6. Surah Al-An'aam

الأنعامThe Cattle · 165 ayahsعروۃ الوثقٰی

Ayah 6:117

اِنَّ رَبَّكَ هُوَ اَعْلَمُ مَنْ یَّضِلُّ عَنْ سَبِیْلِهٖ١ۚ وَ هُوَ اَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِیْنَ Open ayah 6:117 in the Quran reader

بلاشبہ تمہارا پروردگار ہی اس بات کو بہتر جاننے والا ہے کہ کون اس کی راہ سے بہک رہا ہے اور کون ہیں جنہوں نے راہ پا لی

راہ ہدایت کی وضاحت ہوگئی اب آپس میں جھگڑا نہ شروع کرو : 178: یہ وہ سنہری اصول ہے جس کو اختیار کرلینے سے ” جھگڑے “ نام کی شے کی جڑکٹ جاتی ہے اور وہ سوکھ کر بہت جلد فنا ہوجاتا ہے۔ فرمایا بلاشبہ آپ کا رب ہی ان لوگوں کو خوب جانتا ہے جو اس کے راستے سے بھٹک گئے ہیں اور وہ راہ راست چلنے والوں سے بخوبی واقف ہے اور دونوں فریقوں کو ان استحقاق کے مطابق وہ بدلہ دے گا۔ اس میں یقینی بات یہ ہے کہ جیسے گمراہوں کو سزا ملے گی سیدھی راہ والوں کو بھی انعام و اکرام ملے گا۔ ہاں : ایک بات یاد رکھنے کی ہے کہ تم بھیڑ دیکھ کر کسی غلط فہمی میں مبتلا نہ ہونا کیونکہ اس دنیا میں اکثریت ہمیشہ گمراہوں ہی کی رہی ہے۔
Ayah 6:118

فَكُلُوْا مِمَّا ذُكِرَ اسْمُ اللّٰهِ عَلَیْهِ اِنْ كُنْتُمْ بِاٰیٰتِهٖ مُؤْمِنِیْنَ Open ayah 6:118 in the Quran reader

پس جس جانور پر اللہ کا نام لیا گیا ہے اسے بلا تامل کھاؤ اگر تم اللہ کی آیتوں پر ایمان رکھتے ہو

جس چیز پر اللہ کا نام لیا گیا ہو اس کو بلاتامل کھاؤ بشرطیکہ وہ حلال ہو : 179: وہ اشیاء جن کا کھانا حرام ہے قرآن کریم میں چار جگہ صاف صاف الفاظ میں بیان کی گئی ہیں اور وہ یہ ہیں ” مردار “ ” خون “ ” سور کا گوشت “ اور وہ جانور یا کوئی اور چیز جو غذائی طور پر استعمال ہوتی ہو۔ اس کو اللہ کے سوا کسی اور نام کی طرف منسوب کیا گیا ہو یا جانور کسی اور کے نام پر ذبح کیا گیا ہو حرام ہے۔ یہ حکم قرآن کریم میں چار جگہ بیان ہوا ہے مکی سورتوں میں سورة انعام کی آیت 145 اور سورة نحل کی آیت 115 میں اور مدنی سورتوں میں سورة البقرہ کی آیت 173 اور سورة المائدہ کی آیت 3 میں اس کا اعادہ کیا گیا ہے اور پھر اس سورة المائدہ میں اس کی مزید تشریح بھی کردی گئی ہے ملاحظہ کریں تفسیر عروۃ الثقی جلددوم المائدہ کی آیت 3۔ زیر نظر آیت میں اس پر قید مزید بڑھائی گئی ہے کہ اس حلال جانور کو شریعت کے حکم کے مطابق اللہ کا نام لیتے ہوئے قتل یعنی ذبح کیا گیا ہو اس طرح ” بسم اللہ اللہ اکبر “ کے الفاظ بھی ضروری قرار دیئے گئے ذبح کرتے وقت ذابح ان الفاظ کو بھی ادا کرے اور گلے پر چھری چلا کر نخاح تک نہ کاٹ دے بلکہ حلقوم ومری اور دجین کاٹ دی جائیں۔ شکار کی صورت میں سدھایا گیا جانور چھوڑتے وقت ان الفاظ کا ادا کرنا ہی کافی ہے اور اسی طرح بندوق یا کوئی تیز دھار آلہ چلاتے وقت بھی یہ الفاظ پڑھ لئے جائیں۔ ذبح کرنے والا مرد ہو یا عورت ، بالغ ہو یا سمجھدار نابالغ۔ آلہ تیز دھار ہونے کی صورت میں گردن کٹ جائے تو مضائقہ نہیں۔ ہاں ! حرام اشیاء یا حرام جانور پر اللہ کا نام لیا جائے تو اس طرح وہ حلال نہیں ہو سکتا۔ سورة المائدہ کی آیت 3 میں جو بات بتائی گئی ہے وہ یہ ہے کہ جس جانور کی موت تذکیہ سے واقع ہو صرف وہی حرمت کے حکم سے مستثنیٰ ہے باقی تمام وہ صورتیں جن میں تذکیہ کے بغیر موت واقع ہوجائے حرمت کا حکم ان سب پر حاوی ہوگا اور تذکیہ کے مفہوم کی کوئی تشریح قران کریم میں نہیں کی گئی اور نہ ہی لغت اس کی صورت متعین کرنے میں کوئی خاص مدد کرتی ہے اس لئے لامحالہ اس کے معنی متعین کرنے کیلئے ہم کو سنت کی طرف رجوع کرنا ہوگا۔ سنت میں اسکی دو شکلیں بیان کی گئی ہیں ایک شکل یہ کہ جانور ہی ہمارے قابو میں نہیں مثلاً جنگلی جانور ہے جو بھاگ رہا ہے یا اڑ رہا ہے یا وہ ہمارے قابو میں تو ہے مگر کسی وجہ سے ہم اس کو باقاعدہ ذبح کرنے کا موقع نہیں پاتے اس صورت میں جانور کا تذکیہ یہ ہے کہ ہم کسی تیز چیز سے اس کے جسم کو اس طرح زخمی کردیں کہ خون بہہ جائے اور جانور کی موت ہمارے پیدا کردہ زخم کی وجہ سے خون بہنے کی بدولت واقع ہو۔ رسول اللہ ﷺ سے اس صورت کا حکم ان الفاظ میں بیان ہوا ہے کہ ” جس چیز سے چاہو خون بہا دو ۔ “ (ابو داؤد۔ نسائی) دوسری شکل یہ ہے کہ جانور ہمارے قابو میں ہے اور ہم اس کو اپنی مرضی کے مطابق ذبح کرسکتے ہیں۔ اس صورت میں باقاعدہ تذکیہ کرنا ضروری ہے اور اس کا طریقہ سنت میں یہ بتایا گیا ہے کہ اونٹ اور اس کی مانند جانور کو نحر کیا جائے اور گائے بکری یا اس کی مانند جانوروں کو ذبح کیا جائے۔ نحر سے مراد یہ ہے کہ جانور کا ایک پاؤں باندھ کر حلقوں میں نیزے جیسی تیز چیز زور سے چبھائی جائے تاکہ اس سے خون کا فوارہ چھوٹے اور خون بہ بہ کر جانور بالاخر بےدم ہو کر گر جائے اوٹ ذبح کرنے کا یہ طریقہ عرب میں معروف تھا اور قرآن کریم میں اس کا ذکر کیا گیا ہے ( سورة الحج) اور سنت سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ نبی کریم ﷺ اس طریقہ سے اونٹ ذبح کیا کرتے تھے۔ رہا ذبح تو اس کے متعلق حدیث میں اسطرح وارد ہوا ہے کہ : ” حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے حج کے موقع پر بدیل بن ورقا خزاعی کو ایک خاکستری رن کے اونٹ پر بھیجا تاکہ منیٰ کے پہاڑی راستوں پر یہ اعلان کردیں کہ ذبح کی جگہ حلق اور لبلبہ کے درمیان ہے اور ذبح کی جان جلدی سے نکال دو یعنی گردن کے اوپر سے نہیں کہ پہلے نخاح کٹ جائے بلکہ اندرونی حصہ سے جہاں نرخرہ واقع ہے۔ (طبرانی) مشرکین مکہ کا ایک اعتراض یہ بھی تھا کہ محمد ﷺ اور اس کو نبی ماننے والے عجیب لوگ ہیں کہ جس چیز کو اللہ ماردے اسے تو حرام سمجھتے ہیں اور جسے یہ خود مارتے ہیں (ذبح کرتے ہیں) اسے حلال جانتے ہیں اس کے متعلق فرمایا کہ یہ شیطانی وسوسے ہیں۔ ان کا کہنا ہی سرے سے غلط ہے کہ جو چیز خود مرے اس کو خدا نے مارا اور جس کو ذبح کیا جائے اس کو ذبح کرنے والے نے مارا۔ اسلام کے نزدیک ہرچیز کا مارنے والا اللہ ہی ہے۔ اس طرح تو پھر کوئی چیز بھی حرام نہ ہوئی۔ ایسا نہیں بلکہ حرام و حلال کے لئے اللہ تعالیٰ کے احکام کی پابندی لازمی ہے۔ اپنے ڈھکو سلوں اور قیاس آرائیوں سے کام لینا ایمان کے خلاف ہے۔ جس حلال جانور کو اللہ کا نام لے کر ذبح کیا جائے وہ حلال ہے اسے بلاتامل کھاؤ کیونکہ وہ اس کے بتائے ہوئے طریقہ کے مطابق ذبح کیا گیا ہے اور دم مسفوح میں کیا مضمرات ہیں اس بات کو ابھی تم نہیں جان سکتے۔
Ayah 6:119

وَ مَا لَكُمْ اَلَّا تَاْكُلُوْا مِمَّا ذُكِرَ اسْمُ اللّٰهِ عَلَیْهِ وَ قَدْ فَصَّلَ لَكُمْ مَّا حَرَّمَ عَلَیْكُمْ اِلَّا مَا اضْطُرِرْتُمْ اِلَیْهِ١ؕ وَ اِنَّ كَثِیْرًا لَّیُضِلُّوْنَ بِاَهْوَآئِهِمْ بِغَیْرِ عِلْمٍ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ هُوَ اَعْلَمُ بِالْمُعْتَدِیْنَ Open ayah 6:119 in the Quran reader

اور تمہارے لیے کونسی بات روکنے والی ہے کہ جس جانور پر اللہ کا نام لیا گیا ہے اسے نہ کھاؤ ؟ حالانکہ جو کچھ تم پر حرام کیا گیا ہے وہ اللہ نے کھول کر بیان کردیا ہے ، ہاں حالت کی مجبوری تمہیں جو کچھ کھلا دے وہ اس سے مستثنیٰ ہے اور بہت سے لوگ ہیں جو بغیر علم کے محض اپنی نفسانی خواہشوں سے لوگوں کو بہکاتے رہتے ہیں ، تمہارا پروردگار انہیں اچھی طرح جانتا ہے جو زیادتی کرنے والے ہیں

جس چیز پر اللہ کا نام لیا گیا ہو اس کو آخر تم کیوں نہیں کھاؤ گے : 180: بعض چیزوں کی حرمت قطعی ہے اور بعض چیزوں کی حرمت شرعی۔ جتنے درندے اور چیرنے پھاڑنے والے جانور ہیں خواہ وہ درندے ہوں یا پرندے ان کی حرمت قطعی ہے اور جو چیزیں یا جانور غیر اللہ کے نام پر منسوب ہوں جیسے کسی بزرگ کے نام کا بکرا یا چھترایا غیر اللہ کی نذر و نایز وہ غیر اللہ کی طرف منسوب ہو کر شرعی حرمت میں داخل ہوگئے لہٰذا ایسے جانوروں کو خواہ کوئی اللہ کا نام لے کر ذبح کرے وہ اپنی حرمت قطعی یا حرمت شرعی کے باعث حلال نہیں سمجھے جائیں گے اور جو چیز حلال وطیب ہیں یا جو جانور حلال ہیں ان کو شریعت کے مطابق اگر ذبح کیا جائے اور ذبح کرتے وقت اللہ کا نام بھی لیا جائے تو ان کے نہ کھانے کی آخر کوئی وجہ ؟ مطلب یہ ہے کہ جو چیزیں حرام تھیں ان کے متعلق اللہ تعالیٰ نے آگاہ کردیا اب یہ کتنی جہالت اور حماقت ہے کہ جس چیز کو اللہ نے حرام نہیں کیا اسے حرام سمجھا جائے اور جس جانور کو ایک مسلمان مرد ہو یا عورت اللہ تعالیٰ کے نام سے ذبح کرے اگر وہ نذر ونیاز ہے تو بھی اللہ تعالیٰ کی اور جو اس کو ذبح کیا گیا تو وہ بھی شرعی طریقہ کے مطابق اللہ کا معروف نام لے کر جو ذبح کے وقت لینے کا حکم ہے ذبح کیا جائے گا اور پھر اس کو ایک مسلمان کہلانے والا نہ کھائے آخر کیوں ؟ اس کے نہ کھانے کا کوئی جواز ؟ غیر اللہ کے نام کا جانور یا غیر اللہ کے نام کی نذر و نیاز کی مفصل تشریح اس سورة کی آیت 137 سے شروع ہو کر آیت 146 تک کی دس آیات میں کی گئی۔ جو عنقریب آنے والی ہے۔ جو کچھ تم پر حرام کیا گیا ہے اس کی پوری پوری وضاحت کردی گئی ہے : 181: حرام چیزوں کی تفصیل اللہ نے تم پر کردی ہے جیسا کہ سورة النحل کی آیت 115 میں اور سورة الانعام کی آیت 145 میں اور مدنی سورتوں میں سے سورة البقرہ 2 : 173 میں اور سورة المائدہ کی آیت 3 میں اس کا اعاہ کیا گیا ہے اور سورة المائدہ جو احکام کی آخری سورت ہے اس میں : پوری تفصیل بھی بیان کردی گئی ہے اور اس تفصیل میں اس شرعی حرمت کا ذکر بھی آگیا جیسا کہ ارشاد الٰہی ہوا کہ ” جانور مشرکین کی قربان گاہوں پر ذبح کئے جائیں وہ بھی حرمت کے حکم میں ہیں اور وہ بھی ” ما اھل لغیر اللہ بہ “ کے ساتھ شریک ہیں خواہ ذبح کے وقت ان پر غیر اللہ کا نام لیا جائے یا نہ لیا جائے۔ اور نبی اعظم و آخر ﷺ نے ان حرام اشیاء میں گدھے اور کچلیوں والے درندے اور پنچوں والے شکاری پرندوں کو بھی شامل فرمایا ہے جیسا کہ کتب احادیث میں ان کی وضاحت موجود ہے۔ ہاں ! حالت کی مجبوری جو کچھ کھلادے وہ اس سے مستثنیٰ ہے : 182: اضطراری حالت میں جو حرام چیزوں کی روک اٹھائی گئی ہے اس سے دلیل نہیں پکڑنی چاہئے کہ وہ مجبوری کے تحت ہے اور مجبوری میں بھی یہ نہیں کہا گیا ہے کہ حرام چیزیں حرام نہیں رہیں وہ بالکل حرام ہیں اور حرام سمجھتے ہوئے مجبوری کے عالم میں قوت لایموت کھانے کی اجازت مل گئی اگر یہ اجازت نہ دی جاتی تو حالات کے بگڑنے کا اندیشہ تھا اس لئے کہ ایک جماعت سے منسلک آدمی سب کے سب ایک جیسے نہیں ہوتے کچھ سختیاں برداشت کرسکتے ہیں اور کچھ لوگوں کو سختیاں برداشت کرنا بہت ناگوار گزرتا ہے خصوصا ایمان میں مضبوط اور ایمان میں کمزور لوگ ہوتے ہیں اور سب کو ایک حالت پر نہیں رکھا جاسکتا اس لئے یہ نکتہ بھی یاد رکھنے کے قابل ہے کہ حرام چیز تو مجبوری کے عالم میں استعمال کی جاسکتی ہے لیکن کوئی حلال چیز کسی حالت میں بھی حرام نہیں کی جاسکتی اس لئے کہ اس میں کوئی مجبوری لاحق نہیں ہوتی۔ بغیر علم کے لوگوں کو بہکاتے رہنا زیادتی نہیں کہلائے گا تو اور اس کو کیا کہا جائے گا : 183: ” اہواء “ کیا ہیں نفسانی خواہشیں جن کی کوئی اصل اسلام میں موجود نہیں ہوتی اور لوگوں کی زبانیں اس سے زیادہ کچھ نہیں کہہ سکتیں کہ آخر اس میں حرج کیا ہے ؟ حرج یہی ہے کہ ایک بات دین اسلام کی نہیں اور اس کو دین کی ثابت کیا جائے۔ یہی سب سے بڑا حرج ہے کیونک اسلام نام ہی ان باتوں اور ان افعال کا ہے جو اللہ نے اپنے رسول ﷺ کے ذریعہ سے بتائی اور سکھائی ہوں اور جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے نہ بتائی ہوں ان کو دین کی باتیں سمجھنا ہی بدعت کا مرتکب ہونا ہے اور آپ ﷺ کا فرمان ہے کہ : ” من احدث فی امرنا ھذا ما لیس منہ فھورد “ ۔ (مشکوٰۃ ص 27) دین میں اپنی طرف سے مردود اور قابل قبول ہے بلکہ آپ ﷺ کا مزید ارشاد ہے کہ ” کل بدعۃ ضلالۃ “ صحیح مسلم کتاب الحج) بدعت صرف مردود ہی نہیں بلکہ گمراہی ہے ” وکل ضلاصۃ فی النار “ (سنن نسائی ص 118) اور ہر گمراہی جہنم میں لے جانے والی ہے۔ ہمارے اس زمانہ میں نئی نئی بدعات ایجاد کی جا رہی ہیں اور نت نیا دین گھڑاجا رہا ہے اور نبی اعظم و آخر ﷺ کی دی ہوئی ہدایت کو اس طرح روندا جا رہا ہے کہ اس سے پہلے شاید ہی کبھی ایسا ہوا ہو لیکن افسوس کہ یہ بدعات ایجاد کرنے والے دن رات اس کام میں مصروف ہیں اور پھر طرہ یہ کہ کہو تو الٹا الزام دیتے ہیں کہ یہ لوگ وہابی ہیں ، گستاخی ، نبیوں اور ولیوں کے منکر ہیں۔ قرآن کریم نے ان کے عمل کو ” بغیر علم “ قرار دے کر اس بات کا چیلنج کردیا ہے کہ اس کے پاس کوئی سند موجود نہیں اور کوئی ثبوت نہیں رکھتے۔ اگر ہے تو اس کو پیش کیوں نہیں کرتے ؟ اس طرح یہ ایک ہی بات ایک طرف توچیلنج ہے جو جاہل ہونے کے باوجود اپنا جاہل ہونا تسلیم نہیں کرتے اور دوسری طرف ان سادہ لوحوں کی غلط فہمی کا ازالہ بھی ہے جو ہمیشہ اپنے بڑوں کی غلط سے غلط بات بھی اسی حسن ظن پر مانتے رہتے ہیں کہ ان کے پاس ضرور اس بات کی کوئی مضبوط دلیل ہوگی اگرچہ ہمیں اس دلیل سے واقفیت نہیں ہے گویا ان کے لئے وہی دلیل ہیں جن سے ان کو عقیدت ہے اور یہ دونوں طرح کی گمراہیاں آج بھی موجود ہیں اور دونوں طرح کی گمراہیوں کی بھی کوئی کمی نہیں۔ اوپر کی آیت 118 میں فرمایا گیا تھا وھو اعلم بالمھتدین یعنی اللہ ہدایت پانے والوں کو خوب جانتا ہے اور اس آیت میں فرمایا : ان ربک ھوا علم بالمعتدین کہ بلاشبہ تمہارا پروردگار انہیں اچھی طرح جانتا ہے جو زیادتی کرنے والے ہیں۔ گویا پہلا تسلی کے لئے بیان ہوا تھا اور دوسرا تہدید کے لئے۔ اہل زبان اس تقابل کی خوبی کو پہچانتے ہیں کہ اس سے کیا لطف پیدا ہوتا ہے۔
Ayah 6:120

وَ ذَرُوْا ظَاهِرَ الْاِثْمِ وَ بَاطِنَهٗ١ؕ اِنَّ الَّذِیْنَ یَكْسِبُوْنَ الْاِثْمَ سَیُجْزَوْنَ بِمَا كَانُوْا یَقْتَرِفُوْنَ Open ayah 6:120 in the Quran reader

اور ظاہری گناہ ہو یا چھپا گناہ ہو ، ہر حال میں گناہ کی باتیں ترک کر دو جو لوگ گناہ کماتے ہیں وہ (انسانوں کی نگاہ سے اگرچہ چھپ جائیں لیکن) جو کچھ کرتے رہتے ہیں ضرور اس کا بدلہ پائیں گے

گناہ کی باتوں کو ترک کردو خواہ گناہ چھپا ہوا ہو یا ظاہر ہو : 184: گناہ گناہ ہی ہے خواہ اس سے دوسرے لوگ واقف ہوں یا نہ ہوں۔ گناہ کرنے والوں کے لئے اس کی مضرت یکساں ہے لیکن یہ مضرت اخروی ہے اگر کسی سے کوئی گناہ ہوا لیکن وہ اتنا پوشیدہ تھا کہ کرنے والے کے علاوہ کوئی نہیں جانتا تھا پھر اس گناہ کرنے والے نے جس کا گناہ کیا اس سے معاف کرالیا اور اللہ تعالیٰ سے معافی مانگ لی تویقیناً وہ دنیوی اور اخروی دونوں برائیوں سے بچ گیا۔ اسی طرح یہاں ہر قسم کے گناہوں سے باز آنے کا حکم دیا گیا خواہ ان کا تعلق اعضائے جسمانی سے ہو یا دل کے ارادوں سے خواہ ان کا ارتکاب مجمع عام میں کیا جائے گا یا لوگوں سے چھپ چھپا کر کیونکہ گناہ دراصل اپنی ذات یا سوسائٹی کے حقوق کو پامال کرنے کا نام ہے اور اسلام کسی صورت میں بھی نہ اس کی اجازت دے سکتا ہے اور نہ ہی اسے برادشت کرسکتا ہے۔ ایک پاک معاشرہ تب ہی معرض وجود میں آسکتا ہے جب اس کے افراد کے ظاہری اعضاء بھی کسی پر زیادتی نہ کریں اور ان کے دل بھی برے خیالات سے پاک ہوں ان کی جلوت اور خلوت دونوں یکساں اور ظاہر و باطن دونوں پاک ہوں۔ پیچھے سے بات شرک اور توحید کی جاری تھی اس سلسلہ میں حلال و حرام کی بحث کی گئی کہ اللہ تعالیٰ کی حلال کردہ چیزوں کو حرام یا حرام کردہ چیزوں کو حلال قرار دینا بھی توحید سے انکار اور شرک کے قبول کرنے کے مترادف ہے اب بتایا جا رہا ہے کہ شرک کی ایک تو حقیقت یہ ہے کہ اللہ کی ذات یا صفات یا اس کے حقوق میں کسی کو شریک ماننا دوسرے اس کے مظاہرہ واشکال ہیں مثلاً اصنام ، انصاب ، لازم ، بحیرہ ، سائبہ ، وصیلہ حام اور غیر اللہ کے نام کا جانور اور اسی قبیل کی دوسری ساری چیزیں جو کسی شرکیہ عقیدے یا تصور کا عملی مظہر اور نشان ہیں۔ ظاہر ہے کہ ان دونوں کا بڑا گہرا ربط اور واسطہ ہوتا ہے یہ ایک دوسرے کے سہارے پروان چڑھتی اور غذا و قوت حاصل کرتی ہیں۔ اسی لئے کسی برائی کا استیصال اس وقت تک ممکن نہیں جب تک اس کی حقیقت اور اس کے مظاہرواشکال دونوں کا استیصال نہ کیا جائے۔ مختصر یہ کہ اس آیت نے یہ بات واضح کردی کہ جس طرح شرک کو چھوڑنا ضروری ہے اسی طرح شرکیہ عقائد و تصورات کی بنا پر جن چیزوں کو مقدس مان کر حرام ٹھہرایا گیا ان کا تقدس اور ان کی حرمت کو بھی ختم کرنا ضروری ہے اور عام جانوروں کی طرح ان کو بھی اللہ کے نام پر ذبح کرو اور پھر بےجھجھک ان کو کھاؤ یعنی شرک کو جڑوں تک اکھاڑ کر پھینک دو تاکہ کہیں ایسی بات دل میں نہ پھوٹ جائے کہ یہ بکرا فلاں بزرگ کے نام کا کیا تھا لیکن اس کو اللہ کے نام پر دے دیا گیا اور اب معلوم نہیں کہ وہ سرکار کیا کریں گے اگر یہ بات دل میں رہی تو سمجھو کہ ابھی شرک نہیں مرا اور اس کی جڑیں ہری ہیں۔ ابھی آپ کو سب کچھ اللہ سے ہونے کا یقین نہیں آیا۔ ایسے گناہوں کا جو بدلہ آخرت میں ملے گا وہ تو ملے گا لیکن اس دنیا میں بھی اس کا بدلہ ظاہر ہو سکتا ہے کہ اس شرک کی بیماری میں پھر ملوث ہونے کا امکان باقی ہے جب یہ امکان ختم ہوا تو سمجھ لو کہ اب انشاء اللہ ایسی بیماری لاحق نہیں ہوگی۔
Ayah 6:121

وَ لَا تَاْكُلُوْا مِمَّا لَمْ یُذْكَرِ اسْمُ اللّٰهِ عَلَیْهِ وَ اِنَّهٗ لَفِسْقٌ١ؕ وَ اِنَّ الشَّیٰطِیْنَ لَیُوْحُوْنَ اِلٰۤى اَوْلِیٰٓئِهِمْ لِیُجَادِلُوْكُمْ١ۚ وَ اِنْ اَطَعْتُمُوْهُمْ اِنَّكُمْ لَمُشْرِكُوْنَ۠ Open ayah 6:121 in the Quran reader

اور جس جانور پر اللہ کا نام نہیں لیا گیا ہے اس کا گوشت نہ کھاؤ اس میں سے کھانا البتہ نافرمانی کی بات ہوگی اور دیکھو شیطان تو اپنے ساتھیوں کے دلوں میں وسوسے ڈالتے رہتے ہیں تاکہ تم سے کج بحثی کریں اگر تم نے ان کا کہا مان لیا تو پھر سمجھ لو تم بھی شرک کرنے والے ہوئے

جن چیزوں پر اللہ کا نام نہیں لیا گیا ان کو مت کھاؤ اگر کھاؤ گے تو نافرمانی ہوگی : 185: جن چیزوں پر اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو ان کو مت استعمال کرو۔ جب شرکیہ عقائد کے تحت حرام کی ہوئی چیزوں کو کھانے کا حکم دیا تو ظاہر ہے کہ اس کی تکمیل تب ہی ہو سکتی تھی جب ان چیزوں کی ممانعت بھی کردی جائے جن کو شرک کے تحت حلال کیا گیا یا سمجھا گیا تھا اور شرک کے سوا کوئی دوسری وجہ سے ان کے حلال ہونے کی نہ تھی اور اصطلاح میں اللہ کا نام لینا ان جانوروں کے لئے جو فی نفسہ حلال تھے ذبیحہ کا قام مقام ہوگیا یعنی جن جانوروں پر اللہ کا نام لیا گیا یعنی ان کو ذبح کیا گیا اور جن جانوروں پر اللہ کا نام نہ لیا گیا یعنی ان کو ذبح نہ کیا گیا ہو بلکہ وہ طبعی موت مر گئے ہوں ان کو مت کھاؤ جیسا کہ غیر اسلامی معاشرے میں ان کو کھایا جاتا تھا اور اصلیت اس کی وہ دم مسفوح کا نکالنا ہے جن جانوروں میں پہنچنے والا خون موجود ہو اور جن جانوروں میں بہنے والاخون موجود ہی نہیں جیسے مچھلی اور مکڑی کہ ان میں خون کی مقدار اتنی کم ہوتی ہے کہ خون فوارے کی طرح بہنا شروع نہیں ہوجاتا اور معمولی رسنایا معمولی خون کا ہونا اس حکم کے تحت نہیں آتا اس لئے ان کا ذبیحہ بھی کوئی نہیں ہے اور ان کی طبعی موت اور کسی مار لینے میں کوئی خاص فرق موجود نہیں ہے۔ قرآن کریم نے اللہ کا ذکر ذبیحہ کے لئے جہاں استعمال کیا گیا اس نے مزید اس کی وضاحت کردی کہ اللہ کے ذکر کا اصل مطلب اور اصل مفہوم صرف اور صرف اسلام کے طریقہ کے مطابق ان جانوروں کا ذبح کرنا مراد ہے اور اگر وہ طریقہ استعمال کیا گیا تو اللہ کا نام ہوگیا اور ذبح کے لئے تسمیہ کی اصطلاح کا یہ مسلسل اور پے درطے استعمال اس امر کی صریح دلیل ہے کہ قرآن کریم کی نگاہ میں ذبیحہ اور تسمیہ ہم معنی ہیں کسی ذبیحہ حلال کا تصور تسمیہ کے بغیر نہیں کیا جاسکتا اور تسمیہ ذبیحہ حلال کی عین حقیقت میں شامل ہے۔ قرآن کریم کی سورة الحج 22 میں اس بات کو آیت 28 ، 34 اور 36 کے تحت بیان کیا گیا ہے اور شافعیہ کا مسلک جو یہ بیان کیا جاتا ہے کہ ان کے نزدیک ” بسم اللہ “ کہنا یعنی ” بسم اللہ اللہ اکبر “ کے الفاظ پڑھنا ضروری نہیں وہ اسی وجہ سے بیان ہوئے ہیں کہ انہوں نے بسم اللہ یعنی تسمیہ کا قائم مقام سمجھا ہے اور جب ذبح ہوگیا تو ” بسم اللہ اللہ اکبر “ فی نفسہ ہوگیا کیونکہ یہ فعل اللہ کے حکم کے تحت سرزد ہوا۔ مختصر یہ کہ پہلی آیت میں یہ حکم دیا گیا تھا کہ اللہ تعالیٰ کی حلال کی ہوئی چیزیں کو حرام مت کہو اور اس آیت میں یہ حکم دیا کہ اللہ کی حرام کی ہوئی چیزوں کی حلال مت سمجھو وہ جانور جو خود مر گیا وہ بھی حرام ہے اور جسے ذبح کیا گیا اور اس کا ذبح شرعی ذبیحہ نہ ہوا اور دانستہ اس پر اللہ کا نام نہ لیا گیا یا اللہ کے نام کے سوا کسی دوسرے کا نام لے لیا گیا تو وہ بھی حرام ہوگیا۔ پس جانوروں کے گوشت کی حلت کے بارے میں جو شرائط قرآن اور احادیث صحیحہ سے ثابت ہیں اس طرح بیان کی جاسکتی ہیں کہ : 1۔ وہ ان اشیاء میں سے نہ ہوں جنہیں اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے فی نفسہ حرام قرار دیا ہے۔ 2۔ ان کا تذکیہ کیا گیا ہو اور 3۔ ان کو ذبح کرتے وقت اللہ کا نام لیا گیا ہو یعنی ذبیحہ اس طرح اسلامی طریقہ کے مطابق کیا گیا ، اس میں شکار کرنا اور شکار کرنے والی چیز کو اللہ کا نام لے کر شکار پر چھوڑنا سب آگیا کیونکہ وہ بھی ایک ذبیحہ کا طریقہ ہے جس کو اسلام نے جائز رکھی ہے اور دم مسفوح کا اخراج بھی اس میں سے ہوا جس کی تشریح پیچھے سورة المائدہ کی آیت 3 میں گزر چکی ہے اور جس گوشت میں یہ تینوں شرائط پوری نہ ہوتی ہوں وہ طباات سے خارج ہے اور ان خبائث میں داخل ہے جن کا استعمال اہل ایمان کے لئے جائز نہیں ہے۔ جس کا صاف صاف مطلب یہ ہے کہ جس کھانے پر یہ تینوں شرطیں پوری نہ ہوں جب وہ اہل اسلام کے ہاں کھانے کی ممانعت کردی گئی تو ان شرائط کو جن لوگوں نے پورا نہ کیا ہوگا یعنی اہل کتاب نے ان کا کھانا کیوں کھایا جائے گا ، جب کہ یہ شرطیں وہاں پوری نہ ہوں۔ لیکن افسوس کہ ہمارے علمائے کرام نے اس کا مفہوم یہ سمجھ لیا جو کچھ ہمارے دستر خوان پر حرام تھا وہ اہل کتاب کے دستر خوان پر پہنچ کر حلال ہوگیا اور اس طرح پوری حلت و حرمت کا ستیاناس کر کے رکھ دیا اور پھر اس پر بس نہ کی جو جو مسائل اس پر متفرع کئے اور جو کچھ اس ضمن میں لایا گیا اس کا بیان بڑا ہی نرالا ہے کہ مسلمانوں کو یہ تک اجازت مرحمت فرمائی کہ جو حرام کے مال تم کماتے ہو وہ غیر مسلموں کے مال سے تبدیل کرلینے سے تمہارے حلال ، جائز اور درست ہوجاتے ہیں اس لئے اس بدلے ہوئے مال سے تم بھی کھاؤ اور ہم کو بھی کھلاؤ کہ تمہاری حرام کو ہم نے آن کی آن میں حلال کردیا ہے۔ انا اللہ وانا الیہ راجعون۔
Ayah 6:122

اَوَ مَنْ كَانَ مَیْتًا فَاَحْیَیْنٰهُ وَ جَعَلْنَا لَهٗ نُوْرًا یَّمْشِیْ بِهٖ فِی النَّاسِ كَمَنْ مَّثَلُهٗ فِی الظُّلُمٰتِ لَیْسَ بِخَارِجٍ مِّنْهَا١ؕ كَذٰلِكَ زُیِّنَ لِلْكٰفِرِیْنَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 6:122 in the Quran reader

پھر کیا وہ آدمی کہ مردہ تھا اور ہم نے اسے زندہ کردیا اور اس کے لیے ایک نور ٹھہرا دیا کہ وہ اس کے اجالے میں لوگوں کے درمیان چلے پھرے کیا وہ اس آدمی جیسا ہوسکتا ہے جس کا حال یہ ہے کہ اندھیروں میں گھرا ہوا ہے اور ان سے باہر نکلنے والا نہیں ؟ اس طرح کافروں کی نظروں میں وہی باتیں خوشنما دکھائی دیتی ہیں جو وہ کرتے رہتے ہیں

شیطان کا کام ہی کیا ہے ؟ وسوسے ڈالنا۔ اللہ کا حکم مانو اور ان وساوس سے بچو : 186: وساوس شیطانی کو ” وحی “ کے لفظ سے تعبیر کیا گیا ہے کیوں ؟ اس لئے کہ وساوس کا اثر بھی براہ راست دل پر ہوتا ہے۔ قرآن کریم میں اس کو کہیں ” شیطانی وحی “ سے تعبیر کیا ہے اور کہیں ” وسولس الخناس “ سے۔ وسواس کے معنی ہیں یا بار بار وسوسہ ڈالنے والا اور وسوسہ کے معنی ہیں پے در پے ایسے طریقوں سے کسی کے دل میں کوئی بری بات ڈالنا کہ جس کے دل میں وہ ڈالی اور وسوسہ کے یہ ؟ ؟ ؟ محسوس نہ ہو سکے کہ وسوسہ اندوز اس کے دل میں کوئی بری بات ڈال رہا ہے۔ وسوسے کے لفظ میں خود تکرار کا مفہوم شا مل ہے جیسے زلزلہ میں حرکت کی تکرار کا مفہوم شامل ہے چونکہ اکثر اوقات انسان صرف ایک ہی دفعہ کے بہکانے سے نہیں بہکتا بلکہ اسے بہکانے کی پے درپے کوشش کرنی ہوتی ہے اس لئے ایسی کوشش کو وسوسہ اور کوشش کرنے والے کو وساوس کہا جاتا ہے۔ شیطانی وسواس کا جال بھی بڑاوسیع ہے۔ باپ دادا کے دین کے متعلق دل میں یہ القا کہ آج تک ہمارے باپ دادایہ بات یہ کام جو کرتے آئے کیا وہ سارے غلط تھے وسوسہ شیطانی ہے۔ جب کہ اس پر قائم رہنے کی کوئی اور دلیل موجود نہ ہو۔ ہمارے پیرو مرشد یہ کام کیا کرتے تھے اور اس کام کے کرنے کی کوئی اور دلیل موجود نہ ہو وسوسہ شیطانی ہے۔ کوئی مرض لاحق ہوجائے اور اس مرض کو مرض نہیں بلکہ جادو ، کالا علم ، کلام برحق ہے کہ الفاظ دل میں ڈال کر جادو کے توڑ ، کالے علم کے اثر کو زائل کرانے اور اس طرح کے دوسرے کاموں کے پیچھے لگنا وساوس ہیں۔ اگر آج ہم نے فلاں کام کیا تو اس کا نتیجہ صحیح نکلے گا دل میں وسوسہ پیدا ہونا اگر فلاں بزرگ کی خانقاہ پر نہ گئے یا فلاں منت وہاں نہ مانی تو ایسا ہوجائے گا اس طرح کے سارے وساوس شیطانی ہیں۔ غور کرو کہ کسی جانور کے ذبح کرتے وقت جو فی نفسہ حلال تھا اس پر اللہ کا نام لینا کیوں ضروری قرار دیا گیا ؟ اس لئے کہ جو کام بھی اللہ کے نام کے سوا کیا وہ برکت سے خالی ہوگا ، کیوں ؟ اس لئے کہ اس پوری کائنات کا خالق صرف اور صرف اللہ ہے۔ پھر اس کی کائنات میں سے جس چیز سے بھی استفادہ کیا جائے گا اس کا تقاضا ہے کہ اس پیدا کرنے والے کا نام لیا جائے اور یہ نام لینا اس کا شکر ادا کرنے میں آئے گا اس اعتراف واقرار کے بغیر کوئی شخص کسی چیز پر تصرف کرتا ہے تو اس کا یہ تصرف غاصبانہ ہوگا اور غصب سے کوئی حق ثابت نہیں بلکہ یہ جسارت اور ڈھٹائی ہے جو اللہ کے ہاں مستوجب سزا ہے۔ پھر احترام جان کا یہ تقاضا ہے کہ کسی جانور کو ذبح کرتے وقت اس پر اللہ کا نام لیا جائے۔ جان کسی کی بھی ہو ایک محترم شے ہے اگر اللہ نے ہم کو اجازت نہ دی ہوتی تو ہمارے لئے کسی جانور کی بھی جان لینا جائز نہ ہوتا۔ یہ حق ہم کو صرف اللہ کے اذن سے حاصل ہوا اس وجہ سے یہ ضروری ہے کہ ان میں سے جس وقت ہم کسی جان سے وہ استفادہ حاصل کریں جو استفادہ حاصل کرنے کا حق ہم کو دیا گیا ہے تو اس پر اللہ کا نام لیں۔ اگر اس وقت اللہ کا نام نہ لیں یا اللہ کے سوا کسی دوسرے کا نام لے لیں یا کسی غیر اللہ کے نام پر ان کو ذبح کریں تو یہ ان کی جان کی بھی بےحرمتی ہوئی اور ساتھ ہی اس جان ڈالنے والے رب کریم کی بھی۔ تاریخ عالم پر جن لوگوں کی نظر ہے وہ جانتے ہیں کہ جانوروں کی قربانی ، ان کی نذر اور انکے چڑھاوے کو ابتدائے تاریخ سے عبادات میں بڑی اہمیت حاصل ہے اور اس اہمیت کے باعث مشرکانہ مذہب میں اس کو بڑا فروغ حاصل ہوا جو قوم بھی کسی غیر اللہ کی عقیدت ونیاز مندی میں مبتلا ہوئی اس نے مختلف اشکال سے غیر اللہ کو راضی کرنے کے لئے جانوروں کی بھینٹ چڑھائی۔ اسلام نے ان کے سارے دروازوں کو بند کرنے کے لئے جو مشرک قوموں نے کھولے تھے ایک ایسا قفل تیار کردیا کہ دروازہ بند کرتے ہی اگر اس قفل کو لگادیا جائے تو اس راہ سے شرک داخل نہیں ہو سکتا اور وہ قفل یہ ہے کہ ایسا جانور حرام قرار دے دیا تاکہ نہ رہے بانس اور نہ بجے بانسری۔ لیکن افسوس کہ مسلمانوں کی اکثریت نے اس چیز کو جس کو قرآن کریم نے حرام قرار دیا تھا نجات کا ذریعہ اور عین برکت حاصل کرنے کا نشان بنا دیا اور وہی کچھ کیا پچھلی قومیں کرتی آرہی تھیں کہ رند کے رند بھی رہے اور اسلام بھی ہاتھ سے نہ جانے دیا۔ یہ تو مسلمانوں کی حالت ہے لیکن زیر نظر آیت کا فیصلہ یہی ہے اور یہی رہے گا کہ جو شخص اللہ کی حرام کی ہوئی چیزوں کو حلال یقین کرتا ہے وہ مشرک ہوجاتا ہے (قرطبی) اور دین الٰہی میں حکم خداوندی کو چھوڑنا اور دوسروں کے حکم کو ماننا اور اللہ کے سوا یعنی اللہ کے خلاف دوسرے کو حاکم قرار دینا شرک ہے۔ ایک ایسا مردہ جو کفر کی موت مر چکا ہو اور اللہ اس کو زندہ کردے اس پر اللہ کا کتنا بڑا فضل ہوا : 187: اس آیت میں ” موت “ سے مراد ” کفر “ وجہالت اور ” زندگی “ سے مراد ” ہدایت “ اور ” علم “ ہے اور ” نور “ ‘ سے مراد ” قرآن کریم “ ہے۔ فرمایا وہ انسان جو پہلے کفر وجہالت کی موت مر چکا ہو اسے اللہ تعالیٰ اپنے خاص فضل و کرم سے ہدایت اور علم کی زندگی مرحمت فرمائے اور دنیا کے اس ظلمت کدہ میں اسکے پاس قرآن کریم کی روشن شمع ہو جس کی روشنی میں وہ اپنی منزل مقصود کی طرف بڑھا چلا جا رہا ہو کیا اس خوش نصیب کے ساتھ وہ بدنصب برابری کا دعویٰ کرسکتا ہے جو گمراہی کی تہ درتہ ظلمتوں میں حیران و سرگرداں ہو اور ان سے باہر نکلنے کا کوئی راستہ اسے نہ مل رہا ہو۔ یہ آیت قرآن کریم کی ان آیات میں سے ہے جن میں موت ” میتا “ زندگی ” احییناہ “ اور قرآن کریم کو ” نور “ سے تعبیر کیا ہے اور سارے مفسرین نے خواہ وہ نئے ہوں یا پرانے اس کو تسلیم کیا ہے اسکو بنیاد بنا کر قرآن کریم نے جہاں جہاں یہ لفظ موت ، زندگی اور نور کے لفظ استعمال کئے ہیں ان کو جمع کرلیا جائے اور اس بات کو بھی پیش نظر رکھا جائے کہ جس موت سے نکالنے کے لئے اور جو زندگی عطا کرنے کے لئے انبیاء کرام کو اللہ نے مبعوث فرمایا تھا یہی کفر کی موت ، اسلام کی زندگی اور قرآن کریم کی روشنی ہے یا وہ طبعی موت ، طبعی زندگی اور آگ کی سی روشنی ہے تو یہ سوچ خواہ ملائیت کے خلاف پڑتی۔ لیکن قوم مسلم کے لئے بہت مفید ہوتی اور یقیناً قوم شرک کے اتھاہ اندھیروں سے نکل کر روشنی کی طرف بڑھتی جو اس کو دنیا اور آخرت دونوں جگہوں پر کامیاب و کامران بنا دیتی۔ مختصر یہ کہ اس آیت میں رسول اللہ ﷺ اور قرآن کریم پر ایمان لانے والوں اور کفر و انکار کرنے والوں کے کچھ حالات و خیالات اور دونوں کے نیک و بد انجام کا بیان اور مؤمن و کافر اور ایمان وکفر کی حقیقت کی مثالوں میں سمجھایا گیا ہے۔ مؤمن اور کافر کی مثال زندہ اور مردہ سے اور ایمان وکفر کی مثال روشنی اور اندھیرے سے دی گئی ہے۔ یہ قرآن کریم تمثیلات ہیں جن میں کوئی شاعری نہیں بلکہ ایک حقیقت کا اظہار ہے۔ “ مؤمن زندہ ہے اور کافر مردہ ہے “ اس تمثیل میں مؤمن کو زندہ اور کافر کو مردہ بتلایا گیا ہے کیوں ؟ اس لئے کہ انسانوں ، حیوانوں اور نباتات وغیرہ میں اگرچہ حیات اور زندگی کی قسمیں اور شکلیں مختلف ہیں لیکن اتنی بات سے کسی کو انکار نہیں ہو سکتا کہ ان میں سے ہر ایک کی زندگی کسی خاص مقصد کے لئے ہے اور قدرت نے اس میں اس مقصد کو حاصل کرنے کی پوری اہلیت اور صلاحیت رکھی ہے۔ ارشاد قرآنی میں اکثر جگہ اس کو بیان کیا گیا ہے جیسے ” اعظی کل شئی خلقہ ثم ھدنی “ (طہ 20 : 50) میں اس کو بیان کیا گیا ہے اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کی ہرچیز کو پیدا کیا اور اس کو جس مقصد کے لئے پیدا کیا اس تک پہنچنے کی اس کو پوری ہدایات دے دیں جن کے ماتحت ہر مخلوق اپنے اپنے وظہفو زندگی اور اپنی اپنی ڈیوٹی کا حق ادا کررہی ہے اس عالم میں زمین ، پانی ، ہوا اور آگ اسی طرح سورج ، ستارے ، سیارے اپنی اپنی ڈیوٹی پوری طرح پہچان کر اپنے فرائض ادا کر رہے ہیں اور یہی ادائے فرض ان میں سے ہرچیز کی زندگی کا ثبوت ہے اور جس وقت جس حال میں ان میں سے کوئی چیز اپنی ڈیوٹی ادا کرنا چھوڑدے تو وہ زندہ نہیں بلکہ مردہ ہے مثلاً درخت اور گھاس اگنا اور بڑھنا اور پھل پھول لانا چھوڑ دے تو وہ زندہ نہ رہا بلکہ مر گیا۔ اسی طرح تمام کائنات کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد ایک انسان جس میں کچھ بھی عقل و شعور ہوا س بات پر غور کرنے کے لئے مجبور ہوگا کہ آخر انسان کی زندگی کا مقصد کیا ہے ؟ اور یہ کہ اگر وہ اس مقصد زندگی کو پورا کر رہا ہے تو وہ زندہ کہلانے کا مستحق ہے اور اگر اس کو پورا نہیں کرتا تو وہ ایک مردہ لاش سے زیادہ کوئی حقیقت نہیں رکھتا۔ اب غور طلب بات کیا ہوئی یہی کہ انسان کا مقصد حیات کیا ہے ؟ سونا ، جاگنا ، کھانا اور نسل کا چھوڑ مرنا اگر اس کا یہی مقصد ہے تو یہ تو بہت سے اور حیوانوں میں بھی پایا جاتا ہے پھر صرف حضرت انسان اشرف المخلوقات کیوں ؟ اور ایک انسان اور گدھے میں فرق کیا ؟ معلوم ہوا کہ اس کا مقصد حیات یہ نہیں بلکہ اس سے کہیں بلند ہے اور وہ یہ کہ انسان اس بات پر غور کرے کہ اس دنیا کی زندگی میں پہلے کیا تھا اور بعد میں کیا ہوگیا اس میدان میں دنیا کی ساری مخلوق انسان سے بہت پیچھے ہے اور کسی مخلوق کی عقل و فکر بھی کام نہیں دیتی اور نہ ہی اس کو اس کے سوچنے کی ضرورت ہے کیوں ؟ اس لئے کہ پوری کا ئنات میں سے ایک مخلوق کو بھی ترقی میں جدوجہد اور نت نئی ایجادات کی فکر عطا نہیں کی گئی اس لئے یہی ایک وہ امتیازی خط ہے جو دنیا کی ساری مخلوقات سے حضرت انسان کو بالکل الگ تھلگ مخلوق بنا دیتا ہے۔ معلوم ہوا کہ انسان کا مقصد حیات پورے عالم کی ابتداء و انتہاء کو سامنے رکھ کر سب کے نتائج اور عواقب پر نظر ڈالنا اور یہ متعین کرنا کہ مجموعی اعتبار سے کیا چیز نافع اور مفید ہے اور کونسی چیز مضر اور تکلییف دہ ہے۔ پھر اس بصیرت کے ساتھ خودد اپنے لئے بھی مفید چیزوں کو حاصل کرنا اور مضر چیزوں سے بچنا اور دوسروں کو بھی ان مفید چیزوں کی طرف دعوت دینا اور مضر چیزوں سے بچانے کا اہتمام کرنا ہے تاکہ دائمی راحت و سکون اور اطمینان کی زندگی حاصل ہو سکے اگر یہ بات صحیح ہے تو اب قرآن کریم کی یہ تمثیل حقیقت بن کر سامنے آجاتی ہے کہ زندہ صرف وہ شخص ہے جو اس دنیا کی فانی زندگی کے سوا کسی ایسی زندگی کا قائل ہو جس کے بعد موت نہیں۔ کیوں ؟ اس لئے کہ جب اس زندگی ہی کو کل فنا ہے تو وہ دائمی راحت و سکون بھی یقیناً کل فنا ہے۔ اب اس سے آگے وفقط انسانی عقل سے کام لے گا تو وہ یقیناً اس کو جواب دے دے گی اس لئے کہ ایک مادراء العقل چیز کا جواب عقل سے کیسے ممکن ہو سکتا ہے۔ لہٰذا نری عقل سے انسان نے نہ کبھی اس میدان کو سر کیا نہ کرسکتا ہے بڑے بڑے عقاماء وحکما اور نلسفیان عالم کے قدم یہاں آکر رک گئے اور جس نے وحی الٰہی کا سہارا تھام کر آگے بڑھنے کی کوشش کی اس میں یقیناً زندگی موجود رہے گی اور دوسرا اس کے مقابلہ میں یقیناً مردہ کہلائے گا۔ اس پر ایمان کے نور اور کفر کی ظلمت کو منطبق کر کے دیکھ لو کہ جہاں قدم رک گئے تھے وہاں سے آگے بڑھانے والی چیز کا نام ایمان اور روشنی ہے اور اس جگہ سے آگے نہ بڑھ سکنا اور کفر اور ظلمت ہے لیکن افسوس کہ جس قوم کو زندگی اور موت ، ایمان اور کفر ، روشنی اور اندھیرے کا یہ تصور دیا گیا تھا وہ سب کے سب الاماشاء اللہ عقل کو چھو کر دیکھنا بھی کفر سمجھتے ہیں یہی وجہ ہے کہ ان کی دنیا بھی برباد ہے دین دین کا اور اسلام اسلام اور آخرت آخرت کا شور مچانے کے باوجود آخرت بھی یقیناً برباد ہے۔ جذبات میں نہ آؤ جس چیز کو ماوراء العقل تک پہنچنے کے بعد استعمال کرنا تھا اس کو عقل تک پہنچنے سے پہلے ختم کردیا گیا تو نتیجہ خسر الدنیا والاخرہ کیوں نہ نکلتا۔ کافروں کی نظروں میں وہی کچھ اچھا ہے جو وہ خود کر رہے ہیں : 188: کافر کیوں ہے ؟ اس لئے کہ اس کی نظر انتہا فقط یہ دنیا ہے وہ جو کچھ کرے گا فقط اس دنیا کی زندگی کو بنانے اور سنوارنے کے لئے کرے گا اور آخرت کا اس کو کوئی تصور نہیں ہے اور اسلام نے اس کو مردہ کہا ہے ، کیوں ؟ اس لئے کہ وہ انسان تھا لیکن اس نے مقصد حیات یعنی اس دنیا کی زندگی کا مقصد نہیں سمجھا اگر وہ انسان نہ ہوتا تو قطعاً اس کو مردہ نہ کہا جاتا چونکہ وہ انسان تھا اور انسان ہونے کے باوجود اس نے دائمی راحت و سکون کا راستہ اختیار نہ کیا بلکہ فقط دنیا کا ہو کر رہ گیا حالانکہ انسان ہی وہ مخلوق تھی جس کا مقصد حیات فقط یہ دنیا نہ تھی اور انسان کے سوا ساری دنیا کی مخلوق کا مقصد حیات فقط یہ دنیا ہے اس کو معلوم ہو یا نہ وہ اس دنیا کے لئے کوئی جدوجہد کرے یا نہ کرے وہ اپنے آپ کو سنوارے یا نہ سنوارے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کی یعنی کافر کی یہ دنیا تو کم ازکم درست ہوگئی کہ اس نے باقی ساری مخلوق سے بڑھ کر اس دنیا کو سنوارنے کی کوشش کرلی اور وہ باقی ساری مخلوق سے ممتاز ہو کر رہا لیکن ایک سچے مؤمن کے مقابلہ میں اندھا ہی رہا کیونکہ اس کی ساری جدوجہد اس فانی کی خاطر تھی۔ آیت کے اس حصہ میں یہ بتایا کہ اے پیغمبر اسلام ! جو لوگ اس تاریکی میں پڑے رہنے پر بضد ہیں اور تمہاری دکھائی ہوئی راہ جو ابدی راحت و سکون کی راہ ہے اور آپ ﷺ کی لائی ہوئی روشنی سے وہشت زدہ ہیں تو اس سے آپ ﷺ دلبرداشتہ نہ ہوں قانون قدرت یہی ہے کہ جو لوگ جس چیز کو پسند کرتے ہیں ان پر وہی چیز مسلط کردی جاتی ہے یہی وجہ ہے کہ جن لوگوں نے صرف دنیا پسند کی وہ اسلام کی زبان میں اگرچہ اندھے ٹھہرے لیکن ان کو دنیا بہر حال ملی اور مل رہی ہے اور جن لوگوں کے پاس نہ دنیا ہے اور نہ آخرت ان کا نام خود تجویز کرلیں گے اس لئے کہ اسلام کی زبان میں اسی طرح کہلانے کے حقدار تو یقیناً نہیں کیونکہ اسلام نے جو طلب مؤمنوں کو سکھائی وہ تو آج بھی قرآن کریم میں اسی طرح موجود ہے کہ ” “ (البقرہ 2 : 201) ” “
Ayah 6:123

وَ كَذٰلِكَ جَعَلْنَا فِیْ كُلِّ قَرْیَةٍ اَكٰبِرَ مُجْرِمِیْهَا لِیَمْكُرُوْا فِیْهَا١ؕ وَ مَا یَمْكُرُوْنَ اِلَّا بِاَنْفُسِهِمْ وَ مَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 6:123 in the Quran reader

اور اس طرح ہم نے ہر بستی میں اس کے بدکردار آدمیوں کو سردار بنا دیا تاکہ وہاں مکر و فریب کے جال بچھائیں اور فی الحقیقت وہ مکر و فریب نہیں کرتے مگر اپنے ہی ساتھ لیکن اس کا شعور نہیں رکھتے

ہر بستی میں اکابر اپنی مکاریوں کے جال بچھاتے رہے اور وہی کچھ اب بھی ہو رہا ہے : 189: بدمستیاں اور خرمستیاں کون کرتے ہیں ؟ وہی جو دنیا میں ایک وافر حصہ دیئے جاتے ہیں ان میں بہت ہی کم ایسے ہوتے ہیں کہ وہ سنبھل کر چال چلیں اور سنت اللہ یہی رہی ہے کہ ایسے بدمستوں کو قانون امہال کے ذریعہ ڈھیل دی جائے تاکہ وہ جہاں تک بڑھ سکتے ہیں بڑھ لیں ، کیوں ؟ اسلئے کہ جب ان کے نظریہ میں جو کچھ ہے یہی دنیا ہے اسلئے ان کی جتنی جدوجہد ہے وہ بھی ساری کی ساری اسی دنیا کی خاطر ہے اور حصول طلب کے مطابق دیا جانا ہمارا قانون طے ہوچکا ہے پھر ہم آخر قانون کے خلاف کیوں کریں اور کیوں نہ ان کی طلب کے مطابق ان کو دیا جائے۔ فرمایا دراصل یہ ہماری آزمائش کا ایک رخ ہے اور آج سے نہیں ابتدائے عالم سے یہ ہوتا چلا آرہا ہے کہ ہر بیتا کے رئیس اور مالدار اور بڑے لوگ ہی حقیقت اور انجام سے غافل چند روز کی ان فانی لذتوں میں مست ہو کر جرائم کے مرتکب ہوا کرتے ہیں اس لئے کہ ان کے خیال میں ” جس کی لاٹھی اس کی بھینس “ کا قانون بالکل صحیح قانون ہے اور چونکہ لاٹھی انکے ہاتھ میں ہوتی ہے اور وہ جس بھینس کو چاہتے ہیں ہنکا کرلے جانے کی کوشش کرتے ہیں اور حق حق کا نعرہ بلند کرنے والے بھی ان کو مل جاتے ہیں اس لئے کہ ان سارے نعرے بازوں کا ایمان یہ ہوتا ہے کہ ” جس کے ہاتھ میں ڈوئی اس کا سب کوئی “ اور وہ چند معدودے لوگ جو ان کا راستہ تو روک نہیں سکتے البتہ ان کو ان برے اعمال سے روکنا چاہتے ہیں اور اسلئے ان کے اس انجام کی طرف توجہ دلاتے ہیں تو یہی بڑے لوگ ان کے درپے ہوجاتے ہیں اور اپنے نعرہ بازوں سے ان کا ” تیاپانچا “ کرانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اوپر آیت 112 میں اس کا بیان تفصیل سے گزر چکا کہ اے ہمارے رسول ! ﷺ یہ شیاطین جن وانس اس دعوت کی مخالفت میں جو ایڑی چوٹی کا زور صرف کر رہے ہیں اور جن کا اس باطل سے مفاد وابستہ ہوتا ہے اسی طرح اپنی تمام چالوں کے ساتھ اس کو دبانے کے لئے اٹھ کھڑے ہوتے ہیں اور وہی کچھ یہاں بھی ہوا ہے آپ ﷺ اس بات پر نگاہ رکھیں کہ ان کا انجام کیا ہونے والا ہے اس لئے کہ جو ان سے پہلوں کا حال ہوا وہی ان کا بھی ہوگا اگر ان کو ڈھیل دینا سنت اللہ ہے تو کیا ان کو پکڑلینا سنت اللہ نہیں ؟ ہاں ! ان کو ڈھیل کب تک دی جانا ہے اور پکڑ کا وقت کب ہے ؟ یہ انسانی عقل سے ماورا چیز ہے اس لئے اس کا تعلق ” بالغیب “ سے ہے یہ دنیا تو بہر حال دار العمل ہے دار الجزاء نہیں۔ ہاں مکافات عمل لازم وملزوم ہے اس لئے ان کے انجام سے سب کچھ واضح ہوجائے گا آپ اپنا کام کئے جائیں جب وہ برے اعمال کرنے سے نہیں گھبراتے تو آپ ﷺ اچھے اعمال سے کیوں گھبراتے ہیں جب ان کے برے اعمال کا نتیجہ لازم ہے تو آپ ﷺ کے اچھے اعمال کا نتیجہ بھی یقیناً لازم ہے۔ ہماری یہ ڈھیل ان کے حق میں بری اور آپ ﷺ کے حق میں اچھے نتائج پیدا کرے گی جو کمائی وہ کرنا چاہتے ہیں انکو کرنے دیں۔ وہ اس طرح کے مکرو فریب کر کے اپنے پاؤں پر خود کلہاڑی مار رہے ہیں : 190: حق کیا ہے ؟ ایک پہاڑ ہے پھر پہاڑ سے ٹکر لینے والا اپنا ہی سر پھوڑتا ہے۔ اس لئے تو ان کو بدمست کہا گیا ہے کہ مدمستی میں سر پھوڑنے والے کو کم ہی پتہ چلتا ہے کہ میرا سر پھوٹ رہا ہے اگر اس کو یہ معلوم ہوجائے تو آخر وہ بدمست ہی کیوں ہوگا ؟ یاد رکھو کہ حق کی مخالفت کرنے والے حق کو نہیں بلکہ خود اپنے آپ کو تباہ کرتے ہیں جو اپنے پاؤں پر خود کلہاڑی مار رہے ہیں اور نہیں سمجھتے ان کو ان کے حال پر چھوڑ دو اور اپنا کام کئے جاؤ وہ وقت زیادہ دور نہیں کہ اس کا رزلٹ تمہارے سامنے آجائے۔ یہ بات فی الحقیقت ہے کہ جو مکروفریب کرتا ہے وہ حقیقت میں اپنے ہی ساتھ کرتا ہے لیکن اس کا شعور نہیں رکھتا اور اے ہمارے رسول اللہ ﷺ ! آپ ﷺ کے مخالفین کی بھی یہی صورت حال ہے جو پہلوں کی تھی۔
Ayah 6:124

وَ اِذَا جَآءَتْهُمْ اٰیَةٌ قَالُوْا لَنْ نُّؤْمِنَ حَتّٰى نُؤْتٰى مِثْلَ مَاۤ اُوْتِیَ رُسُلُ اللّٰهِ١ؔۘؕ اَللّٰهُ اَعْلَمُ حَیْثُ یَجْعَلُ رِسَالَتَهٗ١ؕ سَیُصِیْبُ الَّذِیْنَ اَجْرَمُوْا صَغَارٌ عِنْدَ اللّٰهِ وَ عَذَابٌ شَدِیْدٌۢ بِمَا كَانُوْا یَمْكُرُوْنَ Open ayah 6:124 in the Quran reader

اور جب ان کے پاس کوئی نشانی آتی ہے تو کہتے ہیں ہم کبھی یقین کرنے والے نہیں جب تک ہمیں ویسی ہی بات نہ ملے جیسے اللہ کے رسولوں کو مل چکی ہے ، اللہ ہی اس بات کو بہتر جاننے والا ہے کہ کہاں اپنی رسالت ٹھہرائے جو لوگ جرم کے مرتکب ہوئے عنقریب انہیں اللہ کے ہاں ذلت و حقارت ملے گی اور جیسی کچھ مکاریاں وہ کرتے رہے ہیں اس کی پاداش میں سخت عذاب بھی

جب ان کے پاس کوئی نشانی آتی ہے تو وہ بضد ہوتے ہیں : 191: غور کیجئے کہ کتنے انبیائے کرام (علیہ السلام) آئے اور ان کے مخالفین و معاندین کے پاس دنیا کی فراوانیاں اور مال و دولت کے انبار تھے لیکن کسی نبی نے یہ ضد نہ کی کہ جب تک ہمیں اتنا مال نہ مل جائے آخر ہم ان کو یہ دعوت کیوں پہنچائیں ، کیوں ؟ اس لئے کہ ان سب کو یہ معلوم تھا کہ دنیا کمانے کے وہ طریقے جو دنیا کمانے کے لئے ضروری ہیں ہمارے پاس موجود نہیں تو ہم یہ ضد آخرکیوں کریں۔ لیکن انبیاء کرام کے مخالفین نے ہمیشہ یہ سوال اٹھایا کہ یہ نبوت ہمیں کیوں نہیں ملتی جو ہمارے اس نبی کو مل گئی ہے ہم اس کے اہل کیوں نہیں تھے جب ہم میں سے کتنے ہیں جو عمر میں بھی بڑے ہیں اور مال و دولت میں بھی زیادہ ہیں اور اولاد و برادری بھی ہماری ان سے زیادہ ہے ان کی سمجھ میں یہ بات کیوں نہ آئی کہ ہم نے آج تک جو کچھ کیا وہ تو دنیا کی خاطر کیا اور آخرت کا تصور تو ہمارے دلوں میں موجود ہی نہیں اور رسالت کوئی پے سم سے خریدنے والی چیز نہیں تو ہم یہ ضد کیوں کریں۔ اللہ تعالیٰ ان کے اس سوال کا جواب خود دیتا ہے۔ رسالت اللہ تعالیٰ کا ایک وہبی انعام تھا جو اس کے مستحق ہی کو مل سکتا تھا : 192: رسالت و نبوت کوئی کسبی چیز نہیں تھی بلکہ وہ خالصتاً وہبی تھی گویا وہ اللہ تعالیٰ کا ایک انعام تھا جب تک اس نے چاہا اور اس انعام کا دیا جانا انسانیت کے لئے ضروری تھا وہ اپنے بندوں میں سے جس کو اس کا اہل سمجھتا تھا دیتا رہا اور جب اس نے چاہا کہ اب اس انعام کی انسانیت کو ضرورت نہیں رہی اس کو بند کردیا۔ جس طرح وہ رب العالمین یعنی ایک ایک فرد کی ضرورت کو جانتا اور اس کو پورا کرتا ہے تو کیا وہ پوری انسانیت کی ضرورت کو کیوں نہیں جانتا یقیناً جانتا ہے اسلئے اس نے اپنے کامل اور مکمل علم کی بناء پر جہاں چاہا اس انعام کو عطا کیا اور جب چاہا بالکل بند کردیا۔ اب کوئی شخص مقام ولایت میں کتنا ہی بلند مقام کیوں نہ رکھتا ہو اور کتنی ہی اونچی پرواز وہ اڑ سکتا ہے لیکن نبی و رسول نہیں ہوسکتا۔ پھر یہ سوال کرنا کہ ہمیں نبی و رسول کیوں نہ بنا دیا گیا اور ہمارے پاس خدا کا پیغام کو وں نہیں آتا ؟ آخر مکہ یا طائف کے کسی سردار پر اس کی نظر کیوں نہ پڑی ؟ ظاہر ہے کہ یہ وہ بات جو وہ کہتے تھے ان کو بھی یہی گھمنڈ تھا جو ان کے پیش رو متکبرین کو تھا۔ پھر سادہ لوح انسان دنیوی اسباب و وسائل کو بڑی چیز سمجھتے ہیں وہ جن کو دنیا میں بڑا دیکھتے ہیں سمجھتے ہیں کہ اللہ کے نزدیک بھی یہی بڑے ہوں گے۔ اس ذہن کے لوگ آسانی سے اس قسم کے چکروں میں آجاتے ہیں یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم نے اس کو مکرو فریب سے تعبیر کیا ہے فرمایا ” اللہ ہی اس بات کو بہتر جاننے والا ہے کہ کہاں اور کس طرح اپنی رسالت ٹھہرائے جو لوگ جرم کے مرتکب ہوئے عنقریب انہیں اللہ کے ہاں ذلت و حقارت ملے گی اور جیسی کچھ مکاریاں انہوں نے کی ہیں اس کی پاداش میں وہ سخت عذاب میں مبتلا کردیئے جائیں گے۔ “ اس وقت ان کو معلوم ہوگا کہ ان کے استہزاء کا نتیجہ کیا رہا۔
Ayah 6:125

فَمَنْ یُّرِدِ اللّٰهُ اَنْ یَّهْدِیَهٗ یَشْرَحْ صَدْرَهٗ لِلْاِسْلَامِ١ۚ وَ مَنْ یُّرِدْ اَنْ یُّضِلَّهٗ یَجْعَلْ صَدْرَهٗ ضَیِّقًا حَرَجًا كَاَنَّمَا یَصَّعَّدُ فِی السَّمَآءِ١ؕ كَذٰلِكَ یَجْعَلُ اللّٰهُ الرِّجْسَ عَلَى الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 6:125 in the Quran reader

پس جس کسی کو اللہ چاہتا ہے (سعادت و کامیابی کی) راہ دکھا دے ، اس کا سینہ اسلام کے لیے کھول دیتا ہے اور جس کسی پر (سعادت و کامیابی کی) راہ گم کردینا چاہے اس کے سینہ کو اس طرح تنگ کردیتا ہے گویا وہ بلندی پر چڑھ رہا ہو (اس کا سینہ پھول جاتا ہے) اس طرح اللہ ان لوگوں پر عذاب بھیج دیتا ہے جو ایمان نہیں رکھتے

ہدایت حاصل کرنے یا نہ کرنے کا قانون الٰہی موجود ہے : 193: وہ قانون الٰہی کیا ہے ؟ ہدایت کی بات کانوں میں پڑی تو دل پر نفوذ کرگئی اور شرح صدر ہوا اور دل اس کے حق ہونے کو مان گیا تو ہدایت پانا یقینی ہوگیا۔ کسی بات پر آدمی کا شرح صدر ہوجانا یا سینہ کھل جانا دراصل اس کیفیت کا نام ہے کہ آدمی کے دل میں اس بات کے متعلق کوئی خلجان یا تذبذب یا شک و شبہ باقی نہ رہے اور اسے کسی خطرے کا احساس اور کسی نقصان کا اندیشہ بھی اس بات کو قبول اور اختیار کرنے میں مانع نہ ہو بلکہ پورے اطمینان کے ساتھ وہ یہ فیصلہ کرلے کہ یہ چیز حق ہے لہٰذا خواہ کچھ ہوجائے مجھے اس پر چلنا ہے اس طرح کا فیصلہ کر کے جب آدمی اسلام کی راہ اختیار کرتا ہے تو اللہ اور رسول کی طرف سے جو حکم بھی اسے ملتا ہے وہ اسے بکراہت نہیں بلکہ برضا ورغبت مانتا ہے۔ کتاب و سنت میں جو عقائد و افکار اور جو اصول وقواعد بھی اس کے سامنے آتے ہیں وہ انہیں اسی طرح قبول کرتا ہے کہ گویا یہی اس کے دل کی آواز ہے کسی ناجائز فائدے کے چھوڑنے پر اسے کوئی پچھتاوا لاحق نہیں ہوتا بلکہ وہ یہ سمجھتا ہے کہ میرے لئے وہ سرے سے کوئی فائدہ تھا ہی نہیں الٹا ایک نقصان تھا جس سے بفضل خدا میں بچ گیا اس طرح کوئی نقصان بھی اگر راستہ پر قائم رہنے کی صورت میں اسے پہنچے تو وہ اس پر افسوس نہیں کرتا بلکہ ٹھنڈے دل سے اسے برداشت کرتا ہے اور اللہ کی راہ سے منہ موڑنے کی بہ نسبت وہ نقصان اسے ہلکا نظر آتا ہے۔ یہی حال اس کا خطرات پیش آنے پر بھی ہوتا ہے وہ سمجھتا ہے کہ میرے لئے کوئی دوسرا راستہ سرے سے ہے ہی نہیں کہ اس خطرے سے بچنے کے لئے ادھر نکل جاؤں۔ اللہ کا سیدھا راستہ ایک ہی ہے جس پر مجھے بہر حال چلنا ہے ، خطرہ آتا ہے تو سو بسم اللہ باد مخالف سے گھبرانے والا نہیں اور یہ جو کچھ ہوا مشیت ایزدی سے ہوا۔ دوسری صورت سینہ تنگ ہونے کی ہے کہ ہدایت کی بات سنی تو دل نے اس کو قبول کرنے کی بجائے اس سے نفرت اختیار کی اور شرح صدر کی بجائے سینہ تنگ ہوگیا اور طبیعت نے اس سے انکار کردیا تو ظاہر ہے کہ اس ہدایت کو دل نے قبول نہ کیا اسکی دو صورتیں ہوتی ہیں ایک ضیق صدر کی کیفیت اور دوسری قساوت قلب کی کیفیت ، ضیق صدروہ کیفیت ہے جس میں کچھ نہ کچھ گنجائش اس بات کی رہ جاتی ہے کہ حق اس میں نفوذ کر جائے اگرچہ نہایت مشکل ہی سے سہی لیکن دوسری صورت وہ ہے جس میں حق کے نفوذ یا سرایت کرنے کی گنجائش ہی نہیں ہوتی۔ زیر نظر آیت میں پہلی صورت یا پہلی کیفیت کا ذکر کیا ہے جب کہ قرآن کریم میں دوسری کیفیت کا ذکر بھی بہت سی جگہوں پر موجود ہے۔ جس کیفیت کا اس آیت میں ذکر کیا ہے وہ بلاشبہ پہلی صورت ہے جو قساوت قلب سے کچھ کم ہے لیکن اس جگہ اس کی تنگی کو واضح کرنے کے لئے جو الفاظ اختیار کئے گئے ہیں وہ اس کی کیفیت کو مزید سخت ظاہر کرتے ہیں ” حرج “ کانٹے دار جھاڑیوں سے پر مقام کو کہتے ہیں ” تصعد “ یہ تکلف اور یہ مشقت کسی بلند مقام پر چڑھنے کو کہتے ہیں جس پر چڑھنے سے انسان ہانپنے اور کانپنے لگتا ہے ، سانس پھول جاتی ہے بلکہ سانس ٹوٹ جانے کی سی کیفیت پیدا ہوجاتی ہے اور آدمی سہارا تلاش کرتا ہے یا بیٹھ جاتا ہے اور کبھی بالکل لیٹ ہی جاتا ہے اور ” سمائ “ کے لفظ سے کچھ زیادہ ہی بلندی پر چڑھنے کا تصور قائم ہوتا ہے۔ حقیقت میں جو چیز اس کو ہدایت کا ماننے میں مانع ہے وہ اس کے کفر و شرک کی نجاست ہے جس کے ردے پر ردے اس کے دل پر جم چکے ہیں جس کے سبب ہدایت کا راستہ اس کو ایک نہایت کٹھن چڑھائی معلوم ہوتا ہے اور خصوصاً جب کہ چڑھائی بھی زیادہ ہو اور راستہ بھی تاریک ہو۔ جس میں دل کے بیٹھ جانے کا کچھ زیادہ ہی خطرہ لاحق ہوجائے۔ آج کل کے حالات کے مطابق جو سیٹھ شوگر کا مریض ہو اور چار پانچ منزلہ کو ٹھی تیار کر وا رہا ہو اس کو ان سیڑھیوں کے ذریعہ جن کے ساتھ ابھی کوئی سہارا نہیں ہے ذرا پانچویں منزل کی چھت پر لے جاؤ اور وہاں جا کر اس کی کیفیت کو دیکھو بس یہی وہ کتفیو ہوگی جس کا ذکر اس جگہ کیا گیا۔ اسی طرح اللہ ان لوگوں پر عذاب بھیج دیتا ہے جو ایمان نہیں رکھتے : 194: اس فعل کی نسبت بھی اللہ تعالیٰ کی طرف محض تکوینی حیثیت سے ہے یا مسبّب الاساب کی وجہ سے جس سے مقصود اس بات کا اظہار ہے کہ اس کے ارادگ کفر و شرک کے ثمرات مرتب ہوتے رہتے ہیں اور اس راہ ہدایت کی توفیق نصیب نہیں ہوتی یعنی وہ ایسا بدبخت نکلا کہ مشکل سے بھی ہدایت حاصل نہ کرسکا گویا اس نے جوتے بھی کھائے اور پیاز بھی۔ ” رجس “ وہ ناپاکی اور پلیدی ہے جو ایمان کے راستے میں حائل ہوگی جس نے سختی بھی برداشت کرائی اور اس کے حق میں وہ سختی مفید بھی نہ ہوسکی گویا ” نہ خدا ہی ملا نہ وصال صنم۔ “
Ayah 6:126

وَ هٰذَا صِرَاطُ رَبِّكَ مُسْتَقِیْمًا١ؕ قَدْ فَصَّلْنَا الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّذَّكَّرُوْنَ Open ayah 6:126 in the Quran reader

اور یہ تمہارے پروردگار کی سیدھی راہ ہے بلاشبہ ہم نے ان لوگوں کیلئے جو نصیحت پر دھیان دینے والے ہیں نشانیاں کھول کھول کر بیان کردی ہیں

دھیان دینے والوں کے لئے اس کائنات میں نشانیوں کی کوئی کمی نہیں : 195: اللہ تعالیٰ کے عالمگیر دین کی حقیقت ظاہر کرنے کے لئے ” صراط مستقیم “ سے بہتر تعبیر نہیں ہوسکتی تھی۔ غور کرو کہ کسی خاص مقام تک پہنچنے کے لئے کتنی ہی راہیں نکال لو لیکن سیدھی راہ ہمیشہ ایک ہی ہوگی اور اس پر چل کر ہر مسافر منزل مقصود تک بحفاظت و امن پہنچ سکے گا اور یہ بھی کہ سیدھی راہ ہمیشہ شاہراہ عام ہوگی۔ قرآن کریم کہتا ہے کہ دین اسلام کی راہ بھی ایک ہی ہے اس لیے یہ جملہ ـ” کہ سارے صحیح ہیں “ کبھی درست نہیں ہو سکتا۔ کائنات کی ہرچیز کی حقیقی راہ ایک ہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کائنات کا نظام درستگی سے چل رہا ہے ، پھر انسان ان ساری چیزوں پر غوروفکر کر کے سیدھی راہ کیوں نہیں چلتا تاکہ وہ بھی منزل مقصود تک پہنچ جائے۔
Ayah 6:127

لَهُمْ دَارُ السَّلٰمِ عِنْدَ رَبِّهِمْ وَ هُوَ وَلِیُّهُمْ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 6:127 in the Quran reader

ان لوگوں کے لیے ان کے پروردگار کے حضور سلامتی و عافیت کا گھر ہے اور جیسے کچھ ان کے عمل رہے ہیں ان کی وجہ سے وہ ان کا مددگار و رفیق ہے

سلامتی کا گھر انہی لوگوں کے لئے ہے جو نصیحت حاصل کرتے ہیں : 196: ـ” سلامتی کا گھر “ ظاہر ہے کہ جنت ہی ہو سکتا ہے۔ دنیا میں کسی کے لئے سلامتی آخر کب تک ؟ اور یہ بھی کہ جب ” دارالبوار “ ہلاکت کا گھر آخرت ہی کا گھر ہے تو ” دارالسلام “ سلامتی کا گھر تو یقیناً آخرت ہی کا گھر ہونا چاہئے۔