6. Surah Al-An'aam

الأنعامThe Cattle · 165 ayahsتفسیرِ ماجدی

Ayah 6:1

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ جَعَلَ الظُّلُمٰتِ وَ النُّوْرَ١ؕ۬ ثُمَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِرَبِّهِمْ یَعْدِلُوْنَ Open ayah 6:1 in the Quran reader

ہر تعریف اللہ ہی کے لیے ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور تاریکیوں اور روشنی کو بنایا، اس پر بھی جو کافر ہیں وہ اپنے پروردگار کے برابر (دوسروں کو) ٹھہرا رہے ہیں،1 ۔

1 ۔ جیسے عیسائی قومیں مسیح (علیہ السلام) کو، روح القدس کو، مریم (علیہا السلام) صدقہ کو، اور مشرک قومیں اپنے دیوی دیوتاؤں کو، خلق۔ یہاں ایجاد وابداع، یعنی نیست سے ہست کرنے کے معنی میں ہے۔ ای اخترع واوجدوا انشاء وابتدع (قرطبی) (آیت) ” السموت والارض “۔ یہ دونام ان چیزوں کے لیے دیئے گئے جنہیں اصطلاح فلسفہ میں جوہر کہتے ہیں۔ (آیت) ” الظلمت والنور “۔ یہ دونام ان چیزوں کے لیے دیئے گئے، جنہیں اصطلاح فلسفہ میں عرض کہتے ہیں۔ مطلب یہ ہوا کہ اس کائنات میں جوہر ہو یا عرض ہر چیز کا بلااستثناء خالق وفاطر وہی ایک ہے، کوئی شے اس کے لئے غیر مخلوق نہیں۔ (آیت) ” خلق السموت والارض “۔ بیسیوں مشرک قوموں نے آسمان اور زمین کو دیوی دیوتا تسلیم کیا ہے۔ (آیت) ” جعل الظلمت والنور “۔ ثنویہ خصوصا مجوس نے نوروظلمت کو مظہر الوہیت مانا ہے۔ اور ان کے خالق الگ الگ مانے ہیں۔ (آیت) ”’ جعل “۔ یہاں آیت) ” خلق “۔ کا مرادف ہے اور اسی لئے صرف ایک مفعول کے ساتھ آیا ہے۔ قال النحاس جعل بمعنی خلق واذا کانت بمعنی خلق لم تتعد الا الی مفعول واحد (قرطبی) (آیت) ” الظلمت “۔ کے صیغہ جمع اور النور کے صیغہ واحد میں اشارہ اس طرف ہے کہ گمراہیاں ایک نہیں بہت سی ہوسکتی ہیں۔ اور راہ حق صرف ایک ہی ہے۔ دونوں نقطوں کے درمیان خطوط مخنی بیشمار ہوسکتے ہیں۔ خط مستقیم ایک ہی ممکن ہے۔ (آیت) ” ثم “ یہاں ‘” اس کے باوجود “ یا ” اس پر بھی “ کے معنی میں ہے۔ قال ابن عطیۃ ثم دالۃ علی قبح فعل الکافرین (قرطبی) الفائدۃ فیہ استبعاد ان یعدلوا بہ بعد وضوح ایات قدرتہ (کبیر) (آیت) ” الحمد “۔ حمد پر مفصل حاشیہ شروع سورة فاتحہ میں گزر چکا، امام رازی (رح) نے اس ذیل میں یہ نکتہ خوب لکھا ہے کہ خود ستائی بندوں کے حق میں عیب ہے، لیکن جس نے حمد الہی کے حکم کو اللہ کے حق میں عیب سمجھا، اس نے اللہ کو بندوں پر قیاس کیا، اور معتزلہ کے اکثر خیالات کی بنیادی و اساسی غلطی یہی ہے۔ دل ھذا علی انہ لایمکن قیاس الحق علی الخلق فکما ان ھذا قبیح من الخلق مع انہ لایقبح من الحق فکذلک لیس کل ما یقبح من الخلق وجب ان یقبح من الحق وبھذا الطریق وجب ان یبطل کلمات المعتزلۃ فی ان ما قبح منا وجب ان یقبح من اللہ (کبیر) اسی ضمن میں امام موصوف نے یہ اصل بھی درج کیا ہے کہ جس طرح افعال خلق پر افعال حق کو نہیں قیاس کیا جاسکتا، اسی طرح صفات خلق پر صفات حق کو اور ذوات خلق پر ذات کو نہیں قیاس کیا جاسکتا (کبیر) اللہ اسم ذات ہے، اور خالق، جاعل، رب اسماء صفات۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ حمد کو پہلے اسم ذات کے ساتھ متعلق کرنے اور پھر صفات خاصہ کے ساتھ موصوف کرنے سے اشارہ اس طرف ہے کہ حمد کا استحقاق حق تعالیٰ کو بحیثیت ذات بھی ہے اور بحیثیت صفات بھی (من حیث الذات کے معنی نفی صفات کے نہیں بلکہ صرف یہ کہ اس وقت صفات کی طرف التفات نہیں)
Ayah 6:2

هُوَ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ مِّنْ طِیْنٍ ثُمَّ قَضٰۤى اَجَلًا١ؕ وَ اَجَلٌ مُّسَمًّى عِنْدَهٗ ثُمَّ اَنْتُمْ تَمْتَرُوْنَ Open ayah 6:2 in the Quran reader

وہ (اللہ) وہی ہے جس نے تم کو مٹی سے پیدا کیا پھر ایک وقت مقرر کیا اور معین وقت اسی کے علم میں ہے پھر بھی تم شک رکھتے ہو،2 ۔

2 ۔ (مسئلہ بعث بعد الموت میں) (آیت) ” خلقکم “۔ ضمیر مخاطب نوع انسانی کی جانب ہے۔ (آیت) ” ثم انتم “۔ یعنی اتنے کھلے ہوئے دلائل کے باوجود بھی، معناہ ان بعد ظھور مثل ھذا الحجۃ الباھرۃ انتم تمترون (کبیر) (آیت) ” قضی اجلا “۔ وقت مقرر کیا سب کی موت کا۔ بقضاء الدنیا قالہ ابن عباس و مجاھد (قرطبی) قال الضحاک اجلا فی الموت (قرطبی) (آیت) ” اجل مسمی عندہ “۔ یعنی یہ دوسرا معین وقت اسی کو معلوم ہے۔ اس سے مراد وقت بعثت ہے۔ قال ابن عباس و مجاھد لابتداء الاخرۃ (قرطبی) قال الضحاک لاجل القیامۃ (قرطبی) (آیت) ” تمترون “۔ یعنی وہم پیدا کر کرکے کج بحثی کیا کرتے ہو۔ التماری المجادلۃ علی مذھب الشک (قرطبی)
Ayah 6:3

وَ هُوَ اللّٰهُ فِی السَّمٰوٰتِ وَ فِی الْاَرْضِ١ؕ یَعْلَمُ سِرَّكُمْ وَ جَهْرَكُمْ وَ یَعْلَمُ مَا تَكْسِبُوْنَ Open ayah 6:3 in the Quran reader

اور وہی (ایک) اللہ آسمانوں میں ہے اور زمین میں (بھی) ،3 ۔ وہ تمہارے پوشیدہ (حال) کو بھی جانتا ہے (اور ظاہر (حال) کو بھی اور جو کچھ تم کرتے رہتے ہو اسے بھی وہ جانتا ہے،4 ۔

3 ۔ (نہ یہ کہ زمین کے دیوتا اور ہوں اور آسمان کے اور) اس میں رد آگیا بہت سی مشرک قوموں کی اس بنیادی گمراہی کا کہ ہر عالم کے خدایا دیوتا الگ الگ ہیں۔ امام رازی (رح) نے یہاں یہ شبہ نقل کرکے کہ اس سے حق تعالیٰ کی تجیسم ثابت ہوتی ہے۔ اس کے متعدد جوابات دیئے ہیں۔ جوابات اپنی جگہ پر بالکل کافی بلکہ شافی ہیں۔ لیکن جو بنیادی حقیقت یہاں عرض کی گئی، یہ پیش نظر ہو، تو آگے کوئی سوال پیدا ہی نہیں ہوتا۔ (آیت) ” فی السموت “۔ اور ” فی الارض “۔ میں فی سے یہ مراد ہی نہیں کہ اللہ آسمانوں یا زمین ” میں “ کہیں بیٹھا ہوا ہے۔ بلکہ مراد صرف یہ ہے کہ آسمانوں اور زمین سب کا خدا وہی ایک ہے، نہ یہ کہ ہر عالم کے دیوتا الگ الگ ہوں، فی کا ترجمہ آیت میں اگر بجائے ” میں “ کے ” کا “ سے کیا جائے تو شبہ کی بنیاد ہی منہدم ہوجاتی ہے۔ 4 ۔ (اور اسی علم پر مدار جزاء ہے) (آیت) ” یعلم سرکم وجھرکم “۔ یعنی اس کا علم محیط وکامل تمہارے ظاہر و باطن سب کو شامل ہے۔ اس میں رد آگیا اس مشرکانہ عقیدہ کا کہ بہت سے مخفیات خدا کے علم سے بھی باہر رہ جاتے ہیں۔
Ayah 6:4

وَ مَا تَاْتِیْهِمْ مِّنْ اٰیَةٍ مِّنْ اٰیٰتِ رَبِّهِمْ اِلَّا كَانُوْا عَنْهَا مُعْرِضِیْنَ Open ayah 6:4 in the Quran reader

اور جو نشانی بھی ان کے پاس ان کے پروردگار کی نشانیوں میں سے آتی ہے وہ اس سے اعراض ہی کیا کرتے ہیں،5 ۔

5 ۔ ان نشانیوں میں تشریعی اور تکوینی دونوں قسم کے آیات الہی آگئے۔ یعنی ایک طرف ادیان حق کا ظہور اور ان کے پیام وتعلیمات اور دوسری طرف ان کے معجزات اور قحط وزلزلہ وغیرہ تخویفی آیات۔ (آیت) ” معرضین “۔ اعراض کے معنی ہیں ترک التفات کے (آیت) ” وما تاتیھم “۔ ضمیر جمع غائب کافروں اور منکروں کی جانب ہے۔ (آیت) ” من ایۃ “۔ من استغراق جنس کے لیے ہے۔ یعنی کوئی سی بھی نشانی ہو۔ من لاستغراق الجنس (قرطبی) (آیت) ” من ایت ربھم “۔ من تبعیض کے لئے ہے من للتبعیض (قرطبی)
Ayah 6:5

فَقَدْ كَذَّبُوْا بِالْحَقِّ لَمَّا جَآءَهُمْ١ؕ فَسَوْفَ یَاْتِیْهِمْ اَنْۢبٰٓؤُا مَا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ Open ayah 6:5 in the Quran reader

سو انہوں نے (کلام) حق کو بھی جھٹلایا جب وہ ان کے پاس آیا،6 ۔ سوعنقریب ہی انہیں خبر معلوم ہوجائے گی اس چیز کی جس کے بارے میں وہ تمسخر کیا کرتے تھے،7 ۔

6 ۔ الحق سے مراد قرآن مجید ہے۔ صاحب قرآن سے بھی مراد ہوسکتی ہے۔ یعنی القران وقیل محمد ا (علیہ السلام) (قرطبی) یعنی خدائی نشانیوں کی تکذیب تو ان کا شعار ہی ہوچکی ہے اس لیے حسب عادت انہوں نے قرآن کو بھی جھٹلایا۔ 7 ۔ یعنی عذاب الہی ان پر واقع ہو کر رہے گا۔ واراد بالانباء وھی الاخبار العذاب (قرطبی) المراد بالانباء لانفس الانباء بل العذاب الذی انبااللہ تعالیٰ بہ (کبیر) عذاب سے مراد جنگ بدر میں شکست وغیرہ ہے۔ جو مشرکین عرب کو دنیا ہی میں نصیب ہوئی۔ والمراد مانالھم یوم بدر ونحوہ (قرطبی) یحتمل ان یکون عذاب الدنیا وھو الذی ظھر یوم بدر (کبیر) عذاب آخرت بھی مراد ہوسکتا ہے۔ قیل یوم القیامۃ (قرطبی) ویحتمل ان یکون عذاب الاخرۃ (کبیر)
Ayah 6:6

اَلَمْ یَرَوْا كَمْ اَهْلَكْنَا مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنْ قَرْنٍ مَّكَّنّٰهُمْ فِی الْاَرْضِ مَا لَمْ نُمَكِّنْ لَّكُمْ وَ اَرْسَلْنَا السَّمَآءَ عَلَیْهِمْ مِّدْرَارًا١۪ وَّ جَعَلْنَا الْاَنْهٰرَ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهِمْ فَاَهْلَكْنٰهُمْ بِذُنُوْبِهِمْ وَ اَنْشَاْنَا مِنْۢ بَعْدِهِمْ قَرْنًا اٰخَرِیْنَ Open ayah 6:6 in the Quran reader

کیا انہوں نے دیکھا نہیں کہ ہم ان کے قبل کتنی جماعتوں کو ہلاک کرچکے ہیں، جنہیں ہم نے روئے زمین پر وہ قوت دے رکھی تھی جو تمہیں نہیں دی ہے،8 ۔ اور ہم نے ان پر خوب کثرت سے بارش باسائی اور ہم نے ان کے نیچے نہریں بہائیں، پھر ہم نے انہیں ان کے گناہوں کے باعث ہلاک کرڈالا اور ہم نے ان کے بعد دوسری جماعتوں کو پیدا کردیا،9 ۔

8 ۔ (اے اہل عرب) مراد قرآن کے مخاطبین اول ہیں۔ (آیت) ” کم اھلکنا “۔ یعنی اپنے عذاب سے ہلاک کردیا۔ (آیت) ” مکنھم فی الارض “۔ تمکین فی الارض کے تحت میں ہر قسم کا غلبہ واقتدار شامل ہے۔ 9 ۔ اس نص نے اس حقیقت کو واضح کردیا کہ کوئی قوم اگر سرکشی کے مرض میں مبتلا ہے تو اس کی ظاہری خوشحالی اور مادی فارغ البالی اسے ہلاکت کے انجام سے نہیں روک سکتی۔ (آیت) ” السمآء “۔ یہاں بارش کے معنی میں ہے۔ یرید المطر الکثیر (قرطبی) ای المطر والسحاب (بیضاوی) ای المطر کما روی عن ھرون التیمی ونسب الی ابن عباس ؓ (روح) یرید الغیث والمطر (کبیر) (آیت) ” ارسلنا “۔ ارسال کا ترجمہ یہاں آ ” برسانے “ ہی سے صحیح ہوگا۔ الارسال والانزال متقاربان فی المعنی (بحر) (آیت) ” تحتھم “۔ یعنی انکے باغوں اور بستیوں میں۔ مطلب یہ ہوا کہ ان کی سرزمینیں خوب گل و گلزار اور خوب شاداب وسرسبز ہیں۔ ای من تحت اشجارھم ومنازلھم (قرطبی) والمراد منہ کثرۃ البساتین (کبیر) (آیت) ” مدرارا “۔ یعنی خوب کثرت سے یا لگاتار۔ دالۃ علی التکثیر کمذکار للمراۃ التی کثرت ولاد تھا للذکور (قرطبی) ھو للمبالغۃ فی اتصال المطر ودوامہ وقت الحاجۃ (بحر) المدرار الکثیر الدریقال سحاب مدرار اذا تتابعامطارہ (کبیر)
Ayah 6:7

وَ لَوْ نَزَّلْنَا عَلَیْكَ كِتٰبًا فِیْ قِرْطَاسٍ فَلَمَسُوْهُ بِاَیْدِیْهِمْ لَقَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا سِحْرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 6:7 in the Quran reader

اور اگر ہم آپ پر کوئی نوشتہ کاغذ پر (لکھا ہوا) نازل کرتے اور اس کو یہ اپنے ہاتھوں سے چھو بھی لیتے جب بھی جن لوگوں نے کفر اختیار کر رکھا ہے یہی کہتے کہ یہ تو بس ایک کھلا ہوا جادو ہے،10 ۔

10 ۔ (تو یہ حالت ان کے شدت ضدوعناد کی ہے ! ) مطلب یہ ہوا کہ ان کو تو قرآن واسلام سے اس قدر ضدو عداوت ہے کہ قرآن مجید بذریعہ وحی قلبی نہیں۔ بلکہ ایک لکھی لکھائی مادی کتاب کی شکل میں آسمان سے اتر آئے اور یہ لوگ اپنی آنکھ سے اسے اترتا ہوا دیکھ بھی لیں، بلکہ اسے ہاتھ سے چھو کر، ٹٹول کر بھی اپنا پورا اطمینان کرلیں جب بھی یہ اس کی تصدیق نہ کریں گے، بلکہ یہی کہنے لگیں گے، کہ یہ تو نظربندی وغیرہ سے ہم کو فریب میں مبتلا کیا جارہا ہے !۔۔ انسان جب قبول حق کا ارادہ ہی نہ کرے بلکہ اس کی مخالفت کو اپنے دل میں اتارلے، تو ہر دلیل اس کے سامنے بےکار وغیر مؤثر ہی رہے گی، سچ فرمایا ہے عارف رومی صاحب مثنوی (رح) نے ،۔ ع : یک کس نامستمع زستیز درد صدکس گویندہ راعاجز کند۔ مرشدتھانوی (رح) نے فرمایا کہ آیت میں معاند کے حال کا بیان ہے کہ وہ کسی طرح منتفع نہیں ہوتا۔ اسی لیے اہل طریق اس کے درپے نہیں ہوتے۔
Ayah 6:8

وَ قَالُوْا لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْهِ مَلَكٌ١ؕ وَ لَوْ اَنْزَلْنَا مَلَكًا لَّقُضِیَ الْاَمْرُ ثُمَّ لَا یُنْظَرُوْنَ Open ayah 6:8 in the Quran reader

اور یہ کہتے ہیں کہ ان کے ساتھ کوئی فرشتہ کیوں نہیں اتارا گیا،1 1 ۔ حالانکہ اگر ہم کوئی فرشتہ اتار دیتے تو قصہ ہی ختم ہوجاتا اور ان کو ذرا مہلت نہ ملتی،12 ۔

1 1 ۔ بشر محض کا رسول ہونا منکرین کی سمجھ میں نہیں آتا۔ یہ اوتار مان سکتے تھے، مظہر خدا مان سکتے تھے۔ فرزند خدا مان سکتے تھے، دیویوں، دیوتاؤں کے، خدا کی بیٹیوں کے وجود کے قائل ہوسکتے تھے۔ لیکن بشر کی رسالت کو ان کا دماغ کس طرح قبول کرنے کو تیار نہ تھا، برابر ان کی طرف سے مطالبہ ” مافوق البشریت “ کا خارق عادت “ کا ہوتا رہتا تھا۔ کوئی آسمانی فرشتہ ان پیغمبر کے ساتھ لگا رہے۔ جب جاکر یہ ان کی پیغمبری کے قائل ہوں، حالانکہ قائل جب بھی نہ ہوتے ! (آیت) ” قالوا “۔ یہ کہنے والے کون تھے ؟ مشرکوں ہی کا کوئی گروہ تھا۔ وظاہر الایۃ یقتضی انھا فی کفار العرب (بحر) 12 ۔ یعنی فرشتہ کا نزول دنیا میں اس طرح کہ وہ کافروں تک کو آنکھ سے نظر آجائے۔ یہ تو دستور الہی میں عین وقوع عذاب کے وقت ہوتا ہے۔ اس کے بعد پھر مہلت کا امکان ہی کہاں ہے ؟ ” آیت قاہرہ اور پھر وہ بھی فرمائشی نازل ہونے کے وقت نہ ماننا حسب عادت الہیہ موجب اہلاک فوری ہے “۔ (تھانوی (رح) ان سنۃ اللہ جاریۃ بان عند ظھور الایۃ القاھرۃ ان لم یومنوا جاء ھم عذاب الاستیصال (کبیر) (آیت) ” قضی الامر “۔ قضاء امر سے مراد عذاب الہی کا واقع ہوجانا ہے۔ قال الحسن وقتادۃ لاھلکوا بعذاب الاستیصال (قرطبی) ای لاتم امر اھلاکھم (روح) قال ابن عباس وقتادہ والسدی لقضی الامر بعذابھم (بحر) اس احقر کے خیال میں یہ بات آتی ہے کہ ایسے کھلے ہوئے معجزات کے بعد تو اس عالم ناسوت کے گویا حجابات اٹھے جاتے ہیں اور غیبت کے پردہ کے بجائے مواجہہ گویا شہود کے میدان کا ہوجاتا ہے۔ جو عالم برزخ ہی کا دوسرا نام ہے۔ عالم برزخ کشف حقائق کا محل ہے۔ اور کافروں کی اصل حقیقت چونکہ معذب ہی ہونا ہے۔ اس لیے اس طاری شدہ عالم برزخ کے وجود میں آتے ہی اس حقیقت کا ظہور اور عذاب کا ترتب لازمی ہوجاتا ہے۔ (آیت) ’ ثم لاینظرون “۔ ثم یہاں اظہار اشدیت کے لیے ہے۔ یعنی عذاب تو واقع ہو ہی گا۔ اس سے بڑھ کر یہ کہ مہلت بھی ذرا نہ ملے گی۔ فی الفور واقع ہوجائے گا، گویا شدت عذاب سے بھی بڑھ کر اس کا فوری وقوع ہے۔ ومعنی ثم ما بعد ما بین الامرین قضاء الامر وعدم الانظار جعل عدم الانظار اشد من قضاء الامر لان مفاجاۃ الشدۃ اشد من نفس الشدۃ (کشاف)
Ayah 6:9

وَ لَوْ جَعَلْنٰهُ مَلَكًا لَّجَعَلْنٰهُ رَجُلًا وَّ لَلَبَسْنَا عَلَیْهِمْ مَّا یَلْبِسُوْنَ Open ayah 6:9 in the Quran reader

اور اگر ہم اس کو فرشتہ ہی تجویز کرتے تو اسے بھی آدمی ہی بناتے اور ان پر (پھر) وہی اشتباہ ڈالتے جس اشتباہ میں وہ اب (پڑے ہوئے) ہیں،13 ۔

13 ۔ اور یہ لوگ اس انسان نما فرشتہ کے باب میں وہی اشکالات اور احتمالات اور وہی کج، بحثیاں پیدا کرتے اور وہی کٹھ حجتی نکالتے جو رسول اللہ ﷺ سے متعلق کررہیے ہیں۔ (آیت) ” ولوجعلنہ “۔ اس کو یعنی اس بھیجی ہوئی ہستی کو۔ ای لجعناالرسول ملکا (بحر) الضمیر للنذیر المحدث للناس (روح) (آیت) ” ملکا “۔ فرشتہ یعنی وہ نورانی ہستی جسے انسان نہ اپنے عام ومعروف حواس سے دیکھ سکتا اور نہ اس کے ملکات کے لحاظ سے اس کا اتباع کرسکتا ہے۔ (آیت) ” لجعلنہ رجلا “۔ یعنی اسے بھی شکل وجسم کے لحاظ سے انسان ہی بناتے کہ تم اسے اپنی ان آنکھوں سے دیکھ تو سکتے۔ (آیت) ” للبسنا علیھم “۔ اشتباہ کا اسناد حق تعالیٰ کی جانب محض تکوینی طور پر اور بہ طور پر مسبب الاسباب کے ہے۔ اس معنی میں اللہ تعالیٰ سانپ کے زہر کا بھی خالق ہے، بیماری کا بھی خالق ہے، ہر دکھ، درد کا خالق ہے۔ یہاں تک کہ شیطان کا بھی خالق ہے۔ قال لبسنا بالاضافۃ الی نفسہ علی جھۃ الخلق (قرطبی) ایمان نام ہے قلب کی ایک کیفیت اختیاری کا، باقی کوئی معجزہ قوی کا سامنے آجانا جس سے انسان ایمان لے آنے پر مجبور ہوجائے، جیسے کہ فرشتہ کو اس کی اصلی شکل پر دیکھ لینا، تو ظاہر ہے کہ ایسی صورت میں ایمان اختیاری باقی کہاں رہا ؟ ایمان تو معتبر جبھی تک ہے، جب تک ایمان بالغیب ہے۔ جب انکشاف وشہود شروع ہوگیا تو ایمان مطلوب کا سوال ہی نہ رہا۔ (آیت) ” رجلا “۔ رجل کے معنی انسان کے نہیں۔ بلکہ مرد یا جنس مذکر کے ہیں اور یہیں سے بعض مفسرین نے یہ نکالا ہے کہ رسالت عورت کے لیے نہیں، صرف مرد کے لیے مخصوص ہے۔ وفیہ اشعار کماقال عصام الدین وغیرہ بان الرسول لا یکون امرأۃ وھو متفق علیہ (روح)
Ayah 6:10

وَ لَقَدِ اسْتُهْزِئَ بِرُسُلٍ مِّنْ قَبْلِكَ فَحَاقَ بِالَّذِیْنَ سَخِرُوْا مِنْهُمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ۠ Open ayah 6:10 in the Quran reader

اور آپ سے پہلے بھی پیغمبروں کے ساتھ تمسخر کیا گیا ہے پھر ان لوگوں کو جو ان (پیغمبروں) کی ہنسی اڑاتے تھے اسی (عذاب) نے آگھیرا جس پر وہ تمسخر کیا کرتے تھے،14 ۔

14 ۔ (تو آپ اپنے زمانہ کے منکرین ومستہزئین کی مخالفت و استہزاء سے مغموم و متفکر کیوں ہوں ؟ یہ لوگ تو خود ہی اپنے کو دنیوی واخروی عذاب کا مستحق بناتے جارہے ہیں) انبیاء قدیم کے ساتھ استہزاء اور اس کی سزا کا ذکر توریت میں بھی جابجا ہے۔ مثلا :۔ ” اور خرقیاہ نے سارے اسرائیل اور یہوداہ کو کہلا بھیجا اور افرائیم اور منسی کے پاس بھی نامے لکھ بھیجے۔ سو قاصد افرائیم اور منسی کے ملک میں زبلون تک شہر بہ شہر گزرتے پھرے لیکن وہ ان پر ہنسے اور انہیں ٹھٹھے میں اڑایا “۔ (2 ۔ تواریخ۔ 30: 1، 10) ” لیکن انہوں نے خدا کے پیغمبروں کو ٹھٹھے میں اڑایا اور اس کی باتوں کو ناچیز جانا اور اس کے بیٹوں سے بدسلوکی کی، یہاں تک کہ خداوند کا غضب اپنے لوگوں پر ایسا بھڑکا کہ کوئی چارہ نہ رہا “ (2 ۔ تورایخ 36، 16) ” انہوں نے ہم کو ٹھٹھے میں اڑایا اور ہماری حقارت کی اور کہا یہ کیسا کام ہے کہ تم کرتے ہو “ (نحمیاہ۔ 2: 19) (آیت) ” سخروا۔۔ یستھزء ون “۔ سخریہ اور استھزاء دونوں ایک ہی معنی میں آتے ہیں۔ ھما متحدان معنا واستعمالا (روح)
Ayah 6:11

قُلْ سِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ ثُمَّ انْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُكَذِّبِیْنَ Open ayah 6:11 in the Quran reader

آپ کہیے کہ زمین پر چلو پھرو، پھر دیکھ لو کہ تکذیب کرنے والوں کا کیا انجام ہوا،15 ۔

15 ۔ اس میں تعلیم وترغیب ہے اس کی کہ انسان پچھلی تباہ شدہ قوموں کے حالات سے عبرت ونصیحت حاصل کرے اور بڑی بڑی مہذب وبااقبال سلطنتوں کے آثار اور مٹے ہوئے کھنڈروں سے سبق لے۔۔۔۔ نقطہ نظر صحیح اور توحیدی ہوجائے تو مسلمان طالب علم کے لیے جغرافیہ تاریخ اور اثریات ان سارے علوم کا مطالعہ عبادت بن سکتا ہے۔ ھذا السفر مندوب الیہ اذا کان علی سبیل الاعتبار باثار من خلامن الامم واھل الدیار (قرطبی) (آیت) ” ثم انظروا “۔ امام رازی (رح) کی نکتہ رسی نے یہاں ایک عجیب نکتہ پیدا کیا ہے۔ فرماتے ہیں کہ اگر یہاں فانظروا ہوتا تو اس کے معنی یہ ہوتے کہ اسی عبرت پذیری کی غرض سے سفر کرو۔ (آیت) ” ثم انظروا “۔ نے سفر کا دارومدار اس نظر عبرت پر نہ رکھا، بلکہ زیادہ گنجائش پیدا کردی، اب سفر ہر جائز غرض کے لیے مباح ہے۔ اور عبرت پذیری کی غرض سے واجب۔ اماقولہ سیروا فی الارض ثم انظروا فمعناہ اباحۃ السیر فی الارض للتجارۃ وغیرھا من المنافع وایجاب النظر فی اثار لھالکین (کبیر)
Ayah 6:12

قُلْ لِّمَنْ مَّا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ قُلْ لِّلّٰهِ١ؕ كَتَبَ عَلٰى نَفْسِهِ الرَّحْمَةَ١ؕ لَیَجْمَعَنَّكُمْ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ لَا رَیْبَ فِیْهِ١ؕ اَلَّذِیْنَ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ فَهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 6:12 in the Quran reader

آپ کہیے کہ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے یہ (سب) کس کی ملک ہے ؟ کہہ دیجئے کہ اللہ (ہی) کی ہے،16 ۔ اس نے اپنے اوپر رحمت لازم کرلی ہے،17 ۔ یقیناً تمہیں اکٹھا کرے گا قیامت کے دن، اس کے باب میں کوئی شک نہیں جن لوگوں نے اپنے کو گھاٹے میں کر رکھا ہے وہ ایمان نہیں لانے کے،18 ۔

16 ۔ (کہ اس جواب سے ان مشرکوں کو بھی مجال انکار نہیں، یہ تو جو کچھ گھبرا رہے ہیں۔ وہ اس اقرار توحید کے مضمرات اور تفریعات سے) (آیت) ” مافی السموت والارض “۔ یعنی ساری فضائے کائنات کے اندر۔ ای لمن الکائنات جمیعا (روح) 17 ۔ (سو مشرکوں اور منکروں کو اب بھی موقع ہے کہ تائب ہو کر اس کے دامن رحمت کی پناہ میں آجائیں) الرحمۃ لمن ترک التکذیب بالرسل وتاب واناب (کبیر) خدائے اسلام کی صفت ذاتی تو یہی رحیمیت ورحمانیت ہے۔ باقی قہر وغضب جو کچھ ہے، اس کا ظہور تو محض عادی مجرموں کی جرم شعاری کی بنا پر ہوگا۔ کیسے ظالم وناخدا ترس ہیں وہ مسیحی مشزی جنہوں نے قرآن کے خدا کو مہیب اور ڈراؤنا بنا کر پیش کیا ہے۔ نفسہ۔ نفس سے یہاں مقصود نفس وجود ہے۔ اور وعدہ کی تاکید اور بجائے وسائط کے براہ راست واصالۃ اپنی ہی طرف توجہ دلانا۔ وذکر النفس ھنا عبارۃ عن وجود وتاکید وعدہ وارتفاع الوسائط دونہ (قرطبی) مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ آیت اپنے اطلاق سے اس پر دال ہے کہ حق تعالیٰ کی رحمت سب کو عام اور شامل ہے۔ چناچہ کوئی غضب ایسا نہیں جس میں کچھ رحمت شامل نہ ہو، اور رحمتیں بہت سی ایسی ہیں جن میں ذرا غضب نہیں۔ 18 ۔ یہ پیش خبری ان کے حق میں ہے جنہوں نے اپنی صلاحیت ایمان تک کو ضائع کردیا ہے۔ (آیت) ” الذین خسروا انفسھم “۔ یعنی وہ لوگ جنہوں نے قبول حق سے قصدا انکار کرکے اپنی صلاحیتوں کو اپنے ہاتھوں سوخت کردیا ہے۔ بتضییع راس مالھم وھو الفطرۃ الاصلیۃ والعقل السلیم (بیضاوی) الی یہاں فی کے معنی میں ہے۔ قیل الی بمعنی فی (قرطبی۔ کبیر) (آیت) ” لیجمعنکم الی یوم القیمۃ “۔ یعنی جمع تو کرے گا قیامت کے دن اور زندگی بھر اپنی اس رحمت کے اقتضاء سے تمہیں مہلت دے رکھی۔ ل قسم کا ہے اور ن تاکید کا۔ (آیت) ” لاریب فیہ “۔ ضمیر یوم کی طرف بھی ہوسکتی ہے۔ اور اس یوم میں جمع کیے جانے کی طرف بھی۔ فی الیوم اوالجمع (بیضاوی) ای جمعا لاریب فیہ (روح) (آیت) ” فھم لایؤمنون “۔ ف، نے اسے صاف کردیا کہ ان کا یہ عدم ایمان نتیجہ ہوگا خود ان کی ارادی غفلت واعراض عن الحق کا۔ والفاء للدلالۃ علی ان عدم ایمانھم مسبب عن خسرانھم فان ابطال العقل باتباع الحواس والوھم والانھماک فی التقلید واغفال النظر ادی بھم الی الاصرار علی الکفر والامتناع من الایمان (بیضاوی)
Ayah 6:13

وَ لَهٗ مَا سَكَنَ فِی الَّیْلِ وَ النَّهَارِ١ؕ وَ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 6:13 in the Quran reader

اور اسی کی ملک ہے جو کوئی بھی رات اور دن میں رہتا ہے اور وہ بڑا سننے والا ہے، بڑا جاننے والا ہے،19 ۔

19 ۔ صفت السمیع کا تعلق انسان کے ظاہر اوراقوال سے ہے۔ صفت العلیم کا تعلق انسان کے باطن اور احوال قلب سے ہے۔ (آیت) ” ما سکن فی الیل والنھار “۔ ابھی اوپر (آیت) ” ما فی السموت والارض “۔ میں سارے موجودات کائنات کا ذکر وجود مکانی کے اعتبار سے آچکا ہے۔ اب ذکر وجود زمانی کے اعتبار سے ہے۔ موجودات کے لیے ظرف دوہی ہیں۔ ظرف مکان وظرف زمان۔ ظرفیت مکانی کا ذکر ابھی آچکا تھا۔ ظرفیت زمانی کا ذکر اب آگیا۔ لیس المراد من ھذا السکون ماھو ضد الحرکۃ بل المراد السکون بمعنی الحلول کما یقال فلان یسکن بلد کذا اذا کان محلہ فیہ (کبیر) یہ سکون حرکت کی ضد نہیں، بلکہ حرکت کو شامل ہے۔ اور محض استقرار کے معنی میں ہے۔ معناہ ھذاواستقر والمراد ما سکن وما تحرک فلیس المراد بالسکون ضد الحرکۃ بل المراد الخلق (قرطبی) اور اس طرح ظرفیت کے لحاظ سے احاطہ کامل ہوگیا، ذکر فی الایۃ الاولی السموت والارض اذلا مکان سواھما وفی ھذہ الایۃ ذکر اللیل والنھار اذلازمان سواھما فاخبر سبحانہ وانہ مالک للمکان والمکانیات ومالک للزمان والزمانیات وھذا بیان فی غایۃ الجلالۃ (کبیر، عن ابی مسلم)
Ayah 6:14

قُلْ اَغَیْرَ اللّٰهِ اَتَّخِذُ وَلِیًّا فَاطِرِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ هُوَ یُطْعِمُ وَ لَا یُطْعَمُ١ؕ قُلْ اِنِّیْۤ اُمِرْتُ اَنْ اَكُوْنَ اَوَّلَ مَنْ اَسْلَمَ وَ لَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُشْرِكِیْنَ Open ayah 6:14 in the Quran reader

آپ کہیے کہ کیا میں اللہ کے سوا جو آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا ہے اور وہ (سب) کو کھلاتا ہے (خود) اس کو کھلایا نہیں جاتا، کسی (اور) کو کار ساز قرار دے لوں ؟ ،20 ۔ آپ کہہ دیجیے کہ مجھے تو یہ حکم ملا ہے کہ میں سب سے پہلے اسلام قبول کروں اور (یہ کہ) تم کہیں مشرکوں میں نہ ہوجانا،21 ۔

20 ۔ (جیسا کہ بدبخت مشرکوں نے قرار دے لیا ہے) (آیت) ” فاطر السموت والارض “۔ آسمان و زمین اور ساری کائنات کو محض اپنے ارادہ سے بغیر روح، مادہ، ہیولی کے سہارے کے نیست سے ہست میں لانے والا، فاطر کا لفظ اس ساری مشرک ونیم مشرک قوموں کی تردید کررہا ہے، جو اللہ کو محض ایک صانع کی حیثیت دیتے ہیں۔ فاطر کے معنی مبدع کے ہیں اور فعل فطر ابتداء کرنے کے لئے آتا ہے، فطرای ابدع وفطرنا ای ابدعنا واوجدنا (راغب) وعن ابن عباس ؓ قال ما عرفت فاطر السموت حتی اتانی اعرابیان یختصمان فی بئر فقال احدھما انا فطرتھا ای ابتدا تھا (کبیر) ای خالقھا ومبدعھا ومبتدءھا (معالم) (آیت) ” السموت والارض “۔ آسمان و زمین کا خصوصیت سے نام لینے کی ایک وجہ تو ظاہر ہی ہے کہ بادی النظر میں کائنات کی عظیم ترین مخلوقات یہی ہیں، دوسری بڑی وجہ یہ ہے کہ دنیا کی مشرک قوموں نے انہیں دیوتا ضرور تسلیم کیا ہے۔ یہاں گویا مشرکوں کو یہ بتایا گیا ہے کہ تم جنہیں معبود مان رہے ہو، اللہ ان کا بھی خالق، انہیں نیست سے ہست میں لانے والا ہے۔ (ملاحظۃ ہو حاشیہ تفسیر انگریزی) (آیت) ” ھویطعم “۔ ساری مخلوق کے لیے، ساری کائنات حیات کے لیے رزق کا سامان وہی اللہ بہم پہنچاتا ہے۔ (آیت) ” ولا یطعم “۔ یہ بھی ضرب ہے عقیدہ شرک پر مشرک قوموں کے عقیدہ میں بڑے بڑے دیوتا بھی کھانے پینے کے محتاج ہیں۔ ان کے نام پر جو چڑھاوے چڑھائے جاتے ہیں۔ انہیں کھاپی کر وہ زندگی بسر کرتے ہیں، اور مسیحیوں نے تو اس سے بھی بڑھ کر کمال ہی کردیا کہ نعوذ باللہ اپنے معبود ” ابن اللہ “ کا گوشت اور خون خود کھانا پینا شروع کردیا، چناچہ مقدس عشائے ربانی Eucharist کے تہوار کے موقع پر ہر سال ایک بار یا تین بار اس رسم کو تازہ کرتے رہے ہیں۔ (ملاحظہ ہو حاشیہ تفسیر انگریزی) 21 ۔ ایمان اور مقتضیات ایمان سے پیغمبر مستثنی نہیں ہوتا۔ سب سے پہلے تو اسی کو فرمان بردار بننے کا حکم ملتا ہے۔ اور پیغمبر تو اپنی امت کے لئے نمونہ اور پیشوا دونوں کا کام دیتا ہے۔ اسے تو اہل ایمان کی صف میں سب سے آگے ہونا ہی چاہیے وھو امام امتہ ومقتدھم وینبغی لکل امر ان یکون ھو العامل اولا بما امر بہ (روح) (آیت) ” اول من اسلم “۔ یہ اولیت اپنے ملک وقوم اور اپنے زمانہ کے اعتبار سے ہوتی ہے۔ اول من اخلص ای من قومی و امتی عن الحسن وغیرہ (قرطبی) لان النبی ﷺ سابق امتہ فی الدین (بیضاوی) مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ تکالیف شرعیہ کسی سے بھی ساقط نہیں ہوتیں، یہاں تک کہ انبیاء سے۔
Ayah 6:15

قُلْ اِنِّیْۤ اَخَافُ اِنْ عَصَیْتُ رَبِّیْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ Open ayah 6:15 in the Quran reader

کہہ دیجیے کہ اگر میں اپنے پروردگار کی نافرمانی کروں تو میں ایک بڑے دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں،22 ۔

22 ۔ یعنی مجھ جیسا نبی معصوم بھی قانون الہی کی ہمہ گیری سے باہر نہیں۔ (آیت) ” عذاب یوم عظیم “۔ روز قیامت کو روز عظیم ان واقعات عظیم کے لحاظ سے کہا ہے کہ جو اس روز واقع ہو کر رہیں گے۔ ای عذاب یوم القیامۃ وعظمہ بعظم ما یقع فیہ (روح)
Ayah 6:16

مَنْ یُّصْرَفْ عَنْهُ یَوْمَئِذٍ فَقَدْ رَحِمَهٗ١ؕ وَ ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْمُبِیْنُ Open ayah 6:16 in the Quran reader

جس کسی پر سے وہ (عذاب) اس روز ہٹا لیا جائے گا اس پر اللہ نے بڑا رحم کیا اور یہی کھلی کامیابی ہے،23 ۔

23 ۔ (آیت) ” یعنی یہی نجات کامل یا دفع عذاب، یا رحم الہی۔ اے النجاۃ البینۃ (قرطبی) ای الصرف بعد الرحمۃ (بیضاوی)
Ayah 6:17

وَ اِنْ یَّمْسَسْكَ اللّٰهُ بِضُرٍّ فَلَا كَاشِفَ لَهٗۤ اِلَّا هُوَ١ؕ وَ اِنْ یَّمْسَسْكَ بِخَیْرٍ فَهُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 6:17 in the Quran reader

اور اگر اللہ تجھے کوئی دکھ پہنچائے تو اس کا دور کرنے والا (بھی کوئی) نہیں بجز (خود) اسی کو، اور اگر وہ تجھے کوئی بھلائی پہنچائے تو وہ ہر شے پر پوری قدرت رکھنے والا،24 ۔

24 ۔ آفرینش کا مسئلہ تو طے ہوچکا کہ اس میں اللہ تعالیٰ کا کوئی شریک وسہیم نہیں۔ یہاں بیان اس کا ہورہا ہے کہ علاوہ آفرنیش کے اور سارے تصرفات واختیار ات بھی ہر وقت نفع وضرر، تکلیف و راحت کے تمام اللہ ہی کے ہاتھ میں ہیں۔ کوئی اس کے ارادہ میں حائل نہیں ہوسکتا۔ اور نہ کسی کو کوئی دخل و تصرف، واقعات کائنات و حوادث دہر میں ہے۔۔ بڑے چھوٹے دیوتاؤں، خدائی کے سارے شریکوں کی نفی اس میں آگئی ہے۔ (آیت) ” ان یمسسک اللہ بضر “۔ یہ امساس ضرر اپنے مطلق معنی میں ہے دنیا میں ہو خواہ آخرت میں بہ طور جزاء ہو یا تکوینی مصلحت سے۔ یمسسک۔ کاشف۔ امساس اور کشف دونوں یہاں حق تعالیٰ کے سلسلہ میں اپنے مجازی معنی میں ہیں۔ ورنہ اصلا دونوں کا تعلق مادیات وجسمانیات سے ہے۔ المس والکشف من صفات الاجسام وھو ھنا مجاز وتوسع (قرطبی) یہیں سے ہے کہ (صوفیہ) محققین نے سب سے زیادہ زور توحید پر، اور ہر طرف سے انقطاع تعلق کرکے اللہ ہی پر اعتماد کرنے پر دیا ہے۔ شیخ اعظم حضرت سید عبدالقادر جیلانی (رح) کی فتوح الغیب میں ہے۔ من ارادالسلامۃ فی الدنیا والاخرۃ فعلیہ بالصبر والرضاء وترک الشکوی الی خلقہ وانزال حوائجہ بربہ وانتظار الفرج منہ سبحانہ وتعالیٰ والانقطاع الیہ۔ (جس کس کو دنیا وآخرت میں عافیت مقصود ہو۔ اسے چاہیے کہ صبر و تسلیم کی عادت ڈال لے اور خلق خدا سے شکوہ وشکایت کو ترک کردے اور اپنی حاجتوں کو اپنے رب ہی کے حوالہ کردے اور کشایش کی امید صرف اسی سے رکھے اور سب سے ٹوٹ کر اسی کا ہو رہے) اور مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ آیت میں نفی ہے غیر اللہ سے نصرت مستقل کی۔ یہاں تک کہ مقبولین سے بھی۔
Ayah 6:18

وَ هُوَ الْقَاهِرُ فَوْقَ عِبَادِهٖ١ؕ وَ هُوَ الْحَكِیْمُ الْخَبِیْرُ Open ayah 6:18 in the Quran reader

وہ غالب ہے اپنے بندوں کے اوپر اور وہ بڑا صاحب حکمت ہے، بڑا باخبر ہے،25 ۔

25 ۔ ربوبیت کے لیے جن اوصاف کی ضرورت ہے۔ وہ سب صرف اسی کی ذات میں جمع ہیں۔ یہ کیسی شدید حماقت ہے کہ ایسی ذات کامل الصفات کے ساتھ کسی کی شرکت روا رکھی جائے، وھو القاھر یفید الحصر ومعناہ انہ لا موصوف بکمال القدرۃ و کمال العلم الاالحق سبحانہ وتعالیٰ (کبیر) (آیت) ” ھو القاھر فوق عبادہ “۔ قدرت وقوت کے لحاظ سے وہی ساری مخلوقات پر غالب ہے۔ قھر کے معنی غلبہ حاکمانہ کے ہیں۔ القھر الغلبۃ والقاھر الغالب وفی القھر معنی زائد لیس فی القدرۃ وھو منع غیرہ عن بلوغ المراد (قرطبی) القاھر والغلبۃ علیھم ای ھم تحت تسخیرہ لافوقیۃ مکان (قرطبی) وجب حمل تلک الفوقیۃ علی فوقیۃ القدرۃ لاعلی فوقیۃ الجھۃ (کبیر) (آیت) ” الحکیم “۔ قدرت کے علاوہ حکمت میں بھی وہی کامل ہے۔ (آیت) ” الخبیر “۔ قدرت و حکمت کے علاوہ علم واطلاع میں بھی کامل وہی ہے۔
Ayah 6:19

قُلْ اَیُّ شَیْءٍ اَكْبَرُ شَهَادَةً١ؕ قُلِ اللّٰهُ١ۙ۫ شَهِیْدٌۢ بَیْنِیْ وَ بَیْنَكُمْ١۫ وَ اُوْحِیَ اِلَیَّ هٰذَا الْقُرْاٰنُ لِاُنْذِرَكُمْ بِهٖ وَ مَنْۢ بَلَغَ١ؕ اَئِنَّكُمْ لَتَشْهَدُوْنَ اَنَّ مَعَ اللّٰهِ اٰلِهَةً اُخْرٰى١ؕ قُلْ لَّاۤ اَشْهَدُ١ۚ قُلْ اِنَّمَا هُوَ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ وَّ اِنَّنِیْ بَرِیْٓءٌ مِّمَّا تُشْرِكُوْنَۘ Open ayah 6:19 in the Quran reader

آپ کہیے شہادت سب سے بڑھ کر کس چیز کی ہے ؟ کہہ دیجیے کہ اللہ کی کہ وہی میرے اور تمہارے درمیان گواہ ہے،26 ۔ اور میرے پاس یہ قرآن بہ طور وحی بھیجا گیا ہے کہ میں اس کے ذریعہ سے تمہیں ڈراؤں اور اس کو جسے یہ پہنچے،27 ۔ تو کیا تم یہ گواہی دیتے ہو کہ اللہ کے ساتھ اور معبود بھی شریک ہیں،28 ۔ آپ کہہ دیجیے کہ میں تو گواہی نہیں دیتا، آپ کہہ دیجیے کہ وہ تو بس ایک ہی معبود ہے اور میں اس سے بری ہوں جو شرک تم کرتے ہو،29 ۔

26 ۔ (میری رسالت اور قرآن کے برحق ہونے کے باب میں) اللہ کہ شہادت زبان حال سے خود اس قرآن کا معجز وبے نظیر ہونا ہے اپنی تعلیمات کے لحاظ سے۔ شیء کا یہاں لفظی ترجمہ ” چیز “۔ سے کرنا مناسب نہیں۔ شیء یہاں ذات حق کے لیے ہے۔ لفظ شیء ھنا واقع موقع اسم اللہ تعالیٰ المعنی اللہ اکبر شھادۃ ای انفرادہ بالربوبیۃ و قیام البراھین علی توحیدہ اکبر شھادۃ و اعظم (قرطبی) متکلمین کے ہاں یہ ایک معرکہ کی بحث ہے کہ شیء کا اطلاق ذات باری تعالیٰ پر جائز ہے یا نہیں، جمہور کا فیصلہ ہے کہ جائز ہے اور اس فیصلہ کی سند یہی آیت ہے۔ احتج الجمھور علی تسمیۃ اللہ تعالیٰ بالشیء بھذہ الایۃ (کبیر) وفی المواقف وشرحہ والشیء عند الاشاعرۃ یطلق علی الموجود فقط فکل شیء عندھم موجود شیء (روح) (آیت) ” ای شیء اکبر شھادۃ “۔ یعنی کسی کی شہادت سب سے زیادہ معتبر باوزن وباوقعت ہے ؟ 27 ۔ (اس کے احکام وہدایات کی مخالفت سے) (آیت) ” من بدغ “۔ کی تقدیرکلام یوں سمجھی گئی۔ من بلغہ القران۔ حذف ضمیر طوالت سے بچنے کے لیے ہے۔ ای من بلغہ القرآن فحذف الھاء لطول الکلام (قر طبی) (آیت) ” ومن بدغ “۔ اس ذرا سے ٹکڑے سے دو باتیں اور نکل آئیں، ایک یہ کہ قرآن کا دائرہ صرف اس کے براہ راست اور اولین مخاطبین تک محدود نہیں رہے گا۔ ای کل من بلغہ القران من العرب والعجم وقیل من الثقلین (کبیر) من بلغہ القران من العجم وغیرھم من الامم الی یوم القیامۃ (معالم) دوسرے یہ کہ انذار کا تعلق بھی انہیں لوگوں سے ہے جن تک قرآن پہنچ چکا ہے۔ ھونذیر لکل من بلغہ (ابن کثیر) من یبلغہ القرآن غیر مؤاخذ بترک الاحکام الشرعیۃ (روح) 28 ۔ (دیویوں، دیوتاؤں، اوتاروں خدا کے بیٹوں اور بیٹیوں کے نام سے) سوال کے مخاطب مشرکوں اور منکروں کے مختلف گروہ ہیں۔ 29 ۔ اثبات توحید کے ساتھ ہر پہلو سے نفی شرک بھی قبول اسلام کے لیے ہے۔ چناچہ بعض فقہاء اس کے قائل ہوئے ہیں کہ نومسلم کو اسلام لاتے وقت علاوہ اقرار شہادتین کے شرک سے تبری بھی کرنا چاہیے۔ قال العلماء المستحب لمن اسلم ان یاتی بالشھادتین ویتبرا من کل دین سوی دین الاسلام ونص الشافعی (رح) علی استحباب ضم التبری الی الشھادۃ (جصاص) (آیت) ” قل لا اشھد “۔ ایسے کھلے ہوئے امر باطل کی گواہی میں کیسے دے سکتا ہوں۔ (آیت) ” انما ھو الہ واحد “۔ وہ خدائے واحد اپنی ذات وصفات ہر لحاظ سے واحد ہی ہے۔ انما کلمہ حصر کا ہے۔ کلمۃ انما تفید الحصر ولفظ واحد صریح فی التوحید ونفی الشرکاء (کبیر)
Ayah 6:20

اَلَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ یَعْرِفُوْنَهٗ كَمَا یَعْرِفُوْنَ اَبْنَآءَهُمْ١ۘ اَلَّذِیْنَ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ فَهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ۠ Open ayah 6:20 in the Quran reader

جن لوگوں کو ہم نے کتاب دے رکھی ہے وہ ان (صاحب) کو پہچانتے ہیں جس طرح اپنے لڑکوں کو پہچانتے ہیں،30 ۔ جن لوگوں نے اپنے کو گھاٹے میں کر رکھا ہے وہ ایمان نہیں لانے کے،31 ۔

30 ۔ یعنی اپنے ابنائے قوم کو، فرزندان اسرائیل کو پہچانتے ہیں، مطلب یہ ہے کہ رسول اکرم ﷺ اور نبی آخرالزمان کی بھی شناخت کی ایسی کھلی ہوئی علامتیں ان کی کتابوں میں لکھی ہوئی ہیں جیسی خود انہی کے قوم ونسل کے انبیاء کی۔ (آیت) ” الکتب “۔ کتاب آسمانی۔ خصوصا توریت۔ والمراد من الکتاب جنسہ الصادق علی التورۃ والانجیل (روح) (آیت) ” یعرفونہ “۔ ضمیر رسول اللہ ﷺ کی طرف ہے۔ ای یعرفون النبی ﷺ عن الحسن وقتادہ وھو قول الزجاج (قرطبی) انہم یعرفونہ بالنبوۃ والرسالۃ (کبیر) یہ بھی جائز ہے کہ ضمیر الکتاب کی طرف راجع کی جائے۔ وقیل الضمیر للکتاب واختارہ ابو البقاء (روح) قیل یعود الی الکتاب (قرطبی) دونوں صورتوں کا ایک ہی ہے۔ ذکر آیت میں یہود کامن حیث القوم اور مشترکا ومجموعا ہورہا ہے نہ کہ افراد کا۔ اسی قسم کا مضمون سورة بقرہ آیت 146 میں گزر چکا ہے۔ اس کے حاشیہ ملاحظہ کرلیے جائیں۔ 31 ۔ (اسی لیے انہوں نے اپنی فکرونظر کو معطل کر رکھا ہے) آیت کا یہ ٹکڑا ابھی اوپر گزر چکا ہے۔ ملاحظہ ہو حاشیہ نمبر 18 ۔
Ayah 6:21

وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اَوْ كَذَّبَ بِاٰیٰتِهٖ١ؕ اِنَّهٗ لَا یُفْلِحُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 6:21 in the Quran reader

اور اس سے بڑھ کر ظالم کون ہے جو جھوٹ بہتان اللہ پر لگائے اور اس کی نشانیوں کو جھٹلائے بیشک وہ ظالموں کو فلاح نہیں دیتا،32 ۔

32 ۔ یہ فلاح کی نفی آخرت میں تو مادی ومعنوی ہر حیثیت سے ہوکر رہے گی، باقی دنیا میں بھی اہل کفر، مومن کی سی حقیقی راحت قلب و سکون ضمیر سے محروم ہی رہتے ہیں۔ (آیت) ” افتری علی اللہ کذبا “۔ اللہ پر افتراء کذب یہ کہ جن چیزوں سے نفی و انکار واجب ہے، ان کا اقرار و اثبات کرنے لگے۔ مثلا دیویوں دیوتاؤں کا، خدا کے بیٹوں بیٹیوں کا، روح یا مادہ کی قدامت، آواگون کا چکر، اوتاروں کا وجود۔ (آیت) ” کذب بایتہ “۔ تکذیب آیات الہی یہ کہ جن باتوں کا اقرار و اثبات واجب ہے، ان سے انکار کرنے لگے ، (آیت) ” مثلا توحید، رسالت، یوم جزاء حقانیت قرآن وغیرہ۔
Ayah 6:22

وَ یَوْمَ نَحْشُرُهُمْ جَمِیْعًا ثُمَّ نَقُوْلُ لِلَّذِیْنَ اَشْرَكُوْۤا اَیْنَ شُرَكَآؤُكُمُ الَّذِیْنَ كُنْتُمْ تَزْعُمُوْنَ Open ayah 6:22 in the Quran reader

(وہ دن یاد رکھو) جس دن ہم ان سب کو اکٹھے کریں گے پھر جو لوگ شرک کرتے رہے ہیں، ان سے کہیں گے کہ تمہارے وہ شریک کہاں ہیں جس کے لئے تم دعوی کیا کرتے تھے،33 ۔

33 ۔ (کہ یہ خدائی میں شریک ہیں) سوال ظاہر ہے کہ حصول جواب کی غرض سے نہیں۔ بلکہ تفضیح کے لیے ہوگا۔ المقصود منہ التقریع والتبکیت لا السؤال (کبیر) (آیت) ” یوم نحشرھم “۔ تقدیر کلام یوں ہے۔ واذکریوم نحشرھم۔ علی معنی واذکریوم نحشرھم (قرطبی)
Ayah 6:23

ثُمَّ لَمْ تَكُنْ فِتْنَتُهُمْ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوْا وَ اللّٰهِ رَبِّنَا مَا كُنَّا مُشْرِكِیْنَ Open ayah 6:23 in the Quran reader

پھر ان کا انجام اس کے سوا اور کچھ نہ ہوگا کہ وہ یوں کہیں گے کہ قسم اللہ اپنے پروردگار کی کہ ہم مشرک نہ تھے،34 ۔

34 ۔ یعنی وہاں کی ہولناکیوں کا مشاہدہ کرکے بدحواسی میں یوں بھی پکار اٹھیں گے (آیت) ” لم تکن فتنتھم “۔ یعنی ان کے کفر وشرک کا وبال یہی ہونا ہے۔ فتنۃ کے معنی اس سیاق میں انجام کفر کے کیے گئے ہیں۔ والمعنی ثم لم تکن عاقبۃ کفرھم (کشاف) قال الحسن ومعنی فتنتھم عاقبۃ فتنتھم ای کفرھم (قرطبی) دوسرے معنی رد جواب کے بھی کیے گئے ہیں۔ ای عذرھم وجوابھم (ابن عباس ؓ ویجوزان یراد ثم لم یکن جو ابھم (کشاف) الفتنۃ الاختبار ای لم یکن جو ابھم حین اختبروا بھذا السؤال (قرطبی) قال قتادۃ معناہ معذرتھم (قرطبی)
Ayah 6:24

اُنْظُرْ كَیْفَ كَذَبُوْا عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ وَ ضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ Open ayah 6:24 in the Quran reader

دیکھ تو یہ کیسا اپنے متعلق جھوٹ بول گئے اور ان سے وہ (سب) چیزیں ضائع ہوگئیں جنہیں یہ گڑھا کرتے تھے،35 ۔

35 ۔ یعنی جو جو باطل امیدیں اور آرزوئیں وہ پالے ہوئے تھے وہ عین وقت پر انہیں کیسا جواب دے گئیں اور ان کے معبود اور شافعین کچھ بھی ان کے کام نہ آئے !
Ayah 6:25

وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّسْتَمِعُ اِلَیْكَ١ۚ وَ جَعَلْنَا عَلٰى قُلُوْبِهِمْ اَكِنَّةً اَنْ یَّفْقَهُوْهُ وَ فِیْۤ اٰذَانِهِمْ وَقْرًا١ؕ وَ اِنْ یَّرَوْا كُلَّ اٰیَةٍ لَّا یُؤْمِنُوْا بِهَا١ؕ حَتّٰۤى اِذَا جَآءُوْكَ یُجَادِلُوْنَكَ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ هٰذَاۤ اِلَّاۤ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 6:25 in the Quran reader

اور ان میں ایسے بھی ہیں جو آپ کی طرف کان لگاتے ہیں،36 ۔ اور ہم نے ان کے دلوں پر پردہ ڈال دیئے ہیں کہ وہ اس کو نہ سمجھیں اور ان کے کانوں میں بوجھ ہے۔37 ۔ اور اگر وہ ساری (کی ساری) نشانیاں دیکھ لیں (جب بھی) ان پر ایمان نہ لائیں،38 ۔ یہاں تک کہ یہ جب آپ کے پاس آتے ہیں تو آپ سے جھگڑتے ہیں جنہوں نے کفراختیار کر رکھا ہے وہ کہتے ہیں کہ یہ تو نری اگلوں کی خرافات ہیں،39 ۔

36 ۔ (لیکن یہ ظاہری استماع چونکہ قبول حق کے ارادہ سے بالکل خالی ہوتا ہے۔ اس لیے نافع نہیں ہوتا اور یہ محروم کے محروم ہی رہ جاتے ہیں۔ ) (آیت) ” من یستمع “۔ میں، من، لفظا واحد ہے۔ لیکن معنا جمع کا کام دیتا ہے۔ 37 ۔ یہ سب نتیجہ تکوینی طور پر ان کے ارادی انکار حق وشدت عناد پر مرتب ہوجاتے ہیں۔ ای فعلنا ذلک بھم مجازاۃ علی کفرھم (قرطبی) (آیت) ” ان یفقھوہ “۔ معنی نفی کے ہیں۔ یعنی ” جس سے وہ نہ سمجھ سکیں “۔ المعنی کراھیۃ ان یفھموہ اولئلا یفھموہ (قرطبی) 38 ۔ یہ بیان ان کی شدت عناد وتعصب کا ہورہا ہے کہ کوئی دلیل، کوئی ثبوت انہیں قبول حق کی جانب نہ لاسکے گا قال ابن عباس ؓ وان یروا کل دلیل وحجۃ لایومنوابھا (کبیر) 39 ۔ قرآن مجید کی نسبت کچھ اسی قسم کی رائے جاہلیت جدید یا جاہلیت فرنگ کے پجاریوں کی بھی ہے۔ (آیت) ” اساطیر الاولین “۔ اسطورہ یا اسطارہ کے معنی پرانی دہرائی داستان یافرسودہ لغو کہانی کے ہیں۔ ای ماسطرہ الاولون فی الکتاب وقال الجوھری وغیرہ الاساطیر الا باطیل والترھات (قرطبی) (آیت) ” حتی “۔ سے مقصود کفر وعناد میں ان کی انتہائی شدت کا اظہار ہے کہ ان کی تکذیب آیات اس حد تک پہنچ گئی ہے کہ آپ ﷺ تک کے پاس مجادلہ کے لیے آتے ہیں۔ والمعنی انہ بلغ تکذیبھم الایات الی انھم یجادلونک ویناکرون (کشاف) (آیت) ” یجادلونک “۔ ان کا مجادلہ یہی ہے کہ قرآن مجید جیسی روشن حقیقت کو خرافات واکاذیب کے درجہ میں رکھتے ہیں اور یہ ان کی تکذیب کیا انتہاء ہے۔ ای یجعلون کلام اللہ واصدق الحدیث خرافات واکاذیب وھی الغایۃ فی التکذیب (کشاف)
Ayah 6:26

وَ هُمْ یَنْهَوْنَ عَنْهُ وَ یَنْئَوْنَ عَنْهُ١ۚ وَ اِنْ یُّهْلِكُوْنَ اِلَّاۤ اَنْفُسَهُمْ وَ مَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 6:26 in the Quran reader

اور یہ اس سے (دوسروں کو) روکتے ہیں اور (خود بھی) اس سے الگ رہتے ہیں، اور یہ (لوگ کسی اور کو نہیں) اپنے ہی کو تباہ کررہے ہیں اور (اس کی بھی) خبر نہیں رکھتے،40 ۔

40 ۔ کیا ٹھکانا ہے ان کی حماقت وغباوت کا ! (آیت) ” وما یشعرون “۔ اہل علم نے لکھا ہے کہ نفی شعور کا درجہ نفی علم سے بھی ہوا ہے۔ گویا ذرا سا بھی احساس نہیں رکھتے۔ حالانکہ احساس تو جانور تک رکھتے ہیں۔ ونفی الشعور عنھم باھلاکھم انفسھم ابلغ فی نفی العلم اذا البھائم تشعرو تحس (بحر) ونفی الشعور ابلغ من نفی العلم کانہ قیل وما یدرکون ذلک اصلا (روح) (آیت) ” وھم ینھون عنہ وینؤن عنہ “۔ یعنی قرآن مجید سے دوسروں کو روکتے ہیں اور خود بھی اس سے رکے رہتے ہیں۔ (آیت) ” عنہ “ کی ضمیر دونوں موقعوں پر قرآن کی جانب ہوگی۔ والضمیر علی قول قتادہ للقران (قرطبی) ھؤلاء المشرکون المکذبون بایات اللہ ینھون الناس عن اتباع محمد ﷺ والقبول منہ ویتباعدون عنہ (ابن جریر) الضمیرالمرفوع للمشرکین والمجرورللقران (روح) ایک تفسیر یہ بھی کی گئی ہے کہ ” دوسروں کے ضرر کو رسول اللہ سے روکتے ہیں۔ قیل خاص یابی طالب ینھی الکفار عن اذایۃ محمد (علیہ السلام) ویتباعد من الایمان بہ (قرطبی) عن ابن عباس ؓ قال عطاء اومقاتل نزلت فی ابی طالب کان ینھی قریشا عن ایذاء النبی ﷺ ثم یتباعد عنہ ولا یتبعہ علی دینہ (کبیر) مرشد تھانوی (رح) نے اس تفسیر کی بنا پر فرمایا کہ اہل اللہ کے ساتھ حب طبعی اور نصرت قومی بدون حب عقلی کے نافع نہیں۔
Ayah 6:27

وَ لَوْ تَرٰۤى اِذْ وُقِفُوْا عَلَى النَّارِ فَقَالُوْا یٰلَیْتَنَا نُرَدُّ وَ لَا نُكَذِّبَ بِاٰیٰتِ رَبِّنَا وَ نَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 6:27 in the Quran reader

اور اگر آپ ان کو اس وقت دیکھیں جب یہ دوزخ پر کھڑے کئے جائیں گے اور کہیں گے کہ کاش ہم پھر واپس بھیج دئیے جائیں تو ہم اپنے پروردگار کی نشانیوں کو نہ جھٹلائیں اور ہم ایمان والوں میں سے جائیں،41 ۔

41 ۔ یہ سب حسرتیں جہنم کے ہول وہیبت کے بعد ہی ان کی زبان پر آنے لگیں لگی۔ (آیت) ” ولوتری “۔ یعنی اگر آپ دیکھیں تو آپ ﷺ کو بڑا ہولناک منظر نظر آئے، لوکا جواب عربی اسلوب میں اظہار عظمت واہمیت کے لیے یا علم مخاطب کی بنا پر اکثر حذف کردیا جاتا ہے۔ قد حذف تفخیما الامر وتعظیما للشان وجاز حذفہ لعلم المخاطب بہ واشباھہ کثیرۃ فی القران والشعر (کبیر) (آیت) ” علی النار “۔ علی، کے معنی، ب، کے بھی لیے گئے ہیں۔ اور فی کے بھی یعنی دوزخ کے قریب بھی اور دوزخ کے اندر کے بھی۔ قیل علی بمعنی الباء ای اتقوا بقربھاوھم یعاینونھا (قرطبی) علی بمنعی فی ای ای اتقوا فی النار (قرطبی) یعنی فی النار فوضعت علی موضع فی (ابن جریر)
Ayah 6:28

بَلْ بَدَا لَهُمْ مَّا كَانُوْا یُخْفُوْنَ مِنْ قَبْلُ١ؕ وَ لَوْ رُدُّوْا لَعَادُوْا لِمَا نُهُوْا عَنْهُ وَ اِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ Open ayah 6:28 in the Quran reader

ہاں اب ان پر وہ چیز ظاہر ہوکررہی جسے اس کے قبل چھپایا کرتے تھے،42 ۔ اور اگر یہ واپس بھیج دیئے جائیں جب بھی یہ پھر وہی کریں جس سے یہ روکے گئے تھے، اور یقیناً یہ (بالکل) جھوٹے ہیں،43 ۔

42 ۔ یعنی ان کے اعمال کی زشتی وکراہت جو دنیا میں ان پر چھپی رہتی ہے۔ اب علانیہ وبے نقاب نظر آنے لگے گی، من قبائحھم وفضائحھم فی صحفھم وبشھادۃ جوار حھم علیہم (کشاف) مبردلغوی سے منقول ہے کہ مضاف وبال یہاں محذوف ہے۔ قال المبرد بدالھم وبال عقائدھم واعمالھم وسوء عاقب تھا وذلک لان کفرھم ماکان بادیا ظاھرا لھم لان مضارکفرھم کانت خفیۃ (کبیر) 43 ۔ یعنی مشاہدۂ عذاب پر بھی ان کی توبہ صادق ومخصانہ نہیں محض جان بچانے کو ہے۔ (آیت) ” لکذبون “ میں ل تاکید کا ہے، ترجمہ میں اسی لئے ” بالکل “ بڑھا دیا ہے۔
Ayah 6:29

وَ قَالُوْۤا اِنْ هِیَ اِلَّا حَیَاتُنَا الدُّنْیَا وَ مَا نَحْنُ بِمَبْعُوْثِیْنَ Open ayah 6:29 in the Quran reader

اور یہ کہتے ہیں کہ زندگی تو بس ہماری اسی دنیا کی زندگی ہے اور ہم زندہ اٹھائے جانے والے نہیں،44 ۔

44 ۔ عرب میں جہاں شرک بہ کثرت پھیلا ہوا تھا، وہاں الحادبھی اس معنی میں شائع تھا کہ لوگ علی العموم جزاء وسزا، حشر ونشر کے قائل ہی نہ تھے۔ آج کل کے مادیین کی طرح اسی دنیا کو سب کچھ جانتے تھے۔ ملاحظہ ہو حاشیہ تفسیر انگریزیھی ضمیر حیاۃ کی طرف ہے۔ الضمیر للحیاۃ (بیضاوی)
Ayah 6:30

وَ لَوْ تَرٰۤى اِذْ وُقِفُوْا عَلٰى رَبِّهِمْ١ؕ قَالَ اَلَیْسَ هٰذَا بِالْحَقِّ١ؕ قَالُوْا بَلٰى وَ رَبِّنَا١ؕ قَالَ فَذُوْقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْفُرُوْنَ۠ Open ayah 6:30 in the Quran reader

اور اگر آپ اس وقت دیکھتے ہوں جب یہ اپنے پروردگار کے سامنے کھڑے کئے جائیں گے،45 ۔ اور وہ ان سے ارشاد کرے گا کیا یہ (قیامت) ،46 ۔ امر واقعی نہیں ؟ یہ کہیں گے بیشک ہے قسم ہے ہمیں اپنے پروردگار کی، وہ ارشاد کرے گا اچھا تو عذاب (کامزہ) چکھو اس کفر کے بدلہ میں جو تم کیا کرتے تھے،47 ۔

45 ۔ (تو آپ کو ایک بڑا عجب منظر نظر آئے) عربی اسلوب بیان میں ایسے موقع پر لو کا جواب محذوف کرنے سے اس کی عظمت واہمیت کا اظہار مقصود ہوتا ہے۔ و جواب لو محذوف لعظم شان الوقوف (قرطبی) (آیت) ” علی ربھم “۔ علی یہاں عند کے معنی میں لیا گیا ہے۔ اور رب سے مراد ملائکہ رب سے لی گئی ہے۔ حکم الہی بھی مراد لی گئی ہے۔ قیل علی بمعنی عند ای ملائکتہ وجزاۂ (قرطبی) بمعنی علی حکم اللہ وقضاۂ (ابن جریر) (آیت) ” وقفوا علی ربھم “۔ سے بعض اہل باطل نے حق تعالیٰ کی تجسیم پر استدلال کرنا چاہا ہے۔ 46 ۔ (یا اب بھی اس کی واقعیت سے انکار ہے جیسا کہ دنیا میں تھا ؟ ) 47 ۔ (آیت) ” بما کنتم تکفرون “۔ یہ عذاب کفر کے بدلہ میں ہوگا۔ ای بسبب کفرکم (کبیر)
Ayah 6:31

قَدْ خَسِرَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِلِقَآءِ اللّٰهِ١ؕ حَتّٰۤى اِذَا جَآءَتْهُمُ السَّاعَةُ بَغْتَةً قَالُوْا یٰحَسْرَتَنَا عَلٰى مَا فَرَّطْنَا فِیْهَا١ۙ وَ هُمْ یَحْمِلُوْنَ اَوْزَارَهُمْ عَلٰى ظُهُوْرِهِمْ١ؕ اَلَا سَآءَ مَا یَزِرُوْنَ Open ayah 6:31 in the Quran reader

یقیناً وہ لوگ گھاٹے میں آگئے جنہوں نے اللہ سے ملنے کو جھٹلایا، یہاں تک کہ جب وہ (مقرر) گھڑی ان پر یک بیک آپہنچے گی،48 ۔ تو بول اٹھیں گے، ہائے افسوس ہماری کوتاہی پر جو ہم اس کے بارے میں کرتے تھے،49 ۔ اس حال میں کہ وہ اپنے گناہ اپنی پشتوں پر لادے ہوں گے،50 ۔ دیکھو تو (کیا ہی) برا (بوجھ) ہے جس کو یہ لادے (لادے پھر رہے) ہوں گے

48 ۔ (آیت) ” سے مراد قیامت ہونا بالکل ظاہر ہے۔ سمیت القیامۃ ساعۃ لسرعۃ الحساب فیھا (قرطبی) المراد بالساعۃ القیامۃ (کبیر) لیکن موت بھی مقدمات قیامت میں سے ہے۔ بلکہ من وجہ اس میں شامل۔ اس لیے وہ بھی مراد ہوسکتی ہے۔ لما کان الموت وقوعا فی احوال الاخرۃ ومقدما تھا جعل من جنس الساعۃ وسمی باسمھا (کشاف) فسربعضھم ھنا بوقت الموت (روح) (آیت) ” بلقآء اللہ “۔ لقاء اللہ سے مراد ہے بعث بعد الموت اور جزاء اعمال۔ قیل بالبعث بعد الموت وبالجزاء (قرطبی) حتی کا تعلق تکذیب سے ہے۔ خسران سے نہیں۔ حتی غایۃ لکذبو الا لخسرلان خسرانھم لاغایۃ لہ (کشاف) 49 ۔ اس کے لیے ہم نے کوئی تیاری نہ کی۔ یا یہ کہ دنیوی زندگی میں ہم نے ادائے فرائض میں غفلت برتی، (آیت) ” فرطنا فیھا “۔ ضمیر قیامت یا (آیت) ” الساعۃ “ کی طرف ہے۔ (آیت) ” الحیوۃ الدنیا “۔ کی بابت بھی سمجھی جاسکتی ہے۔ ای فی الساعۃ ای فی التقدمۃ لھا عن الحسن (قرطبی) الضمیر للحیوۃ الدنیا (کشاف) (آیت) ” یحسرتنا “۔ ترکیب یہاں ندا منادی کی نہیں۔ بلکہ یہ اسلوب شدت تحسرکے اظہار کا ہے۔ وضع النداء علی الحسرۃ ولیست بمنادی فی الحقیقۃ ولکنہ یدل علی کثرۃ التحسر (قرطبی) والعرب تعبر عن تعظیم امثال ھذہ الامور بھذہ اللفظۃ (کبیر) 50 ۔ (آیت) ” یحملون اوزارھم علی ظھورھم “۔ یہاں اوزار کے معنی ذنوب سب کو مسلم ہیں۔ ای ذنوبھم (قرطبی) اثامھم وذنوبھم (ابن جریر) قال ابن عباس ؓ الاثام والخطایا (کبیر) وزر جو اوزار کا واحد ہے۔ اس کے معنی ثقل وحمل کے بھی لئے گئے ہیں۔ لیکن امام ابن جریر نے جو عربیت کے بھی امام ہیں اس پر سخت جرح کی ہے۔ اور وزر کے معنی گناہ ہی رکھے ہیں۔ قدزعم بعضھم ان الوزر الثقل والحمل ولست اعرف ذلک کذلک فی شاھد ولا من روایۃ ثقۃ عن العرب سوال یہ پیدا ہوا ہے کہ گناہ تو ایک غیر مادی شی ہے، گناہ پیٹھ پر کیسے لدیں گے ! جواب یہ دیا گیا ہے کہ یہاں مجاز اور محض محاورہ زبان مراد ہے۔ مجاز وتوسع و تشبیہ بمن یحمل ثقلا (قرطبی) والمعنی انھم لزمتھم الاثام فصاروامثقلین بھا (قرطبی) لیکن خود یہ ماننے میں کیا عقلی یا شرعی دشواری ہے کہ آخرت میں مجردات بھی مادیات ہی کی طرح باوزن ہوں گے اور اعمال بھی وزن رکھیں گے، یا اعمال بہ شکل اجسام متمثل ہوجائیں گے، اکابر اہل سنت میں سے متعدد حضرات عقیدہ تجسیم اعمال کے قائل ہوئے ہیں۔ غرض یہ کہ جب حقیقی معنی لینے ممکن ہیں تو یہاں بھی انہیں مجاز کے لئے ترک نہ کیا جائے گا۔ لامانع من الحمل علی الحقیقۃ واجراء الکلام علی ظاھر وہ قدقال کثیر من اھل السنۃ بتجسیم الاعمال فی تلک الدار وھو الذی یقتضیہ ظاہر الوزن (روح) والظاھر ان ھذالحمل حقیقۃ وھو قول عمیر بن ھانی وعمرو بن قیس العلائی والسدی واختارہ الطبری (بحر)
Ayah 6:32

وَ مَا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَاۤ اِلَّا لَعِبٌ وَّ لَهْوٌ١ؕ وَ لَلدَّارُ الْاٰخِرَةُ خَیْرٌ لِّلَّذِیْنَ یَتَّقُوْنَ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ Open ayah 6:32 in the Quran reader

اور دنیوی زندگی تو کچھ بھی نہیں بجز کھیل تماشہ کے اور تقوی رکھنے والوں کے حق میں یقیناآخرت کا گھر کہیں بہتر ہے تو کیا تم عقل سے کام ہی نہیں لیتے،51 ۔

51 ۔ (اور فکر آخرت چھوڑ کر اسی سامان دنیوی میں منہمک ہو) جس دنیا کی یہ مذمت ہے، وہ وہی دنیا ہے جو مقصود بالذات ہو جیسی کہ ملحدوں اور مادہ پرستوں کو ہوتی ہے، وہی لوگ جن کا قول ابھی اوپر نقل ہوچکا ہے۔ انھی الاحیاتنا الدنیا، فالمقصد بالایۃ تکذیب الکفار فی قولھم انھی الا حیاتنا الدنیا (قرطبی) قال ابن عباس ؓ ھذہ حیاۃ الکافر لانہ یزجیھا فی غرور و باطل (قرطبی) المراد منہ حیاۃ الکافر قال ابن عباس ؓ یرید حیاۃ اھل الشرک والنفاق والسبب فی وصف حیاۃ ھولآء بھذہ الصفۃ ان حیاۃ المومن یحصل فیھا اعمال صالحۃ فلاتکون لعبا ولھوا (کبیر) ورنہ وہ دنیا جو آخرت کی تیاریوں کے لیے ہوتی جیسی ہر مومن کی ہونی چاہیے وہ مذمت کے قابل نہیں، وہ تو عین مطلوب ہے۔ لیس من اللھو واللعب ماکان من امور الاخرۃ فان حقیقۃ اللعب ما لاینتفع بہ واللھو ما یلتھی بہ (قرطبی) قال ابن عباس ؓ فاما حیاۃ ال مومن فتنطوی علی اعمال صالحۃ فلاتکون لھوا ولعبا (قرطبی) جعل اعمال الدنیا لعبا ولھوا واشتغالا بما لایعنی ولا یعقب منفعۃ کما تعقب اعمال الاخرۃ المنافع العظیمۃ (کشاف) (آیت) ” للذین یتقون “۔ تقوی میں تو معاصی سے بھی پرہیز آگیا۔ لیکن یہاں خاص طور پر مراد شرک والحاد سے پرہیز ہے۔
Ayah 6:33

قَدْ نَعْلَمُ اِنَّهٗ لَیَحْزُنُكَ الَّذِیْ یَقُوْلُوْنَ فَاِنَّهُمْ لَا یُكَذِّبُوْنَكَ وَ لٰكِنَّ الظّٰلِمِیْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ یَجْحَدُوْنَ Open ayah 6:33 in the Quran reader

بیشک ہمیں خوب معلوم ہے کہ یہ جو کچھ کہتے ہیں وہ آپ کو رنج پہنچاتا ہے تو یہ لوگ آپ کو نہیں جھٹلاتے بلکہ (یہ ظالم تو) اللہ کی نشانیوں ہی سے انکار کردیتے ہیں،52 ۔

52 ۔ (سو آپ غم وحزن میں زیادہ نہ پڑئیے۔ بلکہ ان کا معاملہ اللہ کے حوالہ کیجئے) مطلب یہ ہے کہ منکرین، مکذبین آپ کی ذاتی صداقت وامانت سے کچھ تھوڑے ہی انکار کررہے ہیں۔ انہیں تو ضد اس پیام الہی سے ہے جو آپ انہیں پہنچا رہے ہیں، سو ان کا معاملہ آپ سے نہیں براہ راست حق تعالیٰ سے ہے حدیث وسیر کی روایتوں میں صراحۃ آتا ہے کہ سرگروہ مکذبین ابوجہل اور اس کے ساتھیوں نے صاف صاف کہہ دیا تھا کہ ہم کچھ آپ کو تھوڑے ہی جھوٹا کہتے ہیں ہم تو اس پیام کو جھوٹا کہتے ہیں جس کا لانا آپ بیان کرتے ہیں۔ قال ابو جہل للنبی ﷺ ان لا نکذبک ولکن نکذب بما جئت بہ (ابن کثیر۔ عن علی ؓ) قال ابو میسرۃ ان رسول اللہ ﷺ مر بابی جھل و اصحابہ فقالوا یا محمد واللہ ما نکذبک وانک عندنا لصادق ولکن نکذب ما جئت بہ (قرطبی) (آیت) ” یجحدون “۔ جحود ایسین انکار کو کہتے ہیں کہ انسان کا دل تو قائل ہوجائے لیکن زبان ہٹ دھرمی سے انکار کئے جائے۔ منکرین ومکذبین رسول میں بہت سے ایسے ہی تھے۔ الجحود نفی مافی القلب اثباتہ و اثبات ما فی القلب نفیہ (راغب) قد کان فیھم العناد فی جحود نبوتہ ﷺ مع علم منھم بہ وصحہ نبوتہ (ابن جریر) وکان بعضھم قد تبین امرہ وعلم صحۃ نبوتہ وھو فی ذلک یعاند ویجحد نبوتہ حسدا لہ وبغیا (ابن جریر) (آیت) ” قد نعلم “۔ میں قد کا ترجمہ اردو میں ” خوب “ ہی سے مناسب ہے۔ قد بمعنی ربما الذی یجیء لزیادۃ الفعل وکثرتہ (کشاف) مفسر ابن حیان نے اگرچہ زمخشری کے اس قول سے اختلاف کیا ہے اور اسے قول غیر مشھور للنحاۃ قرار دیا ہے۔ تاہم تحقیق وتاکید کے معنی انہوں نے بھی تسلیم کئے ہیں، تکون حینئذ للتحقیق والتوکید (بحر)
Ayah 6:34

وَ لَقَدْ كُذِّبَتْ رُسُلٌ مِّنْ قَبْلِكَ فَصَبَرُوْا عَلٰى مَا كُذِّبُوْا وَ اُوْذُوْا حَتّٰۤى اَتٰىهُمْ نَصْرُنَا١ۚ وَ لَا مُبَدِّلَ لِكَلِمٰتِ اللّٰهِ١ۚ وَ لَقَدْ جَآءَكَ مِنْ نَّبَاِی الْمُرْسَلِیْنَ Open ayah 6:34 in the Quran reader

اور آپ سے قبل پیغمبر خوب جھٹلائے جاچکے ہیں سو انہوں نے اس پر صبر کیا کہ ان کی تکذیب کی گئی اور انہیں ایذا دی گئی یہاں تک کہ انہیں ہماری نصرت آپہنچی، اللہ کی باتوں کو کوئی بدل نہیں سکتا اور پیغمبروں کے کچھ قصے تو آپ کو پہنچ ہی چکے ہیں،53 ۔

53 ۔ (جن سے نصرت الہی کی تحقیق وتصدیق آپ کو ہو ہی چکی ہے اس لیے آپ بھی صبر سے کام لیجئے۔ نصرت الہی کا آپ تک بھی پہنچنا یقینی ہے) (آیت) ” کلمت اللہ “۔ سے یہاں مراد اللہ کا وعدہ نصرت ہے۔ ایا مواعیدہ (کشاف) قال ابن عباس ؓ ای مواعید اللہ (بحر) (آیت) ” من نبیا “۔ میں من تبعیض کا ہے۔ ترجمہ کچھ سے کیا گیا ہے۔ من ھھنا للتبعیض (کبیر)
Ayah 6:35

وَ اِنْ كَانَ كَبُرَ عَلَیْكَ اِعْرَاضُهُمْ فَاِنِ اسْتَطَعْتَ اَنْ تَبْتَغِیَ نَفَقًا فِی الْاَرْضِ اَوْ سُلَّمًا فِی السَّمَآءِ فَتَاْتِیَهُمْ بِاٰیَةٍ١ؕ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَجَمَعَهُمْ عَلَى الْهُدٰى فَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْجٰهِلِیْنَ Open ayah 6:35 in the Quran reader

اور آپ پر اگر ان کا اعراض گراں گزرتا ہے،54 ۔ تو اگر آپ کے بس میں ہو کہ زمین (میں جانے) کے لئے کوئی سرنگ یا آسمان (پر جانے) کے لئے کوئی زینہ ڈھونڈلیں تو ضرور کوئی نشان ان کے لئے آئیں،55 ۔ اور اگر اللہ چاہتا تو ان (سب) کو ہدایت پر جمع کردیتا،56 ۔ تو آپ نادانوں میں سے نہ ہوجائیے،57 ۔

54 ۔ (اور اس لئے آپ چاہتے ہیں کہ ان کے فرمائشی معجزے بھی کسی نہ کسی طرح پورے ہو کر رہیں) اعراض وہی جس کا ذکر اوپر ہوچکا۔ 55 ۔ مطلب یہ ہوا کہ ہم تو ان کی فرمائشیں بہ وجہ عدم ضرورت ولزوم ضرر پوری کرنے کے نہیں۔ ہاں آپ اگر یہ چاہتے ہیں کہ کسی نہ کسی طرح مسلمان ہو ہی جائیں تو آپ ہی یہ انتظامات کیجئے (تھانوی (رح) (آیت) ” فتاتیھم بایۃ “۔ یعنی آپ ﷺ کے باس میں ہو تو آپ یہ کردکھائیے، مقصود اس امر کا اظہار ہے کہ آپ ﷺ میں ان کافروں کے حال پر شفقت اور ان کے اسلام لے آنے کی حرص اس درجہ بڑھی ہوئی ہے کہ آپ ﷺ کے اختیار میں ہو تو آپ ﷺ فرمایشی معجزہ کردکھانے کو تیار ہیں کہ کسی طرح یہ مسلمان ہو تو جائیں۔ فافعل یعنی انک لا تستطیع ذلک والمراد بیان حرصہ علی اسلام قومہ وقبائلہ علیہ وانہ لو استطاع ان یاتیھم بایۃ من تحت الارض اومن فوق السماء لاتی بھارجاء ایمانھم (کشاف) مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ آیت نص ہے اس باب میں کہ ارادۂ عبد حصول مراد کے لئے قطعی اور لازمی نہیں۔ یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ کا ارادہ بھی، پھر کسی بزرگ سے متعلق اہل غلو کا یہ عقیدہ کیسے صحیح ہوسکتا ہے کہ اس کی دعا کا قبول ہونا لازمی ہے۔ 56 ۔ یعنی اگر مصالح تکوینی کے اعتبار سے ہماری مشیت یہی ہوتی کہ چھوٹے بڑے سب کو بلااستثناء راہ ہدایت ہی دکھا دی جائے تو پھر ایسا ہو ہی جاتا، اس میں مانع کون اور کیا ہوسکتا تھا، اور دنیا میں اختلاف مسلک و عقیدہ کی گنجائش ہی باقی نہ رہتی۔ طلب معجزات وغیرہ کا کوئی سوال ہی نہ پیدا ہوتا۔ ای لاراھم ایۃ تضطرھم الی الایمان ولکنہ اراد عزوجل ان یشیب منھم من امن ومن احسن (قرطبی) 57 ۔ (کہ ایسی ان ہونی بات کی توقع کرنے لگیں) مطلب یہ ہوا کہ انسان کو جو اختیار دیا گیا اور ارادہ کی قوت سونپی گئی۔ اس کے معنی ہی یہ ہیں۔ کہ روش اختلاف باقی رہے، جبری ہدایت تو اس بنیادی ومرکزی نقطہ تکوینی ہی کے منافی ہے اور ایسی روشن وبنیادی حقیقت سے بیخبر عین جہالت ہے۔ والمقصود من تغلیظ الخطاب التبعید والزجر لہ عن مثل ھذہ الحالۃ (کبیر)
Ayah 6:36

اِنَّمَا یَسْتَجِیْبُ الَّذِیْنَ یَسْمَعُوْنَ١ؔؕ وَ الْمَوْتٰى یَبْعَثُهُمُ اللّٰهُ ثُمَّ اِلَیْهِ یُرْجَعُوْنَؐ Open ayah 6:36 in the Quran reader

قبول تو بس وہی لوگ کرتے ہیں جو سنتے ہیں،58 ۔ اور مردوں کو اللہ جلا کھڑا کرے گا پھر وہ اس کی طرف واپس لائے جائیں گے،59 ۔

58 ۔ (کلام حق وپیام حق کو بہ قصد قبول حق) قبول حق کی پہلی اور بنیادی شرط یہ ہے کہ پیام حق کو بلاعناد وقصد مخالفت، خلوئے ذہن کے ساتھ سنا تو جائے۔ ای سماع اصغاء وتفھم وارادۃ الحق (قرطبی) والمراد بالسماع سماع الفھم والتدبر (روح) 59 ۔ (حساب کے لئے) اس وقت پوری حقیقت کھل کررہے گی، دنیا میں پوری سزا اعراض و انکار کی اگر نہ بھی ملی تو کیا ہوا ؟
Ayah 6:37

وَ قَالُوْا لَوْ لَا نُزِّلَ عَلَیْهِ اٰیَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ١ؕ قُلْ اِنَّ اللّٰهَ قَادِرٌ عَلٰۤى اَنْ یُّنَزِّلَ اٰیَةً وَّ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 6:37 in the Quran reader

اور یہ کہتے ہیں کہ ان (صاحب) پر کوئی معجزہ ان کے پروردگار کی طرف سے کیوں نہیں اتارا گیا،60 ۔ آپ کہہ دیجیے کہ اللہ بیشک قادر ہے (ایسا) معجزہ اتارنے پر، لیکن ان میں سے زیادہ تر ایسے ہیں جو (خود ہی) علم نہیں رکھتے،61 ۔

60 ۔ (ہمارے فرمایشی معجزوں میں سے جو ایمان پر مجبور کردے) یہ فرمایش کرنے والے وہ جاہلی منکرین تھے، جن کے نزدیک حقانیت وصداقت کا ثبوت صرف مادی خوارق اور حسی معجزات تھے۔ ملجءۃ للایمان (روح) کما نقترح (مدارک) ای خارق علی مقتضی ماکانوا یریدون ومما یتعنتون (ابن کثیر) 61 ۔ یعنی علم صحیح سے محروم ہیں اور عقل سلیم سے کام لینا جانتے نہیں۔ یہ اس حقیقت سے بھی خبردار نہیں کہ پیغمبر کی تعلیمات صحیح اور ہدایات صادق کے لئے مثلا عقیدۂ توحید کے لئے عقیدۂ جزاوسزا کے لئے کسی معجزۂ حسی اور خارق مادی کی سرے سے ضرورت ہی کیا ہے۔ اور بالفرض ہو تو معجزات تو پہلے سے موجود چلے آتے ہیں۔ پھر ان سے حاصل کیا ہوا جو نئے معجزات طلب کئے جارہے ہیں ؟ فرمائشی معجزات طلب کرنے والے پر انجیل میں بھی بڑی لتاڑ آئی ہے۔” اس زمانہ کے برے اور زنا کار لوگ نشان طلب کرتے ہیں مگر یونس کے نشان کے سوا کوئی اور نشان ان کو نہ دیا جائے گا “۔ (متی : 16:4) ’ پھر فریسی نکل کر اس سے بحث کرنے لگے اور اسے آزمانے کے لئے اس سے کوئی آسمانی نشان طلب کیا اس نے اپنی روح میں آہ کھینچ کر کہا، اس زمانہ کے لوگ کیوں نشان طلب کرتے ہیں، میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ اس زمانہ کے لوگوں کو کوئی نشان نہ دیا جائے گا۔ “ (مرقس 8 ۔ 1 1: 13)
Ayah 6:38

وَ مَا مِنْ دَآبَّةٍ فِی الْاَرْضِ وَ لَا طٰٓئِرٍ یَّطِیْرُ بِجَنَاحَیْهِ اِلَّاۤ اُمَمٌ اَمْثَالُكُمْ١ؕ مَا فَرَّطْنَا فِی الْكِتٰبِ مِنْ شَیْءٍ ثُمَّ اِلٰى رَبِّهِمْ یُحْشَرُوْنَ Open ayah 6:38 in the Quran reader

اور جو بھی جانور زمین پر چلنے والا ہے اور جو بھی پرند اپنے دونوں بازوؤں سے اڑنے والا ہے وہ سب تمہارے ہی طرح کے گروہ ہیں ہم نے اپنے رجسٹر میں کوئی چیز نہیں چھوڑ رکھی ہے، پھر یہ (سب) اپنے پروردگار کے پاس جمع کئے جائیں گے،62 ۔

62 ۔ مقصود حکم حشر کی تعمیم ہے سارے خلائق کے لئے۔ ای للجزاء (قرطبی) دل بھذا علی ان البھائم تحشر یوم القیامۃ وھذا قول ابی ذروابی ہریرہ والحسن وغیرھم (قرطبی) (آیت) ” امم امثالکم “۔ قیامت میں محشور ہونے کے لحاظ سے۔ ای فی الخلق والرزق والموت والبعث والاقتصاص ھذا اختیار الزجاج (قرطبی) قیل فی الخلق والموت والبعث (معالم) فی انھم یحشرون والمقصود بیان ان الحشر والبعث کما ھو حاصل فی حق الناس فھو ایضا حاصل فی حق البھائم (کبیر) اراد تعالیٰ انما امثالنا فی انھا تحشر یوم القیامۃ یوصل الیھا حقوقھا (کبیر) یہ التزام وانتظام جب غیر مکلفین ونیم مکلفین کے لئے ہے تو انسان جو پوری طرح مکلف وذمہ دار ہے کیونکر اس سے بچ سکتا ہے ؟ (آیت) ’ ما فرطنا فی الکتب من شیء “۔ چوپائے، چرند، پرند، ہر قسم کے جانور خدائی رجسٹر میں حساب و کتاب کے لئے سب مندرج اور مستنبط ہیں۔ (آیت) ” الکتب “۔ سے مراد لوح محفوظ کا خدائی رجسٹر ہے۔ ؛ جس میں جزئی سے جزئی معلومات بھی درج ہیں۔ عن الحسن وقتادۃ ان المراد بالکتاب الکتاب الذی عند اللہ تعالیٰ وھو مشتمل علی ماکان ویکون وھو اللوح المحفوظ (روح)
Ayah 6:39

وَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا صُمٌّ وَّ بُكْمٌ فِی الظُّلُمٰتِ١ؕ مَنْ یَّشَاِ اللّٰهُ یُضْلِلْهُ١ؕ وَ مَنْ یَّشَاْ یَجْعَلْهُ عَلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 6:39 in the Quran reader

اور جو لوگ ہمارے نشانیوں کو جھٹلاتے ہیں وہ بہرے اور گونگے ہیں (طرح طرح کی) تاریکیوں میں (گرفتار) اللہ جسے چاہے اسے بےراہ کردے اور جسے چاہے وہ سیدھی راہ پر لگا دے،63 ۔

63 ۔ (آیت) ” صم “۔ یعنی سماع حق سے بہرے، (آیت) ” بکم “۔ یعنی کلام حق سے گونگے (آیت) ” فی الظلمت “۔ صیغہ جمع اس لئے کہ ہر اعراض بجائے خود ایک تاریکی ہے۔ اور ہر تاریکی کفر ہے۔ (آیت) ” من یشا اللہ “۔ من یشا “۔ دونوں جگہ قانون مشیت تکوینی کا بیان ہے۔ (آیت) ” یضللہ “۔ یہ اضلال حق کی طرف سے، بندوں کے اعراض ارادی پر الزاما مرتب ہوجائے گا۔
Ayah 6:40

قُلْ اَرَءَیْتَكُمْ اِنْ اَتٰىكُمْ عَذَابُ اللّٰهِ اَوْ اَتَتْكُمُ السَّاعَةُ اَغَیْرَ اللّٰهِ تَدْعُوْنَ١ۚ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 6:40 in the Quran reader

آپ کہیے کہ اچھا یہ تو بتاؤ کہ اگر تم پر اللہ کا عذاب آپڑے یا (قیامت کی) گھڑی آپڑے، تو کیا اللہ کے سوا اور کو پکاروگے (بتاؤ) اگر سچے ہو،64 ۔

64 ۔ (اپنے دعوی شرک میں) یعنی اگر تم واقعی خلوص دل کے ساتھ دوسرے معبودوں کے بھی قائل ہو۔ تو انتہائی نازک وقتوں پر انہیں کیوں پکارتے ہو ؟ (آیت) ” ان اتکم عذاب اللہ “۔ اگر تم پر عذاب الہی یک بیک آپڑے۔ جیسا کہ پچھلی قوموں پر آچکا ہے۔ مراد عذاب دنیوی کی کوئی شکل ہے۔ (آیت) ” اتتکم الساعۃ “۔ قیامت آجائے۔ جو مجموعہ ہوگی بہت سی ہولناکیوں کا۔ مراد عذاب آخرت ہے۔ (آیت) ” اغیر اللہ تدعون “۔ کیا کسی غیر اللہ کو بھی انتہائی مصیبتوں کو دور کرنے کو پکاروگے ؟