6. Surah Al-An'aam

الأنعامThe Cattle · 165 ayahsتفسیرِ حقانی

Ayahs 6:154–157

ثُمَّ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ تَمَامًا عَلَى الَّذِیْۤ اَحْسَنَ وَ تَفْصِیْلًا لِّكُلِّ شَیْءٍ وَّ هُدًى وَّ رَحْمَةً لَّعَلَّهُمْ بِلِقَآءِ رَبِّهِمْ یُؤْمِنُوْنَ۠ Open ayah 6:154 in the Quran reader

پھر (سنو) ہم نے موسیٰ کو کتاب دی تھی تاکہ جو نیک ہے اس کی تکمیل ہوجاوے اور ہر ایک چیز کی تفصیل و ہدایت و رحمت ہوجائے تاکہ وہ اپنے رب کے ملنے پر ایمان لائیں

وَ هٰذَا كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ مُبٰرَكٌ فَاتَّبِعُوْهُ وَ اتَّقُوْا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَۙ Open ayah 6:155 in the Quran reader

اور یہ (قرآن) کتاب مبارک بھی ہم نے نازل فرمائی ہے۔ سو اس پر چلو اور پرہیزگاری کرو تاکہ تم پر رحم کیا جاوے

اَنْ تَقُوْلُوْۤا اِنَّمَاۤ اُنْزِلَ الْكِتٰبُ عَلٰى طَآئِفَتَیْنِ مِنْ قَبْلِنَا١۪ وَ اِنْ كُنَّا عَنْ دِرَاسَتِهِمْ لَغٰفِلِیْنَۙ Open ayah 6:156 in the Quran reader

تاکہ تم نہ کہنے لگو کہ کتاب تو ہم سے پہلے صرف دو قوموں پر نازل ہوئی تھی اور ہم تو ان کے پڑھنے پڑھانے سے بیخبر ہی رہے

اَوْ تَقُوْلُوْا لَوْ اَنَّاۤ اُنْزِلَ عَلَیْنَا الْكِتٰبُ لَكُنَّاۤ اَهْدٰى مِنْهُمْ١ۚ فَقَدْ جَآءَكُمْ بَیِّنَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ هُدًى وَّ رَحْمَةٌ١ۚ فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ كَذَّبَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ صَدَفَ عَنْهَا١ؕ سَنَجْزِی الَّذِیْنَ یَصْدِفُوْنَ عَنْ اٰیٰتِنَا سُوْٓءَ الْعَذَابِ بِمَا كَانُوْا یَصْدِفُوْنَ Open ayah 6:157 in the Quran reader

یا یوں کہنے لگو کہ اگر ہم پر بھی کتاب نازل ہوتی تو ہم ان سے زیادہ پر ہدایت ہوجاتے۔ لو تمہارے پاس بھی تمہارے رب کے ہاں سے دلیل اور ہدایت اور رحمت آچکی۔ پھر اس سے بڑھ کر کون ظالم ہوگا جو اللہ کی آیتیں جھٹلائے اور ان سے کترائے۔ ہم بھی اپنی آیتوں سے کترانے والوں کو برے عذاب کی سزا دیں گے اس وجہ سے کہ وہ کترایا کرتے تھے۔

ترکیب : تماماً مفعول لہ علی الذین احسن جار متعلق ہے تماما سے وتفصیلا الخ تماما پر معطوف ھذا مبتداء کتاب خبر ان تقولو اے کر اہۃ ان تقولوا وان کنا ان مخففہ واسمہا محذوف ای انا او تقولوا ان تقولوا پر معطوف۔ لوانا شرط لکنا الخ جواب جملہ مفعول تقولوا فمن مبتداء اظلم خبر ممن اس سے متعلق بآیات اللہ کذب کا مفعول۔ تفسیر : یہاں یہ بات بتلاتا ہے کہ ان اشیائِ مذکورہ کا حرام کرنا کچھ نئی بات نہیں۔ ہم ہمیشہ انبیاء کی معرفت لوگوں کو اچھی بری باتوں سے خبر دیتے رہے ہیں۔ چناچہ ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو ایک کتاب دی تھی یعنی تورات (یہاں سے صاف معلوم ہوا کہ جو کتاب بنام نہاد تورات موسیٰ کے بعد لوگوں نے جمع کی وہ ہرگز تورات نہیں جیسا کہ آج کل اہل کتاب کے پاس ایک مجموعہ تورات کہلاتا ہے) جو نیکوں کے لئے ناتمام نہ تھی اور اس میں دینی باتیں سب تھیں اور اخلاق کی تعلیم میں ہدایت اور رحمت تھی تاکہ لوگوں کو خدا کے پاس جانے کا اس کتاب سے یقین ہوجائے۔ اس میں بھی اس قسم کے احکام تھے۔ خصوصاً احکام عشرہ کہ جن میں سے سبت کی تعظیم نکال دی جاوے تو یہی نو حکم رہ جاتے ہیں۔ گو عنوان کا فرق ہے۔ ثم تراخی بیان کے لئے ہے۔ یہ مراد نہیں کہ فلاں فلاں چیزیں حرام کرکے ہم نے موسیٰ کو تورات دی تھی بلکہ یہ مراد کہ ان کے بیان کے بعد یہ کہتا ہوں کہ موسیٰ کو ایسی کتاب دی تھی۔ عرب کا یہود و نصاریٰ سے مدت سے میل جول تھا۔ ان سے توریت وانجیل کا حال سن کر دل میں آرزو کیا کرتے تھے کہ کاش ہم پر کوئی کتاب نبی کی معرفت آتی تو ہم ان سے بھی زیادہ ہدایت پر ہوجاتے۔ اس لئے تورات مقدسہ کا ذکر کرکے فرماتا ہے وھذا کتاب انزلناہ لو یہ کتاب یعنی قرآن ہم نے نازل کردیا ہے جو بڑی بابرکت کتاب ہے سو اس پر چلو اور پرہیزگاری اختیار کرو تاکہ تم پر خدا کی رحمت ہو۔ اور اس کتاب سے تمہارا عذر بھی باقی نہ رہا کہ ہم سے پہلے دو قوموں یہود و نصاریٰ پر کتاب اتری اور ہم کو بسبب غیر زبان ہونے کے ان کے مطالب سے خبر نہ ہوئی اور اب اس بات کے کہنے کا موقع بھی نہ رہا کہ اگر ہم پر کتاب نازل ہوتی تو ہم بہت زیادہ ہدایت قبول کرتے کیونکہ اب تو تمہارے پاس خدا کی طرف سے بینہ یعنی دلیل واضح آچکی ہے کہ جس نے حق و باطل کو کھول دیا اور نیز دنیاوی و دینی تعلیم و ترقی کے لئے یہ کتاب ھدٰی یعنی سچا ہادی اور برحق مرشد و رہنما اور عالم قدس کی بادشاہت حاصل کرنے کے لئے رحمت ہے مگر ان ازلی بدبختوں نے اس کتاب کے نازل ہونے کے بعد اور سالہا سال کی آرزو حاصل کرنے کے بعد بھی اس کا انکار کیا اور اس سے رک گئے۔ ایسی صورت میں الزام دیتا ہے کہ بھلا اس سے زیادہ کون ظالم و بدبخت ہے کہ جو اللہ کی آیتوں کو جھٹلائے اور ان سے رکے۔ حالانکہ اس نے تو بلاغرض تم پر عنایت و رحمت کی ہے۔ پس جو ایسی نعمت کی قدر نہیں کرتے ان کو عنقریب عذاب پہنچے گا۔
Ayahs 6:158–159

هَلْ یَنْظُرُوْنَ اِلَّاۤ اَنْ تَاْتِیَهُمُ الْمَلٰٓئِكَةُ اَوْ یَاْتِیَ رَبُّكَ اَوْ یَاْتِیَ بَعْضُ اٰیٰتِ رَبِّكَ١ؕ یَوْمَ یَاْتِیْ بَعْضُ اٰیٰتِ رَبِّكَ لَا یَنْفَعُ نَفْسًا اِیْمَانُهَا لَمْ تَكُنْ اٰمَنَتْ مِنْ قَبْلُ اَوْ كَسَبَتْ فِیْۤ اِیْمَانِهَا خَیْرًا١ؕ قُلِ انْتَظِرُوْۤا اِنَّا مُنْتَظِرُوْنَ Open ayah 6:158 in the Quran reader

کیا وہ (یہی) انتظار کر رہے ہیں کہ ان کے پاس فرشتے آویں (جان سے) یا آپ کا رب (آئے) یا اس کی بعض نشانیاں (قیامت) جس دن آپ کے رب کی بعض نشانیاں آجاویں گی 1 ؎ تو جو کوئی اس سے پہلے ایمان نہ لایا تھا یا اپنے ایمان میں 2 ؎ کچھ نیکی نہ کی تھی تو اس کا ایمان اس کو کچھ بھی نفع نہ دے گا (اے رسول ! منکرین سے) کہہ دو (اچھا) انتظار کرو ہم بھی انتظار کر رہے ہیں

اِنَّ الَّذِیْنَ فَرَّقُوْا دِیْنَهُمْ وَ كَانُوْا شِیَعًا لَّسْتَ مِنْهُمْ فِیْ شَیْءٍ١ؕ اِنَّمَاۤ اَمْرُهُمْ اِلَى اللّٰهِ ثُمَّ یُنَبِّئُهُمْ بِمَا كَانُوْا یَفْعَلُوْنَ Open ayah 6:159 in the Quran reader

(اے رسول ! ) جنہوں نے کہ اپنے دین میں پھوٹ ڈالی اور کئی فرقے بن گئے تو آپ کو ان کی کسی بات سے (بھی) سروکار نہیں۔ ان کا معاملہ اللہ کے سپرد ہے پھر وہ ان کو آپ بتلائے گا کہ وہ کیا کیا کرتے تھے

1 ؎ یعنی قیامت کے آثار کبریٰ ۔ 12 منہ 2 ؎ یعنی ایمان کی حالت میں۔ 12 منہ ترکیب : یوم کا عامل لا ینفع ہے نفسا مفعول ایمانہا فاعل لم تکنٍ الخ او کسبت الخ دونوں جملہ صفت ہیں نفسا کی۔ خیرا کسبت کا مفعول لست منہم خبر ان الذین دینا بدل ہے صراط سے جو معنی منصوب ہے۔ تفسیر : جب معجزات و آیات بینات سے مخالفوں کی ہر طرح کی تسلی کی گئی ٗ توحید کے مضامین نئے نئے عنوان سے بیان ہوئے ‘ عالم آخرت اور وہاں کی جزاء و سزا کا نقشہ کھینچ دیا گیا مگر اس پر بھی کفار کا نہ ماننا اور اسی قدیم لکیر کا فقیر بنا رہنا حد درجہ کی سیاہ دلی ہے جس کی نسبت آخر کو یہی فرمانا پڑا کہ کیا اب تم اسی بات کے منتظر ہو کہ تمہارے پاس ملائکہ آویں یا خدا تعالیٰ 5 ؎ آوے یا اس کے ہاں کی کوئی خاص نشانی آئے جب تم مانو گے۔ پھر جب ایسا وقت آجائے گا تو تمہارا ایمان کچھ بھی فائدہ نہ بخشے گا کیونکہ جو کوئی اس وقت سے پہلے ایمان نہ لایا ہوگا یا اس نے اپنے ایمان میں آکر کوئی نیکی نہ کی ہو تو ہرگز اس وقت کا ایمان معتبر نہ ہوگا۔ یہاں سے علماء کرام نے یہ بات ثابت کی ہے کہ جب انسان کو عالم آخرت کے نشان نظر آنے لگیں گے اور وقت نزع شروع ہوجائے۔ اس وقت کا ایمان ایمان باس کہلاتا ہے ٗ معتبر نہ ہوگا۔ ایسا ہی جب کسی قوم پر اس کے عذاب کے آثار نمودار ہوجاویں جن سے مراد بعض آیات ربک ہیں وہ بھی مقبول نہیں کیونکہ یہ حالت اضطرار و مشاہدہ ہے۔ ایمان بالغیب کا وقت جاتا رہا۔ فرماتا ہے کہ اچھا اس وقت کا انتظار کرو میں بھی کر رہا ہوں۔ اس کے بعد آنحضرت ﷺ کو تسلی بخشتا ہے کہ گو آپ کا دل یہی چاہتا ہے کہ یہ ملت ابراہیمیہ فطرت اسلامیہ پر قائم ہوجاویں مگر جن سے کہ اس ملت کو چھوڑ کر نئے نئے رستے نکالے اور اس میں تفریق کردی جیسا کہ کفار نے کیا (اس میں ملت اسلامیہ میں نئے فرقہ پیدا کرنے کی بھی مذمت ہے) سو آپ پر ان کا کچھ محاسبہ نہیں۔ خدا ان سے آپ سمجھ لے گا پھر وہاں کے محاسبہ اور جزا کی کیفیت بیان فرماتا ہے کہ جو کوئی ایک نیکی کرے گا تو ہم اپنے فضل و کرم سے دہ چند بدلہ دیں گے (عدد مقصود نہیں بلکہ زیادتی مراد ہے) اور جو کوئی برائی کرے گا تو اس کا اسی قدر بدلہ پاوے گا ٗ پھر آپ کو حکم دیتا ہے کہ ان کو کہہ دو میں ملت ابراہیم پر قائم ہوں جو سیدھی راہ ہے جو کہ مشرک نہ تھا جس کو کہ تم بھی مانتے ہو اور میرا مرنا جینا نماز و قربانی سب اسی کے لئے ہے کہ جس کا کوئی شریک نہیں اور مجھے یہی حکم ہوا ہے اور میں سب سے اول اس کے آگے سر جھکانے والا ہوں۔ ان کلمات سے کیا ہی عشق الٰہی ٹپکتا ہے۔ 5 ؎ کفار ایسی باتیں کہا کرتے تھے۔ 12 منہ : جس وقت یہ سب علامات ظاہر ہوجائیں گی تو نہ توبہ قبول ہوگی۔ اس وقت پر ایمان لانا مقبول ہوگا آفتاب کا مغرب سے نکلنا۔ دجال کا ظاہر ہونا دابۃ الارض کا نکلنا اس سنت کا اجماع ہے کہ جب عذاب الٰہی یا عالم آخرت نشانیاں انسان پر ظاہر ہوتی ہے تو اس وقت کسی کی توبہ قبول اور نہ حالت نزع کی توبہ قبول ہوتی ہے۔ حقانی۔
Ayah 6:160

مَنْ جَآءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهٗ عَشْرُ اَمْثَالِهَا١ۚ وَ مَنْ جَآءَ بِالسَّیِّئَةِ فَلَا یُجْزٰۤى اِلَّا مِثْلَهَا وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ Open ayah 6:160 in the Quran reader

جو کوئی نیکی 3 ؎ لے کر آوے گا تو اس کا دس گنا بدلہ پاوے گا اور جو کوئی گناہ لے کر آوے گا تو صرف اتنی ہی سزا پاوے گا اور ان پر (ہرگز) ظلم نہ کیا جاوے گا۔

3 ؎ یعنی قیامت میں دنیا سے نیکی لے کر آوے گا تو دس گنا اجر ملے گا اور گناہ کا اتنا ہی۔ 12 منہ
Ayahs 6:161–163

قُلْ اِنَّنِیْ هَدٰىنِیْ رَبِّیْۤ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ١ۚ۬ دِیْنًا قِیَمًا مِّلَّةَ اِبْرٰهِیْمَ حَنِیْفًا١ۚ وَ مَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِیْنَ Open ayah 6:161 in the Quran reader

(اے رسول ! کافروں سے) کہہ دو میرے رب نے مجھے سیدھا رستہ بتا دیا ہے۔ صحیح مذہب ابراہیم 4 ؎ حنیف کا دین ہے اور وہ شرک کرنے والوں میں سے نہ تھے۔

قُلْ اِنَّ صَلَاتِیْ وَ نُسُكِیْ وَ مَحْیَایَ وَ مَمَاتِیْ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 6:162 in the Quran reader

کہہ دیجئے میری نماز اور میری قربانی اور میرا جینا اور میرا مرنا سب خاص اللہ ہی کے لئے ہے جو تمام جہان کا رب ہے

لَا شَرِیْكَ لَهٗ١ۚ وَ بِذٰلِكَ اُمِرْتُ وَ اَنَا اَوَّلُ الْمُسْلِمِیْنَ Open ayah 6:163 in the Quran reader

جس کا کوئی (بھی) شریک نہیں اور مجھے یہی حکم ہوا ہے اور میں سب سے اول حکم بردار ہوں۔

4 ؎ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) بت پرستی سے یکسو ہوگئے تھے اور حنیف یکسو کو کہتے ہیں اس لئے ابراہیم (علیہ السلام) کو حنیف کہا جاتا ہے۔ 12 منہ
Ayahs 6:164–165

قُلْ اَغَیْرَ اللّٰهِ اَبْغِیْ رَبًّا وَّ هُوَ رَبُّ كُلِّ شَیْءٍ١ؕ وَ لَا تَكْسِبُ كُلُّ نَفْسٍ اِلَّا عَلَیْهَا١ۚ وَ لَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰى١ۚ ثُمَّ اِلٰى رَبِّكُمْ مَّرْجِعُكُمْ فَیُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ فِیْهِ تَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 6:164 in the Quran reader

(اے پیغمبر ان سے) کہہ دیجئے کیا میں اللہ کے سوا کسی اور رب کو ڈھونڈوں حالانکہ وہ ہر چیز کا رب ہے اور جو کوئی برائی کماتا ہے تو اس کا وبال اسی پر ہے اور کوئی شخص دوسرے کا بوجھ نہ اٹھاوے گا۔ پھر تم کو اپنے رب ہی کے پاس جانا ہے۔ پھر وہ تم کو وہ بات بتاوے گا جس میں کہ تم اختلاف کرتے تھے

وَ هُوَ الَّذِیْ جَعَلَكُمْ خَلٰٓئِفَ الْاَرْضِ وَ رَفَعَ بَعْضَكُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجٰتٍ لِّیَبْلُوَكُمْ فِیْ مَاۤ اٰتٰىكُمْ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ سَرِیْعُ الْعِقَابِ١ۖ٘ وَ اِنَّهٗ لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠ Open ayah 6:165 in the Quran reader

اور وہی تو ہے کہ جس نے تم کو زمین کا خلیفہ بنا دیا اور تم میں سے ایک کو دوسرے پر بلند مرتبہ کیا تاکہ جو تم کو دیا ہے اس میں تمہارا امتحان کرے۔ آپ کا رب جلد عذاب کرنے والا ہے اور وہ غفور رحیم (بھی) ہے۔

ترکیب : قل اغیر اللّٰہ اس کی ترکیب ومن یتبع غیر الاسلام میں گذرچ کی۔ خلائف جمع خلیفہ مفعول ثانی جعل کا۔ فوق بعض رفع کا ظرف درجات کی ترکیب نرفع درجات میں بیان ہوچکی۔ تفسیر : مشرکین یا تو بتوں کو پوجتے اور ان سے مدد مانگتے تھے یا ستاروں کو یا جنوں کو یا ارواح انبیاء و اولیاء کو جیسا کہ عیسائی مسیح (علیہ السلام) کو خدا یا خدا کا بیٹا کہتے ہیں یا عناصر کو لیکن بایں ہمہ سب خدا تعالیٰ کے قائل تھے اور ان چیزوں کو خدا کی پیدا کی ہوئی چیزیں بھی جانتے تھے اور اب بھی مشرکین کا یہی حال ہے اب ان سب کو ایک ایسی دلیل سے ساکت کرتا ہے اور اس کو ان صلاتی ونسکی الخ لاشریک لہ کے بعد بطور دلیل کے لاتا ہے کہ جس کا کچھ جواب ہی نہیں اور اس عمدہ بیان پر سورة کو تمام کرتا ہے۔ وہ یہ کہ جب یہ سب چیزیں اس کی پیدا کی ہوئی ہیں اور وہی سب کا رب اور قاضی الحاجات وقتاً فوقتاً ہے تو کیا اس کے ساتھ اس کی مخلوق کو شریک کیا جاوے۔ آقا کے رتبہ میں نوکر کو اور بادشاہ کی رعیت کو شریک کرنا کس عقل کا کام ہے۔ قل اغیر اللّٰہ ابغی ربا وھو رب کل شیئ۔ پھر ان کے ایک اور شبہ کو دفع کرتا ہے کہ اچھا میں جو تم کو توحید کی طرف بلاتا ہوں۔ اس میں ذاتی کیا فائدہ ہے اور نہ ماننے میں میرا کیا نقصان ہے ؟ کیونکہ جو کوئی برائی کرتا ہے تو اپنے لئے کرتا ہے کسی کے گناہ کا بوجھ کوئی نہیں اٹھاوے گا۔ اس کے بعد ان کو ایک طور سے اطمینان بھی دلاتا ہے اور اس کے ضمن میں شرک کو بھی رد فرماتا ہے کہ آخر کار تم کو خدا کے پاس جانا ہے۔ میرا جھوٹ سچ وہاں تم کو معلوم ہوجائے گا۔ وہ تم کو تمہارے اختلاف کو بتاوے گا کہ کیا تھا ؟ اور وہاں ان معبودوں میں سے کوئی بھی کام نہ آوے گا۔ مکہ کے دولت مند مشرک موحدین مفلسین کو دیکھ کر یہ کہا کرتے تھے کہ دیکھو ہم اپنے معبودوں کی بدولت اس قدر مرفہ حال ہیں۔ یہ معبود خدا کی طرف سے کار ساز ہیں جس طرح دنیا میں بادشاہ کا عملہ کارساز ہوتا ہے۔ بغیر ان کے بادشاہ کچھ نہیں کرسکتا۔ مسلمانوں نے ان کو چھوڑ دیا۔ اس لئے افلاس و تنگدستی میں گرفتار ہیں (آج کل کے جاہل بھی یہی کہا کرتے ہیں کہ اگر فلاں کی نذر و منت نہ کی جائے تو ہمارے مال و اولاد ‘ عزت و آبرو میں فرق آجائے گا) اس کے جواب میں فرماتا ہے اللہ ہی نے تم کو خلیفہ کیا ہے یعنی ایک مرتا ہے اس کی جگہ دوسرا قائم ہوتا ہے اور انتظام دنیا کے لئے مال و جاہ عقل و صورت میں ایسے انقلاب کے وقت مختلف الدرجات ہونا حکمت الٰہی کا مقتضٰی ہے۔ اگر سب دولت مند ہوں یا سب فقیر ہوں یا سب بیمار یا تندرست ہوں تو دنیا قائم نہ رہے اور نیز اس میں تمہاری آزمائش بھی مقصود ہے کہ دیکھیں نعمتوں کے وقت کون ہماری طرف جھکتا ہے ؟ لیبلوکم فی ما آتاکم اور مصائب میں کون صبر کرتا ہے۔ پس جو نعمتوں کا شکر اور مصائب میں صبر نہ کرے گا تو وہ سریع العقاب ہے اور جو شکر و صبر کرے گا تو انہ لغفور رحیم سو یہ بات اس لئے ہے نہ کہ تمہارے خیال خام کی وجہ سے جعلکم خلائف الارض میں اس طرف بھی اشارہ ہے کہ انبیاء کے بعد محمد ﷺ اور ان کی امت سب کی جانشین ہے اور نیز یہ بھی کہ انسانوں میں سے خدا پرست اس کے خلیفہ ہیں۔ سبحان اللہ کلام کو کس لطف کے ساتھ شروع کیا تھا اور وسط میں کس خوبی کے ساتھ ان مقاصد کو ادا کیا اور پھر تمام کس عمدہ دلیل پر کیا۔ ولہ الحمد۔