Ayah 6:151اللہ تعالیٰ کے ساتھ اس کی ذات اور صفات میں کسی کو شریک نہ ٹھہرائو :
235: اس کا مطلب صرف اتنا ہی نہیں کہ اللہ کے ساتھ کسی کی پرستش نہ کرو بلکہ یہ بھی ہے کہ بندگی اور غلامی اور بےچون وچرا اطاعت بھی صرف اسی کی کرو ، اسی کے حکم کو حکم اور اسی کے قانون کو قانون مانو اور اس کے سوا کسی کا اقتدار اعلیٰ تسلیم نہ کرو اور یہ صرف ایک مذہبی عقیدہ اور انفرادی طرز عمل کے لئے ایک ہدایت ہی نہیں ہے بلکہ اس پورے نظام اخلاق و تمدن وسیاست کا سنگ بنیاد بھی ہے جو مدینہ طیبہ پہنچ کر نبی اعظم وآخر ﷺ نے عملاً قائم کیا اور اس کی عمارت اسی نظرئیے پر اٹھائی گئی تھی کہ اللہ تعالیٰ ہی ملک کا مالک اور حقییع بادشاہ ہے اور اس کی شریعت ملک کا قانون ہے۔ رہی یہ بات کہ ذات خداوندی میں شرک کیا ہے ؟ وہ یہ ہے کہ جوہر الوہیت میں کسی کو حصہ دار قرار دیا جائے مثلاً نصاریٰ کا عقیدہ تثلیث ، مشرکین عرب کا فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں قراردینا اور دوسرے مشرکین کا اپنے دیوتائوں اور دیویوں کو اور شاہی خاندانوں کو جنس الہہ کے افراد قرار دینا یہ سب شرک فی الذات ہیں اور اسی طرح ” نور من نور اللہ “ کی صدائیں بلند کرنا بھی ان لوگوں کے لئے شرک فی الذات سمجھا جائے گا جو اپنے آپ کو علماء کہلانے کے باوجود اس شرک کے مرتکب ہوتے ہیں عوام کالانعام اگر اس کا مطلب نہ سمجھتے ہوں تو ان کے لئے کوئی رعایت ممکن ہے۔ صفات میں شرک یہ ہے کہ خدائی صفات جیسی کی وہ خدا کے لئے ہیں ویسا ہی ان کو یا ان میں سے کسی صفت کو کسی دوسرے کے لئے قرار دینا مثلاً کسی کے متعلق یہ سمجھنا کہ اس پر غیب کی ساری حقیقتیں روشن ہیں یا وہ سب کچھ سنتا اور دیکھتا ہے یا وہ تمام نقائص اور تمام کمزوریوں سے پاک اور منزہ ہے۔ گویا جس طرح اللہ بغیر آنکھ کے دیکھتا ہے اور بغیر کان کے سنتا ہے اسی طرح فلاں بزرگ بھی بغیر آنکھ کے دیکھتا اور بغیر کان کے سنتا ہے۔ ہاں ! آنکھ کی حد تک دیکھنا اور بصیرت کی حد تک بصیرت رکھنا اسی طرح کان کی حد تک سننا اور عقل وفکر کی حد تک سمجھنا شرک نہیں ہوگا اور نہ ہی اس کو کوئی شرک کہتا یا سمجھتا ہے۔
اسی طرح اختیارات میں اللہ کا شریک ٹھہرانا وہ یہ ہے کہ خدا ہونے کی حیثیت سے جو اختیارات صرف اللہ کے لئے خاص ہیں ان کو یا ان میں سے کسی ایک کو اللہ کے سوا اور کسی کے لئے تسلیم کیا جائے جیسا کہ موت وزندگی جو اپنے حقیقی معنوں میں ہے وہ صرف اور صرف اللہ کے اختیار میں ہے جو کسی دوسرے کو عطا نہیں کی جاسکتی اور پھر کسی کے متعلق یہ خیال کرنا کہ فلاں بھی زندہ کرتا اور مارتا ہے یعنی حقیقی معنوں میں جو موت وزندگی ہے اسی زندگی اور موت کی اس کو باذن اللہ اجازت دی گئی ہے تو یہ یقیناً شرک ہے جیسا کہ عیسیٰ (علیہ السلام) کے متعلق عیسائیوں کا عقیدہ ہے اور اسی طرح مثلاً فوق الفطری طریقہ سے کسی کو نفع وضرر پہنچانا اور حاجت روائی اور دستگیری کرنا ، محافظت ونگہبانی کرنا ، دعائیں سننا اور قسمتوں کو بنانا اور بگاڑنا اور اسی طرح حرام و حلال اور جائز وناجائز کی حدود مقرر کرنا اور انسانی زندگی کے لئے قانون وشرع تجویز کرنا یہ سب وہ مخصوص اختیارات ہیں جو صرف اللہ ہی کی ذات کو حاصل ہیں جن میں سے کسی کو غیر اللہ کے لئے تسلیم کرنا شرک فی الاختیارات ہے یعنی اللہ کے اختیارات میں کسی دوسرے کو شریک کرنا ہے۔ اسی طرح حقوق میں شرک یہ ہے کہ خدا ہونے کی حیثیت سے بندوں پر اللہ تعالیٰ کے لئے جو مخصوص حقوق ہیں وہ یا ان میں سے کوئی ایک حق اللہ کے سوا کسی دوسرے کے لئے تسلیم کیا جائے۔ مثلاً رکوع و سجود ، شکر نعمت یا اعتراف برتری کے لئے نذر ونیاز اور قربانی ، قضائے حاجات اور نفع ومشکلات کے لئے منت ، مصائب ومشکلات میں مدد کے لئے پکارنا اور ایسی ہی پرستش اور تعظیم وتمجید کی دوسری تمام صورتیں جو اللہ ہی کی ذات کے لئے مخصوص ہیں ان میں کسی دوسرے کو شریک ٹھہرانا ان سارے حقوق میں سے جو صرف اور صرف اللہ ہی کا حق ہے کسی دوسرے کو حق دینا اللہ کے ساتھ شریک ٹھہرانا ہے خواہ اس کو اللہ کے ناموں میں سے کوئی نام دیا جائے یا نہ دیا جائے۔ اس کی تشریحات قرآن کریم میں جگہ جگہ پھیلی ہوئی ہیں۔
ماں باپ کے ساتھ نیک سلوک کرو کیونکہ ان کی بےحرمتی اور بدسلوکی حرام ہے :
236: اسلامی معاشرے کی یہ دوسری پابندی ہے۔ اس پابندی میں یہ بات بتائی گئی ہے کہ اللہ کے بعد انسانوں میں سب سے مقدم حق والدین کا ہے۔ اولاد کو والدین کا مطیع ، خدمت گزار اور ادب شناس ہونا چاہئے۔ اسی جگہ یہ بات بھی ذہن میں رہے کہ اللہ تعالیٰ کے حقوق کا لحاظ رکھتے ہوئے والدین کے حقوق کی نگہداشت کرنا ہے۔ ایسا نہیں کہ کوئی اللہ تعالیٰ کا مخصوص حق والدین کو دے دیا جائے۔ اس طرح وہ شرک فی الحقوق ہوگا جس کا ذکر پہلے کیا جا چکا اس لئے کہ ایک کا حق ادا کرنا اس طرح کہ دوسرے کا حق مارا جائے اس کی کوئی صورت اسلام میں جائز اور درست نہیں اور یہی وہ مقام ہے جہاں لوگوں کی اکثریت کو ٹھوکر لگتی ہے اور اپنی ناسمجھی کو اختلاف کا لباس پہنایا جاتا ہے۔ اس جگہ جو بات بتائی گئی وہ تو یہ تھی کہ معاشرے کا اجتماعی اخلاق ایسا ہونا چاہئے جو اولاد کو والدین سے بےنیاز بنا دینے والا نہ ہو بلکہ ان کا احسان مند اور ان کے احترام کا پابند بنائے اور خصوصاً بڑھاپے میں اس طرح ان کی خدمت کرنا سکھائے جس طرح بچپن میں وہ اس کی پرورش اور ناز برداری کرچکے ہیں۔ یہ آیت بھی صرف ایک اخلاقی سفارش نہیں بلکہ اس کی بنیاد پر بعد میں والدین کے وہ شرعی اختیارات مقرر کئے گئے ہیں جن کی تفصیلات ہم کو نبی اعظم وآخر ﷺ کے ارشادات میں ملتی ہے اور جو اسلامی معاشرے کی ذہنی اور اخلاقی تربیت میں اور مسلمانوں کے آداب تہذیب میں والدین کے آداب و اطاعت اور ان کے حقوق کی نگہداشت میں ایک اہم عنصر کی حیثیت سے شامل کیا گیا ہے اور ان چیزوں نے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے یہ اصول طے کردیا کہ اسلامی ریاست اپنے قوانین اور انتظامی احکام اور تعلیمی پالیسی کے ذریعہ سے خاندان کے ادارے کو مضبوط اور محفوظ کرنے کی کوشش کرے گی نہ اس کو کمزور کرتے ہوئے اولاد کو مادر پدر آزاد بنا کر سارے احکام سے ان کو آزاد کر دے گی جیسا کہ آج کل بدقسمتی سے ہوتا چلا جا رہا ہے اور یہ بھی کہ جن ممالک نے اس پابندی کو اٹھایا ہے وہ عنقریب ایسے گڑھے میں گرنے والے ہیں کہ جہاں سے ان کے لئے نکلنا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن ہوجائے گا اور دنیا کی عمر کو پیش نظر رکھتے ہوئے یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ وہ وقت عنقریب آنے والا ہے کہ ان کی یہ منفی سوچ ان کے لئے باعث عذاب ہوگی اور اسی عذاب سے وہ لوگ اور وہ ممالک بھی نہیں بچ سکیں گے جو ان کی دیکھا دیکھی اور نقالی میں اسلامی روایات سے روز بروز بیزار ہوتے چلے جا رہے ہیں۔ جس طرح سورج کا بےنور ہونا انسانی ہلاکت کا باعث ہے بالکل اسی طرح الٰہی تعلیمات سے ابیٰ و انکار بھی یقیناً اسی ہلاکت کا باعث ہوگا۔ والدین کے اس حق کو قرآن کریم نے جگہ جگہ اور بڑے زور دار الفاظ میں بیان کیا ہے اور اکثر مقامات پر توحید کے ساتھ اس کو بیان کر کے یہ ثابت کیا ہے کہ اللہ کے بعد بندوں کے حقوق میں سب سے مقدم حق انسان پر اس کے والدین کا ہے۔
مفلسی کے ڈر سے اپنی اولاد کو قتل نہ کرو ، اللہ تمہارا اور ان کا حقیقی رب ہے :
237: اسلامی معاشرے کی یہ تیسری پابندی ہے جو اس جگہ بیان ہوئی جس کا خلاف یقیناً حرام ہے۔ عربوں میں قتل اولاد کی ایک سے زیادہ وحشیانہ اور وہمانہ صورتیں تھیں مثلاً اولاد کو اپنے وہمی معبودوں کی خوشنودی کے لئے قربان کرنا اور لڑکیوں کو اس وجہ سے کہ ہم سسرالی بن جائیں گے زندہ درگور کرنا اور اس وجہ سے اولاد کو قتل کرنا کہ اولاد زیادہ ہوگئی تو ان کے رزق کا کیا بنے گا اور کہاں سے ان کو کھلائیں گے ؟ اس جگہ اس تیسری صورت کا ذکر کیا گیا ہے اور پہلی دونوں صورتوں کا ذکر بھی قرآن کریم میں بہت سے مقامات پر موجود ہے۔ ارشاد الٰہی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے درمیان رزق کی بخشش میں کمی وبیشی کا جو فرق رکھا ہے انسان اس کی مصلحتوں کو نہیں سمجھ سکتا لہٰذا تقسیم رزق کے فطری نظام میں انسان کو اپنی مصنوعی تدبیروں سے دخل انداز نہ ہونا چاہئے۔ فطری نامساوات کو مصنوعی مساوات میں تبدیل کرنا یا اس نامساوات کو فطرت کے حدود سے بڑھ کر بےانصافی کی حد تک پہنچا دینا دونوں ہی یکساں طور پر غلط ہیں۔ ایک صحیح معاشی نظام وہی ہے جو اللہ کے مقرر کئے ہوئے طریق تقسیم رزق سے قریب تر ہو۔
قتل اولاد کی جو صورتیں دنیا میں رائج رہ چکی ہیں اور آج بھی پوری دنیا میں ان کا رواج موجود ہے جس میں ہمارا ملک پاکستان بھی اس رواج کی زد میں ہے اور اس کے نتائج سب کے سامنے موجود ہیں کہ کیا نکلے ہیں ؟ اس کی تفصیلات بہت زیادہ ہیں سب باتوں کا تجزیہ کرنے کے بعد جو نتیجہ نکلتا ہے وہ یہ ہے کہ یہ خاندانی منصوبہ بندی ان ساری اولاد کشی کی صورتوں سے زیادہ بری ہے جو اس سے پہلے رائج رہ چکی ہیں کیونکہ اس کے نتیجے میں قوائے انسانی کمزور سے کمزور تر ہو رہے ہیں اور جوں جوں یہ کمزوری بڑھے گی افزائش نسل زیادہ ہوگی کیوں ؟ اس لئے کہ یہ فطرت کا اصول ہے کہ جس قدر ایک چیز کو تلف کرنے کی مصنوعی صورتیں بڑھتی جائیں گی اتنی ہی اس کی افزائش بڑھتی جائے گی اور اس کے بڑھنے کی نئی نئی صورتیں نکلتی آئیں گی۔ انسان اس خوش فہمی میں مبتلا ہوتا ہے کہ میں نے اس کی فلاں صورت ختم کردی لیکن اس کی سمجھ میں یہ نہیں آتا کہ میں نے جو ختم کیا اس کے تلف کرنے کے نتیجہ میں اس کی چار پانچ صورتیں اس کی افزائش کے لئے مزید بڑھ چکی ہیں اور اسی طرح ان کے نام رکھنے اور پھر ان میں سے ایک ایک کے ختم کرنے کی صورت اسی طرح ہر ایک کے ختم ہونے کے نتیجہ میں فطرت ان کو کئی ایک اقسام میں مزید بڑھا رہی ہے اور اس کا مجموعی نتیجہ پہلے سے بہت زیادہ مختلف شکلوں اور صورتوں میں سامنے آیا ہے اور اس طرح آج پانچ سے پچاس صورتیں اس کی افزائش کی سامنے آچکی ہیں اور ایک روز یقیناً ایسا آئے گا کہ انسان تھک ہار کر بیٹھ رہے اور نتیجہ اس ذات کے سپرد کرے جس کے سپرد خود فطرت نے کیا تھا کیونکہ وہی سب کا حقیقی رب ہے۔ اسلام نے جو فطری منصوبہ بندی بنائی تھی یہ سب اس فطری منصوبہ بندی سے انحراف کا نتیجہ ہے۔ اس جگہ آپ کے غور کرنے کے لئے ایک چیز پر اکتفا کیا جاتا ہے آپ اس پر غور کریں بات یقیناً آپ پر روشن ہوجائے گی۔ دنیا میں آج تک مرد کے مقابلہ میں عورت کو ختم کرنے کی زیادہ صورتیں اختیار کی گئیں اور اسی طرح عورت کو مرد کے مقابلہ میں نامبارک سمجھا گیا اور آج اس کا نتیجہ جو آپ کے سامنے ہے کیا رہا ؟ یہی کہ عورتوں کی تعداد مردوں کے مقابلے میں زیادہ ہوگئی اور اسی طرح آج عورتیں مردوں کے مقابلہ میں مبارک سمجھی جانے لگیں اور یہ تجزیہ پوری دنیا کے نظام کو سامنے رکھ کر نکالا گیا ہے کسی ایک ملک کو سامنے رکھ کر نہیں۔ آپ اپنے ملک کی آبادی اور خانہ شماری کو سامنے رکھیں گے تو یقیناً یہی نتیجہ سامنے آئے گا کہ تقسیم ہند کے وقت کو کوئی بڑی مدت نہیں ہوئی کیونکہ اس کروڑوں سال کی بڑھیا کی عمر کے پیش نظر رکھا جائے تو پچاس سال کی آخر مدت ہی کیا ہے لیکن اس پچاس سال کی معمولی مدت کو سامنے رکھ کر یہ فیصلہ کرلیں کہ تقسیم کے وقت مردوں اور عورتوں کی کیا نسبت تھی اور آج کیا ہے اور یہ کہ تقسیم کے وقت عورت کا کیا مقام تھا اور آج کیا ہے ؟ بس اسی کو پیش نظر رکھ کر فیصلہ کرلیں کہ عمل کیا ہے اور اس کا فطری رد عمل کیا ؟ آپ یقیناً اس نتیجہ پر پہنچیں گے کہ جتنا عمل تیز ہوا اتنا ہی اس کا رد عمل بھی۔ قدرت کا یہ سارا عمل اس ایک مثال سے سمجھ سکتے ہو کہ جوں جوں بچہ رحم میں بڑھتا جاتا ہے اور مادہ بچہ کے وضع کرنے کے جوں جوں قریب آتی جاتی ہے چھاتیوں میں اس کی خوراک کی افزائش شروع ہوجاتی ہے اور جونہی بچہ بطن سے باہر آتا ہے ماں کی چھاتی دودھ سے بھر جاتی ہے لیکن جس ماں کے رحم میں بیج نہ ڈالا گیا ہو یا رحم کی زمین نے اس بیج کو قبول نہ کیا ہو تو چھاتی میں دودھ کی افزائش شروع نہیں ہوتی آخر کیوں ؟ اس لئے کہ جب ایک عمل نہیں تو رد عمل کیسے ہو ؟
بے حیائی کی باتوں کے قریب بھی نہ جائو وہ کھلی ہوں یا چھپی ہوں :
238: اسلامی معاشرے کی چوتھی پابندی کو فحش کہا گیا ہے۔ فحش کیا ہے ؟ ہر برا کام اور وہ قول وعمل جس کی برائی کھلی ہوئی ہو اور وہ عمل جس کا سننا اور کرنا برا لگے یا فطری طور پر انسان اس کو کرنا یا کہنا برا جانے یعنی ایسا عمل ، قول اور فعل جس کا کرنے یا کہنے والا اس کے ظاہر ہونے کو پسند نہ کرے۔ بےحیائی کا کام المعروف زنا ، برا کلام جو شرعاً اور عرفاً برا محسوس ہو اور اسی طرح امر قبیح بھی فحش ہے۔ الفاحشۃ ما عظم قبحہ من الافعال والاقوال (مفردات ) قرآن کریم میں زنا ، عمل قوم لوط یعنی سدو میت ، برہنگی ، جھوٹی تہمت اور باپ کی منکوحہ سے نکاح اور حدیث میں چوری ، شراب نوشی ، پانسے ، ازلام اور بھیک مانگنے کو بھی فواحش کہا گیا ہے اور اسی طرح کے دوسرے تمام گندے افعال پر بھی فواحش کا لفظ اطلاق کرتا ہے۔ اس کو قرآن کریم نے لا تقربوا الزنا کے الفاظ سے بیان کیا ہے۔ اس حکم کے مخاطب افراد بھی ہیں اور معاشرہ بحیثیت مجموعی بھی۔ افراد کے لئے اس حکم کے معنی یہ ہیں کہ وہ محض فعل زنا ہی سے بچنے پر اکتفا نہ کریں بلکہ زنا کے مقدمات اور اس کے ان ابتدائی محرکات سے دور رہیں جو اس راستے کی طرف لے جاتے ہیں۔ رہا معاشرہ تو اس حکم کی رو سے اس کا فرض یہ ہے کہ وہ اجتماعی زندگی میں زنا اور محرکات زنا اور اسباب زنا کا سدباب کرے اور اسی غرض کے لئے قانون سے تعلیم و تربیت سے اجتماعی ماحول کی اصلاحی سے معاشرتی زندگی کی مناسب تشکیل سے اور دوسری تمام موثر تدبیر سے کام لے اس لئے کہ فواحش وہ چیزیں ہیں جو ایمانی قوت کو کمزور کرتی ہیں اور آہستہ آہستہ اس کو بالکل ختم کر کے رکھ دیتی ہیں۔ اسلامی معاشرے کی یہ وہ پابندی ہے جس سے آخر کار اسلامی نظام زندگی کے ایک وسیع پروگرام کی تشکیل ہوئی۔
قتل ناحق کے مرتکب بھی نہ ہو اس لئے کہ یہ فعل بھی حرام ٹھہرایا گیا ہے :
239: اسلامی معاشرے کی پانچویں پابندی قتل نفس ہے۔ قتل نفس سے مراد صرف دوسرے انسان ہی کا قتل نہیں ہے بلکہ خود اپنے آپ کو قتل کرنا بھی ہے اس لئے کہ نفس جس کو اللہ نے ذی حرمت ٹھہرایا ہے اس کی تعریف میں دوسرے نفوس کی طرح انسان کا اپنا نفس بھی داخل ہے اس لئے جتنا بڑا گناہ اور جتنا بڑا جرم قتل انسان ہے اتنا ہی بڑا جرم اور گناہ خود کشی بھی ہے۔ آدمی کی بڑی غلط فہمیوں میں سے ایک غلط فہمی یہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو اپنی جان کا مالک اور اپنی اس ملکیت کو باختیار خودتلف کردینے کا مجاز سمجھتا ہے حالانکہ یہ جان اللہ کی ملکیت ہے اور ہم اس کے اتلاف کو تو درکنار اس کے کسی بےجا استعمال کے بھی مجاز نہیں ہیں۔ دنیا کی اس امتحان گاہ میں اللہ تعالیٰ جس طرح بھی ہمارا امتحان لے اسی طرح ہمیں آخر وقت تک امتحان دیتے رہنا چاہئے۔ خواہ حالات امتحان اچھے ہوں یا برے اللہ کے دئیے ہوئے وقت کو قصداً ختم کر کے امتحان گاہ سے بھاگ نکلنے کی کوشش بجائے خود غلط ہے کجا کہ یہ فرار بھی ایک ایسے جرم عظیم کے ذریعہ سے کیا جائے جسے اللہ نے صریح الفاظ میں حرام قرار دیا ہے اس کے دوسرے معنی یہ ہیں کہ آدمی دنیا کی چھوٹی چھوٹی تکلیفوں اور ذلتوں اور رسوائیوں سے بچ کر عظیم تر اور ابدی تکلیف ورسوائی کی طرف بھاگتا ہے۔ اس کے بعد ” الا بالحق “ کی استثنا نے یہ بات ثابت کردی کہ کوئی وقت ایسا بھی آتا ہے کہ کسی انسانی جان کو تلف کرنا ضروری ہوجاتا ہے جس سے نہ عقل انکار کرتی ہے اور نہ نقل اس کی تین صورتیں بیان کی گئی ہیں۔ (1) ۔ قتل عمد کے مجرم سے قصاص۔ (2) ۔ دین حق کے راستے میں مزاحمت کرنے والوں سے باقاعدہ طریقہ کے مطابق جنگ۔ (3) ۔ اسلامی حکومت کو الٹنے کی سعی کرنے والوں کو سزائے موت اور مرتد ہونے کے بعد اسلامی حکومت کے خلاف علم بغاوت بلند کردینا بھی اسی ضمن میں آتا ہے۔ فرمایا یہ وہ باتیں ہیں جن کی اللہ تعالیٰ نے تمہیں وصیت کی ہے کہ تم سمجھ بوجھ سے کام لو اور ان کے قریب نہ جائو۔
یتیموں کے مال کی طرف کھاجانے کی نیت سے ہاتھ بڑھانا بھی حرام ہے :
240: اسلامی معاشرے کی چھٹی پابندی یہ ہے کہ یتیموں کے مال کو ناجائز طریقہ سے ہڑپ کرلیا جائے اور اس طرح کا کھایا ہوا مال بھی یقیناً ناجائز اور حرام ہے۔ یہ بھی محض ایک اخلاقی ہدایت نہیں بلکہ اسلامی حکومت میں یتامی کے حقوق کی حفاظت کے لئے انتظامی اور قانونی دونوں طرح کی تدابیر اختیار کرنا ہوں گی اور دونوں ہی طرح کی تدابیر اختیار کی گئی تھیں دوسری جگہ قرآن کریم نے یتیموں کے مال کو ناجائز طریقہ سے کھا جانے کو دوزخ کی آگ قرار دیا ہے اور جب اسلامی حکومت اپنے ان تمام شہریوں کے مفاد کی محافظ ہے جو اپنے مفاد کی خود حفاظت کرنے کے قابل نہ ہوں اور اس میں ہر طرح کے کمزور طبقہ کے لوگ شامل ہوجاتے ہیں اور ان کی یہ شمولیت برابری کے طریقہ پر ہوگی اسلام میں طبقاتی تقسیم کا کوئی جواز موجود نہیں بلکہ اسلام اس مذہبی تفریق کو شرک سے موسوم کرتا ہے اور یتیموں کے مال کی حفاظت نہایت ضروری ہے اور وہ اس طرح ہوگی کہ ان کے مال کو ان کی جائز ضرورت کے علاوہ خرچ نہ کیا جائے اور اگر مال محفوظ رکھا جائے اور یتیموں کو کھانا اور ان کا دوسرا خرچ کفیل اپنی گرہ سے ادا کرتا ہے تو یہ بہت بڑی نیکی ہے لیکن اگر کفیل اس قابل نہ ہو اور اتنی وسعت نہ رکھتا ہو کہ اس کی ضروریات کو پورا کردے تو اس کے مال میں سے باقاعدہ حساب کتاب سے وصول کرے۔ اندھیر نگری والا معاملہ نہ کرے اور یہ معاملہ یتیم کے سن رشد تک پہنچ جانے تک ہوگا اور جب وہ یتیم سن رشد کو پہنچ جائے اور اپنے مال کی حفاظت خود کرلینے کا اہل ہو تو اس کو اس کا مال لوٹا دینا چاہئے اور یہ بھی کہ ایسے وقت حساب کتاب کر کے گواہوں کے روبرو اس کی کفالت کی ذمہ داری سے سبکدوش ہونا چاہئے تاکہ بعد میں کوئی شکوہ وشکایت پیدا نہ ہو۔
ماپ اور تول کو انصاف کے ساتھ پورا کرنا بھی ہر شخص کی ذمہ داری ہے :
241: یہ گویا اسلامی معاشرے کی ساتویں پابندی ہے کہ لین دین کے طریقے اور لین دین میں ماپ اور تول کے آلے ایک طرح کے ہوں۔ باٹ ہوں تو ایک جیسے اور ماپنے کا آلہ لینے اور دینے میں برابر کا ہو کم وبیش نہ ہو کہ لینے کا اور دینے کا اور۔ حسب سابق یہ ہدایت بھی باہمی معاملت تک محدود نہ رہی بلکہ اسلامی حکومت کے قیام کے بعد یہ بات حکومت کے فرائض میں داخل کی گئی ہے کہ وہ منڈیوں اور بازاروں میں اوزان اور پیمانوں کی نگرانی کرے اور تطفیف اگر ہو تو بزور بند کر دے تطفیف چھوٹی اور حقیر چیز کے لئے بولا جاتا ہے اور اصطلاحاً ناپ تول میں چوری چھپے کمی کرنے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے کیونکہ یہ کام کرنے والا ماپ کر یا تول کر کوئی بڑی چیز نہیں اڑاتا بلکہ ہاتھ کی صفائی دکھا کر جھکتا تول کردیتا ہوا نظر آنے کے باوجود ایک چھٹانک آدھ چھٹانک ایک سیر سے کم ہی دیتا ہے اور اس طرح بار بار تول کر بیسیوں اور سینکڑوں کو آدھی آدھی چھٹانک کم دے کر اپنے سینکڑوں چھٹاکیاں اکٹھی کرلیتا ہے جو اس چیز کے نفع سے الگ ہوتی ہیں بلاشبہ اس ناجائز مال سے وہ کتنا ہی مال اکٹھا کرے اور اس طرح ہاتھ کی صفائی سے سینکڑوں انسانوں کو دھوکا دیتا ہے اور جب ایک انسان کے ساتھ دھوکا کرنے کے لئے یہ فعل حرام ممنوع ہے تو ان سارے انسانوں کے ساتھ کیسے جائز ہو سکتا ہے۔ بہرحال ایسے مال کو جائز مال نہیں کہا جاسکتا بلکہ یہ حرام مال ہے خواہ کم ہے یا زیادہ مختصر یہ کہ اس طرح انسانوں کے ساتھ دھوکہ سے پیش آنے والا آدمی اللہ کے ہاں دھوکا باز ہی کہلا سکتا ہے اور حقیقت یہ ہے کہ اس طرح ڈنڈی مارنے والی قوم نہ کبھی دنیا میں فروغ پا سکی اور نہ ہی آئندہ فروغ پائے گی اور یہ برائی کوئی منفرد برائی نہیں ہے بلکہ یہ بہت سی برائیوں کے پائے جانے کی ایک علامت ہے۔
فرمایا ” ہم کسی جان پر اس کے مقدور سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتے۔ “ یہ وہ معیار ہے جو اللہ تعالیٰ نے تمام اعمال کے لئے مقرر فرمایا ہے کہ وہ لوگوں پر ان کی برداشت اور ان کے امکان سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا۔ اس سے ایک تو یہ بات واضح ہوگئی کہ اللہ تعالیٰ نے یہ احکام جو دئیے ہیں انسان کی فطرت اور اس کی صلاحیتوں کو تول کر دئیے ہیں ان میں کوئی چیز بھی ایسی نہیں جو اس کے تحمل سے باہر ہو اور جو شخص ان کو اپنے تحمل سے باہر جانتا ہے وہ اللہ کی کہی بات کو رد کرنے کی کوشش کرتا ہے لیکن آج جو صورت حال ہے وہ اس قدر بگڑ چکی ہے کہ کوئی آدمی الا ما شاء اللہ ایسا نظر آئے جو اس بیماری بلکہ ان بیماریوں میں گھرا ہوا نہ ہو اور جب اس کو کہا جائے گا تو وہ فوراً بول اٹھے گا جی آج کل تو ان باتوں کے سوا انسان چل ہی نہیں سکتا بلکہ یہ ساری چیزیں کبھی ممنوع ہوں گی آج تو ان کے سوا اس دنیا میں زندہ رہنا ہی محال ہے۔
جب بھی بات کرو تو انصاف کی کرو خواہ کوئی شخص تمہارا کتنا ہی قریبی کیوں نہ ہو :
242: یہ اسلامی معاشرے کی آٹھویں پابندی ہے جو اس جگہ بیان ہوئی ہے کہ ایک سچے مسلمان کی زبان پر سچی بات کے علاوہ کوئی دوسری بات نہیں آنا چاہئے جب بھی کوئی بات منہ سے نکلے تو وہ بالکل سچ ہو لیکن اس جگہ موقع کلام دلیل ہے کہ تمہاری کوئی شہادت اور تمہارا کوئی فیصلہ حق و عدل سے ہٹا ہوا نہ ہو بلکہ جب بھی دو آدمیوں کے درمیان کوئی شہادت دو یا کوئی فیصلہ کرو تو وہ حق وعدل کے مطابق ہو اور اس معاملے میں اپنے کسی عزیز و قریب کے ساتھ بھی کسی قسم کی کوئی رو رعایت نہ ہو۔ اسلامی تاریخ میں سینکڑوں مثالیں اس طرح کی موجود ہیں کہ نبی اعظم و آخر ﷺ کے سامنے جو فیصلے لائے جاتے ان میں آپ کبھی بھی کسی عزیز و اقارب کی رعایت نہ کرتے یہاں تک کہ جو بات غیر مسلموں کے حق میں جاتی بےجھجک اس کو بھی کہہ دیتے اور کبھی یہ خیال نہ فرماتے کہ اس طرح ایک مسلمان کے دل پر کیا گزرے گی ؟ اور آپ ارشاد فرماتے کہ لوگو غلط شہادت دے کر میرے سے کوئی غلط فیصلہ نہ کرا لینا اگر آپ نے ایسا کیا تو اس کا وبال غلط شہادت دینے والے کی گردن پر ہوگا اور میرے فیصلے پر اللہ کا فیصلہ نافذ ہوجائے گا جو عالم الغیب اور بذات الصدور ہے۔
اللہ کے ساتھ کئے گئے عہدو پیمان بھی پورے کروان کے متعلق تم سے سوال ہوگا :
243: یہ اسلامی معاشرے کی نویں پابندی ہے جو اس جگہ بیان کی گئی کہ ” اللہ کے ساتھ عہدو پیمان کیا ہے اسے بھی پورا کرو۔ “ اور یہ پچھلی باتوں سے بھی زیادہ جامع بات ہے کہ اللہ کے ہر عہد کو پورا کرو اس میں وہ تمام عہد بھی آگئے جو اللہ نے بندوں سے لئے ہیں اور وہ عہد بھی آگئے جو ہم ایک دوسرے سے کسی خاص صالح مقصد کے لئے کرتے ہیں ہر عہد کی عند اللہ ذمہ داری ہے اس لئے ہر عہد عہد الٰہی ہے اگر وہ اللہ کے احکام کی حدود کے اندر ہے اور اس کے متعلق دوسری جگہ اس طرح فرمایا گیا ” عہد کی پابندی کرو ، بیشک عہد کے بارے میں تم کو جواب دہی کرنی ہوگی۔ “ اس لئے کہ یہ پوری قوم کا داخلی اور خارجی قانون کا سنگ بنیاد ہے۔ اسلام قبول کرتے وقت انسان جس کامل اطاعت خداوندی کا پختہ وعدہ کرتا ہے اس کو پوری طرح نباھنے کا ارشاد ہو رہا ہے اور مذکورہ بالا دو آیتوں میں زندگی بسر کرنے کے جو لا زوال اصول بیان ہوئے ہیں مسلمانوں نے جب تک ان اصولوں کو اپنی عملی زندگی میں اپنایا اور سچے دل سے ان پر کاربند رہے تو ان کی سروری کا ڈنکا چار دانگ عالم میں بجتا رہا اور جب سے ہم نے ان حیات بخش اصولوں سے بےاعتنائی برتنی شروع کی اس وقت سے زوال وادبار کا چکر شروع ہوا۔ نہ معلوم کب ہماری چشم ہوش کھلے گی اور وہ دن سعید کب طلوع ہوگا جب ہم قرآنی ہدایت پر عمل پیرا ہو کر شاہراہ ترقی پر گامزن ہوں گے۔
Ayah 6:152یتیموں کے مال کی طرف کھاجانے کی نیت سے ہاتھ بڑھانا بھی حرام ہے :
240: اسلامی معاشرے کی چھٹی پابندی یہ ہے کہ یتیموں کے مال کو ناجائز طریقہ سے ہڑپ کرلیا جائے اور اس طرح کا کھایا ہوا مال بھی یقیناً ناجائز اور حرام ہے۔ یہ بھی محض ایک اخلاقی ہدایت نہیں بلکہ اسلامی حکومت میں یتامی کے حقوق کی حفاظت کے لئے انتظامی اور قانونی دونوں طرح کی تدابیر اختیار کرنا ہوں گی اور دونوں ہی طرح کی تدابیر اختیار کی گئی تھیں دوسری جگہ قرآن کریم نے یتیموں کے مال کو ناجائز طریقہ سے کھا جانے کو دوزخ کی آگ قرار دیا ہے اور جب اسلامی حکومت اپنے ان تمام شہریوں کے مفاد کی محافظ ہے جو اپنے مفاد کی خود حفاظت کرنے کے قابل نہ ہوں اور اس میں ہر طرح کے کمزور طبقہ کے لوگ شامل ہوجاتے ہیں اور ان کی یہ شمولیت برابری کے طریقہ پر ہوگی اسلام میں طبقاتی تقسیم کا کوئی جواز موجود نہیں بلکہ اسلام اس مذہبی تفریق کو شرک سے موسوم کرتا ہے اور یتیموں کے مال کی حفاظت نہایت ضروری ہے اور وہ اس طرح ہوگی کہ ان کے مال کو ان کی جائز ضرورت کے علاوہ خرچ نہ کیا جائے اور اگر مال محفوظ رکھا جائے اور یتیموں کو کھانا اور ان کا دوسرا خرچ کفیل اپنی گرہ سے ادا کرتا ہے تو یہ بہت بڑی نیکی ہے لیکن اگر کفیل اس قابل نہ ہو اور اتنی وسعت نہ رکھتا ہو کہ اس کی ضروریات کو پورا کردے تو اس کے مال میں سے باقاعدہ حساب کتاب سے وصول کرے۔ اندھیر نگری والا معاملہ نہ کرے اور یہ معاملہ یتیم کے سن رشد تک پہنچ جانے تک ہوگا اور جب وہ یتیم سن رشد کو پہنچ جائے اور اپنے مال کی حفاظت خود کرلینے کا اہل ہو تو اس کو اس کا مال لوٹا دینا چاہئے اور یہ بھی کہ ایسے وقت حساب کتاب کر کے گواہوں کے روبرو اس کی کفالت کی ذمہ داری سے سبکدوش ہونا چاہئے تاکہ بعد میں کوئی شکوہ وشکایت پیدا نہ ہو۔
ماپ اور تول کو انصاف کے ساتھ پورا کرنا بھی ہر شخص کی ذمہ داری ہے :
241: یہ گویا اسلامی معاشرے کی ساتویں پابندی ہے کہ لین دین کے طریقے اور لین دین میں ماپ اور تول کے آلے ایک طرح کے ہوں۔ باٹ ہوں تو ایک جیسے اور ماپنے کا آلہ لینے اور دینے میں برابر کا ہو کم وبیش نہ ہو کہ لینے کا اور دینے کا اور۔ حسب سابق یہ ہدایت بھی باہمی معاملت تک محدود نہ رہی بلکہ اسلامی حکومت کے قیام کے بعد یہ بات حکومت کے فرائض میں داخل کی گئی ہے کہ وہ منڈیوں اور بازاروں میں اوزان اور پیمانوں کی نگرانی کرے اور تطفیف اگر ہو تو بزور بند کر دے تطفیف چھوٹی اور حقیر چیز کے لئے بولا جاتا ہے اور اصطلاحاً ناپ تول میں چوری چھپے کمی کرنے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے کیونکہ یہ کام کرنے والا ماپ کر یا تول کر کوئی بڑی چیز نہیں اڑاتا بلکہ ہاتھ کی صفائی دکھا کر جھکتا تول کردیتا ہوا نظر آنے کے باوجود ایک چھٹانک آدھ چھٹانک ایک سیر سے کم ہی دیتا ہے اور اس طرح بار بار تول کر بیسیوں اور سینکڑوں کو آدھی آدھی چھٹانک کم دے کر اپنے سینکڑوں چھٹاکیاں اکٹھی کرلیتا ہے جو اس چیز کے نفع سے الگ ہوتی ہیں بلاشبہ اس ناجائز مال سے وہ کتنا ہی مال اکٹھا کرے اور اس طرح ہاتھ کی صفائی سے سینکڑوں انسانوں کو دھوکا دیتا ہے اور جب ایک انسان کے ساتھ دھوکا کرنے کے لئے یہ فعل حرام ممنوع ہے تو ان سارے انسانوں کے ساتھ کیسے جائز ہو سکتا ہے۔ بہرحال ایسے مال کو جائز مال نہیں کہا جاسکتا بلکہ یہ حرام مال ہے خواہ کم ہے یا زیادہ مختصر یہ کہ اس طرح انسانوں کے ساتھ دھوکہ سے پیش آنے والا آدمی اللہ کے ہاں دھوکا باز ہی کہلا سکتا ہے اور حقیقت یہ ہے کہ اس طرح ڈنڈی مارنے والی قوم نہ کبھی دنیا میں فروغ پا سکی اور نہ ہی آئندہ فروغ پائے گی اور یہ برائی کوئی منفرد برائی نہیں ہے بلکہ یہ بہت سی برائیوں کے پائے جانے کی ایک علامت ہے۔
فرمایا ” ہم کسی جان پر اس کے مقدور سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتے۔ “ یہ وہ معیار ہے جو اللہ تعالیٰ نے تمام اعمال کے لئے مقرر فرمایا ہے کہ وہ لوگوں پر ان کی برداشت اور ان کے امکان سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا۔ اس سے ایک تو یہ بات واضح ہوگئی کہ اللہ تعالیٰ نے یہ احکام جو دئیے ہیں انسان کی فطرت اور اس کی صلاحیتوں کو تول کر دئیے ہیں ان میں کوئی چیز بھی ایسی نہیں جو اس کے تحمل سے باہر ہو اور جو شخص ان کو اپنے تحمل سے باہر جانتا ہے وہ اللہ کی کہی بات کو رد کرنے کی کوشش کرتا ہے لیکن آج جو صورت حال ہے وہ اس قدر بگڑ چکی ہے کہ کوئی آدمی الا ما شاء اللہ ایسا نظر آئے جو اس بیماری بلکہ ان بیماریوں میں گھرا ہوا نہ ہو اور جب اس کو کہا جائے گا تو وہ فوراً بول اٹھے گا جی آج کل تو ان باتوں کے سوا انسان چل ہی نہیں سکتا بلکہ یہ ساری چیزیں کبھی ممنوع ہوں گی آج تو ان کے سوا اس دنیا میں زندہ رہنا ہی محال ہے۔
جب بھی بات کرو تو انصاف کی کرو خواہ کوئی شخص تمہارا کتنا ہی قریبی کیوں نہ ہو :
242: یہ اسلامی معاشرے کی آٹھویں پابندی ہے جو اس جگہ بیان ہوئی ہے کہ ایک سچے مسلمان کی زبان پر سچی بات کے علاوہ کوئی دوسری بات نہیں آنا چاہئے جب بھی کوئی بات منہ سے نکلے تو وہ بالکل سچ ہو لیکن اس جگہ موقع کلام دلیل ہے کہ تمہاری کوئی شہادت اور تمہارا کوئی فیصلہ حق و عدل سے ہٹا ہوا نہ ہو بلکہ جب بھی دو آدمیوں کے درمیان کوئی شہادت دو یا کوئی فیصلہ کرو تو وہ حق وعدل کے مطابق ہو اور اس معاملے میں اپنے کسی عزیز و قریب کے ساتھ بھی کسی قسم کی کوئی رو رعایت نہ ہو۔ اسلامی تاریخ میں سینکڑوں مثالیں اس طرح کی موجود ہیں کہ نبی اعظم و آخر ﷺ کے سامنے جو فیصلے لائے جاتے ان میں آپ کبھی بھی کسی عزیز و اقارب کی رعایت نہ کرتے یہاں تک کہ جو بات غیر مسلموں کے حق میں جاتی بےجھجک اس کو بھی کہہ دیتے اور کبھی یہ خیال نہ فرماتے کہ اس طرح ایک مسلمان کے دل پر کیا گزرے گی ؟ اور آپ ارشاد فرماتے کہ لوگو غلط شہادت دے کر میرے سے کوئی غلط فیصلہ نہ کرا لینا اگر آپ نے ایسا کیا تو اس کا وبال غلط شہادت دینے والے کی گردن پر ہوگا اور میرے فیصلے پر اللہ کا فیصلہ نافذ ہوجائے گا جو عالم الغیب اور بذات الصدور ہے۔
اللہ کے ساتھ کئے گئے عہدو پیمان بھی پورے کروان کے متعلق تم سے سوال ہوگا :
243: یہ اسلامی معاشرے کی نویں پابندی ہے جو اس جگہ بیان کی گئی کہ ” اللہ کے ساتھ عہدو پیمان کیا ہے اسے بھی پورا کرو۔ “ اور یہ پچھلی باتوں سے بھی زیادہ جامع بات ہے کہ اللہ کے ہر عہد کو پورا کرو اس میں وہ تمام عہد بھی آگئے جو اللہ نے بندوں سے لئے ہیں اور وہ عہد بھی آگئے جو ہم ایک دوسرے سے کسی خاص صالح مقصد کے لئے کرتے ہیں ہر عہد کی عند اللہ ذمہ داری ہے اس لئے ہر عہد عہد الٰہی ہے اگر وہ اللہ کے احکام کی حدود کے اندر ہے اور اس کے متعلق دوسری جگہ اس طرح فرمایا گیا ” عہد کی پابندی کرو ، بیشک عہد کے بارے میں تم کو جواب دہی کرنی ہوگی۔ “ اس لئے کہ یہ پوری قوم کا داخلی اور خارجی قانون کا سنگ بنیاد ہے۔ اسلام قبول کرتے وقت انسان جس کامل اطاعت خداوندی کا پختہ وعدہ کرتا ہے اس کو پوری طرح نباھنے کا ارشاد ہو رہا ہے اور مذکورہ بالا دو آیتوں میں زندگی بسر کرنے کے جو لا زوال اصول بیان ہوئے ہیں مسلمانوں نے جب تک ان اصولوں کو اپنی عملی زندگی میں اپنایا اور سچے دل سے ان پر کاربند رہے تو ان کی سروری کا ڈنکا چار دانگ عالم میں بجتا رہا اور جب سے ہم نے ان حیات بخش اصولوں سے بےاعتنائی برتنی شروع کی اس وقت سے زوال وادبار کا چکر شروع ہوا۔ نہ معلوم کب ہماری چشم ہوش کھلے گی اور وہ دن سعید کب طلوع ہوگا جب ہم قرآنی ہدایت پر عمل پیرا ہو کر شاہراہ ترقی پر گامزن ہوں گے۔
Ayah 6:153ابراہیم (علیہ السلام) کی اصل راہ وہی ہے جو ملت اسلام کی راہ ہے :
244: یہ اسلامی معاشرے کی دسویں پابندی ہے جو اس جگہ بیان کی گئی ہے اور یہ اس جگہ بیان کی گئی پابندیوں میں سے آخری بھی ہے کہ تم لوگ ” میری بتائی ہوئی سیدھی راہ پر چلو اور میری بتائی ہوئی راہ کے علاوہ کسی دوسری راہ پر نہ چلو کہ اللہ کی راہ سے بھٹکا کر تمہیں متفرق کردیں گے۔ “ اور یہ بھی کہ یہی وہ راہ ہے جو ابراہیم (علیہ السلام) کی بتائی ہوئی راہ ہے اور اس کی اصل یہ ہے کہ خدا کے عالم گیر دین کی حقیقت ظاہر کرنے کے لئے صراط مستقیم سے بہتر تعبیر نہیں ہو سکتی تھی تم کسی خاص مقام تک پہنچنے کے لئے کتنی ہی راہیں نکال لو لیکن سدیھی راہ ہمیشہ ایک ہی ہوگی اور اس پر چل کر ہر مسافر منزل مقصود تک بحفاظت وامن پہنچ سکے گا۔ علاوہ ازیں سیدھی راہ ہی ہمیشہ شاہراہ عام کی حیثیت اختیار کرلیتی ہے۔ تمام مسافر خواہ وہ کسی گوشے کے راہنے والے ہوں لیکن سب مل جل کر وہی راہ اختیار کریں گے اور کبھی یہ نہ کریں گے کہ الگ الگ ٹولیاں بنا کر ٹیڑھی ترچھی راہوں میں متفرق ہوجائیں۔ قرآن کریم کہتا ہے ٹھیک اسی طرح دین کی سیدھی راہ بھی ایک ہی ہے بہت سی نہیں ہو سکتیں اور وہ روز اول سے موجود ہے ہر عہد ، ہر قوم ، ہر ملک اس پر چل کر منزل مقصود تک پہنچا ہے بعد میں پیروان مذاہب نے ایسا کیا کہ بہت سی ٹیڑھی ترچھی راہیں نکال لیں اور ایک راہ پر متفق رہنے کی جگہ الگ الگ ٹولیاں بنا کر متفرق ہوگئے وہ کہتا ہے اب اگر تم چاہتے ہو کہ منزل مقصود کا سراغ پائو تو چاہئے کہ اس سیدھی راہ پر اکٹھے ہوجائو : فھو طریقا مستقیما سھلا مسلوکا واسعا موصلا الی المقصود ، اور یہی حقیقت اس زیر نظر میں بیان ہوئی ہے اور اس کی مزید وضاحت کے لئے جب ” صراط مستقیم “ کی اس تفسیر پر نظر ڈالی جائے جو خود پیغمبر اسلام ﷺ نے فرمائی ہے تو بات مزید صاف ہوجاتی ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا :
عن ابن مسعود قال خط لنا رسول اللہ ﷺ خطا بیدہ ثم قال ھذا سبیل اللہ مستقیما ثم خط خطوطا عن یمین ذلک الخط وعن شمالہ ثم قال وھذا السبیل للیس منھا سبیلا الا علیہ شیطان ید عوا الیہ ثم قرا ھذہ الایۃ ۔
(اخرجہ النسائی واحمد والبزار وابن المنذر وابو شیخ والحاکم صححہ)
عبد اللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی انگلی سے ایک لکیر کھینچی اور فرمایا یوں سمجھو کہ یہ اللہ کا ٹھہرایا ہوا راستہ ہے بالکل سیدھا اس کے بعد اس لکیر کے دونوں طرف بہت سی ترچھی لکیریں کھینچ دیں اور فرمایا یہ طرح طرح کے راستے جو بنا لئے گئے ہیں اور ان میں سے کوئی راستہ نہیں جس کی طرف بلانے کے لئے ایک شیطان موجود نہ ہو پھر آیت : وَ اَنَّ ہٰذَا صِرَاطِیْ مُسْتَقِیْمًا آخر تک تلاوت فرمائی۔
اس سے معلوم ہوا کہ تمام ادھر ادھر کے ٹیڑھے ترچھے راستے ” سبل متفرقہ “ ہیں جو جمیعت بشری کو متحد کرنے کی جگہ متفرق کردیتے ہیں اور درمیان کی ایک ہی سیدھی راہ ” صراط مستقیم “ ہے یہ متفرق کرنے کی جگہ تمام رہروان منزل کو ایک ہی شاہراہ پر جمع کردیتی ہے۔ یہ ” سبل متفرقہ “ کیا ہیں ؟ اس گمراہی کا نتیجہ ہیں جسے قرآن مجید نے دوسری جگہ ” نشیع “ اور ” تخرب “ کی گمراہی سے تعبیر کیا ہے اور تشریح اس کی اوپر گزر چکی۔ دین حقیقی کی راہ کا سیدھا ہونا اور ” سبل متفرقہ “ یعنی خود ساختہ گروہ بندیوں کا پر پیچ وخم ہونا ایک اییا حقیقت ہے جسے ہر انسان بغیر کسی عقلی کاوش کے سمجھ سکتا ہے۔ اللہ کا دین اگر انسان کی ہدایت کے لئے ہے تو ضروری ہے کہ خدا کے تمام قوانین کی طرح یہ بھی صاف اور واضح ہو اس میں کوئی راز نہ ہو ، کوئی پیچیدگی نہ ہو ، ناقابل حل معمہ نہ ہو۔ اعتقاد میں سہل ہو اور عمل میں ہلکا ہر عقل اسے بوجھ لے اور ہر طبیعت اس پر مطمئن ہوجائے اور غور کرو کہ یہ تعریف کس راہ پر صادق آتی ہے ؟ ان مختلف راہوں پر جو پیروان مذاہب نے الگ الگ گروہ بندیاں کر کے نکال دیں یا اس ایک ہی راہ پر جسے قرآن کریم اصل دین کی راہ بتاتا ہے ؟ جیسا کہ اوپر بیان ہوتا چلا آرہا ہے ملت ابراہیم اور ملت اسلام میں امرو نہی کی اساسات اللہ تعالیٰ نے ایک جیسی چیزوں کو بنایا ہے اور یہی دین سارے انبیاء کرام پیش کرنے کے لئے آئے تھے اختلاف وافتراق سارے کا سارا لوگوں کی اہوا و خواہشات کا نتیجہ ہے اور بدقسمتی سے آج مسلمانوں نے بھی وہی گروہ بندی اختیار کرلی جو پچھلی امتیں کرتی آرہی تھیں۔
قرآن کریم نازل کرنے اور نبی اعظم وآخر ﷺ کے بھیجنے کا منشاء الٰہی تو یہ ہے کہ لوگ اپنے اپنے خیالات اور ارادوں کو چھوڑ کر قرآن وسنت کے تابع ہوں اور اپنی زندگیوں کو ان کے سانچہ میں ڈھال لے لیکن ہو یہ رہا ہے کہ لوگوں نے قرآن وسنت کو اپنے خیالات اور تجویزات کے سانچہ میں ڈھالنا شروع کردیا ہے جو آیت اور حدیث اپنے منشاء کے خلاف نظر آئی اس کی تاویلیں کر کے اپنی خواہش کے مطابق بنا لیا بس یہیں سے وہ گمراہ کن راہیں پیدا ہوئیں اور ہو رہی ہیں جو دراصل بدعات اور شبہات کی راہیں ہیں انہیں سے بچنے کے لئے اس آیت میں ہدایت کی گئی ہے۔ اوپر بیان کئے گئے دس اصولوں یا بیان کی گئی دس پابندیوں کو تین آیات میں تقسیم کیا گیا پہلی آیت میں پانچ حکم بیان کرنے کے بعد فرمایا : ذٰلِكُمْ وَصّٰىكُمْ بِهٖ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ 00151 یعنی ” یہ ہیں وہ باتیں جن کی اللہ نے تمہیں وصیت کی ہے تاکہ تم سمجھ بوجھ سے کام لو۔ “ پھر مزید چار حکم بیان کرنے کے بعد فرمایا ذٰلِكُمْ وَصّٰىكُمْ بِهٖ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَۙ00152 ” یہ باتیں ہیں جن کا اللہ نے تمہیں حکم دیا ہے تاکہ تم نصیحت پکڑو۔ “ اور پھر آخری دسواں حکم ایک آیت میں بیان کیا پھر اس کے بعد فرمایا : ذٰلِكُمْ وَصّٰىكُمْ بِهٖ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ 00153 ” یہ بات ہے جس کا تمہیں اللہ نے حکم دیا ہے تاکہ تم پرہیز گار ہوجائو۔ “ اب غور کرو کہ قرآن کریم کے اس حیما نہ اسلوب بیان میں کتنی حکمتیں پنہاں ہیں۔
Ayah 6:154دیکھو ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب دی جس میں اللہ پر ایمان لانے کی ہدایت تھی :
245: پیچھے ملت ابراہیم (علیہ السلام) کا بیان تھا اور ابراہیم (علیہ السلام) کی ذریت میں سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) بھی ہیں اس لئے موسیٰ (علیہ السلام) بھی وہی تعلیم لائے جو سارے رسول اور خصوصاً ابراہیم (علیہ السلام) لائے تھے اس لئے مفسرین نے ” ثم “ کو عاطفہ کہا ہے اور اس کا عطف ” وصکم “ پر تسلیم کیا ہے کیونکہ ان امور کی وصیت ہر امت کو اس کے نبی کے ذریعہ کی گئی ہے۔ آپ کو جو سب سے پہلے احکام الواح میں لکھ کر دئیے گئے وہ احکام عشرہ کے نام سے مشہور ہیں۔ اس لئے یہاں یہ سوال پیدا نہیں ہوتا کہ وصیت تو اب کی جا رہی ہے اور تورات کو نازل ہوئے صدیاں گزر چکی ہیں حالانکہ ثم تراخی کے لئے ہوتا ہے۔ آیت کا مطلب یہ ہے کہ اے اولاد آدم ! پہلے تمہیں ان ہدایت پر عمل پیرا ہونے کی نصیحت کی گئی اور اس پر مزید کرم یہ فرمایا کہ تورات جیسی مفصل کتاب نازل کی تاکہ جادئہ حق پر چلنے کا شوق رکھنے والوں پر اپنی نعمت کا اتمام کریں اور پھر یہی دس احکامات نبی اعظم وآخر ﷺ پر نازل کئے گئے اور ان کا بار بار نزول کیوں ہوا ؟ اس لئے کہ جن لوگوں کو پہلے دئیے گئے ان لوگوں نے ان کی کچھ پرواہ نہ کی بلکہ اپنی طرف سے ان کی وہ تشریح کی جو ان کے اپنے رسم و رواج پر منطبق ہوتی تھی پھر ایک مدت کے بعد دوسرے آنے والے رسول پر ان کا نزول ہوا تو سنت اللہ کے مطابق جب وہ نبی بھی اس دنیا سے رخصت ہوگئے تو ان کی امت نے بھی وہی کیا جو پیچھے سے ہوتا چلا آرہا تھا اور یہ سلسلہ چلتے چلتے محمد رسول اللہ ﷺ تک پہنچا تو آپ پر یہی احکامات نازل ہوئے بلکہ ان کا نزول بار بار قرآن کریم میں ہوا اور اکٹھا ذکر بھی اس جگہ سورة الانعام میں اور اس سے پہلے سورة بنی اسرائیل میں بیان ہوچکے تھے اس لیے کہ سورة بنی اسرائیل کا نزول سورة الانعام سے پہلے تسلیم ہے۔ “
زیر نظر آیت میں جو لفظ ” تَفْصِیْلًا لِّكُلِّ شَیْءٍ “ کے الفاظ بیان ہوئے ہیں یہ وہی الفاظ ہیں جو قرآن کریم کے متعلق بھی بار بار استعمال ہوئے ہیں اس سے مراد وہ مسائل بھی ہو سکتے ہیں جو دین کے دائرہ میں آتے ہیں اور دین کے اصول اور بنیادی مسائل وہی ہی جو اوپر ملت ابراہیم (علیہ السلام) کے متعلق بیان ہوئے اور پھر موسیٰ (علیہ السلام) کے متعلق اور پھر نبی اعظم وآخر ﷺ پر نازل ہوئے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر بھی ان احکامات کی تفصیلات و جزئیات بیان فرمائیں جس سے یہ کتاب بھی ہدایت ورحمت کا مجموعہ بن گئی۔ اس وقت تورات میں جتنی تحریف ہوئی اس کی تفصیل بھی آپ جا بجا پڑھتے چلے آرہے ہیں لیکن اس تحریف کے باوجود تورات میں ایسے احکامات موجود ہیں جو انہی دس احکامات کی تشریح کہلا سکتے ہیں تو رات کی کتاب احبار خصوصاً انہی احکامات سے بھری پڑی ہے اگرچہ اس کے تفسیری جملے شارحین کے آج بھی واضح طور پر نظر آتے ہیں اور یہ بھی اپنی جگہ حقیقت ہے کہ دنیا میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو کتاب بھی نازل ہوئی اور جو صحیفہ بھی اترا وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اللہ تعالیٰ کی ہدایت سے مملو تھا اس لئے قرآن کریم سے پہلے کی ساری کتابوں پر ” ہدایت اور رحمت “ کے الفاظ بولے گئے ہیں اور اس زندگی کی اصل غایت کیا ہے ؟ ظاہر ہے کہ وہ آخرت ہی ہے کیونکہ اس دنیا کی زندگی تو سب کے لئے فانی اور عارضی تھی اور رہے گی لہٰذا ہر کتاب الٰہی کا اصل مقصد یہ ہے کہ وہ اس دنیا کی زندگی کو وہ جلوہ دے کہ لوگ اللہ کی ملاقات پر ایمان لائیں اور اس کو نصب العین بنا کر اس دنیا کی زندگی کا سفر طے کریں اس مقصد کے لئے ” لعلھم بلقاء ربھم “ کے الفاظ بیان ہوئے کہ ہر کتاب الٰہی میں آخرت کا نظریہ جلی حروف میں نظر آتا ہے کیونکہ انسان کی اس دنیوی زندگی کے راستہ کو درست کرنے والا یہی ایک نظریہ ہے جو امت ، جو قوم اور جو فرف جتنا اس نظریہ پر سختی سے قائم ہوگا اتنی ہی اس کی دنیوی زندگی صاف اور ستھری ہوگی گویا اس دنیا کی زندگی کا مکمل طور پر درست ہونا اس نظریہ کے ساتھ وابستہ ہے آج بھی اقوام عالم کے حالات کو پیش نظر رکھ کر یہی فیصلہ دیا جاسکتا ہے اور خصوصاً مسلمانوں کی حالت کو سامنے رکھ کر یہی فیصلہ درست ثابت ہوتا نظر آتا ہے۔ ہاں ! مسلمان قوم بحیثیت قوم اس نظریہ کو عقیدہ کے لحاظ سے جس قدر تسلیم کرتی ہے بالکل عمل کے لحاظ سے اس قدر اس کا خلاف نظر آرہا ہے اور عقیدہ وعمل کی یکسانیت نہ رہے تو وہ عقیدہ عقیدہ نہیں ہوتا بلکہ محض ایک ڈھونگ ہوتا ہے ایک راگ ہوتا ہے جو کوئی قوم مجموعی طور پر الاپتی رہتی ہے یہی وجہ ہے کہ وہ مفید مطلب نہیں ہوتا اور یہی حالت آج کل قوم مسلم کی ہے۔
Ayah 6:155قرآن کریم کے نزول کا مقصد وحید بھی یہی ہے کہ تم راہ راست پر آجائو :
246: ” وَ ہٰذَا کِتٰبٌ “ اور یہ کتاب ہے یعنی قرآن کریم اور اس کے اتارنے والے بھی ہم ہی ہیں یعنی اللہ تعالیٰ ہی اس کا نازل کرنے والا ہے جس نے اس سے پہلے تورات کو نازل کیا تھا اور اس میں بھی وہ برکت رکھی گئی اور ان باتوں کو جو تورات میں لوگوں نے اپنی طرف سے داخل کردی تھیں نکال کر بالکل صاف اور پاک کردیا گیا ہے اور اس کے نزول کا مقصد بھی یہ ہے کہ تم لوگ اس کی پیروی کرو اور اپنے آپ کو پرہیزگار بنا لو اور ایسا ڈھنگ اختیار کرو کہ تم پر اللہ اپنی خاص رحمت نازل کردے تاکہ تم اس زندگی مین بھی کامیاب وکامران ہو اور تمہاری آخرت بھی سنور جائے جو حقیقت میں کامیابی کہلانے کا استحقاق رکھتی ہے اور یہی اس کتاب یعنی قرآن کریم کے نزول کا مقصد ہے کہ لوگوں کا عقیدہ اور پختہ ہوجائے کہ ہمیں ایک روز اس سارے سازوسامان کو چھوڑ کر اللہ تعالیٰ کے حضور پیش ہونا ہے جہاں ہم سے ہمارے تمام اعمال کا محاسبہ کیا جائے گا۔
Ayah 6:156نزول قرآن کا مقصد یہ ہے کہ کل تم عذر نہ کرو کہ ہم پہلی کتابیں پڑھ نہ سکے تھے :
247: اس میں خطاب اس وقت کے لوگوں سے بھی ہے اور ان کے بعد آنے والوں کو بھی اور اسی طرح قیامت تک آنے والوں کے لئے۔ ان سب کو کہا جا رہا ہے کہ تمہاری ہدایت کے لئے یہ بےنظری کتاب نازل کی گئی ہے تاکہ قیامت کے روز تم اپنی گمراہی اور ضلالت کے لئے یہ عذر نہ پیش کرو کہ ہمارے لئے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی کتاب نازل ہی نہیں کی گئی تھی جسے پڑھ کر ہم شرک وکفر سے تائب ہوتے اور توحید کو قبول کرتے اور یہود ونصاریٰ پر بلاشبہ کتابیں نازل ہوئی تھیں لیکن ہم ان کے پڑھنے سے قاصر تھے اس لئے اگر ہم ایمان نہیں لائے تو ہم معذور تھے۔ یعنی اگر قرآن کریم تمہاری طرف نازل نہ کیا جاتا تو تم بڑی شیخی بگھارتے اور کہتے کہ جس طرح یہود ونصاریٰ کو کتابیں دی گئیں تھیں اسی طرح اگر ہمیں بھی کتاب دی جاتی تو دنیا دیکھتی کہ ہم اس کو کس طرح سینہ سے لگاتے اور کس طرح اس کی ہدایت کے مطابق عمل کرتے۔ لو اب وہ کتاب آگئی ہے جو روشن دلائل پر مشتمل ہے جو سراپا ہدایت اور مجسم رحمت ہے اب اس پر عمل کر دکھائو۔ ممکن ہے کسی دل میں یہ سوال ابھرآئے کہ جس طرح مکہ کے لوگ تورات وانجیل کو نہیں پڑھ اور سمجھ سکتے تھے اسی طرح عربوں کے علاوہ دوسری قومیں اور لوگ قرآن کریم کو بھی نہین پڑھ اور سمجھ سکتے اگر مکہ والوں کو وہ عذر تھا تو آج دوسرے لوگوں کے لئے کیوں ایسا عذر نہیں ہو سکتا ؟ بلاشبہ ایسا سوال پیدا ہو سکتا ہے لیکن قرآن کریم نے اس کا جواب اس آیت کے اندر رکھ دیا ہے۔ زیر نظر آیت کے آخری الفاظ پر غور کرو فرمایا عن دراستھم لغفلین کہ ہم ان کے پڑھنے سے بیخبر تھے ، کیوں ؟ اس لئے کہ وہ دونوں کتابیں بلکہ دوسرے سارے آسمانی صحیفے بھی اپنی اصلی حالت ؟ ؟ ؟ ہی سے بیخبر ی کا اظہار ہے جب وہ سب کتابیں اپنی اصل حالت پر موجود ہی نہ رہنے دی گئیں تو بعد میں آنے والے ان کو کیا خاک پڑھتے اور رہا قرآن کریم تو اس کی ذمہ داری خود اس کے بھیجنے والے نے اٹھائی کہ اس میں ہم کسی طرح کی تحریف نہیں ہونے دیں گے اور قرآن کریم کا ایک ایک حرف اور ایک ایک شوشہ بھی ادھر ادھر نہیں ہوگا یہ کتاب اپنی اصلی حالت میں تا قیامت باتی رہے گی اس لئے اس کے پڑھنے سے کسی کو اگر غفلت ہو تو اس کا وہ عذر قابل قبول نہیں ہوگا۔ مطلب بالکل صاف ہوگیا کہ ان کتابوں کے نہ پڑھنے کی وجہ سے دوسری زبان نہیں بلکہ اصل وجہ ان کتابوں کا اصل حالت پر موجود نہ رہنا ہے۔ اس لئے قرآن کریم کا اگر صرف ترجمہ کردیا جائے خواہ وہ ہر زبان میں اس کا ترجمہ موجود ہو تو وہ اپنی اصل حالت پر موجود نہ رہے پھر یہ عذر ہو سکتا ہے جبکہ قرآن کریم کا اصل حالت پر موجود نہ رہنا محالات سے بلکہ ناممکنات میں سے ہے اور یہی قرآن کریم کا زندہ وجاوید معجزہ ہے کہ کیا زمانے گزر گئے مخالف وموافق حالات پیدا ہوئے بحمدا للہ قرآن کریم پر ان کا کچھ اثر نہ ہوا اور اس سے یہ سمجھ لینا چاہئے کہ تا قیامت حالات کچھ بھی ہوں قرآن کریم اپنی اصلی حالت پر قائم رہے گا اور بعد میں آنے والی قومیں بھی اس کی ہدایات سے اس طرح مستفید ہوں گی جس طرح صدر اول کے لوگ مستفید ہوئے اور زمانے میں جو نئی نئی ترقایں ہوئیں اور سائنسی دور آیا قرآن کریم کا مطلب اتنا ہی واضح اور صاف ہوا اور اب بھی جوں جوں ترقیاں ہوں گی اور سائنس آگے بڑھتی جائے گی قرآن کریم کے وہ استعارات جو ابھی تک نہیں کھل سکے یقیناً کھل جائیں گے اور انجام کار وہ دور آئے گا کہ کائنات کا ذرہ ذرہ اپنے خیرو شر ہونے کے لحاظ سے واضح ہوجائے گا اور اس وقت بھی قرآن کریم کا قاری الحمد للہ رب العالمین کہنے پر مجبور ہوگا ابھی کتنے حجاب ہیں جن کا کھلنا باقی ہے اور کتنے ہیں جو کھل چکے ہیں کاش کہ قوم مسلم بھی بینا آنکھ رکھتی اور قرآن کریم کو پڑھنے کے باوجود غافل نہ رہتی۔
Ayah 6:157اب تمہارا یہ عذر بھی نہ رہا کہ ہم پر کتاب نازل ہوتی تو ہم زیادہ ہدایت یافتہ ہوجاتے :
248: یہ آیت بھی گویا پہلی آیت کی تفسیر ہے اس میں مزید وضاحت فرما دی کہ اگر تمہاری طرف کتاب نازل نہ کی جاتی تو تم یہ عذر بھی کرسکتے تھے پہلی کتب اصل حالت پر موجود نہ رہی تھیں اور ہم پر کوئی ہدایت کی کتاب نازل نہ ہوئی اگر نازل ہوتی تو ہم زیادہ ہدایت یافتہ ہوتے۔ اب تمہارے پاس کتاب یعنی قرآن کریم آگیا اور اس میں وہ ابدی ہدایات بھی آگئیں جو تا قیامت باقی رہیں گی ، اب تم اس طرح کا کوئی عذر پیش نہیں کرسکتے۔ قرآن کریم کے لئے اس آیت میں ” بینۃ “ ” ھدی “ اور ” رحمۃ “ کے الفاظ استعمال کئے گئے۔ ” ہدایت اور رحمت “ کے الفاظ پر جو بحث تورات کے ضمن میں آئی وہی قرآن کریم کے نزول کے لئے ہے اور ” بینۃ “ کے معنی روشن دلیل اور حجت قاطع کے ہیں۔ قرآن کریم کے یہ لفظ بار بار استعمال ہوا ہے جس کے دو پہلو ہیں ایک یہ کہ اس دنیا کے ان تمام انسانوں کے عذرات کا خاتمہ کردیا جن کا اوپر حوالہ دیا گیا دوسرا یہ کہ قرآن کریم بجائے خود حجت وبرہان ہے اس کا کتاب الٰہی ہونا کسی خارجی دلیل کا محتاج نہیں ہے۔ یہ ایک ایسا معجزہ ہے جس کے چیلنج کا جیسا کہ قرآن کے متعدد مقامات سے واضح ہے اس وقت کے لوگ کوئی جواب نہ دے سکے اور رہتی دنیا تک نہیں دے سکیں گے اور یہ بھی کہ قرآن کریم اپنے ہر دعویٰ اور ہر تعلیم کے دلائل وبراہین اپنے ساتھ لے کر نازل ہوا ہے اور وہ ایسے مضبوط ومستحکم اور ایسے عقلی وفکری اور فطری ہیں کہ ان کے مقابل میں کٹ حجتی تو شاید کوئی کرے لیکن ان کی تردید ممکن نہیں اور کٹ حجتیوں کا انجام اس نے واضح کردیا ہے جس کو ہر بینا آنکھ دیکھ رہی ہے اور تا قیامت دیکھتی رہے گی اور ان کی آخرت کی بربادی بھی اسی طرح یقینی ہے۔
آیات الٰہی سے گردن موڑنے والوں سے زیادہ بدبخت کون ہوسکتا ہے ؟ :
249: جن لوگوں نے آیات الٰہی کی تکذیب کی اور دوسروں کو ان کے سننے اور سمجھنے سے روکا ان سے بڑھ کر محروم القسمت اور بدبخت کون ہو سکتا ہے ؟ جس کی ماں نے اپنے بیٹے کے لئے روغنی روٹی تیار کی اور جین محنت اور دل لگی سے اس کو پکا سکتی تھی پکایا اور روٹی پک کر تیار ہوگئی تو بیٹے نے اس کی طرف دیکھنے سے بھی انکار کردیا کھانے کا نمبر تو بعد میں تھا اور وہ اتنا ضدی نکلا کہ ماں کی اپیل کو بھی مسترد کردیا کیا اس روٹی کا اب آٹا بن کر آٹے میں شامل ہوجائے گا ہرگز نہیں اس کو کوئی انسان بھی کھا سکتا ہے اور اسی طرح چوہے ، کوے اور کتے بھی۔ پھر جن لوگوں کے پاس ایسی کتاب آئے جو ان کے تمام عذرات کا خاتمہ کر دے ، جو ان کے لئے حجت وبرہان ہو ، جو ابر رحمت بن کر برسے ، جو راہنمائی کے لئے روشنی کا مینار اور آخرت میں رحمت الٰہی کی ضامن ہو لیکن وہ بدبخت خود بھی جھٹلائیں اور دوسروں کو بھی اس سے روکیں ان کا انجام کیا ہونا چاہئے ؟ وہی جو اس وقت ہو رہا ہے اور جب تک وہ اپنی حالت کو خود بدلنے کی کوشش نہیں کریں گے یہی ہوتا رہے گا۔ کیوں ؟ اس لئے کہ سنت اللہ یہی ہے اور اللہ کی سنت بدلا نہیں کرتی ، نہ وہ خود بدلتا ہے اور نہ کسی دوسرے کو بدلنے دیتا ہے کیونکہ وہ سارے طاقتوروں سے زیادہ طاقتور اور سارے با اصولوں سے زیادہ بااصول ہے۔ خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی جس کو اپنی حالت کے بدلنے کا خود خیال نہ آیا ہو۔ ہماری دعا ہے کہ اللہ ہماری قوم کے کسی بندے کے دل میں بھی یہ بات ڈال دے تاکہ ہماری دناں اور آخرت سنور جائے۔ اے اللہ ! ایسی بات کو دل میں جمانے والا بھی تو ہی ہے اور ایسا آدمی پیدا کرنے والا بھی تو ہی ہے۔