6. Surah Al-An'aam

الأنعامThe Cattle · 165 ayahsتفسیرِ حقانی

Ayahs 6:75–82

وَ كَذٰلِكَ نُرِیْۤ اِبْرٰهِیْمَ مَلَكُوْتَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ لِیَكُوْنَ مِنَ الْمُوْقِنِیْنَ Open ayah 6:75 in the Quran reader

اور ہم اسی طرح سے ابراہیم کو آسمانوں اور زمین کی بادشاہت دکھانے لگے تاکہ (وہ سمجھے) اور ان کو یقین کامل ہوجاوے۔

فَلَمَّا جَنَّ عَلَیْهِ الَّیْلُ رَاٰ كَوْكَبًا١ۚ قَالَ هٰذَا رَبِّیْ١ۚ فَلَمَّاۤ اَفَلَ قَالَ لَاۤ اُحِبُّ الْاٰفِلِیْنَ Open ayah 6:76 in the Quran reader

پھر جب کہ (ابراہیم پر) اندھیری رات آئی تو ستارہ کو دیکھ کر کہا یہ میرا رب ہے پھر جب وہ ڈوب گیا تو کہا میں چھپ جانے والی چیزوں کو پسند نہیں کرتا۔

فَلَمَّا رَاَ الْقَمَرَ بَازِغًا قَالَ هٰذَا رَبِّیْ١ۚ فَلَمَّاۤ اَفَلَ قَالَ لَئِنْ لَّمْ یَهْدِنِیْ رَبِّیْ لَاَكُوْنَنَّ مِنَ الْقَوْمِ الضَّآلِّیْنَ Open ayah 6:77 in the Quran reader

پھر جب چاند کو چمکتے ہوئے دیکھا تو کہا یہ میرا رب ہے۔ پھر جب وہ (بھی) چھپ گیا تو کہا اگر میرا راب مجھے ہدایت نہ کرے گا تو میں گمراہ لوگوں میں سے ہوجائوں گا

فَلَمَّا رَاَ الشَّمْسَ بَازِغَةً قَالَ هٰذَا رَبِّیْ هٰذَاۤ اَكْبَرُ١ۚ فَلَمَّاۤ اَفَلَتْ قَالَ یٰقَوْمِ اِنِّیْ بَرِیْٓءٌ مِّمَّا تُشْرِكُوْنَ Open ayah 6:78 in the Quran reader

پھر جبکہ آفتاب کو چمکتے دیکھا تو کہا یہ میرا رب ہے (کیونکہ) یہ سب سے بڑا ہے۔ پھر جب وہ بھی چھپ گیا تو کہا اے قوم ! میں تمہارے ان معبودوں سے بیزار ہوں۔ یہ کہ جن کو تم شریک بناتے ہو۔

اِنِّیْ وَجَّهْتُ وَجْهِیَ لِلَّذِیْ فَطَرَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ حَنِیْفًا وَّ مَاۤ اَنَا مِنَ الْمُشْرِكِیْنَۚ Open ayah 6:79 in the Quran reader

میں نے تو یکطرفہ ہو کر اس کی طرف اپنا رخ کرلیا کہ جس نے آسمانوں اور زمین کو بنایا اور میں تو شریک کرنے والوں میں سے نہیں ہوں

وَ حَآجَّهٗ قَوْمُهٗ١ؕ قَالَ اَتُحَآجُّوْٓنِّیْ فِی اللّٰهِ وَ قَدْ هَدٰىنِ١ؕ وَ لَاۤ اَخَافُ مَا تُشْرِكُوْنَ بِهٖۤ اِلَّاۤ اَنْ یَّشَآءَ رَبِّیْ شَیْئًا١ؕ وَسِعَ رَبِّیْ كُلَّ شَیْءٍ عِلْمًا١ؕ اَفَلَا تَتَذَكَّرُوْنَ Open ayah 6:80 in the Quran reader

اور (جب) ان سے ان کی قوم جھگڑنے لگی تو ابراہیم نے کہا کیا تم مجھ سے اللہ (کے معاملے) میں جھگڑتے ہو حالانکہ وہ مجھے ہدایت کرچکا اور میں تمہارے معبودوں سے ہرگز نہیں 1 ؎ ڈرتا جن کو تم اس کا شریک بناتے ہو۔ بجز اس کے کہ میرا رب ہی کچھ چاہے (تو ضررپہنچ سکتا ہے) میرے رب کے علم میں ہر چیز ہے۔ پھر تم کیوں نہیں سمجھتے

وَ كَیْفَ اَخَافُ مَاۤ اَشْرَكْتُمْ وَ لَا تَخَافُوْنَ اَنَّكُمْ اَشْرَكْتُمْ بِاللّٰهِ مَا لَمْ یُنَزِّلْ بِهٖ عَلَیْكُمْ سُلْطٰنًا١ؕ فَاَیُّ الْفَرِیْقَیْنِ اَحَقُّ بِالْاَمْنِ١ۚ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَۘ Open ayah 6:81 in the Quran reader

اور جن کو تم نے اس کا شریک بنا لیا ہے ان سے میں کیوں ڈرنے لگا حالانکہ تم اس بات سے نہیں ڈرتے کہ تم نے اللہ کے ساتھ ان کو شریک کر رکھا ہے کہ جن کے لئے اس نے تم پر کوئی بھی سند نہیں اتاری۔ پھر دونوں فریق میں سے کون زیادہ امن کا مستحق ہے ( بتلائو) اگر جانتے ہو

اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ لَمْ یَلْبِسُوْۤا اِیْمَانَهُمْ بِظُلْمٍ اُولٰٓئِكَ لَهُمُ الْاَمْنُ وَ هُمْ مُّهْتَدُوْنَ۠ Open ayah 6:82 in the Quran reader

جو کہ ایمان لائے اور انہوں نے اپنے ایمان میں کچھ بھی شریک نہیں شریک ملایا انہیں کے لئے امن ہے اور وہی ہدایت یافتہ بھی ہیں۔

ابتداء زمانہ سے ہی جب کہ لوگوں نے ظاہری آنکھوں سے دیکھا تو اعلیٰ حسب مراتب الفہم خیالی گھوڑے دوڑانے لگے۔ یہ تو اکثر نے مانا کہ اللہ تعالیٰ صانع عالم ہے مگر اس کے ساتھ بعض جاہلوں نے ایک اور خالق مستقل مانا جو شر کا فاعل ہے اور بعض 2 ؎ لوگوں نے آگ کو 1 ؎ یعنی تمہارے دیوی دیوتا میرا کچھ نہیں کرسکتے تم ڈرا کرو ٗ میں نہیں ڈرتا۔ اگر خدا ہی چاہے تو ضرر پہنچے۔ 12 منہ 2 ؎ کسی نے ملائکہ اور علویات کی خیالی صورت پر بت تراشے پھر کسی نے بنی آدم میں سے انبیاء و صلحاء و ابرار یا شاہان ملک کو شریک خدائی سمجھا اور ان کی کوئی صورت فرض کرکے بت بنائے لات ہبل کرشن رام سب اسی کا نمونہ ہے غرض جس نے جس چیز کو اپنے خیال میں بشریت سے بالا پایا خدا بنالیا۔ 12 منہ بعض نے پانی کو اصل ٹھہرایا اور ایک قوم نے خصوصاً اہل بابل و نینوا کے لوگوں نے جو دنیاوی علوم اور صنعتوں میں بڑے ہوشیار تھے ٗ افلاک اور ستاروں کو مدبر عالم خیال کر رکھا تھا۔ پھر ان کے نام کے سونے اور چاندی اور دیگر دھاتوں اور پتھروں کے بت اور عجائب غرائب اشکال مندروں میں رکھ چھوڑی تھیں جن کو وہ پوجتے تھے اور ان پر بعض اپنی اولاد کی قربانی کرتے تھے۔ بعض اور جانوروں کی قربانی کرتے اور دیگر نذر و نیاز چڑھاتے تھے۔ اس ملک اور اس قوم میں خدا نے ابراہیم (علیہ السلام) کو پیدا کیا۔ اس وقت کے بادشاہ نمرود کو جو ضحاک تازی کا صوبہ تھا ٗ نجومیوں نے حضرت کی خبر پہلے سے دی تھی۔ وہ اس خاندان کی حاملہ عورتوں کی احتیاط رکھتا تھا۔ لڑکوں کو قتل کر ڈالتا تھا۔ اس لئے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو ان کے والدین نے کسی غار یا تہ خانہ میں چھپا رکھا تھا جو سن تمیز تک وہیں رہے۔ خداداد روشنی کب چھپائے چھپتی ہے۔ غار میں ہی ماں باپ سے قیل و قال شروع کردی۔ اذ قال سے لے کر فی ضلال مبین تک اس کا ذکر ہے۔ پھر جب زیادہ شہرہ ہوتا چلا اور آپ اس غار سے لوگوں کے روبرو لائے گئے تو آفتاب غروب ہو چلا تھا مگر جس طرح خدا نے ان کی نظروں میں ماں باپ کی وہ بت پرستی حقیر و بےعزت کر دکھائی تھی اسی طرح ملکوت السموات یعنی آسمانوں اور زمینوں کو اور ان کے اندر جو کچھ اسرار حکمت تھے ان کے دل پر منکشف کردیے تھے۔ وکذالک نری ابراھیم ملکوت السموات الخ رات جب زیادہ گئی تو زبیر ستارہ چمکتا دیکھ کر وہ جو آپ کے ارد گرد بہت سے بت پرست حجتیں کرنے کو جمع تھے ان سے تعریضاً یہ کہا ھذا ربی کہ تمہارے خیال کے بموجب میرا یہ رب ہے ؟ (کس لئے کہ ان پر ملکوت السموات منکشف ہوگئے تھے اور بدء الخلقت سے رشد عطا ہوا تھا وہ حقیقۃً ستارہ کو رب کیونکر کہتے) پھر جب وہ غروب ہوا تو الزام دیا کہ ایسی چھپ جانے والی چیزوں کو میں پسند بھی نہیں کرتا۔ پھر جب چاند نکلا تو کہا یہ رب ہے جب وہ بھی چھپ گیا تو ان کے خیال قبول کرنے کی صورت میں تہذیباً اپنے آپ کو ہی گمراہ ہونا فرمایا (اس لئے کہ باوجود بڑے کے چھوٹے کو خدا بنانا اور بڑے کا بھی ڈوب جانا منافی الوہیت ہے) پھر جب صبح ہوئی اور آفتاب جگمگاتا ہوا نکلا تو کہا یہ سب سے بڑا ہے یہ رب ہے پھر جب شام کو وہ بھی غروب ہوگیا تو ان کے الہ اکبر کا بےبنیاد اور مجبور ہونا مشاہدہ کرا کے صاف صاف کہہ دیا کہ میں تو اس کی طرف متوجہ ہوتا ہوں کہ جس نے آسمان و زمین اور ان سب کو بنایا اور شرک سے بیزار ہوں۔ پھر تو لوگوں کے غول کے غول آئے اور اپنے بتوں سے ڈرانے لگے۔ آپ نے فرمایا ٗمجھے ان سے کچھ مضرت نہیں بلکہ میرے خدائے قادر سے تم کو ڈرنا چاہیے۔
Ayahs 6:83–90

وَ تِلْكَ حُجَّتُنَاۤ اٰتَیْنٰهَاۤ اِبْرٰهِیْمَ عَلٰى قَوْمِهٖ١ؕ نَرْفَعُ دَرَجٰتٍ مَّنْ نَّشَآءُ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ حَكِیْمٌ عَلِیْمٌ Open ayah 6:83 in the Quran reader

اور یہ ہے ہماری دلیل جو ہم نے ابراہیم کو اس کی قوم کے مقابلہ میں دی تھی۔ ہم جس کو چاہتے ہیں بلند مرتبہ کرتے ہیں۔ بیشک آپ کا رب حکمت والا خبردار ہے

وَ وَهَبْنَا لَهٗۤ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ١ؕ كُلًّا هَدَیْنَا١ۚ وَ نُوْحًا هَدَیْنَا مِنْ قَبْلُ وَ مِنْ ذُرِّیَّتِهٖ دَاوٗدَ وَ سُلَیْمٰنَ وَ اَیُّوْبَ وَ یُوْسُفَ وَ مُوْسٰى وَ هٰرُوْنَ١ؕ وَ كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَۙ Open ayah 6:84 in the Quran reader

اور ہم نے اس کو (ابراہیم کو) اسحاق اور یعقوب عنایت کئے۔ ہم نے ان سب کو رہنمائی کی تھی اور اس سے پہلے ہم نوح کو ہدایت دے چکے تھے اور اس کی نسل میں دائود اور سلیمان اور ایوب اور یوسف اور موسیٰ اور ہارون کو بھی (ہدایت دی) اور ہم نیکوں کو یوں بدلا دیا کرتے ہیں

وَ زَكَرِیَّا وَ یَحْیٰى وَ عِیْسٰى وَ اِلْیَاسَ١ؕ كُلٌّ مِّنَ الصّٰلِحِیْنَۙ Open ayah 6:85 in the Quran reader

اور زکریا اور یحییٰ اور عیسیٰ اور الیاس کو بھی (ہدایت دی) ہر ایک نیک لوگوں میں سے تھے

وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ الْیَسَعَ وَ یُوْنُسَ وَ لُوْطًا١ؕ وَ كُلًّا فَضَّلْنَا عَلَى الْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 6:86 in the Quran reader

اور اسماعیل اور الیسع اور یونس اور لوط کو بھی اور ہر ایک کو ہم نے جہان پر فضیلت دی تھی

وَ مِنْ اٰبَآئِهِمْ وَ ذُرِّیّٰتِهِمْ وَ اِخْوَانِهِمْ١ۚ وَ اجْتَبَیْنٰهُمْ وَ هَدَیْنٰهُمْ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 6:87 in the Quran reader

اور ان کے آباؤ اجداد میں سے اور ان کی نسل میں سے اور ان کے بھائیوں میں سے بعض کو برگزیدہ اور سیدھا راستہ دکھایا

ذٰلِكَ هُدَى اللّٰهِ یَهْدِیْ بِهٖ مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ١ؕ وَ لَوْ اَشْرَكُوْا لَحَبِطَ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 6:88 in the Quran reader

(اے نبی ! ) یہ ہے اللہ کی ہدایت اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے اس پر چلاتا ہے اور اگر وہ شرک کرتے تو جو کچھ وہ کیا کرتے تھے (سب) ضائع ہوجاتا۔

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ وَ الْحُكْمَ وَ النُّبُوَّةَ١ۚ فَاِنْ یَّكْفُرْ بِهَا هٰۤؤُلَآءِ فَقَدْ وَ كَّلْنَا بِهَا قَوْمًا لَّیْسُوْا بِهَا بِكٰفِرِیْنَ Open ayah 6:89 in the Quran reader

یہ ہیں وہ لوگ کہ جن کو ہم نے کتاب اور شریعت اور نبوت عطا کی تھی پھر اگر ان باتوں کو یہ لوگ نہ مانیں تو ہم نے (ان باتوں کے تسلیم کرنے کے لئے) وہ لوگ مقرر کر رکھے ہیں جو ان سے انکار ہی نہ کریں گے۔

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ هَدَى اللّٰهُ فَبِهُدٰىهُمُ اقْتَدِهْ١ؕ قُلْ لَّاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ اَجْرًا١ؕ اِنْ هُوَ اِلَّا ذِكْرٰى لِلْعٰلَمِیْنَ۠ Open ayah 6:90 in the Quran reader

یہ ہیں وہ لوگ کہ جن کو اللہ نے ہدایت دی تھی۔ سو آپ ان ہی کے رستہ پر چلیں (اے نبی ! ) کہہ دو میں تم سے اس بات پر کچھ بھی اجرت نہیں مانگتا یہ تو صرف جہان بھر کے لئے نصیحت ہے۔

ترکیب : تلک مبتداء حجتنا موصوف اتیناھا صفت مجموعہ خبر علی متعلق ہے محذوف سے ای حجۃ علی قومہ درجات بالا ضافۃ والتنوین اول صورت میں یہ مفعول ہے نرفع کا دوسری میں من مفعول ہے اور درجات یا ظرف ہے یا حرف جر محذوف ہے ای الیٰ درجات۔ کلا منصوب ہے ھدینا سے ومن آباء ھم معطوف ہے کلا پر ای و فضلنا کلامن ابائہم او وھدینا کلامن ابائہم۔ تفسیر : فرماتا ہے یہ حجتیں ابراہیم (علیہ السلام) کو اس کی قوم کے مقابلہ میں ہم نے دی تھیں۔ ہم جس کو چاہتے ہیں بلند مرتبہ کرتے ہیں۔ اس کے بعد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی نسل میں سے چودہ (14) انبیاء کا ذکر کیا اور ان کے جد امجد نوح (علیہ السلام) کا بھی ذکر کیا تاکہ یہ معلوم ہو کہ یہ خدا پرستی اور اتباع توحید کچھ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) پر موقوف نہیں۔ ان سے پہلے ان کے جد امجد نوح (علیہ السلام) بھی موحد و مخلص تھے اور پھر ابراہیم (علیہ السلام) کے بعد بھی اس کی نسل میں سے یہ لوگ کہ جن کی بزرگی عرب و دیگر بلاد میں مشہور ہے وہ بھی موحد تھے مشرک نہ تھے۔ مع ابراہیم و نوح کے یہ اٹھارہ شخص ہیں نوح ‘ ابراہیم ‘ اسحق ‘ یعقوب ‘ دائود ‘ سلیمان ‘ ایوب ‘ موسیٰ ‘ ہارون ‘ زکریا ‘ یحییٰ ‘ عیسیٰ ‘ الیاس ‘ اسماعیل ‘ الیسع ‘ یونس ‘ لوط ‘ علیہم السلام۔ پھر فرماتا ہے کہ توحید کے سبب نہ صرف ان کو بلکہ ان کے بزرگوں اور بھائیوں اور اولاد کو برگزیدہ کیا اور ان کو راہ راست کی ہدایت کی کہ ان کا ملائِ اعلیٰ میں بھی مرتبہ بلند ہے اور دنیا میں بھی ان کی عزت و توقیر کی جاتی ہے اور ان کے طریق پر لوگ چلتے ہیں۔ (یہاں سے عصمت انبیاء ثابت ہوتی ہے) اور اس کے بعد تین چیزیں جو انہیں دونوں کی شاخ ہیں عطا کرنا فرماتا ہے۔ اول کتاب ‘ دوم حکم یعنی حکومت ‘ سوم نبوت۔ سیاست تین قسم پر ہے دنیاوی اور دینی اور روحانی دینی سیاست علمائِ دین کو ہوتی ہے جس کی طرف آتیناھم الکتاب میں اشارہ ہے کیونکہ کتاب کا دیا جانا عام ہے خواہ خاص ان پر الہام ہوا ہو یا نیابتا ان کو ملی ہو۔ جیسا کہ علماء کو ملتی ہے۔ دنیاوی سیاست کی طرف الحکم میں اور روحانی کی طرف النبوۃ میں اشارہ ہے اور کبھی یہ تینوں ایک شخص کو حاصل ہوجاتی ہیں۔ کبھی ایک ایک وصف ایک ایک میں پایا جاتا ہے۔ اس لئے ان اٹھارہ انبیاء کے ذکر یکے بعد دیگر کرنے میں انہیں اوصاف کا لحاظ کیا گیا ہے یا کچھ ان کے صبر و شکر ‘ مصیبت و راحت کا بھی لحاظ ہو۔ نوح (علیہ السلام) کا مفصل حال آگے آوے گا۔ ابراہیم (علیہ السلام) حضرت مسیح (علیہ السلام) سے تخمیناً دو ہزار برس پیشتر عراق میں پیدا ہوئے اور اہوا زیابابل اپنے وطن سے ہجرت کرکے اول اول حران میں آب سے جو آج کل بھی عراق میں اسی نام سے مشہور ہے جس میں اہل اسلام رہتے ہیں پھر یہاں سے کوچ کرکے مع اپنے بھتیجے لوط (علیہ السلام) کے ملک شام کنعان میں آئے اور شہر نابلس سے کہ جس کو پہلے سکم کہتے تھے گذر کر بیت یل یعنی یروشلم کے پاس اپنا خیمہ قائم کیا اور پھر یہاں سے عرب اور مصر میں بھی گئے۔ عرب و شام میں حضرت کی اولاد پھیلی۔ اسماعیل (علیہ السلام) سے عرب کی قومیں اور اسحاق (علیہ السلام) سے شام میں بنی اسرائیل و دیگر قبائل ہوئے شام میں حضرت کی قبر ہے۔ اسحاق (علیہ السلام) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بیٹے ہیں جو اسماعیل (علیہ السلام) سے چھوٹے تھے۔ ملک شام میں ہی پیدا ہوئے اور وہیں انتقال ہوا۔ یعقوب (علیہ السلام) اسحاق (علیہ السلام) کے بیٹے ہیں ومن ذریتہ کی ضمیر میں اختلاف ہے۔ بعض کہتے ہیں ابراہیم (علیہ السلام) کی طرف کرتی ہے اور صحیح تر یہ ہے کہ نوح (علیہ السلام) کی طرف رجوع کرتی ہے کیونکہ بقول محققین مؤرخین ایوب (علیہ السلام) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی ذریت میں سے نہ تھے بلکہ عرب کے رہنے والے بعض کے نزدیک ابراہیم (علیہ السلام) سے بھی پیشتر تھے دائود (علیہ السلام) سلیمان (علیہ السلام) کے باپ یہ دونوں پیغمبر حضرت یعقوب (علیہ السلام) یعنی اسرائیل کی اولاد میں سے تھے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کئی سو برس کے بعد شام بلکہ اور ملکوں کے بھی حاکم ہوئے ہیں۔ یوسف (علیہ السلام) حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے بیٹے ہیں جو لڑکپن میں اسیر ہو کر مصر میں جا بکے اور پھر وہاں بہت کچھ اعزاز پایا اور اپنے باپ اور اس کی تمام اولاد کو مصر میں بلا لیا۔ جب سے تخمیناً چار سو برس تک بنی اسرائیل مصر میں رہے اور ہزارہا ہزارہا مرد و زن ہوگئے۔ پھر موسیٰ و ہارون ( علیہ السلام) دونوں بھائی بھی وہیں پیدا ہوئے۔ مصر کے بادشاہ فرعون کو ان کی سرکشی کا خوف ہوا تو ان کو غلام بنایا اور طرح طرح کی تکلیفیں دینی شروع کیں۔ تب موسیٰ و ہارون ( علیہ السلام) تمام قوم کو لے کر پھر اپنے باپ دادا کے وطن قدیم ملک شام میں لے جانے کے لئے مصر سے نکلے۔ قلزم اتر کرچالیس برس تک عرب کے جنگلوں میں سرگرداں رہے۔ رستہ ہی میں انتقال ہوا۔ راستہ ہی میں توریت نازل ہوئی۔ وہیں معجزات کا ظہور ہوا۔ کوہ سینا بھی اسی ملک عرب کے غربی و شمالی کنارہ میں ہے۔ زکریا (علیہ السلام) بنی اسرائیل میں دو نبی گذرے ہیں۔ ایک یحییٰ (علیہ السلام) کے والد جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے عہد سے قریب تھے۔ ایک زکریا عزیر اور حجی اور یرمیاہ (علیہم السلام) کے عہد میں تھے۔ مسیح سے تخمیناً پانچ سو برس پیشتر ‘ جنہوں نے بخت نصر کے حادثہ کے بعد دوبارہ پھر ہیکل کی تعمیر کی تھی۔ یحییٰ (علیہ السلام) زکریا (علیہ السلام) کے بیٹے ہیں جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے ہمعصر تھے یہ انبیاء بنی اسرائیل کے خاتم ہیں الیاس (علیہ السلام) کو ایلیا بھی کہتے ہیں۔ یہ بخت نصر کے حادثہ سے پیشتر اس عہد میں تھے جبکہ بنی اسرائیل کا بادشاہ اخزیاہ تخت نشین تھا۔ مسیح (علیہ السلام) سے تخمیناً آٹھ سو چھیانوے برس پیشتر اس بادشاہ کے عہد میں حضرت الیاس (علیہ السلام) آسمان پر زندہ چلے گئے اور ان کی جگہ ان کا شاگرد حضرت یسع نبی قائم ہوا۔ (2 سلاطین 2 باب) یونس (علیہ السلام) کو یوناہ بھی کہتے ہیں۔ یہ مسیح (علیہ السلام) سے تخمیناً آٹھ سو برس پیشتر تھے۔ ان کو شہر نینوٰی جانے کا حکم تھا۔ یہ وہاں جانے سے پہلوتہی کرکے شہر ترسیس کو بھاگنے کے لئے یافہ میں اتر گئے۔ ان کا قصہ بھی آیندہ بیان ہوگا۔ ان بزرگوں کا ذکر کرکے فرماتا ہے کہ اگر یہ شرک کرتے تو خراب ہوجاتے۔ پھر حضرت ﷺ کو تسلی دیتا ہے کہ اگر ان باتوں کو یہ موجودین نہ مانیں گے تو کچھ پروا نہیں ہم نے ان پر چلنے کے لئے اور قومیں تیار کر رکھی ہیں ( وہ آیندہ آنے والی نسلیں ہیں۔ امت محمدیہ میں سے) پھر فرماتا ہے تو ان کی اصول دین میں اور صبر و تحمل میں اے نبی پیروی کر۔ یہاں سے بعض نے جزئیات شرائع بھی مراد لئے ہیں۔ وھو ضعیف جدا۔
Ayahs 6:91–92

وَ مَا قَدَرُوا اللّٰهَ حَقَّ قَدْرِهٖۤ اِذْ قَالُوْا مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ عَلٰى بَشَرٍ مِّنْ شَیْءٍ١ؕ قُلْ مَنْ اَنْزَلَ الْكِتٰبَ الَّذِیْ جَآءَ بِهٖ مُوْسٰى نُوْرًا وَّ هُدًى لِّلنَّاسِ تَجْعَلُوْنَهٗ قَرَاطِیْسَ تُبْدُوْنَهَا وَ تُخْفُوْنَ كَثِیْرًا١ۚ وَ عُلِّمْتُمْ مَّا لَمْ تَعْلَمُوْۤا اَنْتُمْ وَ لَاۤ اٰبَآؤُكُمْ١ؕ قُلِ اللّٰهُ١ۙ ثُمَّ ذَرْهُمْ فِیْ خَوْضِهِمْ یَلْعَبُوْنَ Open ayah 6:91 in the Quran reader

اور ان (یہود) نے جیسا کہ اللہ کی قدر کرنی چاہیے تھی کچھ بھی نہ کی جبکہ یہ کہہ دیا کہ اللہ نے کسی آدمی پر کچھ بھی نازل نہیں کیا ( اے نبی ! ان سے) پوچھو وہ کتاب کس نے اتاری تھی کہ جس کو موسیٰ لائے تھے جو لوگوں کے لیے نور اور ہدایت تھی جس کو تم اوراق متفرقہ کرکے رکھتے ہو جن میں سے کچھ دکھاتے اور بہت سے چھپاتے ہو۔ اور تم کو (اس کے ذریعہ سے) وہ باتیں تعلیم کی گئی ہیں کہ جن کو تم بھی جانتے نہ تھے نہ تمہارے باپ دادا۔ کہہ دو اللہ ہی نے نازل کی تھی۔ پھر ان کو چھوڑ کر پڑے اپنی بدگمانیوں میں کھیلتے رہیں

وَ هٰذَا كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ مُبٰرَكٌ مُّصَدِّقُ الَّذِیْ بَیْنَ یَدَیْهِ وَ لِتُنْذِرَ اُمَّ الْقُرٰى وَ مَنْ حَوْلَهَا١ؕ وَ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ یُؤْمِنُوْنَ بِهٖ وَ هُمْ عَلٰى صَلَاتِهِمْ یُحَافِظُوْنَ Open ayah 6:92 in the Quran reader

اور یہ (قرآن بھی) وہ مبارک کتاب ہے کہ جس کو ہم نے نازل کیا جو اپنے سے پہلی کتابوں کی تصدیق کرتا ہے تاکہ (اے نبی ! ) آپ اہل مکہ اور اس کے آس پاس والوں کو ڈر سناویں اور جو آخرت پر یقین رکھتے ہیں وہ تو اس پر بھی ایمان لاتے ہیں اور وہی اپنی نماز کے بھی پابند ہیں۔

ترکیب : حق مفعول مطلق قدر کا مضاف ہے اور دراصل وصف ہے کیونکہ تقدیرہ قدرہ الحق اس لئے یہ بھی منصوب ہے۔ اذ قالوا ظرف ہے ما قدروا کا قراطیس مفعول ثانی ہے تجعلون کا ای فی قراطیس۔ تبدونہا قراطیس کی صفت وعلمتم ایھا الیہود من القرآن جملہ موضع حال میں ہے یا جملہ مستانفہ۔ قل اللّٰہ جواب ہے قل من انزل کا مصدق وصف ہے کتاب کا بغیر تنوین۔ تفسیر : پہلے فرمایا تھا کہ ان ھو الاذکریٰ للعلمین کہ یہ عالم کے لئے نصیحت ہے جو خدا کی طرف سے نازل کی گئی ہے۔ ایسے موقع پر منکرین نبوت کہہ دیا کرتے ہیں کہ خدا نے کچھ بھی کسی بشر پر نازل نہیں کیا۔ اسے کیا غرض ‘ کیا مطلب ؟ یا عقل کافی ہے وہی نیک و بد کی پہچان کرسکتی ہے۔ جیسا کہ آج کل ملحد یا منکرین نبوت آریہ وغیرہم کہتے ہیں اور کچھ عجب نہیں کہ اس عہد میں بھی یہ مشرکین مکہ نے کہا ہو یا کسی موقع پر ضد میں آکر کسی یہودی نے کچھ کہہ دیا ہو۔ جیسا کہ بغوی وغیرہ نے نقل کیا ہے کہ مالک بن ضیف یہودی عالم نے مکہ میں آنحضرت ﷺ سے یہ اس وقت کہا تھا جبکہ آنحضرت ﷺ نے اس سے قسم دے کر پوچھا کہ کیا توریت میں یہ بھی ہے کہ خدا موٹی چیز کو پسند نہیں کرتا ؟ حالانکہ وہ حبر تھا جو یہود کا مال کھا کھا کر تندیلا ہوگیا تھا۔ اس پر وہ غصہ میں آگیا اور یہ کہہ دیا کسی اور نے بھی ایسا کہا ہو مگر اس جواب سے غرض توحید اور مبدء و مفاد ثابت کرنے کے بعد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) مسلم الکل کے قول سے بھی ثابت کی گئی۔ نبوت اور کتاب کا برحق ثابت کرنا ہے جو قرآن مجید کے اجل مقاصد میں سے ہے اور توریت کا موسیٰ (علیہ السلام) پر نازل ہونا ایک ایسی بات تھی کہ جس کو سب مانتے تھے۔ پس من شیء نکرہ جو ما نافیہ کے حیّز میں آکر سالبہ کلیہ بن گیا ہے۔ اس کے مقابلہ میں انزل علی موسیٰ موجبہ جزئیہ جو قل من انزل الخ کا مفاد ہے۔ پورا جواب الزامی و تحقیقی ہے یعنی اگر خدا نے کسی پر کچھ بھی نازل نہیں کیا تو پھر تورات کو موسیٰ پر کس نے نازل کیا تھا جو لوگوں کے لئے نور اور ہدایت تھی کہ جس کو تم اے اہل کتاب متفرق اجزاء میں کر رکھتے ہو کہ اس میں سے بہت کچھ چھپاتے اور کم ظاہر کرتے ہو۔ یہاں سے معلوم ہوا کہ آنحضرت ﷺ کے عہد میں یہود و عرب نے تورات کو متفرق اوراق میں اسی غرض سے رکھ چھوڑا تھا کہ اپنی خواہش کے موافق اوراق کو دکھاتے اور جو خلاف منشاء تھے یا جن میں اسلام کی خبر تھی ان کو نہ دکھاتے تھے جیسا کہ دارمی نے روایت کیا ہے شاید حضرت عمر ؓ انہیں اوراق میں سے چند اوراق آنحضرت ﷺ کے روبرو لا کر پڑھنے لگے تھے جن کو سن کر آنحضرت ﷺ پر غضب ہوئے تھے۔ اب یہ بھی معلوم نہیں کہ ان یہود کے پاس توریت کے پانچوں حصوں میں سے کئی حصہ تھے یا سب تھے یا اور عہد عتیق کی کتابیں تھیں کہ جن پر مجازاً توریت کا اطلاق ہوتا ہے۔ پھر اس عہد میں کہ جب بخت نصر کا حادثہ گذرا اور پھر وینٹو کس اور طیطوس کے عہد میں صفحہ عالم خصوصاً یروشلم اور تمام یہود میں توریت نہ تھی تو اس عہد میں کہاں ہوگی ؟ وہ غالباً اسی مجموعہ مرکب صحیح و غلط کو جو آج کل ہے توریت کہتے ہوں گے۔ جس کو قرآن میں مجازاً توریت کہا۔ ولو سلم اصلی جب ہوگا اب تو کہیں نہیں ملتا۔ وعلمتم مالم تعملوا انتم ولاآباء کم اس میں یہود کو خطاب ہے کہ توریت کے بہت سے معانی جو آنحضرت ﷺ کی بعثت و شریعت کی پیشین گوئی کے متعلق تھے کہ جن کو حضرت کے ظہور سے پیشتر نہ تم سمجھ سکتے نہ تمہارے باپ دادا اب وہ تم کو بتلائے گئے یا عرب کی طرف خطاب ہے کہ تم اور تمہارے باپ دادا جاہل تھے۔ سو یہ علم شریعت و توحید و مبداء معاد تم کو خدا کی نازل کی ہوئی کتاب قرآن مجید کے سبب سے معلوم ہوئے۔ پھر بھی کہتے ہیں کہ خدا نے کچھ بھی نازل نہیں کیا۔ سو تم نے خدا کی قدر نہ کی جو قدر کرنی چاہیے تھی۔ قل اللّٰہ کہ اللہ نے کتابیں نازل کی ہیں۔ ان کو پڑا بیہودہ بکواس کرنے دو خصوصاً ھذا کتاب انزلناہ۔ یہ کتاب نازل کی یعنی قرآن جو مبارک بابرکت یعنی کثیر الفوائد ہے۔ قرآن مجید کی برکت ہے کہ جس سے عرب کی جاہل اور وحشی قومیں کیسی جلد کایا پلٹ ہوگئیں۔ کیسی انسانی اخلاق اور ملکی صفات میں تمام قوموں کے لئے پیشوا ہوگئیں۔ پستی سے اس ترقی کو پہنچیں کہ تھوڑے سے برسوں میں شرقاً غرباً بڑے بڑے سرسبز ملکوں کے مالک اور ان میں علوم و تہذیب پھیلانے کا سبب بن گئیں۔ دوم قرآن مصدق الذی بین یدیہ کہ جو اس سے پیشتر خدا نے کتابیں نازل کیں ان کی تصدیق کرتا ہے کہ وہ بھی منجانب اللہ تھیں اور ان کے مضامین توحید و اصول شرائع میں سرتا سر موافق ہیں۔ پھر قرآن نازل کرنے کی وجہ بیان فرماتا ہے جس میں منکرین نبوت کا جواب شافی ہے اور وہ یہ ہے لتنذر ام القرٰی ومن حولہا تاکہ تم مکہ اور اس کے ارد گرد کے لوگوں کو خدا کا اس سے ڈر سنا دو ۔ ام القریٰ یعنی گائوں اور بستیوں کی ماں یا اصل عرب میں مکہ کو کہتے تھے کس لئے کہ مکہ میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا اول معبد خانہ کعبہ ہے کہ جس کی طرف ایام حج میں اور دیگر اوقات میں لوگ (اس جذب باطنی سے جو بچے کو ماں کی طرف کھینچتا ہے) رجوع کیا کرتے ہیں۔ اس سے کوئی یہ خیال نہ کرے کہ آنحضرت ﷺ کی بعثت و نبوت حجاز یا عرب ہی کے لئے تھی کیونکہ ام القریٰ کے گرد میں تمام عالم شامل ہے۔ اگر کوئی جغرافیہ پر غور کرے تو ربع مسکوں کے لئے مکہ کو مرکز کہہ سکتا ہے جو یورپ اور ایشیاء اور افریقہ کے ملکوں کے لحاظ سے بیچا بیچ ہے اور نیز بہت آیات میں نبوت عامہ کی طرف اشارہ ہوچکا ہے جیسا کہ لیکون للعالمین نذیرا۔ منکرین نبوت (جیسا کہ آج کل آریہ و برہمو وغیرہم) سے کوئی پوچھے کہ جس صورت میں تم خدائے قادر رحیم و کریم کا وجود تسلیم کرچکے ہو تو پھر بنی آدم میں سے ایک شخص کو اگر وہ اپنی رحمت خاصہ سے ایسا ممتاز کرے کہ اس پر الہام خاص ہو جو بوقت تخالف عقول عامہ حق کی طرف رہبری کرے یا جہاں عقل کو کامل رسائی نہیں اور ہے تو عقول عادات و رسوم اور تخیلات سے نجات نہیں پا سکتیں وہاں ان کو راہ راست بتا دے کیا یہ ممکن نہیں ؟ جب ممکن ہے تو اس کی فعلیت ان کتابوں سے جو نازل ہوئیں کیوں مستبعد ہے ؟ اچھا چاروں وید اگر ایشر کا کلام ہیں تو کس کی معرفت ایشر نے ان کو ظاہر کیا۔ کیا ان کی پوٹ باندھ کر بنارس میں پھینک دیا تھا ؟ پھر فرماتا ہے کہ جو قیامت پر یقین رکھتے اور زکوٰ ۃ دیتے ٗ نماز پڑھتے ہیں وہی خدا ترس قرآن پر ایمان لاتے ہیں۔
Ayahs 6:93–95

وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اَوْ قَالَ اُوْحِیَ اِلَیَّ وَ لَمْ یُوْحَ اِلَیْهِ شَیْءٌ وَّ مَنْ قَالَ سَاُنْزِلُ مِثْلَ مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ١ؕ وَ لَوْ تَرٰۤى اِذِ الظّٰلِمُوْنَ فِیْ غَمَرٰتِ الْمَوْتِ وَ الْمَلٰٓئِكَةُ بَاسِطُوْۤا اَیْدِیْهِمْ١ۚ اَخْرِجُوْۤا اَنْفُسَكُمْ١ؕ اَلْیَوْمَ تُجْزَوْنَ عَذَابَ الْهُوْنِ بِمَا كُنْتُمْ تَقُوْلُوْنَ عَلَى اللّٰهِ غَیْرَ الْحَقِّ وَ كُنْتُمْ عَنْ اٰیٰتِهٖ تَسْتَكْبِرُوْنَ Open ayah 6:93 in the Quran reader

اور اس سے بڑھ کر کون ظالم ہے جو اللہ پر جھوٹ باندھے یا (یہ) کہے کہ مجھ کو وحی آئی حالانکہ اس پر کچھ بھی وحی نہ آئی ہو اور (اس سے بھی بڑھ کر کون ظالم ہے) جو یہ کہے کہ میں بھی وہ نازل کرسکتا ہوں کہ جو اللہ نے نازل کیا ہے اور (اے نبی ! ) کبھی آپ اس وقت دیکھیں جبکہ ظالم موت کی جاں کنیوں میں گرفتار ہوں اور فرشتے ان کی طرف اپنے ہاتھ بڑھا (کر کہہ) رہے ہوں کہ اپنی روح نکالو۔ آج تم کو ذلت کا عذاب دیا جاوے گا۔ تمہاری ان باتوں سے جو تم ناحق اللہ پر بنایا کرتے تھے اور اس کی آیتوں سے سرکشی کیا کرتے تھے

وَ لَقَدْ جِئْتُمُوْنَا فُرَادٰى كَمَا خَلَقْنٰكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍ وَّ تَرَكْتُمْ مَّا خَوَّلْنٰكُمْ وَرَآءَ ظُهُوْرِكُمْ١ۚ وَ مَا نَرٰى مَعَكُمْ شُفَعَآءَكُمُ الَّذِیْنَ زَعَمْتُمْ اَنَّهُمْ فِیْكُمْ شُرَكٰٓؤُا١ؕ لَقَدْ تَّقَطَّعَ بَیْنَكُمْ وَ ضَلَّ عَنْكُمْ مَّا كُنْتُمْ تَزْعُمُوْنَ۠ Open ayah 6:94 in the Quran reader

اور (ہم یہ کہیں گے) تم ہمارے پاس ویسے ہی تنہا آئے جیسا کہ ہم نے تم کو اول بار پیدا کیا تھا اور جو کچھ ہم نے تم کو دیا تھا ٗ کو اپنے پیچھے چھوڑ آئے اور اب ہم کو تمہارے وہ معبود بھی تمہارے ساتھ دکھائی نہیں دیتے کہ جن کو تم اپنے معاملات میں خدا کا شریک سمجھتے تھے۔ ضرور تم میں جدائی ہوگی اور تمہارے سب گمان غلط ہوگئے۔

اِنَّ اللّٰهَ فَالِقُ الْحَبِّ وَ النَّوٰى١ؕ یُخْرِجُ الْحَیَّ مِنَ الْمَیِّتِ وَ مُخْرِجُ الْمَیِّتِ مِنَ الْحَیِّ١ؕ ذٰلِكُمُ اللّٰهُ فَاَنّٰى تُؤْفَكُوْنَ Open ayah 6:95 in the Quran reader

بیشک اللہ ہی زمین سے دانہ اور گٹھلی (پھوڑ کر) نکالتا ہے ٗ زندہ کو مردہ سے پیدا کرتا ہے اور مردہ کو زندہ سے نکالتا ہے۔ یہ ہے تمہارا اللہ پھر تم کہاں بہکے چلے جا رہے ہو

ترکیب : کذبا افتری کا مفعول بھی ہوسکتا ہے اور مفعول مطلق بھی اور مفعول لہ بھی۔ اوقال عطف ہے افتری پر ولم یوحی الخ موضع حال میں ہے اذ ظرف ہے تری کا الظالمون مبتداء ظرف خبر۔ تفسیر : جس طرح نبوت اور الہامِ الٰہی کا انکار خدا تعالیٰ کی سخت ناقدری کرنا ہے۔ اسی طرح خدا پر جھوٹ باندھنا یا نبوت اور وحی کا جھوٹا دعویٰ کرنا بھی بڑا ظلم ہے جیسا کہ پیغمبر کے مقابلہ میں یہ کہہ دینا کہ میں بھی جیسا کچھ خدا نے نازل کیا نازل کرسکتا ہوں بڑا ظلم ہے۔ ومن اظلم الی انزل اللّٰہ میں یہی بیان ہے۔ ایسی باتیں بھی نزول قرآن کے وقت لوگوں نے کہیں تھیں۔ چناچہ قتادہ کہتے ہیں کہ مسیلمہ کذاب کچھ تک بندی سے کیا کرتا تھا جس پر اس کو دعویٰ ہوا کہ اوحی الی مجھے بھی وحی آتی ہے۔ اسی طرح صنعاء یمن میں اسود عنسی کو خبط ہوا تھا۔ اسی طرح مشرکین مکہ آیات سن کر کہہ دیا کرتے تھے۔ لونشاء لقلنا مثل ھذا اور عبداللہ 1 ؎ بن سعد بن ابی شرح کے دل پر فیض صحبت سے (جو آنحضرت ﷺ کے کاتب وحی تھے۔ جب یہ آیت آپ نے لکھوئی لقد خلقنا الانسان من سلالۃ من طین) اگلا فقرہ اس کے دل میں گذرا فتبارک اللہ احسن الخالقین جب آپ نے یہ پڑھا تو اس کے دل میں وسوسہ ہوا کہ یہ تو میں نے کہہ دیا تھا مرتد ہو کر چلا گیا اور جا کر کہنے لگا قرآن سے برابر تو ہم بھی کہہ سکتے ہیں مگر بعد میں سمجھا کہ یہ فیض صحبت تھا اور ایک فقرہ سے کیا مساوات ہوسکتی ہے۔ پھر ایمان لایا۔ 1 ؎ اگر یہ روایت صحیح تسلیم کرلی جائے تو اس سے پادریوں کا قرآن کا مثل ثابت کرنا مدعی سست گواہ چست کا مضمون ہے۔ 12 منہ اس کے بعد اس ظلم کا ثمرہ تفصیلاً ظاہر کرتا ہے کہ ان کی موت کے وقت عجب حالت ہوگی جبکہ موت کی سختیوں میں گرفتار ہوں گے اور ملائکہ موت ہاتھ بڑھا کر کہیں گے کہ عالم آخرت کے شدائد دیکھ اب کہاں ہٹتے ہو لائو اپنی روح خبیث کو نکالو۔ آج تم کو ذلت کا عذاب تمہاری اس ناحق کی گفتگو اور آیات سے تکبر کرنے پر ہوگا۔ اور یہ بھی کہا جاوے گا کہ تمہاری روح کو جسم کے ساتھ دنیا میں کمالات روحانی اور اسباب جاودانی حاصل کرنے کے لئے پابستہ کیا تھا۔ تم نے وہاں اس کے برعکس کیا جب مال و جاہ اور اسباب شہوت و لذات جسمانیہ میں اس کو صرف کیا اب تم جیسے گئے تھے ویسے ہی کورے کے کورے آئے اور جو کچھ مال و جاہ جمع کیا تھا سب پیچھے چھوڑ آئے۔ لقد جئتمونا فرادی کما 1 ؎ خلقنکم اول مرۃ کے یہ معنی ہیں اور یہ بھی کہا جاوے گا کہ اب وہ تمہارے معبود دکھائی نہیں دیتے جن کی سفارش کا تمہیں بڑا بھروسہ تھا۔ سبحان اللہ ! عالم آخرت کا خصوصاً وقت موت کا نقشہ کس خوبی کے ساتھ لوح سامع پر کھینچا ہے۔
Ayahs 6:96–97

فَالِقُ الْاِصْبَاحِ١ۚ وَ جَعَلَ الَّیْلَ سَكَنًا وَّ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ حُسْبَانًا١ؕ ذٰلِكَ تَقْدِیْرُ الْعَزِیْزِ الْعَلِیْمِ Open ayah 6:96 in the Quran reader

(ضرور اللہ ہی رات میں سے) صبح 2 ؎ کو پھاڑ کر نکالنے والا ہے اور اس نے رات کو آرام کے لئے بنایا اور آفتاب و ماہتاب کو حساب کے لئے بنایا۔ یہ اندازہ رکھا ہوا ہے۔

وَ هُوَ الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ النُّجُوْمَ لِتَهْتَدُوْا بِهَا فِیْ ظُلُمٰتِ الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ١ؕ قَدْ فَصَّلْنَا الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ Open ayah 6:97 in the Quran reader

غالب خبردار کا اور اس نے تمہارے لئے ستارے بنائے تاکہ تم ان سے جنگل اور دریا کی اندھیریوں میں رستہ پائو۔ ہم نے اہل علم کے لئے آیتیں کھول کر بیان کردیں

1 ؎ اس میں اور ان آیات میں کہ جہاں انسان کے ساتھ اس کے اعمال و مکاسب کے ساتھ آنے کا ذکر ہے کچھ بھی منافات نہیں کیونکہ مال و جاہ کا چھوڑ آنا اور اعمال کا ساتھ لانا منافی نہیں اور کما کی تشبیہ صرف اس میں ہے۔ 12 منہ 2 ؎ رات میں سے صبح کی پو پھوٹتی ہے۔ اس کے حکم سے۔ 12 منہ ترکیب : سکنا مفعول ہے جعل کا سکن وہ شے ہے کہ جس کی طرف انسان سکون پکڑے جیسا کہ گھر گویا رات گھر ہے والشمس معطوف ہے سکنا پر حسبانا جمع حسبانۃ اور مصدر بھی ہے فمستقر مصدر یا ظرف اور اسی طرح مستودع اس کی خبر لکم محذوف۔ خبات نبات پر معطوف ہے مفعول ہے۔ اخرجنا کا قنوان بکسر قاف وضمھا جمع قنو کصنو وصنوان من النخل اس کی خبر مشتبہا حال ہے الرمان سے۔ تفسیر : اثبات نبوت کے بعد اپنے وجود اور صفات پر وہ چند دلائل دلچسپ اپنی مخلوقات کے حالات سے بیان فرماتا ہے کہ جن میں غور کرنے سے عاقل کو خدا تعالیٰ کی ذات اور صفات کا جلوہ اسی طرح دکھائی دیتا ہے کہ جس طرح آئینہ میں منہ۔ یہ چیزیں گویا جمال باکمال کے لیے اہل بصیرت کو آئینہ پر صفا ہیں اور وہ چند قسم 2 ؎ ہیں : (1) فالق الحب والنوی حب حبہ کی جمع دانہ گیہوں جوار باجرہ وغیرہ ‘ نوی نواۃ کی جمع گٹھلی جیسا کہ آنب انبلی کھجور کی ہوتی ہے۔ فلق پھاڑنا یا چیرنا۔ نباتات تخم یا گٹھلی سے پیدا ہوتے ہیں۔ ان کو زمین میں دبایا اور پانی دیا جاتا ہے تو ان میں سے پھوٹ کر دو شاخ نکلتی ہیں۔ ایک زمین کے اندر بیخ بن کر دوڑتی ہے۔ ایک ہوا میں باہر آکر پھل پھول برگ نکالتی ہے۔ سو حب ونوای کو زمین میں اللہ ہی پھوٹنے کے قابل کرتا ہے۔ باوجود یکہ ایک ہی تخم ایک ہی کھیت ایک ہی طبیعت ہے پھر اس میں مختلف آثار کہ پتے کی اور صورت پھل کی اور پھول کی اور سب کے جدا مزے جدا تاثیریں اگر اس کی یہ قدرت کی کاری گری نہیں تو اور کیا ہے ؟ (2) زندہ سے مردہ اور مردہ سے زندہ پیدا کرنا جس میں انسان زندہ سے منی مردہ چیز سے انسان زندہ چیز اور عالم سے جاہل اور جاہل سے عالم پیدا کرنا بھی آگیا۔ یہ بھی طبیعت جسمیہ کے برخلاف کام ہے۔ (3) رات سے صبح کا نکلنا اور رات کو آرام گاہ بنانا اور آفتاب و ماہتاب کو ایک خاص چال پر معین کرنا طبیعت اجرام علویہ کے برخلاف کام اسی کا فعل ہے۔ (4) ستاروں کو نور دے کر دریا اور جنگل کے سفر کا وسیلہ بنانا۔ عرب میں ستاروں کے حساب سے جنگل اور سمندر میں راہ طے کیا کرتے تھے۔ (5) سب کو ایک شخص سے پیدا کرکے مختلف الحالات بنانا۔ (6) مینہ سے زمین پر عمدہ باغ پیدا کرنا جس کے پھولوں اور پھلوں اور ان روشن بالیدگی میں غور کرنے سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ پردہ حسی کے اندر کوئی صانع ہے کاریگری میں اور رنگینی کر رہا ہے۔
Ayah 6:98

وَ هُوَ الَّذِیْۤ اَنْشَاَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ فَمُسْتَقَرٌّ وَّ مُسْتَوْدَعٌ١ؕ قَدْ فَصَّلْنَا الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّفْقَهُوْنَ Open ayah 6:98 in the Quran reader

اور اسی نے تم کو ایک شخص سے پیدا کردیا۔ پھر (زمین پر) مقام 1 ؎ بھی ہے اور (اس میں) سپردگی بھی ہے۔ ہم نے سمجھداروں کے لئے آیتیں کھول کر بیان کردیں

1 ؎ مستقر ٹھہرنے کی جا ظرف کا صیغہ یا ٹھہرنا مصادر اور اسی طرح یستودع سپردگاہ یا سپردگی یہ انسان پر دو عالتین کے بعد دیگر آتی ہیں اور دل مستر عالم ارواح تھا پھر وہاں سے رخصت ہو کر رحم میں آیا اول حالت کے لحاظ سے یہ سپردگی کا مقام ہوا پھر وہاں سے دنیا میں آیا یہ دوسرا ٹھہرنے کا مقام ہوا پھر یہاں سے کوچ کرکے قبر میں پہنچا یہ دوسرا مقام سپرد ہے پھر وہاں سے جنت یا دوزخ ہر دوسرا مقام پر پہلے کے لحاظ سے مستودع ہے۔ 12 منہ
Ayah 6:99

وَ هُوَ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً١ۚ فَاَخْرَجْنَا بِهٖ نَبَاتَ كُلِّ شَیْءٍ فَاَخْرَجْنَا مِنْهُ خَضِرًا نُّخْرِجُ مِنْهُ حَبًّا مُّتَرَاكِبًا١ۚ وَ مِنَ النَّخْلِ مِنْ طَلْعِهَا قِنْوَانٌ دَانِیَةٌ وَّ جَنّٰتٍ مِّنْ اَعْنَابٍ وَّ الزَّیْتُوْنَ وَ الرُّمَّانَ مُشْتَبِهًا وَّ غَیْرَ مُتَشَابِهٍ١ؕ اُنْظُرُوْۤا اِلٰى ثَمَرِهٖۤ اِذَاۤ اَثْمَرَ وَ یَنْعِهٖ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكُمْ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ Open ayah 6:99 in the Quran reader

اور وہی ہے کہ جس نے آسمان سے پانی برسایا۔ پھر اس سے ہر قسم کی جڑی بوٹیاں نکالیں پھر ان میں سے بعض کو سبز نکالا کہ جس سے ہم گتھے ہوئے دانے نکالتے ہیں اور کھجور کے گابھے میں سے گچھے ہیں کہ جھکے پڑتے ہیں اور انگور اور زیتون اور انار کے باغ پیدا کئے کہ جو باہم صورت میں ایک دوسرے سے ملتے جلتے ہیں اور مزے میں جدا جب یہ پھیلتے ہیں تو ان کا پھیلنا اور پکنا تو دیکھو ان سب (باتوں میں) یقین لانے والوں کے لئے (اس کی قدرت کی بڑی) نشانیاں ہیں۔

2 ؎ یہ دلیل نبابات سے متعلق ہے دوم قسم احوال علویات سے پانچویں جو السمار کے حالات سے اور لطف یہ کہ سب میں انعام علی العباد ہے اور بھی ان دلائل خمسہ میں بلحاظ تقدیم و تاخیر اسرار ہیں۔ 12 منہ
Ayahs 6:100–103

وَ جَعَلُوْا لِلّٰهِ شُرَكَآءَ الْجِنَّ وَ خَلَقَهُمْ وَ خَرَقُوْا لَهٗ بَنِیْنَ وَ بَنٰتٍۭ بِغَیْرِ عِلْمٍ١ؕ سُبْحٰنَهٗ وَ تَعٰلٰى عَمَّا یَصِفُوْنَ۠ Open ayah 6:100 in the Quran reader

اور انہوں نے جنوں کو اللہ کا شریک بنا لیا حالانکہ وہ اللہ کے پیدا کئے ہوئے ہیں اور اس کے لئے بےسمجھے بیٹے اور بیٹیاں بھی گھڑلیں۔ وہ ان باتوں سے جو وہ بناتے ہیں پاک اور بالاتر ہے۔

بَدِیْعُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ اَنّٰى یَكُوْنُ لَهٗ وَلَدٌ وَّ لَمْ تَكُنْ لَّهٗ صَاحِبَةٌ١ؕ وَ خَلَقَ كُلَّ شَیْءٍ١ۚ وَ هُوَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ Open ayah 6:101 in the Quran reader

وہ آسمانوں اور زمین کا ایجاد کرنے والا ہے۔ جب اس کی کوئی بیوی ہی نہیں تو اولاد کہاں اور اس نے ہر چیز پیدا کی اور وہ ہر بات جانتا ہے

ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمْ١ۚ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ خَالِقُ كُلِّ شَیْءٍ فَاعْبُدُوْهُ١ۚ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ وَّكِیْلٌ Open ayah 6:102 in the Quran reader

(لوگو) یہ ہے اللہ تمہارا رب اس کے سوا کوئی معبود نہیں (وہی) ہر چیز کا پیدا کرنے والا ہے۔ سو اسی کی عبادت کرو اور وہ ہر چیز کا نگہبان ہے۔

لَا تُدْرِكُهُ الْاَبْصَارُ١٘ وَ هُوَ یُدْرِكُ الْاَبْصَارَ١ۚ وَ هُوَ اللَّطِیْفُ الْخَبِیْرُ Open ayah 6:103 in the Quran reader

اس کو کوئی آنکھ نہیں دیکھ سکتی اور وہ سب آنکھوں کو دیکھتا ہے اور وہ باریک بین ‘ باخبر ہے۔

ترکیب : الجن جعلوا کا مفعول اول شرکاء مفعول ثانی ‘ للّٰہ شرکاء سے متعلق ہے۔ بغیر علم فاعل خرقوا سے حال ہے۔ بدیع السموات خبر ہے مبتداء محذوف کی ذلکم مبتداء اللّٰہ خبر۔ تفسیر : تمام عالم نباتات سے لے کر فلکیات تک کو خاص اپنا پیدا کیا ہوا ثابت کرکے اور تمام عالم میں اپنا ہی تصرف و قبضہ کرکے ان بیوقوف مشرکوں پر طعن وتشنیع کرتا ہے جنہوں نے جنوں کو یا اور شخصوں کو اس کا شریک بنایا تھا یا اب بھی بناتے ہیں۔ عرب کے بعض فرقے ان چیزوں کو جو آنکھ سے دکھائی نہیں دیتیں ملائکہ اور ارواح خبیثہ یا خاص جنوں کو (چونکہ یہ چیزیں نظر نہیں آتیں اس لئے ان سب پر لفظ جن کا اطلاق ہوتا ہے) پوجتے اور ان کے نام کی بوقت مصیبت دہائی دیتے اور ان کو عالم میں کارکن اور متصرف سمجھتے تھے اور آتش پرستوں کی بھی اطراف یمن میں حکومت تھی۔ وہ بھی برتقلید زردشت اس عالم کے دو خدا مستقل مانتے تھے۔ خیر کے خالق کو یزدان ظلمات اور شر کے خالق کو اہرمن کہتے تھے۔ یزداں کی فوج ملائکہ اور اہرمن یعنی ابلیس کی فوج کو شیاطین و جن قرار دیتے تھے اور ان میں جنگ وجدال کے قائل تھے۔ ادھر نجران وغیرہ علاقوں میں نصاریٰ تھے جو حضرت مریم [ کو خدا کی بیوی اور حضرت مسیح (علیہ السلام) کو اس کا بیٹا کہتے تھے۔ یہ بھی بڑا شرک ہے۔ ان سب کے رد میں فرماتا ہے کہ بغیر سمجھے انہوں نے جنوں کو خدا کا شریک ٹھہرایا اور اس کے لئے بیٹیاں بھی گھڑ لیں کہ عیسائیوں نے بیٹا اور مشرکین عرب نے ملائکہ کو بیٹیاں کہا۔ سبحانہ و تعالیٰ عمایصفون خدا ان کی خانہ ساز باتوں سے پاک ہے۔ پھر اس پر چند دلائل ذکر فرماتا ہے : (1) بدیع السموات والارض کہ وہ بغیر کسی نمونہ کے آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا ہے یعنی جو کچھ موجود ہے اس کا بنایا ہوا ہے۔ پھر وہ اہرمن کون ہے اور اس نے کیا بنایا ہے۔ وہ کیا اس کی مخلوق سے باہر ہے اور ایسے قادر مختار کو بیٹے بیٹیوں کی کیا ضرورت ہے ؟ جو وہ ہیں تو بتلائو۔ انہوں نے کونسا آسمان کونسی زمین اور کیا پیدا کیا ہے ؟ (2) انی یکون لہ ولد ولم تکن لہ صاحبۃ کہ وہ قدیم اور مستغنی ہے۔ اس کو بیوی کی کیا ضرورت ہے اور جب بیوی نہیں بچے اور اولاد کیسی ؟ (3) وہ ان سب چیزوں کا خالق ہے اور والد خالق نہیں ہوتا وخلق کل شیء اگر وہ خالق نہیں تو یہ اولاد حادث ضرور ہے۔ پھر محدث یا خالق کون ہے ؟ پھر اپنے چند وہ اوصاف بیان کرتا ہے کہ جن سے اس کا ان ذمائم سے پاک ہونا ثابت ہوتا ہے۔ اول وھو بکل شیء علیم کہ ہر چیز کا اس کو علم ہے۔ سب کچھ جانتا ہے۔ یہ بات اوروں میں کہاں ہے۔ دوم وھو علی کل شیء وکیل کہ وہ واجب الوجود ہے سب کا سلسلہ احتیاج اس کی طرف تمام ہوتا ہے۔ وہی سب کا محافظ و حاجت روا ہے۔ سوم لاتدر کہ الابصار کہ اس کو اس عالم حسی کی آنکھ جو محسوسات کے ادراک کے لئے مخصوص ہے دیکھ نہیں سکتی لیکن وہ ہر چیز کو دیکھتا ہے۔ یہاں سے یہ بات ثابت نہیں ہوتی کہ عالم قدس میں خدا تعالیٰ کا بندوں کو دیدار نہ ہوگا۔ علاوہ اس کے ادراک کی نفی ہے جو کنبہ پر موقوف ہے نہ رؤیت کی جیسا کہ کتاب و سنت سے ثابت ہے۔
Ayahs 6:104–107

قَدْ جَآءَكُمْ بَصَآئِرُ مِنْ رَّبِّكُمْ١ۚ فَمَنْ اَبْصَرَ فَلِنَفْسِهٖ١ۚ وَ مَنْ عَمِیَ فَعَلَیْهَا١ؕ وَ مَاۤ اَنَا عَلَیْكُمْ بِحَفِیْظٍ Open ayah 6:104 in the Quran reader

(لوگو) تمہارے رب کی طرف سے تمہارے پاس بینائی تو آچکی پھر جو کوئی دیکھے تو اپنے بھلے کو اور جو کوئی اندھا ہی بن جاوے تو اپنے برے کو اور میں تو تم پر محافظ ہی نہیں ہوں

وَ كَذٰلِكَ نُصَرِّفُ الْاٰیٰتِ وَ لِیَقُوْلُوْا دَرَسْتَ وَ لِنُبَیِّنَهٗ لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ Open ayah 6:105 in the Quran reader

اور اسی طرح پھیر پھیر کر ہم آیتیں بیان کرتے ہیں (تاکہ ان پر حجت ہو) اور تاکہ وہ کہیں کہ آپ نے پڑھ کر سنا دیا اور تاکہ ہم ان کو اہل علم کے لئے واضح کردیں

اِتَّبِعْ مَاۤ اُوْحِیَ اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَ١ۚ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ وَ اَعْرِضْ عَنِ الْمُشْرِكِیْنَ Open ayah 6:106 in the Quran reader

( اے پیغمبر ! ) آپ اس پر چلیں جو آپ کی طرف آپ کے رب کی طرف سے وحی کیا گیا ہے بجز اس کے (اور) کوئی معبود نہیں اور مشرکوں سے کنارہ کرو

وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ مَاۤ اَشْرَكُوْا١ؕ وَ مَا جَعَلْنٰكَ عَلَیْهِمْ حَفِیْظًا١ۚ وَ مَاۤ اَنْتَ عَلَیْهِمْ بِوَكِیْلٍ Open ayah 6:107 in the Quran reader

اور اگر اللہ چاہتا تو وہ شرک نہ کرتے اور ہم نے آپ کو (کوئی) ان پر محافظ مقرر نہیں کیا ہے اور نہ آپ ان کے جواب دہ ہیں۔

ترکیب : من ربکم جاء سے متعلق ہے۔ فمن شرط یا مبتداء ابصر جواب یا خبر وکذالک کاف موضع نصب میں صفت ہے مصدر محذوف کی اے نصرف الآیات تصریفا مثل ماتلونا ولیقولوا لام عاقبت ولیقولوا معطوف ہے محذوف برائے کذلک نصرف الآیات لتلزمھم الحجۃ ولیقولوا ولنبینہ معطوف ہے لیقولوا پر واللام علی الاصل والضمیر للآیات باعتبار المعنی او للقرآن۔ تفسیر : اپنی ذات وصفات و توحید پر دلائل بیان کرکے مشرکین کو ان کی نادانی پر کہ وہ اور چیزوں کو اس کے ساتھ شریک کرتے تھے الزام دے کر ایک اعلان عام دیتا ہے کہ یہ جو کچھ بیان ہوا ہے خدا کی طرف سے بصائر (جمع بصیرۃ ای الا ادراک التام) یعنی سوجھ و بوجھ ہے کہ جس سے انسان کی آنکھیں کھل جاتی ہیں۔ پھر اس کے بعد بھی جو کوئی اندھا رہے اور اسی کفر و شرک کی اندھیریوں میں پڑا رہے تو اپنے لئے برا کرتا ہے اور جو کوئی اہل بصیرت ہو کر روشنی میں آئے گا تو اپنے فائدہ کے لئے اور آنحضرت ﷺ کو حکم دیتا ہے کہ یہ بھی کہہ دو کہ میرا کام تو خبر دینا ہے میں تمہارا محافظ نہیں کہ خواہ مخواہ تمہیں ہدایت کرنا میرا ذمہ ہو۔ جب مبحث توحید کو تمام کرچکا تو اب آنحضرت ﷺ کی رسالت پر جو کچھ مشرکین و دیگر لوگوں کو شبہات تھے یکے بعد دیگر ایک نصیحت آمیز کلام کے ضمن میں ان کے جوابات دیتا جاتا ہے۔ قران مجید ایک بار نازل نہ ہونے کا جواب : ایک شبہ ان کا قرآن مجید کے تدریجاً نازل ہونے پر تھا کہ یکبارگی بہ تمام و کمال کتاب آسمان سے کیوں نازل نہ ہوئی یہ جو ٹکڑے ٹکڑے ہو کر وقتاً فوقتاً نازل ہوتا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ محمد ﷺ کسی سے سیکھ کر بیان کرتے ہیں۔ درست اصمعی اور ابوالہثیم کہتے ہیں یہ درس سے مشتق ہے جس کے معنی پامال کرنا ‘ قابو میں لانا ‘ من درس الطعام اذا درسہ یدرسہ دراسا والدراس الدیاس و درس الکلام من ہذا ای یدرسہ فیخفف علی لسانہ (ک) اس سے مراد ہے پڑھنا کیونکہ جو جس جملہ کو پڑھتا ہے وہ زبان پر رواں ہوجاتا ہے۔ قابو میں آجاتا ہے۔ ابو عمرو و ابن کثیر نے دارست بالالف و نصب التاء پڑھا ہے۔ اس کے معنی یہ کہ یہود وغیرہ 1 ؎ یعنی وہ دلیلیں جن سے دل کی آنکھیں کھلیں۔ 12 منہ سے پڑھ پڑھ کر حاصل کیا۔ اس شبہ 1 ؎ کا جواب دیتا ہے کہ کذالک نصرف الخ تصریف الٹ پلٹ کر بیان کرنا جس سے مراد وقتاً فوقتاً بیان کرنا یہ دو وجہ سے ہے۔ ایک یہ کہ بار بار مختلف عنوانات سے بیان کرنے میں جو مضمون دلنشین ہوتا ہے۔ ایک بار کہنے سے نہیں۔ اس میں بندوں پر کامل شفقت ہے اور الزام حجت کہ ازلی سعادت مند اس کو مفید عباد جان کر قبول کریں اور ازلی گمراہ یہ شبہ کریں کہ لوگوں سے محمد ﷺ سیکھ کر بیان کرتا ہے۔ دوم یہ کہ اس میں اہل علم قوم کو خوب معلوم ہوسکتا ہے کہ جو شخص مختلف عنوان سے بار بار نئے نئے دلنشین پیرایوں میں احکام و ذات وصفات ‘ عالم آخرت اور قصص انبیاء کو اس طرح بیان کرتا ہے کہ جس میں سر موتفاوت نہیں۔ یہ اسی لطیف الخبیر کا پر توا ہے کہ جس کو دنیا میں کوئی دیکھ نہیں سکتا اور جس کے علم سے کوئی چیز باہر نہیں۔ پھر فرماتا ہے کہ جو آپ پر لا الہ الخ توحید کا حکم ہوا ہے آپ اس کے پابند رہو اور ان جاہلوں سے کنارہ کشی کرو۔ ان کو خدا ہی نے گمراہ کر رکھا ہے ورنہ وہ چاہتا تو ہدایت پر آجاتے ٗ شرک نہ کرتے۔ پھر اے پیغمبر نہ آپ پر ان کی جواب دہی ہے نہ تو آپ ان کے ذمہ دار ہیں۔ پڑے بکنے دیجئے۔ ازلی گمراہوں کی کس کس بات کا جواب دیا جاوے ؟ 1 ؎ خلاصہ جواب یہ ہے کہ ہیر پھیر کر بیان کرنا ان وجوہ سے ہوا (1) کہ بار بار بیان کرنے سے لوگوں کی آسانی ہو (2) منکرین پر اور بھی اتمام حجت ہے کہ بار بار سمجھایا جاتا ہے اور پھر بھی نہیں سمجھتے۔ (3) اہل علم کو بصیرت پیدا ہوتی ہے کہ باوجود بار بار بیان کرنے کے پھر بھی تفاوت نہیں پاتے اور ممکن کہ کذالک نصرف الآیات سے مراد آثار قدرت ہوں کہ اپنی توحید اور یکتائی کی بار بار نشانیاں دکھاتے ہیں۔ حوادث دہر اور ان کے جسم اور عالم کے تغیرات علویات سے لے کر سفلیات تک تاکہ ان پر حجت تمام ہوجاوے اور آپ کہہ اٹھیں کہ اے پیغمبر ! آپ نے ہم کو پڑھ سنایا اور اہل علم کو اور علم حاصل ہو۔ یہ رحمت الٰہی ہے۔ 12 منہ
Ayahs 6:108–113

وَ لَا تَسُبُّوا الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ فَیَسُبُّوا اللّٰهَ عَدْوًۢا بِغَیْرِ عِلْمٍ١ؕ كَذٰلِكَ زَیَّنَّا لِكُلِّ اُمَّةٍ عَمَلَهُمْ١۪ ثُمَّ اِلٰى رَبِّهِمْ مَّرْجِعُهُمْ فَیُنَبِّئُهُمْ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 6:108 in the Quran reader

(مسلمانو ! ) یہ مشرک خدا کے سوا اور جن کو پکارتے ہیں ان کو گالیاں نہ دیا کرو تاکہ (وہ بھی) اللہ کو جہالت میں آکر گالیاں نہ دینے لگیں۔ ہم نے یوں ہی ہر گروہ کی نظروں میں ان کے عملوں کو مزین کردیا ہے۔ پھر ان کو اپنے رب کے ہاں پھر کر جانا ہے۔ پھر وہ ان کو بتاوے گا کہ وہ کیا کیا کرتے تھے

وَ اَقْسَمُوْا بِاللّٰهِ جَهْدَ اَیْمَانِهِمْ لَئِنْ جَآءَتْهُمْ اٰیَةٌ لَّیُؤْمِنُنَّ بِهَا١ؕ قُلْ اِنَّمَا الْاٰیٰتُ عِنْدَ اللّٰهِ وَ مَا یُشْعِرُكُمْ١ۙ اَنَّهَاۤ اِذَا جَآءَتْ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 6:109 in the Quran reader

اور انہوں نے اللہ کی سخت (سخت) قسمیں کھا کر کہا تھا اگر ہمارے پاس کوئی نشانی آوے گی تو اس پر ہم ضرور ایمان لے آئیں گے۔ کہہ دو نشانیاں تو اللہ ہی کے پاس ہیں اور تمہیں (اے مسلمانو ! ) کیا معلوم کہ جب وہ نشانیاں ان کے پاس آویں تو بھی وہ ان پر ایمان نہ لاویں

وَ نُقَلِّبُ اَفْئِدَتَهُمْ وَ اَبْصَارَهُمْ كَمَا لَمْ یُؤْمِنُوْا بِهٖۤ اَوَّلَ مَرَّةٍ وَّ نَذَرُهُمْ فِیْ طُغْیَانِهِمْ یَعْمَهُوْنَ۠ Open ayah 6:110 in the Quran reader

اور ہم ان کے دلوں اور آنکھوں کو پھیر دیں جیسا کہ وہ اول بار اس پر ایمان لائے تھے اور ہم ان کو ان کی گمراہی میں بہکتے ہوئے چھوڑ رکھیں۔

وَ لَوْ اَنَّنَا نَزَّلْنَاۤ اِلَیْهِمُ الْمَلٰٓئِكَةَ وَ كَلَّمَهُمُ الْمَوْتٰى وَ حَشَرْنَا عَلَیْهِمْ كُلَّ شَیْءٍ قُبُلًا مَّا كَانُوْا لِیُؤْمِنُوْۤا اِلَّاۤ اَنْ یَّشَآءَ اللّٰهُ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ یَجْهَلُوْنَ Open ayah 6:111 in the Quran reader

اور اگر ہم ان کے پاس فرشتہ (بھی) بھیج دیتے اور ان سے مردہ بھی باتیں کرلیتے اور ان کے سامنے سب 1 ؎ چیزوں کو بھی لا کر کھڑا کردیتے تو بھی وہ ایمان نہ لاتے مگر کہ یہ خدا کو منظور ہوتا لیکن ان میں سے بہت تو جہالت ہی کرتے ہیں

وَ كَذٰلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نَبِیٍّ عَدُوًّا شَیٰطِیْنَ الْاِنْسِ وَ الْجِنِّ یُوْحِیْ بَعْضُهُمْ اِلٰى بَعْضٍ زُخْرُفَ الْقَوْلِ غُرُوْرًا١ؕ وَ لَوْ شَآءَ رَبُّكَ مَا فَعَلُوْهُ فَذَرْهُمْ وَ مَا یَفْتَرُوْنَ Open ayah 6:112 in the Quran reader

اور ہم نے ہر ایک نبی کے لئے اسی طرح سے (شریر) آدمیوں اور جنوں کو دشمن بنا دیا تھا کہ جو ایک دوسرے کو ملمع کی باتیں دھوکا دینے کو سکھایا کرتا تھا اور اگر آپ کا رب چاہتا تو وہ یہ نہ کرتے۔ سو آپ ان کو اور ان کے ڈھکوسلوں کو چھوڑیئے

وَ لِتَصْغٰۤى اِلَیْهِ اَفْئِدَةُ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ وَ لِیَرْضَوْهُ وَ لِیَقْتَرِفُوْا مَا هُمْ مُّقْتَرِفُوْنَ Open ayah 6:113 in the Quran reader

تاکہ ان کی طرف ان لوگوں کے دل جھکیں کہ جو آخرت پر یقین نہیں رکھتے اور تاکہ وہ ان کو پسند کریں اور تاکہ وہ غلط کام جو کرتے ہیں کئے جاویں۔

ترکیب : فیسبوا منصوب ہے جواب نہی ہو کر عدوًا یہ منصوب اس لئے ہے یا تو مصدر ہے من غیر لفظ الفعل لان السب عدوان فی المعنی اور حال مؤکدہ بھی ہوسکتا ہے اور مفعول لہ بھی بغیر علم بھی حال ہے کذالک موضع نصب میں ہے صفت ہے مصدر محذوف کی اے کمازینا لکل امۃ عملھم زینا لھؤلاء علمھم وما یشعرکم ما مبتداء ویشعر کم خبر اور وہ دو مفعول کی طرف متعدی ہے اول انہا ثانی محذوف تقدیرہ وما یشعرکم ایمانھم اول مرۃ طرف زمان ہے وفذرھم بسکون الراء وضمھا ولتصغٰی جمہور کے نزدیک لام مکسور ہے معطوف ہے غرورًا پر اے لیغروا والتصغٰی بعض کہتے ہیں لام قسم ہے مکسور ہوگیا۔ تفسیر : مشرکین کے ان بیہودہ شبہات پر مسلمان ہنس کر ان کی بدعقلی کی دلیل ان کی بت پرستی سے پکڑتے ہوں گے اور کچھ عجب نہیں کہ ان کے فرضی خدائوں کی خدائی باطل کرنے میں ان کی بےبسی اور دیگر قبائح بھی بیان ہوتے ہوں گے کہ جن سے ان معبودوں کی بےوقری ٹپکتی ہوگی جس کو مشرکین نے اپنے معبودوں کو گالیاں دینا مسلمانوں کی طرف سے سمجھ لیا۔ ہرچند وہ لوگ خدا کے بھی قائل تھے مگر ان میں دہریے بھی تھے کہ جن سے خدا تعالیٰ کو خصوصاً رب محمد ـ ﷺ منزل قرآن کا نام لے کر (کیونکہ وہ منزل قرآن شیطان کو خیال کرتے تھے) مقابل میں گالیاں دینا کچھ مستبعد نہیں تھا۔ سو ایسے حمقاء کے مقابلہ میں پڑھ کر گویا آپ خدا تعالیٰ کو برا کہلانا بلکہ خود برا کہنا ہے اس لئے اس آیۃ ولا تسبوا الذین میں اس کی ممانعت کردی۔ حمقاء اور بےدین زبان دار لوگوں کے مقابلہ میں قرآن کی یہ آیت مدنظر رکھنی چاہیے جو اس امر میں اصل الاصول ہے۔ واقسموا باللّٰہ جہد ایمانہم یہ ان کا حضرت ﷺ کی نبوت پر دوسرا شبہ تھا۔ وہ یہ کہ ہماری خواہشوں کے موافق یہ نبی کیوں معجزات نہیں دکھاتا ؟ پھر اس پر وہ قسم کھا کھا کر زور دیتے تھے کہ بخدا ان میں سے کوئی بھی معجزہ اگر اس نے دکھایا تو ہم ضرور ایمان لے آویں گے۔ واقسموا باللّٰہ جہد ایمانہم لان جائتھم آیۃ لیؤمنن بہا اس کے جواب میں فرماتا ہے۔ قل انما الآیات عند اللّٰہ 1 ؎ یعنی عالم غیب کی پوشیدہ چیزیں جن پر غائبانہ یعنی بن دیکھے ایمان لانا چاہیے تھا سامنے لا کر کھڑی کردیں اور عالم غیب ‘ جنت دوزخ اور دیگر چیزوں کو عیاناً دیکھ لیں تب بھی ایمان نہ لاویں۔ کس لئے کہ ان کے دل شکی ہوگئے اس وقت ان کو بھی ڈھڈبندی اور شعبدہ ہی کہنے لگے۔ معاذ اللہ جب ازلی محرومی ظہور کرتی ہے اور انسانی فطرت دوسرا رنگ پیدا کرلیتی ہے پھر وہ نہیں پلٹتی۔ اس میں ہادی اور ناصح کا کیا قصور اس بات کو حق سبحانہ ان آیات میں بیان فرما رہا ہے۔ 12 منہ کہ معجزات تو سب اللہ کے پاس موجود ہیں۔ وہ قادر ہے جب چاہے ظاہر کر دے مگر ازلی گمراہوں کو اس سے کیا فائدہ ہوگا۔ وہ جب بھی ایمان نہ لائیں گے۔ وما یشعرکم انہا اذا جائت لایؤمنون ابن کثیر اور اہل بصرہ اور ابوبکر عاصم کو فی کی روایت انہا بکسر الف پڑھتے ہیں۔ علی الا بتدار اور کلام کو ما یشعر کم پر تمام سمجھتے ہیں۔ انہا اذا جاءت لایؤمنون دوسرا جملہ ہے اور دیگر قراء بفتح الالف پڑھتے ہیں اور خطاب مومنین کیلئے قرار دیتے ہیں۔ لا یؤمنون میں لا کو زائد کہتے ہیں۔ پھر اس وقت ایمان نہ لانے کی وجہ بیان فرماتا ہے۔ ونقلب افئدتہم وابصارھم کمالم یؤمنوا بہ اول مرۃ الخ چونکہ یہ لوگ اس سے پہلے شق القمر وغیرہ معجزہ دیکھ کر جب ایمان نہ لائے اور ایسے مواقع میں ازلی گمراہ اور ازلی نیکوں کا امتیاز ہوجاتا ہے۔ ازلی گمراہ ایسے معجزات دیکھ کر جب ایمان نہیں لاتے تو ان کے دلوں اور آنکھوں پر مہر ہوجاتی ہے۔ پھر وہ کسی معجزے پر یقین نہیں کرتے تو اب ہم ان کے دلوں اور آنکھوں کو پلٹ دیں گے۔ اب بھی وہ ایمان نہ لائیں گے (ابن عباس ) حقیقت میں جب انسان گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر سیاہی پیدا ہوجاتی ہے جو آیندہ دیگر سخت معاصی کے ارتکاب کا باعث ہوتی ہے۔ پھر کتنا ہی بڑا گناہ کیوں نہ ہو۔ اس کے دل میں کچھ بھی اٹک باقی نہیں رہتی۔ ہندوستان کے اوباشوں ‘ رنڈی بازوں ‘ رقص دیکھنے والوں کو دیکھ لیجئے۔ اس آیت میں صاف تصریح ہے کہ کفار پہلے معجزات پر ایمان نہ لائے اور ان کی مرضی کے موافق معجزات ظاہر نہ کرنے کی وجہ بھی صاف ہوگئی۔ پھر وہ جو پادری اور نیاچر معجزات کی نفی ان آیات سے کرتے ہیں کہ جن میں کفار کی استدعا کے موافق معجزات سرزد نہ ہونے کا ذکر ہے۔ یہ ان کی کمال نادانی اور سوئِ فہمی ہے۔ ولو اننا نزلنا الیہم الملائکۃ الخ یعنی ان کی خواہش کے موافق ہم ان کے پاس ملائکہ بھی بھیج دیں اور مردے ان سے باتیں بھی کرلیں اور ان کے سامنے مری ہوئی چیزیں زندہ بھی ہوجائیں یعنی بڑے سے بڑا معجزہ بھی ان کو دکھا یا جاوے تو بھی وہ ایمان نہ لاویں گے مگر جس کو خدا چاہے (اپنی رحمت کے صابن سے اس کے دل کا میل دھو دے) ‘ وہ ایمان لے آوے۔ پھر جب ان ازلی گمراہوں کا یہ حال ہے تو بھاڑ میں پڑیں ہمیں کیا پڑی جو ان کے کہنے کے موافق معجزات دکھائیں۔ یہ جو جھک مارتے پھرتے ہیں پھرا کریں کیونکہ وکذالک جعلنا لکل نبی عدواشیاطین الانس والجن ہر نبی کے دشمن آدمی اور جنوں میں سے سرکش اور نافرمان ہوتے آئے ہیں۔ جو وہ نبی کے برخلاف لوگوں کو ملمع کار باتیں سکھا کر گمراہ کیا کرتے ہیں۔ سو ان کا کہنا وہی مانتے ہیں جو یوم آخرت پر ایمان نہیں رکھتے اور وہی ان سے خوش ہوتے ہیں۔