6. Surah Al-An'aam

الأنعامThe Cattle · 165 ayahsعروۃ الوثقٰی

Ayah 6:85

وَ زَكَرِیَّا وَ یَحْیٰى وَ عِیْسٰى وَ اِلْیَاسَ١ؕ كُلٌّ مِّنَ الصّٰلِحِیْنَۙ Open ayah 6:85 in the Quran reader

اور زکریا ، یحییٰ ، عیسیٰ اور الیاس (علیہم السلام) کہ یہ سب نیک انسانوں میں سے تھے

حضرت یحییٰ ، عیسیٰ اور الیاس (رح) کا تعلق بھی ذریت ابراہیم (علیہ السلام) ہی سے ہے : 132: زیر نظر آیت میں سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) کو بھی ابراہیم (علیہ السلام) کی ذریت میں شمار کیا گیا ہے۔ اب ذریت باپ سے ہوتی ہے یا ماں سے ؟ قابل غور ہے۔ اگر ذریت کا تعلق باپ سے ہے تو اس سے سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) کو بےباپ مان کر یا جبریل (علیہ السلام) کو باپ مان کر جیسا کہ علمائے اسلام میں سے اکثر نے تسلیم کیا ہے وہ عیسیٰ (علیہ السلام) کو ذریت ابراہیم میں کس طرح داخل کریں گے یہ ان ہی سے پوچھ لیا جائے اور یہ بھی کہ عیسیٰ (علیہ السلام) غیر اسرائیلی ہو کر بنی اسرائیل کی طرف کیسے مبعوث ہوئے ؟ جب کہ عیسیٰ (علیہ السلام) تک سارے انبیائے کرام کا حسب و نسب اپنی قوم ہی کے ساتھ تھا۔ کچھ لوگوں نے سیدہ مریم کو اسرائیلی مان کر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو ذریت ابراہیم (علیہ السلام) کی ذریت سے جب اللہ نے بیان کردیا تو اب اس کے سوا اس کا حل کیا ہو سکتا ہے کہ ان کی طرف سے اسرائیلی مان کر ذریت ابراہیم میں داخل کرلیا جائے۔ لیکن ہمارے مولانا مودودی (رح) نے ان کی والدہ ماجدہ کا بھی اسرائیلی ہونا شبہ میں ڈال دیا ہے جیسا کہ انہوں نے فرمایا ” تاریخ میں اس کا کوئی ذکر ہی نہیں کہ حضرت مریم کے والد کون تھے اور انکی والدہ کس قبیلے کی تھیں ؟ “ (تفہیم القرآن ج اول ص 247) قرآن کریم کی واضح آیت کہ : ” وَ جَعَلْنَا فِیْ ذُرِّیَّتِهِ النُّبُوَّةَ وَ الْكِتٰبَ “ (العنکبوت 29 : 27) آپ کی ذریت کے ساتھ نبوت خاص کردی گئی اس کا مفہوم کیا ہوگا ؟ العجب کو مولانا مودوی (رح) نے ابراہیم ، اسحٰق ، یعقوب اور یوسف (علیہم السلام) چاروں کو نام بنام ذکر فرما کر اسرائیلی بتایا ہے۔ (تفہیم لقرآن ج 1 ص 459) حالانکہ ابراہیم اور اسحٰق (علیہما السلام) کو اسرائیلی کیسے شمار کرلیا ؟ جب کہ یعقوب (علیہ السلام) کا دوسرا نام اسرائیلی ہو اور یعقوب خود اسرائیلی ہوں تو ان کا باپ اسحٰق اور دادا ابراہیم (علیہما السلام) کیسے اسرائیلی ہوگئے ؟ تو یہ وہی بات ہوئی جو یہودی یا عیسائی کیسے ہو سکتا تھا جب کہ یہودیت اور عیسائیت ابراہیم (علیہ السلام) کے مدتوں بعد آئی۔ “ اور ان کو موٹی عقلی کے قرار دیا کہ اتنی بات بھی نہیں سمجھ سکے کہ پہلا پچھلے کے دین پر نہیں ہوتا بلکہ ہمیشہ پچھلا پہلے کے طریقہ پر ہوتا ہے۔ بہرحال ہمارا مطلب یہ ہے کہ ان دونوں بزرگوں کو جو اسرائیل کے باپ دادا تھے اسرائیلی بنا دیا اور عیسیٰ (علیہ السلام) کے اسرائیلی یا ابراہیمی نہ ہونے یا کم از کم ان کے ذریت ابراہیم ہونے میں شبہ ہی میں رہے اور دوسروں کو بھی شبہ میں رکھا اور عیسیٰ (علیہ السلام) کو اسرائیلی سلسلہ کا آخری نبی بھی تسلیم کیا گویا بڑے لوگوں کی مرضی ہے وہ چاہیں کیا سے کیا کر دکھائیں اس لئے کہ بڑوں کی بڑی ہی باتیں ہوتی ہیں لیکن اس کا کیا کیا جائے کہ ابراہیم (علیہ السلام) ، اسحٰق (علیہ السلام) ، یعقوب (علیہ السلام) اور عیسیٰ (علیہ السلام) اور اللہ کی کتاب کا بیان سارے کے سارے ہی جناب مودودی۔ سے بڑے ہیں۔ سچی بات یہ ہے کہ جب کوئی ایک بار سیدھی راہ کو چھوڑ دیتا ہے تو پھر وہ ادھر ادھر بھٹکتا ہی پھرتا ہے خواہ وہ کتنا ہی زیرک اور کتنا ہی سمجھ دار کیوں نہ ہو۔
Ayah 6:86

وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ الْیَسَعَ وَ یُوْنُسَ وَ لُوْطًا١ؕ وَ كُلًّا فَضَّلْنَا عَلَى الْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 6:86 in the Quran reader

اور نیز اسماعیل ، الیسع ، یونس اور لوط (علیہم السلام) کو ان سب کو ہم نے دنیا والوں پر برتری دی تھی

ہر نبی (علیہ السلام) اپنے دور کے سارے لوگوں پر فضیلت و برتری رکھتا تھا : 133: اس آیت میں سیدنا اسماعیل (علیہ السلام) ، الیسع (علیہ السلام) ، یونس (علیہ السلام) اور لوط (علیہ السلام) چار نبیوں کا نام لے کر ذکر فرمایا اور اس سے یہ بات بھی ثابت ہوئی کہ حسب و نسب کے لحاظ سے جس طرح بیٹے ذریت کہلاتے ہیں اسی طرح بھتیجے بھی ذریت میں داخل ہیں کیونکہ ان کا تعلق بھی اصل سے نہیں بلکہ نسل ہی سے ہوتا ہے۔ یہ بات اس جگہ اس لئے عرض کی گئی کہ لوط (علیہ السلام) ابراہیم (علیہ السلام) کے بھیجتے ہیں بیٹے نہیں۔ اگرچہ اس ضابطہ الٰہی کے اعلان سے وہ بہت پہلے نبی بنا دیئے گئے تھے تاہم لوط (علیہ السلام) کا مقام ابراہیم (علیہ السلام) کے مقابلہ میں ذریت ابراہیم ہی سے ہو سکتا ہے۔ آباؤ واجدا ابراہیم (علیہ السلام) کا سا نہیں جس طرح چچا آباء میں داخل ہے اسی طرح بھائی کا بیٹا ذریت میں خواہ وہ عمر کے لحاظ سے ہم عمر ہو یا بڑا ہو یا چھوٹا۔ اس میں یونس (علیہ السلام) کا نام بھی آیا جو یونس بن متی کے نام سے معروف ہیں اور کہا گیا ہے کہ متی آپ کی والدہ ماجدہ کا نام تھا۔ واللہ اعلم
Ayah 6:87

وَ مِنْ اٰبَآئِهِمْ وَ ذُرِّیّٰتِهِمْ وَ اِخْوَانِهِمْ١ۚ وَ اجْتَبَیْنٰهُمْ وَ هَدَیْنٰهُمْ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 6:87 in the Quran reader

اور ان کے آباؤاجداد اور ان کی نسل اور ان کے بھائی بندوں میں سے بھی کتنوں ہی کو ہم نے برگزیدہ کیا تھا اور سیدھی راہ ان پر کھول دی تھی

جن انبیائے کرام کا نام بنام ذکر کیا گیا ان کے آباؤ اور بھائی بندوں میں بھی برگزیدہ لوگ تھے : 134: انبیاء کرام اور رسل عظام تو اللہ تعالیٰ کے مقبول اور برگزیدہ بندے ہوتے ہی ہیں اور ان پر رحمت الٰہی کے سمندر کا جو جوش ہوتا ہے وہ تو معروف ہی ہے لیکن کچھ ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں جو نہ نبی ہوتے ہیں اور نہ رسول لیکن ان کے درجات کی بلندی کا بھی کون اندازہ کرسکتا ہے اور جو اللہ کے ہاں پسندیدہ ہوگیا اور اللہ کے ہاں اس کا ہدایت یافتہ ہونا قبول کرلیا گیا وہ اگرچہ نبی و رسول تو نہ ہوئے لیکن اللہ تعالیٰ کے انعام یافتہ بندے تو ضرور قرار پاگئے اور ان کو انبیائے کرام کا سنگ اور ساتھ یقیناً مل گیا اور اگر وزیر اعظم یا صدر مملکت کے خاص آدمی ہونے کے شرف تسلیم ہے تو اللہ تعالیٰ کے ان بندوں اور اللہ کے رسولوں کے ساتھ رہنے والوں کی بزرگی سے کون انکار کرسکتا ہے ؟ ان لوگوں کو جو ہدایت ہوئی ہے وہ ہدایت بھی مخفی ایزدی کی جلوہ طرازی ہے اور جس پر اس کی نگاہ لطف و کرم پڑگئی وہ ہدایت یافتہ ہوگیا۔ بلاشبہ ان لوگوں کی ہر حرکت اپنے رسول کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق ہوتی ہے ان کو کسی بات کا دعویٰ نہیں ہوتا۔ ان کی منکسر المزاجی ضرب المثل ہوتی ہے۔ تصنع و بناوٹ کا وہاں گزر نہیں ہوتا۔ بلاشبہ وہ گل مشک ہوتے ہیں اور ان کی خوشبو سے ایک جہاں معطر ہوتا ہے۔ زیر نظر آیت میں انہی لوگوں کا ذکر کیا گیا ہے اور وہ ہمیشہ راہ مستقیم پر چلتے ہیں اور ادھر ادھر کی راہوں میں وہ گم نہیں ہوتے۔
Ayah 6:88

ذٰلِكَ هُدَى اللّٰهِ یَهْدِیْ بِهٖ مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ١ؕ وَ لَوْ اَشْرَكُوْا لَحَبِطَ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 6:88 in the Quran reader

یہ اللہ کی ہدایت ہے اپنے بندوں میں سے جسے چاہے اس کی روشنی دکھا دے اور اگر یہ لوگ (توحید کی راہ چھوڑ کر) شرک کرتے تو ان کا سارا کیا دھرا اکارت جاتا

ہدایت یافتہ لوگ وہی ہیں جو ہمیشہ ہدایت پر رہتے ہیں : 135: شرک اور ہدایت الٰہی کبھی جمع نہیں ہو سکتے۔ ہدایت یافتہ وہی ہے جو شرک کے قریب نہ جائے۔ قرآن کریم بار بار اس بات کا اعلان کرتا ہے لیکن ہمارے علمائے کرام کو نہ معلوم یہ بات کیوں پسند نہیں اور وہ کبیہ کسی نبی پر اور کبھی کسی نبی پر شرک کا الزام دینے لگتے ہیں۔ خود ہی دھبے ڈالتے ہیں اور پھر خود ہی ان کو دھونے لگ جاتے ہیں اور اس دھبے ڈالنے اور دھونے کا نام انہوں نے علم رکھا ہے۔ نبی تو نبی ہوتا ہے اگرچہ وہ ماں کے پیٹ میں ہو لیکن ہم تو یہ بات جانتے ہیں کہ اللہ کے نیک بندے اگرچہ وہ نبی نہ ہوں وہ بھی ہمیشہ شرک کی آلودگیوں سے پاک و صاف رہتے ہیں اور یہی اللہ کی رحمت کی نشانی ہے جوان لوگوں کے ساتھ خاص ہوتی ہے کہ قدرت کا ہاتھ انکو خود روکے رکھتا ہے۔ اگر یقین نہ آئے توصدیق اکبر ؓ کے حالات زندگی اور آپ ؓ کی سیرت طبہو کا مطالعہ کرو تم پر بات روشن ہوجائے گی۔ فرمایا یہ اللہ کے نیک بندے جن کا ذکر اوپر کیا گیا خواہ وہ نبی تھے یا رسول یا دوسرے اللہ کے نیک بندے کبھی ان میں سے کوئی بھی شرک کا مرتکب ہوتا تو ہم اس کے سارے کے سارے اعمال اکارت کردیتے اور ان کا کوئی نیک سے نیک عمل بھی مطلق وزن نہ رکھتا۔ شرک ایسی ناپاکی ہے کہ اس کا ایک ذرہ بھی ساری زندگی کی نیکیوں کو برباد کر کے رکھ دیتا ہے۔ پھر تم انبیائے کرام کی سیرتوں کو بیان کرتے وقت اتنے بےلگام کیوں ہوجاتے ہو کہ ان پر شرک کے داغ دھبے ڈالنے لگتے ہو۔ جس طرح ابھی ابھی سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کی سیرت کا ایک واقعہ بیان ہوا جب وہ قوم کے خلاف الٰہی دلیلوں کو بیان فرما رہے تھے اور تم نے ایک سیدھی دلیل کو الٹا سمجھ کر کبھی ستارے کو رب اور کبھی چاند و سورج کو رب کہنے کا الزام ان پر رکھ دیا حالانکہ آپ اس مناظرہ سے پہلے ہی معراج نبوت ، ، پر روحانی اور آسمان و دنیا کی ہر چز کو چشم بصیرت سے ملاحظہ فرما چکے تھے۔ آپ کو یہ سارا مشاہدہ نہ کرایا جاتا تو بھی اس بات کا کوئی امکان نہ تھا لیکن تم نے نبوت پر شرک کا داغ ڈالتے وقت ذرا غور ہی نہ کیا کہ ہم کیا کہہ رہے ہیں ؟ یاد رکھو یہ علم کی شان نہیں بلکہ جہالت کا نیجہی ہے۔
Ayah 6:89

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ وَ الْحُكْمَ وَ النُّبُوَّةَ١ۚ فَاِنْ یَّكْفُرْ بِهَا هٰۤؤُلَآءِ فَقَدْ وَ كَّلْنَا بِهَا قَوْمًا لَّیْسُوْا بِهَا بِكٰفِرِیْنَ Open ayah 6:89 in the Quran reader

یہ وہ لوگ [ ہیں جنہیں ہم نے کتاب اور حکومت اور نبوت عطا فرمائی پھر اگر یہ نعمت سے انکار کرتے ہیں ، ہم نے ان کی حفاظت ایک ایسے گروہ کے حوالے کردی ہے جو سچائی سے انکار کرنے والا نہیں

ایک نبی و رسول کی قدر ، ناقدر نہیں جانتے تو اس کے قدرشناس بھی موجود ہیں : 136: وہ کون ہیں جن کو اللہ نے کتاب ، فیصلہ کرنے کی صلاحیت اور نبوت جیسی نعمت دی لیکن انہوں نے اس نعمت کا شکر ادا کرنے کی بجائے ناشکری شروع کردی ؟ ظاہر ہے کہ یہ وہی لوگ تھے جن میں اللہ تعالیٰ نے کوئی رسول بھیجا اور اس رسول کو کتاب دی اور پھر جس کو کتاب دی گئی ظاہر ہے کہ اس کو فیصلہ کرنے کی صلاحیت بھی عطا فرمائی اور یہی وہ انعام ہے جو نبوت کے ساتھ خاص ہے تو گویا یہ سب کچھ اس قوم کو دیا گیا جس قوم میں وہ رسول مبعوث ہوا اور اس طرح نبی اعظم و آخر ﷺ کو کتاب ، فیصلہ کرنے کی صلاحیت اور نبوت تینوں چیزیں وافر مقدار میں دے کر قوم قریش میں مبعوث فرمایا تو یہ انعام گویا پوری قوم قریش بلکہ مکہ والوں پر کیا گیا اس لئے کہ وہی مخاطبین اول تھے لیکن انہوں نے اس انعام خداوندی کی جو قدرو قیمت لگائی وہ سب کو معلوم ہے اگر وہ قدر شناس ہوتے تو اپنے رسول محمد ﷺ کی لائی ہوئی ہدایت کو فوراً قبول کرلیتے اور ان پر ابررحمت اس قدر برستا کہ وہ دین و دنیا میں کامیاب و کامران ہوجاتے لیکن وہ ناقدر شناس ثابت ہوئے کہ جس انسان کو وہ رسالت سے پہلے ” الامین “ اور ” الصادق “ اور خیر البشر “ کے ناموں سے یاد کرتے تھے اور اس کے فیصلوں کے سامنے ابو الحکم کہلانے والے بھی گھٹنے ٹیکتے تھے اور اس کی فراست اور علم و حکمت کے معترف تھے انہوں نے آپ کو نبوت کا اعلان کرنے کے ساتھ ہی جادو گر ، ساحر ، شاعر اور مجنون جیسے خطابوں سے پکارنا شروع کردیا۔ کیوں ؟ اس لئے کہ ان ساون کے اندھوں کو ہرچیز سبز ہی نظر آنے لگی اور حقیقت میں یہ ان کا اپنا وہم تھا ورنہ اندھے کو کچھ نظر ہی کب آتا ہے ؟ آیت کا مطلب ہوا کہ جو لوگ یعنی جن کا اوپر بیان ہوا جن کو ہم نے آپ کی وساطت سے کتاب ، حکم اور نبوت کی نعمت سے سرفراز کیا یعنی مکہ والوں کو اور انہوں نے اس نعمت کی کوئی قدر نہ کی یعنی آپ ﷺ کو جھٹلانا شروع کردیا اور اس طرح انہوں نے اللہ تعالیٰ کی اس نعمت کی ناقدری کی تو تم ان کی پروانہ کرو۔ ہم نے ایسے لوگوں کو اس کو ذمہ داری اٹھانے کے لئے مقرر کردیا ہے جو اس نعمت کا انکار کرنے والے نہیں ہیں۔ ” قوما “ سے مراد اس جگہ صحابہ کرام ؓ کی وہ جماعت بھی ہے جو اس وقت تک داخل اسلام ہوچکی تھی اور وہ لوگ بھی جن کے لئے بعد میں اس کے حاملین میں داخل ہونا مقدر تھا اگرچہ وہ ان آیات کے نزول تک اس جماعت میں داخل نہیں ہوئے تھے یعنی انصار کا وہ گروہ جو بعد میں مسلمان ہونے والا تھا۔ گویا آیت کے اس حصہ میں صحابہ ؓ کی استقامت اور مستقبل قریب میں امت کی کثرت کی پیش گوئی ہے اور اس لحاظ سے یہ نبی اعظم و آخر ﷺ کے لئے ایک عظیم الشان بشارت ہے جو اس دور میں آپ کو سنائی گئی جب آپ ﷺ مخالفتوں کے طوفان سے گزر رہے تھے۔ ان الفاظ سے تقدیر الٰہی کے اس اٹل فیصلہ کا بھی اعلان کیا جا رہا ہے جو اس دعوت کو فتح مند کرنے کے لئے ہوچکا تھا اور یہ بات بھی واضح ہو رہی تھی کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے جن بندوں کو اس کام کے لئے کھڑا کردیا ہے ان کی قلت تعداد پر نہ جاؤ یہی لوگ اس دعوت کے علمبردار ہوں گے اور یہی قطرے ایک روز سمندر بن کر مدد جزو پیدا کریں گے۔ یعنی اگر کفار مکہ جن کو من حیث القوم کتاب حکمت اور نبوت سے نوازا گیا وہ ہماری آیات کو نہ مانیں اور دعوت اسلام کو قبول نہ کریں تو وہ اپنا ہی زیاں کریں گے۔ اسلام کو تو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا کیونکہ اس دین حق کو قبول کرنے کے لئے اس کا پیغام دنیا کے گوشہ گوشہ تک پہنچانے کے لئے اور ہر قیمت پر اس کے پرچم کو بلند رکھنے کے لئے ہم نے ایک قوم مقرر کردی ہے جو انصار ومہاجرین اور دوسرے لوگوں پر مشتمل ہے۔ جمع صحابہ کرام ؓ کی جماعت کے لئے یہ آیت نص قطعی کا حکم رکھتی ہے جس کے بعد رسول اللہ ﷺ کے کسی صحابی ؓ کے متعلق بدزبانی کا خیال پیدا کرنا بھی ایک مسلم کے لیے حرام قرار پاتا ہے۔
Ayah 6:90

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ هَدَى اللّٰهُ فَبِهُدٰىهُمُ اقْتَدِهْ١ؕ قُلْ لَّاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ اَجْرًا١ؕ اِنْ هُوَ اِلَّا ذِكْرٰى لِلْعٰلَمِیْنَ۠ Open ayah 6:90 in the Quran reader

یہ وہ لوگ ہیں جنہیں اللہ نے راہ حق دکھا دی پس تم بھی انہی کی پیروی کرو تم کہہ دو میں اس پر تم سے کوئی بدلہ نہیں مانگتا یہ اس کے سوا کچھ نہیں کہ تمام دنیا کے لیے نصیحت ہے

یہی وہ لوگ ہیں جن کو اللہ نے ہدایت دی آپ ﷺ بھی ان کی ہدایت کی اقتداء کریں : 137: ” اقْتَدِهْ 1ؕ“ کا مادہ ق د و ہے۔ اقتداء پیروی کو کہتے ہیں۔ یعنی جو آپ ﷺ سے پہلے کے نبی و رسول کرتے آئے ہیں آپ ﷺ بھی ویسا ہی کریں۔ گذشتہ حضرات کا طریقہ کیا تھا جس پر چلنے کا حکم نبی اعظم و آخر ﷺ کو مل رہا ہے ؟ اس طریقہ کا بیان پیچھے سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کی سرگزشت میں تفصیل کے ساتھ گزر چکا اور ایک رسول کے واقعات کا بیان فرما کر ، دوسروں کا صرف ذکر کرنے کا مطلب ہی یہ تھا کہ یہ سب کے سب اپنے اپنے وقتوں میں وہی کچھ کرتے رہے ہیں جو ابراہیم (علیہ السلام) نے کیا اور اے ہمارے رسول ! محمد رسول اللہ ﷺ آپ کو بھی وہ سب کچھ کرنے کا حکم دیا جا رہا ہے جو آپ ﷺ سے پہلے کے سارے پیغمبر کرتے آرہے ہیں۔ ان کا طریقہ بھی صبر و استقامت کا تھا۔ ان سب نے اپنے اپنے معاصر منکرین کے ہاتھوں سخت سے سخت مصائب اٹھائے تھے لیکن یہ سب کے سب اس کے باوجود اپنی اپنی جگہ پر ثابت قدم رہے تھے اور آپ ﷺ کو بھی اسی طرح ثابت قدم رہنا ہے۔ گویا اقتداء سے مقصود صرف اخلاق فاضلہ اور صفات کمال میں ان جلیل القدر انبیاء کی موافقت کرنا ہے۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ہر وہ خوبی اور کمال جو دوسرے انبیائے کرام میں متفرق طور پر پایا جاتا تھا جیسے شرک کے خلاف ابراہیم (علیہ السلام) میں درس و تدریس کے لحاظ سے ادریس (علیہ السلام) میں ، جلالت کے لحاظ سے موسیٰ (علیہ السلام) میں ، تقویٰ وورع کے لحاظ سے یحییٰ (علیہ السلام) میں ، منکسر المزاجی کے لحاظ سے سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) میں پایا جاتا تھا نبی اعظم و آخر ﷺ میں یہ سارے کے سارے کمالات جمع کردیئے گئے اس لئے آپ ﷺ سارے انبیائے کرام (علیہ السلام) ، اجمل و اکمل ہیں۔ کسی نے کیا خوب کہا ہے۔ ؎ حسن یوسف ؓ دم عیسیٰ ید بیضاداری ۔ آنچہ خوباں ہمہ داردنہ توتنہاداری ” تم کہہ دو میں تم سے کوئی بدلہ نہیں مانگتا “ یہ وہی بات ہے جس کا اعلان سب انبیائے کرام سے کرایا گیا اور کسی نبی نے بھی دعوت اسلامی کو ہمیشہ نہیں بنایا اور یہی اعلان نبی اعظم و آخر ﷺ سے کرایا گیا اس لئے کہ بعض لوگ اس غلط فہمی میں مبتلا تھے کہ نبوت کا دعویٰ صرف مال و دولت اکٹھا کرنے کے لئے کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کو حکم دیا کہ آپ ﷺ اعلان کر دیجئے کہ دعوت اسلام میرا پیشہ نہیں بلکہ مقصد حیات ہے۔ میں اس کے ذریعہ سے دولت جمع کرنا نہیں چاہتا ، اس کو ذریعہ معاش بنانا نہیں چاہتا ، اس کی کمائی سے پیٹ پروری کرنا نہیں چاہتا ، اس کو ذریعہ اقتدار بنانا نہیں چاہتا۔ میرا مدعا تو فقط یہ ہے کہ تم گمراہی کی دلدل سے نکل کر شاہراہ ہدایت پر آجاؤ ۔ تمہارے رب سے تمہارا ٹوٹا ہوا رشتہ پھر جوڑ دینا چاہتا ہوں۔ جو کتاب میں تمہیں پڑھ کر سناتا اور سمجھاتا ہوں جس کے مطابق عمل کرکے تم کو دکھاتا ہوں اس سے میری کوئی ذاتی غرض وابستہ نہیں یہ تو ہر قسم کی اغراض سے بالاتر ہے جو ایک آفاقی دعوت رشد اور ایک عالمی پیغام ہدایت ہے۔
Ayah 6:91

وَ مَا قَدَرُوا اللّٰهَ حَقَّ قَدْرِهٖۤ اِذْ قَالُوْا مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ عَلٰى بَشَرٍ مِّنْ شَیْءٍ١ؕ قُلْ مَنْ اَنْزَلَ الْكِتٰبَ الَّذِیْ جَآءَ بِهٖ مُوْسٰى نُوْرًا وَّ هُدًى لِّلنَّاسِ تَجْعَلُوْنَهٗ قَرَاطِیْسَ تُبْدُوْنَهَا وَ تُخْفُوْنَ كَثِیْرًا١ۚ وَ عُلِّمْتُمْ مَّا لَمْ تَعْلَمُوْۤا اَنْتُمْ وَ لَاۤ اٰبَآؤُكُمْ١ؕ قُلِ اللّٰهُ١ۙ ثُمَّ ذَرْهُمْ فِیْ خَوْضِهِمْ یَلْعَبُوْنَ Open ayah 6:91 in the Quran reader

اور دیکھو جب ان لوگوں نے کہا اللہ نے کسی انسان پر کوئی چیز نہیں اتاری ہے تو گویا ان لوگوں نے اللہ کا بڑا غلط اندازہ لگایا تم کہو کس نے وہ کتاب اتاری جسے موسیٰ (علیہ السلام) لائے تھے ؟ جو لوگوں کے لیے روشنی اور ہدایت ہے اور جسے تم اوراق کا مجموعہ بنا کر لوگوں کو دکھاتے ہو اور بہت سی پوشیدہ باتیں پوشیدہ رکھتے ہو ؟ نیز تمہیں وہ باتیں کس نے سکھائیں جو پہلے نہ تو تم جانتے تھے نہ تمہارے باپ دادا جانتے تھے ؟ تم کہو ” اللہ نے “ اور پھر انہیں ان کی کاوشوں میں چھوڑ دو کہ وہ کھیلتے رہیں

ان لوگوں نے اللہ کو کیا پہچانا جنہوں نے بشر پر کتاب الٰہی کے نزول کا انکار کیا : 138: ” مَا قَدَرُوا “ انہوں نے نہیں پہچانا (خازن) انہوں نے شناخت نہیں کیا (راغب) انہوں نے کیا اندازہ لگایا ؟ مطلب سب کا ایک ہی ہے کہ ” ان لوگوں نے جنہوں نے یہ کہا کہ اللہ نے کسی انسان پر کوئی چیز نازل نہیں کی انہوں نے اللہ کو کیا پہچانا۔ “ یا انہوں نے غلط اندازہ لگایا یا کوئی پتہ کی بات نہ کہی ، بےسوچے سمجھے کہہ دیا جو کہہ دیا۔ یہ کہنے والے کون تھے ؟ اس میں بہت کچھ اختلاف کیا گیا کیوں ؟ اس لئے کہ اگر یہ کہا جائے کہ یہ کہنے والے قریش مکہ تھے کیونکہ وہ مخاطبین اول تھے اور سورت چونکہ مکی ہے یہ جواب تو صحیح معلوم ہوتا ہے لیکن جب اس کے جواب پر غور کیا جاتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ جب وہ موسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت کو تسلیم ہی نہ کرتے تھے تو پھر ان کو یہ جواب دینا کیا معنی رکھتا ہے ؟ اس طرح کے بہت سے سوال اٹھائے گئے اور ان کے جواب دیئے گئے۔ حقیقت اس طرح سمجھ میں آتی ہے کہ جب نبی اعظم و آخر ﷺ نے نبوت اور نزول وحی کا دعویٰ کیا تو اہل مکہ کے لئے یہ بالکل ایک انو کھی چیز تھی وہ اس بات کے قائل ہی نہ تھے کہ کوئی نبی بھی خدا کی طرف سے مبعوث ہوتا ہے اور خصوصاً یہ کہ کوئی بشر بھی رسول ہو سکتا ہے اور اس پر اللہ کی طرف سے وحی آتی ہے پہلے پہل تو انہوں نے صرف اس وجہ سے انکار کردیا لیکن جب آیات قرآنی کے سننے کا اتفاق ہوا تو ان کے دلوں کو لبھانے لگا اور نبی کریم ﷺ کی سیرت طیبہ اور اخلاق کریمانہ اپنی طرف مائل کرنے لگے۔ ان کی سمجھ میں کچھ نہ آتا تھا کہ وہ اس کو کیا مانیں اور کیا سمجھیں ؟ اس مشکل کو حل کرنے کے لئے انہوں نے یثرب کے یہودیوں کی طرف رجوع کیا۔ یہودنا مسعود حقیقت کو یقیناً سمجھتے تھے لیکن ان کو سنتے ہی یہ غم لاحق ہوگیا کہ وہ آخر الزمان نبی بنی اسماعیل سے کیسے مبعوث ہوگیا ؟ یہ تو بنی اسرائیل کا خاندانی حق تھا اس لحاظ سے ان بداندیشوں کو محمد رسول اللہ ﷺ کی نبوت میں اپنی محرومی اور ذلت نظر آنے لگی۔ انہیں اپنا تاج اپنے ہاتھوں اتار کر دوسرے کے سر پر رکھنا گوارانہ ہوا چناچہ انہوں نے ازراہ خباثت اور بغض و حسد اپنے مسلمات اور نظریات کے خلاف انہیں کہلابھیجا کہ اے اہل حرم ! تم اس شخص کو نبی نہ ماننا ہم تم کو اپنے علم کی بنا پر بتاتے ہیں کہ اللہ نے آج تک کسی بشر پر وحی نہیں بھیجی کیونکہ کبھی کوئی بشر رسول نہیں ہو سکتا۔ یہ بشر ہو کر کیسے اس بات کا دعویٰ کرتا ہے کہ میں نبی ہوں اور میری طرف وحی آتی ہے۔ اس طرح کفار مکہ نے یہود کے فتویٰ پر بشر کے رسول ہونے کا انکار کردیا۔ اس طرح بلاشبہ بظاہر مخاطب قریش تھے لیکن دراصل مخاطب یہود ہی کو کیا گیا چونکہ انہوں نے یہ بات در پردہ قریش مکہ کو پڑھائی تھی قرآن کریم نے بھی اس انداز سے ان کو مخاطب کیا اور کہا اگر تمہارا یہ قول درست ہے جو تم نے قریش مکہ کو پڑھایا تو پھر موسیٰ (علیہ السلام) بھی تو انسان تھے ان پر وحی کیسے نازل ہوئی اور تورات کون لایا ؟ کیا موسیٰ (علیہ السلام) بشر نہیں تھے ؟ اگر تھے تو کیا موسیٰ (علیہ السلام) پر تورات نازل نہیں ہوئی تھی ؟ اگر ہوئی تھی تو تم نے کس دلیل سے یہ کہا کہ بشر پر کچھ نازل نہیں ہو سکتا اور جس پر کچھ نازل ہو وہ بشر نہیں ہو سکتا۔ اگر تورات ایک بشر پر نازل ہو سکتی ہے تو قرآن کریم بشر پر کیوں نازل نہیں ہو سکتا تھا ؟ بشر پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے کچھ نازل ہونے سے انکار ، رسول کا بشرہونے سے انکار اور جو بشر ہو اس کے رسول ہونے سے انکار بہت پرانا مرض ہے۔ یہ مکہ والوں کو لاحق ہوا اور ان سے بہت پہلے نوح (علیہ السلام) کی قوم ، ہود (علیہ السلام) کی قوم صالح ، (علیہ السلام) کی قوم ، موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم کو بھی لاحق ہوا اور ان سب اقوام نے اپنے رسول کو آنکھوں دیکھ کر محض اسلئے انکار کیا کہ وہ ایک بشر کے رسول ہونے کو تسلیم نہیں کرسکتے اور یہی بیماری محمد رسول اللہ ﷺ کی قوم کے اولین مخاطبین کو لگی جنہوں نے آپ ﷺ کو اپنی آنکھوں سے ایک انسان اور بشر دیکھا جیسا کہ سورة بنی اسرائیل اور دوسرے بہت سے مقامات سے یہ بات واضح ہے لیکن آج بھی یہ مرض اسی طرح قوم مسلم میں موجود ہے فرق یہ ہے کہ اس وقت بشر کے رسول ہونے سے انکار کرنے والے پکے کافر تھے اور آج کل رسول کے بشر ہونے سے انکار کرنے والے اپنے آپ کو سچے مسلمان سمجھتے ہیں۔ ارشاد ہوتا ہے کہ ” اس سے معلوم ہوا کہ کسی کو بشر کہنے میں اس کے فضائل و کمالات کے انکار کا پہلو نکلتا ہے اس لئے قرآن پاک میں انبیائے کرام (علیہ السلام) کے بشر کہنے والوں کو کافر فرمایا گیا اور درحقیقت انبیاء کی شان میں ایسا لفظ ادب سے دور اور کفار کا دستور ہے۔ “ (تفسیر سیدمحمد نعیم الدین ؓ ص 5) ان سے پوچھئے کہ موسیٰ (علیہ السلام) جو کتاب لائے تھے وہ بھی بشر پر نازل نہیں ہوئی تھی : 139: فرمایا اے پیغمبر اسلام ! ان بشر کے رسول ہونے سے انکار کرنے والوں نے جو بیہودہ کلمہ کہا ہے انہوں نے دراصل حق تعالیٰ کو پہچاننے کی طرح نہیں پہچانا تب ہی تو یہ گستاخانہ کلمہ ان کی زبانوں سے نکلا ہے کہ ” بشر پر آج تک اللہ نے کچھ نہیں اتارا “ جو دراصل اس طرح ہے کہ ” آج تک جن لوگوں پر اللہ نے کچھ نازل کیا وہ سب کے سب بشر ہی تھے۔ “ حقیقت یہ ہے کہ ان لوگوں نے ایسی بات کہہ کر جو بالکل خلاف واقع ہے آسمانی کتابوں کا انکار کردیا ہے۔ آپ ﷺ ان سے استفسار کیجئے کہ اگر بات وہی ہے جو تم کہہ رہے ہو تو بتلاؤ کہ یہ تورات جس کو تم بھی مانتے ہو کہ وہ اللہ کی نازل کردہ ہے اور اس کے نزول کے باعث تم اقوام عالم کے چودہری بنے بیٹھے ہو یہ کس پر نازل ہوئی ہے ؟ ان کا جواب کیا ہوگا یہی کہ موسیٰ (علیہ السلام) پر۔ تو فرما دیجئے کہ کیا وہ بھی بشر تھے یا نہیں ؟ اس لئے کہ وہ موسیٰ (علیہ السلام) کی بشریت سے انکار نہیں کرسکتے کہ یہ لوگ ” سچے “ مسلمان نہیں۔ موسیٰ (علیہ السلام) کی کتاب کی طرف توجہ دلانے کا مطلب یہ بھی ہے کہ اس میں صاف لکھا ہے کہ ” ایک نبی موسیٰ کی مانند کھڑا کیا جائے گا “ اور ان کی کتاب کی اس شہادت کو قرآن کریم کی سورة المزمل میں بھی بیان کیا گیا ہے پھر ان کی حالت کا ذکر بھی کردیا جو کتاب موسیٰ (علیہ السلام) لائے وہ تو یقیناً لوگوں کے لئے روشنی اور ہدایت ہے لیکن تمہاری اپنی کیا حالت ہے جو اس کتاب کے پیرو کہلاتے ہو کہ تم نے اس کے ٹکڑے ٹکڑے کردیئے ہیں جس کو چاہتے ہو ظاہر کرتے اور جس کو چاہتے ہو چھپا لیتے ہو یعنی ان کے مطابق عمل نہیں کرتے۔ پڑھتے کچھ اور اس کا مفہوم کچھ سے کچھ کردیتے ہیں۔ ” تجعلونہ قراطیس “ تم نے اسکو ورق ورق کردیا ہے اور اس مجموعہ اوراق میں جو چاہا اس کو نکال لیا اور جو چاہا اس میں داخل کرلیا اور خصوصاً وہ پیش گوئیاں جو محمد رسول اللہ ﷺ کے متعلق بیان تھیں ان کے ساتھ جو کچھ تم نے کیا وہ تو اچھی طرح یاد ہوگا کیونکہ یہ واقعہ تو اس وقت بالکل تازہ تھا کہ پہلے ان پیش گوئیوں کو پڑھتے اور ایک آخر الزمان نبی آنے کی امید پر زندہ تھے لیکن جب وہ نبی اسماعیل میں سے آگیا تو انہوں نے وہ پیش گوئیاں ہی اپنی کتاب تورات سے نکال دیں۔ اس کتاب میں تم کو وہ باتیں سکھائی جارہی ہیں جو تم نہیں جانتے تھے ؟ : 140: یہ لوگ اپنی اس حرکت سے انکار نہیں کرسکتے کہ انہوں نے کتاب سے کچھ نہیں چھپایا۔ آپ ﷺ ان سے کہئے کہ اس وعدہ کے تصدیق میں تو یہ کتاب نازل ہوئی یعنی قرآن کریم جو محمد رسول اللہ ﷺ پر نازل ہوا یہ تمہاری کتاب تورات کی تصدیق ہی تو ہے پھر تعجب ہے کہ تم اس کا انکار کرتے ہو گویا اس طرح تم نے قرآن کریم کا کھلا انکار کر کے اپنی کتاب تورات ہی کا انکار کیا ہے تم سمجھو یا نہ سمجھو تمہاری مرضی۔ پھر یہ بھی کہ قرآن کریم نے تم کو وہ باتیں بتائیں جو تم بھی نہ جانتے تھے اور تمہارے باپ دادا بھی نہیں جانتے تھے۔ مطلب یہ ہے کہ تمہاری کتاب تورات کی کتنی آیات کی تشریح تم کو اس کتاب قرآن کریم نے کردی حالانکہ ایک عرصہ سے تم اس کو پڑھتے آرہے تھے لیکن اس کا اصل مفہوم تم پر واضح نہ تھا اور قرآن کریم نے اسکو واضح کردیا یہ گویا احسان عظیم ہے تم پر قرآن کریم کا۔ اگر تم بھی اس بات کو سمجھو۔ یہ احسان کس نے کیا ہے ؟ آپ (a) ہی ان کو جواب دے دیں : 141: جب تمہاری نسلوں پر نسلیں اور صدیوں پر صدیاں گزرتی چلی گئی اور تمہیں اپنی بشری کوششوں سے ان حقائق کا علم نہ ہوسکا جو حقائق تمہاری کتاب تورات میں بیان کئے گئے تھے اور قرآن کریم نے آکر ان حقائق کو کھولا تو دراصل ان حقائق کا کھولنے والا کون ہوا ؟ فرمایا اے پیغمبر اسلام ! آپ ﷺ ان کو یہ جواب سنا دیں کہ ” اللہ ہی نے ان حقائق کو کھولا “ کیونکہ قرآن کریم کو اللہ ہی کی نازل کردہ کتاب ہے جس طرح تورات اللہ کی نازل کردہ کتاب تم بھی مانتے اور تسلیم کرتے ہو۔ آپ ﷺ نے ان کو حق پہنچادیا اور اب ان کو ان کی کاوشوں میں چھوڑ دو کہ وہ اپنی بیہودگی میں کھیلتے ہیں تو ان کو کھیلنے دو اس لئے کہ نہ ماننے والوں کا آخر کوئی علاج ؟
Ayah 6:92

وَ هٰذَا كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ مُبٰرَكٌ مُّصَدِّقُ الَّذِیْ بَیْنَ یَدَیْهِ وَ لِتُنْذِرَ اُمَّ الْقُرٰى وَ مَنْ حَوْلَهَا١ؕ وَ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ یُؤْمِنُوْنَ بِهٖ وَ هُمْ عَلٰى صَلَاتِهِمْ یُحَافِظُوْنَ Open ayah 6:92 in the Quran reader

اور دیکھو یہ کتاب ہے جسے ہم نے نازل کیا برکت والی ہے اور جو اس سے پہلے نازل ہوا ! اس کی تصدیق کرنے والی ہے اور اس لیے نازل کی تاکہ تم ام القریٰ کے باشندوں کو اور ان کو جو اس کے چاروں طرف بستے ہیں متنبہ کرو جو لوگ آخرت کا یقین رکھتے ہیں وہ اس پر بھی ایمان رکھتے ہیں اور وہ اپنی نمازوں کی نگہداشت سے غافل نہیں ہوتے

آپ ﷺ یہ قرآن کریم مکہ اور حوالئی مکہ کو سنائیں تاکہ وہ متنبہ ہوجائیں : 142: قرآن کریم کیا ہے ؟ کتاب اللہ جس کو اللہ تعالیٰ نے محمد رسول اللہ ﷺ کے سینہ اقدس میں نازل کیا ہے جو ایسی بابرکت کتاب ہے کہ اس نے اپنے سے پہلے آنے والی کتابوں کی تصدیق کی ہے۔ اس طرح اس نے سب کو ملانے کی کوشش کی ہے متفرق کرنے کی نہیں۔ تورات کے بعد اللہ تعالیٰ نے اس قرآن کریم کو کیوں نازل کیا ؟ اس کے نزول سے کیا کمی پوری ہوئی ؟ یہی کہ جو باتیں اہل کتاب نے چھپا دی تھیں ان کو ظاہر کردیا جائے اور جو باتیں وہ اور ان کے آباؤاجداد ایک مدت ہوئی کہ سمجھ نہ سکے تھے ان کو اس نے بڑے واضح طریقہ سے سمجھا دیا اسلئے حق تو یہ تھا کہ یہ لوگ قرآن کریم اور جس پر قرآن کریم نازل ہوا اور جس نے قرآن کریم کو نازل کیا سب کے احسان مند ہوتے اور ان پر خوش ہوتے لیکن یہ خوش ہونے کی بجائے الٹے ناراض ہوگئے اور گدھوں کی طرح لاتیں چلا نا شروع کردیں تو آپ اے پیغمبر اسلام ! ان کے پیچھے نہ لگیں بلکہ آپ اس قرآن کریم کے ذریعہ اُمّ القریٰ یعنی مکہ والوں کو اور حوالئی مکہ ڈرائیں اور ان کے کئے کا انجام ان کو بتائیں اس طرح جوں جوں اس کی روشنی پھیلتی جائے گی سب کچھ خود بخود روشن ہوتا چلا جائے گا۔ آپ فکر نہ کریں انہی مردوں میں ایسے زندہ بھی ہیں جو اس روشنی کی کرنیں پڑتے ہی بھاگ جائیں گے اور اپنے زندہ ہونے کا ثبوت پیش کریں گے اور اس طرح آپ ﷺ پر جو ان کا حق ہے جہاں آپ ﷺ پیدا ہوئے اور وہ آپ ﷺ کو ہر لحاظ سے جانتے اور پہچانتے بھی ہیں وہ حق ادا ہوگا اور کل کو ان کی یہ حجت نہ رہے گی کہ ہمارے رسول نے آتے ہی ہمیں چھوڑکر اہل کتاب کو مخاطب کرلیا اور انہی کو بات سمجھانے کی کوشش کی اور ہم سے کوئی بات ہی نہیں کی۔ اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ انسان کے جنم بھوم کا بھی اس پر کچھ حق ہوتا ہے جس کو ادا کرنا لازم ہوتا ہے اور یہ ایک فطری چیز ہے اس لئے قرآن کریم نے اس کی طرف توجہ دلا دی۔ آخرت کا یقین رکھنے والے قرآن کریم سے انحراف کر ہی نہیں سکتے : 143: آخرت کا یقین رکھنے والوں سے مراد ظاہر ہے اہل کتاب کے صالحین اور نیک لوگوں ہی سے ہے اور یہ بھی اپنی جگہ حقیقت ہے کہ ہر آسمانی کتاب نے اخرت کا تصور دیا ہے اور اخرت کا یقین چونکہ سچائی ہے اور ایک سچائی کو سچائی مان لینے والے کے لئے دوسری سچائی کا تسلیم کرنا یقیناً آسان ہوتا ہے جس طرح ہر برائی دوسری برائی کی طرف آمادہ کرتی ہے بالکل اسی طرح ہر سچائی دوسری سچائی کی طرف رغبت دلاتی ہے بشرطیکہ پہلی سچائی کو سچائی سمجھ کر تسلیم کیا ہو رواجاً اس کو قبول نہ کیا گیا ہو۔ ظاہر ہے کہ جن اہل کتاب کو آخرت پر یقین ہے وہ ییناً قرآن کریم کی سچائی کو بھی قبول کرتے ہیں اور رہے وہ لوگ جن کے اندر سرے سے آخرت کا کوئی خوف ہی باقی نہیں رہ گیا ان سے کسی خیر کی توقع بالکل عبث ہے یہ لوگ دل لگی کے لئے کوئی نہ کوئی نئی بحث اور کوئی نہ کوئی کٹ حجتی ہی تلاش کریں گے اور شرارتی ذہن ہمیشہ اس طرح شرارتیں سوچتا رہتا ہے۔ جب انہوں نے آخرت میں حقیقت کو جھٹلایا ہے تو ان کو دوسری حقیقتوں سے انکار کرتے کیا چیز مانع ہو سکتی ہے۔ اس جگہ قرآن کریم کی متعدد صفات اور خصوصیات بیان کی جا رہی ہیں جس کے بارے میں اہل کتاب اور اہل مکہ اس کشمکش میں مبتلا تھے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے بھی یا نہیں۔ فرمایا کہ ” یہ مبارک ہے “ یعنی برکت والی۔ امت اسلامیہ کی ساری تاریخ قرآن کریم کی اس ایک صفت کی جلوہ گاہ ہے۔ عرب کے ان پڑھ ساربان وسیع و عریض ملکوں اور عظیم سے عظیم تر قوموں کی زمام اقتدار اپنے ہاتھوں میں لیتے ہیں اور ساری دنیا عدل و انصاف اور پاکیزگی اور تقویٰ کے نور سے جگمگا اٹھتی ہے۔ وہ ایک ایک کوڑی کے لئے انسانی جان ضائع کرنے والا بھوکا بدواتنا سیر چشم اور دل کا غنی ہوجاتا ہے کہ کسریٰ کے محلات کی ثروت اور بیش قیمت سازوسامان اس کی حفاظت میں مدینہ طیبہ بھیجا جاتا ہے اور اس میں ایک سوئی کی خیانت بھی نہیں ہوتی۔ ایک سنگ دل عرابی اس کتاب کے اثر سے اتنا رحیم و کریم ہوجاتا ہے کہ وہ اس خیمہ کو اکھاڑنا بھی گوارا نہیں کرتا جس میں ایک فاختہ نے انڈے دے رکھے ہیں۔ یہ کس چیز کی برکت ہے جس نے حالات کو اس قدر مختلف کر کے رکھ دیا وہ قرآن کریم ہی کی برکت تو ہے۔ پھر انکی یہ صفت بھی بتائی کہ جب انہوں نے ایک سچائی یعنی یوم آخرت پر ایمان کو قبول کیا تو وہ دوسری سچائی قرآن کریم کی ہدایات کو قبول کرنے کے لئے مائل ہوگئے اور پھر ایک مزید اچھائی یعنی ” صلوٰۃ “ کی ادائیگی میں مخلص ٹھہرتے ہیں اور اس کے قیام کی ہر لحاظ سے حفاظت کرتے ہیں۔ اس طرح اس آیت نے یوم آخرت پر ایمان ، قرآن کریم پر اللہ کی کتاب ہونے پر ایمان و صلوٰۃ موقت کے قیام پر ایمان تین چیزوں کو ایک دوسرے کے ساتھ اس طرح سے وابستہ وپیوستہ کردیا کہ تینوں چیزیں ایک دوسرے کے ساتھ لازم وملزوم ہوگئیں اس طرح صلوٰۃ کی انتہائی اہمیت واشرفیت بھی ظاہر ہوگئی۔
Ayah 6:93

وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اَوْ قَالَ اُوْحِیَ اِلَیَّ وَ لَمْ یُوْحَ اِلَیْهِ شَیْءٌ وَّ مَنْ قَالَ سَاُنْزِلُ مِثْلَ مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ١ؕ وَ لَوْ تَرٰۤى اِذِ الظّٰلِمُوْنَ فِیْ غَمَرٰتِ الْمَوْتِ وَ الْمَلٰٓئِكَةُ بَاسِطُوْۤا اَیْدِیْهِمْ١ۚ اَخْرِجُوْۤا اَنْفُسَكُمْ١ؕ اَلْیَوْمَ تُجْزَوْنَ عَذَابَ الْهُوْنِ بِمَا كُنْتُمْ تَقُوْلُوْنَ عَلَى اللّٰهِ غَیْرَ الْحَقِّ وَ كُنْتُمْ عَنْ اٰیٰتِهٖ تَسْتَكْبِرُوْنَ Open ayah 6:93 in the Quran reader

اور اس سے بڑھ کر ظلم کرنے والا کون ہے جو اللہ پر جھوٹ بول کر افتراء کرے ؟ یا کہے مجھ پر وحی کی گئی ہے اور حقیقت میں اس پر کوئی وحی نہ آئی ہو ؟ اور اس سے بھی جو کہے میں بھی ایسی ہی بات اتار دکھاؤں گا جیسی اللہ نے اتاری ہے ؟ اور تم تعجب کرو اگر ظالموں کو اس حالت میں دیکھو جب وہ جان کنی کی بےہوشیوں میں پڑے ہوں گے اور فرشتے ہاتھ بڑھائے ہوں گے کہ اپنی جانیں نکال باہر کرو ، آج کا دن وہ دن ہے کہ جو کچھ تم اللہ پر تہمتیں باندھتے تھے اور اس کی آیتوں کی تصدیق سے گھمنڈ کرتے تھے اس کی پاداش میں تمہیں رسوا کرنے والا عذاب دیا جائے

اللہ پر جھوٹ باندھنا اور رسول نہ ہو کر رسالت کا دعویٰ کرنا بہت بڑا ظلم ہے : 144: ” جو شخص اللہ پر جھوٹ باندھے اس سے بڑا ظالم اور کون ہو سکتا ہے “ مکہ والوں کو یہ بات بتائی جا رہی ہے کہ آج جس شخص نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے اور اللہ کا رسول ہونے کا مدعی ہے اس کے متعلق ذاتی رائے کیا ہے ؟ یہی کہ وہ تم سب میں سے زیادہ سچا اور سب سے بڑھ کر دیانت دار ہے۔ پھر غور کرو کہ جو شخص کسی انسان کے متعلق کوئی جھوٹی بات کہنے کے لئے تیار نہیں وہ اللہ پر جھوٹ باندھ سکتا ہے ؟ جب اس نے رسول ہونے کا دعویٰ کیا ہے تو اس کی سچائی بذاتہ اس بات پر دال ہے کہ وہ فی الواقعہ اللہ کا رسول ہے کیونکہ ابھی تک رسالت کے ختم کرنے کا کوئی اعلان اللہ تعالیٰ کیطرف سے نہیں ہوا تھا۔ اب معاملہ دو حال سے خالی نہ رہا ایک یہ کہ نبی نے اللہ کا نام لے کر جھوٹا دعویٰ کیا ہے تو اس سے بڑا ظالم کوئی نہیں اور اگر تم نے سچے نبی کی تکذیب کی ہے تو پھر تم سے بڑا ظالم کوئی نہیں۔ ذرا غور کرو تو بات بالکل صاف ہوجائے گی وہ یہ کہ کوئی سچا انسان یکایک جھوٹا نہیں ہو سکتا اور کوئی جھوٹا انسان یکایک سچا بھی نہیں ہوتا۔ تم اپنے ہی ساتھ موازنہ کر کے دیکھو اور رسول یعنی محمد رسول اللہ ﷺ اس رسالت کے دعویٰ سے قبل بھی ایک سچا انسان تھا جس کی سچائی سے تم کو انکار نہیں اور تم سب اس کے مقابلہ میں سچے نہیں تھے۔ اب یہ کیسے ہوگیا کہ اتنا بڑا سچا انسان ایک بار میں جھوٹا ہوگیا اور تم دنیا دار بات بات پر جھوٹ بولنے والے اتنے سچے ہوگئے کہ ایک نہایت سچے انسان کو جھوٹا کہنے لگے۔ اس طرح ظاہر ہے کہ اللہ پر جھوٹ باندھنے والا کوئی جھوٹا انسان ہی ہو سکتا ہے یا جو شخص یہ کہے کہ مجھ پر وحی کی گئی ہے اور حقیقت میں اس پر کوئی وحی نہ آئی۔ اور اس طرح وہ شخص بھی جو یہ کہے کہ میں بھی اس طرح کی بات کہہ سکتا ہوں جیسے اللہ نے کہی یا اللہ نے اپنے رسول پر اتاری ؟ ہاں ! واقعی اس شخص سے بڑھ کر اور کون ظالم اور توع انسانی کا دشمن ہو سکتا ہے جو اپنی من گھڑت باتوں کو وحی الٰہی کہہ کر لوگوں کے سامنے پیش کرے اور ان پر ایمان لانے کی دعوت دے یا یہ دعویٰ کرے کہ کلام الٰہی کی طرح میں بھی کلام نازل کرسکتا ہوں۔ جو بدبخت ایسے گستاخوں کے جال میں پھنس جاتے ہیں وہ یقیناً تباہ و برباد ہوجاتے ہیں اور خصوصاً اس وقت کے بعد جب کسی نبی کے آنے کا کوئی امکان ہی باقی نہ رہا اور نبوت و رسالت محمد رسول اللہ ﷺ پر ختم کردی گئی اور اس کے باوجود اگر کوئی شخص نبوت و رسالت کا دعویٰ کر دے تو آنکھیں بند کر کے اس کو جھوٹا کہا جاسکتا ہے خواہ وہ کوئی ہو۔ یہ بات اس لئے فرمائی کہ محمد رسول اللہ ﷺ کی آمد کی خوشخبریاں پہلے سنائی گئیں جس خوشخبری کو یہودو نصاریٰ اور دوسری جماعتیں پیشگوئیوں کے طور پر مانتے اور تسلیم کرتے تھے۔ نبوت بند ہونے کا اعلان نہیں ہوا تھا اور جس شخص نے نبوت و رسالت کا دعویٰ کیا اس پر پوری قوم کے لوگ ” الصادق “ اور ” الامین “ کہنے پر متفق تھے۔ اس کلام کو ایک ایسا شخص پیش کر رہا تھا جس کا شریف النسب ہونا مکہ کے معاشرے میں کسی سے چھپا ہوا نہ تھا۔ سب جانتے تھے کہ اخلاقی حیثیت سے یہ ان کی قوم کا ایک بہترین آدمی ہے۔ ایسے شخص سے یہ توقع نہیں کی جاسکتی کہ وہ کبھی اتنا بڑا جھوٹ لے کر اٹھ کھڑا ہوگا کہ خدا پر بہتان باندھے اور اپنے دل سے ایک بات گھڑکر اسے رب العالمین کی طرف منسوب کر دے۔ وہ یہ بھی اعلانیہ دیکھ رہے تھے کہ اس کلام کو پیش کرنے میں اپنا کوئی ذاتی مفاد اس شخص کے پیش نظر نہیں ہے بلکہ یہ کام کر کے تو اس نے اپنے مفاد کو قربان کردیا ہے کہ اپنی تجارت کو برباد کیا۔ اپنے عیش و آرام کو تج کردیا۔ جس معاشرے میں اس کو سر آنکھوں پر بٹھایا جاتا تھا اسی میں گالیاں کھانے لگا اور نہ صرف خود بلکہ اپنے بال بچوں تک کو ہر قسم کے مصائب میں مبتلا کرلیا۔ ذاتی مفاد کا خواہش مند ان کانٹوں میں اپنے آپ کو گھسیٹتا ؟ ان کی آنکھیں یہ بھی دیکھ رہی تھیں۔ کسی شاعر یا کاہن کے کلام میں آخر یہ تاثیر کب دیکھی گئی ہے کہ وہ لوگوں میں ایسی زبردست اخلاقی تبدیلی پیدا کر دے اور اس کے ماننے والے اس کی خاطر ہر طرح کے مصائب وآلام برداشت کرنے کے لئے تیار ہوجائیں ؟ ان لوگوں سے یہ بات بھی پوشیدہ نہ تھی کہ شعر کی زبان کیا ہوتی ہے اور کاہنوں کا کام کیسا ہوتا ہے ؟ ایک ہٹ دھرم آدمی کے سوا کون یہ کہہ سکتا تھا قرآن کریم کی زبان شاعری یا کہانت کی زبان ہے۔ یہ بات بھی ان کی نگاہوں کے سامنے تھی کہ پورے عرب میں کوئی ایسا فصیح وبلیغ نہ تھا جس کا کلام قرآن کریم کے مقابلہ میں لایا جاسکتا ہو۔ اس کے برابر تو درکنار اس کے قریب تک کسی کی فصاحت و بلاغت نہیں پہنچتی تھی۔ اس مضمون کو قرآن کریم نے مختلف مقامات پر بیان کیا ہے۔ ایک جگہ ارشاد فرمایا : ” اور اس سے زیادہ ظالم کون ہے جو اللہ پر جھوٹ باندھے اور حق کی جب وہ اس کے پاس پہنچ چکا ہے تکذیب کرے کیا کافروں کا ٹھکانا جہنم نہیں ہے ؟ (یقینا جہنم ہی ہے) ۔ “ (العنکبوت 29 : 68) ایک جگہ ارشاد فرمایا : ” پھر بتلاؤ اس سے بڑھ کر ظالم کون ہو سکتا ہے جو اپنے جی سے جھوٹ بنا کر اللہ پر افتراء کرے اور اس آدمی سے جو اللہ کی سچی آیتیں جھٹلائے ؟ یقینا جرم کرنے والے کبھی کامیابی حاصل نہیں کرسکتے ۔ “ (یونس 10 : 17) ایک جگہ ارشاد فرمایا : ” اور دیکھو اس سے بڑھ کر ظلم کرنے والا کون ہوا جس نے اللہ پر جھوٹ بول کر افتراء کیا ہو اور اس طرح اس سے بھی بڑھ کر کوئی نہ ہوا جو اس کی آیتوں کو جھٹلائے بلاشبہ جو ظلم کرنے والے ہیں وہ کبھی کامیاب نہ ہوں گے۔ “ (الانعام 6 : 21) ایک جگہ ارشاد فرمایا : ” اور دیکھو اونٹ میں سے دو قسمیں ہیں اور گائے میں سے دو قسمیں (یعنی نر اور مادہ) تم ان سے پوچھو کیا ان میں سے نر کو حرام کیا ہے یا مادہ کو یا اس کو جو ان دونوں کی مادہ اپنے پیٹ میں لیے ہوتی ہیں ؟ پھر بتلاؤ اس آدمی سے زیادہ ظلم کرنے والا کون ہوا جو لوگوں کو گمراہ کرنے کیلئے اللہ پر افتراء پردازیاں کرے اور اس کے پاس کوئی علم نہ ہو ؟ بلاشبہ اللہ ان لوگوں پر راہ نہیں کھولتا جو ظلم کرنے والے ہوں۔ “ (الانعام 6 : 144) ایک جگہ ارشاد فرمایا : ” یا کہو اگر ہم پر کتاب نازل ہوتی تو ہم ان جماعتوں سے زیادہ ہدایت والے ہوتے سو دیکھو تمہارے پاس بھی تمہارے پروردگار کی طرف سے ایک دلیل ہدایت اور رحمت آگئی ، پھر بتلاؤ اس سے بڑھ کر ظالم کون انسان ہے جو اللہ کی نشانیاں جھٹلائے اور ان سے گردن موڑے ؟ جو لوگ ہماری نشانیوں سے گردن موڑتے ہیں ہم انہیں اس کی پاداش میں عنقریب سخت سزا دینے والے ہیں۔ “ (الا انعام 6 : 157) ایک جگہ ارشاد فرمایا : ” پھر بتلاؤ اس سے بڑھ کر ظالم کون ہے جو جھوٹ بولتے ہوئے اللہ پر بہتان لگائے اور اس سے بڑھ کر جو اللہ کی آیتیں جھٹلائے ؟ یہی لوگ ہیں کہ نوشتہ میں جو کچھ ان کے لیے ٹھہرا دیا گیا ، اس کے مطابق اپنا حصہ پاتے رہیں گے لیکن بالآخر جب ہمارے فرستادہ پہنچیں گے کہ انہیں وفات دیں تو اس وقت وہ کہیں گے جن ہستیوں کو تم اللہ کے سوا پکارا کرتے تھے اب وہ کہاں ہیں ؟ وہ جواب دیں گے وہ ہم سے کھوئی گئی ہیں اور اپنے اوپر خود گواہی دیں گے کہ وہ واقعی منکر تھے۔ “ (الاعراف 7 : 37) اور یہی مضمون سورة (ہود 11 : 48) (لکہف 18 : 58) (العنکبوت 29 : 68) (السجدہ 32 : 22) (النجم 53 : 53) (الصف 61 : 7) میں بھی بیان کیا گیا ہے اور اس کی مزید تفصیل سورة الحاقہ آیت 43 تا 46 میں بیان کی گئی۔ ایسے ظالموں کی وہ حالت دیدنی ہوتی ہے جب ان کی جانوں کے نکلنے کا وقت آتا ہے : 145: ” عمرۃ “ اس گہرے پانی کو کہا جاتا ہے جو اپنی جائے قرار کو ڈھانپ لیتا ہے۔ آخرت سے بےپروا ہو کر غفلتوں میں ڈوبے ہوؤں کو ” ہُمْ فِیْ غَمْرَةٍ سَاہُوْنَۙ0011 “ (الذریات 51 : 11) کہا گیا ہے ” غمرات الموت “ جان کنی کے وقت جس حالت میں مرنے والا مبتلا ہوتا ہے اس کو ان الفاظ سے تعبیر کیا گیا ہے اس لئے کہ موت زندگی کا اثرمٹادیتی ہے۔ دراصل موت کی جانکنی وہ نکتہ آغاز ہے جہاں سے وہ حقیقت کھلنی شروع ہوجاتی ہے جس پر دنیا کی زندگی میں پردہ پڑا ہوا تھا اس مقام سے آدمی دوسرا عالم صاف دیکھنے لگتا ہے جس کی خبر انبیاء علہمر السلام نے دی تھی۔ یہاں آدمی کو یہ معلوم ہوجاتا ہے کہ آخرت بالکل بر حق ہے اور یہ حقیقت بھی اس کو معلوم ہوجاتی ہے کہ زندگی سے اس دوسرے مرحلے میں وہ نیک بخت کی حیثیت سے داخل ہو رہا ہے یا بدبخت کی حیثیت سے ظاہر ہے جنہوں نے اللہ پر جھوٹ باندھا وہ بظاہر کچھ بھی ہوں اللہ پر جھوٹ باندھنا بجائے خود اتنا بڑا جرم ہے جو ان کے سارے کئے پر پانی پھیردے گا اور اس وقت جب ان کو یہ معلوم ہوگا کہ اب وہ جس زندگی میں داخل ہو رہے ہیں عذاب جہنم کی زندگی ہے تو جو ان کی کیفیت ہوگی وہ ” غمرۃ “ یا ” سکرہ “ ہی کہلا سکتی ہے اور ظاہر ہے کہ ایسے فراڈیوں کا انجام بہت ہی برا ہوگا۔ کسی انسان کے بارے میں جھوٹ بولنا جب مہلک ہے تو اللہ کے بارے میں جھوٹ بولنا تو بدرجہ اتم مہلک ہوگا۔ ” اَخْرِجُوْۤا اَنْفُسَكُمْ 1ؕ“ بطور امر نہیں بلکہ بطور زہر وتریض ہے جس سے ظاہر ہے کہ کافروں کی شدائد نزع کو اور بڑھانے کے لئے بولا گیا ہے ورنہ کسی انسان کا اپنا کام نہیں کہ وہ جان کو نکال دے۔ جان تو اللہ کے قانون کے مطابق اللہ کی پیدا کردہ وہ قوتیں ہی نکال رہی ہوں گی جن کو ” ملک الموت “ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے اور دوسری جگہ قرآن کریم نے اس جانکنی کے منظر کو اس طرح پیش فرمایا ہے۔ ” اور اگر تو وہ حالت دیکھے جب فرشتے کافروں کی روحیں قبض کرتے اور ان کے چہروں اور ان کی پیٹھوں پر ضربیں لگاتے ہیں اور کہتے ہیں اب عذاب آتش کا مزہ چکھو۔ “ (الانفال 8 : 50) فرمایا اس وقت جو ان کی ذلت و رسوائی کا عذاب چکھایا جائے گا تو وہ ان کے اپنے اعمال ہی کا نتیجہ ہوگا۔ اس سے بات بھی روز روشن کی طرح واضح ہوجاتی ہے کہ دین اسلام ہر انسان کی جان یا روح اس کے جسم الگ یعی مغایر ایک چیز یقین کی گئی ہے جس کو دوسری جگہ ” امر الٰہی “ کے نام سے تعبیر کیا گیا ہے۔ (کبیر) اللہ پر تہمتیں باندھنے والوں اور آیات کے جھٹلانے والوں کو عذاب دیا جائے گا : 146: اللہ پر تہمتیں اور جھوٹ گھڑ گھڑ کر بیان کرنے والوں کو یقیناً رسوا کن عذاب میں مبتلا کردیا جائے یعنی جو لوگ جھگڑا لو پن کا طرز عمل اختیار کرتے ہیں وہ سزا سے کبھی بچ نہیں سکتے۔ لامحالہ وہ دن آنے والا ہے کہ ان کی شامت اعمال آئے گی۔ اب اگر تم دیکھ رہے ہو کہ وہ لوگ یہ سب کچھ کر کے بھی اللہ کی زمین میں اطمینان سے دندناتے پھر رہے ہیں اور ان کے کاروبار خوب چمک رہے ہیں اور ان کی حکومتیں بڑی شان سے چل رہی ہیں اور وہ خوب داد عیش لے رہے ہیں تو اس دھوکے میں نہ پڑجاؤ کہ وہ اللہ کی پکڑ سے بچ نکلے ہیں یا اللہ کی آیات سے جنگ کوئی کھیل ہے جسے تفریح کے طور پر کھیلا جاسکتا ہے اور اس کا کوئی برا نتیجہ اس کھیل کے کھلاڑیوں کو کبھی نہ دیکھنا پڑے گا۔ یہ تو دراصل ایک مہلت ہے جو اللہ کی طرف سے ان کو مل رہی ہے۔ اس مہلت سے غلط فائدہ اٹھا کر جو لوگ جس قدر زیادہ شراتیں کرتے ہیں ان کی کشتی اس قدر زیادہ بھر کر ڈوبتی ہے اور ان کو اس طرح کی ڈبکیاں دی جاتی ہیں جن سے وہ کبھی فراغت حاصل نہیں کرسکتے۔ فرمایا ” آج کا دن یعنی روز قیامت ایک ایسا دن ہے کہ جو تم اللہ پر تہمتیں باندھتے ہیں اور ان کی آیتوں کی تصدیق سے گھمنڈ کرتے تھے اس کی پاداش میں تمہیں رسوا کرنے والا عذاب دیا جائے گا۔ “
Ayah 6:94

وَ لَقَدْ جِئْتُمُوْنَا فُرَادٰى كَمَا خَلَقْنٰكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍ وَّ تَرَكْتُمْ مَّا خَوَّلْنٰكُمْ وَرَآءَ ظُهُوْرِكُمْ١ۚ وَ مَا نَرٰى مَعَكُمْ شُفَعَآءَكُمُ الَّذِیْنَ زَعَمْتُمْ اَنَّهُمْ فِیْكُمْ شُرَكٰٓؤُا١ؕ لَقَدْ تَّقَطَّعَ بَیْنَكُمْ وَ ضَلَّ عَنْكُمْ مَّا كُنْتُمْ تَزْعُمُوْنَ۠ Open ayah 6:94 in the Quran reader

اور بالآخر تم ہمارے حضور اکیلی جان آگئے جس طرح تم کو پہلی مرتبہ اکیلا پیدا کیا گیا تھا اور جو کچھ تمہیں دیا تھا وہ سب اپنے پیچھے چھوڑ آئے ، ہم تمہارے ساتھ ان ہستیوں کو نہیں دیکھتے جنہیں تم نے شفاعت کا وسیلہ سمجھا تھا اور جن کی نسبت تمہارا زعم تھا کہ تمہارے کاموں میں وہ اللہ کے شریک ہیں تمہارے سارے رشتے ٹوٹ گئے جو کچھ تم زعم رکھتے تھے سب کے سب تم سے کھو گئے

تم کو اس طرح اکیلا اکیلا اللہ کے سامنے لاکھڑا کیا گیا جس طرح تم پہلے روز پیدا ہوئے تھے : 147: یعنی تم کو تمہارے رب کے سامنے اس طرح اکیلا پیش کیا جائے گا جس طرح تم پہلے روز پیدا ہوئے تھے اور اس طرح وہ مایوسی کے عالم میں ہر طرف نظر دوڑائیں گے کہ شاید عمر بھر جن کی سیوا کرتے رہے تھے ان میں سے کوئی ایک ہی مدد کو آئے اور ہمیں اللہ کے عذاب سے چھڑا لے یا کم از کم ہماری سزا ہی کچھ کم کرادیں مگر کسی طرف بھی کوئی مددگار ان کو نظر نہ آئے گا اور قرآن کریم میں دوسری جگہ یہ بھی فرمایا گیا کہ اگر کہیں وہ نظر آئیں گے بھی تو وہ بجائے خود اس واقعہ کا انکار کریں گے کہ مشرکین انہیں حاجت روائی اور مشکل کشائی کے لئے پکارا کرتے تھے بلکہ دراصل وہ اس واقعہ کے متعلق اپنے علم اور اطلاع اور اس پر اپنی رضامندی اور ذمہ داری کا انکار کریں گے۔ وہ کہیں گے ہم نے تو کبھی تم سے یہ نہیں کہا تھا کہ تم اللہ کو چھوڑ کر ہمیں پکارا کرو۔ نہ ہم تمہاری اس حرکت پر راضی تھے بلکہ ہمیں تو خبر تک نہ تھی کہ تم ہمیں پکار رہے ہو۔ تم نے اگر ہم کو سمیع الدعا ، مجیب الدعوات اور دستگیر و فریاد رس قرار دیا تھا تو یہ قطعی ایک جھوٹی بات تھی جو تم نے گھڑلی تھی اور اس کے ذمہ دار تم خود تھے۔ اب ہمیں اس کی ذمہ داری میں لپیٹنے کی کوششیں کیوں کرتے ہو۔ اس طرح کے پورے مضمون کی تشریح ہم نے عروۃ الوثقیٰ ج اول کی تفسیر سورة البقرہ کی آیت 166 میں کردی ہے وہاں سے ملاحظہ فرمالیں۔
Ayah 6:95

اِنَّ اللّٰهَ فَالِقُ الْحَبِّ وَ النَّوٰى١ؕ یُخْرِجُ الْحَیَّ مِنَ الْمَیِّتِ وَ مُخْرِجُ الْمَیِّتِ مِنَ الْحَیِّ١ؕ ذٰلِكُمُ اللّٰهُ فَاَنّٰى تُؤْفَكُوْنَ Open ayah 6:95 in the Quran reader

یہ اللہ ہی کی کارفرمائی ہے کہ [ وہ دانے اور گٹھلی کو شق کردیتا ہے وہ زندہ کو مردہ سے نکالتا ہے اور وہی ہے جو مردہ کو زندہ سے نکالنے والا ہے وہی اللہ ہے پھر تم کدھر بہکے چلے جا رہے ہو ؟

دانے اور گٹھلی کو پھاڑنے والا زندہ کو مردہ سے اور مردہ کو زندہ سے نکالنے والا وہی ہے : 148: زر نظر آیت 94 سے آیت 108 تک اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کے دلائل بیان کئے گئے ہیں اور سب سے پہلے ربوبیت عالم اور زندگی و موت سے استدلال کیا گیا ہے اور فرمایا جا رہا ہے سب سے زیادہ نمایاں حقیقت نظام ربوبیت کی یکسانیت اور ہم آہنگی ہے یعنی ہر وجود کی پرورش کا سروسامان جس طرح اور جس اسلوب پر کیا گیا ہے وہ ہر گوشے میں ایک ہی ہے اور ایک ہی اصل وقاعدہ رکھتا ہے۔ پتھر کا ایک ٹکٹا تمہیں گلاب کے سر سبز و شاداب اور عطر بیز پھول سے کتنا ہی مختلف دکھائی دے لیکن دونوں کی پرورش کا اصول واحوال پر نظر ڈالو گے تو صاف آجائے گا کہ دونوں کا ایک ہی طریقہ سے سامان پرورش ملا ہے دونوں ایک ہی طرح پالے پوسے جا رہے ہیں۔ انسان کا بچہ ہو یا درخت کا بیج و پودا تمہاری نظروں میں کتنی بےجوڑ چیزیں ہیں ؟ لیکن اگر ان کی نشونما کے طریقوں کا کھوج لگاؤ کے تو دیکھ لو گے کہ قانون پرورش کی یکسانیت نے دونوں کو ایک رشتے سے منسلک کردیا ہے۔ پتھر کی چٹان ہو یا پھول کی کلی۔ انسان کا بچہ ہو یا چیونٹی کا انڈا سب کے لئے پیدائش ہے اور قبل اس کے کہ پیدائش ظہور میں آئے سامان پرورش مہیا ہوجاتا ہے پھر طفولیت کا دور ہے اور اس دور کی ضروریات ہیں۔ انسان کا بچہ بھی اپنی طفولیت رکھتا ہے۔ درخت کے مولود نباتی کے لیے بھی طفولیت ہے اور تمہاری چشم ظاہر بیں کے لئے کتنا ہی عجیب کیوں نہ ہو لیکن پتھر کی چٹان اور مٹی کا تودہ بھی اپنی اپنی طفولت رکتا ہے پھر طفولیت رشد وبلوغ کی طرف بڑھتی ہے اور جوں جوں بڑھتی جاتی ہے اس کی روز افزوں حالت کے مطابق یکے بعد دیگرے سامان پرورش میں بھی تبدیلیاں ہوتی جاتی ہیں یہاں تک کہ ہر وجود اپنے سن کمال تک پہنچ جاتا ہے اور پھر جب سن کمال تک پہنچ گیا تو از سر نو ضعف وانحطاط کا دور شروع ہوجاتا ہے پھر اس ضعف وانحطاط کا خاتمہ بھی سب کے لئے ایک ہی طرح ہے کسی دائرے میں اس کو مرجانا کہتے ہیں ، کسی میں مرجھا جانا اور کسی میں پامال ہوجانا اور بلاشبہ ان کی عمر کی اوسط میں بہت بڑا فرق ہے لیکن اس سے اصول مختلف نہیں ہو سکتا۔ اس طرح الفاظ متعدد ہوئے مگر حقیقت میں تعدد نہیں ہوا یہی بات زیر نظر آیت میں سمجھائی گئی۔ فرمایا یہ اللہ ہی کی کار فرمائی ہے کہ وہ دانے اور گٹھلی کو شق کرتا ہے اور اس سے ہرچیز کا درخت پیدا کرتا ہے۔ وہ زندہ کو مردہ چیز سے نکالتا ہے اور مردہ کو زندہ اشیاء سے نکالنے والا ہے۔ ہاں ! وہی تمہارا خدا ہے پھر تم اس سے روگردانی کر کے کدھر بہکے جا رہے ہو ؟ ہاں ! مردہ سے زندہ اور زندہ سے مردہ کی مثال مفسرین نے انڈا سے مرغی اور مرغی سے انڈا کی دی ہے۔ ان کے خیال میں ممکن ہے کہ انڈا مردہ ہو لیکن ایسا نہیں ہے پھر اس زندگی اور موت کا مطلب اور اس سے تفہیم کیا ہوئی ؟ اپنی سمجھ میں اس کی مثال آزر سے ابراہیم (علیہ السلام) اور نوح (علیہ السلام) سے ان کا نافرمان بیٹا مراد لیا جاسکتا ہے کہ اللہ نے کس طرح ایک کفر کی موت مرے ہوئے مردہ سے اسلامی زندگی کا ایک زندہ انسان جس نے کتنی انسانیت کو باذن اللہ زندہ کر دکھایا اور ایک زندہ یعنی اسلامی زندگی سے زندہ اور زندہ کردینے والے انسان نوح (علیہ السلام) سے ایک کفر کی موت مرا ہوا بیٹا پیدا کر دکھایا اور اس طرح قوموں کی زندگی اور موت کا قانون بھی بنا دیا۔ زندہ قومیں کس طرح مر جاتی ہیں اور پھر کتنی مردہ قوموں میں وہ زندگی کی روح پھونک دیتا ہے اور اس طرح باذن اللہ کر دکھانے والے انسانوں کے ذمہ بھی اس نے یہ کام لگا دیا ہے جو پہلے انبیائے کرام کیا کرتے تھے اور آج بھی اللہ کے وہ بندے اگرچہ وہ انبیاء نہیں تاہم وہ وراثۃ لانبیاء ضرور ہیں۔ اس لئے اس کام کو سر انجام دے رہے ہیں۔
Ayah 6:96

فَالِقُ الْاِصْبَاحِ١ۚ وَ جَعَلَ الَّیْلَ سَكَنًا وَّ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ حُسْبَانًا١ؕ ذٰلِكَ تَقْدِیْرُ الْعَزِیْزِ الْعَلِیْمِ Open ayah 6:96 in the Quran reader

وہ رات کا پردہ چاک کر کے صبح نمودار کرنے والا ہے اس نے رات کو راحت و سکون کا سامان بنا دیا اور سورج اور چاند حساب کا معیار بن گئے یہ اس کا ٹھہرایا ہوا اندازہ ہے جو سب پر غالب ہے اور علم رکھنے والا ہے

وہی رات کا پردہ چاک کر کے دن کو نمودار کرتا ہے : 149: فرمایا اچھا تم بتاؤ کہ یہ رات کے گہرے اندھیرے کی چادر کو پھاڑ کر صبح کو نکالنے والا کون ہے ؟ وہ اللہ ہی تو ہے جو دانے گٹھلی کو پھاڑ کر طرح طرح کے نباتات پیدا کرنے والا ہے۔ یہ بھی ان افعال و اعمال میں سے ہے جس میں جن بشر اور ساری کا ئنات کی قوتیں ہیچ ہیں اور ہر آنکھوں والا دیکھ کر یہ سمجھنے پر مجبور ہے کہ رات کی اندھری کے بعد صبح کا اجالا پیدا کرنے والا نہ کوئی انسان ہو سکتا ہے ، نہ فرشتہ اور نہ ہی کوئی دوسری مخلوق بلکہ یہ اس مافوق الادراک ہستی کا کام ہے جو سارے جہانوں کو پیدا کرنے والی ہے۔ فرمایا وہ ذات ” جس نے رات کو راحت اور سکون کا سامان بنا دیا۔ “ سکن سکون سے ہر اس چیز کو سکن کہا جاتا ہے جس پر پہنچ کر انسان کو سکون و اطمینان اور راحت حاصل ہو۔ اس میں اس بات کا اشارہ فرمادیا کہ جس طرح دن کا اجالا ایک عظیم نعمت ہے کہ اس کے ذریعہ انسان اپنے سب کاروبار کرتا ہے اسی طرح رات کی تاریکی کو بھی برانہ جانو وہ بھی ایک بہت بڑی نعمت ہے کہ اس میں دن بھرکا تھکا ماندہ انسان آرام کر کے اس قابل ہوجاتا ہے کہ آئندہ کل میں پھر نشاط اور چستی کے ساتھ کام کرسکے ورنہ انسانی فطرت مسلسل محنت کو برداشت نہیں کرسکتی۔ رات کی تاریکی کو راحت کے لئے متعین کردینا ایک مستقل نعمت اور اللہ تعالیٰ کی قدرت قاہرہ کا ایک خاص مظہر ہے مگر یہ نعمت روزانہ بغیر مانگے مل جاتی ہے اسلئے انسان کا دھیان بھی کبھی نہیں جاتا کہ یہ کتنا بڑا احسان وانعام ہے۔ غور کیجئے کہ اگر ہر شخص اپنے اختیار و ارادہ سے اپنے آرام کا وقت متعین کرتا تو کوئی صبح آٹھ بجے سونے کا ارادہ کرتا ، کوئی بارہ بجے اور کوئی چار بچے اور کوئی رات کے مختلف حصوں میں۔ جس کا نتیجہ یہ ہوتا کہ رات دن کے چوبیس گھنٹوں میں کوئی بھی ایسا گھنٹہ نہ آتا جس میں انسانی کاروبار ، محنت و مزدوری ، کارخانے اور فیکٹریاں نہ چل رہی ہوتیں جس کا لازمی نتیجہ یہ ہوتا کہ سونے والوں کے آرام میں بھی خلل آتا اور کام کرنے والوں کے کام میں بھی۔ ” اور سورج اور چاند حساب کا معیار بن گئے۔ “ حسبان بالضم مصدر ہے حساب کرنے اور شمار کرنے کے معنوں میں بیان ہوا ہے یعنی آفتاب ومہتاب کے طلوع و غروب اور ان کی رفتار کو ایک خاص حساب سے رکھا ہے۔ جس کے ذریعہ انسان سالوں ، مہینوں ، دنوں اور گھنٹوں کا بلکہ منٹوں اور سکینڈوں کا حساب باسانی لگا سکتا ہے۔ یہ اللہ جل شانہ ہی کی قدرت قاہرہ کا عمل ہے کہ ان عظیم الشان نورانی کروں اور ان کی حرکات کو ایسے مستحکم اور مضبوط انداز سے رکھا ہے کہ ہزاروں سال گزر جانے پر بھی ان میں کبھی ایک منٹ یا ایک سیکنڈ کا فرق نہیں آتا۔ ان کی مشرنضی کو نہ کسی ورکشاب کی ضرورت پڑتی ہے اور نہ پرزے گھسنے اور بدلنے سے کوئی سابقہ پڑتا ہے یہ دونوں نور کے کرے اپنے اپنے دائرہ میں ایک معین رفتار کے ساتھ چل رہے ہیں۔ اس آیت سے سورج کو ساکن اور زمین کو متحرک سمجھنے والے خوب اچھی طرح سمجھ لیں کہ سکون کا معنی ایک جگہ ٹھہرارہنے کے ضرور ہیں لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ بالکل متحرک ہی نہ ہوں۔ کبھی لاٹو چلا کر آپ نے شاید ملاحظہ کیا ہوگا کہ وہ ایک جگہ پر قائم بھی ہے اور اپنی جگہ پر متحرک بھی اور یہی صورت سورج کی ہے بلاشبہ وہ ایک جگہ پر قائم ہے لیکن وہ اس اپنی مخصوص جگہ پر متحرک بھی ہے۔ کیونکہ حرکت کا رک جانا موت ہے اور سورج ایک زندہ و تابند چیز کا نام ہے کسی مردہ شے کا نام بالکل نہیں۔ فرمایا یہ اس ذات کے ضابطہ اور قانون کے مطابق چل رہے ہیں جو العزیز ہر غالب پر غالب ، ہر قادر پر قادر اور اس کی راہ ہر رکاوٹ سے خالی ہے اور اس نے جس چیز کے لئے جو اصول مقرر کردیا ہے وہ ایک ذرہ بھر بھی اس سے انحراف نہیں کرتی اور اپنے قانون کا اتنا پابند ہے کہ نہ خود اس کو توڑتا ہے اور نہ ہی کسی کو توڑنے دیتا ہے۔ جو ” العزیز “ ہونے کے ساتھ ” العلیم “ بھی ہے۔ جس کی ہر جنبش تکوینی و تخلیقی ہے۔ بےانتہا حکمتوں اور مصلحتوں سے لبریز رہتی ہے اور جو ہر علم و حکمت کا مبتداء بھی ہے اور منتہی بھی۔ پھر غور کرو کہ وہ کتنا زبردست ہوگا جس کا ایک زبردست قانون اور ایک اٹل ضابطہ ہے جس سے یہ عظیم الشان سیارے بندھے ہوئے ہیں۔ انسان وقت ، دن ، تاریخوں ، فصلوں اور موسموں کا حساب اسی وجہ سے کر رہا ہے کہ سورج کے طلوع و غروب اور مختلف منزلوں سے اس کے گزرنے کا جو قاعدہ مقرر کردیا گیا ہے اس میں کوئی تغیر رونما نہیں ہوتا۔ زمین پر بےحدوحساب مخلوق زندہ ہی اس وجہ سے ہے کہ سورج اور چاند کو ٹھیک ٹھیک حساب کر کے زمین سے ایک خاص فیصلے پر رکھا گیا ہے۔ پھر اس فاصلے میں کمی و بیشی صحیح ناپ تول سے ایک خاص ترتیب کے ساتھ ہوتی ہے ورنہ زمین سے ان کا فاصلہ کسی حساب کے بغیر گھٹ یا بڑھ جائے تویہاں کسی کا جینا ہی ممکن نہ رہے اس طرح زمین کے گرد چاند اور سورج کے درمیان حرکات میں ایسا مکمل تناست قائم کیا گیا ہے کہ چاند ایک عالمگیر جنتری بن کر رہ گیا ہے جو پوری باقاعدگی کے ساتھ ہر رات دنیا کو قمری تاریخ بتا دیتی ہے۔