرہویں صدی کے سب لوگوں پر اس کا اتباع لازم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سعید بن جبیر نے فرمایا جو شخص کہ اس کو قرآن کریم پہنچ گیا وہ ایسا ہے جیسے اس نے رسول اللہ ﷺ کی زیارت کرلی اور ایک حدیث میں آپ ﷺ کا ارشاد اس طرح ہے کہ ” جس شخص کو قرآن کریم پہنچ گیا میں اس کا نذیر ہوں۔ “ غور کیجئے کہ ” ومن بلغ “ کے دو الفاظ سے یہ دو باتیں نکل آئیں ایک یہ کہ قرآن کریم کا دائرہ صرف اس کے براہ راست اور اولین مخاطبین تک محدود نہ رہا دوسرے یہ کہ انذار کا تعلق ان لوگوں سے ہے جن تک قرآن پہنچ گیا۔ حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ” اللہ تعالیٰ اس شخص کو تروتازہ اور صحت مند رکھے جس نے میرا کوئی کلام سنا اور اس کو یاد رکھا پھر اس کو امت تک پہنچادیا کیونکہ بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ ایک موجود آدمی کسی کلام کے مفہوم کو اتنا نہیں سمجھتا جتنا بعد میں آنے والا سمجھتا ہے جس کو یہ کلام اس نے پہنچایا ہے۔ “ (احمد ، ترمذی ، ابو داؤد ، ابن ماجہ ، دارمی) اس طرح آپ ﷺ کا یہ ارشاد تو بچہ بچہ کی زبان پر ہے کہ بلغوا عنی ولو آیۃ یعنی میرے احکام وتعلیمات لوگوں تک پہنچاؤ اگرچہ ایک ہی آیت ہو ۔ نیز آپ ﷺ نے حجۃ الوداع کے خطبہ میں بھی ارشاد فرمایا : الا لیبلغ الشاھد الغائب فلعل بعض من یبلغہ ان یکون اوعی لہ من بعض من سمعہ (صحیح بخاری من ابی بکرۃ باب حجۃ الوداع) ” دیکھوجو لوگ موجود ہیں وہ ان لوگوں کو جو موجود نہیں ہیں ان کی تبلیغ کرتے رہیں ممکن ہے کہ بعض سامعین سے وہ لوگ زیادہ تر اس کلام کو یاد رکھنے والے ہوں اور زیادہ حفاظت کرنے والے ہوں جن پر اس وقت تبلیغ کی گئی۔ کیا تم لوگ اللہ کے ساتھ شریک بن کر گواہی دیتے ہو ؟ تاہم میں یہ گواہی نہیں دیتا : 31: یہی وہ شرک ہے جس کے مرتکب مشرکین مکہ تھے ۔ اس لئے آیت کے اس حصہ میں ان کو مخاطب کر کے کہا جا رہا ہے کہ کیا تم اللہ تعالیٰ کی اس گواہی کے بعد گواہی دیتے ہو کہ اللہ کے ساتھ دوسرے معبود بھی ہیں جیسا کہ ان کا قول قرآن کریم نے دوسری جگہ اس طرح نقل کیا ہے کہ ” وہ لوگ جنہوں نے اللہ کے سوا اور حاجت روا اور مشکل کشا بنا رکھے ہیں وہ برملا کہتے ہیں کہ ہم تو ان کی عبادت صرف اس لئے کرتے ہیں کہ وہ اللہ تک ہماری رسائی کرادیں۔ “ (الزمر 30 : 3) فرمایا اگر وہ اس بات کی گواہی دے دیں تو ” آپ ﷺ کہہ دیجئے کہ میں ایسی گواہی نہیں دیتا “ گویا اس بات کی ہدایت ہوئی کہ لوگوں کے غلط نظریات کی تائید کرنا بھی اتنا ہی برا ہے جتنا کہ خود ایسا عقیدہ رکھنا ۔ غلط کام خود کیا جائے یا کسی دوسرے کے کہنے پر کیا جائے بہر حال وہ غلط ہے اور اس کا کرنے والا اس لئے بری الذمہ نہیں ہو سکتا کہ وہ کام اس نے کیا نہیں بلکہ اس سے کرایا گیا ہے۔ اس لئے اس کی خوب اچھی طرح وضاحت فرمادی اور اس طرح غلط شرطیں لگانے والوں کے لئے بھی اس میں تنبیہہ پائی جاتی ہے کہ حقیقت کے خلاف شرط لگانا اور یہ تسلیم کرلینا سخت غلط ہے۔ مثلاً یہ کہنا کہ اگر فلاں یہ بات کہہ دے تو میں مان لوں گا جب کہ فلاں کوئی نبی نہیں اور نہ ہی وہ نبی ہو سکتا ہے پھر ایسی شرط کیوں ؟ فلاں بھی اگر غلط کہہ دے تو کیا اس کو مان لیا جائے گا ؟ بالکل نہیں۔ اس لئے کہ کلام الٰہی کے مقابلہ کی کوئی چیز موجود نہیں ہے اور کوئی شخص اگر اپنی سحر بیانی سے ایک کو تین اور تین کو ایک کر بھی دکھائے اور اس کا توڑ بھی آپ سے ممکن نہ ہو تو کیا آپ ایک کو تین یا تین کو ایک مان لیں گے ؟ اگر مانین گے تو بلاشبہ وہ بھی شرک ہی ہوگا۔ آج کل عدالتوں میں کتنے مقدمات غلط گواہیوں پر کئے جاتے ہیں چونکہ قانون کا پیٹ بھرنے کے لئے جس چیز کی ضرورت مہیا کرنا ہے اگر وہ ہوجائے تو قانون بلاشبہ اس کی حمایت کرے گا لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ ایک سچا واقعہ غلط ہوگیا ہے حقیقت کبھی نہیں بدلتی۔ آپ کی گواہی کیا ہونی چاہئے۔ فرمایا یہی کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں شرک سے بیزار ہوں : 32: حقیقت تویہی ہے کہ اللہ کی گواہی سے زیادہ بڑی گواہی اور کوئی نہیں ہو سکتی اور اللہ کی گواہی اس سلسلہ میں یہی ہے کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں وہی گواہی دینے والا ہوں جو اس نے خود گواہی دے دی ہے کہ کوئی اس کا شریک وسہیم نہیں ہے اب اس کے بعد بھی اگر تم مدعی ہو کہ اللہ کے ساتھ شریک ہیں تو پھر بغیر دلیل کے تم کہتے رہو جو کہنا چاہتے ہو میں تو بےدلیل گواہی کے لئے تیار نہیں اور جب مجھے اللہ کی طرف سے بھی یہی حکم ملا ہے کہ میں اس بات کا اعلان کروں کہ وہ اکیلا ہی معبود ہے اس لئے میں تو ان تمام چیزوں سے اپنی برات کا اعلان کرتا ہوں جن کو تم اللہ کے ساتھ شریک اور ساجھی ٹھہراتے ہو۔ اس سے یہ بات بھی واضح ہوگئی کہ جب اللہ کے رسول ﷺ کو شرک سے بیزاری اور برات کا اعلان کرنا ضروری ٹھہرا تو آپ ﷺ کے متیعین کے لئے بدرجہ اتم لازم وضرور ٹھہرے گا۔ پھر وہ لوگ جو رسول اللہ ﷺ کو اللہ کا رسول تسلیم کرنے کے باوجود شرک کے مرتکب ہوتے ہیں ان کو اپنا انجام خود معلوم کرلینا چاہئے کہ رسول اللہ ﷺ کی مخالفت کرنے والوں کا جو انجام ہوا وہی ان کا بھی یقیناً ہونے والا ہے۔
Ayah 6:20

اَلَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ یَعْرِفُوْنَهٗ كَمَا یَعْرِفُوْنَ اَبْنَآءَهُمْ١ۘ اَلَّذِیْنَ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ فَهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ۠ Open ayah 6:20 in the Quran reader

جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی ہے وہ اس کی سچائی اس طرح پہنچان گئے ہیں جس طرح اپنی اولاد کو پہچانتے ہیں ، جن لوگوں نے اپنے آپ کو تباہ کرلیا وہ کبھی یقین کرنے والے نہیں

اہل کتاب اللہ کے رسول ﷺ کو اس طرح پہنچانتے ہیں جیسے ہر آدمی اپنی اولاد کو : 33: پیچھے گزر چکا ہے کہ اہل مکہ نے اہل کتاب سے بھی نبی اعظم و آخر ﷺ کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے آپ ﷺ کے متعلق اپنی لاعلمی کا اظہار کیا۔ اس آیت میں بیان فرما دیا گیا کہ ان کا انکار ان کی لاعلمی کی وجہ سے نہیں بلکہ محض ہٹ دھری کی وجہ سے ہے کیوں ؟ اس لئے کہ وہ تو رسول اللہ ﷺ کو اس قدر پہچانتے ہیں جس قدر ہر انسان اپنی اولاد کو پہچانتا ہے ۔ آپ ہی غور کریں بیسیوں نہیں سینکڑوں بچے مل کر کھیل رہے ہوں تو کون ہے جو ان میں سے اپنے بچے کو شناخت نہیں کرسکتا۔ آپ ﷺ کی اس شناخت کی وجہ یہ تھی کہ تورات وانجیل میں نبی کریم ﷺ کا پورا حلیہ ، آپ ﷺ کا وطن اصل اور پھر وطن ہجرت اور آپ ﷺ کے عادات واخلاق اور آپ ﷺ کے کارہائے نمایاں کا ذکر اتنا تفصیل سے کیا گیا تھا کہ تورات وانجیل کا قاری آپ ﷺ کو دیکھتے ہی سمجھ جاتا تھا کہ آپ ﷺ اللہ کے رسول ہیں اور اس کو کسی طرح کا شک و شبہ نہیں رہتا تھا ۔ آپ (علیہ السلام) تو اللہ کے رسول تھے اور آپ ﷺ کی آمد کی اطلاع پیچھے سے رسل اللہ دیتے آرہے تھے لیکن تورات وانجیل میں تو آپ ﷺ کے صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کے حالات کا تذکرہ پوری تفصیل سے موجود ہے پھر جو شخص تورات وانجیل کو پڑھنے والا ہو اور اس پر ایمان بھی رکھتا ہو وہ رسول اللہ ﷺ کونہ پہچانے یہ تسلیم نہیں کیا جاسکتا۔ ہجرت کے بعد حضرت عمر ؓ نے ایک روز حضرت عبد اللہ بن سلام سے دریافت فرمایا کہ تم نبی کریم ﷺ کو کیسے پہچانتے تھے تو عبد اللہ بن سلام نے جواب دیا کہ نبی کریم ﷺ کے اوصاف کمالات اور علامات ونشانات اتنی وضاحت سے ہماری کتابوں میں مرقوم ہیں کہ جب ہم نے نبی کریم ﷺ کو دیکھا تو اس طرح پہچان لیا جیسے ہم اپنے بچوں کو پہچان لیتے ہیں۔ یہ بیان کرنے کے بعد حضرت عبد اللہ بن سلام نے فرمایا کہ اللہ کی قسم ! میں تو اپنے بچوں سے بھی زیادہ رسول اللہ ﷺ کو پہچانتا ہوں کیونکہ مجھے اپنے بچے کی ماں پر اتنا اعتماد نہیں جتنا اللہ تعالیٰ کی بتائی ہوئی علامات پر ہے۔ (روح المعانی) حضرت زید بن سعنہ جو اہل کتاب میں سے تھے انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو تورات وانجیل کے بیان کردہ اوصاف ہی کے ذریعہ پہچانا تھا صرف ایک وصف آپ ﷺ کا ایسا تھا جس سے ان کو پہلے تصدیق نہیں ہوسکی تھی۔ اس لئے کہ اس کا تعلق ظاہری علامات سے نہ تھا لیکن امتحان کے بعد اس کی بھی تصدیق ہوگئی وہ یہ کہ آپ ﷺ کا حلم آپ ﷺ کے غصہ پر غالب ہوگا۔ پھر نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر تجربہ کیا تو یہ صفت بھی آپ ﷺ میں درست پائی اور اس وقت مسلمان ہوگئے۔ آپ ﷺ کی شناخت کے اتنے نشانات دیکھ لینے کے بعد جو لوگ اپنی ہٹ دھرمی پر اڑے رہے اور نبی کریم ﷺ کو اللہ کا رسول تسلیم نہ کیا تو گویا اس طرح انہوں نے آپ ﷺ کی تکذیب کر کے اپنے آپ کو تباہ وبرباد کرلیا خصوصاً ان لوگوں میں سے جو اپنے آپ کو اہل کتاب کہتے ہیں پھر انہوں نے آپ ﷺ کی تکذیب کر کے صرف آپ ﷺ ہی کی تکذیب نہ کی بلکہ اپنی آسمانی کتب یعنی تورات وانجیل کی بھی تکذیب کردی اور اپنے اپنے رسول کا بھی انکار کردیا اس طرح وہ اپنی تباہی کا خود باعث ہوگئے۔ مزید تفصیل کے لئے دیکھو عروۃ الوثقیٰ جلد اول سورة بقرہ کی آیت 146۔
Ayah 6:21

وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اَوْ كَذَّبَ بِاٰیٰتِهٖ١ؕ اِنَّهٗ لَا یُفْلِحُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 6:21 in the Quran reader

اور دیکھو اس سے بڑھ کر ظلم کرنے والا کون ہوا جس نے اللہ پر جھوٹ بول کر افتراء کیا ہو اور اس طرح اس سے بھی بڑھ کر کوئی نہ ہوا جو اس کی آیتوں کو جھٹلائے بلاشبہ جو ظلم کرنے والے ہیں وہ کبھی کامیاب نہ ہوں گے

اس سے زیادہ کون ظالم ہے جس نے اللہ ، اللہ کے رسول اور اللہ کی کتاب کو جھٹلادیا : 34: زیر نظر آیت قرآن کریم میں کم و بیش چودہ بار آئی ہے جن میں سے چار بار تو اس سورة الانعام میں موجود ہے مطلب اس کا اس طرح ہے کہ نبی کریم ﷺ نے دعوائے رسالت کیا اور کچھ لوگوں نے اس کو جھٹلادیا۔ اب معاملہ دو حال سے خالی نہیں ہو سکتا اگر نبی کریم ﷺ نے اللہ کا نام لے کر جھوٹا دعویٰ کیا ہے تو اس سے بڑا ظالم کون ہو سکتا ہے یعنی کوئی نہیں ہوسکتا اور اگر جن لوگوں نے سچے نبی کی تکذیب کی ہے تو پھر تکذیب کرنے والوں سے بڑا ظالم کوئی نہیں ہو سکتا۔ پھر ظاہر ہے کہ جب اللہ کا رسول ﷺ ہر لحاظ سے سچا ہے تو باقی کیا بات رہ گئی ؟ ان آیات کریمات میں جو اس مضمون پر حاوی ہیں اور قرآن کریم میں آئی ہیں ان میں کفار کی دوہری غلطی کا اظہار کیا گیا ہے ایک تو یہ کہ وہ بےسروپا باتیں جن کے متعلق ان کے پاس کوئی سچی دلیل نہیں ان پر تو ان کو محکم یقین ہے مثلاً یہ کہ وہ اپنے ان بزرگوں کو جن کے انہوں نے بت تراش لئے ہیں اور معبود بنا لئے ہیں ان کو اللہ کا شریک مانتے ہیں اور فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں تسلیم کرتے ہیں اور اس طرح مادہ و روح کو قدیم یقین کرتے ہیں۔ زندگی کے مختلف کاموں کے لئے الگ الگ دیوی ، دیوتا ، خانقاہیں اور قبریں مقرر کر رکھی ہیں دوسری غلطی یہ کہ جن چیزوں کے متعلق قطعی اور یقینی روشن دلائل موجود ہیں ان کا انکار کرتے ہیں اور اس پر پورا پورا اصرار کرتے ہیں جیسے توحید ، قرآن کریم ، قیامت اور نبی رحمت ﷺ کا وجود اقدس۔ پہلے کفار کی ان غلطیوں کو ظلم قرار دیا اس لئے کہ حق سے انکار کرنے سے زیادہ ظلم اور کیا ہو سکتا ہے ؟ پھر فرمایا کہ ایسے کھلے ظالم کبھی فلاح نہیں پائیں گے اس لئے کہ ان کی دنیا بھی اندھیر ہوگی اور آخرت بھی برباد ہوگی۔ قرآن کریم جو اللہ کی طرف سے آخری ہدایت کی کتاب تھی اس کا بھی انکار کردیا اور نبی کریم ﷺ جو اس دنیا کے لئے اللہ تعالیٰ کے آخری رسول بنا کر بھیجے گئے تھے ان کا بھی انکار کردیا تو پھر اس سے زیادہ ظلم اور کیا ہوگا جس کے وہ مرتکب ہوچکے اور اس طرح انہوں نے اپنی دنیا اور آخرت دونوں کو برباد کرلیا۔
Ayah 6:22

وَ یَوْمَ نَحْشُرُهُمْ جَمِیْعًا ثُمَّ نَقُوْلُ لِلَّذِیْنَ اَشْرَكُوْۤا اَیْنَ شُرَكَآؤُكُمُ الَّذِیْنَ كُنْتُمْ تَزْعُمُوْنَ Open ayah 6:22 in the Quran reader

اور دیکھو وہ دن جس دن ہم ان سب کو اکٹھا کر کے ایک جگہ جمع کریں گے پھر جن لوگوں نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرایا ہے ان سے کہیں گے بتلاؤ تمہارے شریک کہاں گئے جن کی نسبت تم زعم باطل رکھتے تھے

وہ کیا ہی دن ہوگا جب ان سب کو اکٹھا کر کے ان کے شریکوں کے متعلق سوال کیا جائے گا : 35: ” اور دیکھو وہ دن جس دن ہم ان سب کو اکٹھا کر کے ایک جگہ جمع کردیں گے۔ “ وہ دن کونسا دن ہوگا ؟ وہی جس کو ” یوم القیامہ “ اور ” یوم الحشر “ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ ” ان سب کو “ یعنی ان کو بھی جنہوں نے اللہ پر جھوٹ اور بہتان گھڑ کر اس کے لئے شرکاء ایجاد کئے ، مشکل اور حاجت روا مقرر کئے اور ان کو بھی جنہوں نے مرنے کے بعد اٹھائے جانے اور جزاء و سزاء کا انکار کیا اور ان کو بھی جنہوں نے اللہ کی آیات کی تکذیب کی اور اللہ کے رسول ﷺ کو ” رسول “ ماننے سے انکار کردیا اگرچہ یہ تمام جرائم ان تمام مشرکین کے مشترک جرائم تھے تاہم ان کے ذوقی رجحانات کچھ الگ الگ بھی تھے اس لئے فرمایا کہ ان سب منکروں ، مشرکوں اور سرکشوں کو ہم ایک جگہ جمع کریں گے اور ان سے پوچھیں گے ” بتلاؤ تمہارے شریک کہاں ہیں جن کی نسبت تم زعم باطل رکھتے تھے ۔ “ اور اللہ کا شریک ٹھہراتے تھے۔ آج ان کو بلاؤ تاکہ وہ ہمارے عذاب سے تم نجات دلائیں۔ ان مشرکوں میں وہ بھی ہوں گے جنہوں نے انبیائے کرام کو اللہ ، اللہ کا بیٹا اور الوہیت میں شریک وسہیم بنایا اور وہ بھی ہوں گے جو اللہ کے دوسرے نیک بندوں کے بت بنا کر ، ان کی تصریریں بنا کر ، ان کی شبہییں بنا کر اپنے سامنے رکھ کر ان کو اپنے حاجت روا اور مشکل کشا تصور کرتے تھے اور وہ بھی جنہوں نے بت خانے اور تصویریں سامنے رکھنے کی بجائے قبروں کے نشانات ہی کو ان سے ساری باتوں کی علامت قرار دے لیا تھا۔ اس دن کی سختیوں اور اس دن کی لمبائی کا ذکر مختلف طریقوں سے بیان کیا گیا ہے اور ان سب کا ماحصل یہ ہے کہ غم واندوہ کے دن اور غم واندوہ کی راتیں کبھی گزرنے میں نہیں آتیں اور فرح و خوشی کے دن اور فرح و خوشی کی راتیں ایسے گزر جاتی ہیں جیسے چند ساعت ، وقت تو اتنا ہی ہوتا ہے لیکن غم واندوہ اور فرح و خوشی کی حالت اس کو لمبا اور چھوٹا کردیتی ہے اور انسان کی زندگی میں اس کا تجربہ اکثر ہوتا ہی رہتا ہے کہ جاڑے کی رات خوشی و فرحت میں کیسے گزر جاتی ہے اور غم واندوہ میں کیسے۔
Ayah 6:23

ثُمَّ لَمْ تَكُنْ فِتْنَتُهُمْ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوْا وَ اللّٰهِ رَبِّنَا مَا كُنَّا مُشْرِكِیْنَ Open ayah 6:23 in the Quran reader

تو اس وقت وہ اس کے سوا کوئی شرارت نہیں کرسکیں گے کہ کہیں اللہ کی قسم جو ہمارا پروردگار ہے ہم شرک کرنے والے نہ تھے

مشرکین کی اس شررات کا بیان جو اتنے نازک وقت میں بھی وہ کرنے سے باز نہیں آئیں گے : 36: برتن سے وہی نکلے گا جو اس میں ڈالا گیا۔ یہی حالت ان مشرکین کی ہوگی جو میدان حشر میں اکٹھے کئے جائیں گے فرمایا پہلے تو ان پر قیامت کا روز ہی اتنا بھاری تھا گویا ہزاروں سال بیت گئے اور یہ لوگ تمنا کرنے لگے کہ کسی طرح حساب جلد ہوجائے انجام کچھ بھی ہو یہ تذبذب اور تردد کی تکلیف تو رفع ہو ۔ پھر جب امتحان شروع ہوگا اور انکو کہا جائے گا فوراً ان شریکوں کو بلاؤ جن کے آسروں اور وسیلوں پر تم جیا کرتے تھے اور جن کے متعلق تمہارا گمان تھا کہ یہ لوگ ہم کو میدان حشر کی سختیوں سے بچا لیں گے توا سوقت وہ دائیں بائیں دیکھیں گے لیکن جب کچھ نظر نہیں آئے گا تو ایسے نازک وقت میں بھی انکو ایک شرارت سوجھے گی اور فوراً بھول اٹھیں گے ” کہ اللہ کی قسم جو ہمارا پروردگار ہے ہم تو شرک کرنے والے ہی نہ تھے۔ “ ان کے اس جواب کو قرآن کریم میں ” لم تکن فتنتھم “ کے الفاظ سے بیان کیا ہے اور ” فتنہ “ کا لفظ امتحان اور آزمائش کے لئے بھی بولا جاتا ہے اور کسی پر ” فریضتہ ومفتون “ ہوجانے کے لئے بھی۔ اس جگہ دونوں ہی معنی مراد لئے جاسکتے ہیں اور دونوں ہی صحیح ہیں۔ پہلی صورت میں اس امتحان کو فتنہ سے تعبیر کیا گیا اور دوسری صورت میں مراد یہ ہوگی کہ یہ لوگ دنیا میں ان بزرگوں کو جن کے انہوں نے بت بنا رکھے تھے اور خود ساختہ معبودوں پر مفتون تھے اپنے جان و مال ان پر قربان کرتے تھے مگر آج وہ ساری محبت وفریفتگی کا فور ہوگئی اور انکا جواب سوائے اس کے کچھ نہ ہوا کہ ان سے برات اور علیحدگی کا دعویٰ کریں کہ حاشاء اللہ ہم نے تو ان کو کبھی پکارا ہی نہ تھا اور ان کو اپنا حاجت روا اور مشکل کشا سمجھا ہی نہ تھا۔ آگے بڑھنے سے پہلے ان کے اس جواب پر ایک بار پھر نظر ڈالو کہ میدان حشر کے ہولناک منظر اور رب الارباب کی قدرت کاملہ کے عجیب و غریب واقعات دیکھنے کے بعد ان کو یہ جرات کیسے ہوئی کہ رب العالمین کے سامنے کھڑے ہو کر جھوٹ بولیں اور وہ بھی اس شدومد کے ساتھ کہ اس کی ذات کبریائی کی قسم کھا کر کہہ دیں کہ ” اللہ کی قسم ہم تو مشرک نہیں تھے۔ “ مفسرین نے ان کے اس جواب پر بہت قیاس آرائیاں کی ہیں کسی نے کہا کہ ان کا یہ جواب عقل و ہوش پر مبنی نہیں ہوگا بلکہ فرط ہیبت سے بوکھلا ہٹ کی بناء پر ہوگا کہ ایسی حالت میں انسان کے جو کچھ منہ میں آئے وہ کہہ جاتا ہے اور بعض نے بیان کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی پوری کیفیت وحالت کو سامنے لانے کے لئے انکو یہ قدرت دے دی کہ وہ آزادانہ جو چاہیں کہیں تاکہ ان کا شرک بھی اہل حشر کے سامنے کھل جائے اور سب کو یہ معلوم ہوجائے کہ یہ جھوٹ بولنے میں بھی یکتائے روز گار ہیں اور اس چیز کو ہم نے اس مختصر فقرہ میں ادا کیا ہے کہ ” برتن سے وہی نکلے گا جو اس میں ڈالا گیا۔ “ اور یہ کہ ” عادت کا بدلنا محالات میں سے ہے ” جھوٹ ان کی گٹھی میں داخل تھا وہ دنیا میں جھوٹ بولنے میں بےشرم تھے اور آخرت میں بھی وہ ایسے ہی نکلے۔ پھر انکے اس جھوٹ کو کھول کر سامنے رکھ دینے کا ذکر بھی قرآن کریم میں دوسری جگہ موجود ہے جب اس کا بیان آئے گا تو ان شاء اللہ عرض کریں گے۔ بعض مفسرین نے اس کو اس طرح بھی بیان کیا ہے کہ ” جھوٹی قسمیں کھا کر اپنے شرک سے انکار کرنے والے وہ لوگ ہوں گے جو کھلے طور پر کسی مخلوق کو اللہ یا اللہ کا نائب نہیں کہتے تھے مگر ان کا عمل یہ تھا کہ خدائی کے سارے اختیارات مخلوق کو بانٹ رکھے تھے اور انہی سے اپنی حاجتیں مانگتے اور انہی کے نام کی نذر و نیاز دیتے تھے۔ انہی سے روزی و تندرستی ، اولاد اور دوسری ساری مرادیں مانگا کرتے تھے لیکن اس کے باوجود یہ لوگ اپنے آپ کو مشرک نہ سمجھتے تھے اسی لئے میدان حشر میں بھی قسمیں کھا کر یہی کہیں گے کہ ہم مشرک نہ تھے پھر اللہ تعالیٰ ان کی رسوائی کو ایک اور طریقہ سے واضح فرمائیں گے۔ “ (بحر محیط ، ترجمہ) زیر نظر آیت پر ایک سوال اور اس کا جواب : آیت زیر نظر میں جو مضمون بیان کیا گیا ہے اس سے یہ بات واضح ہو رہی ہے کہ اللہ تعالیٰ ان مشرکوں سے کلام کرے گا جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک ٹھہراتے رہے اور کلام کی تفصیل بھی بیان کی گئی حالانکہ قرآن کریم کے کتنے مقامات پر یہ الفاظ استعمال ہوئے ہیں کہ ” لَا یُكَلِّمُهُمُ اللّٰهُ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ “ (البقرہ 25 : 174) یعنی ان لوگوں مشرکوں اور کافروں سے اللہ قیامت کے روز کلام نہیں کرے گا۔ جواب اس کا یہ ہے کہ یہی بات ہم نے اصول تفسیر میں عرض کردی تھی کہ قرآن کریم اس زبان میں نازل ہوا ہے جس میں انسان ایک دوسرے سے عام کلام کرتے ہیں اور اسی انداز سے قرآن کریم کی تفہیم ممکن ہے ہماری زبان میں یہ کلمہ عام بولا جاتا ہے کہ ” میں ان سے بات کرسکتا ہوں “ میں ان سے بات نہیں کرسکتا “ اور ہم سب جانتے ہیں کہ اس بات کرنے سے کیا مطلب ہے اور بات نہ کرنے کے کیا معنی ہیں۔ یہی مفہوم اس جگہ سمجھنا چاہئے جہاں کلام نہ کرنے کا بیان ہوا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ” اللہ تعالیٰ ان سے کلام نہیں کرے گا یعنی ان سے کلام بطور اعزاز یا قبولیت دعا اور ان کی قدر ومنزلت کے نہیں ہوگا۔ “ چناچہ سورة البقرہ 2 : 147 میں اس کی قرآن کریم نے خود وضاحت بھی فرما دی ہے کہ وہ کون سا کلام مراد ہے جو ایسے لوگوں سے نہیں کیا جائے گا چناچہ فرمایا گیا کہ ” قیامت کے روز یہ لوگ اللہ کے خطاب سے محروم رہیں گے کہ وہ انہیں معاف کر کے گناہوں سے ہرگز پاک نہیں کرے گا۔ “ معلوم ہوگیا وہ جس خطاب سے محروم رہیں گے وہ خطاب ان کو گناہوں سے پاک کرنے اور انکو معاف کرنے کا ہے جس کی نفی کی گئی ہے اور اس جگہ بھی ایسی کوئی بات نہیں ہوئی آیت پر غور فرمالیں۔
Ayah 6:24

اُنْظُرْ كَیْفَ كَذَبُوْا عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ وَ ضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ Open ayah 6:24 in the Quran reader

دیکھو کس طرح یہ اپنے اوپر جھوٹ بولنے لگے اور جو کچھ افتراء پردازیاں کیا کرتے تھے وہ سب ان سے کھوئی گئیں

دیکھو ان کا جھوٹ کس طرح واضح ہوگیا اور ان کا کیا کرایا اکارت گیا : 37: ” انظر “ دیکھو یہ گویا تصویر حال کے لئے ہے تاکہ مستقبل کا ایک ماجرا چشم تصور کے سامنے آئے ۔ اس طرح کہ خطاب کی شیرینی سے وہی شخص واقف ہو سکتا ہے جس کی عقل کی آنکھیں کھلی ہوں اور وہ ان سے دیکھنے کی عادت رکھتا ہو۔ فرمایا ” دیکھو یہ لوگ کس طرح اپنے اوپر جھوٹ بولنے لگے۔ “ یعنی انہوں نے اپنی ذات پر خود جھوٹی گواہی دے دی اور دنیا میں جس شرک کی حمایت میں لڑتے مرتے رہے آخرت میں پہلے ہی قدم پر قسمیں کھا کھا کر اس کا انکار کرنے لگے ۔ یہ کس بات کا نتیجہ ہوا ؟ اس بات کا کہ دنیا میں یہ لوگ اللہ کے خلاف جھوٹی گواہی دیتے رہے اور آخرت میں وہ اپنی ذات پر جھوٹی گواہی دیں گے اور جن کی حمایت میں انہوں نے دنیا میں اللہ پر جھوٹ بولا تھا جب وہی ان کے کام نہ آئے اور انہوں نے بھی ان کی سفارش نہ کی تو اس طرح انکے دنیا میں بولے ہوئے جھوٹ کی قلعی کھل گئی تو انہوں نے آخرت میں ایک نیا جھوٹ گھڑ لیا اور صاف صاف کہہ دیا کہ ” ہم تو ان کو شریک ٹھہراتے ہی نہیں تھے۔ “ اس جگہ جو الفاظ استعمال ہوئے ہیں ” وضل عنھم “ وہ سارے کے سارے جن کو وہ اپنا سفارشی ، حاجت روا اور مشکل کشا ، بگڑی بنانے والا خیال کرتے تھے وہ ان سے کھوئے گئے ۔ یعنی اس آڑے وقت ان کے کام نہ آئے اور جو امیدیں انہوں نے ان کے ساتھ وابستہ کر رکھی تھیں وہ پوری نہ ہوئیں۔ یہ مطلب نہیں کہ وہ ان کو کہیں نظر ہی نہ آئے یا انہوں نے ان کو دیکھا تک نہیں ۔ دوسرے مقامات پر قرآن کریم میں بڑی وضاحت سے آیا ہے کہ وہ ان کو دیکھیں گے ۔ ان کے آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر ان سے باتیں کریں گے۔ ان سے جھگڑیں گے۔ اللہ تعالیٰ سے ان کو دوگنا عذاب دیئے جانے کی اپیل بھی کریں گے۔ کیوں ؟ اس لئے کہ وہ ان کے کام نہ آئے اور جو امیدیں انہوں نے ان کو دلائی تھیں وہ پوری نہ کرسکے۔ ” ان سے کھوئے گئے ۔ “ یعنی ان کے کام نہ آئے کا مفہوم آپ نے یاد رکھا تو آگے چل کر کام آئے گا۔ جھوٹ بولنا نہایت بری عادت ہے ۔ قرآن کریم میں جگہ جگہ جھوٹوں پر اللہ کی لعنت کے الفاظ آئے ہیں اور ایک حدیث میں ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا جھوٹ سے بچو کیونکہ جھوٹ فجور کا ساتھی ہے اور جھوٹ اور فجور دونوں جہنم بن جائیں گے۔ (ابن حبان) نبی اعظم و آخر ﷺ سے دریافت کیا گیا کہ وہ عمل کیا ہے جس سے آدمی دوزخ میں جائے گا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ وہ عمل جھوٹ ہے (مسند احمد) محمد رسول اللہ ﷺ نے شب معراج میں ایک نقشہ اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ ایک شخص ہے جس کی دونوں باچھیں چیر دی جاتی ہیں لیکن وہ پھر درست ہوجاتی ہیں اور یہی عمل باربار ہو رہا ہے آپ ﷺ نے جبرئیل سے دریافت کیا کہ یہ کون شخص ہے تو جبرئیل (علیہ السلام) نے جواب دیا کہ یہ شخص جھوٹ بولنے والا ہے ۔ حدیث میں آتا ہے کہ ایک روز رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ آدمی اس وقت تک پورا مومن نہیں ہوتا جب تک جھوٹ کو بالکل نہ چھوڑدے یہاں تک کہ مزاح اور مزاق میں بھی جھوٹ نہ بولے۔ لیکن افسوس کہ کچھ لوگوں نے انبیائے کرام کے ذمہ بھی جھوٹ لگایا ہے اور ان کی تردید کی بجائے تردید کرنے والوں کو جھوٹا قرار دیا اور یہ سمجھے کہ ہم دین کا کام کر رہے ہیں۔