6. Surah Al-An'aam

الأنعامThe Cattle · 165 ayahsعروۃ الوثقٰی

Ayah 6:97

وَ هُوَ الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ النُّجُوْمَ لِتَهْتَدُوْا بِهَا فِیْ ظُلُمٰتِ الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ١ؕ قَدْ فَصَّلْنَا الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ Open ayah 6:97 in the Quran reader

اور وہی ہے جس نے تمہارے لیے ستارے بنا دیئے کہ بیابانوں اور سمندروں کے اندھیروں میں ان کی علامتوں سے راہ پا لو ، بلاشبہ ہم نے ان لوگوں کے لیے جو جاننے والے ہیں اپنی نشانیاں کھول کھول کر بیان کردی ہیں

وہی ہے جو ستاروں کا بنانے والا اور اندھیری راتوں میں ان سے راہ دکھانے والا ہے : 150: آفتاب و ماہتاب کے علاوہ دوسرے ستارے بھی اللہ کی قدرت کاملہ کے خاص مظاہر ہیں اور ان کو بنانے اور باقاعدہ منزلوں پر گردش کرنے میں ہزاروں حکمتیں ہیں جن میں سے ایک حکمت خاص یہ بھی ہے کہ انسان کو اپنے بحری اور بری سفروں میں جہاں رات کی تاریکی کے وقت سمتوں کا پتہ لگانا نہایت مشکل ہوتا ہے ان ستاروں کے ذریعے اپنے راستے متعین کرسکتا ہے اور آج اس ترقی کے زمانہ میں بھی انسان ستاروں کی ہدایت سے بےنیاز نہیں ہے اور اس جگہ اس کا ذکر کر کے بتانا یہ مقصود ہے کہ اس کارخانہ ہستی کی ہر چھوٹی بڑی چیز اس کی قدرت کاملہ کا کرشمہ ہے۔ اس کی حکمت اور علم نے ان کے لئے ایسے اندازے اور ضابطے مقرر کردیئے ہیں جن کے وہ پابند ہیں اور سب اس کے حکم کی تعمیل اور اس کے فرمان کی بجا آوری میں سرگرم عمل ہیں اور زندگی کی ساری ہمہ ہمی موجود ہے اور اکثر مقامات پر قرآن کریم میں چاند ، سورج اور ستاروں کا ذکر اکٹھا اور شجر کا ذکر پہاڑوں اور جانوروں کے ساتھ کیا ہے۔ دکھو اہل علم و دانش کے لئے کائنات ہستی کی ہرچیز میں توحید الٰہی کے نشانات موجود ہیں۔ چھوٹی سے چھوٹی یا بڑے سے بڑی آپ کوئی چیز لے لیں اس کی وضع وقطع کی موزونیت اس کی خصوصیات اس کے ان گنت فوائد اور پھر سارے نظام عالم کے ساتھ اس کی وابستگی کو دیکھ کر انسان مجبوراً کہہ اٹھتا ہے کہ اس کے بنانے والی ذات بڑی قدرت ، علم اور حکمت کی مالک ہے۔ جتنا علم زیادہ ہوگا اسی مناسبت سے عرفان توحید زیادہ ہوگا بشرطیکہ وہ علم علم ہو جہل کا نام علم نہ رکھ دیا گیا ہو جو دو رکعت کے اماموں کو پیٹ کے دھندے کے طور پر پڑھایا جاتا ہے۔ ان آیات کریمات میں جو کچھ بیان کیا گیا ہے اس سے یہ بتانا مقصود ہے کہ کائنات کا سارا نظام اللہ تعالیٰ کا آفریدہ ہے اور اس کی اطاعت میں چل رہا ہے زمین سے لے کر آسمانوں تک نہ کوئی خود مختار ہے ، نہ کسی اور کی خدائی اس جہاں میں چل رہی ہے ، نہ خدا کی خدائی میں کسی کا کوئی دخل ہے اور نہ ہی کسی کا یہ مقام ہے کہ اسے معبود بنایا جائے۔ سب بندے اور غلام ہیں۔ آقا تنہا ایک رب قدیر ہے لہٰذا توحید ہی حق ہے جس کی تعلیم یہ قرآن دے رہا ہے۔ اس کو چھوڑ کر جو شخص بھی شرک یا کفر کر رہا ہے وہ دراصل کائنات کے پورے نظام سے برسر پیکار ہے اور کسی نظام سے بھی برسرپیکار ہونا دراصل اس نظام بنانے والے سے برسر پیکار ہونا ہے اور ظاہر ہے کہ یہ سارا نظام کا ئنات اللہ وحدہ لاشریک کا بنایا ہوا ہے پھر اس سے برسرپیکار ہونا ہے ؟
Ayah 6:98

وَ هُوَ الَّذِیْۤ اَنْشَاَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ فَمُسْتَقَرٌّ وَّ مُسْتَوْدَعٌ١ؕ قَدْ فَصَّلْنَا الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّفْقَهُوْنَ Open ayah 6:98 in the Quran reader

اور پھر وہی ہے جس نے تمہیں اکیلی جان سے نشو ونما دی پھر تمہارے لیے قرار پانے کی جگہ ہے اور سپردگی کا مقام ہے ، بلاشبہ جو لوگ بات کی سمجھ بوجھ رکھنے والے ہیں ان کے لیے ہم نے اپنی نشانیاں کھول کھول کر بیان کردی ہیں

وہی ہے جس نے تم کو اکیلی جان سے نشو ونما دی اس میں بھی کتنی ہی نشانیاں ہیں : 151: ” پھر دیکھو وہی ہے جس نے تمہیں اکیلی جان سے نشو ونما دی۔ “ آیت کے اس حصہ کا مطلب ہم پیچھے عروۃ الوثقیٰ جلد دوم سورة النساء کی آیت کی اول بڑی تفصیل سے بیان کر آئے ہیں وہاں سے ملاحظہ کریں۔ ” تمہارے لئے قرار پانے کی جگہ ہے اور سپردگی کا مقام ہے۔ “ اس میں ایک جگہ کو قرار پانے کی جگہ کہا گیا اور دوسری کو سپردگی کا مقام بیان کیا گیا اس لئے جان لینا چاہئے کہ انسان کے لئے مستقر کیا ہے ؟ اور مستودع کیا ؟ مستقر وہ جو کسی چیز کے لئے جائے قرار ہو اور مستودع ودیعت سے مشتق ہے جس کے معنی ہیں کسی چیز کو کسی کے پاس عارضی طور سے چند روز رکھ دینے کے۔ اس سے جو بات ثابت ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ انسان کی ایک جگہ عارضی ہے اور ایک مستقل رہنے کی جگہ ہے۔ قرآن کریم نے تو اس قدر بیان کیا لیکن مفسرین نے اس کی تعبیریں مختلف کیں کہ انسان کے لئے مستقر کیا ہے اور مستودع کیا ؟ کسی نے کہا کہ مستودع ماں کا پیٹ ہے اور مستقر یہ دنیا کی زندگی اور کسی نے کہا کہ مستودع کیا ہے اور مستقر آخرت ہے اور علاوہ ازیں بھی مختلف اقوال بیان کئے گئے ہیں جن میں سے ایک یہ بھی کہ مستقر دار الاخرت ہے خواہ وہ جنت ہے یا دوزخ اور انسان کی ابتداء آفرنیش سے آخرت تک جتنے مراحل اور درجات ہیں اور جہاں جہاں اس کا قیام ہے وہ سب مستودع میں داخل ہے خواہ وہ شکم مادر ہو یا زمین پر رہنے سہنے کی جگہ یا قبر و برزخ۔ جیسا کہ دوسری جگہ ارشاد فرمایا کہ : لَتَرْكَبُنَّ طَبَقًا عَنْ طَبَقٍؕ0019 (الانشقاق 84 : 19) ’ ’ تم کو ضرور درجہ بدرجہ ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف گزرتے چلے جانا ہے۔ “ مطلب یہ ہے کہ تمہیں ایک حالت پر نہیں رہنا ہے بلکہ جوانی سے بڑھاپے ، بڑھاپے سے موت ، موت سے برزخ ، برزخ سے دوبارہ زندگی۔ دوبارہ زندگی سے میدان حشر پھر حساب و کتاب اور جزا وسزا کی بیشمار منزلوں سے لازماً گزرنا ہے۔ ان ساری منزلوں پر ایک ہی لفظ مستودع کا اطلاق ہوتا ہے اور جائے قرار جس کے بعد موت نہیں ہے اور اس طرح کا ادلنا بدلنا بھی نہیں وہ ” مستقر “ ہے۔ ” بات کی سوجھ بوجھ رکھنے والوں کے لئے اس میں کتنی ہی نشانیاں کھول کھول کر بیان کردی گئی ہیں۔ “ اس کی تفصیل اوپر کی آیت : فَصَّلْنَا الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ 0097 میں آچکی ہے کیونکہ ایک ہی ایک ہی بات کو دو طریقوں سے بیان کیا گیا ہے فرق یہ ہے کہ پہلی آیت میں دلالت واضح وصریح تھی اس لئے یَّعْلَمُوْنَ 0097 کا لفظ کافی تھا اس آیت میں دلالت خفی و دقیق ہے اسلئے یَّفْقَهُوْنَ 0098 کے الفاظ لائے گئے ۔ (مدارک) ایک جان سے پیدائش ، مستقر اور مستودع کی تشریح میں واقعی اخفا تھا جس کو حسب طاقت کھول دیا گیا۔ اللہ کرے کہ تفہیم ہوجائے۔
Ayah 6:99

وَ هُوَ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً١ۚ فَاَخْرَجْنَا بِهٖ نَبَاتَ كُلِّ شَیْءٍ فَاَخْرَجْنَا مِنْهُ خَضِرًا نُّخْرِجُ مِنْهُ حَبًّا مُّتَرَاكِبًا١ۚ وَ مِنَ النَّخْلِ مِنْ طَلْعِهَا قِنْوَانٌ دَانِیَةٌ وَّ جَنّٰتٍ مِّنْ اَعْنَابٍ وَّ الزَّیْتُوْنَ وَ الرُّمَّانَ مُشْتَبِهًا وَّ غَیْرَ مُتَشَابِهٍ١ؕ اُنْظُرُوْۤا اِلٰى ثَمَرِهٖۤ اِذَاۤ اَثْمَرَ وَ یَنْعِهٖ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكُمْ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ Open ayah 6:99 in the Quran reader

اور وہی ہے جو آسمانوں سے پانی برساتا ہے پھر اس سے ہر طرح کی روئیدگی پیدا کردیتا ہے پھر روئیدگی سے ہری ہری ٹہنیاں نکل آتی ہیں اور ٹہنیوں سے دانے نمودار ہوجاتے ہیں اور ایک دانے سے دوسرا دانہ ملا ہوا اور کھجور کے درخت سے جس کی شاخوں میں گچھے جھکے پڑتے ہیں اور انگور ، زیتون اور انار کے باغ پیدا کیے ایک دوسرے سے ملتے جلتے اور الگ الگ ان کے پھلوں کو دیکھو جب درخت پھل لاتا ہے اور پھر ان کے پکنے کو دیکھو ، بلاشبہ جو لوگ یقین رکھتے ہیں ان کیلئے اس بات میں بڑی ہی نشانیاں ہیں

ربوبیت کے مختلف دلائل بیان کر کے ” رب کریم “ کا تعارف کرایا جارہا ہے : 152: ” آسمان سے پانی برسانے والا کون ہے ؟ “ ایسا کیوں ہے کہ پہلے سورج کی شعاعیں سمندر سے ڈول بھر بھر کر فضا میں پانی کی چادریں بچھا دیں پھر ہواؤں کے جھونکے انہیں حرکت میں لائیں اور پانی کی بوندیں بنا کر ایک خاص وقت اور خاص محل میں بر سادیں ؟ پھر یہ کیوں ہے کہ جب کبھی پانی برسے تو ایک خاص ترتیب اور مقدار ہی سے برسے اور اس طرح برسے کہ زمین کی بالائی سطح پر اس کی ایک خاص مقدار بہنے لگے اور اندرونی حصوں تک ایک خاص مقدار میں نمی پہنچے ، کیوں ایسا ہوا کہ پہلے پہاڑوں کی چوٹیوں پر برف کے تودے جمیں ، پھر موسم کی تبدیلی سے پگھلنے لگیں ، پھر ان کے پگھلنے سے پانی کے سرچشمے ابلنے لگیں ، پھر چشموں سے دریا کی روانی پیدا ہو پھر وہ پیچ و غم کھاتی ہوئی دور دور تک چلتی جائے اور سینکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں میلوں تک اپنی وادیاں شاداب کرتی جائے۔ قرآن کریم کہتا ہے اس لئے کہ کائنات ہستی میں ربوبیت الٰہی کار فرما ہے اور ربوبیت کا مقتضا یہی تھا کہ پانی اس ترتیب سے اترے اور پھر اترتا ہی چلا جائے اور یہ سب کو کچھ ایک خاص نظام کے تحت ہوتا رہے تاکہ لوگوں کو معلوم ہو کہ جب ایک خاص نظام موجود ہے تو یقیناً کوئی اس کا ” ناظم “ بھی ہونا چاہئے اور وہ اللہ ہی کی وحدہ لاشریک لہ ذات ہے۔ ” اس پانی سے روئیدگی کرنے والا بھی وہی ہے “ یہ منظر کتنی بار تمہاری آنکھوں کے سامنے گزر چکا کہ زمین بالکل چٹیل میدان پڑی ہوئی ہے ، زندگی کے کوئی آثار اس میں دور دور تک نظر نہیں آتے۔ نہ گھاس پھونس ہے ، نہ بیل بوٹے ، نہ پھول پتی اور نہ کسی قسم کے حشرات الارض اتنے میں بارش کا موسم آگیا اور ایک دو چھینٹے پڑتے ہیں اس زمین سے زندگی کے چشمے ابلنے شرو ع ہوگئے۔ زمین کی تہوں میں دبی ہوئی بیشمار جڑیں یکایک جی اٹھیں اور ہر ایک کے اندر سے وہی نباتات پھر برآمد ہوگئی جو پچھلی برسات میں پیدا ہونے کے بعد مر چکی تھی۔ بیشمار حشرات الارض کا نام و نشانی باقی نہ رہا تھا یکایک وہ سب کے سب پھر اس شان سے نمودار ہوگئے جیسے پچھلی برسات میں دیکھے گئے تھے یہ سب کچھ اپنی زندگی میں تم باربار دیکھتے رہے ہو اور پھر بھی تم کو یقین نہیں آتا کہ اس روئیدگی کا لانے والا بھی کوئی ہے اور حیات کا پھیلانے والا بھی کوئی ہے۔ کیوں ؟ غصہ نہ کرنا صرف اس لئے کہ تمہارا مشاہدہ بےعقل حیوانوں کا سامشاہدہ ہے۔ تم کائنات کے کرشموں کو تو دیکھتے ہو مگر ان کے پیچھے خالق کی قدرت اور حکمت کے نشانات نہیں دیکھتے اگر ذرا غور کرتے تو تمہاری نگاہ اس وحد لاشریک لہ ذات کی طرف پھرجاتی اور تم کو یقین ہوجاتا کہ یہ سب کچھ پیدا کرنے والا اور پھر ایک خاص ترتیب سے پیدا کرنے والا صرف اور صرف وہی ہے اور اس کے سوا کوئی اور نہیں۔ ” روئیدگی سے ٹہنیاں اور ٹہنیوں سے دانے اور پھل ، جوں جوں غور کرو گے آگے بڑھتے جاؤ گے ، ربوبیت عامہ سے ربوبیت خاصہ کی طرف قدم بہ قدم بڑھتے جاؤ تم دیکھ رہے ہو کہ کل جو زمین سے روئیدگی پیدا ہوئی تھی اب وہ کو نپلیں نکالنے لگے اور اس پر بالیاں آنے لگیں اور طرح طرح کے خوشے نمودار ہونے لگے اور پھر وہی ذات تو ہے جس نے ان پر تہ بہ تہ دانے جمادیئے اور اس طرح تمہارے بوئے ہوئے ایک دانے پر سینکڑوں دانوں کا اضافہ کر کے تمہاری طرف لوٹا دیا۔ فرمایا پہلے ذرا کھجور پر غور کرو کہ اے اہل عرب تمہاری معیشت کا انحصار زیادہ تر اس پر ہے کہ اس کے درخت کے اندر گابھے کا پیدا ہونا اور پھر اس سے لٹکتے ہوئے بوجھل خوشوں کا ظہور میں آنا ہرچیز پر گہری نظر ڈالتے جاؤ اس کی ابتدائی حالت سے لے کر پک کر تیار ہونے تک ایک ایک مرحلہ اور ایک ایک حالت پر غور کرو یقیناً اس کاری گری اور صنعت پر غور کرنے سے تم کو صانع کی معرفت حاصل ہوگی اور اس کی قدرت و حکمت اور اس کی رحمت و روبیت کا کچھ اندازہ ہوگا۔ کتنے درخت کھجور کے تھے اور ان سب پر جو پھل لگا کھجور ہی کہلایا لیکن غور کرو کہ کیا ساری کھجوریں ایک ہی جیسی ہیں ؟ مختلف اقسام کی ہیں تو آخر کیوں ؟ اس طرح اب تم انگور کی بیل ، زیتون کے پودے اور انار کے درخت کو ایک ایک کر کے غور کرتے جاؤ ان پر جتنے مراحل گزرے ہیں ان کو اپنی نظر میں لاؤ ۔ جانور کی طرح صرف ان کو دیکھ کر اور کھا کر آگے نہ نکل جاؤ ذرا اس ذات پر غور کرو جس نے ان سارے مراحل سے ان کو گزارا۔ ایک طرح کے پانی سے ان کو سیراب کیا ، ایک طرح کی زمین ان کو مہیا کی ، ایک طرح کی آب و ہوا سے ان کا گزر ہوا لیکن ان کے مزوں کو کس نے مختلف کردیا ، ان کی اجناس میں میٹھا ، پھیکا اور کھٹا کہاں رکھا تھا جو اپنے وقت پر آکر ظاہر ہوا اور جب تک تم نے ان کو اللہ کی عطا کردہ قوت ذائقہ کے سامنے پیش نہ کیا یہ فیصلہ نہ کرسکے کہ ان میں سے کون اچھا اور کون برا ہے ؟ لیکن اس قوت خداوندی کے ساتھ ٹچ ہوتے ہی تم نے منہ بسورنا شروع کردیا اور وہ فیصلہ جو تمہارے ہاتھ ، تمہارا دماغ اور تمہاری عقل و فکر اور نظرنہ کرسکی اس فیصلہ پر تم فوراً پہنچ گئے۔ ان ساری باتوں میں ربوبیت الٰہی کی سینکڑوں نشانیوں موجود تھیں لکن ان لوگوں کے لئے جو فکر کرنے کے عادی ہوتے ہیں۔ اب تم صرف ایک کھجور ، ایک دانہ زیتون اور ایک ہی انار کو لے لو اور اس طرح غور کرنا شروع کرو کہ اس کائنات کے اندر جو کچھ ہے اس نے اس ایک دانہ کے شروع سے لے کر پک کر تیار ہونے تک کتنا اہم کردار ادا کیا ہے اور کس ترتیب کے ساتھ ادا کیا۔ ہاں ! تمہارا سورج ، چاند ، ستارے ، بارش ، ہوا ، گرمی و سردی ، اندھیرا اور اجالا سب نے اپنا اپنا حصہ اس میں ڈالا تب جا کر وہ پک کر تیار ہوا لیکن تم نے ان ساری چیزوں کا حصہ ڈلوانے کے لئے کیا کیا ؟ کچھ نہیں تو پھر وہ کون ہے جس نے ایک خاص ترتیب کے ساتھ ان چیزوں کا اپنا حصہ ڈالنے کے لئے مجبور کردیا اور یہ ساری چیزیں اتنی قوی اور طاقتور ہونے کے باوجود اپنا اپنا حصہ دالنے پر مجبور محض بنا دی گئیں۔ بس وہی اللہ ہے جو اس پوری کائنات کا رب کہلاتا ہے اور سارے کام کا وہی اکیلا فاعل ہے وہی جود وحدہ لا شریک لا ذات کریمی ہے اور اس بات کا دوسری جگہ اس طرح ذکر فرمایا : ” اس پانی سے وہ تمہارے لیے کھیتیاں بھی پیدا کردیتا ہے نیز زیتون ، کھجور ، انگور اور ہر طرح کے پھل یقینا اس بات میں ان لوگوں کیلئے ایک نشانی ہے جو غور و فکر کرنے والے ہیں۔ “ (النحل 16 : 11) قرآن کریم میں آفاق والنفس کی بہت سی نشانیاں جو مختلف صورتوں اور مختلف اندازوں سے پیش کی گئی ہیں ان سے یہ ذہن نشین کرنا مقصود ہے کہ انسان اپنے وجود سے لے کر زمین و آسمان کے گوشے گوشے تک جدھر چاہے نظر دوڑا کر دیکھ لے ہرچیز قرآن کریم اور حدیث رسول کے بیان کی تصدیق کر رہی ہے اور کہیں سے بھی کسی شریک کی تائید نہیں ہوتی کہ فلاں اس کام میں اللہ کا شریک ہے۔ ایک حقیر بوند سے بولتا چالتا اور محبت و استدلال کرتا انسان بنا کھڑا کرنا۔ پھر اس کی ضرورت کے عین مطابق بہت سے جانور پیدا کرنا جن کے بال اور کھال ، خون اور دودھ ، گوشت اور بیٹ تک ہرچیز میں انسانی فطرت کے بہت سے مطالبات کا حتی کہ اس کے ذوق و جمال کی بھی مانگ کا جواب موجود ہے۔ یہ آسمان سے بارش کا انتظام اور یہ زمین میں ہر طرح کے پھلوں ، غلوں اور چاروں کی روئیدگی کا انتظام جس کیلئے بیشمار شعبے آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ جوڑ کھاتے چلے جاتے ہیں اور پھر انسان کی بھی فطری ضرورتوں کے عین ماظبق ہیں۔ یہ رات اور دن کی باقاعدہ آمدورفت اور یہ چاند ، سورج اور تاروں کی انتہائی منظم حرکات جن کا زمین کی پیداوار اور انسان کی مصلحتوں سے اتنا گہرا ربط ہے۔ اس زمین میں سمندروں کا وجود یا ان سمندروں میں زمین کا وجود اور اس طرح ان کے اندر انسان کی بہت سی طبعی اور جمال طلبیوں کا جواب۔ اس پانی کا چند مخصوص قوانین کا جکڑا ہوا ہونا اور پھر اس کے یہ فائدے کہ انسان سمندر جیسی ہولناک چیز کا سینہ چیرتا ہوا اس میں اپنے جہاز چلاتا ہے اور ایک ملک سے دوسرے ملک تک سفر اور تجارت کرتا پھرتا ہے۔ اس دھرتی کے سینے پر پہاڑوں کا ابھار اور پھر انسان کی ہستی کے لئے ان کے فائدے اس سطح زمین کی ساخت سے لے کر آسمان کی بلند سے بلند فضاؤں تک بیشمار علامتوں اور امتیازی نشانوں کا ایک پھیلاؤ اور پھر اس طرح ان کا انسان کے لئے مفید ہونا یہ ساری باتیں اور چیزیں صاف صاف شہادت دے رہی ہیں کہ ایک ہی ہستی نے یہ منصوبہ سوچا اور اس نے اس کو چلایا ہوا ہے۔ اس نے اپنی مرضی کے مطابق ان سب چیزوں کو ڈیزائن کیا ہے اور وہی ہر آن اس دنیا میں نت نئی چیزیں بنا بنا کر اس طرح لارہا ہے کہ اس کی مجموعی اسکیم اور اس کے نظم میں ذرا فرق نہیں آتا پھر ایک بیوقوف یا ہٹ دھرم کے سوا اور کون ہے جو یہ کہہ سکتا ہے کہ یہ سب ایک اتفاقی حادثہ ہے ؟
Ayah 6:100

وَ جَعَلُوْا لِلّٰهِ شُرَكَآءَ الْجِنَّ وَ خَلَقَهُمْ وَ خَرَقُوْا لَهٗ بَنِیْنَ وَ بَنٰتٍۭ بِغَیْرِ عِلْمٍ١ؕ سُبْحٰنَهٗ وَ تَعٰلٰى عَمَّا یَصِفُوْنَ۠ Open ayah 6:100 in the Quran reader

اور ان لوگوں نے اللہ کے ساتھ جنوں کو شریک ٹھہرا لیا ہے حالانکہ انہیں بھی اللہ ہی نے پیدا کیا ہے اور انہوں نے بغیر علم کی کسی روشنی کے اللہ کے لیے بیٹے اور بیٹیاں بھی تراش لی ہیں اللہ کی پاکیزگی ہو اس کی ذات تو ان تمام باتوں سے پاک اور بلند ہے جو یہ اس کی نسبت بیان کرتے ہیں

تعجب ہے کہ لوگوں نے سب کچھ دیکھنے کے بعد بھی اللہ کے ساتھ شریک ٹھہرائے : 153: مشرکین عرب کے معبودوں میں دیوتا کم تھے اور دیویاں زیادہ تھیں اور ان دیویوں کے متعلق ان کا عقیدہ یہ تھا کہ یہ خدا کی بیٹیاں ہیں اور اس طرح وہ فرشتوں کو بھی خدا کی بیٹیاں قرار دیتے تھے۔ روایات میں آیا ہے کہ قریش اور اس طرح کے دوسرے قبیلے مثلاً جہینہ ، بنی سلمہ ، خزاعہ اور بنی ملیح کا عقیدہ یہ تھا کہ ملا ئ کہ اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں ہیں اس کے لئے ان کے پاس کوئی دلیل ؟ مطلق نہیں اور واہیات عقیدوں پر دلیل ہو بھی کیا سکتی ہے ؟ جس طرح عقیدے گھڑ لئے جاتے ہیں اسی طرح ان کی دلیلیں بھی اور سب سے بڑی دلیل یہ ہوتی ہے کہ ہمارے آباء و اجداد ایسا کرتے آئے ہیں اور یہی دلیل عربوں کے پاس بھی تھی۔ قرآن کریم نے ان کی اس نامعقولیت کو پوری طرح بےنقاب کر کے رکھ دیا ہے۔ وہ کہتے تھے کہ فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں اور ان کے بت انہوں نے عورتوں کی شکل کے بنا رکھے تھے اس پر ان سے کئی بار پوچھا گا ے کہ اول تو تم نے یہ جاننے اور ماننے کے باوجود کہ زمین و آسمان کا خالق اللہ ہے اور اس زمین کو اس نے تمہارے لئے گہوارہ بنایا ہے اور وہی آسمان سے پانی برساتا ہے اور اسی نے یہ جانور تمہاری خدمت کے لئے پیدا کئے ہیں اس کے ساتھ دوسروں کو معبود بنایا حالانکہ جنہیں تم معبود بنا رہے ہو وہ خدا نہیں بلکہ خدا کے بندے ہیں پھر مزید غضب یہ ڈھایا کہ بعض بندوں کو صفات ہی نہیں بلکہ اللہ کی ذات میں بھی اس کا شریک بنا ڈالا اور یہ عقیدہ ایجاد کیا کہ وہ اللہ کی اولاد ہیں۔ اس پر بھی تم نے بس نہ کیا اور اللہ کے لیے وہ اولاد تجویز کی جسے تم خود اپنے لئے ننگ و عار سمجھتے ہو۔ بیٹی تمہارے گھر میں پیدا ہو تو تمہارا منہ کالا ہوجاتا ہے اور خون کا ساگھونٹ پی کر رہ جاتے ہو اور بعض اوقات زندہ بچیوں کو دفن کردیتے ہو اور بیٹے جو تمہارے نزدیک فخر کے قابل اولاد ہیں وہ تمہارے لئے مخصوص ہیں ؟ ابھی تمہارا دعویٰ یہ بھی ہے کہ ہم اللہ کو ماننے والے ہیں۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہ لیا جائے کہ اگر وہ بیٹیوں کی بجائے بیٹے قرار دیتے تو صحیح تھا۔ ہرگز نہیں وہ بھی اتنا ہی بڑا شرک ہے جتنا کی بیٹیاں قرار دینا یہ بات تو ان کے اپنے تقابل کی وجہ سے بیان کی گئی ورنہ جن لوگوں نے سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) اور سیدنا عزیر (علیہ السلام) کو اللہ کا بیٹا قرار دیا وہ بھی اسی طرح قابل مذمت قرار دیئے گئے جیسے بیٹیاں قرار دینے والے قابل مذمت ٹھہرے۔ یہ گمراہی دنیا کی ہر قوم میں پائی گئی ہے کہ انہوں نے یعنی ان کے علمائے سوء نے بہت عقائد خود کھڑے ہیں اور پھر انہیں عقائد کو اپنے مذہب کی بنیاد قرار دے دیا ہے اور یہ بات بھی کبھی تسلیم نہیں کی کہ یہ عقائد ہمارے گھڑے ہوئے ہیں بلکہ ان گھڑے ہوئے عقائد کو اپنے مذہب کے نام سے مشہور کردیا ہے اور آج لوگ وہی ان کا مذہب خیال کرتے ہیں اور یہی بات آج کل مسلمانوں کی ہے جو کسی سے پوشیدہ نہیں۔
Ayah 6:101

بَدِیْعُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ اَنّٰى یَكُوْنُ لَهٗ وَلَدٌ وَّ لَمْ تَكُنْ لَّهٗ صَاحِبَةٌ١ؕ وَ خَلَقَ كُلَّ شَیْءٍ١ۚ وَ هُوَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ Open ayah 6:101 in the Quran reader

وہ آسمانوں اور زمین کا موجد ہے یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ کوئی اس کا بیٹا ہو جبکہ کوئی اس کی بیوی نہیں ، اس نے تمام چیزیں پیدا کیں اور وہ ہرچیز کا علم رکھنے والا ہے ؟

وہ زمین و آسمان کا پیدا کرنے والا ہے ، اس کی اولاد کیسے ممکن ہے جب کہ اس کی کوئی بیوی نہیں : 154: بدیع وہ ہے جو بغیر کسی نمونہ اور بغیر کسی میٹریل کے کسی چیز کو پیدا کر دے اس لئے وہ صرف اور صرف اللہ ہی ہے اور اللہ کے سوا کوئی بدیع نہیں ہو سکتا۔ یہ اللہ تعالیٰ کی وہ صفت ہے جو ادنیٰ واعلیٰ کے لحاظ سے بھی کسی انسان یا کسی دوسری مخلوق میں نہیں پائی جاتی۔ ہرچیز کا وہ خود خالق ہے اور کوئی چیز بھی اس کی خالق نہیں۔ خالق و مخلوق کے ساتھ ایک اور صرف ایک رشتہ ہے اور وہ ہے بندگی کا رشتہ۔ فرزندی اور قرابت کوئی رشتہ اللہ اور اس کے بندے کے درمیان نہیں ہو سکتا۔ اس نے محض اپنی قدرت سے ہرچیز کو پیدا کردیا اسے کسی سہارا اور قرابت کی کوئی ضرورت نہیں اور وہ ہر طرح کے سہاروں سے مبرا اور پاک ہے اگر کوئی اپنی جہالت کے باعث کسی طرح کا عقیدہ اختیار کرلیتا ہے تو یہ اس عقیدہ گھڑنے والے کی اپنی رائے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے کسی کو اس طرح کی کوئی بات نہیں کہی جس سے یہ بات ثابت ہو کہ اللہ بھی کوئی اولاد رکھتا ہے خواہ اس نے جنی نہ ہو بلکہ کسی سے اولاد لے کر اس کو اپنا بیٹا بنا لیا ہو جیسا کہ عیسائیوں کا عقیدہ ہے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) اللہ کے بیٹے ہیں اور بعض یہود حضرت عزیز (علیہ السلام) کو اللہ کا بیٹا تصور کرتے تھے۔ اس طرح اولاد قراردینے والوں سے یہ سوال کہ بتاؤ اس کی بیوی کون ہے جس کے بطن سے اس کی یہ اولاد ہوئی اور پھر یہ کہ جب اس کی بیوی ہی نہیں تو اولاد کہاں سے آگئی۔ مشرکین نے ہر زمانے میں خدائی کا یہ تصور اختیار کیا ہے کہ انسانوں کی طرح خداؤں کی بھی کوئی جنس ہے جس کے بہت سے افراد ہیں اور ان میں شادی بیاہ اور توالد و تناسل کا سلسلہ چلتا ہے۔ اس جاہلانہ تصور سے انہوں نے اللہ رب العالمین کو بھی پاک اور بالاتر نہیں سمجھا اور اس کیلئے بھی اولاد تجویز کی۔ چناچہ اہل عرب کا یہ عقیدہ قرآن کریم میں بیان کیا گیا ہے کہ وہ فرشتوں کو اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں قرار دیتے تھے۔ انبیائے اسلام کی امتیں بھی اس جہالت سے محفوط نہ رہ سکیں۔ ان کے ہاں بھی کسی بزرگ انسان کو اللہ کا بیٹا قرار دینے کا عقیدہ پیدا ہوگیا ان مختلف تو ہمات میں دو قسم کے تصورات ہمیشہ خلط ملط ہوتے رہے۔ بعض لوگوں نے یہ سمجھا کہ جن کو وہ اللہ تعالیٰ کی اولاد قرار دے رہے ہیں وہ اس ذات پاک کی نسبی اولاد ہے اور بعض نے یہ دعویٰ کیا کہ جس کو وہ اللہ کا بیٹا کہہ رہے ہیں اسے اللہ نے اپنا متبنی بنایا ہے اگرچہ ان میں سے کسی کی یہ جرات نہ ہوئی کہ معاذاللہ کسی کو اللہ کا باپ قرار دیں لیکن ظاہر ہے کہ جب کسی ہستی کے متعلق یہ تصور کیا جائے کہ وہ توالد و تناسل سے پاک نہیں ہے اور اس کے بارے میں یہ خیال کیا جائے کہ وہ بھی انسان کی طرح اس قسم کی کوئی ہستی ہے جس کے ہاں اولاد پیدا ہوتی ہے اور جس کو لاولد ہونے کی صورت میں کسی کو بیٹا بنانے کی ضرورت پیش آتی ہے تو پھر انسانی ذہن اس گمان سے محفوظ نہیں رہ سکتا کہ اسے بھی کسی کی اولاد سمجھے۔ یہی وجہ ہے کہ جو سوالات رسول اللہ ﷺ سے پوچھے گئے تھے ان میں ایک سوال یہ تھا کہ اللہ کا نسب کیا ہے ؟ اور دوسرا یہ کہ کس سے اس نے دنیا کی میراث پائی ہے اور کون اس کے بعد وارث ہوگا ؟ ان جاہلانہ مفروضات کا اگر تجزیہ کیا جائے تو معلوم ہوجاتا ہے کہ منطقی طور پر ان کو فرض کرلینے سے کچھ اور چیزوں کو بھی فرض کرنا لازم آتا ہے۔ اول یہ کہ خدا ایک نہ ہو بلکہ خداؤں کی کوئی جنس ہو اور اس کے افراد خدائی کے اوصاف ، افعال اور اختیارات میں شریک ہوں یہ بات خدا کی صرف نسبی اولاد فرض کرلینے ہی سے لازم نہیں آتی بلکہ کسی کو متبنی فرض کرنے سے بھی لازم آتی ہے کیونکہ کسی کا متبنی لا محالہ اس کا ہم جنس ہی ہو سکتا ہے اور جب معاذ اللہ وہ خدا کا ہم جنس ہے تو اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ وہ خدائی کے اوصاف بھی رکھتا ہے۔ دوم یہ کہ اولاد کا کوئی تصور اس کے بغر نہیں کیا جاسکتا کہ نر و مادہ میں اتصال ہو اور کوئی مادہ باپ اور ماں کے جسم سے نکل کر بچے کی شکل اختیار کرے۔ پس اللہ کے لئے اولاد فرض کرنے سے لازم آتا ہے کہ معاذ اللہ وہ ایک مادی اور جسمانی وجود ہے۔ اس کی ہم جنس کوئی اس کی بیوی بھی ہو اور اس کے جسم سے کوئی مادہ بھی خارج ہو۔ سوم یہ کہ توالد و تناسل کا سلسلہ جہاں بھی ہے اس کی علت یہ ہے کہ افراد فانی ہوتے ہیں اور ان کی جنس کے باقی رہنے کے لئے ناگزیر ہوتا ہے کہ ان سے اولاد پیدا ہو جس سے ان کی نسل آگے چلے۔ پس اللہ کے لئے اولاد فرض کرنے سے یہ بھی لازم آتا ہے کہ وہ بذات خود معاذ اللہ فانی ہو اور باقی رہنے والی چیز خداؤں کی نسل ہو نہ کہ ذات خدا۔ نیز اس سے یہ بھی لازم آتا ہے کہ تمام فانی افراد کی طرح نعوذ باللہ خدا کی بھی کوئی ابتداء اور انتہا ہو کیونکہ توالد و تناسل پر جن اجناس کی بقاء کا انحصار ہوتا ہے ان کے افراد نہ اذلی ہوتے ہیں نہ ابدی۔ چہارم یہ کہ کسی کو متبنی بنانے کی غرض یہ ہوتی ہے کہ لاولد شخص اپنی زندگی میں کسی مددگار کا اور اپیف وفات کے بعد کسی وارث کا حاجت مند ہوتا ہے لہٰذا اللہ تعالیٰ کے لئے یہ فرض کرنا کہ اس نے کسی کو بیٹا بنایا ہے اس زات پاک کی طرف لازما وہی سب کمزوریاں منسوب کرنا ہے جو فانی اشخاص میں پائی جاتی ہیں۔ یہ سارا بیان تو اللہ تعالیٰ کی اولاد ہونے کی نفی میں تھا اور اللہ کی اولاد نہ ہونا حق ہے اس پر جتنے دلائل دیئے جائیں یقیناً وہ بھی ” حق “ ہی ہوں گے۔ لیکن جب ” اولاد “ کا کوئی تصور اس کے بغیر نہیں کیا جاسکتا کہ نر و مادہ میں اتصال ہو اور کوئی مادہ باپ اور ماں کے جسم سے نکل کر بچے کی شکل اختیار کرے “ تو وہ ولد کہلا سکتا ہے اور ظاہر ہے کہ جو ” قولد “ کہلائے وہ دو ہم جنس نر و مادہ کے اتصال ہی سے پیدا ہونا ضروری ہے جس میں ایک اس کی ماں اور دوسرا اس کا باپ کہلائے گا اور ان کے قسم سے ایک مادہ خارج ہو کر ہی اس کا جسم بننا لازم قرار پائے گا تب جا کر وہ ” ولد “ ہو سکے گا۔ اس طرح غور کرو کہ سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) ” ولد “ تھے یا نہیں ؟ قرآن کریم میں آپ کی زبان سے اعلان کرایا گیا کہ اے عیسیٰ تم خود اعلان کرو کہ میں ” ولد “ ہوں اس لئے کہ میں مریم کے ہاں ” ولد “ ہوا ہوں۔ مطلب صاف ہے کہ عیسیٰ علیہ اسلام ” ولد “ تھے اور آپ کے ولد ہونے کا ایک ثبوت تو آپ کی ماں مریم ہیں اور دوسرا ثبوت آپ کا باپ ہونا ضروری قرارپاتا ہے یا نہیں ؟ اللہ کے لئے اولاد ممکن نہیں ، کیوں ؟ اس لئے کہ اس کی کوئی بیوی نہیں ؟ اگر اللہ کی اولاد کوئی فرض کرتا ہے تو اس کے ذمہ لازم ہے کہ وہ ثابت کرے کہ کوئی اللہ کی بیوی بھی ہے۔ اگر وہ یہ نہ بتا سکے کہ اللہ کی کوئی بیوی ہے تو اس سے اللہ کی اولاد کی نفی خود بخود ہوجاتی ہے۔ دوسری طرف ” مولود “ موجود ہے یعنی عیسیٰ (علیہ السلام) اور اس کی ماں موجود ہے۔ مریم (علیہما السلام) اور مریم کا ہم جنس جو مریم کے (ولد) عیسیٰ کا باپ ہو اس سے انکار ہے اور پھر یہ انکار صرف زبان کی حد تک ہے کہ لوگوں میں یہ معروف کردیا ہے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) بغیر باپ کے پیدا ہوئے تھے اور علمائے کرام جانتے ہیں کہ اگر عوام کو وہ عقیدہ بتا دیا جائے جو حقیقت میں خواص یعنی علمائے کرام کا اپنا ہے تو عوام ہمارا جینا دو بھر کردیں گے۔ اس لئے عوام میں یہ مشہور کرنے ہی میں ان کی نجات ہے ورنہ ان کا اصل عقیدہ ہرگز ہرگز یہ نہیں ہے بلکہ ان کا عقیدہ عیسیٰ علیہ لسلام کے باپ ہونے کا ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ وہ باپ کو ہم جنس تسلیم نہیں کرتے۔ چناچہ مذکور ہے کہ : ” عربی زباب میں لفظ ولد کا حقیقی اطلاق جہاں کہیں بھی ہوتا ہے اس کے لئے اصلین کا ہونا ضروری ہے اور ولد کے لئے اگر اس کی ماں کی طرف نسبت ہو تو دوسرا اس کا باپ ہونا چاہئے۔ پس ولد کی ماں ولد کے باپ کے لئے صاجبہ یعنی بیوی ہوگی نیز ولد کے لئے ضروری ہے کہ وہ اصلنر کے مادہ سے منفک ہو کر ہو یعنی ولاد کے لئے اصلین کی ضرورت ہے اور مادہ منفک بھی لازم ہے۔ پس لفظ ولد کے معنی ہیں جزء خاص یعنی جس کی جزئیت میں دو شخصوں کو دخل ہو اور اس طرح لفظ ” ابن “ بھی عربی زبان میں حقیقی طور پر ولد کا مترادف ہے۔ اس کے اطلاق کے لئے بھی یہی شرائط ہیں چونکہ مسیح کو ابن مریم سے قرآن کریم میں تعبیر کیا گیا ہے اس کے لیے بھی اصلین کا ہونا ضروری ہے۔ ایک ان کی ماں مریم ، دوئم جبرئیل (علیہ السلام) جن کو دوسرے لفظوں میں روح القدس سے تعبیر کیا جاتا ہے جو حمل مسیح کا باعث ہوئے۔ “ (اثبات ِتوحید ص 19) ” اولاد کا کوئی تصور اس کے بغیر نہیں کیا جاسکتا کہ نر مادہ میں اتصال ہو اور کوئی مادہ باپ اور ماں کے جسم سے نکل کر بچے کی شکل اختیار کرے۔ “ (تفہیم القرآن جلد ششم) ” پس مسیح پر چونکہ ولد مریم کا اطلاق کرتے ہیں اس لئے ضروری ہیں کہ اس کی والدہ ہو اور وہ مریم ہے اور دوسرا اصل جس کے اتصال کے علاوہ مسیح نہ پیدا ہوا۔ ہم اہل السلام کے نزدیک جبرئیل ہے جسے دوسری جگہ قرآن مجید میں روح القدس سے تعبیر کیا جاتا ہے اور وہ بمنزلہ والد کے ہے۔ “ (اثبات توحید ص 45) علمائے السلام نے عیسیٰ (علیہ السلام) کا باپ تسلیم کیا یا نہیں ؟ یقیناً تسلمد کیا۔ کس کو ؟ جبرئیل (علیہ السلام) کو چونکہ جبرئیل (علیہ السلام) مریم کے ہم جنس نہیں تھے اس لئے عوام میں یہ مشہور کردیا کہ ” عیسیٰ (علیہ السلام) بغیر باپ کے پیدا ہوئے۔ “ مزید تشریح کے لئے تفسیر عروۃ الوثقیٰ جلد دوم سورة آل عمران کی آیت 46 تا 49 حاشیہ 110 تا 115 ملاحظہ کریں۔
Ayah 6:102

ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمْ١ۚ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ خَالِقُ كُلِّ شَیْءٍ فَاعْبُدُوْهُ١ۚ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ وَّكِیْلٌ Open ayah 6:102 in the Quran reader

یہی اللہ تمہارا پروردگار ہے کوئی معبود نہیں ہے مگر وہی ، (اس دنیا میں جتنی چیزیں ہیں) تمام چیزوں کا پیدا کرنے والا ہے ، سو دیکھو اس کی بندگی کرو ہرچیز اس کے حوالے ہے

اللہ ہی تمہارا پروردگار ہے اسکی بندہی تم پر لازم ہے : 155: دانے اور گٹھلی کو پھاڑ کر درخت اور پودے کی کو نپلیں نکالنے والا۔ زندہ کو مردہ ہے اور مردہ کو زندہ سے نکالنے والا۔ رات کا پردہ چاک کر کے صبح نمودار کرنے والا۔ سورج اور چاند کو اپنی اپنی گردش پر قائم رکھنے والا۔ ستاروں کے ذریعہ سے تم کو راہ دکھانے والا۔ سارے انسانون کو اکیلی جنس و جان سے نشو ونما دینے والا۔ تمہارے لئے مستقر اور مستودع ٹھکانے مقرر کرنے والا۔ آسمانوں سے پانی برسانے والا۔ پھر اس پانی کے ذریعہ روئیدگی پیدا کرنے والا۔ کھیتوں کو بار آور کرنے والا۔ کھجوروں کے خوشوں کو لٹکانے والا۔ انگوروں کے گچھوں کو میٹھے رس سے بھرنے والا۔ پھل دار درختوں کے پھلوں میں مختلف قسم کے مزے رکھنے والا۔ آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے والا۔ جس کانہ باپ نہ بیٹا ، نہ بیوی نہ بچے جس کی ابتداء نہ انتہا۔ وہی جس کا کوئی پیدا کرنے والا اور وہ سب کا پیدا کرنے والا ہے وہی تمہارا رب ہے۔ سو رشتہ عبودیت اس کے سوا کسی سے بھی جوڑنا خواہ وہ کوئی ہو اور خواہ وہ کون ہے درست نہیں۔ وہ اپنی ذات سے منفرد ہے اور خالق و کار ساز بھی ہرچیز کا ہی ایک ہے اور اس کے سوا کوئی دوسرا نہیں۔
Ayah 6:103

لَا تُدْرِكُهُ الْاَبْصَارُ١٘ وَ هُوَ یُدْرِكُ الْاَبْصَارَ١ۚ وَ هُوَ اللَّطِیْفُ الْخَبِیْرُ Open ayah 6:103 in the Quran reader

اسے نگاہیں پا نہیں سکتیں لیکن وہ تمام نگاہوں کو پا رہا ہے ، وہ بڑا ہی باریک بیں اور آگاہ ہے

اس کو نظریں نہیں گھیر سکتیں اور وہ ساری نظروں کو گھیرے ہوئے ہے : 156: یہ نگاہیں اس کی ذات کا احاطہ نہیں کرسکتیں۔ الادراک بمعنی الا حاطۃ والتحدید (قرطبی) ادراک کے معنی کسی چیز کو گھیر لینا ، اس کا احاطہ کرلینے کے ہیں اور ظاہر ہے کہ احاطہ صرف اس چیز ہی کا کیا جاسکتا ہے جو محدود ہو اور کسی خاص سمت میں پائی جاتی ہو اور ذات الٰہ نہ محدود ہے اور نہ کسی خاص جہت میں موجود ہے اس لئے اس کا احاطہ کرنا ممکن ہی نہیں۔ ذات الٰہ کے علاوہ دنیا کی ہرچیز خواہ وہ کتنی ہی بڑی کیوں نہ ہو اس کا کوئی گوشہ اللہ تعالیٰ کے علم محیط سے باہر نہیں ہو سکتا۔ اس چھوٹی سی آیت میں اللہ تعالیٰ کی دو مخصوص صفتوں کا بیان پوری تفصیل سے آگیا اور کوئی بات اس سلسلہ کی مبہم نہ رہی۔ اول یہ کہ ساری کائنات میں کسی کی نگاہ بلکہ سب کی نگاہیں مل کر بھی اللہ کی ذات کا احاطہ نہیں کرسکتیں۔ دوسری یہ کہ اس کی نظر ساری کائنات پر محیط ہے دنیا کا کوئی ذرہ اس سے چھپا ہوا نہیں۔ اس صفت میں بھی وہ یکتا ہے۔ ” ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر جہان کے سارے انسان ، جن ، فرشتے اور شیطان جب سے پیدا ہوئے اور جب تک پیدا ہوتے رہیں گے وہ سب کے سب مل کر ایک صف میں کھڑے ہوں تو سب مل کر بھی اس کی ذات کا اپنی نگاہ میں احاطہ نہیں کرسکتے۔ “ (ابن ابی حاتم) جب کہ نگاہ کو اللہ تعالیٰ نے ایسی قوت بخشی ہے کہ وہ دنیا کی ہر چھوٹی اور بڑی چیز کو دیکھ سکتی ہے اور اس ظاہری آنکھ سے نہ نظر آنے والی چیزوں کو دیکھنے کے لئے نہ کوئی آلہ تیار ہوا ہے اور نہ ہی آئندہ رہتی دنیا تک تیار ہو سکتا ہے۔ فکر کرو کہ آفتاب وماہتاب کتنے بڑے بڑے کڑے ہیں کہ اس ساری زمین اور ساری دنیا کی ان کے مقابلہ میں کوئی حیثیت نہیں ہے۔ اس کے باوجود ہر انسان بلکہ ایک چھوٹے سے چھوٹے جانور کی آنکھ بھی ان کو کر ؤں کو اس طرح دیکھتی ہے کہ نگاہ میں ان کا احاطہ ہوجاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ نگاہ تو انسانی حواس میں سے ایک حاسہ ہے جس سے صرف محسوس چیزیں دیکھی جاسکتی ہے اور محسوس چیزوں کا علم حاصل ہو سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی ذات اقدس تو عقل ووہم کے احاطہ سے بھی بالاتر ہے اس کا علم اس ہاسہ بصر سے ہرگز ہرگز ممکن نہیں۔ ؎ تو دل میں آتا ہے سمجھ میں نہیں آتا ۔ بس جان گیا میں تیری پہچان یہی ہے ہمارے مفسرین نے ” لن ترانی “ پڑھنے کے باوجود ” لن ترانیاں “ کی ہیں اور اس طرح کے قصے بیان کئے ہیں کہ فلاں نے فلاں جگہ اللہ تعالیٰ کو دیکھا اور اس بحث کو طول دیتے ہوئے وہ اس مقام پر پہنچے کہ ہمارے نبی اعظم و آخر ﷺ نے معراج کی رات اللہ تعالیٰ کو ان آنکھوں سے دیکھا تھا اور اس سلسلہ میں انہوں نے احادیث بھی نقل کی ہیں اور کہا ہے کہ ابوہریرہ ؓ اور ابن عباس ؓ کا یہی فرمان ہے اور اس نظریہ کے خلاف بھی سیدہ عائشہ ؓ اور بہت سے دوسرے صحابہ کرام ؓ کا نام لیا ہے جو رؤیت باری کے اس دنیا میں قائل نہیں تھے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ نبی اعظم وآخر ﷺ کے معراج کا واقعہ ہی جب اس جہان کے متعلق نہیں ہے جس کا تعلق ظاہری آنکھ سے ہے تو پھر اس بحث کا مطلب ہی کیا اور آخرت میں ایک دوسرا نظام ہے جس کے متعلق بحث بالکل بیکار ہے کیونکہ علم آخرت کی باتیں تو اس عالم دنیا میں تمثیل ہی کے لئے بیان کی جاتی ہیں ورنہ ان کی اصل حقیقت تو اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ اس لئے یہ سارا معاملہ ” ایمان بالغیب “ کا ہے۔ اس پر کوئی بحث ممکن ہوتی تو یہ ” ایمان بالغیب “ کیوں ہوتا ہے۔ یاد رہے کہ ” گویا کہ دیکھنا “ کبھی دیکھنا نہیں ہوتا بلکہ یہ تو صرف تفہیم کا ایک طریقہ ہے اور فی الواقعہ دیکھنے کی نفی ہے۔ اس لئے کسی کو ” کانک تراہ “ سے یہ غلط فہمی نہ ہونی چاہئے کہ اس دنیا میں اللہ کو دیکھنا ممکن ہے۔ قرآن کریم کی زیر نظر آیت اس کی واضح اور پختہ دلیل ہے۔
Ayah 6:104

قَدْ جَآءَكُمْ بَصَآئِرُ مِنْ رَّبِّكُمْ١ۚ فَمَنْ اَبْصَرَ فَلِنَفْسِهٖ١ۚ وَ مَنْ عَمِیَ فَعَلَیْهَا١ؕ وَ مَاۤ اَنَا عَلَیْكُمْ بِحَفِیْظٍ Open ayah 6:104 in the Quran reader

دیکھو تمہارے پروردگار کی طرف سے تمہارے پاس علم و دلیل کی روشنیاں آ چکی ہیں ، پس اب جو کوئی دیکھے تو خود اس کے لیے ہے اور جو کوئی اندھا ہوجائے تو اس کا وبال بھی اسی کے سر آئے گا اور میں تم پر کچھ پاسبان نہیں ہوں

علم و دلیل کی روشنی تمہارے پاس آچکی ہے لیکن اندھے پن کا علاج اللہ ہی کے پاس ہے : 157: بصائر بصیرت کی جمع ہے۔ بصیرت عقل و دانش اور اس قوت کو کہا گیا ہے جس کے ذریعہ انسان غیر محسوس چیزوں کا علم حاصل کرسکتا ہے اور اس جگہ اس سے مراد وہی روشن دلیلیں ہیں جو پیچھے سے ذکر ہوتی چلی آرہی ہیں اللہ تعالیٰ کی ربوبیت اور عبودیت کے دلائل۔ مطلب یہ ہے کہ تمہاری ہدایت اور راہنمائی کے لئے روشن دلیلیں بیان کی جا رہی ہیں اگر تم ان کی روشنی میں چلو گے تو اس میں تمہارا ذاتی فائدہ ہے کیونکہ اس طرح تم دین و دنیا کی عزتوں سے سرفراز کئے جاؤ گے اور اگر عقل و دانش کی آنکھیں بند رکھو گے تو تم خود ہی ہلاکت کے گڑھے میں گر کر تباہ و برباد ہوجاؤ گے اور اس طرح جو کچھ بگڑے گا وہ سراسر تمہارا ہی بگڑے گا ” وَ مَنْ عَمِیَ فَعَلَیْهَا 1ؕ“ جو اندھا بنا رہا ہے تو اس نے اپنا ہی نقصان کیا۔ غور کرو گے تو پالو گے کہ یہی وہ اندھا پن ہے جس کو دور کرنے کے لئے اللہ نے انبیائے کرام اس دنیا میں مبعوث کئے اور یہی وہ اندھا پن ہے جس کو نبیوں اور رسولوں نے باذن اللہ درست کیا اور اس سے اندھے بینا ہوگئے اور یہی وہ اندھے تھے جن کو سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) نے بھی باذن اہ بینا کیا لیکن لوگوں نے اپنے اندھے پن کے باعث اس حقیقت کو نہ سمجھا اور جس نے ان کو سمجھانے کی کوشش کی کفر کی لٹھ لے کر اس کے پیچھے لگ گئے اور کافر کافر کا شور مچایا۔ فرمایا : اے میرے رسول آپ ﷺ کہہ دیجئے کہ ” جو کوئی اندھا ہوجائے تو اس کا وبال اس کے سر آئے گا اور میں تم پر کچھ پاسبان نہیں ہوں۔ “ یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے تمہارے پاس حق بینی کے ذرائع اور وسائل پہنچ چکے ہیں وہ خود محمد رسول اللہ ﷺ ، قرآن کریم اور آپ ﷺ کے اخلاق ومعاملات اور تعلیمات سب حق بینی کے ذرائع ہیں جو شخص ان ذرائع سے کام لے کر صاحب بصیرت بن گیا وہ نفع میں رہا اور جو ان ذرائع کو چھوڑ کر حق سے اندھا رہا تو اس نے اپنا نقصان کیا۔
Ayah 6:105

وَ كَذٰلِكَ نُصَرِّفُ الْاٰیٰتِ وَ لِیَقُوْلُوْا دَرَسْتَ وَ لِنُبَیِّنَهٗ لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ Open ayah 6:105 in the Quran reader

اور دیکھو اس طرح ہم گوناگوں طریقوں سے آیتیں بیان کرتے ہیں اور تاکہ وہ بول اٹھیں تم نے پڑھ سنایا نیز اس لیے کہ جو لوگ جاننے والے ہیں ان کے لیے دلائل حق روشن کر دیں

تصریف آیات کے ذریعہ تو نے ان کو پڑھسنایا ، ماننا نہ ماننا ان کا کام ہے : 158: ایک ہی بات کو سو سو طریقوں سے بیان کیا گیا اور پھر مثالیں دے دے کر ان کو سمجھایا گیا اور ان لوگوں کو چاروں طرف سے دلائل و آیات بینات نے اسطرح گھیر لیا کہ وہ چار وناچار یہ کہنے پر مجبور ہوگئے اور بول اٹھے کہ ” آپ ﷺ نے خوب پڑھ سنایا۔ “ اگر ہم ان توحید کی دلیلوں کو ایک ہی بار بیان کر کے چھوڑ دیتے اور کوئی ان کو سن سکتا اور اور کوئی نہ سن سکتا ، کوئی سمجھ سکتا اور کوئی نہ سمجھ سکتا اور اگر ایک ہی آیت کا باربار تکرار کرتے تو شاید یہ لوگ اکتا جاتے۔ اس لئے ہم نے ایک ہی بات کو مختلف دلائل وبراہین میں اور مختلف رنگوں اور اسلوبوں سے بیان کیا تاکہ آپ ﷺ کے مخاطبین اول اور رہتی دنیا تک کے سارے لوگ اعتراف کرنے پر مجبور ہوجائیں کہ واقعی آپ ﷺ نے پوری طرح دلیلیں ہمیں پڑھ کر سنائیں اور اس طرح سنائیں کہ کوئی بات اب مبہم نہ رہی اور مختلف طریقوں سے سمجھا کر سمجھانے کا حق ادا کردیا تاہم جاننا اور سمجھنا ان ہی لوگوں کے لئے ہے جو جستجوئے علم رکھتے ہیں اور علم و بصیرت سے اندھے لوگوں کے لئے یہ سب کچھ کیا ہے ؟ بھینس کے سامنے بین بجانا۔ “
Ayah 6:106

اِتَّبِعْ مَاۤ اُوْحِیَ اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَ١ۚ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ وَ اَعْرِضْ عَنِ الْمُشْرِكِیْنَ Open ayah 6:106 in the Quran reader

تمہارے پروردگار کی طرف سے جو کچھ تم پر وحی کی گئی ہے تم اس کی پیروی کرو کہ کوئی معبود نہیں ہے مگر صرف اس کی ذات اور مشرکوں کو ان کے حال پر چھوڑ دو

مشرکوں کو ان کے حال پر چھوڑ کر آپ ﷺ اپنا کام کرتے جائیں : 159: مشرک کیوں مشرک ہیں ؟ اس لئے کہ کوئی ان کو سمجھانے والا نہیں ؟ آپ ﷺ کا تو کام ہی ان کو سمجھانا ہے اور آپ ﷺ نے سمجھانے کا حق بھی ادا کردیا اور آپ ﷺ سے زیادہ بہتر کوئی ان کو کیا سمجھائے گا ؟ اصل بات یہ ہے کہ مشرک محض اسلئے مشرک ہیں کہ وہ سنی کو ان سنی کر جاتے ہیں اور وہ کسی کی سننے کے لئے تیار نہیں۔ یہی لوگ ہیں جو بہرے ، گونگے اور اندھے ہیں اور حق کو سننے ، سمجھنے اور دیکھنے کے لئے تیار ہی نہیں۔ اس لئے آپ ﷺ ان کو ان کے حال پر چھوڑ کر اپنا کام کئے جائیں اور یقین جانیں کہ انہی بہروں ، گونگوں اور اندھوں میں وہ بھی ہیں جو باذن اللہ سننے والے ، سمجھنے والے ، بولنے والے اور دیکھنے والے ہیں۔ وہ خود بخود نکھر کر سامنے آجائیں گے اور صرف آپ ﷺ ہی نہیں ان کو ایک دنیا دیکھے گی۔ آپ ﷺ کا کام حق کے دلائل بیان کرنا ہے ، بس آپ ﷺ اپنا کام کرتے جائیں قبول کرنا نہ کرنا ان کا کام ہے۔ جو قبول کریں گے ان کا اپنا ہی فائدہ ہے اور جو ہٹ دھری اختیار کریں گے ان کا اپنا نقصان ہوگا۔ مشرکوں سے اعراض کرنا آپ ﷺ کے لئے کتنا ہی مشکل کیوں نہ ہو لیکن یہ لہو کے گھونٹ تو آپ ﷺ کو پینا ہی ہوں گے۔ نبی اعظم و آخر ﷺ پر یہ معاملہ کتنا ہی شاق اور کتنا مشکل تھا کہ کافر اور مشرک لوگ ہدایت کی طرف کیوں نہیں آتے ؟ اور وہ دوزخ کا ایندھن کیوں بن رہے ہیں ؟ یقیناً اس سے مشکل اور دکھ دہ بات آپ ﷺ کے لئے اور کوئی نہ تھی لیکن قانون الٰہی اتنی اٹل اور ان مٹ چیز ہے کہ اس کے سامنے ہرچیز ہیچ ہے۔ قرآن کریم نے دوسری جگہ آپ ﷺ کے ان لہو کے گھونٹوں کو اس طرح بیان کیا ہے : فَلَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ عَلٰۤى اٰثَارِهِمْ اِنْ لَّمْ یُؤْمِنُوْا بِهٰذَا الْحَدِیْثِ اَسَفًا 006 (الکہف 18 : 6) ” اے پیغمبر اسلام ! تیری حالت تو ایسی ہو رہی ہے کہ جب لوگ یہ بات بھی نہ مانیں تو عجب نہیں ان کے پیچھے مارے افسوس کے تو اپنی جان ہلاکت میں ڈال دے۔ “ یہ اشارہ ہے اس حالت کی طرف جس میں اس وقت نبی اعظم و آخر ﷺ مبتلا تھے۔ اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ آپ ﷺ کو رنج ان تکلیفوں کا نہ تھا جو آپ کو اور آپ ﷺ کے ساتھیوں کو دی جارہی تھیں بلکہ جو چیز آپ ﷺ کو اندر ہی اندر کھائے جا رہی تھی وہ یہی تھی کہ آپ ﷺ اپنی قوم کو گمراہی اور اخلاقی پستی سے نکالنا چاہتے تھے اور وہ کسی طرح نکلنے پر آمادہ نہیں تھے۔ آپ ﷺ کو یقین تھا کہ اس گمراہی کا لازمی نتیجہ تباہی اور عذاب الٰہی ہے۔ آپ ﷺ ان کو اس سے بچانے کیلئے اپنے دن اور راتیں ایک کئے جا رہے تھے مگر انہیں اصرار تھا کہ وہ خدا کے عذاب میں مبتلا ہو کر ہی رہیں گے۔ اپنی اس کیفیت کو نبی کریم ﷺ خود ایک حدیث میں اس طرح بیان فرماتے ہیں کہ : ” میری اور تم لوگوں کی مثال اس شخص کی سی ہے جس نے آگ جلائی روشنی کے لئے مگر پروانے ہیں کہ اس پر ٹوٹے پڑتے ہیں۔ جل جانے کے لئے۔ وہ کوشش کرتا ہے کہ یہ کسی طرح آگ سے بچیں مگر پروانے ہیں کہ اس کی ایک نہیں چلنے دیتے۔ ایسا ہی حال میرا ہے کہ میں تمہیں دامن پکڑ پکڑ کھینچ رہا ہوں اور تم ہو کہ آگ میں گرے پڑتے ہو۔ “ (بخاری و مسلم) اس مضمون کو تفصیل سے دیکھنا مطلوب ہو تو قرآن کریم کے ان مقامات کا مطالعہ کریں : (الشعراء 36 : 3) (یوسف 12 : 103) (النحل 16 : 37) (التوبہ 9 : 128)
Ayah 6:107

وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ مَاۤ اَشْرَكُوْا١ؕ وَ مَا جَعَلْنٰكَ عَلَیْهِمْ حَفِیْظًا١ۚ وَ مَاۤ اَنْتَ عَلَیْهِمْ بِوَكِیْلٍ Open ayah 6:107 in the Quran reader

اور اگر اللہ چاہتا تو یہ لوگ شرک نہ کرتے ، ہم نے تمہیں نہ تو ان پر پاسبان بنایا ہے ، نہ تمہارے حوالے ان کے ذمہ داری کی ہے

اللہ تعالیٰ لوگوں کو شرک نہ کرنے پر مجبور کرسکتا تھا ، آپ ﷺ ان کے ذمہ دار نہیں : 160: غور کریں کہ مخلوق خداوندی کی کتنی اقسام ہیں جو شمار کرنے سے شمار نہیں کی جاسکتی پھر ان سب کو مجبور محض پیدا کرنا مشیت الٰہی میں طے تھا اور وہی کچھ ہوا۔ کتنے کتنے بڑے حیوانات و نباتات آپ دیکھتے ہیں کیا ان سب میں کوئی شرک کا مرتکب ہوتا ہے ؟ نہیں۔ کیوں ؟ اس لئے کہ قانون قدرت نے انکو اختیار نہیں دیا لیکن اللہ کی مشیت انسان کے بارے میں یہ نہیں ہے کہ وہ حیوانات ونباتات اور ایسی ہی دوسری مخلوقات کی طرح اس کو بھی جبلی طور پر ایک لگے بندھے راستے کا پابند بنا دیتا ہے جس سے ہٹ کر وہ چل ہی نہ سکتا۔ اگر یہ اس کی مشیت ہوتی تو پھر دعوت ایمان ، بعثت انبیاء ، اور تنزیل کتب کی ضرورت ہی کیا تھی۔ سارے انسان مسلم ومؤمن ہی پیدا ہوتے اور کفر و عصیان کا سرے سے کوئی امکان ہی نہ ہوتا لیکن اللہ نے انسان کے بارے میں جو مشیت بنائی ہے وہ دراصل یہ ہے کہ اسکو انتخاب واختیار کی آزادی بخشی جائے اور اسے اپنی پسند کے مطابق مختلف راہوں پر چلنے کی قدرت دی جائے۔ اس کے سامنے جنت اور دوزخ دونوں کی راہیں کھول دی جائیں پھر ہر انسان اور ہر انسانی گروہ کو موقع دیا جائے کہ وہ ان میں سے جس راہ کو بھی اپنے لئے پسند کرے اور اس پر چل سکے تاکہ ہر ایک جو کچھ بھی پائے اپنی سعی و کسب کے نتیجہ میں پائے۔ پس جب وہ اسکیم جس کے تحت انسان پیدا کیا گیا ہے آزادی انتخاب اور اختیار کفر و ایمان کے اصول پر مبنی ہے تو یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ کوئی قوم خود تو بڑھنا چاہئے بدی کی راہ پر اور اللہ زبردستی اس کو خیر کے راستے پر موڑ دے۔ کوئی قوم خود اپنے انتخاب سے تو انسان سازی کے وہ کارخانے بنائے جو ایک سے ایک بڑھ کر بدکار اور ظالم اور فاسق و مشرک آدمی ڈھال ڈھال کر نکالیں اور اللہ اپنی براہ راست مداخلت سے اس کو وہ پیدائشی نیک انسان مہیا کرے جو اس کے بگڑے ہوئے سانچوں کو ٹھیک کردیں۔ اس قسم کی مداخلت اللہ کے دستور میں نہیں ہے۔ نیک ہوں یا بددونوں قسم کے آدمی ہر قوم کو خود ہی مہیا کرنے ہوں گے۔ جو قوم بحیثیت مجموعی بدی کی راہ کو پسند کرے گی جس میں سے کوئی معتدبہ گروہ ایسا نہ اٹھے گا جو نیکی کا جھنڈا بلند کرے اور جس نے اپنے اجتماعی نظام میں اس مرض کی گنجائش ہی نہ چھوڑی ہوگی کہ اصلاح کی کوششیں اس کے اندر پھل پھول سکیں۔ خدا کو کیا پڑی ہے کہ اس کو بزور نیک بنائے۔ وہ تو اس کو اس انجام کی طرف دھکیل دے گا جو اس نے خود اپنے لئے انتخاب کیا ہے۔ لابتہ خدا کی رحمت کی مستحق اگر کوئی قوم ہوسکتی ہے تو وہ صرف اور صرف وہ جس میں کچھ افراد ایسے نکلیں جو خود دعوت خیر کو لبیک کہنے والے ہوں اور جس نے اپنے اجتماعی نظام میں یہ صلاحیت باقی رہنے دی ہو کہ اصطلاح کی کوشش کرنے والے اس کے اندر کام کرسکیں۔ اس وقت ہم دیکھ رہے ہیں کہ ہر اس شخص کو اٹھا کر قوم سے باہر پھینک دیا جارہا ہے جس کے دل میں قوم کا درد معمولی سا بھی موجود ہے اور جماعتی زندگی میں صرف صرف ان لوگوں کی گنجائش رہ گئی ہے جو ایک سے ایک بڑھ کر بددیانت اور پست اخلاق ہیں۔ ” ہم نے آپ ﷺ کو نہ تو ان پر پاسبان بنایا ہے اور نہ تمہارے حوالے ان کی ذمہ داری ہے۔ “ اس کا مطلب یہ نہ سمجھ لیا جائے کہ نبی اعظم و آخر ﷺ لوگوں کو زبردستی مؤمن بنانا چاہتے تھے اور اللہ تعالیٰ آپ ﷺ کو ایسے کرنے سے روک رہا تھا۔ دراصل قرآن کریم میں ایسے فقروں میں وہی انداز بیان اختیار کیا گیا ہے جو اکثر مقامات پر موجود ہے کہ خطاب بظاہر نبی کریم ﷺ سے ہوتا ہے مگر اصل میں لوگوں کو وہ بات سنانا مقصود ہوتی ہے جو نبی کو خطاب کر کے فرمائی جاتی ہے اور یہ انداز بیان براہ راست مخاطبت سے زیادہ فصیح اور زیادہ موثر ہوتا ہے۔ یہاں جو کچھ کہنا مقصود ہے وہ یہ ہے کہ لوگو ! حجت اور دلیل سے ہدایت و ضلالت کا فرق کھول کر رکھ دینے اور راہ راست صاف صاف دکھا دینے کا جو حق تھا وہ تو ہمارے نبی و رسول نے پورا پورا ادا کردیا۔ اب اگر تم خود راست رد نہیں بننا چاہتے اور تمہارا سیدھی راہ پر آنا صرف اس پر موقوف ہے کہ کوئی تمہیں زبردستی راہ راست پر لائے تو تمہیں معلوم ہونا چاہئے کہ نبی کے سپرد یہ کام نہیں کیا گیا۔ ایسا جبری ایمان اگر اللہ کو منظور ہوتا تو اس کے لئے اس کو نبی و رسول بھیجنے کی ضرورت ہی کیا تھی ؟ یہ کام تو وہ خود جب چاہتا کرسکتا تھا۔ جب اس نے ایسا نہیں چاہا تو نبی اس کو کیسے کرسکتا ہے اور یہ بات بھی واضح ہے کہ نبی کسی کو ہدایت پر لگا دینے اور اس پر قائم رکھنے کا ذمہ دار نہیں۔