Ayah 6:72نماز قائم کرنے اور اللہ سے ڈرتے رہنے کی تلقین اور اس کی طرف لوٹ جانے کا یقین :
117: اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے کی عملی تصویر کیا ہے ؟ نماز کو قائم کرنا۔ زیر نظر آیت کا خطاب غائب سے بدل کر حاضر کردیا گیا جس میں براہ راست کرنے کا زور پیدا ہوگیا اور نماز دین اسلام کا اولین عملی مظہر ہے۔ قرآن کریم میں کسی ایک جگہ میں بھی یہ حکم نہیں کہ نماز پڑھا کرو بلکہ جب بھی فرمایا تو یہی کہ نماز قائم کرو اور اقامۃ الشئی تو قیۃ حقہ (راغب) نماز قائم کرنے کا مطلب یہ ہے کہ نماز کو تمام حقوق ظاہر میں اور باطن کے ساتھ ادا کرو۔ نماز کے ظاہری حقوق کیا ہیں ؟ ظاہری حقوق یہ ہیں کہ نماز سنت نبوی ﷺ کے مطابق ادا کی جائے اور تمام ارکان جو سنت ہیں ان کی حفاظت کی جائے اور نماز کے باطنی حقوق یہ ہیں کہ انسان جو نماز ادا کر رہا ہے وہ خشوع و خضوع میں ڈوبا ہوا ہو اور احسان کی کیفیت طاری ہو یعنی ” کانک تراہ “ کی پوری تصویر ہو اور نماز جو جو مطالبات پیش کرتی ہے وہ سب کے سب پورے کئے جائیں۔ اس لئے نماز کو رسول اللہ ﷺ نے اپنی آنکھوں کی ٹھنڈک ارشاد فرمایا اور یہ بھی کہ نماز دین کا ستون ہے اور مؤمن کی معراج بھی ورنہ
^ میرا قیام بھی حجاب میرا سجود بھی حجاب
تقویٰ کی حقیقت اس سے پہلے گئی ایک مقامات پر بیان کی جا چکی ہے اور خصوصاً سورة البقرہ کی دوسری آیت میں اسکی تشریح مل جائے گی اور اس جگہ مختصر اس طرح سمجھ لو کہ اپنے نفس کو ہرچیز سے محفوظ کرنا جس سے ضرر کا اندیشہ ہو بس اس کو عرف شرح میں تقویٰ کہتے ہیں اور یہ بھی کہ ہر گناہ سے اپنے آپ کو بچانا جس کو مختصر طریقہ سے اس طرح بیان کیا جاسکتا ہے کہ تیرا رب تجھے وہاں نہ دیکھے جہاں جانے سے اس نے تجھے روکا ہے اور اس مقام سے تجھے غیر حاضر نہ پائے جہاں حاضر ہونے کا اس نے تجھے حکم دیا ہے اور انجام کار اس ذات الٰہ کی طرف لوٹ کر جانا ہے جس نے اس کو پیدا کیا ہے اور اس کے سامنے ان اعمال کی جو ابدہی لازم ہے جو اس دار فانی میں کئے گئے۔
Ayah 6:73وہی ہے جو ساری کائنات کو کلمہ ” کن “ سے پیدا کرنے والا ہے جو غیب و شہادت کا جاننے والا ہے :
118: ” بالحق “ کا مادہ ح ق ق ہے حق کے اصل معنی مطابقت اور موافقت کے ہیں اور اسکا استعمال چار طرح پر ہوتا ہے (1) اس ذات کے لئے جو اپنی حکمت کے اقضاء کی بناء کسی شے کی ایجاد کرلے۔ اللہ تعالیٰ کو اس لئے ” مطلق “ کہا جاتا ہے جیسے ارشاد فرمایا : ” رُدُّوْۤا اِلَى اللّٰهِ مَوْلٰىهُمُ الْحَقِّ 1ؕ “ اور پھیرے جائیں گے اللہ کی طرف جو ان کا مالک حق ہے اور فَذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمُ الْحَقُّ 1ۚ ” سو یہی ہے اللہ تمہارا پروردگار حق “ (2) وہ چیز جو حکمت کے مقتضی کے مطابق ایجاد کی گئی ہو اس اعتبار سے کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے کل فعل حق ہیں جیسے ارشاد ہوا کہ : وَ ہُوَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بِالْحَقِّ 1ؕ ” وہ ذات جس نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو ساتھ حق کے ” ہُوَ الَّذِیْ جَعَلَ الشَّمْسَ ضِیَآءً وَّ الْقَمَرَ نُوْرًا وَّ قَدَّرَهٗ مَنَازِلَ لِتَعْلَمُوْا عَدَدَ السِّنِیْنَ وَ الْحِسَابَ 1ؕ مَا خَلَقَ اللّٰهُ ذٰلِكَ اِلَّا بِالْحَقِّ 1ۚ یُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ 005 “ وہی ہے جس نے بنا یا سورج کو روشن اور چاند کو اجالا اور اسکی منزلیں مقرر کیں تاکہ برسوں کی گنتی اور حساب معلوم کرو یہ سب کچھ اللہ نے نہیں بنایا مگر حق کے ساتھ۔ یعنی چونکہ سورج کی چمک چاند کی دمک اور اس کی منزلوں کا تقرر تاکہ برسوں کا حساب اور شمار معلوم ہو سکے یہ سب حکمت الٰہی کے مقتضی کے مطابق بنایا گیا ہے اس لئے سب حق ہے۔ (3) کسی چیز کے متعلق وہ اعتقاد رکھنا جو نفس الامر کے مطابق ہو جیسے ہم کہتے ہیں کہ فلاں کا اعتقاد حق ہے۔ ارشاد الٰہی ہے : فَهَدَى اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لِمَا اخْتَلَفُوْا فِیْهِ مِنَ الْحَقِّ بِاِذْنِهٖ 1ؕ ” اللہ تعالیٰ نے اپنے ارادہ سے ایمان والوں کو اس حق کی ہدایت فرمائی جس میں وہ جھگڑ رہے تھے۔ “ (4) وہ قول یا فعل جو اس طرح واقع ہو جس طرح پر کہ اس کا ہونا ضروری ہے اور اس مقدار اور اس وقت میں ہو کہ جس مقدار اور جس وقت میں اس کا ہونا واجب ہے چناچہ قول حق اور فعل حق اسی اعتبار سے کہا جاتا ہے جیسے ارشاد ہے کہ : وَ لٰكِنْ حَقَّ الْقَوْلُ مِنِّیْ لَاَمْلَـَٔنَّ جَهَنَّمَ ” لیکن یہ بات میری طرف سے ثابت ہوگئی کہ مجھ کو دوزخ بھرنی ہے۔ “ ان چار طرح کے استعمال میں بھی حق کے معنی مختلف ہو سکتے ہیں جو ان چاروں میں سے کسی کے ضمن میں آئیں گے اور اس طرح ” حق “ کے معنی بہت ہیں اور جو معنی جس جگہ اپنی مناسبت کے لحاظ سے فٹ ہوں گے وہی اس جگہ کے لئے مناسب ہوں گے اور بعض جگہ ایک ہی آیت میں ” حق “ کے معنی مختلف بھی مانے گئے اور سارے کے سارے درست ہیں اور لامحدود کو محدود نہیں کہا جاسکتا۔
زیر نظر آیت میں جو معنی نمبر 2 میں بیان ہوئے ہیں وہی مراد ہو سکتے ہیں جس سے قاری کے ذہن میں یہ مفہوم ڈالنا مقصود ہے کہ عبادت کے لائق تمہارے بےبس اور بےکس کسی معبودان باطل نہیں ہو سکتے اس لئے کہ وہ سب کے سب مخلوق ہیں بلکہ وہ ذات یکتا وبے ہمتا عبادت کے لائق ہے جو ان صفات کی مالک ہے جن کا ذکر ان آیات میں موجود ہے اور جو سب کا خالق حقیقی ہے۔ اس کا کوئی کام عبث و فضول نہیں۔ اس کی کوئی تخلیق بےمقصد نہیں اس وسیع و عریض کا ئنات کی کسی حقیر چیز پر غور کرو اس کی افادیت کا آپ کو احسان ہونے لگے گا کہ یہ انسانی زندگی کے لئے کتنی مفید چیز ہے۔ یہ مکھی اور مچھر جس کی تکلیف اور اذیت کے متعلق تم جانتے ہو اگر اس کی افادیت پر تم غور کرو گے تو یقیناً اس کی افادیت اس کی اذیت سے کئی گنا زیادہ ہوگی یہ بےڈھگا اور بدوضع پرند جس کو تم گدھ کے نام سے موسوم کرتے ہو نوع انسانی کا کتنا بڑا خدمت گزار ہے اگر یہ نہ ہوتا تو دنیا بھر کی میونسپل کمیٹیاں اور صحت کے ادارے ان مردہ جانوروں کو ٹھکانے لگانے سے عاجز آجاتے اور ان کی گلی سڑی بدبو دار لاشوں سے زندگی تلخ ہوجاتی۔ مختصر یہ کہ ایک حقیر سے حقیر چیونٹی سے لے کر ہاتھی تک اور ممولے سے لے کر عقاب تک جدھر بھی آپ فکر کی نگاہ ڈالیں گے آپ کو حکمت الٰہی کے جلوے سے نظر آئیں گے۔ اس جگہ چونکہ بات زمین و آسمان کی ہو رہی ہے اس لئے آپ کو ” بالحق “ کا مفہوم ایک مفکر کی زبان سے سنوادینا مناسب معلوم ہوتا ہے تاکہ مفکرین کے انداز سے آپ بھی اس پر غور کرسکیں۔ وہ مفکر لکھتے ہیں کہ :
” زمین اپنے محور پر ایک ہزار میل فی گھنٹہ کی رفتار سے چکر کاٹ رہی ہے اگر اسکی رفتار ایک ہزار میل کی بجائے ایک سو میل ہوتی تو دن اتنے لمبے ہوتے کہ سورج کی تپش تمام کھیتوں کو بھون کر رکھ دیتی اور راتیں اتنی لمبی اور سرد ہوتیں کہ زندگی کی اگر کچھ رمق سورج کی تپش سے بچ جاتی تو رات کی سردی اسے منجمد کر کے رکھ دیتی۔ سورج کا درجہ حرارت بارہ ہزار ڈگری فارن ہائیٹ ہے لیکن زمین کو اس سے اتنی مناسب دوری پر رکھ دیا گیا ہے کہ وہاں سورج کی حرارت اس قدر ہی پہنچتی ہے جو حیات بخش ہے۔ لیکن اگر سورج کا درجہ حرارت بارہ ہزار ڈگری کی بجائے چھ ہزار ڈگری ہوتا تو کرہ زمین برف کے نیچے دب جاتا ہے اور اگر اٹھارہ ہزار ڈگری ہوتا تو ساری زمین اس کی تمازت سے جل کر راکھ ہوجاتی ۔ زمین کا جھکاؤ 23 درجہ کا زاویہ بناتا ہے اور اسی جھکاؤ سے ہمارے موجودہ موسم مناسب دقفوں کے بعد باری باری آتے ہیں اگر اس میں یہ جھکاؤ نہ ہوتا تو سمندر سے اٹھنے والے بخارات جنوب اور شمال میں حرکت کرتے اور اتنی زور سے برف باری ہوتی کہ ساری زمین ڈھلک جاتی۔ اگر چاند کی دوری زمین سے اتنی نہ ہوتی جتنی اب ہے بلکہ صرف چار ہزار میل ہوتی تو سمندروں میں مدوجزر اس شدت سے آتا کہ پہاڑوں تک کو بھی بہا کرلے جاتا۔ اگر زمین کی سطح موجودہ سطح سے صرف دس فٹ زیادہ ہوتی تو یہاں آکسیجن ہی نہ ہوتی اور کوئی جانور زندہ نہ رہتا اور اگر سمندر چند فٹ اور گہرے ہوتے تو ساری کاربن ڈائی آکسائیڈ اور آکسیجن صرف ہوجاتی اور روئے زمین پر کوئی سبز پتہ نظر نہ آتا۔ اس حکیمانہ نظام پر غور کرنے سے ہم اس نتیجہ پر پہنچتے ہیں کہ کارخانہ ہست اتفاقاً معرض وجود میں نہیں آگیا بلکہ ایک حکیم ودانا خالق نے اس کی تخلیق فرمائی ہے ورنہ زندگی کا کوئی امکان نہ تھا۔ “ (اے۔ سی۔ مور۔ لسن۔ نیویارک پریڈ یڈنٹ سائنس اکیڈمی امریکہ)
اس اقتباس کو غور سے پڑھ کر غور و فکر کرنے والوں کے لئے جو نشانیاں رکھی گئی ہیں ان پر دھیان دو اور بتاؤ کہ سائنس اور قرآن دونوں کی کتنی مطابقت ہے کیوں ؟ اس لئے کہ قرآن کریم اس دانا و بینا کا کلام ہے جس دانا و بینا کا یہ ساری کا ئنات ایک ادنیٰ سا فعل ہے جس کو ہماری زبان میں ” کام “ کہتے ہیں اور یاد رکھو کہ اللہ کا کلام اور اللہ کا کام کبھی آپس میں مخالف نہیں ہو سکتے۔ یہی اس بات کی دلیل ہے کہ قرآن کریم ہی دنیا میں اللہ وحدہ لا شریک کا واحد کلام “ موجود ہے اور اس کائنات میں جو کچھ ہے وہ سب کا سب اس ذات واحد کے کلمہ ” کن “ کی کرشمہ سازیاں ہیں اس نے جس کے لئے ” کن “ کہا وہ ” فیکون “ ہوگیا اس کے اس کلمہ کن اور فیکون ہونے میں اگرچہ کروڑوں سال خرچ ہوئے یا ایک ساعت سے بھی کم وقت لگا اس لئے کہ وقت کی رفتار متعین کرنے والا اس وقت اللہ کا یہ شاہکار کہاں تھا ؟ ایک چیز کے متعلق جب تم کو سنایا جاتا ہے کہ یہ اللہ کے کلمہ ” کن “ سے پیدا ہوئی تو آپ اس خیال میں گم ہو کر رہ جاتے ہیں کہ گویا یہ ضابطہ الٰہی کے خلاف معرض وجود میں آگئی اور آپ کا دھیان اس طرف کیوں نہیں جاتا کہ اس کائنات میں وہ چیز ہی آخر کیا ہے جو کلمہ ” کن “ سے پید انہیں ہوئی یا نہیں ہوتی ؟ آپ زبان سے یہ فقرہ تو رٹ لیتے ہیں کہ ” اللہ سے سب کچھ ہونے کا یقین اور غیر اللہ سے کچھ نہ ہونے کا یقین ہمارے دلوں میں آجائے۔ “ پھر غیر اللہ سے کام کیوں کراتے ہو جو اللہ ہی کے کرنے کے ہیں۔ کاش کہ تم سمجھ لو کہ جو کچھ اس کائنات میں ہے وہ سب کا سب کلمہ ” کن “ سے ہے اور ” اذن الٰہی “ اور حکم ” کن “ دونوں ہم معنی ہیں ایک ہی چیز کو مختلف طریقوں سے بیان کیا گیا ہے تاکہ بات ذہن نشین جو جائے۔
اللہ کی بات پکی ہے وہ غیب وشہادت کا جاننے والا ہے اور حقیقی بادشاہی اسی کی ہے :
119: ” قَوْلُهُ الْحَقُّ 1ؕ“ بات اس کی پکی ہے کہ اس کا قول نہ خالی جاسکتا ہے نہ کسی کے ٹالے ٹل سکتا ہے ” لَهُ الْمُلْكُ “ کلمہ حصر ہے۔ یعنی حکومت صرف اس کی ہوگی اور کسی دوسرے کی نہیں ہوگی اور نہ ہی کوئی دوسرا اس کا دعویدار ہوگا۔ کب ؟ فرمایا جس دن صور پھونکا جائے گا یعنی قیامت کبریٰ کا اعلان ہوگا اور قیامت کا دن جو دراصل کشف حقائق کا دن ہوگا اس کی حکومت ظاہراً اور اعلاناً سب کو نظر آنے لگے گی گویا اس وقت جو پردے لوگوں کی آنکھوں پر پڑے ہیں اور حکومت الٰہی نظر نہیں آتی اور لوگوں کی طرف توجہ مبذول ہوجاتی ہے کہ یہ علاقہ فلاں کا حکومت کا ہے اور یہ علاقہ فلاں کے زیر تسلط ہے یہ پردہ بالکل اٹھ جائے گا اور یہ بات بالکل صاف ہوجائے گی۔ صور پھونکے جانے کا ہولناک منظر سب کی آنکھیں کھول دے گا۔ صور پونکنے کی صحیح کیفیت کیا ہوگی ؟ کتنا لمبا اور چوڑا ہوگا سب بچگانہ باتیں ہیں یا استہزاء و مذاق ہے کیونکہ مراد اس سے صرف یہ ہے کہ یہ نظام جو قائم ہے اس کے درہم برہم ہونے کی کیفیت و علامت ہے اور ازیں بعد دوبارہ نظام قائم کرنے کی علامت کے طور پر صور پھونکا جائے گا۔ ان دونوں کے درمیان کتنا وقفہ ہوگا ، کتنی مدت لگے گی ان فرضی سوالوں کا جواب نہ دینا کچھ نہ کچھ جواب دینے سے ہزار بار بہتر ہے اس لئے کہ اس کی کیفیت کو اس جگہ جانا نہیں جاسکتا کیونکہ یہ انسانی عقل کے احاطہ میں نہ آنے والی باتوں میں سے ایک بات ہے اور اس کو ایمان بالغیب کے نام سے قرآن کریم نے بیان کیا ہے جو ان دیکھی اور ان سمجھی باتوں میں سے ایک ہے۔ اس لئے ارشاد فرمایا کہ غیب و شہادت کا جانے والا اللہ تعالیٰ ہی ہے اور وہی اس کی اصل حقیقت سے آگا ہے۔ اللہ ہی کی وہ ذات ہے جو حکیم وخبیر ہے جس کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ اس کا ہر فیصلہ عدل و حکمت اور علم و خبر پر مبنی ہے نہ اس کے عدل و حکمت میں کوئی نقص ہے کہ وہ کسی باطل کو حق اور حق کو باطل بنا دے اور نہ ہی اس کے علم و خبر میں کوئی خطا ہے کہ لاعلمی اور بیخبر ی کے سبب سے کسی مغالطے میں پڑجائے یا کوئی اس کو مغالطہٰ میں ڈال کر حق کو باطل اور باطل کو حق بنا دے۔ ایسا ناممکن ہی نہیں بلکہ ممتنع ہے اور ایسا خیال سراسر جہل و گمراہی ہے۔
Ayah 6:74وہ وقت یاد کرو جب ابراہیم (علیہ السلام) اپنے باپ آزر کے معبود ان باطل سے بیزاری کا اظہار کر رہا تھا :
120: ابراہیم (علیہ السلام) ان انبیائے کرام (علیہ السلام) سے ہیں جن کی نبوت کا اقرار دنیا کی ساری بڑی قوموں کو ہے۔ عرب کے مشرک ہوں یا قوم یہود اور نصاریٰ سب کے سب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی عظمت و جلالت ، شان اور رسالت کے معترف تھے اور اہل عرب کو اس پر ناز تھا کہ وہ اس مقدس ہستی کی اولاد ہیں۔ اس لیے سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کے حالات پیش کر کے ان سب کو بتایا جا رہا ہے کہ تم عجیب قسم کے ستم ظریف ہو کہ جس کے نام سے تمہیں یہ ساری عزت اور سروری نصیب ہے ، جس کی نسل سے ہونے کو تم اپنے لئے عزت وافتخار سمجھتے ہو اس کے دین اور مقصد حیات سے تم بالکل بیگانگی اختیار کرچکے ہو بلکہ اس گمراہی کو اپنا دین بنا کر بیان کرتے ہو جس کو مٹانے کے لئے انہوں نے عمر بھر جہاد کیا۔ جن شخصیتوں کے بتوں کو انہوں نے زیرہ ریزہ کر کے پورے علاقہ میں اپنیے خلاف آگ کے الاؤ جلوا لئے تھے اور اس آگ میں جلنے کے لئے وہ تیار ہوگئے۔ آج تم پھر انہی شخصیتوں کے بتوں کو پوجنے والے ہو گیے اور جب ان کے لائے ہوئے دین حنیف کی طرف تم کو دعوت دی جاتی ہے تو تم خشم گئیں اور غضب ناک ہو کر اس دعوت دینے والے کے لئے ویسے ہی آتش کدے تیار کرتے ہو۔ تمہاری کھوپڑی بھی بڑی عجیب ہے کہ نام بھی ان کا لئے جاتے ہو اور کام بھی ان ہی کی تعلیم کے خلاف کرتے ہو اور انہی معبودان باطل کے سامنے سجدہ ریز ہو جن سے وہ ساری زندگی بیزار رہے اور جن کاموں کے لئے وہ کمر بستہ تھے ان کے قریب جانے کے لئے بھی تم تیار نہیں ہو۔
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا اصل کام دنیا کو اللہ کی اطاعت کی طرف بلانا اور اللہ کی طرف سے آئی ہوئی ہدایت کے مطابق انسانوں کی انفرادی اور اجتماعی زندگی کا نظام درست کرنا تھا۔ وہ خود اللہ کے مطیع تھے۔ اس کے دیئے ہوئے علم کی پیروی کرتے تھے۔ دنیا میں اس علم کو پھیلانے والے تھے اور کوشش کرتے تھے کہ سب انسان مالک کائنات کے مطیع و فرمانبردار ہو کر رہیں۔ یہی خدمت تھی جس کے لئے وہ دنیا کے امام و پیشوا بنائے گئے تھے۔ ان کے بعد یہ امامت کا منصب ان کی نسل کی اس شاخ کو ملا جو حضرت اسحٰق اور یعقوب سے چلی اور بنی اسرائیل کہلائی۔ اسی شاخ میں انبیائے کرام ہوتے رہے اور آج تم بنی اسرائیل کہلانے والے ہی اپنے محسن اعظم اور جدا امجد سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کے دین حنیف سے بیزاری کا اظہار کر رہے ہو اور پھر تعجب ہے کہ آج بھی تم انہی کا نام لئے جا رہے ہو اور اپنے آپ کو ابراہیمی کہلانے میں فخر محسوس کرتے ہو۔ یہ دوہری پوزش تم نے کہا سے حاصل کرلی کہ مخالفت میں بڑھ چڑھ کر حصہ بھی لو اور نام بھی انہیں کے لئے چلے جاؤ ؟ دیکھو اس وقت جو دنیا میں نبی اعظم و آخر ﷺ مبعوث ہوئے ہیں ان کا تعلق بھی ابراہیم (علیہ السلام) ہی سے ہے کل تک ہر آنے والا نبی بنی اسرائیل میں سے تھا اور آج یہ آخری نبی محمد رسول اللہ ﷺ کا تعلق بھی ابراہیم (علیہ السلام) ہی سے ہے۔ فرق کیا ہے ؟ صرف یہ کہ یہ بنی اسرائیل میں سے نہیں بلکہ بنی اسماعیل میں سے ہے جو ابراہیم (علیہ السلام) کے بڑے فرزند ارجمند اور ایک جلیل القدر نبی تھے۔ قرآن کریم نے ابراہیم (علیہ السلام) کے والد کا نام آزر بتایا ہے اور عربی توریت میں ان کا نام ” تارح “ ملتا ہے اور انگریزی میں اس کو تیرا ” terah “ اور تالمود میں تراء کا تلفظ ملتا ہے۔ جو لوگ علم اللسان کے مبادی سے بھی واقفیت رکھتے ہیں وہ جانتے ہیں کہ ایک ہی نام مختلف زبانوں میں جا جا کر کیسے کیسے عجیب تلفظ اختیار کرلیتا ہے۔ فلسطین کے قدیم مسیحی مورخ یوسیس (264 تا 340) کے ہاں ” آشر “ یا ” ہاتھر “ آیا ہے اور ان کی مشابہت و مماثلث آزرے سے بالکل ملتی جلتی ہے۔ قرآن کریم نے بڑی وضاحت سے آپ کے والد کا نام ” آزر ‘ ‘ لیا ہے لیکن کچھ گمراہ فرقے اپنے مخصوص عقائد کے تحفظ و پشت پناہی کی خاطر بڑی مدت سے یہ کہتے آرہے ہیں کہ ” آزر “ ابراہیم (علیہ السلام) کے والد کا نام نہیں بلکہ چچا کا نام تھا۔ لیکن ان میں سے کسی کے پاس بھی کوئی خاص دلیل موجود نہیں بلکہ بےپر کی ہانکے جا رہے ہیں۔ لیکن کوئی قوم جب کسی چیز کو عقیدہ میں داخل کرلیتی ہے تو وہ کتنی ہی بودی بات کیوں نہ ہو اس کو بیان کرتے ہی چلی جاتی ہے اور اس کے پاس سب سے بڑی دلیل یہی ہوتی ہے کہ یہ بات تو ہمارے باپ دادا بیان کرتے چلے آرہے ہیں اور وہ اس دلیل کو ہزاردلولاں سے بھی وزنی مانتے اور تصور کرتے ہیں جو انہوں نے اپنے باپ دادا سے سنی ہوتی ہے۔ ابراہیم (علیہ السلام) کا ذکر عروہ الوثقیٰ جلد اول تفسیر سورة البقرہ کی آیت 124 سے 136 تک بیان کیا گیا ہے وہاں سے ملاحظہ فرما لیں۔
Ayah 6:75حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اس معراج کا ذکر جس میں ان کو آسمانوں اور زمین کی سیر کرائی گئی :
121: زیر نظر آیت میں سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کی اس معراج کا بیان شروع ہوا جو آپ (علیہ السلام) نے نبوت پر فائز ہوتے ہی کرلی تھی اور آپ ﷺ کو دوسرے انبیائے کرام (علیہ السلام) کی طرح آسمان و زمین کی سیر کرادی گئی جس سے آپ (علیہ السلام) کا ذہن اور فکر اس قدر کھل گیا کہ آپ ہرچیز کی حقیقت پر غور کرنے لگے اور آسمان و دنیا و مافہیا میں جو کچھ ہے اس سے اللہ کی وحدانیت آپ (علیہ السلام) کو دکھائی دینے لگی اور سارے حجاب کھول دیئے گئے اور آپ (علیہ السلام) نے سب کچھ بصیرت کی آنکھ سے اس طرح روشن دیکھا جیسے بصارت کی آنکھ کسی چیز کا مشاہدہ کرتی ہے اور بصیرت کی آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے وہ بصارت سے اتنا صاف اور اتنا اور اتنا واضح نظر نہیں آتا ، کیوں ؟ اس لئے کہ مشاہدہ میں غلطی کا امکان ہے اور بصیرت میں وہ امکان نہیں ہوتا اس لئے بصیرت کا دیکھنا بصارت کے دیکھنے سے بہر حال قوی اور مبراعن الخطا ہوتا ہے۔ انبیائے کرام (علیہ السلام) کی زندگی کے سارے واقعات اس پر شاہد ہیں جو انہوں نے اس زندگی میں بطبر نصیرت دیکھے اور الٰہی فیضان نے ان کو دکھائے۔
امام رازی (رح) فرماتے ہیں کہ جلال خداوندی کے انوار و تجلیات ہر لمحہ ضوافشاں ہیں لیکن عام انسانی روح کسی نہ کسی حجاب کے باعث ان کے مشاہدے سے محروم رہتی ہے جیسے جیسے کسی کا حجاب ہٹتا ہے ویسے ہی انوار کا مشاہدہ شروع ہوجاتا ہے۔ سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) نے حکم الٰہی اور طاقت خداوندی سے جب تمام حجابات کو تار تار کردیا اور انوار الٰہی کے مشاہدوں میں کوئی آڑ باقی نہ رہی تو زمین و آسمان کی بےکراں وسعتوں میں قدرت خداوندی کے جو اسرار تھے سب آپ پر ظاہر ہوگئے اور بصیرت ابراہیمی (علیہ السلام) پر ہرچیز منکشف کردی گئی۔ (کبیر)
قرآن کریم کے بیان کے مطابق جب اس جلیل القدر ہستی پر اللہ تعالیٰ کے جود و کرم اور عطا و نوال کا فیضان بےغایت و بےنیایت سرعت رفتار کے ساتھ ہو رہا تھا تو اسکا نتیجہ یہ نکلا کہ اس نے انبیاء (علیہم السلام) کی صف میں نمایاں جگہ پائی اور اس کی دعوت و تبلیغ کا محور و مرکز ” دین حنیف “ قرار دیا۔ اس نے جب یہ دیکھا کہ قوم شخصیت پرست کے نتیجہ میں بت پرستی ، ستارہ پرستی ، چاند پرستی ، سورج پرستی بلکہ مظاہر پرستی میں اس قدر منہمک ہے کہ خدائے برتر کی قدرت مطلقہ اور اس کی احدیث صمدیت کا تصور بھی ان کے قلوب میں باقی نہیں رہا اور ان کے لئے اللہ کی وحدانیت کے عقیدہ سے زیادہ کوئی اچنبھے کی بات نہیں رہی تب اس نے کمر ہمت چست کی اور ذات واحد کے بھروسہ پر ان کے سامنے دین حق کا پیغام رکھا اور اعلان کیا کہ اے قوم ! یہ کیا ہے جو میں دیکھ رہا ہوں کہ تم اپنے ہاتھ سے بنائے ہوئے بتوں کی پرستش میں مشغول ہو حالانکہ جن لوگوں کے تم نے یہ بات بنائے ہیں وہ خود بھی ان چیزوں سے بیزار تھے تم کس قدر خواب غفلت میں ہو کہ بےجان لکڑی اور پتھر کو اپنے آلات سے گھڑکر مجسمے تیار کرتے ہو حالانکہ جن کے تم یہ مجسمے تیار کرتے ہو وہ اپنے جسموں کی حفاظت بھی نہ کرسکے پھر انہی کی تم پرستش کرتے ہو جن کے یہ بت بنا کر رکھ لئے ہیں کیا وہ مخلوق نہیں تھے ؟ اور کبھی مخلوق بھی خالق و رازق ہو سکتی ہے ؟ تم اس خرافات سے باز آؤ اور اللہ کی توحید کے نغمے گاؤ اور اسی ایک مالک حقیقی کے سامنے سر نیاز جھکاؤ جو میرا ، تمہارا اور کل کائنات کا خالق ومالک ہے۔
مگر قوم نے اس کی آواز پر مطلق کان نہ دھرا اور چونکہ گوش حق نیوش اور نگاہ حق بیں سے محروم تھی اس لئے اس نے جلیل القدر پیغمبر کی دعوت حق کا مذاق اڑایا اور زیادہ سے زیادہ تمردو سرکشی کا مظاہرہ کیا۔ ابراہیم (علیہ السلام) دیکھ رہے تھے کہ شرک کا سب سے بڑا مرکز خود ان کے اپنے گھر میں قائم ہے اور آزر کی بت سازی وبت پرست پوری قوم کے لئے مرجع و محور بنی ہوئی ہے اسلئے فطرت کا تقاضا ہے کہ دعوت حق اور پیغام صداقت کے ادائے فرض کی ابتداء گھر ہی ہونی چاہئے۔ اس لئے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے سب سے پہلے اپنے والد آزرہی کو مخاطب کیا اور فرمایا : اے باپ ! خدا پرستی اور معرفت الٰہی کے لئے جو راستہ تو نے اختیار کیا ہے اور جس کو آباء و اجداد کا قایم راستہ بتلاتا ہے یہ سراسر گمراہی ہے اور باطل پرستی کی راہ ہے اور صراط مستقیم اور راہ حق صرف وہی ہے جس کی دعوت میں دے رہا ہوں ، اے باپ ! توحید ہی سرچشمہ ہدایت ہے یہ کس بات کا نتیجہ تھا ؟ قرآن کریم کہتا ہے کہ ” ملکوت السموار والارض “ کی سیر روحانی کا جو ابراہیم (علیہ السلام) کو کرائی گئی تھی۔ ابراہیم (علیہ السلام) کی اس تبلیغ کا باپ پر ذرا بھی اثر نہ ہوا لیکن آپ نے باپ کی سختی کا جواب مطلق سختی سے نہیں دیا اور نہ ہی تحقیر و تذلیل کا رویہ استعمال کیا بلکہ نرمی اور ملاطت اور اخلاق کریمانہ کے ساتھ پیش آتے رہے۔
باپ اور بیٹے کے درمیان جب اتفاق کی کوئی صورت نہ بنی اور آزرنے کسی طرح ابراہیم (علیہ السلام) کی رشد و ہدایت کو قبول نہ کیا تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے آزر سے تبلیغ کا منہ موڑ کر اپنی دعوت حق اور پیغام رسالت کو وسیع کردیا اور اب صرف آزر ہی مخاطب نہ رہا بلکہ پوری قوم کو مخاطب بنا لیا مگر قوم اپنے باپ دادا کے دین کو کب چھوڑنے والی تھی اس نے بھی ابراہیم (علیہ السلام) کی ایک نہ سنی اور دعوت حق کے سامنے اپنے باطل معبودوں کی طرح اندھے ، بہرے اور گونگے بن گئے۔ ان کے کان موجود تھے مگر حق کی آوزا کے لئے بہرے تھے۔ پتلیاں آنکھوں کے حلقوں میں زندہ انسانوں کی آنکھوں کی طرح حرکت ضرور کرتی تھیں مگر حق کی بصارت سے محروم تھیں۔ زبان گویا ضرور تھی لیکن کلمہ حق کے اعتبار سے گنگ تھی۔
ا س مشاہدہ ٔ بصیرت اور سیر روحانی کے بعد سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) نے قوم کے سارے شخصیت پرستوں ، بت پرستوں ، ستارہ پرستوں ، چاند پرستوں اور سورج پرستوں اور مظاہر پرستوں کے خلاف اعلان جنگ کردیا ، یہ اعلان کیا تھا ؟ یہی کہ سارے کے سارے مل کر بھی میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ اس طرح آپ کی تبلیغ اب صرف اپنے والد تک محدود نہ رہی بلکہ قوم کے ہر فرد کو مخاطب کرلیا گیا ان کے آپس کے سینکڑوں اختلاف تھے وہ ستارہ پرست اپنے دلائل پیش کرتے اور چاند پرست اپنے دلائل بیان کرتے اور اس طرح سورج پرست اپنے دلائل ان کے سامنے رکھتے اور ان کے دلائل رد کرنے کی کوشش میں مصروف رہتے۔ اللہ کے بندے نے جب سب کو مخاطب کرلیا تو وہ سب مل کر سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کے مقابلہ میں اکٹھے ہوگئے۔ آپ نے بھی اس اکٹھ اور اجتماع کی کوئی حقیقت نہ سمجھی اور ان سب کو دعوت دی کہ تم باری باری اپنے دلائل دے سکتے اور میرے دلائل سن سکتے ہو تو آجاؤ اور ایک ایک کر کے اپنے بازو آزمائے جاؤ ۔ قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ سب سے پہلے آپ کے مقابلہ کے لئے ستارہ پرستوں نے ہمت باندھی اور وہی مقابلہ پر اترے۔ لیکن قرآن کریم نے ان سب کا مختصر ذکر علی الرتیب کردیا اور ایک ہی نشت میں ان سب کے سوال و جواب کو بیان کردیا اور سب کی طرف اشارات کردیئے کہ ان کے پاس کوئی وزنی دلیل ان کی پرستش کی نہ تھی اس لئے وہ زیادہ دیر تک سوال و جواب کا سلسلہ قائم نہ رکھ سکے اور پہلے ہی جواب میں چت ہوتے چلے گئے۔ اب ان سوال و جواب کا ذکر کیا جاتا ہے۔
Ayah 6:76ستارہ پرستوں کے ساتھ ابراہیم (علیہ السلام) کی نشیت جس میں وہ کوئی دلیل نہ دے سکے :
122: جیسا کہ پیچھے ذکر کیا جا چکا ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی قوم شخصیت پرست تھی جس کے نتیجہ میں بت پرستی پیدا ہوتی ہے اور اس کے ساتھ وہ کو اکب پرستی بھی کرتی تھی اور ان کا عقیدہ یہ تھا کہ انسانوں کی موت وحیات ، ان کا رزق ، ان کا نفع و ضرر ، خشک سالی اور قحط سالی ، فتح وظفر اور شکست و ہزیمت غرض کہ تمام کارخانہ عالم کا نسظم و سنق کو کو اکب اور ان کی حرکات و سکنات کی تاثیر پر چل رہا ہے اور یہ تاثر ان کے ذاتی اوصاف میں سے ہے اور یہ ستارہ دوسرے ستاروں کا ستارہ ہے اور اس کی حرکت کے ساتھ دوسرے ستاروں کی حرکت باندھ دی گئی ہے اس لئے اس کی خوشنودی ضروری ہے جو اس کی پرستش کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ ابراہیم (علیہ السلام) نے جس طرح ان کے سفلی معبودان باطل کی بےثباتی اور فنا کے منظر کو بھی ان کے سامنے واضح طور پر بیان کر دیاجائے۔ آپ نے سب سے پہلے ستارہ پرستوں کو مخاطب فرمایا اور یہ اس طرح ہوا کہ تاروں بھری رات تھی اور ان میں ایک ستارہ مثلاً زہرہ خوب روشن تھا آپ کا وعظ جاری تھا اور جس مقصد کے لئے آپ نے رات کا وقت وعظ کے لئے پسند کیا اس کا موقع خوب میسر آگیا تو سیدنا ابراہیم علیہ نے اس کو دیکھ کر لوگوں کو اسکی طرف مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ ” کیا یہ میرا رب ہے ؟ “ استفہام انکاری کی صورت میں ان سے دریافت کیا اور اس طرح کے سوال کرنے میں جو لطف آتا ہے اور جو طریق تفہیم ظاہر ہوتا ہے وہ اس مجلس کے لوگ ہی سمجھ سکتے ہو جس میں اس طرح کا بیان ہو رہا ہو گویا انہی موقعوں کے لئے محاورہ بولا جاتا ہے کہ ” دیدہ کے بود شندجہ “ ستارہ اپنی پوری تمازت کے ساتھ رواں دواں ہے اور خدائی واعظ نے اسکی طرف توجہ دلائی ہے اور اس طرح توحید الٰہی کا وہ وعظ جاری ہے جو وعظ ایک اللہ کا نبی و رسول کائنات کی ایک ایک چیز کو توحید کی دلیل میں پیش کرتا جا رہا ہے اور ہرچیز سے یہ کہلوارہا ہے کہ یہ چیز تو پکار پکار کر توحید الٰہی کو بیان کر رہی ہے بشرطیکہ کوئی بینا آنکھ بھی رکھتا ہو جوا س کو دیکھ سکے۔ وعظ کرتے کرتے پھر اس ستارہ کی طرف مضمون کو پھیرتا ہے وہ ایساوقت ہے کہ ستارہ صاحب اپنی گردش کے پردہ میں لوگوں کی نظروں سے غائب ہوچکے ہیں۔ دلیل کو ستارہ کی طرف پھیرتے ہوئے قوم سے گویا ہوتے ہیں کہ لوگوں کیا یہ ستارہ بڑا مدد گار ہے ؟ ذرا غور سے دیکھو کہ وہ اب بھی کہیں نظر آتا ہے ؟ کہاں سے وہ نظر آئے اب تو وہ کل ہی اپنے وقت پر نظر آسکتا ہے اسی مجلس میں تو وہ دوبارہ چمک دمک نہیں دکھا سکتا۔ اب بڑے وثوق سے اللہ کا رسول اس طرح استشہاد فرماتا ہے کہ لوگو ! غور کرو ، جو خود ڈوب جانے والے ہوں اور اس ڈوبنے اور نظر آنے میں کسی دوسرے کے محتاج ہوں بھلا وہ بھی کبھی رب اور الٰہ کہلا سکتے ہیں۔ وہ تو خود محتاج ہے اور کسی با اختیار رو کے بندھن میں بندھا ہوا ہے اور وہی اس کو اپنے قائم کردہ نظام اور قانوں کے مطابق لاتا ہے اور اسی طرح اپنے قانون کے مطابق لاتا ہے اور اسی طرح اپنے ایندھن کے مطابق لے جاتا ہے۔ تم کتنے سادہ لوح اور کند ذہن ہو کہ اتنی عقل بھی نہیں رکھتے اور پھر تمہاری انگلی پکڑ کر حقیقت پر رکھی جاتی ہے لیکن تم ہو کہ ذرا ٹس سے مس نہیں ہوتے۔
Ayah 6:77چاند پرستوں کو چاند سے استشہاد فرماتے ہوئے ثابت کر دکھایا کہ یہ بھی رب نہیں ہو سکتا :
123: جس طرح ستارہ پرستوں کو یہ بات ثابت کر دکھائی کہ یہ گردش جس سے تم نے غلطی سے یہ سمجھ لیا کہ انسانوں کی زندگیوں کے ساتھ اس کا کوئی گہرا تعلق ہے جس طرح آج بھی رمال اور جوتشی لوگوں کو کہتے پھرتے ہیں کہ تیرا ستارہ گردش میں ہے اس سے نکلنے کے لئے ایسا کرو اور ایسا کرو اس طرح چاند کی پرستش کرنے والے اور اوہام میں چاند کو رب تصور کرنے کے لئے نہ معلوم کیا کیا دلائل اپنے ذہن و دماغ میں رکھتے ہیں۔ بہر حال ایک روز موقع دیکھ کر کہ چاند اپنی پوری آب وتاب کے ساتھ روشن ہے لیکن عنقریب وہ وقت بھی آنیوالا ہے کہ یہ غروب ہوجائے گا جیسے چھٹی ، ساتویں رات کا چند آپ نے توحید الٰہی کے دلائل بیان کرنے شروع کئے اور قوم کو اللہ کی وحدانیت کو نشاندہی کی طرف توجہ دلاتے رہے کہ اچانک چاند کی پرستش کرنیوالوں کو مخاطب فرما کر استفہاماً پوچھنے لگے کہ ” کیا یہ میرا رب ہو سکتا ہے ؟ “ جیسا کہ تم اس کو رب مانتے ہو اور مجھے بھی یہ کہتے ہو کہ یہ مظہر قدرت ہے اس کی پرستش اسلئے ضروری ہے کہ اگر یہ نہ ہوتاتو ہماری فصلیں کیسے پکتیں اس طرح آپ کا بیان جا ری رہا اور وہ وقت بھی قریب آتا گیا کہ چاند غروب ہوجائے آپ کی نظر کائنات کی ایک ایک چیز پر پڑتی جا رہی تھی اور آپ ان ساری چیزوں سے توحید الٰہی کی نشانیوں کی وضاحت فرما رہے تھے کہ اچانک آپ نے پھر چاند کی طرف لوگوں کی توجہ مبذول کرائی اور فرمایا کہ لوگو اب دیکھو وہ چاند جس کو تم رب کہتے ہو وہ کہاں گیا ؟ مانتے ہو کہ وہ غروب ہوگیا اور کیا کوئی ہے جو اس چاند کو واپس لوٹا لائے۔ آوازیں دے دے کر اس کو بلاؤ کیا وہ پھر واپس آجائے گا ؟ نہیں تو تم ایسے بےبس کو رب کیسے تسلیم کرنے لگے ؟ وہ تو خود محتاج ہے اور کسی کے بندھن میں بندھا ہوا ہے اس کو اپنے وجود پر کنٹروں حاصل نہیں جب وہ خود غروب ہوچکا ہے اور اس طرح طلوع ہونے اور غروب ہونے کا پابند ہے تو وہ تمہارا رب کیسے ہو سکتا ہے ؟ اچھا تم جو کہو سو کہو میں تو ایسے غروب ہونیوالوں کو رب ماننے سے رہا۔ تمہارا فرض ہے کہ اس کے رب ہونے کی کوئی دلیل پیش کرو جو تم قیامت تک پیش نہیں کرسکتے۔ فرمایا لوگوں اگر میرا پروردگار میری راہنمائی نہ کرتا تو میں بھی ضرور گمراہ قوم ہی میں سے ایک فرد ہوتا۔ “ اس پر آپ نے اپنا وعظ ختم فرمایا جس کی قسمت میں ماننا اور تسلیم کرنا تھا اس نے مانا اور جن کے دلوں پر تالے پڑچکے تھے ان پر ذرا بھی اثر نہ ہوا۔ نہ دلیل دے سکے اور نہ ہی حق بات کو تسلیم کرسکے۔
Ayah 6:78ایک روز سورج کی پرستش کرنے والوں کو آپ نے مخاطب کرلیا اور پوچھا کہ کیا یہ میرا رب ہے ؟ :
124: آپ کا یہ وعظ تو ساری قوم کے خلاف روزانہ جاری تھا۔ جہاں موقعہ ملا اور لوگوں کا اجتماع دیکھا تبلیغ شروع کردی اور جو سامنے آیا اس کی تفہیم کی کوشش کی۔ ستارہ کی پرستش کرنے والوں کو مخاطب کرچکے تھے اور اسی طرح چاند کی پرستش کرنے والوں کو بھی مسکت جواب سنا چکے تھے کہ ایک روز آفتاب عالمتاب کا رخ روشن سامنے آیا سورج نکل آیا اور وہ اپنی پوری آب و تاب سے چمکنے لگا اور اس طرح ابھی سورج روشن ہی تھا کہ آپ کا وعظ وبیان شروع ہوگیا اور حسب سابق کائنات کی ہرچیز کو توحید الٰہی کی دلیل ثابت کرتے کرتے سورج کی پرستش کرنے والوں کو مخاطب فرمایا لیا اور فرمایا کہ بتاؤ کیا یہ میرا رب ہو سکتا ہے ؟ یہ تو بہت بڑا ہی ہے اور اس سے بڑا کوئی ستارہ ہمارے سامنے نہیں ہے ؟ بلکہ جب تک یہ روشن ہے کوئی ستارہ دکھائی نہیں دے سکتا اور یہ ایسا عالم تاب ہے کہ اپنے چہرے پر نظر بھی ٹکنے نہیں دیتا۔ لیکن انجام کار وقت مقررہ پر اس نے بی عراق کی زمین سے سرکنا شروع کردیا اور شب دیجور کے نشانات آہستہ آہستہ سامنے آنے لگے اور آخر کار وہ نظروں سے غائب ہوگیا۔ پھر کیا تھا کہ آپ نے چیخ چیخ کر ان کو کہنا شروع کیا کہ اس بڑے سیارے کی پرستش کرنے والوں کہا سو گئے ہو ذرا اسی رب کو روک لو اگر وہ تمہارا رب ہے اور تم اس کی پرستش کرتے ہو تو دیکھو وہ کس کے حکم کا پابند ہے کہ یہاں اپنی مرضی سے نہیں روک سکتا ہے ؟ اس طرح ابراہیم (علیہ السلام) نے ان سماوی معبودان باطل کے خلاف بھی زور و شعور سے دلائل بیان فرمائے اور ان کو بےحقیقت اور بےبنیاد اور اس احکم الحاکمین کے حکم کے پابند بیان کیا اور اس طرح ان کو لاجواب کردیا اور ان سے پوچھا کہ ان کے عقیدہ کے مطابق اگر ان کو اکب کو ربوبیت اور معبود یت حاصل ہے تو اس کی کیا وجہ ہے کہ ہم سے بھی زیادہ ان میں تغیرات نمایاں ہیں اور یہ جلد جلد ان کے اثرات سے متاثر ہوتے ہیں اور اگر معبود ہیں تو ان میں غروب ہونا کیوں ہے ؟ جس طرح چمکتے نظر آتے ہیں اس طرح چمکتے کیوں نہ رہے ؟ چھوٹے ستاروں کی روشنی کو ماہتاب نے کیوں ماند کردیا اور ماہتاب کے رخ روشن کو آفتاب کے نور سے اپنا رخ صرف اس ایک خدا کی جانب کرلیا ہے جو آسمانوں اور زمینوں کا خالق ہے اور ان ستاروں ، چاند اور سورج کا بھی خالق ہے اور اس طرح تمہارا اور میرا بھی خالق ہے میں ” حنیف “ ہوں اور ” مشرک “ نہیں ہوں۔
گذشتہ آیات میں تین بار لفظ ” ہٰذَا رَبِّیْ 1ۚ “ آیا ہے ہم نے اس سے مراد ” ہٰذَا رَبِّیْ 1ۚ“ استفہام انکار مراد لیا ہے کیوں ؟ اس لئے کہ قرآن کریم نے اس واقعہ کو بیان کرنے سے پہلے یہ بات بڑی وضاحت سے بیان فرما دی ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) کو ” مَلَكُوْتَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ “ کہہ کر ہم نے نگاہ ابراہیم پر ہرچیز منکشف کردی تھی۔ جس کا بالکل صاف مطلب یہ ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) پر ربوبیت الٰہی ہر طرح روشن ہوچکی تھی اس لئے آپ نے مخاطبین کی زبان سے یہ جملہ بولا اور نسبت اپنی طرف کی تاکہ بات کی تفہیم بھی ہوجائے اور جھگڑا بھی نہ بڑھے۔ جس طرح اللہ تعالیٰ کا ارشاد قرآن کریم ہے کہ ابن شرکائیٰ ” میرے شریک کہاں ہیں ؟ “ وہ کون اندھا ہوگا جو اس جملہ کا یہ مطلب سمجھے گا کہ اللہ نے اپنے شریکوں کا خود اقرار کیا ہے اس لئے تو ان کو طلب کیا ہے حالانکہ اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ ” جو تم نے میرے شریک ٹھہرائے ہیں اب ان کو بلاؤ وہ کہاں ہیں ؟ “ اور استفہام انکاری اور استفہام اقراری کی مثالیں قرآن کریم میں کثرت سے موجود ہیں۔
” یہ خیال کرنا کہ اس وقت حضرت ابراہیم ﷺ کو عرفان توحید حاصل نہ تھا اس لئے وہ ایک ٹمٹماتے ہوئے تارے کو اپنا رب سمجھنے لگے سخت غلطی ہے۔ پیغمبر کا دامن نبوت سے پہلے بھی کفر و شرک سے پاک ہوتا ہے۔ چاند کے متعلق بھی آپ نے یہی فرمایا تھا کہ اھذا ربی ؟ اور جب وہ ڈوب گیا تو آپ فرماتے ہیں ” لئن لم یھدنی ربی “ اگر میرا رب مجھے ہدایت نہ فرماتا تو جس گمراہی میں میری ساری قوم گرفتار تھی میں بھی اس سے نہ بچ سکتا۔ ان الفاظ سے اس امر کی پوری وضاحت ہوجاتی ہے کہ آپ کا دل ” ربی “ میرا رب کے یقین سے منور اور روشن تھا ورنہ اگر یہ فرض کرلیا جائے کہ ابھی تک حقیقی رب کا تصور ابراہیم (علیہ السلام) کے ذہن میں نہ تھا اور چاند کو آپ نے رب مان لیا تھا تو جب اس کے ڈوب جانے سے اس کی خدائی کا طلسم بھی ٹوٹ گیا تو آپ کو حیرت کا اظہار کرنا چاہئے تھا کہ تم جسے خدا سمجھ رہے تھے وہ تو فانی تھا۔ اب کسے خدا مانا جائے ؟ آپ نے اظہار حیرت نہیں کیا بلکہ چاند کے غروب ہونے پر آپ نے اپنی قوم کے باطل عقیدہ کو غلط ثابت کرنے کے بعد فوراً فرمایا : ” لَىِٕنْ لَّمْ یَهْدِنِیْ رَبِّیْ “ یعنی وہ رب نہیں جسے تم نے سمجھ رکھا ہے بلکہ حقیقی رب تو وہ ہے جو میرا پروردگار ہے جو مجھے ہر باطل سے بچا کر راہ حق پر چلا رہا ہے۔ “ کسی نبی و رسول کے ذمہ شرک خواہ وہ ایک منٹ ہی کے لئے کیوں نہ ہو تسلیم کرنا بذاتہ گمراہی ہے یہ بات بالکل صاف تھی لیکن سمجھنے میں کوتاہی ہوئی اور ایک کی کوتاہی دوسروں کے لئے دلیل ہوگی۔ الحمد للہ کہ اس سے صحابہ وتابعین کا دامن پاک ہے۔
Ayah 6:79میری قوم کے لوگو ! میرا رب تو وہی ہے جو آسمان و زمین بنانے والا ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں :
125: ابراہیم (علیہ السلام) نے ان کے سارے معبودان باطل خواہ وہ ارضی ہوں یا سماوی ایک ایک کا نام بنام رد کردیا اور ثابت کیا کہ یہ سارے کے سارے پرستش کے قابل نہیں۔ نہ نفع دے سکتے ہیں نہ نقصان کرسکتے ہیں۔ اس کے بعد آپ نے اپنے معبود حقیقی کی پہچان کرانا شروع کی کہ میرا رب کون ہے ؟ اور میں کس ہستی کو پروردگار مانتا اور تسلیم کرتا ہوں ؟ فرمایا میں صرف اس ہستی کو اپنا مالک سمجھتا ہوں جو تمام جہانوں کا رب ہے جس نے مجھ کو پیدا کیا اور سیدھی راہ دکھائی۔ جو مجھ کو کھلاتا ، پلاتا اور روزی دیتا ہے یعنی جس کی پیدا کی ہوئی چیزیں میں استعمال کرتا ہوں اور جب میں بیمار ہوجاتا ہوں تو جو مجھ کو شفا بخشا ہے اور میری زیست وموت دونوں کا مالک ہے اور میں اپنی خطا کاری کے وقت جس سے طمع رکھتا ہوں کہ وہ قیامت کے روز مجھ کو بخش دے اور میں اس کے حضور میں یہ دعا کرتا ہوں ، اے میرے پروردگار ! تو مجھ کو صحیح فیصلہ کی قوت عطا فرما اور مجھ کو نیکو کاروں کی فہرست میں داخل فرما اور مجھے زبان کی سچائی عطا فرما اور جنت نعیم کے وارثوں میں شامل کر دے۔ میں نے ہر طرف سے منہ موڑ کر صرف اسی ہستی کی طرف رخ کرلیا ہے جو آسمان و زمین کی بنانے والی ہے اور اے میری قوم کے لوگو ! میں ان میں سے نہیں جو اس کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانے والے ہوں خواہ وہ ارضی معبود ان باطل کو ان کا شریک بنائیں یا سماوی معبودان باطل کو اس کا ساجھی ٹھہرائیں۔
Ayah 6:80قوم کی ابراہیم (علیہ السلام) سے رد وکد اور آپ کی طرف سے مسکت جواب :
126: اب قوم سمجھی کہ یہ کیا ہوا کہ ابراہیم نے ہمارے تمام ہتھیار بےکار اور ہمارے تمام دلائل پامال کر کے رکھ دیئے۔ اب ہم اس کے ان مضبوط ومحکم دلائل کا کس طرح رد کریں اور اس کی روشن دلیلوں کا کیا جواب دیں ؟ وہ اس کے لئے بالکل عاجز و درماندہ تھے جب کچھ سمجھ میں نہ آیا اور کوئی بس نہ چلا تو قائل ہونے اور صدائے حق کو قبول کرلینے کے بجائے ابراہیم (علیہ السلام) سے جھگڑنے اور ردوکد کرنے لگے اور اپنے معبودان باطل سے ڈرانے لگے کہ وہ تیری توہین کا تجھ سے ضرور انتقام لیں گے اور تجھ کو اس کا خمیازہ بھگتنا ہوگا۔ ابھی دیکھ کیا ہوتا ہے تیرے لئے سلامتی کی راہ یہی ہے کہ اے ابراہیم تم ہمارے معبودوں کی ہتک سے باز آجاؤ ورنہ ان کے غضب کا شکار ہوجاؤ گے اور پھر رہائی کی کوئی صورت نظر نہ آئے گی۔ آپ فرماتے ہیں مجھے ایسی دھمکیاں کیوں دیتے ہوجاؤ اپنے خداؤں سے کہہ دو کہ وہ میرا جو کچھ بگاڑ سکتے ہیں سارے مل کر ارضی بھی اور سماوی بھی بگاڑ لیں۔ تم اچھی طرح سن لو کہ مجھے ان سے ذرا اندیشہ نہیں۔ ہاں ! اگر میرا رب مجھ کو آزمائش میں ڈال دے تو مجھے مجال دم زدن نہیں۔ میرا پروردگار اپنے علم سے تمام چیزوں سے ڈرنے والا نہیں اور خوب سن لو کہ اللہ وحدہ لا شریک لہ کی پرستش کرنے والا تمہاری طرح اتنا بودا نہیں ہوتا کہ وہ معمولی باتوں سے خوف کھاتا رہے کہ معلوم نہیں اب کیا ہو یہ تمہارے جیسے وہمیوں ہی کا کام ہے جو ایک اللہ کو چھوڑ کر بہت سے خداؤ پر یقین رکھتے ہیں۔
Ayah 6:81ابراہیم (علیہ السلام) کے جواب کا سلسلہ جاری ہے اور دلائل پر دلائل دیئے جا رہے ہیں :
127: ابراہیم (علیہ السلام) نے ان کے سوال کا جواب دیتے ہوئے فرمایا کیا تم مجھ سے جھگڑتے ہو اور اپنے معبودان باطل سے مجھے ڈراتے ہو حالانکہ اللہ تعالیٰ نے مجھ کو صحیح راہ دکھا دی ہے اور تمہارے پاس گمراہی کے سوا کچھ نہیں ، مجھے تمہارے حاجت رواؤں اور مشکل کشاؤں کی مطلق کوئی پرواہ نہیں جو کچھ میرا رب چاہے گا وہی ہوگا تمہارے یہ وہمی مفروضے کچھ بھی نہیں کرسکتے۔ کیا تم کو ان باتوں سے کوئی نصیحت حاصل نہیں ہوتی ؟ تم کو تو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرنے اور اس کے ساتھ وہمی اور اختراعی شریک ٹھہرانے میں بھی کوئی خوف نہیں آتا جس کے لئے تمہارے پاس ایک دلیل بھی نہیں ہے اور مجھ سے یہ توقع رکھتے ہو کہ اللہ وحدہ لا شریک لہ ، کا ماننے والا اور امن عالم کا ذمہ دار ہو کر میں تمہارے ان وہمی اختراعی معبودوں سے ڈر جاؤں گے۔ کاش کہ تم سمجھتے کہ کون مفید ہے اور کون صلح و امن پسند ؟ ” ڈرنا تم کو چاہئے جو معبود برحق سے منہ موڑ کر باطل خدا وں کی چوکھٹ پر سرا فگندہ ہو میں کیوں ڈروں جو سیدھے راستے پر چل رہا ہو۔ “ (ضیاء القرآن)
تم ہی بتاؤ کہ ہم دونوں فریقوں میں امن و سلامتی کی راہ کس کی ہے ؟
128: جہاں تک اللہ تعالیٰ کو ماننے کا تعلق ہے اسکو تم بھی مانتے ہو اور میں بھی مانتا ہوں یہ تو ایک مسلم بات ہوئی۔ اب خدا کے سوا کچھ اور بھی ہیں جو خدا کے پہیم وشریک ہیں تو اس کا بار ثبوت تم پر ہے۔ اگر تم بےثبوت ان کو شریک خدا بنائے بیٹھے ہو تو تم خدا کے اقراری مجرم ہو اور اگر وہ تم کو اسکی سزا دے تو تم سزا کے مستحق ہو۔ میں نے کس کا جرم کیا ہے جسے ڈروں ؟ اگر تم کچھ بھی علم رکھتے ہو تو بتاؤ کہ خدا کی امان کا حق دار میں ہوں یا تم ؟ لیکن یہ عجیب ستم ظریفی ہے کہ تم چور ہو کر الٹے کو توال کو ڈانٹتے ہو۔ پھر سن لو کہ صحیح امن کی زندگی اس شخص کو حاصل ہے جو خدائے واحد پر ایمان رکھتا ہے اور شرک سے بیزار رہتا ہے اور وہی راہ یاپ ہے۔
Ayah 6:82جو لوگ ایمان لائے اور شرک کی دلدل میں نہ پھنسے راہ انہیں کی درست ہے :
129 : اب ارشاد فرمایا کہ عذاب الٰہی سے مامون و مطمئن صرف وہی لوگ ہو سکتے ہیں جو اللہ پر ایمان لائیں اور پھر اپنے ایمان میں کسی ظلم کی ملاوٹ نہ کریں۔ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوتی تو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین بہت پریشان ہوئے اور نبی اعظم و آخر ﷺ کی خدمت میں عرض کرنے لگے کہ یا رسول اللہ ﷺ ! ہم میں سے کون ہے جس نے آپ پر ظلم نہ کیا ہو ؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اس جگہ ظلم سے مراد ہر گناہ نہیں بلکہ اس سے مراد (شرک) کا خاص گناہ ہے۔ چناچہ قرآن کریم نے دوسری جگہ شرک کو ہی ظلم عظیم قرار دیا ہے فرمایا ( ان التشرک لظلم عظیم) اس لئے آیت کا مفہوم یہ ہوا کہ جو شخص ایمان لائے اور ایمان لانے کے بعد پھر اس نے اللہ تعالیٰ کی ذات وصفات میں کسی کو شریک ٹھہرایا تو وہ عذاب سے مامون نہیں رہے گا۔
خلاصہ آیت کا یہ ہوا کہ انسانوں یعنی نبیوں ، ولیوں ، بزرگوں اور اللہ کے نیک بندں کو یا ان کے مجسمے بنا کر انکے بتوں کو ، پتھروں ، درختوں ، ستاروں ، چاند و سورج اور دریاؤں وغیرہ کو پوجنے والی مخلوق اپنی بیوقوفی سے ان سب کو بااختیار سمجھتی ہے اور ان کی عبادت چھوڑنے سے اس لئے ڈرتی ہے کہ کہیں یہ چیزیں ہمیں کوئی نقصان نہ پہنچائیں۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے گرو کی بات ان کو بتلادی کہ خدائے قدوس جو تمہارے ہر کام سے باخبر بھی ہے اور تمہارے ہر برے بھلے پر قادر بھی ہے اس سے تو تم ڈرتے نہیں کہ اس کے احکام کی خلاف ورزی کرنے سے کوئی مصیبت ہر برے بھلے پر قادر بھی ہے اس سے تو تم ڈرتے نہیں کہ اس کے احکام کی خلاف ورزی کرنے سے کوئی مصیبت آجائے گی اور جن چیزوں میں نہ ذاتی علم ہے نہ ذاتی قدرت ان سے ایسا ڈرتے ہو ؟ اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ شرک صرف یہی نہیں کہ کھلے طور پر مشرک و بت پرست ہوجائے بلکہ وہ آدمی مشرک ہے جو اگرچہ کسی بت کی پوجا پاٹ نہیں کرتا اور کلمہ اسلام بھی پڑھتا ہے مگر کسی فرشتہ یا رسول یا ولی اللہ کو اللہ کی بعض صفات خاصہ میں شرک ٹھہراتا ہے۔ اس آیت میں ان لوگوں کے لئے سخت تنبیہہ ہے جو اللہ کے رسولوں اور خصوصاً سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ کی خاص صفتوں یعنی پیدا کرنے ، اندھوں کو بینا کرنے ، کوڑھیوں کو چنگا کرنے ، بہروں کو کان دینے ، مردوں کو زندہ کرنے اور غیب کی خبروں سے مطلع کرنے کے ان استعارات و تمثیلات کو اصل پر محمول کر کے خدا کا شریک ٹھہراتے ہیں۔ یاد رہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے ساتھ کسی کو شریک کرنے کی کبھی اجازت نہیں دیتا اس لئے ان کو ” باذن اللہ “ ایسا کرنے کی توجیہہ کبھی درست نہیں ہو سکتی۔ ہاں ! ان انسانبوں کو جو اپنی انسانیت کھو چکے ہیں صحیح انسان بنانے اور کفر و شرک کے اندھیروں میں گم ہونے والوں کو اس سے نکالنے ، مطلب کی سننے اور نہ مطلب کی باتوں سے کان بند کرنے والوں کو سنانے ، کفر کی موت والوں کو زندہ کرنے اور شریعت اسلامی کے خلاف کمائی کرنے والوں کو قانون اسلام کے مطابق کمانے اور خرچ کرنے کی تعلیم دینے کے لئے نبی و رسول آتے رہے اور یہ مقصد سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) کی آمد کا بھی تھا اور یہ سارے کام نبی و رسول کے ہاتھوں اس وقت سر انجام پا سکتے ہیں جب اذن الٰہی بھی ہو اور اس طرح اللہ تعالیٰ نے اپنے اذان خاص سے سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) سے بھی یہ سارے کام کر دکھائے جس کے لئے ان کو رسول بنا کر مبعوث کیا گیا تھا۔ افسوس کہ زبان سے نبیوں اور ولیوں کی پرستش سے روکنے والوں اور انکو خدا کا شریک بنانے سے منع کرنے والوں نے بھی اس شرک کو روا رکھا اور اس طرح خدائی کے اختیارات ان کے حوالے کردیئے اور اس پر یہ نہ کہا کہ ” نعوذ باللہ منہ “ اور پھر تعجب ہے کہ شرک کی اس دلدل میں پھنسنے والے اپنے آپ کو شرک کی آلودگی سے پاک سمجھتے ہیں اسی کو کہتے ہیں کہ ” بلی سوچو ہے کھا کر مکہ کی حاجن ہوئی۔ “ خود شرک کرتے جانا اور دوسروں کو مشرک کہتے جانا کہاں کی دیانت ہے۔
Ayah 6:83یہ وہ دلائل تھے جو ابراہیم (علیہ السلام) کو ان کو قوم کے خلاف اللہ نے دیئے تھے :
130: قوم کو شرک کی دلدل سے نکالنے کے لئے یہ وہ عیمے الشان دلیل تھی جو اللہ نے ابراہیم (علیہ السلام) کی زبان سے معبود ان باطل خواہ ارضی تھے یا سماوی کے خلاف عطا فرمائی اور اس طرح انہوں نے اپنی قوم کے مناظرہ میں کھلی فتح پائی اور پوری قوم کو لاجواب کردیا۔ فرمایا یہ ہمارا انعام تھا کہ ان کو صحیح نظریہ عطا کیا پھر اس کے واضح دلائل وبراہین بھی بتلا دیئے اور معجزانہ طور پر ان کو روحانی مشاہدہ بھی کرادیا۔ بغیر اللہ تعالیٰ کی امداد و اعانت کے نری عقل انسانی ادراک حقائق کے لئے کافی نہیں جس کا مشاہدہ ہر دور میں ہوتا رہتا ہے کہ بڑے بڑے ماہر فلاسفر گمراہی کے راستہ پر پڑجاتے ہیں اور بہت سے ان پڑھ جاہل صحیح عقیدہ و نظریہ کے پابند ہوجاتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ جو دلائل حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے قوم کے سامنے بیان کئے ہیں وہ ابراہیم (علیہ السلام) کا صرف فکری ارتقاء نہیں تھا بلکہ وہ دلائل وبراہین تھے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے نبی و رسول بنائے جانے کی وجہ سے عطائے خداوندی تھے اور آپ کو اپنی قوم کے نظریات کے خلاف دیئے تھے۔ آپ کی یہ تحریک ایک مدت تک جاری رہی ان سماوی معبود ان باطل کے بعد آپ نے ارضی معبودان باطل کے خلاف بھی اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی براہین کو استعمال کیا ہے اور ان کو اس طرح ساکت ، حیران اور ششدر کر کے رکھ دیا کہ وہ مخبوط الحواس ہو کر غیر انسانی حرکات پر اتر آئے اور آپ کو زندہ جلا دنے کی خفیہ سکیمیں سوچنے لگے اور انجام کار ان کی آنکھوں میں دھول ڈال کر اللہ نے اپنے رسول ابراہیم (علیہ السلام) کو علاقہ عراق سے ہجرت کر جانے کا حکم صادر فرمایا اور آپ نے اپنا آبائی وطن چھوڑ کر شام و دمشق کو ہجرت فرمائی۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے ان کی مخالفت کے اس دروازہ کو بند کر کے آپ کو امن و سکون کی زندگی عطا فرمائی اور نبوت کے اجراء کے لئے آپ کی نسل کو بڑھا کر نبوت کو اس نسل کے ساتھ خاص کردیا جو اس علاقہ میں نبی و رسول آئے آپ ہی کے حسب و نسب کے ساتھ ان کا تعلق قائم تھا۔
اس طرح اللہ تعالیٰ نے ان کفار کی بستی سے جو ہزار ہا خداؤں کے پجاری تھے اور گمراہی کی پستیوں میں گھرے پڑے تھے ان میں سے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو توحید کا علمبردار بنا دیا اور اس کے سینے کو علم و فہم اور دلائل کی روشنی سے منور کردیا اور دنیا و آخرت میں اس کا نام اور اس کی شان بلند کردی۔ یہ صرف اللہ تعالیٰ ہی کی قدرت اور طاقت ہے اس نے یہ سب کچھ نبی آخر الزمان ﷺ پر وحی فرما کر آپ ﷺ کو یہ بات سمجھا دی کہ تیرا رب تیرے ساتھ بھی وہی سب کچھ کرنا چاہتے ہے اور انہی انعامات کی بارش برسانا چاہتا ہے جو تیرے سے پہلے ابراہیم (علیہ السلام) پر برسا چکا۔ اس لئے آپ ﷺ اللھم صلی علی محمد وآل محمد کما صلیت علیٰ ابراہیم وعلیٰ آل ابراہیم کی صدائیں بلند کریں اور اپنی قوم کے مقابلہ میں وہی کام جاری رکھیں جو ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنی قوم کے مقابلہ میں جاری رکھا۔ تیری زبان اور تیرا ہاتھ برابر اپنا کام جاری رکھیں اور نتیجہ اللہ پر چھوڑ دیں اور آپ ﷺ نے وہی کچھ کیا جو آپ ﷺ کو حکم دیا گیا تھا اور پھر نتیجہ سب نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا۔ سبحان اللہ وبحمدہ سبحان اللہ العظیم۔
Ayah 6:84ابراہیم (علیہ السلام) کے جدا امجد نوح (علیہ السلام) اور نسل ابراہیمی کا تفصیلی بیان :
131: اس آیت 85 سے آیت 89 تک کی پانچ آیتوں میں سترہ انبیاء کرام کی فہرست دی گئی جن میں سے ایک یعنی سیدنا نوح (علیہ السلام) کا تعلق آپ کے آباء سے ہے اور باقی سارے آپ کی اولاد اور اولاد در اولاد ہیں اور ان آیتوں میں ان سب کا ہدایت پر ہونا ، صالحین ہونا ، صراط مستقیم پر ہونا بارن کیا گیا۔ آیت 85 میں آپ کے بیٹے اسحٰق (علیہ السلام) اور آپ کے پوتے یعقوب (علیہ السلام) اور آپ کے جدامجد سیدنا نوح (علیہ السلام) کے ذکر کے بعد آپ کی نسل سے متعلق داؤد (علیہ السلام) ، سلیمان (علیہ السلام) ، ایوب (علیہ السلام) ، یوسف (علیہ السلام) اور موسیٰ و ہارون (علیہما السلام) کا نام لے کر فرمایا کہ ان سب کو ہم نے اس طرح جزا عطا فرمائی جس طرح نیک لوگوں کا اجر اور جزاء دینے کا ہم سب سے وعدہ کرچکے ہیں۔ ان انبیائے کرام کا ذکر ترتیب زمانی کے لحاظ سے نہیں بلکہ اسمی تعارف کے طور پر کیا گیا ہے کسی کو اس سے کوئی شبہ نہ پڑے اور تذکیر کے لئے ترتیب زمانی کا لحاظ ضروری نہیں ہوتا۔ کسی پہلی یا دوسری صدی کے بزرگ کا کوئی واقعہ بیان کر کے معا چودہویں صدی کے کسی بزرگ کا واقعہ بھی بیان کیا جاسکتا ہے اور اس کا عکس بھی درست ہے۔