6. Surah Al-An'aam

الأنعامThe Cattle · 165 ayahsعروۃ الوثقٰی

Ayah 6:108

وَ لَا تَسُبُّوا الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ فَیَسُبُّوا اللّٰهَ عَدْوًۢا بِغَیْرِ عِلْمٍ١ؕ كَذٰلِكَ زَیَّنَّا لِكُلِّ اُمَّةٍ عَمَلَهُمْ١۪ ثُمَّ اِلٰى رَبِّهِمْ مَّرْجِعُهُمْ فَیُنَبِّئُهُمْ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 6:108 in the Quran reader

اور جو لوگ اللہ کے سوا دوسری ہستیوں کو پکارتے ہیں تم ان کے معبودوں کو گالیاں نہ دو کہ پھر وہ بھی حق سے متجاوز ہو کر بےسمجھے بوجھے اللہ کو برا بھلا کہنے لگیں گے ہم نے اس طرح ہر قوم کے لیے اس کے کاموں کو خوشنما کردیا ہے پھر بالآخر سب کو اپنے پروردگار کی طرف لوٹنا ہے اس وقت وہ ان سب پر ان کے کاموں کی حقیقت کھول دے گا جو وہ کرتے رہے ہیں

معبود ان باطل کو بھی گالیاں نہ دو کہ وہ تمہارے حقیقی معبود کا گالیاں دیں گے : 161: پچھلی آیات میں توحید کا بیان تھا اور شرک پر سخت تنقید ہوئی ہے اس کا تقاضایہ ہوا کہ مسلمانوں کو ہدایت کردی گئی کہ شرک کی مذمت کا ایک اپنا مقام ہے اس مقام سے تجاوز نہ اختیار کرنے لگو ورنہ اس کے نتائج اچھے نہیں ہوں گے۔ مخالفین و معاندین حق کو سمجھنے کی بجائے مزید ضد میں آجائیں گے اور ضد میں کیا ہوتا ہے ؟ سب کو معلوم ہے۔ رسول اللہ ﷺ سے اس قسم کی توقع تو یقیناً نہ تھی اور نہ ہی ہو سکتی تھی لکنت پر جوش مسلمان اگر ان معبود ان باطل کو سخت ست کہنا شروع کردیں جن کو مشرکین پوجتے ہیں تو وہ اپنی بھڑاس نکالنے کے لئے معبود حق یعنی اللہ تعالیٰ کے متعلق اسی طرح سخت ست کہیں گے جس کا نتیجہ درست ہونے کی بجائے نہایت غلط برآمد ہوگا۔ یہ دور چونکہ بحث کی گرما گرمی کا تھا اور اس میں حدود کا خیال بالعموم نہیں رہتا اور اسلام کی تعلیمات کے یہ بات سراسر خلاف ہے کہ کسی دشمن سے دشمن انسان کو بھی اخلاق سے گری ہوئی بات کہی جائے بلکہ اسلام تو جہاں تک ہو سکے برداشت کرنے کی تلقین کرتا ہے اور کسی کے جذبات کو مشتعل کرنا وہ کبھی پسند نہیں کرتا اور دعوت کے نقطہ نظر سے بابرکت اور نتجہ خیر طریقہ یہی ہے کہ بات اصول و عقائد تک ہی محدود رہے تاکہ مخاطب کے اندر کسی بےجا عصبت کا جذبہ جاہلی ابھرنے نہ پائے۔ نبی اعظم و آخر ﷺ کا ایک مناظرہ سورة آل عمران کی آیت 47 ، 48 کے تحت بیان ہوا ہے جو عروۃ الوثقیٰ جلد دوم کے ص 189 سے شروع ہو کر بیان ہوا ہے جو نجران کے عیسائیوں نے آپ ﷺ سے کیا تھا۔ نجران کے علمائے نصاریٰ بڑے تمطراق کے ساتھ آئے اور آتے ہی گرما گرمی میں ایسا احساس سوال سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش اور ” ابن اللہ “ ہونے کے متعلق چھیڑ دیا وہ کچھ سوچ کر آئے تھے وہ سوائے اشتعال کے اور کچھ نہ تھا لیکن آپ ﷺ نے بغیر کسی اشتعال اور مناظرانہ انداز اختیار کرنے کے باتوں ہی باتوں میں ان سے وہ سب کچھ منوا لیا جو کسی بحث و تکرار کے نتیجہ میں کبھی ان سے منوایا نہیں جاسکتا تھا اور آپ ﷺ کی بات ختم ہونے سے پہلے ہی وہ اشاروں میں سب ایک ودسرے کے ساتھ بھاگ جانے کے لئے تیار ہوگئے تھے اور ایسے گئے کہ دوبارہ واپس آنے کا کبھی نام نہ لیا۔ قرآن کریم نے جہاں بھی توحید کا بیان دیا اور شرک کی پرزور الفاظ میں مذمت کی تو الفاظ ایسے استعمال کئے کہ جن سے دریا کو زے میں بند کر کے رکھ دیا گیا۔ کفار نے آپ ﷺ کو جھٹلایا۔ آپ ﷺ کو مجنون کہا۔ آپ ﷺ کو کاہن قرار دیا آپ ﷺ کو شاعر کہہ کر بلایا گیا۔ آپ ﷺ کو جادوگر اور جادو کیا گیا ، کہا گیا آپ کو کاہن ، قرآن کریم کو جنوں اور شیطانوں کا القا کردہ کلام کہا گیا لیکن آپ ﷺ نے ان سارے الزامات کے جواب میں ان کو عقل وفکر کی دعوت پیش کی اور ان کو غور و فکر کرنے اور سوچنے سمجھنے کا کہا۔ ان جوابات کو سن کر ان کو سب و شتم کا ہدف بنانے کی سرے سے کوئی ضرورت ہی باقی نہ رہتی اگر اس بحث کے جوش میں ان چیزوں کو لوگ برا بھلا کنا شروع کردیتے جن کی عقیدت پشتہا پشت سے مشرکین کے دلوں میں رچی بسی ہوئی تھی تو اس کا نفساتی اثر ان پر یہی پڑ سکتا تھا کہ وہ مشتعل ہو کر نعوذ باللہ اللہ میاں کو گالیاں دینے لگتے اور کوئی بات بھی سننے کے لئے تیار نہ ہوتے۔ ویسے بھی غور کریں تو معلوم ہوگا کہ مشرکین کے معبودوں کو برا بھلا کہنے کی ضرورت کیا ہے ؟ اگر وہ محض خیال اور وہمی چیزیں ہیں تو اس طرح سایہ سے لڑنے کا فائدہ ؟ اور اگر وہ فرشتوں ، نبیوں اور ولیوں ، بزرگوں کے زمرے سے تعلق رکھنے والے ہیں تو ان کا بر بھلا کہنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ مختصر یہ کہ یہ چیز دعوت کے نقطہ نظر سے بھی غلط ، عقل و انصاف کے پہلو سے بھی غلط اور اس لحاظ سے بھی غلط کہ مشرکین کے معبود باطل کو برا بھلا کہہ کر اللہ رب العزت کو برا بھلا کہلایا اور اس کو گالیاں دینے کی راہ کھول لی آخر کیوں ؟ مفسرین نے اس آیت کے شان نزول میں بہت کچھ بیان کیا ہے اور ابوطالب کی وفات کا قصہ اس جگہ بیان کیا ہے اور کفار مکہ کی طرف سے رسول اللہ ﷺ کو دھمکی بھی اس سلسلہ میں سنایا بتایا ہے لیکن ان سارے قصوں کو اس آیت سے بیان کرنے کی چنداں ضرورت نہ تھی اور تفسیری روایات جو اس سلسلہ میں بیان کی گئی ہیں سب اس ضمن میں نہیں آتیں اور اس آیت سے یہ نتیجہ بھی اخذ کیا ہے کہ جو بات اپنی ذات کے اعتبار سے محمود ہو بلکہ وہ افضل و اجمل اور اکمل بھی ہو تو فساد لازم آنے کی وجہ سے اس کو ترک کردینا ضروری ہے اور فقہاء نے اس اصل سے یہ قاعدہ مستنبط کیا ہے کہ جو طاعت درجہ واجب میں نہ ہو اور کسی معصیت کا سبب بن جاتی ہو تو اس طاعت کو ترک کردیا جائے کیونکہ ان کے خیال میں بتوں کو برا کہنا فی نفسہ امر مباح ہے مگر جب وہ ذریعہ بن جائے ایک امر حرام یعنی گستاخی بہ جناب باری تعالیٰ کا تو وہ بھی قبیح بن جائے گا اور پھر اس اصول کے تحت انہوں نے ایسے عقائد کو بیان کیا جو کتاب و سنت کی تعلیمات کے تو سراسر خلاف ہیں لیکن زبان زد خاص و عام ہونے کے لحاظ سے عوام میں معروف سمجھے جاتے ہیں تو ایسے عقائد کو بطور عقیدہ مانتے ہی چلے جانے میں بھلائی ان کو نظر آتی ہے اور اس طرح انکے درست ہونے کی ترجمانی ان کے نزدیک تردید سے زیادہ بہتر انسب اور اعلیٰ ہے۔ ایک طرف تو ان کی یہ دلیل ہے لیکن دوسری طرف اندرونی جھگڑے اور فتنے جو ان کی گروہ بندی کا نتیجہ ہیں ان کو پکا کرنے اور ان پر لڑنے اور مر مٹنے کو وہ عین اسلام سمجھتے ہیں اور اس طرح کی لڑائی بھڑائی کو دین کا اہم جزو قرار دیتے ہیں۔ اس لئے اس ملک میں یہ سب کچھ زوروں پر ہے اور کوئی اس کو برا نہیں کہتا حالانکہ یہ استنباط کسی حال میں بھی درست نہیں بلکہ یہ سراسر گمراہی اور جہالت ہے۔ صحیح مثال اس کی اس طرح پر دی جاسکتی ہے جس طرح نبی اعظم و آخر ﷺ نے ارشاد فرمایا۔ حدیث میں آتا ہے کہ ایک روز رسول اللہ نے صحابہ کرام ؓ کو مخاطب کر کے فرمایا کہ ” یاد رکھو کوئی شخص اپنے ماں باپ کو گالی نہ دے۔ صحابہ کرام ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ﷺ یہ تو کسی شخص سے ممکن ہی نہیں کہ وہ اپنے ماں باپ کو گالی دے فرمایا ” ہاں انسان خود ان کو گالی نہیں دیتا لیکن جب وہ کسی دوسرے شخص کے ماں باپ کو گالی دے اور اس کے نتیجہ میں وہ دوسرا اس کے ماں باپ کو گالی دے تو اس گالی دلوانے کا سبب یہ بیٹا بنا تو یہ بھی ایسا ہی ہے جیسے اس نے خود گالی دی۔ “ اس طرح کی اور مثالیں بھی پیش کی جاسکتی ہیں جو اس آیت کی تشریح کہلاسکتی ہیں۔ ہر قوم اپنے کاموں اور اپنے عقیدوں کو اچھی نگاہ سے دیکھتی ہے : 162: مذہب چونکہ فطرت میں داخل ہے اس لئے ہر قوم کا فطری تقاضا ہے کہ جو مذہب اس کو من حیث القوم دیا گیا ہے وہ اس سے فطری محبت رکھے اس کی مثال آپ اس طرح سمجھ سکتے ہیں کہ ایک سو بچے ایک مدرسے میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ کچھ بچے بہت خوبصورت اور نہایت ہی ذہین و فطین ہیں اور کچھ درمیان حالت کے بھیی ہیں جن کو نہ تو خوبصورت کہا جاسکتا ہے اور نہ ہی ذہن و فطین لیکن اس کے باوجود وہ بد صورت ، پھسڈی بھی نہیں کہلاتے اور کچھ ان کے سامنے بھی نہایت بدصورت اور کم عقل اور گندے نظر آتے ہیں جن پر نہ کوئی سزا اثر کرتی ہے اور نہ ہی جرمانہ۔ ان میں سے کسی ایک بچے کا باپ سکول میں آئے تو وہ کسی اچھے اور خوبصورت بچے کو گود میں لے کر پیار کرنے لگے گا ؟ ہرگز نہیں بلکہ وہ تو اپنے اس گندے اور بدصورت ہی کو گود میں لے گا اور اسی سے پیار کرے گا کیوں ؟ اس لئے کہ اس کو فطرت مجبور کرتی ہے کہ وہ اپنے بچے سے پیار کرے بالکل یہی صورت مذہب کی ہے۔ جب تک مذہب کو من حیث العقل اور نہایت گہرائی میں اتر کر مطالعہ کرنے کے بعد منتخب نہ کیا جائے اس وقت تک اس کی برائی اور اچھائی سمجھ میں نہیں آتی اس لئے ہر شخص اس بچے ہی کی طرح اس سے محبت کرنے پر مجبور ہوگا جس نے اس کو اپنا مذہب سمجھا۔ یہی وجہ ہے کہ ایک ہندوگائے کو اس طرح مقدس خیال کرتا ہے جس طرح ایک عیسائی گدھے کو۔ اس لئے ہندوگائے کا پیشاب مقدس خیال کرتا ہے اور عیسائی گدھے کے نشان کو۔ ایسا کیوں ہے ؟ اس لئے کہ انہوں نے اپنے اپنے مذہب میں ان چیزوں کو مقدس سمجھا ہے اور یہ نظریہ انہوں نے اپنے آباؤ اجداد سے پایا تھا جس پر انہوں نے غور وفکر کی ضرورت نہیں سمجھی۔ سب کو اپنے پروردگار کی طرف لوٹنا ہے وہاں ہر بات کا انجام کھل جائے گا : 163: فرمایا ہر قوم کو اپنی روایات سے گہری دلچسپی اور وابستگی ہوتی ہے اور یہ چیز اس فطرت کے تقاضوں میں سے ایک ہے جو خود اللہ نے انسان کے اندر ودیعت کی ہے اس وجہ سے یہ ضروری ہے کہ جو خلاف فطرت چیز فطرت کے اندر گھس آئی ہے وہ اس سے دور کی جائے لیکن اس انداز اور اس طریقہ سے کہ خود فطرت پر کوئی جارہانہ حملہ کرنے کی غلطی نہ کی جائے۔ ہاں ! بلاشبہ اگر لوگ حق واضح ہوجانے کے باوجود اپنی غلطیوں پر مصر رہیں گے تو مجرم بھی وہ خود ہی ٹھہریں گے اور قیامت کے دن رب کریم کے سامنے وہ جواب دہ بھی یقیناً ہوں گے۔ اہل ایمان پر ان کی کوئی ذمہ داری نہیں ہوگی۔ پھر آپ کیوں ضرورت سے زیادہ مضطرب اور اپنی حدود و تبلیغ سے متجاوز ہوں ؟ اور اس بات پر حیران کیوں ہوں کہ ایسی شدید گستاخی پر دنیا میں فی الفور سزا کیوں نہیں مل جاتی۔ وہ خود اس بات کو کیوں بھول جاتے ہیں کہ دنیا میں تو آزادی عمل کا قاعدہ ہم نے مقرر کر رکھا ہے جو وہ بھول گئے ہیں اس لئے اس طرح کے اوہام کا ان کو سامنا ہے لیکن ہم بھولنے والے نہیں اس لئے کہ ہم نے اس عالم کا نام عالم ابتلاء رکھا ہے اور اس کو دار العمل کے نام سے موسوم کیا ہے اور دار الجزاء اس دار العمل سے خروج کے بعد شروع ہوگا۔ بس اس بات کو تم بھی یاد رکھو کہ تمہارا اور ان سب کا لوٹ کر ہماری طرف آنا ضروری ہے اور اس روز ہر چھپی بات ظاہر کردی جائے گی اور ہر عمل کی جزا مل کر رہے گی۔ ہمارا فیصلہ ہے اور ہمارا فیصلہ کبھی غلط نہیں ہوتا۔
Ayah 6:109

وَ اَقْسَمُوْا بِاللّٰهِ جَهْدَ اَیْمَانِهِمْ لَئِنْ جَآءَتْهُمْ اٰیَةٌ لَّیُؤْمِنُنَّ بِهَا١ؕ قُلْ اِنَّمَا الْاٰیٰتُ عِنْدَ اللّٰهِ وَ مَا یُشْعِرُكُمْ١ۙ اَنَّهَاۤ اِذَا جَآءَتْ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 6:109 in the Quran reader

اور یہ کہ اللہ کی سخت قسمیں کھا کر کہتے ہیں اگر کوئی نشانی ان کے سامنے آجائے تو وہ ضرور اس پر ایمان لے آئیں گے اے پیغمبر اسلام ! تم کہہ دو ” نشانیاں تو اللہ ہی کے پاس ہیں ؟ “ اور تمہیں کیا معلوم ؟ اگر نشانیاں آ بھی جائیں جب بھی یہ یقین کرنے والے نہیں

وہ قسمیں کھا کھا کر کہتے ہیں کہ اگر ان کے پاس نسانی آجائے تو وہ ایمان لے آئیں گے : 164: بات بات پر قسمیں کھانے والے آدمی ہمیشہ وہی ہوتے ہیں جو حقیر و ذلیل اور گھٹیا قسم کے ہوتے ہیں۔ وہ بات بات پر اس لئے قسمیں کھاتے ہیں کہ ان کو خود یہ احساس ہوتا ہے کہ لوگ ان کو جھوٹا سمجھتے ہیں اور ان کی بات پر لوگ اس وقت تک یقین نہیں کریں گے جب تک وہ اپنی بات کو قسمیں کھا کر موکد نہ کریں اسلئے وہ یقیناً اپنی نگاہوں میں خود بھی ذلیل ہوتے ہیں اور معاشرے میں بھی ان کی کوئی وقعت نہیں ہوتی۔ قرآن کریم میں مختلف مقامات پر ان کی صفات بیان کی گئی ہیں اور انہیں قسمیں کھانے والوں کا ذکر اس آیت میں کیا گیا ہے۔ یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے اس سے پہلے یہ بات کہی تھی کہ اگر ہمارے پاس کوئی ڈرانے والا آیا تو ہم اس کو ضرور مانیں گے۔ چناچہ قرآن کریم نے ان کا ذکر دوسری جگہ ارشاد فرمایا : وَ اَقْسَمُوْا بِاللّٰهِ جَهْدَ اَیْمَانِهِمْ لَىِٕنْ جَآءَهُمْ نَذِیْرٌ لَّیَكُوْنُنَّ اَهْدٰى مِنْ اِحْدَى الْاُمَمِ 1ۚ فَلَمَّا جَآءَهُمْ نَذِیْرٌ مَّا زَادَهُمْ اِلَّا نُفُوْرَاۙ0042 ” اور (یہ منکر) اللہ کی (بڑی) سخت قسمیں کھاتے تھے کہ اگر ان کے پاس کوئی ڈرانے والا آیا تو کسی بھی دوسری امت سے زیادہ ہدایت پا لیں گے مگر جب ان کے پاس ڈرانے والا آیا تو اس سے ان کی نفرت ہی میں اضافہ ہوا۔ “ (فاطر 35 : 42) (یہ لوگ کڑی کڑی قسمیں کھا کر کہا کرتے تھے کہ اگر کوئی خبردار کرنے والا ان کے ہاں آگیا ہوتا تو یہ دنیا کی ہر دوسری قوم سے بڑھ کلر راست رو ہوتے مگر جب خبردار کرنے والا ان کا پاس آگیا تو اس کی آمد نے ان کے اندر ہی حق سے فرار کے سوا کسی چیز میں اضافہ نہ کیا۔ ) ان لوگوں کی یہ عادت ثانیہ ہے کہ جو بات کریں گے قسمیں کھا کھا کر کریں گے لیکن اس کے باوجود ان کے اندر کچھ ہوگا اور زبان سے اظہار کچھ کریں گے۔ ایک جگہ ارشاد فرمایا : وَ اَقْسَمُوْا بِاللّٰهِ جَهْدَ اَیْمَانِهِمْ لَىِٕنْ اَمَرْتَهُمْ لَیَخْرُجُنَّ 1ؕ قُلْ لَّا تُقْسِمُوْا 1ۚ طَاعَةٌ مَّعْرُوْفَةٌ 1ؕ اِنَّ اللّٰهَ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ 0053 (النور 24 : 53) ” اور یہ لوگ اللہ کی بڑی سخت تاکیدی قسمیں کھاتے ہیں کہ آپ (a) انہیں حکم دیں تو وہ نکل کھڑے ہوں گے آپ (a) کہہ دیجئے کہ قسمیں مت کھاؤصحیح اطاعت و فرمانبرداری چاہیے بلاشبہ اللہ تمہارے اعمال سے پوری طرح باخبر ہے۔ “ ایک جگہ ارشاد فرمایا : وَ اَقْسَمُوْا بِاللّٰهِ جَهْدَ اَیْمَانِهِمْ 1ۙ لَا یَبْعَثُ اللّٰهُ مَنْ یَّمُوْتُ 1ؕ بَلٰى وَعْدًا عَلَیْهِ حَقًّا وَّ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَۙ0038 (النمل 16 : 38) ” اور ان لوگوں نے اللہ کی سخت قسمیں کھائیں کہ جو مر گیا اسے اللہ کبھی دوبارہ نہیں اٹھائے گا ہاں ! ضرور اٹھائے گا یہ اس کا وعدہ ہے اور اس کا پورا کرنا اس پر لازم ہے لیکن اکثر آدمی ہیں جو اس بات کا علم نہیں رکھتے۔ “ یہی لوگ اس جگہ کہہ رہے ہیں کہ : وَ اَقْسَمُوْا بِاللّٰهِ جَهْدَ اَیْمَانِهِمْ لَىِٕنْ جَآءَتْهُمْ اٰیَةٌ لَّیُؤْمِنُنَّ بِهَا 1ؕ ” اور یہ اللہ کے نام کی کڑی کڑی قسمیں کھا کر کہتے ہیں کہ اگر نشانی ان کے سامنے آجائے تو وہ ضرور اس پر ایمان لائیں گے۔ “ اگر اوپر کی ساری باتیں انہوں نے سچ کہی تھیں تو یہ بھی یقیناً سچ ہوگا لیکن اگر وہ جھوٹ بولنے کے بادشاہ ہیں تو یہ بات بھی ان کی اسی طرح کی ہے جس طرح کی باتیں کرنے کے وہ عادی ہوچکے ہیں۔ اگر ان کا ارادہ سچ کا سو مان لینے کا ہوتا تو یہ کلام جو ان کو پڑھ کر سنایا جا رہا ہے ان کے سارے مطلوبہ نشانات سے بڑھ کر نشانی ہے اور اس سے بھی بڑھ کر وہ شخص جس کے دل میں یہ کلام نازل ہوا وہ ایک بہت بڑا نشان ہے کہ وہ ایک امی بنی ہونے کے باوجود ان کے سامنے وہ کلام پیش کر رہا ہے جس کا مقابلہ ان کے بڑے بڑے فصحاء و بلغاء بھی نہیں کرسکے اور یہ زندہ وجاوید نشان ان کے پاس موجود ہے لیکن ان باتوں کی طرف وہ تب دھیان دیں جب مان لینا اور تسلیم کرنا ان کی نیت میں ہو۔ انہوں نے تو نہ ماننے کی قسم کھائی ہے اور ستہزاء اور مذاقاً ایسی باتیں کرتے ہیں کہ اگر ایسا ہوجائے تو بس ہم ایمان لائے کہ لائے گویا اس طرح انہوں نے اللہ ، اللہ کے رسول اور کتاب اللہ کو ایک مذاق سمجھ رکھا ہے ان کو یہ معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ کا قانون یہ ہے کہ جس قوم کا مطلوبہ نشان دکھادیا جائے جب وہ اس کو دیکھ کر بھی ایمان نہ لائے تو وہ وقت اس کی ہلاکت کا ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ نشانی ان کو اسی وقت دکھائی جاتی ہے جب قانون الٰہی میں اس کے دکھانے کا وقت آجائے اور جب تک وہ وقت نہ آئے قومیں اس طرح کا مذاق کرتی آئی ہیں یہ ان کا کوئی نیا مذاق نہیں بلکہ انہوں نے وہی کچھ کہا ہے جو ان سے پہلے معذب لوگوں نے کہا تھا۔ اس لئے جب تک ان کے عذاب کا وقت نہیں آتا ان کو اس طرح مذاق کرنے دیجئے اور آپ ﷺ ان کو یہ کھری بات سنا دیں اور بےجھجھک سنا دیں اس لئے کہ آپ ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔ آپ ﷺ فرمایا دیجئے کہ نشانیاں تو اللہ ہی کے پاس ہیں لیکن تم نشانیاں دیکھ کر بھی ماننے والے نہیں : 165: ان کی اس بات کا جواب یہ ہے کہ نشانیاں سب اللہ کے اختیار میں ہیں جو نشانیاں ظاہر ہوچکی ہیں وہ بھی سب اسی کی طرف سے ہیں اور جن کا مطالبہ کیا جا رہا ہے وہ بھی اسی کے اختیار میں ہیں لیکن ان کا ظاہر کرنا اس کی مرضی پر ہے وہ موم کی ناک نہیں کہ جس طرف آپ پھیرنا چاہیں پھیرتے رہیں۔ انسان کو اس نے عقل و فکر دی ہے اس لئے اس کا حق ہے کہ وہ اس کو استعمال کرے تم خود ہی سوچو کہ ازروئے عقل و انصاف تم کو ایسا مطالبہ کرنے کا کوئی حق ہے ؟ یقیناً نہیں کیونکہ میں نے رسول اللہ ہونے کا دعوی کیا ہے اور اس دعویٰ کے متعلق جو دلائل و شہادتیں ہیں وہ تمہارے سامنے پیش کی جا رہی ہیں بلاشبہ تمہارا یہ حق ہے کہ جو دلائل وبراہین تمہارے سامنے رکھے گئے ہیں ان پر جرح کرو اور ان کو غلط ثابت کرنے کی کوشش کرو لیکن ان پیش کردہ آیات و دلائل پر جرح نہ کروجو رسالت کے متعلق ہیں اور ان نشانات کا مطالبہ کرتے رہو جو نبوت کے متعلق نہیں ہیں تو یہ کس طرح قرین انصاف ہے کہ تمہارا ہر مطالبہ پورا کیا جائے۔ عدالت میں کوئی مدعا علیہ مدعی کے پیش کردہ گواہوں پر تو کوئی جرح نہ کرے مگر یہ کہے کہ میں ان گواہوں کی شہادت نہیں مانتا بلکہ فلاں معین شخص کی گواہی مانوں گا تو کیا اس کو کوئی عدالت سماعت سمجھے گی اور اگر سمجھے گی تو کیا وہ عدالت کہلاسکے گی ؟ ایک فطرتی سوال اس پر پیدا ہوتا ہے جو اس وقت بھی کچھ دلوں میں پیدا ہوا ہوگا اور اب بھی پیدا ہو سکتا ہے وہ یہ کہ اگر ان کا وہ مطالبہ پورا کردیا جاتا جو انہوں نے کیا تھا تو شاید وہ ایمان لے آتے اس کا جواب اللہ تعالیٰ کی طرف سے دیا گیا ہے فرمایا ” تمہیں کیا معلوم ؟ اگر نشانیاں آبھی جائیں جب بھی یہ لوگ یقین کرنے والے نہیں۔ “ دوسری جگہ ارشاد فرمایا : ” وہ خواہ اپنی مطلوبہ نشانی دیکھ لیں کبھی اس پر ایمان نہ لائیں گے۔ اگر سیدھا راستہ ان کے سامنے آئے تو کبھی اختیار نہ کریں گے اور اگر ٹیڑھا راستہ نظر آئے تو اس پر چل پڑیں گے اس لئے کہ انہوں نے ہماری نشانیوں کو جھٹلایا اور ان سے بےپروائی کرتے رہے۔ “ (الاعراف 7 : 164) جو نشانات ان کو دکھائے گئے ان سے انہوں نے منہ پھیرا اور ان کی طرف کبھی توجہ نہ کی اور نت نئے مطالبات پیش کئے ، ایسا کیوں کیا ؟ اس لئے کہ وہ حقیقت کو قبول کرنے کیلئے تیار نہیں اس لئے اس کا مذاق اڑانا چاہتے ہیں جب کہ قانون الٰہی کے ضابطے کسی مطالبہ پر توڑے نہیں جاسکتے۔ یہاں جو کچھ ہے وہ قانون کے مطابق ہے اور مطابق رہے گا اگر وہ قانون کو مان لیں گے تو کامیاب و کامران ہوں گے اگر قانون سے متصادم ہونے کی کوشش کریں گے تو اس قانون کے مطابق اڑا کر رکھ دیئے جائیں گے۔ اس لئے کہ جو قانون پر ہاتھ ڈالیں انکا انجام یہی ہوتا ہے۔
Ayah 6:110

وَ نُقَلِّبُ اَفْئِدَتَهُمْ وَ اَبْصَارَهُمْ كَمَا لَمْ یُؤْمِنُوْا بِهٖۤ اَوَّلَ مَرَّةٍ وَّ نَذَرُهُمْ فِیْ طُغْیَانِهِمْ یَعْمَهُوْنَ۠ Open ayah 6:110 in the Quran reader

ہم ان کے دلوں کو اور آنکھوں کو الٹ دیں گے (کہ وہ نشانیاں دیکھ کر بھی انکار کرتے جائیں) جس طرح پہلی دفعہ قرآن کریم سے انکار کیا اور ہم انہیں چھوڑ دیں گے کہ اپنی سرکشیوں میں بھٹکتے رہیں

ان کے دل حق طلبی کے قصد کی طرف سے ہٹا دیئے گئے وہ حق کو قبول نہیں کریں گے : 166: ہم نے ہدایت قبول کرنے کے لئے جو قانون بنا رکھا ہے اس سے انہوں نے اعراض کیا جس کا نتیجہ لازمی یہی نکلنا تھا کہ وہ جو قدم اٹھائیں حق اور ہدایت سے دور ہوتے جائیں اور یہی کچھ ہوا یعنی حق کی طلب و تلاش چونکہ ان میں سرے سے ہے ہی نہیں اس لئے یہ لوگ ہزار نشانات دیکھ لیں پھر بھی ہدایت انہیں نصیب نہیں ہوگی اور یہ لوگ یوں ہی بدستور بھٹکتے رہیں گے۔ ان کی آنکھیں حق بینی کی طرف سے اور ان کے دل حق طلبی کی طرف سے ہٹا دیئے گئے اور یہ سب کچھ ہمارے قانون تکوینی کے تحت ہوا اس لئے کہ ان کا دل پہلے روز ہی سے قرآن کریم کی ہدایت پر نہیں جما اور انہوں نے اس کو سننے ، دیکھنے اور سمجھنے سے انکار کیا۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کے متعلق قرآن کریم میں دوسری جگہ ارشاد فرمایا کہ : ” اور کتنے ہی جن اور انسان ہیں جنہیں ہم نے جہنم کے لیے پیدا کیا ہے ، ان کے پاس عقل ہے مگر اس سے سمجھ بوجھ کا کام نہیں لیتے ، آنکھیں ہیں مگر ان سے دیکھنے کا کام نہیں لیتے ، کان ہیں مگر ان سے سننے کا کام نہیں لیتے وہ چارپایوں کی طرح ہوگئے بلکہ ان سے بھی زیادہ کھوئے ہوئے ایسے ہی لوگ ہیں جو یک قلم غفلت میں ڈوب گئے ہیں۔ “ (الاعراف 7 : 179) مطلب بالکل صاف ہے کہ ہم نے تو ان کو پیدا کیا تھا دل ، دماغ ، آنکھیں اور کان دے کر مگر ظالموں نے ان سے کوئی کام نہ لیا ہر سنی ان سنی ، ہر دیکھی ان دیکھی اور ہر سمجھی ان سمجھی کردی اور اپنی غلط کاریوں کے باعث آخر کار وہ جہنم کا ایندھن بن کر رہے۔ ہم نے ان کو چھوڑ دیا کہ وہ اپنی سر کشیوں میں بھٹکتے پھریں : 167: فرمایا یہ ایسے نادان نہیں تھے کہ ان کو حق ناحق معلوم نہ تھا بلکہ یہ لوگ حقیقت سے واقف تھے اور حق کو پہچانتے تھے ان کو چاہئے تھا کہ وہ طرز عمل اختیار کرتے جو انہیں معلوم تھا کہ صحیح ہے تاکہ اس پر عمل کے مطابق علم کی بدولت اللہ تعالیٰ ان کو انسانیت کے بلند مراتب کی طرف ترقی عطا فرماتا لیکن وہ لوگ دنیا کے فائدوں ، لذتوں اور آرائشوں کی طرف جھک پڑے۔ خواہشات نفس کے تقاضوں کا مقابلہ کرنے کی بجائے انہوں نے ان کے آگے سپر ڈال دی۔ دنیا کی حرص وطمع سے بالاتر ہونے کی بجائے وہ اس حرص وطمع سے ایسے مغلوب ہوئے کہ ہر بھلائی اور ہر اخلاقی ترقی کو وہ طلاق دے بیٹھے۔ ان تمام حدود کو توڑ کر نکل بھاگے جن کی نگہداشت کا تقاضا خود ان کا علم کرتا تھا اس طرح جب وہ محض اپنی اخلاقی کمزوریوں کی بناء پر جانتے بوجھتے حق سے منہ موڑ کر بھاگے تو شیطان جو ان کے اندر ہی گھات لگائے بیٹھا تھا ان کے پیچھے لگ گیا اور وہ برابر انکو ایک پستی سے دوسری پستی کی طرف لے جاتا رہا یہاں تک کہ اس ظالم نے انکو ان لوگوں کے زمرے میں پہنچا کر دم لیا جو پہلے ہی اس کے حرام میں پھنس کر پوری طرح متاع عقل و ہوش گم کرچکے تھے۔ اس طرح اب وہ ان وادیوں میں گم ہوگئے جن میں پہنچ کر کسی کی واپسی مشکل ہی نہیں ہوتی بلکہ ناممکن ہوجاتی ہے اس لئے اب وہ اس قابل بھی نہیں رہے کہ وہاں سے ان کے نکالنے کی کوئی سبیل کی جائے ان کو ان کے حال پر چھوڑدینا اور اپنا وقت ضائع نہ کرنا ہی بہتر ہے۔ ہمارے قانون کا یہی تقاضا تھا اور قانون کے خلاف ہم نہیں کرتے۔
Ayah 6:111

وَ لَوْ اَنَّنَا نَزَّلْنَاۤ اِلَیْهِمُ الْمَلٰٓئِكَةَ وَ كَلَّمَهُمُ الْمَوْتٰى وَ حَشَرْنَا عَلَیْهِمْ كُلَّ شَیْءٍ قُبُلًا مَّا كَانُوْا لِیُؤْمِنُوْۤا اِلَّاۤ اَنْ یَّشَآءَ اللّٰهُ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ یَجْهَلُوْنَ Open ayah 6:111 in the Quran reader

اور اگر ہم ان پر فرشتے اتار دیتے اور مردے ان سے باتیں کرنے لگتے اور جتنی چیزیں بھی ہیں سب ان کے سامنے لا کھڑی کرتے جب بھی یہ ایسا کرنے والے نہیں ہیں کہ ایمان لے آئیں اِلّا یہ کہ اللہ ہی کی مشیّت ہو لیکن ان میں اکثر ایسے ہیں جو نہیں جانتے

فرشتے ان پر نازل ہوں ، مردے ان سے باتیں کرنے لگیں پھر بھی یہ لوگ ماننے کے نہیں : 168: سورة الانعام کی اس آیت ایک سو گیارہ سے آٹھواں پارہ شروع ہو رہا ہے۔ مضمون وہی جاری ہے جو پیچھے سے چلا آرہا ہے فرمایا جن کی ضلالت پسندی اور ہٹ دھرمی کے سبب سے اللہ نے ان پر ہدایت کے دروازے بند کردیئے ہوں اور جن کو اللہ ہی نے ان کی گمراہیوں کی طرف دھکیل دیا ہو جن کی طرف وہ جانا چاہتے تھے تو اب اور کون ہے جو ان کو راہ راست پر لاسکے ؟ جن لوگوں نے سچائی سے منہ موڑ کر جھوٹ پر مطمئن ہونا چاہا اور جن کی اس خباثت کے باعث اللہ نے بھی ان کے لئے وہ اسباب فراہم کردیئے جن سے سچائی کے خلاف ان کی نفرت میں اور جھوٹ پر ان کے اطمینان میں اور زیادہ اضافہ ہوتا چلا جائے انہیں آخر دنیا کی کونسی طاقت جھوٹ سے منحرف اور سچائی پر مطمئن کرسکتی ہے ؟ اللہ کا یہ قانون نہیں کہ جو خود بھٹکنا چاہیں انہیں زبر دستی ہدایت دے اور کسی دوسری ہستی میں یہ طاقت نہیں کہ وہ لوگوں کے دل بدل دے۔ اس لئے اے میرے رسول ! ﷺ اگر ہم ان پر فرشتے اتا ردیں اور مردے آکر ان سے باتیں کرنے لگیں اور جتنی چیزیں بھی ہیں سب ان کے سامنے لا کھڑی کردیں جب بھی وہ ایسا کرنے والے نہیں کہ ایمان لے آئیں۔ ہاں ! اللہ کی مشیت اگر یہ ہوتی کہ وہ ان کو مجبور کر کے ایمان پر لے آئے تو یہ دوسری بات تھی لیکن اللہ کا قانون کسی کو مجبور کر کے حق کی طرف پھیرنے کا مطلاق نہیں لیکن ان میں اکثریت انہی لوگوں کی ہے جو سیدھی بات کو سمجھنے کے عادی نہیں ہیں۔ ” اگر ہم ان پر فرشتے اتاردیں۔ “ یہ دراصل ان ہی کے سوال کا جواب ہے۔ ان کا سوال یہ تھا کہ ” وہ کہتے ہیں کیوں نہ فرشتے ہمارے پاس بھیجئے گئے۔ “ (الفرقان 25 : 21) فرمایا ان کی ساری فرمائشیں بھی پوری کردی جائیں اور ہر غیب ان کو کھول دیا جائے۔ اس آیت سے یہ بات بھی واضح ہوگئی کہ مشاہدہ خوارق سے کبھی کسی قوم نے نفع نہیں پایا بلکہ جب بھی ان کے مطالبے کے پورے ہونے کا وقت آیا تو جس کو وہ خوارق سمجھتے تھے اگرچہ وہ خوارق نہیں تھا تاہم وہ وہی وقت تھا جو ان کی ہلاکت کے لئے قانون الٰہی میں مقرر تھا ، کیوں ؟ اس کئے کہ جھٹلانے کے عادی لوگ ماننے کے لئے کوئی مطالبہ نہیں کرتے بلکہ وہ جو کچھ کہتے یا کرتے ہیں سب ازراہ شرارت ہوتا ہے اور شرارتی شرارت کرتا رہتا ہے تاآنکہ وہ وقت آجاتا ہے کہ نہ شرارتی باقی رہے اور نہ اس کی شرارتیں۔ رسول بذاتہ ایک نشانی ہوتے تھے پھر ان پر نازل شدہ کلام بھی اللہ کی ایک بہت بڑی نشانی۔ اسی طرح محمد رسول اللہ ﷺ کی ذات اقدس ہزار ہا نشانیوں سے ایک بڑی نشانی تھے اور آپ ﷺ پر اتارا گیا کلام قرآن کریم ہزاروں نشانیوں پر مشتمل ہے۔ ان کو ان نشانیوں کی طرف باربار توجہ بھی دلائی گئی لیکن لاتوں کے بھوت باتوں سے کب مانتے ہیں ؟ جوتے کھانے والوں کو جب تک جوتے نہ پڑیں چین نہیں آتا۔ اشارہ انسانوں کے لئے کافی ہوتا ہے گدھوں کو ڈنڈا ہی سیدھا کرتا ہے۔ ان لوگوں نے ایک دو نہیں بیسیوں نشانات دیکھے لیکن وہ موعود نہیں تھے اور ان کو ان کے مطالبات کے مطابق نہیں دکھائے گئے تھے اس لئے کہ مطالبہ کا نشان صرف اور صرف اس وقت ہی دیا جاتا ہے جب قانون الٰہی میں طے ہے جب نہ ماننے والوں کو تہس نہس کرنے کا وقت آجاتا ہے ، کیوں ؟ اس لئے کہ اس طرح ان کے مطالبات ختم ہونے ہی میں نہیں آتے ایک مطالبہ میں پورا کردیا جائے تو وہ دوسرا کردیتے ہیں اور اس طرح مطالبات کا ایک لامتناہی سلسلہ جاری ہوجاتا ہے۔ ناواقف تو ایسا کرے لیکن ایک واقف کار جانتے بوجھتے ایسا اقدام کیوں کرے جس کا انجام بخیر نہیں اور اللہ سے بڑھ کر آخر کون واقف کار ہو سکتا ہے ؟ فرمایا اے پیغمبر السلام ! یہ جاہل ہیں اس لئے جہالت کا مطالبہ کرتے ہیں۔ ان کی جہالت کیا ہے ؟ یہی کہ ایمان کا تو قصد ہی نہیں اور فرمائشیں نشانات ومعجزات کی پھر بھی کئے جاتے ہیں۔ پیغمبر کی اص تعلیمات ، پیغمبر کے اصل کام ، پیغمبر کی اصل ضرورت اور غرض وغایت پر غور ہی نہیں کرتے اور پیغمبر کو ایک پیغمبر نہیں بلکہ ساحر یا شعبدہ باز سمجھتے ہیں م۔ پیغمبر کے دعویٰ پر کبھی انہوں نے غور ہی نہیں کیا۔ پیغمبر کیا ہے ؟ ایک اللہ کا پیغام لانے والا انسان ہی تو ہے اور اس کے سوا کچھ بھی نہیں۔ پیغمبر نے کب خدا ہونے کا دعویٰ کیا تھا ؟ پبرم نے کب کہا تھا کہ میں قادر مطلق ہوں اور ہرچیز پر میرا حکم چلتا ہے ؟ پیغمبر نے یہ کب کہا کہ میں پہاڑ پر پھونک لگاؤں تو وہ سونا ہوجاتا ہے ؟ پیغمبر نے یہ کب کہا تھا کہ آسمان پر میری حکومت چل رہی ہے ؟ پیغمبر کا دعویٰ تو اول روز سے یہی تھا کہ میں خدا کی طرف سے پیغام لانے والا ایک انسان ہوں۔ تمہیں جانچنا ہے تو میرے پیغام کو جانچو۔ ایمان لانا ہے توا س پیغام کی صداقت اور معقولیت دیکھ کر ایمان لاؤ ۔ انکار کرنا ہے تو اس پیغام میں کوئی نقص نکال کر دکھاؤ ۔ میری صداقت کا اطمینان کرنا ہے تو ایک انسان ہونے کی حیثیت سے میری زندگی کو ، میرے اخلاق کو ، میرے کام کو دیکھو یہ سب کچھ چھوڑ کر تم مجھ سے یہ مطالبہ کرنے لگے کہ زمین پھاڑو اور آسمان گراؤ یا خدا کو ہمارے سامنے لاؤ ؟ فرشتے ہمارے سامنے پیش کرو ؟ مردوں سے ہماری باتیں کراؤ ؟ آخر پیغمبری کا ان کاموں سے کیا تعلق ہے ؟
Ayah 6:112

وَ كَذٰلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نَبِیٍّ عَدُوًّا شَیٰطِیْنَ الْاِنْسِ وَ الْجِنِّ یُوْحِیْ بَعْضُهُمْ اِلٰى بَعْضٍ زُخْرُفَ الْقَوْلِ غُرُوْرًا١ؕ وَ لَوْ شَآءَ رَبُّكَ مَا فَعَلُوْهُ فَذَرْهُمْ وَ مَا یَفْتَرُوْنَ Open ayah 6:112 in the Quran reader

اور اسی طرح ہم نے ہر نبی کے لیے انسان اور جنوں میں سے شیطانوں کو دشمن ٹھہرا دیا جو آپس میں ایک دوسرے کو دکھاوے کی خوشنما باتیں سکھائیں ، لوگوں کو فریب دیں اور اگر تمہارا پروردگار چاہتا تو وہ ایسا نہ کرتے ، پس انہیں ان کی افترا پردازیوں میں چھوڑ دو

انسانون اور جنوں میں سے شیاطین ہر نبی و رسول کا راستہ روک کر کھڑے ہوتے رہے : 169: شیطان کا کام کیا ہے ؟ شیطنت یعنی انگشت زنی کرتے رہنا اور شورش بپار رکھنا۔ بس یہ کام جو بھی کرے وہ شیطان ہے۔ نبی اعظم و آخر ﷺ کے اس دور میں جب آپ مبعوث کئے گئے آپ ﷺ کو زچ کرنے کے لئے جن لوگوں نے سرتوڑ کوشش کی وہ کون تھے ؟ بلاشبہ قریش کے لیڈر اور ان کے ہم نواہی تھے پھر انہوں نے اگشت زنی کرنے اور شورش بپارکھنے میں کوئی کسر باقی نہ رکھی تھی ؟ اوپر سے جن چیزوں کا ذکر ہوتا چلا آرہا ہے اور جن مختلف مطالبوں کا ذکر کیا گیا ہے یہ کون لوگ کرتے تھے ؟ یہی قریشی اور ان کے ہم نواہی تو کر رہے تھے۔ فرمایا جا رہا ہے کہ اے پیغمبر السلام یہ نہ سمجھو کہ اس صورت حال سے تنہا تم ہی کو سابقہ پیش آیا ہے۔ تم سے پہلے جو انبیاء گزرے ہیں ان کو بھی اپنے زمانے کے شیطانوں کے ہاتھوں یہی دکھ جھیلنے پڑے ہیں۔ یہ اللہ کی وہ سنت ابتلاء ہے جس سے اس کے تمام نبیوں اور رسولوں کو گزرنا پڑا۔ اس سے راست با زوں کی راست بازی کا امتحان ہوتا ہے اور ان کے جوہر نکھرتے ہیں اور اس سے اہل باطل کو وہ مہلت ملتی ہے جس میں ان کے اندر کا فساد ظہور میں آتا ہے اور وہ اپنے اوپر اللہ کی حجت قائم کرتے ہیں۔ ان سردار ان قوم کو قرآن کریم کی زبان میں شیاطین کے نام سے یاد کیا گیا ہے۔ یہ بات ذرا غور طلب ہے کہ انبیاء کے مقابلے میں اٹھ کر باپ دادا کی تقلید اور زمانے کے نبی کی مخالفت کا جھنڈا بلند کرنے والے ہر زمانے میں اپنی قوم کے کھاتے پیتے لوگ ہی کیوں رہے ؟ آخر کیا وجہ ہے کہ وہی حق کی مخالفت پر پیش پیش اور قائم شدہ جاہلیت کو بر قرار رکھنے کی کوشش میں سر گرم رہے اور وہی عوام کو بہکا اور بھڑکا کر انبیا (علیہم السلام) کے خلاف فتنے اٹھاتے رہے۔ اس کی نیادی وجود دو تھیں ایک یہ کہ کھاتے پیتے اور خوشحال طبقے اپنی دنیا بناے اور اس سے لطف اندوز ہونے میں اس قدر منہمک ہوتے ہیں کہ حق اور باطل کی بزعم خویش دوراز کار بحث میں سر کھپانے کے لئے تیار نہیں ہوتے۔ ان کی تن آسانی اور ذہنی کاہلی انہیں دین کے معاملہ میں انتہائی بےفکر اور اس کے ساتھ عملاً قدام پسند بنا دیتی ہے تاکہ جو حالت پہلے سے قائم چلی آرہی ہے وہی قطع نظر اس سے کہ وہ حق ہے یا باطل ، جوں کی توں قائم رہے اور کسی نئے نظام کے متعلق سوچنے کی زحمت نہ اٹھانی پڑے اور گذشتہ فکر کے ناحق ہونے اور موجودہ سوچ کے حق ہونے میں جو تکلیف اٹھانا پڑتی ہے اس سے محفوظ رہیں۔ دوسرے یہ کہ قائم شدہ نظام سے ان کے مفاد پوری طرح وابستہ ہوچکے ہوتے تھے اور انبیاء (علیہم السلام) کے پشی کردہ نظام کو دیکھ کر پہلی ہی نظر میں وہ بھانپ جاتے تھے کہ یہ آئے گا تو ان کی چودہراہٹ کی بساط بھی لپیٹ کر رکھ دی جائے گی اور ان کے لئے کسی طرح کی کوئی آزادی باقی نہ رہے گی۔ اسی طرح کی صورت حال سے اس وقت نبی اعظم و آخر ﷺ کو سابقہ تھا۔ یہ شیاطین من الانس والجن کیا کرتے فرمایا : ” ایک دوسرے کو دکھاوے کی خوش نما باتیں سکھاتے تاکہ لوگوں کو فریب دیں۔ “ معلوم ہوا کہ شیطانی تلبیسات ہمیشہ کوئی نہ کوئی ظاہری پہلو خوش نمائی کا رکھتی ہیں۔ اگر فوری لذات اور ظاہری آب وتاب ان میں نہ ہو تو کوئی ادھر کا رخ کیوں کرے ؟ اس وسوسہ اندازی پر ” وحی “ لفظ بول کر یہ بات واضح کردی کہ ان کی یہ وسوسہ اندازی ایسی نہیں ہوتی جس کی ظاہری شکل و صورت دیکھ کر اس پر بدگمانی کی جاسکے ان کا ارادہ اور ان کی سکیم نہایت گہری ہوتی ہے۔ اس وقت دوسری جنگ عظیم کے بعد ان شیاطین نے جو سکیم بنائی وہ پچھلے سارے شیطانوں کی سکیموں سے بڑی اور سب سے زیادہ خوبصورت ہے جس کی داغ بیل 1939 ء میں رکھی گئی اور اس کا نام ” اقوام متحدہ “ طے پایا۔ آپ غور کریں گے تو اس کی ملمع سازی آپ پر روشن ہوجائے گی اس لئے کہ اس میں اچھے خاصے ملمع سازی کے پہلو موجود ہیں۔ اس کی چاشنی اتنی میٹھی اور دلربا ہے کہ دیکھتے ہی ہر آدمی ہر ملک کی رال ٹپک پڑتی ہے پوری دنیا کے روٹی کپڑے کا حل وہ پیش کر رہے ہیں۔ دنیا سے مفلسی و محتاجی وہ مٹا رہے ہیں۔ دنیا کو صحت و تندرستی وہ پہنچا رہے ہیں۔ دنیا میں کوئی ؟ ؟ ؟ لے آتے ہیں اور جس کو چاہتے ہیں لے جاتے ہیں۔ لیکن جب یہ راز کھلے گا تو سب کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ جائیں گی کہ یہ بھی دراصل ایک فریب تھا۔ تمہارا پروردگار چاہتا تو وہ یہ کچھ نہ کرپاتے ان کو اور ان کے افتراء کو چھوڑ دو : 170: اے میرے رسول ﷺ : ان مداریوں نے جو سانگ رچایا ہے آپ ﷺ نے ہمارے حکم سے اس کو واضح کردیا اب ان کو بھان متی کا کھیل کھلینے دو ۔ وقت آنے والا ہے کہ انکے سارے افتراء کو کھول کر رکھ دیا جائے گا۔ رب العزت کی مشقت تکوینی اس طرح ہے کہ ان کا ” بھانڈاچورا ہے پر پھوٹے “ اور اس تماشا کے تماشائی حیرت زدہ ہو کر انگشت بدندان ہوں۔ چاہے اس حیرانی کا ان کو کچھ فائدہ نہ ہو۔ اللہ کا قانون امہال جاری ہے اور جب تک وہ چاہے گا اس کو جاری رکھے گا۔
Ayah 6:113

وَ لِتَصْغٰۤى اِلَیْهِ اَفْئِدَةُ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ وَ لِیَرْضَوْهُ وَ لِیَقْتَرِفُوْا مَا هُمْ مُّقْتَرِفُوْنَ Open ayah 6:113 in the Quran reader

اور تاکہ جو لوگ آخرت پر یقین نہیں رکھتے ان کے دل ان کی طرف جھک پڑیں اور ان کی باتیں پسند کریں اور جیسی کچھ بدکرداریاں وہ خود کرتے رہتے ہیں ویسی ہی وہ بھی کرنے لگیں

جو لوگ آخرت پر یقین نہیں رکھتے ان کا جھکاؤ اس طرف ہے ان کو ان کا حصہ مل جائے گا : 171: تصغی ، صغی سے ہے جس کے معنی جھکنے اور مائل ہونے کے ہیں۔ مضارع کا صیغہ اور مونث غائب۔ مقترفون ، قرب سے جس کے معنی درخت کی کھال چھیلنے اور زخم کا چلکا اتارنے کے ہیں۔ مجازی معنی کمائی کرنا ایسی کمائی جو اچھی نہ ہوئی اسم فاعل جمع مذکر۔ ” وہ مرتکب ہونے لگیں جس کے وہ مرتکب ہونا چاہتے ہیں۔ “ اے پیغمبر اسلام ! ہمارے قانون امہال کا یہ نتیجہ ہے کہ جن لوگوں کے دل آخرت پر نہیں جمتے ان کے دل جب ان شیطانوں کی شیطنت کی طرف رغبت کرتے ہیں تو ہم ان کو فوراً نہیں پکڑ لیتے بلکہ ہمارا قانون امہال ان کو مہلت دیتا ہے کہ وہ انکی باتیں پسند کریں اور جیسی بدکرداریاں وہ شیاطین یعنی سردار کر رہے ہیں وہ بھی انکے ساتھ مل کر وہی کچھ کریں جو وہ کر رہے ہیں اگر رسہ گیر ہیں تو رسہ کشید بھی ہوں گے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو ممکن نہ تھا کہ دنیا میں کوئی فرد یا کوئی جماعت اپنی بدعملیوں کے ساتھ مہلت حیات پا سکتی۔ اس بات کو دوسری جگہ اس طرح بیان کیا کہ : ” اور جب کبھی انسان کو کوئی رنج پہنچتا ہے خواہ کسی حال میں ہو کروٹ پر لیٹا ہو ، بیٹھا ہو ، کھڑا ہو ہمیں پکارنے لگے گا لیکن جب ہم اس کا رنج دور کردیتے ہیں تو پھر اسی طرح چل دیتا ہے گویا رنج و مصیبت میں کبھی اس نے ہمیں پکارا ہی نہیں تھا تو دیکھو ! جو حد سے گزر گئے ہیں ان کے کام خوشنما کردیئے گئے ہیں ۔ “ (یونس 10 : 12) وہ کہتا ہے کہ جس طرح مادیات میں ہر حالت بتدریج نشو ونما پاتی ہے اور ہر نتیجہ کے ظہور کے لئے ایک خاص مقدار اور ایک خاص مدت اور ایک خاص وقت مقرر کردیا گیا ہے ٹھیک اسی طرح اعمال کے نتائج کے لئے بھی مقدار و اوقات کے احکام مقرر ہیں اور ضروری ہے کہ ہر نتیجہ ایک خاص مدت کے بعد اور ایک خاص مقدار کی نشو ونما کے بعد ظہور میں آئے۔ مثلاً فطرت کا یہ قانون ہے کہ اگر پانی آگ پر رکھا جائے تو وہ گرم ہو کر کھولنے لگے لیکن پانی کے گرم ہونے اور بالاخر کھولنے کے لئے حرارت کی ایک خاص مقدار ضروری ہے اور اس کے ظہور تکمیل کے لئے ضروری ہے کہ ایک مقرر وقت تک انتظار کیا جائے ایسا نہیں ہوسکتا کہ ٹھنڈا پانی چولہے پر رکھا اور فوراً کھولنے لگے۔ وہ یقیناً کھولنے لگے گا لیکن اس وقت جب حرارت کی مقررہ مقدار بتدریج تکمیل تک پہنچ جائے گی ٹھیک اسی طرح یہاں انسانی اعمال کے نتائج بھی اپنے مقررہ اوقات ہی ظہور پذیر ہوتے ہیں اور ضروری ہے کہ جب تک اعمال کے اثرات ایک خاص مقررہ مقدار تک نہ پہنچ جائیں نتائج کے ظہور کا انتظار کیا جائے۔
Ayah 6:114

اَفَغَیْرَ اللّٰهِ اَبْتَغِیْ حَكَمًا وَّ هُوَ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ اِلَیْكُمُ الْكِتٰبَ مُفَصَّلًا١ؕ وَ الَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ یَعْلَمُوْنَ اَنَّهٗ مُنَزَّلٌ مِّنْ رَّبِّكَ بِالْحَقِّ فَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِیْنَ Open ayah 6:114 in the Quran reader

کیا میں اللہ کے سوا کوئی دوسرا منصف ڈھونڈوں ؟ حالانکہ وہی ہے جس نے تم پر { الکتب } نازل کردی جو کھول کھول کر بیان کرنے والی ہے اور دیکھو جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی ہے وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ قرآن تمہارے پروردگار کی طرف سے سچائی کے ساتھ نازل ہوا ہے ، پس ان لوگوں میں سے نہ ہوجاؤ جو شک کرنے والے ہیں

کیا میں اللہ کے سوا کوئی دوسرا منصف تلاش کروں ؟ 172: غور کرو کہ مقدمہ کیا ہے ؟ نبی اعظم و آخر ﷺ نبوت و رسالت کے مدعی ہیں اور معاندین و مخالفین اس کے منکر۔ اب اس کا فیصلہ کہاں ہوگا اور کون کریگا ؟ ظاہر ہے کہ یہ مقدسہ اس احکم الحاکمین کے اجلاس میں فصیل ہو سکتا ہے اور وہاں سے یہ فیصلہ محمد رسول اللہ ﷺ کے حق میں ہوچکا وہ اس طرح کہ اس دعویٰ پر جو دلیل دی گئی وہ قرآن کریم ہے اس نے تمام اقوام عالم کو چیلنج کیا کہ اگر اس کے کلام الٰہی ہونے میں کسی کو شبہ ہے تو اس جیسی ایک چھوٹی سی سورت خواہ وہ تین ہی آیتوں پر مشتمل ہو بنا کرلے آؤ اور جس جس کو تم چاہتے ہو اللہ کے سوا اس میں شریک بھی کرلو اور پھر یہ دعویٰ شائع کردیا گیا لیکن اس کے جواب میں تمام عرب و عجم عاجز رہا اور وہ لوگ جو نبی اعظم و آخر ﷺ اور اسلام کو پست کرنے کے لئے اپنی جان ، مال ، اولاد اور آبرو سب کچھ قربان کر رہے تھے ان میں سے ایک بھی ایسا نہ نکلا کہ قرآن کریم کے مقابلہ کے لئے ایک دو آیات بنا کر پیش کردیتا یہ کھلا ہوا معجزہ کیا قبول حق کے لئے کافی نہ تھا کہ ایک امی جس نے کہیں کسی سے تعلیم حاصل نہیں کی اس کے پیش کئے کلام کے مقابلہ سے سارا عرب بلکہ پورا جہاں عاجز ہوجائے اور یہی احکم الحاکمین کی عدالت سے اس مقدمہ کا واضح فیصلہ ہے کہ نبی کریم ﷺ اللہ کے رسول اور قرآن کریم اللہ تعالیٰ کا کلام ہے۔ تم کیا چاہتے ہو کہ اس فیصلہ الٰہی کے آجانے کے بعد میں کسی اور فیصلہ کرنے والے کو تلاش کروں ؟ سو اچھی طرح سن لو کہ یہ نہیں ہو سکتا۔ ہاں ! یہ فیصلہ ہوجانے کے بعد قیامت تک یہ فیصلہ پڑھا جاتا رہے گا اور قیامت تک اس کا یہ چیلنج بھی اپنی جگہ بدستور قائم رہے گا اگر اب بھی تم کو شوق ہے تو بڑی خوشی سے آؤ اور ہمارے دعویٰ کو غلط ثابت کر دو اور پھر سن لو کہ ہمارا دعویٰ یہ ہے کہ ” اگر تمہیں اس امر پر شک ہے کہ یہ کتاب جو ہم نے اپنے بندے پر اتاری ہے یہ ہماری ہے یا نہیں ؟ تو اس کی مانند ایک ہی سورت بنا لاؤ ، اپنے سارے ہم نواؤں کو بلالو ایک اللہ کو چھوڑ کر باقی جس جس کی چاہو مدد لے لو اگر تم سچے ہو تو یہ کام کر دکھاؤ ۔ “ یہ چیلنج ان کو کئی بار دیا گیا ، مکہ میں اس کا اعلان کرایا گیا اور اس کو دہرایا گیا۔ “ (یونس 10 : 38) (ہود 11 : 13) (بنی اسرائیل 17 : 88) (الطور 52 : 33 ‘ 34) آج اگر اس الٰہی فیصلہ کے پیش نظر ہمارے علمائے کرام اور مناظرین اسلام بھی عقل و فکر سے کام لیتے تو اپنے فیصلوں کو جہلا سے کرانے کی بجائے کسی اسلامی عدالت کی طرف رجوع کرتے جو کم از کم ایسے فیصلے سننے کی مجاز ہوتی تو کسی حد تک ہمارے اختلافی مسائل کا کوئی حل ہمارے سامنے آجاتا لیکن یہاں جو صورت حال ہے وہ اتنی ناگفتہ بہ ہے کہ اس کا نام لیتے بھی شرم آتی ہے کہ مسئلہ شرک و توحید کا ، مسئلہ بشر و رسول کا ، مسئلہ غیب اور حاضر و ناظر کا ، مسئلہ فاتحہ خلف الامام اور آمین بالجر کا ، مسئلہ سنت اللہ ، کلمۃ اللہ اور عدل الٰہی کا لیکن فیصلہ کرنے والے وہ لوگ جن کو قرآن کریم کی زبان میں ” شیاطین “ کے نام سے یاد کیا گیا اور ان کو ” مترفین “ کہا گیا ” متکبرین “ اور جاہدین “ کے ناموں سے موسوم کیا گیا۔ ایسا کیوں ہوا ؟ اس لئے کہ یہی لوگ ان کے پشتیباں ہیں جو بیٹروں اور مرغوں کی طرح ان کو لڑا کر شغل دیکھنے والے اور ان میں انعام تقسیم کرنے والے ہیں۔ قرآن کریم کی مخصوص صفات کا ذکر جو سچائی کے ساتھ نازل کیا گیا : 173: آیت کے اس حصہ میں قرآن کریم کی چند خصوصیات کا ذکر کیا گیا ہے جو خود قرآن کریم کے حق اور کلام الٰہی ہونے کا ثبوت ہیں۔ اول یہ کہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کیا ہوا ہے۔ دوم یہ کہ وہ ایک کتاب کامل اور معجز ہے کہ سارا جہان اس کے مقابلہ سے عاجز ہے۔ سوم یہ کہ تمام اہم اور اصولی مضامین اس میں بہت مفصل اور واضح طور پر بیان کردیئے گئے ہیں۔ چہارم یہ کہ قرآن کریم سے پہلے اہل کتاب یہود ونصاری بھی یقین کے ساتھ جانتے ہیں کہ قرآن کریم اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کیا ہوا کلام ہے اور یہی وجہ ہے کہ جن لوگوں میں کچھ بھی سچائی اور حق گوئی کی صفت تھی انہوں نے اس کو ظاہر بھی کردیا اور جو لوگ معاند تھے وہ باوجود یقین کے اس کا اظہار نہ کرتے تھے ورنہ ان کے دلوں میں اس بات کا یقین موجود تھا جس کی بیسیوں مثالیں پیش کی جاسکتی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ قرآن کریم نے آغاز نزول ہی سے عربوں کو اپنی سحر طرازی سے مسحور کرلیا تھا اس سے وہ لوگ بھی مسحور ہوگئے جن کے سینے کو اللہ تعالیٰ نے اسلام کے لئے کھول دیا تھا اور وہ اس کی آغوش میں آگئے اور وہ بھی جن کی آنکھوں پر اس نے پردہ ڈال دیا اور وہ نور قرآن سے مستفید نہ ہوسکے۔ اگر ان چند حضرات سے صرف نظر کرلیا جائے جو آغاز اسلام میں براہ راست حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی شخصیت سے متاثر ہو کر حلقہ بگوش اسلام ہوئے مثلاً آپ ﷺ کی زوجہ محترمہ حضرت خدیجہ الکبری ؓ ، آپ ﷺ کے مخلص دوست حضرت ابوبکر صدیق ؓ ، آپ ﷺ کے چچا زاد بھائی حضرت علی ؓ ، آپ ﷺ کے آزاد کردہ غلام حضرت زید ؓ اور اسی طرح کے بعض دیگر حضرات تو ہمیں تسلیم کرنا پڑے گا کہ آغاز اسلام میں جو لوگ مشرف بہ اسلام ہوئے اس کا واحد محرک صرف قرآن کریم تھا۔ ان دونوں نہ تو نبی کریم ﷺ کو وہ ذرائع ووسائل حاصل تھے جو آگے چل کر نصیب ہوئے اور نہ اسلام کو وہ قوت و شوکت ملی تھی جو اس کا مقدر بننے والی تھی۔ حضرت عمر بن خطاب ؓ کے اسلام لانے اور ولید بن مغیرہ کی اسلام سے روگردانی اختیار کرنے کے اوقات ایمان و انحراف کے کثیر واقعات میں سے دو عجیب نمونے ہیں۔ یہ دونوں واقعات اس امر کی کھلی ہوئی دلیل ہیں کہ قرآن کریم نے آغاز کا رہی سے اپنے جادو سے عربوں کو مسحور کرلیا تھا۔ ان دونوں واقعات سے یہ حقیقت کھل کر سامنے آتی ہے کہ قرآن کریم کی سحر طرازی کا اعتراف اہل ایمان اور کفار سبھی کو تھا۔ حضرت عمرفاروق ؓ کے ایمان لانے کا قصہ معروف و مشہور ہے لیکن ولید بن مغیرہ کے متعلق کچھ عرض کردینا ضروری معلوم ہوتا ہے تاکہ اس کی وضاحت ہوجائے۔ ولید بن مغیرہ نے قرآن کریم کا کچھ حصہ سنا اور بظاہر اس میں کچھ رقت بھی پیدا ہوئی۔ یہ دیکھ کر قریش کہنے لگے ولید دین سے پھر گیا یعنی مسلمان ہوگیا۔ اسی طرح قریش اپنے مذہب سے پھرجائیں گے۔ چناچہ قریش نے ولید کی عزت نفس اور اس کے غرور حسب ومال کو ابھارنے کے لئے ابو جہل کو اس کے پاس بھیجا تاکہ وہ قرآن کریم سے نفرت و حقارت کا اظہار کرے اور قریش بھی اس سے آگاہ ہوجائیں۔ ولید کہنے لگا میں ” قرآن کریم کے بارے میں کیا کہوں ؟ بخدا تم میں ایک آدمی بھی ایسا نہیں ہے جو شعرا ، ترانہ ، قصائد حتی کہ جنون کے اشعار کے بارے میں بھی مجھ سے زیادہ علم رکھتا ہو۔ محمد (a) جو قرآن سناتا ہے وہ ان میں سے کسی کے ساتھ مشابہت نہیں رکھتا۔ خدا کی قسم جو کلام اس پر نازل ہوا اس میں شیرینی پائی جاتی ہے۔ اس میں تروتازگی اور شادابی کے آثار ہویدا ہیں۔ جو چیز بھی اس کے مقابل آتی ہے اس کو ریزہ ریزہ کر ڈالتا ہے اور وہ غالب ہے مغلوب نہیں۔ “ ابوجہل نے کہا ” جب تک آپ قرآن کریم کی مذمت نہیں کریں گے آپ کی قوم آپ سے راضی نہیں ہوگی۔ “ ولید نے کہا ” پھر مجھے سوچنے کا موقعہ دیجئے “ پھر وہ سوچ بچار کے بعد بولا یہ تو جادو ہے جو نقل کیا جارہا ہے تم دیکھتے نہیں کہ قرآن ہر شخص کو اس کے احباب و اعزہ سے الگ کردیتا ہے۔ چناچہ قرآن کریم نے اس ضمن میں یہ ارشاد فرمایا کہ : ” اس نے توقف کیا اور (اپنے دل میں) ایک بات طے کرلی۔ پھر وہ غارت ہو کیسی (بری) بات (اس نے) تجویز کی۔ پھر وہ غارت ہو کیسی (بری) بات (اس نے) تجویز کی۔ پھر (اس نے لوگوں کی طرف) دیکھا۔ پھر تیو ری چڑھائی اور ترش رو ہوا۔ پھر پیٹھ پھیری اور غرور کا اظہار کیا۔ پھر بولا کہ یہ کچھ نہیں بس وہی جادو ہے جو (مدت سے) چلا آتا ہے۔ “ (المدثر 18 تا 24) یہ اس شخص کا قول ہے جو اسلام سے روگردانی اختیار کرتا ہے ، محمد رسول اللہ ﷺ کے سامنے سر تسلیم خم کرنے کو اپنی تحقیر خیال کرتا ہے۔ حسب و نسب ، دولت و ثروت اور اولاد واحفاد کو اپنے لئے سرمایہ افتخار سمجھتا ہے یہ ایسے شخص کا قول نہیں جو ایمان لاچکا ہو اور قرآن کریم کی غالب آجانے والی اثر آفرینی کو اپنے ایمان کی علت قرار دیتا ہو۔ یہ زبردست دلیل ہے اس بات کی کہ قرآن کریم نے عربوں کو مسحور کردیا تھا۔ ان لوگوں میں نہ جاؤ جو شک کرنے والے اور وہم کے مارے ہوئے ہیں : 174: آیت کے اس حصہ میں بظاہر خطاب تو بنی اعظم و آخر ﷺ ہی سے ہے لیکن اس بات کی کتنی بار تشریح پیچھے گزرچکی کہ آپ ﷺ کو مخاطب کرنے میں حکمت کیا ہے ؟ شک و شبہ میں مبتلا اور وہم کے مارے ہوؤں کو جو کوئی مخاطب ہو کر بات کرتا ہے تو وہ مبہوت ہو کر اس کے گلے پڑنے کی کوشش کرتے ہیں اور ایسی صورت میں وہ حق و ناحق میں امتیاز ہی نہیں کرسکتے اور اس کے مقابلے میں ایک عقل مند اور غور وفکر کرنے والے کو جب مخاطب کریں گے تو خطاب کتنا بھی سخت ہوا وہ بات کو سوچنے پر مجبور ہوگا کیونکہ جس طرح وہم و گمان میں مبتلا اپنی عادت ثانیہ سے مجبور ہے بالکل اسی طرح ایک عقل مند بھی اپنی عادت سے مجبور ہے جس طرح پہلا ایسی صورت میں کچھ سوچ نہیں سکتا اسی طرح دوسرا بغیر سوچے نہیں رہ سکتا۔ اگر ان لوگوں کو مخاطب کیا جاتا جو پہلے شک کرنے والے اور وہم و گمان میں مبتلا ہیں جو جزبز ہو کر انکار کردیتے اور بڑبڑانے لگتے اور جب ان کو براہ راست مخاطب نہیں کیا گیا تو اب وہ یکایک اس سے انکار بھی نہیں کرسکتے اس لئے کہ ان کو کچھ کہا ہی نہیں گیا۔ اس لئے اس حکمت کے تحت آپ ﷺ کو مخاطب کر کے وہ بات کہی گئی جو دوسروں تک پہنچانا مقصود تھی ورنہ حاشا کلا کہ کبھی آپ ﷺ کو کسی طرح کا کوئی شک گزرا ہو اور پھر خود نبی کریم ﷺ کا ارشاد گرامی بھی ہے کہ ” نہ کبھی میں نے شک کیا اور نہ کبھی ایسا سوال کیا۔ “ (ابن کثیر)
Ayah 6:115

وَ تَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ صِدْقًا وَّ عَدْلًا١ؕ لَا مُبَدِّلَ لِكَلِمٰتِهٖ١ۚ وَ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 6:115 in the Quran reader

اور یاد رکھو تمہارے پروردگار کی بات سچائی اور انصاف کے ساتھ پوری ہوگئی ، اس کی باتوں کو کوئی بدلنے والا نہیں ، وہ سننے والا ، جاننے والا ہے

رب کریم کی بات سچائی اور انصاف کے ساتھ پوری ہوگی کہ اس کی باتیں بدلا نہیں کرتیں : 175: ” کلمہ “ واحد بھی ہو تو اس کا اطلاق مجموعہ کلام ہوتا ہے اور خصوصاً جب وہ پورا کلام حکم واحد میں ہوتا ہے چناچہ ” کلمہ زبیر “ سے مراد ہے قصیدہ زہیر اور کلمہ اول۔ کلمہ دوم اور کلمہ سوم عام لوگوں میں معروف ومشہور ہے۔ اسی طرح لفظ ” تَمَّتْ “ بھی عام ہے جس میں کامل ہونے کا اشارہ پایا جاتا ہے اور ” كَلِمَتُ رَبِّكَ “ سے مراد قرآن کریم بھی ہے اور کائنات کا ایک ایک ذرہ بھی۔ قرآن کریم کے کل مضامین دو قسم کے ہیں ایک وہ جن میں تاریخ عالم کے عبرت آموز واقعات و حالات اور نیک اعمال پر وعدہ اور برے اعمال پر سزا کی وعید بیان کی گئی ہے دوسرے وہ جن میں انسان کی اصلاح و فلاح کے لئے احکام بیان کے گئے ہیں ان دونوں قسموں کے متعلق قرآن کریم کی دو صفتیں بیان فرمائیں ” صِدْقًا وَّ عَدْلًا 1ؕ“ صدق کا تعلق پہلی قسم سے ہے یعنی جتنے واقعات و حالات یا وعدہ و وعید قرآن کریم میں بیان کئے گئے وہ سب سچ اور صحیح ہیں ، ان میں کسی قسم کی غلطی کا کوئی امکان نہیں اور عدل کا تعلق دوسری قسم یعنی احکام سے ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے تمام احکام عدل پر مبنی ہیں اور لفظ عدل کا مفہوم دو معنی کو شامل ہے۔ ایک انصاف جس میں کسی پر ظلم اور حق تلفی نہ ہو دوسرے اعتدال کونہ بالکل انسان کی نفسائی خواہشات کے تابع ہوں اور نہ ایسے جن کو انسانی جذبات اور اس کے فطری ملکات برداشت نہ کرسکیں جس کا مطلب یہ ہوا کہ تمام احکام الہیہ انصاف اور اعتدال پر مبنی ہیں نہ ان میں کسی پر ظلم ہے اور نہ ان میں ایسی شدت اور تکلیف ہے جس کو انسان برداشت نہ کرسکے۔ اس بات کو دوسری جگہ قرآن کریم میں اس طرح بیان کیا گیا کہ لا یکلف اللہ نفسا الا وسعھا ” یعنی اللہ تعالیٰ کسی شخص کو اس کی وسعت و طاقت سے زیادہ کسی عمل کی تکلیف نہیں دیتا “ اور یہ بات کہ تمام قرآنی احکام تمام اقوام دنیا کے لئے اور قیامت تک آنے والی نسلوں اور بدلنے والے حالات کے لئے انصاف پر بھی مبنی ہوں اور اعتدال پر بھی اس پر اگر ذرا بھی غور کیا جائے تو یہ صرف احکام خداوندی ہی ہو سکتے ہیں۔ دنیا کی کوئی قانون ساز اسمبلی تمام موجودہ اور آئندہ پیش آنے والے حالات کا نہ پورا اندازہ لگا سکتی ہے اور نہ ان سب حالات کی رعایت کر کے کوئی قانون بنا سکتی ہے۔ ہر ملک و قوم اپنے ملک اور اپنی قوم کے بھی صرف موجودہ حالات کے پیش نظر قانون بناتی ہے اور ان قوانیں میں بھی تجزیہ کرنے کے بعد بہت سی چیزیں عدل و اعتدال کے خلاف محسوس ہونے لگتی ہیں تو ان کو بدلنا پڑتا ہے۔ دوسری قوموں اور دوسرے ملکوں یا آئندہ حالات کی پوری رعایت کرکے ایسا قانون وضع کرنا جو ہر حال میں عدل و اعتدال کی صفات کو لئے ہوئے ہو یہ انسان فکر و نظر سے بالاتر ہے صرف اللہ تعالیٰ ہی کے کلام میں ہو سکتا ہے۔ علاوہ ازیں قرآن کریم میں بیان کئے گئے گذشتہ واقعات اور آئندہ رونما ہونے والے واقعات اور آخرت کے متعلق واقعات اور وعدہ ووعید سب سچے ہیں ان میں خلاف واقع ہونے کا ادنی شبہ بھی نہیں ہو سکتا اور یہ بھی کہ وہ سب واقعات انسانی زبان کے مطابق بیان ہوئے ہیں۔ قرآن کریم کے تمام احکام اعتدال ومیانہ روی سے سرمو تجاوز نہیں کرتے اور یہ بات بھی قرآن کریم کے کلام الٰہی ہونے کے دلائل میں سے ایک کامل اور مکمل دلیل ہے۔ لَا مُبَدِّلَ لِكَلِمٰتِهٖ 1ۚ ” اس کے کلمات کو کوئی بدلنے والا نہیں۔ “ بدلنے کی ایک صورت تو یہ ہو سکتی ہے کہ کوئی اس میں غلطی ثابت کرے اسلئے اس کو بدلا جائے یا نہ کوئی دشمن زبردستی اس کو بدل ڈالے۔ اللہ کا کلام ان باتاوں سے بالاتر اور پاک ہے نہ کبھی اس میں کوئی غلطی ثابت ہو سکتی ہے کہ اس کو اللہ ہی بدلے اور نہ کوئی دشمن زبردستی اس کو بدل سکتا ہے کیونکہ وہ خود سارے زبردستوں سے زیادہ زبردست ہے۔ وہ کون ہے جو اس پر زبردستی اس کو بدل سکتا ہے کیونکہ وہ خود سارے زبردستوں سے زیادہ زبردست ہے۔ وہ کون ہے جو اس پر زبردستی کرسکے۔ رہے وہ لوگ جن لوگوں کو یہ شوق ہے کہ اگر اللہ اپنی بات کو نہ بدلے تو وہ طاقتور ورنہ طاقتور نہیں ہوتا وہ دراصل اپنے سے زبردستوں میں رہ رہ کر اور ان کی بداعتدالیاں اور بدتمیزیاں دیکھ دیکھ کر ان سے اتنے خائف ہوچکے ہیں کہ وہ ان زبردستوں کو بےغیرت اور بدتمیز کہنے کی بجائے اللہ کو اپنی باتیں اور کلمات بدل لینے والا ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں اسلئے انکو معذور سمجھ کر ان کو عقل کی دعا دینا مناسب خیال کیا جاتا ہے کہ اللہ ان کو اصل بات سمجھنے کی توفیق دے اور ان دنیا کے زبردستوں سے اللہ کو نجات دے کر بشرطیکہ وہ بھی ان سے نجات حاصل کرنا چاہیں۔ آیت کے اس حصہ کی مزید تشریح کے لئے اس سورت کی آیت 34 کا مطالعہ کریں وہاں اس کی تفصیل مل جائے گی۔ ” وہ سننے والا جانے والا۔ “ اس سلسلہ میں جو کچھ لوگ کہتے ہیں خواہ وہ کسی زبان میں کہیں یا اپنے دل ہی دل کے اندر کہیں۔ وہ ہر طرح کی باتوں کو سنتا اور جو کچھ کوئی کرتا ہے وہ ظاہر طور پر کرے یا چھپ چھپا کر بہر حال وہ سب کچھ دیکھ رہا ہے اس سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں ہے۔