6. Surah Al-An'aam

الأنعامThe Cattle · 165 ayahsعروۃ الوثقٰی

Ayah 6:141

وَ هُوَ الَّذِیْۤ اَنْشَاَ جَنّٰتٍ مَّعْرُوْشٰتٍ وَّ غَیْرَ مَعْرُوْشٰتٍ وَّ النَّخْلَ وَ الزَّرْعَ مُخْتَلِفًا اُكُلُهٗ وَ الزَّیْتُوْنَ وَ الرُّمَّانَ مُتَشَابِهًا وَّ غَیْرَ مُتَشَابِهٍ١ؕ كُلُوْا مِنْ ثَمَرِهٖۤ اِذَاۤ اَثْمَرَ وَ اٰتُوْا حَقَّهٗ یَوْمَ حَصَادِهٖ١ۖ٘ وَ لَا تُسْرِفُوْا١ؕ اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الْمُسْرِفِیْنَۙ Open ayah 6:141 in the Quran reader

اور وہ اللہ ہی ہے جس نے باغ پیدا کیے چھپروں پر چڑھائے ہوئے اور کھجوروں کے درخت اور کھیتیاں جن کے پھل مختلف قسموں کے ہوتے ہیں نیز زیتون اور انار کے درخت شکل و صورت میں ایک دوسرے سے ملتے ہوئے اور ایک دوسرے سے الگ الگ سو ان کے پھل شوق سے کھاؤ جب وہ پھل تیار ہوجائیں اور چاہیے کہ جس دن فصل کاٹو تو اس کا حق بھی دے دیا کرو اور اسراف نہ کرو اللہ انہیں دوست نہیں رکھتا جو اسراف کرنے والا ہوں

قدرت الٰہی کے وہ نشانات جن کو ہر انسان کی آنکھ دیکھتی اور دماغ سمجھتا ہے : 216: ” اَنْشَاَ “ اس نے پیدا کیا۔ اس نے پرورش کی۔ قرآن کریم نے قدرت الٰہی کے نشانات جہاں بھی بیان کئے صرف اور صرف اس بات کی تفہیم کے لئے کئے تاکہ انسان اللہ کو پہچانے اور اس کو مالک حقیقی تصور کرتے ہوئے اس کی ملک اور اس کے ملک میں رہ کر اس کے حکم کا پابند ہو اس نے انسانوں کو ان کی اپنی پیدائش سے استدلال کر کے سمجھایا کہ تم یہ بات دیکھتے اور سمجھتے ہو کہ پہلے تم کیسے پیدا کئے گئے تھے اور پھر تمہاری پیدائش کے لئے قدرت الٰہی نے کیا ضابطہ مقرر کردیا۔ کس طرح باپ کی صلب سے وہ نطفہ منتقل ہوا جس سے تم وجود میں آئے۔ کس طرح رحم مادر میں جو قبر سے کچھ کم تاریک نہ تھا تمہیں پرورش کر کے زندہ انسان بنایا۔ کس طرح ایک ذرہ بےمقدار کو نشو ونما دے کر یہ دل و دماغ ، یہ آنکھ ، کان اور یہ ہاتھ پائوں اس میں پیدا کئے گئے اور عقل و شعور ، علم و حکمت ، صنعت وایجاد اور تدبر و تسخیر کی یہ حیرت انگیز صلاحیتیں اس کو عطا کی گئیں۔ تم کو ایک انسان کا بچہ بنا کر جب ماں کے بطن سے باہر لایا تو تمہاری غذا کے لئے دو نہریں جاری کردیں۔ تمہیں ان سے وہ غذا دی جو تمہارے جسم اور جسم کی نشو ونما کے لئے ایک وقت تک ضروری تھی۔ پھر تم نے جبھی آنکھ کھولی تو اپنے اردگرد اپنا رزق کس طرح بکھرا ہوا پایا جس طرح تمہاری پیدائش میں انسانی کوشش کا دخل اس سے زائد کچھ نہیں کہ تمہارا باپ تمہاری ماں کے رحم میں نطفہ ڈال دے اس طرح تمہارے رزق کی پیداوار میں بھی انسان کی کوشش کا دخل اس سے بڑھ کر کچھ نہیں ہے کہ کسان کھیتی میں بیج ڈال دے۔ زمین جس میں کاشت کی جاتی ہے تمہاری بنائی ہوئی نہیں ہے اس زمین کو روئیدگی کی صلاحیت تم نے نہیں بخشی اس میں وہ مادے جن سے تمہاری غذا کا سامان بہم پہنچتا ہے تم نے فراہم نہیں کئے ہیں۔ اس کے اندر جو بیج ڈالتے ہو ان کو نشو ونما کے قابل تم نے نہیں بنایا ہے۔ ان بیجوں میں یہ صلاحیت کہ ہر بیج سے اس نوع کا درخت پھوٹے جس کا وہ بیج ہے ، تم نے پیدا نہیں کی ہے۔ اس کاشت کو لہلہاتی کھیتیوں میں تبدل کرنے کے لئے زمین کے اندر جس عمل اور زمین کے اوپر جس ہوا ، پانی ، حرارت ، برودت اور موسمی کیفیت کی ضرورت ہے ان میں سے کوئی چیز بھی تمہاری کسی تدبیر کا نتیجہ نہیں ہے۔ سب کچھ اللہ ہی کی قدرت اور اس کی پروردگاری کا کرشمہ ہے اور پھر جب تم وجود میں اس کے لانے سے آئے ہو اور اس کے رزق سے چل پھر رہے ہو تو تم کو اس کے مقابلہ میں خود مختاری کا یا اس کے سوا کسی اور کی بندگی کرنے کا حق کیسے پہنچتا ہے ؟ فرمایا اللہ تعالیٰ کی حکمت بالغہ اور قدرت کاملہ کا اندازہ لگانا چاہو تو عالم نباتات ہی میں غور کرو یہ مختلف قسم کے لذیذ پھل اور اونچے اونچے کھجور کے درخت ، یہ لہلہاتے ہوئے کھیت جن کی اقسام کا شمار ممکن نہیں جو کہیں رنگ اور شکل میں دوسرے سے ملتے جلتے ہیں تو بو اور ذائقہ میں الگ الگ ہیں۔ ایک انار کو لیجئے غلاف کے اندر متعدد خانے ہیں جنہوں ابریشم سے بھی نرم پردوں سے الگ الگ کردیا گیا ہے اور پھر ہر خانہ میں عقیق سے بھی زیادہ چمکدار دانے بڑی احتیاط سے لپیٹ کر رکھ دئیے گئے ہیں۔ ہر دانہ اپنے رنگ اور ذائقہ میں ایک مکمل وحدت ہے۔ یہ سب کچھ غیر مبہم انداز میں بیان کر رہا ہے کہ ان کو رنگ وبو اور ذائقہ اور لذت عطا فرمانے والا بہت بڑا حکیم ، دانا اور قادر مطلق ہے۔ دیکھو یہ کیسے کیسے باغات ہیں کچھ چھپروں پر چڑھائے ہوئے جیسے انگور کے باغات اور کچھ بغیر چھپروں کے چڑھائے ہوئے زمین پر بچھائے ہوئے جیسے خربوزہ اور تربوز سبز فرشوں کی طرح اور یہ آسمان بوس کھجوروں کے درخت۔ یہ آم ، جامن اور چلغوزوں کے پیڑ۔ یہ مالٹے ، سنگترے اور کینو کے پھل دار پودے۔ یہ ناشپاتیوں اور سیبوں کے پودے ، یہ انار ، خوبانی اور زیتون کے پھل دار بوٹے۔ ان کے ان پھلوں کی طرف دیکھو جب یہ ان درختوں کے ساتھ لٹکتے نظر آتے ہیں اور پھر اس وقت کی حالت پر غور کرو جب یہ پک کر تیار ہوتے ہیں اور ان کے مختلف مزوں پر غور کرو کہ ایک ہی طرح کے پھلوں کے اندر کیسے مختلف مزے ڈال دئیے گئے ہیں جو ان کی اچھی اور بری یا نہ اچھی اور نہ بری صنف کی طرف تمہاری راہنمائی کر رہے ہیں یہ سب کچھ کیا ہے ؟ یہ اللہ کی وحدانیت کے نشانات ہی تو ہیں بشرطیکہ کوئی تم میں غوروفکر کرنے والا بھی ہو۔ چاہئے کہ ان فصلوں کو کاٹتے وقت یا کاٹنے کے بعد ان کا حق بھی ادا کردو : 217: ان تمام درختوں ، سبزیوں ، ترکاریوں ، بیجوں اور پھلوں کا ذکر کر کے انسان کو دو حکم دئیے ایک وہ حکم جو خود انسان کی خواہش اور نفس کے تقاضے کو پورا کرنے والا ہے یعنی ان درختوں اور کھیتوں کے پھلوں کو کھائو جب وہ پھل دار ہوجائیں اور ان کے پھل پک کر کھانے کے لئے تیار ہوجائیں جس میں یہ تفہیم کرا دی کہ ان تمام انواع و اقسام کے درختوں کو پیدا کرنے سے پیدا کرنے والے مالک کو اپنی کوئی ضرورت پوری کرنا نہیں بلکہ تمہارے ہی فائدے کے لئے پیدا کیا ہے سو تمہیں اختیار ہے کہ ان کو کھائو اور فائدہ اٹھائو اور دوسرا حکم اس میں یہ دیا گیا کہ جب کھیتی پک کر تیار ہوجائے اور تم اس کو کاٹو یا باغات کے پھلوں کو توڑو تاکہ تم خود کھائو اور اپنی ملکیت کے پھلوں کو بیچو اور فروخت کرو تو اس کو اپنے مصرف میں لانے سے پہلے اس کا حق بھی ادا کردیا کرو۔ حق سے مراد کیا ہے ؟ کہا گیا ہے کہ اس سے مراد عشر ہے یعنی جو کھیتی وباغ وبارش کے پانی سے سیراب ہوتے ہیں ان میں سے دسواں حصہ اور جن کو نہر یا کنوئیں سے سیراب کیا جاتا ہے ان کا بیسواں حصہ اور بعض نے اس سے نفلی صدقہ مراد لیا ہے یعنی کٹائی کے وقت اگر کوئی غریب ومسکین آجائے تو اس کو بھی اس میں سے کچھ دے دو اور یہ اللہ کا حکم سمجھ کر اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے دو جس کو دیا گیا ہے اس پر احسان کرتے ہوئے مت دو یا اس کو کچھ دے کر احسان مت جتائو اس لئے کہ احسان جتانے سے اس کا اجر ضائع ہوجاتا ہے اور رضائے الٰہی مطلوب نہیں رہتی اور اس سے عشر وزکوٰۃ مراد لیا جائے تو بھی صحیح اور درست ہے کیونکہ اس پر یہ اعتراض کہ یہ سورت مکی ہے اور زکوٰۃ کا حکم مدینہ میں نازل ہوا ہے یہ بات محقق نہیں بلکہ محقق یہ ہے کہ زکوٰۃ کا حکم تو مکہ ہی میں ہوچکا تھا لیکن زکوٰۃ باقاعدہ وصول کرنے کا انتظام مدینہ طیبہ میں ہوا اس لئے کہ اس کے سوا بھی مکی سورتوں میں زکوٰۃ کا حکم دیا گیا ہے اور اگر اس کا تصور مکہ میں نہ ہوتا تو یہ تصور کیسے پیدا ہو سکتا تھا۔ اس لئے کہ سورة المزمل بالاتفاق مکی ہے اور اس میں بھی زکوٰۃ کا حکم موجود ہے۔ ” لَا تُسْرِفُوْا 1ؕ“ اسراف اور فضول خرچی سے بچو کیونکہ اسراف اور فضول خرچی ہر طرح کی ممنوع ہے چناچہ فقراء اور مساکین کو دیتے وقت بھی میانہ روی ہی سے دینا مناسب ہے اور کسی حال میں بھی میانہ روی کو ہاتھ سے نہ جانے دینا چاہئے اور ایسا نہ کرے کہ ہرچیز اٹھا کر خود دوسروں کا دست نگر ہوجائے اس لئے یہ بھی اسراف میں داخل ہے اور جب اسلام نے کار خیر میں فضول خرچی سے منع کیا ہے تو دوسرے کاموں میں فضول خرچی کو کب برداشت کیا جاسکتا ہے۔ ہاں ! حالات کی نزاکت کے کچھ اپنے تقاضے ہوتے ہیں اگر جہاد جیسے فریضہ میں جان کو بھی اسلام کی خاطر قربان کرنا فرض قرار دیا ہے تو اس کا مقام اپنا ہے اس طرح جب جہاد کے لئے جانوروں اور مال و دولت کی ضرورت ہو تو اس میں سب کچھ خرچ کردینا بھی ضروری ہے اس لئے کہ یہ موقعہ کی نزاکت کے پیش نظر ہے اگر کفار کا دفاع نہ کیا جائے تو پھر تمہارا سب کچھ ان کا ہوجائے گا اور ایسے وقت میں ان چیزوں کی قیمت کیا رہی۔
Ayah 6:142

وَ مِنَ الْاَنْعَامِ حَمُوْلَةً وَّ فَرْشًا١ؕ كُلُوْا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللّٰهُ وَ لَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِ١ؕ اِنَّهٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌۙ Open ayah 6:142 in the Quran reader

اور چارپایوں میں سے کچھ تو بوجھ اٹھانے والے پیدا کردیئے اور کچھ زمین سے لگے ہوئے سو جو کچھ اللہ نے تمہاری روزی کیلئے پیدا کردیا ہے اسے کھاؤ اور شیطان کے قدم بہ قدم نہ چلو وہ بلاشبہ تمہارا آشکارا دشمن ہے

جانوروں میں ہر ایک چھوٹا ہو یا بڑا سب کے سب اللہ تعالیٰ کے پیدا کردہ ہیں : 218: کھیتیوں اور باغات کے بعد ان جانوروں کا ذکر کیا گیا جن سے انسان طرح طرح کے فوائد حاصل کرتے ہیں۔ کچھ جانور بوجھ لادنے کے کام آتے ہیں ، کچھ کو بطور غذا استعمال کیا جاتا ہے اور ان کا گوشت استعمال کیا جاتا ہے اور صرف گوشت ہی نہیں جانوروں کی ہرچیز کار آمد ہے اور اس سے طرح طرح کے فوائد حاصل کئے جاتے ہیں ان کی اون اور بالوں سے لے کر ہڈیوں اور گوبر تک سب چیزوں سے انسان فائدہ حاصل کرتا ہے۔ زیر نظر آیت میں دو لفظ ایک دوسرے کے بالمقابل استعمال ہوئے ہیں ” حَمُوْلَةً “ اور ” فَرْشًا 1ؕ“ ” حملۃ “ کے معنی بوجھ اٹھانے والے کے بھی کئے گئے ہیں اور ” اٹھائے جانے والے جانور “ بھی کہا گیا ہے اسی طرح ” فراشا “ کے معنی ” بچھ کر چلنے والے “ بھی کئے گئے ہیں جیسے بھیڑ ، بکری ، دنبہ ، ہرن ، اور اسی طرح خرگوش وغیرہ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ” حَمُوْلَةً “ کے معنی ہیں ” ما یحمل “ جو خود اٹھائے جائیں یعنی چھوٹے چھوٹے جانور جن میں بھیڑ ، بکری ، دنبہ ، ہرن اور خرگوش وغیرہ سب آجاتے ہیں اور ” فَرْشًا 1ؕ“ کے معنی ” ما یفرش “ اور ” ما یرکب “ کے کئے گئے ہیں یعنی سارے سواری کے جانور اور بوجھ اٹھانے والے جیسے اونٹ ، گھوڑا ، گدھا اور بیل وغرھہ اور ان کو ” فرش “ اس لئے کہا گیا ہے کہ پست قامت ہوتے ہیں۔ ان دونوں مطالب میں سے جو مطلب بھی جس کا بیان کیا جائے گنجائش موجود ہے اور دونوں ہی صورتوں میں دونوں قسم کے جانور آجاتے ہیں اور جن کا گوشت کھایا جاتا ہے ان کا بیان بھی فرمایا گیا کہ ان جانوروں سے جو جو کھانے کا حکم ہے کھائو اور جن سے جو کام لینا تمہارے علاقے کا رواج ہے ان سے کام لو اور ان پر بوجھ لادو لیکن جب یہ سب کے سب اللہ تعالیٰ ہی نے پیدا کئے ہیں تو ان پر اللہ کے سوا کسی دوسرے کا نام کیوں لیتے ہو جب ان کو ذبح کرو تو اللہ کے نام پر کرو اور نذر ونیاز کرو تو اللہ کے نام سے کرو ان سے فوائد حاصل کرو تو اللہ کا شکر بجا لائو اور دیکھو شیطان کے قدم بہ قدم مت چلو یعنی غیر اللہ کے نام سے ان کو چھوڑنا ، غیر اللہ کے نام پر ان کو قربان کرنا اور غیر اللہ کے نام سے ان کو منسوب کرنا اور غیر اللہ کے نام سے ذبح کرنا سارے کا سارا فعل شیطانی ہے اور یاد رکھو کہ اس نے یہ پڑھنت تم کو محض اس لئے پڑھائی ہے کہ تم کو سیدھی راہ سے ہٹا کر ایک غلط راہ پر گامزن کر دے تمہیں حق سے ہتا کر ناحق پر لگادے اس کا کہا نہ مانو۔ اللہ کے نام کے سوا کسی دوسرے کی نذر ونیاز ومت مانو وہی ذات ہے جس نے ان جانوروں کو تمہارے لئے مسخر کردیا ہے اور تمہارا ہر چھوٹا بڑا ان سے کام لے رہا ہے اور بغیر کسی لیت ولعل کے بڑی فرمانبرداری کے ساتھ تمہارا کام دے رہے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ یہ جانور اللہ تعالیٰ کے انعامات میں سے ایک بہت بڑا انعام ہیں اور اس نعمت کو منعم کے سوا کسی اور کا عطیہ سمجھنا اس پر کسی اور کا احسان مند ہونا اور منعم کے سوا کسی اور سے نعمت پانے کی امید رکھنا یا نعمت طلب کرنا یہ سب کفران نعمت ہے۔ اس طرح یہ بھی کفران نعمت ہے کہ آدمی منعم کی دی ہوئی نعمت کو اس کی رضا کے خلاف استعمال کرے۔ لہٰذا ایک مشرک اور کافر اور منافق اور فاسق انسان محض زبان سے شکر کے الفاظ ادا کر کے اللہ کا شاکر بندہ قرار نہیں پاسکتا۔ کفار مکہ اس بات کے منکر نہ تھے کہ ان جانوروں کو اللہ نے پیدا کیا ہے ان میں سے کوئی بھی یہ نہیں کہتا تھا کہ ان کے پیدا کرنے میں دوسرے معبودوں کا کوئی دخل ہے مگر یہ سب کچھ ماننے کے باوجود جب وہ اللہ کی وحی ہوئی نعمتوں پر اپنے معبودوں کے شکرئیے بجا لاتے اور ان کے آگے نذریں اور نیازیں پیش کرتے اور ان سے مزید نعمتوں کی دعائیں مانگتے اور ان کے لئے قربانیاں کرتے تھے تو اللہ کے لئے ان کا زبانی شکر بجا لانا بالکل بےمعنی ہوجاتا تھا۔ اسی بناء پر اللہ تعالیٰ ان کو کافر نعمت اور احسان فراموش قرار دے رہا ہے چناچہ ایک دوسری جگہ اس مضمون کو اس طرح بیان کیا : ” کیا یہ لوگ دیکھتے نہیں ہیں کہ ہم نے اپنے ہاتھوں کی بنائی ہوئی چیزوں میں سے ان کے لئے مویشی پیدا کئے اور اب یہ ان کے مالک ہیں۔ ہم نے انہیں اسی طرح ان کے بس میں کردیا ہے کہ ان میں سے کسی پر یہ سوار ہوتے ہیں ، کسی کا یہ گوشت کھاتے ہیں اور ان کے اندر ان کے لئے طرح طرح کے فوائد اور مشروبات ہیں پھر کیا یہ شکر گزار نہیں ہوتے ؟ “ (یٰسین 36 : 72 ، 73)
Ayah 6:143

ثَمٰنِیَةَ اَزْوَاجٍ١ۚ مِنَ الضَّاْنِ اثْنَیْنِ وَ مِنَ الْمَعْزِ اثْنَیْنِ١ؕ قُلْ ءٰٓالذَّكَرَیْنِ حَرَّمَ اَمِ الْاُنْثَیَیْنِ اَمَّا اشْتَمَلَتْ عَلَیْهِ اَرْحَامُ الْاُنْثَیَیْنِ١ؕ نَبِّئُوْنِیْ بِعِلْمٍ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَۙ Open ayah 6:143 in the Quran reader

چارپایوں میں آٹھ قسمیں پیدا کیں : بھیڑ میں سے دو قسم اور بکری کی دو قسم ! ان لوگوں سے پوچھو اللہ نے ان میں سے کس جانور کو حرام کیا ہے ؟ دونوں قسموں کے نروں کو یا مادہ کو یا پھر اس کے بچے کو جسے دونوں قسم کی مادہ اپنے پیٹ میں لیے ہوئے ہیں ؟ اگر تم سچے ہو تو مجھے علم کے ساتھ اس کا جواب دو

جانوروں یعنی چوپایوں کی وہ کونسی آٹھ قسمیں ہیں جو اس جگہ بیان ہوئیں : 219: ” ثَمٰنِیَةَ اَزْوَاجٍ 1ۚ“ یہ تو آٹھ نرومادہ ہیں۔ (تفہیم ) ” آٹھ نرو مادہ “ (ابن کثیر مترجم ) ” آٹھ جوڑے “ (ضیاء القرآن ) ” چوپایوں کی آٹھ قسموں کو لو “ (تدبر) ” آٹھ نر و مادہ پیدا کئے “ (مظہری مترجم ) ” پیدا کئے آٹھ نر اور مادہ “ (جواہر القرآن ) ” آٹھ جوڑے پیدا کئے “ (عثمانی ) یہ آٹھ قسم یا آٹھ جوڑے اس طرح مکمل کئے گئے ” بھیڑ میں سے دو نر و مادہ ، بکری میں سے دو نر و مادہ ، اونٹ میں سے دو نر و مادہ ، گائے میں سے دو نر و مادہ “ یہ معروف چوپائے جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا چار تھے۔ بھیڑ ، بکری ، اونٹ اور گائے ان کے جوڑے کے افراد نر اور مادہ دونوں کو الگ الگ گنئے تو یہ سب آٹھ ہوجائیں گے۔ (تدبر القرآن ) لیکن یہ صحیح نہیں۔ ہمارے خیال میں یہ آٹھ جوڑے اس طرح پر ہوتے ہیں : (1) ۔ بھیڑ نر و مادہ۔ (2) ۔ ان کے پیٹ کے بچے نر و مادہ۔ (3) ۔ بکری نر و مادہ۔ (4) ۔ ان کے پٹ کے بچے نر و مادہ۔ (5) ۔ اونٹ نر و مادہ۔ (6) ۔ ان کے پیٹ کے بچے نر و مادہ۔ (7) ۔ بیل نر و مادہ۔ (8) ۔ ان کے پیٹ کے بچے نر و مادہ۔ فرمایا ان آٹھوں کو لو اور ان میں سے ہر ایک کو لے کر یعنی سامنے رکھ کر ان لال بھجکڑوں سے پوچھو کہ بتائیں ان میں سے نر کو اللہ نے حرام ٹھہرایا ہے یا مادہ کو یا مادہ کے پیٹ میں جو بچہ ہے اس کو ؟ جب اصلاً یہ جانور ان کے نر و مادہ دونوں مادہ کے پیٹ کے بچہ سمیت خواہ وہ نر ہے یا مادہ حلال ہیں ان میں سے کسی کی حرمت کا دعویٰ تم لوگ نہیں کرسکتے تو پھر انہی کے بعض اجزاء پر یہ حرمت کہاں سے طاری ہوگئی کہ بعض کا کھانا حلال ہوا اور بعض کا حرام۔ بعض پر سواری جائز اور بعض پر سواری حرام۔ بعض کو صرف مرد کھا سکتے ہیں عورتوں کے لئے وہ حرام اور بعض کو عورتیں کھا سکتی ہیں مردوں کے لئے حرام اور بعض مخصوص حالات میں مردوں اور عورتوں سب کے لئے حلال اور پاکیزہ یہ تو وہی بات ہوئی کہ ” بوٹیوں سے صلح اور شوربے سے جنگ “۔ ان لال بھجکڑوں کا معاملہ بھی بڑا عجیب ہوتا ہے علم کم اور نخرہ زیادہ اس کو کہتے ہیں ” اندھوں میں کانا راجا “ کہتے ہیں کہ ایک لال بھجکڑ جو کسی بستی کا امام تھا اس نے کہیں سے ایک فقرہ سن لیا اور یاد کرلیا وہ فقرہ کیا تھا ؟ ” شاڑ شڑا بڑ شڑ بڑ شوں “ اس نے یاد کر کے بستی والوں سے کہا کہ یہ جو آئے دنوں مسافر یہاں مسجد میں رکھ لئے جاتے ہیں اکثر ان پڑھ اور ناخواندہ ہوتے ہیں ان کو ایسے اجازت نہیں دینا چاہئے پہلے مسافر میرے سوال کا جواب دے اگر اس کو جواب آگیا تو وہ رہ سکتا ہے ورنہ ہماری بستی میں اور خصوصاً مسجد میں مہمان نہیں رہ سکتا۔ بستی کے وڈیروں نے یہ بات مان لی اب نو وارد مسافر آتا تو اس امام مسجد سے اس کی ملاقات کرائی جاتی وہ اس سے یہی سوال کرتا کہ ” شاڑ شڑا بڑ شڑ بڑ شوں “ کیا ہے ؟ مسافر خاموش ہوجاتا اور اس طرح اس کو رات گزارنے کی اجازت نہ ملتی اور چار ونچار اس کو کسی دوسری بستی میں جانا پڑتا۔ رہی یہ بات کہ ” شاڑ شڑب بڑ شڑا بڑ شوں “ کیا ہے ؟ تو یہ اس کو بھی کچھ معلوم نہیں تھا۔ یہ کوئی حیران کن بات نہیں جب کا مذہب ایک پیشہ بنا ہے کسی کو بھی کچھ معلوم نہیں کہ میں کیا کہہ رہا ہوں اور نہ منتظمین یہ سمجھتے ہیں کہ ہمارے عالم صاحب کیا فرما رہے ہیں۔ اس طرح اندھیرے میں یہ سارا معاملہ چل رہا ہے۔ کہتے ہیں کہ اتفاق سے کہیں اس بستی میں امیر خسرو کا گزر ہوا اور رات آگئی اس نے رات گزارنے کے لئے کہا لیکن وہی بات کہ پہلے لال بھجکڑ کے سوال کا جواب دو پھر رات گزارو ورنہ یہاں سے نکل جائو۔ بہرحال ! امیر خسرو کو بھی اس امام مسجد یعنی لال بھجکڑ کے سامنے حاضر کیا گیا۔ لال بھجکڑ نے اپنا سوال داغ دیا۔ امیر خسرو سمجھ گیا کہ حقیقت کچھ نہیں لیکن ایک لال بھجکڑ سے واسطہ ہے۔ خیر جو اللہ کرے امیر خسرو نے کہا آپ بستی والوں کو اکٹھا ہونے کا حکم دیں وہ ایک جگہ جمع ہوجائیں تو اس کا مطلب میں ضرور بتائوں گا اور ساتھ ہی آپ کے علم کا بھی راز کھل جائے گا۔ امام مسجد نے منت سماجت کی کہ آپ رہنے دیں میں لوگوں کو کہہ دیتا ہوں کہ نو وارد صاحب نے میرے سوال کا جواب دے دیا ہے لہٰذا وہ یہاں رہ سکیں گے۔ اندھے کو کیا چاہئے۔ امیر خسرو وہاں ٹھہر گئے اور لوگوں نے آپ کی بہت پذیرائی کی اور ہر طرف سے دعوت دعوت کی صدائیں بلند ہوئیں اور مدت کی یہ خواہش کبھی کوئی مسافر ہماری بستی میں ٹھہر سکے تاکہ اس کی خدمت کا حق ادا کریں۔ بہر حال نو وارد کا وقت اچھا گزرا اور اس نے امام مسجد سے کہا حضرت آپ وعدہ کریں کہ آئندہ آپ ایسا سوال کسی سے نہیں کریں گے اور مسافروں کو رہنے کی اجازت دیں گے تو خیر ورنہ تمہارے علم کا راز کھول دوں گا۔ اس لال بھجکڑ نے ہاتھ جوڑے اور وعدہ کیا تو امیر خسرو نے کہا جو فقرہ آپ نے یاد کر رکھا ہے وہ دراصل کچھ اس طرح ہے کہ : دھان دھمکا دھمک دوں چھاج بچھوڑا چھڑ بڑ توں ہانڈی ڈوئی گھڑ بڑ گھوں پھر شاڑ شڑابڑ بڑ شڑ بڑشوں اور یہ چاول میں دودھ شکر ملا کر کھانے کی پہیلی ہے کیونکہ چاول دودھ ملا کر کھانے والا جب کھاتا ہے تو اس کے منہ سے جو آواز نکلتی ہے وہ کچھ اس طرح کی ہوتی ہے ” شاڑ شڑابر بڑ شڑ بڑ شوں “ لیکن چاول کھانے سے پہلے بہت مراحل ہیں جو چاول نے طے کرنا ہوتے ہیں۔ تم سچے ہو تو مجھے علم کے ساتھ اس کا جواب دو ورنہ باز آجائو : 220: اگر تم کو یہ بات معلوم ہے کہ ان میں سے بعض چیزیں دین ابراہیمی میں حرام تھیں یا کسی دوسرے نبی نے ایسا کہا ہے جیسا تم کہہ رہے ہو کیونکہ اہل کتاب کے پڑھانے سے بھی تم اس طرح کی پہیلیاں ڈالنے کے عادی ہو تو علم کے ساتھ اس کا جواب دو اور علمی دلیل دو قسم کی ہو سکتی ہے ایک یہ کہ کسی نبی ورسول نے یہ کہا ہو اور اس لائی ہوئی کتاب میں وہ موجود ہو یا کوئی عقلی اور فطری دلیل جس سے ان کے دعوے کی صحت پر اعتماد کیا جاسکے اور اگر اس طرح کی کوئی نقلی یا عقلی دلیل موجود نہیں ہے تو صرف اس واہمہ پر اچھے بھلے جانوروں کو حرام کردینے کا مطلب کیا ؟ یاد رہے کہ اہل عرب اپنے جن مشرکانہ توہمات ورسومات کو سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کی طرف منسوب کرتے تھے ان کے حق میں جو دلیل پیش کرتے تھے وہ یہ تھی کہ ” اگر اللہ چاہتا تو نہ ہم شرک کرسکتے نہ ہمارے باپ دادا اور نہ ہم کسی چیز کو حرام ٹھہراتے۔ “ (الانعام 6 : 48) ظاہر ہے کہ یہ نہ عقلی دلیل کہی جاسکتی ہے اور نہ ہی نقلی۔ اگر یہ دلیل ہے تو پھر ہر احمق جو چاہے اپنی حماقت کی بات منوا لے کہ اس نے جو کچھ کہا ہے اگر اللہ نہ چاہتا تو کیوں کہہ سکتا جب اللہ نے چاہا تب ہی میں نے کہا ہے اور اللہ کا چاہنا تم نہیں مانتے تو نہ مانو یہ تو بہرحال اللہ کا چاہنا مانتے ہیں اس سے جو جی میں آتا ہے کہہ دیتے ہیں۔ یہ تو اس وقت کے مشرکین کی حالت تھی اور آج یہی بات ہمارے عوام و خواص کی زبان پر جاری وساری ہے۔ باپ دادا کا کسی رسم کو اختیار کرلینا بھی اس بات کی صحت یا کسی نبی کی طرف سے اس کی نسبت کی دلیل ہو سکتی ہے۔ آج بدقسمتی سے دین اسلام کا پورا حلیہ اس بل بوتے پر مسخ کردیا گیا اور وہ باتیں اسلام اور قرآن کریم کے ذمہ لگا دی گئیں جن کا کوئی ذکر تک قرآن وحدیث میں نہیں بلکہ لال بھجکڑوں نے اس طرح بات سے بات نکال کر ثبوت فراہم کر دئیے۔ ایک لال بھجکڑ نے تحریر کیا ” والشفع والوتر “ قسم ہے مجھے بارہ وفات کی اور قسم ہے مجھے گیارہویں شریف کی۔ اب وہ زمانہ گیا جب 12/ربیع الاول کو بارہ وفات کا دن کہا جاتا تھا اب وہ اس ملک میں میلاد شریف کا روز طے پایا تو وہ مترجم بھی مرگئے ، ان کے صاحبزادے آئے تو انہوں نے ترجمہ اس طرح لکھ دیا کہ ” قسم ہے مجھے 12 /ربیع الاول یعنی میلاد شریف کے روز کی اور قسم ہے مجھے گیارہویں شریف کی۔ “ اللہ فرماتا ہے اے میرے رسول ! ان بات سے بات نکالنے والوں سے کہو کہ ” اگر تم سچے ہو تو مجھے علم کے ساتھ جواب دو ۔ “
Ayah 6:144

وَ مِنَ الْاِبِلِ اثْنَیْنِ وَ مِنَ الْبَقَرِ اثْنَیْنِ١ؕ قُلْ ءٰٓالذَّكَرَیْنِ حَرَّمَ اَمِ الْاُنْثَیَیْنِ اَمَّا اشْتَمَلَتْ عَلَیْهِ اَرْحَامُ الْاُنْثَیَیْنِ١ؕ اَمْ كُنْتُمْ شُهَدَآءَ اِذْ وَصّٰىكُمُ اللّٰهُ بِهٰذَا١ۚ فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا لِّیُضِلَّ النَّاسَ بِغَیْرِ عِلْمٍ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ۠ Open ayah 6:144 in the Quran reader

اور دیکھو اونٹ میں سے دو قسمیں ہیں اور گائے میں سے دو قسمیں (یعنی نر اور مادہ) تم ان سے پوچھو کیا ان میں سے نر کو حرام کیا ہے یا مادہ کو یا اس کو جو ان دونوں کی مادہ اپنے پیٹ میں لیے ہوتی ہیں ؟ پھر بتلاؤ اس آدمی سے زیادہ ظلم کرنے والا کون ہوا جو لوگوں کو گمراہ کرنے کیلئے اللہ پر افتراء پردازیاں کرے اور اس کے پاس کوئی علم نہ ہو ؟ بلاشبہ اللہ ان لوگوں پر راہ نہیں کھولتا جو ظلم کرنے والے ہوں

اللہ نے تم کو ایسی باتوں کا کب حکم دیا اور تم اس وقت کہاں تھے ؟ 221: اس سے زیادہ بڑا جھوٹ اور کیا ہو سکتا ہے کہ کوئی انسان حلت و حرمت کا مسئلہ اپنے ہاتھ میں لے لے جو خالصتاً اللہ تعالیٰ کی ذات کے متعلق فرمایا اچھا تم اتنی بات بتائو کہ تم اس وقت کہاں تھے جب اللہ نے اس طرح حلال و حرام کا حکم تم کو دیا تھا اور کچھ نہیں تو اتنا ہی بتا دو کہ انہیں اس لئے حرام سمجھتے ہو کہ وہ نر ہیں یا اس لئے کہ وہ مادہ ہیں اگر کوئی ایسی وجہ ہے تو پھر سارے نر حرام ہونے چاہئیں یا ساری مادائیں حرام ہونی چاہئیں بعض نروں کو حلال اور بعض کو حرام بعض مادائوں کو حلال اور بعض کو حرام قرار دینا کہاں کی عقل مندی ہے۔ کیا ان کی حرمت کی وجہ یہ ہے کہ مائوں کے شکموں میں ہیں اگر ایسا ہے تو نر اور مادہ کی تخصیص بھی بیکار ہوئی پھر تو ہر جانور کو حرام ہونا چاہئے خواہ نر ہو یا مادہ کیونکہ ان میں سے ہر ایک شکم مادر میں رہا ہے اور اگر ان کو حرام کرنے کی کوئی دلیل نہیں تو تم ہی بتائو کہ جن جانوروں کو اللہ نے حلال ٹھہرایا ہے تم بغیر کسی دلیل کے ان کو حرام کہہ رہے ہو اس کو کہا جاتا ہے اللہ سے مقابلہ ؟ اور اللہ سے مقابلہ کر کے تم جائو گے کہاں ؟ اس سے بڑھ کر ظالم اور بدبخت کون ہو سکتا ہے جو بغیر کسی سند اور علمی وعقلی دلیل کے محض جھوٹے بہتان کو لوگوں کے گمراہ کرنے کا ذریعہ بنائے۔ اللہ ان لوگوں پر کبھی سیدھی راہ نہیں کھولتا جو ظلم کرنے والے ہوں : 222: ظلم کرنے والے کون لوگ ہیں ؟ وہی جو اللہ تعالیٰ پر افتراء پردازیاں کرنے والے ہیں اور جن کا مقصد محض لوگوں کو گمراہ کرنا ہو کہ لوگ گمراہ ہوں گے تو ان کا کام بنے گا۔ اس طرح کی من گھڑت باتیں لوگوں کو بتائیں گے اور بےعملی کی راہ سکھائیں گے۔ خود گمراہ ہیں اور دوسروں کی گمراہی کا سبب بنتے ہیں اللہ ایسے لوگوں کو کبھی سیدھی راہ نہیں دکھاتا جو خود سیدھی راہ سے دور بھاگتے ہوں۔ یہ وہی لوگ ہیں جو کسی قوم کے سردار مانے اور تسلیم کئے جا چکے ہیں اور لوگوں کی مذہبی پیشوائی کر رہے ہیں جیسے آج کل گدی نشین اور سجادہ نشنہ اور اسی طرح کے کئی ایک دوسرے ناموں سے یاد کئے جاتے ہیں۔ ان کے ہاں بڑی بڑی مجلسیں جمتی ہیں اور بڑے بڑے لوگ ان کی مجلسوں میں جمع ہوتے ہیں اور ایک دوسرے کے ساتھ طرح طرح کی وابستگیاں رکھتے ہیں اور ان لوگوں کے جو منہ میں آتا ہے سچ جھوٹ کہہ دیتے ہیں اور اکثر ذو معنی باتیں کرنے کے عادی ہوتے ہیں چونکہ ان پر سیدھی راہ تو یقیناً گم ہوتی ہے۔ آپ ﷺ کے دور کے ایسے لوگوں کو ان کی ناکامی بتائی جا رہی ہے اور نہایت ہی لطیف انداز میں دعوت اسلامی کی کامیابی کی بشارت ان کو سنائی جا رہی ہے کہ ظالم قوم کو کبھی کامیابی نصیب نہیں ہوتی وہ دیر یا سویر بہرحال ذلیل و خوار ہوں گے اور یہی دعوت اسلامی کی کامیابی کا وقت ہے۔
Ayah 6:145

قُلْ لَّاۤ اَجِدُ فِیْ مَاۤ اُوْحِیَ اِلَیَّ مُحَرَّمًا عَلٰى طَاعِمٍ یَّطْعَمُهٗۤ اِلَّاۤ اَنْ یَّكُوْنَ مَیْتَةً اَوْ دَمًا مَّسْفُوْحًا اَوْ لَحْمَ خِنْزِیْرٍ فَاِنَّهٗ رِجْسٌ اَوْ فِسْقًا اُهِلَّ لِغَیْرِ اللّٰهِ بِهٖ١ۚ فَمَنِ اضْطُرَّ غَیْرَ بَاغٍ وَّ لَا عَادٍ فَاِنَّ رَبَّكَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 6:145 in the Quran reader

تم کہہ دو جو وحی مجھ پر بھیجی گئی ہے میں اس میں ایسی کوئی چیز حرام نہیں پاتا کہ کھانے والے پر اس کا کھانا حرام ہو بجز اس کے کہ وہ مردار ہو یا بہتا ہوا خون ہو یا سور کا گوشت ہو کہ یہ چیزیں بلاشبہ گندگی ہیں یا پھر جو چیز گناہ کا موجب ہو کہ غیر اللہ کا نام اس پر پکارا گیا ہو اور اگر کوئی آدمی مجبور ہوجائے اور مقصود نافرمانی نہ ہو ، نہ حدِّ ضرورت سے گزر جانا تو بلاشبہ تمہارا پروردگار بخشنے والا رحمت والا ہے

جس طرح کی حلت و حرمت تم کہتے ہو اس طرح کی کوئی چیز وحی الٰہی میں حرام نہیں : 223: ” رِجْسٌ “ ناپاک۔ پلید۔ گندہ۔ عقوبت۔ عذاب بلا ارجاس (ج) اس کی تین صورتیں ہیں : (1) ۔ طبیعت کی جہت سے۔ (2) ۔ عقل کی جہت سے۔ ( 3) ۔ شرع کی جہت سے۔ ان تینوں جہت سے رجس شرعی جوا اور شراب۔ رجس عقلی شرک اور لحم خنزیر۔ دونوں کا مجموعہ میتہ یعنی مردار اور اسی کو دوسری جگہ نجس کہا ہے اور ” نجس “ اور ” نجاسۃ “ (سمع ونصر) مراد ناپاک ، پلید ، حرام۔ وہ چیز جو عقائد واخلاق کے لحاظ سے ناپاک ہو گویا نجس ہونے سے مراد ہے غیر حسی نجس ہونا۔ ایسے نجس جن کی نجاست بصیرت سے معلوم ہوتی ہے بصر سے معلوم نہیں ہوتی جو ” حسی “ نجاست ہے ” حیمت “ نجاست نہیں۔ اس کو ” رجس “ کہا گیا ہے اور پھر نجس کے ساتھ فسق نے اس کی مزید تشریح کردی کہ یہ وہ جانور ہیں جو بجائے خود حلال وطیب تھے لیکن صاحب جانور کی نیت فاسد نے ان کو حرام بنا دیا۔ یعنی ان جانوروں کے سلسلہ میں جو وحی مجھ پر آئی ہے جن کی حلت و حرمت پر یہاں گفتگو ہو رہی ہے یہاں جن حرام چیزوں کا حصر کیا گیا ہے ان سے مراد یہی ہے کہ تم اور چیزوں کو اپنی رائے وتجویز سے کہاں حرام ٹھہرا لیتے ہو وحی الٰہی نے تو بس یہی چیزیں حرام ٹھہرائی ہیں۔ بلاشبہ یہ کل محرمات کی فہرست نہیں ہے بلکہ یہ بحث خاص کر چوپایوں سے متعلق ہے اس لئے کہ انہی میں سے بعض کو انہوں نے جیسا کہ اوپر بیان ہوا اپنے مشرکانہ توہمات کے تحت حرام ٹھہرا رکھا تھا۔ یہ مسئلہ صرف الانعام ہی کا تھا اسی وجہ سے ان کے باب میں یہ وضاحت فرما دی کہ مشرکین نے جو چیزیں حرام ٹھہرا رکھی ہیں یہ محض من گھڑت ہیں ملت ابراہیم (علیہ السلام) میں چوپایوں کی حلت و حرمت سے متعلق جو وحی مجھ پر آئی ہے اس میں ان من گھڑت حرمتوں کا کوئی وجود نہیں۔ اس سے مشرکین کے ان توہمات کی تردید ہو رہی ہے جو بعض مخصوص قربانیوں اور جانوروں کے متعلق وہ رکھتے تھے کہ ان کو خاص خاص لوگ ہی کھا سکتے تھے۔ ہر شخص ان کو ہاتھ نہیں لگا سکتا تھا جیسا کہ اوپر ان کا بیان گزر چکا کہ بعض جانوروں کے گوشت مرد ہی کھا سکتے تھے عورتوں کے لئے ان کا کھانا حرام تھا۔ قرآن کریم کے ان الفاظ نے یہ واضح فرما دیا کہ جس طرح ان کی یہ مشرکانہ قربانیاں بےاصل و بےسند ہیں اسی طرح ان کے کھانے کے بارے میں ان کی یہ تفریق وتقسیم بھی محض ان کے واہمہ کی گھڑی ہوئی ہے ملت ابراہیم (علیہ السلام) کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ زیر نظر آیت میں چار چیزوں کی حرمت کا ذکر ہے۔ (1) ۔ مردار۔ (2) ۔ بہایا ہوا خون۔ (3) ۔ سور کا گوشت۔ (4) ۔ اور وہ جانور جس کو غیر اللہ کے نام پر پکارا گیا ہو۔ اس کی پوری تشریح سورة البقرہ کی آیت 173 میں کی جا چکی ہے اس لئے عروہ الوثقیٰ جلد اول آیت 73 اور عروۃ الوثقیٰ ٰ جلد ہذا سورة المائدہ آیت 3 کی تفسیر ملاحظہ کریں۔ کوئی شخص اگر مجبور کردیا جائے تو ایسے مجبوروں پر گرفت نہیں : 224: ایک آدمی بھوک سے مر رہا ہے اور اس کو حلال وطیب غذا نہ مل رہی ہو اور ایسی حالت میں اگر وہ اس حرام سے قوت لا یموت کھالے تو وہ معاف ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ اس کو ضرور کھائے بلکہ مطلب یہ ہے کہ اگر وہ چاہے کھالے تو اس طرح کھا لینے کے لئے اس پر کوئی پابندی نہیں ہے وہ کھالے گا تو اس سے در گزر کی جاسکتی ہے ہے مگر وہ لطف اندوز ہونا شروع ہوجائے اور اس پر قانع ہو کر بیٹھ رہے تو مجبوری نہ ہوئی بلکہ ایک طرح کا غلط فائدہ حاصل کرنا ہوا۔
Ayah 6:146

وَ عَلَى الَّذِیْنَ هَادُوْا حَرَّمْنَا كُلَّ ذِیْ ظُفُرٍ١ۚ وَ مِنَ الْبَقَرِ وَ الْغَنَمِ حَرَّمْنَا عَلَیْهِمْ شُحُوْمَهُمَاۤ اِلَّا مَا حَمَلَتْ ظُهُوْرُهُمَاۤ اَوِ الْحَوَایَاۤ اَوْ مَا اخْتَلَطَ بِعَظْمٍ١ؕ ذٰلِكَ جَزَیْنٰهُمْ بِبَغْیِهِمْ١ۖ٘ وَ اِنَّا لَصٰدِقُوْنَ Open ayah 6:146 in the Quran reader

اور یہودیوں پر ہم نے تمام ناخن والے جانور حرام کردیئے تھے اور گائے اور بکری میں سے ان کی چربی بھی حرام کردی تھی مگر وہ چربی نہیں جو ان کی پیٹھ پر لگی ہو یا انتڑیوں میں ہو یا ہڈی کے ساتھ ملی ہوئی ہو یہ ہم نے انہیں ان کی سرکشی کی سزا دی تھی ( یہ بات نہ تھی کہ یہ چیزیں فی نفسہٖ حرام ہوں) اور بلاشبہ ہم سچے ہیں

یہود کی سرکشیوں کی وجہ سے ان پر جو حرام کیا گیا وہ محض سزاء ً تھا : 225: زیر نظر آیت کا مضمون قرآن کریم میں تین مقامات پر بیان ہوا۔ ایک اس جگہ دوسرا سورة آل عمران کی آیت 93 میں اور تیسرا سورة النساء 160 میں اس لئے اس کی تشریح بھی عروۃ الوثقیٰ جلد دوم کے مذکورہ مقامات پر گزر چکی اس جگہ ارشاد فرمایا کہ ” یہودیوں پر ہم نے تمام ناخن والے جانور حرام کر دئیے تھے اور گائے اور بکری سے ان کی چربی بھی حرام کردی تھی مگر وہ چربی نہیں جو ان جانوروں کی پیٹھ پر لگی ہو یا انتڑیوں میں ہو یا ہڈی کے ساتھ ملی ہوئی ہو۔ “ سورة آل عمران کی آیت 93 میں یہود کو چیلج کیا گیا تھا کہ ” اے پبرگا اسلام ! کہہ دو اگر تم لوگ اپنے خیال میں سچے ہو تو تو رات لائو اور اسے کھول کر پڑھو کہ جو کچھ تم نے اپنے رواج میں حرام قرار دے لیا ہے اللہ نے ان چیزوں کو کب حرام ٹھہرایا تھا۔ “ اور سورة النساء میں اور اس جگہ سورة الانعام میں فرمایا کہ ” ہم نے ان پر وہ چیزیں حرام کردی تھیں ان کے ظلم کے باعث اور ان کی سرکشی کے باعث۔ “ اس لئے اس بات کو اچھی طرح سمجھ لینا چاہئے کہ حرمت الٰہی کی صرف ایک ہی صورت نہیں ہے کہ وہ کسی پیغمبر اور کتاب کے ذریعہ سے کسی چیز کو حرام کر دے بلکہ اس کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ وہ اپنے باغی بندوں اور بناوٹی شارعوں اور جعلی قانون سازوں کو مسلط کر دے اور وہ قوم پر طیبات کو حرام کردیں اور خبائث کو حلال۔ پہلی قسم کی تحریم اللہ کی طرف سے رحمت کے طور پر ہوتی ہے اور دوسری قسم کی حلت و حرمت اللہ تعالیٰ کی پھٹکار اور سزا کی حیثیت سے ہوتی ہے۔ اس سے یہ بات بھی روز روشن کی طرح عیاں ہوگئی کہ قرآن کریم کے نزول کے وقت اونٹ کو تو یہود نے حرام قرار دے لیا تھا لیکن کم از کم اس وقت اونٹ اور خرگوش وسافان شتر مرغ اقاز اور بط وغیرہ کی حرمت ابھی داخل کتاب نہ کی گئی تھی مگر قرآن کریم کے نزول کے بعد شارحین تورات نے ان ساری چیزوں کو کتاب تورات میں داخل کرلیا کیونکہ آج کل جو تورات کے تراجم دنیا میں پائے جاتے ہیں ان چیزوں کی حرمت کا ذکر ان میں موجود ہے لیکن اس وقت جب ان کو چیلنج کیا گیا وہ لوگ مقابلہ میں نہ آئے اور یہ بھی ممکن ہے کہ آپ کے وقت تک ان اشیاء کی حرمت کتاب میں داخل تو ہو لیکن یہ بات اس وقت سب لوگوں کی زبان زد ہو کہ یہود نے خود ان چیزوں کی حرمت کو کتاب میں داخل کرلیا ہے اور وہ اس شرمندگی کی وجہ سے اس بات کو مقابلہ میں پیش نہ کرسکے ہوں کہ اگر ان کو مقابلہ میں پیش کیا گیا تو بدمزگی زیادہ بڑھے گی اور الٹی ہماری کتاب میں تحریف کے ثبوت کے طور پر ہمارے سامنے پیش کی جائے گی جس کا فائدہ کی بجائے ہم کو الٹا نقصان ہوگا۔ بہرحال تورات میں ہے کہ : ” تم ان جانوروں کو نہ کھائو یعنی اونٹ کو کیونکہ وہ جگالی تو کرتا ہے پر اس کے پائوں الگ نہیں ، وہ بھی تمہارے لئے ناپاک ہے اور خرگوش کو کیونکہ وہ جگالی تو کرتا ہے پر اس کے پائوں الگ نہیں وہ بھی تمہارے لئے ناپاک ہے۔ “ (احبار 11 : 5 ، 7) اور ایک جگہ اسی طرح بیان ہوا کہ : ” ساری چربی خداوند کی ہے۔ یہ تمہاری سب سکونت گاہوں میں نسل در نسل ایک دائمی قانون رہے گا کہ تم چربی یا خون مطلق نہ کھائو۔ “ (احبار 3 : 17) ” اور خداوند نے موسیٰ سے کہا بنی اسرائیل سے کہہ کہ تم لوگ نہ تو بیل کی نہ بھیڑ کی اور نہ بکری کی کچھ چربی کھانا۔ جو جانور خود مر گیا ہو اور جس کو درندوں نے پھاڑا ہو ان کی چربی اور کام میں لائو پر اسے تم کسی حال میں نہ کھانا کیونکہ جو کوئی ایسے چوپائے کی چربی کھائے جسے لوگ آتشیں قربانی کے طور پر خداوند کے حضور چڑھاتے ہیں وہ کھانے والا آدمی اپنے لوگوں میں سے کاٹ ڈالا جائے۔ “ (احبار 7 : 22 ‘ 25) ایک جگہ اس طرح ہے کہ : ” پاک پرندوں سے تم کھا سکتے ہو لیکن ان میں سے تم کسی کو نہ کھانا یعنی عقاب اور استخوان خوار اور بحری عقاب اور چیل اور باز اور گدھ اور ان کی اقسام ، ہر قسم کا کوا اور شتر مرغ اور چغد اور کو کل اور قسم قسم کے شاہین اور بوم اور اُلُّو اور قاز اور حواصل اور رخم اور ہڑگیلا اور لق لق اور ہر قسم کا بگلا اور ہد ہد اور چمگادڑ اور سب پر دار رینگنے والے جانور تمہارے لئے ناپاک ہیں وہ کھائے نہ جائیں۔ “ (استثناء 14 : 14 تا 19) جو بنی اسرائیل نے اپنے اوپر خود حرام ٹھہرایا تو یہ گویا ان کی بغاوت کی سزا تھی : 226: بنی اسرائیل نے جن حلال جانوروں کو خود اپنے اوپر حرام ٹھہرا لیا تھا یہ گویا ایسا ہی تھا کہ ہم نے ان کی سرکشیوں کی سزا ان ہی کے ہاتھوں ان پر مسلط کردی وہ ان حلال چیزوں سے محروم کر دئیے گئے اس طرح قانون الٰہی سے انحراف کرنے والوں کو ہم سزا دیتے ہیں اور یہ ہمارے قانون مشیت کے تحت سزا پانا ہے کہ جو چیز ان پر منع نہ تھی۔ انہوں نے خود اپنے اوپر منع کرلی اور پھر یہ سمجھا کہ یہ اللہ کا حکم ہے اور اس طرح اس پر پکے ہوگئے۔ مطلب یہ ہوا کہ حلت و حرمت خداوندی پر تجاوز قوموں کی زندگی میں اپنی ہی ذات پر ظلم کے مترادف ہے جیسا کہ آج بھی اللہ کی حرام کی ہوئی چیزوں کو کچھ لوگ حلال ٹھہراتے جیسے غیر اللہ کے نام کی نذر وغیرہ اور کچھ حلال وطیب چیزوں کو حرام کرلیتے ہیں اور قوموں میں یہ بیماری بہت پرانی ہے جو آج تک جاری وساری ہے۔
Ayah 6:147

فَاِنْ كَذَّبُوْكَ فَقُلْ رَّبُّكُمْ ذُوْ رَحْمَةٍ وَّاسِعَةٍ١ۚ وَ لَا یُرَدُّ بَاْسُهٗ عَنِ الْقَوْمِ الْمُجْرِمِیْنَ Open ayah 6:147 in the Quran reader

پھر یہ لوگ تمہیں جھٹلائیں تو ان سے کہہ دو تمہارا پروردگار بڑی ہی وسیع رحمت رکھنے والا ہے مگر مجرموں پر سے اس کا عذاب کبھی ٹلنے والا نہیں

اللہ کی رحمت بلاشبہ بےپایاں ہے لیکن مجرموں کو عذاب دینے کا فیصلہ بھی اسی کا ہے : 227: رحمت الٰہی کو حاصل کرنے کے لئے جو قانون اللہ تعالیٰ نے بنایا ہے وہ تو یہی ہے کہ جو شخص اپنی نافرمانی کی روش سے باز آجائے اللہ تعالیٰ کی رحمت فوراً اس کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے لیکن جو لوگ اپنی اس مجرمانہ وباغیانہ روش پر اڑے رہیں گے تو وہ بھی کان کھول کر سن لیں کہ ان کو اس کے غضب سے کوئی بچانے والا نہیں۔ رحمت الٰہی کا تقاضا یہ ہے کہ وہ ہٹ دھرموں اور حلت و حرمت میں بےجا دخل اندازی کرنے والوں کو فوراً دھر نہیں لیتا بلکہ اپنے قانون امہال کے تحت ان کو ڈھیل دیتا رہتا ہے جس کا اصل مدعا تو یہ ہوتا ہے کہ لوگ سنبھل کر اپنے بگاڑ کا علاج کرلیں اور یہ ڈھیل ان کے لئے رحمت کا باعث ہو لیکن جو لوگ اس قدر اکھڑ ہوتے ہیں کہ وہ ڈھیل سے فائدہ حاصل کرنے کی بجائے الٹا تمسخر کرنا شروع کردیتے ہیں آخر ایسے مجرموں کی پکڑ کا وقت بھی آ ہی جاتا ہے اور ان کو عذاب کی لپیٹ میں لپیٹ کر رکھ دیا جاتا ہے اور پھر وہ کسی کے ٹالے سے بھی نہیں ٹلتا۔
Ayah 6:148

سَیَقُوْلُ الَّذِیْنَ اَشْرَكُوْا لَوْ شَآءَ اللّٰهُ مَاۤ اَشْرَكْنَا وَ لَاۤ اٰبَآؤُنَا وَ لَا حَرَّمْنَا مِنْ شَیْءٍ١ؕ كَذٰلِكَ كَذَّبَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ حَتّٰى ذَاقُوْا بَاْسَنَا١ؕ قُلْ هَلْ عِنْدَكُمْ مِّنْ عِلْمٍ فَتُخْرِجُوْهُ لَنَا١ؕ اِنْ تَتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ وَ اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا تَخْرُصُوْنَ Open ayah 6:148 in the Quran reader

جن لوگوں نے شرک کا ڈھنگ اختیار کیا ہے وہ کہیں گے اگر اللہ چاہتا تو ہم اور ہمارے باپ دادا شرک نہ کرتے اور نہ کسی چیز کو حرام ٹھہراتے سو اس طرح ان لوگوں نے بھی جھٹلایا تھا جو ان سے پہلے گزر چکے ہیں یہاں تک کہ ان کو ہمارے عذاب کا مزہ چکھنا پڑا ، تم کہو کیا تمہارے پاس کوئی علم کی روشنی ہے جسے ہمارے سامنے پیش کرسکتے ہو ؟ اصل بات یہ ہے کہ تم پیروی نہیں کر رہے مگر محض وہم اور اٹکل کی اور تم اس کے سوا کچھ نہیں ہو کہ بےسمجھے بوجھے باتیں بنانے والے ہو

مدت سے مشرکوں کی یہ صدا رہی ہے کہ اگر اللہ نہ چاہتا تو ہم شرک نہ کرتے : 228: اللہ کے ساتھ شرک کرنے والوں کا آخری معارضہ اور اس کا جواب دیا جا رہا ہے۔ فرمایا یہ آج کی بات نہیں ہر دور میں مشرک قوموں اور مشرک افراد کا آخری سوال یہی رہا ہے کہ ” اگر ہم نے خدا کا شریک ٹھہرانے اور کسی چیز کو حرام قرار دینے کے معاملے میں اللہ کی رضا کی مخالفت کی ہے تو اللہ کے اختیار میں ہے تو سب کچھ ہے اس نے اپنے اختیار سے ہم کو روک کیوں نہیں دیا ؟ پھر جب اس نے اختیار رکھنے کے باوجود ہم کو نہیں روکا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ جو کچھ ہم نے کیا اور کر رہے ہیں یہی اس کا حکم اور یہی اس کی مرضی ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ معارضہ بالکل ایک احمقانہ معارضہ ہے انسانوں کو کسی قول یا فعل کی آزادی ملنا اس بات کی دلیل نہیں کہ وہ قول یا فعل عند اللہ بھی صحیح یا درست ہے اگر یہ دلیل ہے تو پھر ہر احمق اپنی حماقت اور ہر ظالم اپنے ظلم کی حمایت میں اور ہر بدمعاش اپنی بدمعاشیوں کے حق میں یہ دلیل پیش کرسکتا ہے۔ فرمایا یہ محض ان کی اپنی ایجاد ہے اور اس طرح پچھلے مشرک بھی کہتے آئے ہیں جو کچھ یہ کہہ رہے ہیں اور یہ بھی کہ جو کچھ انہوں نے کیا یہ لا علمی کی وجہ سے نہیں بلکہ جان بوجھ کر کہا ہے اور جو انجام پچھلے مشرکوں کا ہوا وہی ان کا ہوگا لہٰذا آپ ان کو ان کے حال پر چھوڑ دیں اور وقت مقرر کا انتظار کریں عنقریب ان کا فیصلہ ہوجائے اس لئے کہ یہاں کسی کو کتنی دیر رہنا ہے۔ وہم و گمان چھوڑ کر کوئی علم کی روشنی آپ کے پاس ہے تو وہ سامنے لائو : 229: ظن وتخمین اور اٹکل پچو علم کا مقابلہ نہیں کرسکتے۔ علم کیا ہے ؟ کتاب اللہ اصل علم ہے۔ چاہئے تو یہ تھا کہ یہ لوگ انبیاء کے مقابلہ میں جب ان کے پاس کوئی دلیل نہ تھی تو ان کی لائی ہوئی تعلیم کو قبول کرلیتے جو سراسر علم ہے لیکن وہ انبیاء کے مقابلے میں اٹھ کر باپ دادا کی تقلید کا جھنڈا بلند کرنے والے ہوئے۔ آخر کیوں ؟ اس لئے کہ ہر زمانہ کے لوگوں کے پاس کسی کتاب الٰہی کی کوئی سند نہیں تھی بلکہ سند صرف یہ تھی کہ باپ دادا سے یوں ہی ہوتا چلا آرہا ہے اور ظاہر ہے کہ جو بات ایک مدت سے ہوتی چلی آرہی ہے وہ غلط تو نہیں ہو سکتی بس یہی وہ اٹکل تھی جو پہلوں نے لگائی اور یہی لوگ آج لگا رہے ہیں۔ کیا اس کو دلیل کہتے ہیں ؟ اگر یہ دلیل ہے تو پھر دنیا میں ایک شرک ہی نہیں ہو رہا چوری ، ڈاکہ ، قتل ، زنا ، رشوت ، بدعہدی اور اس طرح کے دوسرے بیشمار جرائم بھی ہو رہے ہیں جنہیں کوئی شخص بھی نیکی اور بھلائی نہیں سمجھتا پھر کیا اس طرز استدلال کی بناء پر یہ بھی کہا جائے گا کہ تمام افعال حلال وطیب ہیں کیونکہ اللہ انہیں اپیس دنیا میں ہونے دے رہا ہے اور جب وہ انہیں ہونے دے رہا ہے تو ضرور وہ ان کو پسند بھی کرتا ہے ؟ اللہ کی پسند اور ناپسند معلوم ہونے کا ذریعہ وہ واقعات نہیں ہیں جو دنیا میں ہو رہے ہیں بلکہ یہ صرف ان کا ظن وتخمین ہے اگر ان لوگوں کے پاس کوئی دلیل ہوتی تو وہ اس کو پیش کرتے چناچہ مشرک قوموں کا یہ سوال آج سے نہیں بلکہ ہر زمانے میں رہا ہے۔ چناچہ ایک جگہ ارشاد الٰہی ہے کہ : ” یہ کہتے ہیں اگر خدائے رحمن نہ چاہتا تو ہم کبھی ان کو نہ پوجتے ، یہ اس معاملے کی حقیقت کو قطعی نہیں جانتے محض تیر تکے لڑاتے ہیں۔ کیا ہم نے ان سے پہلے کوئی دلیل ان کو دی تھی جس کی سند یہ اپنے پاس رکھتے ہیں ؟ نہیں بلکہ یہ کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو اسی طریقے پر پایا ہے اور ہم انہی کے نقش قدم پر چل رہے ہیں۔ “ (الزخرف 43 : 22) اور اسی طرح ایک جگہ ارشاد فرمایا : ” یہ مشرکین کہتے ہیں اگر اللہ چاہتا تو نہ ہم اور نہ ہمارے باپ دادا اس کے سوا کسی اور کی عبادت کرتے اور نہ اس کے حکم کے بغیر کسی چیز کو حرام ٹھہراتے ایسے ہی بہانے ان سے پہلے کے لوگ بھی بناتے رہے ہیں۔ “ (النمل 16 : 35 ) ایک جگہ ارشاد فرمایا : ” آگاہ رہو ! آسمان کے بسنے والے ہوں یا زمین کے سب کے سب اللہ کے مملوک ہیں اور جو لوگ اللہ کے سوا کچھ خود ساختہ شریکوں کو پکارتے ہیں وہ نرے وہم و گمان کے پیرو ہیں اور محض قیاس آرائیاں کرتے ہیں۔ “ (یونس 10 : 66) ایک جگہ ارشاد فرمایا : ” حقیقت یہ ہے کہ ان میں سے اکثر لوگ محض قیاس و گمان کے پیچھے چلے جا رہے ہیں حالانکہ گمان حق کی ضرورت کو کچھ بھی پورا نہیں کرتا۔ جو کچھ یہ کر رہے ہیں اللہ اس کو خوب جانتا ہے۔ “ (یونس 10 : 36) اس جگہ اس طرح ارشاد ہوا کہ : ” اے میرے رسول (a) آپ ان سے پوچھئے کہ تم جو کچھ کہہ رہے ہو اس کے متعلق اگر تمہارے پاس کوئی علمی دلیل یا قابل اعتماد سند ہے تو پیش کرو اور پھر اللہ تعالیٰ خود ہی جواب دے رہے ہیں کہ ان کے پاس کوئی دلیل اور سند نہیں جو ان کے خرافات کی اساس ہو۔ ان کے عقائد کا یہ ڈھانچہ صرف وہم و گمان اور ظن وتخمین کی پیداوار ہے۔
Ayah 6:149

قُلْ فَلِلّٰهِ الْحُجَّةُ الْبَالِغَةُ١ۚ فَلَوْ شَآءَ لَهَدٰىكُمْ اَجْمَعِیْنَ Open ayah 6:149 in the Quran reader

تم کہہ دو اللہ ہی کے لیے پہنچی ہوئی اور پکی دلیل ہے اور اگر وہ چاہتا تو تم سب کو راہ دکھا دیتا

اے پیغمبر اسلام ! آپ کہہ دیجئے کہ اللہ کی دلیل پکی اور پختہ دلیل ہے : 230: ہدایت وضلالت کے معاملہ میں اللہ تعالیٰ کی جو اصل سنت ہے وہ بتائی جا رہی ہے کہ اللہ کا طریقہ یہ نہیں کہ وہ اپنی مشیت کے زور سے جس کو چاہے ہدایت پر ڈال دے اگر وہ ایسا کرنا چاہتا تو اس کی مشیت کو کوئی روک نہیں سکتا تھا۔ وہ تم سب کو اور ساری مخلوق کو ہدایت کی راہ دکھا دیتا لیکن اس معاملہ میں اس نے جبر کو پسند نہیں فرمایا بلکہ وہ دلیل وحجت سے راہ دکھاتا ہے کہ تم حق وصداقت کو قبول کرو اور اس نے تمہیں اختیار دیا ہے کہ تم اپنی مرضی سے چاہو تو حق کو قبول کرو چاہو تو باطل کو اپنا لو۔ اس کی قدرت سے یہ بات بعید نہیں تھی کہ وہ تم میں برائی اور گمراہی کی استعداد ہی نہ رکھتا تم اپنی سرشت کے لحاظ سے فرشتوں کی طرح صرف عبادت اور اطاعت ہی کرتے یا تم ارادہ و شعور سے محروم پیدا کئے جاتے اور بلا ارادہ اور غیر شعوری طور پر تم سے نیکیاں سرزد ہوتیں لیکن حکمت الٰہی کا تقاضا یہ تھا کہ انسان شجر وحجر کی طرح مجبور محض بھی نہ ہو اور ملائکہ کی طرح سے فطری اعتبار سے فقط نیک اور پاکباز ہی نہ ہو بلکہ تمام سابقہ تخلیقات سے ایک انوکھی چیز ہو۔ استعداد اور صلاحیت کے لحاظ سے نیکی اور برائی دونوں اس سے سرزد ہو سکتی ہوں اور شعور و ارادہ کے لحاظ سے اسے مکمل آزادی ہو کہ جو راستہ چاہے اسے منتخب کرلے اور صرف اسی چیز نے اس کو مکلف بنایا ہے تو پھر یہ اختیار اس سے واپس کیونکر لیا جاسکتا ہے ؟ اور اگر اس سے یہ اختیار واپس لے لیا جائے تو پھر مکلف کیوں کر ہوگا ؟
Ayah 6:150

قُلْ هَلُمَّ شُهَدَآءَكُمُ الَّذِیْنَ یَشْهَدُوْنَ اَنَّ اللّٰهَ حَرَّمَ هٰذَا١ۚ فَاِنْ شَهِدُوْا فَلَا تَشْهَدْ مَعَهُمْ١ۚ وَ لَا تَتَّبِعْ اَهْوَآءَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ وَ هُمْ بِرَبِّهِمْ یَعْدِلُوْنَ۠ Open ayah 6:150 in the Quran reader

ان سے کہو کہ بلاؤ ان کو جو اس بات کی گواہی دیں کہ اللہ نے یہ چیز حرام کردی ہے ، پھر اگر ان کے گواہ اس بات پر گواہی بھی دے دیں جب بھی تم ان کے ساتھ ہو کر اس کا اعتراف نہ کرو تم ان لوگوں کی خواہشوں کی پیروی نہ کرو جنہوں نے ہماری آیتیں جھٹلائی ہیں اور جو آخرت پر یقین نہیں رکھتے اور دوسری ہستیوں کو اپنے پروردگار کے برابر ٹھہراتے ہیں

اے پیغمبر اسلام ! ان سے کہو کہ اپنی گواہی پیش کرو کہ اللہ نے یہ چیزیں حرام کردی ہیں : 231: فرمایا اے پیغمبر اسلام ! (a) ان لوگوں سے کہو کہ تمہارے پاس اللہ کی حلال کی ہوئی چیزوں کو حرام کرنے کا کوئی گواہ ہے تو اسے میدان میں لے آئو لیکن اگر تمہارے پاس کوئی گواہ ہی نہیں ہے تو پھر ان بےسروپا خرافات سے چمٹے رہنے پر کیوں بےجا ضد کر رہے ہو آخر اس ضد کا فائدہ ؟ واضح رہے کہ معقول گواہی صرف دو بنیادوں پر ہوتی ہے ایک تو ذاتی مشاہدہ اور شخصی علم و واقفیت پر دوسری کسی عقل یا فطری قرینہ پر قرآن کریم نے ان دونوں ہی قسم کی گواہیوں کا مطالبہ کیا ہے کہ اس طرح کی کوئی گواہی بھی موجود ہے تو اس کو پیش کرو ورنہ اس دلیل اور واضح برہان کو قبول کرلو جو قرآن کریم تمہارے سامنے پیش کرتا ہے۔ خواہشات کی پیروی کرنے والے اپنی خواہش ہی کو گواہ بنا لیں تو تم قبول نہ کرنا : 232: خواہشات کی پیروی کرنے والے اپنی خواہشات ہی کو گواہ بنانے لگیں ، کیا مطلب ؟ مطلب یہ ہے کہ وہ گواہی کی شرطوں کے بغیر ہی گواہی دینے کے لئے اٹھ کھڑے ہوں جیسا کہ انہوں نے فی الواقعہ کیا کہ ہماری گواہی یہ ہے کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ایسے کرتے پایا ہے اور جو وہ کرتے آئے تھے وہی کچھ ہم کر رہے ہیں کیا باپ دادا ہمارے غلط تھے ؟ تو یہ ایک اشتعال انگیز بات تو ہے جس سے دوسروں کے جذبات بھڑک سکتے ہیں لیکن اس کی گواہی نہیں کہا جاسکتا بہرحال اگر وہ ایسی حماقت کریں تو آپ ﷺ ان کی اس حماقت کو قطعاً قبول نہ کریں بلکہ اپنی صحیح بات پر جمے رہیں اس طرح نبی اعظم و آخر ﷺ کو مخاطب کر کے آپ کی امت کے ہر فرد کو یہ بات سمجھائی جا رہی ہے کہ تم ایسے تیر تکوں کو قبول نہ کرو اور نہ ہی ان کی بےدلیل باتوں پر کان دھرو۔ ہماری آیتوں کو جھٹلانے والوں کی خواہشات کی پیروی نہ کرو : 233: ” اَهْوَآءَ “ کیا ہیں ؟ وہی بےدلیل باتیں جن کے حق میں کوئی عقلی اور نقلی دلیل موجود نہ ہو ظاہر ہے کہ وہ اس کے اختیار کرنے والوں کی خواہش ہی پر مبنی ہو سکتی ہیں اور جن کی رہنما ان کی خواہش ہو ان کا انجام سب کو معلوم ہے۔ اس جگہ ان لوگوں کی تین صفات کا حوالہ دیا گیا ہے ایک یہ کہ وہ اللہ کی آیات کی تکذیب کرتے ہیں دوسری یہ کہ وہ آخرت پر یقین نہیں رکھتے تیسری یہ کہ وہ اپنے رب کے ہمسرو شریک ٹھہراتے ہیں مقصود اس سارے کلام کا یہ ہے کہ جو لوگ اتنے ڈھیٹ ہیں کہ اللہ ، آخرت اور آیات الٰہی میں سے کوئی چیز بھی ان کے نزدیک درخور اعتناء نہیں ایسے بےلگام لوگوں کی خواہشیں ان کو کہاں لے جائیں گی اس کا کوئی اندازہ کرسکتا ہے۔ ایسے دو ٹانگوں والے چار ٹانگے نہیں تو اور کیا ہیں ؟ کہ جدھر منہ آیا دوڑنے لگے۔ اس مضمون سے یہ بات بھی واضح ہوگئی کہ ان کی شہادت اس لئے نہیں طلب کی گئی کہ اگر وہ شہادت دے دیں تو اس کو تسلیم کرلیا جائے خواہ انہوں نے شہادت کچھ ہی دی ہو بلکہ اس شہادت کے طلب کرنے سے مقصود ہی یہ ہے کہ ان کے دانش مند اور دیانت دار طبقہ کو ان کی جاہلانہ رسموں کی بیہودگی پر آگاہ کیا جائے کیونکہ جب ان سے ان اسلام کی صداقت کے لئے شہادت طلب کی جائے گی تو شہادت دینے سے پہلے احساس ذمہ داری کا ثبوت دیتے ہوئے وہ ان امور میں شاید غوروفکر کریں جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان پر ان چیزوں کی بیہودگی آشکارا ہوجائے اور وہ ان سے خود بخود باز آجائیں لیکن اگر انہوں نے شرافت اور دیانت سے رشتہ توڑ ہی لیا ہے اور عام لوگوں کی طرح خواص بھی اس قدر بگڑ چکے ہیں کہ وہ ایک غلط اور باطل چیز کی جان بوجھ کر شہادت دینے پر تل گئے ہیں اور ایسی شہادت کو وہ شہادت سمجھنے لگے ہیں جس کے لئے نہ عقل سے وہ کام لیتے ہیں اور نہ نقل سے تو پھر ان کی ایسی شہادت آپ کے لئے حجت نہیں بن سکتی ، ایسے لوگوں کو دور ہی سے سلام کردینا بلکہ سات سلام کہنا مناسب ہے۔ ان عقل و فکر سے عاری لوگوں کو اللہ کی حرام کردہ چیزوں کے متعلق بتائو : 234: ملت ابراہیمی اور دین اسرائیل کے دعویداروں کو بتائو کہ تمہارے رب کی عائد کردہ پابندیاں وہ نہیں ہیں جن میں تم گرفتار ہو وہ تمہارے ہی مقرر کردہ راہنمائوں اور مذہبی پیشوائوں کی خواہشات ہیں جو انہوں نے اپنے پیٹ بھرنے کے لئے ایجاد کی ہیں بلکہ اصل پابندیاں یہ ہیں جو اللہ نے انسانی زندگی کو مضبوط کرنے کے لئے عائد کی ہیں اور جو ہمیشہ سے شرائع خداوندی کا اصل الاصول رہی ہیں ان میں سے دس پابندیوں کا اس جگہ ذکر کیا گیا ہے اور دوسری باتوں کو ان کے ضمن میں رکھا گیا اور ان دس پابندیوں میں سے پہلی پابندی شرک سے باز رہنے کی بیان کی گئی۔