6. Surah Al-An'aam

الأنعامThe Cattle · 165 ayahsعروۃ الوثقٰی

Ayah 6:46

قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ اَخَذَ اللّٰهُ سَمْعَكُمْ وَ اَبْصَارَكُمْ وَ خَتَمَ عَلٰى قُلُوْبِكُمْ مَّنْ اِلٰهٌ غَیْرُ اللّٰهِ یَاْتِیْكُمْ بِهٖ١ؕ اُنْظُرْ كَیْفَ نُصَرِّفُ الْاٰیٰتِ ثُمَّ هُمْ یَصْدِفُوْنَ Open ayah 6:46 in the Quran reader

ان سے کہو تم نے اس بات پر بھی غور کیا کہ اگر اللہ تعالیٰ تمہارے کان اور تمہاری آنکھیں لے لے اور تمہارے دلوں پر مہر لگا دے تو اس کے سوا کون معبود ہے جو تمہیں یہ واپس دلا سکتا ہے ؟ ہم کس طرح گوناں گوں طریقوں سے بیان کرتے ہیں پھر بھی یہ لوگ ہیں کہ منہ پھیرے ہوئے ہیں

کسی قوم یا انسان کے کان ، آنکھیں لے لینے اور دلوں پر مہر لگانے کا مطلب کیا ؟ 71: قرآن کریم میں یہ مضمون اتنی بار بیان ہوا ہے کہ شمار کرنا چاہیں تو مشکل ہی سے شمار کرسکتے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود اس کا سمجھنا بھی ابھی تک اس سے سو بار زیادہ مشکل ہے جتنا اس کا شمار کرنا مشکل ہے۔ اس لئے کہ یہ قرآن کریم کی تمثیلات میں سے ایک تمثیل ہے لیکن تمثیل کا نام سنتے ہی کچھ چہرے اترنے اور کچھ چڑھنے شروع ہوجاتے ہیں۔ ہاں ! اترنے والے چہرے ” مقتدیان “ کے ہیں اور چڑھنے والے ” پشیوایان “ کے۔ بہر حال کسی کا چہرہ اترے یا چڑھے قرآن کریم کا مطلب ومفہوم تو اس سے نہیں بدل سکتا۔ اس تمثیل میں مؤمن اور کافر کے حال اور مستقبل کا فرق بتایا گیا ہے۔ ایک وہ شخص ہے جو حقائق سے آنکھیں بند کئے ہوئے ہے اور کچھ نہیں دیکھتا کہ کائنات کا سارا نظام اور خود اس کا اپنا وجود کس صداقت کی طرف اشارہ کر رہا ہے۔ دوسرا وہ شخص ہے جس کی آنکھیں کھلی ہیں اور وہ صاف دیکھ رہا ہے کہ اس کے باہر اور اندر کی ہرچیز اللہ کی وحدانیت اور اسی کے حضور انسان کی جوابدہی پر گواہی دے رہی ہے۔ ایک وہ شخص ہے جو جاہلانہ اوہام اور مفروضات وقیاسات کی تاریکیوں میں بھٹک رہا ہے اور پیغمبر ﷺ کی روشن کی ہوئی شمع کے قریب بھی پھٹکنے کے لئے تیار نہیں۔ دوسرا وہ شخص ہے جس کی آنکھیں کھلی ہوئی ہیں اور پیغمبر کی پھیلائی ہوئی روشنی سامنے آتے ہیں اس پر یہ بات بالکل عیاں ہوجاتی ہے کہ مشرکین اور کفاروملحدین جن راہوں پر چل رہے ہیں وہ سب کی سب تباہی کی طرف جاتی ہیں اور فلاح کی راہ صرف وہ ہے جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی دکھائی ہوئی ہے۔ اب آخریہ کیونکر ممکن ہے کہ دنیا میں ان دونوں کا رویہ یکساں ہو اور دونوں ایک ساتھ ایک ہی راہ پر چل سکیں ؟ اور یہ بھی کیسے ممکن ہے کہ دونوں کا انجام و مآل یکساں ہو اور دونوں ہی مر کر فنا ہوجائیں۔ نہ ایک کو بدراہی کی سز املے ، نہ دوسرا راست روی کا کوئی انعام پائے ؟ ٹھنڈی چھاؤں اور دھوپ کی تپش ایک جیسی نہیں ہے۔ ایک اللہ کے سایہ رحمت میں جگہ پانے والا ہے اور دوسرا جہنم کی تپش میں جھلسنے والا ہے۔ تم کسی خیال خام میں مبتلا ہو کہ آخر کار دونوں ایک ہی انجام سے دو چار ہوں گے اور زیر نظر آیت کے آخر میں مؤمن کو زندہ سے اور ہٹ دھرم کافر کو مردہ سے تشبیہ دی گئی ہے جیسا کہ آنے وای آیت سے ات واضح ہوجائے گی یعنی مومن وہ ہے جس کے اندر احساس و ادراک اور فہم و شعور موجود ہے اور اس کا ضمیر اسے بھلے اور برے کی تمیز سے ہر وقت آگاہ کر رہا ہے اور اس کے برعکس جو شخص کفر کے تعصب میں پوری طرح غرق ہوچکا ہے اس کا مآل اس اندھے سے بی بدتر ہے جو تاریکی میں بھٹک رہا ہو اس کی حالت تو اس مردے کی سی ہے جس میں کوئی حس باقی نہ رہی ہو۔ چناچہ قرآن کریم میں دوسری جگہ ہے کہ : ” اور نہ (ٹھنڈا) سایہ اور (گرم) لو (برابر ہوتی ہیں) ۔ اور نہ زندہ اور مردہ کبھی برابر ہو سکتے ہیں ، بلاشبہ اللہ جس کو چاہتا ہے سنا دیتا ہے اور (اے پیغمبر اسلام ! ) ان لوگوں کو جو قبروں میں مدفون ہیں (مر مٹ گئے ہیں) آپ (ﷺ) ان کو بھی نہیں سنوا سکتے۔ “ (فاطر 35 : 21 ، 22) ایک جگہ ارشاد فرمایا : ” کیا یہ لوگ ملکوں میں چلے پھرے نہیں کہ عبرت حاصل کرتے ؟ ان کے پاس دل ہوتے اور سمجھتے بوجھتے ، کان ہوتے اور سنتے اور پاتے ، حقیقت یہ ہے کہ جب کوئی اندھے پن میں پڑتا ہے تو آنکھیں اندھی نہیں ہوجایا کرتیں دل اندھے ہوجاتے ہیں جو سینوں کے اندر پوشیدہ ہیں۔ ‘ ‘ (الحج 22 : 46) ایک جگہ ارشاد فرمایا : ” کیا یہ لوگ قرآن میں غور نہیں کرتے ، ان کے دلوں پر تالے پڑگئے ہیں۔ “ (محمد 47 : 24) ایک جگہ ارشاد فرمایا : ” اور اگر یہ تجھے جھٹلائیں تو کہہ دے میرے لیے میرا عمل ہے تمہارے لیے تمہارا ! میں جو کچھ کرتا ہوں اس کی ذمہ داری تم پر نہیں تم جو کچھ کرتے ہو اس کے لیے میں ذمہ دار نہیں۔ اور ان میں کچھ لوگ ایسے ہیں جو تیری باتوں کی طرف کان لگاتے ہیں پھر کیا تو بہروں کو بات سنائے گا اگرچہ وہ بات نہ پا سکتے ہوں ؟ اور ان میں کچھ ایسے ہیں جو تیری طرف تکتے ہیں پھر کیا تو اندھے کو راہ دکھا دے گا اگرچہ اسے کچھ سوجھ نہ پڑتا ہو ؟ “ (یونس 10 : 41 ، 43) تفصیل دیکھنا مطلوب ہے تو عروۃ الوثقیٰ جلد اول تفسیر سورة البقرہ کی آیت 18 ، 171 ملاحظہ فرمائیں۔ نیز عروۃ الوثقیٰ جلد دوم تفسیر سورة المائدہ کی آیت 71 کو دیکھیں۔ مزید آیات (حم السجدہ 17 : 44) (دھوکا 11 : 28) (الرعد 3 : 19) الزخرف : 40) (الفرقان : 73) (النمل 29 : 66) (الاعراف 7 : 64) قابل تفہیم اور قابل یاداشت بات یہ ہے کہ انہی مثالی اندھوں ، بہروں اور گونگوں اور ایسے ہی مردوں کے لئے جو کفر کی موت مر چکے ہیں انبیاء کرام کا سلسلہ اللہ تعالیٰ نے جاری فرمایا وہ سب کے سب اللہ تعالیٰ کے حکم سے ایسے اندھوں کو بینا ، ایسے بہروں کو سننے اور سمجھنے والا ، ایسے گونگوں کو بولنے والے بنانے کے لئے آئے اور اس طرح کفر کی موت مرنے والوں کو زندگی عین اسلامی زندگی وہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے عطا کرتے رہے۔ اس کے باوجود ایسوں کی بھی کوئی کمی نہ تھی پر اللہ تعالیٰ کا قانون مشیت اس طرح چلا کہ وہ اندھے ، بہرے اور گونگے ہی رہے اور کفر ہی کی موت مر گئے اور شرک ہی کے اندھیروں میں ڈوب گئے۔ ان سب انبیائے کرام میں خصوصاً سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) کا نام بڑی وضاحت کے ساتھ لیا گیا۔ کیوں ؟ اس لئے کہ یہی استعارات اور مثالیں ان کی قوم نے ان کیلئے استعمال کیں اس لئے بھی کہ ان کی قوم ان کی پیدائش سے بھی پہلے بعض خاص وجوہ کی بناء پر دشمن ہوچکی تھی اور انہوں نے مخالفین کو اس عمر میں راہ توحید کی طرف بلانا شروع کیا جو عام لوگوں کے بچوں کے لئے ابھی کھیل کود کا زمانہ ہوتا ہے یہ ان کی اور سیدنا یحییٰ (علیہ السلام) کی وہ خصوصیت تھی جو دوسرے انبیائے کرام سے ان کو ممتاز کرتی ہے۔ انہوں نے اپنی قوم کے ان مخالفین ومعاندین کو جو ان کی مخالفت کے لئے کمر کس چکے تھے کبھی انہی تمثیلوں سے پکارا جب پکارا اور للکارا جب للکار نے کی ضرورت پڑی اور یہ وہ میٹھا اور پیارا انداز ہے جس اندا زمین مخالفین کو وہ کچھ کہا جاسکتا ہے جو اسکے سوا دوسری زبان میں کہنا نہ آسان ہے اور نہ اتنا موثر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان استعارات و تمثیلات سے اناجیل بھی بھری پڑی ہے اگرچہ بعد میں علمائے نصاریٰ نے بھی ان استعارات و تمثیلات کو لفظوں کا لباس پہنانے کی کوشش کی تھی لیکن علمائے اسلام کی اکثریت نے تو اس باطنی اور روحانی کلام کو ظاہری لفظوں کے لباس میں پیش نہ کرنے والوں پر کفر کے فتوے صادر کئے اور وہ کام کر دکھایا جو علمائے نصاریٰ بھی نہ کرسکے۔ پھر بہت سے علماء نے ان ظاہری لفظوں میں لوگوں کو الجھا کر اولیاء کرام اور بزرگان دین کے متعلق وہ تقدس اور وہ مقام دینے کی ناکام کوشش یا کفریہ کوشش کی جس کے سہارے آج سارے اولیائے کرام اور بزرگان دین کے متعلق ایسی ایسی روایات گھڑی گئی ہیں کہ ان کوالٰہ اور معبود بنا کر رکھ دیا گیا۔ اب اولیائے کرام اور بزرگان دین کے متعلق بھی اندھوں کو بینا ، کوڑھیوں پر ہاتھ پھیر کر درست کرنے ، بہروں کو سماعت عطا کرنے حتیٰ کہ مردوں کو زندہ کرنے جیسی سینکڑوں داستانیں زبان زد خاص و عوام ہیں اور ان پر مستقل کتابیں شائع و ضائع ملتی ہیں۔ پھر کچھ موحد اور توحید پرست لوگ ان لوگوں کے رد میں تحریری طور پر اور تقریری طور پر بڑی شدومد سے جہاد جاری کئے ہوئے ہیں اور ان کو مشرک قرار دیتے ہیں لیکن ان ساری باتوں کے باوجود اپنے اس شرک سے ابھی تک توبہ کرنے کے لیے تیار نہیں جو شرک دوسرے لوگوں کی گمراہی کا باعث بنتا ہے۔ ان کی توجہ بھی انکے اپنے شرک کی طرف مبذول کرائی جاتی ہے تو وہ وہی اینٹ روڑے پکڑ پکڑ کر ان پر پھینکتے ہیں جو خود ان کو لگ چکے ہیں اور ان کو شدید زخمی بھی کرچکے ہیں۔ ان کی سمجھ میں یہ نہیں آتا کہ یہ سارا بیج تو خود ان کا اپنا بیجا ہوا ہے۔ حاشا اللہ جب تک ان لوگوں نے اپنے آپ کو اس شرک کی گندگی سے پاک نہ کیا اسوقت تک یہ منہ کی کھاتے رہیں گے اور جس ضد اور ہٹ دھرمی پر وہ دوسروں کو بتاتے ہیں اسی طرح کی ضد اور ہٹ دھرمی وہ خود کئے جا رہے ہیں اور کئے جائیں گے۔ پھر تعجب ہے کہ ان سے جب بھی بات ہوئی ان کا ایک اور صرف ایک ہی جواب حاضر پایا کہ کیا اللہ قادر نہیں ہے ؟ وہ ایسا نہیں کرسکتا ؟ اور ان کی سمجھ میں یہ بات نہیں آتی کہ اللہ اگر عیسیٰ (علیہ السلام) کے وقت قادر تھا اس لئے اس نے عیسیٰ (علیہ السلام) سے بازنی کرایا جو کرایا تو آج بھی قادر ہے اور اس کے بندے بھی بلاشبہ موجود ہیں اگرچہ وہ نبی نہ سہی لیکن اس کا اذن تو بہر حال موجود ہے اور قدرت بھی اگر وہ انبیائے کرام سے ایسے افعال سرزد کرانے پر قادر تھا جو صرف اس کے کرنے کے تھے کیونکہ قرآن کریم کی زبان میں ان کاموں کا کرنے والاہی للہ ہے تو یقیناً آج بھی وہ قادر ہے اگر اس کا اذن تھا تو آج بھی یقیناً اس کا اذن اسی کے پاس ہے اور قرآن کریم میں کہیں بھی یہ تخصیص نہیں فرمائی گئی کہ یہ افعال نبوت کے ساتھ خاص تھے بلکہ اس کا عکس قرآن کریم میں آج بھی موجود ہے۔ کیا اصحاب کہف نبی تھے ؟ مریم نبی تھیں ؟ موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ نبی تھیں ؟ موسیٰ (علیہ السلام) کا ساتھی نبی تھا ؟ اصحاب الاخدود نبی تھے ’ جریج کے ذمہ لگایا کیا بچہ نبی تھا ؟ گروہ صحابہ نبی تھے ؟ شاہ ولی اللہ دہلوی ؓ ، شاہ عبد الرحیم ، شاہ عبد الغنی ؓ ، کشمیری ؓ ، دہلوی ؓ ، ثناء اللہ امرتسری ؓ غزونی ؓ ، روپڑی ؓ ، قلوی ؓ سب نبی تھے ؟ اگر نہیں اور یقیناً نہیں تو پھر ان سب سے اللہ وہ کچھ کرانے پر قادر تھا اور ان کے لئے اس کا اذن بھی جاری تھا جو ان سب سے کرایا گیا اور دوسروں کے لئے نہیں ؟ کیا اس کا نام انصاف ہے یا اس کو بندربانٹ کہتے ہیں ؟ ہاں ! بلاشبہ ان اندھوں ، بہروں ، گونگوں ، کوڑھیوں اور کفر و شرک کی موت مرے ہوؤں کی آج بھی کمی نہیں ہے اور ان عیوب سے ان کو باہر نکالنے کی آج بھی کوششیں اللہ کے نیک بندے کر رہے ہیں اور اسوقت جو کام انبیائے کرام کے لئے مخصوص تھا آج وہ نبی اعظم وآخر ﷺ کی امت کے ہر فرد کے لئے اس کی بساط اور اس کی لیاقت کے بقدر فرض ہے۔ آج اس فرض میں خواہ کتنی ہی کوتاہی کیوں نہ ہو تاہم کسی نہ کسی صورت میں وہ ہو رہا ہے اور انشاء اللہ ہوتا رہے گا۔ اس لئے قرآن کریم کے ان استعارات ، تمثیلات ، محاورات اور ضرب الا مثال اور مجاز کو اس رنگ میں رنگے رہنا چاہئے جو رنگ اللہ نے ان کو دیا اور اللہ کے ذمہ کے کام کوئی انسان خواہ وہ نبی ہی کیوں نہ ہو نہیں کرسکتا تھا اور نہ ہی آج کرسکتا ہے اور قرآن کریم کی آیات پکار پکار کر کہہ رہی ہیں اللہ کرے کہ کوئی سننے والا اور سمجھنے والابھی ہو۔ غور کرو کہ ہم کس طرح تفہیم کی کوشش کرتے ہیں لیکن وہ لوگ ہیں کہ منہ چڑھا جاتے ہیں : 72: فرمایا جب اللہ کا قانون مشیت کسی کی آنکھوں ، کانوں اور دلوں پر مہر ثبت کردے تو پھر وہ کون ہے جو اس مہر کو توڑ سکے اور قانون الٰہی اتنا اندھا بھی نہیں ہے کہ وہ جن آنکھوں ، کانوں اور دلوں پر مہر ثبت کر دے گا وہ کبھی ان صلاحتیوں سے صحیح کام بھی لیں گے کہ اس کو وہ مہر توڑنا پڑے گی۔ نہیں اور ہرگز نہیں تم دیکھتے ہو کہ ایک انسان عمر بھر کفر و شرک میں ڈوبا رہا اور وہ کونسا گناہ ہے جوا س سے سرزد نہیں ہوا۔ نہ معلوم تم اپنی زبان سے اس کو کتنی بار کافر و مشرک ہونے کا فتویٰ دے چکے لیکن قانون الٰہی نے اس کے ان اعضاء پر مہر ثبت نہ کی تھی نتیجہ کیا نکلا ؟ کہ وہ سچا مسلمان ہو کر اور جنت کا وارث قرارپاکر اس دنیا سے رخصت ہوا۔ کیوں ؟ اس لئے کہ قانون الٰہی کا وہ ٹھپہ اس پر لگایا نہیں گیا تھا۔ فرمایا اے پیغمبر اسلام یہ لوگ تو ایک نشانی طلب کر رہے تھے اور پھر نشانی بھی ایسی کہ اگر ان کو دی جاتی اور وہ اپنی عادت کے مطابق اسکو قبول نہ کرتے تو ان کی دنیا اندھیر ہوجاتی اب ہم ان کو ایک کیا سینکڑوں نشانیاں گوناگوں پہلوؤں سے پیش کر رہے ہیں لیکن یہ سننے اور سمجھنے کی بجائے منہ پھیرے چلے جا رہے ہیں۔ ” صدف “ رکا ، بند ہوا ، اعراض کیا اور منہ پھیرا۔ فرمایا ہم ان کو سمجھانے کے لئے کبھی عقلی دلائل پیش کرتے ہیں اور کبھی تاریخی شواہد کا بیان جاری کردیتے ہیں پھر کبھی اپنی رحمت کا مژدہ سنا دیتے ہیں اور کبھی اپنی ناراضی اور غضب کے انجام سے ڈراتے ہیں لیکن وہ ہیں کہ ٹس سے مس نہیں ہوتے ، چاہیے تو یہ تھا کہ وہ روشن دلائل سے متاثر ہو کر دین حق قبول کرتے مگر وہ ہیں کہ الٹا منہ پھیر رہے ہیں اور رو گردانی کر رہے ہیں جس کا صاف مطلب یہ ہے کہ یہ لوگ الٹی سمجھ کے ہیں۔
Ayah 6:47

قُلْ اَرَءَیْتَكُمْ اِنْ اَتٰىكُمْ عَذَابُ اللّٰهِ بَغْتَةً اَوْ جَهْرَةً هَلْ یُهْلَكُ اِلَّا الْقَوْمُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 6:47 in the Quran reader

ان سے کہو تم نے اس بات پر بھی غور کیا کہ اگر اللہ تم پر اچانک عذاب بھیج دے یا آشکارا آئے تو ظالموں کے گروہ کے سوا کونسا گروہ ہوسکتا ہے جو ہلاک کیا جائے گا ؟

تم ہی بتادو کہ اللہ کا عذاب اچانک آجائے تو ظالموں کے سوا کون ہے جو ہلاک ہوگا ؟ : 73: اے پیغمبر اسلام ! آپ ﷺ ان سے یہ تو پوچھیں کہ نشانی عذاب کا مطالبہ تو انہوں نے کردیا لیکن اگر اللہ نے عذاب نازل کردیا تو ان میں وہ کون ہے جو اس کو روکے گا ؟ اور یہ بھی کہ اللہ تعالیٰ کے عذاب نازل کرنے کے دو طریقے اسکی سنت کے مطابق ہیں ایک وہ عذاب جو اچانک نازل ہوجاتا ہے یعنی دفتہً بغیر کسی نوٹس کے بالکل بیخبر ی کے عالم میں بغیر اعلان کئے۔ مطلب یہ ہے کہ عذاب کی خبر فوراً ان کو پہنچائی جا چکی ہوتی ہے لیکن وقت کا اعلان نہیں کیا جاتا اسی عذاب کو قرآن کریم کی زبان میں ” بغۃ “ کہا گیا ہے جس کے معنی اچانک کے ہیں بغیر دن اور وقت مقرر کئے اور دوسری قسم عذاب کی وہ ہے جو باقاعدہ دن اور وقت کا اعلان کرانے کے بعد کھلم کھلا ، دن دھارے ، ڈنکے کی چوٹ پر نازل کیا جاتا ہے۔ اب دونوں قسموں میں سے کسی ایک قسم کا عذاب اگر نازل ہوجائے جیسا کہ ان لوگوں کا مطالبہ ہے تو آخر اس کے روکنے کی کوئی صورت ؟ اچھا کم ازکم یہ تو بتادو کہ یہ بجلی اگر گرے گی تو گرے گی کس پر ؟ انہی ظالموں پر تو گرے گی جو اپنی شامت سے اس کو دعوت دے رہے ہیں اور اپنی بداعمالیوں کے باعث فی الواقع اس کے مستحق بھی ہوچکے ہیں اور عذاب الٰہی کی خصوصیت ہی یہ ہے کہ اس کا شکار صرف مجرمین ہوتے ہیں اور فرمانبرداروں کو اس میں سے بچالیا جاتا ہے۔ یہ وہ عذاب ہے جو عذاب کی خبر پہنچانے کے بعد نازل ہو چاہے وقت اور تاریخ مقرر کر کے اور چاہے صرف اطلاع کر کے کہ عذاب الٰہی نازل ہوگا جب کہ اس کا وقت اور دن مقرر نہ کیا جائے۔ زیر نظر آیت میں اس بات کی تعلیم کی جا رہی ہے کہ عذاب کی جو صورت بھی ہو ہلاکت و بربادی تو بہر حال کافروں ہی کے حصے میں آئے گی رہے مؤمن تو جان لینا چاہئے کہ مؤمن کے لئے تو خوشحالی اور بد حالی دونوں یکساں نعمت ہی ہیں۔ خوشحالی کا نعمت ہونا تو معروف ہے بدحالی بھی اسی معنی میں نعمت ہے کہ وہ کفار سیئات یا رفع مراتب کا کام دے گی اور اس عذاب سے مراد وہ عذاب ہے جو انبیاء کی تکذیب کرنے والی امتوں کے لئے مخصوص تھا جو اتمام حجت کے بعد آتا تھا اور اس میں زیادہ تر وہی عذاب مراد ہوتا تھا جو تاریخ اور وقت متعین کر کے دیا جاتا تھا جیسا کہ انبیائے کرام کی سوانح میں ذکر کیا گیا ہے نبی و رسول ﷺ کو اس کے متبعین کو علاقہ بدر کردیا جاتا جو علاقہ عذاب الٰہی کے لئے متعین کردیا جاتا تھا اور جو عذاب کسی حال بھی ٹلنے والا نہ ہوتا تھا اور اس عذاب کو ” جھرۃ “ کے لفظ سے یاد کیا گیا۔ یونس (علیہ السلام) کی قوم سے جو عذاب روک لیا گیا تو اس عذاب کی اطلاع ضرور دی گئی تھی لیکن ابھی دن اور وقت مقرر نہ کیا گیا تھا کہ پوری قوم کے دل دہل گئے اور تضرع و عاجزی کرنے لگے مشیت الٰہی میں جو کچھ ہونا مقرر تھا وہی کچھ ہوا۔
Ayah 6:48

وَ مَا نُرْسِلُ الْمُرْسَلِیْنَ اِلَّا مُبَشِّرِیْنَ وَ مُنْذِرِیْنَ١ۚ فَمَنْ اٰمَنَ وَ اَصْلَحَ فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ Open ayah 6:48 in the Quran reader

اور (ہمارا قانون یہ ہے کہ) ہم رسولوں کو نہیں بھیجتے مگر اس لیے کہ خوشخبری سنائیں اور متنبہ کریں ، پھر جو کوئی یقین لایا اور اپنے آپ کو سنوار لیا تو اس کے لیے نہ تو کسی قسم کا اندیشہ ہوگا نہ کسی طرح کی غمگینی

انبیائے کرام (رح) کا کام پیغام پہنچانا تھا کسی کو سنوارنا ان کے ذمہ کی بات نہ تھی : 74: نبی و رسول کیا تھا ؟ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک برگزیدہ انسان جو اللہ کا پیغام اللہ کے بندوں تک پہنچانے والا ہوتا تھا اور صحیح راستہ بتانا اس کے ذمہ کی بات تھی۔ کسی انسان کو سیدھی راہ چلانا اور اس راہ پر اس کو قائم رکھنا اس کے ذمہ ہرگز نہ تھا ذمہ داری کیا ہے ؟ ذمہ داری وہ چیز ہے جس کو فرائض سے تعبیر کیا جاتا ہے اور جس کے متعلق اس سے سوال کیا جاسکے کہ تم نے اسکو کیا یا نہیں ؟ جس طرح وہ کام جو اپنی ذمہ داری کا نہ ہو اپنے ذمہ لے لینا ناانصافی ہے بالکل اسی طرح جو کام کسی کی ذمہ داری کا نہ ہو اس کے ذمہ ڈال دینا بھی ناانصافی ہے۔ زیر نظر آیت نے رسولوں کی بعثت کا اصل مقصدواضح کردیا کہ وہ عذاب کی نشانیاں دکھانے ، عذاب لانے یا خوارق و عجائب کی نماش کرنے کیلئے نہیں بھیجے جاتے تھے بلکہ وہ اللہ کی رحمت کی خوش خبری دینے والے اور بصورت تکذیب اور بسبب نافرمانی اس کے عذاب سے خبردار کردینے والے بنا کر بھیجے جاتے تھے۔ پھر خوشخبری کی وضاحت بھی فرمادی کہ ” جو لوگ ایمان لائے اور جنہوں نے اپنے رویہ کی اصلاح کرلی ان کے لیے نہ تو مستقبل میں کوئی اندیشہ ہے اور نہ ماضی کا غم ، اور انداز کی تفصیل اس طرح فرمادی گئی کہ ( جو ہماری آیات کو جھٹلائیں گے ان کو ان کی نافرمانی کی پاداش میں اللہ کا عذاب پکڑے گا اور یہ کہ اللہ کا عذاب بہت ہی درد ناک ہے۔ “ اب جو بات کسی رسول نبی کی ذمہ داری ہی نہ تھی اس کے متعلق سوال کرنا جہالت نہیں تھا تو اور کیا تھا ؟ پھر انبیائے کرام کے ذمہ آج بھی وہ کام ڈالنا اور عقیدہ رکھنا کہ وہ ہماری اس وقت بھی حاجت روائی اور مشکل کشائی کرتے ہیں اور لوگوں کو یہ تعلم دینا کہاں تک سچی بات ہوگی ؟ اس کا فیصلہ خود فرمالیں۔ زیر نظر آیت میں بشارت کی وضاحت بھی فرمادی گئی کہ ” جو کوئی یقین لایا اور اپنے آپ کو سنوار لیا اس کیلئے نہ تو کسی قسم کا کوئی اندیشہ ہوگا ، نہ کسی طرح کی کوئی غمگینی۔ “ اور انذار کی تشریح آگے آرہی ہے۔
Ayah 6:49

وَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا یَمَسُّهُمُ الْعَذَابُ بِمَا كَانُوْا یَفْسُقُوْنَ Open ayah 6:49 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے ہماری آیتیں جھٹلائیں تو اپنی بدعملیوں کی وجہ سے ضروری ہے کہ ہمارے عذاب کی لپیٹ میں آجائیں

آیات الٰہی کو جھٹلانے والے عذاب الٰہی کی لپیٹ سے نہیں بچ سکیں گے : 75: اس آیت میں انبیائے کرام کی ذمہ داری کی دوسری ” شق “ یعنی تکذیب ونافرمانی کرنے والوں کو نذارت کی وضاحت اس طرح کردی گئی کہ ” جن لوگوں نے ہماری آیتیں جھٹلائیں تو اپنی بدعملیوں کی وجہ سے ضروری ہے کہ ہمارے عذاب کی لپیٹ میں آجائیں۔ “ جن انبیائے کرام کا ذکر قرآن کریم میں بیان ہوا ہے اور ان کے قصے سنائے گئے ہیں انکو بغور پڑھو آپ یقیناً اس نتیجہ پر پہنچیں گے کہ وہی کچھ ہوا جو کچھ اس آیت میں بتایا گیا۔ اب تم ہی بتاؤ کہ خوارق عادات عجائبات دکھانا انبیائے کرام اور رسل عظام کے فرائض میں سے تھا ؟ نہیں اور یقیناً نہیں۔ بس ! یہی وجہ ہے کہ اس طرح کے مطالبات کم فہم ، کج فہم ، بےبصیرت اور بیوقوفوں کی طرف سے ہوئے جو ان کے لائے ہوئے پروگرام کی تصدیق کرنے کے لئے تیار ہی نہ تھے اور یہ سیدھی بات کہنے کی جرات بھی نہ رکھتے تھے۔ ایسے لوگ آج بھی بکثرت موجود ہیں اور ہر طبقہ میں پائے جاتے ہیں۔
Ayah 6:50

قُلْ لَّاۤ اَقُوْلُ لَكُمْ عِنْدِیْ خَزَآئِنُ اللّٰهِ وَ لَاۤ اَعْلَمُ الْغَیْبَ وَ لَاۤ اَقُوْلُ لَكُمْ اِنِّیْ مَلَكٌ١ۚ اِنْ اَتَّبِعُ اِلَّا مَا یُوْحٰۤى اِلَیَّ١ؕ قُلْ هَلْ یَسْتَوِی الْاَعْمٰى وَ الْبَصِیْرُ١ؕ اَفَلَا تَتَفَكَّرُوْنَ۠ Open ayah 6:50 in the Quran reader

تم کہو کہ میں تم سے یہ نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ کے غیبی خزانے ہیں نہ یہ کہتا ہوں کہ غیب کا جاننے والا ہوں ، نہ میرا یہ کہنا ہے کہ میں فرشتہ ہوں ، میری حیثیت تو فقط یہ ہے کہ اس بات پر چلتا ہوں جس کی اللہ نے مجھ پر وحی کردی ہے ، ان سے پوچھو کیا وہ جو اندھا ہے اور جو بینا ہے دونوں برابر ہو سکتے ہیں ؟ کیا تم غور وفکر نہیں کرتے

پیغمبر اسلام ! ان سے پوچھیں کہ میں نے کب تم سے غیب کے خزانے رکھنے کا کہا تھا ؟ 76: غیب کیا ہے ؟ ” غیب “ سے مراد وہ حقیقتیں ہیں جو انسان کے حواس سے پوشیدہ ہیں اور کبھی براہ راست انسان کے تجربہ و مشاہدہ میں نہیں آتیں۔ مثلاً ذات الٰہ۔ مخصوص صفات خداوندی ، ملا ئ کہ ، نبوت ، وحی ، جنت اور دوزخ وغیرہ۔ رسول کیا ہے ؟ یہی باتیں جو انسان براہ راست انسان کے تجربہ ومشاہدہ میں نہیں آسکتیں ان کے متعلق اللہ تعالیٰ جس شخص کو بذریعہ وحی بتا دیتا تھا وہ رسول ہوتا تھا اور ” رسول ‘ ‘ بھی چونکہ بغیر اللہ کے بتلائے نہیں جان سکتا تھا اور جو چیز کسی کے بتلانے سے معلوم ہوجائے اس کو ” غیب “ نہیں کہتے بلکہ ” علم “ کہتے ہیں۔ پھر وہ ” علم “ جو اللہ تعالیٰ نے براہ راست رسول کو سکھایا ” رسول “ نے اس کو لوگوں تک پہنچایا اور من و عن پہنچایا۔ لوگوں کو یہ ” علم “ حاصل ہوگیا لیکن یہ نہیں کہا جاسکتا کہ ” غیب “ حاصل ہوگیا۔ اس جگہ نبی اعظم و آخر ﷺ کی زبان اقدس سے اس بات میں آخری اور فیصلہ کن اعلان کر ادیا کہ مجھ سے بحث کرنی ہے تو اسی چیز پر کرو جو میں تمہارے سامنے پیش کر رہا ہوں اور جس کا میں داعی ہوں۔ ان چیزوں پر کیوں جھگڑتے ہو جن کا میں نے سرے سے دعویٰ ہی نہیں کیا ؟ تمہارا یہ مطالبہ کہ ” اس کے پاس خزانے نہیں ہیں۔ “ تو میں نے کب کہا ہے کہ میرے پاس خزانے ہیں ؟ اگر میں یہ نہیں بتا سکتا کہ تم پر کب عذاب آئے گا اور کون اس کی لپیٹ میں آئے گا اور کون نہیں ؟ یا یہ کہ قیامت کب آئے گی تو میں نے کب دعویٰ کیا ہے کہ میں غیب جانتا ہوں ؟ اگر میں فرشتہ نہیں ہوں تو میری زبان سے کب نکلا کہ میں فرشتہ ہو ؟ جس چیز کو ” ایۃ “ یا ” ایت “ کہا جاتا ہے اسی چیز کو لوگ ” معجزہ “ کے نام سے تعبیر کرتے ہیں۔ ” رسول “ بذاتہ انہیں آیات میں سے ایک ” آیات بینہ “ ہوتا تھا نہیں بلکہ آیات بینات “ کے ایک مجموعہ کا نام ” رسول “ تھا۔ چونکہ نبی اعظم و آخر ﷺ بھی اللہ کے رسول اور خاتم النّبیین ہیں اس لئے آپ ﷺ کی ذات اقدس کے اندر ہزاروں معجزات ہیں اور ان معجزات کا صدور اس وقت سے ہوتا چلا آرہا تھا جب ابھی آپ ﷺ کے علم میں ” رسول “ ہونا بھی نہ آیا تھا۔ آپ ﷺ بےباپ اس دنیا میں تشریف لائے تھے۔ آپ ﷺ لکھنے پڑھنے سے بالکل الگ ایک امی محض ہو کر رہے۔ آپ ﷺ ایسی سرزمین میں پیدا ہوئے جس کے اندر بلکہ اس کے آس پاس میں بھی کوئی عالم تھا نہ علمی مرکز۔ آپ ﷺ نے چالیس سال تک اسی عالم میں تمام لوگوں کے سامنے زندگی گزاری۔ آپ ﷺ کا بچین اور جوانی ان لوگوں کے سا منے گزرے۔ دنیا کے اس جاہلی اور ناخواندہ قوم میں رہ کر ان ساری اخلاقی کمزوریوں سے پاک و صاف رہنا اور پورے ماحول کی آلودگی سے ذرہ بھر بھی آلودہ نہ ہونا کتنے معجزات سے بڑا معجزہ تھا جو سب نے اپنی آنکھوں سے اچھی طرح دیکھا تھا۔ چالیس سال کے بعد دفعتہ آپ ﷺ کی زبان مبارک سے ایسا محیر العقول اور حکیمانہ کلام جاری ہونا جس کی وضاحت و بلاغت نے تمام بلغاء دنیا کو چیلنج دے کر ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ان کے مونہوں پر مہر لگادی ، جس کے حکمت پرور معانی اور قیامت تک ضروریات انسانی کی رعایت کے ساتھ انسان کا مل کی زندگی ایک ایسا نظام عمل جس کو انسانی عقل و دماغ ہرگز ہرگز مرتب نہیں کرسکتا تھا نہ صرف نظری اور فکری حیثیت سے جمع کر کے پیش کیا بلکہ عملی طور پر بھی دنیا میں نہایت کامیابی کے ساتھ رائج کر کے دکھلادیا۔ یہ کتنا بڑا معجزہ تھا جو ان کی آنکھوں کے سامنے طے پاتا رہا اور ایک مدت کے بعد جا کر اسکی تکمیل ہوئی۔ وہ انسان جو اپنی انسانیت کو بھلا کر بیل ، بکری اور گھوڑے ، گدھے بن کر رہ گئے تھے جن کی عقلیں مسخ ہو کر رہ گئی تھیں جن کی زندگی کا مقصد صرف کھانے پینے ، سونے جاگنے اور جنسی اختلاط قرار پا چکا تھا۔ ان کو صحیح انسانیت کا سبق پڑھایا اور اس کا رخ صحیح انسانیت کی طرف پھیر دیا معاشرہ کے کتنے اندھوں کو آنکھیں ، کتنے بہروں کو کان اور کتنے کوڑھیوں کو چنگا اور کتنے مردوں کو زندہ کر دکھایا۔ بلاشبہ یہ سارا کام اللہ تعالیٰ کے اذن ہی سے ہوا۔ یہ سارا کچھ دیکھنے کے بعد جو لوگ پھر ” نشانی “ طلب کرتے رہے وہ کس ذہنیت کے لوگ تھے۔ وہ بالکل وہی تھے جو ابھی تک اندھے کے اندھے اور بہرے کے بہرے اور کوڑھی کے کوڑھی ہی تھے۔ جن کے دل مردہ تھے اور ابھی تک وہ اصل زندگی سے روشناس نہ ہو سکے تھے اور اسوقت بھی اس قسم کے لوگ ان بحثوں میں الجھے نظر آتے ہیں۔ وہ ان بحثوں میں الجھنے کی کوشش کرتے تھے جن کے حروف اججاد سے بھی وہ واقفیت نہیں رکھتے تھے ایسا کیوں تھا ؟ اس لئے کہ ان کے نزدیک زندگی فقط یہی دینوی زندگی تھی۔ ان کی ساری کدوکاوش اور دوڑ دھوپ کا مدعا دنیوی دولت ، عزت اور وقار کا حصول تھا وہ اس ادھیڑ بن میں اپنے دن گزارتے کہ وہ زیادہ سے زیادہ دولت مند کیسے بن جائیں۔ ان کی راتیں اسی پیچ و تاب کی نذر ہو تیں کہ وہ کسی طرح اپنے حریف کی عزت کو خاک میں ملا کر اپنے جاہ و جلال کا پرچم لہرائیں۔ علاوہ ازیں شرف انسانی کا کوئی تصور ان کے ذہن میں موجود تھا۔ وہ خود ان کے اردگر بسنے والے انسان جن سے ان کو عمر بھر کا واسطہ پڑا تھا کسی طرح بھی وحشی درندوں سے بہتر نہ تھے۔ بھلا وہ انسان جس کے ہاتھ تو غریبوں اور مسکینوں کو لوٹتے وقت نہ ڈریں ، اپنے قریبی رشہ داروں کو قتل کرتے وقت نہ کانپیں۔ جن کے کان زندہ درگور ہونے والی بچیوں کی جگر دوز آہ و فغان سن رہے ہوں اور ان کے دل ٹس سے مس نہ ہوں۔ رہزنی اور غارت گری جس کا پیشہ ہو اور جوا بازی اور شراب خوری جن کی تفریح طبع کا سامان ہو۔ بدکاری اور بدمعاشی جن کا روز کا مشغلہ ہو وہ کوئی شریف چیز نہیں ہو سکتا۔ انسان کے متعلق وہ ایسا تصور قائم کرنے میں معذور بھی تھے کیونکہ انسان نام کا جو جانور انہیں ادھر ادھر دکھائی دے رہا تھا وہ انہیں لغویات اور خرافات کا مجسمہ تھا اس لئے ان کو یہ بات سمجھانا اتنا آسان نہ تھا کہ انسان بھی منصب رسالت پر فائز ہو سکتا ہے۔ یہ ان کی ذہنیت تھی اور اس سے بلند تر فضا میں پرواز کرنے کی ان کے مرغ فکر میں ہمیت نہ تھی۔ جب رحمۃ للعالمین ﷺ تشریف فرما ہوئے اور دعوت اسلام کا آغاز کیا تو یہ لوگ نادان بچوں کی طرح اپنے ایمان کے لئے ایسی شرطیں لگانے لگے جس سے ان کی مالی حالت بہتر ہوجائے اس لئے وہ کہا کرتے تھے کہ : (ا) یہ ہمارے تپتے ہوئے صحرا گلشن گلزار بنا دیجئے۔ ان میں ندیاں پہنے لگیں اور چشمے ابلنے لگیں اور سر سبز و شاداب کھیت لہلہانے لگیں تو ہم جانیں کہ آپ ﷺ سچے نبی ہیں۔ آپ ﷺ پر ایمان لانے سے ہمیں فائدہ ہو اور اگر ہماری معاشی بدحالی جوں کی توں ہی رہے تو پھر آپ ﷺ کو نبی ماننے سے ہمیں کیا فائدہ ؟ (ب) اور اگر یہ نہیں کرتے تو اتنا ضرور کیجئے کہ ہمیں بتا دیا کہ اس سال فلاں جنس کا بھاؤ چڑھ جائے گا تاکہ ہم اس کا ذخیرہ کرلیا کریں اور جب نرخ تیز ہوجائے تو اس کو بیچ کر نفع کمائیں یا ہماری چوری ہوجائے تو چور کا سراغ بتائیں۔ لیکن یہ چیزیں بھی آپ ﷺ نہیں کرتے تو پھر ہم خواہ مخواہ اپنا آبائی مذہب چھوڑ کر کیوں اپنے آپ کو بدنام اور بےآرام کریں۔ (ج) جب وہ دیکھتے کہ یہ کھاتے پیتے بھی ہیں ، کاروبار بھی کرتے ہیں ، بال بچے دار بھی ہیں تو وہ کہتے یہ انسان ہیں اور انسان نبی کیسے ہو سکتا ہے ؟ بلاشبہ وہ تو کفار تھے اور ان کی ذہنیتیں مسخ تھیں اس لئے ان کی سمجھ میں یہ اور اس طرح کی دوسری باتیں نہ آنا بعید بھی نہیں لیکن آج جس طبقہ کے لوگوں کی سمجھ میں یہ باتیں نہ آئیں ان کو کیا کہئے گا ؟ کفار کی اس بگڑی ہوئی اور پست ذہنیت کی اصلاح کے لئے اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب کریم ﷺ کی زبان پاک سے یہ اعلان کرایا کہ ” میں اس بات کا مدعی بن کر نہیں آیا کہ میں تمہارے ان رتیلے ٹیلوں کو ہموار کر کے رشک ارم بنا دوں گا۔ خشک زمینوں میں دریا بہا دوں گا اور ہر چٹان سے چشمے ابلنے لگیں گے۔ میں تمہاری مادی خواہشات کی تکمیل کے لئے نہیں بھیجا گیا۔ میں تو تمہیں اللہ سے ملانے آیا ہوں ، تمہارے ویران دلوں کو بسانے آیا ہوں۔ میں تو تمہارے گلستان حیات میں نیکی ، تقویٰ پرہیزگاری ، پاکیزگی اور خوش اخلاقی کے سدا بہار پھول کھلانے آیا ہوں۔ مجھے اس لئے تو مبعوث نہیں کیا گیا کہ میں تمہیں چنے ، جوار ، جو ، کھجور اور انگور کے بھاؤ بتاؤں بلکہ مجھے تو اعمال حسنہ کی جنس سے تمہیں آشنا کرنے کیلئے بھیجا گیا ہے۔ جن کی قدر و قیمت بازار محشر میں اتنی زیادہ ہوگی جس کا تم اب تصور بھی نہیں کرسکتے۔ یہ افکار کی لطافت ، ارادوں کی پختگی اور حوصلوں کی بلندی ، یہ اعمال کا حسن ، کردار کی رعنائی اور اخلاق کی پاکیزگی ، یہ عملی کمالات اور دوسرے تمام معجزات جن کا تم مجھ میں مشاہدہ کر رہے ہو ان سب کے باوجود میں انسان ہوں ، فرشتہ نہیں۔ فرشتہ تو ” انسان کامل “ کی گرد راہ کو بھی نہیں پہنچ سکتا۔ تمہارے ذہنوں میں انسان کا جو گھٹیا تصور ہے وہ ” کامل انسان “ کا نہیں بلکہ بھٹکے ہوئے انسان کا تصور ہے جو شکل و صورت سے تو انسان نظر آتا ہے لیکن انسانی اوصاف سے بالکل عاری ہے وہ انسان جو نفس اور شیطان کے دام فریب میں گرفتار ہو کر اور مدت دراز تک اس کا گرفتار رہ کر اپنی مسند شرف و عزت سے محروم کردیا گیا ہے۔ اس لئے تم انسان کو اتنا حقیر نہ جانو۔ اپنی قدر پہچا نو اور اپنے شرف خدا داد کا احترام کرتے ہوئے شیطان کے جال سے رستگاری حاصل کرنے کے لئے کوشش کرو۔ پھر زیر نظر آیت سے اس شبہ کا ازالہ بھی کردیا جس میں اکثر ضعیف العقل لوگ مبتلا ہوجاتے ہیں کہ ذرا کسی میں کمال دیکھا تو جھٹ اس کے خدا ہونے کا یقین کرلیا۔ اس مجموعہ معجزات ﷺ سے اللہ تعالیٰ نے اعلان کروادیا کہ میں یہ نہیں کہتا کہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کے سارے خزانے میں میرے قبضہ میں ہیں کہ میں جس طرح چاہوں ان میں تصرف کردں یا مجھے غیب کا علم ہے اور بغیر اللہ کے بتلائے اور سکھائے میں ” غیب “ کو جانتا ہوں۔ میرا یہ دعویٰ نہیں۔ میرا جو دعویٰ ہے وہ صرف اور صرف یہ ہے کہ ” جو کچھ میری طرف وحی کیا جاتا ہے میں اسکی پیروی کرتا ہوں قول اور فعل میں علم اور عمل میں۔ میں نے خدائی کا دعویٰ نہیں کیا تم خدا کے کام میرے ذمہ مت ڈالو۔ ” اللہ کے سوا کوئی بھی غیب نہیں جانتا اور زمین و آسمان کے سارے خزانے بھی اس کے قبضہ قدرت میں ہیں اور اس نے کسی انسان کے ہاتھ میں یہ نہیں دیئے۔ “ زیر نظر آیت کے اس حصہ میں ایک اور اہم اور بنیادی چیز کی طرف بھی اشارہ کردیا کہ اسلام کی اشاعت کا انحصار لالچ اور شعبدہ بازی پر نہیں بلکہ معرفت حق اور قبول حق پر ہے۔ اس لئے کوئی شخص اس لالچ میں ایمان نہ لائے کہ اسے فلاں جاگیر مل جائے گی ، زمین میں چھپا ہوا کوئی خزانہ اس کے ہاتھ لگ جائے گا بلکہ اللہ تعالیٰ کے ہاں فقط وہی ایمان مقبول ہوگا جو حق کو حق سمجھ کر صرف اس لئے کہ وہ حق ہے قبول کیا جائے تو اس کا نام ” ایمان “ ہے۔ وحی الٰہی کا اتباع میرا منصب ہے اور یہی میری ذمہ داری ہے کہ تم کو اتباع کر کے دکھاؤں : 77: ” میری حیثیت تو فقط یہ ہے کہ اس بات پر چلتا ہوں جس کی اللہ نے مجھ پر وحی کردی ہے۔ “ لیکن نادان لوگوں کے ذہن میں ہمیشہ سے یہ احمقانہ تصور رہا ہے اور اب بھی ہے کہ جو شخص خدا رسیدہ ہو اسے انسانیت سے ماوراء ہوناچاہئے۔ اس سے عجائب وغرائب صادر ہونا چاہئیں۔ وہ ایک اشارہ کرے تو پہاڑ سونے کا بن جائے۔ وہ حکم دے اور زمین سے خزانے ابلنے لگیں ، اس پر لوگوں کے اگلے پچھلے سب حالات روشن ہوں۔ وہ بتادے کہ گم شدہ چیز کہاں رکھی ہے۔ مریض بچ جائے گا یا مر جائے گا۔ حاملہ کے پیٹ میں نر ہے یا مادہ۔ پھر اس کو انسان سے بھی کوئی ماوراء شے ہونا چاہئے۔ بھلا وہ بھی کوئی خدا رسیدہ ہوا جسے بھوک اور پیاس لگے ، جس کو نیند آئے ، جو بیوی بچے رکھتا ہو ، جو اپنی ضرورتیں پوری کرنے کے لئے خریدو فروخت کرتا پھرے۔ جسے کبھی قرض لینے کی ضرورت پیش آئے اور کبھی وہ مفلس و تنگ دستی میں مبتلا ہو کر پریشان حال رہے۔۔ اس قسم کے تصورات نبی اعظم و آخر ﷺ کے معاصرین کی ذہنیت پر مسلط تھے اور انہیں تصورات نے آج شرک کی آبیاری کی ہے اور کر رہے ہیں اور خود غرض لوگوں نے انہیں تصورات کو پروان چڑھانے کی ہمیشہ کوشش کی ہے تاکہ ان کو اپنی دکانداری چلانے کے لئے اس دولت لازوال سے بقدران کی ہمت کے حصہ ملتا رہے۔ فرمایا کہ میرا خود نبی بننے کو جی نہیں چاہا تھا کہ میں اپنی خواہش پوری کرنے کیلئے دعوائے نبوت کروں بلکہ اللہ نے جب وحی کے ذریعہ سے مجھے اس منصب پر مامور کیا تب میں تمہارے درمیان تبلیغ رسالت کیلئے اٹھا اور میں نے اس بات کا اعلان کیا کہ ” میں اللہ کا رسول ہوں۔ “ اس طرح اسلام کی یہ دعوت توحید کی یہ تعلیم آخرت اور حشر ونشر اور جزائے اعمال کی یہ خبریں۔ کائنات و انسان کے متعلق یہ حقائق اور پاکیزہ زندگی بسر کرنے کے لئے یہ اصول جو میں پیش کر رہا ہوں یہ سب کچھ بھی میرا اپنا نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مجھ پر وحی کیا گیا ہے۔ مختصر یہ کہ میں ” اپنی خواہش سے نہیں بولتا یہ تو وہ وحی ہے جو مجھ پر نازل ہوئی ہے۔ “ اور میں اس کی اتباع کر کے تم کو ” نمونہ “ پیش کر رہا ہوں۔
Ayah 6:51

وَ اَنْذِرْ بِهِ الَّذِیْنَ یَخَافُوْنَ اَنْ یُّحْشَرُوْۤا اِلٰى رَبِّهِمْ لَیْسَ لَهُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ وَلِیٌّ وَّ لَا شَفِیْعٌ لَّعَلَّهُمْ یَتَّقُوْنَ Open ayah 6:51 in the Quran reader

تم ان لوگوں کو وحی الٰہی سنا کر متنبہ کرو جو اس بات سے ڈرتے ہیں کہ اپنے پروردگار کے حضور لے جائے جائیں اور اس دن اس کے سوا نہ کوئی مددگار ہوگا نہ سفارشی ، عجب نہیں کہ وہ متقی ہو جائیں

جن لوگوں کی ایمانی استعداد ظاہر ہوجائے ان کی طرف مزید توجہ ضروریات دین میں سے ہے : 79: مطلب یہ ہے کہ اے پیغمبر ‘ آپ ﷺ ان منکروں کو جو ماننے والے نہیں ، چھوڑدو اور ان لوگوں کو وحی الٰہی سنا کر انکار حق کے نتائج سے متنبہ کرو جو آخرت کی زندگی پر یقین رکھتے ہیں اور اس بات سے ڈرتے ہیں کہ اپنے پروردگار کے حضور لے جائے جائیں گے اور اس دن اس کے سوا نہ تو کوئی مدد گار ہوگا اور نہ سفارشی ، عجب نہیں کہ وہ متقی ہوجائیں۔ یعنی جو لوگ شقاوت و بدبختی میں اتنے بڑھ چکے ہیں کہ وہ کبھی حق کی طرف راغب ہی نہیں ہوتے ان کی ہدایت کی سعی میں وقت ضائع کرنے کی ضرورت نہیں بلکہ زیادہ توجہ کے مستحق وہ لوگ ہیں جن کی ایمانی استعداد ظاہر ہوچکی ہے یہ لوگ مال و دولت اور عزت واقتدار کے لحاظ سے کتنے ہی کمزور کیوں نہ ہوں اگر تربیت یافتہ ہو کر متقی و پرہیز گار ہوگئے تو دعوت حق کے لئے یہی نتیجہ خیز ثابت ہوں گے۔ زیر نظر آیت سے یہ سبق حاصل ہوگیا کہ جس دل میں یہ خیال موجود ہو کہ قیامت کے روز کوئی سفارشی اور مدد گار موجود نہیں ہوگا اس دل میں ایمان کی رمق موجود ہے اور وہ یقیناً اصلاح پذیر ہے اور اس کے برعکس جس شخص کا سارا انحصار سفارش پر ہے ، بہت مشکل ہے کہ وہ اصلاح پذیر ہو سکے۔ رسول اللہ ﷺ کی بعثت کے وقت بہت کم لوگ ایسے تھے جن کے دل میں یہ خیال موجود تھا کہ قیامت کے روز کوئی سفارشی اور مدد گار موجود نہیں ہوگا اور بہت زیادہ لوگ وہ تھے جن کا سارا انحصار سفارش پر تھا۔ اللہ کے نیک بندوں کے یا جو ان کے زعم میں نیک تھے ان لوگوں کے انہوں نے بت بنائے تو مقصد ان کا یہی تھا کہ ان کی پرستش کریں گے تو یہ قیامت کے روز ہماری سفارش کردیں گے۔ وہ فرشتوں اور جنوں کو اللہ کی اولاد اور خصوصاً بیٹیاں قرار دیتے تھے تو اس مقصد کے لئے وہ اللہ کے ہاں ان کی سفارش کردیں گے کیونکہ بیٹی کی سفارش ساری سفارشوں سے بڑی سفارش سمجھی جاتی تھی۔ یہ صورت حال اس وقت کی ہے جب نبی اعظم و آخر ﷺ اس دنیا میں موجود تھے اور آج جو ہماری حالت ہے وہ آپ سب کے سامنے ہے۔ اوپر جو ہم نے عرض کیا ہے کہ ” جس کے دل میں یہ خیال موجود ہو کہ قیامت کے روز کوئی سفارش کرنے والا اور مددگار موجود نہیں ہوگا اس دل میں ایمان کی رمق موجود ہے۔ “ اس کا مطلب یہ نہ سمجھیں کہ ہم سفارش کے قائل ہی نہیں یا یہ سمجھتے ہیں کہ اللہ کے ہاں کوئی سفارش نہیں کرے گا۔ مطلب ہمارا یہ ہے کہ اس عقیدہ کی اصلاح کی ضرورت ہے جو ذرا سی توجہ دینے سے اصلاح پذیر ہوجائے گا۔ اس لئے کہ شفاعت کے متعلق اسلامی عقیدہ یہ ہے کہ ” سفارش و شفاعت کے لئے اللہ کے نزدیک وہی زبان کھولے گا جس کو اللہ تعالیٰ اجازت دے گا اور اسی کے متعلق سفارش کرسکے گا جس کی سفارش کرنے کی اجازت ہوگی۔ سفارش قبول کرنے نہ کرنے کا انحصار اللہ کی رضا پر ہوگا وہ چاہے تو قبول کرے گا اور چاہے گا تو نہیں کرے گا۔ 1 : ” کون ہے جو اس کی جناب میں اسکی اجازت کے بغیر سفارش کرسکے ؟ “ (البقرہ 25 : 255) “ ایک قاعدہ بیان فریادیا کہ ہر شخص کو بارگاہ ذوالجلال میں لب کشائی اور شفاعت کی طاقت نہ ہوگی۔ صرف وہی شفاعت کرے گا جس کو پروردگار عالم نے اذن فرمایا۔ “ (ضیا القرآن) 2 : ” وہ کسی سفارش نہیں کرتے بجز اس کے جس کے حق میں سفارش سننے پر اللہ راضی ہو۔ “ (الانبیاء 21 : 27) 3 : ” اے پیغمبر اسلام ! تم خواہ ایسے لوگوں کے لئے معافی کی درخواست کرو یا نہ کرو اگر تم ستر مرتبہ بھی انہیں معاف کردینے کی درخواست کرو گے تو اللہ انہیں ہرگز معاف نہیں کرے گا۔ “ (التوبہ 9 : 80) ” اس نے ایک آدمی بھیجا اور عرض کی کہ کفن کے لئے اس قمیص مرحمت فرمائی جائے۔ حضور ﷺ نے اوپر وال قمیض بھیجی۔ اس نے پھر گزارش کی کہ مجھے وہ قمیض چاہیے جو آپ ﷺ کے جسد اطہر کو چھو رہی ہو۔ حضرت عمر ؓ پاس بیٹھے تھے ، عرض کرنے لگے یا رسول اللہ ﷺ ! آپ ﷺ اس ناپاک اور گندے کو اپنی قمیض کیوں مرحمت فرماتے ہیں ؟ حضور ﷺ نے حقیقت سے نقاب اٹھایا اور فرمایا اے عمر ؓ ! اس منافق کو میری قمیض کچھ نفع نہیں پہنچائے گی۔ “ (ضیا القرآن) شفاعت کے متعلق مشرکین کا عقیدہ ہمیشہ یہ رہا ہے اس وقت بھی جب نبی اعظم و آخر ﷺ مبعوث ہوئے ، آپ ﷺ سے پہلے بھی اور آپ ﷺ کے بعد آج تک بھی کہ ” وہ ہماری سفارش کر کے سیدھے جنت میں لے جائیں گے۔ ہم کتنے ہی بدکار کیوں نہ ہوں لیکن ہمارے سفارشی کی سفارش دنیا کی ساری بدکاریوں پر حاوی ہے۔ “ چناچہ قرآن کریم میں ارشاد فرمایا گیا کہ : ” اور یہ لوگ (مشرکین مکہ) اللہ کے سوا ایسی چیزوں کی پرستش کرتے ہیں جو نہ تو انہیں نقصان پہنچا سکتی ہیں نہ فائدہ اور کہتے ہیں یہ اللہ کے حضور ہمارے سفارشی ہیں تم کہہ دو کیا تم اللہ کو ایسی بات کی خبر دینا چاہتے ہو جو خود اسے معلوم نہیں نہ تو آسمانوں میں اور نہ زمینوں میں ؟ پاک اور بلند ہے اس کی ذات اس شرک سے جو یہ لوگ کر رہے ہیں۔ “ (یونس 10 : 18) ” کیا انہوں نے اللہ کے سوا اور سفارشی بنا لیے ہیں ، آپ فرما دیجئے کہ اگرچہ یہ سفارشی نہ قدرت ہی رکھتے ہوں اور نہ کچھ سمجھتے ہی ہوں۔ “ (الزمر 39 : 44) ایک جگہ ارشاد فرمایا : ” اور جن کو یہ لوگ اللہ کے سوا پکارتے ہیں وہ تو [ 3 ] سفارش کا اختیار ہی نہیں رکھتے ہاں ! جو حق کی گواہی دیں اور اس کا علم بھی رکھیں۔ “ (الز خرف 43 : 86) اس آیت میں تین قسم کا مفہوم لیا جاسکتا ہے اور اس سے دو اصول سامنے آتے ہیں 1 : یہ کہ لوگوں نے جن جن کو دنیا میں معبودبنا رکھا ہے وہ سب اللہ کے حضور شفاعت کرنا والے نہیں ہیں۔ ان میں سے جو گمراہ وبدراہ تھے وہ تو خو وہاں مجرم کی حیثیت سے پیش ہوں گے۔ البتہ وہ لوگ ضرور دوسروں کی شفاعت کرنے کے قابل ہوں گے جنہوں نے علم کے ساتھ نہ کہ بےجانے بوجھے حق کی شہادت دی تھی اور اللہ تعالیٰ کی ذات وصفات میں شریک ٹھہرانے والے سفارش کا حق ہی ضائع کر بیٹھے ہوں گے۔ 2 : یہ کہ جنہیں شفاعت کرنے کا اختیار حاصل ہوگا وہ بھی صرف ان لوگوں کی شفاعت کرسکیں گے جنہوں نے دنیا میں جان بوجھ کر نہ کہ غفلت وبے خبری کے ساتھ حق کی شہادت دی ہوگی۔ کسی ایسے شخص کی شفاعت نہ وہ خود کریں گے نہ کرنے کے مجاز ہوں گے جو دنیا میں حق سے برگشتہ رہا تھا یا بےسمجھے بوجھے اللہ تعالیٰ کے معبود ہونے کی گواہی بھی دیتا تھا اور دوسرے الہوں کی بندگی بھی کرتا تھا۔ 3 : یہ کہ کوئی شخص اگر یہ کہتا ہے کہ اس نے جن کو معبو بنا رکھا ہے وہ لازماً شفاعت کے اختیارات رکھتے ہیں اور انہیں اللہ تعالیٰ کے ہاں ایسا زور حاصل ہے کہ جسے چاہیں بخشوا لیں قطع نظر اس سے کہ اس کے اعمال و عقائد کیسے ہی ہوں ؟ تو وہ غلط کہتا ہے یہ حیثیت اللہ کے ہاں کسی کو بھی حاصل نہیں ہے جو شخص کسی کے لئے ایسی شفاعت کے اختیارات کا دعوی کرتا ہے وہ اگر علم کی بناء پر اس بات کی مبنی پر حقیقت شہادت دے سکتا ہے توہمت کر کے آگے آئے لیکن اگر وہ ایسی شہادت دینے کی پوزشن میں نہیں ہے اور یقیناً کوئی نہیں ہے تو خواہ مخواہ سنی سنائی باتوں پر یا محض قیاس ووہم و گمان کی بنیاد پر ایک ایسا عقیدہ گھڑ لینا سراسر لغو ہے اور اس خیالی بھرو سے پر اپنی عاقبت کو خطرے میں ڈال لینا قطعی حماقت ہے۔ اس آیت سے جو اصول مستنبط ہوتے ہیں وہ یہ ہیں۔ پہلا اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ علم کے بغیر حق کی شہادت دینا ، چاہئے دنیا میں معتبر ہو ، مگر اللہ کے ہاں معتبر نہیں ہے۔ دنیا میں تو جو شخص کلمہ شہادت زبان سے ادا کرے گا ہم اس کو مسلمان مان لیں گے اور اس کے ساتھ مسلمانوں کا سا معاملہ کرتے رہیں گے جب تک وہ کھلم کھلا کفر صریح کا ارتکاب نہ کرے لیکن اللہ کے ہاں صرف وہی شخص اہل ایمان میں شمار ہوگا جس نے اپنی بساط علم و عقل کی حد تک یہ جانتے اور سمجھتے ہوئے لا الہ الا اللہ کہا ہو کہ وہ کس چیز کا انکار اور کس چیز کا اقرار کر رہا ہے۔ دوسرا اس سے قانون شہادت کا یہ قاعدہ نکلتا ہے کہ گواہی کے لئے علم شرط ہے گواہ جس واقعہ کی گواہی دے رہا ہو اس کا اگر اسے علم نہیں ہے تو اس کی گواہی بےمعنی ہے۔ یہی بات خود نبی اعظم وآخر ﷺ کے ایک فیصلے سے بھی معلوم ہوتی ہے۔ آپ ﷺ نے ایک گواہ سے فرمایا کہ : ” انا رایت مثل الشمس فاشھد والا فدع “ اگر تم نے واقعہ کو خود اپنی آنکھوں سے اس طرح دیکھا ہے جیسے تو سورج کو دیکھ رہا ہے تو گواہی دے ورنہ رہنے دے۔ “ (احکام القرآن للجصاص) اس سے یہ بات بھی سمجھ لینی چاہئے کہ شفاعت پر اللہ کی اجازت کی پابندی کیوں ہے ؟ اس لئے کہ فرشتے ہوں یا انبیاء والیاء کسی کو بھی یہ معلوم نہیں ہے اور نہ ہی معلوم ہو سکتا ہے کہ کسی کا ریکارڈ کیسا ہے ، کون دنیا میں کیا کرتا رہا ہے اور اللہ کی عدالت میں کس سیرت وکردار اور کیسی ذمہ داریوں کے بار لے کر آیا ہے۔ اس کے برعکس اللہ کو ہر ایک کے پچھلے کارناموں اور کرتوتوں کا بھی علم ہے اور وہ یہ بھی جانتا ہے کہ اب اس کا موقف کیا ہے ؟ نیک ہے تو کیسا نیک ہے اور مجرم ہے تو کس درجہ کا مجرم ہے۔ معافی کے قابل ہے یا نہیں ؟ پوری سزا کا مستحق ہے یا تخفیف اور رعایت بھی اس کے ساتھ کی جاسکتی ہے۔ ایسی حالت میں یہ کیوں کر صحیح ہو سکتا ہے کہ ملائکہ اور انبیاء اور صلحاء کو سفارش کی کھلی چھٹی دے دی جائے اور ہر ایک جس کے حق میں جو سفارش چاہے کر دے۔ ایک معمولی افسر اپنے ذرا سے محکمے میں اگر اپنے ہر دوست یا عزیز کی سفارش سننے لگے تو چار دن میں کیا نتیجہ نکلے گا ؟ پھر بھلا زمین و آسمان کے فرما نروا سے کیسے توقع کی جاسکتی ہے کہ اس کے ہاں سفارشوں کا بازار گرم ہوگا اور ہر بزرگ جا جا کر جس کو چاہیں گے بخشو لائیں گے۔ درآنحالیکہ ان میں سے کسی بزرگ کو بھی یہ معلوم نہیں ہے کہ جن لوگوں کی سفارش وہ کر رہے ہیں ان کے نامہ اعمال کیسے ہیں ؟ لیکن وہ کون ہے جس کے نامہ اعمال کو اللہ تعالیٰ نہ جانتا ہو اس لئے یہاں جو شفاعت کے متعلق قاعدہ بیان کیا گیا ہے وہ کس قدر صحیح ، معقول اور مبنی بر انصاف ہے۔ اللہ کے ہاں شفاعت کا دروازہ بند نہ ہوگا۔ نیک بندے جو دنیا میں خلق خدا کے ساتھ ہمدردی کا برتاؤ کرنے کے عادی تھے انہیں سے آخرت میں بھی ہمدردی کا حق ادا کرنے کا مواقع دیاجائے گا لیکن وہ سفارش کرنے سے پہلے اجازت طلب کریں گے پھر جس کے حق میں اللہ تعالیٰ انہیں بولنے کی اجازت دے گا صرف اس کے حق میں وہ سفارش کرسکیں گے اور سفارش کے لئے بھی شرط یہ ہوگی کہ وہ مناسب اور مبنی بر حق ہو جیسا ایک جگہ ” وقاص صوابا “ کا ارشاد ربانی صاف بتا رہا ہے۔ اس سے یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہوگئی کہ وہاں بےتکی سفارشیں کرنے کی اجازت نہ ہوگی کہ ایک شخص دنیا میں سینکڑوں ، ہزاروں بندگان خدا کے حقوق مار آیا ہو اور کوئی بزرگ اٹھ کر سفارش کردیں کہ مولا کریم اسے انعام سے سرفراز فرمائیں یہ میرا خاص آدمی ہے۔
Ayah 6:52

وَ لَا تَطْرُدِ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَدٰوةِ وَ الْعَشِیِّ یُرِیْدُوْنَ وَجْهَهٗ١ؕ مَا عَلَیْكَ مِنْ حِسَابِهِمْ مِّنْ شَیْءٍ وَّ مَا مِنْ حِسَابِكَ عَلَیْهِمْ مِّنْ شَیْءٍ فَتَطْرُدَهُمْ فَتَكُوْنَ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 6:52 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر اسلام ! تم) ان لوگوں کو جو ( دعوت حق پر ایمان رکھتے ہیں اور) صبح و شام اللہ کے حضور مناجات کرتے اور اس کی خوشنودی چاہتے ہیں اپنے پاس سے نہ نکالو ، ان کے کاموں کی جوابدہی تمہارے ذمے نہیں نہ تمہاری جوابدہی ان کے ذمے ہے کہ ان کو نکال دو اگر ایسا کرو گے تو زیادتی کرنے والوں میں سے ہوجاؤ گے

اے پیغمبر اسلام ! اللہ کے حضور مناجات کرنے والوں کو اپنے سے دور مت کرو : 80: ” وَ لَا تَطْرُدِ “ طرد سے ہے۔ تو مت دور کر۔ تو مت ہانک۔ زیر نظر آیت میں نبی کریم ﷺ کو مخاطب فرما کر آپ ﷺ کی امت کے لوگوں کے لئے ایک خاص پیغام دیا گیا ہے۔ جس طرح خاص پیغام دینے کے لئے خاص پیغام پہنچانے والا تلاش کیا جاتا ہے وہی انداز اس جگہ ہے اللہ تعالیٰ نے اپنا خاص پیغام پہنچانے کے لئے اپنے خاص بندے محمد ﷺ کو مخاطب فرمایا اور آپ ﷺ کی امت کے نام پیغام بھجوا دیا کہ دیکھو ” ان لوگوں کو جو صبح و شام اللہ کے حضور سچے دل کے ساتھ مناجات کرتے ہیں۔ اللہ کی خوشنودی چاہتے ہیں ان کو اپنے پاس سے دور مت کرو۔ “ چونکہ ہر زمانہ میں حیات دنیا کی بھول بھلیوں میں پھنسے ہوئے انسانوں نے مال دار کو معزز اور شریف اور اس کے مقابلہ میں غریب اور فقیر کو بےعزت و رذیل قرار دیا۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم نے ایمان لانے والے غریب لوگوں کو اس معیار سے رذلیل کہہ کر یہ اعتراض کیا کہ ہم ان رذیل لوگوں کے ساتھ نہیں بیٹھ سکے۔ اگر آپ ﷺ چاہتے ہیں کہ ہمیں کوئی پیغام سنائیں تو ان غریب غرباء کو اپنے پاس سے نکال دیجئے۔ نوح (علیہ السلام) نے ان کے اس دل خراش کلام کا جواب مخصوص پیغمبرانہ انداز میں دیا کہ ” میں ان کے اعمال سے پوری طرح واقف نہیں کہ یہ فیصلہ کرسکوں کہ وہ رذیل ہیں یا شریف ومعزز بلکہ ہر شخص کے عمل کی حقیقت اور اس کا حساب میرے رب ہی کو معلوم ہے جو دلوں کے رازوں سے واقف ہے۔ “ نوح (علیہ السلام) نے ان جاہل اور متکبر انسانی شرافت ورذالت کی حقیقت سے نا آشنا لوگوں کا رخ ایک ہی واضح حقیقت کی طرف پھیر کر یہ بتلایا دیا کہ شریف و رذیل کے الفاظ تم لوگ استعمال کرتے ہو اور ان کی حقیقت واقع نہیں۔ بس مالدار کو شریف اور بےمال کو رذیل کہنے لگے حالانکہ شرافت و رذالت کا معیار دولت کب ہے ؟ بلکہ وہ تو اعمال و اخلاق ہیں۔ اس موقع پر حضرت نوح (علیہ السلام) یہ فرما سکتے تھے کہ اعمال واخلاق کے معیار پر یہ لوگ تم سے زیادہ شریف و معزز ہیں لیکن پیغمبرانہ طرز تبلیغ و اصلاح نے اسکی اجازت نہ دی اور یہ بھی کہ ایسا کہنے سے خواہ مخواہ ایک الجھاؤ مزید بڑھ جاتا۔ اس لئے اتنا فرما دیا کہ رذالت کا مدار تو افعال و اعمال پر ہے اور میں ان کے اعمال سے پوری طرح واقف نہیں اس لئے ان کے شریف یا رذیل ہونے کا فیصلہ اللہ کے پاس موجود ہے۔ نوح (علیہ السلام) کے بعد بھی ہر زمانہ میں قوم کے غریب لوگ خواہ وہ اپنے اخلاق و اعمال کے اعتبار سے کتنے ہی شریف اور باعزت ہوں مگر دنیا پرست نخوت شعار لوگ انکو حقیر و ذلیل کہتے آئے ہیں اور یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنی بصیرت اور اخلاص صالحہ کی بناء پر ہر زمانہ میں انبیاء کرام (علیہ السلام) کی دعوت کو قبول کرنے میں پہل کی یہاں تک کہ مذاہب وملل کی تاریخ پر نظر رکھنے والوں کے نزدیک کسی پیغمبر کی صدق و حقانیت کی ایک دلیل یہ بن گئی کہ ان کے ابتدائی متبعین قوم کے غریب لوگ ہوں۔ یہی وجہ تھی کہ جب ہر قل شاہ روم کے پاس نبی کریم ﷺ کا دعوت نامہ پہنچا اور اس نے آپ ﷺ کی حقانیت و صدق کی تحقیق کرنا چاہی تو واقف کار لوگوں سے نبی کریم ﷺ کے متعلق جو سوالات کئے ان میں سے ایک سوال یہ بھی تھا کہ ان کے اکثر متبعین غریب عوام ہیں یا قوم کے بڑے لوگ ؟ اس کو جب یہ بتلایا گیا کہ غریب لوگ ہیں تو اس نے کہا کہ ” رسولوں کے ابتدائی متبعین یہی لوگ ہوا کرتے ہیں۔ “ جن لوگوں نے انسان ہونے کے باوجود انسانیت کو نہیں پہچانا بلکہ انسان کو دنیا کے مختلف جانوروں میں سے ایک ہوشیار جانور قرار دیا جس نے دوسرے جانوروں کو اپنا تابع و محکوم بنا کر سب سے خدمت لی ، ان کے نزدیک انسان کی تخلیق کا منشاء اس کے سوا ہو ہی کیا سکتا تھا کہ وہ ایک جانور کی طرح کھانے پینے ، سونے جاگنے اور دوسرے حیوانی جذبات کو استعمال کرنے ہی کو مقصود زندگی سمجھیں اور جب مقصد حیات صرف یہی ہو تو یہ بھی ظاہر ہے کہ اس دنیا میں اچھے ، برے ، چھوٹے ، بڑے ، باعزت و بےعزت ، شریف و رذیل کے پہچاننے کا معیار یہی ہوسکتا تھا کہ جس کے پاس کھانے پینے ، پہننے ، برتنے کا سامان زیادہ ہو وہ کامیاب ، باعزت اور شریف ہے اور جس کے پاس یہ چیزیں کم ہوں وہ بےعزت ، ذلیل اور نامراد و ناکام ہے۔ انصاف کی بات یہ ہے کہ اس عقیدہ ونظریہ پر اخلاق و اعمال صالحہ کی کوئی بحث ہی انسان کے شریف اور معزز ہونے میں نہیں آتی بلکہ وہی عمل عمل صالح اور خلق خلق حسن ہوگا جس کے ذریعہ یہ حیوانی مقاصد اچھی طرح پورے ہو سکیں۔ اس لئے تمام انبیائے کرام (علیہ السلام) اور ان کے لائے ہوئے دین و مذہب کا پہلا اور آخری سبق یہی رہا کہ اس زندگی کے بعد ایک دوسری زندگی ہے جو دائمی اور غیر منقطع ہوگی۔ وہاں کی راحت بھی مکمل اور دائمی ہوگی اور تکلیف و عذاب بھی مکمل اور دائمی ہوگا۔ دنیا کی زندگی خود مقصد نہیں بلکہ دوسری زندگی میں جو سامان کام آنے والا ہے اس کی فراہمی اس چند روزہ زندگی کا اصل مقصد ہے۔ پھر یہ بھی کہ انسان اور حیوان میں یہ امتیازی فرق ہے کہ حیوانات کو اگلی زندگی کا کوئی فکر نہیں بخلاف انسان کے کہ اس کی سب سے بڑی فکر اہل عقل و ہوش کے نزدیک دوسری زندگی کی درستی ہے۔ اس عقیدہ و نظریہ پر شرافت اور رذالت اور عزت کا معیار ظاہر ہے کہ زیادہ کھانا پنا یا زیادہ مال و دولت جمع کرنا نہیں ہوگا بلکہ اخلاق حسنہ اور اعمال صالحہ ہوں گے جن پر آخرت کی عزت کا مدار ہے۔ دنیا جس وقت سے انبیائے کرام کی ہدایات اور تعلیمات اور عقیدہ آخرت سے غافل ہوئی تو اس کا طبعی نتیجہ سامنے آگیا کہ عزت و دولت اور شرافت و رذالت کا معیار صرف روٹی اور پیٹ رہ گیا جو اس میں کامیاب ہے اور حلال و حرام کی تمیز کئے بغیر جتنی زیادہ سے زیادہ دولت حاصل کرسکتا ہے وہ اتنا ہی شریف و معزز کہلاتا ہے جوا س میں ناکام یا ادھورا ہے وہ غریب ، بےعزت ، رذیل اور ذلیل سمجھاجاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج حضرت العلام کہلانے والوں سے لے کر سارے مذہبی پیشواؤں کا یہ حال ہے کہ وہ مال و دولت اکٹھا کرنے میں مصروف ہیں تاکہ دنیا میں شریف ومعززین بن جائیں۔ آخرت اگرچہ برباد ہوجائے۔ ان کے اعمال کی ذمہ داری آپ ﷺ پر نہیں کہ آپ ﷺ ان کو نکال باہر کردیں : 81: یہ گمراہی اس وقت سے چلی آرہی ہے جب سے انسان نے آنکھ کھولی ہے کہ بڑا کون ہے اور چھوٹا کون ؟ اور پھر جو بھی خود بڑا بنا ہے اس نے اپنے سے چھوٹوں کو حقیر جانا ہے اور دل میں یہ بات رکھی ہے کہ ہمیشہ بڑی مجھلی چھوٹی کو کھاتی ہے۔ بس اس تصور کے ساتھ اس نے چھوٹوں کو ہڑپ کرنے کی کوشش کی ہے۔ جب نبی اعظم و آخر ﷺ دنیا میں تشریف لائے تو اس وقت بھی عزت و ذلت کا یہی معیار تھا کہ جو مالدار اور قوت والا تھا وہ عزت دار کہلاتا تھا اور جو غریب اور بےاقتدار تھا وہ رذیل سمجھا جاتا تھا۔ عرب جاہلیت اور خصوصاً قریش کے امراء و رؤسا اس طرح طبقاتی کبر ونخوت میں مبتلا تھے جس کی مثالوں سے آج دنیا اور خصوصاً یورپ بھرا بڑا ہے۔ وہ اپنے عوام کے ساتھ ایک مجلس میں نشست کے روا دار نہ تھے چہ جائیکہ ایک مجمع میں جس میں غیر عرب حبشی اور وہ بھی غلام تک موجود ہوں۔ انہیں رئیسوں اور سرداروں نے نبی اعظم ﷺ کے ہاں کہلا بھیجا ان عوام کالانعام کو جو نان جویں کو بھی ترس رہے ہیں اپنے پاس سے ہٹایئے تو ہم لوگوں کے لئے کوئی گنجائش پیدا ہو۔ فرمایا اے میرے رسول ﷺ کہ میں ان کے اعمال کا جواب دہ نہیں اور نہ ہی آپ ان کے اعمال کا جوابدہ ہوں۔ وہ اپنے اعمال کے خود ذمہ دار ہیں اور تم اپنے اعمال کے خود جواب دہ ہو اور میرا کام پیغام سنانا ہے اور اس کو سنایا جاسکتا ہے جو سننے کے لئے تیار بھی ہو۔ جب وہ لوگ ایک بات کو بڑے غور سے سنتے ہیں اور وہ دن رات اللہ کا کلام سننے کے لئے تیار رہتے ہیں تاکہ اس کے مطابق اپنے آپ کو درست کرلیں تو میرے لئے کیا جواز رہا کہ میں ان کو اپنی مجلس سے اٹھا کر دور کر دوں تاکہ تمہارے جیسے نا سمجھوں کے لئے جگہ کشادہ ہوجائے اور میں اس جگہ کسادہ کے حق میں نہیں ہوں کہ یہ بات مجھے پسند نہیں ہے کہ انسان کو حیوان سمجھ کر دور کر دوں۔ وہ بھی اس باعث کہ اس کے پاس دولت کے انبار نہیں ہیں اور حیوانوں کو اپنے قریب میں جگہ دوں جن کے پاس حرام کے مال کے ڈھیر موجود ہیں۔