6. Surah Al-An'aam

الأنعامThe Cattle · 165 ayahsعروۃ الوثقٰی

Ayah 6:128

وَ یَوْمَ یَحْشُرُهُمْ جَمِیْعًا١ۚ یٰمَعْشَرَ الْجِنِّ قَدِ اسْتَكْثَرْتُمْ مِّنَ الْاِنْسِ١ۚ وَ قَالَ اَوْلِیٰٓؤُهُمْ مِّنَ الْاِنْسِ رَبَّنَا اسْتَمْتَعَ بَعْضُنَا بِبَعْضٍ وَّ بَلَغْنَاۤ اَجَلَنَا الَّذِیْۤ اَجَّلْتَ لَنَا١ؕ قَالَ النَّارُ مَثْوٰىكُمْ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اِلَّا مَا شَآءَ اللّٰهُ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ حَكِیْمٌ عَلِیْمٌ Open ayah 6:128 in the Quran reader

اور اس دن کیا ہوگا جب اللہ ان سب کو جمع کرے گا اے گروہ جن تم نے انسانوں میں سے بڑی تعداد اپنے ساتھ لے لی اور انسانوں میں سے جو لوگ ان کے ساتھی رہے ہیں وہ کہیں گے اے پروردگار ! ہم ایک دوسرے سے فائدہ اٹھاتے رہے ہیں اور میعاد کی اس منزل تک پہنچ گئے جو تو نے ہمارے لیے ٹھہرا دی تھی اللہ فرمائے گا تمہارا ٹھکانا آتش دوزخ ہے اس میں ہمیشہ رہو گے بجز ان کے جنہیں ہم نجات دینا چاہیں ، بلاشبہ تمہارا پروردگار جاننے والا ہے

روز حشر کے اس خطاب کا ذکر جو اللہ تعالیٰ گروہ ” جن “ کو مخاطب کر کے فرمائے گا : 197: روز حشر کا ذکر قرآن کریم میں بہت سے مقامات پر مختلف طریقوں سے کیا گیا ہے اور مثالیں دے دے کر سمجھایا بھی گیا ہے۔ وہ دن ہوگا جب اس زمین کے نشیب و فراز ختم کر کے اس کو بالکل ہموار کردیا جائے گا گویا وہ یہ زمین نہیں ہوگی بلکہ ایک نئی زمین بنائی جائے گی اور ہر انسان جو آدم (علیہ السلام) سے لے کر قیامت تک پیدا ہوئے ہوں گے ان سب کو دوبارہ زندہ کیا جائے گا اور سب کو ایک وقت ایک جگہ جمع کردیا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ اس پورے مجمع میں ایک ” گروہ جن “ کو مخاطب کر کے فرمائے گا اے جنوں کے گروہ تم نے تو انسانوں میں سے ایک بڑی تعداد اپنے ساتھ لے لی تھی۔ ــ” جن “ کے معنوں میں بہت وسعت ہے اس لئے کہ ؟ ؟ ؟ ــ ” جن “ کا اطلاق سارے حشرات الارض پر ہوتا ہے ” جن “ کی تعداد شمار نہیں کیا جاسکتی۔ ” جن “ کا لفظ ان جانوروں پر بولا گیا ہے جو پالتو ہیں اور صبح کو چرانے کے لئے شہر ، گائوں اور قصبہ سے باہر جنگلوں اور زمینوں کی طرف لے جائے جاتے ہیں اور شام کو چرا کر واپس لائے جاتے ہیں۔ ” جن “ کا لفظ اس خاص قسم کی طاقتوں اور قوتوں پر بولا جاتا ہے جن کی پیدائش آگ قرار دی گئی اور ” جن “ کی جماعت سے ابلیس کی نسبت قرار پائی ہے ؟ ؟ ؟ جن پر شیاطین کا لفظ اطلاق کرتا ہے جیسا کہ آیت 112 ، 123 اور 124 میں گزر چکا ہے اور اس موہوم مخلوق پر بھی جس کا تصور جاہلی قوموں میں پایا جاتا تھا اور آج بھی جاہلوں میں پایا جاتا ہے۔ اس جگہ جن کی کون سی قسم اور کون سے گروہ کو مخاطب کیا گیا ہے زیادہ تر مفسرین نے بلاشبہ اس قسم کو مراد لیا ہے جس کی پیدا ئش آگ قرار دی گئی ہے لیکن اپنا رحجان اس کی طرف ہے جس کو شیاطین الانس کہا گیا ہے۔ لیکن اس کا یہ مطلب سمجھنا کہ ہم ان آتشیں قوتوں کے قائل ہی نہیں یہ سراسر زیادتی ہے جب کہ ہم دیانتداری سے ان قوتوں کو تسلیم کرتے ہیں جیسا کہ ملائکہ کو اور جنات کو لیکن چونکہ ” جن “ کے لفظ میں اتنی وسعت ہے کہ اس سے ہزاروں مخلوقات مراد لی جائیں جہاں جس مخلوق کا مراد لینا قرین قیاس ہو بغیر لومۃ لائم اس کو بیان کردینا ، دیانت وامانت ہے اور ما فی الضمیر میں کچھ ہو اور اس کو ملمع سازی سے کچھ بیان کردیا جائے وہ بددیانتی ہے نظریہ اگرچہ پہلا غلط اور دوسرا صحیح ہی کیوں نہ ہو۔ زیر نظر آیت میں مخاطب کون کیا گیا اور جواب کس نے دیا ؟ غور کرو : 198: زیر نظر آیت میں مخاطب کرنے والا کون ہے ؟ سب مفسرین کا قول ہے کہ ” اللہ “ کس کو مخاطب کیا گیا ہے ؟ جنوں کو۔ کیا کہا گیا ہے ؟ ” اے جنوں تم نے ایک بڑا حصہ انسانوں سے لیا ہے۔ یعنی ان انسانوں سے جو اس دنیا میں شیاطین جن سے دوستی کا علاقہ رکھتے تھے اور ان کی باتوں میں آجایا کرتے تھے۔ اللہ کے اس سوال کا جواب کس نے دیا ؟ انسانوں نے جو ؟ ؟ ؟ جنوں سے فائدہ اٹھایا اور جنوں نے جو انسانوں سے فائدہ اٹھایا وہ اس بات کو کھول دے گا کہ کون ” جن “ اس جگہ مراد ہیں۔ وہ فائدہ جو بعض نے بعض سے اٹھایا اس کا ذکر پیچھے سے چلا آرہا تھا اس لئے اس کا ذکر اس جگہ نہ کیا گیا وہ وہی ہے جس کا ذکر پیچھے آیت 124 میں گزر چکا ہے اور یہ جن وہی مجرمین اکابر میں جن کو آیت 124 میں ” اکابر “ کے لفظ سے یاد کیا گیا چونکہ یہ وہ لوگ تھے جن کے بل بوتے پر نت نئی برائیاں پھیلتی رہیں اور جن لوگوں کے یہ رسہ گیر رہے اور ایک دوسرے کو فائدہ پہنچاتے رہے کچھ چوریاں کرنے والے اور کچھ کرانے والے۔ کچھ ڈاکے لگانے والے کچھ ڈاکے لگوانے والے۔ کچھ قتل کرنے والے اور کچھ قتل کرانے والے۔ کچھ حرام کو حلال اور حلال کو حرام کرنے والے اور کچھ ایسا کرانے والے۔ کچھ انبیاء اور نیک لوگوں کا مذاق اڑانے والے اور کچھ مذاق اڑوانے والے یہی وہ استمتاع تھا جس کا ذکر زیر نظر آیت میں کیا گیا ہے ان میں سے کچھ لوگ برائیاں کرنے والے ہیں اور کچھ وہ ہیں جن کے بل بوتے اور جن کی طاقت اور قوت کی وجہ سے وہ برائیاں کرتے رہے چونکہ جن کی طاقت اور قوت معروف ہے اس لئے ان کو ” جن “ کے لفظ سے معروف کیا گیا۔ چونکہ شیاطین کا لفظ تو ان پر عام طور پر اطلاق کرتا ہے اور جس کو سارے مفسرین بھی تسلیم کرتے ہیں اس نسبت سے ان کو ــ” جن “ کہا گیا اور یہ اس طرح کی تشبیہ ہے جو ہم سارے انسان آپس میں دیتے ہیں کہ بہت طاقت کا کام کرنے والوں کو اور بہت جلد کام کرلینے والوں کو ” جن “ کے لفظ سے یاد کرتے ہیں کہ فلاں تو ایسا ہے جیسے ” جن “ کہ اس نے اتنے تھوڑے وقت میں یہ کام کرلیا۔ فلاں تو کام کو بس جن کی طرح چمٹ جاتا ہے اور اس وقت سانس لیتا ہے جب کام ختم کرلیتا ہے۔ وہ تو ایسا لگتا ہے جیسے اس کے قبضہ میں کوئی ؟ ؟ ؟ ” جن “ کا اطلاق کیا جاتا ہے اور جس میں قوت رحم اور نرم مزاجی اور پاکیزگی و طہارت کا عنصر زیادہ پایا جاتا ہے جس کو عام لوگ ٹھنڈی طبیعت کا کہتے ہیں اس کو بعض اوقات فرشتہ سے بھی یاد کیا جاتا ہے جیسا کہ صواحب یوسف (علیہ السلام) نے یوسف (علیہ السلام) کو کہا تھا : وَ قُلْنَ حَاشَ لِلّٰهِ مَا ہٰذَا بَشَرًا 1ؕ اِنْ ہٰذَاۤ اِلَّا مَلَكٌ کَرِیْمٌ 0031 ” اور وہ پکار اٹھیں سبحان اللہ ! یہ تو انسان نہیں ہے ضرور ایک فرشتہ ہے بڑے مرتبے والا۔ “ زیر نظر آیت میں بالکل اسی طرح جنوں کے ساتھیوں نے جنوں یعنی اپنے لیڈروں اور سر غنوں کی طرف سے جواب دیا اے پروردگار ! ہم ایک دوسرے فائدہ اٹھاتے رہے ہیں اور میعاد کی اس منزل تک پہنچ گئے جو تو نے ہمارے لئے ٹھہرا دی تھی۔ “ اللہ تعالیٰ فرمائے گا تمہارا سب کا ٹھکانہ آتش دوزخ ہے اس میں تم ہمیشہ رہو گے : 199: اللہ تعالیٰ کی طرف سے جواب یہ نہیں آیا کہ میں نے مخاطب تو جنوں کو کیا تھا لیکن ان کی طرف سے جواب تم نے کیوں دیا کیوں ؟ اس لئے جو کچھ انہوں نے جواب دیا تھا وہ اپنی جگہ حقیقت تھی جس کا انہوں نے فوراً اقرار کرلیا اگرچہ ان کے اس اقرار نے ان کو کچھ فائدہ نہ دیا اس لئے کہ تابع اور متبورہ دونوں کو ایک ہی حکم سنا دیا گیا فرمایا کہ تمہارا ٹھکانہ جہنم ہے اور اس میں اب ہمیشہ ہمیشہ کے لئے تمہارا ٹھکانا آگ اور مسلسل آگ ہے ہاں ! جن کے لئے اللہ نے اپنے قانون کے مطابق کوئی رعایت رکھی ہے اور اس کو اس کے اعمال کے مطابق کچھ سزا دے کر وہاں سے نکال لینا مقدر ہوچکا ہے وہ ویسا ہی ہوگا جو ہمارے قانون میں طے ہوچکا ہے۔ بلا شبہ حقیقت حال تمہارا پروردگار اچھی طرح جانتا ہے اس سے کچھ پوشیدہ نہیں : 200: ان سب کے اعمال کے مطابق ہی ان سے سلوک ہوگا اس لئے کہ اللہ تعالیٰ سے کسی کے اعمال پوشیدہ نہیں یہ استثنیٰ اسی مقصد کے لئے بیان ہوئی ہے یا اس میں کوئی اور حکمت ہے۔ مفسرین نے اس پر بہت بحث کی ہے اور بہت سی باتیں اور پھر ہر بات کی کئی کئی شقیں بیان کی ہیں حالانکہ یہ ساری بحثیں لا حاصل ہیں اور قرآن کی بیشمار آیات سے یہ بات واضح ہے کہ بہت سے دوزخ میں داخل کئے جانے والوں سے ان کے اعمال کی سزا مطابق بدلہ دینے کے بعد ان کو دوزخ سے نکال لیا جائے گا اور اگر اس طرح کی حالت کے لئے استثناء بیان کی گئی ہو تو بھی عین ممکن ہے اور اس میں کسی طرح کوئی قانونی خلاف ورزی نہیں پیدا ہوتی کیونکہ حقیقت حال سے اللہ خوب واقف ہے اور اس سے کوئی چیز بھی پوشیدہ نہیں ہے اور کسی شخص کی کوئی حالت نہیں جس کو وہ جانتا نہ ہو۔ اس طرح کی استثناء بعض دوسرے مقامات پر بیان کی گئی ہے جیسے سورة ہود کی آیت 107 میں۔
Ayah 6:129

وَ كَذٰلِكَ نُوَلِّیْ بَعْضَ الظّٰلِمِیْنَ بَعْضًۢا بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ۠ Open ayah 6:129 in the Quran reader

اور اس طرح ہم بعض ظالموں کو بعض ظالموں پر مسلط کردیتے ہیں ان کی اس کمائی کی وجہ سے جو وہ حاصل کرتے رہتے ہیں

اسی طرح ہم بعض ظالموں کو بعض پر مسلط کردیتے ہیں : 201: چور اگر ظالم ہے تو بلاشبہ چوری کرانے والے یعنی جس کے بل بوتے پر اس نے چوری کی وہ اس سے بھی بڑا ظالم ہے اس طرح ایک دوسرے پر مسلط بھی ہوا اور اسی کے عمل میں برابر کا شریک بھی کیونکہ اس نے جو کچھ چوری کی اس میں وہ برابر کا شریک ہے یعنی حصہ دار ہے اور اگر یہ چور پکڑا جائے تو اس کا چھڑانے والا بھی ہے اس زور اور قوت کے بل پر جو اس کے پاس ہے اور آج بھی اس دنیا میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ یہی کچھ ہے بشرطیکہ کوئی ان حالات پر نگاہ رکھنا چاہئے اور جن علمائے کرام نے قوم کی بیٹیوں اور بچوں ہی کو ان جنات اور ان کے سایوں سے ڈرا دھمکا کر اپنے پیٹ کی آگ بجھا نا ہے تو وہ ان سے آخر جنات ہی مراد کیوں نہیں لیں گے اور جن لوگوں کا کاروبار اس بل بوتے پر چل رہا ہے وہ ہمارے مطلب کی تصدیق کیسے کریں گے ؟ اچھا انجام کار ہم سب کو اس بذات الصدور کے سامنے پیش ہونا ہے اس بات کا فیصلہ خود بخود ہوجائے گا اگرچہ اس وقت کا فیصلہ کسی کے لئے بھی سود مند نہیں ہوگا۔ اس وقت بعض کو کسی طرح بعض پر مسلط کردیا گیا ہے یہ بات کسی سے بھی پوشیدہ نہیں۔ کچھ لوگ کرسیوں پر براجمان ہیں اور یقیناً کچھ لوگ ان کو کرسیوں پر براجمان کرنے والے ہیں اور ان دونوں گروہوں کو یہ بات اچھی طرح معلوم ہے یہی وجہ ہے کہ وہ جو کچھ کرتے ہیں دونوں گروہ اس میں برابر کے شریک ہیں۔ کرسیوں پر بیٹھنے والے کیا کریں گے ؟ وہی جو کچھ ان کو بٹھانے والے ان سے کرائیں گے اس طرح یہ دونوں گروہ آپس میں بھی ایک دوسرے پر مسلط ہوئے اور دونوں گروہ مل کر اپنے مخالفین پر جس طرح مسلط ہیں وہ بھی کسی سے پوشیدہ نہیں۔
Ayah 6:130

یٰمَعْشَرَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ اَلَمْ یَاْتِكُمْ رُسُلٌ مِّنْكُمْ یَقُصُّوْنَ عَلَیْكُمْ اٰیٰتِیْ وَ یُنْذِرُوْنَكُمْ لِقَآءَ یَوْمِكُمْ هٰذَا١ؕ قَالُوْا شَهِدْنَا عَلٰۤى اَنْفُسِنَا وَ غَرَّتْهُمُ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا وَ شَهِدُوْا عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ اَنَّهُمْ كَانُوْا كٰفِرِیْنَ Open ayah 6:130 in the Quran reader

اے گروہ جن و انس ! کیا تمہارے پاس پیغمبر جو تم ہی میں سے تھے نہیں آئے تھے ؟ انہوں نے ہماری آیتیں تمہیں نہیں سنائی تھیں ؟ اور آج کے دن سے جو تمہیں پیش آیا ہے نہیں ڈرایا تھا ؟ وہ عرض کریں گے اے اللہ ہم اپنے اوپر آپ گواہی دیتے ہیں حقیقت یہ ہے کہ دنیا کی زندگی نے انہیں فریب میں ڈال دیا تھا اور اب وہ خود ہی اپنے خلاف گواہ ہوگئے کہ بلاشبہ وہ سچائی سے انکار کرنے والے تھے

اے گروہ جِنّ و انس کیا تمہارے پاس اللہ کے رسول جو تم ہی میں سے تھے نہیں آئے تھے : 202: زیر نظر آیت میں لفظ ” رُسُلٌ مِّنْكُمْ “ آگیا جس کا مطلب بالکل واضح اور بالکل صاف تھا ” ہمارے پیغمبر جو تم ہی میں سے تھے “ کہ یہ دونوں گروہ وہ ہیں جن کی اصل ایک ہے لیکن طبائع کے لحاظ سے بالکل مختلف ہیں جس طرح مرد اور عورت جنس کے لحاظ سے ایک اور صنف کے لحاظ سے بالکل ایک دوسرے سے مختلف ہیں چونکہ جنس ایک ہے اس لئے ان کا ایک دوسرے سے استمتاع فطری چیز ہے اور اصناف دونوں کی الگ الگ ہیں اس لئے ان کی جسمانی ساخت اور بہت سے دوسرے عوارضات بھی بالکل ایک دوسرے سے مختلف ہیں بالکل اسی طرح یہ دونوں گروہ جن کو ” جِنّ وانس “ کے نام سے یاد کیا گیا ہے ایک ہی جنس سے ہیں لیکن طبائع اور عادات واخلاق سے دونوں گروہ ایک دوسرے سے مختلف ہیں یہی وجہ ہے کہ انبیاء ورسل کا تعلق من حیث الجنس ان کے ساتھ ایک ہی جیسا ہے لیکن طبائع اور عادات واطوار کے لحاظ سے ان کا تعلق ” انس “ سے ہے ” جنوں “ سے مطلق نہیں چونکہ من حیث الجنس دونوں گروہوں سے ان کا تعلق ایک جیسا ہے اس لئے ان کے مخاطبین میں دونوں گروہ برابر کے شریک ہیں۔ جب کسی رسول یا نبی نے رسالت یا نبوت کا دعویٰ کیا طبائع کے اسی فرق کے باعث ان لوگوں نے جن کے طبائع ان سے زیادہ ملتے جلتے تھے انہوں نے ان کو جلد تسلیم کرلیا اگر خارجی حالات کی وجہ سے ان کی زبانوں نے اقرار نہ بھی کیا تو بھی بہرحال ان کے دل مان چکے تھے ” جنوں “ نے اس میں اپنی طبعی حالت کے پیش نظر بہت کچھ مخالفت کی اور چونکہ ان پر شیاطین کا لفظ بھی قرآن کریم نے استعمال کیا تھا جو ان کی اصل حقیقت کو ظاہر کرتا تھا وہ دنیا کے کاموں میں بھی اپنے دوسرے گروہ کے مقابلہ میں زیادہ ہوشیار تھے اس لئے وہ اکابر اور قوم کے سردار بھی کہلائے اور انہی لوگوں نے انبیائے کرام اور رسل عظام کی سب سے زیادہ مخالفت کی اور ان کو طرح طرح سے تنگ کرنے کی کوشش کی اور پوری زندگی ان کو پریشان رکھا تاہم انبیاء کرام اور رسل عظام نے سب کچھ برداشت کر کے اپنی جنس کے ان لوگوں کو سمجھانے کی ہر ممکن کوشش و سعی کی۔ لیکن بہت سے مفسرین نے ” رُسُلٌ مِّنْكُمْ “ سے رسولوں اور نبیوں کا سلسلہ تو انسانوں ہی کے ساتھ جوڑا لیکن انہوں نے اس لفظ ” جن ــ“ سے وہ مخلوق جو غیر مرئی ہے مراد لی ہے اور یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ وہ انسانوں کی طرح مکلف بھی ٹھہرے لیکن ” مِّنْكُمْ “ کا وہ واضح جواب نہ دے سکے اور آئیں بائیں شائیں کر کے ان کو ایک مدرسے کی مختلف کلاسوں سے تعیرس کیا اور پھر یہ توجیہ کی کہ کسی جماعت کے ایک لڑکے نے خرمستی کی ہو تو جس طرح ہیڈ ماسٹر سارے سکول کے بچوں کو حاضر کر کے ان سے خطاب کرتا ہے حالانکہ ان سب میں سے خرمستی کرنے والا ایک ہی تھا اس طرح یہاں بھی اللہ میاں نے مخاطب تو جِنّ و انس دونوں کو کیا ہے لیکن رسولوں کا تعلق صرف انسانی جنس سے ہے جنوں کی جنس سے نہیں۔ ان کی اس بات کو شاید کوئی سمجھ گیا ہو یا عقیدت کی بناء پر مان گیا ہو لیکن سچی بات یہ ہے کہ بات میں کوئی وزن نہیں ہے جیسے بچوں کی کلاسوں کا معاملہ ہے ویسے ہی ان کی بات بھی بچوں ہی جیسی ہے لیکن عقیدت مند کا کام ہی کیا ہے ؟ اور اس طرح کی تنقید سوچے ہی گا آخر کیوں ؟ اس طرح تو اس کی عقیدت داغدار ہوجائے گی۔ ایک تیسرے فریق نے اس سے آگے بڑھ کر ” جنوں “ میں سے رسول بھی تسلیم کئے ہیں کہ جس طرح انسانوں سے رسول آئے ہیں اسی طرح جنوں میں بھی رسول آئے ہیں اور پھر انسانوں کے رسول انسانوں کے لئے تھے اور جنوں کے رسول جنوں میں سے ہاں ! کبھی کبھی جنوں نے انسانوں کے رسولوں سے بھی توحید کا سبق سیکھا اس لئے کہ توحید الٰہی کا عقیدہ دونوں نوعوں میں ایک جیسا تھا اور چونکہ وہ انسانوں کے رسولوں سے مل سکے تھے اس لئے یہ استمتاع انہوں نے انسانی رسولوں سے کیا تاہم وہ ان کے رسول نہیں تھے ان کے رسول ان کی اپنی جنس ” جن “ ہی سے تھے اور اس آیت میں دونوں نوعوں کو خطاب ہے اور ان کے اپنے اپنے رسولوں کے متعلق پوچھا جا رہا ہے۔ آخری دونظریوں میں سے آج کل کے مفسرین میں سے پہلے نظریہ کے حامل مودودی (رح) ہیں اور دوسرے نظریہ کے حامل امین احسن اصلاحی صاحب ہیں۔ سرسید (رح) اور کچھ دوسرے مفسرین نے ایک اور ہی راہ اختیار کی ہے جو در حقیقت اس گروہ کی تعبیرات کاری ایکشن ہے جنہوں نے جنات کو ڈالنے اور نکالنے اور ان کے عاشق ہوجانے اور انسانوں کے اندر حلول کرنے ، انسان کی زبان سے بولنے اور انسان کے جوارح سے حرکات کرنے اور پھر انسانوں کو طرح طرح کی تکلیف دینے اور اس طرح کے اور بہت سے خرافات کو بیان کیا ہے اور قوم کو یہ بتا کر ہماری تسخیر میں جنات ہیں اور ہم ان سے اپنی مرضی کے کام لیتے ہیں خوب لوٹا اور اندھا بنایا ہے ان ساری باتوں کا یہ اثر ہوا کہ سرسید (رح) اور بہت سے دوسرے لوگوں نے ان نظریات کے رَد کرنے کی بجائے سرے سے اس مخلوق ہی کا انکار کردیا جو ملائکہ کے بالمقابل ایک شریر قوت کے طور پر قرآن کریم نے بیان کی تھی۔ کیا انبیائے کرام (علیہ السلام) نے اپنا فرض ادا نہیں کیا تھا جو اللہ نے ان کے ذمہ لگایا : 203: جنوں اور انسانوں سے پوچھا جا رہا ہے کہ کیا ہمارے انبیائے کرام (علیہ السلام) اور رسل عظام نے میرا پیغام رسالت تم کو نہیں پہنچایا تھا ؟ بات بالکل ایسی ہے جیسے فیل ہونے والوں سے پوچھا جائے کہ کیا معلّمین نے تم کو یہ سبق یاد نہیں کرایا تھا یعنی یاد کرنے کا تم کو نہیں کہا تھا یا اپنا کورس جو ان کے ذمہ تھا پڑھایا تھا اور امتحان کے متعلق تم کو خبردار نہیں کیا تھا اور یہ نہیں کہا تھا کہ فیل ہونے والوں کو دوبارہ یہ موقع فراہم نہیں کیا جائے گا اور تمہارے ضمنی امتحان ختم کر دئیے گئے ہیں اور یہ تمہارا آخری موقع ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ انہوں نے تو اپنا فرض ادا کیا تھا لیکن تم نے دھیان نہ دیا اب دھیان نہ دینے کا مزہ چکھ لو جب کہ رعایتی پاس ہونے کی بھی کوئی صورت نہیں رہی۔ اس سارے بیان سے بھی بات واضح ہوتی ہے کہ یہ دونوں گروہ ایک جنس کے متعلق ہیں کیونکہ ان سے سوال ایک ہی طرح کے کئے جا رہے ہیں۔ اگر یہ مختلف نوعوں کے دو گروہ ہوتے تو ان سے ایک طرح کے سوال ممکن ہی نہ تھے اور یہ بھی کہ ایک گروہ سے سوال کیا گیا ہے اور دوسرا گروہ جواب دے رہا ہے اگر ان کے حالات ایک جیسے نہ ہوتے تو ایک سے کئے گئے سوال کا جواب دوسرا گروہ نہ دے سکتا۔ جب کہ مشاہدہ یہ ہے کہ ایک ہی جنس کی دو اصناف میں سے ایک صنف کے متعلق کام کے بارے میں دوسری صنف سے سوال کیا جائے تو وہ اس کا جواب نہیں دے سکتی مثلاً مرد اور عورت ایک ہی جنس کی دو صنفیں ہیں اور بیسیوں صورتیں ایسی ہیں کہ اگر ایک سے اس کے متعلق سوال کیا جائے تو دوسری صنف اس کا جواب نہیں دے سکتی چہ جائیکہ نوعیں ہی مختلف ہوں اور پھر ایک سے کئے گئے سوال کا جواب دوسرے نوع دینا شروع کر دے اسی طرح قرآن کریم کی عبارت کا تقاضا یہ ہے کہ ان دونوں گروہوں کو ایک جنس اور ایک صنف تسلیم کیا جائے ہاں ! طبائع کا فرق اتنا واضح فرق ہوتا ہے جس کی وضاحت کی ضرورت ہی محسوس نہیں ہوتی کیونکہ یہ بات روزمرہ زندگی کے مسائل میں دیکھی جاسکتی ہے۔ ایک اپنی بات کی مخالفت سننے کے لئے تیار نہیں ہوتا اور فوراً مرنے مارنے پر تل جاتا ہے اور دوسرا برداشت کا پہاڑ ہے کہ وہ سخت سست سن کر مسکرا دیتا ہے باوجود اس کے کہ وہ سمجھتا ہے کہ سخت سست کہنے والا حق بجانب بھی نہیں بلکہ سراسر غلط ہے۔ اس وقت وہ حقیقت کو اپنی آنکھوں دیکھ چکے ہیں : 204: آیات سے اس جگہ آیات اندازو تبشیر ہیں یعنی ہمارے نبیوں اور رسولوں نے تمہیں اس دن کی ملاقات سے ڈرایا نہیں تھا اور خوشخبری نہیں دی تھی کہ ناکام ہونے والوں کی سزا کیا ہے اور پاس ہونے والوں کو کیا انعام ملے گا وہ بول اٹھیں گے کہ اے ہمارے رب ! بلاشبہ تیرے نبیوں اور رسولوں نے تیرا پیغام ہم کو پڑھ کر سنایا تھا اور پھر صرف سنایا ہی نہ تھا بلکہ بار بار یاد ہانی بھی کراتے رہے تھے اور ہمارے سامنے عمل کر کے بھی انہوں نے بتایا تھا ہم اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ ہم ہی قصور وار ہیں اور دنیا کی زندگی نے ہم کو فریب دیا جب کہ دنیا ہم کو وافر ملی تھی اور ہم اس پر پھولے نہیں سماتے تھے اور ہر سنی ان سنی کردینا ہمارا معمول ہوچکا تھا۔ ہمارے کانوں میں تیری دعوت سن کر کبھی جوں بھی نہ رینگی تھی اور ہم رسولوں کی دعوت کو قبول کرنے کی بجائے ٹھکراتے رہے اور بلاشبہ ہم سچائی سے انکار کرنے والے تھے۔ اب انہوں نے کتنی صفائی اور صاف گوئی سے اعتراف کرلیا لیکن یہ اعتراف ان کے کچھ بھی کام نہ آیا اس لئے کہ وہ وقت نکل چکا تھا جس وقت اعتراف کرنے والوں کی کوئی وقعت ہوتی ہے اس لئے ان کو اعتراف فائدہ پہنچاتا ہے۔ تاہم اس سے یہ سبق ضرور حاصل ہوتا ہے کہ سچ کو کتنا ہی چھپایا جائے یا کتنا ہی دبایا جائے بہرحال وہ ظاہر ہو کر رہتا ہے اگر دارا لعمل میں نہیں ہوا تو دارالجزاء میں تو یقیناظاہر ہو کر رہے گا اور قرآن کریم نے حق کو دبانے اور حق کو چھپانے کو مکرو فریب سے تعبیر کیا ہے جو ہر حال میں مذمم ہے کسی حال میں بھی محمود نہیں۔
Ayah 6:131

ذٰلِكَ اَنْ لَّمْ یَكُنْ رَّبُّكَ مُهْلِكَ الْقُرٰى بِظُلْمٍ وَّ اَهْلُهَا غٰفِلُوْنَ Open ayah 6:131 in the Quran reader

یہ اس لیے ہوا کہ تمہارے پروردگار کا یہ ڈھنگ نہیں کہ وہ ناانصافی سے بستیوں کو ہلاک کر دے اور وہاں کے رہنے والے بیخبر ہوں

قانون الٰہی کا اعلان کہ جب تک لوگوں تک حق نہ پہنچایا جائے گرفت نہیں ہوتی : 205: انسان کسی مزاج اور کسی طبع ہی کا کیوں نہ ہو جب تک اس کے علم میں حق اور ناحق آنہ جائے اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس پر گرفت نہیں آتی یہ قانون الٰہی ہے اور اللہ اپنے قانون کے خلاف ہرگز نہیں کرے گا اور نہ ہی کسی کو کرنے دے گا کیونکہ وہ سب طاقتوروں سے زیادہ طاقتور اور سب زور آوروں سے زیادہ زور آور ہے۔ کون ہے جو اس کے سامنے ناحق زبان کھولے۔ اس لئے ضروری تھا کہ انسانوں کی جنس ہی سے رسولوں کو مبعوث کیا جائے اور یہی کچھ ہوا۔ انسانی طبائع کا کتنا ہی واضح فرق کیوں نہ ہو لیکن ان کی ضروریات اور حوائج مختلف نہیں ہو سکتیں اور اسی طرح حق و باطل کی پہچان بھی زیادہ مختلف نہیں ہو سکتی۔ انسان کتنا ہی جھوٹا اور کاذب کیوں نہ ہو ایسا نہیں ہو سکتا کہ وہ جھوٹ کو جائز اور کاذب کو ثواب کا مستحق سمجھے۔ چور چوری تسلیم نہ کرے یہ دوسری بات ہے لیکن کوئی چور چوری کو اچھا فعل قرار نہیں دے سکتا۔ اس لئے ضروری ہوا کہ وہ کسی کو سزا اس وقت تک نہ دے جب تک سزا دئیے جانے کی غرض واضح نہ کرے۔ وہ پہلے آگاہ کرتا ہے تاکہ وہ توبہ واصلاح کرنا چاہیں تو کرلیں اور اگر نہ کرنا چاہیں تو اپنی ذمہ داری پر اس کے نتائج بھگتیں۔ بلاشبہ فطرت بھی حق اور ناحق کو پہچانتی ہے لیکن اس مالک الملک نے صرف فطرت پر بھی نہیں چھوڑا بلکہ ایسا قانون بنایا کہ ان کے کانوں کی کھڑکیاں کھولنے کے لئے ان کی اپنی جنس ہی کے لوگ ان کو نیک وبد سمجھانے کے لئے مقرر کر دئیے اور جب نبوت و رسالت کا عہدہ ختم کیا تو علمائے حق کو انبیائے کرام (علیہ السلام) کا وارث بنا دیا تاکہ حق وناحق کی تمیز وہ کراتے رہیں اور اگر وہ خود نااہل بھی ہوں گے تو اپنے جیسے انسانوں کو دیکھ کر اہلیت پیدا کرلیں گے۔ گویا اس آیت میں سنت اللہ کا بیان کیا گیا ہے کہ جب کوئی بستی گمراہ ہوجاتی ہے اور فسق وفجور میں منہمک ہوجاتی ہے تو اچانک اس پر عذاب نازل نہیں کیا جاتا بلکہ سنت الٰہی یہ ہے کہ پہلے ان کی طرف اللہ کا پیغام سنانے والے بھیجے جاتے ہیں اور یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے تکوینی قانون کے مطابق ہوتا ہے جو ان کو سمجھاتے ہیں اور ان گمراہیوں اور بدکاریوں سے باز آجانے کی نصیحت کرتے ہیں اگر پھر بھی وہ گمراہی اور کج روی پر بضد رہیں تو عذاب نازل ہوتا ہے جو ان کو نیست ونابود کردیتا ہے اور اس کی مختلف صورتیں واقع ہوتی ہیں۔
Ayah 6:132

وَ لِكُلٍّ دَرَجٰتٌ مِّمَّا عَمِلُوْا١ؕ وَ مَا رَبُّكَ بِغَافِلٍ عَمَّا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 6:132 in the Quran reader

اور سب کے درجے ان کے کاموں کے مطابق ہیں اور جیسے کچھ انسانوں کے کام ہیں تمہارا پروردگار ان سے غافل نہیں

اعمال انسانی سے اللہ غافل نہیں اور ہر ایک کا درجہ عمل کے مطابق لازم ہے : 206: وہاں تو ایک ایک کے اعمال کے ہر ہر جزئیہ کی پوری روداد موجود ہے۔ اسے سب کو ان کے مناسب حال جزاء وسزا دینا مشکل ہی کیا ہے ؟ اور یہ بھی کہ وہاں ہر ایک کے لئے الگ الگ درجے ہیں اور انہیں کے مطابق ان کو جزاء و سزاء ہے اس لئے کہ اللہ تعالیٰ سے کسی انسان کا حال پوشیدہ نہیں ” وَ لِكُلٍّ “ ہر ایک سے مراد جِنّ و انس کے افراد ہی ہو سکتے ہیں کیونکہ یہی دونوں گروہ مکلف ہیں اور انہی کی طرف رسول مبعوث ہوتے رہے جو درحقیقت اولاد آدم (علیہ السلام) ہی کے دو گروہ ہیں جن کے اختلاف طبع کے باعث ان کو تمثیلاً جِنّ و انس کے خطاب سے خطاب کیا گیا ہے جیسا کہ پیچھے اس کی وضاحت گزر چکی اور جنوں کی یہ وہی صنف ہے جو مکلف کہلاتی ہے اور ایک جنس سے تعلق ہونے کے باعث ایک دوسرے سے استفادہ بھی کرتی رہتی ہے۔ فرمایا انہوں نے جو کچھ کیا جان بوجھ کر کیا اور اللہ کی طرف سے اتمام حجت کے بعد کیا یہی وجہ ہے کہ ان کو جزا وسزا دیا جانا حق ہے اور اس طرح ان کو ان کے کئے کے مطابق درجات ملیں گے خواہ وہ درجات جنت کے ہوں یا دوزخ کے۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جنت اور دوزخ دونوں میں انسانوں کے لئے مختلف درجات تیار کئے گئے ہیں جو انعام میں بھی ایک دوسرے سے بڑھ کر ہیں اور سزا میں بھی ایک دوسرے سے بڑھ کر کچھ کے لئے سزا ہلکی ہوگی اور کچھ کے لئے بھاری۔ کچھ ابدی طور پر داخل کئے جائیں گے اور کچھ مقررہ وقت کے لئے وہاں رکھے جائیں گے۔
Ayah 6:133

وَ رَبُّكَ الْغَنِیُّ ذُو الرَّحْمَةِ١ؕ اِنْ یَّشَاْ یُذْهِبْكُمْ وَ یَسْتَخْلِفْ مِنْۢ بَعْدِكُمْ مَّا یَشَآءُ كَمَاۤ اَنْشَاَكُمْ مِّنْ ذُرِّیَّةِ قَوْمٍ اٰخَرِیْنَؕ Open ayah 6:133 in the Quran reader

اور تمہارا پروردگار بےنیاز اور رحمت والا ہے اگر وہ چاہے تو تمہیں ہٹا دے اور تمہارے بعد جس کو چاہے تمہارا جانشین بنا دے جس طرح ایک دوسرے گروہ کی نسل سے تمہیں اٹھا کھڑا کیا ہے

اللہ کے قانون کا بیان جس کے تحت وہ ایک کو دوسرے کا جانشین بنا دیتا ہے : 207: رب کریم نے اپنی صفت ” غنی “ غنا لا کر یہ بات یاد دلادی کہ وہ جو بار بار رسولوں کو بھیجتا رہا ہے تو اس لئے نہیں کہ وہ بندوں کی عبادت کا محتاج اور متمنی ہے کہ لوگ اس کی عبادت کریں اور اس کی پوجا پاٹ ادا کریں تب وہ خدا رہے گا ورنہ اس کی خدائی کوئی اور لے جائے گا۔ اللہ ہر طرح کی احتیاج سے پاک ہے اور حقیقت یہ ہے کہ اس کا بار بار پیغمبروں کو بھیجنا تو رحمت کے تقاضا سے تھا تاکہ بندے مرضیات الٰہی سے آگاہ وباخبر ہو کر دنیا میں نفع زیادہ سے زیادہ حاصل کرتے رہیں اور لوگوں میں جو صلاحیتیں ہیں ان کی نشو ونما کے لئے ایسی شریعت عطا کی جائے جس پر عمل پیرا ہونے سے انسان اپنا اصلی مقام پہچان سکے۔ ” وَ رَبُّكَ الْغَنِیُّ ذُو الرَّحْمَةِ 1ؕ “ کی ترکیب حصر کے معنی پیدا کر رہی ہے مراد یہ ہے کہ غنی بھی اس کے سوا نہیں اور صاحب رحمت بھی اس کے سوا کوئی نہیں یعنی اس جیسا نہ کوئی غنی ہے اور نہ ہی کوئی صاحب رحمت (کبیر) اور یہ بھی کہ وہ بیک وقت غنی بھی ہے اور صاحب رحمت بھی۔ اس کو اپنی صفت غنا کی وجہ سے کسی کی کوئی پرواہ نہیں وہ بےنیاز ، مستغنی اور سب سے بےپرواہے۔ سب اس کا انکار کردیں تو اس کا کچھ نہیں بگڑتا اور سب کے سب اس کی حمد کے ترانے گانے لگیں تو اس کا کچھ فائدہ نہیں ہوتا۔ اس کا قانون یہ ہے کہ وہ لوگوں پر اپنی حجت تمام کئے بغیر ان کو نہیں پکڑتا اس لئے ان پر حجت قائم کرنے کے لئے یہ سب کچھ کرتا ہے اور اس وقت تک وہ لوگوں کو مہلت دیتا رہتا ہے جب تک ان کا اپنا پیمانہ لبریز نہیں ہوجاتا۔ مطلب یہ ہے کہ انسانوں کی تمام سرکشیوں کے باوجود ان کی پکڑ نہیں ہو رہی ہے تو اس کا سبب یہ نہیں ہے کہ وہ لوگوں کو پکڑ نہیں سکتا یا لوگوں کے فنا ہوجانے سے اس کی دنیا اجڑ جائے گی اور پھر اس کے آباد کرنے والے نہیں ملیں گے بلکہ اس کا واحد سبب اس کی رحمت ہے اگر وہ لوگوں کو فنا کرنا چاہئے تو آخر اس کو کتنی دیر لگے گی ؟ یہ بات تم میں سے کسی کے قیاس سے بھی بالاتر نہیں ہے آخر تم جو اس وقت زمین کے حکمران بنے بیٹھے ہو کیا تم یہاں روز اول سے ہو ؟ نہیں اور یقیناً نہیں تم سے پہلے کتنے لوگ اس زمین کے وارث رہ چکے جن کے نام تم نے اور تمہارے باپوں نے خوب سنے ہیں پھر جس طرح ان کو مٹا کر وہ تم کو لے آیا بالکل اسی طرح تم کو مٹا کر کوئی اور لے آئے گا۔ کون ہے جو اس کا ہاتھ پکڑ سکے۔ یہ تمہاری ہی تاریخ ہے جسے ہم نے تم کو پڑھ کر سنا دیا ہے تاکہ تم پر حجت قائم ہوجائے اور تم بھولے ہی نہ رہو کہ اسے نہ لے جاتے دیر لگتی ہے اور نہ ہی ان جانے والوں کی جگہ دوسروں کو لانے میں کوئی زیادہ وقت خرچ ہوتا ہے۔ اس کے لے جانے اور لانے کا قانون بڑا عجیب ہے اگر تم اپنے گھر اور اپنے اردگرد کے لوگوں پر نظر کرو گے تو بات تم پر واضح ہوجائے گی کہ کتنے چہرے ہیں جو تم نے اچھی طرح دیکھے تھے اور آج تم کو نظر نہیں آتے لیکن کیا کوئی اس دنیا کی گہما گہمی میں کمی ہوئی یا اس کی رونق پہلے سے بھی دوبالا ہوگئی ؟ آج وہ کہاں ہیں جن کے تم جانشین ہو ؟ اور یاد رکھو کہ بالکل اسی طرح تم وہاں پہنچ جائو گے جہاں وہ پہنچ گئے لیکن خلافت ارضی اسی طرح جاری وساری رہے گی اور جب تک اس نظام کو باقی رکھنا رب کریم کو منظور ہے یہ خلافت اسی طرح جاری وساری رہے گی۔
Ayah 6:134

اِنَّ مَا تُوْعَدُوْنَ لَاٰتٍ١ۙ وَّ مَاۤ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِیْنَ Open ayah 6:134 in the Quran reader

جس بات کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے وہ یقینا آنے والی ہے اور تمہارے بس میں نہیں کہ تم اسے عاجز کر دو

جس بات کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے وہ یقیناً آنے والی ہے : 208: اللہ تعالیٰ نے جس دن سے تم کو ڈرایا ہے یقیناً وہ دن آنے والا ہے اور تم سب مل کر بھی اس دن کو نہیں ٹال سکتے ” تُوْعَدُوْنَ “ میں وہ عذاب بھی داخل ہے جس کی رسول کی تکذیب کی صورت میں ان کو دھمکی سنائی گئی تھی اور وہ یوم حساب بھی جو اس کائنات کی ایک اٹل حقیقت ہے اس لئے کہ اگر اس عالم کا کوئی شروع ہے تو اس کا آخر بھی ہونا چاہئے۔ فرمایا یہ دونوں باتیں ہونے والی ہیں اور جب ان کا ظہور ہوگا تو تم اللہ تعالیٰ کے قابو سے کسی طرح باہر نہ نکل سکو گے اور یہ بھی کہ جس کو ہونا ہے اس کو ہونا ہی ہے تو پھر تم اس کو ہونے کے لئے جلدی کیوں مچاتے ہو ؟ اگر تم نے اپنی روش نہ بدلی تو وعدہ الٰہی بھی بدلنے والا نہیں۔ پھر سن لو اور اچھی طرح یاد رکھو کہ ” جس بات کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے وہ یقیناً آنے والی ہے اور تمہارے بس میں نہیں کہ تم اسے عاجز کر دو ۔ “
Ayah 6:135

قُلْ یٰقَوْمِ اعْمَلُوْا عَلٰى مَكَانَتِكُمْ اِنِّیْ عَامِلٌ١ۚ فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ١ۙ مَنْ تَكُوْنُ لَهٗ عَاقِبَةُ الدَّارِ١ؕ اِنَّهٗ لَا یُفْلِحُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 6:135 in the Quran reader

ان لوگوں سے کہو اے میری قوم ! تم اپنی جگہ کام کیے جاؤ میں بھی کام کر رہا ہوں عنقریب تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ آخر کار کس کا انجام بخیر ہے یقینا ظلم کرنے والے کبھی کامیاب نہیں ہوں گے

میں اپنا کام کئے جا رہا ہوں اور تم بھی اپنا کام کئے جائو : 209: خطاب اول نبی کریم ﷺ ہی سے ہے کہ آپ ﷺ اہل مکہ سے کہہ دیجئے کہ اے میری قوم ! اگر تم میری بات نہیں مانتے تو تمہیں اختیار ہے نہ مانو اور اپنی حالت پر اپنے عقیدہ کے مطابق عمل کرتے رہو میں بھی اپنے عقیدہ کے مطابق عمل کر رہا ہوں عنقریب یہ بات تم پر روز روشن کی طرح عیاں ہوجائے گی کہ دار آخرت کی نجات اور فلاح کس کو حاصل ہوتی ہے اور نجات یافتہ کون ہوتا ہے ؟ اور یاد رکھو کہ قانون الٰہی یہ ہے کہ ظالم یعنی حق تلفی کرنے والے کبھی فلاح نہیں پاتے۔ آخرت کی فلاح و کامیابی تو یقینی ہے لیکن دار آخرت سے پہلے دار دنیا میں بھی انجام کار فلاح و کامیابی اللہ کے نیک بندوں ہی کو حاصل ہوتی ہے جیسا کہ نبی کریم ﷺ اور صحابہ کرام ؓ کے حالات اس پر شاہد ہیں کہ تھوڑے ہی عرصہ میں تمام قوت واقتدار والے مخالف آپ ﷺ کے سامنے ذلیل ہوئے اور عہد رسالت ہی میں سارا جزیرہ عرب آپ ﷺ کے زیر نگیں آگیا۔ یمن اور بحرین سے لے کر حدود شام تک آپ ﷺ کی حکومت پھیل گئی۔ اس طرح اللہ تعالیٰ کا یہ وعدہ پورا ہوا کہ : ” كَتَبَ اللّٰهُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَ رُسُلِیْ 1ؕ“ یعنی اللہ نے لکھ دیا ہے کہ میں اور میرے رسول غالب آئیں گے اور ایک جگہ ارشاد الٰہی اس طرح ہوا کہ : ” یقین جانو کہ ہم اپنے رسولوں اور ایمان لانے والوں کی مدد اس دنیا کی زندگی میں بھی لازماً کرتے ہیں اور اس روز بھی کریں گے جب گواہ کھڑے ہوں گے۔ جب ظالموں کو ان کی معذرت کچھ بھی فائدہ نہ دے گی اور ان پر لعنت پڑے گی اور بدترین ٹھکانا ان کے حصے میں آئے گا۔ “ (المؤمن 40 : 56 ، 57)
Ayah 6:136

وَ جَعَلُوْا لِلّٰهِ مِمَّا ذَرَاَ مِنَ الْحَرْثِ وَ الْاَنْعَامِ نَصِیْبًا فَقَالُوْا هٰذَا لِلّٰهِ بِزَعْمِهِمْ وَ هٰذَا لِشُرَكَآئِنَا١ۚ فَمَا كَانَ لِشُرَكَآئِهِمْ فَلَا یَصِلُ اِلَى اللّٰهِ١ۚ وَ مَا كَانَ لِلّٰهِ فَهُوَ یَصِلُ اِلٰى شُرَكَآئِهِمْ١ؕ سَآءَ مَا یَحْكُمُوْنَ Open ayah 6:136 in the Quran reader

اور جو کچھ اللہ نے کھیتی اور مویشی میں سے پیدا کیا ہے اس میں سے ایک حصہ یہ لوگ اپنے زعم باطل کے مطابق اللہ کے لیے ٹھہراتے ہیں اور کہتے ہیں یہ اللہ کے لیے ہے اور یہ ان کے لیے جنہیں ہم نے اللہ کا شریک ٹھہرا لیا ہے پس جو کچھ ان کے ٹھہرائے ہوئے شریکوں کے لیے ہے وہ تو اللہ کی طرف پہنچتا نہیں لیکن جو کچھ اللہ کے لیے ہے وہ ان کے شریکوں کی طرف پہنچ جاتا ہے کیا ہی برا فیصلہ ہے جو یہ لوگ کرتے ہیں

مشرکین کے اختراعی عقائد کا بیان شروع ہو رہا ہے : 210: زیر نظر آیت میں مشرکین عرب کی ایک خاص گمراہی کا ذکر کیا گیا ہے جس سے قوموں کے اختراعی عقائد کا مکمل طور پر رد ہوتا ہے۔ عرب مشرکین کی عادت یہ تھی کہ وہ کھیتی ، باغات ، جانوروں اور تجارت کے کاروباروں میں سے جو نفع حاصل ہوتا ہے اس میں سے ایک حصہ اللہ کے لئے اور ایک حصہ اپنے بزرگوں ، ولیوں اور مذہبی پیشوائوں کے نام سے نکالتے تھے اور اگر وہ مر گئے ہوتے تو ان کے بت بنا کر ان کے سامنے پیش کرتے تھے اور وہ ان کے بت خانے کے مجاور کھاتے تھے ؟ ؟ ؟ اور اس ظلم کو قرآن کریم اور اسلام کی زبان سے شرک کہا گیا ہے۔ اس کو ظلم کیوں کہا گیا ؟ اس لئے کہ ساری چیزوں کا پیدا کرنے والا تو اللہ تعالیٰ ہی ہے پھر اس کی پیدا کردہ اور عطا کردہ چیزوں کو اپنے بزرگوں اور ولیوں کے نام پر منسوب کرنا یا ان کے بت اور قبریں بنا کر ان پر چڑھانا کسی حال میں جائز نہیں ہو سکتا تھا اور جس مقصد کے لئے یہ چڑھاوے چڑھائے جاتے تھے وہ بھی کسی خاص نفع حاصل کرنے یا کسی مضرت سے بچنے کے لئے چڑھائے جاتے تھے اور یہ کام بھی اللہ ہی کا ہے غیر اللہ کا نہیں اور یہی وجہ ہے کہ غیر اللہ کو نفع ونقصان کا مالک سمجھنا اور اس سے کسی نفع کو حاصل کرنے اور نقصان سے بچنے کی اپیل کرنا جبکہ وہ سامنے موجود بھی نہ ہو کہ اس کو مخاطب کیا جاسکے اسلام کی زبان میں شرک کہلاتا ہے۔ لیکن وہ ظالم اس پر مزید ستم یہ ڈھاتے کہ اگر نفع میں کوئی کمی آجائے تو اس کو اللہ کے حصے پر یہ کہہ کر اور سمجھ کر ڈال دیتے کہ اللہ تو مستغنی ہے وہ ہماری چیزوں کا محتاج نہیں اور اپنے بزرگوں ، پیروں یا ان کے بتوں کا حصہ پورا رکھتے اور خود اپنے استعمال کا حصہ بھی سالم رکھتے اور اس طرح یہ بھی کہ اللہ کے نام کے حصے سے ضرورت پیش آنے پر نکال کر اپنے بزرگوں ، ولیوں ، پیروں یا ان کے بتوں کے حصہ میں ڈال دیتے لیکن اگر کتنی بھی سخت ضرورت کیوں نہ ہوتی اپنے بزرگ اور پیروں کے مقررہ حصہ کی چیز اللہ کے حصے کی چیز میں شامل نہ کرتے۔ یہ ان کی عادت اور عقیدہ کا بیان ہے اس کا مطلب یہ نہیں کہ اگر اس طرح چیز کے ادلنے بدلنے میں جو ان کی عادت تھی وہ نہ کرتے تو فی نفسہ اللہ کے ساتھ کسی غیر اللہ کے نام کی نذر ونیاز یا منت وچڑھاوا دیتے تو درست ہوتا ہرگز نہیں۔ اس کا بیان محض اس لئے ہے کہ وہ جو کچھ کرتے تھے اس کو صحیح صحیح بیان کردیا جائے۔ فرمایا کتنا ہی برا فیصلہ ہے جو انہوں نے کیا۔ یہ تو اس وقت کے عربوں کا فیصلہ تھا جن کو قرآن کریم نے مشرک اور ظالم کہا اور آج قوم مسلم کی اکثریت جو کچھ کر رہی ہے وہ بھی سب کی آنکھوں کے سامنے ہے اگر کوئی فرق ہے تو صرف یہ ہے کہ انہوں نے اپنے اس وقت کے بزرگوں اور ولیوں کو جو وفات پا گئے تھے بت تراش لئے تھے اور ہمارے ہاں بتوں کی بجائے قبروں ، حجروں ، خانقاہوں اور ان جگہوں نے لے لی ہے جہاں بزرگ اور ولی مدفون ہیں یا ان جگہوں پر انہوں نے کبھی ڈیرہ لگایا تھا اور بیٹھا کرتے تھے اور آہستہ آہستہ بتوں کی طرف پیش قدمی بھی جاری وساری ہے کہ ان پتھر اور لکڑی کے بتوں کی بجائے اب ان بزرگوں اور ولیوں کی تصاویر نے لے لی ہے اور جدید دور کے جدید تقاضے ہیں کہ ایک بت کو اٹھانا اور دھرنا جتنا مشکل ہے تصویر کو سنبھالنا اتنا ہی آسان ہے۔
Ayah 6:137

وَ كَذٰلِكَ زَیَّنَ لِكَثِیْرٍ مِّنَ الْمُشْرِكِیْنَ قَتْلَ اَوْلَادِهِمْ شُرَكَآؤُهُمْ لِیُرْدُوْهُمْ وَ لِیَلْبِسُوْا عَلَیْهِمْ دِیْنَهُمْ١ؕ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ مَا فَعَلُوْهُ فَذَرْهُمْ وَ مَا یَفْتَرُوْنَ Open ayah 6:137 in the Quran reader

اور دیکھو اس طرح بہت سے مشرک ہیں کہ ان کے شریکوں نے ان کی نظروں میں قتل اولاد خوشنما کر دکھایا ہے تاکہ انہیں ہلاکت میں ڈالیں اور ان کے دین کی راہ ان پر مشتبہ کردیں ، اگر اللہ چاہتا تو وہ یہ کام نہ کرتے پس انہیں اور ان کی افتراء پردازیوں کو ان کے حال پر چھوڑ دو

عقائد کے بعد مشرکین عرب کی عملی غلطیوں کا اظہار کیا جا رہا ہے : 211: پیچھے سے مشرکین کے عقائد باطلہ اور شرکیہ کا بیان تھا اب ان کی عملی غلطیوں اور جاہلانہ رسم و رواج کا ذکر کیا جا رہا ہے ان کی عملی غلطی جس کا پہلے سے بیان چلا آرہا ہے کہ اللہ کے نام سے نذر ومنت بھی دیتے اور غیر اللہ کے نام سے بھی اور پھر اللہ کے نام کی چیز ضرورت کے ساتھ غیر اللہ کی نذر ومنت میں دے دیتے تھے لیکن غیر اللہ کی نذر ومنت کبھی اللہ کی نذر ومنت میں شامل نہ کرتے اور اس کے لئے اس عقیدہ سے کام لیتے کہ اللہ تو پہلے ہی مستغنی ہے اور اس آڑ میں جو حقیقت تھی وہ یہ تھی کہ وہ سمجھتے تھے کہ اگر غیر اللہ کے نام کی چیز اللہ کے نام کی چیز میں مل گئی تو ہمارے غیر اللہ یعنی بزرگ وپیرہم سے خوب بدلہ لیں گے اور ہمارا نقصان کردیں گے اور اللہ کے نام کی چیز اگر غیر اللہ کے ساتھ ملا بھی دی گئی تو اللہ ہم پر گرفت نہیں کرے گا کہ وہ غفور ورحیم ہے۔ دوسری رسم یہ کہ بحیرہ وسائبہ وغیرہ جانوروں کو بزرگوں اور پیروں کے نام پر چھوڑتے اور یہ سمجھتے کہ ان کاموں سے وہ بزرگ بھی راضی ہوتے ہیں اور اللہ بھی اس لئے کہ وہ بزرگ بھی دراصل اللہ والے ہیں اس لئے ان کے نام کی نذر ونیاز سے وہ بھی خوش ہوں گے اور اللہ بھی۔ اب زیر نظر آیت میں ان کی اولادوں کی قربانی کرنے کا بیان ہے کہ وہ اپنی اولادوں کو ان بزرگوں کے نام پر قتل کردیتے تھے اور سمجھتے تھے کہ ہماری اس قربانی سے ہمارے بزرگ خوش ہوں گے اور ہم کو مال وعزت دیں گے اور کم از کم اضافہ تو ضرور کریں گے۔ قرآن کریم کی یہ آیت ان کے اس ظلم عظیم کا بیان کر رہی ہے اور آج ہم اس کو یقیناً ظلم سمجھتے ہیں لیکن اس کے باوجود اب بھی یہ ظلم کثرت کے ساتھ جاری ہے۔ ہمارے علاقہ میں اپنی اولادوں کو شاہ دولہ کے دربار پر بطور چڑھاوے کے چڑھائے جانے کا رواج اب بھی موجود ہے اور اسی طرح ہر علاقہ میں کوئی نہ کوئی خانقاہ اس مقصد کے لئے معروف ہے۔ یہ قتل کردینے سے بھی زیادہ بڑا ظلم ہے جس کو بزرگوں کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے ظالموں نے جائز قرار دے رکھا ہے۔ اللہ تعالیٰ ایسی لعنتوں سے محفوظ رکھے۔ اللہ ان کو بزور روکنا چاہتا تو روک سکتا تھا لیکن اس کی مشیت نے یہ فیصلہ نہیں کیا : 212: ظالموں کے ہر ظلم اور زیادتیاں کرنے والوں کی زیادتیوں کے بعد اس طرح کا بیان دیا جاتا ہے اور ہر بار اس بات کی تشریح کی گئی ہے کہ اس طرح کے روکنے سے مراد بزور روکنا ہے اور کسی کو بزور روک دینے کے متعلق فیصلہ روز ازل سے ہوچکا ہے کہ نہیں روکا جائے گا۔ اس لئے کہ اس سے انسان کا وہ اختیار متاثر ہوتا ہے جس اختیار سے اس کو اس امتحان گاہ میں لایا گیا اور اللہ کے ہاں قانون بدلا جانا محال ہے۔ ایک بار جو قانون بنایا گیا ہے وہ الل ٹپ نہیں بنایا گیا بلکہ اللہ کی ہر بات فیصلہ کن ہے اور اس کے ہاں روز روز فیصلے نہیں بدلتے اس لئے آپ بھی اس سے دل تنگ نہ ہوں کہ یہ لوگ کیا کر رہے ہیں ؟ جو کرتے ہیں اللہ ان کو دیکھ رہا ہے ان کو ان کے حال پر چھوڑ دو اس لئے کہ آپ نے پیغام پہنچا دیا تو آپ کی ذمہ داری پوری ہوگئی۔ اب دوسروں کی ذمہ داریاں اپنے سر لینا آپ ﷺ کے لئے اور اس طرح کسی دوسرے کے لئے مفید نہیں ہو سکتیں۔ آیت کے اس حصہ میں ہماری زندگی کے لئے کتنی نصیحتیں مخفی ہیں اگر کوئی دیانت داری کے ساتھ ان کو تلاش کرنا اور ان پر عمل کرنا چاہئے۔ آج ہماری اکثریت اپنی ذمہ داریوں کو پورا نہیں کرتی اور دوسروں کی ذمہ داریوں کے لئے بڑی فکر مند ہے اور خصوصاً ہمارے مذہبی پیشوائوں کا طبقہ تو سر اسر اس گمراہی میں مبتلا ہے لیکن گمراہی کو جب گمراہی تسلیم ہی نہ کیا جائے بلکہ الٹا ثواب اور نیکی سمجھا جائے اس سے گلو خلاصی کی کوئی سبیل آخر ممکن بھی ہے ؟ فرمایا ” اگر اللہ چاہتا تو وہ یہ کام نہ کرتے یعنی ان کی طاقت سلب کرلیتا لیکن اس کی مشیت و حکمت کا فیصلہ یہی ہوا کہ یہاں ہر طرح کی راہیں اور ہر طرح کے اعمال ہوں پس انہیں اور ان کی افتراء پردازیوں کو ان کے حال پر چھوڑ دو وہ تمہارے کہے سے ماننے والے نہیں۔ “
Ayah 6:138

وَ قَالُوْا هٰذِهٖۤ اَنْعَامٌ وَّ حَرْثٌ حِجْرٌ١ۖۗ لَّا یَطْعَمُهَاۤ اِلَّا مَنْ نَّشَآءُ بِزَعْمِهِمْ وَ اَنْعَامٌ حُرِّمَتْ ظُهُوْرُهَا وَ اَنْعَامٌ لَّا یَذْكُرُوْنَ اسْمَ اللّٰهِ عَلَیْهَا افْتِرَآءً عَلَیْهِ١ؕ سَیَجْزِیْهِمْ بِمَا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ Open ayah 6:138 in the Quran reader

اور کہتے ہیں یہ کھیت اور چارپائے ممنوع ہیں انہیں اس آدمی کے سوا کوئی نہیں کھا سکتا جسے ہم اپنے خیال کے مطابق کھلانا چاہیں اور کچھ جانور ہیں کہ ان کی پیٹھ حرام ہے اور کچھ جانور ایسے ہیں کہ ان پر اللہ کا نام نہیں لیتے کیونکہ اللہ پر افتراء کر کے انہوں نے یہ طریقہ نکال لیا ہے پھر جیسی کچھ افتراء پردازیاں یہ کرتے رہتے ہیں قریب ہے کہ اللہ بھی انہیں اس کی سزا دے

شیطانی چالوں کا مزید بیان جو اس نے انسانوں کو پھنسانے کے لئے چلیں : 213: ” حجر “ حجر سے ہے جس کے معنی پتھر اور سخت چیز کے ہیں۔ پتھر اور سخت چیز کس طرح مانع ہوتی ہے سب کو معلوم ہے اور اس جگہ مراد اس سے ” ممنوع چیز “ کے ہیں۔ یہ لفظ دراصل عرب جاہلیت کی ایک دینی اصطلاح ہے اور اس سے مراد وہ چیز ہے جو کسی دینی رسم کے تحت ممنوع تصور کی گئی ہو جس کو اسلام کی زبان میں حرام کہا جاتا ہے۔ چونکہ اس جگہ قرآن کریم ان کے تھانوں اور استھانوں کے پروہتوں ، مجاوروں اور مذہبی پیشوائوں کے من گھڑت فتوے نقل کر رہا ہے اس لئے اس رسم کا بیان کیا جا رہا ہے کہ ان کے زمینی پیداوار اور جانوروں وغیرہ کے جو چڑھاوے چڑھائے جاتے ہیں ان میں انہوں نے بڑی عجیب عجیب پابندیاں لگا رکھی تھیں مثلاً فلاں فلاں چیز مرد کھا سکتے ہیں اور عورتوں کو اس کا کھانا ممنوع ہے اور فلاں فلاں چیز ہے کہ اس کو عورتیں کھا سکتی ہیں لیکن مرد نہیں کھا سکتے۔ فلاں چیز اس طرح پکانی چاہئے کہ کوئی مرد اس کو دیکھ نہ سکے اور عورتوں کو اس طرح تقسیم کی جائے کہ کوئی مرد اس پر نظر تک نہ ڈال سکے جس طرح آج کل ” صحنک بی بی فاطمہ “ کے نام سے ایک رسم جاری ہے کہ اس ” بی بی فاطمہ “ سے مراد نبی کریم ﷺ کی چھوٹی بیٹی حسین ؓ کی والدہ ماجدہ ہیں اور ان کے نام سے ایک نیاز پکائی جاتی ہے جس کا نام ” صحنک بی بی فاطمہ “ رکھا گیا ہے۔ اس طرح کہ عورتوں میں سے پھر آگے یہ کہ اس کھانے کو صرف وہ عورتیں کھائیں جو بیوہ ہیں سہاگن نہیں کھا سکتیں اور یہ کھانا صرف کنواریوں کے لئے ہے کوئی شادی شدہ عورت اس کو نہ کھائے۔ اس طرح دراصل انہوں نے اپنی نفسانی خواہشوں کو پورا کرنے کا ایک ذریعہ بنایا ہوا تھا اور ان کی سازش اتنی گہری تھی کہ عوام اس کو سمجھ نہیں سکتے تھے اور اس طرح کی ساری رسومات وحرکات آج بھی ان خانقاہوں اور درباروں پر ہو رہی ہیں جو بزرگوں ، پیروں اور ولیوں کے نام سے بنائی گئی ہیں اور بدکاری اور فحاشی کے اڈے ہمارے ملک میں چپہ چپہ پر موجود ہیں اور اس وقت تو ہماری حکومت کی ایڈ بھی ان کو حاصل ہے۔ ان کے ہاں یک یہ رسم بھی پائی جاتی تھی کہ کچھ جانوروں کو وہ اپنے بزرگوں کے نام پر چھوڑتے اور سمجھتے کہ اب ان پر سواری کرنا ممنوع ہے اور ان سے بار برداری کا کام لینا بھی حرام ہے۔ جیسے ہمارے ہاں سیدنا حسین ؓ کے نام کا گھوڑا اور بڑے پیر جی کے نام کا بیل ، اونٹ۔ جس کو ہم نے گھوڑا کہا ہے وہ فقط اس جانور کی شکل و صورت کے پیش نظر کہہ دیا ورنہ ان کے ہاں گھوڑا کہنا بھی ایک بہت بڑا گناہ سمجھا جاتا ہے ہاں ! اس کا نام ” دلدل “ رکھا گیا ہے۔ اس پر منتیں اور چڑھاوے چڑھائے جاتے ہیں۔ اس کو سجایا جاتا ہے اور کچھ خاص دنوں میں اس کو باہر ” نکالا “ جاتا ہے جس کو ” دلدل کے نکلنے “ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ اس کی پوجا کی جاتی ہے۔ اس کو چھونا اور ہاتھ لگانا باعث برکت خیال ہوتا ہے اور اس کے پائوں کی مٹی کو متبرک جانا جاتا ہے۔ ایک رسم بد یہ بھی تھی کہ بعض چوپایہ جانور مخصوص کر دئیے گئے تھے جن پر کسی موقع میں بھی اللہ کا نام نہ لیتے تھے۔ نہ دودھ نکالتے وقت ، نہ سوار ہوتے وقت اور نہ ذبح کرتے وقت اور ان کو مخصوص مقامات پر لے جا کر ذبح کرتے تھے۔ جس طرح ہمارے ہاں دودھ چڑھایا جاتا ہے اور برتن وہاں رکھے جاتے ہیں جن میں دودھ وہاں لے جایا گیا ہو۔ جانوروں کے باندھنے کے سنگل اور رسے چڑھائے جاتے ہیں اور گائیں اور بکرے درباروں پر لے جانا اور ان درباریوں کو دے آنا تو اتنا عام ہے کہ اس کو بچہ بچہ جانتا ہے۔ اسی طرح ان حلال وطیب جانوروں کو وہ حرام کر کے کھانے کو برکت کا باعث خیال کرتے ہیں اور جاہل لوگوں کو کہتے ہیں کہ دیکھو یہ مرغا یا بکرا اور یہ بیل ہی تو ہے گدھا ، سوریا چیتا تو نہیں ہوگیا۔ ان کو کون سمجھائے کہ یہ عورت جس سے ایک مدت تمہارا نکاح رہا اور بچے پیدا ہوئے جب تم نے اس کو ماں یا بہن کہہ دیا تو وہ ماں یا بہن ہو تو نہیں گئی پھر حرام کیوں ہوئی ؟ اور اب تم اس سے ازدواجی تعلق قائم کیوں نہیں کرسکتے ؟ جس طرح اس کو ایک مقدس رشتہ سے نسبت کرنے سے وہ حرام ٹھہری ، بالکل اسی طرح یہ جانور بھی غیر اللہ کے نام سے پکارنے کی وجہ سے کھانا حرام ہوگیا۔ اس نظریہ سے توبہ کرلو اور غیر اللہ کے نام کے بجائے اس کو اللہ کے لئے ذبح کرو۔ خود بھی کھائو اور دوسروں کو بھی کھلائو لیکن غیر اللہ کے نام سے منسوب کر کے اس کو حرام نہ کرو۔ فرمایا ” اللہ پر افتراء کر کے انہوں نے یہ طریقہ نکال لیا ہے پھر جیسی کچھ افتراء پردازیاں کرتے رہتے ہیں قریب ہے کہ اللہ بھی انہیں اس کی سزا دے۔ “
Ayah 6:139

وَ قَالُوْا مَا فِیْ بُطُوْنِ هٰذِهِ الْاَنْعَامِ خَالِصَةٌ لِّذُكُوْرِنَا وَ مُحَرَّمٌ عَلٰۤى اَزْوَاجِنَا١ۚ وَ اِنْ یَّكُنْ مَّیْتَةً فَهُمْ فِیْهِ شُرَكَآءُ١ؕ سَیَجْزِیْهِمْ وَصْفَهُمْ١ؕ اِنَّهٗ حَكِیْمٌ عَلِیْمٌ Open ayah 6:139 in the Quran reader

اور کہتے ہیں ان چارپایوں کے پیٹ میں سے جو زندہ بچہ نکلے وہ صرف ہمارے مردوں کے لیے حلال ہے ہماری عورتوں کیلئے حلال نہیں اور اگر وہ مردہ ہو تو پھر سب اس میں شریک ہیں ، قریب ہے کہ اللہ انہیں ان کی ان تقسیموں کی سزا دے ، بلاشبہ وہ حکمت رکھنے والا اور جاننے والا ہے

اللہ تعالیٰ کی حلت و حرمت میں ان کی دخل اندازی کی ایک عام مثال : 214: ان مشرکین کی من جملہ جہالتوں میں سے ایک مروجہ جہالت یہ بھی تھی کہ بعض مادہ جانوروں کے متعلق ان کا خیال تھا کہ ان کے پیٹ میں جو دودھ یا بچہ ہے اس کا استعمال ہمارے مردوں کے لئے حلال اور عورتوں کے لئے حرام ہے اور اگر اس مادہ جانور کے شکم سے مروہ بچہ پیدا ہوا تو وہ مردوں اور عورتوں کے لئے حلال ہے۔ کیوں ؟ اس لئے کہ وہ مردہ جانوروں کو بڑے شوق سے کھاتے تھے اور نبی کریم ﷺ پر پھبتیاں کستے تھے کہ اس آدمی کا نعوذ باللہ دماغ خراب ہے کہ جس جانور کو اللہ مارتا ہے اس کو حرام کہتا ہے اور جس جانور کو خود قتل کرلیتا ہے یعنی ذبح کرلیتا ہے اس کو حلال کہتا ہے اور آج کل بھی اس طرح کی پھبتیاں لوگ کستے ہیں اور مذاق اڑاتے ہیں اور بڑے دھڑلے سے کہتے ہیں کہ دیکھو دودھ ہمارا ، چاول ہمارے ، چینی ہماری ، پکانے کے برتن ہمارے ، آگ ہم نے جلائی ، ڈوئی ہم نے چلائی ، اب یہ گیارہویں شریف کی نیاز حرام کیسے ہوگئی ؟ دیکھو ان لوگوں کا دماغ خراب ہے کتنی حلال چیزوں کو انہوں نے حرام کردیا ہے۔ ذبیحہ کیوں ؟ اس لئے کہ وہ فاسد کون جانور کے جسم سے خارج ہوجائے جو انسانی صحت کے لئے نہایت حد تک مضر ثابت ہے اور جو فاسد خون اس جانور کے اندر ہی رہ گیا وہ جانور حرام قرار دیا گیا تاکہ اس مفاسد سے وہ بچ جائیں اور انہوں نے اس بات کا مذاق اڑایا گویا دراصل بات ان کی اپنی سمجھ میں نہ آئی اور ان بےسمجھوں نے سمجھداروں کو بیوقوف کہہ دیا۔ ان ساری چیزوں کو جن سب کا پیدا کرنے والا ایک اور صرف ایک اللہ تھا ان کم بختوں نے غیر اللہ کی طرف نسبت دے کر جنہوں نے ان میں سے ایک چیز کو پیدا نہیں کیا تھا اپنے فاسد عقیدہ کے تحت حرام کرلیا اور ان حرام کردہ چیزوں کو حرام کہنے والوں پر پھبتیاں کسیں اور ان کو بیوقوف سمجھا۔ فرمایا ” قریب ہے کہ اللہ انہیں ان کی ان تقسیمات کا مزا دے بلاشبہ وہ حکمت والا اور جاننے والا ہے۔ “
Ayah 6:140

قَدْ خَسِرَ الَّذِیْنَ قَتَلُوْۤا اَوْلَادَهُمْ سَفَهًۢا بِغَیْرِ عِلْمٍ وَّ حَرَّمُوْا مَا رَزَقَهُمُ اللّٰهُ افْتِرَآءً عَلَى اللّٰهِ١ؕ قَدْ ضَلُّوْا وَ مَا كَانُوْا مُهْتَدِیْنَ۠ Open ayah 6:140 in the Quran reader

یقینا وہ لوگ تباہ و برباد ہوئے جنہوں نے جہالت سے اپنی اولاد مار ڈالی اور جو کچھ اللہ نے ان کیلئے روزی پیدا کی اسے اللہ پر افتراء پردازی کر کے حرام ٹھہرایا ، بلاشبہ وہ گمراہ ہوئے اور بلاشبہ وہ سیدھی راہ پر چلنے والے نہیں تھے

اپنی اولادوں کو قربان کرنے والے اور اللہ پر جھوٹ باندھنے والے یقیناً گمراہ ہوئے : 215: زیر نظر آیت میں ان تمام حماقتوں پر جو اوپر مذکور ہوئیں ان کے موجدوں اور ان کے کرنے والوں پر افسوس کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ بغیر کسی سند اور جواز کے محض انہوں نے اپنی حماقت سے اپنی اولادوں تک کو قتل کیا اور پھر اس گندے اور گھنائونے فعل کو نیکی بھی سمجھا اور اسی طرح بعض جانوروں کا دودھ حرام ٹھہرا کہ اپنی بیوقوفی کا آپ ثبوت فراہم کردیا اور حلال جانوروں کو اپنے رواج کے مطابق کبھی مردوں پر حرام کر کے اور کبھی عورتوں پر حرام کر کے بےسند باتوں کو بیان کرتے رہے اور ان مردہ جانوروں کو سارے مرد اور عورتوں کے لئے حلال و طیب جان کر اور ان کے گوشت کو متبرک سمجھ کر اپنی گمراہی کا ثبوت پیش کیا اور یہ لوگ جو ایسی رسمیں گھڑنے والے اور ان کے کرنے والے تھے جب راہ راست سے بھٹک گئے اور اللہ نے اپنے رسول محمد رسول اللہ ﷺ کے ذریعہ سے ان کو سیدھی راہ دکھائی تو انہوں نے اپنی بدبختی کے سبب اس راہ پر چلنے سے انکار کردیا اور ہمیشہ الٹی راہ چلے۔ اس سے یہ بات بھی واضح ہوگئی کہ اپنے وہم و گمان سے قانون بنانا اور اللہ کی حلال کی ہوئی چیزوں کو حرام سمجھنا اور اللہ کی حرام کی ہوئی چیزوں کو حلال جاننا انسان کے لئے تباہی و بربادی کا باعث ہے اور کائنات کی ہرچیز پر غوروفکر کر کے توحید الٰہی کے نشانات اخذ کرنا اور ان کا بیان کرنا اسلام کی بنیادی چیز ہے۔