6. Surah Al-An'aam

الأنعامThe Cattle · 165 ayahsتفسیرِ حقانی

Ayah 6:1

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ جَعَلَ الظُّلُمٰتِ وَ النُّوْرَ١ؕ۬ ثُمَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِرَبِّهِمْ یَعْدِلُوْنَ Open ayah 6:1 in the Quran reader

سب تعریفیں اللہ ہی کو ہیں جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور اندھیرا اور اجالا بنایا۔ پھر بھی کافر (بتوں) کو اپنے رب کے برابر کر رہے ہیں۔

ترکیب : جعل بمعنی خلق الذین الخ مبتدا یعدلون خبر بربہم اس سے متعلق ہو مبتداء اللّٰہ خبر یعلم خبر ثانی اور ممکن ہے کہ اللہ ھو سے بدل ہو یعلم خبر فی السموات اللہ سے متعلق ہے جو بمعنی معبود ہے۔ تفسیر : یہی وہ سورة ہے کہ جو سب کی سب ایک بار نازل ہوئی۔ سورة بقر اور نساء اور مائدہ تو مدینہ آنے کے بعد اور یہ ان سے پہلے مکہ میں نازل ہوچکی تھی۔ مکہ میں مشرکین عرب کے مقابلہ میں خدا تعالیٰ کا وجود ان صفات قاہرہ کے ساتھ بیان ہوتا تھا کہ جن سے تمام عالم میں اسی کا قبضہ و تصرف ثابت ہو مر کر دوبارہ زندہ ہونے کے جو منکر تھے۔ ان کے مقابلہ میں حشر و نشر کا اثبات ہوتا تھا اور جو خدا تعالیٰ کے وجود کے منکر تھے صرف دہر کو پیدا اور فنا کرنے والا جانتے تھے ان کے مقابلہ میں اس کا وجود اس کے آثار قدرت و جبروت کے نشانوں سے ثابت کیا جاتا تھا اور نیز عرب یا مکہ کے مشرکوں کو اپنی دولت و راحت پر گھمنڈ تھا اور باوجود اس کفر اور بدکاری کے اس کے عذاب سے کچھ بھی ڈر نہ تھا ان کے مقابلہ میں ان سے پہلے کی قوموں کی حد افزوں ثروت وقدرت اور پھر آیات الٰہی کے انکار سے ان کی ہلاکت بیان کی جاتی تھی۔ چناچہ اس سورة اور ان آیات میں انہیں مضامین کی رعایت ہے اور یہی کلام کی خوبی بھی ہے اور منصب الہام کا یہی فرض ہے کہ جس خرابی کو دیکھئے اسی کی اصلاح کی تدبیر کرے۔ پس الحمد للّٰہ سے والنور تک اول امر کا اثبات ہے جس کے لئے مشرکوں پر طعن کیا جاتا ہے کہ باوجود یکہ آسمانوں اور زمینوں اور نور و ظلمت کا خالق اسی کو جانتے ہیں مگر پھر بھی اس کے ساتھ بتوں یا اور خیالی معبودوں کو ملا کر اس کے برابر کرتے ہیں۔ ھوالذی سے اپنا حشر پر قادر ہونا بیان کیا جاتا ہے۔ یہ بات بتلا کر کہ جس نے تم کو اول بار مٹی 1 ؎ سے پیدا کیا کیا وہ دوبارہ نہیں زندہ کرسکتا پھر شک کیا ؟ وھو اللّٰہ سے تیسری بات کا ثبوت کرتا ہے کہ دہریا افلاک خود اس کے حکم کے مسخر ہیں۔ ان میں شب و روز اس کے تصرفات دیکھتے ہو۔ پھر اگر یہ اللہ کا فعل نہیں تو اور کس کا ہے ؟ دھر کیسا ؟ وما یاتیہم سے چوتھی بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ ان سے پہلے لوگ بھی ایسا کرچکے ہیں۔ پھر ان کی تو کیا ہستی ہے۔ ان کو بھی ہم نے غارت کردیا اور ان کی جگہ اور قومیں پیدا کردیں۔
Ayahs 6:2–3

هُوَ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ مِّنْ طِیْنٍ ثُمَّ قَضٰۤى اَجَلًا١ؕ وَ اَجَلٌ مُّسَمًّى عِنْدَهٗ ثُمَّ اَنْتُمْ تَمْتَرُوْنَ Open ayah 6:2 in the Quran reader

وہی ہے کہ جس نے تم کو مٹی سے پیدا کیا پھر (ہر ایک کی) میعاد مقرر کی۔ 1 ؎ اور میعاد اس کے نزدیک مقرر ہے 2 ؎ پھر بھی تم شک میں پڑے ہو

وَ هُوَ اللّٰهُ فِی السَّمٰوٰتِ وَ فِی الْاَرْضِ١ؕ یَعْلَمُ سِرَّكُمْ وَ جَهْرَكُمْ وَ یَعْلَمُ مَا تَكْسِبُوْنَ Open ayah 6:3 in the Quran reader

اور وہی اللہ ہے (یعنی قادر متصرف) آسمانوں اور زمین میں ہے۔ تمہاری چھپی اور کھلی باتیں جانتا ہے اور جو تم کرتے ہو اس کو بھی جانتا ہے۔

1 ؎ یعنی ہر ایک کی موت کا ایک وقت مقرر کر رکھا ہے۔ زندگی معین ہے۔ 2 ؎ اور ایک میعاد یعنی قیامت کی جس میں فنا کلی ہوگی اس کے نزدیک مقرر ہے جیسا کہ افراد رجال کی فنائِ جزئی کا وقت مقرر تھا۔ 12 منہ
Ayahs 6:4–5

وَ مَا تَاْتِیْهِمْ مِّنْ اٰیَةٍ مِّنْ اٰیٰتِ رَبِّهِمْ اِلَّا كَانُوْا عَنْهَا مُعْرِضِیْنَ Open ayah 6:4 in the Quran reader

اور جب کوئی 3 ؎ آیت ان کے رب کی آیتوں میں سے ان کے پاس آتی ہے تو اس سے منہ ہی پھیر لیتے ہیں۔

فَقَدْ كَذَّبُوْا بِالْحَقِّ لَمَّا جَآءَهُمْ١ؕ فَسَوْفَ یَاْتِیْهِمْ اَنْۢبٰٓؤُا مَا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ Open ayah 6:5 in the Quran reader

جب حق (قرآن) ان کے پاس آگیا تو اس کو جھٹلا کر رہے۔ ابھی انہیں اس کی حقیقت معلوم ہوجائے گی کہ جس کو ٹھٹھوں میں اڑایا کرتے تھے

3 ؎ قرآن کی آیت یا معجزہ یا اس کے جلال وکبریائی کی نشانی زلزلہ ‘ کڑک ‘ قحط ‘ وبا وغیرہ جب کفار کے سامنے پیش ہوتی ہے تو اس میں غور و تامل نہیں کرتے منہ پھیر لیتے ہیں۔ 12 منہ
Ayah 6:6

اَلَمْ یَرَوْا كَمْ اَهْلَكْنَا مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنْ قَرْنٍ مَّكَّنّٰهُمْ فِی الْاَرْضِ مَا لَمْ نُمَكِّنْ لَّكُمْ وَ اَرْسَلْنَا السَّمَآءَ عَلَیْهِمْ مِّدْرَارًا١۪ وَّ جَعَلْنَا الْاَنْهٰرَ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهِمْ فَاَهْلَكْنٰهُمْ بِذُنُوْبِهِمْ وَ اَنْشَاْنَا مِنْۢ بَعْدِهِمْ قَرْنًا اٰخَرِیْنَ Open ayah 6:6 in the Quran reader

کیا وہ نہیں دیکھتے کہ ہم نے ان سے پہلے کتنی ایک ایسی قومیں ہلاک کردیں کہ جن کو ہم نے زمین پر ایسا بسایا تھا کہ جو تم کو بھی ویسا نہیں بسایا جن پر ہم نے برسانے کے لئے بادل چھوڑ رکھے تھے اور ان کے نیچے نہریں جاری کردی تھیں پھر ان کو ان کے گناہوں کے سبب ہلاک کردیا اور ان کے بعد اور قومیں پیدا کردیں۔

1 ؎ چونکہ آدم مٹی سے اور ان سے سب آدمی پیدا ہوئے یا انسان نطفہ سے پیدا ہوتا ہے جو غذائوں سے حاصل ہوتا ہے اور غذائیں زمین کی پیداوار انجام مٹی ہیں اس لئے اس کا مٹی سے پیدا ہونا بیان فرمایا۔ 12 منہ
Ayah 6:7

وَ لَوْ نَزَّلْنَا عَلَیْكَ كِتٰبًا فِیْ قِرْطَاسٍ فَلَمَسُوْهُ بِاَیْدِیْهِمْ لَقَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا سِحْرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 6:7 in the Quran reader

اور اگر ہم اس پر کوئی کتاب کاغذوں پر لکھی لکھائی بھیجتے پھر وہ اس کو اپنے ہاتھوں سے ٹٹول بھی لیتے تب بھی منکر یہی کہتے کہ یہ تو صریح جادو ہے

ترکیب : فی قرطاس ثابت کے متعلق ہو کر صفت ہوئی کتابا کی اور خود کتاب بمعنی مکتوب سے بھی متعلق ہوسکتا ہے ما یلبسون مابمعنی الذی جملہ مفعول للبسنا ما کانوا بہ الخ فاعل حاق۔ تفسیر : ان چاروں باتوں کے بعد ایک پانچویں بات اور بھی قابل اثبات تھی۔ وہ یہ کہ مکہ کے کافر آنحضرت ﷺ کی نبوت کا انکار اس شبہ سے کرتے تھے کہ فرشتہ آتا ہوا اس کے پاس کیوں نہیں دکھائی دیتا اور قرآن کا انکار اس بنا پر کرتے تھے کہ آسمان سے لکھی ہوئی کتاب ایک بار کیوں نہ نازل ہوگئی۔ یہ بار بار الہام کیسا اور نزول روح القدس کیا ؟ اس کے جواب میں خدا تعالیٰ اس کی اصل حکمت سے درگذر کرکے بوجہ ان کے افہام کے قاصر ہونے کے صرف ایک عام فہم بات ذکر فرماتا ہے کہ اگر قرآن لکھا لکھایا نازل ہوتا تو اس کو بدرجہ اولی یہ لوگ سحر مبین کہہ دیتے اور اگر فرشتہ آتا تو دو خرابیاں پیش آتیں : اول یہ کہ عادت اللہ یوں جاری ہے کہ جب ملائکہ آتے ہیں تو پھر کام ہی تمام ہوجاتا ہے (جیسا کہ لوط (علیہ السلام) کی بستی میں ملائکہ آئے۔ اول بار حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ان کو دیکھتے ہی گھبرا گئے کہ اب اس بستی پر بلا نازل ہوتی ہے جس میں کہ میرا بھتیجا لوط بھی ہے) ۔ دوم یہ کہ ملائکہ اجسام لطیفہ ہیں۔ ان کے بغیر اس کے کہ وہ کسی آدمی وغیرہ محسوس چیز کی شکل میں متشکل ہوں نظر آنے کی کیا صورت ؟ ایسی حالت میں شبہ کرنے والوں کا شبہ پھر قائم ہوجاتا۔ اس کا کیا اعتبار کہ یہ فرشتہ ہے یا کوئی کہیں سے آدمی چلا آیا ہے ؟ پس جب یہ دونوں شبہ غلط تو آنحضرت ﷺ کی نبوت اور قرآن کا کلام الٰہی ہونا درست رہا۔ اس کے بعد یہ ظاہر کرتا ہے کہ یہ باتیں ان کی ازراہ تمسخر ہیں جس کا نتیجہ پہلی امتیں خوب دیکھ چکی ہیں۔
Ayah 6:8

وَ قَالُوْا لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْهِ مَلَكٌ١ؕ وَ لَوْ اَنْزَلْنَا مَلَكًا لَّقُضِیَ الْاَمْرُ ثُمَّ لَا یُنْظَرُوْنَ Open ayah 6:8 in the Quran reader

اور کافروں نے کہا نبی پر کوئی فرشتہ کیوں نہیں 2 ؎ بھیجا گیا اور اگر ہم فرشتہ بھیجتے تو کام ہی تمام ہوجاتا پھر ان کو مہلت بھی نہ ملتی

2 ؎ یعنی عیانًا فرشتہ آکر تصدیق کرتا تو ہم مانتے۔ جواب دیتا ہے اگر فرشتہ آتا تو فیصلہ ہی ہوجاتا کس لئے کہ فرشتہ آنے کے بعد انکار کرنا اور یہ فرشتہ میں بھی شبہ کرتے عادت اللہ کے موافق ہلاکی کا باعث ہے۔ 12 منہ
Ayahs 6:9–11

وَ لَوْ جَعَلْنٰهُ مَلَكًا لَّجَعَلْنٰهُ رَجُلًا وَّ لَلَبَسْنَا عَلَیْهِمْ مَّا یَلْبِسُوْنَ Open ayah 6:9 in the Quran reader

اور اگر ہم اس کو فرشتہ بناتے تو انسان ہی کی صورت بناتے 3 ؎ اور جو شبہ وہ (اب) کر رہے ہیں اس میں ہم (پھر) ان کو ڈال دیتے

وَ لَقَدِ اسْتُهْزِئَ بِرُسُلٍ مِّنْ قَبْلِكَ فَحَاقَ بِالَّذِیْنَ سَخِرُوْا مِنْهُمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ۠ Open ayah 6:10 in the Quran reader

اور تم سے پہلے بھی (بہت) سے رسولوں کی ہنسی اڑائی۔ پھر ہنسی اڑانے والوں پر (وہی) بلا آپڑی کہ جس کی وہ ہنسی اڑایا کرتے تھے۔

قُلْ سِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ ثُمَّ انْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُكَذِّبِیْنَ Open ayah 6:11 in the Quran reader

(اے نبی ! ان سے) کہہ دو کہ ملک میں چلو پھرو۔ پھر دیکھو تو کہ جھٹلانے والوں کا کیا انجام ہوا۔

3 ؎ کس لئے کہ فرشتہ کو اس کی صورت اصلی پر دیکھنے کی ان میں صلاحیت نہیں کیونکہ وہ نور مجرد ہے اور یہ آنکھیں عالم ناسوت دیکھنے کو بنائی گئی ہیں۔ پھر جب وہ آدمی بن کر آتا تو وہی شبہات اس کے حق میں پیدا ہوتے کہ اس کے فرشتہ ہونے کی کیا دلیل ہے۔ 12 منہ
Ayahs 6:12–16

قُلْ لِّمَنْ مَّا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ قُلْ لِّلّٰهِ١ؕ كَتَبَ عَلٰى نَفْسِهِ الرَّحْمَةَ١ؕ لَیَجْمَعَنَّكُمْ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ لَا رَیْبَ فِیْهِ١ؕ اَلَّذِیْنَ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ فَهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 6:12 in the Quran reader

پوچھئے کہ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے کس کا ہے۔ کہہ دیجئے اللہ کا۔ اس نے اپنے اوپر رحمت کرنا لازم کرلیا ہے۔ وہ ضرور تم کو قیامت کے دن جمع کرکے رہے گا جس میں کچھ بھی شک نہیں۔ جنہوں نے اپنے آپ کو خسارہ میں ڈال رکھا ہے۔ پھر بھی وہ ایمان نہیں لاتے

وَ لَهٗ مَا سَكَنَ فِی الَّیْلِ وَ النَّهَارِ١ؕ وَ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 6:13 in the Quran reader

اور اسی کا ہے جو کچھ کہ رات اور دن میں رہتا ہے اور وہی سنتا (اور) جانتا ہے۔

قُلْ اَغَیْرَ اللّٰهِ اَتَّخِذُ وَلِیًّا فَاطِرِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ هُوَ یُطْعِمُ وَ لَا یُطْعَمُ١ؕ قُلْ اِنِّیْۤ اُمِرْتُ اَنْ اَكُوْنَ اَوَّلَ مَنْ اَسْلَمَ وَ لَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُشْرِكِیْنَ Open ayah 6:14 in the Quran reader

کہہ دو کیا اللہ کے سوا کہ جس نے آسمان اور زمین بنائے کوئی اور کارساز بنا لوں حالانکہ وہی کھلاتا ہے اور اس کو کوئی نہیں کھلاتا۔ کہہ دو مجھ کو حکم ہوا ہے کہ سب سے اول میں ہی فرمانبرداری کروں اور یہ بھی (حکم ہوا ہے کہ) ہرگز مشرکوں میں سے نہ ہونا۔

قُلْ اِنِّیْۤ اَخَافُ اِنْ عَصَیْتُ رَبِّیْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ Open ayah 6:15 in the Quran reader

کہہ دو اگر میں اپنے رب کا حکم نہ مانوں تو مجھے بڑے دن کے عذاب کا

مَنْ یُّصْرَفْ عَنْهُ یَوْمَئِذٍ فَقَدْ رَحِمَهٗ١ؕ وَ ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْمُبِیْنُ Open ayah 6:16 in the Quran reader

ڈر ہے جس سے اس دن وہ عذاب ٹل گیا تو اس پر بڑی مہربانی ہوئی اور یہ صریح کامیابی ہے۔

ترکیب : ما بمعنی الذی مبتدا لمن خبر قل اللّٰہ ای ہو اللہ لیجمعنکم کلام مستانف یا الرحمۃ سے بدل اور لام جواب قسم محذوف الذین خسروا مبتدا فہم لا یؤمنون اس کی خبر اور چونکہ مبتداء میں معنی شرط تھے اس لئےخبر میں آئی لا تکونن عطف علی امرت ای قیل لی لاتکونن او علی قل ان عصیت شرط جواب محذوف یدل علیہ اخاف عذاب یوم مفعول اخاف والشرط معترض۔ تفسیر : پھر فرماتا ہے کہ دنیا میں پھر کر دیکھو کہ انبیاء کے جھٹلانے والوں کا کیا انجام کار ہوا۔ نینوا اور بابل اور صمورا اور صمیدا کیسے کیسے شہر تھے ‘ ان کے لوگ کس لطف و آرام سے زندگی بسر کرتے تھے۔ ان کی دولت و حشمت کیسی تھی۔ ان کے تجملات دنیا کیا کیا تھے۔ پھر ان کی بت پرستی اور انبیاء کے انکار و گستاخی سے ان کو کیسا برباد کیا کہ سوائے ٹیلوں کے اور کچھ نظر نہیں آتا۔ چونکہ ان کفار و مشرکین کو اس بات میں بھی کلام تھا کہ ان بستیوں کو ان کے گناہوں سے خدا نے غارت کیا ہے ؟ اس بات پر یقین دلاتا ہے کہ تم بتلائو کہ آسمان و زمین کی سب چیزوں پر کس کا اختیار ہے یعنی خاص اللہ کا۔ پس اس سے یہ کیا بعید ہے ؟ پھر تسلی دیتا ہے کہ ہمارے اس ہلاک کرنے سے کوئی ہم کو قہار محض نہ سمجھے بلکہ ہم نے اپنے اوپر بندوں کے لئے رحمت کرنا لازم کرلیا ہے دنیا میں تم اس کا ظہور دیکھ رہے ہو اور یہ فانی اور اس کے نعمائِ فانیہ کیا ہیں تم کو ہم قیامت میں جمع کریں گے۔ نعمائِ ابدیہ کے لئے عجب کلام ہے کہ لمن ما سے ذات باری کا اور کتب سے صفات کا اور لیجمعنکم سے آخرت کا ثبوت کس لطف کے ساتھ کیا ہے ؟ مگر بدنصیب لوگ پھر بھی ایمان نہیں لاتے۔ اس کے بعد اول بطور تمہید کے اللہ تعالیٰ کا جمیع مخلوقات پر قادر و مسلط ہونا بیان کرتا ہے۔ بقولہٖ ولہ ما سکن الخ کہ جس طرح زمانہ اس کے ہاتھ میں ہے اسی طرح زمانیات بھی یعنی جس پر کہ رات دن آتا ہے پھر سمیع علیم ہونا جتلاتا ہے جو معبودیت کے اوصاف مختصہ میں سے ہے۔ اس کے بعد ان بت پرستوں پر ایک کوڑا سا پڑتا ہے کہ جب اللہ ایسا ہے اور فاطر السموات ہے سب اس کے قبضہ میں ہے۔ تمام مخلوق اس کی محتاج ہے ھو یطعم اور وہ کسی کا محتاج نہیں ولا یطعم کیا اس کو چھوڑ کر اور معبود مقرر کرلوں ؟ پھر حکم ہوتا ہے کہ سنا دے کہ سب سے پہلے مجھے توحید پر چلنے کا حکم ہوا ہے (اگر یہ بری بات ہے تو سب سے اول مجھ پر عائد ہوگی) اور اگر میں بھی اس کے خلاف کروں تو مجھے بھی عذاب یوم عظیم کا ڈر ہے کہ جس سے بچنا بڑی مراد پانا ہے۔
Ayahs 6:17–19

وَ اِنْ یَّمْسَسْكَ اللّٰهُ بِضُرٍّ فَلَا كَاشِفَ لَهٗۤ اِلَّا هُوَ١ؕ وَ اِنْ یَّمْسَسْكَ بِخَیْرٍ فَهُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 6:17 in the Quran reader

اور (بندے) اگر اللہ تجھ کو کوئی دکھ دے تو پھر اس کو بجز اس کے کوئی بھی دفع نہیں کرسکتا اور اگر تجھے کوئی بھلائی پہنچائے تو وہ ہر چیز پر قادر ہے

وَ هُوَ الْقَاهِرُ فَوْقَ عِبَادِهٖ١ؕ وَ هُوَ الْحَكِیْمُ الْخَبِیْرُ Open ayah 6:18 in the Quran reader

اور وہی اپنے بندوں پر غالب ہے اور وہی حکمت والا خبردار (بھی) ہے۔

قُلْ اَیُّ شَیْءٍ اَكْبَرُ شَهَادَةً١ؕ قُلِ اللّٰهُ١ۙ۫ شَهِیْدٌۢ بَیْنِیْ وَ بَیْنَكُمْ١۫ وَ اُوْحِیَ اِلَیَّ هٰذَا الْقُرْاٰنُ لِاُنْذِرَكُمْ بِهٖ وَ مَنْۢ بَلَغَ١ؕ اَئِنَّكُمْ لَتَشْهَدُوْنَ اَنَّ مَعَ اللّٰهِ اٰلِهَةً اُخْرٰى١ؕ قُلْ لَّاۤ اَشْهَدُ١ۚ قُلْ اِنَّمَا هُوَ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ وَّ اِنَّنِیْ بَرِیْٓءٌ مِّمَّا تُشْرِكُوْنَۘ Open ayah 6:19 in the Quran reader

پوچھو کس کی گواہی بڑی معتبر ہے۔ کہہ دو مجھ میں اور تم میں اللہ گواہ ہے اور میری طرف یہ قرآن اس لئے نازل ہوا ہے کہ اس سے تم کو اور جس کو یہ پہنچے (اس کو بھی) ڈرائوں۔ کیا تم اس بات کی گواہی دے سکتے ہو کہ اللہ کے ساتھ اور بھی معبود ہے۔ کہہ دو کہ میں تو اس بات کی گواہی نہیں دے سکتا۔ وہ تو صرف ایک ہی معبود ہے اور میں تمہارے شرک سے بیزار ہوں

ترکیب : وان یمسسک شرط فلا کاشف جواب ھو مبتدا القاھر خبر فوق یا خبر ثانی ہے یا بدل ہے خبر سے یا حال ہے۔ ای شیء مبتداء اکبر شہادۃ تمیز اللّٰہ مبتداء خبر محذوف ای اکبر شہادۃ۔ تفسیر : واضح ہو کہ انسان جو خدا کے سوا کسی اور معبود کو پوجتا ہے تو اس کو نافع و ضار سمجھ کر اور طبائعِ عامہ میں جو بت پرستی نے رواج پایا تو اسی امید نفع و خوف نقصان سے کہ یہ معبود ہم کو اولاد و تندرستی و فراخدستی دیتے ہیں اور جو ان کی نذر و نیاز نہیں کرتا تو اس کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ پھر اس پر جاہلوں میں سینکڑوں جھوٹے افسانے جو ان کے خیال کے مؤیّد ہیں ٗ مشہور ہوتے ہیں یا کسی کے اندر ایسے کمالات ذاتیہ صفاتیہ تصور کرکے جو خدا کے اوصاف کے ہم پہلو ہوتے ہیں عیسائی جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو خدا سمجھتے ہیں اسی لئے اور کبھی محض کسی کے قول اور کسی معتبر کی شہادت سے کہ فلاں قابل پرستش ہے۔ چناچہ مشرکین بہت سی چیزوں کو محض اپنے باپ دادا کے کہنے سے پوجتے تھے۔ پہلی بات کی نسبت فرماتا ہے وان یمسسک اللّٰہ کہ نافع و ضار اللہ کے سوا اور کوئی نہیں کیونکہ اس کے سوا جو ہے ممکن ہے جو اپنی ذات وصفات میں ہر دم اس کا دست نگر ہے جس کا اثر ہر روز ہم اپنی حالت سے محسوس کرتے ہیں۔ دوسری بات کی نسبت فرماتا ہے۔ وھو القاھر یعنی تمام صفات الوہیت تین یا تین اصل اصول ہیں : اول قدرت تامہ کہ اس کا سب پر زور ہو۔ اس پر کسی کا زور نہ چلے۔ دوم علم کہ ہر چیز کو جانتا ہو۔ سوم حکیم کہ تمام کائنات میں سلسلہ نظام اسی کا رکھا ہو۔ سو یہ تینوں باتیں اس میں پائی جاتی ہیں۔ اول کی طرف ھوالقاھر فوق عبادہ دوسرے کی طرف الخبیر میں تیسرے کی طرف ھوا لحکیم میں اشارہ کردیا۔ تیسری بات کی طرف قل ای شیئٍ اکبر شہادۃ الخ میں اشارہ کرتا ہے کہ اللہ سے زیادہ کس کی شہادت ہے۔ سو اس نے تو اس بات کی شہادت دے دی ہے کہ اللہ کے سوا اور کوئی معبود ہی نہیں اور نیز یہ بھی کہ یہ قرآن اس نے وحی کیا ہے۔ تمہارے اوپر جس کو یہ قیامت تک پہنچے ڈر سنانے کو اور اس بات کو اپنی کتابوں میں دیکھ کر اور اس نبی آخر الزماں کے اوصاف سن کر اہل کتاب 1 ؎ ایسا یقین جانتے ہیں کہ جیسا کوئی اپنی اولاد کو پہچانتا ہو۔
Ayahs 6:20–22

اَلَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ یَعْرِفُوْنَهٗ كَمَا یَعْرِفُوْنَ اَبْنَآءَهُمْ١ۘ اَلَّذِیْنَ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ فَهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ۠ Open ayah 6:20 in the Quran reader

جن کو ہم نے کتاب دی ہے وہ اس کو ایسا ہی پہچانتے ہیں 1 ؎ جیسا کہ اپنی اولاد کو پہچانتے ہیں جن لوگوں نے اپنے آپ کو خسارہ میں ڈال رکھا ہے سو وہ ایمان نہیں لاتے۔

وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اَوْ كَذَّبَ بِاٰیٰتِهٖ١ؕ اِنَّهٗ لَا یُفْلِحُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 6:21 in the Quran reader

اور اس سے بڑھ کر کون ظالم ہے کہ جو اللہ پر جھوٹ باندھے یا اس کی آیتوں کو جھٹلاوے۔ بات یہ ہے کہ ظالموں کو فلاح نہیں ہوتی

وَ یَوْمَ نَحْشُرُهُمْ جَمِیْعًا ثُمَّ نَقُوْلُ لِلَّذِیْنَ اَشْرَكُوْۤا اَیْنَ شُرَكَآؤُكُمُ الَّذِیْنَ كُنْتُمْ تَزْعُمُوْنَ Open ayah 6:22 in the Quran reader

اور جس دن کہ ہم ان سب کو اکٹھا کریں گے پھر مشرکوں سے کہیں گے کہ تمہارے وہ معبود کدھر ہیں کہ جن کا تمہیں گھمنڈ تھا

1 ؎ یعنی رسول اللہ ﷺ کو خوب پہچانتے ہیں۔ ان نشانیوں اور علامات سے جو ان کتابوں میں یا زبانی منقول تھیں۔ 12 منہ 1 ؎ یہ دوسرا جو بیان فرمایا اس سے کل اہل کتاب مراد نہیں بلکہ وہی جو اس جاننے کے قابل تھے۔ بہت یہودیوں نے اقرار کیا کہ محمد ﷺ کی نبوت ہماری کتابوں سے ثابت ہے۔ موسیٰ اور عیسیٰ ( علیہ السلام) انہیں کی خبر دے گئے ہیں۔ 12 منہ
Ayahs 6:23–24

ثُمَّ لَمْ تَكُنْ فِتْنَتُهُمْ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوْا وَ اللّٰهِ رَبِّنَا مَا كُنَّا مُشْرِكِیْنَ Open ayah 6:23 in the Quran reader

پھر ان کی کچھ بھی چالاکی نہ چلے گی بجز اس کے کہ وہ کہیں گے۔ قسم ہے اللہ اپنے رب کی ہم تو کسی کو (بھی) شریک نہ بناتے تھے

اُنْظُرْ كَیْفَ كَذَبُوْا عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ وَ ضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ Open ayah 6:24 in the Quran reader

(اے نبی ! ) دیکھو اپنے اوپر آپ کیسا جھوٹ بولے۔ اور ان کی وہ سب فتنہ پردازیاں جو کیا کرتے تھے گئی ٗ گذری ہوجائیں گی

ترکیب : فتنتہم کو مرفوع بھی پڑھا ہے تکون کا اسم بنا کر وان قالوا خبر و جازا لعکس۔ ان یفقہوہ مفعول لہ ہے اے کر اہۃ ان یفقہواو قرا معطوف ہے اکنۃ پر حتیٰ اذا اپنے جواب یقول سے مل کر محل نصب میں ہے حتیٰ کا اس جگہ لفظوں میں کچھ عمل نہیں صرف معنی غایۃ دیتا ہے۔ یجادلونک حال ہے ضمیر فاعل جاؤک سے والاساطیر جمع ہے بعض کہتے ہیں اس کا واحد اسطورۃ ہے۔ بعض کہتے ہیں اسطارۃ اور بعض اسطار جو سطر متحرک الطاء کی جمع ہے اور سطر بسکون الطاء کی جمع سطور آتی ہے اور اسطر بھی۔ ولوتریٰ کا جواب محذوف ہے ای لتری امرا عظیما۔ تفسیر : اہل کتاب کو مشرکین عرب پڑھا لکھا قابل سند سمجھا کرتے تھے اور وہ بجز چند اہل انصاف کے جیسا کہ عبداللہ بن سلام ؓ جب مشرکوں سے ملتے تو بجائے ادائے شہادت کے جان بوجھ کر تکذیب ہی کر جاتے تھے۔ اس پر خدا تعالیٰ فرماتا ہے جو خدا پر جھوٹ باندھے (یعنی نبی نہیں اور نبوت والہام کا دعویٰ کر بیٹھے جیسا کہ تم محمد ﷺ کی نسبت اے اہل مکہ خیال کرتے ہو) اور اسی طرح جو اللہ کی آیات کی تکذیب کرے جیسا کہ اہل کتاب اور تم کر رہے ہو۔ کون زیادہ ظالم ہے یعنی جو نبوت کا جھوٹا دعویٰ کرے وہ بھی ظالم ہے اور جو سچے نبی اور خدا کی آیات کا انکار کرے وہ بھی ظالم ہے۔ اب دونوں فریق میں سے ناحق کی یہ پہچان ہے کہ ظالم کو فلاح نہ ہوگی۔ اگر یہ نبی جھوٹا ہے تو حسب وعدہ الٰہی جیسا کہ توریت میں مذکور ہے۔ یہ خود خراب خستہ ہوجاوے گا۔ قتل کیا جاوے گا۔ اس کی جماعت تتر بتر ہوجاوے گی۔ یہ کامیاب نہ ہوگا اور جو تم ناحق پر ہو تو یہ کامیاب ہوگا اور تم ذلیل و مقہور ہوجائو گے۔ حالانکہ بالفعل تمہاری ذلت کا بظاہر اس نبی کی جماعت کے ہاتھ سے جو نہایت پست حالت میں ہے کوئی سامان نہیں۔ سبحان اللہ ! اس سے بڑھ کر آنحضرت ﷺ کی صداقت کے لئے اور کیا پیشین گوئی ہوگی جس کے مطابق آنحضرت ﷺ سرسبز اور کامیاب ہوتے گئے۔ مخالفین ذلیل و خوار ہوگئے نہ تنہا عرب کے مخالفین کو بلکہ اس وقت روئے زمین پر جو دو سلطنتیں قابض تھیں روم و ایران ان کو بھی نبی کے پیرو وں کے پائوں میں ڈال دیا۔ اس کے بعد حشر میں کو جو کچھ مشرکین کے ساتھ معاملہ ہوگا۔ اس کا ذکر فرماتا ہے بقولہ یوم یحشرھم جمیعا الی قولہ ما کانوا یفترون کہ حشر کو ہم سب کو جمع کرکے مشرکین سے پوچھیں گے کہ تمہارے وہ معبود کہاں ہیں کہ جن کو تم پوجتے اور ان پر بڑا بھروسا رکھتے تھے۔ سو وہاں بجز اس کے اور کچھ جواب نہ بن آئے گا کہ قسم کھا کر کہیں گے ہم تو دنیا میں کسی کو خدا کا شریک نہ کرتے تھے۔ اپنی عادت کے موافق وہاں بھی کیسا جھوٹ بولے اور وہاں ان کے یہ سب ڈھکوسلے غلط ہوجاویں گے۔ سبحان اللہ ! کس خوبی کے ساتھ شرک کی مذمت کی ہے۔ ومنہم من یستمع الیک ابن عباس ؓ کہتے ہیں مکہ میں جبکہ مشرکین کا غلبہ تھا۔ ایک بار ابو سفیان اور ولید بن مغیرہ و نضر بن حارث اور عقبہ و عتبہ و شیبہ و امیۃ ابن خلف و حارث بن عامر و ابو جہل بڑے بڑے سرکش کافر آنحضرت ﷺ کا قرآن سننے آئے۔ آپ اس وقت سہج سہج پڑھ رہے تھے۔ کان لگا کر سننے لگے۔ سن کر ایک نے کہا یہ تو اگلے لوگوں کی کہانیاں ہیں۔ فرماتا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ خدا نے ان کے دلوں پر پردے ڈال دیے ہیں کہ جس سے کوئی کیسی ہی کھلی اور حق بات کیوں نہ ہو ان کی سمجھ میں نہیں آتی اور ان کے کان میں بھی قدرتی ثقل ہے گویا کہ یہ حق سن ہی نہیں سکتے (الٰہی توبہ ! جب قہر الٰہی کا پردہ دل اور آنکھوں اور کانوں پر پڑجاتا ہے پھر ہزار معجزے دکھائو جب بھی نہیں مانتا۔ حضرت مسیح (علیہ السلام) کے یہود نے کیا کچھ کم معجزے دیکھے مگر ایمان نہ لائے) اور اسی پر بس نہیں کہ خود نہیں مانتے بلکہ لوگوں کو بھی روکتے ہیں۔ پھر ان کا حشر میں تاسف کرنا اور جہنم کے کناروں پر کھڑے ہو کر رونا اور دنیا میں دوبارہ آنے کی آرزو کرنا کہ اب ایسا نہ کریں گے بیان فرماتا ہے اور اس حسرتناک پیش آنے والے دن کی کیفیت کا نقشہ دل پر کھینچتا ہے کہ جس سے انسان کی روح کپکپا اٹھتی ہے۔ ان جملوں میں آنحضرت ﷺ کی نبوت اور عالم حشر کا ثبوت عجب لطف کے ساتھ کیا گیا ہے جس لئے یہ کلام اول کے بعد آیا۔
Ayahs 6:25–26

وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّسْتَمِعُ اِلَیْكَ١ۚ وَ جَعَلْنَا عَلٰى قُلُوْبِهِمْ اَكِنَّةً اَنْ یَّفْقَهُوْهُ وَ فِیْۤ اٰذَانِهِمْ وَقْرًا١ؕ وَ اِنْ یَّرَوْا كُلَّ اٰیَةٍ لَّا یُؤْمِنُوْا بِهَا١ؕ حَتّٰۤى اِذَا جَآءُوْكَ یُجَادِلُوْنَكَ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ هٰذَاۤ اِلَّاۤ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 6:25 in the Quran reader

اور ان میں سے ایسے بھی ہیں جو آپ کی 1 ؎ طرف کان لگاتے ہیں۔ اور ان کے دلوں پر ہم نے اس کے نہ سمجھنے کے لئے پردے ڈال دیے ہیں اور ان کے کانوں میں (بھی) ثقل (ٹینٹ) ڈال رکھا ہے اور اگر وہ سب طرح کی نشانیاں بھی دیکھ لیں تب بھی آیات پر ایمان نہ لاویں۔ یہاں تک کہ جب آپ کے پاس آتے ہیں تو آپ سے جھگڑا کرتے ہیں۔ منکر یہ کہنے لگتے ہیں کہ یہ تو صرف اگلے لوگوں کے قصہ (کہانیاں) ہیں

وَ هُمْ یَنْهَوْنَ عَنْهُ وَ یَنْئَوْنَ عَنْهُ١ۚ وَ اِنْ یُّهْلِكُوْنَ اِلَّاۤ اَنْفُسَهُمْ وَ مَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 6:26 in the Quran reader

اور وہ اس سے اوروں کو بھی روکتے ہیں اور خود بھی رکتے ہیں اور وہ اپنے آپ ہی کو ہلاک کر رہے ہیں اور ان کو کچھ بھی خبر نہیں

1 ؎ یعنی جب تو قرآن پڑھتا ہے سنتے ہیں مگر ان کے دلوں پر پردے پڑے ہیں سمجھتے نہیں اور جو کوئی سمجھائے تو کانوں میں ٹیٹیاں ہیں اس کی سنتے ہیں۔ اور جو آنکھوں سے اس کی قدرت کی نشانیاں دیکھتے ہیں تو ایمان نہیں لاتے۔ 12 منہ
Ayah 6:27

وَ لَوْ تَرٰۤى اِذْ وُقِفُوْا عَلَى النَّارِ فَقَالُوْا یٰلَیْتَنَا نُرَدُّ وَ لَا نُكَذِّبَ بِاٰیٰتِ رَبِّنَا وَ نَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 6:27 in the Quran reader

اور آپ 2 ؎ ان کو اس وقت دیکھیں جب وہ جہنم کے کنارہ پر کھڑے کئے جاویں گے تو کہیں گے اے کاش ہم کو دنیا میں پھر بھیجا جائے اور ہم اپنے رب کی آیتیں نہ جھٹلائیں اور ایمان لانے والوں میں سے ہوجاویں۔

2 ؎ یعنی اب تو بڑے اتراتے پھرتے ہیں مگر جب لے جاکر جہنم کے کناروں پر کھڑے کردیے جائیں گے اور اس وقت حسرت سے کہیں گے کاش ہم کو پھر دنیا میں بھیجا جائے کہ وہاں جاکر ہم اپنی رب کی آیات نہ جھٹلائیں اور ایمان لے آئیں اس وقت اسی پیغمبر تو ان کو دیکھے تو ان کی حقیقت معلوم ہو کہ کیا حالت ہوگی۔ 12 منہ
Ayahs 6:28–29

بَلْ بَدَا لَهُمْ مَّا كَانُوْا یُخْفُوْنَ مِنْ قَبْلُ١ؕ وَ لَوْ رُدُّوْا لَعَادُوْا لِمَا نُهُوْا عَنْهُ وَ اِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ Open ayah 6:28 in the Quran reader

ان کی یہ حسرت ایمان کی رغبت سے نہ ہوگی بلکہ جس کو وہ پہلے سے چھپاتے تھے۔ وہ ان کے آگے آئی (اس کی برائی ان پر کھل گئی) 3 ؎ اور اگر وہ واپس بھی بھیجے جائیں تو پھر بھی وہی کریں گے جس سے وہ منع کئے گئے تھے اور بیشک وہ جھوٹے ہیں

وَ قَالُوْۤا اِنْ هِیَ اِلَّا حَیَاتُنَا الدُّنْیَا وَ مَا نَحْنُ بِمَبْعُوْثِیْنَ Open ayah 6:29 in the Quran reader

اور وہ کہتے ہیں کہ ہماری تو صرف یہی دنیا کی زندگانی ہے اور ہم مرنے کے بعد اٹھائے نہ جائیں گے

3 ؎ یعنی ان کی حسرت وہاں بھی ایمان کی رغبت سے نہ ہوگی بلکہ برے کاموں کا نتیجہ دیکھ کر ڈریں گے اور اس سے بچنے کے لیے یہ آرزو کریں گے۔ 12 منہ
Ayah 6:30

وَ لَوْ تَرٰۤى اِذْ وُقِفُوْا عَلٰى رَبِّهِمْ١ؕ قَالَ اَلَیْسَ هٰذَا بِالْحَقِّ١ؕ قَالُوْا بَلٰى وَ رَبِّنَا١ؕ قَالَ فَذُوْقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْفُرُوْنَ۠ Open ayah 6:30 in the Quran reader

اور اگر آپ ان کو اس وقت دیکھیں کہ جب وہ اپنے رب کے سامنے کھڑے کئے جاویں گے وہ فرمائے گا کیا یہ 4 ؎ حق نہیں۔ کہیں گے ہم کو اپنے رب کی قسم ! ہاں (حق) ہے فرمائے گا تو لو اب اپنے کفر کے بدلہ میں عذاب چکھو۔

4 ؎ یعنی دوبارہ جی اٹھنا۔ 12 منہ
Ayahs 6:31–34

قَدْ خَسِرَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِلِقَآءِ اللّٰهِ١ؕ حَتّٰۤى اِذَا جَآءَتْهُمُ السَّاعَةُ بَغْتَةً قَالُوْا یٰحَسْرَتَنَا عَلٰى مَا فَرَّطْنَا فِیْهَا١ۙ وَ هُمْ یَحْمِلُوْنَ اَوْزَارَهُمْ عَلٰى ظُهُوْرِهِمْ١ؕ اَلَا سَآءَ مَا یَزِرُوْنَ Open ayah 6:31 in the Quran reader

بیشک وہ تو خرابی میں پڑگئے جنہوں نے اللہ سے ملنے کو جھوٹ جانا 1 ؎۔ یہاں تک کہ جب ان پر وہ گھڑی اچانک آپہنچے گی تو کہیں گے افسوس ہماری کوتاہی پر (جو ہم نے قیامت کے بارے میں) کی اور وہ اپنے بوجھوں (گناہوں) کو اپنی پیٹھوں پر اٹھائے ہوں گے۔ دیکھو بہت ہی بڑا بوجھ ہوگا جس کو وہ اٹھائے پھریں گے

وَ مَا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَاۤ اِلَّا لَعِبٌ وَّ لَهْوٌ١ؕ وَ لَلدَّارُ الْاٰخِرَةُ خَیْرٌ لِّلَّذِیْنَ یَتَّقُوْنَ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ Open ayah 6:32 in the Quran reader

اور دنیا کی زندگی ہے کیا مگر کھیل اور تماشا اور پرہیزگاروں کے لئے آخرت کا گھر بہت ہی بہتر ہے۔ پھر تم کیا نہیں سمجھتے

قَدْ نَعْلَمُ اِنَّهٗ لَیَحْزُنُكَ الَّذِیْ یَقُوْلُوْنَ فَاِنَّهُمْ لَا یُكَذِّبُوْنَكَ وَ لٰكِنَّ الظّٰلِمِیْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ یَجْحَدُوْنَ Open ayah 6:33 in the Quran reader

(اے نبی ! ) ہم جانتے ہیں کہ آپ کو ان کی باتوں سے رنج ہوتا ہے سو وہ آپ کو تو نہیں جھٹلاتے بلکہ وہ ظالم اللہ کی آیتوں کا انکار کر رہے ہیں

وَ لَقَدْ كُذِّبَتْ رُسُلٌ مِّنْ قَبْلِكَ فَصَبَرُوْا عَلٰى مَا كُذِّبُوْا وَ اُوْذُوْا حَتّٰۤى اَتٰىهُمْ نَصْرُنَا١ۚ وَ لَا مُبَدِّلَ لِكَلِمٰتِ اللّٰهِ١ۚ وَ لَقَدْ جَآءَكَ مِنْ نَّبَاِی الْمُرْسَلِیْنَ Open ayah 6:34 in the Quran reader

اور ایسے پہلے بھی بہت سے رسول جھٹلائے جا چکے ہیں ٗ پر وہ ان کے جھٹلانے اور ایذائوں پر صبر کرتے رہے یہاں تک کہ ان کے پاس ہماری مدد آگئی اور اللہ کی باتیں کوئی بدل نہیں سکتا اور البتہ آپ کو رسولوں کا (کچھ) حال معلوم بھی ہوچکا ہے۔

1 ؎ یعنی یہ انکار قیامت اسی وقت تک ہے کہ قیامت نہیں آتی۔ پھر جب اچانک آگئی تو حسرت کریں گے اور پیٹھ پر گناہوں کا پشتارا ہوگا۔ 12 منہ 2 ؎ وزر کی جمع اوزار ہے جس کے معنی بار۔ چونکہ وزیر بادشاہ کے تمام کاروباراٹھاتا ہے اس لئے اس کو بھی وزیر کہتے ہیں۔ 12 منہ تفسیر : قیامت کے منکروں کو ایک اور طور سے نادم کیا جاتا ہے کہ یہ لوگ جو اللہ سے ملنے کے منکر ہیں ٗ خسارہ میں پڑگئے کیونکہ جب وہ ساعت موت جو قیامت کبریٰ کا مقدمہ ہے یکایک آجاوے گی تو حیرت کریں گے اس وجہ سے کہ قیامت کا تو ان کو یقین ہی نہیں اور قاعدہ ہے کہ جس چیز کا یقین نہیں ہوتا اس کے لئے کوئی سامان کافی نہیں کیا جاتا۔ ایسی حالت میں وہ دنیا کے لذات اور یہاں کی آسائش و کامیابی کے لئے ہی دوڑ دھوپ کرتا ہے۔ آخرت کے لئے کوئی سامان نہیں کرتا۔ ایسی حالت میں موت کا آجانا گویا ایک ایسی عظیم الشان مہم کا پیش آجانا ہے کہ جس کے لئے کچھ بھی سامان نہیں کیا گیا۔ ایسے وقت میں کس قدر تاسف ہوتا ہے یا حسرتنا علی مافرطنا فیہا۔ دوم وھم یحملون اوزارھم علی ظہورھم 2 ؎ کہ وہ جو انہوں نے گناہ کمائے ہیں اور یا جو کچھ حسرت و افسوس کا انبار ہے سب کا بوجھ ان کی پیٹھ پر لدا ہوگا جو نہایت برا بوجھ ہے۔ بعض علماء فرماتے ہیں کہ انسان کے اعمال مرنے کے بعد متشکل ہو کر نظرآویں گے۔ برے اعمال اس پر کریہہ شکل میں سوار ہوں گے۔ اچھے اعمال کے مراکب حسنہ پر یہ سوار ہوگا اور وہ اس کے جلیس و انیس و رفیق بھی ہوجاویں گے۔ بس اس سے زیادہ کون سے نقصان کی صورت ہے کہ عمر چند روزہ جو سعادت جاودانی حاصل کرنے کے لئے ملی تھی اس کو شقاوت جاودانی حاصل کرنے میں صرف کردیا گویا پانی خریدنے کو نکلے تھے ‘ ان داموں سے زہر خرید کر پی لیا۔ قد خسروا چونکہ یہ کوتاہ نظر جو قیامت کا انکار کرتے ہیں تو محض اس وجہ سے کہ لذائذِ دنیا میں ایسے مدہوش ہیں کہ جیسے لڑکے کھیل کود میں مصروف ہو کر اپنے اصلی مقاصد سے غافل ہوجاتے ہیں۔ اس لئے فرماتا ہے کہ ما الحیوۃ الدنیا۔ یہ دنیا کھیل کود ہے۔ یعنی جس طرح کھیل کود کا تھوڑا سا وقت ہوتا ہے جس کے بعد وقت ضائع کرنے پر افسوس ہوتا ہے۔ یہی حال دنیا کا ہے اور دار آخرت باقی اور وہاں کے لذائذ باقی ہیں۔ آنحضرت ﷺ کو جو مشرکین قیامت اور وہاں کے حساب و کتاب کی بابت جھٹلاتے تھے آپ کو بمقتضائے بشریت رنج ہوتا تھا۔ قد نعلم الخ میں خدا آنحضرت ﷺ کی تسلی کرتا ہے کہ ہمیں ان کا جھٹلانا اور آپ کا رنجیدہ ہونا معلوم ہے۔ وہ درحقیقت آپ کو نہیں بلکہ اللہ کی آیتوں کو جھٹلا رہے ہیں۔ رسول کی تکذیب دراصل اسی کی تکذیب ہے کہ جس کا وہ رسول ہے۔ سو آپ صبر کیجئے پہلے انبیاء کو بھی لوگوں نے جھٹلایا اور ایذائیں دی ہیں۔ پھر خدا کا وعدہ مقررہ جو کسی سے ٹل نہیں سکتا آگیا۔ وہ ہلاک ہوئے۔
Ayah 6:35

وَ اِنْ كَانَ كَبُرَ عَلَیْكَ اِعْرَاضُهُمْ فَاِنِ اسْتَطَعْتَ اَنْ تَبْتَغِیَ نَفَقًا فِی الْاَرْضِ اَوْ سُلَّمًا فِی السَّمَآءِ فَتَاْتِیَهُمْ بِاٰیَةٍ١ؕ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَجَمَعَهُمْ عَلَى الْهُدٰى فَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْجٰهِلِیْنَ Open ayah 6:35 in the Quran reader

اور (اے نبی) اگر آپ 1 ؎ پر ان کا منہ پھیرنا شاق گذرتا ہے تو آپ سے ہو سکے تو کوئی زمین میں سرنگ تلاش کرکے آسمان کے لئے سیڑھی پیدا کرکے ان کو کوئی نشان لا دیجئے اور اگر اللہ چاہتا تو ان سب کو ہدایت پر جمع کردیتا۔ پھر آپ ہرگز نادان نہ بن جانا (کہ عذاب کی جلدی کرنے لگو)

1 ؎ اگر تیرے دل میں بنی آدم کی ہمدردی کا جوش ہے اور تجھے ان کا منکر رہنا ناگوار گذرتا ہے تو جو تدبیر تجھ سے ہو سکے کر گذر۔ زمین میں سرنگ لگا یا آسمان پر سیڑھی اور ان کی خواہش سے ان کو معجزہ دکھا مگر جب بھی وہ نہ مانیں گے۔ ازلی گمراہ ہیں۔ یہاں ایسا ہی منظر تھا۔ 12 منہ ترکیب : ان شرطیہ اعراضہم کبر کا فاعل ‘ فان استطعت شرط ان تبتغی مفعول استطعت فتاتیہم جواب۔ یہ دونوں شرط بعد جواب مل کر شرط اول کی جزا ہوئے۔ تفسیر : آنحضرت ﷺ کی نبوت میں جو کفار کو تامل ہوتا تھا اس کے چند خیالی سبب تھے۔ منجملہ ان کے ایک یہ تھا کہ وہ آنحضرت ﷺ سے وقتاً فوقتاً امتحان کے طور پر معجزات کا سوال کرتے تھے اور عادت اللہ یوں جاری نہیں کہ لوگوں کے کہنے پر معجزہ ظاہر کیا جاوے۔ اس لئے جب بوقت صلیب یہود نے حضرت مسیح (علیہ السلام) سے معجزہ طلب کیا تو صاف انکار کیا (انجیل) چناچہ ایک بار حارث بن عامر بن نوفل بن عبد مناف چند کفار قریش کے ساتھ آنحضرت ﷺ کے پاس حاضر ہو کر کسی معجزہ کا خواستگار ہوا جس کا ظاہر کرنا خدا تعالیٰ نے نہ چاہا اس لئے وہ جماعت اس وقت ایمان نہ لائی۔ یہ بات آنحضرت ﷺ کو (اس لئے کہ آپ کی کمال رغبت تھی کہ کسی طرح یہ قوم جو ہلاکت کے دریا میں غوطہ کھا رہی ہے نجات پاوے) شاق معلوم ہوئی۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی (کبیر) فرماتا ہے اگر تجھے اے نبی ان کا اعراض کرنا شاق معلوم ہو تو ہوا کرے ٗ خدا تعالیٰ کو ان ازلی گمراہوں کی کچھ بھی خاطر نہیں تو ان سے ایمان کی طمع نہ کر اور مرضی الٰہی بغیر ان کو نشان دکھانا محال ہے (اس کو آسمان تک سیڑھی بنانے اور زمین میں سرنگ لگانے کے ساتھ تعبیر کیا ہے جو عادتاً محال ہے) پھر تسلی دیتا ہے کہ اللہ ہی کو منظور نہیں ورنہ وہ چاہتا تو سب کو راہ راست پر کردیتا (وہ قادر مختار ہے جو چاہے کرے) ۔ پھر اپنی نامرضی کی وجہ بیان فرماتا ہے کہ ان میں ہدایت کی صلاحیت ہی نہیں رہی۔ یہ گمراہ ازلی ہیں۔ ان کی حیات روحانی جاتی رہی۔ اس کو انما یستجیب الخ کے ساتھ تعبیر فرماتا ہے کہ ان میں سننے کی اور ماننے کی لیاقت ہی نہ رہی جیسا کہ مردوں میں یہ طاقت نہیں رہی۔ ہاں اب ان مردوں کا زندہ کرنا اسی کے اختیار میں ہے سو وہ دنیا میں تو زندہ نہیں کرے گا نہ ان کو یہ صلاحیت ایمان عطا فرمائے گا۔ ہاں صرف حشر کے روز کی زندگی باقی ہے۔ سو وہ اس روز زندہ کرے گا۔ پھر اسی وقت یہ لوگ مجبوراً اللہ کی طرف رجوع کریں گے۔ دنیا میں تو کرتے نظر نہیں آتے۔ جیسا کوئی حاکم کہے کہ یوں تو ہمارے پاس نہیں آتے مگر گرفتار ہو کر آویں گے۔
Ayah 6:36

اِنَّمَا یَسْتَجِیْبُ الَّذِیْنَ یَسْمَعُوْنَ١ؔؕ وَ الْمَوْتٰى یَبْعَثُهُمُ اللّٰهُ ثُمَّ اِلَیْهِ یُرْجَعُوْنَؐ Open ayah 6:36 in the Quran reader

مانتے تو وہی ہیں جو (دل سے) سن سکتے ہیں 2 ؎ (کفار مردے ہیں) اور مردوں کو تو اللہ ہی زندہ کرے گا۔ پھر وہ اس کی طرف پھر کر لائے جائیں گے۔

2 ؎ یعنی جو دل سے سن سکتے ہیں وہی ایمان لاتے ہیں اور یہ زندہ دلوں کا کام ہے اور منکر مردہ دل ہیں۔ پھر مردوں کو دنیا میں کیا ہدایت ہوگی۔ ان کو تو اللہ ہی قیامت میں زندہ کرے گا۔ 12 منہ
Ayah 6:37

وَ قَالُوْا لَوْ لَا نُزِّلَ عَلَیْهِ اٰیَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ١ؕ قُلْ اِنَّ اللّٰهَ قَادِرٌ عَلٰۤى اَنْ یُّنَزِّلَ اٰیَةً وَّ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 6:37 in the Quran reader

اور (کافر) یہ بھی کہتے ہیں کہ اس پر اس کے رب کی طرف سے کوئی نشانی کیوں نازل نہ کی گئی۔ کہہ دو کہ اللہ نشانی نازل کرنے پر تو قادر ہے لیکن ان میں سے بہت سے جانتے ہی نہیں 1 ؎

1 ؎ کہ معجزہ نازل نہ کرنے میں کیا کیا مصلحت ہے۔ 12 منہ ترکیب : فراء نے کہا ہے ارایت کا لفظ عرب میں دو معنی میں استعمال ہوتا ہے ایک رویۃ العین جب کسی کو کہے گا رایتک تو اس سے مراد ارایت نفسک ہے یہ مثنیٰ و مجموع ہوتا ہے ارایتکما ارایتکم دوسرے معنی رایتک اخبرنی جب ان معنی میں استعمال ہوگا تو ت مفتوحہ لاویں گے ہر حال میں ارایتک، ارایتکما، ارایتکم، ارایتکن بصریوں کے نزدیک ارایتک میں کاف جو ضمیر ثانی ہے اس کا کوئی محل اعراب نہیں بلکہ یہ حرف صرف خطاب کے لیے ہے۔ فراء کہتے ہیں کاف تاکید کے لئے نہیں۔ تفسیر : منکرین نبوت کے شبہات کی یہ چوتھی قسم ہے۔ وہ کہتے تھے کہ اگر آپ نبی برحق ہیں تو ہمارے کہنے کے موافق کیوں معجزہ نہیں دکھاتے ؟ اس کے جواب میں فرماتا ہے کہ خدا اس پر بھی قادر ہے مگر اس قسم کے معجزات انجام کار منکروں کے قطع و برید کا باعث ہوجاتے ہیں اور نیز عادت اللہ بھی یوں جاری نہیں اور ایسے معجزات کا کچھ فائدہ بھی نہیں ہوتا کیونکہ ایسے منکر پھر بھی ایمان نہیں لاتے۔ پھر نبوت نہ ٹھہری بھان متی کا تماشا ٹھہرا۔ ان سب باتوں کی طرف اس جملہ میں اشارہ کرتا ہے ولکن اکثرھم لا یعلمون ومامن دابۃ اس جگہ ان کے شبہات کا رد کرکے آنحضرت ﷺ کی نبوت کا اثبات کرتا ہے اور اس طرح سے کہ زمین پر چلنے والوں اور ہوا پر اڑنے والے پرندوں کا خیال کرو کہ ان پر ہماری کیسی رحمت ہے۔ پھر اگر ایسے معجزات میں تمہارے لئے رحمت ہوتی تو ہم ہرگز دریغ نہ کرتے کیونکہ ہم کو قدرت ہے اور قدرت کا ثبوت بھی ان چرند پرند مخلوقات میں غور کرنے سے ظاہر ہے کہ چیونٹی سے لے کر ہاتھی تک اور چڑیا سے لے کر باز سیمرغ تک جس نوع کو دیکھو گے اس کے انتظامات اور آفرینش میں اس کی قدرت کی نشانی دکھائی دے گی اور ثبوت اس طرح پر کہ ان تمام انواع و اقسام حیوانات کو غور کرکے دیکھو تو وہ بھی تمہاری مثل ہیں۔ کھانے میں ‘ پینے میں ‘ چلنے میں ‘ لڑنے میں ‘ ملاپ میں ‘ بچوں کی پرورش اور گھر بنانے میں پھر جب اس رحیم و کریم نے ان حیوانات کو بغیر ایک معلم اور سردار کے خالی نہیں چھوڑا ہاتھیوں میں بھی ایک پیشرو ‘ چیونٹیوں میں بھی ایک پیش رو ہے علی ہذا القیاس تو پھر وہ اشرف انواع حیوان یعنی انسان کو بغیر معلم روحانی کے کیونکر خالی چھوڑتا اور اس زمانہ میں کہ تمام عالم میں گناہوں کی اور کفر بت پرستی کی گھٹا چھائی ہوئی ہے۔ اس معلم کی زیادہ ضرورت ہے اور اس وقت میں بجز محمد ﷺ کے تم کو اور کون دکھائی دیتا ہے۔ مافرطنا سے لے کر صراط مستقیم تک یہ بات بتلاتا ہے کہ قرآن میں ہر ایک قسم کے اسرار اور دلائل ودیعت رکھے گئے ہیں مگر کفار اندھے بہرے ہیں۔ ان کو وہاں تک رسائی نہیں۔ ایک فطری بات سے اپنی ذات کا نشان دیتا ہے کہ ان ملحد اور مشرکوں سے پوچھو کہ جب کوئی سخت مصیبت کا وقت آتا ہے تو روح کا میلان اپنی اسی چیز اصلی کی طرف ہوتا ہے اگر مانع نہ ہو تو اس حالت میں اسی کو پکارتے ہیں پھر وہی خلاصی دیتا ہے۔